اچھا بھئی! آگے دیکھیے بھئی، شرح میں:
قَوْلُهُ: «وَبَعْدُ» وَهُوَ مِنَ الْغَايَاتِ وَلَهَا حَالَاتٌ ثَلَاثٌ، لِأَنَّهَا إِمَّا أَنْ يُذْكَرَ مَعَهَا الْمُضَافُ إِلَيْهِ أَوْ لَا، وَعَلَى الثَّانِي إِمَّا أَنْ يَكُونَ نَسْيًا مَنْسِيًّا أَوْ مَنْوِيًّا، فَعَلَى الْأَوَّلَيْنِ مُعْرَبَةٌ وَعَلَى الثَّالِثِ مَبْنِيَّةٌ عَلَى الضَّمِّ.
اچھا بھئی! گزشتہ سبق میں آیا تھا: «وَ بَعْدُ فَهٰذَا غَايَةُ تَہْذِیْبِ الْکَلَامِ»، کہ حمد و صلاۃ کے بعد یہ انتہا درجے کا مہذب کلام ہے، «فِیْ تَحْرِیْرِ الْمَنْطِقِ وَالْکَلَامِ»، علم منطق اور علم کلام کے بیان میں۔ کہ یہ کتاب کیا ہے؟ انتہا درجے کا مہذب کلام ہے علم منطق اور علم کلام کے بیان میں۔
تو وہاں پر لفظ متن میں آیا تھا: «وَ بَعْدُ»، تو آج اس کی شرح بیان کر رہے ہیں شارح۔ تو فرماتے ہیں: «قَوْلُهُ: وَبَعْدُ»، کہ مصنف کا قول «وَبَعْدُ» جو ہے، کہتے ہیں: «وَهُوَ مِنَ الْغَايَاتِ»، کہ یہ غايات میں سے ہے۔ کس میں سے ہے؟ غايات میں سے۔
اور «مِنَ الْغَايَاتِ» کے اوپر آپ ایک «ن» دیکھ رہے ہوں گے، لمبا سا «ن» لکھا ہوا ہے۔ اور کنارے پر لکھا ہوا ہے: «من الظروف الزمانية». مل گیا؟ کنارے پر لکھا ہوا ہے: «من الظروف»؟ اندر کتاب کی باہر کی طرف یا اندر کی طرف لکھا ہو گا۔ یہ «ن» عبارت ہے نسخے سے، نسخے سے۔ یعنی یہ جو شرح تہذیب کے نسخے جو نقل ہوئے، پہلے زمانے میں کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں، تو بعض نسخوں میں یہاں پر «مِنَ الْغَايَاتِ» کا لفظ ہے اور بعض نسخوں میں یہاں پر «من الظروف الزمانية» کا لفظ ملتا ہے بھئی۔
یاد رکھیے بھئی! یہ «قَبْلُ»، «بَعْدُ» جو ہیں، یہ ظروفِ زمانیہ میں سے ہیں۔ کس میں سے ہیں؟ ظروفِ زمان ہیں۔ «قَبْلُ» کا معنیٰ "پہلے"، «بَعْدُ» کا معنیٰ "بعد میں"۔ اور ان کے لیے ان کے لیے ہمیشہ مضاف الیہ چاہیے۔ بعد میں بھئی، کس کے بعد؟ مضاف الیہ چاہیے۔ پہلے بھئی، کس سے پہلے؟ مثلاً میں کہتا ہوں: «جَاءَ زَيْدٌ قَبْلَ عَمْرٍو»، زید آیا کس سے پہلے؟ عمر سے پہلے۔ تو «جَاءَ زَيْدٌ قَبْلَ عَمْرٍو»، زید آیا «قَبْلَ عَمْرٍو» عمر سے پہلے۔ تو دیکھیے یہ «قَبْلَ» ظرف ہے۔ ظرف اسے کہتے ہیں نا جس میں زمانے یا جگہ والا معنیٰ پایا جائے اور پہلے یا بعد میں ہونا، یہ کیا ہے؟ یہ زمانے کے اعتبار سے ہے کہ کوئی چیز کسی سے وقت کے اعتبار سے پہلے ہے اور کوئی بعد میں ہے۔ تو مثلاً میں کہتا ہوں: «جَاءَ زَيْدٌ قَبْلَ عَمْرٍو»۔
تو «قَبْلَ» کیا ہے؟ ظرف ہے اور ظرف کیا ہوتا ہے؟ مفعول فیہ، مفعول فیہ کیا ہوتا ہے؟ منصوب۔ اسی لیے «قَبْلَ عَمْرٍو»، دیکھا آپ منصوب دیکھ رہے ہیں، اس پر نصب ہے۔ یا میں کہتا ہوں: «جَاءَ زَيْدٌ بَعْدَ عَمْرٍو»، دیکھا «بَعْدَ» پر کیا ہے؟ نصب ہے۔ یہ نصب کیوں آیا؟ کیونکہ یہ کیا بن رہا ہے؟ یہ مفعول فیہ ہے، ظرف ہے مفعول فیہ بن رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟
تو یہ مفعول فیہ ہے۔ تو یہ جو «قَبْلُ» اور «بَعْدُ» ہیں، یہ ظروفِ زمانیہ ہیں یعنی زمانے والا معنیٰ ہے ان کے اندر۔ اور ان کے لیے ہمیشہ مضاف الیہ چاہیے۔ «قَبْلُ» کا معنیٰ "پہلے"، بھئی کس سے پہلے؟ مضاف الیہ آگے چاہیے۔ اور «بَعْدُ» کا معنیٰ "بعد میں"، بھئی کس کے بعد؟ آگے کیا چاہیے؟ مضاف الیہ چاہیے۔ تو مضاف الیہ ان کے لیے ضرور چاہیے بھئی، جیسے میں نے مثال ذکر کر دی: «جَاءَ زَيْدٌ قَبْلَ عَمْرٍو»، «جَاءَ زَيْدٌ بَعْدَ عَمْرٍو»، آیا زید کس کے بعد؟ عمر کے بعد۔ اگر یہاں سے آپ عمر کو ہٹا دیں تو بات پوری نہیں ہو گی، سمجھ میں نہیں آئے گی آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔ تو ان کے لیے ظرف ضرور چاہیے بھئی، ظرف ضرور چاہیے۔
تو یہ «بَعْدُ» جو ہے، ظرفِ زمان ہے بھئی اور اس کے لیے مضاف الیہ چاہیے۔ اسی طرح «قَبْلُ» بھی ظرفِ زمان ہے اور اس کے لیے کیا چاہیے؟ مضاف الیہ چاہیے، مضاف الیہ۔ تو بعض اوقات ان کے ساتھ مضاف الیہ ذکر ہوتا ہے۔ جب مضاف الیہ ذکر ہے تو ان کی ضرورت پوری ہو رہی ہے، لہٰذا یہ ظرف ہیں اور اسی طرح ظرف کیا ہوتا ہے؟ منصوب۔ تو یہ معرب رہیں گے اور ان پر نصب آئے گا۔ جیسے ابھی میں نے مثال کر دی: «جَاءَ زَيْدٌ بَعْدَ عَمْرٍو»، یہ «بَعْدَ» پر کیا پڑھ رہا ہوں؟ نصب پڑھ رہا ہوں، یہ نصب ہے۔ یہ اس وقت معرب ہے۔ ایک ہوتا ہے معرب، ایک ہے مبنی۔ یہ اس وقت معرب ہے اور منصوب ہے مفعول فیہ ہونے کی بنا پر۔
پھر بعض اوقات ایسا کیا جاتا ہے کہ اس کا جو مضاف الیہ ہے اس کو حذف کر دیا جاتا ہے، لفظوں میں ذکر نہیں کرتے، لیکن نیت میں پھر بھی وہ ہوتا ہے۔ ارادہ اس کا پھر بھی کیا ہوتا ہے، مراد ہوتا ہے، لیکن لفظوں سے کیا کر دیا؟ ختم کر دیا۔ مثلاً یہی یہاں سے میں عمر کو ذرا ختم کر دیتا ہوں تو میں یہ پڑھوں گا: «جَاءَ زَيْدٌ بَعْدُ»، ترجمہ کیا ہو گا؟ جی؟ آیا زید عمر کے بعد۔ ہاں، مراد ابھی بھی ہے، ترجمے میں وہ عمر لے کر آئیں گے کیونکہ اس کا ارادہ ہے، آیا زید کس کے بعد؟ عمر کے بعد۔ تو دیکھو کبھی کبھار ایسا کر لیا جاتا ہے کہ اس کے مضاف الیہ کو لفظوں سے حذف کر دیا جاتا ہے، لیکن ارادہ اس کا ہوتا ہے، نیت میں وہ ہوتا ہے، تو اس صورت میں یاد رکھیے اس کا نقصان ہوا۔ اور جب نقصان ہوا تو پھر اس صورت میں اس کو مبنی بنا دیتے ہیں۔ چونکہ اس کا نقصان بہت بڑا ہوا، مضاف الیہ اس کا ایک بڑا حصہ، یوں سمجھو نصف اس کا ختم ہو گیا۔ مضاف الیہ اس کے لیے ضرور چاہیے تھا نا؟ تو یوں سمجھو اس کا نصف حصہ ختم کر دیا آپ نے، اتنا بڑا نقصان ہوا تو اس نقصان کی تلافی کے طور پر اس کو مبنی بناتے ہیں۔ اور نقصان چونکہ عظیم ہوا ہے اس لیے سب سے قوی حرکت جو ہے ضمے والی اس کو دے دیتے ہیں۔ تو کیسے پڑھیں گے؟ «جَاءَ زَيْدٌ بَعْدُ»۔ اس وقت «بَعْدُ» کیا ہے؟ مبنی ہے۔ محلاً منصوب ہی ہے۔ محلاً کیا ہے؟ کیوں منصوب؟ کیونکہ ظرف ہے، ظرف کیا ہوتا ہے؟ منصوب ہوتا ہے، لیکن مبنی کا اعراب کیسے بتاتے ہیں؟ محلاً بتلاتے ہیں کہ محل کے اعتبار، جیسے دیکھو «هٰذَا كِتَابٌ»، یہ کیا ہے؟ کتاب۔ تو «هٰذَا» کا اعراب کیا بتائیں گے؟ مرفوع محلاً مبتدا، اور «كِتَابٌ» مرفوع لفظاً خبر۔ تو «هٰذَا» دیکھو، یہ اسم اشارہ ہے، اسم اشارہ کس میں سے ہے؟ مبنیات میں سے۔ اور مبنی کا اعراب کیسے بتاتے ہیں؟ محلاً۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہو گا: «جَاءَ زَيْدٌ بَعْدُ»، آیا زید بعد میں، کس کے بعد؟ عمر کے بعد، مراد ابھی بھی ہے، آیا زید عمر کے بعد۔ تو لہٰذا اعراب کیا ہو گا «بَعْدُ» کا یہاں؟ ہے تو مبنی، مبنی علی الضم، لیکن اعراب کے اعتبار سے ابھی بھی منصوب محلاً ہے کیونکہ ظرف واقع ہو رہا ہے۔ تو بہرحال بات یہ چل رہی تھی کہ جب اس کا مضاف الیہ حذف کر لیا جائے اور لیکن نیت میں ہو، ارادے کے اندر ہو تو اس صورت میں یہ مبنی علی الضم ہوتا ہے۔
اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اس کا مضاف الیہ لفظوں سے بھی ختم کر دیا جاتا ہے اور نیت سے بھی ختم کر دیا جاتا ہے، اس کا ارادہ بھی نہیں ہوتا، یوں کر دیتے ہیں جیسے «نَسْيًا مَنْسِيًّا» ہے۔ «نَسْيًا مَنْسِيًّا» بالکل بھولا بسرا، یعنی بالکل ہے ہی نہیں، بھول گئے کہ اس کا اس کے لیے کوئی مضاف الیہ چاہیے بھی تھا، بالکل بھلا ہی دیا اس کو۔ ہے یعنی اس کو مضاف الیہ چاہیے ہی نہیں، یوں کر دیتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ مضاف الیہ کو کیا کر دیتے ہیں؟ حذف۔ اور اس کو «نَسْيًا مَنْسِيًّا»۔ نسیاً ینسی کے معنیٰ ہوتے ہیں نا بھولانا بھولانا، اسی سے کیا ہے؟ «نَسْيًا مَنْسِيًّا» بالکل بھلا دیا گیا جس کو، یعنی تو «نَسْيًا مَنْسِيًّا» ہو جاتا ہے یعنی ارادے میں بھی پھر نہیں ہوتا تو اس صورت میں بھی یاد رکھیے معرب ہوتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ معرب ہو گا: «جَاءَنِي زَيْدٌ بَعْدً۠ا»، معرب ہے اور معرب پر تنوین آتی ہے، تنوین آ گئی۔ مبنی تھا: «جَاءَنِي زَيْدٌ بَعْدُ»، اس وقت مبنی تھا اور مبنی پر تنوین نہیں آتی۔
تو لہٰذا تین صورتیں ہو گئیں اس «بَعْدُ» کی: کبھی اس کے ساتھ مضاف الیہ ذکر ہو گا، کبھی مضاف الیہ لفظوں سے تو ختم کر دیا لیکن ارادے میں ابھی بھی ہے، نیت میں ابھی بھی ہے۔ اور بعض اوقات نیت سے بھی ختم کر دیا، «نَسْيًا مَنْسِيًّا» کر دیا، تو تین صورتیں ہیں۔ ان تین میں سے یاد رکھو وہ صورت جس میں مضاف الیہ کو لفظوں سے ختم کر دیا لیکن نیت میں وہ پھر بھی ہے، یعنی ارادہ اس کا پھر بھی ہے، اس صورت میں یہ مبنی ہو گا اور باقی دونوں صورتوں میں معرب ہو گا۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ جی۔ کیا، کتنی صورتیں ہو گئیں؟ تین۔ پہلی صورت کیا؟ کہ مضاف الیہ لفظوں میں ذکر ہو۔ دوسری صورت کیا؟ کہ لفظوں سے تو ختم کیا لیکن نیت میں ابھی بھی موجود ہے، ارادہ ابھی بھی اسی کا ہے۔ اور تیسری صورت کہ لفظوں سے بھی ختم کیا اور ارادے سے بھی ختم کر دیا۔ تو تین صورتوں میں سے ایک صورت میں یہ مبنی ہے اور دو صورتوں میں یہ معرب ہی ہے۔ مبنی کون سی صورت میں ہے؟ جب اس کا مضاف الیہ آپ نے حذف کر دیا، اس کا نقصان کیا اور ارادے میں ابھی بھی ہے، مراد ابھی بھی ہے تو اس صورت میں یہ کیا ہو گا؟ مبنی۔ اور باقی دونوں صورتوں میں معرب۔ کون سی دو صورتیں ہیں؟ ایک صورت یہ کہ اس کا مضاف الیہ ساتھ ذکر ہو۔ جب ساتھ ذکر ہے اس کی ضرورت پوری ہو رہی ہے، کوئی نقصان نہیں ہوا لہٰذا مبنی بنانے کی ضرورت نہیں، معرب ہی رہے گا۔ اور ایک صورت یہ کہ اس کا مضاف الیہ آپ نے لفظوں سے بھی ختم کیا اور ارادے سے بھی ختم کر دیا تو گویا اس کا کوئی نقصان ہوا ہی نہیں، جب نقصان ہوا ہی نہیں تو بھی مبنی بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
اسی «بَعْدُ» اور «قَبْلُ» جب اس کے مضاف الیہ کو حذف کر دیں تو اب ان کو غایہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ غایہ۔ غایۃٌ غایہ کا معنیٰ ہے "انتہا"، جس پر کسی چیز کی انتہا ہو، جس پر کوئی چیز ختم ہو۔ بھئی دیکھیے مثلاً پہلے میں مضاف الیہ ذکر کروں گا: «جَاءَنِي زَيْدٌ بَعْدَ عَمْرٍو»، زید عمر کے بعد آیا، جملے کا اختتام کس پر ہو رہا ہے؟ عمر پر، عمر پر۔ تو اس وقت عمر غایہ بن رہا ہے، اس پر انتہا ہو رہی ہے کلام کی۔ اور عمر کو اگر میں ختم کر دوں: «جَاءَنِي زَيْدٌ بَعْدُ»، اب کلام کی انتہا کس پر ہو رہی ہے؟ «بَعْدُ» پر، تو «بَعْدُ» کیا ہے؟ غایہ بن گیا۔ تو اس وجہ سے جب ان کے مضاف الیہ ان کو مضاف الیہ کو لفظوں سے حذف کر دیا جائے تو اس وقت پھر ان کو غایہ کہتے ہیں۔ کیوں غایہ کہتے ہیں؟ کیونکہ اس پر کیا ہو رہی ہے کلام کی انتہا ہو رہی ہے۔
تو لہٰذا یہ ظرفِ زمان بھی ہیں اور انہی کو غایہ بھی کہتے ہیں جب کیا کیا جائے ان کے مضاف الیہ کو لفظوں سے حذف کر لیا جائے۔ تو چنانچہ اسی لیے بعض نسخوں میں کیا آیا؟ کتاب پر دیکھیے: «قَوْلُهُ: وَبَعْدُ وَهُوَ مِنَ الْغَايَاتِ»، یہ کس میں سے ہے؟ غایات میں سے ہے، غایات غایہ ان کو کب کہیں گے؟ جب ان کا مضاف الیہ لفظوں سے حذف کر لیا جائے۔ اور حاشی کنارے پر کیا لکھا ہے؟ «من الظروف الزمانية»، یہ «وَبَعْدُ» کس میں سے ہے؟ ظروفِ ظروفِ زمان میں سے ہے، ظرفِ زمان کسے کہتے ہیں؟ جس میں زمانے والا معنیٰ پایا جائے بھئی اس میں، تو یہ ظرف ہے بھئی۔
تو یہ ظرفِ زمان کہنا بھی اس کو صحیح اور غایہ کہنا بھی صحیح، تو دونوں نسخوں میں دونوں لفظ ذکر ہیں بھئی۔ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: «وَلَهَا حَالَاتٌ ثَلَاثٌ»، اور اس کے تین حالات ہیں، تین احوال ہیں۔ وہی تین احوال: یا مضاف الیہ کیا ہو گا؟ لفظوں میں ذکر ہو گا یا ذکر نہیں ہو گا۔ اور پھر ذکر نہیں ہے تو پھر نیت میں ہو گا یا بالکل «نَسْيًا مَنْسِيًّا» ہو گا، تین حالتیں ہو گئیں۔ کہتے ہیں: «وَلَهَا حَالَاتٌ ثَلَاثٌ»، اور اس کے تین حالات ہیں: «لِأَنَّهَا إِمَّا أَنْ يُذْكَرَ مَعَهَا الْمُضَافُ إِلَيْهِ أَوْ لَا»، اس لیے کیونکہ یا تو اس کے ساتھ مضاف الیہ ذکر ہو گا یا ذکر نہیں ہو گا، «أَوْ لَا» یا ذکر نہیں، توجہ ہے عبارت میں نظر رکھو بھئی، یا تو اس کے ساتھ مضاف الیہ ذکر ہو گا یا ذکر نہیں ہو گا۔ دو حالتیں ذکر کر دیں، پہلی حالت کیا؟ مضاف الیہ ساتھ ذکر ہو گا۔ دوسری حالت کیا؟ ساتھ ذکر نہیں ہو گا، اسی کو آگے کہہ رہے ہیں: «وَعَلَى الثَّانِي»، اور دوسری حالت میں، کون سی دوسری حالت؟ جس میں مضاف الیہ ساتھ ذکر نہ ہو، اس میں «إِمَّا أَنْ يَكُونَ نَسْيًا مَنْسِيًّا»، یا تو وہ مضاف الیہ «نَسْيًا مَنْسِيًّا» ہو گا، بالکل بھلا دیا گیا ہے یعنی تھا ہی نہیں، یہاں پر کوئی مضاف الیہ تھا ہی نہیں۔ یا تو وہ مضاف الیہ «إِمَّا أَنْ يَكُونَ نَسْيًا مَنْسِيًّا»، یا تو وہ «نَسْيًا مَنْسِيًّا» ہو گا «أَوْ مَنْوِيًّا» یا کیا ہو گا؟ منوی ہو گا۔ منوی کون سا صیغہ ہے؟ منویٌّ۔ جی؟ اسم مفعول۔ اسم مفعول ہے شاباش! نَوٰى یَنِوِيْ، رَمٰى یَرْمِيْ کی طرح ہے، منویٌّ جس کی نیت کی گئی ہے۔ دوسری صورت میں جبکہ مضاف الیہ ذکر نہیں ہے یا تو «إِمَّا أَنْ يَكُونَ نَسْيًا مَنْسِيًّا»، یا تو وہ «نَسْيًا مَنْسِيًّا» ہو گا یعنی بالکل بھلا دیا گیا ہو گا «أَوْ مَنْوِيًّا» یا نیت میں ہو گا، اس کی نیت کی گئی ہو گی، ارادے میں موجود ہو گا، «فَعَلَى الْأَوَّلَيْنِ مُعْرَبَةٌ»، تو پہلی دو صورتوں میں یہ معرب ہو گا۔ پہلی دو صورتیں؟ ایک کہ جس میں مضاف الیہ مذکور ہو، مذکور ہو اور دوسرا؟ جو «نَسْيًا مَنْسِيًّا» بالکل بھلا دیا گیا ہو۔ «وَعَلَى الثَّالِثِ مَبْنِيَّةٌ عَلَى الضَّمِّ»، اور تیسری صورت میں یہ کیا ہو گا؟ مبنی علی الضم ہو گا بھئی، مبنی علی الضم۔ کیونکہ اس کا نقصان ہوا، نقصانِ عظیم ہوا، مضاف الیہ چاہیے تھا، ضروری چاہیے تھا اس کے لیے، کیونکہ «قَبْلُ» کا کیا معنیٰ؟ "پہلے"، تو کس سے پہلے؟ آگے مضاف الیہ چاہیے یا نہیں؟ "بعد میں"، کس کے بعد؟ تو مضاف الیہ تو ضرور چاہیے بھئی، تو جب لفظوں سے حذف کر دیا تو اس کا نقصان بڑا ہوا اور پھر اس کے جبیرے کے طور پر، تلافی کے طور پر کون سی سب سے قوی حرکت دے دی؟ اور وہ ضمے کی ہے اور اس پر اس کو مبنی بنا دیا۔ یہاں بھی ایسا ہی ہے جس کا مضاف الیہ حذف ہو۔ کہاں؟ «وَ بَعْدُ فَهٰذَا»۔ ہاں، یہاں بھی اسی طرح ہے۔ تو دیکھیے، متن میں بھی کیا ہے: «وَ بَعْدُ»، متن میں کیسے پڑھیں گے؟ «وَ بَعْدُ»۔ کیا معنیٰ «وَ بَعْدُ»؟ حمد و صلاۃ۔ ہاں، اب نیت میں ہے یا نہیں ہے؟ تو نیت میں ہے، «اَيْ وَبَعْدَ الْحَمْدِ وَالصَّلٰوةِ»، تو حمد و صلاۃ کے بعد اب وہ آگے کتاب کا تعارف کروانے لگے ہیں۔ تو تو یہاں پر مضاف الیہ حذف ہے، لیکن ارادے اور نیت میں اس کا ارادہ ہے، نیت میں ہے، تو لہٰذا یہ کیا ہو گا؟ مبنی علی الضم ہو گا بھئی، مبنی، اور تیسری یہ وہ صورت ہے بھئی۔
آگے دیکھیے بھئی: «قَوْلُهُ: فَهٰذَا، الْفَاءُ إِمَّا عَلَى تَوَهُّمِ أَمَّا أَوْ عَلَى تَقْدِيرِهَا فِي نَظْمِ الْكَلَامِ».
بھئی اوپر متن میں آیا تھا: «وَ بَعْدُ فَهٰذَا»، «بَعْدُ» کے بارے میں تو بتلا دیا کہ اس وقت کیا ہے؟ مبنی علی الضم ہے اور اس کا مضاف الیہ کو لفظوں سے حذف کر دیا، «اَيْ بَعْدَ الْحَمْدِ وَالصَّلٰوةِ»، تو لفظوں سے تو حمد و صلاۃ کو حذف کیا لیکن نیت میں ہیں ابھی بھی وہ ہے اور اس کا ارادہ ہے بھئی، حمد و صلاۃ کے بعد، «فَهٰذَا غَايَةُ تَہْذِیْبِ الْکَلَامِ»، تو یہ کتاب جو ہے، «اَيْ فَهٰذَا الْکِتَابُ»، یہ کتاب جو ہے انتہا درجے کا مہذب کلام ہے۔ آپ پڑھ چکے: «فَهٰذَا كَلَامٌ مُهَذَّبٌ، اَيْ فَهٰذَا الْكِتَابُ»، یہ کتاب جو ہے انتہا درجے کا مہذب کلام ہے، مہذب کلام ہے۔ تو بات چل رہی ہے «فَهٰذَا» میں یہ جو فا آئی فا، شارح آپ کو بتلائیں گے کہ یہ فا دو وجہیں ذکر کریں گے کہ ماتن یہ «فَهٰذَا» میں فا کیوں لے کر آئے؟ ایک وجہ یہ کہ یہ فا جو ہے توہمِ «اَمَّا» پر لے کر آئے بھئی، کس پر؟ توہمِ «اَمَّا» پر لے کر آئے۔ اور دوسرا جواب یہ کہ یہ فا لے کر آئے کیونکہ یہاں «بَعْدُ» سے پہلے «اَمَّا» مقدر ہے بھئی، «اَمَّا» کیا ہے؟ مقدر ہے، اصل میں ہے: «وَ اَمَّا بَعْدُ، وَ اَمَّا بَعْدُ»۔ یاد رکھیے یہ جو «اَمَّا» ہے نا «اَمَّا»، یہ متضمن ہے معنیٰ شرط کو، اس میں شرط والا معنیٰ پایا جاتا ہے۔ کون سا معنیٰ؟ شرط، اور آپ جانتے ہیں کہ شرط کی جزا پر فا داخل کی جاتی ہے بھئی، جیسے آپ نے آپ نے اصول الشاشی میں پڑھا ہو گا کہ خاوند اپنی بیوی سے کہے: «اِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ»، کیا معنیٰ «اِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ»؟ پڑھا ہے یہ مسئلہ کہ نہیں پڑھا؟ جی، پڑھا۔ جی، کیا معنیٰ ہے «اِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ»؟ اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو۔ ہاں ہاں، اگر تو گھر میں داخل ہوئی، یہ ترجمہ غلط ہے بھئی، «اَلدَّارَ»، «اَلدَّارَ» الف لام آ رہا ہے، کوئی خاص گھر کی طرف اشارہ ہے۔ تو اس کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ "وہ گھر" یا "اس گھر"۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ دار کا مطلب تو کوئی بھی گھر ہو سکتا ہے لیکن آ رہا ہے «اَلدَّارَ»، کوئی خاص گھر ہے، تو اس کا ترجمہ میں نے بتلایا تھا کیسے کرتے ہیں؟ ترکیب کے میں سبق میں ذکر کیا تھا، "وہ گھر" یا "اس گھر"۔ تو کیا: «اِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ»، اگر تو اس گھر میں گئی، کسی گھر کی طرف خاص اشارہ کیا، اگر تو اگر تو اس گھر میں گئی «فَأَنْتِ طَالِقٌ» تو تجھے طلاق ہے۔ تو دیکھو یہاں فا لے کر آئے، اگر تو اس گھر میں گئی «فَأَنْتِ طَالِقٌ»، یہ فا کس پر داخل ہو رہی ہے؟ جزا پر داخل ہو رہی ہے، تو فا کہاں پر آتی ہے؟ شرط کی جزا پر داخل ہوتی ہے بھئی، شرط کی جزا پر۔
تو یہاں یہ فا کیوں لے کر آئے ماتن؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے، اعتراض یہ ہوتا ہے، اعتراض یہ ہوتا ہے کہ یہ «فَهٰذَا» میں فا کیوں لے کر آئے؟ یہ فا جزائیہ ہے اور فا جزائیہ یہاں ماقبل میں شرط والا کوئی لفظ ہو یا شرط ہو تو پھر فا جزائیہ لائیں گے، ویسے نہیں۔ اور یہاں پر عموماً عبارتوں میں ہوتا ہے «اَمَّا بَعْدُ»، کیا ذکر کرتے ہیں؟ «اَمَّا بَعْدُ»، اور «اَمَّا» متضمن ہے معنیٰ شرط کو، یعنی اس میں شرط والا معنیٰ پایا جاتا ہے، تو جب شرط والا معنیٰ پایا گیا تو جزا پر کیا لے آتے ہیں؟ فا لے آتے ہیں۔ لیکن یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے: «وَ بَعْدُ»، یہاں پر تو «اَمَّا» ہے ہی نہیں، تو پھر یہ فا کیوں لے کر آئے؟ اعتراض سمجھ میں آ رہا ہے؟ جی جی۔ کہ فا کیوں لے کر آئے؟ یہاں تو «بَعْدُ» سے پہلے «اَمَّا» کا لفظ ہی نہیں ہے، «اَمَّا» کا لفظ ہوتا تو وہ متضمن ہوتا کس کو؟ معنیٰ شرط کو اور پھر فا کا لانا ٹھیک ہوتا، لیکن یہاں «اَمَّا» ہے نہیں، شرط ہے نہیں اور آپ جزا والی فا لے آئے، تو جواب شارح دو جواب دیں گے: ایک کیا؟ کہ یہ فا توہمِ «اَمَّا» پر ہے۔ کس وجہ سے لے کر آئے؟ توہمِ «اَمَّا» کی وجہ سے، اور دوسرا یہ کہ یہ فا لے کر آئے کہ یہاں «اَمَّا» مقدر ہے، یعنی تقدیرِ «اَمَّا» پر فا لائے، تو دو جواب ہو گئے: یا فا ہے کس پر؟ توہمِ «اَمَّا» پر یا تقدیرِ «اَمَّا» پر۔ اب یہ توہمِ «اَمَّا» سے کیا مراد ہے؟ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا بھئی، یہ ہمارے ہاں عموماً طلباء اور عام مدرسین بھی اس کا غلط معنیٰ کرتے ہیں۔
توہمِ «اَمَّا»، توہم کا معنیٰ کرتے ہیں "وہم" یعنی غلطی اور خطا، غلطی اور خطا۔ توہمِ «اَمَّا»، پہلا جواب کیا؟ کہ یہ فا کیوں لائے؟ توہمِ «اَمَّا» پر۔ اب اس توہمِ «اَمَّا» کی عام تقریر جو عام طلباء اور مدرسین سمجھتے ہیں وہ یہ، وہ کہتے ہیں کہ مصنف کو وہم ہو گیا تھا کہ میں نے شاید پیچھے «اَمَّا» ذکر کر دیا ہے، حالانکہ اس کا یہ خیال غلط تھا، کیونکہ اس نے پیچھے کوئی «اَمَّا» ذکر تو اس نے اپنے اس غلط خیال پر فا کو لے کر آیا، تو یہ فا کا لانا بھی غلط ہے۔ وہ جو اس نے خیال کیا کہ توہمِ «اَمَّا»، میں نے وہم کیا، کیا وہم کیا؟ کہ میں پیچھے کیا لایا ہوں؟ «اَمَّا» «اَمَّا» لے کر آیا ہوں، تو اس کا یہ خیال بھی غلط تھا اور اس خیال کے نتیجے میں پھر آگے فا کا لانا یہ بھی کیا ہے؟ غلط ہے۔ تو عام طلباء اور مدرسین اس کا یہ معنیٰ کرتے ہیں کہ توہمِ «اَمَّا» کا معنیٰ یہ: مصنف سے غلطی ہو گئی، آسان لفظوں میں مصنف سے غلطی ہو گئی، وہ سمجھا میں نے پیچھے «اَمَّا» کا لفظ ذکر کیا تھا اور «اَمَّا» تو متضمن ہوتا ہے کس کو؟ معنیٰ شرط کو، لہٰذا اس کے جواب میں لہٰذا اس کی جزا پر اب فا کو میں لے کر آؤں گا۔ حالانکہ یہ درست نہیں ہے بھئی، یہ تقریر درست نہیں ہے۔
توہم کا معنیٰ غلطی نہیں ہے۔ توجہ ہے؟ قیمتی بات ذکر کر رہا ہوں، توہم کا معنیٰ غلطی نہیں ہے۔ وجہ اس کی یہ، سنو بھئی وجوہات، عجیب وجوہات بھئی! وجہ اس کی یہ کہ یہ فا کون سی ہے؟ جزا والی، اور «بَعْدُ» یہ اس سے کوئی بہت دور ہے یا ساتھ ہی جڑا ہوا ہے؟ ساتھ ہی جڑا ہوا ہے۔ تو آپ یہ کہیں جی مصنف سے غلطی ہو گئی، وہ سمجھا شاید میں پیچھے «اَمَّا» کا لفظ لے کر آیا تھا، تو «اَمَّا» اگر وہ لاتا بھی تو کہاں لاتا؟ یہ «بَعْدُ» سے پہلے لاتا نا؟ تو «اَمَّا بَعْدُ فَهٰذَا»، تو اس کا تو یہ مطلب ہے مصنف کو ایک لفظ لکھنے کے بعد ہی نہیں یاد رہا کہ میں نے پیچھے کیا لکھا تھا، حالانکہ وہ اس کی نظر میں بھی ہے، لکھتے ہوئے نظر میں بھی ہے یا نہیں؟ تو یہ تو اتنی خوفناک بات ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو ایک لفظ بعد نہیں یاد رہتا کہ میں نے پیچھے کیا لکھا تھا، اس کی کتاب کو پڑھنے اور پڑھانے کا کیا مقصد ہے؟ اس کے علوم پہ اعتبار کہاں سے ہے؟ جس کو ایک لفظ کے بعد نہیں یاد کہ میں نے پیچھے کیا لکھا تھا حالانکہ وہ ابھی اس کی نظر میں بھی ہے۔ تو پھر تو اس کے علوم پر اعتماد ہی نہیں ہونا چاہیے، اس کی تو کتاب پڑھنی اور پڑھانی نہیں چاہیے بھئی۔ تو یہ بات درست نہیں ہے بھئی، توہم کا معنیٰ غلط نہیں ہے۔
اور نیز اگر توہم کا معنیٰ غلط ہے، پھر تو کسی ایک مصنف سے یہ غلطی ہو جاتی کسی ایک کتاب میں، لیکن ہم دیکھتے ہیں ایک مصنف اپنی ایک کتاب میں بھی ایسا کرتا ہے، دوسری میں بھی ایسا کرتا ہے، تیسری میں بھی اسی طرح کرتا چلا جاتا ہے۔ اور بلکہ ایک مصنف چھوڑو، ہر دوسرا مصنف اس طریقے کو اپنی کتابوں میں استعمال کرتا ہے، آپ عربی کی کتابیں اٹھا کر دیکھ لیں بھئی علماء کی، آپ دیکھیں گے جگہ جگہ مصنفین کیا کرتے ہیں؟ «وَ بَعْدُ» کے بعد فا لے آتے ہیں۔ «بَعْدُ» سے پہلے «اَمَّا» نہیں ہوتا لیکن وہ کیا لے آتے ہیں؟ فا لے آتے ہیں۔ اگر یہ غلطی کی وجہ سے ہوتا، پھر تو ایک کی غلطی کے بعد باقیوں کو پھر یہ غلطی نہیں کرنی چاہیے تھی بھئی، کیونکہ پھر سب کو پتہ چل گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اور نیز اگر اس کو غلط کہا جائے، پھر تو علماء علماء اور ائمہ نے لکھا ہے کہ یہ قرآن اور حدیث میں بھی استعمال ہوا ہے اسی طریقے پر، توہم کے کوئی بات ذکر کی جاتی ہے کہ یہ توہم پر عطف ہے، کس پر؟ توہم پر عطف ہے، اور کس مسلمان کی جرات ہے کہ وہ قرآن اور حدیث کے بارے میں کہہ سکے کہ اس میں غلطی ہوئی؟ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دراصل یہ ساری خرابی کیوں آ رہی ہے؟ کیونکہ ہم نے توہم کا معنیٰ کیا کیا؟ غلطی کے۔ توہم کا معنیٰ غلطی نہیں ہے بھئی، غلطی نہیں۔ توہم کا مطلب یہ ہے کہ مصنف یا بات کرنے والا ایک معنیٰ کا لحاظ رکھتا ہے، ایک معنیٰ کا اعتبار کر لیتا ہے۔ یہاں «اَمَّا» ہے نہیں، لیکن مصنف نے «اَمَّا» کے معنیٰ کا اعتبار کر لیا۔ توجہ ہے؟ توہمِ «اَمَّا» کا کیا معنیٰ؟ کہ مصنف نے «اَمَّا» کے «اَمَّا» کے معنیٰ کا اعتبار کیا۔ «اَمَّا» کے معنیٰ کا اعتبار کیا، «اَمَّا» کے معنیٰ کا لحاظ کیا، اس کو ملحوظ رکھا کہ وہ معنیٰ ملحوظ ہے، جب وہ معنیٰ ملحوظ ہے تو آگے کیا لے کر آیا؟ فا لے کر آیا۔ اور یہ عام اور شائع ہے، میں نے ذکر جیسے کیا کہ تمام علماء اس طریقے کو استعمال کرتے ہیں اپنی تصانیف میں، بلکہ علماء اور ائمہ نے لکھا ہے کہ قرآن اور حدیث میں بھی یہ استعمال ہوا ہے بھئی، اور اس کی مثالیں بھی وہ ذکر کرتے ہیں باقاعدہ کتابوں کے اندر۔
تو توہم کا معنیٰ غلط نہیں، بلکہ توہم کا کیا معنیٰ ہے؟ کہ مصنف نے یا کلام کرنے والے نے ایک معنیٰ کا لحاظ رکھا، ایک معنیٰ کا اعتبار کیا، توجہ ہے؟ کیا کیا؟ کسی چیز کے معنیٰ یا کسی چیز کے معنیٰ کا لحاظ کیا، کسی چیز کے معنیٰ کا اعتبار کیا، جیسے یہاں پر: «وَ بَعْدُ فَهٰذَا»، یہ شارح مصنف فا لے کر آئے کیونکہ مصنف نے «وَ بَعْدُ» سے پہلے «اَمَّا» کے معنیٰ کا لحاظ کیا، اس کا اعتبار کیا کہ یہ معنیٰ یہاں پر موجود ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ باقاعدہ اس کا اعتبار کیا جاتا ہے۔
لہٰذا بہتر یہ ہے کہ یوں کہ توہم کا لفظ ہی نہ استعمال کیا جائے بھئی، توہم کی وجہ سے غلطی پیدا ہوتی ہے، وہم پیدا ہوتا ہے کہ شاید اس کا معنیٰ غلط کے ہیں، تو توہم کے بجائے یہاں کہنا چاہیے کہ ماتن فا لائے معنیٰ «اَمَّا» کو کے لحاظ سے کا لحاظ رکھتے ہوئے۔ کیا؟ ماتن فا لائے معنیٰ «اَمَّا» کا لحاظ رکھتے ہوئے، یوں کہو معنیٰ شرط کا لحاظ رکھتے ہوئے رکھتے ہوئے، انہوں نے یہاں معنیٰ شرط ملحوظ رکھا، یا یوں کہو: معنیٰ «اَمَّا» کا اعتبار کیا۔ یعنی معنیٰ شرط کا اعتبار کیا کہ یہاں کون سا معنیٰ موجود ہے؟ شرط کا، باقاعدہ اس کا ارادہ کیا، اس کو ملحوظ رکھا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اس کو کہتے ہیں توہمِ «اَمَّا» کہ ایک معنیٰ کا لحاظ رکھا جائے اپنے کلام کے اندر، ایک معنیٰ کا اعتبار کیا جائے بھئی، یہ ہے توہمِ «اَمَّا»۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
تو پہلا جواب کیا ہوا؟ کہ مصنف جو ہے «فَهٰذَا» میں فا لائے، کس بناء پر؟ توہمِ «اَمَّا»، توہمِ «اَمَّا» کا کیا معنیٰ؟ کہ ماتن نے «اَمَّا» کا معنیٰ یہاں اس کا لحاظ، اس کو ملحوظ رکھا، اس کا اعتبار کیا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اس کا باقاعدہ کیا کیا؟ اعتبار کیا کہ یہ معنیٰ ہے یہاں پر اور پھر۔ اور یہ وہاں پر کیا جاتا ہے جہاں ویسے اس جہاں وہ عام استعمال ہوتا ہو، اور «اَمَّا بَعْدُ»، بعد کے ساتھ «اَمَّا» عام استعمال ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟ تو ایک لفظ اس کے ساتھ عام استعمال ہوتا ہے، اس کو ذکر نہیں کیا لیکن اس کے معنیٰ کا کیا کیا؟ لحاظ رکھا، اس کے معنیٰ کا لحاظ رکھا، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو ماتن نے یہاں کیا کیا؟ «بَعْدُ» سے پہلے «اَمَّا» کے معنیٰ کا لحاظ کیا، اس کا اعتبار کیا۔
دوسرا جواب یہ دیں گے شارح کہ مصنف فا لے کر آئے کیونکہ فا لے کر آئے تقدیرِ «اَمَّا» پر، کس پر؟ تقدیرِ «اَمَّا» پر۔ قَدَّرَ یُقَدِّرُ تقدیر کا معنیٰ ہے فرض کر لینا، کیا کر لینا؟ فرض کر لینا، بعض اوقات کیا کیا جاتا ہے کہ ایک لفظ کو عبارت سے حذف کر لیا جاتا ہے لیکن اس کو وہاں پر مقدر مانا جاتا ہے، کیا کیا جاتا ہے؟ مقدر مانا جاتا ہے، اور یاد رکھیے: اَلْمُقَدَّرُ كَالْمَلْفُوظِ، یہ ضابطہ ہے بھئی، اَلْمُقَدَّرُ، یہ لکھ لیں بھئی لکھ لیں: اَلْمُقَدَّرُ كَالْمَلْفُوظِ۔ اَلْمُقَدَّرُ كَالْمَلْفُوظِ، ملفوظ لفظ سے ہے بھئی، ظائے آئے گی آخر میں، لفظ سے۔ اَلْمُقَدَّرُ كَالْمَلْفُوظِ، معنیٰ سمجھ میں آ رہا ہے؟ مقدر ملفوظ کی طرح ہے۔ مقدر ملفوظ کی طرح ہے۔ یا اسی ضابطے کو یوں بھی ذکر کر سکتے ہو: اَلْمُقَدَّرُ كَالْمَذْكُورِ۔ اَلْمُقَدَّرُ كَالْمَذْكُورِ، اَلْمُقَدَّرُ كَالْمَذْكُورِ، «كَالْمَلْفُوظِ» کیسے لکھا؟ اَلْمَلْفُوظِ کے ساتھ کاف جوڑنا ہے: کاف، الف، لام، میم۔ اور اسی طرح «كَالْمَذْكُورِ» کیسے لکھنا ہے؟ اَلْمَذْكُورِ کے ساتھ کاف جوڑ کر لکھ دو: کاف، الف، لام، میم، ذال، کاف، واؤ، را، كَالْمَذْكُورِ۔ معنیٰ سمجھ میں آ رہا ہے؟ مقدر کس کی طرح ہے؟ ملفوظ کی طرح ہے، مذکور کی طرح ہے۔
باہی یہ جو لفظ عبارت میں آپ بعض اوقات کوئی لفظ مقدر نکالتے ہیں، مقدر نکالنا پڑتا ہے، اس کے بغیر کلام صحیح ہی نہیں بنتا اور اَلْمُقَدَّرُ، توجہ ہے؟ جو مقدر ہوتا ہے اس کو اس کے بغیر کلام صحیح ہی نہیں ہوتا، تو مقدر کو کس کی طرح سمجھا جاتا ہے؟ ملفوظ کی طرح، جیسے آپ نے گزشتہ سبق میں مثال پڑھی تھی: «سِيَّمَا الْوَلَدُ الْأَعَزُّ الْحَفِيُّ»، اور میں نے بتلایا تھا یہ اصل میں کیا ہے؟ «لَا سِيَّمَا»، «لَا» کس کے ساتھ استعمال ہوتا ہے؟ بعض بعض اوقات کیا کرتے ہیں؟ لفظوں سے اس کو حذف کر لیتے ہیں، لیکن بہرحال وہاں وہ مقدر ہے، اس کے بغیر بات بنتی نہیں، تو یہاں جیسے «لَا سِيَّمَا»، «لَا» کیا ہے یہاں؟ مقدر ہے اور اَلْمُقَدَّرُ كَالْمَلْفُوظِ، مقدر اسی طرح ہے جیسے کہ ملفوظ ہے یا مذکور ہے، گویا اس کو ذکر کیا گیا ہے، دراصل کیا ہے؟ «لَا سِيَّمَا»، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو یہ دوسرا جواب ہوا بھئی، تو اس صورت میں «بَعْدُ» سے پہلے «اَمَّا» کا لفظ باقاعدہ مقدر ہے اور اصل اور اَلْمُقَدَّرُ كَالْمَلْفُوظِ، اور مقدر کس کی طرح ہے؟ ملفوظ، یا یوں کہیں مقدر کس کی طرح ہے؟ مذکور کی طرح، گویا اس کو بھی ذکر کیا گیا ہے اور عبارت یوں ہے: «وَ اَمَّا بَعْدُ فَهٰذَا»، تو «اَمَّا» موجود ہے یا نہیں؟ مذکور کی طرح ہی ہے نا، مقدر کس کی طرح ہے؟ مذکور کی طرح، جب «اَمَّا» موجود ہے تو وہ کیا ہے؟ متضمن ہے معنیٰ شرط کو، اور جب وہ متضمن ہے معنیٰ شرط کو تو فا کا لانا ٹھیک ہوا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دو جواب ہو گئے: ایک کیا کہ یہ فا کس پر ہے؟ فا لائے توہمِ «اَمَّا» کی وجہ سے، اور دوسرا جواب کیا ہے؟ فا لے کر آئے تقدیرِ «اَمَّا» کی بناء پر۔ توہمِ «اَمَّا» کا کیا معنیٰ؟ کہ «اَمَّا» کے معنیٰ کا لحاظ کیا، لفظ نہیں، «اَمَّا» کا معنیٰ لفظ یہاں نہیں موجود، صرف کیا ہے؟ اس کے معنیٰ یہاں ملحوظ ہے، اس کے معنیٰ کا یہاں اعتبار کیا، اور دوسرے میں باقاعدہ لفظِ «اَمَّا» یہاں پر کیا ہے؟ مقدر ہے اور گویا یوں سمجھو کہ مذکور ہے بھئی۔ فرق سمجھ میں آیا؟ ایک میں صرف کیا ہے؟ معنیٰ ملحوظ ہے اور دوسرے میں باقاعدہ یوں سمجھو کہ لفظِ «اَمَّا» خود ہی مذکور ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: «قَوْلُهُ: فَهٰذَا»، مصنف کا قول: «فَهٰذَا»، «الْفَاءُ إِمَّا عَلَى تَوَهُّمِ أَمَّا»، یہ فا جو ہے یا تو توہمِ «اَمَّا» پر مبنی ہے «أَوْ عَلَى تَقْدِيرِهَا»، یا فا «اَمَّا» کی تقدیر پر، ہا ضمیر کس کو راجع؟ «اَمَّا» کو، یا «اَمَّا» کی تقدیر پر ہے «فِي نَظْمِ الْكَلَامِ»، نظمِ کلام۔ نظم کا معنیٰ نظم سے مراد الفاظ ہیں، «فِي نَظْمِ الْكَلَامِ»، کیا ہے؟ «عَلَى تَقْدِيرِهَا فِي نَظْمِ الْكَلَامِ»، کہ «اَمَّا» کیا ہے؟ مقدر ہے کس کے اندر؟ کلام کے الفاظ میں، کس میں؟ کیونکہ اَلْمُقَدَّرُ كَالْمَلْفُوظِ، تو وہ بھی گویا مقدر یعنی مذکور ہی ہے کلام کے الفاظ میں، لیکن الفاظ کے بجائے نظم کہا، الفاظ کے بجائے نظم کہا۔ تو یہ جگہ جگہ آئے گا ذکر، جیسے قرآن ہے، قرآن کے لیے بھی الفاظ نہیں بولتے بلکہ نظم بولتے ہیں، نظم بولتے ہیں، قرآن کے جو الفاظ ہیں ان کے لیے کیا لفظ بولتے ہیں؟ نظم، کیونکہ لفظ کا معنیٰ ہوتا ہے "پھینکنا"، "پھینکنا"، اور نظم کا معنیٰ ہے "پرونا"، جیسے موتیوں کی لڑی میں پروتے ہیں اور ہار بناتے ہیں، تو یہ جو لفظ موتیوں کو لڑی میں پرونا ہے، اس کو کہتے ہیں نظم نظم۔ اور لفظ کا کیا معنیٰ ہے؟ "پھینکنا"، تو قر ادب یہ ہے کہ قرآن کے جو الفاظ ہیں ان کے لیے الفاظ کا لفظ استعمال نہ کیا جائے بلکہ کیا بولا جائے؟ نظم، یعنی قرآن کے الفاظ اتنے حسین و جمیل ہیں کہ یوں سمجھو جیسے لڑی میں پروئے ہوئے موتی ہوتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی یہ جو متن ہے، اس کی عبارت بڑی فصیح و بلیغ ہے تو شارح اس کے لیے الفاظ کے بجائے کیا لفظ لائے؟ نظم لائے، کہ اس کے اس کے الفاظ کس کی طرح ہیں؟ نظم یعنی لڑی میں پروئے ہوئے موتیوں کی طرح ہیں، خوبصورت الفاظ ہیں۔ بہرحال نظم کا آسان لفظوں میں ترجمہ ہے: الفاظ، «فِي نَظْمِ الْكَلَامِ، اَيْ فِي أَلْفَاظِ الْكَلَامِ»۔
تو کہتے ہیں، دوبارہ سنو بھئی: «قَوْلُهُ: فَهٰذَا»، مصنف کا قول: «فَهٰذَا»، «الْفَاءُ إِمَّا عَلَى تَوَهُّمِ أَمَّا»، یہ فا جو ہے یا تو توہمِ «اَمَّا» پر مبنی ہے «أَوْ عَلَى تَقْدِيرِهَا»، یا تقدیرِ «اَمَّا» پر، یعنی کہ «اَمَّا» مقدر ہے «فِي نَظْمِ الْكَلَامِ»، کہاں پر؟ نظمِ کلام میں بھئی۔
تو کیا فرق ہوا دونوں میں؟ توہمِ «اَمَّا» میں اور تقدیرِ «اَمَّا» میں کیا فرق ہوا؟ جی؟ توہمِ «اَمَّا» کا کیا معنیٰ؟ کہ مصنف ایک معنیٰ کے لحاظ۔ ہاں، توہمِ «اَمَّا» کا معنیٰ «اَمَّا» کے معنیٰ کا لحاظ کیا، اس کا لفظ کا نہیں، اس کے معنیٰ کا اعتبار کیا۔ اور تقدیرِ «اَمَّا» کا کیا معنیٰ؟ کہ خود لفظِ «اَمَّا» ہی یہاں پر کیا ہے؟ مقدر ہے اور اَلْمُقَدَّرُ كَالْمَذْكُورِ، گویا یوں سمجھو اس کو ذکر ہی کیا گیا ہے۔ تو ایک اعتبار سے دیکھا جائے، ایک ایک جواب کے اعتبار سے «اَمَّا» خود نہیں ذکر، ہاں اس کا معنیٰ یہاں ملحوظ ہے، اس کی رعایت رکھی، اور دوسرے کے اعتبار سے خود «اَمَّا» کا لفظ ہی یہاں پر ذکر ہے گویا، ذکر۔
تو یہ ہے توہمِ «اَمَّا»۔ توہمِ «اَمَّا» کا معنیٰ میں نے کیا کیا؟ کہ لکھنے والا یا بولنے والا کیا کرتا ہے؟ اس لفظ کے معنیٰ کو ملحوظ رکھتا ہے، اس لفظ کے معنیٰ کی رعایت رکھتا ہے، جبکہ عادةً وہ استعمال اسی طرح ہوتا ہو، جیسے «بَعْدُ» کے ساتھ اکثر جگہ کیا استعمال ہوتا ہے؟ «اَمَّا»۔ تو یہ عادةً عام استعمال ہوتا ہے، سب کو پتہ ہے، تمام کتابوں میں اسی طرح استعمال ہوتا ہے، «اَمَّا بَعْدُ» کہتے ہیں، تو ایک چیز کی جب عادت ہے تو شارح مصنفین کیا کرتے ہیں؟ اس میں سے کچھ حصے کو حذف کر لیتے ہیں، البتہ اس کا معنیٰ وہاں ملحوظ رکھتے ہیں، اس کے معنیٰ کا وہاں اعتبار کرتے ہیں اور اسی کے مطابق آگے کلام کرتے چلے جاتے ہیں، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ توہم، توہم۔ تو لیکن جو بعض علماء نے توہم کا معنیٰ غلط غلطی کے سمجھا کہ مصنف سے کیا ہوئی ہے؟ غلطی، وہ وہ درست نہیں ہے بھئی، توہم کا معنیٰ غلط نہیں بلکہ توہم کا معنیٰ ہے کہ اس کے معنیٰ کا لحاظ رکھا، اس کے چیز کے معنیٰ کا اعتبار کیا بھئی، اعتبار کیا۔ چنانچہ اسی وجہ سے علماء، ائمہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ قرآن میں بھی استعمال ہوا ہے اسی طرح اور حدیث میں بھی استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ علامہ سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ادب کا تقاضا یہ ہے کہ جب قرآن کے بارے میں توہم کا ذکر آپ نے کرنا ہو تو بہتر یہ ہے کہ توہم نہ کہو، بلکہ کہو: معنیٰ کا لحاظ رکھتے ہوئے۔ کیا لفظ بولو؟ معنیٰ کا لحاظ یہاں رکھا گیا ہے، توہم نہ بولو، کیونکہ توہم سے ذہن غلطی کی طرف جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اور یاد رکھیے والد صاحب کی ایک تصنیف ہے «النجم السعد في مباحث أما بعد» بھئی، اس میں اس لفظ «اَمَّا بَعْدُ» کی پوری تفصیل مذکور ہے اور اسی لفظ پر وہ کتاب لکھی گئی ہے، اور عجیب کتاب ہے بھئی! اس لفظ «اَمَّا بَعْدُ» کی اس میں تقریباً 13 لاکھ سے زیادہ ترکیبیں ذکر ہیں بھئی، 13 لاکھ سے زیادہ نحوی ترکیبیں ذکر ہیں، اور اس لفظ کا حکمِ شرعی کیا ہے؟ اس کو سب سے پہلے کس نے استعمال کیا؟ اور وغیرہ اس قسم کی ساری بحثیں اس کے اندر مذکور ہیں، اور وہیں پر آپ کو یہ توہمِ «اَمَّا» کے بارے میں بھی مل جائے گا، کتاب کے تقریباً بالکل آخری حصے میں وہ اس توہمِ «اَمَّا» پر بحث کرتے ہوئے والد صاحب تفصیل لکھتے ہیں بھئی۔ تو حوالہ بھی آپ کو مل گیا جہاں سے آپ کو توہمِ «اَمَّا» کی بحث آسانی سے مل جائے گی اور بلکہ وہاں پر پھر کئی کتابوں کے حوالے دیے گئے ہیں، تو اصل حوالے جو ہیں ان کی طرف بھی پھر آپ وہاں سے رجوع کر سکتے ہیں۔
اچھا حاصلِ کلام یہ کہ آج ہم نے «وَ بَعْدُ» کے بارے میں پڑھا۔ آپ نے پڑھا کہ یہ «بَعْدُ» جو ہے یہ ظروفِ زمانیہ میں سے ہے اور یہ غا اس کو غایہ بھی کہتے ہیں، غایہ کا معنیٰ "انتہا" کیونکہ اس پر کیا ہے؟ جب اس کا مضاف الیہ حذف ہو جائے، اس کو حذف کر لیا جائے تو اس پر کلام کی انتہا ہوتی ہے، اسی لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ غایہ کہتے ہیں۔ یا یوں کہو یوں کہو، اس کے لیے مضاف الیہ چاہیے تھا یا نہیں؟ اگر مضاف الیہ ذکر ہوتا تو اس مرکب کی انتہا کس پر ہوتی؟ مضاف الیہ پر۔ اب مضاف الیہ کو آپ نے کیا کر دیا؟ حذف، بھئی غلامُ زیدٍ غلامُ زیدٍ، اب انتہا کس پر ہو رہی ہے؟ زید پر، اور اگر آپ زید کو ہٹائیں گے تو انتہا کس پر ہو گی؟ غلام پر ہی تو، یہاں بھی اسی طرح ہے کہ «بَعْدُ» کی بعد مضاف الیہ چاہیے تھا اور اس پر وہ اس پر انتہا ہو رہی تھی اس مجموعے کی، مضاف اور مضاف الیہ کے مجموعے کی انتہا اس پر ہو رہی تھی، لیکن پھر کیا کیا گیا؟ مضاف الیہ کو حذف کر دیا گیا، تو اب انتہا کس پر ہو رہی ہے؟ مضاف پر، تو اس لیے اس کو غایہ کہتے ہیں۔ اور اس کے تین احوال ہیں: اس کے ساتھ یا تو مضاف الیہ ذکر ہو گا یا ذکر نہیں ہو گا۔ اگر ذکر نہیں تو پھر یا تو وہ نیت میں ہو گا یا «نَسْيًا مَنْسِيًّا» ہو گا۔ اگر اس کا مضاف الیہ لفظوں میں ذکر ہے یا اس کا مضاف الیہ «نَسْيًا مَنْسِيًّا» ہے، ان دو صورتوں میں تو یہ معرب ہے، اور تیسری صورت کہ مضاف الیہ کو لفظوں سے تو حذف کیا لیکن نیت میں اب بھی وہ مراد ہے، اس صورت میں یہ کیا ہے؟ مبنی ہے بھئی، مبنی ہے بھئی۔ پھر اس کے بعد انہوں نے بتلایا کہ یہ جو فا لے کر آئے جزائیہ ہے، تو یہ توہمِ «اَمَّا» پر لائے ہیں یا تقدیرِ «اَمَّا» پر لائے ہیں۔ توہمِ «اَمَّا» یعنی مصنف نے «اَمَّا» کے معنیٰ کو ملحوظ رکھا، اس کی رعایت رکھی، لفظِ «اَمَّا» نہیں موجود لیکن اس کے معنیٰ کا اعتبار کیا کہ وہ معنیٰ یہاں پر موجود ہے، اور یا یہ فا کس پر لائے؟ تقدیرِ «اَمَّا» پر کہ وہ «اَمَّا» کیا ہے؟ خود یہاں پر مقدر ہے بھئی۔
چلو بہرحال بات سمجھ آ گئی کہ نہیں؟ توہمِ «اَمَّا» سمجھ میں آیا؟ یہ ہمارے ہاں توہم کا معنیٰ کیا کیا جاتا ہے؟ غلطی، کہ مصنف کیا لے کر آئے؟ مصنف سے کو وہم ہو گیا تھا کہ انہوں نے پیچھے کیا ذکر کر دیا ہے؟ «اَمَّا» ذکر کر دیا ہے بھئی۔ تو یہ تو کتنا خطرناک ترجمہ ہے! مصنف سے ایک لفظ بعد ہی غلطی ہو رہی ہے جس کو یہی نہیں پتہ میں نے ایک لفظ پہلے کیا لکھا تھا، تو اس کی کتاب پھر کیسے پڑھتے اور پڑھاتے ہیں بھئی؟ اس پر تو اعتماد ہی ختم ہو گیا۔ پھر چلو ایک تصنیف میں غلطی ہوتی، مصنف تو ایک تصنیف کے بعد دوسری، تیسری، ہر ایک میں اسی طرح کرتے چلے جاتے ہیں۔ پھر ایک ہی مصنف نہیں، ہر آنے والا مصنف عموماً یہی طریقہ اختیار کرتا ہے، کوئی «اَمَّا بَعْدُ» ذکر کر رہا ہے تو کوئی «وَ بَعْدُ» ذکر کر رہا ہے۔ حالانکہ ایک دفعہ غلطی ہو گئی پھر تو دوبارہ کسی سے نہیں ہونی چاہیے، اور تیسرا بتلایا کہ علماء اور ائمہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ قرآن اور حدیث میں بھی یہ استعمال ہوا ہے، تو وہاں بھی یہ کہنا کہ غلطی کی ہوا، یہاں کس کی ہمت، کس کی جرات ہے کہ غلطی کی وجہ سے؟ یہ توہم کے لفظ سے غلطی کا وہم پیدا ہوتا ہے، تو یہ توہم کا لفظ استعمال کرنا ہی نہیں چاہیے، بلکہ اس کے بجائے کیا کہنا چاہیے؟ معنیٰ معنیٰ کا ملحوظ رکھتے ہوئے، کس کی رعایت رکھتے ہوئے؟ معنیٰ کی رعایت رکھتے ہوئے، معنیٰ کا اعتبار کرتے ہوئے، تو اس سے پھر غلطی کا وہم نہیں پڑے گا بھئی۔
تو توہمِ «اَمَّا» کا معنیٰ یہ ہے کہ مصنف یا متکلم کا اپنے کلام میں ایک چیز کو ذکر تو نہیں کرتا لیکن اس کے معنیٰ کا لحاظ کرتا ہے، اس کے معنیٰ کا اعتبار کرتا ہے، اور شرط اس کی یہ ہے کہ ویسا عام استعمال ہونے والا ہو، اور مصنف نے یہاں «اَمَّا» کے معنیٰ کا لحاظ کیا اور «بَعْدُ» کے ساتھ «اَمَّا» عام استعمال ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟ تو شرط یہ ہے کہ وہاں اس اس کا اس کے ساتھ وہ استعمال ہوتا ہو اور اس کا استعمال صحیح ہو، تو پھر اس لفظ کو ذکر ایک چیز کو ذکر کیے بغیر صرف اس کے معنیٰ کا لحاظ رکھنا بھی صحیح ہے اور اسی کو توہم کے ساتھ تعبیر کر دیا جاتا ہے۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔