Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-011

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 10
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔۱۱ ‎وَإِمَّا مِنْ جِهَةِ الْمَعْنَى بِسَبَبِ اسْتِعْمَالِ مَجَازَاتٍ وَكِنَايَاتٍ لَا يُفْهَمُ الْمُرَادُ بِهَا، وَيُسَمَّى تَعْقِيدًا مَعْنَوِيًّا، نَحْوُ قَوْلِكَ: "نَشَرَ الْمَلِكُ أَلْسِنَتَهُ فِي الْمَدِينَةِ" مُرِيدًا جَوَاسِيسَهُ، وَالصَّوَابُ "نَشَرَ عُيُونَهُ".‎ گزشتہ سبق میں ہم نے تعقید کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا۔ آپ نے پڑھا تھا کہ تعقید یہ ہے کہ کلام کی دلالت اپنے معنی مراد پر خفی ہو، اس کے اندر خفا ہو گئی، یعنی کلام واضح طور پر معنی مراد پر دلالت نہ کر رہا ہو۔ تو یہ کیا ہے؟ تعقید ہے، اور میں نے آپ کو بتایا تھا کہ معنی دو قسم کا ہے: ایک معنی لغوی ہے اور ایک معنی مرادی ہے۔ معنی لغوی تو وہ تو ہر لفظ کا جو اپنا معنی ہے جس پر وہ دلالت کر رہا ہے، اس اعتبار سے جو کلام کا معنی بنتا ہو، وہ معنی لغوی کہلاتا ہے۔ جیسے آپ کہتے ہیں: "میں نے شیر دیکھا"، تو اس شیر کا کیا معنی ہے؟ جنگلی درندہ۔ تو یہ لغوی معنی ہوا: "میں نے جنگلی درندہ دیکھا"۔ لیکن اگر شیر بہادر آدمی کے لیے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے، اگر آپ بہادر آدمی کا ارادہ کرتے ہیں، تو لغوی معنی تو ہوا "میں نے شیر دیکھا" یعنی "میں نے جنگلی درندہ دیکھا"، اور معنی مرادی کیا ہو جائے گا کہ "میں نے بہادر آدمی دیکھا"۔ تو یہ ہے معنی مرادی۔ تو جب بھی کسی شخص کے سامنے کوئی کلام آتا ہے، کسی کلام کو وہ سنتا ہے یا کسی کتاب وغیرہ میں پڑھتا ہے، تو سب سے پہلے اس کلام کا لغوی معنی ذہن میں آتا ہے اور پھر اس لغوی معنی سے ذہن منتقل ہوتا ہے معنی مراد کی طرف، جس کا اس کہنے والے نے ارادہ کیا ہوتا ہے، اس کی طرف ذہن منتقل ہوتا ہے۔ تو کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ یہ جو ذہن کا انتقال ہے معنی لغوی سے معنی مرادی کی طرف، اس کے اندر کوئی خلل اور یہاں کوئی خلل اور خرابی ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ انتقال نہیں ہوتا، ذہن منتقل نہیں ہوتا معنی مرادی کی طرف اور وہ سمجھ میں نہیں آتا، یا منتقل تو ہوتا ہے ذہن لیکن اس میں بڑی آہستہ اور بڑی دیر سے منتقل ہوتا ہے، فوراً منتقل نہیں ہوتا۔ حالانکہ کسی کلام سے سنتے ہی فوراً ذہن کو کس کی طرف منتقل ہونا چاہیے؟ معنی مراد کی طرف۔ تو اگر ذہن منتقل ہی نہیں ہوتا معنی مراد کی طرف یا منتقل دیر سے ہوتا ہے، تو یہ تعقید ہے۔ معلوم ہوا کچھ خرابی ہے، کچھ خلل ہے جس کی وجہ سے ذہن فوراً معنی مراد تک نہیں پہنچ رہا۔ پھر یہ خرابی لفظوں میں بھی ہو سکتی ہے اور معنی کے اندر بھی ہو سکتی ہے۔ اگر یہ خرابی لفظوں میں ہو، مثلاً کہ لفظوں میں کیا خرابی ہو سکتی ہے؟ تقديم و تاخير ہو سکتی ہے، کسی لفظ کو مقدم ہونا چاہیے تھا، اس کو مؤخر کر دیا گیا ہے، کسی کو مؤخر ہونا چاہیے تھا، اس کو مقدم کر دیا گیا ہے۔ کبھی ایسا کیا ہوگا کہ فصل کیا ہوگا، دو چیزوں کو اکٹھا ہونا چاہیے تھا، ان کو جدا کر کے بیچ میں کوئی اور لفظ ذکر کر دیا، تو یہ بھی اس خلل کا باعث ہوگا۔ اسی طرح کہیں مقام اسم کا ہوگا، وہاں ضمیر ذکر کر دی گئی ہوگی، تو یہ بھی یا اسی طرح کسی لفظ کو ذکر ہونا چاہیے تھا لیکن کہنے والا اس کو حذف کر دیتا ہے اور کوئی قرینہ وغیرہ بھی ایسا نہیں ہوتا جس سے اس کا فوراً پتہ چل سکے، تو یہ سب اسباب ہیں تعقید لفظی کے بھئی۔ ان کی وجہ سے یہ لفظوں میں، یعنی اس ترکیب کے اندر، یہ جو لفظ آپس میں جوڑے ہیں، یہ جو تقديم و تاخير کی، یہ جو فصل کیا، یہ جو حذف وغیرہ کیا، ان کی وجہ سے یہ خرابی آئی اور معنی مراد کی طرف ذہن منتقل نہ ہوا، تو یہ خرابی کس کے اندر آئی؟ لفظوں میں آئی، ترکیب کے اندر آئی، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تعقید لفظی۔ اور اس کی مثال آپ نے کل وہ شعر پڑھا تھا: "جَفَخَتْ وَهُمْ لَا يَجْفَخُونَ بِهَا بِهِمْ شِيَمٌ عَلَى الْحَسَبِ الْأَغَرِّ دَلَائِلُ"۔ تو یہاں دیکھیے، کئی چیزیں جمع ہو گئی تھیں: تقديم و تاخير بھی تھی اور اسی طرح فصل بھی تھا، وغیرہ، جن کی وجہ سے تعقید آئی بھئی۔ آج ہم تعقید معنوی کے بارے میں پڑھیں گے بھئی، تعقید معنوی۔ تعقید معنوی بھی جس میں خلل ہے کہ ذہن معنی مراد تک نہیں پہنچتا یا پہنچتا ہے تو دیر سے پہنچتا ہے۔ لیکن لفظوں میں خرابی نہیں، جب لفظوں میں خرابی نہیں تو معلوم ہوا خرابی کہاں پر ہے؟ معنی کے اندر خرابی ہے بھئی، کیونکہ دو ہی چیزیں ہیں یہاں پر: یا لفظ ہے یا معنی۔ تو معلوم ہوا خرابی معنی کے اندر ہے، تو یہ تعقید معنوی کہلائے گی، تعقید معنوی۔ تو دیکھیے، کتاب پر بتلا رہے ہیں: "وَإِمَّا مِنْ جِهَةِ الْمَعْنَى"، یا معنی کی جہت سے ہوگا یہ خلل بھئی۔ پیچھے آیا تھا: "وَالْخَفَاءُ إِمَّا مِنْ جِهَةِ اللَّفْظِ"، کہ کلام کی دلالت معنی مراد پر خفی ہوگی، "وَالْخَفَاءُ إِمَّا مِنْ جِهَةِ اللَّفْظِ" اور وہ خفا یا تو کس جانب سے ہوگا؟ لفظ کی جانب سے ہوگا، "وَإِمَّا مِنْ جِهَةِ الْمَعْنَى" یا کس جانب سے ہوگا؟ معنی کی جانب سے ہوگا، تو "وَإِمَّا مِنْ جِهَةِ الْمَعْنَى" کا عطف "وَإِمَّا مِنْ جِهَةِ اللَّفْظِ" پر ہے بھئی۔ "وَإِمَّا مِنْ جِهَةِ الْمَعْنَى" اور یا وہ خفا جو ہوگا، معنی کی جانب سے ہوگا، "بِسَبَبِ اسْتِعْمَالِ مَجَازَاتٍ وَكِنَايَاتٍ" بوجہ استعمال کرنے مجازات اور کنایات کے، کیا استعمال کرنے کی وجہ سے؟ مجازات اور کنایات استعمال کرنے کی وجہ سے، "لَا يُفْهَمُ الْمُرَادُ بِهَا"، "لَا يُفْهَمُ" یہ فعل آیا بھئی، فعل۔ اور میں نے ضابطہ ذکر کیا ہے کہ نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ اس کے لیے عموماً صفت بنتا ہے۔ کس کے بعد فعل آئے؟ نکرہ کے بعد۔ تو پھر وہ نکرہ موصوف بنے گا اور یہ فعل اس کی صفت، اور موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کریں گے کہ موصوف سے پہلے، صفت سے پہلے نہیں بلکہ موصوف سے پہلے "ایسا" یا "ایسی" کا لفظ لے آئیں گے۔ اب دیکھیے، یہاں ترکیب کیسے ہے: "مَجَازَاتٍ" یہ ہے معطوف علیہ، واؤ حرف عطف، "وَكِنَايَاتٍ" یہ ہے معطوف۔ معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر یہ موصوف ہوا اور "لَا يُفْهَمُ الْمُرَادُ بِهَا" یہ کیا ہوئی اس کی صفت۔ تو کیسے ترجمہ کریں گے؟ ایسے مجازات، جی شاباش، ایسے مجازات اور کنایات استعمال کرنے کی وجہ سے کہ "لَا يُفْهَمُ الْمُرَادُ بِهَا" کہ مفہوم نہیں ہوتی مراد "بِهَا" ان کنایات اور مجازات کی وجہ سے۔ "هَا" ضمیر یہ مجازات اور کنایات کو راجع ہے، کہ سمجھ میں نہیں آتی مراد اس کلام کی، اس کلام سے جو مراد ہے، وہ سمجھ میں نہیں آتا "بِهَا" ان مجازات اور کنایات کی وجہ سے بھئی۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب ترجمہ دیکھیے، کہتے ہیں: "وَإِمَّا مِنْ جِهَةِ الْمَعْنَى" اور وہ خفا جو ہے، یا تو وہ معنی کی جہت سے ہوگا، معنی کی جانب سے ہوگا، "بِسَبَبِ اسْتِعْمَالِ مَجَازَاتٍ وَكِنَايَاتٍ لَا يُفْهَمُ الْمُرَادُ بِهَا" بوجہ استعمال کرنے ایسے مجازات اور کنایات کو کہ سمجھ میں نہیں آتی مراد ان کی وجہ سے، ان کے سبب سے ان کی مراد سمجھ میں نہیں آتی۔ اچھا، بھئی دیکھیے، یہاں دو لفظ آئے: مجازات اور کنایات۔ مجاز اور کنایہ، مجاز اور کنایہ۔ مجاز لفظ کو معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کرنا، یہ مجاز کہلاتا ہے۔ بھئی ایک لفظ ہے، اس کو جس معنی کے لیے وضع کیا گیا ہے، یعنی مقرر کیا گیا ہے، جیسے اردو میں "شیر" کا لفظ کس معنی کے لیے مقرر کیا گیا ہے؟ اس سے کیا مراد لیتے ہیں؟ وہ جنگلی درندے کے لیے یہ وضع کیا گیا ہے یعنی مقرر کیا گیا ہے، یہ ہے وضع۔ کسی لفظ کو کسی معنی کے لیے مقرر کر دینا، یہ کیا ہے؟ وضع۔ اسی طرح ناموں میں بھی وضع ہوتی ہے۔ کسی کا بیٹا پیدا ہوتا ہے، وہ اس کا نام زید مثلاً رکھ دیتا ہے، تو اس نے لفظ زید کو، اس نام کو، اس بیٹے کے لیے مقرر کر دیا۔ یہ ہے وضع۔ تو اب جب بھی زید بولیں گے، یہ اس کا یہ بیٹا سمجھ میں آئے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جیسے آپ لوگوں کے نام آپ کے لیے وضع ہیں۔ جس ساتھی کا آپ نام لیتے ہیں، وہی سمجھ جاتا ہے کہ میرا، میری بات ہو رہی ہے، کسی دوسرے کی بات نہیں ہو رہی، تو یہ ہے وضع بھئی، مقرر۔ تو اسی طرح اردو میں اب شیر کا لفظ وضع ہے جنگلی درندے کے لیے، تو یہ اس کا معنی موضوع لہ ہوا۔ جنگلی درندہ کیا ہوا شیر کا معنی؟ معنی موضوع لہ، وہ معنی جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا، اس کو مقرر کیا گیا ہے، اس کو خاص کیا گیا ہے۔ تو یہ ہوا معنی موضوع لہ، اور اسی لفظ شیر کو بول کر آپ اس سے بہادر آدمی بھی مراد لیتے ہیں، لیکن بہادر آدمی کے لیے تو یہ لفظ وضع نہیں ہے۔ تو جب اس سے آپ بہادر آدمی کا معنی مراد لیتے ہیں، تو آپ نے لفظ سے معنی غیر موضوع لہ کا ارادہ کیا۔ آپ نے لفظ سے معنی غیر موضوع لہ کا ارادہ کیا، آپ غیر موضوع لہ معنی کے اندر لفظ کو استعمال کر رہے ہیں اور اگر اسی شیر کو شیر کے معنی میں رکھیں، مثلاً میں کہتا ہوں: "میں نے جنگل میں شیر دیکھا"، اب اس شیر سے کیا مراد ہے؟ جنگلی درندہ۔ اور تو یہ اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے یا غیر موضوع لہ میں؟ معنی موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے، اور اسی شیر سے اگر میں کیا مراد لے لوں؟ بہادر آدمی مراد لے لوں، تو اس صورت میں یہ کس معنی میں استعمال ہوا؟ معنی غیر موضوع لہ کے اندر استعمال ہوا، غیر موضوع لہ میں۔ تو مجاز میں یاد رکھیے، لفظ کو معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کیا جائے، تو یہ ہے مجاز بھئی۔ یہ کیا ہے؟ مجاز۔ میں نے کہا: "شیر آ گیا"، یا میں کہتا ہوں: "میں نے شیر دیکھا" اور مراد لیا بہادر آدمی، تو یہ مجاز ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ مجاز۔ کیوں مجاز ہے؟ کیونکہ لفظ کو معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کر لیا۔ اور اگر میں کہوں: "میں نے شیر دیکھا" اور اس سے جنگلی درندہ مراد لوں، تو اب یہ مجاز ہے؟ یہ مجاز نہیں، لیکن اگر اسی شیر سے میں کیا مراد لوں؟ بہادر آدمی مراد لوں، تو اب یہ کیا ہے؟ مجاز ہے، کیونکہ لفظ کو معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کیا بھئی، استعمال۔ یہ ہوتا ہے مجاز بھئی۔ اور ایک ہے کنایہ بھئی، کنایہ۔ کنایہ یاد رکھنا بھئی، کنایہ کہتے ہیں ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا۔ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا۔ ایک لفظ آپ نے بولا، لیکن آپ کا ارادہ اس کے اس معنی کا نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ جو لازم ہے جو چیز، اس کا ارادہ، اس معنی کا آپ نے ارادہ کر لیا۔ دیکھو، مثال سے بات واضح ہوگی۔ "زید لمبے قد والا ہے"، "زید کا قد لمبا ہے"۔ اب میں اس بات کو یوں بھی کہہ سکتا ہوں: "زید لمبے قد والا ہے" یا یوں کہہ دوں میں: "زید کا قد لمبا ہے"، اور اسی بات کو میں یوں بھی کہہ سکتا ہوں: "زید لمبی قمیض والا ہے"، "اس کی قمیض لمبی ہے" یا یوں بھی کہہ سکتا ہوں: "زید کی قمیض لمبی ہے"۔ "زید کا قد لمبا ہے"، یہی معنی میں ادا کر رہا ہوں، لیکن کس طرح کہتا ہوں آپ کو؟ "زید کی قمیض لمبی ہے"، "زید کی قمیض لمبی ہے"۔ اب قمیض سے قمیض ہی کا ارادہ ہو، پھر تو یہ ہے معنی لغوی ہی، لیکن میں کس چیز کا ارادہ کر رہا ہوں؟ لمبے قد کا ارادہ کر رہا ہوں، لمبے قد کا۔ اور یہاں تعلق کیا ہے لمبی قمیض اور لمبے قد میں؟ یہ لمبا قد لمبی قمیض کے ساتھ لازم ہے، جب قمیض لمبی ہے تو لازم ہے کہ اس کا قد بھی کیا ہوگا؟ لمبا، جس کا قد لمبا ہو وہی لمبی قمیض پہنتا ہے، نہ کہ وہ جس کا قد چھوٹا ہو۔ تو دیکھو، میں نے ملزوم ذکر کیا اور ارادہ لازم کا کیا، ذکر قمیض کو کیا اور لمبی قمیض کے ساتھ کیا لازم ہے؟ قد کا لمبا ہونا، تو یہ میں نے ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کیا۔ اس کو کہتے ہیں کنایہ، کنایہ۔ دوسری مثال دیکھ لیں۔ عربی میں کہتے ہیں بھئی کہ فلاں کی حمائل لمبی ہے، حمائل۔ فلاں کی حمائل حام، الف، ہمزہ، لام، فلاں کی حمائل لمبی ہے اور مقصد وہی ہوتا ہے کہنے کا جو ابھی بیان ہوا: فلاں کا قد لمبا ہے۔ فلاں کی حمائل لمبی، حمائل کا کیا معنی؟ بھئی، قدیم زمانے میں جو تلوار اپنے پاس رکھتے تھے جب، تو اس تلوار کو چمڑے سے باندھ کر کندھے سے لٹکایا جاتا تھا۔ تو یہ جو چمڑا جس کے ساتھ تلوار کو لٹکایا جاتا تھا، اس کو حمائل کہتے ہیں۔ اردو میں کیا کہتے ہیں؟ حمائل کہتے ہیں، حمائل۔ جیسے آج کل بندوق کو بھی کس سے لٹکایا جاتا ہے؟ بندوق وغیرہ، چمڑے کے ساتھ کندھے سے لٹکاتے ہیں، اسی طرح تلوار کو بھی کندھے سے چمڑے کے ساتھ لٹکایا جاتا تھا اور وہ چمڑا اس کو اردو میں حمائل کہتے ہیں اور اس میں بھی یہ بات ظاہر ہے، جس کا قد لمبا ہوگا اس کی حمائل لمبی ہوگی، جس کا قد چھوٹا ہوگا اس کی حمائل چھوٹی ہوگی۔ اب میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ زید لمبے قد والا ہے، تو اگر سیدھے لفظوں میں کہہ دوں تو پھر کوئی کنایہ نہیں کہ زید لمبے قد والا ہے، آپ بات سمجھ گئے۔ لیکن اسی کو اگر میں کنایہ کے رنگ میں ذکر کرنا چاہوں، تو کیا کہوں گا؟ "زید کی حمائل لمبی ہے" یا یوں کہوں گا: "زید لمبی حمائل والا ہے"۔ اور ارادہ کس معنی کا ہے؟ بھئی اگر حمائل ہی کا ارادہ کروں تو پھر کچھ کنایہ نہیں ہے، لیکن میں حمائل کا ارادہ، کہہ لفظ حمائل کا بول رہا ہوں، لیکن حمائل کا ارادہ نہیں بلکہ کس چیز کا ارادہ ہے؟ لمبے قد کا، پھر کنایہ بنے گا۔ تو لمبی حمائل کے ساتھ قد کا لمبا ہونا لازم ہے، تو ملزوم بول کر میں نے کس کا ارادہ کیا؟ لازم کا ارادہ کیا۔ ملزوم بول کر لازم کا۔ آپ کہیں گے: اس کا فائدہ کیا ہے؟ بھئی، سیدھی سی بات یہ کر دو: "زید کا قد لمبا ہے"، بجائے اس کے یہ کہو کہ "زید کی حمائل لمبی ہے"، فائدہ کیا ہوا؟ بھئی، بہت فائدہ ہے بلاغت کے اعتبار سے آپ دیکھیں بھئی۔ جب میں کہوں: "زید کا قد لمبا ہے"، یہ تو سیدھی سی بات ہے، یہ تو ہر ایک کر دے گا، ہر ایک اسی طرح بات کرتا ہے۔ لیکن جب میں کہتا ہوں: "زید لمبی قمیض والا ہے" یا "زید لمبی حمائل والا ہے"، اب اسی بات کو، اسی معنی کو میں نے کنائے کے ساتھ ادا کیا، کنائے کے رنگ میں ادا کیا، تو بات کا لطف بھی بڑھ گیا اور صرف، صرف بات نہیں آئی، بات کے ساتھ اس کی دلیل بھی آ گئی۔ وہ معنی کے ساتھ ساتھ اس کی دلیل بھی آ گئی اور ایک بات، ایک دعویٰ بغیر دلیل کے ہو اور ایک دعویٰ دلیل کے ساتھ ہو، کون سا مضبوط ہوگا؟ جو دعویٰ دلیل کے ساتھ ہو۔ جب میں نے کہا: "زید لمبے قد والا ہے"، تو اس بات میں کوئی دلیل نہیں۔ لیکن جب میں نے کہا: "زید لمبی قمیض والا ہے" اور ارادہ کس کا کیا؟ قد کا، تو بات ہوئی کہ زید کا قد لمبا ہے اور ساتھ دلیل بھی آ گئی، کیا دلیل ہے؟ اس کی قمیض لمبی ہے بھئی، یا اس کی حمائل لمبی ہے، یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اس کا قد لمبا۔ تو کنائے کے اندر دلیل بھی ساتھ آ جاتی ہے دعویٰ کے بھئی، تو بات کا لطف ہی بڑھ جاتا ہے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو مجاز کسے کہتے ہیں؟ لفظ کو معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کرنا، یہ مجاز کہلاتا ہے، اور کنایہ کسے کہتے ہیں؟ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا۔ اب ہم دونوں میں فرق کیسے کریں گے؟ دونوں بالکل ایک جیسے ہیں۔ میں نے کہا: "شیر آیا" اور مراد کون لیا؟ بہادر آدمی، تو یہ بھی لفظ کو معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کیا۔ اور میں نے کہا: "زید کی قمیض لمبی ہے" اور ارادہ کس کا کیا؟ قمیض کا ارادہ نہیں کیا، لمبے قد کا ارادہ کیا، تو یہاں بھی قمیض کا لفظ کس میں استعمال ہو گیا؟ معنی غیر موضوع لہ میں۔ بول قمیض رہا ہوں، ارادہ قد کا ہے، تو لفظ کس میں استعمال ہو رہا ہے، موضوع لہ میں یا غیر موضوع لہ میں؟ غیر، تو دونوں میں معنی غیر موضوع لہ مراد ہوتا ہے، پھر فرق کیسے کریں گے ہم دونوں میں؟ تو فرق یاد رکھنا بھئی، فرق یاد رکھنا۔ مجاز اور کنائے میں فرق یہ ہوتا ہے کہ مجاز کے اندر معنی موضوع لہ مراد لینا ٹھیک ہی نہیں ہوتا۔ مجاز میں معنی موضوع لہ اس کا ارادہ ٹھیک ہو ہی نہیں سکتا، وہ مراد معنی موضوع لہ وہاں مراد ہو ہی نہیں سکتا۔ جیسے دیکھیے میں نے کیا مثال ذکر کی تھی مجاز کی؟ آپ کا ساتھی آیا کمرے کے اندر، آپ نے کہا شیر آ گیا۔ کیا معنی، کس چیز کا ارادہ کیا؟ بہادر، کہ بہادر آدمی آ گیا۔ تو لفظ کس معنی میں استعمال ہوا؟ غیر موضوع لہ میں استعمال ہوا، تو یہ کیا ہوا؟ مجاز ہوا۔ کیا ہوا؟ اور مجاز کا کنائے سے فرق میں نے کیا ذکر کیا کہ مجاز کے اندر معنی موضوع لہ کا ارادہ صحیح نہیں ہوتا، معنی موضوع لہ وہاں مراد ہو ہی نہیں سکتا۔ جیسے یہاں پر آپ دیکھیں یہ مجاز تھا۔ اب آپ اس پہ معنی موضوع لہ کا ذرا ارادہ کریں۔ میں نے کہا تھا شیر آ گیا۔ کیا معنی آیا؟ کون آیا؟ معنی موضوع لہ، معنی موضوع لہ کا ارادہ کریں ذرا۔ جنگلی درندہ آ گیا ہے۔ بھئی جنگلی درندے والا یہاں معنی بنتا ہے؟ کون آیا کمرے میں؟ آپ کا ساتھی آیا ہے، انسان آیا ہے، جنگلی درندہ تو آیا ہی نہیں ہے۔ تو یہاں معنی موضوع لہ کا ارادہ درست بنتا ہی نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو مجاز کے اندر معنی موضوع لہ کا ارادہ ہو ہی نہیں سکتا، وہ درست بنے گا ہی نہیں۔ جیسے میں نے مثال ذکر کر دی کہ شیر آیا سے اب بہادر آدمی ہی یہاں مراد آپ لے سکتے ہیں، جنگلی درندہ مراد نہیں لے سکتے کیونکہ کون آیا ہے اصل میں؟ انسان آیا ہے، بہادر آدمی تو آیا ہے، جنگلی درندہ تو آیا ہی نہیں ہے یہاں پر، تو لہذا وہ معنی مراد ہی نہیں لے سکتے۔ جبکہ کنایہ کے اندر معنی موضوع لہ کا ارادہ بھی درست ہوتا ہے۔ کنائے میں اس کا ارادہ بھی کیا جا سکتا ہے، وہ بھی درست بنے گا۔ جیسے میں نے کہا تھا زید لمبی قمیض والا ہے اور ارادہ کس معنی کا کیا؟ لمبے قد والا، تو لمبے قد والے معنی کا ارادہ بھی صحیح اور حقیقی معنی یعنی معنی موضوع لہ کا ارادہ بھی صحیح۔ میرا ارادہ ہوتا ہے میں اس کا کیا مراد لیتا ہوں؟ زید لمبی قمیض والے میں قمیض سے قمیض ہی مراد لیتا ہوں۔ درست ہے بات یا غلط؟ ابھی بھی درست ہے، زید لمبی قمیض والا ہے، زید لمبی حمائل والا ہے، ابھی بھی بات درست ہے۔ تو مان چاہے لمبا قد مراد لیں چاہے حمائل اور قمیض مراد لیں ان لفظوں سے، جو بھی مراد لے لیں گے معنی بات صحیح ہو جائے گی۔ فرق سمجھ میں آیا؟ کیا فرق ہوا مجاز اور کنایہ میں؟ مجاز میں معنی موضوع لہ کا ارادہ صحیح نہیں ہوتا جبکہ کنایہ میں معنی موضوع لہ کا ارادہ بھی صحیح ہوگا بھئی صحیح ہوگا۔ یہ فرق ہے دونوں میں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں و إما من جهة المعنى بسبب استعمال مجازات وكنايات لا يفهم المراد بها يا وہ خفا جو ہے وہ معنی کی جانب سے ہوگا بوجہ استعمال کرنے ایسے مجازات اور کنایات کو کہ لا يفهم المراد بها کہ سمجھ میں نہیں آتی مراد ان سے، ان سے مراد ان کی جو مراد ہے وہ سمجھ نہیں آتی، تو یہ لا يفهم صفت ہوئی۔ تو یہ مجاز اور کنایہ بھئی ان سے کلام میں بڑا حسن پیدا ہو جاتا ہے۔ ان میں ان کی وجہ سے کلام میں بڑا حسن پیدا ہو جاتا ہے مجازات اور کنایات سے۔ ایک بات ہے آپ سیدھے لفظوں میں کہیں، سیدھے لفظوں سے تو ہر ایک بات کرتا ہے، آپ اس کے لیے مجاز وغیرہ استعمال کرتے ہیں، آپ کنایات استعمال کرتے ہیں تو بات کا لطف ہی بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے بھئی بہت زیادہ۔ لیکن بعض اوقات مجاز اور کنایات ایسے استعمال کر لیے جاتے ہیں جن سے کہ جن کی وجہ سے معنی مراد تک ذہن جلدی نہیں منتقل ہوتا یا سرے سے منتقل ہی نہیں ہوتا معنی مراد کی طرف، تو یہاں اس قسم کے مجازات اور کنایات ہیں، اسی لیے کہا ایسے مجازات اور کنایات لا يفهم المراد بها کہ ان کی وجہ سے مراد جو ہے وہ سمجھ میں نہیں آتی بھئی، ایسے مجازات اور کنایات۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ میں نے کہا شیر آیا ہے، پہلے آپ کے ذہن میں معنی لغوی آیا اور پھر اس سے ذہن منتقل ہوا کس کی طرف؟ معنی مراد کی طرف۔ میں نے کہا زید لمبی حمائل والا ہے، آپ کے ذہن میں پہلے حمائل کا معنی موضوع لہ آیا، لغوی معنی، اور پھر اس سے ذہن منتقل ہوا معنی مراد کی طرف بھئی، تو یہاں بھی انتقال ہوگا بھئی انتقال، معنی مراد کی طرف۔ اب یہ جو انتقال ہے یہاں پر تعقید کی بات چل رہی ہے نا؟ یہاں اس انتقال میں کوئی خلل اور خرابی ہوگی، ذہن منتقل نہیں ہوگا۔ وہ خلل اور خرابی کیا ہے؟ معنی کے اندر ہے یعنی وہاں قرینوں کے اندر خفا ہوگا۔ کس کے اندر؟ وہاں قرینوں میں خفا ہوگا جس کی وجہ سے خلل آئے گا قرینوں میں۔ قرینہ جانتے ہو یا نہیں جانتے؟ ہمیشہ یاد رکھنا لکھ لیں بھئی اس کی تعریف، جگہ جگہ کتابوں میں قرینے کا لفظ آتا ہے، آپ کو اس کا معنی آنا چاہیے بھئی۔ القرينة هو أمر يشير إلى المطلوب۔ القرينة، القرينة جلدی لکھیے بھئی، القرينة هو أمر، هو أمر يشير، اشار يشير کے معنی اشارہ کرنا، يشير إلى المطلوب، إلى المطلوب بھئی۔ لکھ لیا بھئی؟ ہاں، یہ تعریف آپ کو ہر وقت یاد ہونی چاہیے اور انہی عربی لفظوں کے ساتھ بھئی۔ القرينة هو أمر يشير إلى المطلوب۔ معنی آپ کو سمجھ میں آ رہا ہے لیکن سمجھ لیجیے پھر بھی۔ القرينة هو أمر، بس بھئی میری طرف دیکھیے، لکھنا بند کیجیے۔ القرينة هو أمر يشير إلى المطلوب، قرینہ وہ امر ہے، وہ چیز ہے يشير إلى المطلوب جو مطلوب اور مقصود کی طرف اشارہ کرے۔ قرینہ وہ چیز ہے جو کس کی طرف اشارہ کرے؟ جو مقصود ہے، جو مقصد ہے اس کی طرف جو بھی چیز اشارہ کرے اس کو قرینہ کہا جاتا ہے، قرینہ کہا جاتا ہے۔ اور قرینہ لفظیہ بھی ہو سکتا ہے، لفظوں میں کوئی چیز آپ کو بتا دے گی کہ یہ والا معنی مراد نہیں ہے، یہ والا معنی مراد ہے۔ اس کو کہیں گے قرینہ لفظیہ، کیا کہیں گے؟ بھئی میں شیر کا لفظ بولتا ہوں اور اس سے بہادر آدمی مراد لیتا ہوں۔ اب میری مراد شیر سے درندہ نہیں ہے بلکہ بہادر آدمی ہے، اس کے لیے کوئی قرینہ چاہیے۔ میرا اس سے کیا مقصد ہے؟ بہادر آدمی، بس بھئی میرے دل میں تو یہ بات واضح ہے لیکن سننی تو، کرنا تو یہ کلام میں نے آپ کے سامنے ہے، آپ کو بھی یہ بات سمجھ آ جانی چاہیے کہ شیر بول کر کیا ارادہ ہے میرا؟ بہادر آدمی، اور ویسے تو آپ کو سمجھ میں نہیں آئے گی یہ بات کہ شیر کا لفظ بول رہا ہے اور آپ تو یہی سمجھیں گے کہ شاید شیر سے کیا مراد ہے؟ شیر، تو کوئی قرینہ وہاں چاہیے، کوئی چیز چاہیے جو آپ سننے والے کو بھی بتلا دے کہ یہ یہاں پر شیر سے درندہ نہیں مراد بلکہ کیا مراد ہے؟ بہادر آدمی مراد ہے، تو جو بھی ایسی چیز ہوئی جس نے آپ کو کے لیے اشارہ کر دیا کس کی طرف؟ مطلوب کی طرف، جو میرا، جو اس کلام کا، جو غرض تھی اس کی طرف کیا کر دیا؟ اشارہ کر دیا، اس کو کیا کہیں گے؟ قرینہ کہیں گے، اور یہ قرینہ لفظیہ بھی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح قرینہ حالیہ بھی ہو سکتا ہے، حال وغیرہ، کوئی حالت بتلا دے گی۔ جیسے دیکھیے آپ کا ساتھی کمرے میں آیا، کمرے میں آیا اور میں نے کہا شیر آ گیا۔ آپ کیا سمجھے؟ بہادر آدمی آ گیا ہے، اب یہاں پر دیکھیے میں نے تو صرف اتنا کہا شیر آ گیا، لیکن آپ سمجھ گئے شیر بول کر کیا مراد ہے؟ بہادر، کس سے پتہ چلا؟ تو قرینہ چاہیے، قرینہ چاہیے، ویسے نہیں پتہ چلے گا۔ کہ میرے کہنے والے کی مراد بہادر آدمی ہے، شیر کا ارادہ اس کا نہیں ہے، کوئی قرینہ ضرور چاہیے۔ اب وہ قرینہ، یہاں پر کیا قرینہ ہے؟ اس کا حال، حالت بھئی جو ہے، اندر جنگلی درندہ آیا ہے یا انسان آیا ہے؟ انسان، یہ حال، یہ حالت آپ کو بتلا رہی ہے، یہ قرینہ ہے کہ یہاں شیر بول کر کیا مراد ہے؟ بہادر آدمی بھئی۔ ورنہ مطلقاً آپ یہ جملہ سنیں شیر آ گیا، آپ تعین نہیں کر سکتے کہ اس سے بہادر آدمی مراد ہے، آپ کو کیا سمجھیں گے؟ جنگلی درندہ ہی آیا ہے، تو اس کے لیے کوئی قرینہ چاہیے ہوتا ہے جو بتلاتا ہے کہ معنی موضوع لہ مراد نہیں ہے بلکہ معنی غیر موضوع لہ یہاں پر مراد ہے بھئی۔ تو یہاں دیکھو وہ جو آپ کا ساتھی کمرے میں آیا تھا، یہ حالت بتلا رہی ہے، جس حالت میں آپ موجود ہیں وہ اندر آ رہا ہے کہ بھئی یہاں تو کوئی جنگلی درندہ نہیں آیا، یہاں تو کون کمرے میں آیا ہے؟ انسان آیا ہے، اس قرینے نے آپ کو بتلا دیا کہ یہاں بہادر آدمی مراد ہے، جنگلی درندہ مراد نہیں، تو یہ قرینہ حالیہ ہو گیا، یا اسی طرح کبھی قرینہ لفظوں کے اندر ہوگا۔ قرینہ لفظوں میں ہوگا، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں میں نے آج ایک شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا، میں نے آج ایک شیر کو بندوق چلاتے ہوئے دیکھا۔ اب آپ کیا سمجھے؟ شیر سے جنگلی درندہ مراد ہے یا بہادر آدمی؟ بہادر آدمی، کیسے پتہ چلا آپ کو؟ یہ تیر، تیر چلانا اور بندوق چلانا یہ تو وہ جنگلی درندہ یہ کام نہیں کر سکتا بھئی، تو ان لفظوں نے آپ کو بتلا دیا کہ شیر بول کر کیا مراد ہے؟ بہادر آدمی، یہ قرینہ لفظیہ ہوا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ قرینہ کسے کہتے ہیں؟ هو أمر يشير إلى المطلوب، کوئی بھی چیز جو مطلوب اور مقصود کی طرف اشارہ کر دے اسے کیا کہتے ہیں؟ قرینہ کہتے ہیں، وہ حالیہ بھی، حالت وغیرہ بھی ہو سکتی ہے اور لفظ وغیرہ بھی ہو سکتے ہیں بھئی، تو قرینہ لفظیہ بھی ہو سکتا ہے اور حالیہ بھی ہو سکتا ہے۔ تو یہ جو مجازات اور کنایات، یاد رکھیے مجاز اور کنایہ میں ہر جگہ خفا نہیں ہوگا۔ مجاز اور کنایہ دونوں میں جو بھی لفظ بولا گیا اس کا معنی موضوع لہ مراد نہیں ہوتا بلکہ معنی غیر موضوع، تو معنی موضوع لہ سے یعنی معنی لغوی سے ذہن پھر منتقل ہوتا ہے اس معنی غیر موضوع لہ یعنی معنی مراد کی طرف ذہن منتقل ہوتا ہے۔ اس ذہن کا معنی لغوی سے معنی مراد کی طرف، یا یوں کہیں معنی موضوع لہ سے ذہن کا منتقل ہونا کس کی طرف؟ غیر موضوع لہ کی طرف جو مراد ہے، اس کے اندر کوئی خلل آتا ہے، خلل آتا، اور وہ خلل کیا ہوتا ہے کہ قرینے جو ہوتے ہیں وہ قرینے ان میں خفا ہوتا ہے۔ قرینے جو وہاں پر ہوتے ہیں ان قرینوں میں کیا ہوتا ہے؟ خفا، وہ قرینے پوری طرح ظاہر نہیں ہوتے، اگر قرینے پوری طرح ظاہر ہوں تو فوراً آپ بات سمجھ جائیں گے، پھر ذہن کے انتقال میں کوئی وقت نہیں لگے گا بھئی۔ جیسے ہی ساتھی اندر آیا میں نے کہا شیر آیا ہے، آپ فوراً ایک لمحے میں سمجھ گئے کہ کون آیا ہے؟ بہادر آدمی آیا ہے، کیونکہ یہاں پر قرینہ بالکل واضح ہے، ظاہر ہے بھئی۔ میں نے کہا میں نے ایک شیر کو بندوق چلاتے ہوئے دیکھا، ہاں سنتے ہی سمجھ گئے کہ شیر بول کر کیا مراد ہے؟ بہادر آدمی، ذہن فوراً معنی مراد کی طرف منتقل ہو گیا کیونکہ قرینے کے اندر کوئی خفا نہیں ہے، لیکن اگر اسی قرینے میں کچھ خفا آ جائے تو پھر انتقال بھی اس میں بھی اسی طرح مشکل پیش آ جائے گی، رکاوٹ آ جائے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ یہ جو ذہن معنی لغوی سے منتقل ہوتا ہے معنی مراد کی طرف، یہ کس کی وجہ سے ہوگا؟ کن کو دیکھتے ہوئے ہوگا؟ قرینوں کو، اور انہی قرینوں کے اندر خفا ہو، جب خفا ہو آپ کی توجہ ان کی طرف نہیں جائے گی، جب ان کی طرف آپ کی توجہ نہیں جائے گی تو ذہن بھی معنی مراد کی طرف منتقل نہیں ہوگا بھئی، تو قرینوں کے اندر خفا آ جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ سب کو، اچھی طرح؟ ويسمى تعقيداً معنوياً اور اس کو تعقید معنوی کہتے ہیں، اس تعقید کی قسم کو کیا کہتے ہیں؟ تعقید معنوی کہتے ہیں۔ نحو مثال کے طور پر، نحو قولك جیسے کہ آپ کا قول: نشر الملك ألسنته في المدينة، نشر پھیلا دیں، الملك بادشاہ نے، ألسنته، ألسنہ جمع ہے لسان کی، زبان کو کہتے ہیں، پھیلا دیں بادشاہ نے اپنی زبانیں، ہا ضمیر ملک کو راجع ہے، پھیلا دیں بادشاہ نے اپنی زبانیں في المدينة شہر میں۔ بادشاہ نے اس شہر کے اندر اپنی زبانیں پھیلا دیں، مريداً جواسيسه، اس حال میں کہ آپ ارادہ کرنے والے ہیں، مرید کا کیا معنی؟ ارادہ کرنے والے، اس حال میں کہ آپ ارادہ کرنے والے ہیں جواسيسه اس بادشاہ کے جاسوسوں کا، جواسیس جمع ہے جاسوس کی۔ تو آپ نے ذکر کیا زبانوں کو اور مراد لیے جاسوس۔ مراد کیا لیے؟ جاسوس، سننے والے کو نہیں پتہ چلے گا کہ یہ کیا کہہ رہا ہے، کیا کہنا چاہتا ہے۔ میں آپ سے کہتا ہوں بادشاہ نے اس شہر کے اندر اپنے اپنی زبانیں پھیلا دیں، کیا آپ کے ذہن میں فوراً جاسوسوں کا خیال آیا؟ نہیں۔ لیکن اس کے بجائے اگر میں یوں کہوں اس شہر میں بادشاہ نے اپنی آنکھیں پھیلا دی ہیں، یا اس میں اپنے کان پھیلا دیے ہیں، آپ سنتے ہی سمجھ گئے کہ کون مراد ہیں؟ جاسوس، کیونکہ جاسوسی کا تعلق زبان سے نہیں بلکہ زیادہ تعلق کس سے ہے؟ آنکھوں اور کانوں سے ہے، تو یہاں پر ألسنہ بول کر جاسوس کا ارادہ کیا گیا، اور یہ اس کا معنی موضوع لہ ہے یا غیر موضوع لہ؟ غیر موضوع لہ ہے، تو یہاں پر معنی لغوی ہوا زبانیں، معنی مراد ہوا جاسوس، لیکن اس زبان سے جاسوس کے معنی کی طرف ذہن فوراً منتقل نہیں ہوتا کیونکہ قرینہ خفی ہے، کیا خفاء کس طرح خفیہ ہے قرینہ؟ کیونکہ جاسوس کے ساتھ زبان کا زیادہ تعلق نہیں، جاسوسی کے لیے تو کیا چیز ضروری ہے؟ آنکھیں اور کان ضروری ہیں، تو ان کا زیادہ تعلق ہے، وہ لفظ ہوتا تو آپ فوراً سمجھ جاتے، لیکن زبانوں کا ایسا کوئی خاص تعلق نہیں ہے جاسوس کے ساتھ۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھیے یہاں قرینہ خفی ہوا۔ اسی لیے کہتے ہیں والصواب نشر عيونه، درست یہ ہے کہ نشر عيونه اس نے بادشاہ نے پھیلا دیں عيونه اپنی آنکھیں۔ یوں کہا جائے تو پھر صحیح ہے اور ذہن فوراً کس کی طرف منتقل ہو جائے گا؟ جاسوسوں کی طرف منتقل ہو جائے گا۔ مجاز سے کلام میں بڑا حسن آ جاتا ہے بھئی، بہت زیادہ کلام میں حسن آتا ہے۔ ایک بات سیدھے لفظوں میں کہنا، سیدھے لفظوں میں تو ہر ایک کر لے گا بھئی، لیکن اسی بات کو دوسرے رنگ میں کہنا کہ سننے والے کو اس کی لذت محسوس ہوتی ہے بھئی۔ اب آپ ایک سیدھی بات کرتے ہیں زید بہادر آدمی ہے، اور ایک آپ اس کے لیے مجاز کو استعمال کرتے ہیں کہ زید تو شیر ہے شیر بھئی، اس بات کا لطف ہی بڑھ جاتا ہے۔ یہ تو ایک مثال میں نے ویسے ذکر کی، مجاز وغیرہ کہ ان سے کلام کا بڑا حسن بڑھ جاتا ہے، ان کا بڑا لطف بڑھ جاتا ہے بھئی، بات کا رنگ ڈھنگ ہی بدل جاتا ہے بھئی، رنگ ڈھنگ ہی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المراد، والله أعلم بحقيقة الكلام۔