Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-009

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Noman Ahmad
📍 Location Peshawar, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 19
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی دیکھیے بھئی کتاب پر۔ سب سے پہلے یہ سمجھ لو کہ یہاں ایک متن ہے اور ایک اس کی شرح ہے بھئی۔ متن اپ پڑھ چکے ہیں، وہ علامہ تفتازانی کا لکھا ہوا ہے اور شرح عبداللہ ابن حسین کی لکھی ہوئی ہے۔ تو متن جو ہے، یہ صفحات کے اوپر اوپر چلے گا۔ یہ ہر صفحے پر بعض جگہ کوئی ایک سطر آ رہی ہے سب سے اوپر، اپ دیکھ رہے ہیں تھوڑا سا موٹا لکھا ہوا ہے یا درمیان میں لکیر ہو گی اور ہر صفحے کے اوپر ایک یا دو سطریں یہ متن کی چلتی جا رہی ہیں۔ یہ علامہ تفتازانی کا رسالہ تہذیب ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ ہر صفحے کے اوپر چل رہا ہے۔ اور یہ جو نیچے حصہ ہے سارا، یہ وہ عبداللہ ابن حسین کی شرح ہے، یہ علامہ تفتازانی جو جو اوپر بیان کر رہے ہیں، یہ اس کی تفصیل بیان کرتے ہیں، اس کی شرح بیان کرتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہذا ہم تھوڑا تھوڑا متن میں سے پڑھیں گے اور پھر اس کی شرح نیچے پڑھ لیا کریں گے بھئی۔ تو اب سب سے پہلے ذرا متن کو دیکھیے بھئی۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ. اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا سَوَاءِ الطَّرِيقِ وَجَعَلَ لَنَا التَّوْفِيقَ خَيْرَ رَفِيقٍ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنْ أَرْسَلَهُ هُدًى هُوَ بِالِاهْتِدَاءِ حَقِيقٌ وَنُورًا بِهِ الِاقْتِدَاءُ يَلِيقُ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ سَعِدُوا فِي مَنَاهِجِ الصِّدْقِ بِالتَّصْدِيقِ وَسَعِدُوا فِي مَعَارِجِ الْحَقِّ بِالتَّحْقِيقِ وَبَعْدُ فَهَذَا غَايَةُ تَهْذِيبِ الْكَلَامِ فِي تَحْرِيرِ الْمَنْطِقِ وَالْكَلَامِ. بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ یہ سارا کیا چل رہا ہے؟ متن ہے، یہ ہے علامہ تفتازانی کا رسالہ تہذیب بھئی۔ جی، اب ذرا دیکھیے، متن کا پہلے ترجمہ دیکھ لیں بھئی۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ. اَلْحَمْدُ لِلَّهِ، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، الَّذِي هَدَانَا، جس نے ہمیں ہدایت دی، جس نے ہماری رہنمائی فرمائی، جس نے ہماری رہنمائی فرمائی، سَوَاءِ الطَّرِيقِ، سیدھے راستے کی طرف۔ یا یوں ترجمہ کر لو، جس نے ہمیں سیدھے راستے پر چلایا۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ ہدایت کہتے ہیں رہنمائی کرنا بھئی، اور سَوَاءِ الطَّرِيقِ، سیدھا راستہ، سیدھا راستہ۔ تو تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہماری رہنمائی کی سیدھے راستے کی طرف، یا یوں ترجمہ کرو، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں چلایا سیدھے راستے پر، وَجَعَلَ لَنَا التَّوْفِيقَ خَيْرَ رَفِيقٍ، اور بنایا ہمارے لیے توفیق کو بہترین ساتھی۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں سیدھے راستے پر چلایا اور جس نے توفیق کو ہمارا بہترین ساتھی بنایا۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ رفیق کا کیا معنی؟ ساتھی بھئی۔ اچھا، یہ تھا متن بھئی، یہ متن۔ اب نیچے اس کی شرح ہم دیکھتے ہیں۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا، اچھی طرح؟ اب شرح میں دیکھیے: قَوْلُهُ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ. قَوْلُهُ اي قَوْلُ الْمَاتِنِ يا قَوْلُ الْمُصَنِّفِ، یہ "ہ" ضمیر کس کو راجع؟ ماتن یا مصنف، جو بھی اپ ذکر کر لیں بھئی۔ اور آگے اَلْحَمْدُ لِلَّهِ جو ذکر کیا، یہ ماتن کا قول۔ شارح فرما رہے ہیں کہ مصنف کا جو قول ہے نہ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ، اب آگے اس کی شرح کرنے لگے ہیں۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ ہاں، یہ پہلا دن ہے، شرح اس طرح چلے گی، اس لیے میں بیان کر رہا ہوں، آسان باتیں ہیں بھئی۔ تو جگہ جگہ پھر وہ قَوْلُهُ قَوْلُهُ آئے گا بھئی، تو یہ اس کے ساتھ اس کی شرح کریں گے تھوڑا تھوڑا حصہ لے کر ان کے کلام کا۔ تو دیکھیے اب شرح پر: قَوْلُهُ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ، مصنف کا قول اَلْحَمْدُ لِلَّهِ. اِفْتَتَحَ كِتَابَهُ بِحَمْدِ اللَّهِ بَعْدَ التَّسْمِيَةِ، اغاز کیا مصنف نے اپنی کتاب کا اللہ کی حمد کے ساتھ بسم اللہ کے بعد۔ تسمیہ؟ نہ اللہ کا نام لینا، مراد یہاں یہ بسم اللہ ہے بھئی۔ بسم اللہ کے بعد مصنف نے الحمدللہ کے ساتھ اپنی کتاب کا آغاز کیا۔ اِفْتَتَحَ كِتَابَهُ، مصنف نے کتاب کا آغاز کیا، اس کو شروع کیا، بِحَمْدِ اللَّهِ، کس کے ساتھ؟ اللہ کی حمد کے ساتھ، بَعْدَ التَّسْمِيَةِ، کس کے بعد؟ بسم اللہ کے بعد۔ پہلے بسم اللہ اور اس کے بعد الحمدللہ کے ساتھ کتاب کو شروع کیا، اِتِّبَاعًا بِخَيْرِ الْكَلَامِ، اتباع کرتے ہوئے تمام کلاموں میں سے جو سب سے بہترین کلام ہے، یعنی قرآن بھئی، اللہ کا جو کلام ہے۔ اس کا اتباع کرتے ہوئے، وَاقْتِدَاءً، اقتداء کا معنی ہے پیروی کرنا، اور پیروی کرتے ہوئے بِحَدِيثِ خَيْرِ الْأَنَامِ، انام یعنی مخلوق بھئی، خیر الانام، تمام مخلوق میں جو سب سے بہتر ہیں ان کی حدیث کی پیروی کرتے ہوئے، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی پیروی کرتے ہوئے، عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، حضور علیہ السلام پر اور ان کی آل پر صلوٰۃ و سلام ہو، رحمت اور سلامتی ہو۔ بھئی دیکھیے، شارح بتلا رہے ہیں، شارح بتلا رہے ہیں کہ مصنف نے کتاب کے شروع میں بسم اللہ ذکر کی اور اس کے بعد الحمدللہ ذکر کی، مصنف نے ایسا کیوں کیا؟ تو وجہ بتلا رہے ہیں بھئی، مصنف نے یہ پہلے بسم اللہ ذکر کی اور اس کے بعد الحمدللہ، تاکہ تمام کلاموں میں سے جو سب سے اعلیٰ کلام ہے، یعنی اللہ کا کلام، یعنی قرآن مجید، اس کی پیروی ہو جائے۔ قرآن میں بھی پہلے بسم اللہ ہے اور اس کے بعد کیا ہے؟ الحمدللہ ہے۔ تو یہ برکت کے طور پر، نیک فالی کے طور پر، تاکہ اللہ مقاصد اس کتاب کو مبارک فرمائے، اچھے طریقے سے پورا کرنے کی توفیق نصیب فرمائے، اور لوگوں کے لیے اس کو نافع بنائے، تو لہذا مصنف نے کیا کیا؟ اپنی کتاب کے شروع میں بسم اللہ اور اس کے بعد کس کو ذکر کیا؟ الحمدللہ کو ذکر کیا، کس کی پیروی کرتے ہوئے؟ قرآن کی پیروی کرتے ہوئے، کیونکہ قرآن میں بھی پہلے بسم اللہ ہے اور اس کے بعد الحمدللہ ہے بھئی۔ وَاقْتِدَاءً بِحَدِيثِ خَيْرِ الْأَنَامِ، اور اقتداء کا معنی بھی پیروی کرنا، اور پیروی کرتے ہوئے، انام کا کیا معنی بتلایا میں نے؟ مخلوق بھئی۔ خیر الانام، جو تمام مخلوقات میں سب سے بہتر ہیں، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھئی۔ تو تمام مخلوقات میں سب سے بہتر، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی پیروی کرتے ہوئے، عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، حضور علیہ السلام پر وَعَلَى آلِهِ اور ان کی آل پر صلوٰۃ و سلام ہو، رحمت اور سلامتی ہو۔ رحمت اور سلامتی ہو۔ آل، آل یاد رکھیے، آل جو ہے نہ، آل کے علماء نے متعدد معانی ذکر کیے ہیں کہ حضور علیہ السلام کی آل سے کون مراد ہیں؟ کون مراد ہیں؟ بعضوں نے کہا کہ بنو ہاشم میں سے حضور علیہ السلام کے جو قریبی رشتہ دار ہیں، ہاشم حضور کے دادا پردادا گزرے ہیں بھئی، تو ان میں سے جو، بعضوں نے کہا نہیں، ان سے قریبی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جو دادا تھے عبدالمطلب، تو بنو عبدالمطلب میں سے جو قریبی رشتہ دار ہیں، بعضوں نے کہا حضرت حسن، حضرت حسین، حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم یہ مراد ہیں، بعضوں نے کہا حضور علیہ السلام کی ازواج مطہرات مراد ہیں آل سے، اور بعضوں نے کہا تمام مومنین مراد ہیں، تو ۱۰، ۱۵، ۲۰ اقوال ہیں بھئی اس بارے میں۔ تو بہتر یہ ہے، یہ چونکہ مقام دعا ہے، دعا دی جا رہی ہے کہ حضور پر اور حضور کی آل پر صلوٰۃ و سلام ہو، تو اس کو عام رکھا جائے تاکہ اور اس سے مراد لے لیں ہر متقی مومن، ہر متقی مومن۔ چنانچہ حدیث میں بھی آتا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: مَنْ آلُ مُحَمَّدٍ؟ کہ آل محمد کون ہیں یا رسول اللہ؟ تو حضور نے فرمایا: كُلُّ تَقِيٍّ، ہر متقی، ہر متقی مومن ہے بھئی۔ تو آل کا کیا معنی؟ ہر متقی مومن۔ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ، حضور علیہ السلام پر اور اپ کی آل پر، یعنی اپ کا اتباع کرنے والے تمام متقی مومنین پر، اَلصَّلَاةُ، رحمت ہو، وَالسَّلَامُ، اور سلامتی ہو۔ تو شارح نے دو وجہیں ذکر کیں کہ مصنف نے اپنی کتاب کے شروع میں کس کو ذکر کیا؟ بسم اللہ، اور بسم اللہ کے بعد الحمدللہ۔ تو بسم اللہ کے بعد الحمدللہ کے ساتھ اپنی کتاب کا آغاز کیا، دو وجہ سے، ایک کیا وجہ؟ قرآن کا اتباع کرتے ہوئے، اور دوسرا حضور علیہ السلام کا اتباع کرتے ہوئے، حضور علیہ السلام کی حدیث پر کا اتباع کرتے ہوئے، اس پر عمل کرتے ہوئے، معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ اچھا، اب یاد رکھیے، عبارت کے اندر آیا اِتِّبَاعًا، اور آیا وَاقْتِدَاءً، یاد رکھیے یہ مفعول لہٗ ہیں بھئی، یہ کیا ہیں؟ مفعول لہٗ۔ اپ نے پڑھا ہے یا نہیں نحو کے اندر؟ مفعول لہٗ وہ مصدر جو ماقبل فعل کی علت اور وجہ بیان کرے، ضَرَبْتُهُ تَأْدِيبًا، میں نے اس کو مارا، کس لیے؟ ادب سکھانے کے لیے، تو دیکھا یہ ضرب کی وجہ کیا ہے؟ اس کی علت کیا ہے؟ ادب سکھانا۔ تو ضَرَبْتُهُ تَأْدِيبًا، یہ تَأْدِيبًا کیا ہے؟ مفعول لہٗ ہے، یہ کیا کرتا ہے؟ ماقبل فعل کی علت اور وجہ بیان کرتا ہے، معلوم ہوا یہ ضرب کس لیے لگائی گئی؟ ادب سکھانے۔ تو تَأْدِيبًا یہ مصدر ہے اور منصوب ہے، دیکھو تَأْدِيبًا نصب آ رہا ہے، اور یہ کیا کرتا ہے؟ ماقبل فعل کی علت بیان کرتا ہے۔ یہاں پر بھی اسی طرح ہے، اِتِّبَاعًا یہ بھی مفعول لہٗ ہے، اور وَاقْتِدَاءً یہ اسی پر عطف ہے، یہ بھی کیا ہے؟ مفعول لہٗ۔ آغاز کیا اپنی کتاب کا بسم اللہ کے بعد الحمدللہ سے ہی، اس کی وجہ کیا ہے؟ اتباع کرنا بخیر الکلام، دیکھو وجہ ذکر کی جا رہی ہے، تمام کلاموں میں سے جو بہتر ہے، اس کا اتباع کرنے کے لیے، وَاقْتِدَاءً بِحَدِيثِ خَيْرِ الْأَنَامِ، اور تمام مخلوقات میں سے جو افضل ہیں، ان کی حدیث کی اقتداء کرنے کے لیے، پیروی کرنے کے لیے۔ تو یہ اِتِّبَاعًا اور وَاقْتِدَاءً یہ منصوب ہیں، کس بناء پر؟ مفعول لہٗ ہونے کی وجہ سے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ فَإِنْ قُلْتَ حَدِيثُ الِابْتِدَاءِ مَرْوِيٌّ فِي كُلٍّ مِنَ التَّسْمِيَةِ وَالتَّحْمِيدِ فَكَيْفَ التَّوْفِيقُ؟ فَإِنْ قُلْتَ، یاد رکھیے یہ إِنْ قُلْتَ کے ساتھ اعتراض ذکر کیا جاتا ہے۔ إِنْ قُلْتَ، اگر اپ نے یوں کہا، یعنی اگر اپ یہ اشکال کریں، یہ اعتراض کریں، آگے پھر جواب ذکر ہوتا ہے، قُلْتُ، تو میں یوں کہتا ہوں، یا قُلْنَا، تو ہم یہ کہتے ہیں، یعنی ہم جواب یہ دیتے ہیں، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ جگہ جگہ اس طرح آئے گا، اب اسے سمجھ لو، إِنْ قُلْتَ، اس کے ذریعے کیا ذکر ہوتا ہے؟ اعتراض ذکر ہوتا ہے، اور آگے اس کا قُلْتُ یا قُلْنَا کے ساتھ اس کا جواب دیا جاتا ہے۔ تو یہاں اعتراض کر رہے ہیں، اعتراض پہلے سمجھ لیں اپ۔ یاد رکھیے، اعتراض یہ ہوتا ہے کہ یہاں دو حدیثیں ہیں بھئی، دو حدیثیں۔ اور وہ حدیثیں لکھ لیں بھئی، اپ کو زبانی یاد ہونی چاہئیں۔ لکھیں بھئی، یہ حدیث کے الفاظ لکھ لیں۔ بسم اللہ اور الحمدللہ دونوں کے بارے میں احادیث آتی ہیں بھئی، احادیث آتی ہیں۔ چلیے جی لکھئے بھئی: كُلُّ أَمْرٍ ذِي بَالٍ لَمْ يُبْدَأْ فِيهِ بِبِسْمِ اللَّهِ فَهُوَ أَبْتَرُ. اسی طرح الحمدللہ کے بارے میں حدیث آتی ہے، دوسری حدیث بھی لکھ لیں بھئی: كُلُّ أَمْرٍ ذِي بَالٍ لَمْ يُبْدَأْ فِيهِ بِالْحَمْدُ لِلَّهِ فَهُوَ أَقْطَعُ. لکھ لیا بھئی؟ دوبارہ سنیں: كُلُّ أَمْرٍ ذِي بَالٍ لَمْ يُبْدَأْ فِيهِ بِالْحَمْدُ لِلَّهِ فَهُوَ أَقْطَعُ. أَقْطَعُ بھی آتا ہے، نیز اب اس میں بھی أَبْتَرُ بھی آتا ہے، تو مختلف روایات بھئی۔ معنی سمجھ لو بھئی، كُلُّ أَمْرٍ ذِي بَالٍ، ذی بال، اصل میں تھا ذو بال، ذو بال، اپ نے پڑھا ہے، ذو کس لیے آتا ہے؟ اسم جنس کو کسی کی صفت بنانے کے لیے، ذو مال کا کیا معنی ہوتا ہے؟ مال والا، تو یہاں اسی طرح ذو بال ہے، لیکن حالت جری میں ہے، تو ذو، ذا، ذی، حالت جری میں کیا آئے گی؟ یا آئے گی، ذی بال۔ اور بال کہتے ہیں شان کو بھئی، شان کو، دل کو بھی کہتے ہیں، شان کو بھی، تو یہاں شان ہے، ذو بال، شان والا، یعنی اچھا کام، اچھا، ذو بال کا کیا معنی ہوا؟ اچھا۔ كُلُّ أَمْرٍ ذِي بَالٍ، ہر اچھا کام، کل امر، ہر کام، ہر معاملہ، ذو بال، جو کیسا ہو؟ اچھا ہو، شان والا ہو۔ لَمْ يُبْدَأْ فِيهِ، آغاز نہ کیا جائے اس میں، بِبِسْمِ اللَّهِ، کس کے ساتھ؟ بسم اللہ کے ساتھ، فَهُوَ أَبْتَرُ، تو وہ ناقص ہوتا ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ كُلُّ أَمْرٍ ذِي بَالٍ لَمْ يُبْدَأْ فِيهِ بِبِسْمِ اللَّهِ فَهُوَ أَبْتَرُ، ہر ذو شان کام، یعنی ہر اچھا کام، لَمْ يُبْدَأْ فِيهِ بِبِسْمِ اللَّهِ، کہ اس میں آغاز نہ کیا جائے بسم اللہ کے ساتھ، فَهُوَ أَبْتَرُ، تو وہ ناقص، ابتر کا معنی ہے ناقص بھئی، ناقص بھئی، ادھورا، ادھورا، تو وہ ناقص ہوتا ہے۔ اسی طرح نیچے والی حدیث کا بھی ترجمہ دیکھ لیں بھئی: كُلُّ أَمْرٍ ذِي بَالٍ، ہر شان والا کام، لَمْ يُبْدَأْ، کہ آغاز نہ کیا جائے، فِيهِ، اس میں، بِالْحَمْدُ لِلَّهِ، الحمدللہ کے ساتھ، فَهُوَ أَقْطَعُ، تو وہ ناقص ہوتا ہے، اقطع کا بھی وہی معنی بھئی، کٹا ہوا، نامکمل، تو وہ نامکمل ہوتا ہے، ادھورا ہوتا ہے، معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ لکھ لیا بھئی؟ اب سنیے، تقریر سنیے بھئی اب۔ اب اعتراض ذکر کریں گے، اعتراض یہ ذکر ہو گا کہ دیکھیے اپ نے کہا، دو وجہیں اپ نے ذکر کیں کہ بسم اللہ کے بعد الحمدللہ کے ساتھ کتاب کا آغاز کیوں کیا؟ ایک وجہ یہ ذکر کی اپ نے قرآن کا، مصنف نے قرآن کا اتباع کیا، وہ تو بات ٹھیک ہے، قرآن میں پہلے بسم اللہ ہے اور اس کے بعد الحمدللہ۔ دوسری کیا وجہ ذکر کی کہ کس کی اقتداء کی، کس کی پیروی کی؟ حضور علیہ السلام کی حدیث کی پیروی کی، اس پر عمل کیا بھئی۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ حدیث میں تو جیسے بسم اللہ کا ذکر ہے، اسی طرح کس کا ذکر ہے؟ الحمدللہ کا بھی ذکر ہے۔ اور اگر اپ نے بسم اللہ سے آغاز کیا، تو الحمدللہ والی حدیث پہ تو عمل نہ ہوا۔ حدیث میں تو کیا، ایک حدیث میں کیا آیا؟ ہر وہ اچھا کام جس کو بسم اللہ سے شروع نہ کیا جائے تو وہ ناقص ہے۔ دوسری حدیث میں کیا آیا؟ ہر اچھا کام جس کو الحمدللہ سے شروع نہ کیا جائے تو وہ ناقص ہے۔ اب کتاب میں متن میں ذرا دیکھ لو، اوپر کس کے ساتھ آغاز کیا؟ بسم اللہ سے، تو ٹھیک ہے، بسم اللہ والی حدیث پہ تو عمل ہو گیا، کتاب کا آغاز کس سے ہوا؟ بسم اللہ سے، بسم اللہ سے، لیکن الحمدللہ والی حدیث پر تو عمل نہیں ہوا، اس کے ساتھ تو کتاب کا آغاز نہیں ہوا، آغاز میں تو کیا آ گئی؟ بسم اللہ آ گئی، الحمدللہ تو بعد میں چلی گئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ایک بسم اللہ والی حدیث پر تو عمل ہو گیا، لیکن الحمدللہ والی حدیث پر عمل نہیں، اور اگر الحمدللہ والی حدیث پر عمل کیا جاتا، تو پھر تو بسم اللہ والی حدیث پر عمل نہیں ہو سکتا تھا، تو ایک وقت میں ایک حدیث پر عمل ہو سکتا ہے، دوسری پر عمل نہیں ہو سکتا، تو بظاہر ان دونوں احادیث میں ٹکراؤ آ رہا ہے، ایک حدیث سے پتہ چل رہا ہے آغاز کس سے کرنا چاہیے؟ بسم اللہ سے، دوسری سے پتہ چل رہا ہے آغاز کس سے کرنا چاہیے؟ الحمدللہ، تو دونوں میں ٹکراؤ ہے، تعارض ہے، اس کو ٹکراؤ کو کیا کہتے ہیں؟ تعارض، تو دونوں حدیثوں میں تعارض ہے، تو مصنف نے تو ایک پر عمل کیا، دوسری پر تو عمل نہ ہو سکا، تو اس ٹکراؤ کو دور کرنے کی کیا صورت ہے؟ ٹکراؤ کیسے دور کیا جائے گا؟ سوال سمجھ میں آیا؟ تو اس کا جواب دیں گے اپ کو آگے بھئی۔ جی، پہلے یہ اعتراض دیکھ لیں، پھر اس کے بعد جواب دیکھتے ہیں بھئی: فَإِنْ قُلْتَ، اگر اپ یہ کہیں، یعنی اگر اپ یہ اعتراض کریں، حَدِيثُ الِابْتِدَاءِ مَرْوِيٌّ فِي كُلٍّ مِنَ التَّسْمِيَةِ وَالتَّحْمِيدِ، کہ ابتداء والی حدیث جو ہے وہ روایت کی گئی ہے، فِي كُلٍّ مِنَ التَّسْمِيَةِ وَالتَّحْمِيدِ، بسم اللہ اور الحمدللہ ہر ایک کے بارے میں، اگر اپ یہ اعتراض کریں کہ ابتداء والی حدیث تو روایت کی گئی ہے بسم اللہ اور الحمدللہ میں سے ہر ایک کے لیے روایت کی گئی ہے، بسم اللہ کے لیے بھی روایت کی گئی ہے اور الحمدللہ کے لیے بھی، فَكَيْفَ التَّوْفِيقُ؟ تو ان میں توفیق کیسے ہو گی؟ موافقت کیسے ہو گی باہم؟ توفیق، توفیق کہتے ہیں، وَفَّقَ يُوَفِّقُ تَوْفِيقًا، باب تفعیل ہے بھئی، اور یہ عموماً جانبین سے فعل چاہتا ہے، تو توفیق کا معنی یہ ہے کہ کوئی ایسی صورت اختیار کی جائے کہ احادیث میں ٹکراؤ ختم ہو جائے، ایک پہلی حدیث دوسری کے مطابق ہو جائے اور دوسری پہلی کے مطابق ہو جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ توفیق بھئی، کیا کہتے ہیں؟ اور اسی کو تطبیق بھی کہتے ہیں، طَبَّقَ يُطَبِّقُ تَطْبِيقًا، تو کبھی توفیق لفظ استعمال کتابوں میں ہو جائے گا، کبھی تطبیق، اپ نے ہمیشہ یاد رکھنا ہے، توفیق اور تطبیق کا کیا معنی ہے؟ دو باتوں کو ایک دوسرے کے موافق بنانا، دو باتوں کو ایک دوسرے کے مطابق بنانا، طبقہ سے نہ، مطابق بنانا، ایک کو دوسرے کے اور دوسرے کو پہلے کے مطابق بنانا، تو کون سی ایسی صورت اختیار کی جائے کہ دونوں احادیث جن میں اس وقت ہمیں ٹکراؤ لگ رہا ہے، وہ ٹکراؤ ختم ہو جائے اور وہ دونوں حدیثیں ایک دوسرے کے موافق ہو جائیں بھئی۔ یہ معنی ہے: فَكَيْفَ التَّوْفِيقُ؟ تو ان میں توفیق کیسے ہو گی؟ تطبیق کیسے ہو گی؟ اشکال سمجھ میں آیا؟ کیا؟ کہ اپ نے کہا دو وجہیں ذکر کیں، ایک تو قرآن کی پیروی، دوسرا حدیث کی پیروی، تو سوال پیدا ہوتا ہے حدیثیں تو دو آتی ہیں، ایک بسم اللہ کے بارے میں، ایک الحمدللہ کے بارے میں۔ بسم اللہ والی حدیث سے پتہ چلتا ہے آغاز بسم اللہ سے کرنا چاہیے، الحمدللہ والی سے پتہ چلتا ہے الحمدللہ سے کرنا چاہیے، تو ایک وقت میں تو ایک پر عمل ہو سکتا ہے، دونوں پر عمل ہو ہی نہیں سکتا، تو اگر مصنف نے بسم اللہ والی حدیث پہ تو عمل کر لیا، لیکن الحمدللہ والی حدیث پر تو عمل نہیں کیا، تو ان میں توفیق کیسے ہو گی؟ کیا صورت اختیار کی جائے کہ اس وقت جو ہمیں ٹکراؤ نظر آ رہا ہے کہ مصنف نے ایک پہ عمل کیا ہے، دوسری پہ عمل، کوئی ایسی تقریر کیجیے، کوئی ایسا ہمیں جواب دیجیے کہ جس سے یہ اشکال ختم ہو جائے، توفیق ان میں کیسے ہو گی؟ تطبیق کیسے ہو گی؟ تو اپ کو یہ بتلائیں گے بھئی، کہ یاد رکھیے، پہلے ابتداء کی قسمیں سمجھ لیں، ابتداء تین قسم کی ہوتی ہے: ایک ابتداء حقیقی، ایک ابتداء اضافی، اور ایک ابتداء عرفی۔ ابتداء حقیقی، جو حقیقت میں جس سے آغاز ہو، یعنی جو سب سے شروع میں آ جائے، جیسے اس وقت بسم اللہ سب سے شروع میں ہے، بسم اللہ سے پہلے کچھ بھی نہیں۔ اس کو کہتے ہیں ابتداء حقیقی۔ ابتداء اضافی، اضافت کا کیا معنی ہوتا ہے؟ نسبت، نسبت، غُلَامُ زَيْدٍ، یہ دیکھو اپس میں کیا ہیں؟ مضاف مضاف الیہ، تو یہ غُلَامُ زَيْدٍ، یہ غلام کی میں اضافت کر رہا ہوں کس کی طرف؟ زید، یعنی نسبت کر رہا ہوں کس کی طرف؟ زید کی، کہ کسی اور کا غلام نہیں ہے، یہ کس کا غلام ہے؟ زید، تو اضافت کا معنی ہوتا ہے نسبت کرنا، اضافت کا کیا معنی ہے؟ نسبت، تو ابتداء اضافی، نسبت والی ابتداء، کون سی ابتداء؟ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ ابتداء اضافی، کون سی ابتداء؟ نسبت والی ابتداء، تو یاد رکھیے، ابتداء اضافی وہ ہے، جو بعض کی نسبت سے آغاز میں ہو۔ بعض چیزوں کی نسبت سے۔۔۔ مثلاً دیکھو، ایک کتاب، یہ کتاب مثلاً تہذیب متن ہے، اس کے شروع میں خطبہ ہے، یہ جو متن اوپر چل رہا ہے، شروع میں کیا ہے؟ خطبے میں کیا ہوتا ہے؟ اللہ کی حمد بیان ہوتی ہے، حضور علیہ السلام پر درود ذکر ہوتا ہے، اور کوئی کتاب اور ادھی کتاب وغیرہ کے بارے میں کوئی بات کر دی جاتی ہے، اس کے بعد پھر مقدمہ آئے گا، مقدمے کے اندر کچھ ضروری باتیں وہ ذکر کریں گے، اس کے بعد جو اصل کتاب کے مسائل ہیں پھر وہ ذکر کریں گے۔ تو پہلے خطبہ، پھر مقدمہ، پھر اس کے بعد مسائل کتاب۔ تو اب دیکھیے، الحمدللہ کو دیکھیں، بسم اللہ کے اعتبار سے تو یہ شروع میں نہیں۔ اس پر کون مقدم ہے؟ بسم اللہ، لیکن بعد والوں کی نسبت سے دیکھیں تو یہ شروع میں ہے یا نہیں؟ آگے جو خطبہ با خطبے کا باقی حصہ آ رہا ہے، یا آگے جو مقدمہ آ رہا ہے، یا آگے جو مسائل کتاب آ رہے ہیں، ان کی نسبت سے یہ شروع میں ہے یا نہیں؟ تو یہ ایک ابتداء اضافی ہوئی، کہ ان کی نسبت سے یہ کیا ہے؟ شروع میں۔ تو اضافی کا کیا معنی ہوتا ہے؟ نسبت سے، تو بعض کے اعتبار سے شروع میں ہو، سب کے اعتبار سے چاہے شروع میں نہ بھی ہو، لیکن بعض کے اعتبار سے کیا ہو؟ شروع میں ہو، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اس کو کیا کہتے ہیں؟ ابتداء اضافی۔ اور ایک ہے ابتداء عرفی، عرف اپ پڑھ چکے ہیں، عادت، عرف کسے کہتے ہیں؟ عادت، عام لوگوں کا جو طریقہ اور عادت ہوتی ہے، اس کو عرف کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ فقہ کے اندر بار بار اس لفظ کا ذکر آتا ہے، تو ابھی سے سمجھ لو، عرف کا کیا معنی ہے؟ عام لوگوں کی عادت اور عام لوگوں کا طریقہ، پھر دہرائیے کسے کہتے ہیں؟ عام لوگوں کی عادت اور عام لوگوں کا طریقہ۔ بھئی، عام لوگوں کی عادت کیا ہے؟ طریقہ کیا ہے؟ اپ سبق شروع بھی کر دیتے ہیں، ۸، ۱۰ دن گزر گئے، سبق چل رہے ہیں، سبق چل رہے ہیں، لیکن کتاب ۱۰ دن میں ختم ہوتی ہے یا پورے سال میں؟ پورے سال میں ختم ہوتی ہے، تو ۱۰ دن ہو گئے ہیں مثلاً فرض کریں کوئی کتاب اپ کی چل رہی ہے، اپ سے کوئی پوچھتا ہے بھئی یہ فلاں کتاب میں اپ کہاں پہنچے؟ اپ کہتے ہیں ابھی تو ہم شروع میں ہی ہیں۔ کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟ حالانکہ ۱۰ دن گزر گئے ہیں، تین چار صفحے بھی گزر گئے ہوں گے، لیکن اپ پھر بھی کیا کہہ رہے ہیں؟ شروع میں ہی ہیں۔ سب اسی طرح بولتے ہیں یا نہیں؟ معلوم ہوا شروع کے قریب قریب جو کچھ ہو، یعنی یوں کہو، مقصود سے پہلے جو جو کچھ بھی ہے، وہ سارا گویا شروع میں ہی ہے، عرف میں اس کو شروع ہی کہا جاتا ہے، تو یہ کیا ہے؟ ابتداء عرفی۔ تو ابتداء کتنی قسم پر ہوئی؟ تین: نمبر ایک: ابتداء حقیقی، ابتداء حقیقی کسے کہتے ہیں؟ بالکل شروع میں ہو، حقیقت میں سب سے شروع میں ہو، اس سے مقدم کچھ بھی نہ ہو، اس کے بعد ابتداء اضافی، جو بعض چیزوں کی نسبت سے شروع میں ہو، باقیوں کی نسبت سے چاہے شروع میں ہو یا نہ ہو، لیکن بعض کی نسبت سے کیا ہو؟ شروع میں ہو۔ اور تیسرا کیا ہے؟ ابتداء عرفی، کہ جسے عرف میں جس کو شروع میں سمجھا جاتا ہے، اور وہ جو اول حصے میں جو بھی آ جائے، اس کو کیا سمجھا جاتا ہے؟ شروع ہی سمجھا جاتا ہے، یا یوں کہیں مقصود سے پہلے، اس کتاب کو لکھنے میں مقصد کیا تھا؟ اس کتاب کے مسائل تھے، مقدمہ لکھنا مقصد نہیں تھا، خطبہ لکھنا مقصد نہیں تھا، تو خطبہ اور مقدمہ غیر مقصود ہیں، اور آگے کتاب کے مسائل وہ کیا ہیں؟ مقصود، تو مقصود سے پہلے جو کچھ بھی ہے، وہ سارا کیا ہے؟ شروع ہی ہے، تو اس کو سارے کو کیا کہیں گے؟ ابتداء عرفی ہی کہیں گے۔ تو اب جواب سمجھ لو بھئی، جواب سمجھ لو، تین جواب دیں گے بھئی، تین جواب: پہلا جواب یہ کہ اپ نے دراصل اعتراض اپ کے ذہن میں اس لیے آیا کہ اپ نے سمجھا بسم اللہ والی حدیث سے بھی ابتداء حقیقی مراد ہے، الحمدللہ والی حدیث میں بھی ابتداء حقیقی مراد، اور ابتداء حقیقی تو ایک، توجہ ہے؟ اپ نے اعتراض کیوں کیا؟ کیونکہ اپ کیا سمجھے؟ ابتداء حقیقی مراد ہے، اور الحمدللہ سے بھی، اور ابتداء حقیقی تو ایک وقت میں ایک سے ہو سکتی ہے، دو سے تو ہو ہی نہیں سکتی، تو جب ایک پر عمل کریں گے، دوسری سے عمل رہ جائے گا، حالانکہ ایسا نہیں ہے، بسم اللہ والی حدیث میں جو لَمْ يُبْدَأْ ابتداء کا ذکر آیا ہے، اس سے ہم مراد لیتے ہیں ابتداء حقیقی، ہر اچھا کام جس کے بالکل شروع میں بسم اللہ نہ ہو، فَهُوَ أَبْتَرُ، وہ کیا ہے؟ ناقص ہے۔ اور جبکہ الحمدللہ والی حدیث کے اندر جو ابتداء کا ذکر آیا، ہم اس سے ابتداء اضافی مراد لیتے ہیں۔ کیا لیتے ہیں؟ جو مقصود کی یا باقی چیزوں کی نسبت سے شروع میں ہے، بالکل شروع میں چاہے ہو چاہے نہ ہو، تو جواب ہو گیا بھئی۔ تو بسم اللہ والی حدیث میں ابتداء سے کون سی ابتداء مراد ہے؟ ابتداء حقیقی، اور الحمدللہ والی میں ابتداء اضافی۔ دوسرا جواب: بسم اللہ والی حدیث میں تو ابتداء حقیقی ہی ہم مراد لیتے ہیں، لیکن الحمدللہ والی میں اس کو محمول کر لیتے ہیں ہم ابتداء عرفی پر، کس پر؟ ابتداء عرفی پر، یعنی جو مقصود سے پہلے پہلے جہاں بھی آ جائے، وہ سب کیا ہے؟ ابتداء، تو بسم اللہ والی حدیث میں ابتداء حقیقی مراد ہے، اور الحمدللہ والی حدیث سے ہم کیا مراد لیتے ہیں؟ ابتداء عرفی۔ پہلے جواب کیا تھا؟ بسم اللہ سے مراد؟ ابتداء حقیقی، اور الحمدللہ والی حدیث کس پر محمول؟ ابتداء اضافی پر۔ دوسرا جواب؟ بسم اللہ سے وہی ابتداء حقیقی مراد لیتے ہیں، البتہ الحمدللہ سے عرفی ہم مراد لیتے ہیں، اس پر محمول کرتے ہیں۔ تیسرا جواب یہ دیں گے کہ دونوں سے ابتداء عرفی مراد لے لیں، کیا مراد لے لیں؟ بسم اللہ سے بھی ابتداء عرفی مراد لے لیں، الحمدللہ سے بھی، یعنی جو مقصود سے پہلے پہلے آ جائے، پھر اس میں چاہے ایک پہلے ہو چاہے بعد دوسرا پہلے ہو، اس سے فرق نہیں پڑتا، لیکن بہرحال دونوں کس سے، دونوں سے کیا مراد لیں؟ دونوں کس پر محمول کر لیں؟ ابتداء عرفی پر۔ تو اب اس میں چاہے بسم اللہ پہلے ہو چاہے الحمدللہ پہلے ہو، ابتداء عرفی ہے یا نہیں؟ تو لہذا تین جواب ہو گئے بھئی۔ پھر ذرا اعتراض دیکھ لیجیے: فَإِنْ قُلْتَ، اگر اپ یہ اعتراض کریں، حَدِيثُ الِابْتِدَاءِ مَرْوِيٌّ فِي كُلٍّ مِنَ التَّسْمِيَةِ وَالتَّحْمِيدِ فَكَيْفَ التَّوْفِيقُ؟ کہ ابتداء والی حدیث وہ روایت کی گئی ہے بسم اللہ اور الحمدللہ میں سے ہر ایک کے بارے میں، فَكَيْفَ التَّوْفِيقُ؟ تو ان میں توفیق کیسے ہو گی؟ تطبیق کیسے ہو گی؟ یعنی تعارض کیسے ختم کیا جائے گا؟ قُلْتُ، تو میں کہتا ہوں، میں جواب دیتا ہوں، قُلْتُ، میں کہتا ہوں، اَلِابْتِدَاءُ فِي حَدِيثِ التَّسْمِيَةِ مَحْمُولاً عَلَى الْحَقِيقِيِّ، کہ وہ ابتداء جو بسم اللہ والی حدیث میں ہے، وہ محمول ہے ابتداء حقیقی پر، وَفِي حَدِيثِ التَّحْمِيدِ عَلَى الْإِضَافِيِّ، اور الحمدللہ والی حدیث میں وہ محمول ہے ابتداء اضافی پر، أَوْ عَلَى الْعُرْفِيِّ، ابتداء عرفی پر، یہ الحمدللہ سے صرف تعلق ہے، الحمدللہ والی یا تو محمول ہے کس پر؟ اضافی پر، أَوْ عَلَى الْعُرْفِيِّ، یا کس پر؟ عرفی پر، تو دو جواب ہو گئے، بسم اللہ حقیقی ہی پر محمول، اور الحمدللہ اضافی پر محمول، یا عرفی پر، تو کتنے جواب ہو گئے؟ دو جواب ہو گئے بھئی۔ أَوْ فِي كِلَيْهِمَا عَلَى الْعُرْفِيِّ، یا دونوں میں ابتداء محمول ہے عَلَى الْعُرْفِيِّ، کس پر؟ ابتداء عرفی پر۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ اپ نے بسم اللہ والی حدیث کو محمول کیا ابتداء حقیقی پر، اور الحمدللہ والی کو محمول کیا ابتداء اضافی یا عرفی پر، اپ نے اس کا برعکس کیوں نہیں کیا؟ الحمدللہ کو اپ حقیقی پہ محمول کر لیتے، اور بسم اللہ کو عرفی یا اضافی پر، تو جواب کہ بھئی اس صورت میں تو قرآن کا بھی اتباع پھر رہ جاتا بھئی، قرآن میں پہلے بسم اللہ ہے یا الحمدللہ ہے؟ بسم اللہ، تو قرآن کا بھی اتباع ہو جائے بھئی، وہاں جیسے ہے، پہلے بسم اللہ ہے اور پھر الحمدللہ، اور حدیث کا بھی ایسا جواب دیا جائے کہ یہ قرآن کے مطابق ہو جائے بھئی، قرآن کے برعکس نہ ہو بھئی، برعکس نہ ہو۔ سمجھ میں آیا؟ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ کسی کتاب میں اج تک اپ یہ نہیں دیکھیں گے کہ الحمدللہ پہلے ہو اور بسم اللہ بعد میں ہو، ہمیشہ پہلے بسم اللہ ذکر کی جاتی ہے اور اس کے بعد الحمدللہ ذکر کی جاتی ہے۔ تو یہاں انہوں نے دیکھیے، تین جوابات دے دیے، اور اس سے احادیث میں تعارض ختم ہو گیا، بظاہر احادیث میں کیا آ رہا تھا؟ تعارض تھا، ٹکراؤ تھا، یوں معلوم ہوتا تھا ہم ایک حدیث پر عمل کریں تو دوسری پر عمل نہیں ہو گا، دوسری پر عمل کریں تو پہلی پر عمل نہیں ہو سکتا، تو مصنف نے تین جوابات دے دیے کہ یہاں اعتراض اس لیے پیدا ہوا کہ اپ نے دونوں حدیثوں میں جو ابتداء کا ذکر آیا ہے، اس سے اپ نے ابتداء حقیقی مراد لے لی، حالانکہ دونوں حدیثوں میں ابتداء حقیقی نہیں مراد، بلکہ ہم محمول کرتے ہیں کہ پہلی حدیث کے اندر جو بسم اللہ والی حدیث ہے، اس میں تو ابتداء سے مراد کیا ہے؟ ابتداء حقیقی، لیکن الحمدللہ والی حدیث کے اندر ابتداء سے مراد ابتداء اضافی ہے، تو دیکھا اب ٹکراؤ ختم ہوا، اور اپ نے کہا تھا علامہ تفتازانی نے اوپر متن میں بسم اللہ والی حدیث پر تو عمل کیا ہے، لیکن الحمدللہ والی حدیث پر عمل نہیں کیا، پتہ چلا کہ انہوں نے دونوں پر عمل کیا ہے، کیونکہ بسم اللہ والی حدیث سے کیا مراد ہے؟ ابتداء حقیقی، اور وہ حقیقتاً بسم اللہ کو سب سے شروع میں لائے، تو اس حدیث پر بھی عمل ہوا، اور الحمدللہ والی حدیث میں ابتداء سے کیا مراد ہے؟ ابتداء اضافی، جو باقی کا کتاب کی نسبت سے، کہ اضافت کا کیا معنی؟ نسبت، تو جو باقی کتاب کی نسبت سے شروع میں ہو، اور الحمدللہ بھی باقی کتاب کی نسبت سے شروع میں ہے، بسم اللہ کے اعتبار سے شروع میں چاہے ہو یا نہ ہو، لیکن باقی کتاب کے اعتبار سے کہاں ہے؟ شروع میں ہے، تو گویا الحمدللہ کے ساتھ بھی ابتداء ہو رہی ہے، لیکن یہ ابتداء کون سی ہے؟ ابتداء اضافی ہے، تو دونوں پر عمل ہو گیا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور اسی طرح دوسرا جواب دے دیا، بسم اللہ والی حدیث کو ہم محمول کرتے ہیں ابتداء حقیقی پر، اور الحمدللہ والی حدیث کو ہم محمول کرتے ہیں ابتداء عرفی پر، جس کو عرف میں شروع کہا جائے، عرف میں، تو عرف کے اعتبار سے دیکھو الحمدللہ اس وقت شروع میں ہی ہے، اس کو شروع ہی کہتے ہیں، جو مسائل کتاب سے جو کچھ مقدم ہے وہ سارا کیا ہے؟ شروع میں ہی، اور الحمدللہ بھی شروع میں ہے، تو بسم اللہ والی حدیث پر بھی انہوں نے عمل کیا ہے کہ بسم اللہ سب سے شروع میں لائے، اس کو ابتداء حقیقی پر محمول کیا، اور الحمدللہ کو مسائل کتاب پر مقدم کیا، یعنی ابتداء عرفی، تو دونوں حدیثوں پر عمل ہو رہا ہے، ایک حدیث میں ابتداء حقیقی مراد ہے تو دوسرے میں ابتداء عرفی، دونوں پر عمل ہو رہا ہے، یہ نہیں کہ ایک پر عمل ہو رہا ہے، یا دونوں سے کیا مراد ہے؟ تیسرا جواب یہ دیا، یا دونوں حدیثوں میں ابتداء سے کیا مراد ہے؟ ابتداء عرفی مراد ہے، تو دیکھو دونوں پر عمل ہو گیا، عرفی، ابتداء عرفی کسے کہتے ہیں؟ جو مسائل کتاب پر مقدم ہو، اور تو بسم اللہ بھی اس پر مسائل کتاب پر مقدم ہے، الحمدللہ بھی کیا ہے؟ مسائل کتاب پر مقدم ہے، اگرچہ ایک دوسرے کے اعتبار سے نہیں، لیکن بات چل رہی ہے مسائل کتاب کی، ان پر یہ کیا ہے؟ مقدم ہے، تو ابتداء عرفی مراد ہے، دونوں حدیثوں پر عمل ہو رہا ہے، بسم اللہ بھی مسائل کتاب پر مقدم ہے، اور الحمدللہ بھی، یعنی یوں کہو شروع میں آ رہے ہیں اور عرف میں یہ سب کو شروع ہی کہا جاتا ہے بھئی، بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھو، ان احادیث میں اب تعارض اور ٹکراؤ ختم ہو گیا، ان میں توفیق آ گئی، تطبیق آ گئی، دونوں ایک دوسرے کے موافق ہو گئیں، ایک دوسرے کے مطابق ہو گئیں، ان میں کوئی ٹکراؤ نہیں، کیوں نہیں ٹکراؤ؟ کیونکہ ایک میں ابتداء حقیقی مراد ہے، دوسرے میں ابتداء اضافی مراد ہے، یا عرفی مراد ہے، یا دونوں سے کیا مراد ہے؟ ابتداء عرفی مراد ہے، کوئی ٹکراؤ ہے ہی نہیں بھئی۔ پھر یہاں ایک اور چھوٹی سی بات یاد رکھیں بھئی، کہ یہ بظاہر دو حدیثیں ہیں، لیکن علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ، عظیم محدث جو اس سرزمین پاک و ہند میں گزرے ہیں، وہ عظیم محدث بھئی، وہ فرماتے ہیں کہ یہ دونوں حدیثیں دراصل ایک ہی حدیث ہے۔ کل، دیکھو لفظوں سے ہی پتہ چل رہا ہے: كُلُّ أَمْرٍ ذِي بَالٍ لَمْ يُبْدَأْ فِيهِ بِبِسْمِ اللَّهِ، دوسری میں ہے: بِالْحَمْدُ لِلَّهِ فَهُوَ أَبْتَرُ، کسی میں ابتر آتا ہے بعض روایات میں، بعضوں میں اقطع آتا ہے، بعضوں میں اجذم آتا ہے، تو یہ دونوں وہ فرماتے ہیں یہ دونوں حدیثیں ایک ہی ہیں، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ حدیث روایت ہے، اور یہ ایک ہی حدیث ہے، البتہ اس کے الفاظ میں اضطراب ہے۔ یعنی الفاظ میں کچھ روایات کے اندر تبدیلی آ گئی ہے، ورنہ دراصل یہ کیا ہے؟ ایک ہی حدیث ہے بھئی، ایک ہی حدیث ہے، اور مقصد یہ ہے کہ آغاز شے کے اندر اللہ کا ذکر کیا جائے بھئی، جو بھی کام کرنے لگیں تو شروع میں کیا کر لیں؟ اللہ کا ذکر کر لیں۔ تو اس صورت میں تو پھر اشکال ہوتا ہی نہیں، کیونکہ دراصل حدیث ایک ہی ہے، صرف الفاظ میں تھوڑا سا فرق آیا ہے روایات کے اندر بھئی، پہلے تو ہم کیا کہہ رہے تھے یہ دو حدیثیں ہیں اور ان میں ٹکراؤ آ رہا ہے، جب دو ہیں ہی نہیں، کیا ہیں؟ ایک ہی حدیث ہے، صرف الفاظ کے اندر کچھ فرق آ گیا روایات کے اندر، تو اس پر عمل ہو گیا بھئی، کتاب کے آغاز میں بسم اللہ آ گئی بھئی، الحمدللہ آ گئی۔ اچھا چلیے، یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ وَالْحَمْدُ هُوَ الثَّنَاءُ بِاللِّسَانِ عَلَى الْجَمِيلِ الِاخْتِيَارِيِّ نِعْمَةً كَانَ أَوْ غَيْرَهَا. اب حمد کو، حمد کے بارے میں بتلانے لگے ہیں بھئی، کہ حمد کہتے کسے ہیں؟ کہتے ہیں: وَالْحَمْدُ هُوَ الثَّنَاءُ، وہ تعریف کرنا ہے، بِاللِّسَانِ، کس کے ساتھ؟ زبان، حمد جو ہے وہ تعریف کرنا ہے باللسان، زبان کے ساتھ، عَلَى الْجَمِيلِ، اي عَلَى الْوَصْفِ الْجَمِيلِ، جمیل صفت ہے، موصوف محذوف ہے۔ جمیل کا معنی اچھا، اچھا، بھئی کیا چیز اچھا؟ اچھا وصف بھئی، اچھا وصف۔ وہ زبان سے تعریف کرنا ہے علی الوصف الجمیل، اچھے وصف پر، ایسا اچھا وصف، اَلِاخْتِيَارِيِّ، جو اپنے اختیار میں ہو، اپنے اختیار میں ہو۔ نِعْمَةً كَانَ أَوْ غَيْرَهَا، چاہے وہ نعمت ہو، او غیرہا، یا غیر نعمت ہو بھئی، "ہا" ضمیر کس کو راجع؟ نعمت کو، غیرہا، نعمت ہو او غیرہا، اي غير نعمت، چاہے وہ نعمت ہو یا غیر نعمت ہو۔ بھئی، پہلے تعریف کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ ثناء آیا ثناء، ثناء یاد رکھیے کہ زبان سے تعریف کرنے کو کہتے ہیں، ثناء کسے کہتے ہیں؟ ثناء کا معنی ہی یہ ہے کہ زبان سے تعریف کی جائے، تو لہذا اس کے ساتھ باللسان کی ضرورت نہیں تھی، صرف کہہ دیتے: هُوَ الثَّنَاءُ، وہ کیا ہے؟ ثناء، کیا معنی؟ زبان سے تعریف، لیکن بہرحال اچھا کیا کہ لسان کو ساتھ ذکر کر دیا، خوب وضاحت ہو گئی بھئی۔ تو هُوَ الثَّنَاءُ بِاللِّسَانِ، وہ تعریف کرنا ہے زبان سے، عَلَى الْجَمِيلِ الِاخْتِيَارِيِّ، اچھے اختیاری وصف پر، نِعْمَةً كَانَ أَوْ غَيْرَهَا، چاہے وہ نعمت ہو یا غیر نعمت، نعمت سے مراد ہے انعام، یعنی احسان، احسان، چاہے احسان ہو وہ وصف یا احسان نہ ہو۔ انعام ہو یا چاہے انعام نہ ہو۔ بھئی دیکھیے، زید جو ہے نہ مثلاً، زید کی اپ تعریف کرتے ہیں، تو اس کی کئی صورتیں بنتی ہیں۔ کبھی کبھار اپ زید کی تعریف کرتے ہیں اس کے حسن و جمال پر، کہ زید کتنا حسین و جمیل ہے! اب مجھے بتائیے، یہ حسن و جمال اس کے اپنے اختیار میں ہے یا یہ حسن اس کو اللہ نے عطا فرمایا ہے؟ یہ اس کو اللہ نے عطا فرمایا ہے، تو یہ اپ نے زید کی تعریف کی، ایک اچھے وصف پر، لیکن یہ ایسا وصف ہے جو زید کے اختیار میں نہیں ہے، یہ اس کو کس نے عطا فرمایا؟ اللہ نے، تو یہ تعریف ہوئی وصف غیر اختیاری پر، کس پر؟ ہاں، وصف غیر، اور بعض اوقات اپ زید کی تعریف کرتے ہیں کہ ایسا اچھا وصف جو اس کے اپنے اختیار میں ہوتا ہے، مثلاً اپ کہتے ہیں: زید کتنا اچھا آدمی ہے، کتنا سخی آدمی ہے! دیکھا، اپ نے اس کی سخاوت کی تعریف کی، اور سخاوت یہ انسان کے اپنے اختیار میں ہے، سخاوت کرے یا سخاوت نہ کرے، تو اب اپ نے زید کی تعریف کی کس قسم کے وصف پر؟ جو اس کا اختیاری ہے، اختیاری ہے۔ اور بعض اوقات اپ کسی کی تعریف کرتے ہیں جب وہ اپ کے ساتھ اچھائی کرتا ہے، زید نے اپ، اپ زید سے ملنے گئے، اس نے اپ کا بڑا اکرام کیا، چائے پلائی، خیال رکھا، عزت کی، تو اپ بعد میں زید کی تعریف کرتے ہیں کہ زید بڑا اچھا آدمی ہے، بڑا نیک آدمی ہے، علماء اور طلباء کی بہت کا بہت خیال رکھتا ہے، اب مجھے بتائیے، یہ جو اپ نے زید کی حمد بیان کی، یہ ویسے کی یا اس کے احسان کی وجہ سے کی؟ اس کے احسان اور نیکی کی وجہ سے اپ نے تعریف کی، تو تعریف کئی قسم کی ہو سکتی ہے، بعض اوقات تعریف کسی اختیاری وصف پر ہوتی ہے، اچھے وصف پر، بعض اوقات تعریف غیر اختیاری وصف پر ہوتی ہے، اور بعض اوقات تعریف کس پر ہوتی ہے؟ احسان نیکی کی ہے اپ کے ساتھ اس نیکی کے بدلے میں وجہ سے اپ تعریف کرتے ہیں، تو یہ الگ الگ قسمیں ہیں۔ یاد رکھیے، یہ جو نیکی کی وجہ سے اس نے اپ کے ساتھ احسان کیا، اپ پر انعام کیا، اور اپ نے اس کی تعریف کی، اس کو شکر کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ شکر، ابھی میں تعریف لکھواؤں گا، پوری تعریف آ جائے گی۔ بہرحال، احسان کے بدلے میں جو اچھائی کی جائے وہ کیا ہے؟ شکر ہے، اور اختیاری وصف پر جو تعریف کی جائے وہ حمد ہے، وہ کیا ہے؟ حمد ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، اب تفصیل آ رہی ہے بھئی، تفصیل آ رہی ہے، پوری تعریف، بس میں نے مقصد تھا سمجھانا کہ کچھ چیزیں کیا ہوتی ہیں؟ اختیاری، کچھ چیزیں ہوتی ہیں غیر اختیاری، اور بعض اوقات احسان مقابلے میں ہوتا ہے، بعض اوقات احسان مقابلے میں نہیں ہوتا۔ اب دیکھیے دوبارہ تعریف: وَالْحَمْدُ هُوَ الثَّنَاءُ، حمد وہ تعریف کرنا ہے، بِاللِّسَانِ، کس کے ساتھ؟ زبان کے ساتھ، عَلَى الْجَمِيلِ، اي عَلَى الْوَصْفِ الْجَمِيلِ، ایسے اچھے وصف پر، جمیل کا معنی اچھا، ایسے اچھے وصف پر، اَلِاخْتِيَارِيِّ، جو کیا ہو؟ جو اختیاری ہو، اس کے اختیار پہ ہو، نِعْمَةً كَانَ أَوْ غَيْرَهَا، چاہے وہ نعمت ہو یا نعمت نہ ہو، یعنی احسان، نعمت سے کیا مراد ہے؟ احسان، چاہے وہ احسان ہو یا احسان نہ ہو، تعریف سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا حمد ہمیشہ زبان سے ہو گی، پہلی بات۔ دوسری بات، حمد ہمیشہ وصف اختیاری پر ہو گی، غیر اختیاری پر نہیں، غیر اختیاری پر تعریف کریں اسے حمد نہیں کہیں گے۔ اور حمد احسان کے مقابلے میں بھی ہو سکتی ہے اور بغیر احسان کے بھی ہو، اپ زید کے بارے میں ویسے کہیں زید بڑا نیک آدمی ہے، اس نے اپ کے ساتھ کوئی انعام نہیں کیا، کوئی احسان نہیں کیا، اپ کہیں زید بڑا سخی آدمی ہے، سب سے پہلے مجھے یہ بتائیں، تعریف اپ کس سے کر رہے ہیں؟ زبان سے، زبان۔ دوسرا، اپ کیسے وصف پر تعریف کر رہے ہیں؟ زید بڑا سخی آدمی ہے، اختیاری ہے، غیر اختیاری؟ اختیاری ہے، اور تیسرا زید نے اپ کے ساتھ کوئی نیکی نہیں کی، لیکن اپ پھر بھی کہہ رہے ہیں، زید بڑا سخی آدمی ہے، تو یہ تعریف ہوئی کس کے مقابلے میں؟ غیر نعمت کے مقابلے میں، انعام کوئی نہیں ہے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور اگر اس نے اپ کے ساتھ احسان کیا ہے پھر اپ اس کی تعریف کر رہے ہیں، تو یہ حمد کس کے مقابلے میں ہوئی؟ انعام کے مقابلے، تو کبھی یہ حمد انعام کے مقابلے میں بھی ہو سکتی ہے اور انعام کے بغیر بھی ہو، معلوم ہوا حمد کے اندر پہلی چیز کیا؟ وہ کس سے ہو گی؟ زبان سے، دوسری چیز وصف کیسا ہونا چاہیے؟ اچھا تو ہو گا ہی، اچھا تو ہو گا ہی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ یاں، ہاں یہ بھی قید یاد رکھو، وصف اچھا وصف ہونا چاہیے۔ تو نمبر ایک کیا؟ زبان سے ہو، دوسرا وصف کیسا ہو؟ اچھا، تیسرا؟ اختیاری ہو، چوتھا؟ چاہے نعمت ہو چاہے، یا یوں کہو، چاہے احسان ہو یا انعام ہو یا انعام نہ ہو، دونوں صورتیں اس میں داخل ہیں، دونوں صورتیں اس میں داخل ہیں۔ اب اپ مجھے بتائیے، یہ حمد ہے یا حمد نہیں؟ زید نے مجھے چائے نہیں پلائی، لیکن میں پھر بھی کہتا ہوں، زید بڑا سخی آدمی ہے۔ حمد ہے؟ خود غور کر لو، زبان سے میں نے تعریف کی کہ نہیں کی؟ اچھے وصف پر کی کہ نہیں کی؟ اختیاری، سخاوت پر کر رہا ہوں، تو اختیاری ہے یا غیر اختیاری؟ اختیاری، اور یہاں پر بھی کون سی قید موجود ہے، حمد کی تعریف میں؟ اختیاری کی قید موجود ہے۔ اور پھر، چاہے احسان کیا ہو یا احسان نہ کیا ہو، دونوں صورتیں شامل ہیں، تو لہذا یہ حمد ہوئی، یہ کیا ہوئی؟ حمد، چاہے اس نے میرے ساتھ احسان کیا ہو یا نہ کیا ہو، دونوں صورتوں میں میں زید کے بارے میں جب یہ کہوں، زید بڑا سخی آدمی ہے، یہ کیا ہے؟ حمد ہے، یہ کیا ہے؟ حمد ہے۔ اسی طرح ایک ہے مدح بھئی، ایک کیا ہے؟ مدح۔ ایک مدح ہے بھئی، مدح۔ مدح کی بھی یہی تعریف ہے جو حمد کی ہے، صرف یہاں سے اختیاری کو نکال دیں۔ دوبارہ کتاب پر دیکھیں، اب حمد کی جگہ مدح رکھ دیں: اَلْمَدْحُ هُوَ الثَّنَاءُ بِاللِّسَانِ عَلَى الْجَمِيلِ نِعْمَةً كَانَ أَوْ غَيْرَهَا، صرف کس کو نکال دیا؟ اختیاری، اختیاری کو نکال دیا۔ لہذا اب میں زید کی تعریف کرتا ہوں کہ زید بڑا حسین و جمیل ہے، جی، مجھے بتائیے، یہ اختیاری وصف پر تعریف کی یا غیر اختیاری پر؟ غیر، لہذا یہ مدح تو ہے، لیکن حمد نہیں، حمد میں اختیاری ہونا ضروری، مدح میں چاہے اختیاری ہو، چاہے، دونوں صورتیں داخل ہیں، یعنی مدح کے اندر غیر اختیاری ہونا نہیں ضروری، مدح چاہے اختیاری ہو، چاہے غیر اختیاری ہو، اور چاہے احسان کے مقابلے میں ہو، چاہے احسان کے مقابلے میں نہ ہو۔ لہذا میں زید کی تعریف کرتا ہوں: زید بڑا سخی آدمی ہے۔ یہ حمد ہے کہ نہیں؟ جی، دماغ نہیں حاضر، میرا خیال دماغ نہیں حاضر، حمد ہے کہ نہیں؟ خود دیکھ لو نہ، حمد میں چار قیدیں تھیں، نمبر ایک کیا؟ زبان سے ہو، دوسرا؟ اچھے وصف پر ہو، تیسرا؟ اختیاری ہو، چوتھا؟ چاہے احسان ہو یا نہ ہو، احسان ہو یا نہ ہو اس کو تو نکال ہی دو، اس کی تو ضرورت ہی نہیں ذکر کرنے کی، بس، زبان سے ہونی چاہیے، اچھے وصف پر ہونی چاہیے، اور اختیاری ہونی چاہیے۔ زید سخی آدمی ہے، کس سے زبان تعریف کی؟ زبان، اور اچھے وصف پر کی، اور کیسا وصف ہے؟ اختیاری ہے، لہذا یہ کیا ہے؟ حمد ہے۔ اور مدح بھی ہے یا نہیں، یہ بتاؤ؟ مدح میں کتنی چیزیں تھیں؟ دو چیزیں، کیا؟ زبان سے اور اچھے، وہ ہے یا نہیں؟ لہذا یہ حمد، مدح بھی ہے اور حمد بھی ہے، صورت سمجھ میں، اور میں زید کی تعریف کرتا ہوں: زید بڑا حسین و جمیل ہے۔ حمد ہے؟ حمد، حمد نہیں ہے کیونکہ اختیاری نہیں۔ مدح ہے؟ جی، کیوں؟ زبان سے اور اچھے وصف سے، بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو حمد کے اندر تین قیدیں، اور مدح کے اندر دو قیدیں، حمد کے اندر انعام ہو یا نہ ہو دونوں چلیں گے، دونوں، دونوں کے مقابلے میں آ سکتی ہے، اور مدح وہاں چاہے انعام ہو چاہے انعام نہ ہو، وہ بھی آ گیا، چاہے اختیار ہو چاہے اختیاری ہو چاہے اختیاری نہ ہو، وہ بھی آ گئی بھئی، تو صرف گویا دو قیدیں ہیں وہاں۔ اور تیسرا ہے شکر بھئی، شکر، یہ ہم انشاءاللہ کل کریں گے، لیکن ذرا ان کی تعریفیں لکھ لو، یہ اپ نے یہ دو حدیثیں بھی کل مجھے زبانی سنانی ہیں، اور یہ تین تعریفیں بھی بھئی۔ حمد کی تعریف تو کتاب میں لکھی ہوئی ہے، کیا؟ اَلْحَمْدُ هُوَ الثَّنَاءُ بِاللِّسَانِ عَلَى الْجَمِيلِ الِاخْتِيَارِيِّ نِعْمَةً كَانَ أَوْ، اعراب پہ توجہ ہے، اسی طرح اپ نے مجھے یاد کر کے سنانا ہے بھئی۔ اَلْحَمْدُ هُوَ، یہ لکھنا نہیں، یہ تو کتاب میں لکھا ہوا ہے، بس ذات یاد کر لینا: اَلْحَمْدُ هُوَ الثَّنَاءُ بِاللِّسَانِ، نظر ہے کتاب پر؟ اَلْحَمْدُ هُوَ الثَّنَاءُ بِاللِّسَانِ عَلَى الْجَمِيلِ الِاخْتِيَارِيِّ، یہ یا مشدد ہے، اَلِاخْتِيَارِيِّ نِعْمَةً كَانَ أَوْ غَيْرَهَا. یہ کس کی تعریف ہو گئی؟ حمد کی، مدح کی تعریف بھی بالکل یہی ہے، م د ح، اَلْمَدْحُ، صرف اختیاری کا لفظ یہاں سے ہٹا دو: اَلْمَدْحُ هُوَ الثَّنَاءُ بِاللِّسَانِ عَلَى الْجَمِيلِ نِعْمَةً كَانَ أَوْ غَيْرَهَا. اچھا، اب تیسرا شکر ہے، اس کی تعریف لکھ لو بھئی: اَلشُّكْرُ هُوَ فِعْلٌ يُنْبِئُ، ينبئ کیسے لکھیں گے؟ یا، نون، با، اور پھر یا، یا، نون، با، اور پوری پھر یا لکھ دیں، اور اس یا کے اوپر آخر میں جو لکھی، ہمزہ ڈال دیں، یہ دراصل ہمزہ ہے، عربی میں ہمزہ کی کتابت سب سے مشکل بھئی، تو یہاں اس کو ہم نے یا کی صورت میں، یہاں اس کو یا کی صورت میں لکھ لیں، لکھیں گے بھئی، لکھ لیا بھئی؟ اَلشُّكْرُ هُوَ فِعْلٌ يُنْبِئُ عَنْ تَعْظِيمِ الْمُنْعِمِ، منعم، میم، نون، عین، میم، سَوَاءٌ، سین، واو، الف، اور ہمزہ، كَانَ، كَانَ، بِاللِّسَانِ، باللسان کیسے لکھو گے؟ با، الف، دو لام، اور پھر سین، الف، نون، بِاللِّسَانِ، أَوْ بِالْجَنَانِ، بالجنانی، بالجنان کیسے لکھو گے؟ با، الف، لام، جیم، نون، الف، نون، اَلْجَنَانُ، اس کے ساتھ با جوڑ دی ہے، الجنان کے ساتھ کیا جوڑ دیا ہے؟ با، بِالْجَنَانِ، أَوْ بِالْأَرْكَانِ، او بالارکان، اَلْأَرْكَانُ لکھو، الارکان، الف، لام، الف، اور ساتھ شروع میں با جوڑ دو، بِالْأَرْكَانِ، بس بھئی، شکر کی تعریف مکمل ہوئی۔ لکھ لی بھئی؟ پھر سن لیں ایک دفعہ: اَلشُّكْرُ هُوَ فِعْلٌ يُنْبِئُ عَنْ تَعْظِيمِ الْمُنْعِمِ سَوَاءٌ كَانَ بِاللِّسَانِ أَوْ بِالْجَنَانِ أَوْ بِالْأَرْكَانِ. ترجمہ بس سن لیں: شکر، هُوَ فِعْلٌ، وہ ایسا فعل ہے، يُنْبِئُ، انبا ینبئ کا معنی خبر دینا، پتہ بتلانا، اَلشُّكْرُ هُوَ فِعْلٌ، شکر جو ہے وہ ایسا فعل ہے جو خبر دیتا ہے، عَنْ تَعْظِيمِ الْمُنْعِمِ، منعم کی تعظیم، انعام دینے والے کی تعظیم، شکر وہ ایسا فعل ہے جو خبر دیتا ہے انعام دینے والے کی تعظیم کے بارے میں، سَوَاءٌ كَانَ بِاللِّسَانِ، چاہے وہ زبان سے ہو، برابر ہے چاہے لکھیں یا نہ لکھیں، ویسے لفظی ترجمہ، لفظی ترجمہ کر رہا ہوں، سواء، برابر ہے۔ اچھا، چاہے وہ بِاللِّسَانِ زبان سے ہو، أَوْ بِالْجَنَانِ یا دل سے ہو، أَوْ بِالْأَرْكَانِ یا اعضاء سے ہو۔ چاہے وہ زبان سے ہو، أَوْ بِالْجَنَانِ، جنان کا کیا معنی؟ دل، یا دل سے ہو، أَوْ بِالْأَرْكَانِ، یا ارکان سے کیا مراد ہے؟ اعضاء سے، اعضاء سے۔ لکھ لیا ترجمہ بھئی؟ پھر سن لیں ایک دفعہ: اَلشُّكْرُ هُوَ فِعْلٌ يُنْبِئُ، دیکھو یہاں یرملون والا قانون لگے گا، فعلٌ کا نون کس سے بدلا؟ یا سے، اور پھر یا میں ادغام ہوا: اَلشُّكْرُ هُوَ فِعْلٌ يُنْبِئُ عَنْ تَعْظِيمِ الْمُنْعِمِ سَوَاءٌ كَانَ بِاللِّسَانِ أَوْ بِالْجَنَانِ أَوْ بِالْأَرْكَانِ. شکر وہ ایسا فعل ہے جو خبر دیتا ہے انعام دینے والے کی تعظیم کے بارے میں، انعام دینے والا، یعنی احسان کرنے والا، احسان کرنے والے کی تعظیم کے بارے میں، چاہے وہ زبان سے ہو یا دل سے ہو یا اعضاء، یعنی وہ فعل چاہے اپ زبان سے کریں، چاہے دل سے کریں، اور چاہے اعضاء سے کریں، اعضاء سے کریں۔ بس، اس سے انعام دینے والے کے تعظیم کا پتہ چلے، مثلاً زید نے اپ کے ساتھ نیکی کی، زید نے اپ کا اکرام کیا، تو اپ کیا کرتے ہیں؟ زبان سے زید کی تعریف کرتے ہیں: زید بڑا اچھا آدمی ہے، دیکھا، یہ لسان سے اپ نے کیا کیا؟ اس کی تعریف کی ہے یہ، اور چاہے تو دل سے کریں، یعنی دل میں اچھا گمان کریں کہ زید بڑا نیک آدمی ہے، تو دیکھا، یہ دل میں اپ نے اس کے بارے میں اچھا گمان کیا، اچھا خیال کیا، یہ دل کا فعل ہو گیا، وہ زبان کا فعل تھا، یہ دل کا فعل، اور چاہے تو اپ بھی زید کی کچھ خدمت وغیرہ کر دیں بھئی، تو یہ شکر ہے، تو شکر ہمیشہ کس کے مقابلے میں ہو گا؟ انعام کے مقابلے، منعم ہوتا ہے نہ اس میں، منعم دیکھا ضروری ہے، انعام کرنے والا، احسان کرنے والا، تو شکر ہمیشہ کس کے مقابلے میں ہو گا؟ انعام، اور حمد اور مدح صرف زبان سے ہوتی تھیں، لیکن شکر؟ زبان سے بھی ہو سکتا ہے، دل سے بھی ہو سکتا ہے، اور اعضاء سے بھی، زبان سے کیسے؟ کہ اپ تعریف کر دیں، دل سے کیسے؟ اچھا گمان کریں، اچھا اعتقاد رکھیں اس کے بارے میں، اور اعضاء سے کیسے؟ کہ اس کی کوئی خدمت وغیرہ کر دیں جس سے لوگوں کو پتہ چلے یہ اس کی کیا کر رہا ہے؟ عزت کر رہا ہے، اس کی تعظیم کر رہا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے، بس یہ اپ نے تعریفیں اپ نے یاد کرنی ہیں، وہ دو حدیثیں جو ہیں وہ بھی زبانی یاد کرنی ہیں اپ نے، اور پھر یہ تینوں تعریفیں حمد، مدح، اور شکر بھئی، پھر باقی بحث اس کے بارے میں ہم کل کر لیں گے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ.