Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-004

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 03 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 13
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔۴ مقدمة في الفصاحة والبلاغة. الفصاحة في اللغة تنبئ عن البيان والظهور، يقال: أفصح الصبي في منطقه إذا بأن وظهر كلامه، وتقع في الاصطلاح وصفا للكلمة والكلام والمتكلم. گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا کہ قرآن کی فصاحت و بلاغت کو جاننے کے لیے علم بلاغت کا سیکھنا ضروری ہے۔ تو اس کتاب میں علم بلاغت کے بارے میں ہمیں بتلائیں گے، علم بلاغت ہم پڑھیں گے، اور یہ بھی آپ نے پڑھا کہ علم بلاغت دراصل تین علوم کا مجموعہ ہے بھئی، تین علوم کا: علم معانی، علم بیان اور علم بدیع بھئی، علم بدیع۔ تو یہ علوم بلاغت اب اس کتاب کے اندر بیان ہوں گے بھئی، تو شروع میں مصنف جو ہیں وہ مقدمہ لے کر آئے بھئی، مقدمة في الفصاحة والبلاغة. مقدمہ کتاب کے شروع میں چند ضروری باتیں جن سے آگے کتاب میں فائدہ حاصل ہو، اس کا سمجھنا آسان ہو جائے، وہ چند باتیں اکٹھی کی جاتی ہیں کتاب کے شروع میں۔ تو دیکھیے بھئی، مقدمة في الفصاحة والبلاغة، أي هذه مقدمة، تو یہ خبر ہے کس کی؟ مبتدائے محذوف کی، فهذه مقدمة في الفصاحة والبلاغة، یہ مقدمہ ہے فصاحت و بلاغت میں، یعنی فصاحت و بلاغت کے بیان میں، أي في بيان الفصاحة والبلاغة، ہاں، جس میں فصاحت و بلاغت کی تعریف کریں گے، ان کی ان کو بیان کریں گے۔ تو پہلی ترکیب کے مطابق مقدمة مرفوع ہے بنا بر خبر ہونے کے، یا اس کو منصوب پڑھیں مقدمةً، اقرأ مقدمةً في الفصاحة والبلاغة، تو یہ مفعول بنے گا اقرأ کے لیے، کہ آپ فصاحت و بلاغت کے بیان میں مقدمے کو پڑھیے۔ یاد رکھیے، اس کتاب کے اندر ایک مقدمہ ہوگا جو آپ کے سامنے ہے، اور پھر اس کے بعد تین علوم آئیں گے بھئی۔ سب سے پہلے یہ مقدمہ ہے، پھر فن اول آئے گا، پھر فن ثانی آئے گا، اور پھر فن ثالث آئے گا۔ آخر میں خاتمہ بھی ہے بھئی، خاتمہ کا عنوان بھی آئے گا، لیکن یاد رکھنا وہ خاتمہ کوئی الگ نہیں، وہ وہی فن ثالث کا حصہ ہے۔ تو گویا کتاب کے کل چار چار چیزیں یوں کہیں کتاب کے اندر بھئی: مقدمہ، اور فن اول علم معانی، فن ثانی ہوگا علم بیان، اور فن ثالث کیا ہوگا؟ علم بدیع۔ تو مصنفین حضرات نے اس کتاب کو مرتب کیا ایک مقدمے اور تین فنون پر بھئی، تین علوم پر، چار چیزیں ذکر کیں۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ وجہ حصر لکھ لیجیے بھئی۔ مختصراً اشارات کی صورت میں لکھیے، اب تفصیلی لکھوانے کا وقت نہیں ہے، کہ مصنفین حضرات نے کتاب کو ایک مقدمے اور تین فنون پر مرتب کیا، مصنفین نے کتاب کو ایک مقدمے اور تین فنون پر مرتب کیا، وجہ اس کی یہ کہ کتاب میں جو کچھ ذکر ہوگا، وہ یا تو مقاصد کے قبیل سے ہوگا یا مقاصد کے قبیل سے نہیں ہوگا۔ کہ اس کتاب میں جو کچھ ذکر ہوگا، یا تو وہ مقاصد کے قبیل سے ہوگا یا مقاصد کے قبیل سے نہیں ہوگا۔ اس فن میں، بلکہ یہ لکھیں، کیا لکھا؟ دوبارہ پڑھیں، اس کتاب میں... وہ یا تو اس فن میں، اس فن میں مقاصد کے قبیل سے ہوگا، وہ یا تو اس فن میں، یعنی فن بلاغت میں مقاصد کی قبیل سے، مقاصد کی قسم میں سے ہوگا یا مقاصد کی قسم میں سے نہیں۔ اگر مقاصد کی قبیل سے نہ ہو، اگر مقاصد کی قبیل لکھ لیں یا قسم لکھ لیں، اگر مقاصد کی قسم میں سے نہ ہو، تو وہ مقدمہ ہے۔ تو وہ مقدمہ ہے۔ اور اگر اس فن میں مقاصد کی قبیل سے ہو، اور اگر اس فن میں مقاصد کی قبیل سے ہو، تو پھر مقصد، تو پھر مقصد یا تو معنی مراد کی ادائیگی میں، یا تو معنی مراد کی ادائیگی میں غلطی سے بچنا ہوگا، میں غلطی سے بچنا ہوگا، یا تعقید معنوی سے بچنا ہوگا، تعقید بھئی تا، عین، قاف دو نقطوں والا، یا اور دال، یا تعقید معنوی سے بچنا ہوگا مقصد، یا ان کے علاوہ مقصد ہوگا۔ یا ان کے علاوہ مقصد ہوگا۔ اگر معنی مراد کی ادائیگی میں، اگر معنی مراد کی ادائیگی میں غلطی سے بچنا، غلطی سے بچنا مقصود ہو، مقصود ہو، تو اس کا بیان علم معانی میں ہوگا۔ تو اس کا بیان علم معانی میں ہوگا۔ اور اگر تعقید معنوی سے بچنا مقصود ہو، اور اگر تعقید معنوی سے بچنا مقصود ہو، تو اس کی تفصیل علم بیان میں ذکر ہوگی، تو اس کی تفصیل علم بیان میں ذکر ہوگی۔ اور اگر ان کے علاوہ مقصود ہو، اور اگر ان کے علاوہ مقصود ہو، تو اس کا بیان علم بدیع میں آئے گا۔ تو اس کا بیان علم بدیع میں آئے گا۔ لکھ لیا بھئی؟ جی۔ اب ویسے بھی اس بات کو ذرا سمجھ لیں، الفاظ سے شاید آپ کو ذرا مشکل ہونے کا شبہ ہوگا، بڑی آسان سی بات ہے بھئی۔ میں نے بتایا اس کتاب کو مصنفین نے مرتب کیا، کتنی چیزیں ذکر کیں؟ چار چیزیں ذکر کیں: ایک مقدمہ ہے، پھر علم معانی ہے، پھر علم بیان ہے، اور پھر علم بدیع ہے۔ یہ چار چیزوں میں کیوں بند کیا؟ چار عنوانات میں کیوں ساری چیزوں کو بند کیا؟ وجہ اس کی یہ بھئی کہ جو کچھ وہ ذکر کریں گے، وہ یا تو اس فن کے مقاصد میں سے ہوگا یا مقاصد میں سے نہیں ہوگا۔ اگر مقاصد میں سے ہے اس فن کے اندر، وہ مقصود ہے وہ چیز جس کو وہ ذکر کریں گے، تو وہ تو تین علوم آ گئے: علم معانی، علم بیان اور علم بدیع۔ جو کچھ مقصود ہے وہ ان تین کے اندر آ جائے گا۔ کچھ غیر مقصود چیزیں بھی وہ بیان کریں گے ساتھ، جو اس فن کے اندر مقصود نہیں ہیں، اور وہ جو غیر مقصود چیزیں ہیں، وہ مقدمے کے اندر ذکر کر دیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو مقدمے میں وہ کچھ ضروری، قیمتی باتیں ذکر کریں گے جس سے آگے ان فنون میں آسانی ہو جائے گی، لیکن بہرحال وہ چیزیں مقصود نہیں ہیں، تو ان کو علیحدہ سے ذکر کیا، کس کے اندر؟ مقدمے کے اندر۔ تو گویا اس کتاب میں جو کچھ بھی وہ ذکر کریں گے، یا وہ مقاصد کی قبیل سے ہوگا یا مقاصد کی قبیل سے نہیں ہوگا۔ مقاصد کی قبیل سے نہیں ہے، تو کس میں ذکر کریں گے؟ مقدمے میں۔ اور اگر مقاصد کی قبیل سے ہے، تو مقاصد تین ہی ہو سکتے ہیں یہاں پر: اولاً کیا؟ معنی مراد کی ادائیگی میں سے میں غلطی سے بچنا مقصد ہوگا، یا تعقید معنوی سے بچنا مقصد ہوگا، یا ان کے علاوہ مقصد ہوگا بھئی۔ تو اگر معنی مراد کی ادائیگی میں غلطی سے بچنا مقصد ہو، اس کی تفصیل کہاں آئے گی؟ علم معانی میں۔ تعقید معنوی سے بچنا مقصد ہو، اس کا بیان کہاں ہوگا؟ علم بیان میں۔ اور ان کے علاوہ کوئی چیز ہے، لیکن ہے مقصود اس فن کے اندر، اس کا ذکر پھر کہاں ہوگا؟ اس کا ذکر علم بدیع میں ہوگا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو دو قسم کی چیزیں آئیں گی یہاں پر: کچھ چیزیں ہیں جو اس فن میں باقاعدہ مقصود ہیں، ضروری ہیں بھئی، فن ہی ان پر مشتمل ہے، اور کچھ چیزیں کیا ہیں؟ غیر مقصود۔ غیر مقصود کہاں ذکر ہوئیں؟ مقدمے میں۔ اور مقصود کہاں ذکر ہوئے ہیں؟ تین علوم میں۔ ان میں پھر کس طرح تفصیل ہے؟ علم معانی میں کیا بیان ہوگا؟ معنی مراد کی ادائیگی میں غلطی سے بچنا۔ اور علم بیان میں کیا ہوگا؟ کہ تعقید معنوی سے کیسے بچیں؟ اور ان کے علاوہ کوئی چیز ہے، لیکن ہے مقصود اس فن کے اندر، اس کا ذکر کہاں ہوگا؟ علم بدیع میں ہوگا۔ تو علم بدیع میں کچھ چیزیں ذکر ہوں گی جن سے بھئی ہم فصاحت و بلاغت پڑھ رہے ہیں، تو علم بدیع میں کچھ ایسی چیزیں ذکر ہوں گی جن سے کلام کے اندر مزید حسن پیدا ہوتا ہے، کلام میں مزید خوبصورتی پیدا ہوتی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب یہاں دو چیزیں آئیں بھئی، یہ جو ابھی تک آپ جس پر پریشان ہو رہے ہوں گے: علم معانی میں کیا ذکر ہوگا؟ معنی مراد کی ادائیگی میں غلطی سے بچنا، معنی مراد کی ادائیگی میں غلطی سے بچنا۔ معنی مراد کس کو کہتے ہیں؟ یاد رکھو، مراد کیا ترجمہ ہے؟ مراد جس کا ارادہ کیا جائے، جس چیز کا ارادہ کیا جائے، وہ مراد ہے۔ آپ کسی سے بھی کوئی بات کرتے ہیں، آپ کا کوئی مقصد ہوتا ہے یا نہیں ہوتا مقصد؟ کوئی مقصد ہوتا ہے۔ وہ مقصد، وہ ہے معنی مراد، وہ کیا ہے؟ معنی مراد۔ اور اس معنی مراد کو آپ کئی طریقوں سے ادا کر سکتے ہیں، کئی طریقوں سے ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن اولاً اس کی ادائیگی میں غلطی سے بچنا ضروری ہے، بعض طریقوں میں کچھ غلطی آئے گی، بعض طریقہ میں غلطی سے بچ کر آپ اس کو ادا کر سکتے ہیں، تو علم معانی آپ کو بتلائے گا، سکھائے گا کہ کس طرح معنی مراد کی اداب ادا کرنے میں آپ نے غلطی سے بچنا ہے۔ مثلاً بھئی، مثال سے وضاحت ہوگی۔ میں آپ کو ایک بات بتلانا چاہتا ہوں کہ زید کھڑا ہے، کیا بتلانا چاہتا ہوں؟ زید کھڑا ہے، یہ ہے معنی مراد جو میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں۔ جب میں آپ سے بات کروں گا، تو میرا مقصد کیا ہوگا؟ آپ کو کیا بتلاؤں؟ زید کھڑا ہے، اس کے لیے میں کئی قسم کا کلام لا سکتا ہوں۔ میں کہہ سکتا ہوں: قام زيدٌ، آپ سمجھ گئے یا نہیں؟ میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں: زيدٌ قائمٌ، آپ سمجھ گئے یا نہیں؟ وہی بات اب بھی سمجھ رہے ہیں۔ میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں: إن زيداً قائمٌ، اب بھی وہی بات آپ سمجھ رہے ہیں۔ میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں: إن زيداً لقائمٌ، اب بھی وہی بات ہے۔ میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں: والله إن زيداً لقائمٌ. تو دیکھو معنی مراد وہی ہے، کیا تھا معنی مراد میں آپ کو کیا بتلانا چاہتا ہوں؟ زید کھڑا ہے، اس یہ جو میری مراد ہے معنی، جو میرا مقصود ہے، جو میرا مقصد ہے آپ کو سمجھانا، آپ کو بتلانا اور خبر دینا، یہ ہے معنی مراد، اور اس معنی مراد کو کئی طریقوں سے ادا کیا جا سکتا ہے۔ لیکن بعض طریقے ایک موقع پر استعمال کرنا صحیح ہوں گے، بعض طریقے غلط ہوں گے۔ علم معانی آپ کو بتلائے گا کہ دیکھو، یہ ایسے موقع پر اس طرح کے لفظ لانا، یہاں پر زيدٌ قائمٌ کہنا ہے، یا یہاں پر والله إن زيداً لقائمٌ کہنا ہے، یہ آپ کو علم معانی بتلائے گا۔ اگر ایک مقام ہے وہاں آپ کو کہنا چاہیے زيدٌ قائمٌ، اور آپ کہہ دیتے ہیں إن زيداً قائمٌ، تو یہ إن بیکار لائے یا نہیں لائے؟ جب بات زيدٌ قائمٌ سے ہو سکتی تھی، إن لانے کی کیا ضرورت ہے بھئی؟ اور اسی طرح، ایک مقام ہے وہاں پر زيدٌ قائمٌ سے کام چل سکتا ہے، میں آپ کو کہہ دوں زيدٌ قائمٌ، آپ بات سمجھ جائیں گے، لیکن وہاں پر میں آپ کو کہتا ہوں والله إن زيداً لقائمٌ، میں نے غلطی کی یا نہیں کی؟ موقع تو تھا کہنا چاہیے تھا زيدٌ قائمٌ، قسم اٹھانے کی، إن لانے کی، لام وغیرہ لانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، تو یہ اگر آپ ایسا کرتے ہیں، قسم بھی لے آتے ہیں، إن وغیرہ بھی لے آتے ہیں اور ان کی ضرورت کوئی نہیں، یہ آپ نے غلطی کی، آپ کا کلام بلاغت سے نکل گیا، ختم۔ مثلاً، ایک آدمی ہے میرے سامنے، میں اس کو کیا خبر دینا چاہتا ہوں؟ قیام زید۔ تو میں اس کو کیا کہتا ہوں مثلاً؟ اس کے ذہن میں انکار ہے، اس کو قیام زید کی خبر مل چکی ہے پہلے بھی، لیکن وہ تسلیم ہی نہیں کر رہا کہ نہیں۔ تو اب جب میں اس کو یہ بات بتلاؤں گا، قیام زید کی خبر دوں گا، تو میں اس کو یہ کہوں زيدٌ قائمٌ، اس کو کوئی فائدہ ہی نہیں، یہ بات تو اس کو پہلے بھی معلوم ہے، اسی کو تو وہ تسلیم نہیں کر رہا، تو لہٰذا اب مجھے کیا کرنا پڑے گا؟ کلام کے اندر تاکید لانا پڑے گا، کیا کرنا پڑے گی؟ تاکید لانا پڑے گا۔ اب میں اس سے کہوں گا: إن زيداً، یقیناً زید کھڑا ہے، وہ کہہ رہا ہے نہیں، میں کیا کہوں گا؟ إن زيداً، یقیناً زید کھڑا ہے۔ یا اگر اس کا انکار زیادہ ہے، تو میں تاکید زیادہ لے کر آؤں گا: إن زيداً لقائمٌ، اگر بہت انکار ہے پھر میں کہوں گا: والله إن زيداً لقائمٌ، کہ والله زید کھڑا ہے، دیکھو! یہ قسم کہاں اٹھائی جاتی ہے؟ جہاں کوئی انکار کرے۔ معلوم ہوا بلاغت آپ بھی بلاغت کے ماہر ہیں، ہاں! لیکن علمی اعتبار سے آپ نے اس کو ابھی پڑھا نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ وہی تو عام بول چال کے اندر جو باتیں ہوتی ہیں، کس طریقے سے کہاں پر کیا کیا جاتا ہے، یہ وہی چیزیں ہیں، وہی اصول ہیں، علماء نے ان کو مرتب کر کے کتابی صورت دے دی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو آپ اس کے سامنے قسم اٹھائیں گے اب جب اس کا انکار شدید ہو۔ لیکن ایک آپ کا ساتھی ویسے ہی کھڑا تھا، اور آپ اس کو کیا کہتے ہیں؟ والله إن زيداً لقائمٌ، کوئی یہ تو میں مثال دے رہا ہوں، کوئی بات آپ اس طرح قسمیں اٹھا کر اس کے سامنے ذکر کریں گے، اور اس کا ذہن خالی ہے، نہ اس کے ذہن میں اس چیز کے بارے میں کوئی شک و شبہ تھا، نہ اس کے بارے میں انکار تھا، تو وہ آپ کی بات سن کے حیران ہوگا: بھئی! یہ تاکیدات کیوں لے کر آئے ہو؟ یہ قسمیں کیوں؟ میں نے کب انکار کیا ہے اس بات کا؟ وہ کہے گا یا نہیں آپ سے بھئی؟ میں نے کب انکار کیا ہے؟ کیوں قسم اٹھا رہے ہو؟ تو یہ جو معنی مراد ہے، اس کی ادائیگی میں کیا ہو؟ غلطی سے بچنا ہو، تو یہ تو خیر آگے مقتضائے حال کے مطابق کلام نہ ہوا، بہرحال یہ بھی غلطی ہے۔ اور اسی طرح کہاں پر ہم نے إنّ لانا ہے کہاں إنّ نہیں لانا کہاں پر ہم نے مبتدا کو اسم کی صورت میں ذکر کرنا ہے کہاں پر اس کو ضمیر کی صورت میں ذکر کرنا ہے کہاں پر اس کو اسم موصول کی صورت میں ذکر کرنا ہے کہاں اس کو اسم اشارہ وغیرہ کی صورت میں ذکر کرنا ہے اس کا پتہ علم معانی سے چلے گا۔ تو علم معانی میں کیا بیان ہوگا؟ معناۓ مراد کی ادائیگی میں آپ اس کو زبان سے ادا کریں گے یا نہیں بھئی؟ جی؟ معناۓ مراد کی ادائیگی میں کیا کرنا؟ غلطی سے بچنا۔ تو دیکھو میرا مقصد تھا جیسے میں نے مثال ذکر کی میں آپ کو کیا خبر دینا چاہتا ہوں؟ زید کھڑا ہے۔ تو یہ ہوا معناۓ مراد یعنی یہ میرا مقصود معنا ہے جو میں آپ تک پہنچانا چاہتا ہوں اور اس معناۓ مراد کو میں لفظوں کے ساتھ ادا کروں گا، کوئی لفظ زبان سے بولوں گا تو آپ تک بات پہنچے گی ورنہ تو میرے ذہن میں ہی رہے گی تو یہ جو معناۓ مراد ہے اس کو ادا کرنے میں غلطی سے کون سا علم بچائے گا؟ علم معانی، علم معانی بتلائے گا آپ کو کہ یہاں پر آپ نے جملہ فعلیہ لانا ہے یا جملہ اسمیہ لانا ہے یا آپ نے کیا کرنا ہے؟ إنّ وغیرہ لانا ہے، ساتھ لام لے کر آنا ہے یا آپ نے قسم لانی ہے یہ آپ کو علم معانی بتلائے گا۔ تو علم معانی معناۓ مراد کی ادائیگی میں غلطی سے بچاتا ہے بھئی معناۓ مراد کی ادائیگی میں۔ علم معانی یہ بڑی نحو ہے وہ چھوٹی نحو تھی یہ بڑی نحو ہے، یہ آپ کو یہ نہیں بتائے گا کہ فاعل مرفوع ہوتا ہے، مبتدا مرفوع ہوتا ہے بلکہ آپ کو یہ بتائے گا کہ فاعل کو آپ "زيدٌ" کی صورت میں بھی لا سکتے ہیں، فاعل کو آپ "هو" کی صورت میں بھی لا سکتے ہیں، فاعل کو آپ "الذي" کی صورت میں بھی لا سکتے ہیں، فاعل کو آپ "هذا" کی صورت میں بھی لا سکتے ہیں۔ تو کہاں پر فاعل کو آپ نے "زيدٌ" کی صورت میں لانا ہے، کہاں پر آپ نے فاعل کو "هو" کی صورت میں لانا ہے، کہاں آپ نے فاعل کو "الذي" کی صورت میں لانا ہے، کہاں پر فاعل کو آپ نے "هذا" کی صورت میں لانا ہے یہ آپ کو کون بتائے گا؟ علم معانی بتلائے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں "زيدٌ قائمٌ"، آپ کہہ سکتے ہیں "هو قائمٌ"، آپ کہہ سکتے ہیں "هذا قائمٌ"، اب کہاں "زيدٌ قائمٌ" کہنا ہے، کہاں "هو قائمٌ" کہنا ہے، کہاں "هذا قائمٌ" کہنا ہے حالانکہ سب کا معنا ایک ہی ہے۔ آپ کہتے ہیں "زيدٌ قائمٌ"، دوسرے کو کیا سمجھ میں آئی کہ زید کھڑا ہے۔ اب آپ زید کا نام نہیں لیتے صرف اس کی طرف اشارہ کر کے کہہ دیتے ہیں "هو قائمٌ"، تو بھی بات وہ سمجھ گئے یا نہیں سمجھ گیا؟ آپ اشارہ کر دیتے ہیں "هذا قائمٌ"، تو بھی یہی بات اس کو سمجھ میں آ رہی ہے، لیکن کہاں پر "زيدٌ قائمٌ" کہنا ہے، کہاں "هو قائمٌ" کہنا ہے، کہاں "هذا قائمٌ" وغیرہ کہنا ہے یہ کس سے پتہ چلے گا؟ علم معانی سے پتہ چلے گا۔ تو علم معانی کیا ہے دراصل؟ بڑی نحو ہے جو آپ کو رفع، نصب، جر وغیرہ کے بارے میں نہیں بتلائے گا بلکہ یہ بتلائے گا کہ کہاں اسم اشارہ استعمال کرنا ہے، کہاں ضمیر استعمال کرنی ہے، کہاں علم وغیرہ استعمال کرنا ہے یہ ساری تفصیلات اس کے اندر آئیں گی بھئی۔ تو یہ معناۓ مراد کی ادائیگی میں غلطی سے بچنا اس کا پتہ کس سے چلے گا؟ علم معانی یعنی فن اول سے۔ اور تعقید معنوی سے بچنا اگر مقصود ہو تو اس کا پتہ کس سے چلے گا؟ فن ثانی یعنی علم بیان سے۔ تعقید کہتے ہیں پیچیدگی کو بھئی، کلام کا مشکل ہونا۔ کلام کا مشکل ہونا۔ کلام مشکل ہو بھئی، معنا سمجھ میں ہی نہ آئے بھئی یہ ہے تعقید معنوی۔ آپ کے سامنے ایک شخص نے کلام کیا آپ کو اس کا معنا ہی سمجھ میں نہ آیا یہ کیا ہے؟ تعقید معنوی ہے بھئی۔ تعقید معنوی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے بھئی، جیسے ایک نواب صاحب تھے اور بڑی اونچے درجے کی اردو بولا کرتے تھے۔ خاص طور پر ہندوستان کے لوگ وہ تو ان کی اردو بڑی فصیح و بلیغ تھی۔ ہمیں عام سی بات کرنے کے لیے الفاظ ڈھونڈنا پڑتے ہیں اور وہ ایسی مسجع و مقفٰى عبارتوں کے اندر چھوٹی سی بات اتنے دلنشیں انداز میں کہتے ہیں کہ سیدھی دل پر اثر کرتی ہے۔ تو وہاں کے ایک نواب صاحب تھے بھئی، ایک سال بارش نہیں ہوئی نواب صاحب کی بڑی زمینیں تھیں اور بارش نہ ہونے کی وجہ سے فصلوں کو بڑا نقصان ہوا، اب اس بات پر نواب صاحب بڑے افسردہ تھے۔ تو اسی افسردگی کے عالم میں ملازم جو خدمت میں مصروف تھا اب اسے یہی بات کہنا چاہتے ہیں کہ اس سال ہمارے کھیتوں میں بارش نہیں ہوئی۔ لیکن نواب صاحب کی اردو بڑی اونچی تھی بھئی وہ کیا کہتے ہیں؟ "امسال ہمارے کشت زار میں تقاطرِ امطار نہیں ہوا۔" اب وہ ملازم کے تو سر کے اوپر سے گزر گئی بات کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں نواب صاحب۔ تو اس کے لیے اس کلام میں کیا تھی؟ تعقید تھی، اسے سمجھ ہی نہیں آیا کیا کہنا چاہتے ہیں نواب "امسال ہمارے کشت زار میں تقاطرِ امطار نہیں ہوا۔" تو یہ ہے تعقید بھئی۔ اور تیسرا پھر علم بدیع ہے، اس کے اندر پھر یہ بیان ہوتا ہے کہ کلام میں مزید کیسے حسن پیدا کیا جائے۔ کلام غلطی سے بھی معناۓ مراد کی ادائیگی میں انسان غلطی سے بھی بچ جائے، کلام میں تعقید بھی نہ ہو، اب اور حسن پیدا کرنا ہے کلام کے اندر، وہ کس طرح پیدا کریں گے؟ وہ پھر علم بدیع کے اندر بتلایا جاتا ہے۔ جیسے مثال کے طور پر دو مقابل اور ضد چیزوں کو کلام میں اکٹھا کر دیا جائے اس سے کلام میں حسن پیدا ہو جاتا ہے۔ دن کے ساتھ رات کا ذکر کر دے، سردی کے ساتھ گرمی کا ذکر کر دے، صبح کے ساتھ شام کا ذکر کر دے، امیری کے ساتھ غریبی کا ذکر کر دے، اس سے کلام میں کیا پیدا ہو جاتا ہے؟ حسن پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ آپ کو وہاں بتلائیں گے صنعتیں بھئی علم بدیع کے اندر، اس کو صنعت طباق کہتے ہیں، صنعت طباق۔ جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: فَلْيَضْحَكُوا قَلِيلًا وَلْيَبْكُوا كَثِيرًا. قلیل کے مقابلے میں کیا ذکر ہے؟ کثیر۔ اور ضحک کے مقابلے میں بكاء، رونے کا، ہنسنے کے مقابلے میں رونے کا ذکر وہاں موجود ہے بھئی، تو یہ ہے صنعت طباق بھئی۔ اس سے کلام میں بے انتہا حسن بڑھ جاتا ہے۔ تو اگر مقصود معناۓ مراد کی ادائیگی میں غلطی سے بچنا ہو تو وہ کیا ہے؟ کس سے پتہ چلے گا؟ فن اول یعنی علم معانی سے، اور اگر تعقید معنوی سے بچنا مقصود ہو تو وہ علم بیان فن ثانی سے، اور اگر اس کے علاوہ ہو تو وہ فن ثالث ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔