Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

تيسير المنطق · dars-006

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Ghais
📍 Location Lahore, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 11
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
دیکھیے بھئی، کتاب پر تصور و تصدیق کی قسمیں۔ تصور کی دو قسمیں ہیں: تصورِ بدیہی، تصورِ نظری۔ تصورِ بدیہی ایسی شے کا علم ہے کہ اس کی تعریف بتانے کی ضرورت نہ ہو ‏اور بغیر تعریف کے سمجھ میں آ جائے، جیسے پانی، آگ، گرمی، سردی کہ ‏سنتے ہی یہ چیزیں ہماری سمجھ میں آ جاتی ہیں، جس کی تعریف کی ‏ضرورت نہیں، اور تصورِ نظری اس شے کا علم ہے کہ بغیر تعریف کیے وہ ‏ہماری سمجھ میں نہ آئے، جیسے اسم، فعل، حرف، معرب، مبنی، جن، فرشتہ، ‏بھوت، دیو وغیرہ۔ گزشتہ سبق میں، میں آپ کو بھئی بتلا رہا تھا کہ تصدیق کے اندر دو حصے ‏ہوتے ہیں بھئی کلام کے۔ ایک وہ چیز جس کے بارے میں بات کی جائے اور ‏دوسری جو بات کی جائے۔ اور یہ بھی میں نے آپ کو پہلے بتلایا تھا کہ یہ جو ‏بات بتلائی جا رہی ہے، یہ مثبت بھی ہو سکتی ہے اور منفی بھی ہو سکتی ہے۔ مثبت کا کیا معنیٰ؟ کہ اس میں نہی وغیرہ کا ذکر نہ ہو اور منفی جس میں نفی ‏کی جاتی ہے۔ مثلاً، میں کہتا ہوں "زید کھڑا ہے" تو دیکھو اس میں کھڑا ہونے ‏کا ذکر ہے، زید کے لیے کھڑا ہونا ثابت کیا جا رہا ہے تو کہیں گے یہ مثبت ‏ہے بھئی۔ اور اگر میں کہتا ہوں "زید کھڑا نہیں ہے" تو یہ کیا ہے؟ منفی ہے، ‏میں زید سے کھڑے ہونے کی نفی کر رہا ہوں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو یہ میں زید سے کھڑے ہونے کی نفی ‏کر رہا ہوں تو یہ بھی تصدیق۔ "زید کھڑا ہے" یہ بھی تصدیق، "زید کھڑا نہیں ‏ہے" یہ بھی کیا ہے؟ تصدیق ہے۔ تو تصدیق کے اندر ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے اثبات بھی ہو سکتا ہے ‏اور اس سے نفی بھی ہو سکتی ہے۔ البتہ ہے وہ اسی طرح، اس میں، اس میں ‏بھی، اس میں بھی دو چیزیں۔ ایک وہ جس کے بارے میں بات کی جائے اور ‏آگے دوسری کیا ہوگی؟ وہ جو بات کی جائے اور وہ بات دو طرح کی ہو سکتی ‏ہے، مثبت بھی ہو سکتی ہے اور منفی بھی، لیکن ہے تو بات ہی۔ پہلا حصہ وہ ہے جس کے بارے میں، مثلاً میں کہتا ہوں "زید کھڑا نہیں ہے" ‏دو حصے ہیں، کس کے بارے میں بات کی؟ زید کے بارے میں، اور کیا بات ‏کی؟ کہ وہ کھڑا نہیں ہے بھئی۔ تو مثبت بھی ہو سکتا ہے یہ کلام اور منفی بھی ‏ہو سکتا ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو دونوں تصدیق ہیں بھئی، چاہے مثبت ہو چاہے منفی ہو بھئی۔ یا میں کہتا ‏ہوں "زید عالم ہے"، دوسری صورت ہے میں کہتا ہوں "زید عالم نہیں ہے"، ‏دونوں تصدیق ہیں بھئی، دونوں تصدیق ہیں۔ البتہ ایک مثبت ہے اور ایک کیا ‏ہے؟ منفی ہے بھئی۔ اور تصدیق کے اندر آپ نے پڑھا کہ یہ جو چیز آپ دوسرے کے لیے ثابت کر ‏رہے ہیں یا جو چیز دوسرے سے نفی کر رہے ہیں، یہ یقینی ہونی چاہیے، آپ ‏کو اس کا یقین ہو يا یقین نہ ہو تو پھر کم از کم زیادہ خیال ہو کہ ایسا ہی ہے، ‏تو اس کو پھر تصدیق کہیں گے۔ جبکہ باقی جتنی صورتیں ہیں وہ کس کی ہیں؟ ‏وہ تصور کی ہیں بھئی۔ اور پھر یہ جو تصدیق کے اندر دو جز ہیں، پہلا وہ جز جس کے بارے میں ‏بات کی جائے، اس کے تین نام ہیں بھئی، تین نام میں نے بتلائے تھے۔ پہلا نام ‏کیا ہے اس کا؟ مبتدا۔ اسی کا دوسرا نام کیا ہے؟ محکوم علیہ۔ اور اسی کا تیسرا ‏نام کیا ہے؟ موضوع بھئی، موضوع۔ اور جبکہ وہ جو بات کی جائے اس کے ‏بھی تین نام ہیں، پہلا نام کیا ہے؟ خبر ہے، دوسرا نام کیا ہے؟ محکوم بہ ہے، ‏محکوم بہ بھئی، اور تیسرا نام کیا ہے؟ محمول ہے۔ اور یہ جو، یہ جو میں نے کہا "زید عالم ہے" تو آپ کیا کہیں گے؟ "زید کے ‏بارے میں بات کی گئی"، کیا کہیں گے؟ "زید کے بارے میں بات کی گئی"۔ ‏اسی کو علمی انداز میں کیسے کہیں گے؟ "زید پر حکم لگایا گیا"، "زید پر ‏حکم لگایا گیا"۔ اور اسی کو دوسرے لفظوں میں تیسرے، تیسرا طریقہ کیا ہے؟ ‏اس کو کیسے کہیں گے؟ "زید پر حمل کیا گیا"۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ زید ‏کے بارے میں بات کی گئی، زید پر حکم لگایا گیا، زید پر حمل کیا گیا۔ ‏صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ مثلاً دیکھیے بھئی، میں کہتا ہوں "زید عالم ہے" توجہ سے، اب مجھے بتائیے ‏مبتدا کون؟ زید۔ اور یہ عالم، یہ کیا ہے؟ خبر ہے۔ اچھا، اسی زید کا دوسرا نام ‏کیا؟ محکوم علیہ۔ اور یہ جو عالم ہے اس کا کیا نام ہے؟ محکوم بہ بھئی۔ اچھا، ‏زید کا تیسرا نام کیا؟ موضوع۔ اور عالم ہے اس کا تیسرا نام کیا؟ محمول ہے۔ ‏تو یوں کہیں گے، زید کے بارے میں عالم ہونے کی بات کی گئی، یا یوں کہیں ‏گے، زید پر عالم ہونے کا حکم لگایا گیا، یا یوں کہیں گے، زید پر عالم ہونے ‏کا حمل کیا گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور منفی میں بھی اسی طرح ہے، "زید عالم نہیں ہے"، تو کہیں گے زید کے ‏بارے میں عالم نہ ہونے کی بات کی گئی، یا زید پر عالم نہ ہونے کا حکم لگایا ‏گیا، یا زید پر عالم نہ ہونے کا حمل کیا گیا کہ عالم نہیں ہے بھئی۔ صورت ‏سمجھ میں آ گئی؟ یا یوں کہیں گے زید سے عالم ہونے کی نفی کی گئی، عالم ہونے کی نفی کی ‏گئی۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ آپ جو کچھ جانتے ہیں، جو کچھ پہچانتے ہیں، ‏جو بھی علم حاصل کرتے ہیں وہ دو قسم پر ہے، یا وہ تصور ہے یا وہ تصدیق ‏ہے، تصور ہے یا تصدیق ہے۔ اور پھر یہ تصور اور تصدیق یہ بعض اوقات ‏آپ کو پہلے سے ہی پتا ہوتا ہے، بعض اوقات آپ کو پتا نہیں ہوتا، آپ کو جاننا ‏پڑتا ہے بھئی، اس کو پہچاننا پڑتا ہے۔ جیسے ابھی تک جو باتیں ہم پڑھ رہے تھے آپ پہلے نہیں جانتے تھے، لیکن ‏اب آہستہ آہستہ ان کو جانتے جا رہے ہیں۔ آپ کو پہلے نہیں تھا پتا علم کسے ‏کہتے ہیں، علم کا کیا معنیٰ ہوتا ہے، آپ کو نہیں تھا پتا تصور کسے کہتے ‏ہیں، تصدیق کسے کہتے ہیں وغیرہ۔ اب ان چیزوں کو آپ جانتے جا رہے ہیں۔ تو آپ جو کچھ جانتے ہیں وہ بھی دو قسم پر، یا وہ تصور ہوگا یا تصدیق، اور ‏جن چیزوں کو آپ نے جاننا ہے اور نئی آپ کو معلوم ہوں گی وہ بھی ظاہر ‏سی بات ہے انہی میں سے ہوں گی، یا وہ کیا ہوں گی؟ تصور يا تصدیق۔ ‏صورت سمجھ میں آ گئی۔ اور پھر یہ جو چیزیں ہیں، یہ جو تصور اور تصدیق ہیں، یاد رکھیے یہ دونوں ‏پھر دو دو قسم پر ہیں، ایک ہے بدیہی اور ایک ہے نظری।‏ تو تصور بھی دو ‏قسم کا ہو گیا، ایک تصورِ بدیہی ہے اور ایک تصورِ نظری ہے، یہ کتاب میں ‏لفظ لکھے ہوئے ہیں بدیہی، تصورِ بدیہی، اور دوسرا بھی لکھا ہوا ہے تصورِ ‏نظری۔ اسی طرح تصدیق کی بھی آگے قسمیں بنی ہوئی ہیں، تصدیق کی بھی قسمیں ‏آگے لکھی ہوئی ہیں کہ تصدیق بھی دو قسم پر ہے، ایک تصدیقِ بدیہی اور ‏ایک تصدیقِ نظری۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا بدیہی کسے کہتے ہیں؟ جو فوراً ‏ذہن میں آ جائے، دماغ خرچ نہ کرنا پڑے، غور و فکر نہ کرنا پڑے، وہ کیا ‏ہے؟ بدیہی۔ میں نے کہا "قلم"، فوراً آپ کو سمجھ میں آ گیا کہ میں کیا چیز ذکر کر رہا ‏ہوں۔ میں نے کہا "کتاب"، فوراً ایک چیز آپ کے ذہن میں آ گئی۔ میں نے کہا ‏‏"گرمی"، فوراً آپ سمجھ گئے میں کیا کہہ رہا ہوں۔ میں نے کہا "سردی"، میں ‏نے کہا "چائے"، میں نے کہا "دودھ"، میں نے کہا "دھوپ"، میں نے کہا ‏‏"سورج"، میں نے کہا "چاند"، دیکھیں جو جو میں لفظ بولتا جا رہا ہوں، آپ ‏فوراً سمجھتے جا رہے ہیں یا نہیں سمجھتے جا رہے؟ تو دیکھو معلوم ہوا یہ ‏چیزیں بدیہی ہیں بھئی۔ سنتے ہی فوراً سمجھ میں آ گئیں، چھوٹا، بڑا، ذہین، کم ذہن والا، سب ان کو ‏جانتے ہیں۔ کسی کے سامنے بھی ذکر کیا جائے وہ ان سب کو جانتا ہے۔ تو یہ ‏چیزیں کیا ہیں؟ یہ تصور ہیں اور کون سا تصور ہیں؟ بدیہی ہیں، فوراً سمجھ ‏میں آ جاتی ہیں، دماغ خرچ نہیں کرنا پڑتا۔ اور کچھ تصور ایسے ہیں کہ اس میں دماغ خرچ کرنا پڑتا ہے اور سوچنا پڑتا ‏ہے، فکر کرنا پڑتی ہے، ذہن کو متوجہ کرنا پڑتا ہے، پھر وہ چیز سمجھ میں ‏آتی ہے تو اس کو اگر وہ تصور ہے تو تصورِ نظری کہیں گے، اور اگر وہ ‏تصدیق ہے تو اسے تصدیقِ نظری کہیں گے۔ مثلاً "جن"، جن کسے کہتے ہیں؟ دیکھیے یہ بتلانا پڑے گا۔ ہاں، مسلمان تو ‏جانتا ہے لیکن خصوصاً کفار تو جانتے نہیں بلکہ اکثر اس کا انکار کرتے ہیں، ‏تو ان کو پھر بتانا پڑتا ہے کہ جن ایک مخلوق ہے جسے اللہ نے آگ سے پیدا ‏کیا ہے بھئی، اور وہ دکھائی نہیں دیتی اور مختلف شکلیں وہ اختیار کر سکتی ‏ہے بھئی، اور وہ لطیف ہے یعنی ہوا کی طرح ہے، اس کا کوئی سخت جسم ‏نہیں ہے بھئی۔ تو یہ بتانا پڑتا ہے، معلوم ہوا جن کیا ہے؟ تصور، اور کون سا تصور ہے؟ ‏تصورِ نظری ہے۔ تصورِ نظری ہے۔ بلکہ یوں کہیں، جن مسلمانوں کے لیے تو کیا ہو جاتا ہے؟ بدیہی ہو جاتا ہے۔ ‏بچے، بوڑھے، جوان، کسی پڑھے لکھے، ان پڑھ، کسی کے سامنے آپ جن کا ‏ذکر کریں، وہ فوراً سمجھ جاتا ہے یا نہیں کس کے بارے میں بات ہو رہی ہے؟ ‏اور ہاں، غیر مسلم ہو تو اس کو سمجھانا پڑے گا، بتانا پڑے گا، بتانا پڑے گا، ‏اور میں نے جیسے ذکر کیا اکثر تو اس کو مانتے ہی نہیں ہیں۔ تو معلوم ہوا یہ جو تصور اور تصدیق ہیں، یہ بھی لوگوں کے اعتبار سے ‏مختلف ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے ایک چیز آپ کے لیے بدیہی ہو، بولتے ہی فوراً ‏آپ سمجھ جاتے ہیں، اور آپ کے ساتھی کے لیے وہ چیز نظری ہو، اس کو ‏غور و فکر کرنا پڑتا ہے، ذہن کو متوجہ کرنا پڑتا ہے۔ معلوم ہوا یہ بدیہی اور نظری ہونا لوگوں کے اعتبار سے مختلف ہو سکتا ہے۔ ‏ایک ہی چیز ایک شخص کے لیے کیا ہو؟ بدیہی ہو، اور دوسرے کے لیے کیا ‏ہو؟ نظری ہو، ایسا ہو سکتا ہے۔ کیونکہ فرق کیا ہے دونوں میں؟ بدیہی کسے ‏کہتے ہیں؟ جو فوراً سمجھ میں آ جائے۔ اور نظری کسے کہتے ہیں؟ جس میں ‏غور و فکر کرنا پڑے۔ تو ہو سکتا ہے ایک چیز آپ کو فوراً سمجھ میں آ جائے ‏اور آپ کے ساتھی کو کیا کرنا پڑے؟ غور و فکر کرنا پڑے۔ تو معلوم ہوا ‏نظری اور بدیہی ہونا آدمیوں کے اعتبار سے مختلف ہو سکتا ہے بھئی، ‏مختلف ہو سکتا ہے۔ اسی طرح یاد رکھیے، ایک چیز کو جب آپ جان لیتے ہیں، مثلاً بھئی تصور، ‏میں نے کہا تصور، آپ فوراً سمجھ گئے یا نہیں کس چیز کی بات ہو رہی ہے؟ ‏میں نے کہا تصدیق، آپ فوراً سمجھ گئے کس کی بات ہو رہی ہے۔ تو دو دن پہلے یہ چیز آپ کے لیے نظری تھی، اب یہ چیز آپ کے لیے بدیہی ‏بن چکی ہے۔ میں جیسے ہی تصور بولتا ہوں آپ سمجھ جاتے ہیں کس چیز کی ‏بات ہو رہی ہے، میں جیسے ہی تصدیق کہتا ہوں آپ فوراً سمجھ جاتے ہیں کس ‏چیز کی بات ہو رہی ہے۔ تو دیکھیے، پہلے ایک چیز کیا تھی؟ نظری، اب آپ کے لیے کیا بن چکی؟ ‏بدیہی بن چکی ہے، لیکن کہیں گے اس کو پھر بھی نظری ہی، کیونکہ کس ‏طرح حاصل ہوئی تھی؟ غور و فکر کر کے حاصل ہوئی تھی۔ بات سمجھ میں آ ‏گئی؟ معلوم ہوا ایک ہی چیز پہلے کیا ہوگی؟ نظری ہو سکتا ہے، نظری ہو، ذہن ‏خرچ کرنا پڑے۔ بعد میں کیا بن جائے گی؟ بدیہی، فوراً، بولتے ہی فوراً سمجھ ‏میں آ جائے گا، لیکن پھر بھی نام اس کا کیا رکھیں گے؟ نظری ہی کہیں گے، ‏کیونکہ حاصل کس طرح ہوئی تھی؟ غور و فکر کرنا پڑا تھا اور دماغ خرچ ‏کرنا پڑا تھا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو معلوم ہوا تصور دو قسم پر ہے: ایک تصورِ بدیہی اور ایک تصورِ نظری۔ ‏اسی طرح تصدیق میں بھی دو قسمیں ہیں بھئی تصدیق میں بھی۔ بعض اوقات ‏تصدیق جو ہے وہ فوراً سمجھ میں آ جاتی ہے، ہر ایک کو سمجھ میں آ جاتی ‏ہے، ہر ایک اس کو جانتا ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ ہاں، ہر ایک اس کو ‏فوراً سمجھ لیتا ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں "ہوا چل رہی ہے"، دیکھو! ہر ایک اس ‏بات کو سمجھ لے گا، چھوٹا ہو، بڑا ہو، بوڑھا ہو، جوان ہو، پڑھا لکھا ہو، ان ‏پڑھ ہو، سب سمجھ لیں گے کہ یہ کیا بات کر رہا ہے۔ تو اس کو کیا کہیں گے؟ تصدیقِ بدیہی کہیں گے بھئی، تصدیقِ بدیہی۔ اور ‏بعض اوقات اس کے لیے، اس کو سمجھانا پڑتا ہے، دلیل وغیرہ دینا پڑتی ہے، ‏پھر جا کر بات سمجھ میں آتی ہے، تو اس قسم کی تصدیق کو کیا کہیں گے؟ ‏تصدیقِ نظری کہیں گے، تصدیقِ نظری۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی، کتاب پر اب، تصور و تصدیق کی قسمیں۔ تصور کی دو قسمیں ‏ہیں: تصورِ بدیہی، تصورِ نظری۔ تصورِ بدیہی ایسی شے کا علم ہے کہ اس کی ‏تعریف بتانے کی ضرورت نہ ہو اور بغیر تعریف کے سمجھ میں آ جائے۔ عبارت سمجھ میں آ رہی ہے؟ حل ہو رہی ہے؟ کوئی مشکل تو نہیں؟ تصورِ ‏بدیہی ایسی شے کا علم ہے کہ اس کی تعریف بتانے کی ضرورت نہ ہو اور ‏بغیر تعریف کے سمجھ میں آ جائے، جیسے پانی، آگ، گرمی، سردی کہ سنتے ‏ہی یہ چیزیں ہماری سمجھ میں آ جاتی ہیں، جس کی تعریف کی ضرورت نہیں، ‏ہر ایک ان کو جانتا ہے۔ جبکہ دوسری قسم تصور کی کیا ہے؟ تصورِ نظری، وہ بھی دیکھ لیجیے کتاب ‏پر۔ تصورِ نظری اس شے کا علم ہے کہ بغیر تعریف کیے وہ ہماری سمجھ میں ‏نہ آئے، بغیر تعریف کے ہماری سمجھ میں نہ آئے، یعنی سمجھانا پڑتا ہے، ‏دماغ خرچ کرنا پڑتا ہے، ذہن خرچ کرنا پڑتا ہے۔ تو تصورِ نظری اس شے کا علم ہے کہ بغیر تعریف کیے وہ ہماری سمجھ میں ‏نہ آئے، جیسے اسم، فعل، حرف، معرب، مبنی، جن، فرشتہ، بھوت، دیو وغیرہ۔ دیکھو یہ اسم، فعل اور حرف، یہ مثالیں جو ذکر ہیں ان کو بھی سمجھ لو۔ اسم، ‏فعل، حرف، یہ آپ پڑھیں گے علمِ نحو کے اندر بھئی کہ کلمہ جو ہے وہ لفظ ‏جس کا کوئی معنیٰ ہو اس کو کلمہ کہتے ہیں۔ وہ لفظ جس کا کوئی معنیٰ ہو اس ‏کو کیا کہتے ہیں؟ کلمہ کہتے ہیں۔ مثلاً بھئی، میں نے کہا "روٹی"، فوراً ایک چیز آپ کے ذہن میں آئی یا نہیں ‏آئی؟ معلوم ہوا روٹی کا معنیٰ کیا ہے، وہ ایک چیز جو آٹے سے تیار کی جاتی ‏ہے، آگ پر توے پر پکائی جاتی ہے اور پھر اس کو کھایا جاتا ہے۔ تو جیسے ‏ہی میں نے کہا روٹی، فوراً وہ چیز آپ کے ذہن میں آ گئی۔ یا اسی طرح میں نے جیسے ہی کہا "کتاب"، فوراً ایک چیز آپ کے ذہن میں آ ‏گئی بھئی۔ یا اسی طرح میں کہتا ہوں "بہادری"، یا اسی طرح میں کہتا ہوں ‏‏"گرمی"، یا میں کہتا ہوں "سردی"، دیکھو جو جو میں لفظ بول رہا ہوں، آپ ‏فوراً اس کا معنیٰ سمجھتے جا رہے ہیں۔ معلوم ہوا یہ ایسے الفاظ ہیں جو کسی ‏نہ کسی معنیٰ پر کیا کر رہے ہیں؟ دلالت کر رہے ہیں، ان کا کوئی نہ کوئی ‏معنیٰ ہے، تو یاد رکھو ہر وہ لفظ جس کا کچھ معنیٰ ہو اس کو کلمہ کہتے ہیں۔ ‏کیا کہتے ہیں؟ کلمہ۔ ہاں، بعض اوقات لفظ ہوتا ہے لیکن اس کا معنیٰ کوئی نہیں ہوتا، مثلاً آپ کا ‏ساتھی آیا، آپ نے اس سے کہا "روٹی شوٹی کھاؤ گے؟" اب روٹی کا تو معنیٰ ‏ہے، لیکن یہ "شوٹی" لفظ آپ نے ساتھ ویسے ہی ملا دیا، اس کا کوئی معنیٰ ‏نہیں، تو یہ لفظ تو ہے۔ کیونکہ میں نے زبان سے ادا کیا یا نہیں کیا؟ لفظ تو ‏ہے، لیکن اس کا معنیٰ کوئی نہیں تو اس کو کلمہ نہیں کہیں گے۔ تو کلمہ کس لفظ کو کہتے ہیں؟ جس کا کوئی معنیٰ ہو۔ اور پھر اس کلمہ کی آپ ‏پڑھیں گے، تین قسمیں ہیں: اسم ہے، فعل ہے اور حرف ہے۔ وہاں دیکھو ‏باقاعدہ اسم کی تعریف کرنا پڑتی ہے کہ اسم وہ کلمہ ہے کہ جس کا معنیٰ خود ‏بخود سمجھ میں آ جاتا ہے اور تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی اس کے ‏ساتھ ملا ہوا نہیں ہوتا، پڑھ لیا کہ ابھی نہیں پڑھا؟ پڑھ لیا؟ ہاں! اور فعل کسے ‏کہتے ہیں؟ وہ کلمہ ہے کہ جس کا معنیٰ خود بخود سمجھ میں آ جائے اور اس ‏کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی ملا ہوا ہو۔ اور حرف کسے ‏کہتے ہیں؟ وہ کلمہ ہے، اس کا معنیٰ تو ہوتا ہے لیکن معنیٰ خود بخود سمجھ ‏میں نہیں آتا، اس کے ساتھ کسی اور کلمے کو ملائیں گے تو پھر اس کا معنیٰ ‏سمجھ میں آئے گا بھئی، تو اس کو حرف کہتے ہیں۔ تو یہ دیکھو، یہ جو کتاب میں ذکر ہے جیسے اسم، فعل، حرف، دیکھا اسم کی ‏بھی تعریف کرنا پڑتی ہے، دماغ خرچ کرنا پڑتا ہے، پھر سمجھ میں آتا ہے، ‏فعل کی بھی تعریف کرنا پڑتی ہے، حرف کی بھی۔ اسی طرح معرب اور مبنی ‏ہیں، یہ بھی آپ نحو کے اندر پڑھیں گے بھئی۔ معرب یاد رکھیے، معرب وہ ‏لفظ ہے جس کا آخر بدلتا ہے مختلف جگہوں پر، مثلاً زیدٌ، زیداً، زیدٍ، دیکھا ‏دال پر حرکتیں بدل رہی ہیں یا نہیں؟ پہلے میں زیدٌ دو پیش ہیں، زیداً دو زبر ‏ہیں اب آ گئے، اور زیدٍ اب دو زیر آ گئے، تو یہ جس کی حالت بدلتی ہو جس ‏کا آخر بدلتا ہو اس کو معرب کہتے ہیں۔ اور جس کا آخر نہ بدلتا ہو، اس کو مبنی کہتے ہیں، جیسے "ھو"۔ "ھو" ضمیر ہے۔ اب یہ ہر جگہ اسی طرح رہے گی، واؤ ‏پر زبر ہی رہے گی، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ تو معرب اور مبنی آپ کو سمجھ میں آگیا؟ جی۔ تو دیکھا، یہ بھی تصورِ نظری ہیں۔ کیونکہ تصدیق تو ہے نہیں، بات تو ‏پوری نہیں ہے، ایک ایک چیز ہے، اور نظری ہیں، آپ کو ذہن خرچ کرنا پڑا، ذہن کو متوجہ کرنا پڑا، اس کی تعریف ‏کرنا پڑی، پھر آپ کو سمجھ میں آیا۔ اسی طرح جن، جیسے بات ابھی گزر گئی، جن کسے کہتے ہیں، اسی طرح فرشتہ۔ جن کسے کہتے ہیں؟ مخلوق، جسے اللہ ‏نے آگ سے پیدا فرمایا ہے، اس کا لطیف جسم ہے، دکھائی نہیں دیتا، اور مختلف صورتیں اختیار کر سکتا ہے۔ تو اس کو ‏جن کہتے ہیں بھئی، یہ ایک مخلوق ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ دکھائی نہیں دیتی۔ اور اسی طرح آگے لفظ آ رہا ہے فرشتہ۔ فرشتہ اللہ کی ایک نورانی مخلوق ہے، جسے اللہ نے نور سے پیدا فرمایا ہے، اور ‏وہ بھی اللہ کے احکام پر عمل کرتے ہیں، کبھی اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے، تو یہ فرشتہ۔ اور اسی طرح آگے ہے بھوت بھئی۔ بھوت انہوں نے لکھا، بھئی یہ وہمی ایک ویسی چیز، وہ ڈراؤنی شکل جو اندھیرے ‏میں دکھائی دے، تو لوگ کیا کہتے ہیں؟ یہ بھوت ہے، بھوت کا کوئی وجود نہیں ہے، ویسے انسان کے ذہن میں ایک ‏صورت خوف کی وجہ سے خود ہی بنا لاتے، بنا لیتا ہے، تصور کر لیتا ہے کہ یہ خوفناک صورت شاید مجھے نظر آئی، ‏وہم ہو جاتا ہے اس کو، اس کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں۔ لیکن بہرحال سمجھانا پڑتا ہے یا نہیں کہ بھوت کسے کہتے ہیں؟ اسی طرح دیو آیا۔ دیو کہتے ہیں وہ جن جو بہت بڑا ہو اور خوب لمبا چوڑا ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ دیو کہتے ہیں۔ تو یہ ‏سب دیکھیے تصورِ نظری ہیں بھئی۔ آگے دیکھیے کتاب پر بھئی، تصدیق کی بھی اسی طرح دو قسمیں ہیں: تصدیقِ بدیہی، تصدیقِ نظری۔ تصدیقِ بدیہی وہ ‏تصدیق ہے جس کے لیے دلیل بتانے کی ضرورت نہ ہو، جیسے دو چار کا آدھا اور ایک چار کا چوتھائی ہے۔ بھئی چار ‏کے ذرا دو حصے کرو، ایک حصے میں کتنے آئیں گے؟ دو، معلوم ہوا دو چار کا آدھا ہے۔ اور چار کے ذرا چار حصے ‏کرو، ایک حصے میں کتنا آئے گا؟ ایک، معلوم ہوا یہ ایک چار کا چوتھا حصہ ہے، یعنی چوتھائی ہے۔ یہی بات بیان کر ‏رہے ہیں، جیسے دو چار کا آدھا اور ایک چار کا چوتھائی ہے، ہر آدمی جانتا ہے، چھوٹا بڑا سب کو پتا ہے، تو یہ کیا ‏ہے؟ تصدیقِ بدیہی۔ اور تصدیقِ نظری وہ تصدیق ہے جس کے لیے دلیل بتانے کی ضرورت ہو، جیسے پریاں موجود ہیں۔ پریاں موجود ہیں۔ ‏اب اس کے لیے دلیل بنانا پڑے گی کہ بھئی کیسے؟ کیا دلیل ہے کہ پریاں موجود ہیں؟ پریاں موجود ہیں، تو آپ کہتے ہیں ‏کہ بھئی دیکھیے پری جو ہے نا، وہ مؤنث جن کو کہتے ہیں، کس کو کہتے ہیں؟ یعنی جو جنیا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ‏پری کہتے ہیں، تو جب جنوں کا وجود ہے، تو ان کی مؤنث یعنی پریوں کا بھی وجود ہے۔ تو دیکھیے، جیسے پریاں موجود ہیں، عالم یعنی اس دنیا کو بنانے والا اور تصرف کرنے والا ایک ذاتِ پاک ہے، ایک ‏ذاتِ پاک ہے۔ بھئی دیکھیے، اس جہان کو بنانے والی اور اس کو چلانے والی ایک ذات موجود ہے یعنی اللہ تعالیٰ، وہی ‏ہمارے خالق ہیں، وہی ہمارے رازق ہیں، اور اللہ ہی سارے نظام کو چلا رہے ہیں بھئی۔ تو اس عالم کو چلانے والی، اس عالم کو بنانے والی، اس میں تصرف کرنے والی یعنی رد و بدل کرنے والی، تبدیلیاں ‏کرنے والی ذات ایک ہے، اور وہ کس کی ذات ہے؟ اللہ کی ذات ہے۔ تو دیکھو، یہ تصدیقِ نظری ہے، اس لیے کیونکہ بہت ‏سے لوگ آپ کو ملیں گے جو اللہ کو مانتے ہی نہیں، وہ کہتے ہیں یہ خود بخود نظام چل رہا ہے بھئی۔ دیکھا؟ آپ کو دلیل ‏بتانا پڑے گی کہ دلیل یہ ہے کہ یہ نظام، یہ نظام اتنا حسین و جمیل نظام جو ہے، یہ ہوائیں چل رہی ہیں، یہ آبشاریں چل ‏رہی ہیں، یہ نہریں بہہ رہی ہیں، اور یہ بادل بارش برسا رہے ہیں، یہ جنگل ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں، تو یہ سب کیا ہے؟ ‏یہ اتنا حسین و جمیل نظام خود بخود نہیں بن سکتا۔ خود بخود تو آج تک ایک گلاس شیشے کا نہیں بن سکا۔ ایک شیشے کا ‏گلاس ایک ٹھوس چیز ہے، سخت سی چیز ہے، لیکن آج تک نہیں بنی خود بخود، اس کو ہمیشہ کون بناتا ہے؟ کوئی انسان ‏بناتا ہے۔ اگر خود بخود بنتی تو کوئی تو چیزیں ہمیں مل جاتیں جو خود بخود بنی ہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ جیسے آپ سے کوئی کہے کہ جیسے کوئی کسی سے کہے کہ فلاں جگہ پر ایک بڑی اونچی اور بڑی شاندار بلڈنگ ہے، ‏خود بخود بن گئی ہے، چند دن پہلے نہیں تھی، اب خود بخود بن گئی ہے، تو ہر ایک کہے گا یہ آدمی تو پاگل ہے، کیسی ‏باتیں کر رہا ہے۔ بھئی ایک چھوٹی سی بلڈنگ نہیں بن سکتی، تو اتنا حسین و جمیل نظام کیسے بن سکتا ہے بھئی؟ لیکن بہرحال ہدایت اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے، جس کو چاہیں اللہ ہدایت دیتے ہیں اور جسے نہ چاہیں ہدایت نہیں دیتے، ‏ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے، جس کو چاہیں اللہ ہدایت نصیب فرماتے ہیں۔ اور اللہ ہدایت صرف اسی کو نصیب فرماتے ہیں ‏جو ہدایت کو چاہتا ہے، جو ہدایت کو نہیں چاہتا، اللہ بھی اس کو ہدایت نصیب نہیں فرماتے۔ ہاں اس کے دل میں اگر طلب ‏ہے، زبان یا زبان سے وہ کہتا ہے، مانگتا ہے ہدایت، تو اللہ اس کو ہدایت نصیب فرماتے ہیں بھئی۔ تو دیکھیے عالم یعنی دنیا، جہان۔ عالم بنانے والا اور تصرف کرنے والا ایک ذاتِ پاک ہے۔ تو اچھی طرح بات سمجھ میں آگئی کہ تصور اور تصدیق کتنی قسم پر ہیں؟ دو دو قسم پر ہیں، یا وہ بدیہی ہوں گے یا ‏نظری ہوں گے بھئی۔ اب آگے انہوں نے سوالات دیے ہیں کتاب کے اندر، ان کو بھی حل کر لیتے ہیں۔ جی، لکھا ہے: درج ذیل مثالوں میں بتاؤ ‏کہ تصور اور تصدیق کس قسم کا ہے؟ آپ نے یہ بھی بتانا ہے کہ یہ تصور ہے یا تصدیق ہے، اور یہ بھی بتانا ہے کہ ‏کون سا تصور یا کون سی تصدیق ہے، نظری ہے یا بدیہی؟ جی بتائیے، پلِ صراط؟ پلِ صراط بھئی، یاد رکھیے، یہ جنت میں جانے کے لیے ایک پل ہے جو دوزخ کے اوپر ہے بھئی۔ دوزخ کے اوپر سے ‏گزر کر کہاں جانے کے لیے؟ جنت، جنت دوسری طرف ہوگی اور درمیان میں کیا ہوگا؟ پلِ صراط، اور یہ کس کے اوپر ‏ہوگا؟ دوزخ کے اوپر ہوگا۔ اور روایات میں آتا ہے کہ یہ تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہوگا، بہت باریک ہوگا بال کی ‏طرح بھئی، بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز، اور جو جو گناہگار ہوں گے، وہ اس پر سے نہیں ‏گزر سکیں گے، جہنم میں گر جائیں گے، اور جو نیک لوگ ہوں گے، ان کے لیے وہاں روشنی ہوگی اور پل وسیع ہو ‏جائے گا اور وہ بڑے آرام سے اس پر چلتے ہوئے، بعض دوڑتے ہوئے، بعض بھاگتے ہوئے، اور بعض بجلی کی طرح ‏تیزی سے گزر جائیں گے اس کے اوپر سے بھئی۔ تو دعا کرو اللہ ہم سب کے لیے اس آگے آنے والی ان ساری منزلوں کو آسان فرما دے اور بغیر حساب کتاب کے ہمیں اللہ ‏جنت نصیب فرمائے، جہنم کے عذاب سے اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے، اور اسی طرح پہلی منزل قبر ہے بھئی، اگر قبر ‏اچھی مل گئی تو معلوم ہوا آگے بھی اللہ آسانی فرمائیں گے، اور اگر قبر اچھی نہ ملی تو سمجھ جائیں کہ معلوم ہوا آگے بھی ‏اس کا بچنا بڑا مشکل ہے، تو دعا، یہ بھی دعا خصوصاً کیا کرو کہ اللہ ہمیں ایمان والی ایمان والی قبر نصیب فرمائے، ‏ایمان کے ساتھ ہمیں اللہ قبر تک پہنچائے، اور قبر کے عذاب سے اور تاریکی سے اللہ ہماری حفاظت فرمائے، اور ہماری ‏قبروں کو اللہ منور فرمائے اور جنت کے باغوں میں سے ایک باغ اس کو بنا دے۔ پلِ صراط پہلے بتاؤ مجھے، یہ تصور ہے یا تصدیق ہے؟ جی، یہ تصور ہے، اور بدیہی ہے یا نظری ہے؟ جی؟ پلِ ‏صراط؟ نا للہ وانا الیہ۔ بدیہی کیوں؟ کیوں بدیہی ہے؟ کسی کافر کے سامنے ذکر کرو، وہ سمجھ جائے گا؟ پھر؟ بیان کرنا ‏پڑے گا یا نہیں کرنا پڑے گا؟ تبھی اس کو سمجھ میں آئے گا۔ معلوم ہوا یہ آپ کو بھی ویسے نہیں سمجھ میں آیا، آپ دینی ‏مجلسوں میں چونکہ بیٹھتے ہیں، تو آپ کو پتا چل گیا سن کر علماء سے یا کتابوں میں پڑھ کر، لیکن عام بہت سے عام ‏لوگوں کو بھی نہیں پتا کیونکہ وہ کبھی ایسی مجلس میں بیٹھے ہی نہیں ہیں بھئی۔ جیسے سندھ وغیرہ اور ان علاقوں کی ‏طرف چلے جائیں، آپ کو ایسے مسلمان ملیں گے جن کو کلمہ بھی ٹھیک طرح سے نہیں آتا، تو باقی چیزوں کا تو علم ہی ‏نہیں۔ تو اب تو الحمد للہ یہ تبلیغی جماعت کی برکات سے دین ان تک آہستہ آہستہ پہنچتا جا رہا ہے، ورنہ ایسی چیزوں کا ان ‏لوگوں کو بھی، بہت سے مسلمانوں کو بھی علم نہیں ہے۔ تو پلِ صراط یہ کیا ہے؟ تصورِ نظری ہے، تصورِ نظری۔ آگے، جنت بھئی؟ تصورِ نظری ہے، شاباش! سمجھ میں آیا؟ بتلانا پڑتا ہے بھئی کہ اللہ نے ہمارے لیے بطورِ انعام کے ‏جنت تیار کی ہے، جہاں ہر قسم کی خوشیاں اور راحتیں اور نعمتیں ہوں گی بھئی، باغات ہوں گے۔ اچھا، آگے قبر کا عذاب؟ تصور ہے، کون سا تصور؟ تصورِ نظری۔ پھر دوبارہ ذرا کر لیں، پلِ صراط کیا ہے؟ تصورِ ‏نظری۔ جنت؟ تصورِ نظری۔ قبر کا عذاب؟ تصورِ نظری۔ چاند؟ تصورِ بدیہی، شاباش! ہر چھوٹے بڑے بچے سب اس کو سمجھتے ہیں چاند کسے کہتے ہیں۔ آسمان؟ تصورِ بدیہی، شاباش! یہ بھی ہر ایک سمجھتا ہے آسمان کسے کہتے ہیں۔ اچھا، دوزخ موجود ہے؟ تصدیق ہے، اور کون سی تصدیق ہے؟ تصدیقِ نظری ہے، کیونکہ کفار کہاں مانتے ہیں بھئی۔ تو ‏جی، دوزخ موجود ہے؟ تصدیقِ نظری۔ ترازو اعمال کا؟ تصور، اور کون سا تصور؟ نظری، جس میں اعمال کو تولا جائے گا تو تصورِ نظری ہے، کفار اس کو ‏نہیں جانتے، آپ کو بتانا پڑے گا۔ جنت کے خزانے؟ تصورِ نظری، شاباش!‏ عمرو کا بیٹا کھڑا ہے؟ شاباش! تصدیقِ بدیہی ہے بھئی، کسی کو بھی آپ کہیں چھوٹے بڑے کو، وہ سمجھ جائے گا کہ یہ ‏کیا کہہ رہا ہے۔ آگے بھئی، کوثر جنت کا حوض ہے؟ تصدیقِ نظری، کفار مانتے ہیں؟ فوراً سمجھ جاتے ہیں؟ نہیں بھئی، ان کو معلوم ہوا ‏یہ بتلانا پڑتا ہے، کوثر جنت کا حوض ہے؟ تصدیقِ نظری۔ آفتاب روشن ہے؟ تصدیقِ بدیہی، آفتاب سورج، تو آفتاب روشن ہے یعنی سورج روشن ہے، چمکدار ہے، ہر ایک جانتا ہے ‏یا نہیں جانتا؟ تو معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ تصدیقِ بدیہی بھئی۔ چلیے بس بھئی، یہاں تک ساری بحث اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ تصور اور تصدیق کا آپ کو پتا چل گیا؟ دیکھا، یہ ‏پہلے آپ کے لیے نظری تھے، اب کیا بن گئے؟ بدیہی۔ اور بدیہی اور نظری یہ بھی آپ کے لیے پہلے کیا تھے؟ نظری ‏تھے، بدیہی اور نظری خود بھی آپ کے لیے پہلے کیا تھے؟ نظری تھے، آپ کو بتانا پڑا بدیہی کسے کہتے ہیں، نظری ‏کسے کہتے ہیں، اب آپ کے لیے یہ کیا بن گئے؟ بدیہی بن گئے، لیکن کہیں گے ان کو نظری ہی کیونکہ آپ کو سمجھانا ‏پڑا تھا بھئی۔ چلیے بس بھئی، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔