جی آگے لکھیے بھئی۔
بلکہ منطق وہ علم ہے جس کے ذریعے انسان یہ سیکھتا ہے کہ اپنی بات کو ثابت کیسے کرنا ہے اور دوسرے کی بات کو رد کیسے کرنا ہے، اسے کیسے جواب دینا ہے اور اس پر کیسے اعتراض کرنا ہے۔
حضرت شیخ رحمہ اللہ نے مزید فرمایا کہ میرے نزدیک علم منطق کی درست تعریف یہ ہے: "المنطق هو علم يعرف به طرق الاستدلال وطرق الأبحاث نقضا وإبراما، أو نفيا وإثباتا" یعنی علم منطق وہ علم ہے جس کے ذریعے استدلال اور بحث کا طریقہ جانا جاتا ہے، نفی اور اثبات کے طریقے پر۔ یعنی اپنے مخالف کی بات کی نفی کیسے کرنی ہے اور اپنی بات کا اثبات کیسے کرنا ہے۔ نقض کا معنی ہے نفی اور ابرام کا معنی ہے اثبات।
تو تعریف میں جو لفظ بھی آپ یاد کرنا چاہیں، چاہے "نقضا وإبراما" یاد کر لیں، چاہے "نفيا وإثباتا"؛ اور چاہیں تو دونوں یاد کر لیں، اچھی بات ہے علم میں اضافہ ہوگا، آپ کو یاد رہے گا کہ نقض کا کیا معنی ہے نفی اور ابرام کا کیا معنی ہے اثبات۔
تو دیکھا؟ تعریف سمجھ میں آئی بھئی؟ پھر تعریف پہ ذرا نظر رکھو کہ منطق وہ علم ہے کہ اس کے ذریعے جانا جاتا ہے استدلال اور ابحاث یعنی بحث کے طریقے کو، کہ بحث کیسے کرنی ہے۔ بحث میں کیا ہوتا ہے؟ انسان اپنا دعویٰ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور فریق مخالف کو رد کرتا ہے۔ تو علم منطق کے ذریعے آپ کو یہ معلوم ہوگا کہ کیسے اس مخالف آدمی کا رد کرنا ہے، اس کی نفی کیسے کرنی ہے، اس کو جواب کیسے دینا ہے، اس پر اعتراض کیسے کرنا ہے، اور اثبات کا پتہ چلتا ہے کہ کیسے اپنے دعوے کو ثابت کرنا ہے، کس طرح صغریٰ کبرٰى دلیل بنائیں گے اور اپنی بات کو ثابت کر دیں گے۔
تو حاصل کلام یہ—لکھیے آگے—حاصل کلام یہ کہ علم منطق کے ذریعے انسان بحث کا طریقہ جان لیتا ہے اور کس طرح فریق مخالف کو جواب دینا ہے، یہ جان لیتا ہے۔ معلوم ہوا علم منطق نہایت عظیم علم ہے۔ اگر یہ علم سیکھ لیا جائے تو بہترین انداز میں اسلام کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دیا جا سکتا ہے اور اسلام پر اعتراض کرنے والوں کو دندان شکن جوابات دے سکتے ہیں۔
چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جن علماء نے حفاظت اسلام کا فریضہ سرانجام دیا اور اسلام پر اعتراض کرنے والوں کو زبردست جوابات دیے اور اسلام کا دفاع کیا، جیسے امام رازی، امام غزالی، مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ وغیرہ۔
آگے الگ سطر لکھیے بھئی۔
والد صاحب رحمہ اللہ فرمانے لگے کہ شرح عقائد کے اندر موجود علامہ تفتازانی کی یہ عبارت میرے دعوے کی تائید کر رہی ہے۔
آگے الگ سطر لکھیے۔
حضرت شیخ رحمہ اللہ علم منطق میں مجتہد کی حیثیت رکھتے تھے اور آپ کو منطق کی مشہور کتابیں زبانی یاد تھیں۔ آپ سے منطق پڑھنے والے آپ کے تلامذہ بتلاتے ہیں کہ حضرت فرماتے تھے کہ اگر دنیا سے منطق کی کتابیں ختم ہو جائیں تو میں اپنے حافظے کی مدد سے اس علم کو اور اس کی مشہور کتابوں کو دوبارہ لکھ لوں گا۔
جی بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ علم منطق کی ایک عجیب تعریف کی اور یہ واقعے کے مطابق بھی ہے، علم منطق کے ذریعے انسان کو بات کرنے کا طریقہ معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح دلیل دے کر اپنی بات کو ثابت کرنا ہے، کیسے مخالف کو جواب دینا ہے اور اس کو رد کرنا ہے اور اس پر اعتراض کرنا ہے۔ اگر آپ منطق جانتے ہوں گے، آپ اپنی دلیل بنائیں گے، صغریٰ کبرٰى ملائیں گے اور اپنے دعوے کو ثابت کر دیں گے، اور اسی طرح فریق مخالف کو جواب دے کر اس کی بات کو رد کر دیں گے، اپنے دعوے کو ثابت کر دیں گے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟
تو فرماتے تھے یہ نظر و فکر میں غلطی سے نہیں بچاتا، اگر یہ نظر و فکر میں غلطی سے بچاتا پھر تو کم از کم بڑے بڑے جو کبار مناطقہ ہیں ان کا آپس میں اختلاف نہیں ہونا چاہیے تھا، منطق ان کو غلطی سے بچاتا۔ اور اگر منطق غلطی سے بچاتا تو سب ایک ہی یعنی درست بات پر اکٹھے ہوتے یا نہ ہوتے؟ لیکن ہم دیکھتے ہیں ان میں اتنے ہی زیادہ اختلافات ہیں کہ کسی اور علم میں اتنے اختلافات نہیں ملتے بھئی۔
اور پھر اس کی مثال بھی آپ نے دیکھی، تذکرہ کی شرح کس نے لکھی؟ علامہ دوانی نے لکھی، علامہ شیرازی کو پتہ چلا انہوں نے بھی شرح لکھی۔ وہ چونکہ بڑے منطقی تھے تو انہوں نے علامہ دوانی کی ہر بات کو رد کیا اور اپنی باتوں کو ثابت کیا۔ ظاہر سی بات ہے صغریٰ کبرٰى ملائے ہوں گے، دلیلیں بنائی ہوں گی اور ان کی باتوں کو رد کیا۔ علامہ دوانی کو پتہ چلا تو انہوں نے پھر نئی شرح لکھی، انہوں نے علامہ شیرازی کو رد کیا کیونکہ علم منطق کے ماہر تھے، صغریٰ کبرٰى ملائے، ان کی باتوں کو رد کرتے رہے اور ان پر پھر اعتراضات کیے۔ پھر علامہ شیرازی نے دوبارہ ان کو جوابات دیے، پھر علامہ دوانی نے پھر دوبارہ جوابات دیے، پھر علامہ شیرازی نے پھر دوبارہ جوابات دیے!
معلوم ہوا علم منطق نظر و فکر میں غلطی سے نہیں بچاتا، ورنہ بار بار کیا غلطیاں ہوتی جا رہی تھیں ان کبار ائمہ سے؟ جو ان کبار علماء منطق سے؟ نہیں نہیں، غلطیاں بار بار نہیں ہو رہی تھیں بلکہ چونکہ ان میں سے ہر ایک کو ہر ایک جانتا تھا کس طرح اپنی بات کو ثابت کرنا ہے اور کس طرح دوسرے کی بات کو رد کرنا ہے، لہٰذا وہ ہر مرتبہ دوسرے کی بات کو رد کرتا اور اپنی بات کو ثابت کرتا دلیل وغیرہ بنا کر۔ دوسرے پھر وہ بھی کوئی اور دلیل وغیرہ بنا کر دوسرے کی بات کو رد کرتے اور اپنی بات کو ثابت۔
تو جب آپ علم منطق کے ماہر ہوں گے، آپ کو پتہ ہوگا کیسے اپنی بات کو ثابت کرنا ہے۔ آپ اگرچہ غلطی پر ہی کیوں نہ ہوں، پھر بھی آپ صغریٰ کبرٰى ملائیں گے اور اپنے دعوے کو ثابت کر دیں گے چاہے غلطی کیوں نہ ہو، اور دوسرا درست ہی کیوں نہ ہو آپ اس کو جواب دے دیں گے، صغریٰ کبرٰى ملا کر اس کے خلاف دلیل بنائیں گے اور اس کو رد کر دیں گے۔
بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو معلوم ہوا کہ علم منطق جو ہے اس کے ذریعے انسان کو بحث کرنے کا طریقہ معلوم ہوتا ہے اور یہ کوئی معمولی علم نہیں، اگر یہ علم آپ اس میں مہارت حاصل کر لیتے ہیں تو آپ نہایت بہترین انداز میں اسلام کا دفاع کر سکتے ہیں اور اسلام پر اعتراض کرنے والوں کو زبردست جوابات آپ دے سکتے ہیں۔
اور والد صاحب، میں نے بتلایا، علم منطق کے اندر مجتہد کی حیثیت رکھتے تھے۔ فرماتے تھے کہ جب میں نے علم منطق کی یہ نئی تعریف کی تو جو بڑے بڑے مناطقہ جو اس علاقے میں موجود تھے، جن جن کو پتہ چلتا تھا وہ آتے تھے اور بڑی بحث ہوتی تھی ہماری اور ان کو میں جوابات دیتا تھا۔
اور بلکہ والد صاحب کا ایک اور واقعہ طالب علمی کا، والد صاحب، مولانا غلام اللہ خان رحمہ اللہ شیخ القرآن جو تھے راولپنڈی کے اندر، جن کی پوری دنیا میں شہرت تھی، قرآن کے عظیم مفسر، اور جو اہل بدعت کے خلاف ایک ننگی تلوار کی حیثیت رکھتے تھے بھئی، اہل بدعت ان کے نام سے بھی کانپتے تھے بھئی۔
تو وہ، وہ مولانا غلام اللہ خان رحمہ اللہ، والد صاحب کے استاد تھے۔ والد صاحب دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں ثالثہ یا رابعہ کے طالب علم تھے، غالباً ثالثہ کے طالب علم تھے درجہ ثالثہ میں। تو اس وقت چھٹیاں جب ہوئیں، سالانہ چھٹیاں ہوئیں، تو چھٹیوں میں وہ دورہ تفسیر کرواتے تھے مولانا غلام اللہ خان رحمہ اللہ، تو والد صاحب بھی چھٹیوں کے اندر دورہ تفسیر کرنے کے لیے وہاں چلے گئے۔ کہتے ہیں: میں نے دورے میں داخلہ لیا اور وہ دورہ بڑا مشکل ہوتا تھا، کہتے ہیں جتنے وہاں شرکت کے لیے آئے تھے دورے میں سارے آخری درجوں کے طالب علم تھے بلکہ بعض تو دورہ حدیث وغیرہ کر چکے تھے، علماء تھے، اور وہ دورے میں شرکت کے لیے آئے ہوئے تھے، تو تمام یا منتہی طلبہ تھے یا علماء تھے جو اس دورے میں شریک تھے۔ میں واحد طالب علم تھا چھوٹا سا۔
تو شیخ القرآن درس تفسیر دیتے تھے، درس تفسیر۔ ایک دن درس تفسیر کے درمیان حضرت نے میاں والی کے علاقے کے غالباً جو اہل بدعت علماء تھے، مناطقہ تھے، ان کے ایک اعتراض کو ذکر کیا۔ اہل بدعت میں سے جو بڑے منطقی تھے انہوں نے ہم پر کوئی بڑے سخت اعتراضات کیے تھے۔
تو مولانا غلام اللہ خان رحمہ اللہ نے وہ اعتراض ذکر کیا ان سارے جو شریک دورہ تفسیر تھے ان کے سامنے اور کہا: اس کا جواب کون دے گا؟ بڑا ہی مشکل اعتراض تھا بھئی، منطقی اعتراض تھا۔ کہتے ہیں کسی نے ہاتھ نہیں اٹھایا۔
تو جب میں نے دیکھا کسی نے ہاتھ نہیں اٹھایا، باقی سارے بڑے بڑے علماء، میں ایک چھوٹا سا طالب علم درجہ ثالثہ کا، تو بالآخر پھر میں نے ہاتھ اٹھا دیا کہ میں جواب دوں گا، لیکن میں آپ کو کل جواب دوں گا اور تحریری صورت میں، لکھ کر میں جواب دوں گا اس اعتراض کا۔
کہتے ہیں جب میں نے ہاتھ اٹھایا تو پھر مجھے دیکھ کر چند طلبہ نے اور بھی جو شریک تھے، انہوں نے بھی ہاتھ اٹھا دیے کہ ہم بھی جواب دیں گے۔ اگلے دن میں نے جواب لکھ کر حضرت کو پیش کیا درس میں اور باقی طلبہ نے بھی پیش کیے۔ کہتے ہیں حضرت وہ جوابات ایک ایک جواب پڑھتے تھے اور اس کو، اس کاغذ کو پھاڑ دیتے یا پھینک دیتے کہ یہ کیا ردی جواب ہے! بھئی یہ منطق ہے، کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔ سارے جوابات انہوں نے رد کر دیے۔
آخر میں جب میرا جواب پڑھا تو بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے کہ اس طالب علم نے اس مسئلے کا جو جواب دیا ہے—حضرت شیخ القرآن فرماتے ہیں—میرے ذہن میں جو جواب تھا اس نے اس سے بھی زیادہ قوی جواب دیا ہے، اور عجیب بات یہ ہے کہ اس نے جواب بھی عربی میں لکھا ہے! درجہ ثالثہ میں تھے اور عربی میں جواب دیا تھا، عربی میں۔ کہتے ہیں بس اس کے بعد میں پورے دورہ تفسیر کے اندر منطقی طالب علم کے نام سے مشہور ہو گیا۔ سب مجھے منطقی طالب علم کہتے تھے۔
طلبہ پوچھنے لگے بعد میں کہ کہاں تک تم نے منطق پڑھی ہے؟ تو میں نے ان کو بتایا کہ ملا حسن میں پڑھ رہا ہوں، ملا حسن پڑھ کے آیا ہوں۔ تو وہ سارے حیران ہو گئے، یہ تو بالکل ابتدائی کتاب ہے منطق کی بھئی، اور باقی سارے تو منطق کی انتہائی کتابیں آخر تک پڑھ چکے ہیں، لیکن کوئی ایسا جواب نہیں دے سکا۔
تو کہتے ہیں اور پھر اس کے بعد حضرت شیخ القرآن کی میری طرف بڑی توجہ تھی، حتیٰ کہ جب دورہ تفسیر ختم ہوا اور سارے طلبہ اب سند لینے کے لیے جو مدرسے کے ناظم تھے، منتظم تھے، ان کے پاس جمع تھے، سارے اپنی اپنی سند لے رہے ہیں ان سے۔ لیکن مجھے سند کی فکر اتنی نہیں تھی کیونکہ علم انسان کے سینے میں ہوتا ہے، سند میں نہیں ہوتا۔ اگر انسان کے پاس علم ہے تو سند نہ بھی ہو پھر بھی ہر ایک تسلیم کرتا ہے۔ تو مجھے اس کی فکر نہیں تھی، تو شیخ القرآن نے کئی مرتبہ اپنے خادم اور طلبہ کو بھیجا کہ دیکھو جا کر محمد موسیٰ کو دیکھو اور اس کو کہو بغیر سند لیے تم نے یہاں سے نہیں جانا، سند لے کر جاؤ۔ کہتے ہیں بہرحال بڑا طلبہ کا ہجوم تھا، میں ایک طرف نوافل پڑھ رہا تھا کہ جب ذرا وقت ہوگا تو پھر لے لوں گا سند، فرصت ہو جائے گی، طلبہ کم ہو جائیں گے۔ تو میں نوافل میں مشغول تھا تو حضرت شیخ القرآن خود تشریف لے آئے! میں نفل پڑھ رہا تھا، حضرت پیچھے کھڑے انتظار کر رہے تھے۔ جب میں نے نفل پڑھے، میں گیا فوراً تو فرمانے لگے کہ تم نے سند لیے بغیر نہیں جانا، سند لے کر جانا ہے، یہ میرے لیے فخر، میرے لیے یہ خوشی کی بات ہوگی، خوشی کی بات ہوگی۔
طالب علمی سے ہی والد صاحب کو اللہ نے ملکہ دیا تھا کہ وہ مشکل سے مشکل مقام کو حل کر لیتے تھے۔ وہ اپنے احوال کے اندر والد صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ مجھے شروع سے ہی اللہ نے یہ، یہ صلاحیت نصیب فرمائی تھی، کتاب کے اندر کبھی کوئی مشکل مقام آ جاتا تو میں اس کی فی البدیہہ ایسی تقریر کرتا تھا کہ وہ مسئلہ حل ہو جاتا تھا اور کوئی اشکال رہتا ہی نہیں تھا۔ حتیٰ کہ بعض اوقات میرے اساتذہ وہ کوئی کتاب میں مشکل مقام آتا یا میرا امتحان لینے کے لیے جان بوجھ کر میرے سے وہ مشکل مقام پوچھتے تھے جو حل ہی نہیں ہو رہا ہوتا تھا، اور میں نے اس کو پڑھا بھی نہیں ہوتا تھا لیکن میں فی البدیہہ اس کی ایسی تقریر کرتا تھا کہ وہ مسئلہ ایسا حل ہو جاتا، وہ اشکال کہ گویا وہاں کوئی اعتراض وغیرہ بنتا ہی نہیں ہے۔ تو یہ مجھے شروع سے اللہ نے صلاحیت دی تھی، اور فرماتے تھے الحمد للہ ثم الحمد للہ کہ میری یہ صلاحیت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی گئی۔
چنانچہ والد صاحب کی جتنی تصانیف آپ دیکھیں تو انسان حیران رہتا ہے بھئی، انسان حیران رہتا ہے۔ آپ کی جتنی تصانیف ہیں تخلیقی نوعیت کی ہیں، تخلیقی نوعیت۔ یعنی آج کل جتنے آپ علماء کی کتابیں اٹھائیں وہ اگر کسی اعتراض وغیرہ یا کسی حدیث کی تشریح کرتے ہیں یا کوئی اعتراض کا جواب دیتے ہیں وغیرہ، تو دوسری کتابوں سے نقل کرتے ہیں کہ اس مسئلے کا ایک جواب فلاں نے فلاں کتاب میں دیا، ایک نے فلاں کتاب میں اس کا جواب یہ دیا ہے، ایک نے فلاں کتاب میں اس کا یہ جواب دیا ہے۔ لیکن والد صاحب رحمہ اللہ وہ دوسروں کے جوابات نقل تو کرتے ہیں پھر ساتھ اپنی طرف سے جدید جوابات دیتے ہیں جو دنیا کی کسی کتاب میں نہیں ملتے، اور فرماتے ہیں: میری طرف سے میں اس مسئلے کا ایک یہ بھی جواب دیتا ہوں، میں اس کا ایک یہ بھی جواب دیتا ہوں، میں یہ بھی... کئی کئی جوابات اپنے ذکر کر دیتے ہیں۔ اور انسان حیران رہتا ہے، وہ جو باقی علماء کے جوابات سے اتنی تسلی نہیں ہوتی جتنی تسلی حضرت کے جوابات سے ہوتی ہے، انسان حیران رہ جاتا ہے، ایسے واضح اور زبردست جوابات بھئی، واضح اور زبردست!
اور والد صاحب رحمہ اللہ کا اصل کمال ہی علم تھا بھئی، علم! اللہ نے اتنا علم دیا کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ مولانا طارق جمیل صاحب مدظلہ العالی والد صاحب کو ملنے تشریف لائے، تو بعد میں ان کے شاگرد بتلا رہے تھے کہ مولانا طارق جمیل صاحب حیران ہو کر فرما رہے تھے کہ میں حیران ہوتا ہوں اللہ نے اس شخص کو کتنا علم دیا ہے! کتنا علم دیا ہے!
تو والد صاحب کو اللہ نے ہر فن کے اندر، ہر فن کے اندر مہارت نصیب فرمائی تھی، اور پوری تاریخ اسلام میں آپ کو ایسے علماء بہت کم نظر آئیں گے۔ اگر آپ تاریخ اٹھا کر دیکھیں گے، آپ کو کوئی بہت بڑا محدث نظر آئے گا، کوئی بہت بڑا مفسر نظر آئے گا، کوئی بہت بڑا منطقی ہے، کوئی بہت بڑا نحوی ہے، کوئی بہت بڑا صرفی ہے، لیکن ایسے علماء جو ہر ہر فن کے اندر ماہر ہوں، ایسے آپ کو پوری تاریخ اسلام میں بہت کم ایسے علماء ملیں گے۔ اور والد صاحب رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ہر فن کے اندر بے انتہا مہارت نصیب فرمائی تھی، ہر فن کے اندر آپ ایسے کلام کرتے گویا کہ آپ اس فن کے مجتہد ہیں، اور اور ہر فن میں آپ کی تصانیف موجود ہیں، اور انسان آپ کی جو بھی تصنیف اٹھاتا ہے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کی ساری زندگی اسی ایک فن کے اندر گزری ہے، اسی لیے اتنی گہری اور اتنی پیچیدہ اور مشکل ابحاث کر رہا ہے اور بنیادی باتوں کو بنیادی اصولوں کو تبدیل کر رہا ہے، معلوم ہوا اس کی ساری زندگی اسی فن میں گزری ہے؛ لیکن ان کے ہر فن میں ان کی یہی کیفیت تھی، چاہے آپ ان کی نحو کی کتابیں اٹھا لیں، چاہے آپ ان کی شرح حدیث کی کتابیں اٹھا لیں، چاہے منطق کی، چاہے صرف کی۔
تو اللہ نے ان کو علم میں بہت اونچا مقام نصیب فرمایا تھا۔
دعا کرو اللہ تعالیٰ ہمیں بھی، ہم سب کو ان جیسی صفات نصیب فرمائے اور ان کے راستے پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔
تو یہ علم انسان کو اٹھا کر بہت بلندیوں پر لے جاتا ہے۔ چنانچہ آج دنیا کے کسی بھی حصے میں چلے جائیں اور وہاں علماء کے سامنے حضرت شیخ رحمہ اللہ کا تذکرہ کریں تو وہ سب حضرت سے بڑی ہی محبت اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں بھئی سارے ہی، اور سب ہی ان سے واقف ہیں، ہر جگہ ان کی تصانیف پہنچ چکیں اور ہر جگہ। تو علم ایسی چیز ہے جو انسان کو بہت بلندیوں پر لے جاتا ہے، تو آپ کی طالب علمی ہے، ان علوم میں محنت کریں، ان میں علوم میں مہارت حاصل کریں، اور پھر اخلاص کے ساتھ اللہ کے دین کے کام میں ڈٹ جائیں، انشاء اللہ اللہ آپ کو دنیا میں بھی اتنی آسانیاں، اتنی عزتیں نصیب فرما دے گا کہ لوگ دیکھ کر حیران ہوں گے۔
تو اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک اعمال کی توفیق نصیب فرمائے اور علم نافع نصیب فرمائے، اور اور صحابہ کے راستے پر چلنے اور اتباع سنت کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔
چلیے بس کریں بس بھئی،
ھذا هو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔