Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تيسير المنطق · dars-016

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Ghais
📍 Location Lahore, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 14
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی۔ سبقِ ہشتم، آٹھواں سبق: حقیقت و ماہیتِ شے کی بحث اور کلی کی قسمیں۔ حقیقت یا ماہیت: کسی شے کی وہ چیزیں ہیں جن سے وہ شے مل کر بنے، اگر ان میں سے ایک چیز نہ ہو تو وہ شے ‏موجود نہ ہو، جیسے مثلاً انسان ہے، اس کی حقیقت حیوانِ ناطق ہے، اور جو چیزیں حقیقت کے سوا ہیں وہ عوارض ‏کہلاتے ہیں، جیسے انسانوں میں کالا، گورا، عالم یا جاہل ہونا عوارض ہیں کہ ان پر انسان کا وجود موقوف نہیں۔ سب سے پہلے تو مختصراً گزشتہ سبق کا خلاصہ کر لیں، گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ جب بھی ہم کوئی لفظ بولتے ‏ہیں اس کا معنی ہمارے ذہن میں آتا ہے۔ مثلاً مختلف چیزوں کے میں نام لوں اگر: کتاب، کرسی، جائے نماز، میز وغیرہ، ‏تو دیکھیں جو جو چیزیں میں بولتا جا رہا ہوں ان کی صورت اور ان کی پہچان آپ کے ذہن میں آ رہی ہے۔ تو یہ جو لفظ ‏کی پہچان اور صورت اور معنی ہمارے ذہن میں آتا ہے اس کو مفہوم کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ مفہوم۔ اور یہ مفہوم جو ‏ہے یہ دو قسم پر ہے: یہ کلی بھی ہو سکتا ہے اور جزئی بھی۔ یہ مفہوم اگر کثیرین پر صادق آئے یعنی زیادہ چیزوں پر، ‏کثیر کا کیا معنی ہوتا ہے؟ زیادہ۔ تو کثیرین پر اگر صادق آئے تو پھر اس کو کلی کہتے ہیں، اور اگر یہ کثیرین پر صادق ‏نہ آئے تو اس کو جزئی کہتے ہیں۔ مثلاً میز، یہ کلی ہے یا جزئی؟ یہ کلی ہے، ظاہر سی بات ہے، ایک طرف ہو پڑی ہے ‏جو وہ بھی میز ہے، دوسری طرف جو ہے وہ بھی کیا ہے؟ میز، تیسری ہو گی وہ بھی کیا کہلائے گی؟ میز۔ تو جو بھی ‏مفہوم کثیرین پر صادق آئے اس کو کیا کہتے ہیں؟ کلی کہتے ہیں۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ وہ مفہوم جس میں ‏شرکت ہو سکے، جس میں شرکت ہو سکے اس کو کلی کہتے ہیں، جیسے دیکھو میز، میز کے اندر ایک ہے وہ بھی میز، ‏دوسری ہے وہ بھی میز، تو دیکھو اس میں شرکت آ گئی، تیسری ہے وہ بھی میز، تو یہ شرکت آ رہی ہے، شریک ہیں دو یا ‏تین یا زیادہ چیزیں، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ کلی کہتے ہیں، کلی کہتے ہیں۔ تو کلی وہ مفہوم ہے جس میں شرکت ہو ‏سکے، یا آسان لفظوں میں یوں کہو جو کثیرین پر صادق آئے، کثیرین پر صادق آئے۔ اور کلی جن چیزوں پر بولی جاتی ہے ان کو کلی کے افراد اور کلی کے جزئیات کہتے ہیں۔ میں نے لفظِ میز بولا تو یہ ‏ایک میز جو پڑی ہے اس پر بھی صادق آ رہا ہے، معلوم ہوا یہ میز اس کلی کے افراد میں سے ایک فرد ہے، یہ میز اس ‏کلی کی جزئیات میں سے ایک جزئی ہے۔ دوسری میز ہے یہ بھی اس کلی کے افراد اور جزئیات میں سے ایک فرد اور ‏ایک جزئی ہے۔ تو گویا معلوم ہوا کہ یہ کلی اور جزئی ہونا یہ مفہوم کو کہتے ہیں، یہ مفہوم ہو گا۔ مفہوم اگر کثیرین پر ‏صادق آئے تو کلی، اور مفہوم اگر کثیرین پر صادق نہ آئے تو وہ جزئی۔ جزئی کی مثال ہے مثلاً زید، عمر، بکر، خالد۔ یہ ‏دیکھیے، یہ لفظ ایسے ہیں جو کثیرین پر نہیں بولے جاتے، زید جس کا نام والدین نے زید رکھا ہے اسی پر بولا جا رہا ہے ‏کسی دوسرے پر نہیں۔ حتیٰ کہ اسی جیسی شکل و صورت، بال، قد، کاٹھ والا ایک اور بھی ہوتا یعنی اسی کا جڑواں بھئی ‏بھی ہوتا تو بھی اس کو کوئی زید نہ کہتا، یقیناً اس کا نام اس کے والدین نے زید رکھا ہے تو دوسرے جڑواں بھئی کا نام ‏کچھ اور رکھتے ہیں وہ ہمیشہ، بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو معلوم ہوا دیکھو زید ایک ایسا لفظ ہے یعنی نام، نام ایک ‏ایسا لفظ ہے جس کے اندر شرکت نہیں ہو سکتی، جو کثیرین پر صادق نہیں آتا، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ جزئی، جزئی ‏کہتے ہیں۔ یہ تو تھا گزشتہ سبق کا خلاصہ بھئی۔ آئیے اب آج کے سبق کی طرف آئیے بھئی۔ بھئی دیکھیے مثلاً میں نے کہا کتاب، جیسے ہی میں نے زبان سے یہ لفظ ادا ‏کیا، آپ کے ذہن میں ایک چیز کی صورت آ گئی، ایک چیز کی صورت آ گئی۔ تو یہ جو میں نے زبان سے کہا یہ ہے لفظ، ‏یہ کیا ہے؟ لفظ۔ اور وہ جو ذہن میں آیا وہ ہے مفہوم بھئی، توجہ ہے؟ جو میں نے زبان سے کہا وہ کیا؟ لفظ، اور جو ذہن ‏میں آیا وہ مفہوم، اور یہ جو میرے سامنے یہ جو کتاب موجود ہے یہ اس لفظِ کتاب کا مصداق ہے، یہ اس کا مدلول ہے۔ ‏جیسے ہی میں نے کہا کتاب، اس کی صورت میرے ذہن میں آ گئی۔ تو یہ جو خارج میں موجود ہے جس پر لفظِ کتاب بولا ‏جا رہا ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ کتاب کا کتاب کا مدلول ہے یہ، یہ کیا ہے؟ کتاب کا مدلول، یہ یوں کہیں یہ کتاب کا ‏مصداق ہے، اس پر لفظِ کتاب صادق آ رہا ہے۔ یہ جو آپ کے سامنے ہے یہ بھی کیا ہے؟ کتاب کا مصداق ہے، یہ کتاب کا ‏مدلول۔ وہ تیسرے ساتھی کے سامنے جو پڑی ہے یہ بھی کیا ہے؟ کتاب کا مدلول اور کتاب کا مصداق۔ جیسے ہی بولو اسی ‏چیز کی صورت ذہن میں آ جاتی ہے۔ تو تین چیزیں ہو گئیں: ایک وہ جو لفظ جو ہم زبان سے ادا کرتے ہیں، دوسرا وہ جو ‏اس کا مفہوم ذہن میں آتا ہے، اور تیسرا اس کا جو مصداق ہے، اس کا جو مدلول ہے جس پر یہ لفظ بولا جا رہا ہے۔ دوسری مثال لے لیں مثلاً گلاس، جیسے ہی میں نے کہا گلاس، لفظِ گلاس، تو یہ جو زبان سے تلفظ کیا یہ کیا ہے؟ یہ لفظ ‏ہے، اور فوراً ہی میرے ذہن میں ایک پانی پینے والا برتن آ گیا وہ اس کا مفہوم ہے، اور وہ جو خارج میں آپ کے سامنے ‏پڑا ہے یہ کیا ہے؟ یہ گلاس کا مصداق ہے اور اس کا مدلول ہے۔ فرق سمجھ میں آ رہا ہے تین چیزوں کا؟ ایک چیز ایک ‏ہے، ایک ہوتا ہے لفظ، ایک ہوتا ہے اس کا مفہوم اور معنی۔ لفظ کون سا ہے؟ جو زبان سے ہم ادا کر رہے ہیں۔ مفہوم کیا ‏چیز ہے؟ وہ جو ذہن میں ہے۔ اور مصداق اور مدلول کیا ہے؟ وہ جو سامنے، جو خارج میں موجود ہے، جو خارج کے ‏اندر جو چیز موجود ہے وہ کیا ہے؟ اس کا مصداق اور مدلول۔ اور مثال دیکھ لیں مثلاً درخت بھئی، درخت۔ تو ایک ہے ‏لفظِ درخت، جو اس کا جس پر میں تلفظ کر رہا ہوں زبان سے۔ ایک درخت کا جو مفہوم اور معنی آپ کے ذہن میں فوراً آ ‏گیا، آپ سمجھ گئے درخت کسے کہتے ہیں۔ اور ایک جو خارج کے اندر درخت کھڑا ہوا ہے یہ کیا ہے؟ مصداق اور ‏مدلول۔ تو کل کتنی چیزیں ہو گئیں؟ تین چیزیں ہو گئیں: ایک ہے لفظ، اور ایک ہے مفہوم، اور تیسری چیز ہے مدلول اور ‏مصداق، چاہے مدلول بول لیں، چاہے مصداق، ایک ہی بات ہے بھئی۔ بہرحال میں دونوں ذکر کرتا جا رہا ہوں تاکہ اپ ‏اچھی طرح آپ کے ذہن میں رہے بھئی، چاہے مدلول کہہ دیں تب بھی وہی بات، صرف مصداق کہہ دیں تو بھی وہی بات۔ اب میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ایک ہوتا ہے قولِ معقول اور ایک ہوتا ہے قولِ ملفوظ۔ قولِ معقول میں نے بتلایا تھا کہ جب ‏بھی ہم کوئی بات کرنے لگتے ہیں تو پہلے ذہن میں بات آتی ہے اور پھر ہم اس کو زبان سے بولتے ہیں۔ بلا سوچے ‏سمجھے زبان چلنا نہیں شروع ہو جاتی، پہلے سوچتے ہیں، ذہن میں بات آتی ہے اور پھر زبان سے کہہ دیتے ہیں، تو جو ‏ذہن میں بات آئی وہ کیا ہے؟ قولِ معقول، عقل کے اندر آئی، وہ قولِ معقول۔ اور پھر جب اس کو ہم نے زبان سے ادا کر دیا ‏تو یہ کیا ہے؟ قولِ ملفوظ۔ اسی طرح میں نے جب ایک لفظ بولا مثلاً میں نے کہا گلاس، یہ ہے قولِ ملفوظ، اور جو ذہن میں ‏اس کا معنی اور مفہوم آیا وہ کیا ہے؟ وہ ہے قولِ معقول۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو تو من یاد رکھیے، تو تین چیزیں ہو ‏گئیں: ایک لفظ، یہ کیا ہے؟ قولِ ملفوظ۔ دوسرا جو اس کا مفہوم ذہن میں آیا، وہ کیا ہے؟ قولِ معقول۔ اور تیسرا اس لفظ کا ‏خارج میں جو مصداق ہے، جو مدلول ہے جس پر وہ لفظ بولا جا رہا ہے، تو یہ تین چیزیں ہوئیں۔ اور ان تین میں سے ایک ‏قولِ معقول ہو گیا، ایک کیا ہے؟ قولِ ملفوظ اور ایک مصداق۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ منطقی کی اصل توجہ قولِ معقول کی طرف ہوتی ہے، کس کی طرف ہوتی ہے؟ قولِ ‏معقول کی طرف اس کی توجہ ہوتی ہے۔ نہ اس کی توجہ اصل میں قولِ ملفوظ کی طرف ہے، نہ اس کی توجہ مصداق اور ‏مدلول کی طرف ہے۔ وہ مصداق اور مدلول کی طرف توجہ نہیں کرے گا، وہ قولِ ملفوظ کی طرف بھی اصلاً توجہ اس کی ‏طرف اصل توجہ اس کی کس کی طرف ہو گی؟ قولِ معقول۔ یہ منطق میں جتنی باتیں ہیں یہ جو ہمارے ذہن میں کیا کیا ‏چیزیں آ سکتی ہیں، ہم کیا سوچتے ہیں، کیا بولتے ہیں، کس ان ساروں کے بارے میں منطقی بحث کرتا ہے بھئی، اور وہ ‏کیا ہے؟ قولِ معقول۔ پھر وہ قولِ ملفوظ کے بارے میں بھی بات کرتا ہے، وجہ اس کی یہ کیونکہ قولِ معقول کا پتہ ہی قولِ ‏ملفوظ سے چلتا ہے۔ آپ کو مثلاً پیاس لگی، آپ کے ذہن میں پانی کی طلب پیدا ہوئی کہ پانی منگوانا چاہیے۔ اب آپ کے ‏پاس ایک ساتھی بیٹھا ہے، اس کو پتہ ہے پانی کہاں موجود ہے۔ اب آپ ذہن میں سو دفعہ سوچیں: کہ اے میرے ساتھی، اے ‏میرے دوست، پانی لے آؤ، ہزار دفعہ بھی سوچ لیں، وہ بیٹھا رہے گا اس کو پتہ ہی کچھ نہیں کہ آپ کے ذہن میں کیا ہے۔ ‏لیکن جب آپ ایک دفعہ زبان سے اس کو کہہ دیں گے کہ مجھے پیاس لگی ہے، میرے لیے پانی لے آؤ، وہ فوراً اٹھ کر ‏جائے گا اور آپ کے لیے پانی لے آئے گا۔ تو دیکھا، قولِ معقول کو دوسرے تک پہنچانے کے لیے ہمیں کس کا سہارا لینا ‏پڑتا ہے؟ قولِ ملفوظ کا سہا، تو قولِ ملفوظ بھی ضروری ہے، لیکن اصل توجہ کس کی طرف منطقی کی؟ قولِ معقول کی ‏طرف۔ لیکن قولِ ملفوظ کے بارے میں بھی اس کو کبھی کبھار بحث کرنا پڑتی ہے، وجہ اس کی یہ کیونکہ قولِ معقول ‏دوسرے تک پہنچانے کے لیے ہمیں قولِ مل قولِ ملفوظ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ جیسے میں نے پہلے بھی مثال ذکر کی تھی، ‏یہ دیکھو میں جتنی تقریر کر رہا ہوں یہ سارے قولِ ملفوظ ہے، اور آپ معنی سمجھتے جا رہے ہیں کہ نہیں سمجھتے جا ‏رہے؟ تو دیکھا، قولِ ملفوظ سے ایک بات انسان دوسرے کو سمجھاتا ہے بھئی، اس تک پہنچاتا ہے، اپنے خیالات اس تک ‏پہنچاتا ہے۔ تو قولِ ملفوظ اپنی جگہ اس کی اہمیت ہے لیکن بہرحال منطقی کی اصل توجہ قولِ معقول کی طرف ہوتی ہے۔ ‏اور قولِ معقول کیا ہے؟ وہی مفہوم اور معنی جو ہمارے ذہن میں آتا ہے بھئی، معنی ذہن میں۔ تو قولِ معقول مفہوم کا نام ‏ہے، مفہوم کا نام ہے۔ اور آپ پڑھ چکے یہ مفہوم دو قسم پر ہے: ایک کلی اور ایک جزئی۔ ابھی میں نے گزشتہ سبق کا خلاصہ ذکر کیا کہ یہی ‏مفہوم اگر کثیرین پر صادق آئے تو وہ کیا ہو گا؟ اگر کثیرین پر صادق آئے تو وہ کلی ہے، اور اگر یہ مفہوم کثیرین پر ‏صادق نہ آئے تو پھر یہ جزئی ہے بھئی، جزئی۔ اور میں نے اور یاد رکھیے بھئی، یاد رکھیے، کلی کا خارج میں کوئی ‏وجود نہیں۔ ہمارے ذہن میں جو مفہوم آیا، توجہ ہے؟ مثلاً میں نے کہا درخت، آپ کے ذہن میں ایک مفہوم آ گیا، آپ سمجھ ‏گئے کسے کہتے ہیں، فوراً آپ کے ذہن میں درخت کی صورت آ گئی کہ ہاں یہ چیز ہے اس کو درخت کہتے ہیں بھئی، یہ ‏ہے مفہوم، مفہوم۔ اور یہ کثیرین پر صادق آ رہا ہے کہ کثیرین پر صادق نہیں آ رہا؟ کثیرین پر صادق آ رہا ہے، ہزاروں، ‏لاکھوں درخت دنیا کے اندر موجود، ہر درخت کو آپ کہہ سکتے ہیں یہ درخت ہے، دوسرا ہے وہ یہ بھی درخت ہے، ‏تیسرا ہے یہ بھی درخت ہے۔ تو یہ دیکھیے یہ ایسا لفظ ہے جو کثیرین پر صادق آ رہا ہے، کثیرین پر صادق آ رہا ہے۔ تو ‏یہ مفہوم کلی ہے یا جزئی؟ یہ کلی ہے، یہ کیا ہے؟ کلی ہے۔ اور جو خارج میں درخت ہے وہ کیا ہے؟ وہ اس کا فرد ہے، ‏وہ اس کی جزئی، تو خارج میں جتنے درخت ہیں وہ اس اس مفہوم کے افراد ہیں یا اس کے جزئیات ہیں بھئی، جزئیات ہیں ‏بھئی۔ اور یاد رکھیے، یاد رکھیے، کلی کا خارج میں وجود نہیں ہوتا، کلی کا کبھی بھی خارج میں کلی مفہوم کا نام ہے نا، ‏ابھی تو بتایا اور مفہوم کہاں ہوتا ہے؟ ذہن میں ہوتا ہے، تو خارج میں کلی کا وجود نہیں ہوتا، خارج میں کلی کے افراد ‏ہوتے ہیں، کلی کی جزئیات ہوتی ہیں بھئی۔ تو تو کلی کا وجود خارج میں نہیں بلکہ کلی کا وجود کہاں ہوتا ہے؟ ذہن کے ‏اندر ہوتا ہے، ذہن کے اندر۔ اب اس کے بعد ایک اور بات سمجھ لیں۔ بھئی دیکھیے، ہر طرح کی چیز کا مفہوم ہمارے ذہن میں آ جاتا ہے، چاہے اس کا ‏وجود خارج میں ہو، چاہے اس کا وجود خارج میں نہ ہو۔ میں نے آپ کو اپ کے سامنے شروع میں ذکر کیا تھا کہ عقل ‏ایک عقل کی مثال آئینے کی طرح ہے، جیسے آئینے کے سامنے کوئی چیز آتی ہے تو اس کی صورت آئینے میں نظر ‏آنے لگتی ہے، اسی طرح عقل کے سامنے بھی کوئی جب کوئی چیز آتی ہے تو عقل میں اس کی صورت آ جاتی ہے۔ لیکن ‏آئینے کے سامنے سے چیز ہٹا دیں تو اس آئینے سے اس کی صورت ختم ہو جاتی ہے، لیکن عقل جو ہے عقل کے سامنے ‏سے چیز ہٹ بھی جائے عقل اس چیز کی صورت کو اپنے حافظے میں محفوظ کر لیتی ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ جب ‏آپ ایک دفعہ سبق سمجھ لیتے ہیں، اب آپ اٹھ کر چلے بھی گئے لیکن آپ کے ذہن میں وہ ساری باتیں موجود ہیں کہ موجود ‏نہیں؟ وہ ساری باتیں کیا ہیں؟ موجود، کیونکہ عقل نے ان کو محفوظ کر لیا۔ تو آئینے کے سامنے جب ایک چیز آ گئی اور ‏ہٹ گئی تو ختم ہو گئی آئینے میں سے، لیکن عقل کے سامنے جب ایک دفعہ چیز آ گئی، عقل نے اس کو پہچان لیا، اب وہ ‏ہٹ بھی جائے عقل سے نکلتی نہیں، عقل میں اس کی پہچان باقی رہتی ہے۔ مثلاً دیوار کے پیچھے آپ کا ساتھی آیا، آپ ‏کمرے کے اندر بیٹھے ہیں، اس نے باہر سے آپ کو آواز دی، آواز سنتے ہی آپ پہچان گئے کہ باہر کون آیا ہے؟ میرا ‏دوست فلاں دوست زید آیا ہے، حالانکہ آپ نے دیکھا نہیں ہے، لیکن اس آواز عقل کانوں نے وہ آواز سنی، کانوں نے وہ ‏آواز فوراً عقل تک پہنچائی کہ باہر سے یہ آواز آئی ہے، اور عقل نے فوراً فیصلہ کیا کہ ہاں یہ آواز تو کس کی آواز ہے؟ ‏زید کی، کیونکہ عقل میں وہ آواز محفوظ تھی، آپ زید سے باتیں کرتے تھے، عقل پہچانتی تھی کہ وہ کس طرح بولتا ہے، ‏اس کی کیا آواز ہے، اس کا کیا لہجہ ہے بھئی۔ تو عقل فوراً پہچان گئی اور اس نے بتا دیا کہ باہر کون آیا ہے؟ زید آیا ہے ‏بھئی، زید آیا ہے۔ تو عقل اس طرح ایک ایک چیز کی پہچان اپنے اندر محفوظ کرتی ہے، یا جیسے مثلاً گلاب کی خوشبو ‏آپ کے سامنے آئی، جیسے ہی آپ نے سونگھی آپ نے فوراً ساتھی سے کہا یہ تو گلاب کی خوشبو ہے بھئی۔ کیوں؟ ‏کیونکہ عقل کے اندر وہ خوشبو آپ نے پہلے بھی سونگھی تھی اور عقل میں اس کی پہچان محفوظ تھی بھئی، صورت ‏سمجھ میں آ رہی ہے سب کو؟ تو عقل ایک روحانی آئینہ ہے۔ البتہ آئینے کے سامنے جو چیز ہٹ جائے آئینے کے سامنے سے، وہ اس کی صورت اس میں سے ختم ہو جاتی ہے، لیکن ‏عقل کے سامنے سے وہ ہٹ بھی جائے وہ تصویر اس میں کیا ہو جاتی ہے؟ وہ تصویر اور وہ پہچان محفوظ ہو جاتی ہے۔ ‏نیز آئینے میں صرف ان چیزوں کی صورت نظر آتی ہے جو آنکھوں سے نظر آ سکے۔ جو چیز آنکھوں سے نہیں نظر آتی ‏آئینے میں اس کی صورت بھی نظر نہیں آئے گی، جیسے مثلاً میں کہتا ہوں ہوا چل رہی ہے، آپ سمجھ گئے کہ نہیں سمجھ ‏گئے ہوا کسے کہتے ہیں؟ ہوا چل رہی ہے۔ اب ہوا بتائیے کیا اس کی صورت آئینے میں نظر آتی ہے؟ نہیں، آپ اس کو ‏پہچانتے تو ہیں لیکن آئینے میں اس کی صورت نہیں نظر آتی کیونکہ آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتی۔ لیکن عقل نے اس کو ‏پہچان لیا، دیکھو جیسے ہی لفظ میں نے بولا آپ نے اس کو تو عقل ایسا آئینہ ہے جس میں نہ دکھائی دینے والی چیزوں کی ‏صورت اور پہچان بھی آ جاتی ہے، صورت سے کیا مراد ہے؟ پہچان ہے، پہچان ہے۔ اسی طرح سخاوت دیکھ لیں بھئی، ‏سخاوت، سخاوت اس کا خارج میں اپنا الگ وجود نہیں، لیکن عقل فوراً پہچان گئی سخاوت کسے کہتے ہیں۔ سخاوت کسے ‏کہتے ہیں؟ کہ انسان کھلے دل کے ساتھ اپنا مال خرچ کرتا ہے اللہ کے راستے میں، دوسروں کی مدد کرتا ہے، اس کو کیا ‏کہتے ہیں؟ سخاوت کہتے ہیں بھئی، سخاوت کہتے ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ چیزیں دو قسم کی ہیں: ایک وہ چیزیں جن کے اپنی جن کی اپنی ذات ہے، جن کی اپنی جن ایک وہ جن کا ‏اپنا الگ وجود ہے اور اس کو عین اور ذات کہتے ہیں، وہ چیز جس کا اپنا الگ وجود ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ عین اور ‏ذات کہتے ہیں، یا یوں کہو اس کو جوہر کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ جوہر کہتے ہیں جس کا اپنا الگ وجود ہوتا ہے۔ اور وہ ‏چیز جس کا اپنا الگ وجود نہ ہو اس کو عرض کہتے ہیں۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ وہ چیز جس کا اپنا الگ وجود ہو اس ‏کو کیا کہتے ہیں؟ جوہر، اور جس کا اپنا الگ وجود نہ ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ عرض۔ مثلاً آپ، آپ کا اپنا الگ وجود ہے، ‏یہ میز پڑی ہے اس کا اپنا الگ وجود ہے، یہ چھت ہے اس کا اپنا الگ وجود ہے، یہ درخت آپ دیکھ رہے ہیں اس کا اپنا ‏الگ وجود ہے، یہ کھڑکیاں ہیں ان کا اپنا الگ وجود ہے، یہ تالاب ہے اس کا اپنا الگ وجود ہے، یہ دیوار ہے اس کا اپنا ‏الگ وجود ہے، یہ آپ کے سامنے باغیچہ ہے اس کا اپنا الگ وجود ہے، آپ کے سامنے گائے ہے، بیل ہے، ان سب کا کیا ‏ہے؟ اپنا الگ وجود ہے، پہاڑ ہیں ان کا اپنا الگ وجود ہے، سورج ہے، چاند ہے، ستارے ہیں، ان سب کا اپنا الگ وجود ‏ہے۔ تو جس جس چیز کا بھی اپنا الگ وجود ہے اس کو جوہر کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ جوہر کہتے ہیں، یا یوں کہہ لو ‏عین کہتے ہیں، یا یوں کہہ لو ذات کہتے ہیں کہ وہ ایک ذات ہے اس کا اپنا الگ وجود ہے، یا اس کو عین کہتے ہیں۔ ‏صورت سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کا اپنا الگ وجود نہیں، وہ غیر کی صفت ہوتی ہیں، کسی دوسری چیز کی صفت ہوتی ہیں، ‏اگر وہ دوسری چیز ہے تو اس کا بھی وجود ہے، اگر وہ دوسری چیز نہیں تو اس کا اپنا الگ وجود بھی نہیں۔ مثلاً دیکھیے ‏لمبائی اور چوڑائی، یہ آپ کے سامنے مثلاً میز پڑی ہے، اس کی کچھ تو لمبائی ہے اور کچھ کیا ہے؟ چوڑائی۔ یاد رکھو یہ ‏لمبائی اور چوڑائی یہ اس میز کی صفت ہے، اس کا اپنا الگ وجود نہیں، یہ میز نہیں تو پھر یہ چوڑائی ہو گی اس کی؟ ‏نہیں، یا دوسری مثال لے لو، یہ یہ مثلاً کتاب ہے، دیکھو اس کتاب کی بھی کچھ لمبائی ہے اور کچھ چوڑائی۔ لیکن کتاب کا ‏تو اپنا وجود ہے لیکن لمبائی اور چوڑائی اسی کتاب کی صفت ہے، اگر یہ کتاب نہیں ہو گی تو اس کی لمبائی اور چوڑائی ‏بھی نہیں ہو گی۔ یا جیسے سفید رنگ بھئی، یہ دیوار ہے یہ آپ کو سفید نظر آ رہی ہے، سفیدی سفیدی جو ہے یہ صفت ‏ہے، اس کا اپنا الگ وجود نہیں، اگر یہ دیوار نہ ہوتی تو یہ سفیدی بھی نہ ہوتی۔ یا جیسے یہ سفید کپڑا ہے، کپڑے کی تو ‏اپنی ذات ہے لیکن یہ جو اس میں سفیدی ہے اس کی، یہ سفیدی اس کی صفت ہے، اگر یہ کپڑا نہ ہوتا تو یہ والی جو اس ‏سفیدی اس کپڑے میں ہے یہ سفیدی بھی نہ ہوتی۔ آپ کہیں گے سفیدی کا تو اپنا الگ وجود ہے، ہم دیواروں پر سفیدی کرتے ‏ہیں، بازار سے خرید کر لے کر آتے ہیں، یاد رکھیے نہیں، وہ سفیدی کا اپنا الگ وجود نہیں، وہ ایک خاص قسم کی مٹی ‏ہے، کیا ہے؟ خاص قسم کی مٹی ہے جس کے ہر ہر ذرے کے اندر سفیدی گھسی ہوئی ہے، خود سفیدی الگ نہیں، یہ ہے ‏دراصل مٹی ہی، کیا ہے؟ مٹی ہی ہے لیکن اس کے ایک ایک جز میں کیا گھسی ہوئی ہے؟ سفید، جیسے اس کپڑے کے ‏ایک ایک دھاگے کے اندر سفیدی گھسی ہوئی ہے لیکن وہ اس کا اپنا الگ وجود نہیں، یہ دھاگے اور یہ کپڑا ختم تو یہ ‏سفیدی بھی ختم۔ وہ مٹی کے اگر وہ مٹی کے بغیر آپ مجھے سفیدی دکھا دیں، آپ کہیں گے ہم بازار سے پینٹ کا ڈبہ لے ‏کر آتے ہیں اس میں خالص سفیدی ہوتی ہے، نہیں، اس کے اندر بھی وہ کیمیکل ہوتا ہے، وہ آئل وغیرہ اور کیمیکل ہوتا ‏ہے اور اس کے ایک ایک جز میں کیا گھسی ہوئی ہے؟ سفیدی گھسی ہوئی ہے، سفیدی داخل ہے، سفیدی کا اپنا الگ وجود ‏نہیں، اسی طرح تمام رنگ ہیں۔ مثلاً مثلاً کپڑے کا کالا رنگ ہے، یہ کالا رنگ بھی کیا ہے؟ اس کی صفت ہے، اس کا اپنا ‏الگ وجود نہیں۔ کوئی چیز ہمیں سبز نظر آ رہی ہے تو یہ سبز رنگ کیا ہے؟ اس کی صفت ہے، اس کا اپنا الگ وجود ‏نہیں۔ مثلاً گلاب کا پھول آپ کو سرخ نظر آتا ہے، یہ سرخی گلاب کے پھول کی صفت ہے، اس کے ایک ایک پتی کے جز ‏میں یہ داخل ہے، البتہ ہے صفت، اس کا اپنا الگ وجود نہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو چیزیں کتنی قسم کی ہوئیں؟ دو قسم کی: ایک جوہر جس کا اپنا الگ وجود ہوتا ہے، اسی کو عین بھی کہہ لیں، اسی کو ‏ذات بھی کہہ لیں، ان کی اپنی الگ ذات ہے، اور دوسری کیا ہے؟ عرض ہے بھئی، عرض: عین، را، ضاد۔ عین پر بھی ‏فتحہ پڑھنا ہے، را پر بھی فتحہ پڑھنا ہے، عرض، عرض۔ عرض نہیں، عرض کا معنی چوڑائی ہوتا ہے اگر را ساکن کر ‏دیں، تو یہ عرض ہے بھئی۔ اور مثال لے لیں عرض کی: بہادری، بہادری دیکھو، کیا آپ نے کبھی الگ سے بہادری کا ‏وجود دیکھا ہے؟ نہیں، یہ کسی حیوان کی صفت، کسی انسان یا عام دوسرے جاندار کی کیا ہوتی ہے؟ صفت ہوتی ہے۔ ‏انسان ہے تو اس کی بہادری بھی ہے، انسان نہیں تو اس کی بہادری بھی نہیں، شیر ہے تو اس کی بہادری ہے، شیر نہیں تو ‏اس کی بہادری بھی نہیں۔ تو بہادری بھی کیا ہے؟ ایک صفت ہے۔ بات یہاں تک سمجھ میں آ گئی کہ چیزیں کتنی قسم پر؟ ‏ایک جوہر جس کا اپنا الگ وجود ہوتا ہے، ایک عرض جس کا اپنا الگ وجود نہیں ہوتا، وہ غیر کی صفت ہوتی ہے، اگر ‏وہ غیر ہے تو اس کا بھی وجود ہے، اگر وہ غیر نہیں تو اس کا بھی وجود نہیں۔ تو دیکھیے، خارج میں سخاوت کا اپنا الگ وجود نہیں، خارج میں لمبائی اور چوڑائی کا اپنا الگ وجود نہیں، خارج میں ‏بہادری کا اپنا الگ وجود نہیں۔ تو یہ چیزیں ایسی ہیں جن کا اپنا الگ وجود نہیں بھئی، الگ وجود نہیں، لیکن عقل میں پھر ‏بھی ان کی صورت آ جاتی ہے۔ آئینے کے سامنے آئینے میں تو اسی چیز کی صورت آتی ہے نا جس کا کیا ہو؟ کوئی جس ‏کا کوئی وجود ہو، جو آنکھوں سے نظر آنے والی ہو، اور جس چیز کا اپنا الگ وجود ہی نہ ہو وہ بلکہ یوں کہو، آئینے میں ‏تو اس چیز کی صورت آئے گی جو آنکھوں سے نظر آئے اور جو چیز آنکھوں سے نظر نہ آئے اس کی صورت آئینے میں ‏نہیں آتی، لیکن عقل میں ہر طرح کی چیزوں کی صورت آ جاتی ہے، ان چیزوں کی بھی جن کا اپنا الگ وجود ہے اور ‏آنکھوں سے نظر آتی ہیں، اور ان چیزوں کی صورت بھی عقل میں آ جاتی ہے جو آنکھوں سے نظر نہیں آتیں، جیسے ‏سخاوت ہے اور جیسے بہادری ہے، جیسے چوڑائی ہے اور لمبائی ہے بھئی۔ اب یاد رکھیے کہ جن چیزوں کی صورت ذہن میں آتی ہے ان کو کہتے ہیں موجود فی الذہن، ان کو کیا کہتے ہیں؟ موجود ‏فی الذہن، ان کو ان کو موجود فی الذہن کہتے ہیں بھئی۔ اور جن چیزوں کا خارج میں وجود ہے ان کو موجود فی الخارج ‏کہتے ہیں۔ تو زید یہ کیا ہے؟ موجود فی الخارج۔ اچھا اور سخاوت یہ کیا ہے؟ موجود فی الذہن۔ بہادری یہ کیا ہے؟ موجود ‏فی الذہن۔ اور دیوار یہ کیا ہے؟ موجود فی الخارج۔ اور یاد رکھو، جو چیز موجود فی الخارج ہو وہ موجود فی الذہن بھی ہو ‏سکتی ہے۔ دیوار خارج میں ہے، ذہن میں بھی اس کی پہچان اور صورت آتی ہے یا نہیں آتی؟ ذہن میں بھی اس کی پہچان ‏آتی ہے، تو دیکھو یہ دیوار تو ہے موجود فی الخارج لیکن ذہن میں بھی اس کی صورت آ جاتی ہے۔ درخت تو ہے موجود ‏فی الخارج لیکن ذہن میں بھی اس کی صورت آ جاتی ہے۔ گھر، گھر تو ہے موجود فی الخارج لیکن اس گھر کی صورت ‏ذہن میں آ جاتی ہے، تو جو بھی چیز موجود فی الخارج ہو وہ موجود فی الذہن ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کا برعکس نہیں ہے ‏کہ جو بھی چیز موجود فی الذہن ہو وہ موجود فی الخارج بھی ہو، ایسا ضروری نہیں، ہو سکتا ہے وہ موجود فی الخارج ہو، ‏ہو سکتا ہے وہ موجود فی الخارج نہ ہو، جیسے ابھی مثالیں گزر گئیں۔ مثلاً لمبائی اور چوڑائی، یہ موجود فی الذہن تو ہے، ‏موجود فی الخارج نہیں، یعنی خارج میں اس کا اپنا الگ وجود نہیں۔ سفیدی، سیاہی اور یہ رنگ وغیرہ، یہ موجود فی الذہن ‏تو ہے، ہم ان کو پہچانتے ہیں سمجھتے ہیں، لیکن خارج میں ان کا اپنا الگ وجود نہیں۔ اسی طرح لمبائی، چوڑائی ہے، ‏شجاعت ہے وغیرہ، یہ سب چیزیں کیا ہیں؟ موجود فی الذہن تو ہیں لیکن موجود فی الخارج نہیں، موجود فی الخارج نہیں۔ تو ‏معلوم ہوا، پھر دہراؤ بھئی، حاصلِ کلام کیا ہوا؟ کہ جو چیز موجود فی الخارج ہو وہ موجود فی الذہن ہو سکتی ہے، لیکن ‏جو بھی چیز موجود فی ذہن ہو، اس کا موجود فی الخارج ہونا ضروری نہیں ہے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام پھر سن لو جتنا اب تک ہم نے پڑھا ہے: آپ نے پڑھا ایک ہوتا ہے لفظ، ایک ہوتا ہے اس کا مفہوم اور ایک ‏ہوتا ہے اس کا مصداق۔ لفظ وہ ہے جو ہم زبان سے بولتے ہیں، مفہوم اس کا وہ معنی جو ذہن میں آتا ہے اور مصداق وہ ‏چیز جو خارج میں جس پر وہ لفظ بولا جاتا ہے۔ اور میں نے بتایا کہ منطقی کی اصل توجہ مفہوم کی طرف ہوتی ہے اور ‏اس کو قولِ معقول کہتے ہیں، تو منطقی کی اصل توجہ قولِ معقول کی طرف ہے، نہ تو اس کی توجہ قولِ ملفوظ کی طرف ‏اور نہ مصداق کی طرف۔ ہاں، قولِ ملفوظ کے بارے میں بھی وہ بات کرتا ہے، کس کے بارے میں؟ کیونکہ قولِ ملفوظ ہی ‏کے ذریعے ہم ایک بات دوسرے تک پہنچاتے ہیں، سمجھاتے ہیں۔ تو گویا مثلاً میں نے کہا درخت، درخت، یہ کلی ہے یا ‏جزئی؟ کلی ہے۔ دیکھا، آپ نے لفظِ درخت کو کیا کہہ دیا؟ کلی، کیوں؟ حالانکہ اصل میں یہ لفظ نہیں کلی بلکہ وہ مفہوم کیا ‏ہے؟ کلی، جو اس لفظ کا معنی اور مفہوم ہے وہ کیا ہے؟ کلی۔ لیکن چونکہ یہ لفظِ درخت اسی مفہوم پہ دلالت کر رہا ہے، ‏اس کے بولتے ہی وہی مفہوم ذہن میں آ جاتا ہے، تو لفظ ہی کو کیا کہہ دیتے ہیں؟ یہ کلی ہے یا جزئی ہے۔ مثلاً زید کا میں ‏نے پوچھا زید کیا ہے؟ آپ نے کہا جزئی ہے۔ میں نے کہا گلاس کیا ہے؟ آپ نے کہا کلی ہے۔ میں نے پوچھا کتاب کیا ‏ہے؟ آپ نے کیا کہا؟ کلی۔ آپ لفظوں ہی کو کلی یا جزئی کہتے جا رہے ہیں لیکن درحقیقت لفظ کلی، جزئی نہیں، درحقیقت ‏کلی، جزئی کیا ہے؟ وہ مفہوم جو آپ کے ذہن میں ہے۔ تو پھر یہ لفظ کو کیوں کہہ رہے ہو کلی، جزئی؟ کیونکہ یہ کہ یہ ‏اسی پہ دلالت کر رہا ہے، اس لفظ کے بولتے ہی وہی مفہوم ہمارے ذہن میں آ جاتا ہے، تو گویا لفظ اسی پر جب دلالت کر ‏رہا ہے تو اسی لفظ ہی کو کیا کہہ دیا جاتا ہے؟ کلی یا جزئی۔ لیکن حقیقت میں یہ لفظ کلی، جزئی نہیں ہوتا، حقیقت میں کیا ‏ہوتا ہے کلی، جزئی؟ وہ مفہوم ہوا کرتا ہے بھئی، مفہوم ہوا کرتا ہے۔ اور پھر آپ نے یہ بھی پڑھا کہ چیزیں دو قسم پر ہیں: ایک جوہر ہے اور ایک عرض ہے۔ جوہر وہ جس کا اپنا الگ وجود ‏ہو اور اسی کو عین بھی کہہ سکتے ہیں اور اسی کو ذات بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس کی ذات ہے، وجود ہے بھئی۔ اور ایک ‏ہے عرض، عرض وہ جو دوسری چیز کی صفت ہوتی ہے، اس کا اپنا الگ وجود نہیں ہوتا بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آئیے حقیقت اور ماہیت پر جو آج کا سبق ہے، یہ مقدمہ آپ نے سمجھ لیا، اب انشاءاللہ ‏اس کا سمجھنا آسان ہو جائے گا۔ حقیقت اور ماہیت یاد رکھیے وہ چیز ہوتی ہے جس سے کوئی چیز بنے۔ مثلاً آپ گھڑی ‏بنانا چاہتے ہیں تو گھڑی کے جو پرزے وغیرہ ہیں جن کو جوڑ کر گھڑی آپ بناتے ہیں، یہ پرزے اس گھڑی کی حقیقت ‏اور ماہیت کہلائیں گے۔ کیا کہلائیں گے؟ حقیقت اور ماہیت۔ تو جن پرزوں سے ایک چیز بنتی ہے اس کو اس چیز کی ‏حقیقت کہتے ہیں، ان کو اس چیز کی ماہیت کہتے ہیں۔ حقیقت اور ماہیت کا ایک معنی ہے، جن پرزوں سے کوئی چیز بنے ‏اس کو کیا کہتے ہیں؟ اس چیز کی حقیقت، اس چیز کی ماہیت۔ مثلاً آپ سے کوئی پوچھے گھڑی کی حقیقت کیا ہے؟ گھڑی ‏کی ماہیت کیا ہے؟ کیا معنی؟ وہ یہ پوچھ رہا ہے گھڑی کن چیزوں سے مل کر بنی ہے، کن چیزوں سے گھڑی بنتی ہے؟ ‏آپ اس کے پرزے ایک ایک کر کے سامنے رکھ دیں گے اور کہیں گے یہ پرزے ہیں گھڑی کی حقیقت، یعنی ان پرزوں ‏سے گھڑی بنتی ہے۔ جیسے انسان بھئی، انسان کی حقیقت آپ پڑھ چکے کیا ہے؟ حیوانِ ناطق۔ حیوانِ ناطق، تو حیوان انسان کا ایک پرزہ، ناطق ‏دوسرا پرزہ۔ صرف حیوان ہو تو بھی انسان نہیں، صرف ناطق ہو تو بھی انسان نہیں، ہاں یہ دونوں پرزے جڑیں گے، ملیں ‏گے تو حیوانِ ناطق ہوا اور یہ انسان بن گیا، یہ کیا ہے؟ انسان۔ ان میں سے ایک پرزہ بھی کم ہو تو انسان نہیں ہو سکتا ‏بھئی۔ جیسے گھڑی، گھڑی کے جو ضروری پرزے ہیں اگر ان میں سے ایک پرزہ بھی نہ ہوا تو گھڑی نہیں بن سکتی ‏پوری۔ تو جو ضروری پرزے ہیں ان کو کیا کہتے ہیں؟ حقیقت اور ماہیت کہتے ہیں، حقیقت اور ماہیت۔ اور جو ضروری ‏چیزیں نہیں ہیں ان کو عوارض کہتے ہیں، اسی عرض سے ہے نا، عرض سے، صفات وغیرہ، ان کو کیا کہتے ہیں؟ ‏عوارض۔ جیسے انسان دیکھو، انسان میں کسی کا رنگ گورا ہو گا، کسی کا رنگ کالا ہو گا۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے کوئی ‏انسان جس کا کوئی رنگ ہی نہ ہو؟ نہیں، وہ ہمیشہ کیا ہو گا؟ یا کالا ہو گا یا گورا ہو گا، لیکن یہ اس کی حقیقت میں داخل ‏نہیں، ہاں یہ اس کی صفت ہے، کیا ہے؟ صفت ہے۔ اسی طرح یا تو انسان عالم ہو گا یا کیا ہو گا؟ جاہل، لیکن یہ اس کی ‏حقیقت نہیں، یہ اس کی صفت ہے، یعنی اس کے پاس علم ہو گا یا علم نہیں ہو گا۔ تو دیکھا، معلوم ہوا چیزیں جو بنتی ہیں ‏اس میں کچھ چیزیں وہ جب کوئی چیز بنتی ہے تو جو اس کے اجزا ہوتے ہیں جن سے وہ چیز مل کر بنی، جن کے بغیر وہ ‏چیز ہو ہی نہیں سکتی ان کو کہتے ہیں حقیقت اور ماہیت، جن کے بغیر وہ چیز نہ ہو سکے ان کو کیا کہتے ہیں؟ تو جن ‏چیزوں سے مل کر کوئی چیز بنے ان کو اس چیز کی حقیقت اور ماہیت کہتے ہیں، اور اس کے علاوہ جو چیزیں ہیں وہ ‏کیا کہلاتی ہیں؟ عوارض کہلاتی ہیں بھئی، عوارض کہلاتی ہیں، اور ان پر اس چیز کا وجود موقوف نہیں ہوتا، یعنی ان ‏پر اس کے وجود کا دارومدار نہیں۔ انسان جو ہے نا انسان، اس کے وجود کا دارومدار حیوان اور ناطق پر ہے، حیوان بھی ‏ہونا چاہیے اور ناطق بھی ہونا چاہیے، ایک بھی پرزہ ان میں سے کم ہو گیا تو انسان حاصل نہیں ہو سکے گا، لیکن جب ‏دونوں پرزے پائے گئے اب کیا حاصل ہوا؟ انسان۔ تو کچھ پرزے ایسے ہیں کہ ان پر ایک چیز کا دارومدار ہوتا ہے، اس ‏کو کیا کہتے ہیں؟ حقیقت اور ماہیت کہتے ہیں، اور کچھ چیزیں وہ ہوتی ہیں کہ ان پر اس چیز کا دارومدار نہیں ہوتا، اس ‏کے ساتھ تو پائی جاتی ہیں لیکن اس پر ان کا دارومدار نہیں ہوتا، ان کو کیا کہتے ہیں؟ عوارض کہتے ہیں بھئی، عوارض ‏کہتے ہیں۔ تو دیکھیے اب کتاب پر ذرا بھئی:‏ سبقِ ہشتم، آٹھواں سبق: حقیقت و ماہیتِ شے کی بحث حقیقت و ماہیتِ شے، کسی شے کی ماہیت، کسی شے کی حقیقت کی بحث، شے چیز کو کہتے ہیں، کسی چیز کی ماہیت اور ‏کسی چیز کی حقیقت کی بحث اور کلی کی قسمیں۔ کلی کسے کہتے ہیں؟ بولو، کلی؟ وہ مفہوم جو کثیرین پر صادق آئے، اور اگر وہ کثیرین پر صادق نہ آئے تو وہ جزئی ہے ‏بھئی۔ تو کلی کی قسمیں بھئی۔ حقیقت یا ماہیت: کسی شے کی وہ چیزیں ہیں جن سے وہ شے مل کر بنے۔ دیکھا، میں نے بھی ابھی کیا بتایا؟ وہ پرزے جن ‏سے کوئی شے بنتی ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ اس شے کی حقیقت اور ماہیت۔ اب پرزے کا لفظ ہٹا دو، یہ تو میں نے ‏سمجھانے کے لیے، بس جو وہ چیزیں جن سے کوئی چیز مل کر بنے وہ اس چیز کی حقیقت اور ماہیت کہلاتی ہیں۔ تو ‏حقیقت یا ماہیت کسی شے کی وہ چیزیں ہیں جن سے وہ شے مل کر بنے، اگر ان میں سے ایک چیز نہ ہو تو وہ شے ‏موجود نہ ہو، ایک بھی چیز کم ہو گئی تو وہ چیز نہیں ہو گی، جیسے مثلاً انسان ہے، اس کی حقیقت حیوانِ ناطق ہے، اور ‏جو چیزیں حقیقت کے سوا ہیں، حقیقت کے علاوہ ہیں، جو چیزیں حقیقت کے علاوہ ہیں وہ عوارض کہلاتے ہیں، جیسے ‏انسانوں میں کالا، گورا، عالم یا جاہل ہونا، عوارض ہیں، یہ ساری چیزیں کیا ہیں؟ عوارض، کہ ان پر انسان کا وجود ‏موقوف نہیں، یعنی ان پر انسان کے وجود کا دارومدار نہیں۔ ان پر انسان کے وجود کا دارومدار؟ انسان کے وجود کا ‏دارومدار کس پر ہے؟ حیوانِ ناطق پر، یہ دو چیزیں ہوں گی تو انسان کا وجود ہو گا بھئی، انسان کا وجود پایا جائے گا۔ یا اور مثال لے لو، جیسے میں نے ایک مثال ذکر کر دی: گھڑی کے پرزے ہیں۔ کچھ پرزے ضروری ہوں گے، ان کے ‏بغیر گھڑی بن ہی نہیں سکتی، ان کو کہیں گے گھڑی کی حقیقت اور ماہیت۔ اور کچھ چیزیں وہ ہوں گی جو ہوں گی تو، ‏لیکن گھڑی کا دارومدار ان پر نہیں، جیسے گھڑی کا کچھ نہ کچھ رنگ ہو گا یا رنگ نہیں ہو گا؟ کچھ نہ کچھ تو رنگ، ‏جس چیز سے آپ بنا رہے ہیں، پیتل سے بنا رہے ہیں، لوہے سے بنا رہے ہیں، چاندی سے بنا رہے ہیں، سونے سے بنا ‏رہے ہیں، کچھ نہ کچھ تو رنگ ہو گا، لیکن اس رنگ پر گھڑی کا دارومدار نہیں ہے، گھڑی کا دارومدار ان پرزوں پر ‏ہے۔ یا اسی طرح آپ دیکھ لیں، آپ میز بنانا چاہتے ہیں، آپ سے کوئی پوچھے میز کی حقیقت کیا ہے؟ تو آپ بتائیں گے بھئی ‏کہ میز کی حقیقت چار پائے ہونے چاہییں اور اوپر لکڑی کا تختہ ہونا چاہیے، یہ ہے میز کی حقیقت۔ ان میں سے ایک چیز ‏بھی کم ہو گئی تو میز پوری نہیں پائی جا سکتی۔ ہاں میز کا کچھ نہ کچھ رنگ ہو گا یا رنگ نہیں ہو گا؟ رنگ، لیکن وہ ‏زائد، وہ عوارض میں سے ہے۔ میز کا کوئی نہ کوئی ڈیزائن بھی ہو گا، لیکن وہ ڈیزائن بھی کس میں سے ہے؟ عوارض ‏میں سے ہے۔ اسی طرح کرسی ہے، کرسی میں بھی آپ سے پوچھے کرسی کی حقیقت اور ماہیت کیا ہے؟ آپ کہیں گے ‏کیا؟ کہ اس کے پائے چار پائے ہونے چاہییں اور بیٹھنے کی جگہ ہونی چاہیے اس پر اور ٹیک لگانے کی جگہ ہونی ‏چاہیے، تو یہ چیزیں ہیں کرسی کی حقیقت اور ماہیت۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ جو مناطقہ نے اور علماء نے انسان کی حقیقت نکالی: حیوانِ ناطق، کیا نکالی؟ حیوانِ ناطق، یہ خود سوچ کر اور عقل ‏دوڑا کر یہ حقیقت نکالی، تو یہ حقیقت انہوں نے نکالی۔ لیکن کیا انسان کی حقیقت واقعی یہی ہے؟ یہ اللہ ہی جانتے ہیں۔ ہاں، ‏علماء اور مناطقہ سے جتنا ہو سکا کوشش کر کے ان کی سمجھ میں یہی آئی کہ انسان کی حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ ناطق۔ ایک ‏تو حیوان ہونا چاہیے اور ایک کیا ہونا چاہیے؟ ناطق ہونا چاہیے بھئی، ناطق ہونا چاہیے۔ حیوان ہو، حیوان کسے کہتے ‏ہیں؟ جس میں نامی ہو، حساس ہو، متحرک بالارادہ ہو، وہ ہوتا ہے حیوان۔ یہ چیزیں بھی ہونی چاہییں اور ناطق بھی یعنی ‏بولنے والا ہو، عقل رکھنے والا ہو، تو پھر وہ حیوان انسان کہلائے گا، ورنہ انسان نہیں کہلائے گا۔ جبکہ گھوڑا ہے، اس ‏کی حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ صاہل: ص، الف، ہ، ل، حیوانِ صاہل۔ صاہل کا معنی؟ وہ ہنہنانا بھئی، ہنہنانے والا حیوان۔ ‏انسان کی حقیقت حیوانِ ناطق، بولنے والا حیوان، اور گھوڑے کی حقیقت حیوانِ صاہل، ہنہنانے والا حیوان۔ تو اسی طرح ‏مختلف چیزوں کی انہوں نے حقیقتیں نکالیں، جو جن جو تھوڑی بہت جن کی بحث مثالیں سمجھانے کے لیے ضرورت ‏پڑی، اور لیکن میں نے بتلایا حقیقت اللہ ہی جانتے ہیں، کہ واقعی انسان کی حقیقت یہی ہے یا کچھ اور ہے؟ وہ کون جانتے ‏ہیں؟ اللہ جانتے ہیں۔ تو حقیقت اور ماہیت سمجھ میں آ گئی؟ کسے کہتے ہیں؟ وہ چیز وہ چیزیں جن سے کوئی چیز بنے، وہ اس کی حقیقت اور ‏ماہیت۔ پھر دہراؤ، حقیقت اور ماہیت کسے کہتے ہیں؟ ہاں وہ چیزیں جن سے مل کر کوئی چیز بنے، وہ اس چیز کی حقیقت ‏اور ماہیت کہلاتی ہیں بھئی۔ اور وہ ایسی چیزیں ہوں کہ اگر ان میں سے ایک چیز بھی کم ہو جائے تو اس چیز کا وجود ہی ‏نہ پایا جائے، اور اگر اس کے علاوہ اور چیزیں ہیں جو لیکن ان پر اس چیز کے وجود کا دارومدار نہیں، تو ان کو کیا ‏کہتے ہیں؟ عوارض کہتے ہیں۔ اور مثال دیکھ لو، مثلاً نماز ہے، نماز۔ نماز میں کچھ چیزیں فرض ہیں، فرض اور شرط ‏ہیں، وہ چیزیں ہوں گی تو نماز ہو گی، کیونکہ یہ نماز کی حقیقت اور ماہیت ہیں، انہی چیزوں سے نماز بنی ہے، مثلاً کیا؟ ‏قرات ہو گئی، اور کیا ہونا چاہیے؟ رکوع، سجدہ وغیرہ، یہ چیزیں کیا ہیں؟ فرض ہیں، نماز کے ارکان ہیں، ضروری ہیں، ‏اور تو یہ نماز کی حقیقت اور ماہیت ہیں، اور ان کے علاوہ جو چیزیں ہیں جو نماز میں تو ہوتی ہیں لیکن نماز کا ان پر ‏دارومدار نہیں، ان کو کیا کہیں گے؟ عوارض کہیں گے بھئی، عوارض کہیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو حقیقت اور ‏ماہیت پر کسی چیز کا دارومدار ہوتا ہے، وہ چیز ہے تو وہ دوسری چیز بھی ہے، ان میں سے ایک بھی کم ہو گئی تو وہ ‏چیز نہیں پائی گئی، جبکہ عوارض میں ایسا نہیں ہوتا، عوارض میں سے کوئی پایا جائے یا نہ پایا جائے وہ چیز ہر حال ‏میں بہرحال موجود ہو گی بھئی، موجود ہو گی۔ گزشتہ اسباق میں سے پہلے سبق کا ہم مختصراً پھر خلاصہ کر لیتے ہیں۔ پہلے سبق میں آپ نے علم کے بارے میں پڑھا، ‏تصدیق کے بارے میں پڑھا اور تصور کے بارے میں پڑھا۔ علم آپ نے پڑھا، علم کے معنی ہیں علم کے معنی ہیں جاننا، ‏کسی چیز کو پہچاننا، کسی چیز کی جو صورت تمہارے ذہن میں آئی وہ اس چیز کا علم ہے۔ مثلاً میں نے کہا درخت، فوراً ‏ایک چیز کی صورت آپ کے ذہن میں آ گئی، یہ درخت کا علم ہے، معلوم ہوا آپ کو درخت کا علم ہے، آپ جانتے ہیں کہ ‏درخت کسے کہتے ہیں۔ میں نے کہا بادشاہی مسجد، فوراً ایک مسجد کی صورت آپ کے ذہن میں آ گئی، اس کا مطلب یہ ‏ہے کہ آپ کو بادشاہی مسجد کا علم ہے، آپ اس کو جانتے ہیں۔ اور مثال لے لیجیے، مثلاً میں نے کہا مکہ مکرمہ، فوراً ‏ایک شہر کی صورت آپ کے ذہن میں آ گئی، معلوم ہوا کہ آپ اس شہر کو جانتے ہیں، پہچانتے ہیں۔ میں نے کہا مدینہ ‏منورہ، فوراً ایک شہر کی صورت آپ کے ذہن میں آ گئی، آپ کہیں گے ہم نے تو مکہ نہیں دیکھا، مدینہ نہیں دیکھا، بھئی ‏اتنا ذہن میں آیا کہ نہیں کہ ایک شہر کا نام ہے؟ اتنا آیا کہ نہیں آیا؟ کہ ایک شہر کا نام ہے اور مکہ میں ہم کیا کرتے ہیں؟ ‏حج کرتے ہیں، مدینہ منورہ ذہن میں آیا کہ وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ مبارک ہے، اتنا آیا کہ نہیں آیا ذہن ‏میں؟ تو پہچان تو ہے، ذہن میں ایک صورت آ گئی، تو یہ پہچان ہے آپ کو اس کا علم ہے بھئی۔ تو علم کیا کہتے ہیں؟ ‏کسی شے کی جو صورت اور پہچان ہمارے ذہن میں آئے وہ اس چیز کا علم ہے، علم ہے۔ اور پھر میں نے بتلایا تھا جس چیز کی صورت ذہن میں آتی ہے اس کو معلوم کہتے ہیں، جس چیز کا آپ کو علم ہے اس ‏کو معلوم کہیں گے، معلوم ہوا مکہ آپ کو معلوم ہے، مدینہ آپ کو معلوم ہے، مسجد آپ کو معلوم ہے، مدرسہ آپ کو معلوم ‏ہے، یہ جو جو میں نام لے رہا ہوں آپ کے ذہن میں صورت آتی جا رہی ہے تو یہ معلوم۔ اور علم کے مقابلے میں آتا ہے ‏جہل، جہل کا معنی ہوتا ہے نامعلوم، جس علم نہ ہونا، علم نہ ہونا، تو جس چیز کا علم نہیں ہو گا وہ مجہول ہو گی، مجہول ‏ہو گی۔ مثلاً میں کہتا ہوں دہلی کی جامع مسجد، دہلی کی جامع مسجد، بڑی مسجد دہلی کی، دہلی ہندوستان کا دارالحکومت ‏ہے، ہندوستان کا شہر ہے۔ دیکھا کوئی صورت آپ کے ذہن میں نہیں آئی، کوئی صورت، کیونکہ آپ نے اس کو دیکھا نہیں ‏ہوا۔ اسی طرح میں کوئی اور ایسی چیز مثلاً ذکر کر دوں جس کو آپ نے نہیں دیکھا ہوا تو اس کی صورت ذہن میں نہیں ‏آئے گی، معلوم ہوا آپ کے لیے وہ چیز مجہول ہے، آپ کو اس کا علم نہیں، معلوم کا معنی کیا؟ کہ آپ کو اس کا علم ہے، ‏اور مجہول کا کیا معنی کہ آپ کو اس کا علم نہیں ہے۔ یا یوں کہیں گے ایک چیز کی صورت آپ کے ذہن میں آئی تو ہم ‏کہیں گے آپ اس چیز کے عالم ہیں، یعنی اس کو جاننے والے ہیں۔ اور جس چیز کی صورت آپ کے ذہن میں نہیں آئی تو ‏ہم کہیں گے آپ اس چیز سے جاہل ہیں، کیا معنی؟ آپ کو اس چیز کا علم نہیں ہے بھئی، علم نہیں ہے۔ اور پھر یہ تو میں نے بیان کر ہی دیا کہ عقل ایک روحانی آئینہ ہے جس میں ہر طرح کی چیزوں کی صورت آتی ہے، ‏چاہے وہ آنکھوں سے نظر آئیں یا آنکھوں سے نظر نہ آئیں بھئی، اور پھر عقل ان چیزوں کو کہاں، جن جن چیزوں کی ‏صورت آتی ہے عقل ان کو کہاں محفوظ کرتی ہے؟ حافظے میں محفوظ کرتی ہے، اور پھر ضرورت جب پیش آتی ہے وہ ‏عقل اپ اس میں سے وہ چیز فوراً نکال لیتے ہیں، ذہن عقل نکال لیتی ہے، آپ کو یاد آ جاتا ہے کہ فلاں چیز ایسی ہے، ‏فلاں چیز ایسی بھئی۔ اس کے بعد قولِ معقول اور قولِ ملفوظ کا بھی ابھی ذکر ہو گیا: قولِ معقول جو ذہن میں ہو، اور قولِ ملفوظ جو زبان پر۔ اس ‏کے بعد پھر تصور اور تصدیق کی بات آئی۔ تصدیق پہلے سمجھ رہے ہیں۔ تصدیق کسے کہتے ہیں؟ جس آسان لفظوں میں ‏میں نے بتایا تھا تصدیق وہ ہے جس میں بات پوری ہو، جس میں کیا ہو؟ بات پوری ہو۔ یعنی تصدیق میں ہمیشہ دو چیزیں ‏ہوں گی: ایک وہ چیز جس کے بارے میں بات کی جائے اور ایک وہ بات ہو گی۔ مثلاً میں کہتا ہوں زید کھڑا ہے، کس کے ‏بارے میں بات کی؟ زید کے بارے میں، اور کیا بات کی؟ کہ کھڑا ہے۔ تو دیکھا، ایک ایک وہ چیز جس کے بارے میں ‏بات کی اور ایک وہ بات، جہاں یہ دونوں چیزیں ہوں گی اس کو کہیں گے تصدیق، اور جہاں یہ دونوں چیزیں نہیں وہ ہو گا ‏تصور۔ تو تصدیق میں ہمیشہ بات پوری ہو گی۔ اب مجھے آپ بتائیے میں چند لفظ آپ کے سامنے ذکر کرتا ہوں، بات پوری ہے یا بات پوری نہیں؟ زید کا بیٹا؟ بات پوری ‏نہیں، آپ کہیں گے پوری تو بات کریں، زید کے بیٹے کو کیا ہوا؟ زندہ ہے، مر گیا ہے، آیا ہے، چلا گیا ہے؟ بات ہی ‏پوری نہیں ہے۔ اور مثال لے لیں: زید کے بیٹے کا دوست؟ یہ بھی بات پوری نہیں ہے۔ آپ کے مدرسے کے درجہ ثانیہ ‏کے طالب علم؟ بات پوری نہیں، آپ کہیں گے ان کو کیا ہوا؟ بات تو پوری کریں۔ آپ کے مدرسے کے درجہ ثانیہ کے ‏طالب علم، ہاں میں بتاتا ہوں کل وہ میرے مجھ سے ملنے آئے تھے، اب بات پوری ہو گئی، آپ سمجھ گئے میں کیا کہنا ‏چاہتا ہوں۔ تو تصدیق میں ہمیشہ کتنی چیزیں ہوں گی؟ دو: ایک وہ چیز جس کے بارے میں بات کی جائے اور ایک وہ جو ‏بات ہو گی بھئی، بات ہو گی۔ تو گویا دو چیزیں، ادھر دیکھیے ادھر دیکھیے: زید قائم، یہ ہے زید، یہ ہے قائم۔ زید قائم، کس کے بارے میں بات کی؟ ‏زید، اس کو کہتے ہیں محکوم علیہ۔ اور کیا بات کی؟ قائم کہ وہ کھڑا ہے، اس کو کہتے ہیں محکوم بہ، کیا کہتے ہیں؟ ‏محکوم بہ۔ جس کے بارے میں بات کی جائے اس کو کہتے ہیں محکوم علیہ، اور جو بات کی جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ ‏محکوم بہ کہتے ہیں۔ کوئی آپ سے پوچھے ہاں بھئی، کیا بات ہوئی؟ آپ کہتے ہیں زید کے بارے میں بات ہوئی، کیا بات ‏ہوئی یہ نہیں بتایا، کیا بتایا؟ زید کے بارے میں بات ہوئی، یہ تو آپ نے اردو میں بتایا، علمی رنگ میں آپ یوں کہیں زید ‏پر حکم لگایا گیا، یہ جو بات کرنا ہے نا اس کو کہتے ہیں حکم لگانا، تو آپ کیا کہیں گے؟ زید پر حکم لگایا گیا ہے۔ تو زید ‏کیا ہوا؟ جس کے بارے میں بات کی جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ محکوم علیہ، اور جو بات کی جائے اس کو کیا کہتے ‏ہیں؟ محکوم بہ۔ نحو آپ پڑھ رہے ہیں؟ نحو میں آپ پڑھیں گے جس کے بارے میں بات کی جائے جملہ اسمیہ میں اس کو ‏کہتے ہیں مبتدا، اور جو بات کی جائے اس کو کہتے ہیں خبر۔ جس کے بارے میں بات کی جائے اس کو؟ مبتدا، اور جو ‏بات کی جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ خبر۔ یہ علمِ نحو کے اندر ہے۔ لیکن منطق کے اندر الگ نام ہیں۔ منطق میں جس کے ‏بارے میں بات کی جائے اس کو کہتے ہیں موضوع: م، و، ض، و، ع، موضوع۔ منطق میں جس کے بارے میں بات کی ‏جائے اسے کیا کہتے ہیں؟ موضوع، اور جو بات کی جائے اس کو کہتے ہیں محمول: م، ح، م، و، ل، محمول۔ تو گویا دو ‏چیزیں ہیں: ایک جس کے بارے میں بات کی گئی اور ایک جو بات کی گئی۔ جس کے بارے میں بات کی گئی اس کو کہتے ‏ہیں محکوم علیہ، اور جو بات کی گئی اس کو محکوم بہ کہتے ہیں۔ اور علمِ نحو کے اندر جس کے بارے میں بات کی گئی ‏اس کو کیا کہتے ہیں؟ مبتدا، اور جو بات کی گئی اس کو کیا کہتے ہیں؟ خبر کہتے ہیں۔ اور علمِ منطق کے اندر جس کے ‏بارے میں بات کی جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ موضوع، اور جو بات کی جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ محمول۔ تو گویا ‏ایک ہی چیز کے تین نام ہو گئے: محکوم علیہ بھی، موضوع بھی اور مبتدا بھی۔ دوسری چیز کے بھی تین نام ہو گئے: ‏محکوم بہ، خبر اور محمول۔ توجہ ہے؟ پہلی چیز کے تین نام کیا، پھر دہراؤ نمبر ایک: موضوع، محکوم علیہ، پہلے ترتیب سے یاد کر لو، پہلا نام کیا؟ ‏محکوم علیہ، دوسرا نام؟ مبتدا، تیسرا؟ موضوع۔ دوسری چیز کے تین نام: پہلا نام؟ محکوم بہ، دوسرا نام؟ خبر، تیسرا نام؟ ‏محمول۔ پھر ایک دفعہ دہرا لو: پہلی چیز کے تین نام، نمبر ایک؟ محکوم علیہ، دوسرا نام؟ مبتدا، تیسرا نام؟ موضوع۔ اور ‏دوسری چیز کا پہلا نام؟ محکوم بہ، دوسرا نام؟ خبر، اور تیسرا نام؟ محمول۔ اب یاد رکھو، یہ جو محکوم علیہ اور محکوم ‏بہ یہ والے نام یہ دونوں میں استعمال ہوتے ہیں، منطق میں بھی استعمال ہو جاتے ہیں یہ نام اور علمِ نحو میں بھی۔ مبتدا اور ‏خبر یہ نام استعمال ہوتے ہیں علمِ نحو میں، اور موضوع اور محمول یہ کس میں استعمال ہوتے ہیں؟ یہ علمِ منطق کے اندر ‏استعمال ہوتے ہیں بھئی، علمِ منطق میں۔ تو معلوم ہوا تصدیق کسے کہتے ہیں؟ جس میں بات پوری ہو۔ اور بات پوری ہو اس کے لیے کتنی چیزیں چاہییں؟ دو ‏چیزیں: ایک جس کے بارے میں بات کی جائے اور ایک وہ جو بات کی جائے۔ جب آپ نے کہا زید کھڑا ہے تو یوں کہیں ‏گے: آپ نے زید کے لیے کھڑے ہونے کی صفت ثابت کر دی، یا آپ نے زید کے لیے کھڑے ہونے کی صفت کا اس ‏کھڑے ہونے کا حکم اس پر لگا دیا، توجہ ہے؟ جب میں نے کیا کہا زید کھڑا ہے، تو کس کے بارے میں بات کی؟ اور کیا ‏بات کی؟ کہ وہ کھڑا ہے۔ علمی اصطلاح میں کیا کہیں گے؟ میں نے زید پر حکم لگایا، اور دوسرے لفظوں میں کہیں گے ‏میں نے زید کے لیے کھڑا ہونا، کھڑے ہونے کا اثبات کیا۔ کھڑے ہونے کا اثبات، یہی نفی بھی ہو سکتا ہے: زید کھڑا نہیں ‏ہے۔ کس کے بارے میں بات کی؟ زید، اور کیا بات کی؟ کہ کھڑا نہیں، تو یوں کہیں گے میں نے زید سے کھڑے ہونے کی ‏نفی کی، کھڑے ہونے کی نفی۔ یا یوں کہیں گے میں نے زید پر حکم لگایا کس چیز کا؟ کہ وہ کھڑا نہیں ہے، کھڑا نہیں ہے۔ ‏تو دیکھا، معلوم ہوا کلام دونوں قسم کا ہو سکتا ہے، ایک میں ایک چیز کا اثبات ہو گا کہ دوسری چیز، دیکھو زید پہلی چیز ‏ہے اور کھڑا ہونا دوسری چیز ہے، پہلی چیز کے لیے دوسری چیز کو آپ نے ثابت کر دیا۔ تو پہلی چیز کے لیے؟ دوسری ‏چیز کو ثابت کر دیا، اور اگر کہوں میں زید کھڑا نہیں ہے تو کہیں گے پہلی چیز سے دوسری چیز کی نفی کر دی۔ تو ایک ‏جملہ کیا ہے؟ مثبت، ایک کیا ہے؟ منفی۔ مثبت جس میں اثبات ہو، منفی جس میں ایک چیز کی دوسری سے کیا کی جائے؟ ‏نفی کی جائے، مثبت اور منفی بھئی۔ تو حاصلِ کلام یہ ہوا کہ ہمارا علم دو ہی قسم پر ہے: یا وہ تصور ہے یا تصدیق۔ تصدیق وہ ہے جس میں ایک چیز کے ‏لیے دوسری چیز کا اثبات ہو، یا ایک چیز کے لیے دوسری ایک چیز سے دوسری چیز کی نفی ہو، یا یوں کہیں جس کے ‏اندر بات پوری ہو۔ توجہ ہے؟ جس میں ایک چیز کا اثبات ہو دوسری چیز کے لیے، یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی ‏ہو، اس کو کہیں گے تصدیق، آسان لفظوں میں جس میں بات پوری ہو۔ زید کھڑا ہے، جس میں بھی بات پوری، زید کھڑا ‏نہیں ہے، اس میں بھی بات پوری۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ کیا ہے؟ تصور۔ تو ہمارا علم دو ہی قسم کا ہے: یا وہ تصور ہو ‏گا یا کیا ہو گا؟ تصدیق۔ اور جس چیز کا ہمیں علم ہو جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ معلوم، تو ہماری معلومات دو ہی قسم کی ‏ہیں: یا وہ تصور ہوں گی یا تصدیق، تیسری کوئی صورت نہیں ہے۔ یا یوں کہہ لو ہمارا قولِ معقول جو ہے وہ دو ہی قسم ‏پر ہے، قولِ معقول وہ چیز ہے نا جو ذہن میں آئے، وہ دو ہی قسم پر ہے: یا وہ کیا ہو گا؟ تصور ہو گا، یا وہ کیا ہو گی؟ ‏تصدیق ہو گی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔