آگے بھئی کتاب پر دیکھیے۔
دلالت لفظیہ کی تین قسمیں ہیں: لفظیہ وضعیہ، لفظیہ طبعیہ، لفظیہ عقلیہ۔
دلالت لفظیہ وضعیہ وہ دلالت ہے کہ دال اس میں لفظ ہو اور دلالت وضع کی وجہ سے ہو جیسے لفظ زید کی دلالت زید کی ذات پر۔ اگر لفظ زید ذات کے لیے موضوع نہ ہوتا تو دلالت نہ ہوتی۔
دلالت لفظیہ طبعیہ وہ دلالت ہے کہ دال اس میں لفظ ہو اور دلالت بوجہ طبیعت کے اقتضاء کے ہو جیسے آہ آہ کی دلالت کسی رنج و صدمہ پر کہ تمہاری طبیعت رنج و صدمہ کے وقت اس لفظ کے بولنے پر مقتضی ہے۔
اچھا بھئی! آج ہم دلالت لفظیہ کی قسمیں پڑھیں گے بھئی، دلالت لفظیہ کی، پہلے ذرا کل کے سبق کا مختصر خلاصہ کر لیتے ہیں۔
سب سے پہلے کل آپ نے دلالت کے بارے میں پڑھا، دلالت کا معنی ہے رہنمائی کرنا اور پتہ بتلانا۔ تو جب بھی ایک چیز کے جاننے سے دوسری چیز کا علم ہو جائے تو اس کو دلالت کہتے ہیں، یعنی پہلی چیز نے دلالت کی کس پر؟ دوسری چیز پر، جیسے بادل دیکھے تو کس چیز کا پتہ چلا؟ بارش کا، یا ٹھنڈی ہوا آئی تو کس چیز کا پتہ چلا؟ بارش کا، یا آپ نے دھوپ دیکھی تو کس کا پتہ چلا؟ سورج کے نکلنے کا، تو یہ سب کیا ہیں؟ دلالت ہیں کہ علم آپ کو ایک چیز کا تھا، دیکھا آپ نے ایک چیز کو، محسوس کیا آپ نے ایک چیز کو اور دوسری چیز کا آپ کو علم ہو گیا۔ تو اس کو دلالت کہتے ہیں بھئی، دلالت۔
اور پھر میں نے بتلایا تھا کہ اس کے اندر جو پہلی چیز ہے، اس کو دال کہتے ہیں، دال، لام مشدد ہے بھئی، دال۔ اور دوسری چیز جس کا پتہ چلا، اسے مدلول کہتے ہیں بھئی، مدلول کہتے ہیں۔ تو اس دال کے اعتبار سے پھر دلالت کی دو قسمیں ہیں۔ کس کے اعتبار سے؟ دال کے اعتبار سے، کیونکہ وہ چیز جو دوسری چیز کا پتہ بتلا رہی ہے، وہ لفظ بھی ہو سکتا ہے اور غیر لفظ بھی ہو سکتا۔ تو اگر دال لفظ ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالت لفظیہ، اور اگر دال لفظ نہ ہو تو پھر اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالت غیر لفظیہ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
مثلاً میں نے کہا زید، آپ کے ذہن میں کس کی صورت آ گئی؟ زید کی صورت فوراً آ گئی، آپ سمجھ گئے کس کی بات کی جا رہی ہے، تو یہ کون سی دلالت ہوئی؟ دلالت لفظیہ، کیونکہ لفظ زید نے دلالت کی کس پر؟ ذات زید پر، تو یہ دلالت لفظیہ ہوئی۔ اور آپ کو، آپ نے دور سے بادل دیکھے اور آپ کو بارش کا پتہ چلا، تو یہاں کس چیز سے پتہ چلا؟ دال کیا ہے یہاں پر؟ دال کیا ہے یہاں پر؟ بادل ہے، تو اور وہ لفظ ہے یا غیر لفظ؟ کسی نے زبان سے کچھ نہیں کہا، آپ نے دور سے بادل دیکھے ہیں، تو یہ لفظ ہے یا غیر لفظ؟ یہ غیر لفظ، تو اس کو کیا کہیں گے؟ دلالت غیر لفظیہ۔ تو جہاں بھی دال لفظ ہو گا، اس کو دلالت لفظیہ کہیں گے اور جہاں بھی دال لفظ نہیں ہو گا تو اس کو دلالت غیر لفظیہ کہیں گے۔
یہ دیکھو، یہ میں آپ کے سامنے اتنی لمبی تقریر کر رہا ہوں اردو زبان میں، میں جو جو لفظ بولتا جا رہا ہوں، آپ کو اس کا معنی سمجھ میں آتا جا رہا ہے، تو یہ کون سی دلالت ہے؟ یہ دلالت لفظیہ ہے، تو یہ جو ہم بولتے ہیں، بات کرتے ہیں، یہ سب کیا ہیں؟ دلالت لفظیہ جس میں دال لفظ ہوتا ہے، دال لفظ ہوتا ہے۔
اور اگر یہی باتیں، جو میں پہلے تقریر کرتا ہوں اور پھر آپ کتاب میں سے پڑھتے ہیں، کس میں سے پڑھتے ہیں؟ مثلاً دیکھو، میں نے کہا زید، کس کی صورت آئی آپ کے ذہن میں؟ زید کی، تو یہ کون سی دلالت ہوئی؟ دلالت لفظیہ، دلالت لفظیہ۔
اور میں زبان سے کچھ بھی نہیں کہتا، آپ کے سامنے میں نے کتاب پر ز، ی، د لکھ دیا۔ میں نے آپ کے سامنے کاپی پر ز، ی، د لکھ دیا، زبان سے کچھ بھی نہیں کہا۔ اور کہاں، میں نے کہا اس کو پڑھو، آپ نے کیا پڑھا؟ زید۔ بھئی میں نے تو کچھ بھی نہیں کہا تھا، میں نے تو کچھ لکیریں کھینچی تھیں کاپی پر خاص شکل کے اندر، خاص طریقے سے، مثلاً ز لکھی، ی اس کے نیچے دو نقطے ڈالے، آگے د لکھ دیا، زبان سے، ابھی تو میں آپ کے سامنے تقریر کر رہا ہوں، مگر لیکن جس وقت لکھنے وقت میں نے زبان سے ایک بھی لفظ نہیں کہا اور یہ حروف آپ کے سامنے لکھ دیے۔
تو، اور میں نے آپ سے کہا پڑھو ان کو، تو آپ نے کیا پڑھا؟ زید۔ تو دیکھا، ان حروف کی دلالت، آئیے بھئی بیٹھیے۔
دوبارہ سن لو، دیکھیے، میں نے لفظ زید کہا، زید سنتے ہی آپ کے ذہن میں کس کی صورت آ گئی؟ زید کی صورت آ گئی، تو معلوم ہوا لفظ زید ہوا دال اور ذات زید کیا ہوئی؟ مدلول۔ تو دال لفظ ہے یا غیر لفظ ہے؟ لفظ ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ دلالت لفظیہ کہیں گے، دلالت لفظیہ۔
اب دوسری صورت، میں نے زبان سے کچھ بھی نہیں کہا، خاموش بیٹھے ہوئے ہیں سب، میں نے قلم اٹھایا اور کاپی پر ز، ی، د لکھ دیا اور آپ سے کہا اس کو پڑھو، آپ نے کیا پڑھا؟ زید۔ دیکھا، ان نقوش نے، ان اس لکھائی نے، اس تحریر نے دلالت کی کس پر؟ لفظ زید پر۔ کس پر؟ لفظ زید پر دلالت کی، اس سے آپ کو زید کا لفظ سمجھ میں آیا۔ چنانچہ میں نے جب کہا پڑھو، تو آپ نے کیا پڑھا اس کو؟ زید، دیکھا یہ لفظ آپ نے پڑھا، کس کو دیکھ کر پڑھا؟ وہ لکھائی کو، تو اس لکھائی نے کس پر دلالت کی؟ لفظ زید پر دلالت کی۔ اور پھر لفظ زید نے کس پر دلالت کی؟ ذات زید پر، صورت سمجھ میں آ گئی۔
تو لہٰذا، یہ جو لکھائی نے دلالت کی کس پر؟ لفظ زید پر، تو دال کون ہے؟ دال کیا ہے؟ لکھائی ہے، دال کیا ہے؟ یہ لکھائی اور تحریر ہے اور وہ لفظ ہے؟ نہیں، وہ لفظ نہیں، لفظ تو وہ ہے جو زبان سے جس پر ہم تلفظ کرتے ہیں، جب اسی لفظ کو زبان سے ہم پڑھیں گے تو یہ کیا بن جائے گا؟ لفظ بن جائے گا، اس سے پہلے یہ لفظ نہیں ہے، یہ لکھائی ہے، یہ نقوش ہیں، یہ خطوط ہیں۔ خط کا معنی لکیر کھینچنا، تحریر، یہ تحریر میں بھی کیا ہوتا ہے؟ آپ قلم کے ذریعے لکیریں ہی کھینچتے جا رہے ہیں نا، لیکن مخصوص شکل کے اندر کھینچتے جا رہے ہیں اور ان میں سے ہر لکیر یا ہر ایک شکل ایک ایک حرف پہ دلالت کر رہی ہے، مثلاً میں نے اوپر سے سیدھی ایک لکیر نیچے کو کھینچی اور آپ کو کہا پڑھو، کیا پڑھیں گے؟ آپ پڑھیں گے الف، کیونکہ الف کے لیے یہ متعین ہے، اسی طرح ب کی الگ صورت ہے، ج کی الگ صورت ہے، د کی الگ ہے، س ش کی الگ ہے، تو یہ سب لکھائیاں، یہ جو صورتیں ہیں، یہ نقوش ہیں، یہ لکیریں ہیں، ان کو مختلف آوازوں کے لیے ہم نے مقرر کیا ہوا ہے بھئی۔
تو اب میں نے آپ کے سامنے کیا لکھا تھا؟ لفظ زید اور آپ کو کہا میں نے کہا پڑھو اس کو، آپ نے کیا پڑھا؟ زید، تو دال کیا ہے؟ دال کیا ہے، دال؟ دال یہ لکھائی ہے اور لکھائی لفظ ہے؟ نہیں، وہ تو لکیروں کا نام ہے، تو یہاں یہ دال کیا ہے؟ دال لکھائی ہے، تو دلالت، تو دال لفظ ہے یا غیر لفظ ہے؟ غیر لفظ، تو یہ کون سی دلالت ہوئی؟ دلالت غیر لفظیہ۔
میں آپ کے سامنے تقریر کرتا ہوں سبق کی، آپ اس سے سبق سمجھتے ہیں یا نہیں سمجھتے؟ تو یہ کون سی دلالت ہوئی، لفظیہ یا غیر لفظیہ؟ یہ لفظیہ، کیونکہ یہ جو میں ادا کر رہا ہوں زبان سے، یہ سارے الفاظ ہیں۔ پھر یہی، پھر یہی سبق آپ کتاب پر نظر ڈالتے ہیں، یہی باتیں اب آپ کو سمجھ میں آ رہی ہیں اس سے بھی، لیکن اب جو دال ہے وہ کیا چیز ہے؟ وہ لکھائی ہے، تو وہ کیا بن جائے گی؟ وہ دلالت غیر لفظیہ ہو گی، تو یہ جو لکھائی جن لفظوں پہ دلالت کر رہی ہے، یہ لکھائی کیا ہوئی؟ اس میں، اس میں دلالت کون سی ہوئی؟ دلالت غیر لفظیہ، اور جو بات چیت کی جائے اس میں دلالت کون سی ہوئی؟ لفظیہ ہوئی، لفظ زید میں زبان سے کہوں تو دلالت لفظیہ، اور میں صرف لکھائی میں ہو اور زبان سے نہ ہو تو یہ دلالت غیر لفظیہ ہے۔
پھر اس کے بعد کل میں نے آپ کو وضع کی، وضع کے بارے میں بتلایا تھا، وضع کسے کہتے ہیں؟ مقرر کرنا، مقرر کرنا۔ تو یہ جو ہم نے، ہر زبان والوں نے مختلف چیزوں کے نام مقرر کر رکھے ہیں کہ اس لفظ کا یہ معنی ہو گا، اس لفظ کا یہ معنی ہو گا، یہ فلاں چیز کا یہ نام ہے، فلاں چیز کا یہ نام ہے، اس، یہ کیا ہے؟ مقرر کرنا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ وضع، وضع۔ تو اس زبان والے کے سامنے جب آپ وہ لفظ بولتے ہیں، وہ فوراً سمجھ جاتا ہے کہ کس چیز کی بات ہو رہی ہے، مثلاً میں نے کہا بارش، آپ سمجھ گئے یا نہیں؟ آپ فوراً سمجھ گئے بارش کا معنی کیا ہے، بارش کسے کہتے ہیں، لیکن اب اگر میں کسی انگریز کے سامنے بارش کہوں، اسے کچھ پتہ نہیں چلے گا، کیونکہ انہوں نے بارش کے لیے بارش کا لفظ مقرر نہیں کیا، میں کسی عربی کے سامنے بارش کہوں تو اس کو پتہ نہیں چلے گا، کیونکہ انہوں نے بارش کے لیے بارش کا لفظ مقرر نہیں کیا، یہ اردو والوں نے مقرر کیا ہے۔
تو یہ ہے وضع، یہ کیا ہے؟ وضع، تو یہ ہے وضع، وضع کا کیا معنی ہے؟ مقرر کرنا۔ تو اس میں جس چیز کو مقرر کیا، وہ اس کو کیا کہیں گے؟ موضوع، اور جس چیز کے لیے مقرر کیا، اس کو کیا کہیں گے؟ موضوع لہ، جیسے لفظ بارش، یہ کیا ہے؟ موضوع، اور وہ جو آسمان سے برستی ہے جس کا نام ہم نے یہ رکھا ہے، اس کو، وہ کیا ہے؟ موضوع لہ ہے، یا جیسے لفظ زید، یہ کیا ہے؟ موضوع، اور ذات زید کیا ہے؟ موضوع لہ، تو یہ تھی وضع۔
اب یہاں تک سبق اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ دلالت لفظیہ اور غیر لفظیہ کا پتہ چل گیا؟ دلالت لفظیہ کسے کہیں گے؟ جس میں دال لفظ ہو۔ دلالت غیر لفظیہ کسے کہیں گے؟ جس میں دال لفظ نہ ہو بھئی۔
تو دلالت دو قسم پر ہو گئی، ایک دلالت لفظیہ اور ایک دلالت غیر لفظیہ۔ اب یاد رکھیے، دلالت چاہے لفظیہ ہو، چاہے غیر لفظیہ ہو، دونوں کی تین تین قسمیں ہیں بھئی۔ دلالت لفظیہ کی بھی کتنی قسمیں؟ تین، دلالت غیر لفظیہ کی بھی کتنی قسمیں؟ تین، تو کل کتنی ہو جائیں گی؟ چھ قسمیں ہو جائیں گی۔ یا آسان لفظوں میں یوں کہو، دلالت کی ایک تقسیم تھی، ایک تقسیم تھی لفظیہ اور غیر لفظیہ کے اعتبار سے، ایک قسم کیا تھی؟ دلالت لفظیہ، ایک دلالت غیر لفظیہ۔ ایک دلالت کی دوسری تقسیم ہے، دوسرے طریقے سے تقسیم ہے، تو دلالت کی دوسری تقسیم ہے، اس کے اعتبار سے دلالت کی تین قسمیں ہیں، کتنی قسمیں ہیں؟ تین قسمیں ہیں: ایک ہے دلالت وضعیہ، ایک ہے دلالت طبعیہ، یہ کتاب میں آ رہے ہیں بھئی، دیکھو کیا ہے؟ دلالت لفظیہ وضعیہ، اگلا کیا ہے؟ دلالت لفظیہ طبعیہ، اور پھر کیا ہے؟ دلالت لفظیہ عقلیہ، ان سے لفظیہ کا لفظ ذرا ہٹا دو تو تین قسمیں کیا بن گئیں؟ وضعیہ، طبعیہ اور عقلیہ۔ تو دلالت کی تین قسمیں ہیں بھئی، یہ الگ تقسیم ہے، ادھر دیکھو پھر بھئی، دوسری تقسیم کے اعتبار سے دلالت کی کتنی قسمیں؟ تین قسمیں: نمبر ایک دلالت وضعیہ، دوسری دلالت طبعیہ، تیسری ہے دلالت عقلیہ۔ اب ان تین کو اچھی طرح سمجھ لو تو آپ کو خود بخود چھ کی چھ قسمیں یاد ہو جائیں گی بھئی۔
دلالت وضعیہ نام سے ہی پتہ چل رہا ہے، وہ دلالت جس میں وضع ہو۔ وہ دلالت جس میں کیا ہو؟ وضع ہو، یعنی مقرر کرنا ہو، بغیر مقرر کیے نہ ہو۔ مثلاً دلالت وضعیہ کی مثال دو بھئی، کوئی ایک مثال جس میں وضع ہو، ہم لوگوں نے مقرر کیا ہو۔
دوبارہ بولو، ہاں بیان کرو بھئی کیا، کیوں؟ جو سبق آپ پڑھ لیں، آپ اس کے استاد بن گئے، کسی، کوئی آپ سے پوچھے آپ اس کو بہترین انداز میں سمجھائیں کہ یہ چیز ہوتی ہے۔ اگر آپ خود سمجھ گئے ہیں، کسی اور کو نہیں سمجھا سکتے تو پھر کیا فائدہ ہوا سمجھنے کا؟ جیسے ہم نے زید کے لیے نام مقرر کیا، ہاں جیسے دلالت وضعیہ کی مثال یہ ذکر کر رہے ہیں، جیسے ذات زید کے لیے کیا لفظ مقرر کیا ہے؟ زید، زید جب پیدا ہوا تھا اس کے ماں باپ نے اس کا کیا نام رکھا تھا؟ زید، یعنی انہوں نے اس بچے کے لیے زید کا لفظ مقرر کر دیا کہ جب بھی لفظ زید بولا جائے گا، کون سمجھا جائے گا؟ یہ بچہ یہ جو زید کی ذات ہے، یہ سمجھی جائے گی بھئی، تو یہ ہوئی دلالت وضعیہ۔ اس میں دلالت وضع کی وجہ سے ہے، یہ نام اس کا مقرر کیا گیا تو ہمیں یہ ذات بھی سمجھ میں آئی، اگر یہ نام مقرر نہ ہوتا تو یہ ذات بھی سمجھ میں نہ، تو دلالت، لفظ زید جیسے ہی بولا، کس پر دلالت ہوئی؟ زید کی ذات پر، اور اس میں وضع کا دخل ہے یا نہیں؟ مقرر کیا گیا ہے یا نہیں؟ مقرر کیا گیا ہے۔
تو یہ دلالت وضعیہ ہے، دوسری ہے دلالت طبعیہ، دلالت طبعیہ، دلالت طبعیہ وہ ہے جس میں، جس میں طبیعت کے اندر مدلول پیدا ہوتا ہے یا مدلول موجود ہوتا ہے، توجہ سے سن لو بھئی، جس میں طبیعت کے اندر کیا موجود ہوتا ہے؟ مدلول پہلے سے موجود ہے یا مدلول پیدا ہوا طبیعت کے اندر، اور پھر طبیعت نے چاہا، طبیعت نے تقاضا کیا کہ دال کو وجود دیا جائے، کیا کیا جائے؟ اور اس دال سے پھر باقیوں کو بھی مدلول کا پتہ چل گیا۔
مثلاً بھئی، آپ کا ایک ساتھی ہے، وہ غمزدہ بیٹھا ہے، تو دیکھو اس کی طبیعت کے اندر اس وقت غم اور پریشانی ہے بھئی، کیا ہے؟ غم اور پریشانی، اب اس غم اور پریشانی کی وجہ سے وہ ہائے ہائے کرتا ہے، اس غم اور پریشانی نے، اس غم اور پریشانی کی وجہ سے اس کی طبیعت نے تقاضا کیا کہ کیا کہے؟ ہائے ہائے کہے، آپ کو کچھ پتہ نہیں تھا، لیکن جیسے ہی اس نے زبان سے ہائے ہائے کہا، آپ فوراً سمجھ گئے کہ اس کو کیا ہے؟ کوئی دکھ ہے، کوئی غم ہے، کوئی پریشانی ہے بھئی، دیکھا، تو ہائے ہائے کیا ہوا؟ دال، اور وہ جو غم اور دکھ ہے وہ کیا ہے؟ مدلول، توجہ ہے؟ پھر بولیں، دال کیا؟ دال کیا؟ ہائے ہائے، اور مدلول کیا؟ غم اور پریشانی۔
اب مجھے بتائیں، یہ ہائے ہائے پہلے ہے یا غم پہلے سے ہے؟ ہاں وہ غم پہلے سے طبیعت کے اندر موجود تھا، وہ مدلول پہلے سے طبیعت میں تھا، یا وہ مدلول طبیعت میں ابھی پیدا ہو گیا لیکن ہائے ہائے سے پہلے پیدا ہوا، اور پھر اس مدلول کی وجہ سے طبیعت نے تقاضا کیا کہ وہ کیا کرے؟ ہائے ہائے کرے، اس کے اندر غم تھا تو اس غم کی وجہ سے اس کی طبیعت نے کیا تقاضا کیا اس سے کہ کیا کرو؟ ہائے ہائے کرو، اس سے دوسرے کو بھی آپ کے غم کا پتہ چل جائے گا، یا اس سے اس کا غم ہلکا ہو جائے گا، یہ ضروری نہیں کہ وہ ہائے ہائے آپ کو بتانے کے لیے کرے، وہ ویسے ہی غم میں جب ہائے ہائے کرے گا اس کا غم کچھ نہ کچھ ہلکا ہو جائے گا بھئی، کیونکہ غم کا جب اظہار کیا جاتا ہے تو غم کیا ہوتا ہے؟ کچھ نہ کچھ ہلکا ہو جاتا ہے بھئی۔
دلالت طبعیہ کی تعریف پھر سمجھ لو، دلالت طبعیہ اسے کہتے ہیں کہ طبیعت کے اندر مدلول پیدا ہوتا ہے یا مدلول موجود ہوتا ہے، اور وہ مدلول اس مدلول کی وجہ سے طبیعت تقاضا کرتی ہے کہ وہ دال کو وجود دے۔
کیا تعریف ہوئی؟
طبیعت کے اندر، طبیعت کے اندر کیا موجود ہوتا ہے؟ مدلول موجود ہوتا ہے یا مدلول پیدا ہو جاتا ہے، پہلے نہیں تھا موجود لیکن اب کیا ہوا؟ پیدا ہو گیا، اور پھر طبیعت تقاضا کرتی ہے، کیا؟ کہ دال کو وجود دے، اور طبیعت پھر ہائے ہائے کہتی ہے کہ ہائے ہائے کرو۔ دلالت طبعیہ کسے کہتے ہیں؟ اب دہراؤ بھئی۔
مدلول موجود ہو۔ یا مدلول پیدا ہو جائے اور پھر طبیعت کیا تقاضا کرے؟ کہ وہ دال کو وجود دے۔ ہائے ہائے نہ کہو کوئی بھی اور بھی چیز ہو سکتی ہے۔ یہاں تو یہاں تو ہائے ہائے کا لفظ ہے دال بعض اوقات اور ہوگا۔ جیسے بچہ ہے بچے کو جب بھوک لگے گی اس کی طبیعت تقاضا کرے گی اور وہ رونا شروع کر دے گا۔ تو اس کے رونے سے اس کی ماں کو پتہ چل جائے گا کہ بچے کو بھوک لگی ہے۔ تو دیکھا پہلے بچے کی طبیعت میں کیا پیدا ہوا؟ مدلول یعنی بھوک پیدا ہوئی یا بھوک پہلے سے موجود تھی اور پھر اس کی مدلول کی وجہ سے اس بھوک کی وجہ سے اس کی طبیعت نے کیا تقاضا کیا؟ کہ دال کو وجود دے یعنی رونا شروع کر دے اور پھر وہ رونا شروع کر دیتا ہے۔ اور اس رونے کی وجہ سے ماں کو مدلول کا پتہ چل گیا کس چیز کا؟ بھوک کا پتہ چل گیا جیسے وہاں پر اس دال ہائے ہائے کی وجہ سے اپ کو مدلول یعنی غم کا پتہ چل گیا تھا، دلالت طبعیہ کی تعریف سمجھ میں اگئی؟ کہ طبیعت کے اندر مدلول پہلے سے موجود ہو یا پیدا ہو جائے اور پھر طبیعت تقاضا کرے اور کس کو وجود دے دے؟ دال کو وجود دے دے اور پھر اس دال کی وجہ سے باقی لوگوں کو بھی کس چیز کا پتہ چل جائے؟ اس کو تو پہلے سے پتہ ہے نا کہ میں غمزدہ ہوں لیکن اس دال کی وجہ سے اب دوسروں کو بھی کیا ہوگا؟ مدلول کا پتہ چل جائے گا تو دیکھو دال نے کس پر دلالت کی؟ مدلول پر، دلالت آگئی بھئی۔
تو کتاب میں اور آسان ترکیب کریں گے کہ دلالت طبعیہ وہ ہے جس میں دال طبیعت کے اقتضا کی وجہ سے پیدا ہو، کیا؟ دال دال طبیعت کے اقتضا کے، طبیعت کے تقاضے کی وجہ سے پیدا ہو، دال کس کی وجہ سے ہو؟ ہاں بس، دلالت بھئی جہاں بھی دلالت ہوگی ایک دال اور ایک مدلول ہوگا یا نہیں؟ ایسا ہو سکتا ہے دلالت ہو اور دال اور مدلول نہ ہو؟ نہیں، جب بھی دلالت ہوگی ہمیشہ کیا ہوگا؟ دال اور مدلول بس اگر یہ دال کے طبیعت کے تقاضے سے پیدا ہوا ہے تو اس کو دلالت طبعیہ کہیں گے، تعریف سمجھ میں اگئی؟ کیا؟ دال اگر کس کی وجہ سے پیدا ہوا ہے؟ طبیعت کے تقاضے سے پیدا ہوا ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ اس کو دلالت طبعیہ کہیں گے، پھر دُہراؤ، دلالت کے اندر اگر دال کس کی وجہ سے ہو؟ طبیعت کے تقاضے کی وجہ سے دال پیدا ہوا ہے، طبیعت کے تقاضے کی وجہ سے دال کو وجود ملا ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ دلالت طبعیہ، صورت سمجھ میں اگئی؟
اب پھر دُہراؤ، دلالت کی دوسری تقسیم ہم پڑھ رہے ہیں، دوسری تقسیم کے اعتبار سے دلالت کی کتنی قسمیں ہیں؟ تین، ایک دلالت وضعیہ، ایک دلالت طبعیہ، ایک دلالت عقلیہ، پھر دُہراؤ، نمبر ایک دلالت وضعیہ، دوسرا دلالت طبعیہ، تیسرا دلالت عقلیہ۔ دلالت وضعیہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں وضع کا دخل ہو، جس میں کس کا دخل ہو؟ وضع کا دخل ہو، دلالت وضع کی وجہ سے ہو اگر وضع نہ ہوتی تو دلالت بھی نہ ہوتی۔
اور دوسری دلالت طبعیہ، دلالت طبعیہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں دال دال طبیعت کے تقاضے کی وجہ سے پیدا ہو بھئی، پھر دہرائیں جس میں جس میں دال طبیعت کے تقاضے کی وجہ سے پیدا ہو۔
تیسری ہے دلالت عقلیہ، دلالت عقلیہ، اس میں یاد رکھیے جو بھی دلالت وضعیہ نہیں ہوگی اور جو بھی دلالت طبعیہ نہیں ہوگی تو پھر وہ دلالت عقلیہ ہے، دیکھو اس کی تعریف آسان ہے، دلالت کی کتنی قسمیں تھیں؟ تین ہی تھیں نا یا وضعیہ یا طبعیہ یا عقلیہ، وضعیہ کی تعریف سمجھ آگئی جس میں کس کا دخل ہو؟ وضع کا، طبعیہ کی تعریف آگئی جس میں جس میں یوں کہہ لو طبیعت کا دخل ہو بھئی، جس میں طبیعت کا دخل ہو، طبیعت دال کو وجود دے اور تیسری قسم ہے دلالت عقلیہ وہ کسے کہیں گے؟ جس میں نہ وضع کا دخل ہو اور نہ جس میں طبیعت کا دخل ہو یا یوں کہو جو نہ دلالت وضعیہ ہو اور جو نہ دلالت طبعیہ ہو تو پھر سب پھر وہ باقی جتنی شکلیں آئیں گی وہ کس کے اندر داخل ہو جائیں گی؟ وہ دلالت عقلیہ کے اندر داخل ہو جائیں گی۔
مثلاً بھئی مثلاً اپ بیٹھے ہوئے ہیں کمرے کے اندر اور باہر اپ کو آواز آئی کوئی بات کر رہا ہے، اپ نے زور سے بلکہ کسی نے زور سے کہا دیز، کیا کہا؟ دیز، دال یا ز، یہ اسی زید کو الٹ دیا زید میں کیا تھا؟ ز یا دال اب الٹا کر دیا دال کو شروع میں لے آئے اور ز کو آخر میں لے گئے، کیا بن گیا؟ دیز، اچھا اب دیوار کے باہر سے کسی نے کہا دیز، اپ کو کیا پتہ چلا؟ جی، دیکھو دلالت کہتے ہیں نا ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چلے، جس جس چیز کا بھی پتہ چلے گا وہ سب دلالت کہلائے گی، کیا کہلائے گی؟ وہ دلالت کہلائے گی، اپ بیٹھے ہوئے ہیں اکیلے، سبق یاد کر رہے ہیں کمرے کے اندر باہر کسی نے زور سے کہا دیز، اپ کے ذہن میں کیا آیا؟ جی، یہ تو میں نے اپ کو بتایا، یہ تو میں نے اپ کو بتایا کہ یہ زید کو الٹا کرو تو کیا بن گیا؟ دیز، ورنہ اپ کو کوئی پتہ چل رہا تھا میں نے دیز پہلے کہا؟ نہیں، تو پھر اپ کو کیسے پتہ چلے گا یہ زید کو الٹا کیا اس نے؟ بھئی دیکھو، اپ کمرے کے اندر بیٹھے ہیں باہر سے کوئی بھی آواز آتی ہے اپ سمجھ جاتے ہیں باہر کوئی ہے، باہر کوئی آیا ہے، سمجھتے ہیں یا نہیں؟ تو دیکھا اپ تو باہر نہیں نکلے، اپ تو اندر ہی بیٹھے ہیں لیکن اس آواز سے اتنا اپ کو پتہ چل جاتا ہے کہ باہر کوئی آیا ہے تو یہاں بھی اپ کو کیا پتہ چلا؟ کہ باہر کوئی آیا ہے۔
اور زید نہیں کہا کتاب میں بھی اس کی مثال آئے گی دیز ہی بولیں گے کتاب میں بھی، کیوں؟ کیونکہ لفظ زید کو اگر کہیں باہر سے اگر اپ زید سنیں گے پھر اپ کو دو چیزوں کا پتہ چلے گا، ایک یہ بھی پتہ چلے گا کہ باہر کوئی آیا ہے اور پھر یہ بھی پتہ چلے گا وہ زید لفظ کی وجہ سے کس کی صورت آئے گی اپ کے ذہن میں؟ زید، تو یہ دو دلالتیں ہو جائیں گی، دو دلالتیں، بلکہ اگر وہ آواز اپ نے پہچان لی کہ یہ تو میرے فلاں ساتھی کی آواز ہے تو تیسری دلالت بھی ہو جائے گی کہ اپ کو اس شخص بولنے والے کا بھی پتہ چل گیا، مثلاً باہر کوئی آیا اور اس نے کیا کہا؟ زید، کتنی دلالتیں ہو گئیں؟ پہلی دلالت کیا ہوئی؟ کہ باہر کوئی آیا ہے، توجہ ہے؟ جیسے ہی اپ دیز نہ کہو اب زید ہی کہو، اپ کمرے میں بیٹھے سبق پڑھ رہے ہیں باہر کوئی آیا اور اس نے زور سے کہا زید، کیا کیا پتہ چلا؟ نمبر ایک کیا پتہ چلا؟ پہلے یہ پتہ چلا باہر کوئی آیا ہے، یہ پہلی دلالت ہوئی اور کیا پتہ چلا؟ کہ اس نے زید کہا تھا تو زید سے کس کی صورت اپ کے ذہن میں آگئی؟ تو لفظ زید نے ذات زید پہ دیکھو دلالت کر دی یہ دوسری دلالت ہو گئی، تیسری تیسری کیا دلالت ہوئی؟ مثلاً اپ نے آواز ہی پہچان لی فرض کریں، یہ اگر پہچان لی تو دلالت ہوگی نہیں پہچانی تو دلالت نہیں ہوگی، اپ نے آواز پہچان لی کہ یہ تو میرا ساتھی ہے عبداللہ یہ تو اس کی آواز ہے، تو دیکھا اپ کو عبداللہ کا بھی پتہ چل گیا کہ باہر کون آیا ہے؟ عبداللہ آیا ہے، اس آواز سے، تو یہ تیسری دلالت ہو گئی، دلالت اسی کو کہتے ہیں نا ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چل جائے، اپ کوئی باہر نکلے ہیں اپ کو پتہ ہے باہر عبداللہ آیا ہے لیکن آواز سے اپ کو پتہ چل گیا، تو یہ کتنی دلالتیں ہو گئیں؟ تین، تو لہٰذا انہوں نے زید نہیں کہا بلکہ کیا کہا؟ دیز، تاکہ دوسری دلالت کوئی ساتھ ملے ہی نہ، اب جب باہر سے اپ نے دیز کی آواز سنی تو اتنا پتہ چل گیا باہر کوئی آیا ہے اور تھا بھی کوئی ایسا آدمی جس کو اپ نہیں جانتے لہٰذا یہ بھی پتہ نہیں چلا باہر کون ہے تو صرف ایک دلالت ہوئی، کون سی؟ کہ باہر کوئی آیا ہے، کہ باہر کوئی آیا ہے، اب مجھے بتائیے یہ جو دیز سننے سے اپ کو پتہ چلا کہ باہر کوئی آیا ہے توجہ ہے؟ کیا سنا اپ نے؟ اور کیا پتہ چلا؟ باہر کوئی ہے، یہ دلالت وضعیہ ہے؟ کیا لفظ دیز کو ہم نے اردو میں اس لیے مقرر کیا ہے کہ اس سے پتہ چل جاتا ہے باہر کوئی آیا ہے؟ نہیں، یہ تو نہیں یہ تو لفظ تو مقرر ہی نہیں ہے یہ لفظ تو اس کا تو کوئی معنی ہی نہیں ہے مہمل لفظ ہے، مقرر سمجھ میں آئی جس کا لفظ کا کوئی معنی نہ ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ مہمل، تو یہ تو مہمل لفظ ہے کوئی بھی بول دے وہ لفظ، تو معلوم ہوا یہ دلالت وضعیہ نہیں۔
اچھا دلالت طبعیہ ہے؟ اس نے یہ جو لفظ دیز کہا یہ اس کی طبیعت نے تقاضا کیا؟ کوئی اس کو غم یا خوشی یا کوئی اور چیز تھی؟ نہیں، یہ ویسے اس نے کہا، تو معلوم ہوا دلالت طبعیہ بھی نہیں، جب نہ یہ دلالت وضعیہ ہے نہ یہ دلالت طبعیہ ہے تو پھر کون سی دلالت ہوئی؟ دلالت عقلیہ، یہ لفظ سنا اپ نے، اپ کی عقل نے اپ کو بتا دیا کہ باہر کوئی آیا ہے، دیوار کے اس طرف کوئی موجود ہے، تو یہ کیا ہے؟ دلالت عقلیہ، تو دلالت وضعیہ کسے کہتے ہیں جس میں کس کا دخل ہو؟ وضع کا، دلالت طبعیہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں طبیعت کا دخل ہو یعنی دال کو دال کو وجود دینے والی کون سی چیز ہے؟ طبیعت ہے، یا یوں کہیں جس میں دال طبیعت کے تقاضے سے پیدا ہو، جس میں دال کیا ہو؟ تقاضے سے پیدا ہو اور اگر نہ دلالت وضعیہ ہو اور نہ دلالت نہ دلالت طبعیہ ہو تو پھر تیسری صورت کیا ہے باقی سب دلالتیں کس میں آ گئیں؟ دلالت عقلیہ میں، دلالت عقلیہ کیوں عقلیہ کیوں کہتے ہیں؟ نام سے ہی پتہ چل رہا ہے کہ اس میں ہمیں عقل بتاتی ہے، عقل نے بتلایا زید دیز کا لفظ سنتے ہی عقل نے اپ کو بتلایا کہ باہر کوئی آیا ہے بھئی۔
اور یاد رکھیں، ویسے تو ہر دلالت میں عقل ہی ہمیں بتلاتی ہے، ایک آدمی کی عقل ہی نہ ہو پاگل ہو اسے ان چیزوں کا پتہ چلے گا؟ نہیں، اسے تو کوئی پتہ ہی نہیں، تو ہر دلالت اس میں عقل ہی کا دخل ہوتا ہے عقل ہوگی تو دلالت ہوگی عقل نہیں ہے تو دلالت بھی نہیں ہے، عقل نہیں ہے تو دلالت بھی نہیں، تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر باقیوں کو عقلیہ کیوں نہیں کہتے؟ بھئی فرق تو کرنا ہے، ہر دلالت میں عقل کا دخل ہے، اگر سب کا ہی نام عقلیہ رکھ دیں تو فرق کیسے ہوگا؟ تو لہٰذا فرق کرنے کے لیے کیا کہہ دیا؟ کہ جس میں وضع کا دخل ہوگا وہ کون سی قسم ہے؟ وضعیہ، اگرچہ وہاں بھی عقل کا دخل ہے بے شک وضع بھی ہو لیکن وضع کے لیے بھی کیا چاہیے؟ عقل چاہیے یا نہیں چاہیے؟ چاہیے، اور اگر دلالت طبعیہ ہو اس کے لیے بھی کیا چاہیے؟ عقل تو چاہیے پھر ہی بات سمجھ میں آئے گی، تو لہٰذا بس فرق کرنے کے لیے کہ جس میں وضع کا دخل ہو اس کو دلالت وضعیہ کہتے ہیں، جس میں دال جو ہے طبیعت کے تقاضے سے پیدا ہو اس کو دلالت طبعیہ کہتے ہیں اور ان دونوں کے علاوہ باقی ساری دلالتوں کو کیا کہتے ہیں؟ دلالت عقلیہ کہتے ہیں، تو دلالت کی پہلی تقسیم کیا تھی کہ دلالت کی دو قسمیں ہیں، یا دلالت لفظیہ ہوگی یا دلالت غیر، وہ تقسیم کس اعتبار سے تھی؟ دال کے اعتبار سے کہ دال لفظ ہے یا لفظ نہیں، اگر دال لفظ ہو تو دلالت لفظیہ، اگر دال لفظ نہ ہو تو دلالت غیر لفظیہ، پھر دلالت کی دوسری تقسیم کی کہ دلالت کی دوسری قسم بھی ہے اور وہ کیا ہے؟ دلالت وضعیہ، دلالت طبعیہ اور دلالت عقلیہ۔
اچھا بنیادی باتیں اپ نے سمجھ لیں، اب چھوٹی دو چار باتیں اور سمجھ لیں بھئی، دیکھو دلالت وضعیہ اس کے آگے پھر دو قسمیں ہیں، کیا ہیں؟ اس میں وضع کا دخل ہے نہ؟ مقرر کرنا اور مقرر کرنا بعض اوقات میں نے کہا زید، کیا چیز ذہن میں آئی؟ زید کی ذات، وضع ہے؟ وضع ہے، تو دلالت کون سی ہوئی؟ وضعیہ، اور دال لفظ ہے یا غیر لفظ؟ لفظ ہے، تو یہ دلالت لفظیہ وضعیہ ہوئی، دلالت لفظ نے کی اور کس وجہ سے کی؟ وضع کی وجہ سے کی تو کیا ہے دلالت لفظیہ وضعیہ، اور وضعیہ کی دوسری قسم، اپ گاڑی چلا رہے تھے اور چوک میں پہنچے تو سرخ لائٹ جل گئی، اپ نے کیا کیا؟ گاڑی روک لی، تو دیکھو یہ سرخ لائٹ کو ہم نے کس لیے مقرر کیا ہے؟ گاڑی روکنے کے لیے، تو بتائیے اس میں وضع ہے یا وضع نہیں؟ وضع ہے، اور کوئی کسی نے زبان سے کچھ کہا اپ نے گاڑی روکی یا اشارے کو دیکھ کر ہی گاڑی روک لی؟ تو دلالت لفظیہ ہوئی یا غیر لفظیہ؟ غیر لفظیہ، تو یہ ہو گئی دلالت غیر لفظیہ وضعیہ، معلوم ہوا دلالت وضعیہ کی دو قسمیں بن گئیں، توجہ ہے؟ کون سی؟ لفظیہ بھی اور غیر لفظیہ بھی، وضع کا دخل ہے اور دال لفظ ہے تو لفظیہ اور وضع کا دخل ہے لیکن دال غیر لفظ ہے تو دلالت غیر لفظیہ، صورت سمجھ میں آگئی؟
اسی طرح دلالت طبعیہ اس کی بھی دو قسمیں ہوں گی یا وہ لفظیہ ہوگی یا غیر لفظیہ، مثلاً دیکھو اپ کے ساتھی نے کہا ہائے ہائے، اب بتائیے دال کیا ہے؟ ہائے ہائے، اور یہ دال اس دال کو کس نے وجود دیا؟ دال کو طبیعت نے وجود دیا، طبیعت نے تقاضا کیا کس کی وجہ سے؟ مدلول کی وجہ سے، تو دلالت کون سی ہوئی؟ طبعیہ، اور دال لفظ ہے یا غیر لفظ ہے؟ لفظ ہے، ہائے ہائے کیا ہے؟ لفظ، تو کون سی دلالت ہوئی؟ دلالت لفظیہ طبعیہ، اور اگر دال لفظ نہ ہوتا تو پھر غیر لفظیہ طبعیہ ہوتی، مثلاً مثلاً اپ نے گائے رکھی ہوئی ہے اور گائے کو بھوک لگی ایک صورت یہ ہے وہ بولنا شروع کر دے گی یا وہ جب زیادہ بولنے لگے اپ سمجھ گئے معلوم ہوا یہ یہ یہ گھاس وغیرہ طلب کر رہی ہے اس کو بھوک لگی ہے، یہ چارہ طلب کر رہی ہے، صورت سمجھ میں آگئی؟ یا دوسری صورت یہ ہے وہ بولتی نہیں ہے وہ اپ نے اس کو باندھا ہوا ہے وہ تیزی سے ادھر ادھر اس جگہ کے گرد گھومنے لگ جاتی ہے اپ سمجھ جاتے ہیں معلوم ہوا اس کو بھوک لگی ہے، تو اپ کو پتہ چلا کس چیز کا؟ گائے کی بھوک کا، اور کس وجہ سے پتہ چلا؟ اس کے چکر لگانے کی وجہ سے، اور چکر لگانا لفظ ہے؟ نہیں، تو دلالت کون سی ہوئی؟ غیر لفظیہ، اور وہ چکر لگا رہی ہے کس وجہ سے؟ یہ اس کی طبیعت نے تقاضا کیا ہے، طبیعت میں بھوک پیدا ہوئی اور پھر طبیعت نے تقاضا کیا کہ وہ چکر لگائے، تو اس دال کو کس نے وجود دیا؟ یہ چکر لگانے کو؟ طبیعت کے تقاضے نے، تو یہ دلالت کون سی ہوئی؟ طبعیہ غیر لفظیہ، اور اسی میں اگر وہ گائے بولتی ہے چکر لگانے کے بجائے بولنا شروع کر دیتی ہے تو بھی اپ کو کیا پتہ چلا کہ گائے کو بھوک لگی ہے، تو یہ کون سی دلالت ہوئی؟ دلالت لفظیہ یا غیر لفظیہ؟ جی؟ ہاں بھئی، غیر لفظیہ، کیوں؟ لفظ وہ ہے جو ہم بولتے ہیں ہر آواز لفظ نہیں ہوتا، گائے کہاں سے لفظ بولنا شروع کر دے؟ لفظ کسے کہتے ہیں؟ جس پہ ہم تلفظ کر دیں جو ہم بولتے ہیں یہ ہیں الفاظ، ہر آواز کو لفظ نہیں کہتے بھئی، حیوانوں کی آواز ہے، گاڑیوں کی آواز ہے، مشینوں کی آواز ہے وہ سب غیر لفظیہ ہیں، یہ جو ہم بول رہے ہیں زبان سے یہ کیا ہے؟ لفظیہ، تو لہٰذا اب اگر گائے کی آواز سے بھی اپ کو اس کی بھوک کا پتہ چلا یہ دلالت کون سی ہوئی؟ غیر لفظیہ، اور کون سی غیر لفظیہ؟ طبعیہ ہے۔
تو معلوم ہوا دلالت وضعیہ کی دو قسمیں ہو گئیں یا وہ لفظیہ ہوگی یا غیر لفظیہ، اسی طرح دلالت طبعیہ کی بھی دو قسمیں ہو گئیں یا وہ لفظیہ ہوگی یا غیر لفظیہ، اسی طرح عقلیہ کی بھی دو قسمیں ہیں، اس میں بھی دلالت یا لفظ کی وجہ سے ہوگی یا غیر لفظ، لفظ کی وجہ سے دلالت ہو، دیوار کے پیچھے سے اپ نے دیز سنا، دیز لفظ ہے یا نہیں؟ جی؟ اور یہ کون سی دلالت تھی؟ اپ کو دوسرے آدمی کا پتہ چلا دیوار کے پیچھے ہے، دلالت عقلیہ تھی، اور دال کیا ہے؟ لفظ ہے یا غیر لفظ؟ لفظ ہے، تو کون سی دلالت ہوئی؟ لفظیہ عقلیہ ہو گئی، اور اگر اس کے بجائے دوسری دیکھ لیں، اپ نے دور سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا اپ کو کیا پتہ چلا؟ کہ نیچے آگ جل رہی ہے، اب مجھے بتائیے دلالت وضعیہ ہے؟ یہ کوئی اپ نے مقرر کیا ہے کہ دھوئیں سے آگ کا پتہ چلے گا؟ نہیں، اس میں اپ کا کوئی دخل نہیں ہے۔ وضعد کا دخل نہیں ہے۔
کیا یہ دھواں طبیعت کے تقاضے سے پیدا ہوا ہے؟ نہیں، یہ بھی نہیں ہے۔ معلوم ہوا یہ وضعیہ بھی نہیں اور وضعیہ بھی نہیں اور طبعیہ بھی نہیں، تو پھر کون سی ہوئی؟ عقلیہ ہوئی۔ اور دھوئیں کو دیکھا اور آگ کا پتہ چلا، اس میں کوئی لفظ ہے؟ کسی نے زبان سے کچھ کہا؟ نہیں، تو دلالتِ غیر لفظیہ عقلیہ ہو گئی۔
سب کو بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی۔ تو دلالت کی دوسری تقسیم آپ نے پڑھی۔
کیا پڑھی تقسیم؟ پہلی تقسیم کیا تھی دلالت کی، کتنی قسمیں ہیں؟
پہلی تقسیم پڑھی، دلالت کی دو قسمیں ہیں: دلالتِ لفظیہ اور دلالتِ غیر لفظیہ۔
پھر آپ نے تقسیم پڑھی دوسری کہ دلالت کی تین قسمیں ہیں، اور ایک کی، پہلی کیا؟ وضعیہ، دوسری طبعیہ، تیسری عقلیہ۔
پھر ان میں سے ہر ایک کی دو دو قسمیں ہیں: وضعیہ ہو، تو بھی وہ لفظیہ ہوگی یا غیر لفظیہ۔ طبعیہ ہو، تو وہ بھی لفظیہ ہوگی یا غیر لفظیہ۔ اور عقلیہ ہو، تو وہ بھی لفظیہ ہوگی یا غیر لفظیہ۔ بات اچھی طرح سمجھ... تو کتنی قسمیں ہو گئیں یہ؟ چھ، چھ۔
اسی کو انہوں نے دوسرے انداز میں ذکر کر دیا۔ میں نے کیا کہا؟ میں نے پہلے تین قسمیں بنائیں۔ وضعیہ، طبعیہ اور عقلیہ۔ پھر ان میں سے ہر ایک کی کتنی بنا دیں؟ دو دو بنا دیں، تو کتنی ہو گئیں؟ چھ۔ وہ دوسرے طریقے سے بناتے ہیں، وہ کہتے ہیں دلالت دو قسم پر ہے: ایک لفظیہ اور ایک غیر... غیر لفظیہ۔ پھر دلالتِ لفظیہ کی تین قسمیں ہیں: دلالتِ لفظیہ وضعیہ، دلالتِ لفظیہ طبعیہ، دلالتِ لفظیہ عقلیہ۔ اور دلالتِ غیر لفظیہ کی بھی تین قسمیں ہیں، کون سی؟ دلالتِ غیر لفظیہ وضعیہ، دلالتِ غیر لفظیہ طبعیہ، دلالتِ غیر لفظیہ عقلیہ۔ تو چاہے اس طرح تقسیم کر لیں، چاہے اس طرح کر لیں، وہی چھ قسمیں ہی بنیں گی۔
اب دیکھیے ذرا کتاب پر بھئی، تو کہتے ہیں: دلالتِ لفظیہ کی تین قسمیں ہیں: لفظیہ وضعیہ، لفظیہ طبعیہ، لفظیہ عقلیہ۔
دلالتِ لفظیہ وضعیہ: وہ دلالت ہے کہ دال اس میں لفظ ہو۔ دال کیا ہو؟ لفظ ہو۔ کیونکہ دلالتِ لفظیہ ہے نا، اس میں دال ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ لفظ۔ تو دال اس میں لفظ ہو اور دلالت وضع کی وجہ سے ہو، جیسے لفظِ زید کی دلالت زید کی ذات پر۔ اگر لفظِ زید ذات کے لیے موضوع نہ ہوتا، تو دلالت نہ ہوتی۔
دوسری قسم کیا ہے؟ دلالتِ لفظیہ طبعیہ: وہ دلالت ہے کہ دال اس میں لفظ ہو—کس کی قسمیں بیان ہو رہی ہیں؟ لفظیہ کی، تو دال لفظ ہوگا—تو وہ دلالت ہے کہ دال اس میں لفظ ہو اور دلالت بوجہ طبیعت کے اقتضا کے ہو، جیسے آہ آہ کی دلالت کسی رنج و صدمہ پر، صدمہ، تکلیف، دکھ، غم... کسی رنج اور صدمہ پر کہ تمہاری طبیعت رنج و صدمہ کے وقت اس لفظ کے بولنے پر مقتضی ہے، یعنی اس کا تقاضا کرتی ہے۔
دلالتِ لفظیہ عقلیہ: وہ دلالت ہے کہ دال اس میں لفظ ہو اور دلالت بوجہ عقل کے اقتضا کے ہو، عقل تقاضا کرتی ہے، عقل آپ کو بتلاتی ہے کہ دیز لفظ سنا تو معلوم ہوا دیوار کے پیچھے کوئی ہے، جیسے دلالت لفظِ دیز کی، جو دیوار کے پیچھے سے سنا جائے، اس لفظِ دیز کی دلالت کس پر؟ بولنے والے کے وجود پر۔
اسی طرح دلالتِ غیر لفظیہ کی بھی تین قسمیں ہیں: غیر لفظیہ وضعیہ، غیر لفظیہ طبعیہ اور غیر لفظیہ عقلیہ۔
دلالتِ غیر لفظیہ وضعیہ: وہ دلالت ہے کہ دال اس میں لفظ نہ ہو—یہ کون سی، کس کی قسمیں چل رہی ہیں؟ غیر لفظیہ، تو اس میں دال کبھی بھی لفظ نہیں ہوگا، تو اس لیے کہا—وہ دلالت ہے کہ دال اس میں لفظ نہ ہو اور دلالت بوجہ وضع کے ہو، جیسے لکھے ہوئے حروف کی دلالت حروف پر، جیسے مثلاً زید، یہ نقوش لفظِ زید پر دلالت کرتے ہیں۔ ز،ی،د لکھا، آپ کو کیا سمجھ میں آیا؟ لفظِ زید۔ آپ کو میں کہوں گا پڑھو، آپ کہیں گے زید، لفظ پڑھیں گے، زبان سے بولیں گے، تو یہ نقوش لفظِ زید پر دلالت کرتے ہیں۔
دلالتِ غیر لفظیہ طبعیہ: وہ دلالت ہے کہ دال لفظ نہ ہو اور دلالت بوجہ طبیعت کے اقتضا کے ہو، جیسے گھوڑے کا ہنہنانا دلالت کرتا ہے گھاس دانہ کی طلب پر۔ جیسے میں نے ذکر کی گائے کی مثال، گائے بول رہی ہے، کس چیز پر دلالت ہو رہی ہے؟ دانا... گھاس اور چارہ طلب کر رہی ہے، اسی طرح گھوڑے کا ہنہنانا بھی دلالت کرتا ہے گھاس دانے کی طلب پر کہ وہ گھاس طلب کر رہا ہے۔
دلالتِ غیر لفظیہ عقلیہ: وہ دلالت ہے کہ دال لفظ نہ ہو اور دلالت بوجہ عقل کے ہو، جیسے دھوئیں کی دلالت آگ پر۔ یہ کل چھ قسمیں دلالت کی ہوئیں، ان کو خوب یاد کر لو۔
آگے بھئی سوالات ہیں، وہ بھی دیکھ لیجیے۔
نمبر ایک: دلالت کی تعریف کرو۔ جی بتائیے، دلالت کسے کہتے ہیں؟ کہ ایک چیز سے دوسری... دوسری چیز کا پتہ چل جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالت، یا ایک چیز کے علم سے دوسری چیز کا علم ہو جائے۔
وضع کی تعریف کرو۔ جس میں دال کو مقرر کیا جاتا ہے کس کے لیے؟ مدلول... جس میں ایک چیز دوسری چیز پر دلالت کرتی ہے کس وجہ سے؟ وضع کی وجہ سے، یعنی اس کو کیا کیا جاتا ہے؟ مقرر کیا جاتا ہے۔
دلالتِ لفظیہ اور غیر لفظیہ کی تعریف اور ان دونوں کی قسمیں بیان کرو، تو اس میں چھ قسمیں آ جائیں گی۔
اب اگلا سوال ہے: امثلہ ذیل میں غور کر کے بتاؤ کہ کون سی دلالت ہے؟ نیچے غور... جو مثالیں دی ہیں، ان میں آپ نے مجھے بتانا ہے کون سی دلالت ہے، اور یہ بھی بتاؤ کہ دال کون ہے اور مدلول کون ہے؟
پہلی مثال: سر کا ہلانا "ہاں" یا "نہیں۔" بھئی دیکھیے، پہلے بات کو سمجھ لیں۔ میں نے آپ سے پوچھا: کھانا کھاؤ گے؟ آپ نے دائیں بائیں سر ہلا دیا۔ باقی لوگوں کو بھی پتہ چل گیا، کیا پتہ چلا؟ وہ نہیں کھانا چاہتا، کیونکہ یہ دائیں بائیں سر ہلانے کو ہم نے مقرر کیا ہے "نہیں" کے لیے، اور اگر آپ سر اوپر نیچے ہلا دیتے تو پھر کیا معنی ہوتا؟ کہ ہاں، میں کھانا کھاؤں گا۔ تو اوپر نیچے سر ہلانے کو ہم نے مقرر کیا ہے "ہاں" کے لیے، اور دائیں بائیں ہلانے کو ہم نے مقرر کیا ہے کس کے لیے؟ "نہیں" کے لیے۔ یہ ہم نے مقرر کیا ہے، ہر جگہ ایسا نہیں ہے۔ بعض ممالک میں آپ جائیں، وہ "نہیں" کے لیے، "نہیں" کے لیے سر کو یوں اوپر کو ہلاتے ہیں۔ ہم تو اوپر نیچے ہلائیں تو یہ کیا ہوتا ہے؟ ہاں۔ وہ صرف اوپر کی طرف یوں سر ہلاتے ہیں، اس کا معنی ہوتا ہے "نہیں۔" آپ وہاں بیٹھے بات کر رہے ہوں، آپ کوئی بات پوچھیں گے وہ یوں اوپر کو سر ہلا دے گا، آپ حیران ہوں گے یہ کیا کہہ رہا ہے؟ تو وہ دراصل ان کے ہاں "نہیں" کا ہے، جیسے ہم دائیں بائیں ہلاتے ہیں، وہ کدھر کو ہلاتے ہیں؟ اوپر کو۔ تو یہ... یہ عقلاً نہیں ہے کہ عقل بتا دیتی یہ ہاں والا اشارہ ہے یا یہ نہیں والا اشارہ ہے، بلکہ یہ ہم نے کیا کیا ہے؟ مقرر کیا ہے، ہاں کے لیے یہ اشارہ ہے سر کا اور نہیں کے لیے سر کا یہ اشارہ۔
اب آئیے کتاب پر: سر کا ہلانا "ہاں" یا "نہیں۔" سر کا ہلانا ہاں کے لیے کس طرح ہوتا ہے؟ اوپر سے نیچے، نہیں کے لیے کیسے ہوتا ہے؟ دائیں بائیں، اب مجھے بتائیے، سر کا ہلانا اور اس سے پتہ چلا ہاں یا نہیں کا، دال کون؟ سر کا ہلانا، اور مدلول کیا؟ ہاں یا نہیں۔ اچھا، اب... اور بتاؤ کون سی دلالت ہے؟ لفظ ہے؟ نہیں، غیر لفظیہ ہے، اور پھر کون سی لفظیہ ہے؟ وضعیہ ہے، تو یہ دلالتِ غیر لفظیہ وضعیہ ہے، اور دال کیا؟ سر کا ہلانا، اور مدلول کیا؟ ہاں یا نہیں۔
دوسری مثال پہ آؤ: سرخ جھنڈی، ریل کا ٹہرانا۔ آپ جانتے ہیں ریل گاڑی آتی ہے اور وہ... ریلوے کے آدمی سرخ جھنڈی ہلاتے ہیں، تو اس کا مطلب کیا ہے؟ ریل کو وہ روک لیتے ہیں، ریل گاڑی کو روک لیتے ہیں، تو یہ ٹھہرانے کی نشانی ہوتی ہے سرخ جھنڈی کہ کوئی... یا خطرے کی بات ہے یا کیا وجہ ہے، تو وہ پھر روک لیتے ہیں۔ اب مجھے بتائیے، دال کیا؟ سرخ جھنڈی دال، اور مدلول کیا؟ ریل گاڑی کو روک لینا، اس کو ٹھہرا لینا۔ اور مجھے بتائیے، یہ دلالتِ لفظیہ ہے، غیر لفظیہ ہے؟ غیر لفظیہ، اور پھر کون سی غیر لفظیہ ہے؟ وضعیہ ہے، ہم نے مقرر کیا ہے کہ سرخ جھنڈی جب ہلائی جائے تو کیا کرنا ہے گاڑی کو؟ روک لینا ہے، تو دلالتِ... غیر لفظیہ وضعیہ ہے۔
تیسری مثال پر آئیے: تار کے کھٹکے کی آواز، تار کا مضمون۔ بھئی، یہ تو اب چیز تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ جیسے دیکھو، قدیم زمانے میں ایک دوسرے کو پیغام بھیجنے کا طریقہ صرف خط کے ذریعے تھا، یا کسی آدمی کو بھیج دیتے وہ آپ کا پیغام وہاں پہنچا دیتا، یا خط بھجوا دیتے آپ خط کے ذریعے، اور پھر اس کے بعد یہ قریب کے زمانے میں ٹیلی فون ایجاد ہوا، ٹیلی فون کے ذریعے بھی اب براہِ راست ہم ایک جگہ سے دوسری جگہ بات کر لیتے ہیں۔ اسی طرح ایک دوسرے کو پیغام بھجوانے کے لیے ایک طریقہ تار کا بھی تھا، تار بھیج دیتے تھے، کیا بھیج دیتے تھے؟ تار بھیج دیتے تھے، وہ... اور اسی کو ٹیلی گرام بھی کہتے ہیں، ٹیلی گرام۔ ڈاک خانے میں جاتے وہاں ایک مشین لگی ہوتی ٹیلی گراف بھئی، اور پھر اس کو بتا دیتے تھے مختصر سی بات کہ میرا یہ پیغام ہے، یہ فلاں آدمی کو پہنچا دیا جائے، اور وہ پھر ٹیلی گراف والے وہ اس مشین کو چلانے والے جو جانتے ہوتے... جانتے تھے، جو جنہیں وہ مشین آتی وہ اس مشین پر اس پیغام کو لکھتے، لیکن اس... جیسے مثلاً آپ نے پیغام بھجوایا کہ میں تین دن بعد کراچی آؤں گا، تو اب یہ اردو تو اس میں نہیں لکھ سکتے تھے، وہ پھر اس کے آواز ہوتی تھی تار کی یہاں مثلاً... آپ نے کیا پیغام بھجوایا؟ میں تین دن بعد کراچی آؤں گا۔ تو میم کے لیے مثلاً انہوں نے مقرر کیا ہوا تھا کہ میم کے اوپر تین دفعہ یہ تار ٹھک ٹھک کرے گی، ٹھک ٹھک ٹھک، اس تین سے آپ فوراً سمجھ جانا یہ کیا ہے؟ میم۔ میں میں پھر کیا ہے؟ یا۔ مثلاً یا کے لیے فرض کرو انہوں نے مقرر کیا تھا چار دفعہ ٹھک ٹھک ہوگی، جب وہ چار دفعہ ٹھک ہوتی تو وہ آگے وہ جو دوسری طرف کراچی میں جو بیٹھا ہوتا ڈاک خانے میں آدمی جو نوٹ کر رہا ہوتا، وہ جب تین دفعہ ٹھک ہوتی وہ میم لکھ لیتا، پھر چار دفعہ ہوتی تو کیا لکھ لیتا؟ یا لکھ لیتا، پھر مثلاً نون غنہ آیا، مثلاً اس کے لیے پانچ، یہ ویسے سمجھانے کے لیے بتا رہا ہوں، مختلف صورتیں تھیں وہاں، تو اب پانچ دفعہ جب ٹھک ٹھک ہوئی وہ سمجھ گیا کیا ہے؟ نون غنہ، اب میم، یا اور نون غنے کو جوڑا تو کیا بن گیا؟ میں۔ اس طرح وہ پورا ایک جملہ بن جاتا تھا پھر اور وہ جس کو پہنچانا ہوتا تھا پھر پہنچا دیا جاتا تھا، تو اس کو ٹیلی گرام کہتے تھے، ٹیلی گرام، یا اردو میں تار کہتے تھے: میں نے تار بھیجی ہے۔
اب یہ جو تار... یہاں سے پیغام جا رہا ہے، یہاں والا پیغام بھیج رہا ہے، جو کراچی والا ہے وہاں وہ تار ٹھک ٹھک کر رہی ہے، وہ اس ٹھک ٹھک سے پہچانتا جا رہا ہے کیا لکھنا ہے؟ میم لکھنا ہے، یا لکھنی ہے، نون غنہ لکھنا ہے، تو یہ جو تار کی ٹھک ٹھک ہے یہ ہے دال، اور جو وہ آگے سمجھتا جا رہا ہے اور لکھتا جا رہا ہے وہ کیا ہے؟ مدلول ہے۔ اب مجھے بتائیے، تار کے کھٹکے کی آواز یہ کیا ہے؟ دال، اور وہ جو تار کا مضمون ہے وہ کیا ہے؟ مدلول۔ اب مجھے بتائیے، دال لفظ ہے، غیر لفظ ہے؟ ہاں، تو غیر لفظ ہے، تار کی ٹھک ٹھک ہے، آواز... وہ الفاظ نہیں ہیں، تو یہ دلالت کون سی ہوئی؟ غیر لفظیہ، اور کون سی قسم ہوئی؟ وضعیہ، ہم نے مقرر کیے ہیں ان کی آوازیں، یہ اس چیز کی آواز ہے، یہ اس چیز کی، تو دلالت... تو دلالت کون سی ہوئی؟ دلالتِ... غیر لفظیہ وضعیہ ہوئی۔
اگلے پر، چوتھی مثال پر آئیے: لفظِ قلم، تختی، مدرسہ، زید، انسان۔ دیکھو، میں نے کہا... ایک ایک لفظ پہ غور کرنا، قلم... کچھ ذہن میں آیا؟ قلم کی صورت آگئی ذہن میں۔ میں نے کہا تختی، کس چیز کی صورت ذہن میں آئی؟ تختی کی۔ میں نے کہا مدرسہ، کس کی صورت آگئی؟ مدرسے کی۔ میں نے کہا زید، کس کی صورت آئی؟ زید کی صورت، اور میں نے کہا انسان، تو ذہن میں کس کی صورت آگئی؟ انسان کی۔ اب مجھے بتائیے، دلالت لفظیہ ہے، غیر لفظیہ ہے؟ لفظیہ... میں بولتا جا رہا ہوں نا: قلم، زید، انسان، مدرسہ، تو دلالت کون سی ہے؟ لفظیہ ہے، اور کون سی دلالت ہے؟ وضعیہ... بھئی یہ لفظ ہم نے مقرر کیے ہیں، یہ خود بخود تو نہیں ہیں، انگریز کے سامنے میں یہ لفظ بولوں گا یا عرب کے سامنے بولوں گا، اسے کچھ سمجھ میں آئے گی؟ نہیں، معلوم ہوا یہ ہم نے مقرر کیے ہیں ان چیزوں کے لیے، تو کون سی دلالت ہوئی؟ دلالتِ... دلالتِ لفظیہ وضعیہ۔ اگر ان کو الفاظ شمار کریں، یہ قلم، تختی، مدرسہ، زید، انسان... اس کو کیا شمار کرو؟ الفاظ شمار کرو، تو یہ دلالت کون سی ہوئی؟ لفظیہ وضعیہ، اور اگر اس کو لکھائی شمار کرو... میں کچھ بھی نہیں کہتا، میں کہتا ہوں یہ پہلے لفظ کو دیکھو کچھ سمجھ میں آ رہا ہے؟ میں نے زبان سے نہیں "قلم" کہا، آپ نے صرف اس "قلم" لفظ پہ نظر ڈالی آپ کو ذہن میں "قلم" لفظ سمجھ میں آگیا، تو پھر کون سی دلالت ہوئی؟ غیر لفظیہ، اور کون سی؟ وضعیہ۔ تو اس مثال میں دونوں احتمال ہیں: اگر ان کو الفاظ شمار کریں تو دلالتِ لفظیہ وضعیہ، اور اگر ان کو لکھائی شمار کریں تو دلالتِ غیر لفظیہ وضعیہ ہے۔ تو یہ جو لفظ ہیں یہ ہوئے دال، اور جو چیزوں کی صورت، ان چیزوں کی ذات ذہن میں آپ کے آگئی وہ کیا ہے؟ مدلول ہے۔
اب آگیا یہ پانچویں مثال: دھوپ۔ دھوپ سے کس کا پتہ چلتا ہے؟ سورج کا، تو دھوپ ہوئی دال اور سورج کا نکلنا مدلول، جی، اور دلالت کون سی؟ آپ نے دیوار پہ دھوپ دیکھی... غیر لفظیہ، اور کون سی ہے؟ وضعی... ہم نے مقرر کیا ہے کہ دھوپ سے سورج کا پتہ چلے گا؟ دھوپ سے سورج کا پتہ چلے گا۔ ہاں، ہم نے مقرر کیا ہے؟ تو وضعیہ تو نہیں، اچھا طبعیہ ہے؟ طبیعت نے تقاضا کیا، دھوپ نکل آئی؟ دلالتِ عقلیہ، تو کون سی ہوئی؟ دلالتِ... عقلیہ، یوں کہو: دلالتِ غیر لفظیہ عقلیہ بھئی۔
آگے: آہ اور اوہ اوہ کی آواز بھئی، تو یہ آہ اور اوہ اوہ کی آواز یہ کیا ہے؟ دلالتِ لفظیہ ہے، اور کیونکہ دال لفظ ہے، اور کس چیز کا پتہ چلا؟ غم کا اور دکھ کا، تو وہ کیا ہے؟ مدلول۔ یہ دال ہے یہ الفاظ، اور وہ مدلول، تو یہ کون سی دلالت ہوئی؟ لفظیہ، اور کون سی؟ طبعیہ، تو دلالتِ لفظیہ طبعیہ ہو گئی بھئی۔
اچھی طرح مثالیں سمجھ میں آ گئیں بھئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔