علامہ تفتازانی نے اصولِ فقہ کے اندر احناف کی مشہور کتاب توضیح ، تاء دونوں نقطوں والی، و، ض، ی، ح، توضیح کی شرح بھی لکھی۔ توضیح کی شرح بھی لکھی۔
علامہ تفتازانی کی یہ شرح تلویح کہلاتی ہے۔ علامہ تفتازانی کی یہ شرح تلویح، ت، ل، و، ی، ح، تلویح کہلاتی ہے۔
تلویح میں علامہ تفتازانی ہر دو تین سطروں کے بعد ماتن پر کوئی نہ کوئی اعتراض کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ ماتن پر کوئی نہ کوئی اعتراض کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں ماتن کو عربی نہیں آتی، کبھی کہتے ہیں ماتن کو عربی نہیں آتی، اور کبھی کچھ، کبھی کچھ۔
والد صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ تقریباً یہ تمام اعتراضات، کہ تقریباً یہ اکثر اعتراضات غلط ہیں، غلط ہیں اور خود علامہ تفتازانی کو بھی علم ہے کہ میں یہ اعتراضات بے جا کر رہا ہوں کیونکہ علامہ تفتازانی بہت بڑے عالم تھے۔ ماتن سے اگر کہیں غلطی بھی ہوئی ہو، ماتن سے اگر کہیں کوئی غلطی بھی ہوئی ہو تو شارح کا کام یہ ہوتا ہے کہ اس مقام کی کوئی ایسی تقریر یا ایسی توجیح—توجیح بھئی، ت، و، ج، ی اور گول ہ—یا کوئی ایسی توجیح کر دے کہ ماتن کی بات درست لگنے لگے اور اس کی غلطی چھپ جائے۔
مگر شرح تلویح میں علامہ تفتازانی ماتن کی ٹھیک باتوں پر بھی غلط ہونے کے اعتراضات کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ علامہ کازرونی—کاف چھوٹا، ا، ز، ر، و، ن، ی—علامہ کازرونی رحمہ اللہ کو یہ شرح دیکھ کر کہنا پڑا: "وَیَنبَغِی أَن یُسَمَّى جَارِحًا وَلَا شَارِحًا وَشَرحُہُ جَرحًا وَلَا شَرحًا" یعنی مناسب یہ ہے کہ شارح کو جارج یعنی اعتراض کرنے والا کہا جائے، شارح نہ کہا جائے اور اس شرح کو جرح کہنا چاہیے—ج، ر، ح—جرح کہنا چاہیے، شرح نہیں کہنا چاہیے۔
بات سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ تو یہ توضیح جو ہے، اس کی شرح لکھی علامہ تفتازانی نے اور اس کا نام تلویح ہے اور وہ درجہ سادسیہ میں پڑھائی جاتی ہے۔ آپ بھی انشاءاللہ پڑھیں گے اور اس میں علامہ تفتازانی کیا کرتے ہیں؟ قدم قدم پر ماتن پر اعتراضات کرتے چلے جاتے ہیں۔ ہر دو چار سطروں کے بعد اعتراض کرتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں ان کو عربی نہیں آتی، کبھی کہتے ہیں یہ غلط کر دیا، کبھی کہتے ہیں وہ غلط کر دیا! عربی نہیں آتی؟ مثلاً دیکھو، وہاں دوسری صفحے پر کہتے ہیں کہ اس فعل کا صلہ یہ آتا ہے یعنی بھئی افعال کے ساتھ جو حرفِ جار آتے ہیں نا، اس کو فعل کا صلہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ صلہ۔ مثلاً میں کہتا ہوں: "ضربتُ زیداً بالعصا"، یہ "بالعصا" کیا ہے؟ جار مجرور اور یہ متعلق کس سے ہو گا؟ "ضربتُ" کے ساتھ۔ تو یہ "ب" کو کہیں گے یہ جو "ب" حرفِ جار جو فعل جس فعل کے ساتھ جڑ رہا ہے، اس کو کہیں گے یہ اس فعل کا صلہ ہے۔ یہ "ب" کیا ہے؟ صلہ ہے، کس کا؟ "ضربتُ" کا۔ تو اسی طرح ہر فعل کے ساتھ مخصوص صلے استعمال ہوتے ہیں۔ یاد رکھو جب یہ صلہ بدلتا ہے، فعل کا معنی بدل جاتا ہے۔ فعل کا معنی بدل جاتا ہے، جیسے "دعوتُ"، "دعوتُ" کے ساتھ جب "ل" آ جائے، "دعوتُ لہ"، تو معنی ہوتا ہے دعا کرنا، کسی کے لیے۔ "دعوتُ لزیدٍ"، میں نے زید کے لیے دعا کی۔ لیکن یہ "ل" ذرا بدل دو، "ل" کی جگہ "علیٰ" حرفِ جار لے آؤ، "دعوتُ علیٰ زیدٍ"، اب معنی ہو جائے گا میں نے زید کے لیے بددعا کی۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو یہ صلے کے بدلنے سے کیا ہوتا ہے؟ فعل کا معنی بدل جاتا ہے اور تو یہ حروفِ جارہ جو فعل کے ساتھ استعمال ہوں، ان کو صلہ کہتے ہیں۔
تو دوسرے ہی صفحے پر مثلاً عبارت آتی ہے اور وہاں پر علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ یہ جو ماتن ہے، متن علامہ صدر الشریعہ کا ہے، بہت بڑے عالم گزرے ہیں، کہ یہ دیکھو علامہ صدر الشریعہ کو عربی بھی نہیں آتی، اس فعل کا صلہ یہ آتا ہے، یہ جو علامہ صدر الشریعہ نے اوپر ذکر کیا ہے، وہ صلہ نہیں آتا یعنی وہ حرفِ جار اس کے ساتھ نہیں آتا بلکہ دوسرا آتا ہے، تو یہ انہوں نے دیکھو صلے کے اندر غلطی کر دی۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو کہ گویا کہنا یہ چاہتے ہیں ان کو عربی نہیں آتی بھئی، صلے کا بھی ان کو نہیں پتہ کہ یہ والا صلہ لانا چاہیے تھا، یہ کچھ اور لے آئے ہیں۔
تو ان کی اس کتاب کو دیکھ کر علامہ کازرونی کو کیا کہنا پڑا؟ کہ اس شرح کو شرح نہیں کہنا چاہیے بلکہ جرح کہنا چاہیے، یہ تو اعتراضات کر رہے ہیں اس پر۔ جیسے وکیل عدالت میں ہوتے ہیں، کوئی مجرم آتا ہے اس پر جرح کرتے ہیں، اعتراضات کرتے ہیں، سوالات کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں، پوچھتے ہیں تاکہ پوری بات کا پتہ چل جائے۔ تو جیسے وہ مجرم پر تابڑ توڑ اعتراضات کر رہے ہوتے ہیں اور اس سے باتیں نکلوا رہے ہوتے ہیں، تو یہاں بھی گویا کیا کر رہے ہیں وہ؟ علامہ تفتازانی ان پر اعتراضات کر کے ان کو خراب کر رہے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو جرح کر رہے ہیں۔
تو اس کو جرح کہنا چاہیے، شرح، شارح کا کام تو یہ ہوتا ہے کہ ماتن سے اگر کہیں کوئی کہیں کوئی غلطی ہو بھی جائے، شارح اس کی ایسی زبردست تقریر کرتا ہے کہ وہ غلطی غلطی لگتی ہی نہیں ہے اور یوں لگتا ہے جیسے ماتن جان بوجھ کر یہ لفظ لائے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو شارح کا کام ہوتا ہے کہ متن کی بہترین تقریر کرے اور شارح سے اگر کہیں کچھ چھوٹی موٹی غلطی ہو گئی ہے تو بہترین تقریر کرتا ہوا اور توجیح کرتا ہوا وہاں سے گزرے تاکہ کسی کو ماتن کی غلطی نظر نہ آئے بھئی۔
والد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ فرمانے لگے کہ احناف کی عام اصول، اصولِ فقہ کی کتابیں کمزور ہیں، کمزور ہیں۔ البتہ یہ توضیح اصولِ فقہ میں احناف کی بڑی مضبوط اور اعلیٰ کتاب ہے۔ البتہ یہ توضیح اصولِ فقہ میں احناف کی بڑی مضبوط اور اعلیٰ و زبردست کتاب ہے، مضبوط اعلیٰ و زبردست کتاب ہے۔ لیکن علامہ تفتازانی نے اس کتاب کی شرح لکھ کر اسے ایسا خراب کیا ہے کہ اب اسے کوئی اصولِ فقہ کی کتاب سمجھتا ہی نہیں، سمجھتا ہی نہیں۔ مدارس میں یہ کتاب اعتراض و جواب کرنے اور سمجھنے کے لیے پڑھائی جاتی ہے، پڑھائی جاتی ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ خاص عام وغیرہ کی بحث جو کہ اصولِ فقہ کی پہلی بحث ہے، وہاں تک پہنچتے پہنچتے سال ہی ختم ہو جاتا ہے، وہاں تک پہنچتے پہنچتے سال ہی ختم ہو جاتا ہے۔
والد صاحب رحمہ اللہ فرمانے لگے کہ اس شرح سے میری اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ علامہ تفتازانی حنفی نہیں بلکہ شافعی المسلک ہیں، بلکہ شافعی المسلک ہیں اور انہوں نے یہ کتاب اللہ کے لیے نہیں لکھی بلکہ احناف کے اصول خراب کرنے کے لیے لکھی ہے، لکھی ہے اور اس میں پوری طرح کامیاب رہے۔ چنانچہ اب کوئی اس کتاب کو اصولِ فقہ کی کتاب سمجھ کر نہیں پڑھتا اور پڑھاتا، نہیں پڑھتا اور پڑھاتا۔
نیز علامہ تفتازانی ہدایہ کی شرح بھی لکھنا چاہتے تھے تاکہ فروع کو بھی خراب کر دیں، تاکہ فروع—ف، ر، و، ع—کو بھی خراب کر دیں۔ مگر ہدایہ کے صرف خطبے ہی کی شرح کی تھی کہ انتقال فرما گئے، کہ انتقال فرما گئے۔ والد صاحب رحمہ اللہ فرمانے لگے کہ یہ صاحبِ ہدایہ کی کرامت ہے کہ علامہ تفتازانی ان کی کتاب خراب نہ کر سکے، ان کی کتاب خراب نہ کر سکے۔
بات سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ والد صاحب فرماتے تھے کہ یہ کتاب تلویح جو لکھی علامہ تفتازانی نے، یہ کوئی اللہ کے لیے نہیں لکھی، یہ احناف کے اصول خراب کرنے تھے کیونکہ یہ تو حنفی تھے نہیں، یہ تو شافعی تھے۔ تو احناف کے اصول خراب کرنے، فرماتے تھے ہماری اصول کی کتابوں میں کمزوری ہے مثلاً اصول الشاشی وغیرہ، نور الانوار، لیکن جو توضیح ہے وہ بڑی مضبوط کتاب ہے اصولِ فقہ کے اندر۔ لیکن علامہ تفتازانی نے اس کی ایسی شرح لکھی ہے کہ اب کوئی اسے اصول کی کتاب سمجھ کر پڑھتا پڑھاتا ہی نہیں ہے۔ اصول کی بحثیں شروع ہونے لگتی ہیں تو جب تک سال گزر جاتا ہے۔ بس سارا سال وہ اعتراض و جواب، اعتراضات وغیرہ ذکر ہوتے ہیں، علامہ تفتازانی قدم قدم پر اعتراضات کرتے ہیں، بڑی گہری باتیں کرتے ہیں اور اعتراضات بھی کرتے رہتے ہیں۔ ہم والد صاحب رحمہ اللہ سے یہ کتاب پڑھتے تھے بھئی، جس سال آپ کا، ان کا انتقال ہوا، اسی سال ہم ان سے یہ توضیح تلویح پڑھ رہے تھے بھئی اور ہم چار پانچ ساتھی تھے، والد صاحب سے توضیح تلویح پڑھتے تھے۔ اور یاد رکھیے توضیح تلویح درسِ نظامی کی مشکل ترین کتابوں میں سے ہے۔ بڑے بڑے مدرس اس کے پڑھانے سے کتراتے ہیں بھئی، اتنی مشکل اور پیچیدہ کتاب ہے۔ اور ہم چار پانچ ساتھیوں نے والد صاحب سے یہ کتاب پڑھی تو ہم سے کوئی پوچھتا ہے کہ درسِ نظامی کی سب سے مزیدار کتاب کون سی ہے؟ تو ہم کہتے ہیں توضیح تلویح بھئی! وہ حیران ہو جاتے ہیں کہ یہ کیسی بات کر رہے ہیں؟ شاید مذاق کر رہے ہیں بھئی، وہ تو سب سے مشکل کتاب ہے۔ لیکن ہم کہتے ہیں نہیں، توضیح تلویح میں جو لطف ہے، جو مزا ہے کسی کتاب میں نہیں۔ اس سے ایک اور بات کا اندازہ ہوتا ہے، معلوم ہوا اللہ نے ہماری کتابوں میں بہت لذت رکھی ہے بشرطیکہ کوئی پڑھانے والا ہو بھئی۔ ہم والد صاحب سے یہ کتاب پڑھتے تھے، سبق شروع ہوتا تھا، ہم اس میں ایسے مگن ہو جاتے تھے، ایسے ڈوب جاتے تھے جیسے بچے کو کوئی کہانی سنا رہا ہو اور وہ اس میں ڈوب جاتا ہے بھئی، ارد گرد کا خیال ہی نہیں رہتا انسان کو۔ تو اور پھر والد صاحب جب علامہ تفتازانی کا اعتراض ذکر کرتے تھے، شروع کرتے ہی علامہ تفتازانی اعتراض شروع کر دیتے ہیں، پہلی دوسری سطر سے ہی اعتراض کرنا شروع کر دیتے ہیں، ساری کتاب میں اسی طرح اعتراضات چلتے ہیں۔ تو جب بھی والد صاحب علامہ تفتازانی کا کوئی اعتراض آتا تو ہم وہ اعتراض سنتے تو ہمیں بڑا مضبوط لگتا تھا کہ علامہ تفتازانی نے بڑا زبردست اعتراض کیا ہے مصنف پر۔ پھر والد صاحب اس کے جوابات دینا شروع کرتے اور فرماتے: جوابِ اول، پھر جوابِ ثانی، جوابِ ثالث، جوابِ رابع، جوابِ خامس، کئی کئی جوابات دیتے تھے۔ اور یہ حقیقت ہے جب ہم ان جوابات کو سنتے تھے تو ہمیں علامہ تفتازانی پر ہنسی آتی کہ یہ کیسا بے جا اعتراض کیا، یہ تو کوئی اعتراض ہی نہیں تھا! ایسے قوی جوابات آتے تھے والد صاحب کی طرف سے۔ اور والد صاحب فرماتے کہ یہ علامہ تفتازانی اعتراض کرتے ہوئے جا رہے ہیں اور بے جا اعتراض کر رہے ہیں اور ان کو بھی پتہ ہے کہ میں بے جا اعتراض کر رہا ہوں کیونکہ بہت بڑے عالم ہیں بھئی، ان کو بھی پتہ ہے۔ لیکن مقصد صرف کیا تھا؟ کتاب کو خراب کرنا مقصد تھا، اس لیے جان بوجھ کر بس اعتراض کرتے ہوئے، آنکھیں بند کر کے اعتراض کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ اور پھر والد صاحب جو اس تلویح کے جو محشی حضرات ہیں، جو علماء جنہوں نے حاشیے لکھے ہیں اس پہ اور اکثر نے وہ تائید کرتے ہیں، علامہ تفتازانی جب بھی اعتراض کرتے ہیں، وہ اسی کی تقریر کرتے ہیں اور کہتے ہیں بڑا زبردست اعتراض کیا اور فلاں، والد صاحب ان پر بھی بڑے غصے کا اظہار فرماتے کہ محشی کو دیکھو، یہ بھی ان کی تائید کر رہے ہیں کہ ہاں جی بڑا اچھا اعتراض کیا، بڑا مضبوط اعتراض کیا۔ لیکن والد صاحب کئی کئی ان کے جوابات دیتے تھے۔ تو وہ کتاب ہم نے والد صاحب سے پڑھی اور ہم ساتھیوں میں سے کسی سے بھی کوئی پوچھتا ہے تو ہم یہی کہتے ہیں کہ سب سے درسِ نظامی کی سب سے پرلطف کتاب جو ہے، وہ توضیح تلویح ہے بھئی، توضیح تلویح۔
اور پھر یہ ہدایہ کی بھی شرح لکھنا چاہتے تھے۔ اصولِ فقہ، اصول تو ہمارے خراب کر دیے، اصولِ فقہ تو خراب کر دیا، فروع یعنی فقہ بھی خراب کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ ہدایہ کی بھی شرح شروع کر دی، لیکن ابھی خطبے کی شرح ہی کی تھی کہ انتقال فرما گئے۔ والد صاحب رحمہ اللہ فرماتے بھئی، فرماتے کہ اچھا ہوا مکمل نہ کر سکے، یہ صاحبِ ہدایہ کی کرامت ہے کہ یہ ان کی کتاب کو خراب نہیں کر سکے۔ اور فرماتے: ہمیں علامہ تفتازانی کی کسی شرح کی کوئی ضرورت نہیں، ہمارے بہت بڑے بڑے علماء اور علم کے پہاڑ جن کی، جنہوں نے ہدایہ کی شروحات لکھی ہیں، ہمیں علامہ تفتازانی کی شرح کی ضرورت نہیں ہے بھئی، کیونکہ ان کا مقصد خراب کرنا تھا کتاب کو۔
علامہ تفتازانی کے معاصر—م، ع، ا، ص اور ر، معاصر۔ معاصر کسے کہتے ہیں؟ جو اسی زمانے میں ہو، عصر زمانے کو کہتے ہیں نا، معاصر جو اسی زمانے—علامہ تفتازانی کے معاصر میر، میر سید، میر سید السند، السند الشریف، الشریف الجرجانی تھے، الجرجانی تھے جو کہ حنفی ہیں، جو کہ حنفی ہیں۔ ان کے آپس میں مناظرے ہوتے، ان کے آپس میں مناظرے ہوتے۔ چلیے بس کریں بھئی، باقی انشاءاللہ اگلے سبق میں کر لیں گے۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔