Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تيسير المنطق · dars-014

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Ghais
📍 Location Lahore, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 12
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
تو گزشتہ روز ہم نے مفرد اور مرکب کی بحث شروع کی تھی بھئی، مفرد اور مرکب کی۔ میں نے بتلایا تھا کہ عام علوم کے اندر مفرد ایک چیز کو کہتے ہیں اور مرکب جو ایک سے زیادہ چیزیں ہوں، لیکن علمِ ‏منطق کے اندر ایسا نہیں ہے۔ علمِ منطق کے اندر مفرد اور مرکب کی اور تعریف کی جاتی ہے اور اس میں آپ مرکب کو ‏سمجھ لیں تو مفرد خود بخود سمجھ میں آ جائے گا۔ علمِ منطق میں مرکب اسے کہتے ہیں کہ لفظ جو ہیں ایک سے زیادہ ہوں ‏اور ہر لفظ اپنے معنی پر دلالت کر رہا ہو اور پھر اس دلالت کا ارادہ بھی کیا جائے۔ تو یہ تینوں چیزیں ہوں گی تو مرکب ‏کہلائے گا، اور اگر ان میں سے کوئی ایک چیز بھی کم ہو گئی تو پھر وہ مرکب نہیں کہلائے گا بلکہ مفرد کہلائے گا۔ اور پھر اس کے بعد ہم نے صاحبِ تیسیر المنطق کی جو تعریف تھی مفرد اور مرکب کی وہ بھی پڑھی تھی، اور اس کو ‏بھی میں نے تفصیل سے بیان کیا تھا۔ اور صاحبِ تیسیر المنطق نے مرکب کی کیا تعریف کی؟ کہ اگر لفظ کے جز سے ‏معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ کیا جائے تو وہ مرکب ہے۔ پھر دہراؤ: اگر لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ‏ارادہ کیا جائے تو وہ مرکب ہے، اور اگر ایسا نہ ہو ان میں سے کوئی ایک چیز کم ہو گئی تو پھر وہ کیا کہلائے گا؟ مفرد ‏کہلائے گا بھئی، مفرد کہلائے گا۔ اب دیکھیے، مفرد دوبارہ دیکھ لیجیے بھئی کتاب کے اندر۔ مفرد وہ لفظ ہے کہ اس کے جز سے اس کے معنی کے جز پر ‏دلالت کا قصد نہ ہو، قصد کا کیا معنی؟ ارادہ۔ کہ اس کے لفظ اس کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ نہ ہو، ‏جیسے لفظِ زید کہ اس کے جز سے مثلاً زا سے اس کے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ نہیں بلکہ دلالت ہی نہیں، کیونکہ ‏زا، یا، دال ٹھیک ہے یہ لفظ کے جز تو ہیں لیکن یہ ان کا کوئی معنی ہی نہیں۔ جب معنی ہی نہیں ہے تو معنی پر دلالت بھی ‏نہ ہوئی۔ جب دلالت نہ ہوئی تو ارادہ بھی نہیں ہو سکتا، دلالت ہوتی تو پھر ارادہ ہو سکتا تھا، تو جب دلالت نہیں تو ارادہ ‏بھی نہیں بھئی۔ تو جب دلالت ہی نہیں تو ارادہ بھی نہیں ہو سکتا۔ تو یہی کہہ رہے ہیں کہ اس کے معنی کے جز پر دلالت ‏کا ارادہ نہیں بلکہ دلالت ہی نہیں۔ کیوں نہیں دلالت؟ کیونکہ زا کا کوئی معنی ہی نہیں، یا کا کوئی معنی ہی نہیں، دال کا ‏کوئی معنی ہی نہیں۔ یہ حروف یہ مختلف آوازوں کے لیے مقرر ہیں، یہ مختلف آوازوں کے لیے مقرر ہیں اور ان کا کوئی ‏معنی نہیں ہے، ان کو حروفِ تہجی کہتے ہیں۔ تو کوئی لفظ آپ نے لکھنا ہو تو ان کی مدد سے لکھا جاتا ہے مختلف آوازوں ‏کو۔ مثلاً میں نے کہا زید، تو آپ نے غور کیا زید، شروع میں زا کی آواز ہے، پھر یا ہے، پھر دال ہے، تو ان تینوں کے ‏لیے ہم نے کیا کیا مقرر کیے ہیں؟ زا، یا اور دال، تو ان کو آپ نے لکھ لیا۔ چنانچہ آپ دیکھتے ہیں بعض اوقات کوئی ‏ساتھی نیا لفظ بولتا ہے جو آپ نے پہلے کہیں لکھا ہوا نہیں دیکھا لیکن آپ اس کے منہ سے لفظ سن کر اس کو لکھ لیتے ‏ہیں۔ لکھ لیتے ہیں یا نہیں لکھ لیتے؟ کس طرح لکھتے ہیں آپ؟ وہ جو تلفظ کر رہا ہے، وہ جو زبان سے اس کی آوازیں ‏نکل رہی ہیں ان آوازوں کے اعتبار سے آپ وہ حروف جوڑتے چلے جاتے ہیں اور پھر وہ نام لکھ لیتے ہیں۔ تو یہ جو ‏حروفِ تہجی ہیں یہ مختلف آوازوں کے لیے ہیں، تو ان کا معنی نہیں ہوتا۔ تو اس طرح زید کے اندر بھی زا، یا، دال ہیں، ‏ان کا کوئی معنی نہیں۔ جب معنی نہیں تو لفظ کا جز تو ہے لیکن وہ جز معنی دار نہیں۔ تو جب معنی دار نہیں تو لفظ کے جز ‏کی دلالت معنی کے جز پر نہ ہوئی۔ جب دلالت نہ ہوئی تو ارادہ بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ ارادہ تو وہیں ہو گا جہاں کوئی ‏لفظ کا جز کیا ہو؟ معنی دار ہو بھئی۔ پھر انہوں نے آگے آپ کو بتلایا کہ مفرد کی چار قسمیں ہیں، چار قسمیں ہیں۔ اول: اس لفظ کا جز نہ ہو، لفظ کا سرے سے ‏جز ہی نہیں ہے، جیسے لفظِ ’کہ‘ اردو میں، لفظِ ’کہ‘۔ اب ’کہ‘ میں آپ دیکھیں تو آپ کو کاف اور ہا دو نظر آئیں گے، دو ‏حروف۔ تو آپ کہیں گے جز تو ہے، تو محشی حضرات نیچے لکھتے ہیں کہ ’کہ‘ کے اندر اصل یہ کاف ہے، کاف، اور یہ ‏جو ہ ساتھ ملی ہوئی ہے یہ کسرہ ظاہر کرنے کے لیے ہے، کیا ظاہر کرنے کے لیے؟ کسرہ ظاہر کرنے کے لیے۔ یہ ہ ‏جو ساتھ ملی ہوئی ہے یہ کس لیے ہے؟ کسرہ ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ اگر یہ کاف کے ساتھ ہ نہ ہوتی تو ہم اس کو ‏پڑھتے کَ یا کْ، لیکن اب جب ہ ساتھ ملی ہوئی ہے تو اب ہم اس کو کیا پڑھتے ہیں؟ کِہ۔ تو گویا یہ جو ہا ساتھ ملائی گئی ‏یہ کس لیے ہے؟ کسرہ ظاہر کرنے کے لیے کہ اس کاف کے نیچے کسرہ پڑھنا ہے: کہ۔ تو کاف ایک ہی حرف ہوا تو یہ ‏ایسا لفظ ہے جس کا جز ہی نہیں، جب جز ہی نہیں تو یہ کیا ہوا؟ یہ مفرد ہو گیا بھئی۔ تو لفظ کا جز ہی نہیں، جب لفظ کا جز ‏ہی نہیں تو پھر یہ مرکب بھی نہ ہوا کیونکہ مرکب میں کیا ضروری تھا؟ لفظ کا کیا ہونا چاہیے؟ جز ہونا چاہیے بھئی، جز ‏ہونا۔ اچھا وہ جو کل میں نے مثال ذکر کی تھی لفظ کے جز، وہ سمجھ میں آ گئی تھی مثال وہ جو کاغذ پر میں نے لکھوائی تھی؟ ‏رمضان کا مہینہ۔ تو دیکھا لفظ کیا تھا؟ رمضان کا مہینہ، اور اس کے جز کتنے تھے؟ تین جز تھے: رمضان ایک جز، کا ‏ایک جز اور مہینہ تیسرا جز۔ اور پھر معنی بھی معنی میں بھی کتنے جز تھے؟ تین۔ تو لفظ کا جز کس پر دلالت کر رہا ‏تھا؟ معنی کے جز پر، اور اس معنی کا آپ نے ارادہ بھی کیا۔ تو اول یہ کہ اب دیکھیے کتاب پر: مفرد کی چار قسمیں ہیں، ‏اول: اس لفظ کا جز نہ ہو جیسے لفظِ ’کہ‘ اردو میں۔ میں نے اس کی دوسری مثال ذکر کی تھی، عربی میں کیا مثال ہے؟ وہ ‏جو ہمزہ ہے، ہمزہ، ہمزہ ندا کسی کو آواز دینے کے لیے آتا ہے جیسے آپ کہتے ہیں یا زیدُ، اسی طرح آپ کیا کہتے ہیں ‏عربی میں؟ اَزیدُ، اَزیدُ، تو شروع میں کیا ہے؟ ہمزہ۔ تو دیکھو یہ جو ہمزہ ہے صرف اس کی بات کر رہا ہوں، اَ، یہ ہمزہ، ‏اس کا کوئی جز ہے؟ نہیں، جب جز ہی نہیں ہے تو لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ ہو ہی نہیں سکتا، تو ‏پھر یہ کیا ہوا؟ مفرد ہو گیا، تو اسی طرح ’کہ‘ بھی کیا ہے؟ مفرد ہے۔ دوم: لفظ کا جز ہو مگر وہ معنی دار نہ ہو، جیسے انسان کہ الف اور نون اور سین کے کچھ معنی نہیں۔ وہی مثال جو میں ‏نے ابھی ذکر کی: زید، زید لفظ ہے۔ اس لفظ کے جز ہیں: زا، یا، دال، لیکن ان کا کوئی معنی ہے؟ نہیں، جب معنی نہیں تو ‏لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ بھی نہیں ہو سکتا، تو یہ کیا ہوا؟ مفرد۔ اسی طرح ہر لفظ میں ہے، جیسے ‏اب ذکر کر رہے ہیں انسان۔ انسان انسان کے جز ہیں؟ جی کیا؟ الف، نون، سین، الف، نون، لیکن یہ سب حروفِ تہجی ہیں تو ‏ان کا کوئی معنی نہیں ہے۔ جب معنی نہیں ہے تو لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ بھی نہیں ہو سکتا۔ معنی ‏ہوتا تو ارادہ بھی بعد کی بات تھی، یہاں تو معنی ہی نہیں ہے، تو لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ بھی نہیں ‏ہو سکتا۔ جب نہیں ہو سکتا تو لفظِ انسان بھی کیا ہے؟ مفرد ہے، کیا ہے؟ مفرد ہے۔ اور مثال لے لو، مثلاً میں نے کہا ‏درخت، درخت یہ لفظ ہے۔ اس لفظ کے جز ہیں؟ کیا کیا؟ دال، را، خا اور تا۔ اچھا اور یہ معنی دار ہیں؟ دال، را، خا، ان کا ‏کوئی معنی ہے؟ نہیں، ان کا کوئی معنی نہیں، یہ حروفِ تہجی ہیں، تو جب لفظ کے لفظ کے جز تو ہیں لیکن ان کا معنی ‏نہیں، تو لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت ہو سکتی ہے؟ کیونکہ معنی کا جز ہی نہیں ہے۔ معنی کا جز ہوتا تو پھر ‏اس پر دلالت کا بھی ارادہ ہو سکتا تھا، ارادہ تو بعد میں آئے گا نا، پہلے معنی کا کیا ہونا چاہیے؟ جز ہونا چاہیے، اور تو ‏درخت میں دال، را، خا، تا کیا ان کے جز ہے؟ معنی کا کوئی جز ہے؟ جب معنی کا جز نہیں تو یہ مرکب ہو ہی نہیں سکتا، ‏یہ بھی کیا ہے؟ مفرد ہے۔ اور کوئی مثال لے لو: کتاب۔ کتاب لفظ ہے، اس لفظ کے کتنے جز؟ چار: کاف، تا، الف، با۔ اور ‏یہ کوئی معنی دار ہیں؟ نہیں، یہ تو کیا ہیں؟ حروفِ تہجی۔ اور جب حروفِ تہجی ہیں تو ان کا معنی کوئی نہیں۔ تو لفظ کے ‏تو جز ہوئے لیکن معنی کا کوئی جز نہیں، جب معنی کا جز نہیں تو لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ نہیں ‏ہو سکتا۔ بات بھی سمجھ میں آ رہی ہے کہ سب خاموش ہو جاتے ہیں؟ جی؟ جب معنی کا جز ہی نہیں ہے تو معنی کے جز ‏پر دلالت کا ارادہ ہو سکتا ہے؟ نہیں، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: دوم: لفظ کا جز ہو مگر وہ معنی دار نہ ‏ہو، جیسے انسان کے الف اور نون اور سین کے کچھ معنی نہیں۔ سوم: لفظ کا جز ہو، تیسری قسم آ گئی مفرد کی، لفظ کا جز ہو اور معنی دار بھی ہو لیکن جو معنی تم کو مقصود ہیں ان پر ‏دلالت نہ کرتا ہو۔ بھئی دیکھیے، میں نے مثال ذکر کی تھی عبد اللہ، عبد اللہ۔ مثلاً آپ کا نام کچھ اور ہے اور کوئی آدمی آیا ‏وہ آپ سے آپ کا نام پوچھ رہا ہے، اب آپ اس کو نام نہیں بتانا چاہتے تو آپ اس کو کہتے ہیں انا عبد اللہ، کیا معنی؟ میں ‏اللہ کا بندہ ہوں۔ تو آپ نے عبد اللہ کا معنی کا ارادہ کیا اور وہ تو سمجھا شاید عبد اللہ آپ کا نام ہے، آپ کا نام ہے۔ اور یہ ‏ایک صورت، تو یہاں پر دیکھو عبد عبد اللہ میں کتنے لفظ ہیں؟ دو، ایک لفظِ عبد ہے، ایک لفظِ اللہ ہے۔ عبد کا معنی ہے ‏بندہ، غلام، غلام، اور لفظِ اللہ یہ نام ہے خالقِ ارض و سما کا، زمین اور آسمان کو پیدا کرنے والی جو ذات ہے اس کا نام ‏ہے، اس کا نام ہے۔ تو دیکھو لفظ لفظ کے دو جز اور ہر جز کا معنی ہے، ہر جز کا معنی ہے، اور آپ نے جب بولا تو ہر ‏جز سے اس کے معنی کا ارادہ کیا یا نہیں کیا؟ آپ نے بھی اس کا یہی ارادہ کیا، آپ کا نام تو کچھ اور تھا، آپ نے کیا کہا؟ ‏انا عبد اللہ، تو آپ نے عبد سے بندے والا معنی کیا اور لفظِ اللہ سے آپ نے ذاتِ باری تعالیٰ کا ارادہ کیا کہ میں اللہ کا بندہ ‏ہوں۔ تو دیکھو لفظ کا جز کس پر دلالت کر رہا ہے؟ معنی کے جز پر دلالت کر رہا ہے اور آپ نے اس کا ارادہ بھی کیا ‏ہے، تو یہ کیا ہوا؟ مرکب ہوا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کہ نہیں سمجھ میں آئی؟ جی، نہیں سمجھ میں آئی میرا خیال۔ پھر ‏وہی دائرے بناؤ، کاغذ نکالو جلدی کرو۔ جی جلدی کرو، جلدی بھئی۔ جی لکھیں عبد اللہ لکھیں، لیکن عبد اور لفظِ اللہ میں ‏تھوڑا سا فاصلہ کر دو۔ عبد اور اللہ میں تھوڑا سا فاصلہ کر دو، اور دونوں کے گرد ایک ایک دائرہ بنا دو، اور پھر اس ‏سارے کے گرد بھی ایک بڑا دائرہ بنا دو۔ یہ بڑا دائرہ کیا بتلا رہا ہے؟ یہ سارا لفظ ہے، یہ کیا ہے؟ اور اس لفظ کے کتنے ‏جز؟ دو جز، ایک جز کیا؟ عبد، اور دوسرا جز لفظِ اللہ۔ اچھا جی، اب نیچے لکھو عبد کے نیچے تھوڑا سا فاصلہ دے کے ‏بندہ، بندہ، لکھ لیا بندہ؟ اس کے گرد دائرہ لگاؤ۔ پھر آگے تھوڑے سے فاصلے پر لکھو خالقِ ارض و سما، یا یہ لکھ لو ‏زمین اور آسمان کا خالق، یا لکھ لو ہر چیز کا پیدا کرنے والا، جو بھی آپ کو مناسب لگے، ہر چیز کو پیدا کرنے والا۔ ‏خالقِ ارض و سما اگر مشکل لگ رہا ہے تو اردو میں لکھ لیں: ہر چیز کو پیدا کرنے والا۔ اس کے گرد بھی دائرہ بنا دیں، ‏ہر چیز کو پیدا کرنے والا، لکھ لیا؟ اس کے گرد بھی دائرہ لگا دیں، اس کے گرد دائرہ لگا دیں۔ جی، یہ کیا ہے؟ معنی کے ‏دو جز ہو گئے اور پھر اس سارے کے گرد ایک بڑا دائرہ لگاؤ، یہ دونوں کے گرد دونوں کے گرد معنی کے۔ اب مجھے ‏بتائیے لفظ کا جز ہے؟ وہ لفظ کیا ہے اوپر؟ عبد اللہ، اس میں جز ہیں؟ جی دو جز ہیں، اور نیچے معنی میں بھی جز ہیں؟ ‏کتنے جز ہیں؟ دو جز ہیں۔ اور جب آپ نے کہا آپ کا نام کچھ اور، اور آپ نے کہا انا عبد اللہ، تو کیا معنی تھا؟ میں عبد اللہ ‏ہوں، یا آپ کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں؟ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ آپ کا نام کچھ اور ہے، اگر آپ کہتے ہیں ‏میں عبد اللہ ہوں پھر تو آپ جھوٹ بول رہے ہیں، آپ کا نام تو عبد اللہ نہیں ہے۔ ہاں میں جھوٹ کی بات نہیں کر رہا، سچ، ‏اگر آپ حقیقت اپنا نام بھی چھپا رہے ہیں اور جھوٹ سے بھی بچ رہے ہیں، آپ نے کیا کہا؟ انا عبد اللہ، میں اللہ کا بندہ ہوں۔ ‏آپ نے معنی کا ارادہ کیا، وہ سننے والا سمجھا شاید آپ عبد اللہ ہیں، وہ معنی کی طرف اس کا ذہن نہیں گیا۔ تو دیکھا آپ ‏نے طریقے سے اپنا نام بھی اس سے چھپا لیا اور وہ سمجھا شاید اس نے مجھے اپنا نام بتا دیا ہے۔ تو اس کو توریہ کہتے ‏ہیں، آپ پڑھیں گے بھئی، ایک لفظ کے دو معنی بنتے ہوں اور آپ ایک معنی کا ارادہ کریں، سننے والا دوسرا معنی ‏سمجھے۔ تو آپ نے کیا کہا؟ انا عبد اللہ۔ اب اس میں دیکھو عبد اللہ کیا ہے؟ لفظ، اور اس لفظ کے کیا ہیں؟ جز، اور اس کے ‏معنی کے بھی کیا ہیں؟ جز، اور آپ نے لفظ کے جز سے کیا کیا؟ معنی کے جز کا ارادہ کیا، تو لفظ کا جز معنی کے جز ‏پر دلالت کر رہا ہے اور آپ نے بھی اس کا ارادہ کیا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں، تو یہ کیا ہوا؟ مرکب ہوا۔ لیکن اگر یہی عبد اللہ کسی کا نام ہو، کیا ہو؟ نام ہو، تو یاد رکھیے نام کے اندر معنی ملحوظ نہیں ہوتا۔ آپ سب کے نام ہیں ‏اور ہر نام کا کچھ معنی ہے یا نہیں؟ لیکن جب آپ کو کوئی آواز دیتا ہے تو اس کا ذہن معنی کی طرف جاتا ہے؟ نہیں، ‏معنی کی طرف کسی کا ذہن نہیں جاتا، اس کا ذہن صرف اس بات کی طرف جاتا ہے کہ یہ آپ کا نام ہے بھئی۔ معنی کیا ‏ہے اس کو پتہ ہی نہیں ہوتا، تو لہٰذا نام کے اندر معنی کی رعایت ملحوظ نہیں، یا یوں کہو نام کے اندر معنی ملحوظ نہیں ‏ہوتا، معنی کا ارادہ نہیں ہوتا، یوں کہو، نام کے اندر معنی کا ارادہ نہیں ہوتا۔ تو لہٰذا آپ کا ایک ساتھی ہے اس کا نام ہے ‏عبد اللہ، اس کا نام کیا ہے؟ عبد اللہ۔ اب بتائیے، لفظ کیا ہے؟ عبد اللہ، کتنے جز؟ دو جز ہیں۔ اب آپ سے کوئی پوچھے اس ‏کا معنی کیا ہے؟ تو آپ کہیں گے وہ جو میرا فلاں دوست ہے وہ، وہ مراد ہے اس سے۔ کون مراد ہے؟ وہ جو فلاں دوست۔ ‏یہاں وہ دوسرا یہ والا معنی نہیں مراد: اللہ کا۔ جب آپ اس کو بلاتے ہیں عبد اللہ ادھر آؤ، آپ کے کہنے کا کیا مطلب ہوتا ‏ہے؟ اللہ کے بندے ادھر آؤ، یا معنی کا ارادہ نہیں ہوتا؟ معنی کا ارادہ نہیں، وہ اس گویا اس ذات کا نام ہے، آپ اس ذات کو ‏بلا رہے ہیں کہ فلاں ذات فلاں آدمی ادھر آؤ۔ تو لہٰذا اب یہاں پر لفظ کا جز تو ہے لیکن معنی کا جز نہیں، معنی کا؟ معنی ‏کیا ہے؟ وہ صرف اس کی ذات مراد ہے۔ تو یہی عبد اللہ جب اس کے اندر معنی کا ارادہ کریں تو یہ کیا بن جائے گا؟ ‏مرکب بن جائے گا، اور اس سے اب یہی عبد اللہ جب کسی کا نام ہو تو پھر کیا ہو گا؟ مفرد ہو گا، کیونکہ وہاں لفظ کا جز ‏تو ہے لیکن معنی کا جز نہیں، تو جب معنی کا جز نہیں تو لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت بھی نہیں ہو سکتی ‏کیونکہ معنی کا تو جز ہی نہیں ہے۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی؟ یہی بات بیان کر رہے ہیں، کتاب پر دیکھیے: سوم: لفظ کا جز ہو اور معنی دار بھی ہو، لیکن جو معنی تم کو مقصود ہیں ‏یعنی جن کا آپ نے ارادہ کیا ہے ان پر دلالت نہ کرتا ہو، جیسے لفظِ عبد اللہ۔ پھر تعریف دیکھو عبد اللہ، پیچھے پھر پڑھو، ‏لفظ کا جز ہے یا نہیں؟ لفظ کا جز ہے۔ سوم: لفظ کا جز ہو اور معنی دار بھی ہو، اور ان کا معنی بھی ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟ ‏ہوتا ہے، لیکن جس لیکن جب نام ہے تو جو معنی تم کو جو معنی تم کو مقصود ہیں ان پر دلالت نہ کرتا ہو، ان پر دلالت نہ ‏کرتا ہو، جیسے لفظِ عبد اللہ کسی کا نام ہو تو عبد اور لفظِ اللہ اس کے معنی دار جز ہیں یعنی ان کا معنی ہے، لیکن جس ‏شخص کا یہ نام ہے اس کے جز پر دلالت نہیں کرتے۔ انسان کے دو جز ہیں، کیا جز؟ انسان کس کو کہتے ہیں؟ حیوانِ ‏ناطق، تو انسان کے دو جز: ایک حیوان اور ایک ناطق۔ تو لہٰذا جو آپ کا دوست ہے جس کا نام عبد اللہ ہے، توجہ ہے؟ آپ ‏کا دوست ہے جس کا نام کیا ہے؟ عبد اللہ، جب وہ انسان ہے تو اس کے بھی کتنے جز ہوئے؟ دو جز: ایک حیوان اور ایک ‏ناطق۔ تو جب آپ نے اس کو کہا عبد اللہ، تو عبد اللہ سے وہ ذات مراد ہوئی وہ آپ کا دوست، تو اب لفظ عبد اللہ کے بھی ‏کتنے جز؟ دو جز، اور وہ جو ذات ہے اس کے بھی کتنے جز؟ دو جز، کون سے؟ حیوانِ ناطق۔ تو اس کے جز لفظ کے جز ‏ان کا معنی اور ہے اور وہ جو جس کو بلا رہے ہیں اس کے جز اور ہیں، تو کیا لفظ کے جز معنی کے جز پر دلالت کر ‏رہے ہیں؟ کیا عبد اللہ سے حیوانِ ناطق سمجھ میں آ رہا ہے آپ کو؟ نہیں، حیوانِ ناطق سمجھ میں نہیں، تو بات سمجھ میں آ ‏رہی ہے؟ پھر سنو، یہ جس انداز میں بیان کر رہے ہیں، بات آپ کو سمجھ میں آ چکی ہے، جس طرح یہ صاحبِ کتاب بیان ‏کر رہے ہیں وہ بھی سمجھ لیں۔ عبد اللہ کتنے لفظ ہیں؟ یہ لفظ کے کتنے جز؟ دو جز ہیں۔ اور جس ساتھی کا آپ کا نام ہے ‏عبد اللہ اس کے بھی کتنے جز؟ دو جز، کون سے؟ حیوانِ ناطق، وہ انسان ہے نا تو اس کے دو جز کیا ہوئے؟ حیوانِ ناطق۔ ‏تو معنی کے بھی جز ہیں اور لفظ کا بھی یہاں پر کیا ہے؟ جز ہے، لیکن کیا لفظ کا جز معنی کے جز پہ دلالت کر رہا ہے؟ ‏کیا عبد سے حیوان یا ناطق مراد ہو سکتا ہے؟ نہیں۔ تو لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت نہیں کر رہا، آپ نے اس کا ارادہ ‏نہیں کیا نہ وہ بنتا ہے اس کا معنی، تو لہٰذا یہ بھی کیا ہوا؟ عبد اللہ بھی کیا ہو گیا یہاں پر؟ مفرد ہو گیا۔ تو اسی عبد اللہ سے ‏اگر آپ ارادہ کریں اس کے اصل لغوی معنی کا، اللہ کا بندہ، تو پھر یہ کیا بن جائے گا؟ مرکب، اور اس سے اگر آپ کسی ‏کا نام رکھیں تو پھر یہ کیا بن جائے گا؟ مفرد۔ پھر دوبارہ دیکھ لیں: سوم: لفظ کا جز ہو اور معنی دار بھی ہو، دیکھو لفظ کا بھی جز ہے عبد اور اللہ، اور معنی بھی ہے، ‏لیکن جو معنی تم کو مقصود ہیں یعنی جس کا آپ ارادہ کر رہے ہیں ان پر دلالت نہیں کرتا، یعنی آپ نے تو اس ساتھی کا ‏ارادہ کیا ہے، اس کے جز پر یہ دلالت نہیں کرتا۔ یرحمک اللہ۔ جیسے لفظِ عبد اللہ کسی کا نام ہو، تو عبد اور اللہ اس کے ‏معنی دار جز ہیں، لیکن جس شخص کا یہ نام ہے اس کے جز پر دلالت نہیں کرتے۔ اس کے جز تو کیا ہیں؟ حیوان اور ‏ناطق، تو یہ اس کے جز پر دلالت، تو لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت نہیں، لفظ کا بھی جز ہے، معنی کا بھی جز ہے، ‏لیکن لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت نہیں کر رہا۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟ چہارم: لفظ کے جز معنی دار ہیں، معنی دار ہوں اور جو معنی تم کو مقصود ہیں۔ اچھا بھئی، چوتھی قسم آ گئی مفرد کی۔ ‏پہلی قسم کیا تھی؟ لفظ کا جز ہی نہ ہو۔ دوسری صورت کیا تھی؟ لفظ کا جز تو ہو لیکن معنی دار نہ ہو۔ تیسری صورت: لفظ ‏کا بھی جز ہے، معنی کا بھی جز ہے، لیکن جس معنی کا آپ ارادہ کر رہے ہیں اس پر وہ دلالت نہیں کر رہا۔ صورت ‏سمجھ میں، چوتھی صورت آ گئی: لفظ کا بھی جز ہو، معنی کا بھی جز ہو اور لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت بھی کر ‏رہا ہے لیکن آپ اس کا ارادہ نہیں کرتے۔ توجہ سے سن لو، لفظ کا بھی کیا ہو؟ جز ہو، معنی کا بھی کیا ہو؟ جز ہو، لفظ کا ‏جز معنی کے جز پر دلالت بھی کر رہا ہے لیکن آپ اس کا ارادہ نہیں کرتے، تو پھر یہ بھی کیا ہو گا؟ مفرد۔ مثلاً آپ کا ‏ایک ساتھی ہے، اس کا نام ہی آپ لوگوں نے مل کر حیوانِ ناطق رکھ دیا، ایک ساتھی کا نام ہی کیا رکھ دیا؟ حیوانِ ناطق۔ ‏اور جب حیوانِ ناطق رکھا تو نام کے اندر معنی کی رعایت ہوتی ہے؟ اب جب آپ اس کو حیوانِ ناطق کہہ کر بلائیں گے ‏تو کیا معنی مراد ہو گا؟ نہیں، معنی نہیں کیونکہ اب کیا بن چکا؟ نام بن چکا، کیا بن چکا؟ نام۔ نام کے اندر معنی کا ارادہ ‏ہوتا ہے؟ آپ سب کے ناموں کا معنی ہے یا نہیں کہ بے معنی ہیں؟ سب کا معنی ہے، لیکن جب آپ کو گھر والے یا کوئی ‏بھی بلاتا ہے کیا وہ معنی کا ارادہ کرتا ہے؟ نہیں، بلکہ معنی کا پتہ ہی نہیں ہوتا اکثر لوگوں کو، تو نام کے اندر معنی کا ‏ارادہ نہیں ہوتا۔ لہٰذا جب آپ کے ساتھی کا نام کیا رکھا؟ حیوانِ ناطق، تو اب جب آپ اس کو بلائیں گے: اے حیوانِ ناطق ‏ادھر آؤ، تو کیا حیوانِ ناطق میں معنی کا ارادہ ہو گا؟ نہیں، کیونکہ نام کے اندر معنی کا ارادہ نہیں، یہاں تک بات سمجھ ‏میں آ گئی؟ اب دیکھو، نام کیا؟ حیوانِ ناطق، اور کس کا نام ہے؟ آپ کے ایک ساتھی کا، وہ کیا ہے؟ انسان، اور انسان کیا ‏ہوتا ہے؟ حیوانِ ناطق ہی ہوتا ہے۔ تو نام کیا؟ حیوانِ ناطق، یعنی لفظ کیا؟ حیوانِ ناطق۔ لفظ کے جز ہیں؟ جی کیا؟ حیوان ‏اور ناطق، اور معنی کیا؟ وہ ذات، وہ ساتھی آپ کا، اور وہ اس کے بھی کتنے جز؟ دو جز: حیوان اور ناطق، اور یہ والا ‏حیوانِ ناطق اس حیوانِ ناطق، ایک ایک جز پہ دلالت کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ کر سکتا ہے۔ حیوان سے حیوان والا ‏معنی مراد لو، ناطق سے دلالت بھی کر سکتا ہے، لیکن آپ نے ارادہ کیا؟ آپ نے ارادہ نہیں کیا، جب ارادہ نہیں کیا تو پھر ‏یہ مرکب نہیں بلکہ کیا ہے؟ مفرد ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لفظ کا بھی جز، معنی کا بھی جز، اور لفظ کا جز معنی کے ‏جز پر دلالت بھی کر رہا ہے لیکن آپ نے اس کا ارادہ نہیں کیا، لہٰذا حیوانِ ناطق کیا ہوا؟ مفرد ہوا۔ اچھی طرح بات سمجھ ‏میں آ گئی بھئی؟ ہاں یہ ہے منطق بھئی، منطق بڑا پرلطف فن ہے بشرطیکہ آپ اچھی طرح سیکھ جائیں بھئی، اور اس ‏سے ذہن تیز ہوتا ہے کیونکہ اس میں گہری باتیں ہیں اور اس میں عام باتیں ہوتی ہیں، وہی باتیں جو ہماری عقل میں آتی ‏ہیں، ذہن میں آتی ہیں، ہم سوچتے ہیں، بولتے ہیں، کہتے ہیں، انہی باتوں کو علمی رنگ دے دیا ہے، انہی باتوں کو علمی ‏رنگ۔ جی اب دیکھیے کتاب پر: چہارم: لفظ کے جز معنی دار ہوں، لفظ کے جز اور جو معنی تم کو مقصود ہیں اس کے اجزا پر ‏بھی دلالت کریں، لیکن اس دلالت کا تم نے ارادہ نہیں کیا، جیسے حیوانِ ناطق کسی شخص کا نام رکھ دیں، تو معنی مقصود ‏کے اجزا پر اس کے جز دلالت کرتے ہیں، اس لفظ کے جز کیا ہیں؟ معنی مقصود کے اجزا پر دلالت کر رہے ہیں، مگر نام ‏رکھنے کی حالت میں تم کو یہ دلالت مراد نہیں ہے، یعنی تم نے اس کا ارادہ نہیں کیا کیونکہ نام کے اندر معنی کا ارادہ ‏نہیں ہوتا۔ یہ تھی مفرد کی چار قسمیں۔ پھر دہراؤ، مفرد کی چار قسمیں کیا؟ اول یہ کہ لفظ کا جز ہی نہ ہو۔ دوسری صورت: ‏جز ہو لیکن معنی دار نہ ہو۔ تیسری صورت: لفظ کا جز ہو لیکن معنی کے جز پر وہ دلالت نہ کرے۔ اور چوتھی صورت: ‏لفظ کا جز معنی کے جز پر دلالت کرے لیکن اس کا آپ ارادہ نہ کریں، یہ چار صورتیں آ گئیں بھئی۔ آگے مرکب بھئی، مرکب وہ لفظ ہے کہ اس کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ کیا جائے، جیسے زید کھڑا ہے۔ ‏دیکھا، زید کھڑا ہے تین لفظ ہیں، اور تینوں سے وہی معنی ہر ایک کا اپنا معنی مراد ہے۔ زید سے کون مراد؟ زید کی ذات ‏مراد، اور کھڑے ہونے سے کیا مراد ہے؟ کہ وہ کھڑا ہوا ہے، بیٹھا ہوا نہیں ہے، اور ’ہے‘ کہ پوری بات جملہ ہے، تو ‏دیکھو ہر لفظ کیا کر رہا ہے؟ اپنے اپنے معنی پر دلالت کر رہا ہے، اور آپ نے اس کا ارادہ بھی کیا ہے یا نہیں کیا؟ ارادہ ‏بھی، کسی کا نام تو نہیں ہے نا؟ یہ نام ہو تو پھر تو معنی نہیں رہا مراد ہوتا لیکن عام کلام ہے تو اس میں معنی کا ارادہ ‏ہے۔ تو جیسے زید کھڑا ہے کہ یہ ایسا لفظ ہے کہ اس کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ کیا گیا ہے۔ آگے دیکھیے سوالات ہیں بھئی۔ اب بتائیے بھئی، ان مثالوں میں بتاؤ کہ کون سا لفظ مفرد ہے، کون سا مرکب؟ احمد؟ شاباش، مفرد ہے۔ کیا لفظ کا جز ہے؟ جز ہے: الف، ح، م، د، لیکن معنی دار نہیں، تو یہ مفرد ہوا۔ مظفر نگر؟ یہ بھی مفرد کیونکہ شہر کا نام ہے، اور نام کے اندر معنی کا ارادہ نہیں ہوتا۔ اسلام آباد؟ یہ بھی مفرد کیونکہ یہ بھی شہر کا نام ہے اگرچہ لفظ کے جز ہیں۔ عبد الرحمن؟ جی، بولو بھئی۔ کیا معنی؟ ہاں، بولیے بھئی۔ آپ کیا کہتے ہیں، عبد الرحمن مفرد ہے، مرکب ہے؟ آپ کیا ‏کہتے ہیں؟ مرکب ہے، آپ کیا کہتے ہیں؟ جی، مرکب ہے، جی؟ مفرد ہے، جی؟ جی، آپ کیا کہتے ہیں؟ جی؟ مرکب ہے، ‏اچھا مرکب کیوں ہے، وجہ بتاؤ؟ عبد الرحمن کا معنی ہے رحمن کا بندہ، تو یہ کیا ہوا؟ مرکب۔ آپ نے کہا مفرد، مفرد کیوں ‏ہے؟ جی، مفرد کیوں ہے؟ شاباش، نام ہے۔ جب نام ہو گا تو معنی کا ارادہ نہیں تو کیا بن جائے گا؟ مفرد، اور جب معنی کا ‏ارادہ کرو گے، جیسے عبد اللہ میں دو حالتیں تھیں، اگر عبد اللہ سے کیا معنی کریں؟ اللہ کا بندہ، تو پھر کیا ہے؟ مرکب، ‏اور اگر عبد اللہ سے کیا ارادہ کریں؟ نام، تو پھر وہ کیا ہے؟ مفرد۔ یہی دونوں چیزیں عبد الرحمن میں بھی آئیں گی، اگر آپ ‏عبد الرحمن سے کا معنی کریں رحمن کا بندہ، تو پھر کیا ہوا؟ مرکب، اور اگر آپ اس سے کس کا ارادہ کریں؟ نام کا ارادہ ‏کریں پھر یہ کیا ہے؟ مفرد ہے۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟ جی شاباش۔ ظہر کی نماز، یہ کیا ہے؟ ظہر کی نماز؟ مرکب ہے بھئی، نام ہے؟ نہیں، تو ظہر سے ظہر والا معنی، کی نسبت کے ‏لیے، نماز سے نماز مراد ہے، تو لفظ کا جز کیا کر رہا ہے؟ معنی کے جز پر دلالت کر رہا ہے اور آپ بھی اسی کا ارادہ ‏کر رہے ہیں، تو یہ مرکب ہے۔ رمضان کا روزہ؟ یہ بھی مرکب ہے۔ ماہِ رمضان؟ یہ بھی مرکب ہے کیونکہ ماہ مہینہ اور رمضان وہ مخصوص اچھا مہینہ، اچھا۔ جامع مسجد؟ یہ بھی مرکب ہے، یاد رکھیے۔ مسجد، تو مسجد تو وہ جگہ جہاں اللہ کی عبادت کی جاتی ہے، اور جامع ہر ‏مسجد کو نہیں کہتے، جامع جو بڑی مسجد ہو بھئی، جو جامع جمع کرنے والی، یعنی جس میں سارے لوگ، شہر کی جو ‏بڑی مسجد ہو گی سارے لوگ جس میں اکٹھے ہوتے ہیں، بہت بڑی مسجد ہے۔ آج کل تو ہر محلے کی مسجد میں جمعے کی ‏نماز الگ ادا کی جاتی ہے، اسی طرح ہر محلے کی مسجد میں عید کی نماز الگ ادا کی جاتی ہے، پہلے یہ عید کی اور ‏جمعے کی نماز سارے شہر والے ایک ہی جگہ اکٹھے ادا کیا کرتے تھے بھئی، اور اس کے لیے کوئی ایک بڑی مسجد ‏ہوتی تھی جس میں سارے لوگ آ جاتے تھے بھئی، تو اس کو جامع مسجد کہا جاتا تھا، جامع جمع کرنے والی۔ جامع کا کیا ‏معنی؟ تو چونکہ وہ بھی مسجد سب لوگوں کو جمع کر لیتی تھی اپنے اندر، اکٹھا کر لیتی تھی، تو اس کو کیا کہتے تھے؟ ‏جامع مسجد۔ اچھا تو اب بتائیے مجھے، جامع مسجد مفرد ہے یا مرکب؟ یہ مرکب ہے بھئی، جامع کا معنی جمع کرنے والی ‏اور مسجد کا معنی مسجد ہے بھئی۔ دہلی کی جامع مسجد اللہ کا گھر ہے۔ مفرد ہے یا مرکب ہے؟ شاباش، یہ مرکب ہے کیونکہ ایک پوری بات کی گئی ہے، ‏سات آٹھ لفظ ہیں اور ہر لفظ کا اپنا معنی ہے اور آپ بھی اسی کا ارادہ کر رہے ہیں۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی؟ جی، تو یہ سبق مکمل ہوا بھئی، مفرد اور مفرد، مرکب اچھی طرح سمجھ میں آ ‏گئے؟ دوبارہ ایک دفعہ دہرا لو: مرکب کسے کہتے ہیں؟ ہاں جو کتاب میں ذکر ہوئی تعریف وہ ذکر کرو اب، وہ میں نے ‏آپ کو سمجھانے کے لیے اس طرح سمجھایا تھا آسان لفظوں میں، کتاب والی تعریف ذکر کرو: لفظ کے جز سے اگر معنی ‏کے جز پر دلالت کا ارادہ کیا جائے تو وہ کیا ہے؟ مرکب۔ پھر دہراؤ: لفظ کے کے جز سے اگر معنی کے جز پر دلالت ‏دلالت کا ارادہ کیا جائے تو وہ مرکب ہے۔ اور مفرد کسے کہیں گے؟ لفظ کے اسی میں ’نہ‘ لے آؤ بس، لفظ کے جز سے ‏معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ نہ ہو تو پھر وہ مفرد ہے۔ اب چند ایک گزشتہ چیزوں کا بھی تکرار کر لیتے ہیں۔ گزشتہ سبق میں ہم نے دلالتِ لفظیہ وضعیہ کی قسمیں ان کا تکرار ‏کیا تھا کہ وہ تین قسم پر ہے: دلالتِ مطابقی، دلالتِ تضمنی اور دلالتِ التزامی۔ اب مجھے یہ بتائیے، دلالتِ مطابقی کسے ‏کہتے ہیں؟ کہ لفظ، تعریف یاد کریں تعریف، آپ سے کوئی پوچھے گا آپ کو تعریف آنی چاہیے، اگر آپ تعریف ہی غلط ‏کر دیتے ہیں تو پھر وہ کہے گا معلوم ہوا اس کو نہیں پتہ بھئی۔ دلالتِ مطابقی کسے کہتے ہیں؟ کہ لفظ اپنے پورے معنی ‏موضوع لہ پر دلالت کرے۔ دہراؤ، دلالتِ مطابقی کسے کہتے ہیں؟ معنی موضوع لہ پر دلالت کرے، بلکہ جی، ہاں بلکہ آؤ ‏بھئی ذرا شروع سے کرتے ہیں ہم شروع سے۔ چھٹیاں آپ گزار کر آئے ہیں تو کئی چیزیں ذہن سے نکل گئی ہوں گی، ‏مختصر مختصر ہم جلدی کر لیتے ہیں بھئی۔ دیکھنا آپ چند منٹوں میں ہم کتنا تکرار کر لیتے ہیں، اس طرح آپ بھی تکرار ‏کیجیے اور آپ کو یہ پوری کتاب ازبر ہو جائے گی۔ اچھا بتائیے بھئی، علم کسے کہتے ہیں؟ کسی شے کی جو صورت ہمارے ذہن میں آئے وہ اس چیز کا علم ہے۔ میں نے کہا ‏درخت، کوئی صورت ذہن میں آئی؟ جی، یہ درخت کا علم ہے۔ میں نے کہا بادشاہی مسجد، کوئی چیز آپ کے ذہن میں آئی؟ ‏جی دیکھا، یہ اس بادشاہی مسجد کا معلوم ہوا آپ کو علم ہے۔ شاہ فیصل مسجد، کوئی مسجد ذہن میں آئی؟ دیکھا معلوم ہوا آپ ‏کو شاہ فیصل مسجد کا علم ہے، اور اگر میں کسی ایسی چیز کا نام لوں جس کا آپ نے نہیں دیکھا تو وہ آپ کے ذہن میں ‏بھی نہیں آئے گی، معلوم ہوا آپ کو اس چیز کا علم نہیں ہے بھئی۔ تو علم کسے کہتے ہیں؟ کسی شے کی صورت کا ذہن ‏میں آنا۔ پھر آپ نے پڑھا تھا علم کی دو قسمیں ہیں: ایک تصور اور ایک تصدیق بھئی۔ تصور اور تصدیق بھئی۔ تصدیق جس میں ‏ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا ثبوت یا نفی ہوتی ہے، اور تصور میں ایسا یعنی جس میں بات پوری ہو وہ کیا ہے؟ ‏تصدیق، اور جس میں بات پوری نہ ہو وہ کیا ہے؟ وہ تصور ہے۔ میں نے کہا زید، تصور ہے کہ تصدیق؟ تصور ہے، ‏شاباش۔ زید کھڑا ہے، یہ کیا ہے؟ یہ تصدیق ہے کیونکہ اس میں بات پوری ہے، جملہ پورا ہے، دیکھو زید پر میں نے ‏کھڑے ہونے کا حکم لگایا، اس کے بارے میں بات کی، تو جہاں بات پوری ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تصدیق، اور جہاں ‏بات پوری نہ ہو وہ تصور ہے بھئی۔ اور پھر آپ نے پڑھا تھا تصور اس کی کئی صورتیں بن گئیں، مثلاً چیز ایک ہو تو یہ بھی کیا ہے؟ جیسے زید، یہ کیا ‏ہے؟ تصور۔ کئی چیزیں ہوں لیکن بات پوری نہیں: زید، عمر، بکر، خالد، یہ بھی کیا ہے؟ تصور ہے کیونکہ بات پوری ‏نہیں ہے۔ اور زید کھڑا ہے، زید زید آیا ہو گا مثلاً، آپ کو پتہ نہیں۔ تو یہ بھی تصور، کیونکہ شک ہے اور شک کس کی ‏قسم ہے؟ تصور کی قسم ہے۔ دیکھو یاد رکھو، تصدیق میں یقین یا غالب گمان ہونا ضروری۔ جب میں نے کہا نا زید آیا ہے ‏تو مجھے یقین ہونا چاہیے کہ زید کیا ہے؟ آیا ہے، یا میرا غالب گمان ہو، زیادہ خیال یہ ہو کہ زید آیا ہے۔ تھوڑا خیال ہے، ‏ہو سکتا ہے نہ آیا ہو، لیکن زیادہ خیال کیا ہے؟ آیا ہے، تو جو زیادہ خیال ہے اس کو ظن کہتے ہیں اور یہ بھی کیا ہے؟ یہ ‏تصدیق ہے۔ اور جو تھوڑا خیال ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ وہم کہتے ہیں اور وہ تصور ہے۔ اور اگر دونوں جانبیں برابر ‏ہیں، میں نے کہا زید آیا ہو گا، معلوم ہوا مجھے آنے کا بھی ادھا خیال میرا یہ ہے کہ آیا ہو گا اور ادھا خیال یہ ہے کہ ہو ‏سکتا ہے نہ آیا ہو، تو زید آیا ہو گا یہ کیا ہے؟ شک، اور شک کس کس قسم میں سے؟ یہ تصور ہے بھئی، صورت سمجھ ‏میں آ گئی۔ تو تصدیق میں ہمیشہ کیا ہو گا؟ یقین ہو گا یا غالب گمان ہو گا، کیا ہو گا؟ غالب گمان ہو گا یا یقین ہو گا۔ اسی ‏طرح جملہ انشائیہ یہ کیا ہے؟ یہ بھی تصور ہے۔ جملہ انشائیہ بھی کیا ہے؟ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو تصور کی کئی صورتیں بن گئیں: ایک کیا کہ لفظ ہی کیا ہو؟ چیز ہی کیا ہو، ایک ہو، لفظ ہی ایک ہو، مثلاً زید۔ ایک ہی ‏چیز کا ذہن میں آیا، اچھا ہاں میں نے آپ کو یہ بھی بتایا تھا ایک ہے قولِ معقول، ایک ہے قولِ ملفوظ۔ قولِ ملفوظ کسے ‏کہتے ہیں؟ جو زبان سے ہم یہ لفظ بول رہے ہیں، یہ کیا ہے؟ قولِ ملفوظ۔ اور جو ہمارے ذہن میں بات آتی ہے، تو پہلے ‏ہمارے ذہن میں آتی ہے بات پھر ہم اس کو زبان سے بولتے ہیں، تو جب تک بات ذہن میں ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ قولِ ‏معقول، اور جب زبان سے بول دیں تو اسے کیا کہتے ہیں؟ قولِ ملفوظ۔ اور منطقی کی اصل توجہ کس کی طرف ہوتی ہے؟ ‏قولِ معقول۔ ہمارے ذہن میں جو جو جس جس قسم کی باتیں آ سکتی ہیں وہ تصور ہوں گی یا تصدیق ہوں گی، یا یا مثلاً ‏بدیہی ہوں گی یا نظری ہوں گی وغیرہ، منطقی اس کے بارے میں بحث کرتا ہے۔ قولِ ملفوظ جس پر ہم تلفظ کرتے ہیں، ‏منطقی اس کے بارے میں بھی بات کرے گا لیکن زیادہ اصل توجہ اس کی کس کی طرف ہے؟ قولِ معقول کی طرف ہے ‏بھئی۔ اچھا اب مجھے بتائیے، میرے ذہن میں ہے صرف زید، زید، تصور ہے یا تصدیق؟ تصور۔ میرے ذہن میں کئی چیزیں ہیں ‏لیکن بات پوری نہیں: زید، عمر، بکر، خالد، یہ یہ بھی کیا ہے؟ تصور ہے۔ اب میرے ذہن میں کئی چیزیں ہیں، بات پوری ‏ہے لیکن مجھے شک ہے: زید کھڑا ہو گا، یہ بھی کیا ہے؟ تصور ہے۔ دیکھا تین قسمیں ہو گئیں تصور کی: کہ چیز ہی ‏ایک ہو ایک، دوسری کیا ہے؟ کئی چیزیں ہیں لیکن بات پوری نہیں۔ تیسری صورت کیا؟ کہ بات تو پوری ہے لیکن اس ‏میں آپ کو شک ہے یعنی آدھا خیال ہونے کا ہے تو آدھا خیال، میں نے بتایا تھا شک میں دونوں جانبیں برابر ہوتی ہیں، ‏‏50 فیصد خیال ہے ہونے کا تو 50 فیصد خیال ہے، تو اس کو شک کہتے ہیں، شک بھئی۔ اور اگر زیادہ خیال ہے کہ زید ‏کھڑا ہے، تھوڑا خیال ہے کہ زید شاید نہ کھڑا ہو، تو جو زیادہ خیال ہے اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ تصدیق، اور جو تھوڑا ‏خیال ہے اس کو وہ تصور ہے اور اس کو وہم کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ تو وہم بھی کس قسم میں سے؟ تصور کی، اسی ‏طرح اگر جملہ انشائیہ ہو وہ بھی کس قسم میں سے؟ تصور میں سے۔ جملہ انشائیہ وہ آپ نحو وغیرہ کی کتابوں میں پڑھ ‏لیں گے، جس میں بات بتلائی نہیں جاتی، کسی چیز کو وجود دیا جاتا ہے، کوئی بات پوچھی جاتی ہے یا کسی چیز سے منع ‏کیا جاتا ہے وغیرہ۔ مثلاً میں نے کہا زید کی پٹائی نہ کرو، دیکھا میں آپ کو کوئی بات نہیں بتلا رہا بلکہ ایک حکم دے رہا ‏ہوں: زید کی پٹائی نہ کرو، تو یہ انشا ہے۔ یا میں آپ کو کہتا ہوں زید کی پٹائی کرو، یا زید کی پٹائی نہ کرو، دونوں ‏صورتوں میں دیکھو حکم ہے تو یہ کیا ہے؟ انشا۔ یا میں قسم اٹھاتا ہوں: اللہ کی قسم، یہ بھی کیا ہے؟ انشا، اس میں میں ‏کوئی بات نہیں بتا رہا، قسم اٹھا رہا ہوں۔ یا میں کسی کو آواز دیتا ہوں: اے زید، یہ اے زید یا یا زید، یہ کیا ہے؟ یہ بھی ‏جملہ، تو یہ سب بھی کس قسم میں سے ہیں؟ تصور کے۔ تو معلوم ہوا تصدیق کے اندر ایک تو بات پوری ہونی چاہیے اور ‏دوسرا اس کو آپ دوسرا آپ کو اس کا یقین ہونا چاہیے یا یقین کے قریب ہونا چاہیے یعنی زیادہ خیال ہونا چاہیے۔ اس کے بعد آپ نے پڑھا کہ تصور اور تصدیق کی دو دو قسمیں ہیں: ایک نظری ایک بدیہی اور ایک نظری۔ بدیہی وہ جو ‏خود بخود سمجھ میں آئے، جس میں غور و فکر کرنے کی ضرورت نہ ہو۔ اور نظری وہ جس میں غور و فکر کرنا پڑے، ‏دماغ خرچ کرنا پڑے، وہ کیا ہے؟ نظری ہے۔ تو دیکھا ہمارے ذہن میں جو بھی باتیں آتی ہیں یا وہ تصور ہیں یا کیا ہیں؟ ‏تصدیق، دو ہی قسم کی، ہمارا علم دو ہی قسم کا ہے۔ خوب توجہ سے سمجھ لو، ہمارا علم کتنی قسم کا؟ دو ہی قسم کا ہے: یا ‏وہ کیا ہے؟ تصور، یا کیا ہے؟ تصدیق، یعنی اس میں یا تو بات پوری ہو گی یا پوری نہیں ہو گی۔ تو لہٰذا ہمارا علم دو ہی ‏قسم پر ہے: یا تصور یا تصدیق، تیسری کوئی صورت نہیں ہے بھئی۔ اور پھر یہ جو علم ہے یا تو یہ تصور اور تصدیق ‏یا بدیہی ہوں گے یا نظری۔ تصور بھی بدیہی بھی ہو سکتا ہے اور نظری بھی، تصدیق بھی بدیہی بھی ہو سکتی ہے اور ‏نظری بھی۔ بدیہی جو خود بخود معلوم ہو، جو خود بخود کیا ہو؟ سمجھ میں آ جائے، جس میں دماغ خرچ کرنے کی ‏ضرورت نہیں، سوچنے کی ضرورت نہیں۔ اور کچھ چیزیں ہیں وہ ہمیں سوچنا پڑتا ہے پھر سمجھ میں آتی ہیں، ان کو کیا ‏کہتے ہیں؟ نظری۔ تو اگر وہ تصور ہوا تو تصورِ نظری، اور اگر تصدیق ہوئی تو تصدیقِ نظری کہلائے گی۔ اس کے بعد آپ نے یہ بھی پڑھا تھا کہ دو یا، توجہ ہے سبق کی طرف؟ کہ دو کچھ تصور ہمیں معلوم ہیں، آپ کو ہر چیز ‏کا علم ہے یا کچھ چیزوں کا علم ہے، کچھ کا علم نہیں؟ ظاہر سی بات ہے، ہر چیز کا کسی کو بھی نہیں پتہ، صرف اللہ کی ‏ذات جانتی ہے ہر چیز کو، تو ہمیں کچھ چیزوں کا علم ہے، کچھ چیزوں کا علم نہیں، اور ان کو ہم جانتے ہیں۔ جیسے دیکھو ‏سال کے شروع میں آپ کو یہ منطق کی ان چیزوں کا ان چیزوں کا علم نہیں تھا، اب آپ کو ان میں سے کچھ چیزوں کا علم ‏ہو گیا۔ تو لہٰذا معلوم ہوا کہ چیزیں دو قسم کی ہیں: کچھ کا ہمیں علم ہے، کچھ کا علم ہمیں نہیں ہے بھئی۔ تو اگر وہ چیزیں ‏جن کا ہمیں علم ہے اور وہ تصور ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ تصورِ معلوم، اور وہ چیز جس کا ہمیں علم نہیں اور وہ کیا ‏ہے؟ تصور ہے، تو اس کو کہیں گے تصورِ مجهول، نامعلوم کہہ لو یا مجہول کہہ لو، مجہول زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ تو ‏اگر تصور کا ہمیں علم ہو اس کو کیا کہیں گے؟ تصورِ معلوم، اور وہ تصور جس کا ہمیں علم نہیں اسے کیا کہیں گے؟ ‏تصورِ مجهول۔ اسی طرح تصدیق کا اگر ہمیں علم ہے تو کیا کہیں گے؟ تصدیقِ معلوم، اور اگر ہمیں اس کا علم نہیں تو کیا ‏کہیں گے؟ تصدیقِ مجهول بھئی، تصدیقِ مجهول۔ اب جو تصورِ مجهول ہے جس کا ہمیں علم نہیں، یا تصدیقِ مجهول جس کا ہمیں علم نہیں، اس کو ہم جاننا چاہتے ہیں، اس ‏کا علم حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو اس کو پھر کسی معلوم تصور یا تصدیق سے ہی حاصل کریں گے۔ ہم کس کا علم حاصل ‏کرنا چاہتے ہیں؟ تصورِ مجهول، کیسے حاصل کریں گے؟ دو یا تین معلوم تصوروں کو ملائیں گے، ان کو ترتیب دیں ‏گے، ان کو جوڑیں گے تو ہمیں مجہول تصور حاصل ہو جائے گا۔ توجہ ہے؟ ہم کس کو حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ تصورِ ‏مجهول کو، تو کیسے حاصل کریں گے؟ کیسے پتہ چلائیں گے؟ دو یا تین معلوم تصوروں کو ملائیں گے، جوڑیں گے تو ‏ہمیں کیا حاصل ہو جائے گا؟ تصورِ مجهول۔ مثال میں نے ذکر کی تھی: آپ کا ایک ساتھی ہے، اس کو ہاتھی کا علم نہیں، ‏اس نے ہاتھی نہیں دیکھا، نہ تصویر دیکھی نہ پتہ ہے۔ تو اب آپ نے ہاتھی کا ذکر کیا، اس نے کہا مجھے تو ہاتھی کا نہیں ‏پتہ۔ تو اب ہاتھی یہ تصور ہے یا تصدیق؟ یہ تصور ہے، اور اس کے لیے کیا ہے؟ مجہول، آپ کے لیے معلوم ہے لیکن ‏اس کے لیے کیا ہے؟ مجہول۔ اب آپ اس کو بتانا چاہتے ہیں تو اب آپ اس کو سمجھائیں گے کہ ہاتھی بہت بڑا جانور ہوتا ‏ہے، اتنا بڑا اس کا جسم، اس طرح اس کی گول ٹانگیں ہوتی ہیں، اس طرح اس کی ایک لمبی سونڈ ہوتی ہے، اس طرح کا ‏رنگ ہوتا ہے، اتنا جسم ہوتا ہے، اب اس کو ہاتھی کی سمجھ آ گئی۔ تو یہ دیکھو جو آپ نے اس کے سامنے بیان کیا: اتنی ‏موٹی ٹانگیں ہوتی ہیں، دیکھا اسے موٹی ٹانگوں کا پتہ ہے یا نہیں؟ پتہ ہے، تو یہ تصورِ معلوم آپ نے جوڑ لیا ایک۔ ‏دوسرا آپ نے کہا اتنا بڑا اس کا جسم ہے، اسے جسم کا پتہ ہے کہ نہیں؟ پتہ ہے، بڑا چھوٹا ہونے کا پتہ ہے کہ نہیں؟ اسے ‏پتہ ہے، تو دیکھو یہ تصورِ معلوم آپ جوڑتے جا رہے ہیں۔ پھر آپ نے اس کو سونڈ کے بارے میں بتایا، پھر آپ نے اس ‏کو رنگ بتایا کالا، اسے کالے رنگ کا پتہ ہے کہ نہیں پتہ؟ تو یہ دیکھو کالا رنگ یہ بھی تصور، تو آپ نے کئی تصور ‏جوڑے اور بالاخر کیا اس کو حاصل ہو گیا؟ وہ تصورِ مجهول حاصل ہو گیا اسے۔ تو تصورِ مجهول کو حاصل کیا جاتا ‏ہے کس کی مدد سے؟ دو یا زیادہ تصورِ معلوم سے۔ اسی طرح تصدیقِ مجهول کو بھی حاصل کرتے ہیں دو یا زیادہ معلوم تصدیقوں کو جوڑ کر۔ دو یا زیادہ، ایک تصدیق ہے ‏آپ کو اس کا علم نہیں، وہ مجہول ہے، آپ اسے حاصل کرنا چاہتے ہیں تو کیسے حاصل کریں گے؟ دو یا دو سے زیادہ ‏معلوم تصدیقوں کو جوڑیں گے تو کیا حاصل ہو جائے گا؟ مجهول تصدیق حاصل ہو جائے گی۔ مثلاً دیکھو، میں نے کہا: ‏زید اس مدرسے میں پڑھتا ہے، اور اس مدرسے کا ہر طالب علم بڑا محنتی ہے۔ ایک تصدیق میں کیا لایا؟ زید اس مدرسے ‏میں پڑھتا ہے۔ دوسری تصدیق میں کیا لایا؟ اس مدرسے کا ہر طالب علم بڑا محنتی ہے۔ تو اب ایک تیسری تصدیق خود ‏بخود آپ کو معلوم ہو گئی، وہ کیا؟ کہ زید بھی بڑا محنتی ہے۔ میں نے تو نہیں کہا زید بھی بڑا محنتی ہے، لیکن خود بخود ‏معلوم ہو گئی یا نہیں؟ کیسے؟ میں نے کہا زید اس مدرسے میں پڑھتا ہے اور اس مدرسے کا ہر طالب علم بڑا محنتی ہے، ‏معلوم ہوا زید بھی بڑا محنتی ہے۔ تو دیکھو یہ ایک معلوم تصوروں کو جوڑا تو ایک مجہول تصور جو آپ کو پہلے علم ‏نہیں تھا وہ اب آپ کو حاصل ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ تو معلوم ہوا مجہول تصور کو کس کی مدد سے حاصل کریں گے؟ معلوم تصوروں کی مدد سے، اور مجہول تصدیق ‏کو کس کی مدد سے حاصل کریں گے؟ معلوم تصدیقوں کی مدد سے۔ تو یہ جو ہم دو یا زیادہ، توجہ سے، دو یا زیادہ معلوم ‏تصوروں کو جوڑتے ہیں اور کس کو حاصل کرتے ہیں؟ مجهول تصور، تو یہ جو دو یا زیادہ معلوم تصوروں کو ہم ‏جوڑتے ہیں اس کو کہتے ہیں نظر و فکر۔ اسی طرح دو یا زیادہ معلوم تصدیقوں کو آپ جوڑتے ہیں تاکہ کس کو حاصل ‏کریں؟ مجهول، تو یہ جو دو یا زیادہ تصدیقوں کو آپ جوڑتے ہیں اس کو کیا کہتے ہیں؟ نظر و فکر، نظر و فکر کہتے ‏ہیں، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور اس نظر و فکر میں کبھی کبھار کیا ہو جاتی ہے؟ غلطی ہو جاتی ہے، تو ایک علم کی ‏ضرورت تھی جو ہمیں اس غلطی سے بچائے، تو وہ اور وہ علم کون سا ہے؟ منطق ہے، منطق نظر و فکر میں غلطی سے ‏ہماری حفاظت کرتا ہے۔ اور آپ نے یہ بھی پڑھا کہ یہ جو دو یا زیادہ تصوروں کو ہم نے جوڑا اور کس کو حاصل کیا؟ تصورِ مجهول کو۔ تصور ‏تصور سے حاصل ہوتا ہے اور تصدیق تصدیق سے حاصل ہوتی ہے۔ تو آپ نے یہ جو دو یا تین معلوم تصوروں کو جوڑا ‏اور کس کو حاصل کیا؟ مجهول تصور کو۔ تو یہ جو دو یا تین معلوم تصور جن کو آپ نے جوڑا ان کو کیا کہتے ہیں؟ ‏معرف اور تعریف۔ یہ گویا آپ اس چیز کی تعریف کر رہے ہیں، معرف یہ اس کی، معرف کا معنی پہچان کروانے والے، ‏یہ تصور اس تصور کی پہچان کروانے والے ہیں۔ اور یہ جو دو یا زیادہ معلوم تصدیقوں کو آپ نے جوڑا، کس کو؟ ‏تصدیقوں کو جوڑا، اور کس کو حاصل کیا؟ مجهول تصدیق، تو یہ جو دو یا زیادہ معلوم تصدیقیں جن کو آپ نے جوڑا اس ‏کو کیا کہتے ہیں؟ دلیل اور حجت کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ دلیل اور حجت کہتے ہیں۔ تو منطق وہ علم ہے جو تعریف اور ‏دلیل میں غلطی سے ہماری حفاظت کرتا ہے۔ توجہ ہے؟ منطق ہم پھر ذرا دہراؤ، منطق ہمیں غلطیوں سے بچاتا ہے کس چیز سے؟ دو یا زیادہ معلوم تصوروں کو جوڑ ‏کر نامعلوم تصور حاصل کرنے میں ہمیں غلطی سے بچاتا ہے، دو یا زیادہ معلوم تصدیقوں کو جوڑ کر نامعلوم تصدیق کو ‏حاصل کرنے میں غلطی سے ہماری حفاظت۔ تو یہ دو یا زیادہ تصور یا تصدیقوں کو ملانا اس کو کیا کہتے ہیں؟ نظر اور ‏فکر۔ تو گویا یوں کہو: منطق نظر و فکر میں ہمیں غلطی سے بچاتا ہے۔ پھر اسی نظر و فکر اگر یہ تصور کے معاملے ‏میں ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ معرف اور تعریف، اور یہی اگر کس کے معاملے میں ہو؟ تصدیق کے، تو اس کو کیا ‏کہتے ہیں؟ دلیل اور حجت۔ تو دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لو: منطق وہ علم ہے جو تعریف اور دلیل بنانے میں غلطی سے ‏ہماری حفاظت کرتا ہے۔ تو ایک ہی بات ہے چاہے جس طرح بھی آپ کر لیں کہ منطق نظر و فکر میں غلطی سے ہماری ‏حفاظت، یا منطق تعریف اور دلیل بنانے میں ہماری غلطی سے حفاظت، یا منطق دو معلوم تصدیقوں یا معلوم تصوروں کو ‏ملا کر نامعلوم تصدیق یا تصور کو حاصل کرنے میں غلطی سے ہماری حفاظت کرتا ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ ‏گئی۔ چلیے باقی پھر تھوڑا تھوڑا ہم ان شاء اللہ تکرار کرتے رہیں گے، آپ نے بھی محنت کرنی ہے، ان شاء اللہ بہترین منطقی ‏آپ سال کے آخر تک بن جائیں گے بھئی۔ چلیے بس بھئی، ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔