Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تيسير المنطق · dars-007

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Ghais
📍 Location Lahore, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 15
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
دیکھیے بھئی، آگے کتاب پر، ‏ سبقِ سوم، نظر و فکر و منطق کی تعریف اور منطق کی غرض و موضوع۔ دو یا زیادہ تصور کو آپس میں ملا کر کسی نامعلوم تصور کو حاصل کرتے ‏ہیں، جیسے مثلاً ہم کو حیوان کا علم ہے اور ناطق کا، دونوں کو ملایا تو ‏حیوانِ ناطق ہوا۔ ان دو تصوروں سے ہم کو انسانِ نامعلوم کا علم ہو گیا اور ان ‏دو تصوروں معلوم کو جن سے نامعلوم تصور کا علم ہوا ہے، تعریف اور ‏معرف کہتے ہیں۔ اسی طرح دو تصدیق یا زیادہ کو ملا کر کسی نامعلوم تصدیق ‏کو معلوم کرتے ہیں۔ اچھا بھئی، اب تک آپ پڑھ چکے ہیں کہ علم کا معنی ہے جاننا اور پہچاننا۔ ‏کسی شے کی جو صورت ہمیں حاصل ہو وہ اس چیز کا علم ہے۔ کسی شے کی ‏جو پہچان ہمارے ذہن میں آئے وہ اس چیز کا علم ہے بھئی، علم ہے۔ اور پھر آپ نے پڑھا کہ یہ علم دو قسم پر ہے، یا یہ تصور ہوگا یا یہ تصدیق ‏ہوگا۔ تصور کسے کہتے ہیں؟ آپ نے پڑھا کہ جس میں بات پوری نہ ہو، یا ‏یوں کہیں پہلے تصدیق کی تعریف کر لیں، تصدیق کسے کہتے ہیں؟ جس میں ‏بات پوری ہو، یعنی دو چیزیں ذکر ہوں، ایک وہ چیز جس کے بارے میں بات ‏کی جائے اور ایک وہ بات، تو تصدیق وہ ہے جس میں بات پوری ہو اور آپ ‏کو اس بات کا یقین ہو یا غالب گمان ہو۔ غالب گمان یعنی زیادہ خیال ہو تاکہ ‏ظن اس کے اندر داخل ہو جائے بھئی۔ ظن، وهم، شک، یاد ہیں یا بھول گئے بھئی؟ ظن، مثلاً آپ کے ذہن میں ایک ‏بات آئی کہ زید کھڑا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ خیال آیا کہ شاید وہ کھڑا نہ ہو، تو ‏دیکھو دونوں طرف کا خیال ہے، اگر دونوں طرف کا خیال برابر ہو، آدھا خیال ‏یہ ہے کہ وہ کھڑا ہے، آدھا ساتھ ذہن میں یہ بھی آتا ہے کہ شاید وہ کھڑا نہ ہو، ‏تو اس کو شک کہتے ہیں اور آپ پڑھ چکے ہیں شک کس قسم میں سے ہے؟ ‏تصور میں سے ہے۔ اور اگر آپ کو ایک کا خیال زیادہ ہے، مثلاً آدھے سے ‏زیادہ خیال یہ ہے کہ زید کھڑا ہے، لیکن ساتھ تھوڑی سی، تھوڑا سا یہ خیال ‏بھی ذہن میں آ جاتا ہے کہ شاید وہ کھڑا نہ ہو، تو جب آدھے سے زیادہ خیال ‏ہو، تو یہ ہے غالب گمان یعنی زیادہ خیال۔ یہ کیا ہے؟ غالب گمان، اور غالب ‏گمان کو ظن کہتے ہیں، ظ، نون مشدد ہے۔ تو یہ جو غالب گمان ہے اس کو ظن ‏کہتے ہیں اور یہ تصدیق کی قسم ہے۔ جبکہ وہ جو تھوڑا سا خیال آیا آدھے ‏سے کم، اس کو وهم کہتے ہیں بھئی، اور وهم بھی تصور کی قبیل سے ہے۔ تو تصور کئی قسم پر ہو گیا، آپ نے پڑھ لیا بھئی۔ تصدیق کی تو دو قسمیں ہو ‏گئیں بھئی، یا تو اس میں کیا ہو؟ ایک تو بات پوری ہو اور ساتھ اس بات کا ‏یقین ہو یا غالب گمان ہو۔ دہراؤ بھئی، ایک تو اس بات کا یقین ہو یا اس کا ‏غالب گمان ہو، یعنی زیادہ خیال ہو، یا یوں کہو ظن ہو، اس کا ظن ہو۔ تو یہ ‏ہے تصدیق۔ جبکہ تصور میں کئی صورتیں آ گئیں، تصور میں بات ہی پوری نہ ‏ہو، مثلاً ایک ہی چیز کا تصور ہے زید کا، یا عمرو کا، یا بکر کا، یا کتاب کا، ‏یا قلم، ایک ہی چیز۔ یہ بھی تصور، یا ایک سے زیادہ چیزوں کا، زیادہ چیزیں ‏ہیں لیکن بات پوری نہیں، جیسے زید اور عمرو اور بکر اور خالد، آگے بات ‏پوری نہیں کی ان کو کیا ہوا۔ تو زید اور عمرو اور بکر اور خالد، یا اور ‏چیزیں دیکھ لو، کتاب، قلم، صوفہ، ترپائی، دیکھو کئی چیزیں ہیں لیکن بات ‏پوری نہیں، تو یہ بھی تصور ہے۔ ایک چیز ہو وہ بھی کیا ہے؟ تصور۔ زیادہ چیزیں ہوں لیکن بات پوری نہ ہو وہ ‏بھی تصور۔ اور اگر بات پوری ہو لیکن وہ جملہ انشائیہ ہو، استفہام ہو، یا امر ‏ہو، یا نہی ہو، استفہام یعنی سوال کسی سے پوچھا جا رہا ہے، یا امر یعنی کسی ‏کو حکم دیا جا رہا ہے، یا نہی یعنی کسی کو کسی چیز سے منع کیا جا رہا ‏ہے، یا اسی طرح ندا ہے کسی کو پکارا جا رہا ہے، یا اسی طرح قسم ہے قسم ‏کھائی جا رہی ہے، تو یہ سب بھی کس قبیل سے ہیں؟ تصور، کیونکہ یہ جملہ ‏انشائیہ ہے اور جملہ انشائیہ بھی کیا ہوتا ہے؟ تصور۔ اور اگر بات پوری ہے، چیزیں تو دو ہیں، ایک جس کے بارے میں بات کی جا ‏رہی ہے اور ایک بات ہے، لیکن آپ کو اس میں شک ہے تو یہ بھی کس قبیل ‏سے ہے؟ تصور کی قبیل سے، یا آپ کو اس کا وهم ہے تو یہ بھی کس قبیل ‏سے ہے؟ تصور۔ تو دیکھا تصور کی کتنی صورتیں بن گئیں! ایک چیز ہو وہ ‏بھی تصور، کئی چیزیں ہوں لیکن بات پوری نہ ہو تو وہ بھی تصور، جملہ ‏انشائیہ ہو یہ بھی تصور، اور شک وہ بھی تصور، اور وهم یہ بھی تصور، تو ‏تصور کی پانچ صورتیں بن گئیں، جبکہ تصدیق، تصدیق کی دو ہی صورتیں ‏بنیں، یا تو آپ کو اس بات، ایک تو اس میں بات پوری ہونی چاہیے اور نیز ‏اس بات کا آپ کو یقین ہو یا غالب گمان ہو بھئی، غالب گمان ہو۔ اس کے بعد آپ نے پڑھا تھا کہ تصور اور تصدیق کی دو دو قسمیں ہیں، ایک ‏بدیہی اور ایک نظری۔ بدیہی کس کو کہتے ہیں؟ جو بغیر تعریف کے، یا یوں ‏کہو، جس میں دماغ نہ خرچ کرنا پڑے، جو بغیر غور و فکر کے سمجھ میں آ ‏جائے، فوراً ذہن میں آ جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ بدیہی۔ اور جس میں غور ‏و فکر کرنا پڑے، دماغ خرچ کرنا پڑے، اسے کیا کہتے ہیں؟ نظری کہتے ‏ہیں، ظ ہے، نظری بھئی۔ اور تو گویا تصور بھی دو قسم پر ہو گیا، تصورِ ‏بدیہی اور تصورِ نظری، اور اسی طرح تصدیق بھی دو قسم پر ہو گئی، ایک ‏تصدیقِ بدیہی اور ایک تصدیقِ نظری، تصدیق بھی دو قسم پر ہو گئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جیسے اس کی مثالیں گزشتہ سبق میں آئی تھیں، ‏تصورِ بدیہی کی کوئی مثالیں مثلاً پانی، آگ، بادل، بارش، ہوا، کتاب، قلم، ‏گھاس، درخت، دیکھو جس کے سامنے بھی یہ لفظ ذکر کرو گے وہ فوراً سمجھ ‏جائے گا، اس کو ذرا بھی دماغ خرچ کرنے یا غور و فکر کرنے کی ضرورت ‏نہیں۔ جبکہ کچھ تصورات ایسے ہوتے ہیں جس میں دوسرے کو غور و فکر ‏کرنا پڑتا ہے پھر بات اس کو سمجھ میں آتی ہے، مثلاً جن، ہمارے لیے تو جن ‏بدیہی ہے لیکن مثلاً ایک آدمی نیا نیا مسلمان ہوا ہے، اب اس کو جن کا پتہ ‏نہیں، تو اب آپ اس کو بتائیں گے کہ ایک مخلوق ہے جس کو اللہ نے آگ سے ‏پیدا کیا ہے اور وہ لطیف ہے یعنی ہوا کی طرح کسی کو دکھائی نہیں دیتا، ‏صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور مختلف شکلیں وہ بدل سکتا ہے، اب اس کو جن ‏کی تعریف سمجھ میں آ گئی، تو دیکھو اس کو دماغ خرچ کرنا پڑا، غور و فکر ‏کرنا پڑا، تو یہ کیا ہے؟ تصورِ نظری ہے۔ تعریف سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور تصدیق بھی اسی طرح، ایک تصدیق بدیہی ہے، تصدیق بدیہی ہے، اور ‏ایک تصدیق نظری ہے، تصدیق بدیہی کوئی ایسی بات جس کے اندر دوسرے ‏کو غور و فکر نہ کرنا پڑے، بس وہ تصدیقِ بدیہی ہے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ‏ہوں: میں کتاب پڑھ رہا ہوں، دیکھو کوئی غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے؟ ‏میری بات آپ کو فوراً سمجھ میں آ گئی۔ یا میں آپ سے کہتا ہوں: زید وہ ‏سامنے کھڑا ہے، دیکھو فوراً آپ کو بات سمجھ میں آ گئی۔ یا میں آپ سے کہتا ‏ہوں: ہوا چل رہی ہے، یا میں آپ سے کہتا ہوں: بارش ہو رہی ہے، تو کوئی ‏بھی بات پوری ہے اور تو تصدیق ہے اور اس میں آپ کو غور و فکر کرنے ‏کی ضرورت نہیں تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تصدیقِ بدیہی۔ اور جہاں آپ کو ‏غور و فکر کرنا پڑے یعنی دلیل وغیرہ کی ضرورت پڑے، اس کو تصدیقِ ‏نظری کہتے ہیں، مثلاً مثلاً آپ کہتے ہیں: اس کائنات کو چلانے والی ایک ذات ‏ہے، اس کائنات کو چلانے والی ایک ذات ہے، اس کا یا یوں کہیں، اس کائنات ‏کو بنانے والی اور چلانے والی ایک ذات ہے، اب دیکھو یہ ہے تو تصدیق، ‏لیکن تصدیقِ نظری ہے کیونکہ دیکھو دنیا میں بہت سے لوگ اس کو مانتے ہی ‏نہیں ہیں، اگر بدیہی ہوتی پھر تو ہر ایک مان لیتا، بدیہی چیز کا تو کوئی انکار ‏نہیں کرتا، کسی کو کہیں بارش ہو رہی ہے وہ فوراً سمجھ جاتا ہے، اس کو ‏کہیں ہوا چل رہی ہے وہ فوراً سمجھ جاتا ہے، مثلاً آپ جیسے کتاب میں انہوں ‏نے مثال دے دی، دو اور دو کتنے ہوتے ہیں؟ چار ہوتے ہیں، ہر ایک اس بات ‏کو سمجھ لیتا ہے، کوئی بھی اس کا انکار نہیں کرتا، کوئی دلیل وغیرہ دینے ‏کی ضرورت نہیں۔ اور جبکہ آپ کہیں کہ اس کائنات کو بنانے والی اور چلانے ‏والی ایک ذات ہے، تو اب بہت سے لوگ اس کا انکار کرتے ہیں پھر آپ کو ‏دلیل دینا پڑتی ہے کہ دیکھو اس کائنات کا حسین و جمیل نظام چل رہا ہے اور ‏اس کا یہ نظام چلنا ہی بتلا رہا ہے کہ کوئی ایک ذات اس کو چلا رہی ہے، ‏خود بخود تو کوئی ایک کام بھی خود بخود نہیں ہو سکتا، ہر چیز، ہر کام کے ‏لیے کوئی نہ کوئی کرنے والا چاہیے، ہر چیز کے لیے کیا چاہیے؟ کوئی بنانے ‏والا چاہیے، تو خود بخود تو میں نے جیسے مثال ذکر کی، آج تک ایک گلاس ‏نہیں بن سکا بھئی، کبھی تو کوئی ایک گلاس ہمیں دکھا دیتا خود بنا ہوا ہے، ‏گلاس دیکھو شیشے کا ہو گیا، سٹیل کا ہو گیا، کوئی ایک گلاس تو باخود بخود ‏بنا ہوتا، ایک سادہ سی چیز ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یا ایک پلیٹ خود ‏بخود بنی ہوتی، بالکل سادہ سی چیز ہے، چاہے لوہے کی ہوتی، چاہے پیتل کی ‏ہوتی، چاہے شیشے کی ہوتی، چاہے پتھر کی ہوتی، لیکن خوبصورت سی بنی ‏ہوئی ہو، پتہ لگے کہ ایسا آج تک نہیں ہو سکا، تو پھر اتنی حسین و جمیل ‏کائنات، یہ ستاروں کا نظام، یہ سورج چاند ستارے وغیرہ اور یہ خوبصورت ‏دنیا جس کے اندر بارش بھی برستی ہے، ہوائیں بھی چلتی ہیں، طوفان بھی ‏آتے ہیں، اور آبشاریں ہیں، دریا ہیں، کتنا حسین و جمیل نظام چل رہا ہے، یہ ‏خود بخود کیسے چل سکتا ہے؟ خود بخود کیسے وجود میں آ سکتا ہے؟ تو معلوم ہوا، تصور کی بھی دو قسمیں، تصورِ بدیہی اور تصورِ نظری، اور ‏تصدیق کی بھی دو قسمیں، تصدیقِ بدیہی اور تصدیقِ نظری۔ اب آئیے جی آج کے سبق پر، تیسرا سبق بھئی، سبقِ سوم، تیسرا سبق۔ یاد ‏رکھو، آج ہم چار چیزیں پڑھیں گے: نظر و فکر، توجہ ہے؟ ادھر دیکھیں، ‏ایک ہم پڑھیں گے نظر و فکر، ایک پڑھیں گے منطق کی تعریف، اور ایک ‏پڑھیں گے منطق کا موضوع، اور ایک پڑھیں گے منطق کی غرض و غایت، ‏تو کتنی چیزیں ہیں؟ چار: نظر و فکر، منطق کی تعریف، موضوع، اور غرض ‏و غایت، تو یہ چار چیزیں ہو گئیں۔ بھئی دیکھیے، اتنا تو آپ، اب تک آپ کو پتہ چل گیا کہ ہمارا علم کتنی قسم پر ‏ہے؟ دو ہی قسم پر ہے، یا وہ کیا ہوگا؟ تصور، یا کیا ہوگا؟ تصدیق ہوگا، ‏تصدیق ہوگا۔ جتنی بھی ہماری معلومات ہیں، جو بھی چیزیں ہم جانتے ہیں، جو ‏کچھ ہمارے ذہن میں موجود ہے وہ ہمیشہ انہی دو میں سے کچھ ہوگا، یا وہ کیا ‏ہوگا؟ تصور، یا کیا ہوگا؟ تصدیق، یہ نہیں ہو سکتا نہ وہ تصور ہو، نہ وہ ‏تصدیق ہو، نہیں نہیں، دونوں میں سے ایک ضرور ہوگا، تیسری چیز نہیں۔ اور ‏یہ بھی آپ جانتے ہیں، یہ بھی آپ کو پتہ ہے کہ ہمیں ہر چیز کا پتہ نہیں، کچھ ‏چیزوں کا ہمیں پتہ ہوتا ہے، کچھ چیزوں کا پتہ نہیں ہوتا، ان کو جاننا پڑتا ہے، ‏سیکھنا پڑتا ہے، جیسے یہ چند دن قبل آپ کو تصور اور تصدیق کا پتہ نہیں ‏تھا، پھر آپ نے اس کو جان لیا، پھر آپ کو تصورِ بدیہی اور نظری کا پتہ نہیں ‏تھا، اب وہ بھی آپ نے جان لیا، تو دیکھو کچھ چیزیں ہمیں معلوم ہوتی ہیں اور ‏کچھ چیزوں کو کیا کرنا پڑتا ہے؟ جاننا پڑتا ہے۔ اور جتنی بھی چیزوں کو ہم ‏جانتے ہیں وہ کتنی ہیں؟ وہ کتنی قسم پر ہیں؟ ابھی آپ نے پڑھا، دو قسم پر، یا ‏وہ تصور، یا وہ تصدیق، تو اسی کا، تو اسی سے آپ کو یہ بھی پتہ چل گیا، ‏جن چیزوں کو جاننا پڑتا ہے جن کا ہمیں علم نہیں وہ بھی کتنی قسم پر؟ وہ ‏بھی ظاہر سی بات ہے دو ہی قسم کی ہوں گی، یا وہ تصور ہوں گی یا تصدیق، ‏معلوم ہوا تصور دو طرح کے ہو گئے، کچھ وہ تصور ہیں جو ہمیں معلوم ہیں، ‏کچھ تصور جو ہمیں معلوم نہیں ان کو جاننا پڑتا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ سارے علوم دیکھو، ڈاکٹری کا علم ہے، انجینئرنگ کا علم ہے، اور ‏ریاضی کا علم ہے، بڑے بڑے علوم ہیں، کمپیوٹر کا علم ہے، دیکھو ان چیزوں ‏کا آپ کو علم نہیں، ان کو جاننا پڑتا ہے، آپ ان کو سیکھتے ہیں اور کچھ ‏عرصے میں اس کے ماہر بن جاتے ہیں، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ‏ہوا چاہے تصور ہو یا تصدیق ہو، تو وہ یا تو ہمیں معلوم ہوں گے یا کچھ کیا ‏ہوں گے؟ نامعلوم ہوں گے۔ اور نامعلوم کو مجہول کہتے ہیں، مجہول کا کیا معنی؟ نامعلوم، معلوم ہوا کہ، ‏کہ تصور دو طرح کے ہو گئے، کچھ تصورِ معلوم ہیں، کچھ تصورِ مجہول ‏ہیں، جن کو، مجہول کا کیا معنی؟ نامعلوم، مجہول کا کیا معنی؟ نامعلوم، تو کچھ ‏تصور معلوم ہیں ہمیں اور کچھ نامعلوم ہیں، یا یوں کہو، کچھ مجہول ہیں، ‏مجہول ہیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ میں نے آپ کو پہلے بھی بتلایا تھا کہ ‏عالم کا معنی ہے، علم کس کا، کیا معنی ہے؟ جاننا، پہچاننا۔ عالم کا کیا معنی؟ ‏جاننے والا، پہچاننے والا۔ اور جاہل، جہل کا معنی ہے نہ جاننا، تو جاہل نہ ‏جاننے والا، عالم جاننے والا، اور جاہل نہ جاننے والا، نہ جاننے والا۔ مثلاً ‏ایک آدمی منطق جانتا ہے تو ہم کہیں گے یہ منطق کا عالم ہے، ایک آدمی ‏ریاضی جانتا ہے تو ہم کہیں گے یہ ریاضی کا عالم ہے، ایک آدمی انگریزی ‏جانتا ہے تو ہم کہیں گے یہ انگریزی کا عالم ہے، انگریزی کا کیا ہے؟ کیا ‏معنی؟ جاننے والا ہے، انگریزی کا جاننے، ایک وہ عالم جس کو ہم سمجھتے ‏ہیں جو دینی علوم پڑھا ہوا ہوتا ہے، صورت سمجھ میں آئی؟ تو ہم عالم زیادہ ‏تر اس کے لیے استعمال کرتے ہیں، لیکن عالم کا معنی ہے جاننے والا، آپ ‏کسی بھی چیز کے جاننے والے کو کہہ سکتے ہیں یہ اس چیز کا جاننے والا ‏ہے، یہ اس چیز کا عالم ہے، ایک آدمی بجلی کا کام جانتا ہے آپ اس کو بلاتے ‏ہیں میرے گھر بجلی کی تار وغیرہ کچھ خراب ہے اس کو ٹھیک کر دیں، تو ‏اس کو کیا کہیں گے؟ یہ بجلی کا، بجلی کا عالم یعنی بجلی کا کام جاننے والی، ‏صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو عالم کا کیا معنی ہوتا ہے؟ جاننے والا، جاننے ‏والا، اور نہ جاننے والے کو کیا کہتے ہیں؟ جاہل کہیں گے، جہل کا معنی ہے ‏نہ جاننا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ اس کام سے، یوں کہو ناواقف ہے، ‏ناواقف بھئی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اسی طرح یہ جو تصور ہے، کچھ تصور ہمیں معلوم ہیں، وہ، ان کو کیا ‏کہیں گے؟ تصورِ معلوم، اور کچھ کو جاننا پڑتا ہے، ہمیں معلوم نہیں، ان کو ‏کیا کہیں گے؟ تصورِ مجہول، اور آسان لفظوں میں کیا کہیں گے؟ تصورِ ‏نامعلوم۔ اسی طرح تصدیق بھی دو طرح، کچھ تصدیقات ہمیں معلوم ہیں اور ‏کچھ ہمیں معلوم نہیں ہوتیں ان کو جاننا پڑتا ہے، جیسے ابتداءِ منطق میں آپ ‏کو کئی چیزوں کا پتہ نہیں تھا، اب آہستہ آہستہ آپ کو پتہ چلتا جا رہا ہے، آپ ‏اس کو جانتے جا رہے ہیں، تو منطق، تو گویا تصدیق ایک معلوم ہے جس کو ‏ہم جانتے ہیں اور دوسری کیا ہے؟ تصدیقِ جس کو ہم نہیں جانتے اس کو کیا ‏کہیں گے؟ تصدیقِ نامعلوم، ہاں، اور تصدیقِ مجہول کہیں گے، صورت سمجھ ‏میں آ گئی؟ تو نامعلوم بھی استعمال کرتے ہیں لیکن زیادہ تر مجہول کا لفظ ‏استعمال کرتے ہیں، دیکھو ایک ہی لفظ ہے جس کا معنی ہے نامعلوم۔ تصور ‏کتنی قسم پر گویا؟ ایک معلوم، دوسرا نامعلوم، اسی طرح تصدیق بھی کتنی قسم ‏پر؟ ایک معلوم اور ایک مجہول بھئی، ایک مجہول بھئی، صورت سمجھ میں آ ‏گئی۔ اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ نامعلوم چیز کو معلوم چیزوں کے ذریعے جانا ‏جاتا ہے، کس کو آپ جاننا چاہتے ہیں؟ ایک نامعلوم چیز ہے، آپ کو اس کا پتہ ‏نہیں، آپ اس کو جاننا چاہتے ہیں، تو یاد رکھو ہمیشہ معلوم چیزوں سے اس کو ‏جانا جائے گا۔ کس کو جاننا چاہتے ہیں؟ توجہ ہے؟ کس کو جاننا چاہتے ہیں؟ ‏نامعلوم یعنی مجہول چیز کو، تو کس کے ذریعے جانیں گے؟ ہمیشہ معلوم چیز ‏کے ذریعے اس کو جانیں گے، مثلاً آپ کو زید کے گھر کا پتہ ہے، اب آپ نے ‏میرے سے پوچھا: عمرو کا گھر کہاں ہے؟ عمرو کے گھر کا آپ کو پتہ نہیں، ‏تو زید کا گھر معلوم اور عمرو کا گھر مجہول، اب آپ میرے سے پوچھتے ہیں ‏کہ عمرو کا گھر کہاں ہے؟ میں آپ سے کہتا ہوں: زید کے گھر کے سامنے، ‏پتہ چل گیا یا نہیں آپ کو فوراً؟ آپ کو زید کے گھر کا پتہ ہے، آپ فوراً سمجھ ‏گئے، اچھا فلاں علاقے کے اندر وہ جو زید کا گھر ہے اس کے گھر کے ‏سامنے کس کا گھر ہے؟ عمرو، دیکھا کس سے پتہ چلا؟ معلوم چیز کے ذریعے کس کا پتہ ‏چلا؟ نامعلوم، یعنی مجهول چیز کا پتہ چلا۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ نامعلوم کے ذریعے نامعلوم کا پتہ چلے۔ جب ایک چیز کا ‏آپ کو پتہ ہی نہیں، تو اس جب اس کا نہیں پتہ، تو دوسری چیز کو اس کے ذریعے کیسے جانیں گے؟ مثلاً یہی دیکھ لو، ‏زید کے گھر کا بھی آپ کو نہیں پتہ اور عمر کے گھر کا بھی آپ کو نہیں پتہ، آپ نے میرے سے پوچھا: "عمر کا گھر ‏کدھر ہے؟" میں نے کہا: "زید کے گھر کے سامنے ہے۔" اب کچھ پتہ چلا آپ کو؟ نہیں! آپ کہیں گے: "بھئی، مجھے تو ‏زید کے گھر کا نہیں پتہ۔"‏ دیکھا؟ جب ایک چیز خود نامعلوم ہے، تو اس کے ذریعے دوسری نامعلوم چیز کا کبھی بھی پتہ نہیں چلتا۔ تو بات سمجھ ‏میں آ گئی؟ معلوم ہوا ہمیشہ نامعلوم چیز کو یا مجهول چیز کو کس کے ذریعے جانتے ہیں؟ معلوم چیز کے ذریعے جانتے ‏ہیں۔ اور مجهول کے ذریعے کبھی بھی مجهول کا علم نہیں، کیونکہ مجهول کا خود آپ کو نہیں پتہ، تو اس سے آگے کسی ‏اور چیز کا کیسے پتہ چلے گا؟ ہاں، ایک مجهول چیز تھی، وہ آپ کو معلوم ہو گئی، آپ نے اس کو جان لیا، اب معلوم ہو ‏چکی، اب تو مجهول نہیں رہی، اس کے ذریعے اب آگے کیا کر سکتے ہیں؟ آگے مجهول کا علم، مثلاً زید کے گھر آپ کو ‏کوئی ساتھی بتا دیتا ہے کہ زید کا گھر یہ ہے، اب آپ کو زید کے گھر کا پتہ چل گیا، وہ آپ کو معلوم ہو گیا۔ اب جیسے ہی ‏وہ معلوم ہوا، ساتھ ہی دوسرا جو عمر کا گھر ہے، وہ بھی کیا ہو گیا؟ معلوم۔ تو ہمیشہ معلوم چیز کے ذریعے مجهول کا پتہ ‏چلتا ہے، مجهول کے ذریعے کبھی بھی مجهول کا پتہ نہیں چلتا۔ اچھا، آگے اب یاد رکھیے۔ یاد رکھیے، جو چیز جس کو ہم جاننا چاہتے ہیں، جو مجهول ہے، وہ تصور بھی ہو سکتا ہے ‏اور تصدیق بھی۔ ایسا ہی ہے نہ؟ ہماری جو بھی چیزیں ہم جاننا چاہتے ہیں یا ہم جانیں گے، وہ کیا ہوں گی؟ یا تصور یا ‏تصدیق۔ اسی طرح وہ جو نامعلوم چیزیں ہیں، وہ بھی کیا ہوں گی؟ یا تصور یا تصدیق۔ تو اگر ایک چیز جس کو ہم جاننا ‏چاہتے ہیں، جو مجهول ہے، اگر وہ تصور کے قبیل سے ہے، تو اس کو تصور ہی کے ذریعے جانا جائے گا۔ تو اب یاد رکھیے کہ تصور کے، اگر تصورِ مجهول کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، اس کو جاننا چاہتے ہیں، تو اس کا علم ‏تصور ہی کے ذریعے ہو گا اور اگر آپ تصدیق کو جاننا چاہتے ہیں، تصدیقِ مجهول کو، تو اس کا علم تصدیقِ معلوم ہی ‏کے ذریعے ہو گا۔ بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام یہ کہ تصور کا علم تصور ہی سے ہو گا اور تصدیق کا علم ‏تصدیق ہی سے ہو گا۔ آپ تصدیقِ مجهول کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، ایک تصدیق ہے جس کا آپ کو علم نہیں، آپ اس کو ‏جاننا چاہتے ہیں، تو کس کے ذریعے حاصل کریں گے؟ تصدیقِ معلوم کے ذریعے، جیسے، جیسے آپ عربی سیکھنا چاہتے ہیں، تو آپ کو عربی پڑھنا پڑے گی، عربی کے، عربی کی کتابوں سے آپ کو ‏عربی کا پتہ چلے گا۔ آپ فارسی سیکھنا چاہتے ہیں، تو فارسی کی کتابوں سے آپ کو فارسی کا پتہ چلے گا۔ آپ ریاضی ‏سیکھنا چاہتے ہیں، تو ریاضی پڑھیں گے تو آپ کو ریاضی آئے گی۔ ایسا، یا اسی طرح آپ انگریزی سیکھنا چاہتے ہیں، ‏تو انگریزی پڑھیں گے تو آپ کو انگریزی آئے گی۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ سیکھنا، آپ سیکھنا انگریزی چاہتے ہیں اور ‏آپ فارسی کی کتاب پڑھنا شروع کر دیں، تو فارسی کی کتاب سے تو کبھی بھی آپ کو انگریزی نہیں آئے گی، یا آپ عربی ‏سیکھنا چاہتے ہیں اور آپ انگریزی کی کتاب پڑھنا شروع کر دیں، نہیں، عربی پڑھنے، عربی سیکھنے کے لیے کس کو ‏جاننا پڑے گا؟ کس کو پڑھنا پڑے گا؟ عربی۔ تو اسی طرح اگر آپ تصور کو جاننا چاہتے ہیں، تو اس کا پتہ تصور ہی ‏سے چلے گا، آپ تصدیق کو جاننا چاہتے ہیں، تو اس کا پتہ تصدیق ہی سے آپ کو پتہ چلے گا اس کا بھئی، صورت سمجھ ‏میں آ گئی۔ اچھا، اب اتنا تو آپ کو پتہ چل گیا کہ تصور، تصورِ مجهول کو کس سے جانا جائے گا؟ تصورِ معلوم سے، اور تصدیقِ ‏مجهول کو کس سے جانا جائے گا؟ تصدیقِ معلوم سے۔ اب کس طرح جانا جائے گا؟ یہ بھی سمجھ لو۔ یاد رکھو، دیکھیے ‏بھئی، میرے سامنے یہ ایک طرف یہ ایک تصورِ مجهول ہے، جس کو آپ جاننا چاہتے ہیں۔ تو کیا کریں گے آپ؟ آپ دو ‏یا دو سے زیادہ تصورِ معلوم ملائیں گے اور اس سے آپ کو یہ تصورِ مجهول حاصل ہو جائے گا۔ کس کو حاصل کرنا ‏چاہتے ہیں؟ تصورِ مجهول کو، تو آپ کیا کریں گے؟ دو، کم از کم دو یا دو سے زیادہ تصورِ معلوم کو ملائیں گے، ان کو ‏ترتیب دیں گے اور اس سے آپ کو کیا حاصل ہو جائے گا؟ تصورِ مجهول حاصل ہو جائے گا۔ مثلاً بھئی، ہاتھی ایک جانور ہے، آپ اسے جانتے ہیں، فرض کریں آپ کا ایک ساتھی ہے، اس کو ہاتھی کے بارے میں ‏علم نہیں۔ ہاتھی کے بارے میں، اب آپ اس کو ہاتھی کی پہچان کرواتے ہیں۔ ہاتھی پہلے مجھے یہ بتائیے، یہ کیا ہے؟ ‏تصور ہے یا تصدیق ہے؟ یہ تصور ہے۔ اب اپنے ساتھی کو اس تصور کی پہچان کروانا چاہتے ہیں، تو آپ تین چار اور ‏تصور ملائیں گے جو معلوم ہیں اس کو، اور پھر وہ ہاتھی کو جان لے گا۔ مثلاً آپ اسے بتائیں گے کہ دیکھو، ہاتھی ایک ‏بہت بڑا جانور ہوتا ہے، چودہ پندرہ فٹ تک اونچا ہوتا ہے، اور اس کے، بہت بڑا جسم ہوتا ہے، سیاہ رنگ کا، اور اس ‏کی موٹی موٹی ٹانگیں ہوتی ہیں، اور اس کی ایک لمبی سی سونڈ ہوتی ہے، اور بڑے بڑے کان ہوتے ہیں، یہ اس طرح کی ‏کچھ نشانیاں آپ اسے بتائیں گے، تو اب وہ ہاتھی کو پہچان لے گا بھئی، کچھ نہ کچھ صورت اس کے ذہن میں آ جائے گی ‏ہاتھی کی۔ تو دیکھا؟ یہ آپ نے کس کے، کیا چیز آپ اس کو بتلانا چاہ رہے تھے؟ ہاتھی۔ ہاتھی کیا تھا اس کے لیے؟ تصورِ مجهول۔ ‏لیکن اس تصورِ مجهول کو آپ نے اس کے لیے، اس کو سمجھایا کس کے ذریعے؟ تصورِ معلوم کے ذریعے، اس کو ‏موٹے جسم کا بھی پتہ، موٹا کسے کہتے ہیں، اس کو یہ بھی پتہ تھا موٹی موٹی ٹانگیں کس کو کہتے ہیں، اس، وہ سونڈ کو ‏بھی جانتا ہے، سونڈ کس طرح کی ہوتی ہے، اس کو اور جو نشانیاں آپ نے مثلاً جو بھی بتاتے ہیں، اس چیز، ان سب ‏چیزوں کو وہ جانتا تھا، تو جب ان چیزوں کو ملایا تو اس کو کس کا علم ہو گیا؟ ہاتھی کا علم ہو گیا۔ تو دیکھا آپ نے دو تین معلوم تصوروں کو ملایا، تو اس کو جو تصورِ مجهول تھا، وہ حاصل ہو گیا بھئی، حاصل ہو گیا۔ ‏صورت سمجھ میں آ گئی۔ اسی طرح آپ ایک تصدیق کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، اور وہ تصدیق مجهول ہے، تصدیق کیا ہے؟ مجهول ہے، یا یوں ‏کہیں، آپ کے سامنے دو تصدیقِ معلوم آئیں، تو خود بخود آپ کے ذہن میں ایک تیسری تصدیق بھی آ گئی، مثلاً میں آپ ‏سے کہتا ہوں: "زید درجہِ اولیٰ میں پڑھتا ہے۔" یہ کیا ہے؟ تصدیق۔ "زید درجہِ اولیٰ میں پڑھتا ہے۔" اور "درجہِ اولیٰ کا ہر ‏طالبِ علم بڑا منطقی ہے۔" ایک سے ایک تیسری بات بھی آپ کو، دیکھو میں نے تو دو باتیں کیں، "زید درجہِ اولیٰ میں ‏پڑھتا ہے۔" اور "درجہِ اولیٰ کا ہر طالبِ علم بڑا منطقی ہے۔" میں نے دو تصدیقیں آپ کے سامنے ذکر کیں، دیکھو خود ‏بخود ایک تیسری تصدیق بھی آپ کے ذہن میں آ گئی ہو گی، اور وہ کیا؟ نہیں سمجھ میں آئی بات؟ میں نے کہا: "زید درجہِ ‏اولیٰ میں پڑھتا ہے۔" اور "درجہِ اولیٰ کا ہر طالبِ علم بڑا منطقی ہے۔" معلوم ہوا زید بھی بڑا منطقی ہے۔ دیکھو، میں نے ‏بتایا تو نہیں آپ کو، یہ ایک مجهول تصدیق تھی، لیکن دو معلوم تصدیقوں کو ملایا، تو خود بخود یہ مجهول تصدیق آپ کو ‏حاصل ہو گئی یا نہیں؟ پھر ذرا غور کرو، "زید درجہِ اولیٰ میں پڑھتا ہے۔" اور "درجہِ اولیٰ کا ہر طالبِ علم بڑا منطقی ‏ہے۔" نتیجہ کیا نکلا؟ معلوم ہوا زید بھی بڑا منطقی ہے۔ جب اولیٰ میں پڑھتا ہے اور اولیٰ کا ہر طالبِ علم بڑا منطقی ہے، ‏معلوم ہوا زید بھی کیا ہو گا؟ تو میں نے تو آپ کو صرف اتنا کہا تھا، "زید درجہِ اولیٰ میں پڑھتا ہے۔" اور "درجہِ اولیٰ کا ‏ہر طالبِ علم بڑا منطقی ہے۔" خود بخود ایک تیسرا بھی، تیسری تصدیق بھی آ گئی یا نہیں آ گئی؟ تو دیکھا دو معلوم ‏تصدیقیں تھیں، ان کو ملایا، ان کو ترتیب دی، ان کو جوڑا، تو خود بخود کیا حاصل ہو گئی؟ ایک تیسری مجهول تصدیق ‏بھی حاصل ہو گئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ جو ہم دو یا زیادہ معلوم چیزوں کو ملاتے ہیں اور ہمیں ایک نامعلوم چیز حاصل ہو جاتی ہے، یہ معلوم چیزیں جن کو ‏آپ نے ملایا اگر تصور تھیں، تو ہمیں کیا حاصل ہو گا؟ تصورِ مجهول، اور اگر یہ معلوم چیزیں جن کو ملایا اگر یہ ‏تصدیق تھیں، تو ہمیں کیا حاصل ہو گا؟ تو ہمیں تصدیق حاصل ہو گی۔ تو حاصلِ کلام یہ کہ یہ جو دو یا زیادہ، کم از کم ‏کتنی کو ملانا پڑے گا؟ دو کو، زیادہ بھی ہو سکتی ہیں تین، چار، پانچ، جتنی کو بھی ملانا پڑے ضرورت کے مطابق، تو ‏یہ جو دو یا زیادہ معلوم چیزوں کو ملا کر نامعلوم چیز کو حاصل کرتے ہیں، اس کو نظر و فکر کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ نظر و فکر کسے کہتے ہیں؟ آسان سی بات ہے، دو یا زیادہ معلوم چیزوں کو ملا کر مجهول چیز کو ‏حاصل کرنا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ نظر و فکر کہلاتا ہے۔ یا جیسے، مثلاً اور تصدیق دیکھ لیں، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: ‏‏"انسان جاندار ہے۔" یہ کیا ہے؟ تصدیق ہے۔ "انسان جاندار ہے۔" اور "ہر جاندار سانس لیتا ہے۔" یہ بھی تصدیق ہے۔ تو یہ ‏دو معلوم تصدیقیں میں نے ذکر کر دیں، "انسان جاندار ہے۔" اور "ہر جاندار سانس لیتا ہے۔" نتیجہ کیا نکلا؟ انسان بھی ‏سانس لیتا ہے۔ دیکھا؟ یا دوسری دیکھ لو، "انسان جاندار ہے۔" اور "ہر جاندار کا جسم ہوتا ہے۔" نتیجہ کیا نکلا؟ انسان کا ‏بھی جسم ہوتا ہے۔ دیکھا، خود بخود نتیجہ نکل رہا ہے یا نہیں؟ تو جب بھی آپ دو یا زیادہ معلوم چیزوں کو ملائیں گے اور ‏اس سے آپ کو مجهول چیز حاصل ہو جائے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ نظر و فکر۔ نظر اور فکر، یاد رکھیے نظر کا بھی ‏یہی، آپ صرف یہ کہہ دیں 'نظر'، دو یا دو سے زیادہ معلوم چیزوں کو ملا کر مجهول چیز کو حاصل کیا جائے، اس کو ‏نظر کہتے ہیں۔ یا آپ کہہ دیں، اس کو فکر کہتے ہیں۔ تو دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔ نظر کا کیا معنی؟ نظر کا کیا معنی؟ ‏دو یا زیادہ معلوم چیزوں کو ملا کر مجهول چیز کو حاصل کرنا۔ اچھا، فکر کا کیا معنی؟ وہی دوبارہ دہراؤ، دو معلوم یا دو ‏سے زیادہ معلوم چیزوں کو ملا کر مجهول چیز کو حاصل کرنا، یہ کیا ہے؟ فکر، اور دونوں بھی لفظ استعمال کر لیتے ‏ہیں، دو یا زیادہ معلوم چیزوں کو ملا کر نامعلوم چیز کو حاصل کرنا، یہ نظر و فکر کہلاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ‏نظر و فکر یعنی غور و فکر۔ آپ بھی غور و فکر کرتے ہیں، نئی نئی باتیں ذہن میں آتی ہیں یا نہیں؟ یہ پولیس والے کیا ‏کرتے ہیں؟ مجرم کو پکڑتے ہیں، دیکھو کئی چیزوں کو آپس میں باتوں کو جوڑتے ہیں کہ یہ بات اس طرح، یہ اس طرح ‏ہے، معلوم ہوا یہ اس نے اس طرح کیا ہو گا، یا اس نے اس طرح کیا ہو گا، اور پھر بالآخر کس تک پہنچ جاتے ہیں؟ ‏مجرم کو جا کر پکڑ لیتے ہیں، معلوم ہوا اس آدمی نے جرم کیا ہو گا۔ تو یہ سارا کیا ہے؟ یہ غور و فکر، معلوم چیزوں کو ملاتے ہیں اور کس کو حاصل کرتے ہیں؟ مجهول چیزوں کو حاصل ‏کر لیتے ہیں، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ہے نظر و فکر، اب پھر دہرا لو بھئی، اچھی طرح سمجھ میں آ گئی نظر و فکر؟ جی، بولیے، نظر و فکر کسے کہتے ہیں؟ دو یا زیادہ معلوم چیزوں کو ملا کر مجهول چیز کو حاصل کرنا، یہ کیا کہلاتا ‏ہے؟ نظر و فکر کہلاتا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھا جی، اب دیکھیے ذرا کتاب پر بھئی، دیکھیے سبقِ سوم: نظر و فکر اور منطق کی تعریف اور منطق کی غرض و ‏موضوع۔ یہ سب چیزیں آئیں گی، ابھی ہم نے صرف نظر و فکر کے بارے میں پڑھا ہے۔ کہتے ہیں: دو یا زیادہ تصور کو ‏آپس میں ملا کر کسی نامعلوم تصور کو حاصل کرتے ہیں، جیسے مثلاً ہم کو حیوان کا علم ہے اور ناطق کا، دونوں کو ‏ملایا تو حیوانِ ناطق ہوا۔ ان دو تصوروں سے ہم کو انسانِ نامعلوم کا علم ہو گیا۔ یاد رکھیے، یہ جو انسان ہے نہ، انسان، ‏اس کو کہتے ہیں حیوانِ ناطق۔ کیا کہتے ہیں؟ کوئی آپ کے سامنے کہہ دے 'انسان'، کوئی آپ کے سامنے کہہ دے 'حیوانِ ‏ناطق'، آپ فوراً سمجھ جائیں حیوانِ ناطق کون ہے؟ انسان ہے بھئی۔ ناطق نطق سے ہے، نطق کا معنی بولنا، بولنا۔ تو ‏ناطق: بولنے والا، تو انسان بھی کیا ہے؟ حیوان، حیوان کا معنی جاندار، ایسا جاندار ہے ناطق، جو بولنے والا ہے، جو ‏باتیں کرتا ہے، اور کوئی حیوان ایسا نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یا بعضوں نے ناطق کا ترجمہ عقل والے کے کیا، انسان وہ حیوان ہے جو عقل رکھنے والا ہے۔ ‏لیکن زیادہ پسندیدہ کیا؟ بولنے والا بھئی، بولنے والا، اور دیکھو اور حیوان کتنے ہی ہیں، گائے، بھینس، بکری، گھوڑا، ‏گدھا، سب ہیں، لیکن بولنے والا صرف کون ہے؟ باتیں کرنے والا؟ انسان ہے بھئی، انسان ہے۔ تو انسان کو کیا کہتے ‏ہیں؟ حیوانِ ناطق۔ حیوان کا کیا معنی؟ جاندار، اور ناطق کا کیا معنی؟ بولنے والا۔ دیکھو، آپ کو حیوان کا بھی پتہ تھا کہ ‏حیوان کس کو کہتے ہیں، جاندار کو کہتے ہیں، آپ کو ناطق کا بھی پتہ تھا، ناطق کسے کہتے ہیں؟ بولنے والا یا عقل ‏رکھنے والا، جو بھی آپ ترجمہ آپ کو بہتر لگے۔ اب آپ نے ان دو کو ملایا، حیوانِ ناطق، تو کیا بن گیا؟ حیوانِ ناطق، ‏بولنے والا حیوان، بولنے والا جاندار۔ آپ سمجھ گئے، اوہ اچھا، یہ تو انسان ہے بھئی، کیونکہ بولنے والا حیوان تو یہی ‏ہے، باقی حیوان یا جاندار تو ہیں لیکن بولنے والے نہیں ہیں بھئی۔ دیکھیے اب دوبارہ، جیسے مثلاً ہم کو حیوان کا علم ہے اور ناطق کا، حیوان، یہ تصور ہے یا تصدیق ہے؟ تصور۔ ناطق، ‏یہ بھی کیا ہے؟ تصور۔ دونوں کو ملایا تو حیوانِ ناطق یعنی انسان کا پتہ چل گیا، اور انسان بھی کیا ہے؟ تصور ہے، ‏دیکھا تصورِ معلوم سے کس کا پتہ چلا؟ تصورِ مجهول حیوانِ ناطق کا۔ مثلاً آپ کو حیوان کا علم ہے اور ناطق کا، دونوں ‏کو ملایا تو حیوانِ ناطق ہوا، ان دو تصوروں سے، کون سے دو تصور؟ حیوان اور ناطق، ان سے ہم کو انسانِ نامعلوم، ‏یعنی انسانِ مجهول کا علم ہو گیا، صورت سمجھ میں آ گئی۔ اچھا، اور دوسری مثال لے لو، مثلاً گھوڑا ہے، گھوڑا ہے، آپ کو گھوڑے کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، تو مثلاً آپ کو ‏حیوان کا بھی علم ہے، جاندار، اور آپ کو صاہل، صاہل کا معنی ہوتا ہے ہنہنانا، گھوڑے کی جو آواز ہوتی ہے ‏مخصوص، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ہنہنانا۔ تو اسی سے ہے صاہل، صاد کے ساتھ، حیوانِ صاہل، ہنہنانے والا حیوان، آپ ‏فوراً سمجھ گئے، کس کی بات ہو رہی ہے؟ گھوڑے کی، تو حیوان ایک تصور آپ کو معلوم تھا، صاہل ہنہنانے والا، یہ ‏تصور بھی آپ کو معلوم تھا، ان دونوں کو ملایا، تو پھر کیا حاصل ہوا؟ حیوانِ صاہل، یعنی گھوڑے کا علم آپ کو حاصل ‏ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ اب یاد رکھو بھئی، یاد رکھو، یہ جو ہم نے، ادھر دیکھیے میرے ساتھ، بھئی دیکھیے، یہ ہے وہ تصورِ مجهول جو ہمیں ‏حاصل ہوا، پہلے معلوم نہیں تھا، مجهول تھا۔ اب تو معلوم ہو چکا ہے، لیکن پہلے کیا تھا؟ مجهول۔ یہ ہے وہ تصورِ ‏مجهول، اور یہ ہیں وہ دو یا تین تصورِ معلوم جن کے ذریعے کیا حاصل ہوا؟ وہ والا تصورِ مجهول۔ تو یہ جو معلوم ‏تصور ہیں جن کے ذریعے نامعلوم تصور حاصل ہوا، یہ جو معلوم تصور ہیں، ان کے دو نام ہیں: تعریف اور معرف، اور ‏بھی نام آئیں گے، وہ آپ اگلی کتابوں میں پڑھ لیں گے، ابھی جو یہاں ذکر ہیں بس فی الحال انہی کو سمجھتے جائیے۔ تو یہ ‏جو دو معلوم تصور ہیں، جن کے ذریعے کیا حاصل ہو رہا ہے؟ مجهول تصور یا نامعلوم تصور حاصل ہو رہا ہے، ان دو ‏معلوم تصوروں کے دو نام ہیں: ان کو تعریف بھی کہتے ہیں اور معرف بھی۔ تعریف، تعریف کا معنی پہچان کروانا، ان دو ‏نے آپ کو اس تیسری چیز کی کیا کروا دی؟ پہچان کروا دی، تو یہ تعریف بھی ہے۔ نیز یہ معرف بھی ان کو کہتے ہیں، ‏معرف کا معنی پہچان کروانے والا، پہچان کروانے، تو ان کو معرف بھی کہتے ہیں اور اس کو تعریف بھی کہتے ہیں۔ اور ‏وہ جو مجهول ہمیں حاصل ہوا، اس کو معرف کہتے ہیں را کے فتحہ کے ساتھ۔ یہ پہچان کروانے والے کون ہیں؟ معرف، ‏یہ جو دو معلوم تصور تھے جن کے ذریعے کیا حاصل ہوا؟ مجهول، تو یہ جو دو معلوم تصور ہیں، ان کو کہتے ہیں ‏معرف، را کے کسرہ کے، را کے زیر کے ساتھ، یعنی پہچان کروانے والے، یہ کیا ہیں؟ معرف ہیں، پہچان کروانے والے ‏ہیں، اور جس کی پہچان کروائی، یعنی وہ جو مجهول حاصل ہوا، اس کو کہتے ہیں معرف، را کے زبر کے ساتھ، معرف، ‏را کے فتحہ کے ساتھ، جس کی پہچان کروائی گئی۔ آپ علم صرف سب پڑھ رہے ہیں نا؟ ہاں، انشاءاللہ جلدی آپ کو پتہ چل جائے گا کہ معرف اسمِ فاعل کا صیغہ ہے اور ‏معرف کیا ہے اس میں؟ مفعول کا صیغہ ہے۔ معرف کا معنیٰ ہے پہچان کروانے والا اور معرف کا معنیٰ ہے جس کی ‏پہچان کروائی جائے۔ تو پہچان کروانے والے کون تھے، معلوم یا مجهول؟ معلوم، پہچان کروانے والے معلوم، معلوم تھے، ‏ان کو معرف کہیں گے اور پہچان کس کی کروائی گئی؟ وہ کیا تھا؟ وہ مجهول تھا تو اس کو معرف کہیں گے۔ صورت ‏سمجھ میں آگئی؟ تو یہ جو پہچان کروانے والے ہیں ان کے دو نام، ایک کیا؟ تعریف، دوسرا معرف اور جس کی پہچان ‏کروائی گئی اس کا کیا نام؟ معرف ہے بھئی، صورت سمجھ میں آگئی۔ اسی طرح تصدیق بھی ہوتی ہے، دیکھا؟ دو تصدیقوں کو آپ نے ملایا، ایک تیسری مجهول تصدیق حاصل ہو گئی۔ تو یہ ‏جو دو معلوم تصدیقیں ہیں، جن کی وجہ سے ایک تیسری تصدیق حاصل ہوئی، ان دو معلوم تصدیقوں کو دلیل اور حجت ‏کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ دلیل اور حجت، دو نام ہیں، حجت اور وہ جو تیسری نئی تصدیق حاصل ہوئی اس کو نتیجہ کہتے ‏ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ نتیجہ۔ پھر دہراؤ بھئی، مثلاً میں نے آپ سے کہا زيد درجہ اولیٰ میں پڑھتا ہے اور درجہ اولیٰ کا ہر ‏طالب علم بڑا محنتی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ زید بڑا محنتی ہے۔ تو یہ جو دو معلوم تصدیقیں تھیں: زيد درجہ اولیٰ میں پڑھتا ‏ہے اور درجہ اولیٰ کا ہر طالب علم بڑا محنتی ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ دلیل، دوسرا نام کیا ہے؟ حجت۔ دلیل کے معنیٰ ‏رہنمائی کرنا، دلیل کا کیا معنیٰ؟ رہنمائی کرنا، تو اس نے رہنمائی کر کے ایک تیسری تصدیق تک پہنچایا یا نہیں آپ کو؟ ‏لہذا ان دو کو کیا کہتے ہیں؟ دلیل اور حجت بھی کہتے ہیں۔ حجت کا معنیٰ غالب ہونا، کیا معنیٰ؟ غالب ہونا۔ کیونکہ جب آپ ‏دلیل پیش کریں گے تو نتیجہ نکل آئے گا اور آپ جس مخالف کے ساتھ آپ بحث کر رہے ہیں، آپ اس پر غالب آ جائیں ‏گے، آپ دلیل دے کر اس سے جیت جائیں گے، جو آپ نتیجہ چاہتے تھے وہ ثابت ہو جائے گا، صورت سمجھ میں آگئی؟ ‏مثلاً وہ نہیں مان رہا تھا کہ زید محنتی ہے۔ آپ نے کہا بھئی زید درجہ اولیٰ میں پڑھتا ہے، یہ آپ مانتے ہیں یا نہیں؟ اس نے کہا ہاں میں مانتا ہوں۔ آپ نے کہا درجہ ‏اولیٰ کا ہر طالب علم بڑا محنتی ہے، یہ بھی مانتے ہو یا نہیں مانتے؟ وہ کہتا ہے ہاں یہ بھی مانتا ہوں۔ جب آپ کہیں گے ‏جب یہ دو مانتے ہیں تو تیسری بات تو خود بخود نکل آئی کہ معلوم ہوا زید بھی کیا ہے؟ محنتی ہے۔ دیکھا آپ غالب آ گئے ‏یا نہیں اس پر؟ وہ تو نہیں مان رہا تھا، لیکن اب دلیل جب آگئی اس کو کیا کرنا پڑا؟ ماننا پڑا، تو یہ دیکھا؟ اس کے غالب ‏اور غالب آنے کو حجت کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ حجت۔ تو یہ جو دو معلوم تصدیقیں ہیں، جن کے لیے کیا حاصل ہوا؟ ‏مجهول تصدیق حاصل ہوئی، تو یہ معلوم تصدیقوں کو کیا کہتے ہیں؟ دلیل اور حجت کہتے ہیں اور وہ جو نامعلوم تصدیق ‏حاصل ہوئی اس کو کیا کہتے ہیں؟ نتیجہ کہتے ہیں، صورت سمجھ میں آگئی؟ اب دیکھیے یہی بات بیان کریں گے کتاب ‏میں۔ ‏"اور ان دو تصوروں معلوم کو جن سے نامعلوم تصور کا علم ہوا ہے، تعریف اور معرف کہتے ہیں۔" تعریف اور معرف، ‏‏"اسی طرح دو تصدیق یا زیادہ کو ملا کر کسی نامعلوم تصدیق کو معلوم کرتے ہیں، جیسے ہم کو یہ بات معلوم ہے کہ ‏انسان جاندار ہے اور یہ بھی علم ہے کہ ہر جاندار جسم والا ہے، ان دونوں باتوں کو ہم نے ملایا تو ہم کو اس بات کا علم ‏ہوا کہ انسان جسم والا ہے۔ اور ان دو تصدیق معلوم کو جن سے نامعلوم تصدیق حاصل کرتے ہیں دلیل اور حجت کہتے ‏ہیں۔" دلیل کا کیا معنیٰ؟ رہنمائی کرنا اور حجت کا کیا معنیٰ؟ غالب ہونا۔ ‏"اس طرح دو علموں یا زیادہ کو ملا کر کسی شئے نامعلوم کے معلوم کرنے کو فکر اور نظر کہتے ہیں۔" بات سمجھ میں ‏آئی؟ کیا؟ دو علموں یا زیادہ، علم چاہے وہ تصور ہو چاہے تصدیق، تو وہ دو یا زیادہ کو ملا کر کسی شئے نامعلوم کے ‏معلوم کرنے کو فکر اور نظر، نظر اور فکر کہتے ہیں اور میں نے بتایا نظر اور فکر کا ایک معنیٰ ہے، چاہے آپ صرف ‏نظر بول دیں بات پھر بھی ٹھیک، آپ صرف فکر بول دیں بات پھر بھی ٹھیک، آپ دونوں بول دیں پھر بھی بات صحیح ‏ہے، صورت سمجھ میں آئی؟ تو نظر و فکر کسے کہتے ہیں؟ دو یا زیادہ معلوم چیزوں کو ملا کر مجهول چیز کو حاصل ‏کرنا، یہ کیا ہے؟ نظر و فکر ہے۔ حاصل کلام پھر ایک مختصراً سن لو، آپ جانتے ہیں کہ ہمارا علم دو قسم پر ہے، یا وہ تصور ہے یا تصدیق ہے بھئی اور ‏پھر یہ جو تصور اور تصدیق ہیں یہ تو ہر چیز کا تو ہمیں پتہ نہیں، کچھ معلوم ہیں تو کچھ نا معلوم ہیں یعنی مجهول ہیں ‏اور پھر اس نا، یہ جو نا معلوم ہوتے ہیں ان کو کس کے ذریعے معلوم کرتے ہیں؟ معلوم چیزوں کے ذریعے اور پھر اگر ‏وہ جو مجهول ہے وہ تصور ہے تو پھر وہ معلوم تصوروں سے حاصل ہوگا اور اگر وہ مجهول تصدیق ہے تو پھر وہ ‏مجهول تصدیق کس کے ذریعے حاصل ہوگی؟ معلوم تصدیقوں کے ذریعے حاصل ہوگی۔ دو یا زیادہ معلوم تصوروں کو ‏ملائیں گے تو پھر تصدیق مجهول، دو یا زیادہ معلوم تصوروں کو ملائیں گے تو کیا حاصل ہوگا؟ تصورِ مجهول حاصل ‏ہوگا اور دو یا زیادہ معلوم تصدیقوں کو ملائیں گے تو کیا حاصل ہوگی؟ مجهول تصدیق حاصل ہوگی اور یہ جو دو معلوم ‏تصور جن کے ذریعے مجهول تصور حاصل ہوا، یہ دو معلوم تصور ان کا کیا نام ہے؟ تعریف اور معرف اور جو مجهول ‏تصور حاصل ہوا اس کو کیا کہتے ہیں؟ معرف اور یہ جو دو معلوم تصدیق، دو یا زیادہ معلوم تصدیقوں سے ہمیں ایک ‏مجهول تصدیق حاصل ہوئی تو یہ جو معلوم تصدیقیں ہیں ان کو کیا کہتے ہیں؟ دلیل اور حجت، کیونکہ دلیل کا کیا معنیٰ؟ ‏رہنمائی کرنا، کیونکہ یہ رہنمائی کرتی ہیں اس نتیجے تک یا حجت، حجت کا معنیٰ غالب آنا، دلیل آئے گی تو آپ مخالف پر ‏کیا آ جائیں گے؟ غالب آ جائیں گے۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔