Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تيسير المنطق · dars-009

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Ghais
📍 Location Lahore, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 12
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
جی آگے سبق دیکھیے بھئی کتاب پر۔ ‏ سبقِ چہارم۔ دلالت و وضع اور دلالت کی قسمیں۔ دلالت:‏ کسی شئے کا خود بخود قدرتی طور سے یا کسی کے مقرر کرنے سے ایسا ‏ہونا کہ اس کے جاننے سے دوسری چیزِ نامعلوم کا علم ہو جائے۔ پہلی شئے کو جس سے علم ہوا ہے دال اور دوسری چیز کو جس کا علم ہوا ‏مدلول کہتے ہیں۔ جیسے دھوئیں کو جب ہم دیکھیں تو اس سے آگ کا علم ہم کو ‏ضرور ہو گا۔ پس دھواں دال اور آگ مدلول، اور دھوئیں کا اس طور پر ہونا کہ ‏اس کے علم سے آگ کا علم ہوتا ہے دلالت ہے۔ اچھا بھئی! پہلے ذرا گزشتہ اسباق کا مختصر خلاصہ کر لیں بھئی۔ آپ جانتے ہیں کہ علم کا معنیٰ ہے جاننا اور پہچاننا، اور ہمارا علم دو قسم پر ‏ہے: یا وہ تصور ہے یا تصدیق ہے۔ تصدیق کے اندر بات پوری ہوتی ہے اور ‏اس کا علم یقینی ہوتا ہے، جبکہ تصور کے اندر یا بات پوری نہیں ہو گی یا اس ‏اگر بات پوری ہے تو اس کا علم یقینی نہیں ہو گا، یا وہ انشاء ہو گا وغیرہ، ‏تصور کی کئی صورتیں آپ پڑھ چکے ہیں بھئی، کئی صورتیں۔ پھر آپ نے یہ بھی پڑھا کہ تصور بھی دو قسم پر ہے اور تصدیق بھی دو قسم ‏پر: تصور یا بدیہی ہو گا یا نظری، اسی طرح تصدیق بھی یا بدیہی ہو گی یا ‏نظری۔ بدیہی کا کیا معنیٰ؟ کہ وہ فوراً ہی ہمیں سمجھ میں آ جائے، اور نظری ‏کا کیا معنیٰ؟ کہ ہمیں اس میں غور و فکر کرنا پڑتا ہے، دماغ خرچ کرنا پڑتا ‏ہے۔ اور پھر آپ نے نظر اور فکر کی تعریف پڑھی۔ نظر و فکر کسے کہتے ہیں؟ ‏کہ دو یا زیادہ معلوم تصوروں کو ملا کر نامعلوم تصور کو حاصل کرنا، یا اسی ‏طرح دو یا زیادہ معلوم تصدیقوں کو ملا کر نامعلوم تصدیق کو حاصل کرنا۔ یا ‏مختصر لفظوں میں تصور اور تصدیق کو ختم کر دیں تاکہ دونوں شامل ہو ‏جائیں: دو یا زیادہ معلوم چیزوں کو ملا کر نامعلوم چیز کو حاصل کرنا، یہ کیا ‏کہلاتا ہے؟ نظر اور فکر۔ چاہے دو یا زیادہ تصور ہو جائیں تو آگے تصور ہی ‏حاصل ہو گا، یا دو یا سے یا دو سے زیادہ تصدیق ہو جائیں اور آگے پھر کیا ‏حاصل ہو گی؟ تصدیق ہی حاصل ہو گی، کیونکہ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ ‏مجهول تصور کا علم معلوم تصور ہی سے حاصل ہو گا، اور مجهول تصدیق کا ‏علم معلوم تصدیق ہی سے حاصل ہو گا۔ اس کے بعد آپ نے منطق کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت پڑھی۔ ‏منطق کی تعریف آپ نے پڑھی کہ منطق وہ علم ہے جو نظر و فکر میں غلطی ‏سے ہماری حفاظت کرتا ہے۔ کیونکہ نظر و فکر میں ہم کیا کرتے ہیں؟ دو یا ‏زیادہ معلوم چیزوں کو ملاتے ہیں، جوڑتے ہیں، ترتیب دیتے ہیں، اور اس ‏جوڑنے اور ترتیب دینے میں کبھی غلطی بھی ہو جاتی ہے، تو لہذا ایک علم ‏کی ضرورت تھی جو کیا کرے؟ اس میں ہماری غلطی سے حفاظت کرے، اور ‏وہ علم کون سا ہے؟ منطق کا علم ہے۔ اور میں نے اس کی مثال سے وضاحت کی تھی کہ جیسے دیکھو، مثلاً آپ کے ‏پاس چھوٹی گھڑی کے پرزے بھی ہیں، بڑی گھڑی کے پرزے بھی ہیں، اور ‏آپ ان میں سے چھوٹی گھڑی کے پرزے جوڑ کر چھوٹی گھڑی بنانا چاہتے ‏ہیں، تو کیا کرنا پڑے گا؟ اس کے پرزوں کو الگ کرنا پڑے گا، پھر ان کو ‏ترتیب سے جوڑنا پڑے گا، پھر آخر میں آپ کو وہ چھوٹی گھڑی حاصل ہو ‏جائے گی۔ لیکن اس جوڑنے میں اور ترتیب دینے میں کیا ہو سکتی ہے؟ غلطی ‏بھی ہو سکتی ہے، تو ایک علم کی ضرورت ہے جو اس میں غلطی سے ہماری ‏حفاظت کرے، تو یہاں جیسے آپ کو گھڑی کے بنانے کا علم ہو گا تو وہ علم ‏آپ کو غلطی سے بچائے گا اور آپ ٹھیک طریقے سے گھڑی بنا لیں گے۔ تو ‏اسی طرح نظر و فکر کے اندر غلطی ہونے کا بھی امکان ہوتا ہے، تو اس کے ‏لیے کچھ ضابطوں اور کچھ قوانین کی ضرورت تھی جن کا نام علمِ منطق ہے، ‏وہ قوانین اور ضابطے جب آپ کو پتہ ہوں گے تو وہ آپ کو غلطی سے بچا لیں ‏گے، کس چیز میں؟ نظر و فکر میں غلطی سے۔ اور ان کا تو منطق اس غلطی ‏سے ہماری حفاظت کرتا ہے۔ اور منطق کا مقصد کیا ہے؟ تعریف سے ہی مقصد کا بھی پتہ چل گیا، کیا ‏غرض ہے منطق کی؟ کہ وہ نظر و فکر میں غلطی سے ہمیں بچاتا ہے، یعنی ‏اس کا فائدہ کہہ لیں، اس کا مقصد کہیں یا اس کا فائدہ کہ وہ نظر و فکر میں ‏غلطی سے بچاتا ہے، اس کا یہ فائدہ ہے۔ جیسے علمِ نحو بھئی، علمِ نحو آپ ‏کو آتا ہو گا تو آپ کو عربی الفاظ صحیح طرح سے عبارت پڑھنا آئے گی، ‏الفاظ بولنا آئیں گے کہاں پیش پڑھنا ہے، کہاں زبر، کہاں زیر، یہ کون بتائے ‏گا؟ علمِ نحو۔ یا جیسے علمِ قرات، آپ نے تجوید پڑھی ہو گی تو پھر آپ کو ‏قرآن صحیح پڑھنا آئے گا بھئی، اگر تجوید نہیں پڑھی تو صحیح طرح قرآن ‏آپ نہیں پڑھ سکیں گے۔ تو اسی طرح جب یہ منطق کا علم آپ سیکھ لیں گے ‏تو اب نظر و فکر میں یہ غلطی سے آپ کی حفاظت کرے گا۔ اور منطق کا موضوع، تو میں نے سب سے پہلے موضوع کے بارے میں بتایا ‏تھا کہ کسی بھی علم کا موضوع وہ چیز ہوتی ہے جس کے احوال سے اس علم ‏میں بحث کی جائے۔ جیسے گھڑیوں کا علم ہے، گھڑیوں کے علم میں کس چیز ‏کے بارے میں بحث کی جائے گی؟ ظاہر سی بات ہے گھڑیوں کے بارے میں ‏کہ اس طرح گھڑی چھوٹی بنے گی، اس طرح بڑی گھڑی بنے گی، تو یہ کس ‏میں بتایا جائے گا؟ گھڑیوں کے علم۔ تو معلوم ہوا گھڑیوں کے علم کا موضوع ‏کیا ہے؟ گھڑیاں۔ ریڈیو کے علم کا موضوع کیا ہے؟ ریڈیو۔ ٹی وی کے علم کا ‏موضوع کیا ہے؟ ٹی وی۔ دیکھا! تو جو علم ہو گا، یعنی جس چیز کے گرد ‏ساری باتیں اس کی گھومیں گی وہ اس کا موضوع کہلاتا ہے، صورت سمجھ ‏میں آ گئی؟ جیسے نحو کا موضوع کیا ہے؟ عربی کے الفاظ ہیں کہ ان لفظوں ‏کو کیسے پڑھنا ہے۔ تو لہذا علمِ منطق کا موضوع کیا ہے؟ وہ معلوم تصور اور وہ معلوم تصدیقیں ‏جن کے ذریعے کیا حاصل کیا جائے؟ نامعلوم تصور، یا یوں کہو مجهول تصور ‏یا مجهول تصدیق کو حاصل کیا جائے۔ تو اب آپ نے نامعلوم کا کم استعمال ‏کرنا ہے، آپ کو سمجھانے کے لیے میں پھر بھی بولتا رہوں گا، لیکن آپ نے ‏مجهول کا لفظ بولنا ہے، کیونکہ مجهول کا معنیٰ کیا ہے؟ نامعلوم۔ اور پھر آپ نے یہ بھی پڑھا کہ یہ جو دو یا زیادہ معلوم تصوروں کو ہم ‏جوڑتے ہیں، اور کس کو حاصل کرنا ہے؟ مجهول تصور کو۔ تو یہ جو معلوم ‏تصور جوڑے اور جن سے مجهول تصور حاصل ہوا، تو یہ معلوم تصوروں کو ‏کیا کہتے ہیں؟ تعریف اور معرف۔ اسی طرح دو یا زیادہ معلوم تصدیقوں کو آپ ‏ملا کر مجهول تصدیق کو حاصل کرتے ہیں، تو یہ جو معلوم تصدیقوں کو جن ‏کے ذریعے کیا حاصل کیا؟ مجهول تصدیق، تو یہ معلوم تصدیقیں جن کو آپ ‏نے ملایا اور جن سے مجهول تصدیق حاصل ہوئی، تو یہ معلوم تصدیقوں کو ‏کیا کہتے ہیں؟ دلیل اور حجت بھئی، دلیل اور حجت۔ معلوم ہوا نظر و فکر میں یا تو تعریف آئے گی اگر وہ تصور ہیں، اور یا پھر ‏دلیل آئے گی، دلیل اور حجت۔ یہی دو صورتیں ہیں نا؟ آپ معلوم تصوروں کو ‏ملائیں گے یا کس کو ملائیں گے؟ معلوم تصدیقوں۔ معلوم تصوروں کو ملا رہے ‏ہیں تو وہ کیا بنیں گے؟ تعریف یا معرف، دونوں نام ہیں جو بھی نام آپ لے ‏لیں۔ اور معلوم تصدیقوں کو ملائیں گے تو وہ کیا ہوں گی؟ دلیل۔ تو معلوم ہوا ‏نظر و فکر میں تعریف آئے گی یا دلیل آئے گی۔ تو اب یوں منطق کی تعریف ‏یوں کر لو جو کتاب میں ہے: منطق وہ علم ہے جو تعریف اور دلیل بنانے میں ‏غلطی سے ہماری حفاظت کرتا ہے۔ منطق کیا ہے؟ تعریف اور تعریف وہی ہے ‏نا، کیا چیز ہے؟ نظر اور فکر، اور دلیل کیا ہے؟ وہی نظر اور فکر۔ تو منطق ‏وہ علم ہے جو تعریف اور دلیل بنانے میں ہماری حفاظت کرتا ہے۔ اور منطق کا موضوع کیا ہوا؟ منطق کا موضوع کیا تھا؟ وہ معلوم وہ معلوم ‏تصور یا وہ معلوم تصدیق جس سے کیا حاصل کرتے ہیں ہم؟ مجهول تصور یا ‏مجهول تصدیق، تو یہ جو معلوم تصور ہیں یا یہ جو معلوم تصدیق ہیں ان کا کیا ‏نام ہے؟ تعریف اور دلیل، یعنی حجت۔ تو گویا منطق کا موضوع کیا ہے؟ ‏تعریف اور دلیلیں ہیں جن سے ہمیں کیا حاصل ہو گا؟ مجهول تصور اور ‏مجهول تصدیق۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تکرار کر رہے ہیں؟ ‏خوب اچھی طرح تکرار کرنا ہے بھئی، خوب اچھی طرح۔ منطق کا موضوع ‏وہ تعریفات ہیں جن کے ذریعے مجهول تصور حاصل ہوتا ہے، اور اسی طرح ‏منطق کا موضوع وہ دلیلیں ہیں جن کے ذریعے مجهول تصدیق حاصل ہوتی ‏ہے۔ تو تعریف میں کیا ہوتے ہیں؟ معلوم تصور ہوتے ہیں، اور دلیل میں کیا ‏ہوتے ہیں؟ معلوم تصدیقات ہوتے ہیں، تو گویا منطق کا موضوع معلوم تصور ‏ہیں یا معلوم تصدیقات، لیکن ویسے ہی یا اس حیثیت سے کہ آگے وہ ہمیں ‏مجهول تصور اور مجهول تصدیق تک پہنچا رہے ہیں؟ اس حیثیت سے کہ وہ ‏ہمیں کہاں تک پہنچا رہے ہیں؟ مجهول تصور تک۔ دیکھو! معلوم تصور تو بہت سارے ہیں نا، لیکن ہر ایک کو تعریف کہتے ہیں؟ ‏تعریف کس کو کہتے ہیں؟ جو آگے ہمیں مجهول تک پہنچائے۔ مثلاً آپ کے ‏سامنے، آپ گھڑی بنانا چاہ رہے ہیں، آپ کے سامنے 100 پرزے رکھے ہیں، ‏‏100 پرزے رکھے ہیں، اور گھڑی مثلاً بنتی ہے اس میں سے 20 پرزے جوڑ ‏لو تو گھڑی بن جائے گی۔ تو یہ 100 کے 100 سے تو اب گھڑی آپ نہیں ‏بنائیں گے، اس میں سے کتنے لیں گے؟ 20، آپ کہیں گے یہ 20 جوڑ کر ‏گھڑی بناتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، تصورات تو بہت زیادہ ہیں، ‏جو بھی چیز آپ جانتے ہیں وہ یا وہ تصور ہے یا تصدیق، لیکن ہر ایک کو ‏دلیل نہیں کہتے، ہر ایک کو تعریف نہیں کہتے، تعریف صرف کون سے ‏تصوروں کو کہتے ہیں؟ جو ہمیں مجهول تک پہنچائیں بھئی، اور وہ ان مثلاً ‏‏100 میں سے تین یا چار ہوں گے، پھر اگر آپ نے کوئی اور مجهول تصور ‏حاصل کرنا ہے پھر کوئی اور تین چار ہوں گے، پھر اگر آپ نے کوئی اور ‏مجهول تصور حاصل کرنا ہے تو پھر کوئی اور تین چار ہوں گے، صورت ‏سمجھ میں آ گئی؟ سارے تو نہیں ہوں گے، تو صرف کون سے تصور مراد ہیں ‏جو ہمیں کہاں تک پہنچائیں؟ مجهول تک، اسی طرح صرف وہ تصدیقات مراد ‏ہیں جو ہمیں کہاں تک پہنچائیں؟ مجهول تک، ہر تصدیق نہیں مراد، بات سمجھ ‏میں آ گئی؟ اب دیکھو! منطق کا موضوع کیا ہے؟ وہ معلوم تصور جو ہمیں مجهول تصور ‏تک پہنچائیں، اسی طرح وہ معلوم تصدیقات جو ہمیں مجهول تصدیق تک ‏پہنچائیں، اسی کو مختصر لفظوں میں کہہ لو: منطق کا موضوع وہ تعریفیں اور ‏وہ دلیلیں ہیں جو ہمیں مجهول تصور اور مجهول تصدیق تک پہنچا دیں۔ جی آگے اب آج کے سبق پر، آج کے سبق میں ہم، آج کے سبق میں ہم دلالت ‏اور وضع کے بارے میں پڑھیں گے اور اسی طرح دلالت کی قسمیں پڑھیں ‏گے۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھ لو، سب سے پہلے یہ سمجھ لو کہ دلالت کسے ‏کہتے ہیں۔ دلالت یاد رکھیے دلالت کا معنیٰ ہے رہنمائی کرنا، دلالت کا معنیٰ ‏ہے پتہ بتلانا۔ دلالت کا کیا معنیٰ؟ پتہ بتلانا، رہنمائی کرنا۔ تو جب بھی آپ، جب بھی ایسا ہو کہ ایک چیز سے آپ کو دوسری چیز کا پتہ ‏لگ جائے تو ہم کہیں گے کہ پہلی چیز نے دوسری پر دلالت کر دی۔ دو چیزوں ‏کا اس طرح ہونا کہ ایک کے جاننے سے دوسری کا پتہ لگ جائے تو اس کو ‏کیا کہتے ہیں؟ دلالت کہتے ہیں، یعنی ایک چیز نے دوسری چیز کا پتہ بتا دیا، ‏ایک چیز نے دوسری چیز پر رہنمائی کر دی۔ مثلاً آپ دیکھیے بھئی آپ ‏کمرے میں بیٹھے ہوئے ہیں، صبح صبح کا وقت ہے، آپ نے کھڑکی سے باہر ‏دیکھا، آپ کو باہر صحن میں دھوپ نظر آئی یا آپ کو دیوار پر باہر دھوپ ‏نظر آئی، آپ کیا سمجھے؟ دھوپ نظر آتے ہی، صبح صبح کا وقت ہے، جیسے ‏ہی دھوپ پہ نظر پڑی، آپ کو پتہ چل گیا کہ سورج نکل آیا ہے، پتہ چلا یا ‏نہیں چلا؟ تو دیکھا! آپ نے تو سورج کو نہیں دیکھا، سورج تو دوسری طرف ‏ہے، ہاں لیکن آپ کا رخ جس طرف ہے وہاں دیوار پر آپ کو کیا نظر آئی؟ ‏دھوپ نظر آئی، تو دھوپ ایک چیز اور اس نے آپ کو پتہ بتلایا کس کا؟ ‏سورج یعنی دوسری چیز کا، تو اس کو کہتے ہیں دلالت کہ ایک چیز نے ‏دوسری چیز کا پتہ بتلا دیا، ایک چیز نے دوسری چیز کی خبر دے دی۔ یا اسی طرح آپ سوئے ہوئے ہیں، رات کا وقت ہے، بجلی بند ہے، اچانک ‏رات کو آپ کی آنکھ کھلتی ہے، آپ دیکھتے ہیں آپ کو پسینہ آیا ہوا ہے اور ‏پنکھا بند ہے، آپ فوراً ایک بات سمجھ گئے، کیا سمجھے؟ کہ معلوم ہوا بجلی ‏گئی ہوئی ہے، دیکھا! تو پنکھے کے بند ہونے سے کس چیز کا پتہ چلا؟ بجلی ‏کے جانے کا آپ کو پتہ چلا، تو دیکھو ایک چیز نے دوسری چیز کا آپ کو پتہ ‏بتلایا، آپ تو پنکھا چلا کر سوئے تھے لیکن اب بند ہے، معلوم ہوا کیا ہو چکا؟ ‏بجلی چلی گئی ہے۔ یا اور مثال بنا لیں، آپ گرمی کا موسم ہے، آپ باہر بیٹھے ہوئے ہیں سائے کے ‏اندر، تو آپ کو دور آسمان پر بادل نظر آتے ہیں اور پھر بڑی ٹھنڈی ہوا ایک ‏دم آتی ہے، آپ کیا سمجھ گئے؟ معلوم ہوا دور کہیں بارش ہوئی ہے اور ٹھنڈی ‏ہوا یہاں تک پہنچ گئی، دیکھا! ایک چیز سے بارش تو ابھی آپ نے دیکھی ہی ‏نہیں ہے، بادل تو دور ہیں آپ سے، لیکن یہ ٹھنڈی ہوا کا آنا ہی یا بادلوں کو یا ‏بادلوں سے ہی اندازہ آپ لگا رہے ہیں کہ دور کیا ہو رہی ہے؟ بارش، تو ‏دیکھو ایک چیز نے آپ کو کیا کیا دوسری چیز کا پتہ بتلا دیا۔ یا آپ بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے قریب سے ہی دیوار کے پیچھے سے تھوڑا ‏تھوڑا دھواں نکلتے ہوئے دیکھا بھئی، آپ سمجھ گئے، کیا سمجھے؟ معلوم ہوا ‏دیوار کے پیچھے آگ جل رہی ہے یا دیوار کے پیچھے کھانا بن رہا ہے، جو ‏بھی چیز آپ سمجھ گئے، تو دیکھو! آپ نے تو نہیں دیکھا کہ آگ جل رہی ہے، ‏وہ تو دیوار کی دوسری طرف ہو گی، لیکن ایک چیز نے کیا کیا دوسری چیز ‏کا پتہ بتا دیا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالت۔ یعنی دھوئیں نے دلالت کی کس پر؟ ‏آگ پر، بادل نے دلالت کی کس پر؟ بارش پر، یا اسی طرح ٹھنڈی ہوا نے ‏دلالت کی کس پر؟ بارش پر، دھوپ نے دلالت کی کس پر؟ سورج کے نکلنے ‏پر، یا اسی طرح پنکھے کے بند ہونے نے دلالت کی کس پر؟ بجلی کے نہ ‏ہونے پر۔ تو یہ ہے دلالت۔ دلالت اب بتائیے، آسان سمجھ گئے اچھی طرح ‏کسے کہتے ہیں دلالت؟ ایک چیز دوسری چیز کا پتہ بتائے۔ ہاں! ایک چیز دوسری چیز کا پتہ بتا دے، یا یوں کہیں: ایک چیز کے جاننے ‏سے دوسری چیز کا پتہ چل جائے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالت۔ دلالت کا ‏معنیٰ کیا ہے؟ رہنمائی کرنا اور پتہ بتلانا۔ اب یاد رکھیے، یاد رکھیے کہ یہ جو پہلی چیز ہے اس کو کہتے ہیں دالٌ، دال ‏الف اور لام مشدد ہے۔ لام کیا ہے؟ مشدد، دالٌ۔ یہ آپ کو سمجھانے کے لیے لفظ ‏بتلا رہا ہوں، ویسے تو دال کہیں گے، کیا کہیں گے؟ دال۔ تو جو چیز پتہ ‏بتلائے، یعنی جو پہلی چیز ہے اس کو کہیں گے دال، اور وہ جو دوسری چیز ‏جس کا اس نے پتہ بتلایا اس کو کہتے ہیں مدلول۔ دال اسمِ فاعل کا صیغہ ہے، ‏مدلول اسمِ مفعول کا صیغہ ہے، یہ آپ گردانوں میں پڑھیں گے بھئی۔ دال کیا ‏ہے اس میں؟ فاعل، اور مدلول کیا ہے اس میں؟ مفعول۔ اس میں فاعل اور اس ‏میں مفعول تو جانتے ہیں نا؟ کچھ تو گردانیں آنی شروع کر دی ہیں آپ نے۔ تو ‏لہذا جو پہلی چیز جو پتہ بتلائے وہ ہے دال، اور دوسری چیز جس کا پتہ چلا ‏وہ کیا ہے؟ مدلول۔ اب مجھے بتائیے: بارش اور بادل، دال کون؟ مدلول کون؟ بادل دال، اور بارش مدلول۔ اچھا! ٹھنڈی ہوا اور بارش؟ ٹھنڈی ہوا دال، اور بارش مدلول۔ اچھا! بجلی کا نہ ہونا اور پنکھے کا بند ہونا؟ پنکھے کا بند ہونا دال، اور بجلی کا نہ ہونا مدلول۔ اور بات پوری کریں، پنکھے کو دال نہ کہیں۔ پنکھے کا بند ہونا، پنکھا جب ‏بھی ہو گا بجلی نہیں ہوگی؟ نہیں نہیں پنگھا نہیں دال۔ پنگھے کا بند ہونا کیا ہے؟ دال ہے۔ اور بجلی کا نہ ‏ہونا کیا ہے؟ مدلول ہے۔ اسی طرح سورج اور دھوپ، دال کون؟ دھوپ۔ اور مدلول کیا؟ سورج کا نکلنا، صورت سمجھ میں ‏آ گئی۔ تو دلالت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ دلالت کسے کہتے ہیں؟ کہ ایک چیز کے جاننے سے دوسری چیز کا پتہ چل جائے، ‏اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالت۔ اور جس چیز جو چیز پتہ بتلائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ دال۔ اور جس چیز کا پتہ بتلائے، اس ‏کو کیا کہتے ہیں؟ مدلول کہتے ہیں، مدلول کہتے ہیں۔ اب دیکھیے کتاب پر بھئی! سبقِ چہارم، چوتھا سبق: دلالت و وضع اور دلالت کی قسمیں۔ وضع بھی آگے آ جائے گا۔ اچھا ‏دلالت: کسی شے کا خود بخود قدرتی طور سے یا کسی کے مقرر کرنے سے ایسا ہونا، بھئی دیکھیے، بعض اوقات ایک ‏چیز خود بخود ہوتی ہے، ایک چیز سے خود بخود دوسری کا پتہ چل جاتا ہے۔ اور بعض میں ہم نے مقرر کیا ہوتا ہے، ‏خود بخود پتہ نہیں چلتا۔ یہ جو میں نے مثالیں ذکر کیں، یہ ہم نے نہیں مقرر کیں۔ یہ خود بخود ان سے ایک چیز سے ‏دوسری کا پتہ چل رہا ہے۔ یہ دھوپ سے سورج کا نکلنے کا پتہ چلے گا، یہ کوئی آپ نے مقرر کیا ہے؟ نہیں، یہ آپ نے ‏نہیں مقرر کیا، قدرتی طور پہ ایسا ہے۔ ٹھنڈی ہوا کو بارش کے لیے کوئی آپ نے مقرر کیا ہے؟ نہیں، ایسا نہیں ہے، یہ ‏قدرتی طور پر ہے کہ ایک چیز سے کیا ہو رہا ہے؟ دوسری چیز کا علم ہو رہا ہے۔ پنگھے کا حرکت نہ کرنا بجلی کے نہ ہونے پر دلالت کرنا، یہ کوئی آپ نے مقرر کیا ہے؟ نہیں نہیں، یہ ہے ہی اسی ‏طرح، صورت سمجھ، ہاں لیکن کچھ چیزیں ہیں وہ ہم مقرر کرتے ہیں، ایک چیز سے دوسری کا پتہ چل جاتا ہے۔ مثلاً ‏دیکھو! رمضان کا مہینہ ہے، افطاری کا وقت ہے، آپ افطاری کے لیے سامان رکھ کر تیار بیٹھے ہوئے ہیں۔ اچانک مسجد ‏کے سائرن بج، اچانک سائرن کی آواز آئی، سائرن چل پڑا۔ آپ فوراً سمجھ گئے، کیا؟ کہ افطاری کا وقت ہو گیا ہے، اب ‏روزہ کھول لینا چاہیے۔ اور مجھے بتاؤ سائرن جب بھی بجتا ہے، یہ آپ روزہ کھولنا شروع کر دیتے ہیں؟ نہیں نہیں، یہ ‏آپ نے رمضان کے اندر افطاری کے وقت اس کو مقرر کیا ہے اسی کے لیے۔ لہٰذا اگر باہر کے ملک سے کوئی ایک آدمی آیا اور وہ نیا نیا مسلمان ہوا ہے اور اس کو ابھی ان چیزوں کا نہیں پتہ، ان ‏چیزوں کا اسے نہیں پتہ تو وہ سائرن بجتے ہی وہ نہیں سمجھے گا کہ یہ افطاری کے لیے بجا ہے، افطاری کے، بلکہ وہ ‏پھر بھی آپ کی طرف متوجہ ہو گا کہ واقعی یہ سائرن افطاری ہی کے لیے ہے یا کس چیز کے لیے، اسے پتہ ہی نہیں ‏ہے، وہ آپ سے پوچھے گا بھئی۔ تو کچھ چیزیں ہم مقرر کرتے ہیں یا اسی طرح آپ سحری رمضان میں کھا رہے تھے کہ اچانک سائرن بجنا شروع ہو گیا۔ ‏تو آپ فوراً کیا کریں گے؟ کھانا بند کر دیں گے، کیونکہ اس وقت سائرن کو ہم نے مقرر کیا ہے، معلوم ہوا روزہ شروع ہو ‏گیا، سحری کا وقت ختم ہو گیا۔ یا اسی طرح اذان ہے۔ اذان کو کس لیے مقرر کیا گیا ہے؟ جب اذان ہوتی ہے پتہ چل جاتا ہے کہ اب فلاں نماز کا وقت ہو ‏گیا، صورت سمجھ میں، مثلاً ظہر کی اذان ہوئی تو کون سی نماز کا وقت ہو گیا؟ ظہر کا، تو یہ، تو کچھ چیزیں قدرتی طور ‏پہ ہوتی ہیں، ایک سے دوسری کا پتہ چل جاتا ہے اور کچھ میں قدرتی طور پر نہیں بلکہ ہم کیا کرتے ہیں اس کو باقاعدہ ‏مقرر کرتے ہیں۔ اور مثال لے لیں، مثلاً دیکھیے! آپ گاڑی میں جا رہے تھے، گاڑی میں جا رہے تھے، چوک میں پہنچے تو سامنے سرخ ‏لائٹ جل گئی۔ آپ کیا کریں گے؟ گاڑی روک لیں گے۔ اور پھر جب سبز لائٹ جلے گی آپ کیا کریں گے؟ گاڑی چلا دیں ‏گے۔ کیوں؟ کیونکہ سرخ لائٹ کو ہم نے مقرر کیا ہے کہ جب یہ جلے، کیا کرنا ہے؟ گاڑی کو روک لینا ہے اور سبز ‏لائٹ کو ہم نے مقرر کیا ہے کہ جب یہ جلے، کیا کرو؟ گاڑی چلا دو۔ تو یہ ہمارے مقرر کرنے سے ہے، یہ خود بخود نہیں ہے، آپ کوئی اور لائٹیں بدل دیتے تو کوئی اور ہوتیں لیکن اب یہ ‏مقرر ہے تو یہ ہیں۔ تو کچھ چیزوں میں خود بخود چیزیں مقرر ہوتی ہیں، ایک سے دوسری کا پتہ چلتا ہے قدرتی طور پر، ‏اور بعض میں ہمارے مقرر کرنے سے ایسا ہوتا ہے، سب کو پتہ چل جاتا ہے کہ اب یہ چیز ہے تو اب ہمیں یہ کرنا پڑے ‏گا۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں: کسی شے کا خود بخود قدرتی طور سے یا کسی کے مقرر کرنے سے ایسا ہونا کہ اس کے ‏جاننے سے دوسری چیزیں نا معلوم کا علم ہو جائے، پہلی شے کو جس سے علم ہوا ہے دال اور دوسری چیز کو جس کا ‏علم ہوا مدلول کہتے ہیں، جیسے دھوئیں کو جب ہم دیکھیں تو اس سے آگ کا علم ہم کو ضرور ہو گا، پس دھواں دال اور ‏آگ مدلول، اور دھوئیں کا اس طور پر ہونا کہ اس کے علم سے آگ کا علم ہوتا ہے، یہ دلالت ہے بھئی، صورت سمجھ میں ‏آ گئی۔ اب یاد رکھیے۔ مزید کچھ تفصیل بھئی، آگے تقسیم وغیرہ بھی کریں گے تو ابھی سے سمجھ لیں۔ یاد رکھیے! ہمیں ایک ‏چیز سے دوسری چیز کا علم ہوتا ہے، جیسے میں نے مثالیں دے دیں۔ ایک چیز سے دوسری چیز کا علم ہوتا ہے۔ اب مثلاً ‏ایک صورت یہ ہے میں آپ کو کچھ بتانا چاہتا ہوں یا آپ مجھے کچھ بتانا چاہتے ہیں تو کئی صورتیں ہیں کہ آپ مجھے ‏کوئی چیز کس طرح بتلاتے ہیں۔ مثلاً میں نے آپ سے پوچھا کہ زید کدھر ہے؟ ایک صورت یہ ہے آپ مجھے کہتے ہیں ‏کہ زید عمر کے کمرے میں ہے۔ دیکھا! آپ نے الفاظ کے ذریعے مجھے بتایا، یہ جو زبان سے ہم بولتے ہیں یہ کیا ہیں؟ ‏الفاظ، آپ نے مجھے لفظوں کے ذریعے، الفاظ کے ذریعے، یا یوں کہیں بول کر مجھے بتلایا تو میں سمجھ گیا کہ زید ‏کدھر ہے۔ دیکھو! آپ نے نہ سر ہی ہلایا، نہ ہاتھ ہلائے، صرف زبان کو حرکت دی۔ میں نے پوچھا زید کہاں ہے؟ آپ نے ‏کہا زید عمر کے کمرے میں ہے۔ عمر کے کمرے کی طرف آپ کی پشت ہے، آپ کی کمر کی طرف ہے لیکن میں سمجھ ‏گیا کہ زید کدھر ہے۔ وہ جو آپ کے پیچھے عمر کا کمرہ ہے، اس کمرے میں زید ہے۔ نہ آپ نے اشارہ کیا نہ کچھ کیا ‏لیکن میں سمجھ گیا، تو دیکھو! یہ الفاظ نے، آپ کے لفظوں نے کس پر دلالت کی؟ زید پر کہ زید وہاں پر ہے۔ تو دیکھو! ‏لفظوں سے کس کا پتہ چلا؟ زید کا، تو زید تو ایک ذات ہے اور آپ الفاظ بول رہے ہیں، تو کبھی کبھار کیا ہوتا ہے؟ الفاظ ‏کے ذریعے کیا ہوتا ہے؟ ایک چیز کا پتہ چلتا ہے۔ بات چل رہی ہے مثلاً آپ مجھے کوئی چیز بتلانا چاہتے ہیں، میں آپ ‏سے پوچھتا ہوں اور آپ مجھے بتلانا چاہتے ہیں، کئی صورتیں ہیں، ایک صورت کیا ہو گئی؟ کہ آپ بول کر بتلاتے ہیں، ‏کس کے ذریعے بتلاتے ہیں؟ لفظوں کے ذریعے بول کر بتلاتے ہیں۔ دوسری صورت، میں نے آپ سے پوچھا زید کہاں ہے؟ آپ کچھ بھی نہیں بولے، آپ نے ہاتھ میں قلم تھا، آپ نے کاپی پر ‏لکھ دیا۔ زید عمر کے کمرے میں ہے۔ ایک لفظ زبان سے نہیں بولا لیکن کاپی پر کیا لکھ دیا؟ میری نظر جب اس پہ پڑی، ‏میں فوراً سمجھ گیا کہ زید کدھر ہے؟ عمر کے کمرے میں ہے، دیکھو اب لفظ بھی نہیں ہے، زبان کو آپ نے حرکت ہی ‏نہیں دی لیکن میں سمجھ گیا یا نہیں سمجھ گیا؟ تو ایک صورت تھی مجھے بتانے کی، آپ بول کر بتاتے ہیں، دوسری ‏صورت ہے بتانے کی، آپ مجھے لکھ کر بتاتے ہیں۔ تیسری صورت ہے آپ اشارے سے بتاتے ہیں۔ میں نے پوچھا زید کہاں ہے؟ آپ کچھ بولے بھی نہیں، آپ نے کچھ لکھا ‏بھی نہیں، ہاں ہاتھ سے اشارہ کر دیا عمر کے کمرے کی طرف، میں سمجھ گیا کہ زید کہاں ہے؟ عمر، دیکھا! تو ایک ‏شخص دوسرے کو کوئی چیز جب بتلاتا ہے تو کبھی بول کر بتلاتا ہے، کبھی لکھ کر بتلاتا ہے اور کبھی اشارے سے ‏بتلاتا ہے، صورت سمجھ، اسی طرح بعض چیزوں کو دیکھ کر ہمیں پتہ چل جاتا ہے۔ بعض چیزوں کو جیسے بادلوں کو ‏دیکھا کس کا پتہ چلا؟ بارش کا۔ میں نے آپ سے پوچھا زید کہاں؟ آپ نے زبان سے کہا کہ زید عمر کے کمرے میں ہے۔ تو مجھے کس کا پتہ چلا؟ زید، ‏کس سے پتہ چلا؟ آپ کی بات سے، آپ کے الفاظ سے، تو دال کون ہوئے؟ الفاظ، اور زید کیا ہوا؟ مدلول۔ اچھا! میں نے آپ ‏سے پوچھا زید کہاں ہے؟ آپ نے مجھے لکھ کر دے دیا، زبان سے کچھ بھی نہیں بولے۔ اب مجھے بتائیے، دال کون؟ یہ ‏جو لکھائی ہے، دال کیا ہے؟ یہ الفاظ نہیں، یہ لکھا الفاظ وہ ہیں جو ہم زبان سے بولتے ہیں، یہ لکھائی یوں کہو یہ جو ‏لکیریں ہیں۔ یہ لکھائی لکیروں کا ہی نام ہے نا، آپ ٹیڑھی میڑھی مختلف حروف لکھتے ہیں یا نہیں؟ یہ وہ قلم سے لکیریں ‏کھینچتے جا رہے ہیں لیکن مخصوص شکلیں ہیں، تو یہ تحریر اور یہ لکھائی ہوئی دال، اور زید کیا ہوا؟ مدلول۔ تیسری ‏صورت ہے آپ نے اشارہ کر دیا تو دال کیا ہے؟ اشارہ، اور مدلول کیا ہے؟ زید ہے، صورت سمجھ، یا اسی طرح آپ مجھ ‏سے کچھ پوچھتے ہیں، میں بھی اسی طرح بتاؤں گا یا کیا کروں گا؟ یا بول کر بتاؤں گا یا لکھ کے بتاؤں گا یا اشارے سے، ‏تو دیکھا! دال مختلف قسم کا ہو سکتا ہے۔ دال الفاظ بھی ہو سکتے ہیں، دال غیر الفاظ بھی ہو سکتے ہیں، الفاظ کے علاوہ یعنی لکھائی بھی ہو سکتی ہے اور اشارہ ‏بھی ہو سکتا ہے۔ تو یاد رکھیے! آگے یہ تقسیم کریں گے اور آپ کو بتائیں گے کہ دلالت دو قسم پر ہے۔ دلالت کتنی قسم پر؟ ‏دو قسم پر، اگر اور یہ تقسیم دال کے اعتبار سے ہے، کس کے اعتبار سے؟ دال کے، اگر دال الفاظ ہیں تو اس کو کہیں گے ‏دلالتِ لفظیہ، اور اگر دال الفاظ کے علاوہ کوئی بھی چیز ہے تو اس کو کہیں گے دلالتِ غیر لفظیہ۔ دلالتِ لفظیہ کس کو ‏کہتے ہیں؟ جس میں دال لفظ ہو۔ دلالتِ لفظیہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں دال لفظ ہو۔ اور دلالتِ غیر لفظیہ کسے کہتے ہیں؟ ‏جس میں دال لفظ نہ ہو۔ تعریف سمجھ میں آ گئی؟ پھر دہراؤ، دلالتِ لفظیہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں دال لفظ ہو۔ دلالتِ غیر ‏لفظیہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں دال لفظ نہ ہو بھئی، وہ دلالتِ غیر لفظیہ ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ اب آگے وضع کی بات آ رہی ہے، وضع۔ پہلے وضع کو سمجھ لیں پھر آگے دلالت کی مزید قسمیں ہم پڑھیں گے۔ یاد ‏رکھیے وضع کا معنی ہے مقرر کرنا۔ وضع کا کیا معنی ہے؟ مقرر کرنا۔ جیسے ابھی مثال گزری، سرخ اشارے کو ہم نے ‏کس لیے مقرر کیا ہے؟ گاڑی روکنے کے لیے، اور سبز اشارے کو ہم نے کس لیے مقرر کیا ہے؟ گاڑی چلانے کے ‏لیے، تو یہ خود بخود ہیں یا ہم نے مقرر کیا ہے؟ ہم نے مقرر کیا ہے۔ اب اگر کوئی بادشاہ آتا ہے، وہ کہتا ہے نہیں سرخ ‏نہیں ہونا چاہیے، روکنے کے لیے فلاں رنگ ہونا چاہیے، چلانے کے لیے فلاں رنگ، تو وہ رنگ بدل دیں گے بھئی، ‏اور سب لوگوں کو پتہ چل جائے گا یا نہیں پتہ چل جائے گا؟ اور یہ خود بخود ہوا یا وہ ہم لوگوں نے مقرر کر دیا، اس ‏بادشاہ نے مقرر کر دیا؟ بادشاہ نے مقرر کر دیا، اب لوگ مثلاً وہ برعکس کہہ دیتا ہے، وہ کہتا ہے سبز پہ روکنا ہے اور ‏سرخ پہ کیا کرنی ہے؟ گاڑی چلانی ہے، تو سارے اسی طرح کریں گے یا نہیں کریں گے؟ تو معلوم ہوا دیکھا، کوئی سرخ ‏رنگ کا یہ مطلب نہیں آپ گاڑی روک لو، سبز کا یہ نہیں ہے گاڑی چلا دو، یہ ہم نے مقرر اس لیے کر دیے، سرخ کا ‏مطلب ہم نے مقرر کر دیا ہے کہ اس کو دیکھ کے گاڑی روکنی ہے اور سبز کو دیکھ کر گاڑی چلا، یہ ہم نے مقرر کیا ‏ہے۔ اس مقرر کرنے کو وضع کہتے ہیں۔ وضع کا معنی ہے مقرر کرنا، وضع کا کیا معنی؟ مقرر کرنا۔ اور یاد رکھو! جس چیز کو مقرر کیا، اس کو کہتے ہیں موضوع۔ کس کو ہم نے مقرر کیا ہے؟ مثلاً ابھی مثال گزری سرخ ‏اشارے کو، اس کو مقرر کیا ہے، تو سرخ اشارہ ہوا موضوع۔ اول پہلے یہ جو مقرر کرنا ہے، یہ کیا ہے؟ وضع، اور کس ‏کو مقرر کیا ہے؟ سرخ اشارے کو، تو سرخ اشارہ ہوا موضوع۔ یہ کتاب میں بھی آ جائے گا، م و ض و ع موضوع۔ تو ‏سرخ اشارہ کیا ہوا؟ موضوع، اور اس کو کس لیے مقرر کیا ہے؟ گاڑی کے روکنے کے لیے، تو گاڑی کا روکنا ہوا ‏موضوع لہ، موضوع لہ، لہ جس کے لیے، موضوع وضع کیا، مقرر کیا گیا ہے لہ اس چیز کے لیے، جس چیز کے لیے ‏مقرر، تو جس چیز کو مقرر کیا اس کو کیا کہتے ہیں؟ موضوع، اور جس چیز کے لیے مقرر کیا، اسے؟ موضوع لہ۔ ‏جیسے سائرن کا بجنا افطاری کے وقت، کس کو مقرر کیا؟ سائرن کو، یہ ہے موضوع، اور کس چیز کے لیے مقرر کیا؟ ‏افطاری کے لیے، تو افطاری کیا ہوئی؟ موضوع لہ۔ یا جیسے گاڑی اسٹیشن پر ہے، لوگ سوار ہو رہے ہیں پھر گاڑی کا ‏اچانک ہارن بجا، یہ ہارن کا یہ گاڑی کے ہارن کا بجنا کس چیز کے لیے مقرر ہے؟ گاڑی چلانے کے لیے، اب چلنے ‏لگی ہے، جلدی جلدی بیٹھ جاؤ، تو یہ ہارن کا بجنا یہ ہے موضوع، اور کس چیز کے لیے موضوع ہے؟ گاڑی چلانے کے ‏لیے، تو وہ کیا ہوا؟ موضوع لہ۔ بات اچھی طرح سمجھ میں، وضع کا کیا معنی؟ مقرر کرنا، تو جس چیز کو مقرر کیا گیا ‏وہ کیا ہے؟ موضوع، اور جس چیز کے لیے مقرر کیا گیا ہے؟ موضوع لہ۔ جیسے اذان ہے، اذان کو کس کے لیے مقرر ‏کیا گیا؟ نماز، تو اذان کیا ہے؟ موضوع، اور کس چیز کے لیے ہے؟ نماز، تو نماز کیا ہوئی؟ موضوع لہ۔ بات سمجھ میں آ ‏گئی بھئی؟ اچھا! مزید تفصیل یاد رکھو بھئی، دیکھو! یہ جو ہم بولتے ہیں، اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے، اللہ نے ہمیں یہ بولنا سکھا دیا، ‏ہمیں بیان کرنا سکھا دیا۔ سمجھ میں آیا؟ جب ہم بولتے ہیں، دیکھو دل کی بات دوسرے کو بتلا دیتے ہیں، مثلاً آپ خوش ہیں ‏دوسرے کو بتاتے ہیں میں بہت خوش ہوں، آپ پریشان ہیں تو دوسرے کو بتلاتے ہیں میں پریشان ہوں، یا دوسرا آپ سے ‏کوئی چیز پوچھتا ہے، آپ فوراً زبان سے بول کر اس کو بتلا دیتے ہیں، یا آپ کچھ جاننا چاہتے ہیں، آپ دوسرے سے ‏پوچھتے ہیں، وہ فوراً بول کر آپ کو بتلا دیتا ہے، تو یہ ہم ہم ہر بات ایک دوسرے سے کر سکتے ہیں، پوچھ سکتے ہیں، ‏دل کی بات بیان کر سکتے ہیں، دوسرے کے دل کی بات سن سکتے ہیں، سمجھ سکتے ہیں، یہ بولنے کے ذریعے، تو یہ ‏بولنا بہت بڑی نعمت ہے جو اللہ نے انسانوں کو نصیب فرمائی بھئی، اور حیوانات بھی ہیں، وہ بھی اوازیں وغیرہ نکال ‏کر ایک دوسرے کو کچھ نہ کچھ بتلا دیتے ہیں لیکن کیا وہ انسان کی طرح ہر بات دل کی کرتے ہیں؟ نہیں بھئی، ہر بات ‏نہیں، صورت سمجھ میں، انسان تو ہر بات جو دل میں ہوتی ہے وہ بیان کرتا ہے، پوچھتا ہے، پڑھتا ہے، لکھتا ہے، تو یہ ‏اللہ نے انسان کو بولنا سکھایا بھئی، اور یہ بہت بڑی نعمت ہے، قرآن میں بھی اللہ بیان فرماتے ہیں: خلق الانسان، علمه ‏البيان، اللہ نے انسان کو پیدا فرمایا، علمه البيان، اس کو بیان یعنی بولنا سکھایا، بیان کرنا سکھایا کہ وہ دل کی بات ظاہر ‏کرے۔ تو یہ جو بولنا ہے، ہر زبان والے اپنی زبان کے الفاظ بولتے ہیں۔ اور یہ جو الفاظ بولتے ہیں، یہ ساروں میں وضع ہے، کیا ‏ہے؟ وضع ہے، یعنی ہر ہر لفظ کو انہوں نے کسی معنی یا کسی چیز کے لیے مقرر کیا ہوا ہے۔ مثلاً میں نے کہا روٹی، ‏فوراً آپ کے ذہن میں گندم سے بنائی یا آٹے سے بنائی جانے والی ایک چیز آ گئی جسے کھایا جاتا ہے، لیکن عرب کے ‏سامنے، عرب کے سامنے روٹی ذکر کرو یا کسی انگریز کے سامنے روٹی ذکر کرو، اسے کچھ سمجھ میں نہیں آئے گا، ‏کیوں؟ کیونکہ انہوں نے اس چیز کے لیے روٹی کا لفظ مقرر نہیں کیا جس کو کھاتے ہیں، ہم نے اس گندم سے بنی اس آٹے ‏سے بنی ہوئی چیز کے لیے کیا نام مقرر کیا ہے؟ روٹی مقرر کیا ہے، تو دیکھا اس میں وضع کا دخل ہے، انہوں نے کوئی ‏اور لفظ مقرر کیا ہے، مثلاً عرب نے اس کے لیے خبز، خبز، خ ب ز، روٹی کے لیے کیا لفظ مقرر کیا ہے؟ خبز، ہاں اب ‏عرب کے سامنے خبز کہو وہ فوراً سمجھ جائے گا، لیکن کسی پاکستانی دیہاتی کے سامنے آپ خبز کہیں اس کو کچھ پتہ ‏نہیں چلے گا یہ کیا بات کر رہے ہیں۔ کیونکہ پاکستانیوں نے یا اردو بولنے والوں نے روٹی کے لیے "خبز" کا لفظ مقرر ‏نہیں کیا۔ ہاں عربوں نے مقرر کیا ہوا ہے۔ تو یہ جو الفاظ یہ جو میں اپ کے سامنے اتنی لمبی تقریر کر رہا ہوں اردو زبان ‏میں کر رہا ہوں۔ دیکھو! اب میں جو کچھ بولتا جا رہا ہوں، اپ سمجھتے جا رہے ہیں۔ کیونکہ اس میں سے ہر لفظ کو ہم نے ‏ایک معنی کے لیے مقرر کیا ہوا ہے۔ مثلاً دیکھو! میں نے کہا "پیالہ"، اپ فوراً سمجھ گئے یا نہیں؟ ایک مخصوص چھوٹے برتن کا نام ہے۔ میں نے کہا ‏‏"دیگچہ"، اپ سمجھ گئے یا نہیں؟ ایک بڑے برتن کا نام ہے۔ میں نے کہا "گلاس"، اپ فوراً سمجھ گئے ایک برتن جس میں ‏پانی پیا جاتا ہے۔ میں نے کہا "پلیٹ"، اپ فوراً سمجھ گئے ایک بر... مخصوص برتن کا نام ہے۔ میں نے کہا "ٹوپی"، اپ فوراً سمجھ گئے ‏کس چیز کا ذکر ہو رہا ہے۔ میں نے کہا "قمیض"، دیکھو اپ فوراً سمجھ گئے۔ میں نے کہا "پردہ"، اپ فوراً سمجھ گئے۔ ‏میں نے کہا "دیوار"، میں نے کہا "پنکھا"، بارش، بادل، درخت، پہاڑ، آبشار۔ دیکھو! میں جو جو لفظ بولتا جا رہا ہوں، اپ ‏اس کا معنی سمجھ رہے ہیں یا نہیں؟ کیونکہ ہم نے ان چیزوں کے لیے یہ جو ان کے ما... یہ الفاظ مقرر کیے ہیں۔ جس ‏کے... جس اردو بولنے والے کے سامنے بھی یہ لفظ ذکر کریں گے وہ جانتا ہے کہ اس لفظ کو اس معنی کے لیے مقرر ‏کیا وہ فوراً سمجھ جائے گا۔ لیکن کسی اور زبان والے کے سامنے یہ لفظ بولیں گے اس کو سم... سمجھ نہیں آئے گی۔ اس لیے کیونکہ انہوں نے ان ‏چیزوں کے لیے یہ نام مقرر نہیں کیے وہ بھی دن رات ان چیزوں کو ذکر کرتے ہیں، بارش کو بھی ذکر کرتے ہیں، بادل ‏کو بھی ذکر کرتے ہیں، کھانا پینا، چلنا پھرنا، دھوپ، سورج، آبشار، پہاڑ، درخت، یہ سب چیزیں وہ بھی ذکر کرتے ہیں، ‏آپس میں بولتے ہیں یا نہیں بولتے؟ بولتے ہیں۔ لیکن انہوں نے ان چیزوں کے نام اور مقرر کیے ہوئے ہیں۔ ان کے سامنے ‏وہ لفظ بولیں گے تو وہ فوراً سمجھ جائیں گے۔ اردو والے بولیں گے تو وہ نہیں سمجھیں گے۔ تو کیوں؟ کیوں نہیں سمجھیں گے؟ کیونکہ انہوں نے ان چیزوں کے لیے وہ لفظ وضع نہیں کیے، مقرر نہیں کیے اور ہم ‏نے اردو والوں نے یہ لفظ مقرر کیے ہیں۔ یہ ہے وضع، وضع۔ وضع کا کیا مطلب؟ مقرر کرنا۔ تو یہ جو مختلف چیزوں ‏کے... تو یہ جو زبان میں جتنے الفاظ ہوتے ہیں، ہر لفظ کسی معنی کے لیے یا کسی چیز کے لیے مقرر ہوتا ہے۔ اور اسی طرح ہم اپنی زبان سے جو حروف ادا کرتے ہیں، ا ب ت ث، جو حروف ادا کرتے ہیں، یہ حروف... یہ حروف ہم ‏نے مختلف آوازوں کے لیے مقرر کیے ہوئے ہیں۔ یہ جو ہم زبان سے حروف بولتے ہیں، یہ کیا ہیں؟ ہم نے مختلف آوازوں ‏کے لیے مقرر کیے ہیں۔ مقرر کیے ہیں۔ لہٰذا جب اپ کے سامنے کوئی لفظ بولتا ہے، کوئی شخص بات کرتا ہے، اس کی زبان سے جس جس طرح کے حروف ادا ‏ہو رہے ہیں، اپ اسی کے مطابق لکھتے چلے جاتے ہیں۔ مثلاً الف کے لیے ایک سیدھی اوپر سے نیچے کی طرف لکیر ہم ‏نے مقرر کر دی ہے۔ یہ الف خود بخود ایسے ہے یا ہم نے مقرر کیا ہے کہ الف سے یہ والا حرف ہوگا؟ یہ ہم نے کیا کیا ‏ہے؟ مقرر۔ ب، ب کے لیے ہم نے ایک... دوسری شکل اور اس کے نیچے ایک نقطہ ہوتا ہے اس کو مقرر کیا ہے۔ لہٰذا ‏جب بھی زبان سے کوئی ب کہے گا، اپ اس طرح لکھیں گے۔ ت کے لیے دو نقطے اوپر ہوں گے۔ اسی طرح ج ایک ‏دوسری شکل ہے جس کے پیٹ میں ایک نقطہ ہوگا۔ ح وہی شکل ہے لیکن اس میں نقطہ نہیں ہوگا۔ اب یہ جو زبان سے میں ‏بول رہا ہوں، تو وہ سارے یہ جتنے حروف ہم بولتے ہیں، یہ اپ وہ حروفِ تہجی میں پڑھتے ہیں۔ اردو والے جتنے حروف بولتے ہیں، وہ سارے اردو کے قاعدے میں اپ کو حروفِ تہجی میں مل جائیں گے۔ انہی میں سے ‏ایک گاف ہے۔ ہم گاف بھی بولتے ہیں یا نہیں؟ دیکھو! گھر، گاؤں۔ اسی... انہی میں سے ایک پے ہے پے، پے بھی ہم ‏بولتے ہیں یا نہیں؟ پاکستان، پہاڑ، پتھر، دیکھو یہ سب میں کیا آرہی ہے؟ پے۔ لیکن عرب ان چیزوں... لفظوں کو ان حروف ‏کو استعمال ہی نہیں کرتے۔ انہوں نے کبھی زندگی میں بولے ہی نہیں یہ لفظ، نہ وہ استعمال کرتے ہیں، نہ کسی کے لیے ‏انہوں نے مقرر کیے ہیں، تو ان کے قاعدے میں اپ دیکھ لیں گے کہ پے بھی نہیں ہے۔ گاف بھی نہیں ہے، ڑے بھی نہیں ہے، ڈال بھی نہیں ہے وغیرہ۔ مختلف حروف وہاں نہیں ملیں گے۔ کیونکہ وہ وہ حروف ‏بولتے ہی نہیں تو انہوں نے اس کے لیے کوئی مقرر بھی نہیں کیا۔ اور وہ بول بھی نہیں سکتے، اپ ان سے کہیں گے یہ ادا ‏کرو، ان سے ادا ہوتے ہی نہیں کیونکہ ساری زندگی ایک لفظ بولا ہی نہیں انہوں نے۔ اور ہم بولتے ہیں کیونکہ ہمارے ہاں ‏یہ مقرر ہے تو ان کے لیے حروف بھی مقرر کر دیے ہیں۔ لہٰذا جب کوئی لفظ... مثلاً اپ کے سامنے ایک شخص کہتا ہے "گاڑی"، کیا لفظ بولا؟ "گاڑی"۔ اب اپ فوراً لکھ لیں گے ‏گاڑی کیسے؟ پہلے گاف کی آواز آرہی ہے، پھر کیا ہے؟ گاف کو ذرا لمبا کیا، معلوم ہوا ساتھ الف ہے بھئی، گا، پھر کیا ‏ہے؟ ڑے ہے، پھر اس کے بعد یا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی، گاڑی۔ تو یہ جو اپ لکھتے ہیں نا، یہ زبان سے جو مختلف حروف ادا ہو رہے ہوتے ہیں، مختلف کیونکہ آوازیں نکل رہی ہوتی ‏ہیں، ان آوازوں کو اپ پہچان کر وہ حروف جلدی جلدی لکھ رہے ہوتے ہیں کیونکہ اپ پہلے پہچان چکے ہوتے ہیں کہ الف ‏یہ والی آواز ہے، با کی یہ... بے کی یہ ہے، پے کی یہ ہے، تے کی یہ ہے، ایک ایک آواز کا اپ کو پتہ ہوتا ہے، پھر اپ ‏جلدی جلدی لکھتے جاتے ہیں۔ مثلاً اپ کا ایک ساتھی ہے، اس کا نا... مثلاً اس کا نام زید ہے۔ اب کسی نے کہا لکھو "زید"، ‏اپ فوراً کیا لکھیں گے؟ زید، دیکھو شروع میں زا کی آواز ہے، پھر کس کی آواز ہے؟ یہ... یہ... یا کی آواز ہے، پھر اس ‏کے بعد دال کی، تو دیکھا اپ زید لکھ لیں گے۔ تو یہ جو اپ لکھتے ہیں، یہ جو حروف، یہ جو آوازیں نکلتی ہیں زبان منہ سے، یہ جو حروف ادا ہوتے ہیں زبان سے، ان ‏کے مقابلے میں اپ حروف لکھتے چلے جاتے ہیں بھئی۔ چنانچہ بہت دفعہ اپ دیکھتے ہیں کہ ایک بولنے والا ایک نیا لفظ ‏بولتا ہے جو اپ نے پہلے کبھی سنا ہی نہیں، پہلے کبھی لکھا ہی نہیں، لیکن پھر بھی اپ سن کر لکھ لیتے ہیں یا نہیں لکھ ‏لیتے؟ حالانکہ اس سے پہلے کبھی یہ لفظ اپ نے سنا ہی نہیں۔ اس سے پہلے کبھی یہ لفظ اپ نے لکھا ہی نہیں، پہلی دفعہ ‏یہ لفظ آیا، لیکن اپ پھر بھی ٹھیک لکھ لیتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ اس کی زبان سے جو حروف ادا ہو رہے ہوتے ہیں، اپ اس ‏کے مطابق وہ حروف جوڑ دیتے ہیں اور لکھ لیتے ہیں۔ تو معلوم ہوا یہ جو حروف ہیں، یہ مختلف آوازوں کے لیے مقرر ہوتے ہیں۔ کیا ہوتے ہیں؟ مختلف آوازوں کے لیے مقرر ‏ہوتے ہیں، جو زبان والے استعمال کرتے ہیں۔ اگر زبان والے وہ حروف استعمال کرتے ہیں تو ان کی زبان میں وہ ہوں ‏گے۔ اگر وہ استعمال نہیں کرتے تو ان کی زبان میں وہ حروف بھی نہیں ہوں گے، جیسے میں نے مثال دے دی عربوں کی ‏بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ... تو یہ سارے ان سب میں کس کا دخل ہے؟ وضع کا دخل ہے، وضع کا دخل ہے۔ تو یہ جو ہم نے ‏دیکھو حروف مقرر کر لیے ہیں۔ حروف کیا کر لیے ہیں؟ مقرر کر لیے ہیں، مختلف آوازوں کے لیے، اس کا کیا فائدہ؟ اس ‏کا فائدہ یہ ہے کہ جو کوئی مثلاً کوئی بات کر رہا ہو، اپ اس کو لکھنا چاہتے ہیں، اپ اس کو لکھ لیتے ہیں۔ اب دس سال ‏بھی گزر جائیں، بعد میں اپ وہ کتاب یا وہ کاپی اٹھاتے ہیں، اپ کو سام... اپ کے سامنے وہ جملہ آتا ہے، وہ جو تحریر ‏آتی ہے، اپ فوراً پڑھ لیتے ہیں کہ میرے استاد نے فلاں دن جب یہ سبق ہمیں پڑھایا تھا تو انہوں نے یہ جملہ فرمایا تھا، ‏بعینہٖ وہی جملہ اپ پڑھتے ہیں جو کس نے بولا تھا؟ استاد نے۔ دیکھو وہ دس سال پرانی بات ہے، اپ بالکل بھول چکے ہیں ‏لیکن وہ جب... وہ حروف اپ کے سامنے لکھی تحریر اپ کے سامنے ہے، اپ بعینہٖ وہی الفاظ بول لیتے ہیں۔ اسی کا فائدہ ہے، دیکھو یہ تحریر ہی کا فائدہ ہے کہ ہم اپنے پرانے بزرگوں کی باتیں جو انہوں نے کہی تھیں، جن کو ہم ‏نے دیکھا بھی نہیں، جن کو فوت ہوئے سینکڑوں سال گزر گئے، ان کی باتیں کتاب میں لکھی ہوتی ہیں، ہم بعینہٖ اسی طرح ‏پڑھتے ہیں کہ فلاں بزرگ نے فلاں موقعے پر یوں فرمایا تھا، وہی الفاظ ہوتے ہیں۔ یا جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ‏کی احادیث ہم پڑھتے ہیں، صحابہ ذکر کرتے ہیں کہ ہمارے محبوبِ اعظم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فلاں موقعے پر اپ ‏نے یوں ارشاد فرمایا اور پھر بالکل وہی الفاظ آگے لکھے ہوتے ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبانِ مبارک ‏سے ارشاد فرمائے تھے بھئی۔ تو دیکھو تحریر کا کتنا فائدہ ہو گیا کہ باتیں محفوظ ہو جاتی ہیں بھئی۔ باتیں محفوظ... ان ‏سب میں کس کا دخل ہے؟ وضع کا دخل ہے یہ، تو مختلف حروف کو مختلف معانی کے لیے وضع کیا گیا اور اسی طرح ‏تح... حروف... لکھی ہوئی حروف جو ہیں ان کو مختلف آوازوں کے لیے وضع کیا گیا۔ تو وضع کا کیا معنی ہے؟ مقرر ‏کرنا، کہ ایک چیز کے علم سے دوسری چیز کا علم ہو جائے اور یہ خود بخود نہیں بلکہ ہمارے مقرر کرنے سے ہو ‏بھئی۔ تو لہٰذا وضع کا معنی مقرر کرنا، تو جس چیز کے لیے مق... جس چیز کو مقرر کیا یعنی پہلی چیز، اس کو کیا کہیں گے؟ ‏موضوع۔ اور جس چیز کے لیے مقرر کیا وہ کیا ہے؟ موضوع لہٗ بھئی، موضوع لہٗ۔ یعنی دال ہوگا موضوع اور مدلول کیا ‏ہوگا؟ موضوع لہٗ ہوگا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ دال کیا ہوگا؟ اور مدلول کیا؟ تو دال اور موضوع میں کیا فرق ہوا؟ ایک ‏ہی چیز ہے، صرف وضع کا فرق ہے۔ اگر اپ نے مقرر کیا ہے تو اس یہ دال موضوع بھی کہلائے گا، لیکن اگر اپ نے ‏مقرر نہیں کیا، انسانوں نے مقرر نہیں کیا تو پھر یہ دال تو ہے موضوع نہیں ہے۔ مثلاً دیکھو! ٹھنڈی ہوا آئی، اپ کو کیا پتہ چلا؟ بارش کا پتہ چلا۔ اب مجھے بتائیے، ٹھنڈی ہوا کیا؟ دال۔ اور بارش کیا؟ ‏مدلول۔ لیکن کیا اس دال کو ہم موضوع کہہ سکتے ہیں؟ کیا ہم نے مقرر کیا ہے؟ نہیں۔ تو معلوم ہوا یہ دال تو ہے موضوع ‏نہیں ہے اور وہ بارش مدلول تو ہے موضوع لہٗ نہیں، کیونکہ یہاں وضع ہی نہیں ہے۔ لیکن اگر دوسری چیز اسی میں دال ‏اور مدلول کو لے لو، سرخ اشارہ، یہ کس چیز کی علامت ہے؟ تو سرخ اشارہ ہوا دال اور گاڑی کا روکنا ہوا مدلول اور ‏اس دال کو ہم کیا کہیں گے؟ موضوع۔ اور گاڑی روکنے کو کیا کہیں گے؟ موضوع لہٗ، کیونکہ یہ خود بخود نہیں بلکہ ‏ہمارے مقرر کرنے سے ہے، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ جی، اب دیکھیے کتاب پر بھئی۔ وضع: ایک شے کا دوسری شے کے ساتھ خاص کر دینا یا دوسری شے کے لیے مقرر کر دینا کہ پہلی شے کے علم سے ‏دوسری شے کا علم ہو جائے، یا یوں کہو پہلی شے سے دوسری شے کا پتہ چل جائے، وہی وہی دلالت بھئی۔ شے اول کو ‏موضوع اور دوسری شے کو جس کا علم ہوا موضوع لہٗ کہتے ہیں، جیسے لفظ چاقو کو مجموعہ دستہ اور پھل کے لیے ‏مقرر کر دیا گیا۔ بھئی دیکھو! ہم نے مقرر کیا نا انسانوں نے، ہر زبان والے نے۔ اردو والے ج... اردو والے توپی کسے ‏کہتے ہیں؟ یہ جو سر پر پہنی جائے۔ روٹی کسے کہتے ہیں؟ جسے کھایا جائے۔ چاقو کسے کہتے ہیں؟ وہ چیز جس کا ‏لکڑی کا دستہ ہوگا یا لکڑی یا پلاسٹک کا یا لوہے کا جس قسم کا بھی ہے اور اگلا حصہ اس کا پھل، وہ جو کاٹنے والا ‏حصہ ہے اس کو پھل کہتے ہیں، چاقو کا پھل۔ تو چاقو کس کا نام ہے؟ صرف اس دستے کا یا صرف پھل کا یا دونوں کا ‏نام ہے؟ اس پورے کا نام چاقو ہے، جس میں دستہ بھی ہوتا ہے اور پھل بھی۔ پھل وہ اگلا حصہ جس کے ذریعے وہ کاٹا ‏جاتا ہے، تیز حصہ بھئی۔ جیسے لفظ چاقو کو مجموعہ... مجموعہ اکٹھ... یعنی سارا، جن کو مجموعہ دستہ اور پھل کے ‏لیے مقرر کر دیا گیا کہ جب لفظ چاقو ہمارے کان میں پڑتا ہے تو فوراً دستہ اور اس کا پھل ہی ہماری سمجھ میں آتا ہے۔ یا مثلاً بھئی اپ کا ایک ساتھی ہے اس کا نام ہے زید۔ میں نے جیسے ہی زید کہا، اپ کے ذہن میں فوراً کس کی صورت ‏آگئی؟ زید کی، عمر کی تو نہیں آئی؟ بکر کی تو نہیں آئی؟ کس کی آئی؟ زید کی، اچھا۔ معلوم ہوا یہ جو میں نے زبان سے ‏کہا لفظ زید، یہ ہے دال اور ذاتِ زید اپ کے ذہن میں ا... آگئی، زید کی ذات آگئی، وہ کیا ہے؟ ذاتِ زید کیا ہے؟ مدلول ہے ‏اور یہ لفظ زید موضوع ہے یا موضوع نہیں؟ اب مجھے بتاؤ۔ شاباش! یہ لفظ زید موضوع ہے اور ذاتِ زید موضوع لہٗ ‏ہے۔ یہ زید جب پیدا ہوا تھا نا تو اس کے ماں باپ نے اس کے لیے یہ لفظ، یہ نام مقرر کر دیا تھا کہ اس کا نام زید ہے، تو ‏یہاں وضع آگئی یا نہیں آگئی؟ تو جب لفظ چاقو ہمارے کان میں پڑتا ہے تو فوراً دستہ اور اس کا پھل ہی ہماری سمجھ میں آتا ہے اور دوسری چیز نہیں ‏آتی، تو چاقو موضوع ہے اور وہ دستہ وغیرہ موضوع لہٗ ہے اور اس طرح مقرر کر دینا اور خاص کرنا یہ وضع ہے ‏بھئی۔ اور پھر میں نے بتایا دلالت کی دو قسمیں ہیں دال کے اعتبار سے۔ دال اگر لفظ ہو تو دلالتِ لفظیہ اور دال اگر لفظ نہ ہو تو ‏دلالتِ غیر لفظیہ، یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں دلالت کی دو قسمیں ہیں: دلالتِ لفظیہ، دلالتِ غیر لفظیہ۔ دلالتِ لفظیہ وہ ‏دلالت ہے جس میں دال کوئی لفظ ہو، جیسے زید کی دلالت اس کی ذات پر۔ دلالتِ غیر لفظیہ وہ دلالت ہے کہ جس میں دال ‏لفظ نہ ہو، جیسے دھوئیں کی دلالت آگ پر۔ اپ نے دھوئیں کو دیکھا، اپ کو کس کا پتہ چلا؟ آگ کا۔ کوئی لفظ ہے یہاں؟ ‏نہیں، کوئی بولا ہی کچھ نہیں، اپ نے ویسے ہی دھوا... سر اٹھایا، اپ کو دھواں نظر آگیا، اپ فوراً سمجھ گئے، معلوم ہوا ‏نیچے کیا جل رہی ہے؟ آگ۔ تو کسی نے کچھ کہا ہے؟ نہیں۔ تو یہ دلالتِ غیر لفظیہ ہے۔ لیکن اس کے بجائے اگر میں زبان سے کہہ دوں، دھواں... دھواں اٹھ رہا ہے۔ دیکھا! اپ نے سر نہیں اٹھایا، میں نے ‏صرف کیا کہا؟ دھواں اٹھ رہا ہے، اپ فوراً سمجھ گئے کس کو؟ آگ ہے، تو یہاں کون سی دلالت ہوئی؟ دلالتِ لفظیہ، ‏صورت سمجھ میں آگئی؟ دلالتِ لفظیہ ہوئی۔ تو ا... ایک تو اپ جب میں نے کہا دھواں اٹھ رہا ہے، تو اپ کے ذہن میں اولاً ‏دھواں آیا، کیا آیا؟ اپ نے تو سر نہیں اٹھایا، اپ تو نیچے کتاب پہ پڑھ رہے ہیں، تو دیکھو میرے ان لفظوں نے کس پر ‏دلالت کی؟ پہلے دھوئیں پر، پہلے دھواں آیا ذہن میں اور پھر دھوئیں سے کیا آئی؟ آگ بھی آگئی، تو گویا دیکھو اس لفظ نے ‏دلالت کی دھوئیں پر اور پھر دھوئیں نے کس پر دلالت کر دی؟ آگ پر، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو کت... جی، تو یہ معنی ہے جیسے دھوئیں کی دلالت آگ پر۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔