جی، آگے دیکھئے بھئی شرح پر۔
قَوْلُهُ وَجَعَلَ لَنَا
الظَّرْفُ إِمَّا مُتَعَلِّقٌ بِجَعَلَ، وَاللَّامُ لِلْإِنْتِفَاعِ كَمَا قِيْلَ فِيْ قَوْلِهِ تَعَالَى: "جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا". وَإِمَّا بِرَفِيْقٍ، وَيَكُوْنُ تَقْدِيْمُ مَعْمُوْلِ الْمُضَافِ إِلَيْهِ عَلَى الْمُضَافِ لِكَوْنِهِ ظَرْفًا، وَالظَّرْفُ مِمَّا يُتَوَسَّعُ فِيْهِ مَا لَا يُتَوَسَّعُ فِيْ غَيْرِهِ. وَالْأَوَّلُ أَقْرَبُ لَفْظًا، وَالثَّانِيْ مَعْنًى.
بھئی دیکھئے متن پر ذرا نظر ڈالئے، گزشتہ سبق میں بھی ہم نے وہ کیا تھا۔ متن میں کیا آیا؟ بسم اللہ الرحمن الرحیم، "الحمد لله الذي هدانا سواء الطريق"، تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے جس نے ہمیں سیدھے راستے پر چلایا، "وجعل لنا التوفيق خير رفيق"، اور تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے جس نے بنایا لنا ہمارے لئے التوفيق توفیق کو خير رفيق بہترین ساتھی۔
تو میں نے ذکر کیا تھا کل بھی کہ یہ "جعل" کا عطف ہے "ہدانا" پر، اور "ہدانا" صلہ بن رہا ہے "الذی" اسم موصول کا۔ آپ جانتے ہیں آپ نے پڑھا ہے، موصول کے لئے ہمیشہ کیا چاہئے؟ صلہ۔ بغیر صلے کے موصول کا معنی سمجھ میں ہی نہیں آئے گا آپ کو، تو موصول کے لئے ہمیشہ صلہ چاہئے۔
تو یہاں پر بھی "ہدانا سواء الطريق" یہ ہے صلہ، اور اسی پر عطف ہے "وجعل لنا التوفيق خير رفيق" کا، تو یہ بھی صلہ ہوا، کیونکہ معطوف کا وہی حکم ہوتا ہے جو کس کا ہوتا ہے؟ معطوف علیہ کا۔ تو یہاں معطوف علیہ صلہ ہے، تو معطوف بھی صلہ بنے گا۔ تو معنی کیا ہو گیا کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے جس نے توفیق کو ہمارا بہترین ساتھی بنایا۔
اب آئیے شرح پر بھئی۔ قَوْلُهُ وَجَعَلَ لَنَا مصنف کا قول "وجعل لنا"، اب اس کی شرح کریں گے۔ کہتے ہیں: الظَّرْفُ إِمَّا مُتَعَلِّقٌ بِجَعَلَ۔ بھئی دیکھئے، "وجعل" کا معنی ہے کر دیا، بنا دیا۔ "لنا" ہمارے لئے، تو "لنا" لام جارہ ہے اور "نا" ضمیر کیا ہے؟ مجرور، اور یہ جار مجرور جو ہیں آپ نے پڑھا ہے یہ ظرف کہلاتے ہیں۔ کیا کہلاتے ہیں؟ مجازاً ان کو ظرف کہا جاتا ہے، اور ان کا ان کے لئے ہمیشہ متعلق چاہئے۔ یہ متعلق ہوتے ہیں اور جس سے جڑیں اس کو کیا کہتے ہیں؟ متعلق کہتے ہیں۔
اور آپ پڑھ چکے کہ یہ جو جار مجرور ہے، یہ آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک سے متعلق ہوں گے، نحو میں آپ ترکیب کے اندر آپ پڑھ چکے۔ یہ جار مجرور آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک سے متعلق ہوں گے، وہ آٹھ چیزیں یاد ہیں بھئی؟ وہ تو ہر وقت یاد ہونی چاہئیں ترکیب کے لئے، نمبر ایک: فعل، نمبر دو: مصدر، نمبر تین: اسم فاعل، نمبر چار: اسم مفعول، نمبر پانچ: صفت مشبہ، نمبر چھ: اسم تفضیل، نمبر سات: مبالغے کے صیغے، اور نمبر آٹھ: اسم فعل۔
تو جار مجرور جب بھی آئے گا، وہ ان آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک کے ساتھ متعلق ہوگا، یا تو وہ متعلق ہوگا فعل کے ساتھ يا مصدر کے ساتھ يا اسم فاعل کے ساتھ۔ میں نے بتایا تھا ایک ہوتا ہے فاعل، اور ایک ہے اسم فاعل۔ فاعل وہ ہے جس کو فعل یا صفت کا صیغہ رفع دے، جیسے "ضرب زیدٌ"، یہ "زیدٌ" کو "ضرب" نے کیا کیا؟ رفع دیا۔ تو یہ "زیدٌ" فاعل ہے، کیا ہے؟ فاعل۔ تو ایک ہوتا ہے فاعل، اور ایک ہے اسم فاعل۔ اسم فاعل وہ اس مخصوص صیغے کا نام ہے جو آپ نے گردانوں میں پڑھا ہے بھئی، ضاربٌ، مکرمٌ، مستخرجٌ، یہ کیا ہے؟ اسم فاعل۔ تو فاعل کسے کہتے ہیں؟ جسے فعل یا صفت کا صیغہ رفع دے، اور اسم فاعل وہ اس مخصوص صیغے کا نام ہے۔
اسی طرح ایک ہے مفعول، ایک ہے اسم مفعول۔ مفعول کسے کہتے ہیں؟ جسے فعل یا صفت کا صیغہ نصب دے، "ضربت زیداً"، یہ "زیداً" کیا ہے؟ مفعول ہے، کیونکہ اس کو "ضربت" نصب دے رہا ہے۔ اور ایک ہے اسم مفعول، اسم مفعول وہ مخصوص صیغہ جو آپ نے گردانوں میں پڑھا، مضروبٌ، ممنوعٌ، مکرمٌ، مستخرجٌ، پڑھا یا نہیں؟ تو یہ جو مخصوص صیغہ ہے، یہ اسم مفعول کہلاتا ہے۔ تو مفعول وہ ہے جس کو فعل یا صفت کا صیغہ نصب دے، اور اسم مفعول وہ مخصوص صیغہ جو آپ نے گردانوں میں پڑھا بھئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ اسم مفعول۔
تو بات چل رہی تھی جار مجرور کی، آپ نے پڑھا ہے کہ جار مجرور جب بھی کلام میں آئے، وہ آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک سے ضرور متعلق ہوگا۔ اور وہ آٹھ چیزیں کیا ہیں؟ یا کیا ہوگا؟ فعل، یا مصدر، یا اسم فاعل، یا اسم مفعول، یا صفت مشبہ، صفت مشبہ جانتے ہو؟ صفت مشبہ کے بہت سے اوزان ہیں، لیکن سب سے عام وزن جو اس کا ہے وہ فعیل وزن ہے، فعیل، شریفٌ، کریمٌ، سمیعٌ، حسیبٌ، یہ سب کیا ہیں؟ صفت مشبہ۔
تو جار مجرور آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک سے ضرور متعلق ہوں گے، یا کس سے؟ فعل سے، یا مصدر سے، یا اسم فاعل، یا اسم مفعول، یا صفت مشبہ، یا اسم تفضیل بھئی، یا مبالغے کے جو صیغے بنتے ہیں اسم فاعل وغیرہ سے، جیسے ضاربٌ کا معنی پٹائی کرنے والا، اسی میں مبالغہ کر کے کیا کہتے ہیں؟ ضرابٌ، بہت زیادہ پٹائی کرنے والا۔ تو ان کا بھی وہی حکم ہے جو اسم فاعل وغیرہ کا ہے۔ تو لہٰذا مبالغے کے صیغے، اور آٹھواں ہے اسم فعل۔ اسم فعل آپ نے نحو میں پڑھا ہے، کچھ اسم ہیں جو معنی فعل والا ادا کرتے ہیں، جو معنی کس کا ادا کرتے ہیں؟ فعل والا۔
تو جار مجرور ان آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک سے ضرور متعلق ہوگا۔ اور میں نے اس کا طریقہ بھی بتلایا تھا کہ ان آٹھ میں سے جو جو کلام کے اندر آئیں، ان میں سے ہر ایک کے ساتھ اس جار مجرور کو جوڑ کر ترجمہ کرتے جاؤ، جس کے ساتھ ترجمہ ٹھیک بنے معلوم ہوا یہ اس سے جڑ رہا ہے۔ تو عموماً ترجمے سے ہی پتہ چل جائے گا، عموماً بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو یہاں پر بھی دیکھئے، اب کتاب میں کیا آیا؟ "وجعل لنا التوفيق خير رفيق"، "لنا" جار مجرور آیا بھئی، اور جار مجرور کو کیا کہتے ہیں؟ ظرف، مجازاً ظرف کہتے ہیں، اور اس کا یہ ہمیشہ متعلق ہوتے ہیں اور ان کے لئے ہمیشہ کیا چاہئے؟ متعلق، اور وہ متعلق آٹھ چیزوں میں سے کوئی ایک چیز ہوگی۔ اور پھر ان کا یہ متعلق کبھی عبارت میں ذکر ہوتا ہے، اور کبھی محذوف نکالنا پڑتا ہے۔ تو اگر ان کا متعلق عبارت میں ذکر ہو، تو اس کو کہتے ہیں ظرف لغو۔ اگر ان کا متعلق عبارت میں ذکر ہو، تو اس کو کہتے ہیں ظرف لغو، اور اگر ان کا متعلق محذوف ہو، تو ان کو کہتے ہیں ظرف مستقر، ظرف مستقر۔ مستقر یاد رکھئے، یہ اسم ظرف کا صیغہ ہے، ظرف مستقر، یہ مستقر کون سا صیغہ ہے؟ اسم ظرف کا بھئی، یہ اسم مفعول کا بھی بن سکتا ہے، لیکن یہاں اس وقت یہ اسم ظرف کا صیغہ ہے بھئی۔
اچھا بات چل رہی ہے "لنا" کی، "لنا" کیا ہے؟ جار مجرور، اور یہ کیا ہے؟ ظرف، اس ظرف کے لئے کیا چاہئے؟ متعلق چاہئے، یہ متعلق ہوگا اور جس سے جڑے گا اس کو کیا کہیں گے؟ متعلق کہیں گے، تو اس کے لئے متعلق چاہئے۔ اب یہ کس سے متعلق ہو رہا ہے؟ تو یہاں تین لفظ ہیں: جعل، یہ دیکھو فعل ہے، آٹھ چیزوں میں سے فعل بھی تھی یا نہیں؟ اور صفت مشبہ بھی تھی، تو رفیق، فعیل، دیکھو یہ صفت مشبہ بھی آ رہی ہے اسی جملے میں، اور مصدر بھی تھا یا نہیں؟ تو توفیق، دیکھو تفعیل، مصدر آ رہا ہے۔ تو یہ "لنا" کس سے متعلق ہوگا؟ جعل فعل کے ساتھ، یا توفیق مصدر کے ساتھ، یا رفیق صفت مشبہ کے ساتھ؟
تو یاد رکھئے، توفیق کے ساتھ تو یہ نہیں جڑے گا، کیونکہ معنی صحیح نہیں بنتا، التوفيق لنا، التوفيق لنا، تو معنی بن جائے گا ہماری توفیق، ہماری توفیق، اور ہماری توفیق تو یہاں معنی صحیح بنتا ہی نہیں ہے، تو یہ توفیق سے جڑے گا نہیں۔ باقی کیا رہ گئے؟ جعل اور رفیق، ان دونوں سے یہ جڑ سکتا ہے۔ دیکھو جعل سے جوڑو، جعل لنا، جعل کے اندر ہو ضمیر ہے، جو راجع ہے اسم موصول الذی کو، اور الذی سے کون مراد؟ اللہ کی ذات مراد، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ صفت ہے لفظ اللہ کی، الذی، الذی۔ تو گویا جعل یوں کہو آسان لفظوں میں، جعل کی ضمیر اللہ کو راجع، بنا دے، کون بنا دے؟ اللہ بنا دے ہمارے لئے۔ دیکھو ترجمہ سنو، "وجعل لنا التوفيق خير رفيق"، اور بنایا ہمارے لئے توفیق کو بہترین ساتھی، کس نے بنایا؟ اللہ نے بنایا۔ تو گویا جعل کا فاعل کون؟ اللہ بھئی۔ لفظوں میں ضمیر کس کو راجع؟ الذی کو راجع، کیونکہ یہ صلہ ہے نا، صلے کو کس سے جوڑتے ہیں؟ موصول، اور موصول خود صفت بن رہا ہے کس کی؟ لفظ اللہ کی، تو اس سے اللہ ہی مراد۔
تو جعل کا فاعل کون ہوا؟ اللہ ہوا، تو بنایا جعل لنا ہمارے لئے اللہ نے بنایا، دیکھو یہ معنی ٹھیک ہو رہا ہے، اللہ نے ہمارے لئے بنایا، تو "لنا" جعل سے متعلق ہو سکتا ہے۔ اسی طرح "لنا" رفیق سے بھی متعلق ہو سکتا ہے، خير رفيق لنا ہمارا بہترین ساتھی، رفیق کا کیا معنی؟ ساتھی، خیر جس کے ساتھ جوڑنا ہے اس کے ساتھ اس کے بعد لے آؤ، خير رفيق لنا ہمارا بہترین ساتھی، اللہ نے توفیق کو ہمارا بہترین ساتھی بنایا، تو معلوم ہوا یہ رفیق کے ساتھ بھی جڑ سکتا ہے۔
توفیق کے ساتھ نہیں جڑے گا معنی صحیح نہیں بنتا، البتہ جعل سے بھی جڑ سکتا ہے اور رفیق سے بھی۔ یہی شارح بھی ذکر کریں گے، کہ یہ "لنا" یا تو متعلق ہے کس سے؟ جعل سے، یا یہ متعلق ہے کس سے؟ رفیق سے۔
دیکھئے بھئی کتاب پر، کہتے ہیں: قَوْلُهُ وَجَعَلَ لَنَا، الظَّرْفُ إِمَّا مُتَعَلِّقٌ بِجَعَلَ، یہ ظرف جو ہے یا تو یہ متعلق ہے کس کے ساتھ؟ جعل کے ساتھ، متعلق ہو رہا ہے یعنی جڑ رہا ہے، یہ یا تو جڑ رہا ہے جعل کے ساتھ، اور آگے آ رہا ہے، اگلی سطر میں آ رہا ہے: وَإِمَّا بِرَفِيْقٍ، یا یہ کس کے ساتھ متعلق ہے؟ رفیق کے ساتھ۔
اب جعل کے ساتھ یہ جڑے، تو اس پر اشکال ہوتا ہے۔ اشکال یہ کہ "وجعل لنا" جڑنا کس نے ہے؟ لنا نے، اور "لنا" میں لام جارہ ہے اور "نا" ضمیر کیا ہے؟ مجرور، اور یہ جو لام ہے نا لام، یہ علت بیان کرنے کے لئے آتا ہے۔ یوں کہو، یہ لام تعلیل کے لئے آتا ہے، کس کے لئے؟ تعلیل کا معنی ہے علت بیان کرنا، کسی چیز کی وجہ بیان کرنا۔ مثلاً میں کہتا ہوں "ضربت زیداً"، میں نے زید کی پٹائی کی، آپ مجھ سے پوچھتے ہیں کیوں پٹائی کی؟ میں کہوں گا "لتأدیب"، ادب سکھانے کے لئے۔ دیکھا؟ لام کے ذریعے میں کیا ذکر کر رہا ہوں؟ وجہ ذکر کر رہا ہوں، تو یوں کہوں گا پورا جملہ: ضربت زیداً للتأدیب، میں نے زید کی پٹائی کی ادب سکھانے کے لئے۔ تو معلوم ہوا اس ظرف کی وجہ کیا ہے؟ ادب سکھانا، کس نے بتایا؟ لام نے بتایا، کیونکہ لام کس لئے آتا ہے؟ علت بیان کرنے کے لئے، اسی کو یوں کہیں تعلیل کے لئے آتا ہے، تعلیل کا کیا معنی؟ علت بیان کرنا، ایک ہی لفظ بنا ہے۔
تو لام آتا ہے تعلیل کے لئے، تو یہاں پر بھی "لنا" آیا، "لنا" آیا اور لام آتا ہے کس کے لئے؟ تعلیل کے لئے، لیکن اس صورت میں خرابی یہ ہے کہ اس صورت میں اگر "لنا" کو جعل سے جوڑیں، تو اللہ کے افعال کا معلل بالاغراض ہونا لازم آئے گا، اور افعال کا معلل بالاغراض ہونا یہ محتاج ہونے کی علامت ہے، تو یہ معنی درست نہیں، کیونکہ اس صورت میں تو معنی یہ بن جائے گا کہ معنی یہ بن جائے گا کہ اللہ محتاج ہیں، حالانکہ اللہ کسی چیز کے محتاج نہیں، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ کہ اگر "لنا" کو کس سے جوڑیں؟ جعل سے، تو "لنا" میں تو لام ہے، اور لام کس لئے آتا ہے؟ علت بیان کرنے کے لئے، اور یاد رکھو ہمارے جو افعال ہیں نا، وہ معلل بالاغراض ہوتے ہیں۔
توجہ ہے؟ ہمارے افعال کیا ہوتے ہیں؟ معلل بالاغراض، یعنی ہم جو بھی کام کرتے ہیں، اس میں ہمارا کوئی اس میں ہماری کوئی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً آپ گاڑی خریدنے لگے، آپ کے ساتھی نے کہا آپ گاڑی کیوں خریدتے ہیں؟ آپ نے کہا کہ مجھے فلاں جگہ سفر کرنا ہوتا ہے، فلاں جگہ سفر کرنا ہوتا ہے، مجھے اس کی ضرورت ہے۔ دیکھا؟ آپ نے اپنے فعل کی ایک وجہ بیان کی، ایک علت بیان کی۔ تو آپ کے افعال کیا ہوئے؟ معلل، معلل دیکھو تعلیل کا کیا معنی؟ علت بیان کرنا، معلل اسم مفعول کا صیغہ، وہ چیز جس کی علت بیان کی جائے۔ تو آپ کا یہ گاڑی خریدنا، یہ جو فعل ہے، اس کی علت بیان کی گئی، تو یہ فعل کیا ہوا؟ معلل، اور اس کی علت بیان کی گئی کس چیز کے ساتھ؟ بالاغراض، بالغرص، آپ کی کوئی غرض اور مقصد تھا یا نہیں اس کے اندر؟ تو آپ کے جتنے افعال ہوتے ہیں وہ معلل بالاغراض ہوتے ہیں، یعنی ان کی کوئی غرض ذکر کی جاتی ہے، آسان لفظوں میں یوں کہو ہماری اس میں ہمیں اس کی ضرورت تھی۔
مثلاً دوسری مثال لیں، آپ سبق لکھ رہے ہیں، آپ کے ساتھی نے کہا بھئی لکھ کیوں رہے ہو؟ زبانی یاد رکھ کر سن لو، یاد رکھو، آپ کہتے ہیں نہیں مجھے ضرورت ہے، میں بھول جاتا ہوں، دیکھا؟ آپ نے اپنی ضرورت ذکر کی۔ اسی طرح آپ سے کس نے پوچھا آپ نے چارپائی کیوں خریدی؟ آپ نے کہا مجھے ضرورت تھی آرام کرنے کے لئے، یا آپ چارپائی بنا رہے ہیں، آپ کے ساتھی نے کہا چارپائی کیوں بنا رہے ہو؟ آپ جواب میں کیا کہیں گے کہ مجھے اس کی ضرورت ہے، میں اس پر آرام کروں گا۔
تو صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ ہمارے جو افعال ہوتے ہیں، وہ کیا ہوتے ہیں؟ معلل بالاغراض ہوتے ہیں، یعنی ان کی علت اور وجہ بیان کی جاتی ہے بالاغراض کس کے ساتھ؟ غرضوں کے ساتھ، کہ ہماری اس میں یہ غرض تھی، یہ مقصد تھا، آسان لفظوں میں یوں کہو، ہماری اس میں ہمیں اس کی ضرورت تھی۔ اور یہ محتاج ہونے کی علامت ہے، معلوم ہوا آپ محتاج ہیں سونے کے لئے چارپائی کے، معلوم ہوا سفر کے لئے آپ محتاج ہیں گاڑی کے۔ تو ہمارے افعال کیا ہوتے ہیں؟ معلل بالاغراض ہوتے ہیں، یعنی ہم ان افعال کے محتاج ہوتے ہیں، ضرورت ہوتی ہے ہمیں ان افعال کے کرنے کی، اور یہ محتاج ہونے کی علامت۔
تو لام یہاں آیا، اور لام کس لئے آتا ہے؟ تعلیل کے لئے، اور اس کو کس سے جوڑ رہے ہیں؟ جعل کے ساتھ، اور جعل کا فعل کرنے والی ذات کون؟ کس نے کیا توفیق کو بہترین ساتھی؟ اللہ نے، تو گویا لام جب جعل سے جڑا، تو یہ تعلیل کس کی ہوئی؟ "لنا" لام کس لئے؟ تعلیل کے لئے، اور تعلیل کس کی بیان ہو رہی ہے؟ اللہ کے فعل کی، کیونکہ جعل اللہ کا فعل ہے نا، اللہ نے کر دیا۔ تو اللہ کے فعل کیا بن گیا؟ معلل بالاغراض، اور معلل بالاغراض ہونا یہ تو کس کی علامت ہے؟ محتاج ہونے کی، تو اس کا تو معنی گویا یہ بن گیا کہ اللہ محتاج ہیں، اور یہ معنی تو بالکل غلط ہے، کیونکہ اللہ کسی چیز کے محتاج اور ضرورت مند نہیں ہیں بھئی۔
اعتراض سمجھ میں آیا؟ کیا اعتراض؟ کہ "لنا" کو اگر کس سے جوڑیں؟ جعل سے، تو اللہ کے افعال کا معلل بالاغراض ہونا لازم آئے گا، اور یہ محتاج ہونے کی علامت ہے، تو معنی درست نہیں رہے گا۔ تو آپ کو شارح بتلائیں گے کہ یہ لام تعلیل اور علت کے لئے نہیں ہے، یہ لام انتفاع کے لئے ہے، یہ لام انتفاع کے لئے ہے، نفع بیان کرنے کے لئے ہے، "وجعل لنا" اللہ نے ہمارے فائدے کے لئے بنایا، تو اس میں ہمارا فائدہ ہے، اللہ کا کوئی فائدہ نہیں۔ یاد رکھئے اللہ کے جو افعال ہوتے ہیں، وہ معلل بالاغراض نہیں، بلکہ ان میں ان کی حکمتیں ہوتی ہیں جو اور جو ان پر مرتب ہوتی ہیں۔ اللہ کے افعال کی حکمتیں ہوتی ہیں جو ان افعال پر مرتب ہوتی ہیں، اللہ ان میں سے کسی چیز کے محتاج نہیں ہیں بھئی۔
دیکھئے اب کتاب پر، تو کہتے ہیں: الظَّرْفُ إِمَّا مُتَعَلِّقٌ بِجَعَلَ، یہ ظرف جو ہے یا تو متعلق ہے جعل کے ساتھ، وَاللَّامُ لِلْإِنْتِفَاعِ، اور لام جو ہے وہ انتفاع کے لئے ہے، علت کے لئے نہیں، تو کہتے ہیں: وَاللَّامُ لِلْإِنْتِفَاعِ، اور لام جو ہے انتفاع کے لئے ہے، انتفاع کا معنی فائدہ ہونا، فائدہ ہونا۔ وَاللَّامُ لِلْإِنْتِفَاعِ كَمَا قِيْلَ فِيْ قَوْلِهِ تَعَالَى، اور لام انتفاع کے لئے ہے جیسا کہ کہا گیا ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول میں: جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا۔ جعل بنا دیا اللہ نے، لكم تمہارے لئے، الأرض زمین کو، فراشاً بچھونا۔ فراش کسے کہتے ہیں؟ بچھونا۔ اللہ نے زمین کو تمہارے لئے بچھونا بنا دیا۔
اب دیکھو یہاں پر بھی "لکم" آیا، لام آیا، اور لام کس سے متعلق ہے؟ جعل سے، اور لام تو کس لئے آتا ہے؟ تعلیل کے لئے، تو اشکال کیا ہوتا تھا کہ اللہ کے افعال معلل بالاغراض ہو رہے ہیں، تو مفسرین کیا جواب دیتے ہیں کہ یہ لام علت کے لئے نہیں ہے بلکہ انتفاع کے لئے ہے، کہ اللہ نے ہمارے نفع اور ہمارے فائدے کے لئے ایسا کیا، اللہ کے اپنے کوئی اس میں غرض یا ضرورت نہیں تھی۔ تو اللہ کے افعال کی حکمتیں ہوتی ہیں جو ان پر مرتب ہوتی ہیں۔
یہاں تک تقریر سمجھ میں آ گئی؟ جیسے اس آیت کے اندر لام جو ہے وہ انتفاع کے لئے ہے، اسی طرح یہاں اوپر متن میں بھی جو "لنا" آیا، وہاں بھی لام انتفاع کے لئے ہے۔
وَإِمَّا بِرَفِيْقٍ، یا "لنا" کس کے ساتھ متعلق ہے؟ رفیق کے ساتھ۔ اس صورت میں اشکال یہ ہوتا ہے کہ دیکھئے، "خير رفيق"، "خیر" ہے مضاف اور "رفیق" کیا ہے؟ مضاف الیہ، اور مجھے بتائیے کیا کبھی مضاف الیہ اپنے مضاف پر مقدم ہو سکتا ہے؟ نہیں، پہلے ہمیشہ مضاف آتا ہے، پھر کون آتا ہے؟ مضاف الیہ، اور مضاف الیہ کبھی بھی مضاف پر مقدم نہیں ہو سکتا۔ اگر آپ اس کو مقدم کر دیں گے، تو یہ کچھ اور بن جائے گا، مضاف الیہ نہیں رہے گا۔ مضاف الیہ رہتے ہوئے ہی یہ کیا ہو جائے؟ مقدم ہو جائے، ایسا کبھی بھی نہیں، پھر ترکیب ہی بدل جائے گی اگر آپ اس کو اٹھا کر مقدم کر دیتے ہیں، پھر یہ مضاف الیہ رہے گا ہی نہیں۔ کیونکہ مضاف الیہ ہمیشہ کس کے بعد آتا ہے؟ مضاف کے بعد، مضاف اس میں عامل ہوتا ہے، عمل کرتا ہے اور اس کو جر دیتا ہے، "غلام زیدٍ"، یہ "زیدٍ" کو جر کون دے رہا ہے؟ "غلام" جر دے رہا ہے، تو مضاف عامل ہوتا ہے اور وہ عمل کرتا ہے اور مضاف الیہ کو جر دیتا ہے۔
اب مجھے بتائیے، کیا یہ "رفیق" "خیر" پر مقدم ہو سکتا ہے؟ نہیں ہو سکتا، کیونکہ "خیر" عامل ہے اور "رفیق" اس کے لئے معمول ہے اور مضاف الیہ ہے، اور مضاف الیہ کبھی اپنے مضاف پر مقدم نہیں ہو سکتا۔ اب دیکھئے آپ اس "لنا" کو کس سے جوڑ رہے ہیں؟ رفیق سے، اور یاد رکھئے یہ جار مجرور، یہ جار مجرور جس سے جڑتے ہیں، یہ اس کے معمول ہوتے ہیں۔ کیا ہوتے ہیں؟ معمول، یعنی وہ اس کے اندر عامل ہوتا ہے۔ اگر آپ "لنا" کو جعل سے جوڑ رہے ہیں، تو جعل ہوا عامل اور "لنا" کیا ہوا؟ معمول، اس کے اندر وہ عمل کر رہا ہے۔ تو جب اس "لنا" کو آپ کس سے جوڑ رہے ہیں؟ رفیق سے، تو رفیق ہوا عامل اور "لنا" کیا ہوا؟ معمول۔
اور مجھے بتائیے عامل کا درجہ اعلیٰ اور وہ طاقتور ہوتا ہے یا معمول کا درجہ زیادہ ہوتا ہے؟ ظاہر سی بات ہے، عامل کا درجہ زیادہ، کیونکہ وہ عمل کر رہا ہے، اس کو اعراب دے رہا ہے باقاعدہ۔ تو یہاں پر آپ دیکھیں، "رفیق" یہ عامل ہے، اور یہ خود "خیر" پر مقدم ہو سکتا ہے؟ نہیں، بھئی مضاف الیہ ہے نا، مضاف الیہ کبھی بھی مضاف پر مقدم نہیں ہو سکتا۔ تو یہاں جو عامل ہے یعنی کون؟ رفیق، یہ رفیق "خیر" پر مقدم نہیں ہو سکتا، تو رفیق کا جو معمول ہے وہ کیسے "خیر" پر مقدم ہو گیا؟ اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟ کہ یہاں رفیق خود "خیر" پر مقدم نہیں ہو سکتا، تو اس کا معمول تو بطریق اولیٰ "خیر" پر کبھی بھی مقدم نہیں ہو سکتا۔
تو یہ کیسے اس کے ساتھ متعلق ہوگا؟ کیسے اس کے ساتھ جڑے گا؟ تو اس کا جواب آپ کو دیں گے، کہ بھئی ہاں، کوئی اور معمول ہوتا تو کبھی بھی مقدم نہیں ہو سکتا تھا۔ کوئی مفعول ہوتا، حال وغیرہ ہوتا، تو پھر مقدم نہیں ہو سکتا تھا۔ لیکن یہ "لنا" ظرف ہے، اور ظروف کے اندر ان چیزوں کی گنجائش ہوتی ہے جس کی گنجائش اور معمولوں کے اندر نہیں ہوتی۔ تو جب یہ ظرف ہے، تو اس کا تعلق اپنے معمول، اپنے عامل کے ساتھ بہت قوی ہے۔ یہ چاہے بعد میں آئے، چاہے پہلے آ جائے، عامل اس کے اندر عمل کر لے گا۔ باقی تو صورتوں میں کیا تھا؟ اگر کسی اور معمول کو ہم رفیق پر کیا کر دیتے؟ "خیر" پر کیا کر دیتے؟ مقدم کر دیتے، پھر تو رفیق اس میں عمل ہی نہیں کر سکتا تھا، لیکن یہ ظرف ہے، تو اب بھی رفیق اس کے اندر کیا کرے گا؟ عمل کرے گا۔
क्योंकि ظروف کا تعلق فعل کے ساتھ یا صفات کے ساتھ بڑا گہرا ہوتا ہے۔ بھئی کیسے گہرا ہوتا ہے؟ بھئی دیکھئے، دنیا کا کوئی بھی فعل ہو، اس کے لئے ہمیشہ ظرف چاہئے۔ میں نے مثلاً میں کہتا ہوں "ضربت"، میں نے پٹائی کی، بھئی یہ ضرب کسی زمانے میں ہوگی یا نہیں؟ بغیر زمانے کے ہو سکتی ہے؟ نہیں، اس کے لئے زمانہ ہمیشہ چاہئے، اور زمانہ کس کا، زمانے کو کیا کہتے ہیں؟ ظرف ہی تو کہتے ہیں۔ اور نیز میری پٹائی کے لئے کوئی جگہ بھی چاہئے یا نہیں چاہئے؟ یا میں نے بازار میں کھڑے ہو کر کسی کی پٹائی کی یا، یا مدرسے کے اندر کسی کی پٹائی کی، جگہ تو ضرور چاہئے، تو دیکھو اس کے لئے کوئی زمانہ بھی چاہئے اور کوئی جگہ بھی چاہئے۔ تو یہ دنیا کے ہر فعل میں ایسا ہوگا، "أكل"، اس نے کھانا کھایا، کوئی جگہ بھی چاہئے اور کوئی زمانہ بھی چاہئے، "يأكل"، وہ کھانا کھائے گا، جگہ بھی چاہئے اور زمانہ بھی چاہئے، اور کیا؟ "مشيت"، میں چلا، جی کوئی جگہ بھی چاہئے اور کوئی زمانہ، "سمعت"، میں نے سنا، کہیں جگہ بھی ہوگی جہاں سنا اور کوئی زمانہ بھی ہوگا جس میں سنا۔ تو ہر فعل کے لئے ظرف چاہئے، یعنی جگہ بھی اور زمانہ بھی، تو ظروف کا تعلق فعل کے ساتھ بڑا گہرا ہوتا ہے، اس لئے ان کے اندر ان چیزوں کی گنجائش جس کی گنجائش اور معمولوں کے اندر نہیں، تو کوئی اور معمول ہوتا، تو وہ کبھی بھی یہاں رفیق پر مقدم نہیں ہو سکتا تھا، لیکن یہ "لنا" ظرف ہے اور اس کے اندر گنجائش ہے، یہ مقدم بھی ہو گیا پھر بھی رفیق اس کے اندر عمل کرے گا۔
جواب سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں: وَإِمَّا بِرَفِيْقٍ، یا یہ ظرف متعلق ہے رفیق کے ساتھ، وَيَكُوْنُ تَقْدِيْمُ مَعْمُوْلِ الْمُضَافِ إِلَيْهِ، اور جو مقدم کرنا ہے مضاف، معمول المضاف الیہ، کس کو مقدم کرنا ہے؟ مضاف الیہ کے معمول کو، "خیر" کیا ہے؟ مضاف، اور "رفیق" کیا ہے؟ مضاف الیہ، اور "لنا" اس کے لئے کیا ہے رفیق کے لئے؟ یعنی مضاف الیہ کے لئے معمول ہے۔ تو یہ، تو وَيَكُوْنُ تَقْدِيْمُ مَعْمُوْلِ الْمُضَافِ إِلَيْهِ عَلَى الْمُضَافِ، اور مضاف الیہ کے معمول کو مقدم کرنا "على المضاف" کس پر؟ مضاف پر، لِكَوْنِهِ ظَرْفًا، اس وجہ سے کہ وہ ظرف ہے، وَالظَّرْفُ مِمَّا يُتَوَسَّعُ فِيْهِ، اور ظرف جو ہے "مما" ان چیزوں میں سے ہے، يُتَوَسَّعُ فِيْهِ کہ اس میں گنجائش ہوتی ہے، اس میں وسعت ہوتی ہے، مَا لَا يُتَوَسَّعُ فِيْ غَيْرِهِ، کہ جس کی گنجائش اس کے غیر میں نہیں ہوتی۔ ظروف کے اندر ان چیزوں کی گنجائش ہوتی ہے جن کی گنجائش اور چیزوں میں نہیں ہوتی، لہٰذا یہ مقدم ہو سکتا ہے۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ وَالْأَوَّلُ أَقْرَبُ لَفْظًا وَالثَّانِيْ مَعْنًى۔ مصنف نے آپ کو بتلایا کہ جار مجرور جو ہے، ظرف، یہ جعل سے بھی متعلق ہو سکتا ہے اور اس صورت میں پھر اشکال ہوتا ہے کہ یہ تو لام تعلیل کے لئے ہے، تو جواب دے دیا کہ لام تعلیل کے لئے نہیں ہے بلکہ کس لئے ہے؟ انتفاع کے لئے، اور اگر اس "لنا" کو جوڑیں رفیق سے، تو بھی اعتراض ہوتا ہے کہ یہ توفیق خود "خیر" پر مقدم نہیں ہو سکتا، تو پھر یہ "لنا" جو اس کا معمول ہے وہ کیسے مقدم ہو گیا؟ تو جواب دے دیا کہ "لنا" ظرف ہے اور ظروف کے اندر ان چیزوں کی گنجائش ہوتی ہے جس کی گنجائش غیر ظروف میں نہیں ہوتی، اس لئے، تو اس کا بھی جواب دے دیا۔
آگے شارح فرماتے ہیں: وَالْأَوَّلُ أَقْرَبُ لَفْظًا وَالثَّانِيْ مَعْنًى، کہ پہلی صورت یعنی کہ "لنا" کو کس سے جوڑا جائے؟ جعل سے، یہ اقرب، زیادہ قریب ہے لفظاً باعتبار لفظوں کے، وَالثَّانِيْ مَعْنًى، اور دوسری صورت کہ کس کے ساتھ جوڑا جائے؟ رفیق کے ساتھ، یہ معنی کے اعتبار سے زیادہ قریب ہے، یعنی بہتر ہے۔ اگر "لنا" کو کس سے جوڑیں؟ جعل سے، تو یہ لفظوں کے اعتبار سے زیادہ قریب، آپ بھی دیکھ رہے ہیں "لنا" کس کے لفظوں میں کس کے زیادہ قریب ہے؟ جعل کے، تو یہ لفظوں کے اعتبار سے زیادہ قریب، ہاں لیکن رفیق سے بے شک دور ہے، لیکن جعل کے قریب، تو یہ لفظوں کے اعتبار سے قریب ہے، اگر اس کو کس سے جوڑیں؟ جعل سے، اور رفیق سے جوڑیں، تو لفظوں کے اعتبار سے اگرچہ زیادہ قریب نہیں، لیکن معنی کے اعتبار سے زیادہ قریب ہے، کیونکہ اس صورت میں اس پر اشکال نہیں ہوتا۔ ایک معمولی سا اشکال ذہن میں آتا بھی ہے، لیکن اس کا جواب بتا دیا کہ یہ اشکال کوئی نہیں، کیونکہ یہ ظرف ہے اور ظروف کے اندر وسعت ہوتی ہے۔
بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ پہلی پر لفظوں کے اعتبار سے زیادہ قریب ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے زیادہ قریب نہیں، کیونکہ وہاں اشکال ہوتا ہے۔ اور دوسری دوسری لفظوں کے اعتبار سے تو قریب نہیں، لیکن معنی کے اعتبار سے زیادہ قریب ہے، بہتر ہے، کیونکہ وہاں کوئی اشکال نہیں ہوتا۔
وَالْأَوَّلُ أَقْرَبُ لَفْظًا وَالثَّانِيْ مَعْنًى، اور پہلا لفظوں کے اعتبار سے زیادہ قریب ہے، کیونکہ "لنا" کس کے زیادہ قریب؟ جعل کے، اور دوسرا معنی کے اعتبار سے زیادہ قریب ہے، کیونکہ وہاں کوئی اشکال نہیں ہوتا، اور وہاں کوئی اشکال نہیں ہوتا۔ نیز یاد رکھو، دوسرا معنی کے اعتبار سے زیادہ قریب ہے، کیونکہ رفیق کے لئے ہر حال میں ایک "لنا" چاہئے۔ ماقبل میں "لنا" کو اگر اس سے آپ نے نہ جوڑا، تو اس کے لئے ایک اور "لنا" محذوف نکالنا پڑے گا۔ میں آپ سے کہتا ہوں زید دوست ہے، میں کیا کہتا ہوں؟ آپ کہیں گے بھئی بات تو پوری کریں، کس کا دوست ہے؟ تو دوست کس کا ہے؟ یہ چاہئے یا نہیں؟ رفیق کا کیا معنی؟ ساتھی، کس کا ساتھی؟ لنا، ہمارا ساتھی۔ تو لنا چاہئے یا نہیں چاہئے؟ تو لہٰذا پہلا لفظوں کے اعتبار سے قریب ہے "لنا" جعل کے، لیکن دوسرا رفیق کے ساتھ جوڑیں، تو وہ معنی کے اعتبار سے زیادہ قریب ہے، کیونکہ رفیق کے لئے ہر حال میں ہمیں "لنا" چاہئے، اور نیز وہاں کوئی اشکال بھی نہیں ہوتا، اور اگر آپ اس کو نہیں جوڑتے، تو اس رفیق کے لئے کیا کرنا پڑے گا؟ ایک اور "لنا" کو محذوف نکالنا پڑے گا۔
جی، تو وَالْأَوَّلُ، پھر توجہ سے، توجہ سے، وَالْأَوَّلُ أَقْرَبُ لَفْظًا، پہلی صورت جو ہے وہ لفظوں کے اعتبار سے زیادہ قریب، معنی کے اعتبار سے زیادہ قریب نہیں۔ وَالثَّانِيْ مَعْنًى، اور دوسری معنی کے اعتبار سے زیادہ قریب ہے، لفظوں کے اعتبار سے اگرچہ زیادہ قریب نہیں ہے۔
یہ تھی ایک آسان تقریر جو کر دی میں نے، اب آئیے ذرا آپ کو گہرائی میں لے کر جائیں۔ سمجھ میں آیا؟ یہ منطق ہے، آپ کو پتہ چلے منطق کس چیز کو کہتے ہیں، یہ بہت مشکل مقام ہے بھئی، لیکن انشاء اللہ اللہ آسان فرما دیں گے بھئی۔
یہ ایک آسان ترکیب میں نے، آسان معنی بیان کیا کہ لفظوں کے اعتبار سے زیادہ قریب ہے، اور دوسری میں معنی کے اعتبار سے زیادہ قریب، کیونکہ وہاں کوئی اشکال نہیں ہوتا۔
دوسری تقریر سنو بھئی، دوسری تقریر اس مقام کی، ذرا گہری ہے بھئی، کہ جو پہلا "لنا" کو اگر جعل سے متعلق کریں، یہ لفظوں کے اعتبار سے تو زیادہ قریب ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے زیادہ قریب نہیں، کیونکہ اس صورت میں خرابی لازم آتی ہے، اور کیا خرابی لازم آتی ہے؟ تخللِ جعل بین الشیء وذاتیہ او لوازمہ لازم آتا ہے۔ کیا لازم آتا ہے؟ تخللِ تخللِ جعل، یہ لفظ لکھ لیں، ذرا لکھ لیں اپنے سامنے، یہ بار بار ہم دہرائیں گے، آپ کو یاد بھی ہو جائیں گے، لیکن سمجھنے کے لئے شروع میں لکھ لیں بھئی۔
تخلل، لکھ لیا؟ تخللِ جعل، بین الشیء، الف لام کے ساتھ ہے، بین الشیء وذاتیاتہ وذاتیاتہ او لوازمہ ممتنعٌ، ممتنعٌ۔ یا عربی عبارت پڑھنا چاہیں، یوں پڑھ لیں: تخللُ جعلٍ تخللُ جعلٍ بین الشیء وذاتیاتہ او لوازمہ ممتنعٌ۔ کیا لکھا آپ نے؟ تخللِ جعل بین الشیء وذاتیاتہ او لوازمہ ممتنعٌ، لکھ لیا بھئی؟ اچھا، اب اس کو سمجھ لیں۔
تخلل کا معنی ہے بیچ میں آنا، تخلل کا معنی بیچ میں آنا۔ جعل کا معنی ہے کر دینا، بنا دینا، ابھی گزرا، کر دیا، بنا دیا۔ اور ایک ہے شے، اور ایک ہے اس کی ذاتیات اور اس کے لوازم۔ توجہ ہے؟ ہاں، ایک ایک چیز میں بیان کروں گا انشاء اللہ، انشاء اللہ اللہ آسان فرما دیں گے بھئی۔
تخلل کا کیا معنی؟ بیچ میں آنا۔ جعل کا کیا معنی؟ بنا دینا، کر دینا۔ اور پھر ایک ہوتی ہے شے، ایک ہے اس کی ذاتیات اور ایک اس کے لوازم۔ شے کی ذاتیات وہ ہیں جن سے وہ چیز مل کر بنے، جیسے انسان، انسان کی حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ ناطق۔ تو یہ حیوان اور ناطق، یہ دو پرزے ملے، تو کس کا وجود ہوا؟ انسان کا۔ یہ دو پرزے جب تک اکٹھے نہیں، کیا انسان ہو سکتا ہے؟ نہیں، یہ دو پرزے ہوں گے، تو انسان کا وجود ہوگا، یہ دو پرزے اکٹھے نہیں، تو انسان کا وجود بھی نہیں۔
تو یہ جو جن پرزوں سے کوئی چیز بنے، اس کو اس کی ذاتیات کہتے ہیں۔ یہ اس کی ذات میں داخل ہیں نا، انہی سے اس کی ذات بن رہی ہے، تو ان کو کیا کہتے ہیں؟ اس شے کی ذاتیات۔ تو انسان کے لئے ذاتیات کیا ہیں؟ حیوان اور ناطق بھئی، حیوان اور ناطق۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح اور دیکھ لیجئے، مثلاً جیسے مثلاً گھوڑا ہے، گھوڑے کی حقیقت کیا؟ حیوانِ صاہل، ہنہنانے والا حیوان۔ جب تک یہ دو پرزے نہیں ملیں گے، گھوڑے کا وجود نہیں، اور جب گھوڑے کا وجود جہاں بھی ہے، وہاں وہ دو پرزے ہیں بھئی، دونوں۔ تو یہ حقیقت اور ماہیت ہے، کیا ہے؟ حقیقت اور انسان کی حقیقت اور ماہیت کیا؟ حیوانِ ناطق، اور یہی اس کی ذاتیات ہیں، اسی سے ان کی ذات بن رہی ہے۔ تو حیوان بھی انسان کے لئے ذاتی، اور ناطق بھی انسان کے لئے ذاتی، یعنی اس کی ذات میں داخل ہے، اور گھوڑے کے لئے ذاتی کیا؟ حیوان اور صاہل، حیوان بھی اس کے لئے ذاتی، اور صاہل بھی اس کے لئے ذاتی ہے بھئی۔
تو جن چیزوں سے کوئی چیز بنے، یعنی کسی چیز کی جو حقیقت اور ماہیت ہے، اس کو اس چیز کی ذاتیات کہا جاتا ہے۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی؟ تو ذاتی نام سے بھی پتہ چل رہا ہے، ذاتی، کیا معنی؟ کہ اس کی ذات میں داخل ہے، اس کی ذات کا حصہ ہے، جب تک یہ نہیں ہوگی اس چیز کا وجود نہیں ہوگا، اور کچھ چیزیں ہیں وہ لازم ہوتی ہیں دوسری چیز کے ساتھ، اس کی ذات میں تو نہیں داخل، لیکن اس کے ساتھ لازم ہوتی ہیں، جیسے سورج کے نکلنے کے ساتھ دن کا ہونا لازم۔ اب یہ دن کا ہونا یہ سورج کی کوئی ذات کا حصہ نہیں، دن تو یہاں دنیا میں ہو رہا ہے، سورج تو وہاں آسمان پر ہے، تو یہ اس کی کوئی ذات کا حصہ نہیں، ہاں اس کے ساتھ لازم ہے، کیا ہے؟ لازم ہے، تو لازم وہ چیز ہوتی ہے کہ دوسری چیز جب بھی پائی جائے، یہ ضرور پایا جائے، یہ اس کے ساتھ دیکھو لازم ہے، وہ جب بھی ہے یہ دوسری چیز بھی ہے۔ ہاں یہ اس کی ذات میں داخل نہیں، لہٰذا اس کو ذاتی نہیں کہیں گے۔
جیسے بلب جب بھی جلے گا، کیا ہوگی؟ روشنی ضرور ہوگی، تو بلب کے جلنے کے ساتھ روشنی کا ہونا لازم ہے، لیکن یہ اس کی ذات کا حصہ نہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ کسی شے کی ذاتیات کسے کہتے ہیں؟ جن سے وہ شے مل کر بنے، اور جو اس کی ذات میں داخل ہوں، اور لوازم کسے کہتے ہیں کسی شے کے؟ جو اس کی ذات میں تو نہیں داخل، لیکن اس کے ساتھ لازم ہیں، وہ شے جب بھی پائی جائے گی، یہ دوسری شے جو اس کے ساتھ لازم ہے یہ بھی ضرور پائی جائے گی۔
اب یاد رکھو، کسی شے کی ذاتیات یا کسی شے کے لوازم اور شے کے درمیان جعل کا واسطہ لانا، جعل کا واسطہ آنا یہ ممتنع ہے۔ یہ کیا ہے؟ ممتنع ہے، کیونکہ جعل کا معنی ہے کر دینا، بنا دینا۔ مثلاً دیکھو میرے پاس مٹی پڑی ہے، خالی مٹی پڑی ہے، اور پھر میں نے اس مٹی سے ایک پیالہ بنا دیا، تو اب میں کیا کہوں گا؟ "جعلت الطین كأساً"، جعلت، میں نے کر دیا، میں نے بنا دیا، الطین، کس کو؟ مٹی کو، گارے کو، کیا بنا دیا؟ كأساً، گلاس بنا دیا، پیالہ بنا دیا۔ تو دیکھو کر دینا، بنا دینا وہاں کہتے ہیں جہاں ایک چیز پہلے وہ نہ ہو، یہ پہلے پیالہ یہ والا اس مٹی کا اس سے پیالہ تھا؟ نہیں، یہ مٹی تھی، لیکن میں نے پھر کیا بنا دیا اس سے؟ پیالہ، تو اب میں کہوں گا "جعلت الطین كأساً"۔ جعل کا کیا معنی؟ کر دینا، بنا دینا، کرنا اور بنانا کہاں ہوگا؟ جہاں وہ ایک چیز پہلے اس کا وہ حالت یا وہ چیز نہیں تھی، لیکن اگر ایک چیز پہلے سے ہی وہ ہے، تو پھر وہاں جعل نہیں کہہ سکتے۔
مثلاً آپ کہیں کہ اللہ نے انسان کو حیوانِ ناطق بنا دیا، اللہ نے جعل اللہ الانسان حیواناً ناطقاً، اللہ نے انسان کو حیوانِ ناطق بنا دیا، یہ کہنا ممتنع ہے۔ یہ کہنا کیونکہ، توجہ رکھو، جعل اللہ، اللہ نے بنا دیا، کیا بنا دیا؟ انسانًا، کس کو؟ انسان، جیسے ہی انسان آیا، جیسے ہی انسان ہوا، حیوانِ ناطق خود بخود ہے یا نہیں ہے؟ تو پھر حیوانِ ناطق کرنے کا کیا معنی؟ اللہ نے اتنی میں اس کی بات نہیں کر رہا، اللہ نے انسان کی حقیقت ابتداء سے رکھی ہی کیا ہے؟ حیوانِ ناطق۔ تو حیوانِ ناطق اللہ نے انسان کی حقیقت رکھ دی ہے، اب جب کوئی انسان کہیں گے آپ، تو وہاں کیا ہوگا؟ حیوان بھی ہوگا اور ناطق بھی ہوگا، تو اب کر دینا کہنا درست نہیں ہے، اب کر دینا کہنا اللہ نے انسان کو کیا کر دیا؟ حیوانِ ناطق، نہیں نہیں، یہ درست نہیں ہے، کیونکہ انسان کی تو حقیقت اللہ نے رکھی کیا ہے؟ حیوانِ ناطق، تو جب کہا آپ نے "جعل اللہ الانسان"، اللہ نے کیا کیا؟ انسان کو کر دیا، آگے آنا ہے کیا کر دیا، لیکن اس سے پہلے ہی جب کہا انسان کو کر دیا، تو انسان تو خود ہی کیا ہے؟ حیوانِ ناطق، جب وہ خود ہی حیوانِ ناطق ہے، پھر حیوانِ ناطق کر دیا، اس کا کیا معنی ہے؟
تو یہ بات ہی درست نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ آپ جعل کو لے کر آ رہے ہیں، کر دینے کو لے کر آ رہے ہیں، کس چیز میں؟ ایک شے میں اور اس کی ذاتیات میں، بھئی وہ شے جب آ گئی تو ذاتیات تو خود بخود آ گئیں، پھر ذاتیات کرنے کا کیا معنی؟ سمجھ میں آ رہی ہے بات؟ جیسے وہ مٹی تھی، میں نے کہا اس مٹی سے میں نے کیا بنا دیا؟ پیالہ، اگر وہ پہلے ہی پیالہ ہوتا، پھر تو میرا یہ کہنا درست ہی نہیں تھا کہ میں نے اس کو کیا بنا دیا؟ پیالہ بنا دیا، وہ تو پہلے کی پیالہ ہے۔ تو کر دینا وہاں کہتے ہیں جب ایک چیز پہلے نہ ہو پھر، اور جب کہا کہ انسان کو کیا بنا دیا؟ حیوانِ ناطق، تو انسان جیسے ہی آیا، تو انسان تو تھا ہی تب جب کیا ہے؟ حیوان، اب وہ پہلے سے ہی حیوانِ ناطق ہے، پھر حیوانِ ناطق کرنے کا کیا معنی؟ تو آپ کا یہ کلام صحیح نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اس میں کیا خرابی لازم آ رہی ہے؟
انسان ایک شے، اور جو اس کی ذاتیات ہیں یعنی حیوانِ ناطق، ان کے بیچ میں آپ جعل کو لے کر آ رہے ہیں، کر دینے کو لے کر آ رہے ہیں، اور شے اور اس کی ذاتیات کے بیچ جعل کا بیچ میں لانا صحیح، صحیح نہیں ہے، ممتنع ہے، کیونکہ کر دینا وہاں ہوتا ہے جو ایک چیز پہلے نہ ہو، پھر اس کو کر دیا جائے، یہ تو پہلے سے ہی ہے۔ تو کیا تخللِ جعل بین الشیء و ذاتياتہ ممتنعٌ، جعل کو بیچ میں لانا، یعنی کر دینے کا کہنا اور بیچ میں لانا کس کے؟ ایک چیز کے و ذاتياتہ اور اس کے ذاتیات کے اندر، یہ کیا ہے؟ ممتنع ہے، ایک شے اور اس کی ذاتیات کے بیچ آپ کس کو لے آئیں؟ جعل کو لے آئیں، کر دینے کو کہ اس شے کو یہ کر دیا، یہ کیا ہے؟ ممتنع۔ اسی طرح لوازم کا بھی حکم ہے، جب ایک شے پائی گئی تو اس کے ساتھ اس کے لوازم بھی پائے گئے یا نہیں پائے گئے؟ پھر اس کو کر دینے کا وہاں کیا معنی؟ تو ضابطہ کیا ہوا؟ تخللِ جعل بین الشیء و ذاتياتہ او لوازمہ ممتنعٌ، بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ کہ جعل کا واسطہ بیچ میں لائیں کس کے؟ ایک شے کے اور اس کے ذاتیات کے، یا اس کے لوازم کے، یہ ممتنع ہے، درست نہیں ہے۔
بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو تخللِ جعل بین الشیء و ذاتياتہ او لوازمہ ممتنعٌ، اسی کو مجعولِ ذاتی بھی کہتے ہیں، مجعولیتِ ذاتی۔ کیا کہتے ہیں؟ مجعولیتِ ذاتی، مجعول جس کو کر دیا گیا ہے، بنا دیا گیا ہے، مجعولِ ذاتی، ذاتی کر دینا، بھئی وہ پہلے ہی ذاتی ہے، تو اس کو ذاتی کر دینے کا کیا معنی ہوا؟ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو مجعولِ ذاتی ممتنع ہے، اسی طرح تخللِ جعل بین الشیء و ذاتياتہ او لوازمہ ممتنعٌ۔ یہ ضابطہ کل آپ نے بہترین یا زبان پر رواں ہو، تخللِ جعل بین الشیء و ذاتياتہ او لوازمہ ممتنعٌ، یہ آپ نے اسی طرح سنانا ہے بھئی۔
اب دیکھئے بھئی، یہاں بھی آیا جعل، کر دینا، کر دیا۔ اور کیا کر دیا؟ اللہ نے توفیق کو کر دیا، کیا کر دیا؟ خیر رفیق، بہترین بہترین ساتھی، بہترین دوست کر دیا۔ یاد رکھئے، توفیق عرف اور شریعت میں توفیق کے معنی میں خیر آ جاتا ہے، خیر اس کے لئے ذاتی یا لازم ہے۔ خیر کیا ہے اس کے لئے؟ ذاتی یا لازم، یہ آگے اگلی سطر میں توفیق کی تعریف کر رہے ہیں: التوفيق هو توجيه الاسباب نحو المطلوب الخير، توفیق جو ہے وہ متوجہ کرنا ہے اسباب کو، نحو کا معنی ہے طرف، نحو المطلوب الخير، مطلوبِ خیر کی طرف، مطلوب، یعنی جو آپ کا مطلوب ہے، مقصد ہے۔ وہ جو خیر والا مقصد ہے، اس کے لئے اسباب کا بنا دینا یہ توفیق ہے۔ مثلاً آپ حج پہ جانا چاہتے ہیں، بتائیے یہ مقصدِ خیر ہے یا نہیں؟ جی، تو یہ مطلوبِ خیر ہوا، اور اللہ اس کے لئے سارے اسباب آپ کو دے دیں، تو آپ کہیں گے اللہ نے مجھے حج کی توفیق دے دی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ پیسے بھی آ گئے، ویزہ بھی آپ کا لگ گیا، آپ آرام سے چلے بھی گئے، رکاوٹ بھی کوئی نہیں آئی، تو آپ کیا کہیں گے؟ اللہ نے مجھے حج کی توفیق دے دی، یعنی وہ جو آپ کا مقصودِ خیر تھا، اس کے لئے سارے اسباب بنا دیئے اللہ نے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ توفیق۔ تو اس میں خیر کا لفظ آ رہا ہے یا نہیں؟ خیر کا لفظ، تو خیر توفیق کے لئے ذاتی ہے یا لازم ہے؟ بعضوں نے کہا لا ذاتی ہے، اس کی ذات میں ہی داخل ہے، بعضوں نے کہا اس کی ذات میں تو نہیں داخل، لیکن اس کے ساتھ لازم ہے۔ توفیق خیر ہی کے لئے ہوگی۔
تو یہ جو خیر ہے، یہ توفیق کے لئے یا تو ذاتی ہے یا لازم ہے۔ اور یہاں اوپر متن میں ماتن کیا فرما رہے ہیں؟ بنا دیا اللہ نے ہمارے لئے توفیق کو خير رفيق بہترین ساتھی، توفیق کو بنا دیا، توفیق ہے شے، اور کیا بنایا؟ خیر رفیق، خیر رفیق بنایا، اور خیر تو کیا ہے؟ توفیق کے لئے ذاتی ہے، تو شے اور اس کی ذاتی کے بیچ جعل آ گیا یا نہیں؟ توفیق کو کر دیا، کیا کر دیا؟ خیر رفیق، جعل آ گیا یا نہیں؟ کر دیا، بنا دیا، تو واسطہ آ گیا، تخلل ہوا کس کا؟ جعل کا، کس کے بیچ؟ توفیق کے بیچ اور اس کی ذاتی میں یا اس کے لازم میں، خرابی سمجھ میں آئی؟ کیا خرابی آئی؟ کہ خیر کیا ہے توفیق کے لئے؟ ذاتی ہے یا لازم ہے، اور اس صورت میں اگر "لنا" کو کس سے متعلق کریں؟ جعل سے متعلق کریں، تو پھر اس صورت میں توفیق اور اس کی ذاتی یا اس کے لازم کے بیچ کس کا واسطہ بن جاتا ہے؟ جعل کا واسطہ آ جاتا ہے، کس کا واسطہ؟ جعل کا واسطہ آ جاتا ہے بھئی، اور یہ درست نہیں ہے۔
اچھا، تو کیا خرابی لازم آئی؟ کہ توفیق اور اس کی ذاتی کے درمیان کس کا واسطہ آ گیا؟ جعل کا واسطہ آ گیا، اور تو شے اور اس کی ذاتی یا اس کے لازم کے بیچ جعل کا واسطہ آیا، اور یہ تو درست نہیں ہے، تو جواب یہ کہ دیکھئے خير رفيق، توجہ ہے؟ جواب سے بھی سمجھنے، جواب بھی مشکل ہے۔ خير رفيق اس رفیق کے لئے ایک "لنا" ہر حال میں چاہئے یا نہیں چاہئے؟ میں نے پہلے ذکر کر دیا کہ اس کے لئے ہر حال میں ایک "لنا" چاہئے، آپ اس پہلے "لنا" کو اگر جعل سے جوڑ دیتے ہیں، تو بھی اس کے لئے آپ کو ایک "لنا" نکالنا پڑے گا، تو معنی کیا بن گیا؟ خير رفيق لنا، کیا معنی ہوا؟ ہمارا بہترین ساتھی، ہمارا بہترین ساتھی، تو یہ رفیق مطلق نہیں ہے، یہ یوں کہو یہ خیر رفیق مطلق نہیں ہے، بلکہ یہ مقید ہے "لنا" کے ساتھ۔ توجہ ہے؟ یہ خیر رفیق مطلق نہیں، بلکہ یہ مقید ہے کس کے ساتھ؟ لنا کے ساتھ، بہترین ساتھی، کس کا بہترین ساتھی؟ ہمارا بہترین ساتھی۔
تو اشکال تب ہوتا، توجہ ہے؟ جواب ذکر کرنے لگا ہوں۔ اشکال تب ہوتا اگر خیر رفیق مطلق ہوتا، لیکن خیر رفیق تو مطلق نہیں ہے، بلکہ کون سی قید ساتھ موجود ہے؟ لنا۔ بھئی دیکھو پھر سمجھو اس کو، دیکھو توفیق کسے کہتے ہیں؟ کہ مقصودِ خیر کے لئے اسباب کا متوجہ کر دینا، اسباب بنا دینا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ اللہ آپ کو کوئی مقصودِ خیر ہے، اچھا مقصد ہے آپ کا، اس کے لئے اسباب بنا دیں، اس کو کیا کہیں گے؟ کہ اللہ نے آپ کو توفیق دے دی۔ تو معلوم ہوا خیر کیا ہے؟ توفیق کے لئے ذاتی ہے یا اس کے ساتھ لازم ہے، لازم ہے۔ اب مجھے بتائیے، توفیق خير رفيق اوپر آ رہا ہے، کیا آ رہا ہے؟ خیر رفیق، اور آپ نے اشکال کیا کیا کہ توفیق اور خیر رفیق میں کس کا واسطہ آ رہا ہے؟ جعل کا، اور خیر رفیق تو توفیق کے لئے کیا ہے؟ ذاتی ہے یا لازم، توجہ نہیں ہے میرا خیال ہے۔
آپ نے ابھی پڑھا کہ تخللِ جعل بین الشیء و ذاتياتہ او لوازمہ ممتنعٌ، ایک شے اور اس کی ذاتیات کے بیچ کس کا واسطہ آ جانا؟ جعل کا واسطہ کہ یوں کر دیا، بھئی کرنا تو وہاں ہوتا ہے جہاں ایک چیز پہلے نہ ہو، جب ایک چیز پائی گئی تو اس کی ذاتیات تو خود بخود پائی گئیں، تو پھر کرنے کا کیا معنی؟ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ خیر رفیق یہ کیا ہے توفیق کے لئے؟ ذاتی ہے، تو توفیق کو کر دیا، کیا کر دیا؟ خير رفيق، توفیق ہوئی ایک شے، اور خیر رفیق کیا ہوئی اس کی ذاتی، تو شے اور اس کی ذاتی میں کیا ہوا؟ کر دینا کہا گیا، اور یہ تو درست نہیں، جواب یہ کہ اشکال تب ہوتا اگر خیر رفیق مطلق ہوتا، کیا ہوتا؟ مطلق ہوتا، توفیق بہترین ساتھی ہے، توفیق بہترین ساتھی ہے، اور کس کے لئے؟ ہر ایک کے لئے، آپ کو توفیق نے کام کی مل جائے تو آپ کے بہترین ساتھی، زید کو توفیق مل جائے تو توفیق زید کی بہترین ساتھی، توفیق عمر کو مل جائے تو توفیق عمر کی بہترین ساتھی، توفیق خالد کو مل جائے تو توفیق خالد کی بہترین، تو یہ بہترین ساتھی ہر ایک کے لئے ہو سکتی ہے، تو خیر توفیق بہترین ساتھی ہے، توفیق کیا ہے؟ بہترین ساتھی ہے، اور یہ بہترین ساتھی مطلق ہے، اس میں کسی قسم کی قید نہیں، کہ یہ میرے یا آپ کے لئے ہو بہترین ساتھی، باقیوں کے لئے نہ ہو، نہیں نہیں نہیں، یہ سب کے لئے کیا ہے؟ بہترین ساتھی ہے، توفیق سب کے لئے، تو توفیق کے اندر جو خیر آ رہا تھا یا یوں کہو خیر رفیق کا ذکر آ رہا تھا، وہ کون سا ہے؟ مطلق۔ کیا ہے؟ مطلق، تو خیر رفیق مطلق ہو، تو یہ توفیق کے لئے ذاتی ہے یا لازم ہے۔
توجہ ہے؟ خیر رفیق مطلق ہو، تو یہ توفیق کے لئے ذاتی ہے یا، کیونکہ توفیق کیا ہے؟ خیر رفیق، چاہے آپ کو ملے، چاہے زید کو ملے، چاہے بکر کو ملے، چاہے خالد کو ملے، سب کے لئے وہ کیا ہے؟ خیر رفیق ہے، لیکن یہاں خیر رفیق کے ساتھ "لنا" کی قید جوڑ دو، اب خیر رفیق مطلق نہ رہا، بلکہ کیا بن گیا؟ مقید ہو گیا، اب بہترین ساتھی توفیق کس کے لئے؟ ہمارے لئے، اب توفیق کا ہمارے لئے بہترین ساتھی ہونا یہ تو اس کے لئے ذاتی یا لازمی نہیں ہے، کہ ہمارے لئے ہو اور باقیوں کے لئے نہ ہو، تو ایسا نہیں ہے، تو یہاں پر خیر رفیق مطلق ہوتا، تو یہ توفیق کے لئے کیا تھی؟ ذاتی، لیکن یہ خیر رفیق مطلق نہیں ہے، بلکہ کیا ہے؟ مقید ہے کس کے ساتھ؟ لنا کے ساتھ، اور خیر تو خیر رفیق لنا یہ توفیق کی ذاتی ہے؟ توفیق کی ذات میں داخل ہے کہ وہ ہمارے لئے ہی بہترین ساتھی ہوگی، کسی اور کے لئے نہیں ہوگی؟ جی، اشکال بات سمجھ میں بھی آ رہی ہے؟ خیر رفیق مطلق ہو، پھر تو بات ٹھیک ہے، توفیق جس کو بھی دنیا میں اللہ دے رہے ہیں، جس کو بھی دیتے ہیں، یہ اس کے لئے کیا ہے؟ خیر رفیق ہے، تو یہ خیر رفیق توفیق کے لئے کیا ہوئی؟ ذاتی ہوئی، یا اس کے ساتھ کیا ہوئی؟ لازم ہوئی۔ لیکن اگر اس کے ساتھ کیا قید لگا دو؟ لنا، خير رفيق لنا، ہمارا بہترین ساتھی، کیا یہ توفیق کی ذات میں داخل ہے؟ کیا یہ توفیق کے ساتھ لازم ہے؟ جب بھی دنیا میں توفیق ہوگی، وہ ہمارے لئے ایک بہترین ساتھی ہوگی؟ کسی اور نہیں نہیں، تو ہمارے لئے بہترین ساتھی ہونا، یہ توفیق کی ذات میں داخل نہیں ہے، اب بات سمجھ میں آ گئی؟ کہ اگر خیر رفیق مطلق ہوتا، پھر تو یہ توفیق کے لئے کیا تھا؟ ذاتی تھا، پھر اشکال بنتا تھا کہ آپ توفیق اور خیر رفیق کے درمیان کس کا واسطہ لے آئے؟ جعل کا واسطہ لے آئے، اور یہ درست نہیں، لیکن یہاں تو خیر رفیق نہیں ہے، بلکہ کیا ہے؟ خير رفيق لنا، ہمارے لئے بہترین ساتھی ہے، اور ہمارے لئے بہترین ساتھی ہونا یہ توفیق کی ذات میں داخل نہیں، اگر یہ توفیق کی ذات میں داخل ہوتا، پھر تو دنیا کی ساری توفیقیں ہمیں ہی ملنی چاہئے تھیں اور کسی کو بھی نہیں ملنی چاہئے تھیں، کیونکہ اس کی ذات میں ہے کہ وہ ہمارے لئے بہترین ساتھی ہے، کسی اور کے لئے بہترین ساتھی نہیں، لیکن ایسا تو نہیں ہے، توفیق تو ہر ایک کے لئے بہترین ساتھی ہے، اگر صرف یہاں خیر رفیق ہوتا، تو پھر تو کیا تھا؟ تخللِ جعل بین التوفیق و ذاتياتہ او لوازمہ کا اشکال آتا، لیکن اب تو کیا ہے؟ کہ یہ اشکال لازم نہیں آتا، کیونکہ خير رفيق لنا یہ توفیق کے لئے ذاتی نہیں ہے، مطلق ہوتا تو ذاتی تھا، لیکن یہ مقید ذاتی نہیں، بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
تو یہ اشکال ہوتا تھا بھئی، دیکھئے اب دوبارہ: وَالْأَوَّلُ أَقْرَبُ لَفْظًا وَالثَّانِيْ مَعْنًى، اور پہلا جو ہے کہ اس کو "لنا" کو جعل سے متعلق کیا جائے، یہ لفظوں کے اعتبار سے زیادہ قریب ہے، معنی کے اعتبار سے نہیں، کیونکہ معنی کے اعتبار سے اشکال ہوتا ہے، اور اشکال کیا؟ کہ تخللِ جعل بین الشیء و ذاتیاتہ او لوازمہ کا اشکال لازم آتا ہے، اور اور رفیق کے ساتھ جوڑیں، تو پھر کسی قسم کا کوئی اشکال نہیں، کیونکہ رفیق کے لئے تو "لنا" ضرور چاہئے، اگر یہ والا نہیں جوڑوگے، تو پھر اس کے لئے کیا کرنا پڑے گا؟ ایک محذوف تو ضرور نکالنا پڑے گا، اور پھر جواب بھی بتا دیا، اس کا جواب بھی ذکر کر دیا، کہ اگر اس کو "لنا" کے ساتھ جوڑ "لنا" کو جعل کے ساتھ جوڑیں، تو بھی تخللِ جعل بین الشیء و ذاتیاتہ او لوازمہ لازم نہیں آتا، کیونکہ توفیق کے لئے خیر رفیق تو ذاتی ہو سکتی ہے یا لازم ہو سکتی ہے، لیکن یا لیکن خير رفيق لنا یعنی مقید خیر رفیق جو ہے، وہ اس کے لئے ذاتی نہیں، اور یہاں پر خیر رفیق مطلق ہے یا مقید ہے؟ یہاں پر مقید ہے "لنا" آپ کو نکالنا پڑے گا، جیسے میں نے مثال ذکر کی، زید دوست ہے، آپ فوراً کہیں گے بات تو پوری کریں، کس کا دوست ہے؟ تو خیر رفیق، بہترین ساتھی، کس کا بہترین ساتھی؟ لنا، ہمارا، وہ یہاں ضرور چاہئے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟
تو یہ معنی ہے، وَالْأَوَّلُ أَقْرَبُ لَفْظًا، کہ پہلا جو ہے لفظوں کے اعتبار سے زیادہ قریب ہے، وَالثَّانِيْ مَعْنًى، اور دوسرا یعنی رفیق کے ساتھ جوڑنا، یہ معنی کے اعتبار سے زیادہ قریب ہے، بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام اب مختصراً جلدی جلدی سن لیجئے۔
آج ہم نے پڑھا کہ یہ "لنا" جار مجرور، اور یہ ظرف کہلاتے ہیں، اور ان کے لئے ہمیشہ کوئی نہ کوئی متعلق چاہئے، اور یہ کس سے متعلق ہوں گے؟ آپ نے پڑھا آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک سے متعلق ہو سکتے ہیں۔ ان آٹھ میں سے یہاں تین چیزیں موجود ہیں: جعل فعل ہے، توفیق مصدر ہے، اور رفیق صفت مشبہ ہے۔ توفیق کے ساتھ میں نے بتایا یہ جڑتا ہی نہیں، معنی صحیح نہیں بنتا۔ باقی رہ گئے جعل اور رفیق، ان دونوں کے ساتھ یہ جڑ سکتا ہے، اور انہوں نے آپ کو بتلایا کہ جعل کے ساتھ اس کو جوڑیں، تو اس صورت میں پھر اشکال لازم آتا ہے کہ لام تو تعلیل کے لئے ہوتا ہے، تو اس صورت اور جعل کر دیا، کس نے کیا؟ اللہ نے، تو یہ جعل اللہ کا فعل ہے اور اس کے ساتھ لام جوڑ رہے ہیں آپ، اور لام کس لئے آتا ہے؟ تعلیل کے لئے، تو اشکال کیا ہوا کہ اللہ کے افعال کا معلل بالاغراض ہونا لازم آیا، دہرائیں بھئی زبان سے، اللہ کے اللہ کے افعال کا معلل بالاغراض ہونا لازم آیا۔ معلل بالاغراض کا کیا معنی؟ علت بیان کرنا، غرض اور مقصد کے ساتھ، تو اللہ اور یہ کس چیز کی علامت ہے؟ محتاج ہونے کی علامت ہے، تو اس کا تو مطلب گویا یوں ہو گیا کہ اللہ کو ضرورت تھی اس چیز کی، اور یہ کس چیز کی علامت ہے؟ محتاج ہونے کی، تو یہ معنی تو صحیح نہیں۔ تو جواب دے دیا کہ یہ لام تعلیل کے لئے نہیں ہے، بلکہ یہ لام کس لئے ہے؟ انتفاع کے لئے ہے، جیسے اس آیت کے اندر آیا: جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا، تو یہاں بھی "لکم" جعل سے جوڑ رہا ہے، اور جعل کس نے بنایا؟ اللہ نے، تو یہاں پر بھی مفسرین پھر کیا جواب دیتے ہیں کہ یہ لام علت کے لئے نہیں ہے بلکہ انتفاع کے لئے ہے۔ یاد رکھئے، اللہ کے افعال معلل بالاغراض نہیں، ہمارے افعال تو معلل بالاغراض ہیں، ہمیں ضرورت ہوتی ہے، لیکن اللہ کے افعال معلل بالاغراض نہیں، بلکہ اللہ کے افعال کی حکمتیں ہوتی ہیں جو اس پر مرتب ہوتی ہیں، فائدے ہوتے ہیں لوگوں کے، بات سمجھ میں آ گئی؟
تو یہ "لنا" جعل کے ساتھ متعلق، اور اگر اس کو آپ چاہیں تو رفیق کے ساتھ بھی جوڑ سکتے ہیں، اس پر اشکال ہوتا ہے کہ رفیق تو خود "خیر" پر مقدم نہیں ہو سکتا، کیونکہ یہ مضاف الیہ ہے، تو اس کا معمول "لنا"، وہ تو بطریق اولیٰ مقدم نہیں ہو سکتا، تو یہ مقدم کیسے ہو گیا؟ تو جواب دے دیا کہ "لنا" ظرف ہے، اور ظرف کے اندر ان چیزوں کی بھی گنجائش ہوتی ہے جس کی گنجائش اور معمولوں میں نہیں، بھئی کیوں گنجائش ہوتی ہے؟ وجہ یہ کہ ظرف کا تعلق فعل کے ساتھ بڑا گہرا ہوتا ہے، ہر فعل کے لئے ظرف ضرور چاہئے، زمانہ بھی اور جگہ بھی۔ تو ہر فعل کے ساتھ تعلق ہوتا ہے ظرف کا، زمانے کا بھی اور جگہ کا بھی، تو یہ بہت گہرا تعلق ہے، اس لئے ظروف کے اندر ایسی چیزوں کی بھی گنجائش ہے جس کی گنجائش اور معمولوں کے اندر نہیں ہے، تو یہاں یہ رفیق خود تو "خیر" پر مقدم نہیں ہو سکتا، لیکن اس کا معمول "لنا" جو ظرف ہے وہ مقدم ہو سکتا ہے، اور پھر بھی رفیق اس کے اندر عمل کرے گا، کیونکہ "لنا" کا تعلق رفیق کے ساتھ بڑا گہرا ہے۔
اور پھر شارح نے آپ کو بتلایا کہ اول جو ہے لفظاً زیادہ قریب ہے اور ثانی معنًى۔ اول لفظاً زیادہ قریب ہے، کیونکہ "لنا" آپ دیکھ رہے ہیں جعل کے زیادہ قریب، اور دوسرے کو لیں تو معنی کے زیادہ قریب ہے، یعنی وہاں کسی قسم کا اشکال بھی نہیں ہوتا، پہلے پر تو کیا ہوتا تھا؟ اشکال، دوسرے رفیق سے جوڑیں، تو پھر کوئی اشکال نہیں ہوتا، اور نیز وہ معنی کے اعتبار سے زیادہ قریب ہے، کیونکہ رفیق کے لئے ہر حال میں ایک "لنا" چاہئے۔ زید دوست ہے، بھئی کس کا دوست ہے؟ چاہئے یا نہیں؟ تو یہاں بھی "لنا" رفیق کے لئے ضرور چاہئے، اگر آپ نے "لنا" کو جعل سے جوڑ بھی دیا، تو بھی رفیق کے لئے ایک محذوف "لنا" نکالنا پڑے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ تو تھی سرسری تقریر، اور پھر میں نے گہری تقریر آپ کو بتلایا، کہ انہوں نے کہا اول قریب ہے لفظوں کے اور ثانی معنی کے اعتبار سے، تو میں نے بتلایا کہ پہلا اول لفظوں کے اعتبار سے اس سے قریب، کیونکہ یہاں ایک اشکال ہوتا ہے، اور اشکال کیا؟ کہ اس صورت میں کہ اس صورت میں کہ اگر آپ "لنا" کو کس سے جوڑیں؟ جعل کے ساتھ، تو اس صورت میں تخللِ توفیق، یا یوں کہیں پہلے، تخللِ جعل بین الشیء و ذاتیاتہ او لوازمہ لازم آتا ہے، کیا؟ تخللِ جعل بین الشیء و ذاتیاتہ او لوازمہ لازم آتا ہے، اور یہ تو ممتنع ہے، درست نہیں ہے، کیونکہ توفیق کے لئے خیر رفیق ذاتی ہے یا لازم ہے، اللہ نے کر دیا توفیق کو بہترین ساتھی، کر دینا تو وہاں ہوتا ہے کہ جب ایک چیز وہ نہ ہو، اور خیر تو توفیق پہلے سے ہی ہے، تو خیر تو پھر کرنے کا کیا معنی؟ تو اس کا جواب بھی پھر ذکر میں نے کر دیا، کہ دیکھو خیر رفیق یہ تو توفیق کے لئے ذاتی ہے، ٹھیک ہے، لیکن خير رفيق لنا، یہ توفیق کے لئے ذاتی نہیں، توفیق کی ذات میں نہیں داخل کہ وہ جب بھی خیر رفیق ہوگی تو ہماری ہی ہوگی، یہ اس کی ذات میں داخل نہیں، تو لہٰذا تخللِ جعل بین الشیء و ذاتہ یا لازمہ والی خرابی یہاں نہیں آتی، کیونکہ خیر رفیق مطلق نہیں ہے بلکہ مقید، اگر مطلق ہوتا پھر خرابی لازم آتی، مقید ہے اس سے خرابی لازم نہیں آئے گی، اسی لئے کہا کہ اول جو ہے لفظوں کے اعتبار سے زیادہ قریب ہے، معنی کے اعتبار سے زیادہ قریب نہیں، کیونکہ اس پر اشکال ہوتا ہے بہت بڑا، اگرچہ اس کا پھر جواب بھی ہو گیا، جبکہ رفیق کے ساتھ جوڑیں "لنا" کو، تو پھر تو کوئی اشکال ہی نہیں، کیونکہ رفیق کے لئے تو ہر حال میں ایک "لنا" چاہئے، یہ والا نہ بھی جوڑوگے تو بھی کیا کرنا پڑے گا؟ ایک محذوف "لنا" نکالنا پڑے گا۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ جی، یہ ہے منطق بھئی، دماغ کو ہلا دیتی ہے، جتنا انسان کو اللہ نے ایسا بنایا ہے، جتنا کسی چیز میں محنت کرتا ہے، اس کی صلاحیت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ یہ مشکل اور منطق میں بڑی مشکل اور پیچیدہ باتیں آتی ہیں، اور انسان کو بڑا زور لگانا پڑتا ہے سمجھنے کے لئے، پوری دماغی توجہ کرنا پڑتی ہے، پھر جا کر بات سمجھ میں آتی ہے، اور دماغ کی صلاحیت بڑھتی چلی جاتی ہے بھئی۔
تو یہ ہے بھئی شرح تہذیب بھئی، چلئے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔