Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-006

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Noman Ahmad
📍 Location Peshawar, Pakistan
📅 Approved Date 03 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 23
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے لکھیے بھئی بحث ثالث۔ بحث ثالث، ماتن اور شارح کے احوال۔ ماتن اور شارح کے احوال۔ شرح تہذیب کا متن، شرح ‏تہذیب کا متن، شرح تہذیب کا متن لکھا ہے، شرح تہذیب کا متن لکھا ہے علامہ تفتازانی نے، علامہ تفتازانی نے۔ یہ علامہ ‏تفتازانی کا ایک چھوٹا سا رسالہ ہے، یہ علامہ تفتازانی کا ایک چھوٹا سا رسالہ ہے اور اس کے دو حصے ہیں اور اس ‏کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ علمِ منطق میں ہے، ایک حصہ علمِ منطق میں ہے اور ایک حصہ علمِ کلام میں، اور ایک ‏حصہ علمِ کلام میں۔ علمِ کلام وہ علم ہے، علمِ کلام وہ علم ہے جس میں عقیدے کی بحث کی جاتی ہے، جس میں عقیدے کی بحث کی جاتی ہے۔ ‏مثلاً اللہ ایک ہے، مثلاً اللہ ایک ہے، وہ سننے والا ہے، دیکھنے والا ہے، قدرت والا ہے، قدرت والا ہے وغیرہ، وغیرہ۔ ‏اسی طرح جنت کا وجود ہے، جہنم موجود ہے، جہنم موجود ہے، قیامت قائم ہوگی، قیامت قائم ہوگی وغیرہ، وغیرہ۔ علامہ تفتازانی کے اس رس، الگ سطر میں لکھیے بھئی، الگ سطر میں۔ علامہ تفتازانی کے، علامہ تفتازانی کے اس ‏مختصر رسالے کا، اس مختصر رسالے کا مکمل نام، مکمل نام تہذیب المنطق والکلام ہے۔ تہذیب المنطق، تہذیب المنطق ‏والکلام ہے والکلام ہے، واؤ اور الکلام، والکلام ہے۔ البصہ مختصراً اس کو صرف تہذیب کہہ دیا جاتا ہے، البصہ مختصراً اس کو صرف تہذیب کہہ دیا جاتا ہے۔ ھذب یہذب ‏تہذیباً کا معنی ہے، ھذب یہذب تہذیباً کا معنی ہے کاٹ چھانٹ کرنا، کاٹ چھانٹ کرنا، زائد اور بیکار چیزوں کو دور کر ‏دینا، زائد اور بیکار چیزوں کو دور کر دینا۔ جیسے باغ کا مالی، جیسے باغ کا مالی کچھ عرصے کے بعد پودوں وغیرہ ‏کو، پودوں وغیرہ کو برابر کرتا ہے، برابر کرتا ہے اور دائیں بائیں جو زائد شاخیں نکلی ہوں، اور دائیں بائیں جو زائد ‏شاخیں نکلی ہوں ان کو کاٹ کر، ان کو کاٹ کر پودے کو سنوار دیتا ہے، پودے کو سنوار دیتا ہے۔ یہ عمل تہذیب کہلاتا ‏ہے، یہ عمل تہذیب کہلاتا ہے جس میں زائد اور بیکار حصوں کو دور کر دیا گیا، جس میں زائد اور بیکار حصوں کو دور ‏کر دیا گیا، زائد اور بیکار حصوں کو دور کر دیا گیا، جس میں زائد اور بیکار حصوں کو دور کر دیا گیا، ختم کر دیا گیا۔ الگ سطر، علامہ تفتازانی نے، علامہ تفتازانی نے اپنے اس رسالے کا نام، اپنے اس رسالے کا نام تہذیب رکھ کر، علامہ ‏تفتازانی نے اپنے اس رسالے کا نام تہذیب رکھ کر اس بات کی طرف اشارہ کر دیا، اس بات کی طرف اشارہ کر دیا کہ میں ‏نے اپنے اس متن میں، کہ میں نے اپنے اس متن میں علمِ منطق اور علمِ کلام کی، علمِ منطق اور علمِ کلام کی اہم، اہم اور ‏ضروری باتوں کو، اہم اور ضروری باتوں کو جمع کیا ہے اور ضروری باتوں کو جمع کیا ہے اور زائد، اور زائد بحثوں ‏کو، اور زائد بحثوں کو نکال کر اس متن کو خوب صاف ستھرا کر دیا ہے، اس متن کو خوب صاف ستھرا کر دیا ہے، ‏خوب صاف ستھرا کر دیا ہے اور اسے سنوار دیا ہے اور اسے سنوار دیا ہے۔ جی، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔ ہمم، یہ متن کس کا ہے؟ علامہ تفتازانی کا اور اس کے دو حصے ہیں، یہ ‏چھوٹا سا رسالہ ہے، دو حصے ہیں؛ ایک علمِ منطق میں ہے اور ایک علمِ کلام کے اندر ہے۔ علمِ کلام میں کیا ہوتا ہے؟ اس ‏میں عقیدے کی بحث ہوتی ہے بھئی۔ علمِ فقہ میں تو عمل کی بحث ہوتی ہے نا، وضو کیسے کرنا ہے، نماز کیسے پڑھنی ‏ہے، حج کیسے کرنا ہے، اس میں عمل کی بحث ہوتی ہے، افعال کی بحث، لیکن علمِ کلام کے اندر عقیدے کی بحث بھئی، ‏عقیدے کی بحث۔ تو یہ ان کا مختصر سا رسالہ ہے، ایک علمِ منطق میں اس کا ایک حصہ اور ایک علمِ کلام میں اور یہ ہم ‏صرف وہ حصہ پڑھیں گے جو علمِ منطق میں ہے بھئی، علمِ منطق میں۔ اگے الگ سطر لکھیے بھئی۔ تہذیب کے ماتن کا پورا نام، تہذیب کے ماتن کا پورا نام مسعود ابن عمر، مسعود ابن عمر ابن ‏عبداللہ، ابن عبداللہ تفتازانی ہے، تفتازانی ہے۔ "زا" کے ساتھ ہے۔ ان کا لقب سعد الدین ہے، ان کا لقب سعد، سین ع د اور ‏اگے الدین، ان کا لقب سعد الدین ہے۔ تفتازان ایک قریہ اور علاقہ ہے، تفتازان ایک قریہ اور علاقہ ہے خراسان میں، ‏خراسان میں۔ پہلے زمانے میں، پہلے زمانے میں سمرقند، سمرقند "ثا" کے ساتھ بھئی، الف با تا ثا، ثا میم را، قاف دو ‏نقطوں والا، نون اور دال، سمرقند، بخارا، بخارا، افغانستان و ایران، افغانستان و ایران کا یہ سارا علاقہ، یہ سارا علاقہ ‏خراسان کہلاتا تھا، خراسان کہلاتا تھا۔ علامہ تفتازانی کا انتقال، علامہ تفتازانی کا انتقال 22 محرم، 22 محرم 792 ہجری، 7 9 2، 792 ہجری میں سمرقند میں، ‏‏792 ہجری میں سمرقند میں، سمرقند میں بروزِ پیر ہوا، بروزِ پیر ہوا۔ بعد میں، بعد میں آپ کو، آپ کو سرخس منتقل کر ‏کے، سرخس، سین را خا سین، سرخس منتقل کر کے دفن کیا گیا، دفن کیا گیا۔ آپ کی ولادت 722 ہجری میں ہوئی تھی، آپ ‏کی ولادت 722 ہجری میں ہوئی تھی۔ علامہ تفتازانی، علامہ تفتازانی بہت بڑے محقق، بہت بڑے محقق، متکلم، متکلم، منطقی، بات سمجھ بھی آ رہی ہے بھئی؟ ‏جی۔ کیا تھے؟ بہت بڑے محقق تھے، متکلم تھے، کیا معنی متکلم؟ متکلم کا ویسے معنی تو ہوتا ہے بات کرنے والا، بولنے ‏والا، یہاں مراد ہے علمِ کلام کے ماہر بھئی، علمِ کلام کے ماہر۔ تو بہت بڑے، لکھیے آگے بھئی، بہت بڑے محقق، متکلم، ‏منطقی، فلسفی، فلسفی، اصولی، "صاد" کے ساتھ، اصولی، ماہرِ علمِ معانی، ماہرِ علمِ معانی و بلاغت تھے، و بلاغت تھے ‏اور صاحبِ قلم تھے اور صاحبِ قلم تھے۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ کیا معنی صاحبِ قلم تھے؟ معنی یہ ہے، بڑی زبردست تحریر تھی ان کی بھئی، کمال کا ‏لکھتے تھے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ یہ معنی ہے صاحبِ قلم، قلم والے تھے۔ یعنی بڑا زور آور قلم تھا ان کا اور صاحبِ ‏قلم تھے مگر صاحبِ لسان نہ تھے، مگر صاحبِ لسان نہ تھے۔ زبان میں کچھ لکنت تھی، زبان میں کچھ لکنت تھی۔ آپ نے ‏بڑی مفید اور اہم کتابیں لکھیں، آپ نے بڑی مفید اور اہم کتابیں لکھیں، اہم کتابیں لکھیں۔ بڑے متقی و پرہیزگار تھے، بڑے ‏متقی و پرہیزگار تھے۔ معقولات و منقولات کے ماہر تھے، معقولات، میم عین قاف دو نقطوں والا، معقولات و منقولات، ‏معقولات و منقولات کے ماہر تھے۔ آگے الگ سطر۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تصنیفات کو، اللہ تعالیٰ نے ان کی تصنیفات کو مقبولیت دی ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کی ‏تصنیفات کو مقبولیت دی ہے اور ان کی بہت سی کتابیں اور ان کی بہت سی کتابیں اور ان کی بہت سی کتابیں داخلِ درس ‏ہیں، داخلِ درس ہیں۔ شرحِ عقائد داخلِ درس ہے، شرحِ عقائد، شرحِ عقائد داخلِ درس ہے۔ مختصر المعانی، مختصر المعانی، ‏مختصر المعانی اور مطول، میم طاء واؤ لام، طاء ظاء بھئی، میم طاء واؤ لام، واؤ مشدد ہے۔ مختصر المعانی اور مطول ‏بھی داخلِ درس ہیں۔ علامہ تفتازانی کی عبارات، علامہ تفتازانی کی عبارات بڑی شستہ، شین سین تا اور گول ھا، شستہ، علامہ تفتازانی کی ‏عبارات بڑی شستہ اور فصیح و بلیغ ہوتی ہیں اور فصیح و بلیغ ہوتی ہیں۔ چوتھی کتاب، چوتھی کتاب تلویح بھی داخلِ درس ‏ہے، تلویح بھی داخلِ درس ہے، تلویح "تا" دو نقطوں والی، لام واؤ یا حا، تلویح، چوتھی کتاب تلویح بھی داخلِ درس ہے۔ ‏اسی طرح تہذیب المنطق بھی داخلِ درس ہے، اسی طرح تہذیب المنطق بھی داخلِ درس ہے۔ آگے الگ سطر لکھیے۔ علامہ تفتازانی کی، علامہ تفتازانی کی، علامہ تفتازانی کی اور بھی بہت سی تالیفات ہیں، علامہ ‏تفتازانی کی اور بھی بہت سی تالیفات ہیں مثلاً شرحِ زنجانی، شرحِ زنجانی "زا" کے ساتھ ہے بھئی، را زا، شرحِ زنجانی، ‏شرحِ مراح، میم را الف حا، شرحِ مراح، کہتے ہیں یہ ان کی پہلی تصنیف ہے، کہتے ہیں یہ ان کی پہلی تصنیف ہے جب ان ‏کی عمر 16 سال تھی، جب ان کی عمر 16 سال تھی۔ شرحِ قطبی، شرحِ قطبی، قاف دو نقطوں والا، طاء اور با یا، طاء ظاء ‏بھئی، قطبی، شرحِ قطبی، شرحِ کشاف کئی جلدوں میں ہے، شرحِ کشاف کئی جلدوں میں ہے، شرحِ کشاف کئی جلدوں میں ‏ہے، شرحِ کشاف کئی جلدوں میں ہے مگر مکمل نہ کر سکے، مگر مکمل نہ کر سکے۔ الگ سطر، علامہ تفتازانی شاہی عالم تھے، علامہ تفتازانی شاہی عالم تھے، تیمور لنگ، تیمور، تا یا میم واؤ را، تیمور ‏لنگ، لام نون گاف، تیمور لنگ کے شیخ الاسلام تھے، تیمور لنگ کے شیخ الاسلام تھے۔ تیمور لنگ بہت بڑا بادشاہ تھا، ‏بہت بڑا بادشاہ تھا، قریب تھا کہ ساری دنیا کا بادشاہ بن جاتا، قریب تھا کہ ساری دنیا کا بادشاہ بن جاتا۔ بعض مؤرخین ‏لکھتے ہیں، بعض مؤرخین، میم واؤ اور واؤ کے اوپر ہمزہ ہے اور آگے "را" مشدد ہے، بعض مؤرخین لکھتے ہیں کہ ‏تعزیہ، تعزیہ، تا دو نقطوں والی، عین، زا، یا اور گول ھا، تعزیہ، یہ شیعہ جلوس وغیرہ نہیں نکالتے بھئی؟ جی، تعزیہ۔ تو ‏بعض مؤرخین لکھتے ہیں کہ تعزیہ کی ابتداء تیمور لنگ نے کی، تیمور لنگ نے کی۔ اس کو لنگ اس لیے کہتے ہیں، اس کو لنگ اس لیے کہتے ہیں کہ یہ لنگڑا تھا، کہ یہ لنگڑا تھا اور الگ سطر۔ علامہ ‏تفتازانی، علامہ تفتازانی شاہی عالم ہونے کی وجہ سے، شاہی عالم ہونے کی وجہ سے بغیر اجازت دربار میں، بغیر اجازت ‏دربار میں آ جا سکتے تھے، آ جا سکتے تھے اور اسی وجہ سے لوگ، اور اسی وجہ سے لوگ ان کی کتب پڑھتے تھے، ‏ان کی کتب پڑھتے تھے۔ اکثر علماء لکھتے ہیں، اکثر علماء لکھتے ہیں کہ علامہ تفتازانی، کہ علامہ تفتازانی حنفی تھے، حنفی تھے۔ مگر والد ‏صاحب، مگر والد صاحب شیخ الحدیث والتفسیر، شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا، حضرت مولانا محمد موسیٰ، محمد ‏موسیٰ روحانی بازی، روحانی بازی، لکھ لیا بھئی؟ ہمم، ہاں والد صاحب کے نام کے ساتھ اکثر لوگ "خان" ملاتے ہیں، ‏مولانا موسیٰ خان، حالانکہ والد صاحب اس کو سخت ناپسند فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ "خان" میرے نام کا حصہ ‏نہیں تو لوگ ملاتے کیوں ہیں بلاوجہ میرے نام کے ساتھ؟ اور چلو کسی کو نام کا پتہ نہیں ہوتا پھر "خان" ساتھ لگا دیتا ‏ہے لیکن میری تو کتابیں ہیں، تصانیف ہیں، سب کے اوپر میرا نام لکھا ہوتا ہے، میں نے تو کہیں پر اپنے نام کے ساتھ ‏‏"خان" نہیں لکھا تو پھر یہ لوگ "خان" کیوں ملاتے ہیں؟ نیز اس وجہ سے بھی آپ کو "خان" ناپسند تھا کیونکہ، کیونکہ ‏منافق کے بارے میں حدیث میں آتا ہے "اذا ائتمن خانا"، جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو وہ خیانت کرتا ہے، تو ‏وہاں "خانا" صیغہ آیا ہے "خانا" اور وقف کریں گے تو کیسے پڑھیں گے "خان"؟ تو چونکہ اس کے ساتھ مشابہت ہو رہی ‏تھی اس لفظ کی اس لیے یہ "خان" خیانت کرنے کا، تو لہٰذا اس وجہ سے بھی اس لفظ کو سخت ناپسند فرماتے تھے اور یہ ‏ان کے نام کا حصہ نہیں تھا بھئی۔ آج بھی بہت سے لوگ ان کے نام کے ساتھ، اکثر لوگ "خان" ملاتے ہیں حالانکہ انہیں یہ ‏لفظ سخت ناپسند تھا۔ اور بڑی جلالی طبیعت تھی ان کی اور حتیٰ کہ خطوط وغیرہ کوئی آتے اور کسی نے ان کے نام کے ‏ساتھ "خان" لکھا ہوتا تھا تو اتنے جلال میں آ جاتے کہ وہ خط پھاڑ دیتے تھے اور اس کو پڑھنے کی بھی زحمت گوارا ‏نہیں کرتے تھے بھئی۔ اچھا، کیا لکھا بھئی؟ آگے لکھیے بھئی، اکثر علماء کیا کہتے ہیں؟ علامہ تفتازانی حنفی ہیں لیکن والد صاحب شیخ الحدیث ‏والتفسیر حضرت مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے تھے، لکھیے آگے بھئی، فرماتے تھے کہ حق ‏یہ ہے، کہ حق یہ ہے کہ علامہ تفتازانی شافعی المسلک ہیں، شافعی المسلک ہیں، شافعی لکھنا آتا ہے بھئی؟ ف عین یا اور ‏المسلک، المسلک کیسے لکھیں گے؟ الف لام میم سین لام اور چھوٹا کاف۔ مگر والد صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ ‏علامہ تفتازانی شافعی المسلک ہیں۔ اور دیگر علماء کو، اور دیگر علماء کو ان کے حنفی ہونے کا شبہ، ان کے حنفی ہونے کا شبہ اس وجہ سے ہوا، اس وجہ ‏سے ہوا کہ انہوں نے، کہ انہوں نے تمام کتابیں، کہ انہوں نے تمام کتابیں مسلکِ احناف کے کے مطابق لکھی ہیں، مسلکِ ‏احناف کے مطابق لکھی ہیں۔ والد صاحب رحمہ اللہ مزید فرماتے تھے، علامہ تفتازانی اگرچہ شافعی ہیں، کہ علامہ ‏تفتازانی اگرچہ شافعی ہیں مگر ان کو، مگر ان کو احناف کی کتابیں لکھنا پڑیں، مگر ان کو احناف کی کتابیں لکھنا پڑیں ‏اور یہ مجبور تھے ایسا کرنے پر، اور یہ مجبور تھے ایسا کرنے پر۔ اس لیے کیونکہ یہ جس علاقے میں رہتے تھے، اس لیے کہ یہ جس علاقے یعنی خراسان میں رہتے تھے، اس لیے کہ یہ ‏جس علاقے یعنی خراسان میں رہتے تھے یہ سارا علاقہ احناف کا مرکز ہے، یہ سارا علاقہ احناف کا مرکز ہے۔ اگر وہ، ‏اگر وہ شافعی مسلک کی کتابیں لکھتے، اگر وہ شافعی مسلک کی کتابیں لکھتے تو کون ان کو پڑھتا اور پڑھاتا؟ تو کون ان ‏کو پڑھتا اور پڑھاتا؟ تو کون ان کو پڑھتا اور پڑھاتا؟ مجبور ہو کر، مجبور ہو کر انہیں احناف کی کتابیں لکھنا پڑیں، ‏مجبور ہو کر انہیں احناف کی کتابیں لکھنا پڑیں جس کی وجہ سے، جس کی وجہ سے عام علماء نے، عام علماء نے انہیں ‏حنفی سمجھ لیا، عام علماء نے انہیں حنفی سمجھ لیا۔ لکھ لیا؟ چلیے بس بھئی، باقی انشاء اللہ پھر کل اس کو مکمل کر لیں گے۔ چلیے بس بھئی، ‎ ‎هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔