سبقِ ہفتم
کلی و جزئی کی بحث
مفہوم یعنی جو شے ذہن میں آتی ہے کی دو قسمیں ہیں: کلی، جزئی۔
کلی وہ مفہوم ہے کہ اس میں شرکت ہو سکے یعنی کئی چیزوں پر صادق آئے، جیسے آدمی کہ زید، عمر، بکر وغیرہ ان سب کو آدمی کہنا صحیح ہے۔ کلی جن چیزوں پر بولی جاتی ہے وہ اس کے جزئیات و افراد کہلاتے ہیں، جیسے آدمی کے افراد و جزئیات زید، عمر، بکر وغیرہ ہیں، اور حیوان کے جزئیات انسان، بکری، بیل وغیرہ ہیں۔
اچھا بھئی، آج ہم کلی اور جزئی کے بارے میں پڑھیں گے۔
بھئی دیکھیے، میں مختلف چیزوں کے نام لیتا ہوں، آپ کے ذہن میں ان کی صورت اور ان کی پہچان آتی جائے گی: کتاب، قلم، مدرسہ، مسجد، زید، عمر، بکر، دیوار، درخت، سکول، سڑک، راستہ، انسان، بیل، بکری وغیرہ۔ دیکھیے میں جو جو لفظ بولتا جا رہا ہوں، اس کی صورت اور اس کی پہچان آپ کے ذہن میں آتی جا رہی ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور مثلاً زید اور عمر آپ کے دوست ہیں، ان کا نام ہے۔ تو جن جن چیزوں کا میں نام لے رہا ہوں ان کی صورت اور پہچان آپ کے ذہن میں آتی جا رہی ہے۔ تو یہ جو ہمارے ذہن میں کسی چیز کی صورت اور پہچان آتی ہے، اس کو مفہوم کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ مفہوم اور معنی۔ دیکھو ان چیزوں کا معنی آپ کے ذہن میں آتا جا رہا تھا یا نہیں آ رہا تھا؟ ہر ہر لفظ کا معنی آپ کے ذہن میں آ رہا تھا۔ تو یہ جو ذہن میں آ رہا تھا یہ کیا ہے؟ مفہوم اور معنی۔ بولیں بھئی، زبان سے دہرائیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفہوم اور معنی۔ تو جب بھی ہم کوئی لفظ بولتے ہیں تو جو معنی ہمارے ذہن میں آتا ہے اس کو مفہوم کہتے ہیں بھئی، مفہوم۔ فہم سے ہے نا، جو ہمیں سمجھ میں آیا، مفہوم۔
اور یاد رکھیے یہ جو مفہوم ہے، یہ اگر ایک سے زیادہ چیزوں پر بولا جا سکے تو اس کو کلی کہتے ہیں، اور اگر ایک سے زیادہ چیز پر وہ نہ بولا جا سکے تو اس کو جزئی کہتے ہیں۔ مفہوم جو آپ کے ذہن میں آیا، توجہ ہے سبق کی طرف؟ مفہوم وہ معنی جو آپ کے ذہن میں آیا۔ تو وہ مفہوم اگر کئی چیزوں پر بولا جا سکے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ کلی۔ مفہوم د دہراؤ بھئی زبان سے، مفہوم اگر اگر کئی چیزوں پر بولا جا سکے تو اس کو کلی کہتے ہیں۔ پھر دہرائیں، مفہوم اگر کئی چیزوں پر بولا جا سکے تو اس کو کلی کہتے ہیں، اور اگر وہ کئی وہ صرف ایک ہی چیز پر بولا جائے، زیادہ پر نہ بولا جا سکے تو پھر اس کو جزئی کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا کلی وہ ہے جو کئی افراد پر بولا جا سکے اور جزئی وہ ہے جو ایک سے زیادہ پر نہ بولا جا سکے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
کلی، لفظ یاد رکھیے یہ لفظ عربی ہے، کُلِّیٌّ۔ کُلِّیٌّ، تو وقف کرتے ہیں آخر میں، کلی پڑھتے ہیں۔ اسی طرح دوسرا لفظ ہے جُزْئِیٌّ، اس کو کیا پڑھتے ہیں؟ جزئی۔ تو کلی کون سا مفہوم ہے؟ جو کئی چیزوں پر بولا جا سکے۔ اور جزئی کون سا مفہوم ہے؟ جو ایک ہی چیز پر بولا جا سکے، زیادہ پر نہ بولا جا سکے۔
مثلاً میں نے کہا درخت، تو ایک معنی آپ کے ذہن میں فوراً آ گیا۔ آپ سمجھ گئے کہ نہیں سمجھ گئے درخت کسے کہتے ہیں؟ اب بتائیے یہ جو مفہوم آپ کے ذہن میں آیا، یہ کلی ہے یا جزئی ہے؟ جی؟ جزئی۔ ایک اس طرف درخت ہے، ایک دوسری طرف ہے، ایک تیسری طرف ہے، ایک چوتھی طرف ایک درخت ہے، ہر ایک کیا ہے؟ یہ بھی درخت ہے، وہ بھی درخت ہے، وہ بھی درخت ہے۔ تو کئی چیزوں پر وہ مفہوم صادق آ رہا ہے کہ نہیں صادق آ رہا؟ تو لہٰذا یہ کیا ہوا؟ کلی ہوا۔ تو کلی وہ مفہوم ہے جو کئی چیزوں پر صادق آئے، جو کئی چیزوں پر بولا جائے۔ اور مجھے بتائیے، کتاب کلی ہے، جزئی ہے؟ کلی ہے۔ یہ میرے سامنے جو ہے یہ بھی کتاب، آپ کے سامنے جو ہے یہ بھی کتاب۔ تو ہر طالب علم کے سامنے دیکھو کتاب موجود ہے، ہر ایک پر کتاب کا لفظ صادق آ رہا ہے، تو معلوم ہوا کتاب کیا ہے؟ کلی۔ اسی طرح قلم، کلی ہے یا جزئی ہے؟ یہ بھی کلی ہے بھئی۔ جو بھی لکھنے والے قلم مختلف شکلوں کے ہوں، ہر ایک کو ہم کہیں گے یہ قلم ہے۔ اور بتائیے مجھے، انسان؟ یہ بھی کلی ہے، زید بھی انسان، عمر بھی انسان، بکر بھی انسان، ایک یہ ایک طالب علم بھی یہ بھی انسان، دوسرا بھی انسان۔ تو ہر ایک کیا ہے؟ انسان۔ تو انسان بھی کیا ہے؟ کلی۔
جبکہ بعض مفہوم ایسے ہوتے ہیں جو کئی افراد پر نہیں بولے جا سکتے، وہ صرف ایک ہی متعین پر بولے جاتے ہیں۔ مثلاً آپ کا ایک ساتھی ہے، اس کا نام ہے زید۔ اب یہ زید جیسے ہی میں نے کہا، اس کی فوراً پہچان آپ کے ذہن میں آ گئی۔ اب بتائیے، یہ زید کلی ہے یا جزئی ہے؟ یہ جزئی ہے۔ یہ زید ایک ہی ذات پر بولا جا رہا ہے اور ایک سے زیادہ پر یہ نہیں بولا جا رہا۔ اسی طرح مجھے بتائیے، لاہور لاہور کی بادشاہی مسجد، جی؟ کلی ہے یا جزئی ہے؟ یہ بھی جزئی ہے، یہ صرف لاہور کی جو بادشاہی مسجد ہے اسی پر بولا جا رہا بولا جا سکتا ہے۔ اور مثال دیکھ لیں، شاہ فیصل مسجد کلی ہے یا جزئی ہے؟ یہ جزئی ہے بھئی، شاہ فیصل مسجد ایک ہی ہے، اس کا نام ہے اور مسجدوں پر یہ لفظ نہیں بولا جا سکتا۔ اور مثال مجھے بتائیے بھئی، مثلاً تاج محل، کلی ہے یا جزئی ہے؟ یہ بھی جزئی ہے، شاباش۔ اسی طرح ہمارا یہ مدرسہ جامعہ محمد موسیٰ البازی، کلی ہے یا جزئی ہے؟ یہ بھی جزئی ہے، شاباش۔ یہ صرف اسی مدرسے پر یہ لفظ بولا جا سکتا ہے اور کسی مدرسے پر نہیں۔ اور مثال بتائیے مثلاً گائے؟ یہ کلی ہے، جو بھی حیوان ہو گا اور گائے کی نسل کا، اس مادہ، اس کو کیا کہیں گے؟ گائے ہی کہیں گے بھئی۔ اسی طرح بکری، یہ بھی کیا ہے؟ کلی ہے۔ تو کلی اور جزئی کا معنی اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ کلی کسے کہتے ہیں؟ یاد رکھیے، کلی بھی مفہوم کا نام ہے، جزئی بھی مفہوم کا۔ وہ جو خا باہر وہ خارج میں ہمیں مثلاً یہ کتاب جو پڑی ہوئی ہے، یہ کتاب نہیں کلی، کتاب نہیں، وہ جو مفہوم ذہن میں آیا وہ کیا ہے؟ وہ کلی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وہ مفہوم بھئی۔ اور جزئی؟ ہاں، تو کلی اور جزئی یہ مفہوم کا نام ہے بھئی، اور اس میں پھر آپ غور کریں گے کہ یہ مفہوم ایک سے زیادہ چیزوں پر بولا جا سکتا ہے یا نہیں بولا جا سکتا۔ اگر ایک سے زیادہ چیزوں پر بولا جا سکتا ہے تو وہ کیا ہے؟ کلی، اور اگر ایک سے زیادہ چیزوں پر وہ نہیں بولا جا سکتا تو وہ جزئی ہے بھئی۔
اب مجھے بتائیے بھئی، دیکھیے سورج کو آپ، سورج کسے کہتے ہیں؟ آسمان پر چمکنے والا ایک گول روشن جسم ہے جس کے نکلنے سے دن ہو جاتا ہے۔ اب مجھے بتائیے سورج کلی ہے یا جزئی ہے؟ جی؟ جزئی۔ بولیے۔ یہ کیا ہے؟ ہاں، کیوں؟ کوئی اور سورج ہے؟ نہیں بھئی، یاد رکھیے سورج کلی ہے بھئی، کلی ہے، جزئی نہیں۔ سورج کی میں نے بتایا کسے کہتے ہیں؟ ابھی میں نے بتایا، کسے کہتے ہیں سورج؟ آسمان پر چمکنے والا ایک روشن گول جسم، اس کو کیا کہتے ہیں؟ سورج، جس کے طلوع ہونے سے دن ہو جاتا ہے۔ توجہ ہے؟ پھر دہراؤ، سورج کسے کہتے ہیں؟ آسمان پر چمکنے والا ایک گول جسم جس کے طلوع ہونے سے دن ہو جاتا ہے، اس کو ہم کیا کہتے ہیں؟ سورج۔ اگر ایسا ہی ایک اور جسم ہوتا جو گول، چمکدار ہوتا اور اس کے طلوع ہونے سے بھی کیا ہوتا؟ دن، تو اس کو بھی کیا کہتے؟ سورج ہی کہتے، ظاہر سی بات ہے، وہ بھی کیا ہے؟ آسمان پر دیکھو تعریف اس پر صادق آ رہی ہے یا نہیں؟ آسمان پر چمکنے والا گول جسم جس کے طلوع ہونے سے دن، دیکھو اس پر بھی صادق آتا۔ ہے سورج اگرچہ ایک، آپ نے صورت سمجھ میں آ گئی؟
ہاں اس سے پہلے یاد رکھیے، افراد اور جزئیات کو ذرا سمجھ لیں، پھر مزید میں وضاحت کر دیتا ہوں۔ کلی اور جزئی سمجھ گئے اچھی طرح؟ کلی وہ مفہوم جو کثیرین پر صادق آئے، جو زیادہ پر صادق آئے، اور جزئی وہ مفہوم جو کثیرین پر صادق نہ آئے، زیادہ پر صادق نہ آئے۔ اچھا، یاد رکھیے کلی جن چیزوں پر بولی جاتی ہے، ان کو کلی کے افراد اور جزئیات کہتے ہیں۔ کلی جن چیزوں پر بولی جاتی ہے، ان کو کیا کہتے ہیں؟ کلی کے افراد اور کلی کے جزئیات۔ کلی خود تو مفہوم کا نام ہے نا، کلی کلی کا خارج میں، باہر وجود نہیں ہوتا، یہ ذہن میں ہے کیونکہ یہ معنی کا نام ہے، مفہوم کا نام ہے، اور مفہوم کہاں ہوتا ہے؟ ذہن میں ہوتا ہے، باہر نہیں بھئی، تو ذہن میں ہوتا ہے۔ ذہن میں آپ اس مفہوم پر غور کریں کہ یہ مفہوم کثیرین پر بولا جا سکتا ہے، زیادہ چیزوں پر بولا جا سکتا ہے یا بولا نہیں؟ اور جن جن چیزوں پر بولا جاتا ہے، ان کو کلی کے افراد کہتے ہیں۔ مثلاً آپ سارے انسان ہیں، اور انسان کیا ہے؟ کلی ہے یا جزئی ہے؟ کلی ہے۔ انسان کیا ہے؟ کلی ہے۔ تو آپ میں سے یہ بھی انسان کا فرد ہوا، کیا ہوا؟ فرد، یا یوں کہو یہ انسان کی جزئی ہوا۔ توجہ ہے؟ آپ کا یہ ساتھی کیا ہے؟ انسان ہے، تو یہ اس کو کیا کہیں گے؟ انسان کا فرد ہے، یا کیا کہیں گے؟ یہ انسان کی جزئی ہے۔ دوسرا ساتھی یہ بھی کیا ہے؟ انسان کا فرد ہے، انسان کی جزئی ہے۔ تیسرا ساتھی وہ بھی کیا ہے؟ انسان کا فرد ہے، انسان کی جزئی ہے۔ اور فرد کی جمع آتی ہے افراد، تو گویا آپ سب انسان کے افراد ہیں۔ انسان ایک کلی ہے اور آپ سب اس کے افراد ہیں، اور آپ سب اس اور جزئی، جزئی کی جمع آتی ہے جزئیات، تو آپ ان سب انسان کے جزئیات ہیں۔ کلی کے جو افراد خارج میں پائے جاتے ہیں جن پر کلی بولا جاتا ہے، ان کو کیا کہتے ہیں؟ کلی کے افراد اور کلی کے جزئیات۔ تو آپ سب کیا ہیں؟ انسان کے افراد اور انسان کے جزئیات ہیں۔ آپ سے کوئی پوچھے انسان کے کچھ افراد مجھے بتاؤ، آپ کہیں گے یہ جتنے طلبہ آپ دیکھ رہے ہیں یہ سب کیا ہیں؟ انسان کے افراد، یا آپ کہیں گے یہ سب انسان کے جزئیات، یا آپ کہیں گے زید، عمر، بکر، خالد وغیرہ یہ سب کیا ہیں؟ انسان کے افراد ہیں بھئی۔ تو کلی مفہوم، توجہ ہے؟ کلی کس چیز کا نام؟ مفہوم کا نام، اور کلی کا وہ مفہوم ہے جو کئی چیزوں پر بولا جا سکتا ہو، اور جن جن چیزوں پر وہ بولا جاتا ہو ان کو کیا کہتے ہیں؟ کلی کے افراد اور کلی کے جزئیات کہتے ہیں بھئی، جزئیات۔ جبکہ اس کے مقابلے میں جو جزئی تھا، کلی کے مقابلے میں جو جزئی آیا تھا، کلی تو وہ مفہوم تھا جو زیادہ چیزوں پر بولا جا سکے، البتہ جزئی وہ مفہوم ہے جو زیادہ چیزوں پر نہ بولا جا سکے، یعنی ایک متعین چیز پر صادق آئے، جیسے میں نے مثال ذکر کر دی زید، یا آپ کا ایک ساتھی ہے عبد اللہ، دوسرا ساتھی ہے عبد الرحمن۔ تو یہ سب کیا ہیں؟ یہ جزئی ہیں، یہ کیا ہیں؟ جزئی ہیں، اور یہاں اور شرکت نہیں ہو سکتی یعنی یہ انعام اوروں پر نہیں بولا جا سکتا، ایک ایک متعین پر ہی بولا جائے گا۔
اب بات چل رہی تھی سورج کی۔ تو پھر دہرائیے ذرا، پھر دہرائیے بھئی۔ جزئی کلی کسے کہتے ہیں؟ وہ مفہوم جو کئی چیزوں پر بولا جا سکے، جو زیادہ چیزوں پر بولا جا سکے، اسے کیا کہتے ہیں؟ کلی۔ میں نے آپ سے پوچھا کہ سورج کلی ہے یا جزئی؟ آپ نے کہا تھا جزئی ہے کیونکہ سورج کیا ہے، آپ کے ذہن میں آیا سورج تو ایک ہی ہے، ایک ہی چیز پر بولا جا سکتا ہے، تو آپ نے یاد رکھیے افراد کو نہیں دیکھنا۔ افراد کو نہیں دیکھنا۔ یہ جو باہر آپ کو نظر آتا ہے سورج، یہ یہ کلی ہے یا جزئی ہے، یا کلی اور جزئی وہ ہے جو ذہن میں ہے؟ کلی اور جزئی تو ذہن میں ہوتا ہے، وہ تو مفہوم کا نام ہے۔ یہ جو خارج میں موجود ہے، باہر یہ کیا ہے؟ یہ فرد ہے، یہ کیا ہے؟ فرد ہے۔ اب آپ کے ذہن میں میں نے بتایا سورج مثلاً، سورج کا کیا معنی میں نے بیان کیا؟ وہ آسمان پر روشن، چمکدار، گول جسم جس کے طلوع ہونے سے دن ہو جاتا ہے۔ میں نے یہ تعریف کی، یہ تعریف ذہن میں ہے؟ اب یہ جو ایک سامنے آپ کو نظر آ رہا ہے، یہ کیا ہے؟ آسمان پر چمکنے والا روشن جسم جس کے طلوع ہونے سے دن، یہ تعریف اس پر صادق آ رہی ہے، تو یہ کیا ہے؟ سورج۔ اگر ایسا ہی ایک اور فرد ہوتا، اس وقت تو ایک فرد ہے، لیکن اگر ایسا ہی ایک اور فرد ہوتا، ایسا ہی ایک اور روشن جسم ہوتا، گول، جو چمکدار بھی ہوتا اور اس کے طلوع ہونے سے بھی کیا ہوتا؟ دن، تو اس کو بھی کیا کہتے؟ سورج ہی کہتے، ظاہر سی بات ہے۔ ایک تیسرا ہوتا روشن، چمکدار، گول جسم جو آسمان پر چمک رہا ہے اور اس کے طلوع ہونے سے کیا ہوتا ہے؟ دن، اس کو بھی کیا کہتے؟ سورج کہتے۔ چوتھا ہوتا، اس کو بھی سورج کہتے۔ معلوم ہوا سورج کلی ہے یا جزئی ہے؟ معلوم ہوا سورج کلی ہے، سورج کیا ہے؟ ہاں، البتہ اس کا فرد ایک ہی پایا جاتا ہے۔ انسان کے تو بہت سارے، سینکڑوں، ہزاروں، بلکہ کروڑوں، اربوں افراد ہیں دنیا کے اندر۔ توجہ ہے؟ انسان کے کتنے افراد ہیں دنیا میں؟ اربوں افراد ہیں بھئی، اربوں افراد، چھ، سات، سات ارب یا اس سے بھی زیادہ انسان ہیں دنیا میں، تو یہ سب انسان کے افراد ہیں۔ تو انسان ایسی کلی ہے جس کے اربوں افراد ہیں دنیا میں، اور سورج ایک ایسی کلی ہے جس کا ایک ہی فرد ہے۔ لیکن اگر ایسا ہی ایک اور ہوتا وہ بھی کیا ہوتا؟ سورج۔ اگر ایک تیسرا ہوتا وہ بھی کیا ہوتا؟ سورج۔ تو افراد کلی جو ہے، افراد کے اعتبار سے نہیں آپ نے طے کرنا کہ ایک چیز ایک ہے لہٰذا یہ جزئی، ایک چیز زیادہ ہے تو وہ کیا ہے؟ کلی ہے، بلکہ کلی اور جزئی مفہوم کے اعتبار سے آپ نے غور کرنا ہے کہ یہ مفہوم ایک ہی چیز پر بولا جا سکتا ہے یا ایک سے زیادہ چیزوں پر بولا جا سکتا ہے؟ اس سے آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ کلی ہے یا جزئی ہے۔
دوسری مثال: چاند بھئی، چاند۔ چاند چاند کسے کہتے ہیں؟ رات کے وقت آسمان پر چمکنے والا روشن، گول جسم۔ تو بتائیے، چاند کلی ہے یا جزئی؟ شاباش، یہ کلی ہے۔ اگرچہ فرد ایک ہی ہے، لیکن اگر ایسا ہی ایک اور گول، روشن جسم ہوتا اور رات کو آسمان پر ہمیں نظر آتا، اس کو بھی کیا کہتے؟ چاند ہی کہتے۔ ایک تیسرا ہوتا، اس کو بھی کیا کہتے؟ چاند۔ تو دیکھا، کلی اور جزئی کا پتہ افراد سے نہیں آپ نے لگانا، افراد کو نہیں دیکھنا، آپ نے اس کے معنی اور مفہوم پہ غور کرنا ہے کہ یہ مفہوم زیادہ چیزوں پر بولا جا سکتا ہے یا نہیں بولا جا سکتا؟ یہ تو مثال تھی سورج اور چاند جو جن کا ایک ایک فرد تھا۔ بعض اوقات ہو گی کلی اور اس کا ایک بھی فرد آپ کو نہیں ملے گا۔ مثلاً جیسے اس کی مثال انہوں نے دی ہے حاشیے میں: سونے کا پہاڑ۔ پورا پہاڑ کس کا بنا ہو؟ سونے کا۔ تو سونے کا پہاڑ، یہ کلی ہے یا جزئی، مجھے یہ بتائیے؟ جی؟ ظاہر سی بات ہے، یہ کلی ہے۔ ایک طرف ایک پہاڑ ہوتا سونے کا، اس کو بھی آپ کیا کہتے؟ سونے کا پہاڑ۔ دوسری طرف ایک اور بالکل ویسا ہی ہوتا، اس کو بھی آپ کیا کہتے؟ سونے کا پہاڑ۔ تیسری طرف ایک اور سونے کا پہاڑ ہوتا، اس کو بھی کیا کہتے؟ تو دیکھو سونے کا پہاڑ یہ کلی ہے لیکن خارج میں اس کا ایک بھی فرد نہیں ہے۔ تو آپ نے افراد کو نہیں دیکھنا بلکہ کلی اور جزئی ہونے کا فیصلہ کس کے ذریعے کریں گے؟ مفہوم اور معنی کے ذریعے کریں گے۔
اسی طرح ہے واجب الوجود بھئی، واجب الوجود۔ واجب الوجود اللہ کی ذات ہے بھئی، واجب الوجود۔ دیکھو نام سے ہی پتہ چل رہا ہے، واجب کا معنی ہوتا ہے لازم، ضروری، ضروری۔ واجب الوجود: وہ ذات جس کا ہونا ضروری ہے۔ وہ ذات جس کا ہونا ضروری ہے، جو خود بخود ہو، ہمیشہ سے ہو۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ واجب الوجود: وہ ذات جو ہمیشہ سے ہو، خود بخود ہو اور جس کا ہونا ضروری ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ نہ ہو بھئی، کیونکہ واجب الوجود نہ معنی سے ہی پتہ چل رہا ہے جس کا وجود واجب ہے، لازم ہے، جس کا ہونا ضروری ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ ذات نہ ہو بھئی۔ تو واجب الوجود وہ ذات جس کا ہونا میں نے کیا معنی بیان کیا؟ دہراؤ بھئی زبان سے دہراؤ: واجب الوجود وہ ذات جس کا ہونا ضروری ہے، جو خود بخود ہو اور جو ہمیشہ سے ہو۔ تو واجب الوجود وہ ذات جو ہمیشہ سے ہو، خود بخود ہو اور بھئی باقی چیزیں ہیں نا، باقی چیزوں کو تو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے۔ یہ دنیا کے اندر جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں، یہ سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، میدان، زمین، آسمان، فرشتے، انسان، جنات، حیوانات، ان سب کو کس نے پیدا فرمایا؟ اللہ نے پیدا فرمایا، اور ان چیزوں کا وجود پہلے نہیں تھا، پھر اللہ نے پیدا فرمایا۔ تو یہ جو چیزیں ہیں ان کو کہتے ہیں ممکن الوجود۔ کیا کہتے ہیں؟ ممکن الوجود کہتے ہیں، کہ جن کے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، جن کے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اللہ نے بنا دیں، بنا دیں، اگر اللہ نہ بھی بناتے تو کوئی فرق نہیں پڑنا تھا بھئی۔ تو یہ جو باقی چیزیں ہیں، یہ جو مخلوق ہے ساری، ان کو کیا کہتے ہیں؟ ممکن الوجود، اور جبکہ اللہ کی ذات کیا ہے؟ واجب الوجود۔ تو جو ممکن الوجود ہیں وہ ہیں جن کو جن کا دیکھو دیکھو وہ ہمیشہ سے نہیں ہیں، خود بخود نہیں ہیں بلکہ کس نے پیدا فرمایا؟ اللہ نے پیدا فرمایا، اور ان کا ہونا نہ ہونا کیا ہے؟ برابر ہے یعنی ان کا ہونا ضروری نہیں۔ جب اس کے مقابلے میں واجب الوجود ہے، واجب الوجود اللہ کی ذات ہے جس کا ہونا ضروری ہے، اور جو خود بخود ہے اور جو ہمیشہ سے ہے۔ اللہ کی ذات کا ہونا ضروری ہے، اگر اللہ کی ذات نہ ہو تو یہ باقی چیزیں کہاں سے پیدا ہو گئیں بھئی؟ بہرحال یہ واجب الوجود اور بحث میں تفصیل میں میں نہیں جاتا، وہ آپ اگلی کتابوں میں انشاءاللہ پڑھ لیں گے، بس اتنا یاد رکھیں کہ اللہ کی ذات کے علاوہ باقی جتنی چیزیں ہیں وہ کیا وہ کیا کہلاتی ہیں؟ ممکن الوجود، وہ کیا کہلاتی ہیں؟ ممکن الوجود یا یوں کہیں وہ ممکنات ہیں، وہ کیا ہیں؟ ممکنات، اور اللہ کی ذات کیا ہے؟ واجب الوجود۔ اور واجب الوجود کسے کہتے ہیں؟ جس کا ہونا ضروری ہو، جو خود بخود ہو اور ہمیشہ سے ہو، ہمیشہ سے ہو۔
اب مجھے بتائیے، توجہ سے، واجب الوجود یہ کلی ہے یا جزئی ہے؟ جی؟ مفہوم پہ غور کریں: وہ ذات جس کا ہونا ضروری ہو، وہ ذات جو ہمیشہ سے ہو، وہ ذات جو خود بخود ہو، اپنے وجود میں کسی کی محتاج نہ ہو۔ جی؟ یاد رکھیے یہ کلی ہے، یہ کیا ہے؟ یہ مفہوم کلی ہے۔ ہم تو کہتے ہیں اس کائنات کی خالق ایک ہی ذات ہے، ایک ہی ذات ہے اور وہ اللہ ہیں بھئی اور وہ واجب الوجود ہیں۔ جبکہ اور مذہبوں والوں کو آپ دیکھتے ہیں یا نہیں؟ وہ ایک سے زیادہ خدا مانتے ہیں کہ نہیں مانتے؟ تو دیکھا، اسی واجب الوجود کو انہوں نے کئیوں پر صادق کر دیا کہ یہ بھی واجب الوجود، دوسری چیز یہ بھی واجب الوجود، تیسری چیز یہ بھی کیا ہے؟ واجب الوجود۔ تو معلوم ہوا واجب الوجود کلی ہے جبھی وہ کئی چیزوں پر بول رہے ہیں، کئی ذاتوں پر بول رہے ہیں۔ جو کلی ہے نا کلی، عقل بتلا دیتی ہے کہ یہ کئی چیزوں پر بولا جا سکتا ہے، اور جو جزئی ہوتا ہے عقل ہی بتلا دیتی ہے یہ ایک سے زیادہ چیزوں پر نہیں بولا جا سکتا۔ تو جب وہ ایک سے زیادہ پر بول رہے ہیں، معلوم ہوا عقل کیا بتلا رہی ہے کہ واجب الوجود کیا ہے؟ کلی ہے یا جزئی ہے؟ کلی ہے، جبھی تو وہ ایک سے زیادہ پر اس کو صادق کر رہے ہیں بھئی، ایک سے زیادہ پر بول رہے ہیں۔ تو واجب الوجود کیا ہے؟ کلی ہے۔ تو لہٰذا لہٰذا آپ نے مفہوم پر غور کرنا ہے کہ افراد کو نہیں دیکھنا، افراد کو نہیں دیکھنا۔ تو جیسے یہ واجب الوجود ہمارا عقیدہ کیا؟ واجب الوجود تو ٹھیک ہے کلی ہے، لیکن خارج میں اس کا ایک ہی فرد ہے اور وہ اللہ کی ذات ہے اور ایک سے زیادہ ہو ہی نہیں سکتے۔ ایک سے زیادہ ہو ہی نہیں سکتے، لیکن دوسرے مذہبوں والے مانتے ہیں یا نہیں مانتے؟ معلوم ہوا واجب الوجود کیا ہے؟ کلی ہے، جبھی وہ ایک سے زیادہ مانتے ہیں۔ اگر واجب الوجود کلی نہ ہوتا تو ان کی عقل خود ہی انہیں کہہ دیتی یہ تو ایک سے زیادہ پر بولا ہی نہیں جا سکتا۔
ہاں لفظِ اللہ یہ جزئی ہے۔ یہ اس واجب الوجود ذات کا نام ہے۔ جیسے آپ میں سے کسی کا نام زید، عمر، بکر ہوتا ہے، اسی طرح اس کا وہ ذات جو اس کائنات کو پیدا کرنے والی ہے، اس نظام کو چلانے والی ہے، اس ذات کا نام اللہ ہے بھئی، اللہ۔ اور اللہ کیا ہے؟ جزئی ہے بھئی۔ نام ہو گیا نا، نام، جیسے زید کیا تھا؟ جزئی تھا۔ تو اللہ بھی کیا ہے؟ جزئی ہے بھئی، یہاں شرکت نہیں ہو سکتی۔ اسی لیے کلمۂ توحید کیا ہے؟ لا الہ الا اللہ، کوئی معبود نہیں الا اللہ، سوائے کس کے؟ اللہ کے، اللہ کے۔ لفظِ اللہ ذکر کیا گیا بھئی، کیونکہ اللہ کیا ہے؟ جزئی ہے، اس میں شرکت ہو ہی نہیں سکتی کسی بھی لحاظ سے۔ تو ہر اعتبار سے شرک کا دروازہ بند کر دیا گیا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کلی اور جزئی ہونے کا فیصلہ کس کے ذریعے آپ کریں گے؟ مفہوم میں، کیونکہ کلی اور جزئی مفہوم ہوتے ہیں تو آپ نے مفہوم میں غور کرنا ہے، افراد کو نہیں دیکھنا۔ بعض اوقات کلی کے افراد سینکڑوں، ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں، اربوں تک پہنچے ہوں گے جیسے انسان کے افراد، انسان کی تعداد اربوں میں ہے بھئی۔ اسی طرح مجھے بتائیے بھئی، ستارہ، یہ کیا ہے، کلی ہے یا جزئی؟ کلی ہے، اور ستارے بھی دیکھو آپ دیکھتے ہیں کروڑوں، اربوں بلکہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ بھئی۔ اور بعض اوقات کلی کے افراد تھوڑے سے ہوتے ہیں، جیسے زمینیں سات ہیں، آسمان کیا ہیں؟ سات۔ اب بتائیے، زمین یہ کلی ہے یا جزئی؟ یہ کلی ہے، اور اسی لیے تو کہتے ہیں کہ سات زمینیں ہیں، ایک ہے وہ بھی کیا؟ زمین، دوسری ہے وہ بھی کیا؟ زمین، تیسری ہے وہ بھی کیا؟ زمین، دیکھو کئیوں۔ اسی طرح آسمان بھی سات ہیں تو آسمان بھی کیا ہوا؟ کلی ہوا، پہلا وہ بھی آسمان، دوسرا وہ بھی آسمان، تیسرا وہ بھی آسمان ہے۔ تو دیکھو زمینیں اب پہلی قسم کلی کی کیا تھی جس کے افراد بے شمار ہیں، تعداد کا پتہ ہی نہیں ہے، اللہ ہی جانتے ہیں بھئی، جیسے انسان اور ستارے۔ اور دوسری قسم کلی کی وہ ہے کہ جس کے افراد تھوڑے سے ہوتے ہیں، جیسے سات زمینیں اور سات آسمان۔ تو جو بھی ہیں بہرحال تھوڑے سے ہوں، تعداد کا پتہ ہو تو وہاں افراد تھوڑے ہو گئے، لیکن ہے کلی ہی۔ اور بعض اوقات کلی کا فرد ایک ہی ہوتا ہے اور اور فرد بھی پائے جا سکتے ہیں لیکن ہمیں اور ملے نہیں، جیسے سورج اور چاند۔ سورج اور چاند بھی کیا ہیں؟ کلی ہیں، لیکن کتنے افراد ان کے ہمیں ملے ہیں؟ ایک ایک فرد ملا ہے اور ابھی تک ہم نے کوئی سورج دوسرا دیکھا ہی نہیں اور چاند ہم نے دیکھا ہی نہیں۔ ہاں اور پائے جا سکتے ہیں کہ نہیں پائے جا سکتے؟ اور پائے ممکن ہے یا ناممکن ہے؟ ممکن تو ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ لیکن ملا ہمیں ایک ہی فرد ہے۔ اور ایک وہ کلی ہے کہ جس کا ایک ہی فرد ہے اور فرد پائے ہی نہیں جا سکتے، جیسے واجب الوجود بھئی۔ واجب واجب الوجود بھی کیا ہے؟ کلی، لیکن اس کا ایک ہی فرد ہے اور وہ اللہ کی ذات ہے اور ممکن ہی نہیں بھئی، ممکن ہی نہیں۔ اور اسی طرح بعض اوقات کلی کا ایک بھی فرد نہیں ہمیں ملا ہوتا، لیکن ہے وہ کلی، جیسے میں نے مثال ذکر کر دی، کیا؟ سونے کا پہاڑ۔ اور مثال کوئی بنا لو، کوئی بھی ایسی چیز جس کا وجود نہ ہو، چاندی کا پہاڑ بھئی، چاندی کا پہاڑ، اور کوئی مثال دے دو بھئی، ہیرے کا پہاڑ، اور پہاڑ کو چھوڑ دیں، کوئی اور چیز بول دیں۔ چلیے بہرحال ٹھیک، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کلی اور جزئی کا فیصلہ آپ نے افراد کو دیکھ کر نہیں کرنا بلکہ مفہوم اور معنی پہ غور کرنا ہے کہ یہ مفہوم اور معنی زیادہ چیزوں پر صادق آتا ہے یا نہیں؟ اگر زیادہ پر صادق آ سکتا ہے تو وہ کلی اور اگر زیادہ پر صادق نہیں آ سکتا تو وہ جزئی۔
اب مجھے بتائیے، زید کلی ہے یا جزئی؟ جزئی۔ آپ کے ذہن میں آ سکتا ہے سوال کہ سورج تو ہم نے آپ نے سورج کو کیا بنا دیا؟ کلی۔ آپ نے کہا سورج ہے تو ایک لیکن اگر ایک اور ایسا ہوتا اس کو بھی ہم کیا کہتے؟ سورج۔ ایک تیسرا ہوتا اسے بھی کیا کہتے؟ سورج کہتے۔ تو اس طرح تو زید میں بھی ہو سکتا ہے، ایک ہے زید، ایک اور ہوتا اس کو بھی ہم کیا کہتے؟ بالکل ایسا ہی، اس کو بھی ہم زید کہتے۔ نہیں بھئی نہیں، زید ایک اور ایسا ہوتا تو بھی اس کو پھر زید نہ کہتے۔ آپ خود دیکھتے ہیں یا نہیں؟ جڑواں بھئی دیکھے ہیں؟ جڑواں بھئی، ان کا ان کے کپڑے بھی انہوں نے ایک جیسے پہنے ہوتے ہیں، بال بھی ایک جیسے، چہرہ بھی ایک جیسا، سب کچھ ایک جیسا ہے، لیکن پھر بھی دونوں کے نام کیا ہوتے ہیں؟ الگ الگ ہی ہوتے ہیں بھئی۔ تو وہ الگ الگ، تو یہ زید ایک آدمی کا نام زید ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی اور اس جیسی شکل و صورت، کپڑے، لباس، بالوں، چہرے والا آ جائے آپ اس کو بھی کیا کہیں گے؟ زید، نہیں نہیں، اس کو زید نہیں کہیں گے، اس کا اپنا الگ نام ہو گا۔ تو جیسے دو جڑواں بھئی بالکل ہر اعتبار سے ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن والدین ایک کا نام اگر زید رکھتے ہیں تو دوسرے کا نام عمر وغیرہ کچھ اور رکھتے ہیں، زید ہی نہیں رکھتے اس کا نام بھئی۔ تو جزئی وہ ہے جس کے اندر شرکت نہ ہو سکے۔
اب آئیے بھئی دیکھیے کتاب پر:
سبقِ ہفتم: کلی و جزئی کی بحث
مفہوم یعنی جو شے ذہن میں آتی ہے، دیکھو مفہوم کا معنی کر دیا۔ مفہوم کسے کہتے ہیں؟ جو شے ذہن میں آتی ہے۔ مفہوم یعنی جو شے ذہن میں آتی ہے کی دو قسمیں ہیں: کلی، جزئی۔
کلی وہ مفہوم ہے کہ اس میں شرکت ہو سکے، اس میں کیا ہو سکے؟ بھئی جب وہی مفہوم کئی ایک سے زیادہ پر بولا جا رہا ہے تو شرکت آ گئی کہ نہیں آ گئی؟ ایک کے ساتھ دوسرا بھی شریک، تیسرا بھی شریک، چوتھا بھی شریک، سب میں وہ مفہوم پایا جا رہا ہے۔ تو کلی وہ مفہوم ہے کہ اس میں شرکت ہو سکے یعنی کئی چیزوں پر صادق آئے، صادق آئے یعنی ان پر بولا جائے، کئی چیزوں پر بولا جائے۔ یعنی کئی چیزوں پر صادق آئے جیسے آدمی، آدمی کلی ہے، جزئی ہے؟ کلی ہے، زید بھی آدمی، عمر بھی آدمی، بکر بھی آدمی۔ جیسے آدمی کے زید، عمر، بکر وغیرہ ان سب کو آدمی کہنا صحیح ہے۔
کلی جن چیزوں پر بولی جاتی ہے وہ اس کے جزئیات و افراد کہلاتے ہیں، کیا کہلاتے ہیں؟ جیسے آدمی کے افراد و جزئیات زید، عمر، بکر وغیرہ ہیں، اور حیوان کے جزئیات، بھئی حیوان انسان بھی حیوان ہے، گائے، بیل، بکری، ہاتھی، شیر، چیتا یہ سب بھی کیا ہیں؟ حیوان ہیں۔ تو یہ سب حیوان کے افراد اور حیوان کے جزئیات ہیں بھئی۔ اور حیوان کے جزئیات انسان، بکری، بیل وغیرہ ہیں، یعنی جن جن پر لفظِ حیوان بولا جاتا ہے وہ سب اس کے جزئیات ہیں، اس کے افراد ہیں۔
آگے آ گیا جزئی بھئی، وہ مفہوم ہے کہ اس میں شرکت نہ ہو سکے یعنی ایک شے معین پر صادق آئے، جیسے زید کہ ایک خاص شخص کا نام ہے۔
بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ کلی اور جزئی کا مفہوم اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ ہاں، اب آگے سوالات دیے ہوئے ہیں، وہ بھی حل کر لیتے ہیں۔
سوالات: مندرجہ ذیل اشیاء میں غور کر کے بتاؤ کہ کون کلی ہے اور کون جزئی؟
گھوڑا؟ گھوڑا کیا ہے؟ کلی ہے بھئی۔
بکری؟ یہ بھی کلی ہے بھئی۔
میری بکری؟ یہ جزئی ہے، شاباش، کیونکہ یہ متعین بکری پر بولا جا رہا ہے، ہر بکری کو میری بکری نہیں کہہ سکتے، شاباش۔
زید کا غلام؟ جزئی ہے بھئی، زید کا غلام۔ عمر کا غلام ہو اس کو کہیں گے یہ زید کا غلام ہے؟ میرا غلام ہو اس کو کہیں گے یہ زید کا غلام ہے؟ نہیں، جو صرف زید کا غلام ہے اس پر کیا بولیں گے؟ زید کا غلام، وہ ایک مخصوص غلام جو ہے اسی وہی ہے بھئی۔
سورج، یہ کیا ہے؟ یہ کلی ہے۔
یہ سورج؟ یہ جز اب دیکھو اشارہ ہو گیا، متعین ہو گیا۔ دوسرا سورج ہوا وہ یہ سورج تو نہیں ہو گا نا، وہ تو دوسرا ہو گا، تو یہ سورج کیا ہے؟ یہ جزئی ہے۔
آسمان؟ کلی ہے، شاباش۔ لام مشدد ہے، کلی۔ اچھا آسمان؟ کلی۔
اور یہ آسمان؟ یہ جزئی، متعین آسمان کی طرف اشارہ ہو گیا، اب کوئی اور آسمان ہوا وہ یہ والا تو نہیں ہو گا، وہ تو دوسرا ہو گا، تو یہ آسمان جزئی ہے۔
سفید چادر؟ غور کریں، غور کریں۔ سفید چادر؟ شاباش، کلی ہے، یہ بھی کیا ہے؟ سفید چادر، وہ بھی کیا ہے؟ سفید چادر، وہ ساتھ بھی کیا ہے؟ سفید چادر، ہر ایک پہ بولا جا رہا ہے کہ نہیں؟ مفہوم پہ خود غور کریں۔ اچھا،
سیاہ کرتا؟ سیاہ کرتا، یہ بھی کلی ہے بھئی۔ ایک نے پہنا ہوا ہے سیاہ کرتا وہ بھی سیاہ کرتا، دوسرے نے پہنا ہوا ہے وہ بھی کیا ہے؟ سیاہ کرتا، تو یہ کلی ہے۔
ستارہ؟ یہ بھی کلی ہے، شاباش۔
دیوار؟ یہ بھی کلی ہے۔
یہ مسجد؟ یہ شاباش، متعین مسجد، تو یہ جزئی ہے۔
یہ پانی؟ یہ بھی شاباش، جزئی ہوا۔
میرا قلم؟ یہ بھی کیا ہے؟ جزئی۔ شاباش، شاباش۔
ہاں، اگر میری اوپر پھر آؤ، میری بکری یہ کیا ہے؟ یہ جزئی ہے۔ لیکن اگر میری چار پانچ بکریاں ہیں، پھر یہی میری بکری کیا بن جائے گا؟ کلی، کیونکہ ایک وہ بھی کیا ہے؟ میری بکری، دوسری بھی کیا ہے؟ میری بکری، تیسری بھی کیا ہے؟ میری بکری۔ نام تو نہیں ہے نا، نام میں تو شرکت ہو ہی نہیں سکتی، یہ تو ویسے لفظ ہے لیکن اگر ایک ہی بکری ہے تو وہ کیا ہے؟ جزئی، اور اگر ایک سے زیادہ ہیں تو کلی بن جائے گی۔ اسی طرح زید کا غلام، اگر ایک ہے تو جزئی، اگر ایک سے زیادہ ہو گئے وہ وہ کلی، کیونکہ پھر ہر ایک کو ہم کہہ سکتے ہیں یہ بھی زید کا غلام، یہ بھی زید کا غلام۔ ہاں یہ سورج، یہ آسمان، یہ اسی طرح یہ یہ تو جزئی ہی رہیں گے۔ اچھا، یہ مسجد، یہ پانی یہ بھی جزئی ہی رہیں گے، یہ نہیں بدل سکتے۔ ہاں میرا قلم، یہ کیا ہے؟ جزئی، لیکن اگر میرے پاس کئی قلم ہوئے؟ تو یہ کلی بن جائے گا، کیونکہ ایک پہلا وہ بھی میرا قلم، دوسرا بھی میرا قلم، تیسرا بھی میرا قلم، تو ان سب پر بولا جا رہا ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
اچھا بھئی، شروع سے بھی دو ایک دو چیزیں مختصراً کر لیتے ہیں تاکہ ساتھ ساتھ تکرار چلتا رہے بھئی، اور انشاءاللہ اس طرح اگر ہم چلتے رہے تو سال کے آخر تک آپ بہترین منطقی بن جائیں گے۔ جی، مجھے بتائیے علم کسے کہتے ہیں؟ کسی شے کی جو صورت اور پہچان ہمارے ذہن میں آئے وہ اس چیز کا علم ہے۔ اور پھر آپ نے پڑھا اس علم کی کتنی قسمیں ہیں؟ دو قسمیں ہیں: ایک تصور اور ایک تصدیق بھئی۔ تصور اور تصدیق میں فرق کیا تھا؟ کہ تصدیق میں ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا اثبات ہو گا یا نفی۔ زید کھڑا ہے، یہ کیا ہے؟ تصدیق، یا زید کھڑا نہیں ہے یہ بھی کیا ہے؟ تصدیق۔ یعنی اس میں بات پوری ہو گی۔ تو دیکھو زید کھڑا ہے، زید کے لیے کھڑا ہونا ثابت کیا، اور یا زید کھڑا نہیں ہے اس میں زید سے کھڑے ہونے کی نفی کی، تو تصدیق میں ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا اثبات ہو گا یا دوسری چیز کی نفی ہو گی، جبکہ تصور میں ایسا نہیں ہو گا۔
اور نیز میں نے مزید تفصیل بھی بتلائی تھی کہ تصور کی مختلف صورتیں بن جاتی ہیں بھئی: ایک تو یہ کہ ایک ہی چیز ہو وہ بھی کیا ہے؟ تصور۔ دوسری صورت: کئی چیزیں ہیں لیکن بات پوری نہیں، جیسے زید، عمر، بکر، خالد وغیرہ، یہ بھی کیا ہے؟ تصور ہے۔ تیسری صورت: کہ بات تو پوری ہے لیکن اس میں آپ کو شک ہے، شک ہے، تو وہ بھی کیا ہے؟ تصور ہے، جس میں دونوں جانبیں برابر ہیں بھئی۔ ایک چیز کے مثلاً آپ کہتے ہیں زید آیا ہو گا، دیکھو معلوم ہوا اس کے آنے میں کیا ہے؟ شک ہے، اور شک میں میں نے بتایا تھا کہ دونوں جانبیں برابر ہونی چاہئیں، جتنا خیال آنے کا ہے اتنا ہی خیال نہ آنے کا بھی ہے یعنی پچاس فیصد خیال آنے کا ہے، پچاس فیصد خیال نہ آنے کا ہے تو اس کو کہیں گے شک۔ اور اگر ایک جانب زیادہ خیال ہو تو اس کو ظن کہتے ہیں، مثلاً آنے کا خیال مثلاً ساٹھ یا ستر فیصد ہے اور نہ آنے کا خیال تیس فیصد ہے، تو یہ جو آنے کا خیال ساٹھ اور یا ستر فیصد ہے اس کو کہیں گے ظن، کیونکہ یہ زیادہ ہے۔ اور ظن کس کی قسم ہے؟ تصدیق کی قسم ہے، اور وہ جو تھوڑا خیال ہے یعنی نہ آنے کا، اس کو وہم کہتے ہیں اور وہم کس کی قسم ہے؟ وہ تصور کی قسم ہے۔ اسی طرح اگر بات پوری ہو لیکن جملہ انشائیہ ہو، جملہ کون سا ہو؟ انشائیہ ہو، تو وہ بھی کیا ہے؟ تصور ہے بھئی، تصور ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
جبکہ تصدیق، اس میں ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے اثبات ہوتا ہے اور نیز اس کے ہونے کا یقین ہوتا ہے یا زیادہ خیال ہوتا ہے۔ زیادہ خیال بھی یقین کے قریب ہی ہو گیا نا، یقین تو نہیں لیکن بہرحال یقین کے قریب ہے۔ تو تصدیق کے اندر یقین ہوتا ہے یا زیادہ خیال ہوتا ہے، تو تصدیق کی دو صورتیں ہو گئیں، جبکہ تصور کی کئی صورتیں ہو گئیں۔ یا یوں کہو تصدیق کی گویا ایک ہی صورت ہو گئی کہ جس کے ہونے کا یقین ہو، زیادہ خیال بھی اسی میں آ گیا کیونکہ وہ اس کے قریب ہی ہے بھئی۔ اور پھر آپ نے پڑھا تصور کی دو قسمیں ہیں: ایک تصورِ بدیہی اور ایک تصورِ نظری۔ اسی طرح تصدیق کی بھی دو قسمیں ہیں: ایک تصدیقِ بدیہی اور ایک تصدیقِ نظری۔ بدیہی کسے کہتے ہیں؟ جو خود سمجھ میں آ جائے، غور و فکر کرنے کی ضرورت نہ ہو، اور نظری کسے کہتے ہیں؟ سمجھ میں نہ آئے بلکہ اس میں غور و فکر کرنا پڑے بھئی، غور و فکر کرنا پڑے۔
چلیے بس بھئی، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔