Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-024

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Noman Ahmad
📍 Location Peshawar, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 10
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَهٰذَا إِشَارَةٌ إِلَى الْمُرَتَّبِ الْحَاضِرِ فِي الذِّهْنِ مِنَ الْمَعَانِي الْمَخْصُوصَةِ الْمُعَبَّرِ عَنْهَا بِالْأَلْفَاظِ الْمَخْصُوصَةِ أَوْ تِلْكَ الْأَلْفَاظِ الدَّالَّةِ عَلَى الْمَعَانِي الْمَخْصُوصَةِ سَوَاءٌ كَانَ وَضْعُ الدِّيبَاجَةِ قَبْلَ التَّصْنِيفِ أَوْ بَعْدَهُ، إِذْ لَا وَجُودَ لِلْأَلْفَاظِ الْمُرَتَّبَةِ وَلَا لِلْمَعَانِي أَيْضًا فِي الْخَارِجِ. گزشتہ سبق میں آپ نے «وَبَعْدُ» کے بارے میں پڑھا اور «فَهٰذَا» کی فاء کے بارے میں۔ «وَبَعْدُ» کے بارے میں شارح نے آپ کو بتلایا کہ یہ ظروفِ زمانیہ میں سے ہے۔ یہ ظرفِ زمان ہے۔ اور «قَبْلُ»، «بَعْدُ»، «فَوْقُ»، «تَحْتُ» وغیرہ ان سب کو غایات کہتے ہیں، کیونکہ ان سے بعض اوقات ان کے مضاف علیہ کو حذف کر لیا جاتا ہے، تو غایہ کا معنیٰ انتہا، تو پھر کلام کی یا اس مرکب کی انتہا ان پر ہوتی ہے، تو یہ کیا بن گئے؟ غایہ بن گئے۔ اس لیے ان کو کیا کہا جاتا ہے؟ غایات۔ اور یہ «قَبْلُ»، «بَعْدُ» وغیرہ جو ہیں ان کے تین احوال ہیں، ان کے لیے مضاف علیہ چاہیے، تو کبھی مضاف علیہ لفظوں میں ذکر ہوگا اور کبھی ذکر نہیں ہوگا، اور پھر جب ذکر نہیں ہے، یا تو اس سے بالکل بھلا دیا گیا ہوگا یعنی نسیًا منسیا ہوگا، بالکل بھلا دیا گویا کہ چاہیے ہی نہیں تھا، کوئی تھا ہی نہیں، تو یا تو وہ نسیًا منسیا ہوگا، یا لفظوں سے تو حذف کر لیا لیکن نیت میں پھر بھی مراد ہے، اس کا ارادہ ابھی بھی ہے، نیت میں ابھی بھی موجود ہے، یعنی منوی ہے، کیا ہے؟ منوی ہے، نیت میں ہے۔ تو تین حالتیں ہو گئیں: ایک میں مضاف علیہ موجود ہے، ایک میں نسیًا منسیا ہے، اور ایک میں منوی ہے۔ تو ان میں سے دو حالتوں میں یہ معرب ہے، ایک وہ حالت جب اس کا مضاف علیہ موجود ہو کیونکہ اس کی ضرورت پوری ہو رہی ہے تو یہ معرب ہے، اور جب معرب ہے تو اس پر اعراب آئے گا اور کون سا اعراب آئے گا؟ نصب والا، کیونکہ یہ ظرف ہے مفعول فیہ بن رہا ہے۔ اور اسی طرح جب اس کا مضاف علیہ نسیًا منسیا کر دیا، حذف کیا اور پھر نسیًا منسیا کر دیا، تب بھی یہ معرب ہے، کیونکہ اب گویا اس کو مضاف علیہ چاہیے ہی نہیں، جب چاہیے ہی نہیں تو اس کا کوئی نقصان نہیں ہوا، جب کوئی نقصان نہیں تو یہ اسی طرح معرب کا معرب رہے گا اور اس پر نصب آئے گا۔ اور تیسری صورت یہ تھی کہ مضاف علیہ لفظوں سے تو حذف کر لیا لیکن ارادے اور نیت میں ابھی بھی موجود ہے، تو اس صورت میں اب مضاف علیہ تو اس کے لیے چاہیے، وہ مراد بھی ہے، لیکن لفظوں میں موجود نہیں، تو اس کا نقصان ہو گیا۔ تو اس نقصان کی تلافی کے طور پر پھر اس کو مبنی بنا دیتے ہیں ضمہ پر، مبنی بناتے ہیں اور چونکہ نقصان بڑا ہوا ہے، تو پھر مبنی بھی کون سی حرکت پر بناتے ہیں؟ ضمہ پر جو سب سے قوی حرکت ہے۔ تو اس صورت میں یہ مبنی، اور باقی دو حالتوں میں یہ معرب ہے۔ پھر اس کے بعد شارح نے آپ کو بتلایا تھا کہ «فَهٰذَا» کے اندر جو فاء آئی، یہ فاء جزائیہ ہے، اور یہاں عموماً ماقبل میں «أَمَّا بَعْدُ» ہوتا ہے، اور «أَمَّا بَعْدُ» میں سے «أَمَّا» متضمن ہوتا ہے معنیٰ شرط کو، تو اس کے جواب اس کی جزا پر کیا لائی جاتی ہے؟ فاء، کیونکہ فاء عموماً شرط کی جزا پر لاتے ہیں۔ تو «أَمَّا بَعْدُ» کی جزا پر بھی کیا داخل کرتے ہیں؟ فاء داخل کرتے ہیں۔ لیکن اشکال یہ ہے کہ یہاں پر تو «أَمَّا» موجود نہیں ہے، تو پھر یہ فاء وہ کیسے لائے؟ یہ کون سی فاء ہے؟ تو شارح نے آپ کو بتلایا، دو جواب دیے: کہ یہ فاء توہمِ «أَمَّا» پر مبنی ہے، اور دوسرا جواب یہ دیا کہ یہ تقدیرِ «أَمَّا» پر مبنی ہے۔ توہمِ «أَمَّا»، میں نے بتلایا آپ کو کہ عام طلباء اور مدرسین اس کا معنیٰ کرتے ہیں کہ مصنف کو وہم ہو گیا تھا کہ شاید میں نے پیچھے «أَمَّا» کا لفظ ذکر کر دیا ہے، یعنی یوں سمجھیں توہم غلطی کو کہتے ہیں، کس کو آسان لفظوں میں؟ مصنف سے غلطی ہو گئی، اس نے سمجھا کہ شاید میں نے پیچھے «أَمَّا» ذکر کیا تھا، اور «أَمَّا» تو متضمن ہوتا ہے معنیٰ شرط کو، تو جواب میں کیا لے آیا آگے جزا پر؟ فاء لے آیا بھئی، فاء لے آیا۔ حالانکہ یہ مصنف کا وہم بھی غلط اور پھر فاء کا لانا بھی غلط ہوا، یہ عام تقریر کی جاتی ہے، لیکن یاد رکھیے یہ تقریر صحیح نہیں۔ توہمِ «أَمَّا» کا معنیٰ یہ ہے کہ ایک چیز عام کلام میں لوگوں کی عادت ہو وہ اس کو اس طرح استعمال کرتے ہیں، تو «أَمَّا بَعْدُ»، یہ «بَعْدُ» کو اکثر اس کے ساتھ کیا ذکر کرتے ہیں؟ «أَمَّا» کو ساتھ ذکر کرتے ہیں «أَمَّا بَعْدُ»، خطبوں میں عام استعمال ہوتا ہے، تمام کتابوں کے اندر بھئی۔ تو جب لوگوں کی عادت ہے کہ یہاں پر «أَمَّا بَعْدُ» میں «بَعْدُ» کے ساتھ کیا ذکر کرتے ہیں؟ «أَمَّا» بھی ذکر کرتے ہیں، تو مصنف نے اس کو حذف کر لیا، البتہ اس کے معنیٰ کا لحاظ رکھا، کس کا رکھا؟ اس کے معنیٰ یہاں ملحوظ رکھا، اس کے معنیٰ کا یہاں اعتبار کیا، کیوں اعتبار کیا؟ کیونکہ عادت ہے یہاں معمول خطبوں میں یہ استعمال ہوتا ہے اسی طرح «أَمَّا» کے ساتھ۔ تو لفظوں سے تو حذف کر دیا لیکن معنیٰ کا لحاظ رکھا، معنیٰ کو ملحوظ رکھا، اور اس بناء پر پھر آگے فاء لے کر آئے، کیونکہ جب معنیٰ شرط موجود ہے تو آگے جزا پر فاء آنی چاہیے۔ تو اس صورت میں دیکھو خود «أَمَّا» یہاں نہیں موجود، لفظِ «أَمَّا» خود موجود نہیں، ہاں اس کا معنیٰ ملحوظ ہے، اس کے معنیٰ کا اعتبار کیا۔ جبکہ دوسرا جواب یہ کہ یہاں خود لفظِ «أَمَّا» مقدر ہے، اور المقدر كالملفوظ، یا یوں کہو المقدر كالمذكور، مقدر اسی طرح ہے جیسے اس کو باقاعدہ ذکر کیا گیا ہو، اور جب باقاعدہ یوں سمجھو ذکر کیا گیا ہے، تو فاء کو لانا چاہیے یا نہیں لانا چاہیے؟ پھر تو فاء کو لانا چاہیے۔ تو گویا ایک جواب میں صرف «أَمَّا» کے معنیٰ ملحوظ ہے، دوسری میں خود «أَمَّا» یہاں پر باقاعدہ مذکور ہی سمجھو، کیونکہ وہ مقدر ہے۔ تو لہٰذا فاء کا لانا صحیح ہوا- آگے دیکھیے بھئی، سب سے پہلے متن دیکھ لیں۔ متن ہے: «وَبَعْدُ فَهٰذَا غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ فِي تَحْرِيرِ الْمَنْطِقِ وَالْكَلَامِ»، اور حمد و صلوٰۃ کے بعد «فَهٰذَا»، «هٰذَا» کے ذریعے اشارہ ہے اس کتاب کی طرف، پس یہ کتاب جو ہے «فَهٰذَا الْكِتَابُ كَلَامٌ مُهَذَّبٌ غَايَةَ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ»، یہ انتہا درجے کا مہذب کلام ہے «فِي تَحْرِيرِ الْمَنْطِقِ وَالْكَلَامِ»، علمِ منطق اور علمِ کلام کے بیان میں۔ یہ کتاب کیا ہے؟ انتہا درجے کا مہذب کلام ہے علمِ منطق اور علمِ کلام کے بیان میں۔ تو «هٰذَا» کے ذریعے اشارہ ہے اس کتاب کی طرف، کس کی طرف؟ اس کتاب کی طرف اشارہ ہے۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے، اشکال یہ ہوتا ہے کہ «هٰذَا» کے ذریعے اشارہ ہوتا ہے کسی محسوس اور مشاہد چیز کی طرف، جو چیز جو حاضر ہو، موجود ہو، اس کی طرف کیا کیا جاتا ہے «هٰذَا» کے ذریعے؟ اشارہ کیا جاتا ہے، اشارہ کیا جاتا ہے۔ جیسے مثلاً دیکھو میرے سامنے یہ کتاب موجود ہے، میں نے اس کتاب کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا اور کہا «هٰذَا»، آپ سمجھ گئے کہ «هٰذَا» سے کیا مراد ہے؟ یہ کتاب مراد ہے جس کی طرف اشارہ ہو رہا ہے۔ یا میرے سامنے یہ قلم پڑا ہوا ہے، میں نے قلم کا لفظ نہیں بولا، صرف میں نے یہ کہا «هٰذَا»، اس قلم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے «هٰذَا» کہا تو آپ سمجھ گئے کہ اس سے کیا مراد ہے «هٰذَا» سے؟ «هٰذَا» سے قلم مراد ہے۔ یا ایک انسان میرے پاس کھڑا ہوا ہے، میں نے ہاتھ سے اس کی طرف اشارہ کر کے آپ کو بتلایا «هٰذَا»، دیکھو «الْإِنْسَانُ» میں نے نہیں کہا، صرف کیا کہا؟ «هٰذَا»، آپ سمجھ گئے یا نہیں سمجھ گئے «هٰذَا» سے کیا مراد ہے؟ یہ انسان مراد ہے۔ تو «هٰذَا» جو ہے اس کو وضع کیا گیا ہے، وضع جانتے ہیں یا نہیں؟ ہر لفظ کو کسی معنیٰ کے لیے وضع کیا جاتا ہے، جیسے جس برتن میں ہم پانی پیتے ہیں اس کے لیے کیا لفظ وضع ہے؟ گلاس۔ جس چیز میں ہم سبق لکھتے ہیں اس کے لیے کیا لفظ وضع ہے؟ مثلاً کاپی ہے یا رجسٹر ہے۔ اور جس چیز سے ہم پڑھتے ہیں اس کا کیا نام مقرر ہے؟ کتاب مقرر ہے۔ جس چیز سے ہم لکھتے ہیں اس کا کیا نام مقرر ہے؟ قلم۔ تو اسی طرح «هٰذَا» جو ہے قریب کی چیز کے لیے، قریب کی مذکر چیز کے لیے وضع ہے جو محسوس اور مشاہد ہو، نظر آئے، سامنے ہو، اور حاضر ہو۔ جو سامنے کیا ہو؟ حاضر ہو۔ تو «هٰذَا» قریب والی چیز، محسوس اور مشاہد چیز کے لیے وضع ہے اس کی طرف اشارہ کرنے کے لیے، توجہ ہے سبق کی طرف؟ تو «هٰذَا» اس کے لیے وضع ہے، تو یہاں پر «هٰذَا» کے ذریعے کس چیز کی طرف اشارہ ہے؟ تو کہتے ہیں بھئی ابھی تو ہم نے ذکر کیا، «هٰذَا» کے ذریعے اشارہ ہے اس کتاب کی طرف بھئی، کس کی طرف؟ اس کتاب کی طرف اشارہ ہے، تو اشکال ہوتا ہے بھئی یہی تو ہم سوال کر رہے ہیں، کتاب تو ابھی موجود ہی نہیں ہے، ابھی تو کتاب کا خطبہ مصنف لکھ رہا ہے، ابھی تو ایک صفحہ بھی اس نے نہیں لکھا، چند سطریں ہی لکھی ہیں، کتاب تو ابھی آگے آئے گی، وہ لکھے گا اس کو تب پوری ہوگی، تو کتاب ابھی لکھی ہی نہیں ہے، کتاب کا وجود ہی نہیں ہے، تو «هٰذَا» کے ذریعے کس چیز کی طرف اشارہ ہے؟ «هٰذَا» کے ذریعے تو اشارہ ہوتا ہے ایک ایسی چیز کی طرف جو موجود ہو، حاضر ہو، سامنے ہو، اس کی طرف کیا کیا جاتا ہے؟ اشارہ، اور کتاب تو ابھی موجود ہی نہیں، کیوں نہیں موجود؟ کیونکہ ابھی کتاب کا خطبہ چل رہا ہے، آگے ابھی مصنف نے لکھا ہی نہیں، ابھی لکھتے ہوئے یہاں پہنچا ہے اور یہاں اس نے لکھا «فَهٰذَا»، تو کس کی طرف اشارہ ہے؟ اشکال سمجھ میں آیا؟ تو بعض علماء نے پھر جواب دیا کہ «هٰذَا» کے ذریعے اشارہ ہے ان معانی کی طرف جو مصنف کے ذہن میں موجود تھے۔ کس میں موجود تھے؟ مصنف کے ذہن میں جو معانی موجود تھے ان معانی کی طرف اشارہ کیا۔ بھئی دیکھیے آپ جو بھی بات کرنا چاہتے ہیں، پہلے ذہن میں سوچتے ہیں یا نہیں؟ آپ مثلاً آپ دوسرے کو بتانا چاہتے ہیں زيد کھڑا ہے، تو پہلے یہی چیز ذہن میں سوچیں گے اور پھر اسی کو لفظ زبان سے ادا کر دیں گے کہ زيد کھڑا ہے۔ تو جو بھی بات انسان کرتا ہے پہلے ذہن میں سوچتا ہے اور پھر زبان سے اس پر بولتا ہے، اس پر تلفظ کرتا ہے۔ تو ذہن کے اندر، اور ذہن میں کیا ہوتے ہیں؟ ذہن میں تو معنیٰ ہوتا ہے، الفاظ تو وہ ہیں جو انسان کس سے ادا کرتا ہے؟ زبان سے۔ تو ابھی تو یہ کتاب کے الفاظ موجود ہی نہیں تھے، ذہن میں معنیٰ تھا، اور معنیٰ، معنیٰ بھی پورے طور پر نہیں موجود، پوری کتاب تو ذہن میں نہیں موجود، کیونکہ جوں جوں وہ لکھتا جائے گا، سوچ سوچ کر جملے بنائے گا یا نہیں بنائے گا؟ سوچتا جائے گا، جملے بناتا جائے گا، لکھتا جائے گا، تو پوری کتاب تو حافظے میں بھی نہیں موجود اس کے، ہاں اجمالی، اجمالاً ذہن میں یعنی تفصیل کے ساتھ، ایک ایک بات ذہن میں موجود ہو تو اس کو کہتے ہیں تفصیل، کیا کہتے ہیں؟ اور ایک ہے اجمالی خاکہ، دیکھو جو بھی مصنف کوئی کتاب لکھنا چاہتا ہے یا کچھ تحریر کرنا چاہتا ہے، تو ذہن میں پہلے ایک اجمالی خاکہ ہوتا ہے، مختصر یعنی، اس کا خاکہ ہوتا ہے کہ میں اس میں اس اس طرح کی باتیں کروں گا، یہ یہ چیزیں میں اس میں بیان کروں گا، کچھ خاص خاص نقطے، کچھ خاص خاص باتیں اس کے ذہن میں ہوتی ہیں یا نہیں ہوتیں؟ وہ ہے اجمالی خاکہ، مختصر اجمال جس میں اختصار ہو، پوری تفصیل نہ ہو۔ تو وہ اجمالی خاکہ اس کے ذہن میں ہوتا ہے، تو مصنف کے ذہن میں جو اجمالی خاکہ تھا کتاب کا، جو اجمالی معانی تھے کہ میں اس کتاب میں یہ یہ باتیں بیان کروں گا، ان کی طرف «هٰذَا» کے ذریعے اشارہ ہے، پورے معانی تو موجود نہیں، کیونکہ وہ تو جیسے جیسے لکھتا جائے گا، سوچتا جائے گا، لکھتا چلا جائے گا، لیکن اجمالی خاکہ کیا ہے ذہن میں؟ موجود، تو «هٰذَا» کے ذریعے کس کی طرف اشارہ؟ وہ جو اجمالی معانی حاضر ہیں اس مصنف کے ذہن میں، ان کی طرف اشارہ ہے کہ «هٰذَا» یہ جو کتاب ہے جو کہاں ہے اس وقت میرے ذہن میں، یہ انتہا درجے کا مہذب کلام ہے۔ تو معلوم ہوا کہ یہاں «هٰذَا» حقیقی معنیٰ میں استعمال نہیں بلکہ مجازی معنیٰ میں استعمال ہے۔ بھئی ایک ہوتی ہے حقیقت، ایک ہے مجاز۔ حقیقت وہ لفظ جس معنیٰ کے لیے وضع ہو، اسی معنیٰ میں استعمال کیا جائے تو اسے کیا کہتے ہیں؟ حقیقت، اور اگر کسی دوسرے معنیٰ میں استعمال ہو تو اسے کہتے ہیں مجاز۔ جیسے مثلاً شیر کا لفظ اردو میں ایک جنگلی درندے کے لیے وضع ہے۔ تو اسے شیر کہتے ہیں، جنگل کا بادشاہ شیر کہتے ہیں۔ لیکن یہی شیر کا لفظ کبھی بہادر آدمی کے لیے بھی بول دیا جاتا ہے، اب بہادر آدمی کے لیے تو شیر کا لفظ وضع نہیں، تو لیکن اس کے لیے استعمال کر لیا جاتا ہے۔ تو شیر کا لفظ اگر اپنے حقیقی معنیٰ میں استعمال ہو اور اس سے جنگلی درندہ ہی مراد لیا جائے تو یہ ہے حقیقت، اور اگر شیر کا لفظ اس کو دوسرے معنیٰ میں استعمال کیا جائے یعنی بہادر آدمی کے لیے، تو پھر اسے کیا کہتے ہیں؟ مجاز۔ تو اسی طرح یہاں «هٰذَا» جو ہے اس کا حقیقی معنیٰ تو کیا تھا کہ اس کے ذریعے اشارہ کیا جائے کس کی طرف؟ ایک ایسی چیز کی طرف جو محسوس ہو، مشاہد ہو اور خارج میں موجود ہو، خارج میں کیا ہو؟ اور معنیٰ تو خارج میں موجود نہیں ہوتا، معنیٰ تو کہاں پر ہوتا ہے؟ ذہن کے اندر ہوتا ہے۔ تو جب «هٰذَا» کے ذریعے اشارہ ہوا ذہن میں چیز کی طرف، تو چیز کا خارج میں وجود ہی نہیں، ہونا کہاں چاہیے تھا؟ «هٰذَا» کے ذریعے تو اشارہ کس کی طرف ہوتا ہے جو حاضر ہو چیز خارج میں موجود ہو، اس کی طرف اشارہ ہوتا ہے وہ ہے اس کا حقیقی معنیٰ، اور اس وقت وہ چیز معنیٰ خارج میں حاضر ہے؟ نہیں، معنیٰ تو کہاں ہوتا ہے؟ ذہن میں ہوتا ہے، تو لہٰذا «هٰذَا» اپنے حقیقی معنیٰ میں استعمال نہیں بلکہ کون سے معنیٰ میں استعمال ہو رہا ہے؟ مجازی معنیٰ میں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس کی طرف اشارہ ہے۔ بعض علماء نے پھر دوسرا جواب دیا، وہ کہتے ہیں نہیں، «هٰذَا» یہاں حقیقی معنیٰ میں ہی استعمال ہے، مجازی معنیٰ میں استعمال نہیں ہے۔ بھئی وہ کیسے؟ وہ کہتے ہیں کہ بھئی دیکھیے یہ جو کتاب کا خطبہ چل رہا ہے، یہ خطبہ ہے اور اسی کو فارسی میں کہتے ہیں دیباچہ، کیا کہتے ہیں؟ ہاں، عربی میں تو خطبہ ہو گیا اور فارسی میں اس کو، فارسی میں، فارسی میں اس کو کیا کہتے ہیں؟ دیباچہ کہتے ہیں۔ اور یہ جو خطبہ ہے یا یہ جو دیباچہ ہے، یہ دو قسم کا ہوتا ہے: ایک خطبہ یہ کہ آپ کتاب لکھنے سے پہلے، آغاز ہی خطبے سے کرتے ہیں اور خطبہ لکھتے ہیں اور پھر آگے کتاب لکھ لیتے ہیں، جیسے یہاں مصنف اگر یہ خطبہ ہو تو ابتدا سے کتاب لکھنا شروع کی، «وَبَعْدُ فَهٰذَا» تک پہنچے اور ابھی کتاب نہیں لکھی، آگے لکھتے چلے جا رہے ہیں، تو یہ دیکھو خطبہ اور دیباچہ پہلے لکھا اور کتاب بعد میں لکھی۔ دوسری صورت یہ ہے کہ بعض اوقات کتاب پوری لکھ لی جاتی ہے اور خطبہ نہیں لکھا جاتا، پوری کتاب لکھ لی اور پھر جب کتاب مکمل ہو گئی، تو اب آخر میں، شروع میں کیا ملا دیا جاتا ہے؟ خطبہ لکھ کر ملا دیا جاتا ہے۔ تو یہ دو قسمیں ہو گئیں خطبے کی یا یوں کہیں دیباچے کی۔ تو یہ دیباچہ اگر کتاب سے پہلے لکھا ہو تو اس کو کہتے ہیں دیباچہ ابتدائیہ، کیا کہتے ہیں؟ یا خطبہ ابتدائیہ کہہ لیں کہ ابتدا ہی میں لکھا، اور اگر یہ خطبہ یا دیباچہ کتاب کے پورا ہونے کے بعد ساتھ جوڑا ہے، تو اس کو کہتے ہیں دیباچہ الحاقیہ یا خطبہ الحاقیہ، الحاق کا معنیٰ ہے نا ملانا، جوڑ دینا، یعنی اس کو بعد میں جوڑا گیا ہے۔ تو خطبہ یا دیباچہ کتنی قسم کا ہو گیا؟ دو: ایک ابتدائیہ اور ایک الحاقیہ۔ تو بعض علماء فرماتے ہیں کہ «هٰذَا» کے ذریعے معانی کی طرف نہیں اشارہ کہ آپ اس کو کس پر محمول کریں؟ مجازی معنیٰ پر، بلکہ «هٰذَا» کے ذریعے الفاظ کی طرف اشارہ ہے، اور الفاظ، الفاظ ہم اس پر تلفظ کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟ تو «هٰذَا» کے ذریعے الفاظ کی طرف اشارہ ہے، یہ کتاب کے جو الفاظ ہیں، اور یہ خطبہ الحاقیہ ہے، یہ خطبہ کون سا ہے؟ الحاقیہ ہے، اس کا مطلب ہے پہلے پوری کتاب لکھی گئی، پھر اس کے بعد یہ خطبے کو ملایا گیا، اب «فَهٰذَا» کہنا صحیح ہے یا نہیں؟ کیونکہ اب تو کتاب کیا ہے؟ خارج میں موجود ہے، حاضر ہے۔ تو جب اس کی طرف اشارہ کیا، تو «هٰذَا» وضع بھی ہے، حاضر اور خارج میں موجود چیز کے لیے، اور اس وقت اشارہ بھی کس کی طرف ہو رہا ہے؟ وہ کتاب جو خارج میں موجود ہے اور حاضر ہے بھئی۔ تو لہٰذا یہ «هٰذَا» معنیٰ مجازی میں نہیں استعمال ہو رہا بلکہ اپنے معنیٰ حقیقی میں استعمال ہو رہا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ شارح آپ کو بتلائیں گے کہ چاہے آپ اس کو خطبہ ابتدائیہ بنائیں، چاہے خطبہ الحاقیہ بنائیں، یا یوں کہو، چاہے آپ اس دیباچے کو دیباچہ ابتدائیہ مان لیں، چاہے دیباچہ الحاقیہ مان لیں، چاہے اس «هٰذَا» کے ذریعے آپ اشارہ مان لیں کس کی طرف؟ چاہے اس کے ذریعے آپ اشارہ مان لیں معانی کی طرف، چاہے اس کے ذریعے اشارہ آپ مان لیں الفاظ کی طرف، دونوں صورتوں میں «هٰذَا» مجازی معنیٰ میں استعمال ہو رہا ہے۔ شارح کی بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ بعض علماء نے تو کیا کہا تھا؟ معانی کی طرف اشارہ، لہٰذا «هٰذَا» کس معنیٰ میں ہے؟ مجازی معنیٰ میں، اور بعضوں نے کہا نہیں، بلکہ خطبہ الحاقیہ ہے، کتاب پہلے لکھی جا چکی تھی، تو «هٰذَا» کے ذریعے ایسی چیز کی طرف اشارہ ہے جو موجود ہے، حاضر ہے، تو یہ «هٰذَا» کس معنیٰ میں ہوا؟ حقیقی معنیٰ میں۔ شارح بتلاتے ہیں نہیں، چاہے آپ الفاظ کی طرف اشارہ کہیں، چاہے آپ معانی کی طرف اشارہ کہیں، دونوں صورتوں میں «هٰذَا» کس معنیٰ میں استعمال ہو رہا ہے؟ مجازی معنیٰ میں استعمال ہو رہا ہے، حقیقی معنیٰ میں استعمال نہیں ہو رہا۔ بئی کیا وجہ ہے مجازی معنیٰ میں کیوں استعمال ہو رہا ہے؟ الفاظ تو موجود ہیں جب کتاب پہلے لکھ لی، خطبہ کون سا ہے؟ الحاقیہ، کتاب پہلے موجود ہے یا نہیں؟ کتاب تو لکھی جا چکی، تو «هٰذَا» کے ذریعے ایک موجود اور حاضر چیز کی طرف اشارہ ہے؟ تو آپ کو شارح بتلائیں گے کہ بھئی «هٰذَا» کے ذریعے پہلی صورت کیا تھی؟ اشارہ کس کی طرف تھا؟ معانی کی طرف، اس وقت تو آپ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ کون سا «هٰذَا» کس معنیٰ میں استعمال ہو رہا ہے؟ مجازی معنیٰ میں، اور دوسری صورت میں آپ کیا کہتے ہیں؟ «هٰذَا» کے ذریعے اشارہ ہے کس کی طرف؟ الفاظ کی طرف، الفاظ کی طرف، تو بھی «هٰذَا» اپنے مجازی معنیٰ میں استعمال ہے۔ وہ اس طرح کہ یہ جو کتاب ہے، کتاب، یہ جو آپ کے سامنے لکھے ہوئے ہیں یہ ہیں نقوش، یہ کیا ہیں؟ نقوش ہیں، یاد رکھیے یہ جو آپ کے سامنے کتاب میں تحریر ہیں، ان کو کہتے ہیں نقوش، کیا کہتے ہیں؟ نقوش ہیں، یعنی کچھ خط ہیں، کچھ ٹیڑھی میڑھی لکیریں ہیں جو قلم کے ذریعے لکھی جاتی ہیں۔ اسی کی پھر ہم نے، اسی کے مختلف آوازوں کے لیے مختلف حروف مقرر کر لیے، مثلاً ایک الف ہے، قاعدے میں پڑھتے ہیں یا نہیں الف ب ت ث؟ ب، دیکھو ب کی ایک خاص آواز ہے، ت، ت کی ایک خاص آواز ہے، ث، ث کی ایک خاص آواز ہے، ج ہے، ح ہے، تو یہ مختلف آوازوں کے لیے ہم نے حروف وضع کیے ہیں، مقرر کیے ہیں۔ اب جس طرح کی آوازوں سے حرف بنتا، کوئی لفظ بنتا ہے، تو وہی حروف استعمال کر لیے جاتے ہیں، مثلاً آپ نے لکھنا ہے زید، تو پھر زید دیکھو شروع میں کس کی آواز ہے؟ ز کی، تو آپ نے ز لکھی، پھر زے آگے کیا آنی چاہیے؟ یا، تو آپ پھر یا لکھتے ہیں، اور آگے پھر دال لکھتے ہیں آپ، جیسے لفظ کی آواز ہوگی اسی طرح آپ حروف لے آتے ہیں اور اس لفظ کو لکھ لیتے ہیں۔ حتیٰ کہ کوئی نیا لفظ میں بولوں جو آپ نے آج تک کبھی سنا ہی نہیں، وہ لفظ نیا کسی کا نیا نام لے لیتا ہوں جو آپ نے نہیں سنا، تو بھی آپ اس کو لکھ لیتے ہیں، کیونکہ وہی حروف آپ لے آتے ہیں جو میں اپنی زبان سے ادا کر رہا ہوں، وہی اس جیسے حروف جوڑ کر آپ وہ لفظ لکھ لیا کرتے ہیں، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ان کو کہتے ہیں نقوش، یہ جو لکیریں ہیں ان کو کیا کہتے ہیں؟ نقوش کہتے ہیں۔ تو یہ جو کتاب میں لکھے ہوئے ہیں، یہ الفاظ نہیں ہیں، ان کو ویسے ہم الفاظ کہہ دیتے ہیں، یہ حقیقت میں الفاظ نہیں، الفاظ وہ ہیں جس پہ میں یہ تلفظ کر رہا ہوں، زبان سے بول رہا ہوں۔ لفظ کو لفظ کہتے ہی اس لیے ہیں کہ اس پر انسان کیا کرتا ہے؟ تلفظ کرتا ہے، تو یہ جو میں بول رہا ہوں، یہ جو آپ سن رہے ہیں، یہ ہیں الفاظ، لیکن یہ جو کتاب میں لکھے ہوئے ہیں، یہ الفاظ نہیں ہیں، یہ کیا ہیں؟ نقوش ہیں۔ ہاں، یہ نقوش الفاظ پر دلالت کرتے ہیں، ان نقوش سے الفاظ کا پتہ چلتا ہے، جیسے میں نے آپ کے سامنے لکھا ز، یا، دال، اور میں نے آپ سے کہا پڑھو اس کو، آپ کیا پڑھیں گے؟ زید، دیکھا اس ز، یا، دال نے دلالت کی کس پر؟ لفظِ زید پر، تو یہ ہیں نقوش، لیکن انہوں نے دلالت کس پر کی؟ لفظِ زید پر، اور پھر لفظِ زید نے دلالت کی ذاتِ زید پر، جیسے ہی زید کہا، آپ کے ذہن میں آپ کا ایک ساتھی ہے اس کا نام زید ہے، وہ فوراً آپ کے ذہن میں آ گیا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یا مثلاً میں آپ کے سامنے ایک لفظ لکھتا ہوں گلاس مثلاً، اور آپ سے کہتا ہوں پڑھو، تو وہ آپ نے حروف دیکھے اور فوراً زبان سے کہا گلاس، اور جیسے ہی گلاس کہا، ساتھ ہی وہ برتن بھی آپ کے ذہن میں آ گیا یا نہیں جس میں پانی پیتے ہیں؟ تو دیکھا، نقوش نے دلالت کی کس پر؟ الفاظ پر، اور الفاظ دلالت پھر کرتے ہیں کس پر؟ معانی پر دلالت کرتے ہیں۔ تو بات یہ چل رہی تھی کہ شارح فرماتے ہیں کہ «هٰذَا» کے ذریعے اگر آپ الفاظ کی طرف بھی اشارہ مان لیں، پھر بھی یہ «هٰذَا» اپنے مجازی معنیٰ میں استعمال ہو رہا ہے، حقیقی معنیٰ میں استعمال نہیں ہو رہا، وجہ اس کی میں ذکر کرنے لگا ہوں، وجہ یہ کہ «هٰذَا» کے ذریعے آپ کہہ رہے ہیں اشارہ ہے کس کی طرف، یہ کتاب پہلے لکھ لی گئی تھی، اس کی طرف اشارہ ہے؟ بھئی یہ تو نقوش ہیں، یہ کیا ہیں؟ یہ تو نقوش ہیں، الفاظ تو ہیں ہی نہیں، یہ الفاظ پہ دلالت ضرور کرتے ہیں، لیکن یہ الفاظ نہیں، یہ نقوش ہیں، اور تو نقوش موجود ہیں، الفاظ تو موجود ہی نہیں ہیں، اور الفاظ موجود ہو بھی نہیں سکتے، کیوں نہیں ہو سکتے؟ کیونکہ الفاظ جو ہیں نا الفاظ، وہ غیر قار الذات ہیں۔ الفاظ کیا ہیں؟ یہ لکھ لو، یہ لفظ لکھو، سمجھ لو اس کو اچھی طرح: قار الذات، ق دو نقطوں والا، الف، ر مشدد، قار، اور الذات ذال کے ساتھ، الذات، الف، لام، ذال، الف اور لمبی ت، لکھ لیا؟ قار الذات لکھ لیا؟ ق، الف، ر مشدد، الف، لام، ذال، الف اور لمبی ت، قار الذات۔ قار الذات، قار جو ہے نا قار قرار سے ہے، قرار سے ہے، معنیٰ بس سمجھ لو اس کا، قار الذات کہتے ہیں اس چیز کو جس کے سارے اجزاء اکٹھے موجود ہوں۔ قار الذات کسے کہتے ہیں؟ جس کے سارے اجزاء اکٹھے موجود ہوں، مثلاً سائیکل ہے، سائیکل کو آپ خارج میں دیکھتے ہیں یا نہیں؟ اور اس کے سارے اجزاء بیک وقت موجود ہیں یا موجود نہیں ہیں؟ سارے اجزاء موجود ہیں، تو یہ سائیکل کیا ہے؟ قار الذات ہے، آپ کی اپنی ذات ہے، دیکھو آپ کے سارے اجزاء ہاتھ پاؤں وغیرہ موجود ہیں یا نہیں ہیں؟ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قار الذات، یہ قلم ہے میرے سامنے، یہ قلم کے سارے اجزاء موجود ہیں کہ نہیں موجود؟ اس کو کہتے ہیں قار الذات، تو جو بھی چیز اکٹھی ساری موجود ہے ایک وقت کے اندر اس کو کہتے ہیں قار الذات، یہ کتاب ہے، یہ مکان ہے، یہ درخت ہے، یہ سڑک ہے، یہ جو چیزیں آپ کو نظر آ رہی ہیں، جتنی چیزیں نظر آ رہی ہیں یہ ساری کیا ہیں؟ قار الذات، ان کے اجزاء بیک وقت اکٹھے موجود ہیں۔ سائیکل کے سارے پرزے اس وقت موجود ہیں اکٹھے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ سائیکل، اور سائیکل کیا ہے؟ قار الذات۔ میں نے بتلا دیا، جتنی چیزیں آپ کو نظر آ رہی ہیں ساری کیا ہیں؟ قار الذات، سارے اجزاء ہیں تو وہ چیز آپ کو نظر آ رہی ہے اسی پوری طرح۔ جبکہ الفاظ غیر قار الذات ہیں، وہ سارے اکٹھے ہوتے ہی نہیں، توجہ ہے؟ الفاظ کیا ہیں؟ غیر قار الذات ہیں، یعنی سارے اکٹھے ہوتے ہی نہیں، مثلاً دیکھو میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں زید، جب میں ز پر پہنچا، تو ابھی یا آئی نہیں اور دال آیا ہی نہیں، ان دونوں کا وجود ہی نہیں ہے، اور جب میں یا پر پہنچا، تو ز پیچھے گزر چکی، اس کا وجود ختم ہو گیا، فنا ہو گئی یا نہیں؟ زبان سے میں نے بول دیا، گزر گئی، اور آگے دال پر جب میں پہنچا، تو یا بھی کیا ہوئی؟ ختم ہوئی، تو جب میں دال پر پہنچا تو ز اور یا دونوں ختم ہو چکے، اب مجھے بتاؤ، زید پورا ایک لفظ ایک وقت میں موجود ہے؟ موجود ہی نہیں ہے، جب ز پر تھا تو یا اور دال نہیں تھے، جب یا پر تھا تو ز بھی نہیں اور دال بھی نہیں، دال ابھی آیا نہیں اور ز گزر چکی ہے، اور جب دال پر پہنچا تو ز بھی گزر گئی، یا بھی گزر گئی، تو دیکھو لفظ کیا ہوتا ہے؟ غیر قار الذات، اسی طرح جملہ دیکھ لو، میں اصلاً آپ سے کہتا ہوں: زید بڑا منطقی آدمی ہے۔ زید بڑا منطقی آدمی ہے، پانچ لفظ ہیں۔ پھر سنو، زید، یہ پورا جملہ سنو: زید بڑا منطقی آدمی ہے، پانچ لفظ ہیں، اور یہ پانچ لفظ جب میں نے کہا زید، ابھی اگلے لفظ آئے ہی نہیں۔ اور جب میں نے کہا بڑا، تو زید کا لفظ گزر چکا، فنا ہو گیا، ختم ہو گیا۔ اور اگلے لفظ ابھی آئے ہی نہیں، ان کا وجود ہی نہیں، اگلا لفظ میں نے کہا منطقی، جب منطقی پر پہنچا، تو لفظِ زید بھی گزر چکا، بڑا کا لفظ بھی گزر چکا، فنا ہو چکا، ختم ہو گیا، اور اگلے دو لفظ ابھی آئے ہی نہیں۔ اور جب میں نے کہا آدمی، تو پچھلے تین لفظ زید بڑا منطقی، یہ تینوں گزر چکے، ختم ہو چکے، فنا ہو چکے، اور آخری لفظ ابھی آیا ہی نہیں، اور جب میں ہے پر پہنچا، تو پہلے چار لفظ کیا ہو چکے؟ ختم ہو چکے، تو یہ بتائیے، یہ الفاظ قار الذات ہیں؟ کیا یہ ایک وقت میں اکٹھے موجود ہوتے ہیں؟ نہیں، یہ کیا ہیں؟ غیر قار الذات ہیں۔ اب بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو جواب دے رہے تھے شارح کہ آپ اگر ان کے ذریعے الفاظ کی طرف بھی اشارہ مان لیں، تو بھی یہ «هٰذَا» اپنے مجازی معنیٰ میں استعمال ہے، اس لیے کیونکہ «هٰذَا» کے ذریعے آپ کہتے ہیں اشارہ ہے یہ جو سامنے الفاظ ہیں، تو جواب یہ کہ یہ الفاظ نہیں ہیں، یہ کیا ہیں؟ نقوش ہیں، تو «هٰذَا» کے ذریعے اشارہ ہوگا الفاظ کی طرف، اور الفاظ تو کیا ہیں؟ غیر قار الذات، ایک وقت میں سارے اکٹھے ہو ہی نہیں سکتے، جب اکٹھے ہو ہی نہیں سکتے تو کن الفاظ کی طرف اشارہ کیا «هٰذَا» کے ذریعے؟ یا تو سارے اکٹھے ہوں، سائیکل ساری اکٹھی ہے نا، تو میں کہہ دیتا ہوں «هٰذَا» یا «هٰذِهِ»، پوری سائیکل کی طرف کیا ہو گیا؟ اشارہ، لیکن یہاں تو سارے کتاب کے الفاظ اکٹھے ہو ہی نہیں سکتے، ایک لفظ ہے تو باقی ابھی آئے نہیں، اور اگلے لفظ پر پہنچے تو پچھلا ختم ہو گیا، اس سے اگلے لفظ پر پہنچے تو اس سے بھی پچھلا ختم ہو گیا اور باقی ابھی آئے ہی نہیں، تو الفاظ غیر قار الذات ہیں، وہ خارج میں اکٹھے پائے ہی نہیں جاتے، جب خارج میں اکٹھے ہوتے ہی نہیں، تو «هٰذَا» کے ذریعے ان ساروں کے مجموعے کی طرف اشارہ ہو بھی نہیں، یہ کتاب انہی الفاظ کا مجموعہ ہے نا؟ ترتیب کے ساتھ، تو انہی تو خارج میں یہ سارے الفاظ اکٹھے ہو ہی نہیں سکتے، سارے اکٹھے ہوتے تو مصنف بھی کہہ دیتے «هٰذَا كَلَامٌ مُهَذَّبٌ»، لیکن یہ تو سارے اکٹھے ہو ہی نہیں سکتے۔ تو اس صورت میں بھی جب اکٹھے خارج میں موجود نہیں، حاضر نہیں، خارج میں موجود نہیں، اور اشارہ انہی کی طرف ہے، تو یہ «هٰذَا» حقیقی معنیٰ میں استعمال ہوا یا مجازی معنیٰ میں؟ مجازی معنیٰ میں، یا تو ساری چیز حاضر اور موجود ہوتی خارج میں، پھر تو کیا ہوتا؟ حقیقت، لیکن سارے تو الفاظ خارج میں موجود ہی نہیں، تو لہٰذا یہ مجازی معنیٰ ہی میں ہی ہے، تو «هٰذَا» کے ذریعے آپ چاہے اشارہ مانیں معانی کی طرف، چاہے اشارہ مانیں کس کی طرف؟ الفاظ کی طرف، دونوں صورتوں میں یہ مجازی معنیٰ میں استعمال ہو رہا ہے، کیونکہ الفاظ غیر قار الذات ہیں، یعنی اکٹھے بیک وقت خارج میں پائے ہی نہیں جاتے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے کتاب پر بھئی، کہتے ہیں: «وَهٰذَا إِشَارَةٌ إِلَى الْمُرَتَّبِ الْحَاضِرِ فِي الذِّهْنِ»، اور یہ جو «هٰذَا» ہے یہ اشارہ ہے «إِلَى الْمُرَتَّبِ»، اس چیز کی طرف جو ترتیب وار ہے، مرتب کسے کہتے ہیں؟ ترتیب وار، بھئی میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں زید بڑا منطقی آدمی ہے، تو سارے لفظ میں ترتیب سے لاؤں گا یا بے ترتیبی اٹھا کر لے آؤں گا؟ سب سے پہلے مجھے لفظِ زید لانا پڑے گا، پھر اس کے بعد مجھے بڑا لفظ، بڑا کا لفظ لانا پڑے گا، پھر منطقی کا لفظ لانا پڑے گا، پھر آدمی کا لفظ لانا پڑے گا، اور پھر اس کے بعد ہے کا لفظ لانا پڑے گا، تو کلام جو بھی ہوتا ہے اس میں الفاظ بے ترتیب نہیں ہوتے، باقاعدہ ترتیب کے ساتھ لانا پڑتا ہے، اور جب الفاظ ترتیب کے ساتھ ہیں، تو ظاہر سی بات ہے آپ ذہن میں بھی جب کوئی بات سوچتے ہیں، بے ترتیبی الفاظ آتے ہیں یا ترتیب سے ایک بات سوچتے ہیں؟ ترتیب، تو وہ معانی بھی ذہن میں ترتیب کے ساتھ ہوتے ہیں، اور جب ان پر ہم لفظ بولتے ہیں، الفاظ ادا سے ان کو ادا کرتے ہیں، تو وہ الفاظ بھی کیا ہوتے ہیں؟ ترتیب سے ہوتے ہیں، تو جو ترتیب سے ہے اس کو کہیں گے مرتب۔ ترتیب دیا گیا، اسمِ مفعول ہے نا جس کو کیا گیا ہے؟ ترتیب، تو وہ معانی بھی کیا ہوں گے؟ مرتب، اور وہ الفاظ بھی کیا ہوں گے؟ مرتب۔ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: «وَهٰذَا إِشَارَةٌ»، اور یہ جو «هٰذَا» کا لفظ ہے یہ اشارہ ہے «إِلَى الْمُرَتَّبِ»، اس چیز کی طرف جو ترتیب وار ہے «الْحَاضِرِ فِي الذِّهْنِ»، اور حاضر ہے کہاں پر؟ ذہن میں، وہ چیز یعنی وہ معانی مراد ہیں۔ تو وہ چیز جو مرتب ہے، ترتیب دی گئی ہے اور موجود ہے «فِي الذِّهْنِ»، کہاں پر؟ ذہن میں، بھئی وہ کیا چیز ہے جو ترتیب وار ہے اور ذہن میں موجود ہے؟ تو مِن کے ساتھ اسی کا بیان کر رہے ہیں، یہ مرتبِ حاضر مِن کے ساتھ بیان ہے، اور اس کا ترجمہ کس سے کرتے ہیں؟ یعنی کے ساتھ۔ بھئی وہ چیز جو مرتب اور حاضر ہے ذہن میں: «مِنَ الْمَعَانِي الْمَخْصُوصَةِ»، یعنی کہ وہ معانی «الْمَخْصُوصَةِ»، جو مخصوص ہیں «الْمُعَبَّرِ عَنْهَا»، کہ جن کو تعبیر کیا گیا ہے «بِالْأَلْفَاظِ الْمَخْصُوصَةِ»، کس کے ساتھ؟ الفاظِ مخصوصہ کے ساتھ۔ بھئی دیکھیے نا، میں نے ذہن میں سوچا کہ زید بڑا منطقی آدمی ہے، ابھی میں نے لفظ نہیں بولے، ذہن میں کیا سوچا؟ زید بڑا منطقی آدمی ہے، تو مجھے بتاؤ، یہ معانی مرتب ہیں آپس میں یا غیر مرتب میں نے سوچ لیے؟ مرتب ہیں تو جملہ بنا، مرتب نہیں تو جملہ بھی نہیں بن سکتا، تو پورا میں نے ترتیب وار زید بڑا منطقی آدمی ہے، پورے معنیٰ کا کیا کر لیا؟ تصور کر لیا، اب یہی بات میں آپ کو پہنچانا چاہتا ہوں، تو الفاظ بھی کیسے لاؤں گا؟ ترتیب ہی کے ساتھ لاؤں گا، پھر ہی آپ کو بات سمجھ میں آئے گی، اگر لفظوں کو میں آگے پیچھے کر دوں تو آپ کو بات سمجھ میں بھی نہیں آئے گی، تو الفاظ بھی جو آئیں گے وہ کیا ہوں گے؟ ترتیب وار، اور نیز بتاؤ، یہ جو معنیٰ میں نے ذہن میں سوچا، یہ کوئی ایسا ہی معنیٰ ہے یا کوئی خاص ایک جملہ، میں نے خاص بات ذہن میں سوچی؟ خاص بات ایک میں ذہن میں نے سوچی، اور جب خاص بات سوچی ہے مثلاً یہی کہ زید کیا ہے؟ بڑا منطقی آدمی ہے۔ تو یہ ایک خاص بات ہے، تو اس یہ جو معانی مخصوص ہیں، ورنہ معانی تو ہر ہزاروں لاکھوں معانی ہوں گے، ہر چیز کے الگ مفہوم جو ذہن میں آتا ہے، لیکن یہ والے خاص معانی میں نے صرف سوچے، یہ کیا ہیں؟ معانیِ مخصوصہ، یہ کیا ہیں؟ خاص معانی جو میں نے سوچے جو میں آپ کو بتانا چاہ رہا تھا، پھر ان معانی کو جب میں زبان سے ادا کروں گا، تو کوئی سے بھی لفظ بول کر ادا کر دوں گا یا انہی کے لیے جو الفاظ ہیں وہ مخصوص الفاظ استعمال کروں گا؟ وہ مخصوص الفاظ استعمال کروں گا، میں نے جس طرح کی بات کرنی ہوگی، اسی کے مطابق میں الفاظ بھی لے کر آؤں گا، تو جو بھی آپ بات کرتے ہیں، پہلے ذہن میں وہ خاص معنیٰ سوچتے ہیں، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: پانی لے آؤ، دیکھو یہ ایک خاص معنیٰ میں نے سوچا۔ اور پھر اسی پر جو الفاظ دلالت کر رہے تھے وہ میں اب لے آیا، اور وہ الفاظ بھی کیا ہیں؟ خاص ہیں جو اسی معنیٰ پر دلالت کر رہے ہیں جو میرے ذہن میں تھا۔ میں اصلاً آپ سے کہتا ہوں: آپ کے درجے میں کتنے طلباء ہیں؟ دیکھو یہ ایک خاص بات میں نے ذہن میں سوچی، آپ سے سوال کے بارے میں، اور یہ الفاظ سارے ترتیب سے بھی ہیں اور ایک خاص خاص الفاظ ہیں، کیونکہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں آپ سے؟ ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں، تو انہی کے مطابق میں کیا کروں گا؟ الفاظ ترتیب سے لاؤں گا اور خاص الفاظ وہی والے لاؤں گا یا کوئی اور لاؤں گا؟ وہی خاص الفاظ لاؤں گا جو اسی معنیٰ پر کیا کریں؟ دلالت کریں۔ تو دیکھیے پھر، کہتے ہیں: «وَهٰذَا إِشَارَةٌ إِلَى الْمُرَتَّبِ الْحَاضِرِ فِي الذِّهْنِ»، اور «هٰذَا» جو ہے یہ اشارہ ہے اس چیز کی طرف جو ترتیب کے دی گئی حاضر ہے ذہن میں «مِنَ الْمَعَانِي الْمَخْصُوصَةِ»، یعنی وہ مخصوص معانی «الْمُعَبَّرِ عَنْهَا»، کہ جن کو تعبیر کیا جاتا ہے، جس کو کیا کیا جاتا ہے؟ تعبیر یعنی ادا کیا جاتا ہے، میں نے ذہن میں سوچا زید بڑا منطقی آدمی ہے، تو اس کو میں ادا کن لفظوں سے کروں گا؟ کہ زید بڑا منطقی، دیکھا تو مخصوص معانی اور ان کو تعبیر بھی انہی مخصوص پھر مخصوص الفاظ سے ہی تعبیر کیا جاتا ہے: «فَهُوَ يَعْنِي أَنَّ الْمَعَانِيَ الْمَخْصُوصَةَ الْمُعَبَّرَ عَنْهَا»، یعنی کہ وہ مخصوص معانی «الْمُعَبَّرَ عَنْهَا»، جن کو تعبیر کیا گیا ہے «بِالْأَلْفَاظِ الْمَخْصُوصَةِ»، کس کے ساتھ؟ مخصوص الفاظ کے ساتھ۔ یہ تو ایک معنیٰ ہوا کہ «هٰذَا» اشارہ ہے کس کی طرف، پھر سنو «هٰذَا» اشارہ ہے وہ چ وہ چیز جو ترتیب وار حاضر ہے ذہن میں، یعنی کہ وہ مخصوص معانی جن کو تعبیر کیا گیا ہے کس کے ساتھ؟ خاص الفاظ کے ساتھ۔ مصنف نے جو باتیں ہمیں بیان کیں، پہلے کیا کیا؟ معنیٰ کا ذہن میں ترتیب سے تصور کیا، اور پھر انہی انہی معنیٰ کے مطابق ان کو تعبیر کیا خاص الفاظ کے ساتھ، کہ وہ بات کیا کریں جو اسی معنیٰ پر کیا کریں؟ دلالت کریں بھئی۔ تو اس کے ذریعے یا تو اشارہ ہے «هٰذَا» کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہے؟ ان مخصوص معانی کی طرف، یہ پہلا معنیٰ بیان کیا۔ «أَوْ تِلْكَ الْأَلْفَاظِ»، یا «هٰذَا» کے ذریعے اشارہ ہے «تِلْكَ الْأَلْفَاظِ الدَّالَّةِ عَلَى الْمَعَانِي»، ان الفاظ کی طرف جو دلالت کر رہے ہیں کس پر؟ «عَلَى الْمَعَانِي الْمَخْصُوصَةِ»، کس پر؟ معانیِ مخصوصہ پر۔ بھئی دیکھیے نا، آپ پہلے ایک معنیٰ کا ذہن میں تصور کرتے ہیں، اور اس معنیٰ کے اندر وہ معنیٰ بھی کیا ہوتا ہے؟ ترتیب وار ہوتا ہے، اور خاص معنیٰ ہے جو آپ نے سوچا، جس طرح کی بات کرنی ہے وہی معنیٰ آپ نے ذہن میں سوچا، آپ جو بھی بولتے ہیں پہلے کیا کرتے ہیں؟ ذہن میں سوچتے ہیں۔ تو وہ معنیٰ بھی مخصوص بھی ہوا اور ترتیب وار بھی ہوا۔ اور پھر آپ کیا کرتے ہیں؟ وہ الفاظ جو ان معانی پر کیا کریں؟ دلالت کریں، ان کو بھی تصور کرتے ہیں اور پھر زبان سے اس کو ادا کر دیتے ہیں۔ تو «هٰذَا» کے ذریعے اشارہ ہے وہ جو ترتیب وار ذہن میں حاضر ہے، چاہے وہ کیا ہو؟ وہ معانی، کیا ہوں؟ ذہن میں کیا حاضر ہیں؟ وہ مخصوص معانی، یا ان مخصوص معانی کو آپ نے جن لفظوں سے ادا کرنا ہے وہ، ان کا بھی پہلے ذہن میں آئے گا یا نہیں میں نے اب یہ لفظ بولنے ہیں؟ میں نے کیا کرنا ہے؟ یہ لفظ بولنے ہیں، تو وہ جو ترتیب وار ذہن میں حاضر ہے، چاہے وہ مخصوص معنیٰ ہے، چاہے وہ مخصوص الفاظ ہیں جو اس مخصوص معنیٰ پر کیا کر رہے ہیں؟ دلالت کر رہے ہیں، نہیں بات سمجھ میں آئی؟ دیکھو، جب بھی آپ کوئی بات کرتے ہیں، پہلے کیا کرتے ہیں؟ ذہن میں سوچتے ہیں کہ میں نے یہ بات کرنی ہے، اور پھر جب بولنے لگتے ہیں، تو اس کے الفاظ بھی سوچتے ہیں یا نہیں کہ کیا لفظ بولوں؟ اس کے الفاظ بھی سوچتے ہیں۔ تو وہ الفاظ جو جب زبان پر آئے تو الفاظ ہیں، لیکن ذہن میں تو تصور تو کر لیا یا نہیں ان کا؟ صورت سمجھ تو اولاً تصور ہوا کس کا؟ معانی کا، پھر معانی کے بعد تصور ہوا کس کا؟ الفاظ جو بولنے ہیں، اور پھر کیا ہوا؟ زبان سے ان کو کیا کر دیا؟ ادا کر دیا، اس معنیٰ پر جو دلالت کرنے والے الفاظ ہیں۔ تو «هٰذَا» کے ذریعے اشارہ ہے وہ جو ترتیب وار ذہن میں حاضر ہے، اور وہ چیزیں وہ معنیٰ بھی ہو سکتا ہے اور وہ الفاظ بھی جو اس معنیٰ پر کیا کریں گے؟ دلالت کریں گے۔ اب صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو چاہے وہ معنیٰ کو مانو «هٰذَا» کے ذریعے اشارہ ہے اس معنیٰ کی طرف، اور چاہے ان الفاظ کی طرف جو ترتیب وار ذہن میں حاضر ہیں اور کیا کر رہے ہیں؟ دلالت کر رہے ہیں اس معنیٰ پر دلالت کر رہے ہیں جس پر آپ کیا کرنے لگے ہیں؟ تلفظ کرنے لگے ہیں۔ تو چاہے آپ الفاظ مانو، چاہے معانی مانو، دونوں صورتوں میں «هٰذَا» کے ذریعے اشارہ کس کی طرف ہے؟ «هٰذَا» استعمال ہو رہا ہے حقیقی معنیٰ میں نہیں، بلکہ مجازی معنیٰ میں استعمال ہو رہا ہے، تو یہ جو کہا نا، یہ جو کہا نا: «إِلَى الْمُرَتَّبِ الْحَاضِرِ فِي الذِّهْنِ»، وہ چیز جو ذہن میں ترتیب سے حاضر ہے، وہ کیا چیز ہے؟ «مِنَ الْمَعَانِي الْمَخْصُوصَةِ»، یعنی کہ وہ مخصوص معانی، یا آگے آ رہا ہے: «أَوْ تِلْكَ الْأَلْفَاظِ»، یا وہ الفاظ «الدَّالَّةِ عَلَى الْمَعَانِي الْمَخْصُوصَةِ»، جو دلالت کر رہے ہیں کس پر؟ اس مخصوص معنیٰ پر۔ بات سمجھ میں بھی آئی کہ اوپر سے گزر گئی؟ کیا؟ کہ «هٰذَا» کے ذریعے اشارہ ہے وہ چیز جو ترتیب وار ذہن میں حاضر ہے، اور وہ کیا؟ یا تو وہ مخصوص معانی ہے، یا ان پر دلالت کرنے والے الفاظ ہیں، تو چاہے اب معنیٰ کی طرف اشارہ کرو، وہ بھی ترتیب وار ذہن میں حاضر، اور اگر الفاظ کی طرف مانو، تو وہ بھی کہاں ہے؟ جس پر آپ تلفظ کر رہے ہیں، جس کو آپ زبان سے بول دیں گے تو وہی لفظ بن جائیں گے، تو وہ ان کی طرف اشارہ ہے، تو بہرحال دونوں صورتوں میں مجازی معنیٰ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جو خارج میں الفاظ ہیں، وہ تو غیر قار الذات ہیں، تو ان کی طرف تو اشارہ ہو ہی نہیں سکتا، ہاں ذہن میں وہ معنیٰ کا تصور کیا اور ساتھ ہی کیا آ گئے؟ ان پر دلالت کرنے والے الفاظ بھی آ گئے، تو یا تو اشارہ ہے اس معنیٰ کی طرف، یا اس پر دلالت کرنے والے الفاظ کی طرف اشارہ ہے، اور دونوں کہاں موجود ہیں ابھی؟ ذہن میں ہیں، پھر آگے اس پر تلفظ کرنا ہے، لیکن تلفظ کے بعد پھر اشارہ ہو نہیں سکتا، کیونکہ الفاظ کیا ہیں؟ غیر قار الذات ہیں، وہ اکٹھے ہوں گے ہیں اکٹھے ہو ہی نہیں سکتے، جب اکٹھے ہو جمع ہو ہی نہیں سکتے، تو ان کی طرف اشارہ بھی نہیں ہو سکتا، تو «إِلَى الْمُرَتَّبِ الْحَاضِرِ فِي الذِّهْنِ»، وہ جو ترتیب وار حاضر ہے ذہن میں، وہ کیا چیز ہے؟ «مِنَ الْمَعَانِي الْمَخْصُوصَةِ»، یا تو وہ مخصوص معانی ہیں، یا آگے آ رہا ہے: «أَوْ تِلْكَ الْأَلْفَاظِ»، یا وہ الفاظ «الدَّالَّةِ عَلَى الْمَعَانِي الْمَخْصُوصَةِ»، جو دلالت کر رہے ہیں کس پر؟ اس مخصوص معنیٰ پر، بات سمجھ میں آ گئی؟ «هٰذَا» کے ذریعے اشارہ ہے کس کی طرف؟ وہ ترتیب وار چیز جو کہاں حاضر ہے؟ ذہن، اور وہ کیا ہے؟ یا وہ مخصوص معنیٰ ہے، یا وہ الفاظ ہیں جو دلالت کریں گے کس پر؟ مخصوص معانی پر۔ دیکھیے اب ترجمہ دوبارہ دیکھ لیجیے، بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی نا؟ یہ «مَعَانِيَ مَخْصُوصَةً» «أَوْ تِلْكَ الْأَلْفَاظِ»، یہ بیان ہے مرتبِ حاضر کا، معانیِ مخصوصہ یا تلک الالفاظ، یہ کیا ہے؟ یہ دونوں بیان ہیں کس کا؟ مرتبِ حاضر کا۔ تو کہتے ہیں: «وَهٰذَا إِشَارَةٌ إِلَى الْمُرَتَّبِ الْحَاضِرِ فِي الذِّهْنِ»، اور «هٰذَا» جو ہے یہ اشارہ ہے اس چیز کی طرف جو ترتیب دی گئی حاضر ہے ذہن میں «مِنَ الْمَعَانِي الْمَخْصُوصَةِ»، یعنی وہ مخصوص معانی «الْمُعَبَّرِ عَنْهَا بِالْأَلْفَاظِ الْمَخْصُوصَةِ»، جن کو تعبیر کیا گیا ہے مخصوص الفاظ کے ساتھ، «أَوْ تِلْكَ الْأَلْفَاظِ»، یا وہ مرتبِ حاضر جو ذہن میں ہے، تلک الالفاظ، وہ الفاظ «الدَّالَّةِ عَلَى الْمَعَانِي الْمَخْصُوصَةِ»، جو دلالت کر رہے ہیں ان مخصوص معانی پر۔ «سَوَاءٌ كَانَ وَضْعُ الدِّيبَاجَةِ قَبْلَ التَّصْنِيفِ أَوْ بَعْدَهُ»، برابر ہے کہ چاہے اس دیباچے کا وضع کرنا یعنی لکھنا، چاہے دیباچے کی وضع یعنی اس کا لکھنا «قَبْلَ التَّصْنِيفِ»، کتاب کی تصنیف سے پہلے ہو «أَوْ بَعْدَهُ»، یا بعد میں ہو۔ یعنی چاہے یہ دیباچہ کون سا ہو؟ چاہے الحاقیہ ہو، چاہے یہ ابتدائیہ ہو، دونوں صورتوں میں ذہن میں جو الفاظ موجود یا ذہن میں جو معانی موجود، انہی کی طرف اشارہ ماننا پڑے گا، اور دونوں صورتوں میں یہ کیا ہوگا؟ مجازی معنیٰ ہی ہوگا۔ تو یہ معنیٰ ہے، برابر ہے کہ دیباچہ تصنیف سے پہلے ہو «أَوْ بَعْدَهُ»، یا بعد میں ہو، دونوں صورتوں میں کس کی طرف اشارہ ہے؟ جو ذہن میں موجود ہے، چاہے معانی، چاہے الفاظ۔ «إِذْ لَا وَجُودَ لِلْأَلْفَاظِ الْمُرَتَّبَةِ»، اس لیے کیونکہ وجود نہیں ہے الفاظِ مرتبۃ کا «وَلَا لِلْمَعَانِي أَيْضًا فِي الْخَارِجِ»، اور نہ ہی معانی کا بھی «فِي الْخَارِجِ»، کس میں؟ خارج میں۔ خارج میں نہ تو معانی کا وجود ہے، معانی کا تو وجود ہوتا ہی ذہن میں ہے، اور خارج میں الفاظِ مرتبۃ کا وجود بھی نہیں، وہ الفاظ جو کیا ہوں؟ ترتیب وار ہوں۔ کیونکہ خارج میں وہ اکٹھے ہوتے ہی نہیں، ایک لفظ آتا ہے دوسرا فنا ہو چکا، ختم ہو چکا، اور اگلا ابھی آیا ہی نہیں، تو خارج میں نہ الفاظِ مرتبۃ کا وجود ہے اور نہ معانیِ مرتبۃ کا وجود ہے، لہٰذا ہر صورت میں اشارہ کس کی طرف ماننا پڑے گا؟ ہر صورت میں اشارہ ذہن میں موجود معانی یا ذہن میں موجود وہ جو الفاظ جو دلالت کرنے والے ہیں ان معانی پر، ان کی طرف اشارہ ماننا پڑے گا، اور دونوں صورتوں میں یہ کیا ہے؟ «هٰذَا» اپنے مجازی معنیٰ میں استعمال ہو رہا ہے، حقیقی معنیٰ میں استعمال نہیں ہو رہا۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس کرتے ہیں، حاصلِ کلام پھر سن لو: حاصلِ کلام یہ کہ مصنف نے متن میں فرمایا: «وَبَعْدُ فَهٰذَا غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ فِي تَحْرِيرِ الْمَنْطِقِ وَالْكَلَامِ»، کہ یہ کتاب جو ہے یہ انتہا درجے کا مہذب کلام ہے علمِ منطق اور علمِ کلام کے بیان میں۔ یہ کتاب انتہا درجے کا مہذب کلام، تو یہ «هٰذَا» کے ذریعے کس چیز کی طرف اشارہ ہے؟ تو جواب بتلایا بھئی اس کتاب کی طرف اشارہ ہے، تو بعضوں نے کہا کہ نہیں، کتاب تو ابھی لکھی نہیں گئی، تو «هٰذَا» اپنے حقیقی معنیٰ میں استعمال نہیں ہو رہا بلکہ کس معنیٰ میں استعمال ہو رہا ہے؟ مجازی معنیٰ میں، حقیقی معنیٰ میں تو استعمال یہ ہے کہ کسی موجود اور حاضر محسوس چیز کی طرف کیا کیا جائے؟ اشارہ کیا جائے، اور یہ کتاب تو ابھی لکھی ہی نہیں مصنف کے ذہن میں ہے، تو لہٰذا اسی کی طرف اشارہ ماننا پڑے گا، اور جب اس کی طرف اشارہ مانا، تو خارج میں تو اس کا وجود ہی نہیں ہے، وہ معانی کا وجود ہی خارج میں نہیں ہے، تو اس میں اشارہ کیا ہوا؟ اپنے مجازی معنیٰ میں استعمال ہوا- تو جبکہ بعضوں نے پھر جواب دیا کہ نہیں، یہ دیباچہ الحاقیہ ہے، کتاب پہلے لکھی گئی اور خطبہ بعد میں لکھا گیا، تو کتاب موجود ہے، اس موجود کتاب کی طرف اشارہ کر دیا، تو جب ایک چیز خارج میں موجود ہو اس کی طرف اشارہ کیا جائے «هٰذَا» کے ذریعے، تو یہ «هٰذَا» کس معنیٰ میں استعمال ہوا؟ اپنے معنیٰ حقیقی میں۔ شارح نے آپ کو بتلایا کہ نہیں بھئی، چاہے آپ معانی کی طرف اشارہ مانیں، چاہے الفاظ کی طرف اشارہ مانیں، دونوں صورتوں میں یہ کیا ہے؟ یہ مجازی معنیٰ میں استعمال ہو رہا ہے، اس لیے کیونکہ الفاظ کیا ہیں؟ غیر قار الذات ہیں، ان کا تو وہ تو اکٹھے خارج میں موجود پائے ہی نہیں جاتے، تو لہٰذا اگر آپ الفاظ کی طرف بھی اشارہ مانتے ہو، تو وہ الفاظ جو ذہن میں ابھی تصور کیے ہیں، جن کے ساتھ کیا کرنا ہے؟ اس مخصوص معنیٰ کو تعبیر کرنا ہے، ان کو ادا کرنا ہے، لوگوں کو بتلانا ہے، کتاب کے اندر اس کو لکھنا ہے، تو ان الفاظ کی طرف اشارہ ہے، اور وہ الفاظ بھی ابھی کہاں پر موجود ہیں؟ ذہن میں موجود ہیں، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ہر صورت میں اشارہ ہو رہا ہے ذہن میں موجود چیز کی طرف، چاہے وہ معنیٰ ہو، چاہے وہ ترتیب وار جو الفاظ ہیں۔ تو بہرحال ہر صورت یہ «هٰذَا» اپنے مجازی معنیٰ میں استعمال ہوا، چاہے آپ اس کو خطبہ الحاقیہ مانو، چاہے خطبہ ابتدائیہ مانو، الحاقیہ مانو تو بھی الفاظ کیا ہیں؟ الفاظ تو غیر قار الذات ہیں، ان کا تو اپنا الگ وجود ہی نہیں، وہ تو اکٹھے ہو ہی نہیں سکتے، ان کی طرف «هٰذَا» کے ذریعے اشارہ ہو ہی نہیں سکتا، تو پھر اشارہ پھر ماننا پڑے گا وہ الفاظ جو کیا کر رہے ہیں؟ ان معانی پر دلالت کر رہے ہیں، تو جب اور وہ اکٹھے ہو نہیں سکتے، تو بھی «هٰذَا» کا اشارہ کیا ماننا پڑے گا؟ مجازی ہی ماننا پڑے گا، بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ نہ تو الفاظِ مرتبۃ کا خارج میں وجود ہے اور نہ معانی کا خارج میں وجود ہے بھئی। تو الفاظ سے میں نے کون سے الفاظ مراد لیے؟ جو مرتب ہیں اور حاضر ہیں کہاں پر؟ ذہن میں حاضر ہیں، ذہن میں حاضر، چنانچہ اسی لیے دیکھیے، یہ جو کتاب میں آیا نہ: «أَوْ تِلْكَ الْأَلْفَاظِ»، وہ الفاظ، ان کے نیچے لکھا ہوا ہے: «الْمُخَيَّلَةِ»، جو ابھی صرف خیال میں موجود ہیں، کہاں پر موجود ہیں؟ خیال میں موجود ہیں، ذہن میں موجود ہیں، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔