Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-026

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Noman Ahmad
📍 Location Peshawar, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 13
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے دیکھیے بھئی شرح کے اندر۔ قوله من تقرير عقائد الإسلام، بيان للمرام. والإضافة في عقائد الإسلام بيانية إن كان الإسلام عبارة عن نفس الاعتقادات، وإن كان عبارة عن مجموع الإقرار باللسان والتصديق بالجنان والعمل بالأركان أو كان عبارة عن مجرد الإقرار باللسان فالإضافة لامية. بھئی متن میں آیا تھا: وتقريب المرام من تقرير عقائد الإسلام. بلکہ یہ پورا، پوری سطر دوبارہ سمجھ لو۔ دوبارہ حاصلِ کلام پھر سن لو: وبعدُ فهذا—متن پہ نظر رکھیں، متن پہ—وبعدُ فهذا غاية تهذيب الكلام في تحرير المنطق والكلام، وتقريب المرام من تقرير عقائد الإسلام. حمد و صلاۃ کے بعد، تو یہ کتاب جو ہے، انتہا درجے کا مہذب کلام ہے علمِ منطق اور علمِ کلام کے بیان میں۔ اور یہ کتاب مقصد، یعنی اس عقائدِ اسلام کے اثبات کو ذہنوں کے انتہائی قریب کرنے والی ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ آپ نے گزشتہ سبق میں پڑھا کہ وبعدُ فهذا غايةُ تهذيب الكلام. یہ غايةُ خبر بن رہی ہے۔ کیا بن رہی ہے؟ خبر۔ اور یہ غايةُ تهذيب الكلام یہ ہے مصدر، کیونکہ تہذیب بابِ تفعیل کا مصدر ہے۔ تو مصدر کا حمل ہو رہا ہے هذا الكتاب یعنی ذات پر۔ اور مصدر کا حمل تو ذات پر صحیح نہیں۔ تو ایک جواب یہ دیا تھا کہ یہ حمل ہے بطورِ مبالغہ کے۔ یہ حمل ہے؟ یعنی غايةُ تهذيب الكلام یہ خود ہی خبر ہے اور یہ اس کا اپنا رفع ہے۔ اور اشکال پھر کیا ہوتا ہے؟ کہ یہ تو مصدر ہے، مصدر کا حمل تو ذات پر نہیں ہو سکتا۔ تو جواب دے دیا کہ حمل ہے بطورِ مبالغہ کے۔ دوسرا جواب یہ ذکر کیا کہ یہاں خبر محذوف ہے اور یہ غايةُ اصل میں غايةَ منصوب تھا، یہ مفعولِ مطلق تھا۔ یہ اس کا اپنا اعراب، اس وقت تو یہ مرفوع ہے، لیکن یہ اس کا اپنا رفع نہیں، اس کا اپنا اصل میں کیا تھا؟ نصب تھا۔ یہ منصوب تھا۔ اصل کلام یوں تھا: فهذا كلامٌ مهذبٌ غايةَ تهذيبِ الكلام. تو خبر تھی كلامٌ مهذبٌ، اور غايةَ تهذيبِ الكلام یہ ہے مفعولِ مطلق۔ پھر اس خبر کو حذف کیا اور اس کو اس کا قائم مقام کر دیا اور اس کا اعراب اس کو دے دیا، تو کیا بن گیا؟ فهذا غايةُ تهذيب الكلام. تو یہ رفع اس کا اپنا نہیں۔ تو یہ کس قبیل سے ہوا؟ مجاز الحذف کے قبیل سے ہوا۔ مجاز الحذف کسے کہتے ہیں؟ ایک لفظ کو حذف کرنے کی وجہ سے دوسرے کا اعراب بدل جائے۔ تو دیکھو یہاں غايةَ سے کیا بن گیا؟ غايةُ التهذيب. تو اصل خبر ہے كلامٌ مهذبٌ جو محذوف ہے۔ اور یہی تقریر ہے تقريب المرام میں بھی۔ أي غايةُ تقريب المرام. ایک تو یہ کیا تو یہ تو اس کا اپنا اعراب ہے۔ اس صورت میں یہ خبر ہے اور حمل ہے بطورِ مبالغہ کے۔ کیونکہ مصدر کا حمل ذات پر نہیں ہو سکتا۔ اور دوسرا یہ کہ اصل میں یہاں خبر محذوف ہے اور یہ مفعولِ مطلق ہے، أي هذا الكتابُ مقربٌ للمرام غايةَ تقريبِ المرام. تو غايةَ یہ منصوب ہے اور خبر کیا ہے؟ مقربٌ. مقربٌ. تو خبر کو حذف کیا اور پھر اس غاية کو اس کا قائم مقام کرتے ہوئے اس کا رفع اس کو دے دیا، تو یہ اس کا اپنا رفع نہیں، یہ کسی اور کا رفع ہے، یعنی اس خبر کا رفع ہے جو اس پر آ گیا۔ تو اس صورت میں یہ پھر مجاز الحذف کے قبیل سے ہے کہ مقرب کو حذف کرنے کی وجہ سے غايةَ تقريب المرام کا اعراب بدل گیا نصب سے کس کی طرف؟ رفع کی طرف۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے۔ قوله من تقرير عقائد الإسلام. متن میں آیا تھا بھئی، متن پہ ذرا نظر رکھو: وتقريب المرام من تقرير عقائد الإسلام. اور مقصد کو قریب کرنا، مقصد کیا ہے؟ مِن اس کا بیان کر رہا ہے اور اس کا ترجمہ "یعنی" کے ساتھ کرتے ہیں: مقصد یعنی کہ عقائدِ اسلام کو ثابت کرنا۔ تقریر کا کیا معنی؟ اثبات۔ عقائدِ اسلام کو ثابت کرنا۔ اب یاد رکھیے، اسلام کسے کہتے ہیں؟ شارح آپ کو بتلائیں گے کہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ اسلام صرف عقیدے کا نام ہے۔ صرف اعتقادات، صرف عقائد کا نام ہے اسلام۔ کوئی شخص مان لیتا ہے اللہ ایک ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری پیغمبر ہیں، قیامت قائم ہو گی، فرشتے ہیں، جنت ہے، جہنم ہے، یہ ساری چیزیں جب مان لیتا ہے تو وہ کیا ہے؟ مسلمان ہے۔ تو یہ اسلام کس چیز کا نام ہے؟ عقیدوں کا نام ہے، عقیدوں کا نام ہے۔ اور جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ اسلام صرف اقرار باللسان کا نام ہے۔ بس زبان سے کہہ دو۔ زبان سے یہ باتیں کہہ دو۔ زبان سے کہہ دو، اللہ ایک ہے۔ اور زبان سے کہہ دو، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری پیغمبر ہیں، گواہی دے دو اس کی، تو بس یہ شخص کیا ہے؟ مسلمان ہے۔ تو بعض کے نزدیک اسلام صرف کس چیز کا نام؟ عقیدوں کا نام ہے۔ بعض کے نزدیک اسلام صرف اقرار باللسان، کس چیز کا نام؟ اقرار باللسان، زبان سے اقرار کر لے ان چیزوں کا جو اسلام کے عقیدے ہیں بھئی۔ اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ اسلام میں اقرار باللسان بھی ہونا چاہیے، عقیدہ بھی ہونا چاہیے اور عمل بھی اس کے مطابق ہی ہونا چاہیے بھئی۔ زبان سے بھی ان چیزوں کو تسلیم کرے اور عقیدہ بھی اس کا یہی ہو اور اس پر عمل بھی کرے، تو یہ ہے اسلام بھئی، یہ ہے اسلام۔ اور یاد رکھیے، اہل سنت والجماعت کا مذہب وہ ہے جو سب سے پہلے بیان ہوا کہ اسلام عقیدے کا نام ہے بھئی۔ اسلام کس چیز کا نام ہے؟ عقیدے کا نام ہے، اس میں عمل کا دخل نہیں۔ یعنی کوئی شخص اگر گناہ والا کام کر بھی لے، چاہے گناہِ کبیرہ ہی کیوں نہ کر لے، وہ دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ ہے مسلمان ہی بھئی۔ ہاں یہ ہے، اسے گناہوں کی سزا ملے گی اور پھر وہ کہاں چلا جائے گا؟ جنت میں۔ اور اگر اللہ چاہیں تو ویسے ہی معاف بھی فرما دیں۔ اللہ اگر اپنا فضل فرمائیں تو ہو سکتا ہے اس کو ویسے ہی معاف فرما دیں۔ بہرحال بات میں یہ کر رہا تھا کہ جمہور اہل سنت والجماعت کے نزدیک گناہِ کبیرہ سے بھی کوئی دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ کیونکہ اسلام کس کا نام ہے؟ عقیدے کا نام ہے۔ جبکہ وہ مذہب جنہوں نے کہا تھا اسلام جو ہے، یہ اقرار باللسان بھی ضروری اور اس میں عقیدہ بھی ضروری اور عمل بھی اس میں اسلام کے مطابق ہونا چاہیے، وہ، وہ کہتے ہیں کہ کوئی شخص اگر گناہِ کبیرہ کر لے، گناہِ کبیرہ کر لے، مثلاً شراب پی لی، زنا کر لیا، ڈاکہ ڈالا، وغیرہ، تو یہ گناہِ کبیرہ کوئی کر لے تو وہ دائرۂ اسلام سے نکل جاتا ہے۔ ہاں البتہ وہ اس کو کافر بھی نہیں کہتے، بلکہ اس کو فاسق کہتے ہیں۔ گناہِ کبیرہ کرنے سے وہ کہتے ہیں اسلام سے تو نکل جائے گا، البتہ کافر نہیں ہو گا، تو اس کو فاسق کہتے ہیں۔ البتہ کہتے ہیں آخرت میں وہ بھی کافر کی طرح ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ یعنی نام اس کا فاسق ہے اور سزا اس کو وہی ملے گی جو کس کو ملتی ہے؟ کافر کو بھئی۔ تو یہ معتزلہ، ایک گمراہ فرقہ گزرا ہے، اس کا مسلک ہے۔ بہرحال جمہور اہل سنت والجماعت کا عقیدہ وہی ہے جو میں نے بیان کر دیا کہ اسلام کس چیز کا نام ہے؟ عقیدے کا نام ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے، متن پہ پھر دیکھیے: من تقرير عقائد الإسلام. تقریر کی اضافت ہے عقائد کی طرف، اور عقائد کی اضافت ہے اسلام کی طرف۔ تو عقیدہ، عقائد کی اضافت ہو رہی ہے اسلام کی طرف، اور اسلام خود بھی کس چیز کا نام ہے؟ عقیدے ہی کا نام ہے۔ تو یہ اضافت بیانیہ ہوئی۔ اضافتِ بیانیہ جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں، کہاں پر آئی تھی؟ وعلى آله، اصله أهل بدليل أهيل. اضافتِ بیانیہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں مضاف علیہ بیان کرتا ہے کس کا؟ مضاف کا۔ عقائد سے کون سے عقائد مراد ہیں؟ وہ اسلام والے عقائد مراد ہیں بھئی۔ تو دونوں ایک ہی چیز ہیں بھئی، دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ تو یاد رکھیے، جو اضافتِ بیانیہ ہے، اس میں مضاف علیہ مضاف کا معنی بیان کرتا ہے۔ من تقرير عقائد، عقائد کو ثابت کرنا، کون سے عقائد؟ الإسلام، جو کہ اسلام ہیں۔ تو یہ اضافت بیانیہ ہوئی بھئی۔ اور یاد رکھو، اضافتِ بیانیہ کے اندر مضاف علیہ مضاف کا بیان کرتا ہے، وہ کھول کر بتلا دیتا ہے کہ یہ چیز ہے مراد۔ اور یہ ان میں آپس میں اتحاد ہوتا ہے، کیونکہ جو عقائد ہیں، وہی کیا ہے؟ اسلام بھی ہے۔ جیسے پیچھے گزرا تھا: بدليل أهيل، وہ دلیل کیا ہے؟ اہیل ہے، تو اہیل بھی دلیل ہی ہے بھئی، تو دونوں میں کیا ہوتا ہے؟ اتحاد۔ اور اور زیادہ بہتر تعبیر یہ ہے کہ اضافتِ بیانیہ میں جو مضاف ہوتا ہے، وہ مبتدا کے درجے میں، اور جو مضاف علیہ ہوتا ہے، وہ خبر کے درجے میں۔ جیسے وہاں کیا تھا؟ بدليل أهيل، مضاف کون؟ دلیل۔ اور مضاف علیہ کون؟ اہیل۔ تو یوں کرو، دلیل کو بناؤ مبتدا جو پہلے آیا، اور جو بعد میں آیا، اس کو بناؤ خبر۔ اور مبتدا کو معرفہ ہوتا ہے تو اس کو معرفہ بھی کر دو: الدليلُ أهيلٌ. وہ دلیل کیا ہے؟ اہیل ہے، یعنی آل کی تصغیر اہیل دلیل ہے بھئی۔ یہاں بھی اسی طرح کر دو: عقائد الإسلام، مبتدا خبر بنا دو: العقائدُ إسلامٌ. وہ عقائد کیا ہیں؟ اسلام ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اضافتِ بیانیہ میں یہ مبتدا خبر کے درجے میں ہوتے ہیں۔ تو اسلام بھی عقائد کا نام ہے، تو دونوں ایک چیز ہوئے؟ جب دونوں ایک چیز ہوئے تو یہ اضافت کون سی ہوئی؟ بیانیہ۔ پھر سنو: عقائد مضاف ہے اور الإسلام مضاف علیہ ہے، اور اسلام بھی کس چیز کا نام ہے؟ عقائد ہی کا، تو دونوں ایک ہی چیز ہوئے اور اضافتِ بیانیہ میں بھی کیا ہوتے ہیں؟ مضاف اور مضاف علیہ دونوں ایک ہی چیز ہوتے ہیں۔ تو یہ اضافت کون سی ہوئی؟ بیانیہ ہوئی، اضافتِ بیانیہ ہوئی بھئی، اضافتِ بیانیہ۔ اور اگر اسلام سے مراد لیں اقرار باللسان، کیا مراد لیں؟ اقرار باللسان، تو عقائد ہے مضاف اور الإسلام سے کیا مراد؟ اقرار باللسان، تو دونوں الگ الگ چیزیں ہوئیں۔ تو پھر یہ اضافتِ بیانیہ نہیں ہے بھئی۔ اور اگر اسلام سے کیا مراد لیں؟ وہ تیسرا مذہب لیں کہ اقرار باللسان بھی ہو اور تصدیق بالجنان بھی ہو، دل کے ساتھ تصدیق بھی ہو اور عمل بھی ہو۔ تصدیق وہی نہ عقیدہ، تصدیق ہو دل کے ساتھ یعنی عقیدہ ہو۔ تو اگر وہ ہو تو پھر بھی ماقبل میں کیا ہے؟ صرف عقائد، اور الإسلام سے کیا مراد ہے؟ عقائد مراد ہیں یا کئی چیزیں مراد ہیں؟ کئی چیزیں مراد ہیں۔ تو یہ مضاف اور مضاف علیہ ایک ہوئے یا الگ الگ ہوئے؟ الگ الگ ہوئے۔ تو ایک صورت میں مضاف اور مضاف علیہ ایک ہی چیز ہیں اور وہ کون سا؟ جب جمہور اہل سنت والجماعت کا مذہب مراد لیا جائے اسلام سے، تو یہ اضافت کون سی ہوتی ہے؟ اضافتِ بیانیہ۔ جبکہ باقی صورتوں میں عقائد سے مراد تو عقیدے ہو گئے، الإسلام سے مراد کیا ہوا؟ اقرار باللسان، یہ الگ الگ چیزیں ہیں۔ تو یہ اضافت بیانیہ نہیں۔ اور اسی طرح جب الإسلام سے کیا مراد لیں؟ وہ تینوں چیزوں کا مجموعہ مراد لیں، تو بھی عقائد الگ چیز اور وہ مجموعہ الگ چیز، تو بھی اضافت بیانیہ نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ایک اضافت بیانیہ ہوئی، جس میں مضاف علیہ کیا کرتا ہے؟ مضاف کا بیان کرتا ہے، اس کا معنی بیان کر دیتا ہے، اس کا معنی کھول کر بتلا دیتا ہے کہ عقائد کیا ہیں؟ اسلام ہیں۔ وہ جو دو صورتیں دوسری ہیں، جس میں ایک اسلام کس چیز کا نام ہے؟ اقرار باللسان۔ اور دوسرے میں اسلام کس چیز کا نام ہے؟ اس تینوں کے مجموعے کا۔ ان دو صورتوں میں مضاف الگ اور مضاف علیہ الگ۔ جب مضاف اور مضاف علیہ الگ الگ ہوں، تو وہاں آپ نے ہدایت النحو کے اندر پڑھا ہو گا کہ کبھی وہاں اضافت مِنْ کے ساتھ، کبھی وہاں مِنْ مقدر ہوتا ہے، کبھی فِي مقدر ہوتا ہے اور کبھی لَام مقدر ہوتا ہے۔ کبھی وہاں فِي مقدر ہوتا ہے، کیسے؟ جبکہ مضاف علیہ وہ ظرف ہو مضاف کے لیے، توجہ ہے؟ مثلاً صلاة الليلِ، رات کی نماز۔ صلاة مضاف، الليلِ مضاف علیہ۔ اور یہ مضاف علیہ الليلُ جو ہے صلاة کے لیے کیا ہے؟ ظرف ہے، وقت ہے۔ تو یاد رکھو، جہاں جہاں بھی ایسا ہو کہ مضاف علیہ مضاف کے لیے ظرف ہو، وقت ہو یا جگہ ہو، تو وہاں فِي مقدر ہو گا، کیونکہ ظرفیت کے لیے فِي آتا ہے عربی میں۔ زيدٌ في الدارِ، کیا معنی؟ زید گھر میں ہے، دیکھا ظرفیت کے لیے کیا لاتے ہیں؟ فِي لاتے ہیں، جب آپ یہ بتلانا چاہتے ہیں ایک چیز دوسری چیز کے اندر ہے، تو اس کے لیے فِي لاتے ہیں۔ تو یہاں بھی اصل میں کیا ہے؟ صلاة الليلِ، یہ اصل میں کیا ہے؟ صلاةٌ في الليلِ، وہ نماز جو کس میں ہو؟ رات میں ہو۔ تو جب بھی مضاف علیہ مضاف کے لیے ظرف ہو، تو وہاں فِي مقدر ہوتا ہے۔ اسی کی دوسری مثال لے لو: صلاة الجمعةِ، جمعے کے دن کی نماز، تو کیا بن گیا؟ صلاةٌ في يومِ الجمعةِ، جمعے کے دن کی نماز، تو یہاں بھی فِي مقدر ہے، جمعہ سے یوم الجمعہ مراد ہے۔ تو یہ بھی کیا ہے؟ اضافت، یہاں کیا مقدر ہے؟ فِي مقدر ہے۔ اور بعض اوقات مضاف علیہ مضاف کے لیے جنس ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ مضاف علیہ جو بعد میں آ رہا ہے، وہ ماقبل کے لیے کیا ہے؟ جنس، یعنی اس سے وہ چیز بنی ہے۔ جیسے خاتمُ فضةٍ، چاندی کی انگوٹھی۔ اب یہ انگوٹھی جو مضاف ہے، یہ کس سے بنی ہے؟ چاندی، جو مضاف علیہ ہے۔ تو یہ اس کی جنس بیان کر رہا ہے، یہ انگوٹھی کس جنس سے ہے؟ چاندی کی جنس سے ہے، لوہے، تانبے یا سونے کی جنس سے نہیں۔ تو جب بھی مضاف علیہ مضاف کی جنس بیان کرے تو وہاں مِنْ مقدر ہوتا ہے۔ تو اصل میں کلام کیا ہے؟ خاتم فضةٍ، اصل میں کیا ہے؟ خاتمٌ من فضةٍ. تو اگر مضاف علیہ مضاف کے لیے ظرف ہو تو وہاں فِي مقدر ہوتا ہے، اگر مضاف علیہ مضاف کے لیے جنس ہو تو وہاں مِنْ مقدر ہوتا ہے، اور اس کے علاوہ باقی صورتوں میں لَام مقدر ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام بس یہ ہوا کہ اضافت کے اندر جب مضاف مضاف علیہ سے غیر ہو، توجہ ہے؟ مضاف مضاف علیہ سے غیر، دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، تو پھر مضاف علیہ یا کیا ہو گا؟ مضاف کے لیے ظرف ہو گا يا جنس ہو گا يا اس کے علاوہ ہو گا۔ اگر مضاف علیہ مضاف کے لیے کیا ہو؟ ظرف ہو، تو وہاں کیا نکالیں گے درمیان میں؟ وہاں کیا مقدر ہے؟ فِي مقدر۔ اگر مضاف علیہ مضاف کے لیے کیا ہو؟ جنس ہو، تو پھر کیا مقدر ہے وہاں پر؟ مِنْ مقدر ہے۔ اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور صورت ہے، یعنی مضاف علیہ نہ مضاف کے لیے ظرف ہے اور نہ جنس ہے، تو پھر وہاں لَام مقدر ہو گا، جیسے غلامُ زيدٍ. غلامُ مضاف، زيدٍ مضاف علیہ۔ اب مجھے بتاؤ، زید غلام کے لیے ظرف ہے؟ نہیں۔ اور کیا یہ زید غلام کے لیے جنس ہے، یا غلام زید سے بنا ہے؟ نہیں۔ تو یہ جنس بھی نہیں۔ تو پھر یہ اضافت کون سی ہوئی؟ لامیہ ہوئی، لام والی ہوئی، اور تو اصل میں کیا ہے؟ غلامٌ لزيدٍ. تو یہاں پر بھی ایک صورت تو کون سی تھی؟ اب آئیے متن پر: من تقرير عقائد الإسلام. پہلے قول کے مطابق الإسلام سے بھی کیا مراد ہیں؟ عقائد۔ تو یہ اضافت کون سی ہوئی؟ اضافتِ بیانیہ ہوئی۔ مضاف علیہ کیا کر رہا ہے؟ مضاف کا بیان کر رہا ہے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ مضاف علیہ کیا کر رہا ہے؟ مضاف کا بیان، تو اضافت کون سی ہوئی؟ اضافتِ بیانیہ۔ جبکہ باقی دو اقوال لیں کہ اسلام صرف اقرار باللسان کا نام ہے، یا اسلام تینوں کے مجموعے کا نام ہے، تو مضاف مضاف علیہ سے غیر ہے، دونوں میں اتحاد نہیں، دونوں ایک چیز نہیں، جب دونوں غیر ہیں تو پھر اضافت یا مِنْ کے ساتھ ہوتی ہے یا فِي کے ساتھ یا لَام کے ساتھ۔ تو یہ کون سی اضافت ہے؟ تو بھئی یہ جو اس صورت میں یہ اضافت لام والی ہو گی، کیونکہ مضاف علیہ کون؟ اسلام، عقیدوں کے لیے جنس بھی نہیں کہ عقیدے اس سے بنے ہوں، اور نیز یہ اس کے لیے ظرف بھی نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ اس کے لیے ظرف بھی نہیں ہے اور تو یہاں فِي بھی نہیں ہو سکتا اور مِنْ بھی نہیں ہو سکتا، تو تیسری صورت کیا رہ گئی؟ یہاں کیا مقدر ہے؟ لَام، تو یہ اضافتِ لامیہ ہے۔ اضافتِ لامیہ، بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے شرح میں: قوله من تقرير عقائد الإسلام، مصنف کا قول من تقرير عقائد الإسلام، بيان للمرام، یہ بیان ہے کس کا؟ مرام کا، وہ مقصد کیا ہے؟ عقائدِ اسلام کا اثبات۔ مِنْ بیانیہ ہے نا، مِنْ کے لیے کیا کیا گیا ہے؟ مرام کا معنی بیان کیا گیا، وہ مقصد کیا ہے؟ اس کی تفسیر کی گئی، تو یہ بیان ہے مرام کا۔ والإضافة في عقائد الإسلام بيانية، اور عقائد الاسلام کے اندر جو اضافت ہو رہی ہے وہ بیانیہ ہے، إن كان الإسلام عبارة عن نفس الاعتقادات، اگر اسلام عبارت ہو کس سے؟ نفسِ اعتقادات۔ نفسِ اعتقادات، نفسِ عقیدوں سے اسلام اگر عبارت ہو، ان سے یعنی کس سے بنا ہے؟ اسلام کس چیز کا نام ہے؟ عقیدوں کا، ہاں تو نفسِ عقائد سے اسلام اگر عبارت ہے، انہی سے بنا ہے، تو پھر یہ اضافت کون سی ہوئی؟ اضافتِ بیانیہ، یہ معنی ہے۔ تو کہتے ہیں: والإضافة في عقائد الإسلام بيانية إن كان الإسلام عبارة عن نفس الاعتقادات، اور اضافت عقائدِ اسلام کے اندر وہ بیانیہ ہے اگر اسلام عبارت ہو کس سے؟ نفسِ اعتقادات، یعنی نفسِ عقیدوں سے ہی عبارت ہے اسلام، اسی کا نام ہے۔ تو پھر یہ اضافتِ بیانیہ ہے، وإن كان عبارة عن مجموع الإقرار باللسان، اور اگر اسلام جو ہے وہ عبارت ہو مجموعے سے، کس چیز کا مجموعہ؟ الإقرار باللسان، اقرار باللسان، والتصديق بالجنان، اور کیا ہو؟ دل کے ساتھ تصدیق بھی ہو، والعمل بالأركان، اور اعضاء کے ساتھ عمل بھی ہو۔ جنان کا معنی دل، ارکان کا معنی اعضاء، یہ لفظ پہلے بھی گزر چکا ہے۔ اگر اسلام عبارت ہو ان تینوں کے مجموعے سے، أو كان عبارة عن مجرد الإقرار باللسان، یا اسلام عبارت ہو، مجرد کا معنی محض، صرف، یا اسلام عبارت ہو صرف اقرار باللسان سے، ان دونوں صورتوں میں فالإضافة لامية، اضافت کیا ہے؟ لامیہ ہے، لام والی ہے۔ آگے دیکھیے بھئی، قوله جعلته تبصرة. بھئی متن میں آئیے، مصنف نے فرمایا تھا: جعلته تبصرة لمن حاول التبصر لدى الإفهام، میں نے اس کتاب کو تبصرہ بنایا، بَصَّرَ يُبَصِّرُ تَبْصِرَةً کا معنی ہے دوسرے کو بینا بنانا، دوسرے کو دیکھنے والا بنانا، دیکھنے کے قابل بنانا۔ اور تبصُّر آ گیا، تبصر کا معنی ہے خود دیکھنا۔ یعنی آسان ترجمہ، تبصرہ کا معنی ہے دوسرے کو سمجھانا، اور تبصر کا معنی ہے خود سمجھنا، باب تفعل۔ تو تبصرہ کون سا باب ہے؟ باب تفعیل ہے، مصدر آپ نے پڑھا ہے نا؟ تَفْعِلَةٌ وزن پر بھی آتا ہے باب تفعیل کا، جیسے کیا مثال پڑھی؟ قَوَّى يُقَوِّي تَقْوِيَةً، اور کیا مثال پڑھی؟ سَمَّى يُسَمِّي تَسْمِيَةً، دیکھا تو یہ باب تفعیل کا مصدر ہے تَفْعِلَةٌ بھئی۔ تو یہ باب تفعیل ہے اور باب تفعیل، اچھا۔ تو جعلته تبصرة، میں نے اس کتاب کو بینا کرنے والا بنایا ہے، بینا کرنا دوسرے کو دیکھنے کے قابل بنا دینا، ایک ہوتا ہے نا بینا، ایک ہے نابینا، بینا کسے کہتے ہیں؟ دیکھنے والا، نابینا جس کو دکھائی نہ دے۔ تو میں نے اس کتاب کو بینا کرنے والا بنایا ہے لمن اس شخص کے لیے حاول التبصر جو بینا ہونے کا ارادہ کرے لدى الإفهام سمجھاتے وقت۔ جعلتُه، توجہ ہے؟ یہاں پھر وہی بات آئے گی جو پہلے بھی ہو چکی، جعلتُه، میں نے کر دیا، تو مصنف ہوا جاعل، کرنے والا، بنانے والا، توجہ ہے؟ میں نے کر دیا، جعلتُه، یہاں هُ ضمیر کس کو راجع؟ اس کتاب کو راجع، وہ جو هذا کے ذریعے جس کی طرف اشارہ کیا تھا، میں جعلتُه، تو کتاب کیا ہوئی؟ مفعولِ اول، میں نے اس کو کر دیا۔ کیا کر دیا؟ تبصرةً، یہ ہے مفعولِ ثانی، مفعولِ ثانی۔ مثلاً میں کہتا ہوں: میں نے، میں نے مٹی کو ہانڈی بنا دیا، میں نے مٹی کو، پہلے مٹی تھی، گارا تھا، میں نے اس کو کیا بنا دیا؟ ہانڈی بنا دیا، تو میں کہوں گا: جعلتُ هذا الطينَ قِدْرًا. طین مٹی کو کہتے ہیں طین زبر کے ساتھ، طین زبر۔ میں نے اس مٹی کو کیا بنا دیا؟ ہانڈی، مٹی سے برتن بناتے ہیں یا نہیں بناتے؟ تو کوئی شخص مثلاً کہتا ہے: جعلتُ هذا الطينَ قِدْرًا، میں نے اس مٹی کو کیا بنا دیا؟ ہانڈی، تو جَعَلَ ایک فاعل چاہیے، کرنے والا، اور ایک وہ چیز جس کو کیا، جس کی صورت بدلی، اور ایک وہ جو صورت بن گئی، تو میں نے اس مٹی کو کیا بنایا؟ اس گارے کو کیا بنا دیا؟ ہانڈی بنایا، تو جس کس چیز کو بدلا؟ اس مٹی کو، اور کون سی صورت نئی دے دی؟ ہانڈی والی، تو یہ هذا الطین کیا ہوا؟ مفعولِ اول، اور ہانڈی قِدْرًا کیا ہوئی؟ مفعولِ ثانی۔ تو دیکھا جعلتُ کتنے مفعول چاہتا ہے؟ دو، ایک وہ چیز جس کو، جس سے بنایا، جس کو بدل دیا، اور جو صورت میں بدلا، وہ آگے مفعولِ ثانی آئے گا۔ تو یہاں پر بھی ایسا ہے: جعلتُه، هُ ضمیر کیا ہے؟ یہ مفعولِ اول، اور تبصرةً یہ کیا ہے؟ مفعولِ ثانی۔ یاد رکھیے، یہ جَعَلَ کے جو دو مفعول ہیں، یہ دو مفعول چاہتا ہے نا جَعَلَ؟ اس کے دو مفعول ایک دوسرے کے لیے مبتدا خبر کے درجے میں ہوتے ہیں۔ جَعَلَ کے دو مفعول ایک دوسرے کے لیے مبتدا خبر کے درجے میں ہوتے ہیں۔ جہاں بھی دو مفعول آ جائیں، وہ ایک دوسرے کے لیے مبتدا خبر کے درجے میں ہوں، ایسا نہیں ہے، بلکہ بعض جگہیں ہیں، انہی میں سے ایک جگہ کیا ہے؟ جَعَلَ۔ جَعَلَ کے دونوں مفعول ایک دوسرے کے لیے کس درجے میں ہیں؟ مبتدا خبر کے درجے میں ہیں، مبتدا خبر کے درجے میں ہیں۔ تو حاصلِ کلام کیا؟ کہ جَعَلَ دو مفعول چاہتا ہے اور وہ دونوں مفعول ایک دوسرے کے لیے مبتدا خبر کے درجے میں ہوتے ہیں بھئی۔ ہر جگہ نہیں، جہاں بھی دو مفعول آ جائیں آپ ان کو مبتدا خبر کے درجے میں بنا دیں، نہیں نہیں، بعض جگہیں ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے، جَعَلَ دو مفعول چاہتا ہے اور وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے مبتدا خبر کے درجے میں، مفعولِ اول مبتدا کے درجے میں اور مفعولِ ثانی خبر کے درجے میں، اور خبر کا حمل جس طرح مبتدا پر ہوتا ہے، اسی طرح مفعولِ ثانی کا یہاں حمل ہو گا، کس پر؟ یرحمک اللہ، یہ جس طرح خبر کا حمل کس پر ہوتا ہے؟ مبتدا پر، یہاں پر بھی مفعولِ ثانی کا حمل کس پر ہو گا؟ مفعولِ اول پر حمل ہو گا بھئی، مفعولِ اول پر حمل ہو گا۔ ہر جگہ ایسا نہیں ہو گا، مثلاً أعطيتُ زيدًا درهماً. أعطيتُ فعل با فاعل، تاء ضمیر فاعل، زيدًا مفعولِ اول، درهماً مفعولِ ثانی، میں نے زید کو درہم دیا۔ أعطيتُ بھی دو مفعول چاہتا ہے، لیکن یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے مبتدا خبر کے درجے میں نہیں۔ ورنہ تو کیا بن جائے گا کلام؟ أعطيتُ زيدًا درهماً، مفعولِ اول کون؟ زید، مفعولِ ثانی کون؟ درہم، ان کو بناؤ مبتدا خبر: زيدٌ درهمٌ، زید درہم ہے، کوئی بات بن رہی ہے؟ نہیں، تو یہ ہر جگہ نہیں، بعض جگہیں ہیں جہاں پر مفعولِ اول اور مفعولِ ثانی ایک دوسرے کے لیے مبتدا خبر کے درجے میں ہیں، درجے میں ہوتے ہیں، ان میں سے ایک جَعَلَ ہے، اسی طرح افعالِ قلوب وغیرہ ہیں، ان میں بھی اسی طرح ہے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو مفعولِ اول کون؟ هُ ضمیر، اور وہ کس کو راجع؟ کتاب کو، تو کتاب کو لے آؤ یہاں پر: هذا الكتابُ. هذا الكتابُ، اور تبصرةً یہ کیا ہے؟ مفعولِ ثانی، اس کو بنا دو خبر: هذا الكتابُ تبصرةٌ. هذا الكتابُ تبصرةٌ، تو حاصلِ کلام پھر سنو، جَعَلَ چاہتا ہے ایک فاعل چاہیے اور دو مفعول چاہیے۔ تو جعلتُ تو یہ جو تاء ضمیر آ رہی ہے متکلم کی، جو مصنف مراد ہے، مصنف یہ کلام کر رہا ہے، تو وہ کون ہوا؟ فاعل، اور هُ ضمیر راجع ہے کس کو؟ کتاب کو، اور وہ کیا ہے؟ مفعولِ اول، اور تبصرةً کیا ہے؟ مفعولِ ثانی، اور جَعَلَ کے یہ دونوں جو مفعول ہوتے ہیں، آپس میں ایک دوسرے کے لیے مبتدا خبر کے درجے میں ہوتے ہیں۔ مفعولِ ثانی کا حمل ہوتا ہے مفعولِ اول پر۔ اصل میں یوں تھا: هذا الكتابُ تبصرةٌ. اصل میں کیا تھا؟ یہ کتاب تبصرہ ہے، پھر اس پر جَعَلَ داخل ہو گیا اور اس نے مبتدا کو بنا لیا مفعولِ اول اور خبر کو بنا لیا مفعولِ ثانی، تو کیا بن گیا؟ جعلتُ هذا الكتابَ تبصرةً. اب هذا الكتاب کو اٹھاؤ، اس کی ضمیر رکھ دو، ایک ہی بات ہے: جعلتُه تبصرةً، میں نے اس کتاب کو کیا بنا دیا؟ تبصرہ بنا دیا۔ بات سمجھ میں بھی آ رہی ہے؟ جیسے وہاں کیا تھا: جعلتُ هذا الطينَ قِدْرًا، میں نے اس مٹی کو کیا بنا دیا؟ ہانڈی بنا دیا، تو اب اس طرح جعلتُ کو ہٹاؤ، اصل میں کیا تھا؟ هذا الطينُ قِدْرٌ، یہ مٹی کیا ہے؟ ہانڈی ہے، دیکھا؟ تو یہ، تو یہ مبتدا خبر کے درجے میں ہیں، وہ مٹی ہانڈی بن گئی یا نہیں بن گئی بھئی؟ تو یہ مبتدا خبر کے درجے میں ہوتے ہیں۔ تو پھر وہی اشکال ہوتا ہے، کون ہے مبتدا خبر؟ ذرا بتاؤ مجھے اب۔ مبتدا خبر نہیں ہیں، مبتدا خبر کے درجے میں ہیں، کون؟ مفعولِ اول اور مفعولِ ثانی۔ ذرا مبتدا خبر کی صورت دو اس کو۔ هذا الكتابُ تبصرةٌ، مبتدا خبر والا اعراب پڑھو نا، هذا الكتابُ تبصرةٌ، اور هذا الكتاب کیا ہے؟ ذات ہے، اور تبصرہ کیا ہے؟ مصدر ہے، اور مصدر کا حمل کس پر ہو رہا ہے؟ ذات پر ہو رہا ہے۔ اب وہی دو جواب آ جائیں گے جو پہلے بھی گزر چکے، کیا؟ بطورِ مبالغہ حمل کیا گیا کہ یہ کتاب اتنا سمجھانے والی ہے کہ اس کی ذات ہی کیا بن چکی ہے؟ تبصرہ بن چکی ہے، سمجھانے والی بن چکی ہے، یہ مبالغہ، اس میں دیکھو تعریف زیادہ ہے۔ اور دوسری ترکیب کیا؟ کہ تبصرہ کو مبصراً کے معنی میں لے لو، کس معنی میں لے لو؟ مبصراً کے معنی میں لے لو، جیسے زيدٌ عدلٌ تھا نا؟ تو عدلٌ کو کس معنی میں لیا تھا؟ عادلٌ کے معنی میں، عادلٌ کے معنی میں، اور ایک صورت کیا تھی؟ کہ عدل کا حمل ہے زید پر بطورِ مبالغہ کے، اور دوسرا جواب کیا تھا؟ کہ عدلٌ کس معنی میں ہے؟ عادلٌ کے معنی میں ہے۔ کیونکہ مصدر کبھی اسمِ فاعل کے معنی میں ہوتا ہے، کبھی اسمِ مفعول کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح، یا تو تبصرہ کا حمل ہے کس پر؟ مفعولِ اول پر، کس طریقے پر؟ بطورِ مبالغہ کے، یا تبصرہ کا حمل ہے مفعولِ اول پر، کس اعتبار سے؟ اسمِ فاعل کے معنی میں، مبصراً، میں نے اس کتاب کو کیا بنایا ہے؟ مبصراً، بصیرت دینے والا، سمجھانے والا، تو یہ اسمِ فاعل بناؤ، مبصر۔ صورت سمجھ میں بھی آ رہی ہے کہ نہیں؟ تو ایک صورت میں حمل ہے بطورِ مبالغہ کے، اور ایک صورت میں یہ تبصرہ بمعنی مبصر کے ہے، مبصراً، جعلتُه مبصراً. تو ایک صورت میں تبصرہ کو تبصرہ ہی رکھا، اور ایک صورت میں تبصرہ کی جگہ کیا ہے؟ اصل میں یہ مبصراً ہے، یہ مبصراً کے معنی میں ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اب ذرا گہری بات میں کرنے لگا ہوں، توجہ سے سن لینا، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ ایک صورت کیا کہ تبصرہ کا حمل ہے مفعولِ اول پر، کس طریقے پر؟ بطورِ مبالغہ کے، یعنی تبصرہ اپنے ہی معنی میں ہے۔ اور دوسری صورت میں تبصرہ کیا ہے؟ کس معنی میں ہے؟ مبصراً، اسمِ فاعل، ہے تو مصدر، بظاہر آپ کے سامنے مصدر پڑا ہوا ہے، لیکن یہ کس کے معنی میں ہے؟ کس معنی میں ہے؟ مبصراً، اسمِ فاعل کے معنی میں ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اب یاد رکھو، اب میں گہری بات کرنے لگا ہوں، خوب توجہ سے سننا بھئی۔ یہ آپ پڑھ چکے کہ بعض اوقات ایک لفظ اپنے معنی میں استعمال ہوتا ہے، بعض اوقات کسی اور معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ جیسے کوئی جنگل میں، میں نے درندہ دیکھا تو میں نے آپ سے کہا: هذا أسدٌ، یہ کیا ہے؟ شیر، یا اردو میں کہہ لو، جنگل میں درندہ نظر آیا، میں نے آپ سے کہا: یہ شیر ہے۔ تو شیر کا لفظ وضع بھی کس کے لیے؟ جنگلی درندے کے لیے، اور میں ارادہ بھی کس کا کر رہا ہوں؟ جنگلی درندے ہی کا کر رہا ہوں۔ تو یہ لفظ اپنے معنی میں استعمال ہوا یا کسی دوسرے معنی میں؟ اپنے ہی معنی میں، تو اس کو کہتے ہیں حقیقت، کیا کہتے ہیں؟ حقیقت۔ اور اگر لفظ اپنے معنی کے علاوہ کسی دوسرے معنی میں استعمال ہو جائے تو اس کو کہتے ہیں مجاز۔ جیسے بہادر آدمی آیا اور میں نے کہا: شیر آ گیا۔ اب شیر تو جنگلی درندے کے لیے وضع ہے، لیکن میں یہاں کون سا معنی مراد لے رہا ہوں؟ بہادر آدمی والا، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مجاز، کیا کہتے ہیں؟ مجاز۔ اور یاد رکھو، یہ ہے مجازِ لغوی، یہ کیا ہے؟ مجازِ لغوی۔ مجازِ لغوی، توجہ سے سن لو بھئی، یہ ہے مجازِ لغوی۔ لغوی لغت سے ہے نا، لغت کسے کہتے ہیں؟ زبان کو، اردو لغت کیا معنی؟ اردو زبان، عربی لغت کیا معنی؟ عربی زبان۔ تو لغت زبان کو کہتے ہیں، تو یہ دیکھو، ایک ہے حقیقت اور ایک ہے مجاز، تو یہ مجاز کون سا ہے؟ مجازِ لغوی، لغت والا مجاز، یعنی زبان والا مجاز، یعنی آپ معنی صرف لفظ کا بدل رہے ہیں، عربی زبان میں مجاز کر رہے ہیں، عربی زبان یا اردو، یہاں اردو ہے۔ میں اردو بول رہا ہوں نا، شیر آ گیا، تو یہ اردو زبان میں، میں کیا کر رہا ہوں؟ مجاز استعمال کر رہا ہوں، کس طرح؟ اردو زبان میں تو شیر کا لفظ جنگلی درندے کے لیے وضع ہے، لیکن میں کس کے لیے استعمال کر رہا ہوں؟ بہادر آدمی کے لیے، تو یہ مجاز ہے، لیکن کس میں؟ اردو زبان میں۔ زبان کے اعتبار سے مجاز ہے، کس کے اعتبار سے؟ زبان کے اعتبار سے۔ کس طرح زبان کے اعتبار سے؟ کیونکہ اردو زبان میں شیر کس کو کہتے ہیں؟ جنگلی درندے کو، لیکن میں کس کے لیے استعمال کر رہا ہوں؟ بہادر آدمی کے لیے، تو لفظ کو میں دوسرے معنی میں استعمال کر رہا ہوں، تو یہ زبان یعنی لغت کے اعتبار سے کیا ہے؟ مجاز ہے، اس کو کہتے ہیں مجازِ لغوی، کیا کہتے ہیں؟ بس آپ نام یاد رکھیں کہ لفظ اپنے معنی کے بجائے کسی دوسرے معنی میں استعمال ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مجازِ لغوی کہتے ہیں۔ مجازِ لغوی کسے کہتے ہیں؟ کہ لفظ اپنے معنی کے، اپنے معنی کے بجائے کسی دوسرے معنی میں استعمال ہو جائے، تو یہ کیا ہے؟ مجازِ لغوی۔ تو یہاں پر بھی تبصرہ کو جب ہم نے کس معنی میں لیا؟ مبصراً کے معنی میں لیا، تو لفظ اپنے معنی میں ہے یا دوسرے معنی میں؟ دوسرے معنی میں، تو یہ کون سا مجاز ہوا؟ مجازِ لغوی، بات سمجھ میں بھی آ گئی؟ تو آسان، حاصلِ کلام یہ کہ مجازِ لغوی یہ ہے کہ لفظ کو اپنے معنی حقیقی کے بجائے کسی دوسرے معنی میں استعمال کیا جائے، جیسے زيدٌ عدلٌ، آپ عدل کو کس معنی میں لے لیں؟ عادلٌ کے معنی میں، تو یہ کیا ہے؟ مجازِ لغوی ہے، یا جیسے آپ شیر کا لفظ بولیں اور اس سے بہادر آدمی مراد لے لیں، تو یہ کیا ہے؟ مجازِ لغوی ہے بھئی۔ یہ ہے مجازِ لغوی، ایک ہے مجازِ عقلی بھئی، مجازِ عقلی۔ مجازِ عقلی اسے کہتے ہیں کہ ایک چیز کا، ایک چیز کا اسناد ہونا ایک چیز کی طرف چاہیے تھا، آپ اس کا اسناد کسی اور کی طرف کر دیتے ہیں۔ ایک چیز کا اسناد ہونا ایک چیز کی طرف چاہیے تھا، آپ کسی اور دوسری چیز کی طرف کر دیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مجازِ عقلی، مجازِ عقلی۔ مجازِ لغوی کسے کہتے ہیں؟ کہ لفظ اپنے معنی کے علاوہ کسی دوسرے، ہاں شاباش، اپنے معنی کے بجائے لفظ کسی دوسرے معنی میں استعمال کر لیں، تو یہ کیا ہے؟ مجازِ لغوی، اور مجازِ عقلی کسے کہتے ہیں؟ کہ لفظ کا اسناد جس کی طرف ہونا چاہیے تھا، اس کی طرف آپ نہیں کرتے، بلکہ کسی دوسری چیز کی طرف کر دیں، تو یہ کیا ہے؟ مجازِ عقلی۔ مثلاً دیکھو، مثلاً میں کہنا چاہتا ہوں آپ سے: ضربَ زيدٌ بالعصا، زید نے کس کے ساتھ پٹائی کی؟ لاٹھی کے ساتھ، ضربَ زيدٌ، زید نے پٹائی کی بالعصا، کس کے ساتھ؟ لاٹھی کے ساتھ۔ تو پٹائی کرنے والا کون؟ زید، اور ضربَ فعل کا اسناد میں کر بھی کس کی طرف رہا ہوں؟ زید ہی کی طرف کر رہا ہوں۔ تو یہ اسناد کر رہا ہوں اسی چیز کی طرف جس کی طرف ہونا چاہیے۔ پٹائی کرنے والا کون؟ زید، اور میں ضربَ کا اسناد بھی کس کی طرف کر رہا ہوں؟ زید کی طرف، میں نے کیا کہا؟ ضربَ زيدٌ بالعصا، زید نے پٹائی کی کس سے؟ لاٹھی کے ساتھ۔ تو میں نے یہ ضرب لگانے والا ہے زید، اور میں ضربَ کا اسناد بھی کس کی طرف کر رہا ہوں؟ زید ہی کی طرف، تو اس، یہ، یہ، یہ حقیقتِ عقلیہ ہے، یہ کیا ہے؟ حقیقتِ عقلیہ، یعنی جس کی طرف اسناد ہونا چاہیے تھا، اب بھی اسی کی طرف کر رہے ہیں، تو یہ کیا ہے؟ حقیقتِ عقلیہ، اور اگر آپ اسناد کسی اور چیز کی طرف کر دیں تو پھر اس کو کہیں گے مجازِ عقلی، مثلاً میں یوں کہتا ہوں: ضربَهُ العصا، اس کی پٹائی کی العصا، کس نے پٹائی کی؟ لاٹھی نے۔ بھئی لاٹھی پٹائی کرتی ہے یا زید یا عمر، بکر وغیرہ میں سے کوئی پٹائی کرنے والا ہو گا؟ انسان پٹائی کرے گا۔ پٹائی انسان کرے گا، تو ضرب کی، ضرب پٹائی کی نسبت ہونی چاہیے تھی انسان کی طرف، وہ ہے پٹائی کرنے والا، لیکن میں نے پٹائی کس کی طرف کر دی؟ لاٹھی کی طرف کر دی کہ ضربَهُ العصا، لاٹھی نے اس کی پٹائی کی۔ لاٹھی نے اس کی پٹائی کی، تو یہ اسناد جس چیز کی طرف ہونا چاہیے، اسی کی طرف ہے یا دوسری چیز کی طرف ہے؟ دوسری چیز کی طرف، تو اس کو کہتے ہیں مجازِ عقلی، کیا کہتے ہیں؟ اگر جس کی طرف اسناد ہونا چاہیے اسی کی طرف ہو رہا ہے تو اس کو کہتے ہیں حقیقتِ عقلیہ، حقیقتِ عقلیہ۔ حقیقت کا لفظ گول تاء جڑی ہوئی ہے یا نہیں؟ تو یہ مؤنث ہوا، اس لیے عقليّةٌ اس کی صفت کے ساتھ بھی کیا لے آئے؟ گول تاء، حقیقتِ عقلیہ، اور مجازِ عقلی، مجاز کے ساتھ کوئی گول تاء ہے؟ نہیں، لہذا عقلی کے ساتھ بھی آگے صفت میں بھی گول تاء نہیں لائے۔ تو اگر لفظ کی جس اسناد جس کی طرف ہونا چاہیے اسی کی طرف اسناد ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ حقیقتِ عقلیہ، اور اگر کسی دوسری چیز کی طرف ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مجازِ عقلی کہتے ہیں۔ اور یہ آپ بھی کرتے رہتے ہیں، آپ بھی اردو زبان میں عام استعمال کرتے ہیں اگر آپ غور کریں گے، کتنی ہی مثالیں آپ کو مل جائیں گی کہ آپ ایک چیز کا اسناد دوسری چیز کی طرف کر رہے ہیں۔ مثلاً، آپ کا ایک ساتھی ہے، آپ سے کہتا ہے: لے بھئی، چائے پی لیں۔ آپ کہتے ہیں: نہیں، میں نے ایک کپ پی لیا ہے۔ یا شربت دیتا ہے آپ کا ساتھی کہ لیں شربت پی لیں، آپ کہتے ہیں: نہیں، میں نے ایک گلاس پی لیا ہے۔ بھئی آپ نے گلاس پیا ہے یا گلاس کے اندر موجود شربت پیا ہے؟ گلاس تو شیشے یا سٹیل کا ہوتا ہے، گلاس تو نہیں پیا جاتا، گلاس کے اندر جو چیز ہے شربت وغیرہ اس کو کیا کیا جاتا ہے؟ پیا جاتا ہے، تو دیکھو، آپ چیز کی نسبت کر رہے ہیں، پینے کی نسبت کس کی طرف کر رہے ہیں؟ جس کی طرف ہے، جس کی طرف ہونی چاہیے اس کی طرف کر رہے ہیں یا غیر کی طرف کر رہے ہیں؟ غیر کی طرف، تو یہ کیا ہے؟ مجازِ عقلی ہے۔ یا آپ کہتے ہیں، اپنے ساتھی سے کہتے ہیں: کہ نہر بہہ رہی ہے۔ نہر بہہ، بھئی نہر بہتی ہے یا نہر کے اندر پانی بہتا ہے؟ پانی بہتا ہے، لیکن آپ بہنے کی نسبت کس کی طرف کر دیتے ہیں؟ نہر کی طرف، نہر تو اپنی جگہ پر ہے، ہاں اس کے اندر کیا ہے؟ پانی بہہ رہا ہے۔ تو اب بہنے کی نسبت ہونی چاہیے تھی پانی کی طرف، لیکن آپ نے کس کی طرف کر دی؟ نہر کی طرف، تو یہ کیا ہے؟ مجازِ عقلی ہے، مجازِ عقلی۔ فرق کیسے سمجھ میں آئے گا؟ بھئی دیکھو آسان سی بات ہے، مجازِ لغوی میں لفظ دوسرے معنی میں استعمال ہوتا ہے، لفظ دوسرے معنی، اچھا جب میں نے کہا نہر بہہ رہی ہے، میں نے کوئی، نہر کا کوئی اور معنی کیا؟ نہیں، نہر اپنے معنی میں ہے، اور بہنا اپنے معنی میں ہے، یا جیسے وہ مثال لے لو: ضربَهُ العصا، اس کی پٹائی کس نے کی؟ لاٹھی نے، ضربَ کا کیا معنی ہوتا ہے؟ پٹائی کرنا، میں یہاں ابھی بھی وہی معنی کر رہا ہوں، عصا کسے کہتے ہیں؟ لاٹھی کو، میں ابھی بھی وہی ترجمہ کر رہا ہوں، ضربَ سے پٹائی کرنا ہی مراد لے رہا ہوں، اور عصا سے لاٹھی ہی مراد دے رہا ہوں، تو یہاں مجازِ لغوی ہے ہی نہیں بھئی۔ مجازِ لغوی تو کس کو کہتے تھے؟ لفظ کا، ہاں لفظ کو کسی دوسرے معنی میں استعمال کرنا، یہاں آپ مجازِ عقلی میں غور کر لیں، کسی بھی لفظ کو کسی دوسرے معنی میں استعمال نہیں کیا گیا، ہر لفظ اپنے ہی معنی میں ہے، ہاں جس چیز کی طرف نسبت ہونی چاہیے تھی، اس کے بجائے نسبت اس کی طرف نہیں کی بلکہ کسی دوسری چیز کی طرف نسبت کر دی، جبکہ مجازِ لغوی اس کے اندر ایک لفظ باقاعدہ کسی دوسرے معنی میں استعمال ہوتا ہے، جیسے تبصرہ، تبصرہ کس معنی میں لے لیا یہاں؟ جعلتُه تبصرةً أي مبصراً. تو جب تبصرہ کو بمعنی مبصراً کے لیا، تو یہ کون سا مجاز ہے؟ تبصرہ کو مبصراً کے معنی میں، جی؟ مجازِ لغوی، بھئی، مجازِ عقلی میں صرف اسناد، معنی نہیں بدلتا، ایک چیز کا اسناد یا تعلق ایک سے جوڑنا تھا، آپ نے جوڑ دوسری چیز سے دیا، وہاں معنی نہیں بدلتا، اور مجازِ لغوی میں کیا ہوتا ہے؟ معنی بدلتا ہے، اور جعلتُه تبصرةً، تبصرہ کو کس معنی میں لیا؟ مبصراً کے، معنی بدلا یا نہیں بدلا؟ جب معنی بدلا تو یہ کون سا مجاز ہوا؟ مجازِ لغوی ہوا، زيدٌ عدلٌ، اگر آپ عدلٌ کو کس معنی میں لیں؟ عادلٌ کے معنی میں لیں، تو یہ کون سا مجاز ہوا؟ یہ مجازِ لغوی ہوا، اور اگر آپ عدلٌ کا حمل کر دیں زید پر براہِ راست بطورِ مبالغہ کے، تو پھر یہ، یہ مجازِ عقلی ہے۔ یہ کیا ہے؟ بطورِ مبالغہ کے آپ عدل کا حمل کس پر کر رہے ہیں؟ زید، اور زید تو ہے ذات، اور عدل کیا ہے؟ مصدر، تو ذات کا حمل ذات پہ ہوتا ہے، مصدر کا حمل تو ذات پر نہیں، لیکن آپ کر رہے ہیں، تو اسی چیز کی طرف نسبت کر رہے ہیں جس کی طرف ہونی چاہیے یا غیر کی طرف کر رہے ہیں؟ غیر کی طرف، اچھا غیر کی طرف نسبت ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مجازِ عقلی کہتے ہیں۔ مشکل ہو گئی بات؟ کیا بات ہے؟ مجاز کتنی قسم پر؟ دو، یا وہ مجازِ لغوی ہو گا یا مجازِ عقلی ہو گا، مجازِ لغوی نام سے ہی پتہ چل رہا ہے، وہ لغت میں مجاز ہوتا ہے، یعنی معنی بدلتا ہے، لغت، زبان کسے کہتے ہیں؟ مختلف چیزوں کے نام رکھے ہوتے ہیں، آپ وہ استعمال کرتے ہیں، اردو والے اردو کے مطابق، عربی والا عربی کے مطابق، تو یہاں مجازِ لغوی میں کیا ہوتا ہے؟ کہ ایک، آپ ایک لفظ کو اپنے معنی کے بجائے کسی دوسرے معنی کے لیے استعمال کرتے ہیں، اور مجازِ عقلی میں کیا ہوتا ہے کہ ایک چیز کی نسبت آپ ایسی چیز کی طرف کر دیتے ہیں کہ اس کی طرف اس کی نسبت نہیں ہونی چاہیے تھی، کسی دوسری چیز کی طرف نسبت ہونی چاہیے تھی۔ اب بات سمجھ میں آ گئی؟ لہذا، جعلتُه تبصرةً، جعلتُه تبصرةً، تو اصل میں کیا ہے؟ جعلتُ هذا الكتابَ تبصرةً. تو، تو جعلتُه تبصرةً، یہ هُ کیا ہے؟ اس سے کیا مراد ہے؟ هذا الكتاب، یہ ہے مفعولِ اول، اور تبصرہ کیا ہے؟ مفعولِ ثانی، اور مفعولِ ثانی کا حمل ہوتا ہے کس پر؟ مفعولِ اول پر، یعنی وہ مبتدا خبر کے درجے میں ہوتے ہیں، ان کا حمل ٹھیک ہونا چاہیے، لیکن ہم یہاں دیکھتے ہیں کہ مفعولِ اول جعلتُه کی هُ ضمیر یہ کیا ہے؟ مفعولِ اول، وہ عبارت ہے کتاب سے، هذا الكتاب، اور کتاب کیا ہے؟ ذات ہے، اس کی طرف ضمیر لوٹ رہی ہے، اور وہ ذات ہے، اور تبصرہ کیا ہے؟ مصدر، تو آپ نے دو جواب دیے، ایک صورت یہ کہ تبصرہ کا حمل ہے مفعولِ اول پر بطورِ مبالغہ کے، اور دوسرا جواب یہ دیا کہ تبصرہ بمعنی مبصراً کے ہے، تو اگر آپ تبصرہ کو کس معنی میں لے لیں؟ مبصراً کے، تو یہ کون سا مجاز ہوا؟ مجازِ لغوی ہوا، اور اگر آپ تبصرہ کا حمل بطورِ مبالغہ کے براہِ راست هُ ضمیر پر کر دیں، حالانکہ وہ تو ذات کی طرف راجع ہے، اس سے ذات مراد ہے، تو پھر تبصرہ کا، مصدر کا حمل کر رہے ہو کس پر؟ ذات پر، تو یہ کون سا مجاز ہوا؟ مجازِ عقلی ہوا، اسناد ہوا غيرِ ما هو له کی طرف۔ صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ تو لہذا، یہاں دو جواب ہیں، یا تو یہ مجازِ لغوی ہے یا مجازِ عقلی ہے بھئی، اب دیکھیے کتاب پر۔ قوله مصنف کا قول جعلتُه تبصرةً أي مبصراً، کیا معنی؟ یہ کون سا مجاز ہے؟ مجازِ لغوی ہے، ويحتمل التجوزَ في الإسنادِ، اور یہ اسناد میں بھی مجاز کا احتمال رکھتا ہے۔ بھئی یہ تبصرہ یا تو کس معنی میں ہے؟ مبصراً کے معنی، معلوم ہوا کون سا مجاز ہے؟ مجازِ لغوی، ويحتمل التجوزَ، تجوز وہی مجاز بھئی، ويحتمل التجوزَ في الإسنادِ، اور یہ مجاز فی الاسناد کا بھی احتمال رکھتا ہے، اور مجاز فی الاسناد اس کا کیا نام ہے؟ مجازِ عقلی، یعنی یہ مجازِ عقلی کا بھی احتمال رکھتا ہے۔ پھر سنو: أي مبصراً، یہ کون سا مجاز ہے؟ شاباش، ويحتمل التجوزَ في الإسنادِ، اور یہ مجاز فی الاسناد کا بھی احتمال رکھتا ہے، یعنی کس کا احتمال رکھتا ہے؟ مجازِ عقلی کا بھی احتمال رکھتا ہے، کیا معنی مجازِ عقلی کا احتمال؟ کہ مصدر کا حمل ذات پر بطورِ مبالغہ کے ہے۔ وكذا قوله "تذكرةً"، اور اسی طرح ہے مصنف کا قول تذکرہ بھی، اسی طرح ہے مصنف کا قول تذکرہ بھی۔ تو تبصرہ کو اٹھاؤ اور اس کی جگہ رکھ دو تذکرہ۔ متن پہ نظر ہے؟ جعلتُه تذكرةً، تذکرہ یاد کروانا، مصدر ہے نا؟ یاد کروانا، تو جعلتُه تذكرةً، میں نے اس کتاب کو تذکرہ بنایا ہے، کیا بنایا ہے؟ اب تذکرہ تو مصدر ہے، اور جعلتُه کی هُ ضمیر جو مفعولِ اول ہے، وہ کیا ہے؟ کتاب، ذات کا نام ہے، اور تذکرہ کیا ہے؟ مصدر ہے، تو یہ مفعولِ ثانی ہے، تو مفعولِ ثانی کا حمل ہوتا ہے کس پر؟ مفعولِ اول پر، تو وہی اشکال ہوتا ہے کہ یہاں پر مصدر کا حمل کس پر ہو رہا ہے؟ ذات پر، تو ایک جواب یہ کہ یہ تذکرہ بمعنی اسمِ فاعل، یعنی مذکِّر کے ہے: جعلتُه مذكِّرًا، جعلتُه مذكِّرًا، میں نے اس کتاب کو یاد کروانے والا بنایا ہے۔ تو پھر یہ کون سا مجاز ہوا؟ تذکرہ بمعنی مذکر کے؟ یہ مجازِ لغوی ہوا، اور اگر آپ یوں کہیں کہ تذکرہ کا حمل ہے مفعولِ اول پر بطورِ مبالغہ کے، تو یہ کون سا مجاز ہوا؟ مجازِ عقلی ہوا بھئی۔ یہ معنی ہے: وكذا قوله "تذكرةً"، اور اسی طرح مصنف کا قول تذکرہ بھی ہے، اس میں بھی یہ دونوں احتمال ہیں، یعنی مجازِ عقلی کا بھی اور مجازِ لغوی کا بھی۔ قوله لدى الإفهام، مصنف کا قول لدى الإفهام بالكسر، کس کے ساتھ ہے؟ کسرہ، إفہام، یعنی ہمزہ کا کسرہ ہے، إفہام، میں نے اوپر متن میں بتایا تھا: لدى الإفهام، باب افعال کا مصدر ہے، ہمزہ کے نیچے کسرہ پڑھو، إفہام، اور آگے آ رہا ہے: ذوي الأفهام، وہاں پر الف پر زبر پڑھو، ہمزہ پر زبر پڑھو، وہ جمع ہے فہم کی۔ تو جمع کے لیے ہمیشہ الف پر کیا پڑھتے ہیں؟ زبر، اور باب افعال کے لیے ہمیشہ الف کے نیچے کیا پڑھتے ہیں؟ زیر پڑھتے ہیں۔ تو قوله لدى الإفهام بالكسر، یہ کس کے ساتھ ہے؟ کسرہ، یعنی ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ، أي تفهيمِ الغيرِ إياه، بھئی اس میں میں نے دو معنی ذکر کیے تھے کہ لمن حاول التبصر، جعلتُه تبصرةً، میں نے اس کتاب کو مبصر یعنی سمجھانے والا بنایا ہے لمن اس شخص کے لیے حاول التبصر جو سمجھنے کا ارادہ کرے، حاولَ کا معنی ارادہ کرنا، میں نے اس کتاب کو سمجھانے والا بنایا ہے جو کس کا ارادہ کرے؟ سمجھنے کا ارادہ کرے۔ چلیے بس کریں۔ حاصلِ کلام پھر سن لو آج کے سبق کا۔ آج شارح نے آپ کو بتلایا کہ من تقرير عقائد الإسلام، یہ بیان ہے مرام کا، یعنی یہ اس کا معنی ذکر ہو رہا ہے کہ یہ کتاب مقصد کو قریب کرنے والی ہے ذہنوں کے، بھئی وہ مقصد کیا ہے؟ من تقرير عقائد الإسلام، یعنی کہ اسلامی عقائد کا اثبات، تقریر کا کیا معنی؟ اثبات، اور تو یہ مِنْ بیان ہے مرام کا، اور اس کا ترجمہ "یعنی" کے ساتھ کرتے ہیں کہ یہ کتاب مقصد یعنی اسلامی عقائد کے اثبات کو ذہنوں کے قریب کرنے والی ہے۔ پھر بتلایا تھا کہ اسلام کے بارے میں علماء کے تین اقوال ہیں بھئی۔ ایک قول یہ کہ اسلام صرف عقیدے کا نام ہے، اور یہی مسلک ہے جمہور اہل سنت والجماعت کا۔ تو اسلام اگر صرف عقیدے کا نام ہے تو ماقبل میں مضاف بھی عقائد آ رہا ہے، وہ بھی عقیدہ ہے، تو دونوں کیا ہوئے؟ ایک ہی چیز، تو یہ اضافت کیا ہوئی؟ اضافتِ بیانیہ، من تقرير العقائد، کہ وہ مقصد عقائد کو ثابت کرنا ہے، وہ عقائد کیا ہیں؟ الإسلام، وہ اسلام ہیں۔ تو اس صورت میں یہ اضافت کیا ہوئی؟ بیانیہ، اور میں نے بتلایا تھا اضافتِ بیانیہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں مضاف اور مضاف علیہ میں اتحاد ہوتا ہے، دونوں ایک ہی چیز ہوتے ہیں۔ مضاف علیہ جو بعد میں آ رہا ہے، وہ معنی بیان کرتا ہے کس کا؟ مضاف کا، کہ اس سے کیا مراد ہے، اور یہ دونوں مبتدا خبر کے درجے میں ہوتے ہیں۔ آپ ایک کو کیا بنا لو؟ مبتدا، اور معرفہ کر دو، اور دوسرے کو کیا بنا دو؟ خبر، جیسے العقائدُ إسلامٌ، اور ماقبل میں آیا تھا: بدليل أهيل، الدليلُ أهيلٌ. تو یہ اضافتِ بیانیہ ہے، اور اگر مضاف اور مضاف علیہ ایک دوسرے سے غیر ہوں تو پھر کبھی وہاں مِنْ مقدر ہوتا ہے، کبھی فِي اور کبھی لَام۔ فِي وہاں مقدر ہوتا ہے جب مضاف علیہ، یعنی وہ جو بعد میں آ رہا ہے، مضاف علیہ ہے وہ ماقبل کے لیے کیا ہو؟ ظرف، تو وہاں فِي مقدر نکالیں گے، جیسے صلاة الليلِ، اصل میں کیا ہے؟ صلاةٌ في الليلِ، یا صلاة الجمعةِ، أي صلاةٌ في الجمعةِ. اور کبھی کبھار وہاں پر مِنْ مقدر ہوتا ہے، جب مضاف علیہ مضاف کے لیے جنس ہو، جیسے خاتم فضةٍ، أي خاتمٌ من فضةٍ، یا خاتم الذهبِ، أي خاتمٌ من ذهبٍ، یا خاتم حديدٍ، لوہے کی انگوٹھی، أي خاتمٌ من حديدٍ، تو یہ اضافت مِنْ کے ساتھ ہوتی ہے۔ اور ان کے علاوہ جتنی صورتیں ہیں، وہاں لَام آئے گا۔ کیا حاصل ہوا؟ جب مضاف اور مضاف علیہ ایک دوسرے سے غیر ہوں، اضافتِ بیانیہ میں تو اتحاد ہوتا ہے نا؟ جب دونوں ایک دوسرے سے غیر ہوں، تو وہاں فِي بھی آ سکتا ہے، جبکہ مضاف علیہ ظرف ہو، مِنْ بھی آ سکتا ہے، جبکہ مضاف علیہ جنس ہو، اور اس کے علاوہ جتنی صورتیں ہیں تو پھر وہاں کیا مقدر ہوتا ہے؟ لَام، جیسے غلامُ زيدٍ، اصل میں کیا ہے؟ غلامٌ لزيدٍ. تو یہاں پر بھی، جب اسلام سے کیا مراد لیں؟ تینوں کا مجموعہ، تو عقائد اور چیز، مجموعہ اور چیز، تو پھر یہ اضافت لامی ہوئی۔ اور اگر اسلام سے صرف کیا مراد لیں؟ اقرار باللسان، تو ماقبل میں عقائد وہ اور چیز، اور اسلام اور چیز، تو پھر یہ اضافت کون سی ہو گی؟ اضافتِ لامی ہو گی، کیونکہ یہ نہ اس کے لیے ظرف ہے اور نہ جنس ہے۔ اور پھر اس کے بعد آپ نے یہ پڑھا کہ جعلتُه تبصرةً، یہ هُ ضمیر کیا ہے؟ مفعولِ اول، اور تبصرہ مصدر کیا ہے؟ مفعولِ ثانی، اور یہ جَعَلَ کے یہ دونوں جو مفعول ہوتے ہیں، آپس میں ایک دوسرے کے لیے مبتدا خبر کے درجے میں ہوتے ہیں، اور مفعولِ ثانی کا حمل ہوتا ہے کس پر؟ مفعولِ اول پر، تو مفعولِ اول پر حمل ہو گا یہاں پر، تو پھر اس صورت میں یا تو حمل ہو گا بطورِ مبالغہ کے، یا تبصرہ کو کس معنی میں لیں گے؟ بمعنی مبصراً، اگر تبصرہ کو مبصراً کے معنی میں لیں تو پھر یہ کیا ہے؟ مجازِ لغوی، اور اگر تبصرہ کا حمل بطورِ مبالغہ کے کریں تو پھر یہ کیا ہے؟ مجازِ عقلی ہے کہ آپ مصدر کا حمل اس چیز کی طرف کر رہے ہیں کہ اس کی طرف اس کا، مصدر کی نسبت اس کی طرف ہونی نہیں چاہیے۔ اور اسی طرح تذکرہ کے اندر بھی ہے، یا تو بطورِ مبالغہ کے ہے تذکرہ کا عطف مفعولِ اول پر، تو پھر یہ کیا ہے؟ مجازِ عقلی، اور اگر تذکرہ کو بمعنی مذکِّراً کے لے لیں تو پھر اس صورت میں یہ مجازِ لغوی ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام.