درس نمبر۔103
آگے سبق دیکھیے بھئی:
"وألحق بعضهم، قيل: هو سيبويه، إن المكسورة بهما، أي: بليت ولعل، في المنع عن دخول الفاء على الخبر، والأصح أنها لا تمنع عنه، لأنها لا تخرج الكلام عن الخبرية إلى الإنشائية، يؤيده قوله تعالى: ﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُقْبَلَ﴾".
بھئی! گزشتہ سبق میں ہم وہ مقامات پڑھ رہے تھے جہاں مبتدا متضمن ہوتا ہے معنی شرط کو، تو اس کی خبر پر فا کا داخل کرنا صحیح ہے اور وہ اسم موصول ہے جس کا صلہ فعل یا ظرف آئے، اسی طرح وہ نکرہ جس کی صفت فعل یا ظرف آئے، تو یہ متضمن ہوتے ہیں معنی شرط کو تو اس مبتدا کی خبر پر فا کا لانا جائز ہے۔ اسی طرح یہ والا اسم موصول اگر کسی اسم کی صفت بنے، تو اس موصوف کا بھی یہی حکم ہے، اور اسی طرح یہ جو نکرہ ہے، اس کی طرف کوئی اسم مضاف ہو جائے، تو اس اسم کا بھی یہی حکم ہے، یعنی یہ بھی متضمن ہوتے ہیں معنی شرط کو تو ان کی خبر پر فا کا لانا جائز ہے بھئی۔
اس کے بعد صاحب قافیہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ لیت اور لعل مانع ہیں بالاتفاق بھئی۔ یعنی وہ مبتدا جس کی خبر پر فا کا داخل کرنا جائز تھا، اس پر اگر لیت اور لعل داخل ہو جائیں گے تو اب اس کی خبر پر فا کا لانا جائز نہیں بھئی۔ اور اس کی وجہ ذکر کی تھی صاحب جامی نے کہ یہ لیت اور لعل کلام کو خبر کے قبیل سے نکال کر انشا بنا دیتے ہیں، تو پھر ان کی مشابہت شرط اور جزا کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے، اس لیے کیونکہ شرط اور جزا جو ہے وہ اخبار کے قبیل سے ہیں اور لیت اور لعل نے کلام کو کیا بنا دیا؟ کلام کو انشائی بنا دیا۔
پھر اس پر اشکال ہوتا ہے کہ جملہ شرطیہ کا دار و مدار تو جزا پر ہے اور جزا تو جملہ خبریہ بھی ہو سکتی ہے اور جملہ انشائیہ بھی، تو معلوم ہوا جملہ شرطیہ خبریہ بھی ہو سکتا ہے اور انشائیہ بھی، اور آپ تو ہمیں کیا بتلا رہے ہیں کہ شرط اور جزا اخبار کے قبیل سے ہیں۔
تو میں نے تفصیل ذکر کی تھی کہ یہ شرط اور جزا کس طرح اخبار کے قبیل سے ہیں کہ دیکھو شرط اور جزا کے درمیان ربط ہوتا ہے، شرط پائی جائے تو جزا ضرور پائی جاتی ہے، تو شرط ہوئی مبتدا کے درجے میں اور جزا ہوئی خبر کے درجے میں۔ جیسے مبتدا کے لیے خبر ثابت ہوتی ہے، اسی طرح شرط کے لیے جزا ثابت ہوتی ہے، تو بایں لحاظ یہ اخبار کے قبیل سے ہے۔ مثلاً ایک جملہ خبریہ لے لیں: "زيد قائم"، زید کھڑا ہے، اس میں دیکھو زید ہے مبتدا اور قائم ہے اس کی خبر، تو ہم کہیں گے کہ اس جملے میں زید کے لیے قیام ثابت ہے۔ تو جیسے یہاں زید کے لیے قیام ثابت ہے اسی طرح شرط اور جزا میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ جو شرط ہے اس کے لیے آگے آنے والی جزا ثابت ہے۔ تو جیسے مبتدا کے لیے خبر ثابت ہوتی ہے اسی طرح شرط کے لیے جزا ثابت ہوتی ہے، تو بایں لحاظ یہ شرط اور جزا اخبار کے قبیل سے ہیں، بات سمجھ میں آئی؟ آپ پہلے شرط لائے اور پھر جزا لائے، تو گویا آپ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ یہ والی جو شرط ہے اس کے لیے یہ آگے آنے والی جزا ثابت ہے۔ مثلاً خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: "إن دخلت الدار فأنت طالق"، اگر تو اس گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق ہے، تو یہ کہنا وہ یہ چاہتا ہے کہ اس شرط کے لیے یہ والی جزا ثابت ہے، وہ گھر میں جائے گی تو یہ جزا آئے گی یعنی اس کو طلاق ہو جائے گی، تو بایں لحاظ شرط اور جزا اخبار کے قبیل سے ہیں بھئی۔
پھر اس پر اشکال ہوا تھا کہ لیت اور لعل جس طرح بالاتفاق مانع ہیں اسی طرح افعال ناقصہ اور افعال قلوب جو ہیں وہ بھی بالاتفاق مانع ہیں، وہ بھی جب داخل ہو جائیں اس قسم کے اسم موصول یا اس قسم کے نکرہ پر تو وہ بھی مانع بنتے ہیں اور خبر پر فا کا لانا جائز نہیں، تو صاحب قافیہ نے ان کو کیوں ذکر نہیں کیا؟ تو اس کا جواب دیا تھا کہ صاحب قافیہ تمام ان چیزوں کو ذکر نہیں کرنا چاہتے بلکہ صرف حروف مشبہ بالفعل کے اندر جن کے اندر اتفاق ہے صرف ان کو بیان کرنا چاہتے ہیں، اور حروف مشبہ بالفعل میں سے تو صرف لیت اور لعل ہے جن کے بارے میں نحویوں کا اتفاق ہے کہ یہ مانع بنیں گے۔
پھر سوال پیدا ہوا کہ یہ حروف مشبہ بالفعل ہی کو کیوں ذکر کرنا چاہتے ہیں؟ ان کی تخصیص کی کیا وجہ ہے؟ اور چیزوں کو کیوں نہیں ذکر کرنا چاہتے؟ تو اس کا بھی جواب دیا تھا کہ حروف مشبہ بالفعل جو ہیں اس کے اندر جو اختلاف ہے وہ صاحب قافیہ کے نزدیک اہم ہے، اس کو اہمیت دیتے ہوئے اس کو ذکر فرمایا، یوں کہیں اس کی طرف ان کی توجہ زیادہ ہے، تو جو اہم تھا ان کے نزدیک اس کو ذکر کر دیا اور جو اہم نہیں تھا اس کو ذکر نہیں فرمایا بھئی۔
اب آگے دیکھیے آج کا سبق، کہتے ہیں: "وألحق بعضهم، قيل: هو سيبويه، إن المكسورة بهما، أي: بليت ولعل، في المنع عن دخول الفاء على الخبر"۔ آگے بتلائیں گے کہ بعض نحویوں نے إن کو بھی ان دونوں کے ساتھ ملایا ہے، یعنی لیت اور لعل کے ساتھ۔ بعض نحوی حضرات نے لیت اور لعل کے ساتھ إن کو بھی ملایا ہے، یعنی جس طرح لیت اور لعل مانع ہیں اس بات سے کہ جب یہ آ جائیں تو پھر ان کی خبر پر فا کا لانا جائز نہیں، اسی طرح یہ جو إن ہے یہ بھی جب اس قسم کے جملے پر داخل ہوگا اس قسم کے مبتدا پر داخل ہوگا تو یہ بھی مانع بنے گا اور اب خبر پر فا کا لانا جائز نہ ہوگا بھئی۔ لیکن صاحب جامی آپ کو بتلائیں گے کہ زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ إن مانع نہیں بنے گا بھئی۔ بعضوں نے تو إن کو بھی لیت اور لعل سے ملایا ہے اور اسے بھی مانع قرار دیا ہے اس فا کے لانے سے، لیکن کہتے ہیں زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ إن مانع نہیں بنے گا۔ وجہ یہ کہ إن جو ہے کلام کے اندر صرف تاکید پیدا کرتا ہے، وہ کلام کو اخبار سے نکال کر انشا نہیں بناتا بھئی۔ جبکہ لیت اور لعل وہ تو کلام کو انشا بنا دیتے تھے بھئی تو اس کی مشابہت شرط اور جزا سے ختم ہو جاتی تھی، جبکہ إن، إن کے داخل ہونے کے بعد بھی جملہ خبریہ وہ جملہ خبریہ ہی رہتا ہے، تو اس کی جو مشابہت ہے شرط اور جزا کے ساتھ وہ ابھی بھی موجود ہے، لہٰذا فا کا لانا جائز ہے بھئی۔
دیکھیے بھئی کتاب پر، کہتے ہیں: "وألحق بعضهم"، اور ملایا ہے بعض نحویوں نے، "قيل: هو سيبويه"، کہا گیا ہے کہ وہ امام سیبویہ ہیں، یہ جو قول کرنے والے ہیں وہ کون ہیں؟ امام سیبویہ ہیں۔ دیکھو اس قول کی نسبت کس کی طرف کی گئی ہے؟ امام سیبویہ۔ "وألحق بعضهم"، اور ملایا ہے بعضوں نے ان مکسورہ کو بھی ان دونوں کے ساتھ، یعنی ان مکسورہ بھی مانع بنے گا دخول فا سے، اور درمیان میں صاحب جامی نے آپ کو بتلا دیا "قيل: هو سيبويه"، کہا گیا ہے کہ وہ امام سیبویہ ہیں، انہوں نے إن کو لیت اور لعل کے ساتھ ملایا ہے دخول فا سے مانع ہونے میں۔ اور دیکھو قیل کے ساتھ ذکر کیا اس کو، "قيل: هو سيبويه"، معلوم ہوا یہ کوئی قطعی بات نہیں ہے کہ امام سیبویہ نے ایسا کہا ہے، ہاں ان کی طرف اس قول کی بعضوں نے نسبت کی ہے کہ یہ ان کا قول ہے، خود امام سیبویہ نے اپنی کتاب میں اس کی کوئی تصریح نہیں کی بھئی، اس لیے اس کو قیل کے ساتھ ذکر کیا کہ "قيل: هو سيبويه"، کہا گیا ہے کہ وہ قائل کون ہیں؟ امام سیبویہ ہیں بھئی۔
تو بعض نحویوں نے ملایا ہے کس چیز کو؟ "إن المكسورة بهما"، وہ إن جو مکسورہ ہے یعنی جس کا ہمزہ مکسور ہے، "بهما"، اس کو ملایا ہے ان دونوں کے ساتھ بھئی، "بهما" میں ہما کی ضمیر کس کو راجع ہے؟ صاحب جامی آگے بتلا رہے ہیں: "أي: بليت ولعل"، لیت اور لعل کے ساتھ ملایا ہے، کس چیز میں؟ "في المنع عن دخول الفاء على الخبر"، خبر پر فا کے داخل ہونے سے منع کرنے میں، کس چیز میں؟ "في المنع عن دخول الفاء على الخبر"، ترجمہ آخر سے ہوگا، خبر پر فا کے داخل ہونے سے منع کرنے میں، خبر پر فا کے داخل ہونے سے منع کرنے میں لیت اور لعل کے ساتھ إن کو ملایا ہے بھئی۔
"والأصح أنها لا تمنع عنه"، اور زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ "أنها لا تمنع عنه"، کہ یہ جو إن ہے یہ منع نہیں کرتا "عنه"، اس دخول فا سے، یہ خبر پر فا کے دخول سے منع نہیں کرتا، یہ اس کے لیے مانع نہیں ہے۔ کہا: زیادہ صحیح قول یہ ہے، معلوم ہوا وہ بھی صحیح قول ہے لیکن یہ زیادہ صحیح ہے بھئی، معلوم ہوا اس کو بھی غلط نہیں قرار دیا بھئی۔ تو کہتے ہیں: "والأصح أنها لا تمنع عنه"، اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ جو إن ہے یہ منع نہیں کرتا "عنه أي: عن دخول الفاء"، دخول فا سے، "لأنها لا تخرج الكلام عن الخبرية إلى الإنشائية"، اس لیے کیونکہ یہ جو إن ہے یہ کلام کو نکالتا نہیں خبر ہونے سے انشا ہونے کی طرف، خبر ہونے سے انشا ہونے کی طرف یہ کلام کو نہیں نکالتا، "يؤيده قوله تعالى"، اور اس کی تائید کرتا ہے اللہ تعالیٰ کا یہ قول۔ أید یؤید تائید کا معنیٰ ہے قوت دینا، قوت دینا، تو اللہ تعالیٰ کا یہ قول اس بات کو قوت دیتا ہے، اس بات کی تائید کرتا ہے۔ کون سی بات کی؟ کہ إن کے آنے کے بعد بھی فا کا داخل ہونا منع نہیں ہے۔
دیکھیے بھئی قران میں اللہ فرماتے ہیں: "إن الذين كفروا وماتوا وهم كفار فلن يقبل"، یقیناً وہ لوگ جو جنہوں نے کفر کیا "وماتوا"، اور وہ مر گئے، "وهم كفار"، اس حال میں کہ وہ کفار تھے، وہ کافر تھے، "فلن يقبل"، تو ہرگز ان سے قبول نہیں کیا جائے گا، تو ہرگز ان سے قبول نہیں کیا جائے گا، وہ زمین بھر سونا بھی دے دیں اپنی جان چھڑانے کے لیے تو وہ ان سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ تو دیکھو اس آیت کے اندر إن داخل ہو رہا ہے الذین اسم موصول پر، اور یہ اسم موصول ایسا ہے جس کا صلہ "كفروا" فعل آ رہا ہے، اور وہ اسم موصول جس کا صلہ فعل آئے وہ متضمن ہوتا ہے معنی شرط کو، اور اس کی خبر پر فا کا لانا جائز ہے، چنانچہ یہاں بھی کیا آیا؟ "فلن يقبل"، دیکھو فا لائی گئی بھئی، حالانکہ إن داخل ہوا، اگر إن مانع ہوتا پھر تو فا داخل نہ ہوتی یہاں پر، بات سمجھ میں آگئی؟
تو دیکھو یہاں "كفروا"، یہ ہے صلہ الذین کا، "وماتوا"، اس کا عطف اسی صلہ پر ہے بھئی، اور معطوف کا وہی حکم ہوتا ہے جو معطوف علیہ کا، یعنی یہ بھی صلہ ہی ہے۔ "وهم كفار"، یہ حال ہے ماقبل سے بھئی، "وماتوا" کے اندر جو واو ضمیر ہے جمع کی یہ اس سے حال ہے بھئی، اور آگے "فلن يقبل" یہ إن کی خبر ہے۔ دلیل سمجھ میں آگئی کہ إن داخل ہوا لیکن پھر بھی فا لائی گئی، معلوم ہوا إن مانع نہیں ہے بھئی۔
"فإن قيل: قد ألحق بعضهم أن المفتوحة"، یہاں سے ایک اعتراض اور اس کا جواب ذکر کریں گے۔ اعتراض یہ کہ بعض نحویوں نے إن کو لیت اور لعل کے ساتھ ملایا، یہ تو صاحب قافیہ نے ذکر کر دیا۔ لیکن بعض نحویوں نے تو أنّ جو ہے، ہمزہ مفتوحہ کے ساتھ جو ہے، اس کو بھی اور اسی طرح لکنّ کو بھی ملایا ہے لیت اور لعل کے ساتھ کہ أنّ بھی مانع ہے، لکنّ بھی مانع ہے، لیکن صاحب قافیہ نے إن کو تو ذکر کیا متن کے اندر، لیکن أنّ اور لکنّ کو ذکر نہیں فرمایا، اس کی کیا وجہ ہے؟ یا تو ذکر کرتے سب کو ذکر کرتے اور اگر نہ کرتے تو کسی کو بھی ذکر نہ کرتے۔ تو اس کا جواب بعض علماء نے دیا کہ چونکہ یہ إن کے بارے میں جو قائل ہیں وہ امام سیبویہ ہیں، انہوں نے إن کو ملایا ہے لیت اور لعل کے ساتھ، تو امام سیبویہ ان کی بات تو علم نحو میں پہاڑ کی طرح مضبوط ہوتی ہے تو ان کی بات کو تو اہمیت دی، لہٰذا اس کو ذکر فرمایا، جبکہ أنّ اور لکنّ کو اور نحویوں نے لیت اور لعل سے ملایا تھا، تو ان کے قول کا کوئی اعتبار نہیں کیا، ان کو کوئی اہمیت نہیں دی اس لیے ان کو ذکر نہیں فرمایا۔
تو کہتے ہیں: "فإن قيل"، اگر یہ کہا جائے، "قد ألحق بعضهم أن المفتوحة ولكن بليت ولعل"، کہ تحقیق ملایا ہے بعض نحویوں نے أن مفتوحہ کو اور لکن کو لیت اور لعل کے ساتھ، "فما وجه تخصيص إن المكسورة بالإلحاق"، تو کیا وجہ ہے کہ إن مکسورہ جو ہے اس کے الحاق کی تخصیص کی گئی؟ "فما وجه تخصيص إن المكسورة بالإلحاق"، تو إن مکسورہ کے الحاق کی تخصیص کی وجہ کیا ہے؟ صرف یہ ذکر فرمایا "قد ألحق بعضهم إن"، صرف إن کے الحاق کو ذکر کیا، تو یہ إن کے الحاق کی تخصیص کی وجہ کیا ہے بھئی؟
"قيل"، تو کہا گیا ہے، اب جواب دینے لگے ہیں۔ "قيل: بعضهم الذي ألحق إن بهما"، کہا گیا ہے بعضہم، وہ بعض وہ جو متن میں آیا تھا "ألحق بعضهم"، یہ بعض وہ یہ مراد ہیں، کہ وہ بعض "الذي ألحق إن بهما"، جنہوں نے إن کو ملایا ہے لیت اور لعل کے ساتھ، وہ بعض جو ہیں "هو سيبويه"، وہ امام سیبویہ ہیں، "فاحتد بقوله"، لہٰذا ان کے قول کا تو اعتبار کیا، اس کو تو شمار کیا، "وذكره"، اور اس کو ذکر فرمایا صاحب قافیہ نے، "ولم يعتد بقول من سواه"، اور اعتبار نہیں کیا ان کے علاوہ کے قول کا، اور نحویوں کے قول کا اعتبار نہیں کیا، "فلم يذكره"، لہٰذا اس کو ذکر نہیں فرمایا۔ "مع أن كلا القولين لا يساعدهما القرآن وكلام الفصحاء"، باوجود اس کے کہ دونوں قول جو ہیں، چاہے امام سیبویہ کا قول ہے إن کے بارے میں، چاہے بعض دیگر نحویوں کا قول ہے أنّ اور لکنّ کے بارے میں، یہ دونوں قول جو ہیں، "لا يساعدهما القرآن"، قرآن ان کی مدد نہیں کرتا، ساعد یساعد کا معنیٰ ہے مدد کرنا یعنی تائید کرنا، قرآن ان کی تائید نہیں کرتا، "وكلام الفصحاء"، اور عرب کے فصیح لوگوں کا جو کلام ہے وہ بھی اس کی تائید نہیں کرتا۔ تو کہتے ہیں: "مع أن كلا القولين لا يساعدهما القرآن وكلام الفصحاء"، ساتھ اس کے کہ دونوں قول جو ہیں ان کی تائید قرآن اور فصحا کا کلام نہیں کرتا۔
"فما يدل على عدم منع إن المكسورة عن دخول الفاء على الخبر ما سبق"، یہ ترجمہ سمجھ لیں بھئی، یہ ترجمہ ذرا مشکل ہے۔ "فما يدل"، پس وہ چیز جو دلالت کرتی ہے "على عدم منع إن المكسورة عن دخول الفاء على الخبر ما سبق"، ترجمہ اب آخر سے ہوگا، "فما يدل" کا ترجمہ کریں گے اور پھر الخبر سے پیچھے کی طرف ترجمہ کریں گے: پس وہ چیز جو دلالت کرتی ہے کس بات پر؟ کہ خبر جو ہے اس پر فا کے داخل ہونے سے إن مکسورہ جو ہے وہ منع نہیں کرتا، وہ چیز جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ خبر پر فا کے داخل ہونے سے إن مکسورہ مانع نہیں ہے، اس پر جو بات دلالت کرتی ہے "ما سبق"، یہ خبر آگئی، وہ ہے جو ماقبل میں گزر گیا۔ وہ جو ماقبل میں گزر گیا وہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ جو إن مکسورہ ہے یہ مانع نہیں ہے خبر پر فا کے داخل ہونے سے۔ وہ کیا بات گزری پیچھے؟ وہ جو اللہ تعالیٰ کا قول گزرا: "إن الذين كفروا" بھئی۔ تو کہتے ہیں: "فما يدل على عدم منع إن المكسورة عن دخول الفاء على الخبر ما سبق"، پس وہ چیز جو دلالت کرتی ہے "على عدم منع"، اس بات پر کہ مانع نہیں ہے، "إن المكسورة"، إن مکسورہ جو ہے وہ مانع نہیں ہے "عن دخول الفاء على الخبر"، خبر پر فا کے داخل ہونے سے، وہ چیز "ما سبق"، وہ ہے جو ماقبل میں گزر گئی۔
"وما يدل على عدم منع أن المفتوحة ولكن عن دخول الفاء قوله تعالى"، اور وہ چیز جو دلالت کرتی ہے کس بات پر؟ "على عدم منع"، اس بات پر کہ مانع نہیں ہے، کیا چیز مانع نہیں ہے؟ "أن المفتوحة"، أنّ مفتوحہ مانع نہیں ہے، "ولكن"، اور لکنّ مانع نہیں ہے "عن دخول الفاء"، فا کے داخل ہونے سے، تو وہ چیز جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ دونوں مانع نہیں ہیں، "قوله تعالى"، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: "واعلموا أنما غنمتم من شيء فأن لله خمسه"، ترجمہ سمجھ میں آیا؟ پھر دیکھیں۔ "وما يدل على عدم منع أن المفتوحة ولكن عن دخول الفاء"، اور وہ چیز جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ أنّ مفتوحہ اور لکنّ یہ مانع نہیں ہیں دخول فا سے، "قوله تعالى"، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: "واعلموا"، اور تم لوگ جان لو، "أنما غنمتم"، أنّ حرف از حروف مشبہ بالفعل ہے اور یہ ما موصولہ ہے اور "غنمتم من شيء" یہ اس کا صلہ ہے، توجہ ہے؟ اور تم جان لو "أنما غنمتم من شيء"، کہ جو چیز تمہیں غنیمت میں حاصل ہو، "فأن لله خمسه"، تو اللہ کے لیے اس کا پانچواں حصہ ہے، "فأن لله خمسه وللرسول"، تو اللہ اور اس کے رسول کے لیے اس کا پانچواں حصہ ہے۔ اب دیکھو اس کے اندر أنّ آیا بھئی، اور أنّ ما موصولہ پر داخل ہے اور یہ ما موصولہ اس کا صلہ "غنمتم" فعل آ رہا ہے، اور وہ اسم موصول جس کا صلہ فعل آئے وہ متضمن ہوتا ہے معنی شرط کو اور اس پر فا کا لانا جائز ہے، اور یہاں پر اس پر أنّ داخل ہوا پھر بھی آگے "فأن لله خمسه"، فا لائی گئی۔ معلوم ہوا أنّ جو ہے یہ مانع نہیں ہے دخول فا سے بھئی۔
"وقول الشاعر"، اب یہ کلام فصحا بھی پیش کر رہے ہیں بھئی، قرآن سے بھی ذکر کر دیا اور اس کے اندر أنّ کا ذکر تھا، اب ایک فصیح شاعر کا قول ذکر کریں گے جس کے اندر ولکنّ ذکر ہوگا اور وہ مانع نہیں بنے گا دخول فا سے بھئی۔ "وقول الشاعر"، اور شاعر کا قول ہے:
"فوالله ما فارقتكم قالياً لكم ... ولكن ما يقضى فسوف يكون"
"فوالله"، پس اللہ کی قسم، "ما فارقتكم"، میں تم لوگوں سے جدا نہیں ہوا، "قالياً لكم"، یہ حال ہے بھئی، حال ہے بھئی فارقتم کی تا ضمیر سے متکلم کی ضمیر سے، قلا یقلی قلیاً کا معنیٰ ہے نفرت کرنا۔ "فوالله ما فارقتكم قالياً لكم"، پس اللہ کی قسم ہے میں تم لوگوں سے جدا نہیں ہوا "قالياً لكم"، تم سے نفرت کرتے ہوئے۔ واللہ میں تم لوگوں سے نفرت کرتے ہوئے تم سے جدا نہیں ہوا، "ولكن ما يقضى"، لیکن جو فیصلہ کر دیا جاتا ہے، "فسوف يكون"، تو عنقریب ویسا ہی ہوتا ہے، تو عنقریب ویسا ہی ہوتا ہے۔ کہنا یہ چاہتا ہے، کوئی شاعر ہوگا، اپنے قبیلے سے اپنے رشتہ داروں سے کہیں دور اس کو جانا پڑ گیا بھئی، تو اب وہ شعر میں ان کو پیغام دے رہا ہے کہ میں تم سے جدا ہو گیا ہوں، دور اب آ گیا ہوں، تو یہ نہ سمجھنا کہ میں تم لوگوں سے نفرت کرتے ہوئے دور ہوا ہوں، بس اللہ جو فیصلہ فرما دیتے ہیں ویسا ہی ہوتا ہے، یعنی بالفاظ دیگر وہ یہ کہہ رہا ہے کہ مجھے تقدیر یہاں لے آئی، اگرچہ میں تم لوگوں سے جدا نہیں ہونا چاہتا تھا بھئی۔
تو دیکھو اس کے اندر دیکھو ولکنّ آیا اور کس پر داخل ہے؟ ما، ما موصولہ ہے، اور "يقضى" اس کا صلہ ہے، اور وہ ما موصولہ جس کا صلہ کیا آئے؟ فعل آئے، وہ متضمن ہوتا ہے معنی شرط کو، تو اس کی خبر پر فا داخل کرنا جائز، تو یہاں دیکھو: "فسوف"، فا داخل ہو رہی ہے، اگرچہ اس ما موصولہ پر لکنّ داخل ہوا ہے، اور پھر بھی لکنّ مانع نہیں بن رہا، معلوم ہوا لکنّ مانع نہیں ہے بھئی۔
آگے دیکھیے بھئی: "وقد يحذف المبتدأ لقيام قرينة لفظية أو عقلية جوازاً، أي: حذفاً جائزاً لا واجباً"۔ اب کچھ وہ مقامات ذکر فرمائیں گے جہاں مبتدا اور خبر کو حذف کیا جاتا ہے بھئی، اور آپ کو بتلائیں گے کہ یہ حذف کبھی جوازاً ہوتا ہے اور کبھی وجوباً بھئی۔ مبتدا کے اندر تو صرف جوازاً حذف کو ذکر فرمائیں گے یعنی جہاں حذف جائز ہے، جہاں حذف واجب ہے اس کو ذکر نہیں فرمائیں گے، جبکہ خبر کے اندر دونوں ذکر فرمائیں گے، جہاں حذف جائز ہے اسے بھی ذکر فرمائیں گے اور جہاں حذف واجب ہے اسے بھی ذکر فرمائیں گے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ مبتدا کے اندر جہاں حذف واجب ہے اس کو کیوں نہیں ذکر فرمایا؟ تو وجہ اس کی یہ کہ جہاں مبتدا کا حذف واجب ہے وہ نہایت قلیل ہے، وہ قلیل ہے اور نادر ہے، اور النادر کالمعدوم، اور نادر جو ہے وہ معدوم کی طرح ہوتا ہے اس کو شمار ہی نہیں کیا جاتا، اس لیے اس کو ذکر نہیں فرمایا، بات سمجھ میں آگئی؟
تو کہتے ہیں: "وقد يحذف المبتدأ لقيام قرينة"، اور کبھی کبھار مبتدا کو حذف کر لیا جاتا ہے "لقيام قرينة"، یہ لام بمعنی وقت کے ہے، "أي: وقت قيام قرينة"، یعنی جس وقت قرینہ قائم ہو۔ یاد رکھو حذف جب بھی کیا جائے گا اس میں قرینے کا ہونا ضروری ہے بھئی۔ قرینہ کسے کہتے ہیں؟ "هو أمر يشير إلى المطلوب"، وہ چیز جو مطلوب کی طرف اشارہ کر دے اس کو کیا کہتے ہیں؟ قرینہ کہتے ہیں، توجہ ہے؟ کیا تعریف کی؟ "هو أمر يشير إلى المطلوب"، وہ چیز جو مطلوب کی طرف اشارہ کر دے۔ کیا معنیٰ مطلوب؟ یعنی متکلم کا جو مطلوب ہے، جو مقصود ہے، اس کی طرف اشارہ کر دے۔ میں آپ کے سامنے ایک کلام کرتا ہوں تو دیکھو میرے دل میں ایک معنیٰ ہے وہ میں آپ تک پہنچانا چاہتا ہوں تو کس کی مدد لیتا ہوں؟ الفاظ کی مدد لیتا ہوں۔ توجہ ہے؟ متکلم ایک بات کرتا ہے وہ دراصل اپنے دل کی بات دوسرے تک پہنچانا چاہتا ہے الفاظ کے ذریعے، تو وہ جو الفاظ ہیں کبھی لفظ کا حقیقی معنیٰ مراد ہوگا کبھی مجازی معنیٰ مراد ہوگا، کبھی ایک لفظ عبارت میں ذکر ہوگا کبھی حذف ہوگا۔ اب ایک لفظ بولتا ہے اس سے اس کا حقیقی معنیٰ مراد ہے یا اس کا مجازی معنیٰ مراد ہے تو اس کے لیے کوئی چیز چاہیے جو سننے والے کو بھی بتلا دے کہ اس سے یہ والا معنیٰ مراد ہے۔ اسی طرح ایک لفظ کو وہ حذف کر دیتا ہے، اب ایک لفظ کو اس نے حذف کر دیا تو مخاطب کو بات پوری سمجھ میں نہیں آئے گی، لہٰذا کوئی ایک چیز ہونی چاہیے جو مخاطب کو بھی بتلا دے کہ یہ والا لفظ یہاں پر حذف کیا گیا ہے، تو اس کو قرینہ کہتے ہیں۔ قرینہ کسے کہتے ہیں؟ وہ چیز جو مطلوب اور مقصود کی طرف اشارہ کر دے۔ اور مطلوب اور مقصود سے کیا مراد ہے؟ وہ جو متکلم کا مطلوب ہے، وہ جو بات کرنے والے کا مقصد ہے، اس مقصد کی طرف کیا کر دے؟ اشارہ کر دے۔
مثلاً دیکھو لفظ شیر بھئی، شیر اصل میں وضع ہے جنگلی درندے کے لیے، لیکن شیر کا لفظ بہادر آدمی کے لیے بھی استعمال کر لیا جاتا ہے، بہادر آدمی کے لیے بھی۔ تو اب میں جب لفظ شیر بولوں گا تو کوئی قرینہ چاہیے جس سے سننے والے کو پتہ چلے کہ اس سے جنگلی درندہ مراد ہے یا بہادر آدمی مراد ہے۔ تو جو چیز بھی اس مقصد کی طرف، اس مقصود اور مطلوب کی طرف اشارہ کر دے اس کو کیا کہیں گے؟ قرینہ کہیں گے۔ اور آپ یہ بھی پڑھ چکے ہیں کہ قرینہ ہمیشہ لا بالوضع ہوتا ہے، اس میں وضع نہیں، ایک چیز کو دوسری چیز کے لیے مقرر کیا گیا ہو اس کو قرینہ نہیں کہتے بھئی۔ تو شیر کا حقیقی معنیٰ کیا؟ جنگلی درندہ، اور مجازی معنیٰ کیا؟ بہادر آدمی۔ اب میں آپ کے سامنے دیکھیں لفظ بولتا ہوں آپ نے مجھے بتانا ہے کہ یہ حقیقی معنیٰ میں استعمال ہو رہا ہے یا مجازی معنیٰ میں: شیر۔ اب مجھے بتائیے یہ حقیقی معنیٰ میں استعمال ہو رہا ہے یا مجازی معنیٰ میں؟ تو آپ کہیں بھئی، آپ کہیں بھئی کہ یہ حقیقت اور مجاز یہ استعمال کے اعتبار سے قسمیں ہیں لفظ کی، آپ نے صرف لفظ شیر کہا، بھئی اس کو کسی جملے میں تو استعمال کریں پھر ہمیں پتہ چلے گا کہ یہ حقیقت ہے یا مجاز۔ جب تک استعمال نہیں ہوگا کسی جملے اور کلام کے اندر، یہ حقیقت ہے یا مجاز یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں اب دیکھو میں آپ کے سامنے کہتا ہوں کہ کل میں نے جنگل میں ایک شیر دیکھا۔ اب آپ کو پتہ چل گیا کہ اس شیر کا کون سا معنیٰ ہے؟ حقیقی معنیٰ یعنی جنگلی درندہ مراد ہے۔ اور کس طرح پتہ چلا آپ کو؟ کوئی قرینہ چاہیے جس سے پتہ چلے، کس چیز سے پتہ چلا؟ قرینہ کہ وہ جو میں نے جنگل کو ساتھ ذکر کیا، جنگل کے اندر تو وہ جنگلی درندہ ہی ہوگا بھئی۔ تو یہ قرینہ اس نے اس معنیٰ کی طرف اشارہ کر دیا۔ دیکھو میں نے کہا: میں نے کل جنگل میں ایک شیر دیکھا، اب اس شیر سے میری مراد کیا ہے؟ میرا مقصود کیا ہے؟ وہ جو مطلوب ہے اس کی طرف کس نے اشارہ کیا؟ یہ جو جنگل کا لفظ ساتھ میں نے ذکر کیا۔ تو یہ جو جنگل کا لفظ ہے یہ قرینہ ہے، یہ اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ لفظ شیر سے جنگلی درندہ مراد ہے بہادر آدمی مراد نہیں ہے بھئی۔ اور مجھے بتائیے، کیا جنگل کا لفظ اسی کے لیے وضع کیا گیا ہے کہ یہ ہمیں یہ بتایا کرے کہ یہ شیر کا لفظ جنگلی درندے کے لیے استعمال ہو رہا ہے؟ نہیں، دیکھا؟ تو یہ جو قرینہ ہوتا ہے اس میں وضع نہیں ہوتی بھئی، کوئی بھی چیز آپ کو بتلا دے اس کو قرینہ کہتے ہیں بھئی۔
دوسری مثال بھئی، میں آپ سے کہتا ہوں: کل میں چڑیا گھر گیا تھا وہاں میں نے شیر دیکھا۔ اب شیر کا کیا معنیٰ؟ ابھی بھی جنگلی درندہ اس کا معنیٰ ہے کیونکہ قرینہ موجود ہے، کون سا قرینہ؟ یہ جو میں چڑیا گھر کا لفظ ساتھ ذکر کر رہا ہوں کہ میں چڑیا گھر گیا تھا۔ ایک اور مثال میں ذکر کرتا ہوں: کل میں نے ایک شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا۔ جی، یہاں شیر سے کیا معنیٰ مراد ہے؟ مجازی معنیٰ۔ دیکھو جملہ میں نے بولا ہے اور میری یقیناً اس شیر کے لفظ سے یا تو شیر مراد ہوگا یا بہادر آدمی، اور وہ آپ کو کس سے پتہ چلا؟ قرینے سے، کون سا قرینہ؟ تیر چلانا۔ یہ جو تیر چلانا یہ لفظ جو ہیں یہ بتا رہے ہیں تو یہ قرینہ لفظیہ ہے۔ ان لفظوں نے بتایا کہ شیر سے بہادر آدمی مراد ہے، جنگلی درندہ مراد نہیں، کیونکہ بہادر آدمی تیر چلا سکتا ہے، جنگلی درندہ تو تیر نہیں چلا سکتا، تو یہ قرینہ لفظیہ ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو دیکھو یہاں قرینہ لفظ ہے، کیا ہے؟ قرینہ لفظ ہے۔ تو یاد رکھو قرینہ کبھی لفظیہ ہوتا ہے اور کبھی قرینہ عقلیہ ہوتا ہے، توجہ ہے؟ اگر لفظ سے آپ کو پتہ چلے ایک معنیٰ کا تو پھر اس کو قرینہ لفظیہ کہیں گے، اگر لفظ کے علاوہ کوئی بھی چیز آپ کو بتلائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ قرینہ عقلیہ۔ معلوم ہوا قرینہ دو ہی قسم کا ہوتا ہے، یا قرینہ لفظ ہوتا ہے یا غیر لفظ، لفظ ہو تو وہ قرینہ لفظیہ، غیر لفظ ہو تو اس کا نام قرینہ عقلیہ بھئی۔ طلبہ عموماً پریشان ہوتے ہیں، بعض علماء قرینہ لفظیہ کے ساتھ معنویہ ذکر کر دیتے ہیں، بعض لفظیہ کے ساتھ حالیہ ذکر کر دیتے ہیں، اور بعض لفظیہ کے ساتھ عقلیہ ذکر کر دیتے ہیں، تو طالب علم پریشان ہوتا ہے کہ پتہ نہیں شاید یہ الگ الگ قسمیں ہیں قرینے کی۔ نہیں بھئی، قرینہ دو ہی قسم پر ہے، متکلم کی جو مراد ہے، اس کا جو مطلوب ہے، جو اس کا مقصود ہے، اس کا پتہ یا تو لفظوں سے ہی چل جائے گا یا کوئی اور چیز بتلا دے گی۔ تو اگر وہ لفظوں سے پتہ چلے تو وہ قرینہ لفظیہ ہے، لفظوں کے علاوہ کسی بھی چیز سے پتہ چل جائے تو اس کو کیا کہیں گے؟ قرینہ عقلیہ۔
تو یاد رکھنا قرینے کی دو ہی قسمیں ہیں: ایک لفظیہ اور ایک غیر لفظیہ۔ یا قرینہ وہ لفظ ہوگا یا غیر لفظ ہوگا بھئی، اور غیر لفظ ہی کا نام قرینہ عقلیہ ہے بھئی۔ تو قرینہ دو ہی قسم پر ہے، یا لفظیہ ہوگا یا عقلیہ ہوگا۔ ہاں اسی عقلیہ کو کبھی کبھار حالیہ یا معنویہ بھی کہہ دیتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ کیونکہ بعض اوقات کسی جگہ پر اگر قرینہ لفظ نہیں ہے، لفظ کے علاوہ کوئی چیز ہے، وہ غیر لفظ جو ہے اگر وہ حالت ہے تو اس قرینے کو قرینہ حالیہ کہہ دیا جاتا ہے۔ یہ وہی قرینہ عقلیہ ہے لیکن چونکہ یہاں وہ حالت بتلا رہی ہے لہٰذا اس کا نام کیا رکھ دیا؟ قرینہ حالیہ، حالانکہ یہ وہی چیز ہے، قرینہ عقلیہ کہو یا قرینہ حالیہ کہو وہی چیز ہے، لیکن چونکہ یہاں جو چیز بتانے والی ہے وہ حالت ہے لہٰذا اس کو کیا کہہ دیتے ہیں؟ قرینہ حالیہ کہہ دیتے ہیں، یہ ہے یہ بھی وہی قرینہ عقلیہ ہے۔
بات سمجھ میں آگئی؟ مثلاً مثلاً ہم مسجد میں بیٹھے ہیں اور ایک شخص مسجد کے دروازے سے اندر داخل ہوا، میں نے کہا: شیر آگیا۔ اب مجھے بتائیے یہاں شیر کا کیا معنیٰ؟ بہادر آدمی، مجازی معنیٰ مراد ہے۔ تو دیکھو آپ فوراً سمجھ گئے کہ یہاں شیر بول کر کیا مراد ہے؟ بہادر آدمی مراد ہے۔ یہاں لفظوں نے نہیں بتایا، دیکھو لفظ تو میں نے کیا کہے؟ شیر آگیا۔ یہ لفظ آپ کو نہیں بتا رہے کہ اس سے کون سا معنیٰ مراد ہے، اس سے تو حقیقی معنیٰ بھی مراد ہو سکتا ہے اور مجازی معنیٰ بھی، لیکن اس وقت شیر تو داخل نہیں ہوا، ایک آدمی اندر داخل ہوا ہے، تو یہ حالت بتلا رہی ہے کہ یہاں شیر بول کر کیا مراد ہے؟ مجازی معنیٰ یعنی بہادر آدمی مراد ہے۔ تو کس چیز نے آپ کو بتلایا؟ عقل نے، تو یہ قرینہ عقلیہ ہی ہے، لیکن کس طرح عقل نے بتایا؟ یہ جو حالت ہے، اس حالت کی وجہ سے عقل نے آپ کو بتلایا کہ اس وقت تو کوئی جنگلی درندہ نہیں اندر داخل ہوا بلکہ کیا داخل ہوا ہے؟ انسان داخل ہوا ہے، تو یہاں بتلایا تو عقل نے ہی لیکن لیکن اس حالت سے پتہ چلا عقل کو، تو یہ قرینہ عقلیہ ہی ہے لیکن اسی کو کیا کہہ دیتے ہیں؟ قرینہ حالیہ کہہ دیتے ہیں۔
اور بعض اوقات معنیٰ ہمیں بتاتا ہے تو اسی قرینہ عقلیہ کو قرینہ معنویہ کہہ دیتے ہیں۔ مثلاً "أكل الكمثرى يحيىٰ"، "أكل الكمثرى يحيىٰ"، اب دیکھو کمثرى امرود یا ناشپاتی کو کہتے ہیں، اور یہاں پر کمثرى اس میں بھی اعراب اعراب لفظی منتفی ہے، یہاں بھی اعراب تقدیری، اور یحییٰ کے اندر بھی اعراب تقدیری ہے، لیکن پھر بھی آپ کو پتہ چل رہا ہے کہ اکل کا فاعل کون ہے؟ یحییٰ فاعل ہے اور کمثرى مفعول ہے، کس نے بتایا؟ آپ کی عقل نے آپ کو بتلایا بھئی۔ اس لیے کیونکہ یحییٰ تو امرود کو کھا سکتا ہے لیکن امرود تو یحییٰ کو نہیں کھا سکتا، تو یہ قرینہ آپ کو بتلا رہا ہے کہ کمثرى مفعول ہے اور یحییٰ فاعل ہے بھئی، تو یہ بھی قرینہ عقلیہ ہے۔ لفظوں سے نہیں پتہ چلا، لفظوں کے اندر تو دونوں دونوں اسم مقصور ہیں، دونوں پر اعراب لفظی منتفی ہے، تو معلوم ہوا یہاں قرینہ غیر لفظ ہے اور کس نے بتایا؟ عقل نے بتایا، تو یہ کیا ہے؟ قرینہ عقلیہ ہے، لیکن لیکن چونکہ یہاں معنیٰ سے پتہ چل رہا ہے، کس سے؟ معنیٰ سے پتہ چل رہا ہے، کیونکہ میں نے بتایا یحییٰ تو امرود کو کھا سکتا ہے لیکن امرود تو یحییٰ کو نہیں کھا سکتا، تو اسی قرینہ عقلیہ کو پھر قرینہ معنویہ کہہ دیتے ہیں۔ کیا کہہ دیتے ہیں؟ قرینہ معنویہ کہہ دیتے ہیں۔
تو بس اتنا یاد رکھنا قرینہ دو ہی قسم پر ہے، کبھی قرینہ لفظیہ ہوگا کبھی غیر لفظیہ ہوگا اور اس غیر لفظیہ کا نام عقلیہ ہے، اور اسی عقلیہ کو کبھی کیا کہہ دیتے ہیں؟ حالیہ، اگر وہ حالت سے عقل کو پتہ چلا ہے، اور اسی قرینہ عقلیہ کو کبھی معنویہ کہہ دیتے ہیں اگر وہ معنیٰ سے عقل نے آپ کو بتلایا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو دیکھو ایک قیمتی فائدہ آپ کو حاصل ہو گیا کہ یہ حقیقت اور مجاز کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ استعمال سے، کس سے؟ استعمال سے پتہ چلے گا کہ یہ حقیقت ہے یا مجاز، اور جو چیز اس پر دلالت کرے اس کو کیا کہیں گے؟ قرینہ، اور وہ قرینہ لفظیہ بھی ہو سکتا ہے اور عقلیہ بھی ہو سکتا ہے بھئی۔
تو یاد رکھنا جب بھی مبتدا یا خبر وغیرہ کسی لفظ کو حذف کیا جائے گا تو ہمیشہ اس کے لیے کوئی قرینہ چاہیے، کوئی ایسی چیز چاہیے جس سے مخاطب کو بھی پتہ چلے کہ میں نے یہاں کون سا لفظ حذف کیا ہے۔ اگر اس کو پتہ ہی نہیں چلے گا تو اس کو تو کلام کا معنیٰ سمجھ میں نہیں آئے گا، وہ جو متکلم کا مطلوب تھا، مقصود تھا، جو بات وہ اس کو بتلانا چاہتا تھا وہ بات اس کو پوری سمجھ میں ہی نہیں آئے گی بھئی۔ تو قرینہ کسے کہتے ہیں؟ "هو أمر يشير إلى المطلوب"، مطلوب سے کیا مراد ہے؟ کس کا مطلوب؟ متکلم کا جو مطلوب ہے، جو اس کا مقصود ہے، وہ جو بات کرنا چاہتا ہے، اس مطلوب کی طرف جو چیز اشارہ کرے اسے قرینہ کہتے ہیں۔
تو کہتے ہیں: "وقد يحذف المبتدأ لقيام قرينة"، اور کبھی کبھار مبتدا کو حذف کر لیا جاتا ہے "لقيام قرينة"، یہ لام بمعنی وقت کے ہے، "أي: وقت قيام قرينة"، یعنی جس وقت قرینہ قائم ہو۔ یہ لام بمعنی وقت کے کلام عرب میں عام استعمال ہوتا ہے، تو یہاں لام کا کیا معنیٰ کریں گے؟ وقت بھئی۔ یہ لام کو علت کے لیے نہ بنانا، یہ ترجمہ نہ کرنا: "وقد يحذف المبتدأ" کہ کبھی کبھار مبتدا کو حذف کر لیا جاتا ہے، "لقيام قرينة"، قرینہ قائم ہونے کی وجہ سے۔ قرینہ قائم ہونے کی وجہ سے مبتدا کو حذف کر لیا جاتا ہے، اس سے تو معلوم یوں ہو رہا ہے جیسے یہ قرینہ باعث بن گیا اس کو حذف کرنے کا، حالانکہ قرینہ باعث نہیں بنتا حذف کا بلکہ قرینہ صرف اس پر کیا کرتا ہے؟ دلالت کرتا ہے۔
تو کہتے ہیں: "وقد يحذف المبتدأ لقيام قرينة لفظية أو عقلية"، اور کبھی کبھار مبتدا کو حذف کر لیا جاتا ہے قرینہ قائم ہوتے وقت، "لفظية أو عقلية"، دیکھو یہ قرینے کی قسمیں بتلا دیں کہ وہ قرینہ لفظیہ ہوگا یا قرینہ عقلیہ۔ تو قرینہ لفظیہ یا عقلیہ قائم ہوتے وقت مبتدا کو حذف کر لیا جاتا ہے، "جوازاً، أي: حذفاً جائزاً لا واجباً"۔ بھئی متن میں آیا "جوازاً"، آگے صاحب جامی فرما رہے ہیں: "أي: حذفاً جائزاً"، کیا بتلانا چاہتے ہیں؟ جی، بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ یہ جوازاً مفعول مطلق ہے باعتبار موصوف محذوف کے۔ یہ منصوب ہے اور مفعول مطلق ہے، اور مفعول مطلق تو کسے کہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنیٰ میں ہو، اور جوازاً، جواز کا تو پیچھے کوئی فعل ذکر نہیں بھئی، تو پھر یہ مفعول مطلق کیسے؟ تو بتلا دیا: "أي: حذفاً" بھئی کہ اس سے پہلے اس کا موصوف محذوف ہے "حذفاً"، اور وہ ہے اصل میں مفعول مطلق اور یہ اس کی صفت ہے بھئی، اور وہ "حذفاً" اس کا فعل تو ماقبل میں "وقد يحذف" ذکر ہے بھئی۔ تو جوازاً اصل میں کیا ہے؟ "حذفاً جوازاً"، یہ صفت ہے اور اس کا موصوف "حذفاً" محذوف ہے بھئی، تو یہ جوازاً مفعول مطلق ہے خود یا اپنے موصوف کے اعتبار سے؟ ہاں تو یہ جوازاً یہ مفعول مطلق ہے اپنے موصوف محذوف کے اعتبار سے، "أي: حذفاً جوازاً"، تو حذفاً موصوف اور جوازاً اس کی صفت۔
لیکن جوازاً تو مصدر ہے بھئی، توجہ ہے؟ مصدر ہے بھئی۔ یہ جو صفت ہوتی ہے اس کا حمل ہوتا ہے اپنے موصوف پر، "جاءني رجل عالم"، رجل موصوف، عالم اس کی صفت، تو یہ صفت جو ہے اس کا حمل ہوتا ہے موصوف پر یعنی وہ رجل کیا ہے؟ عالم ہے۔ تو یہاں پر بھی حذف موصوف ہے اور جواز اس کی صفت اور یہ تو مصدر ہے اور مصدر کا حمل تو ذات پر صحیح نہیں، توجہ ہے؟ مصدر کا حمل تو ذات پر صحیح نہیں، مصدر تو صفت کا نام ہے، مصدر کا تو اپنا خارج میں کوئی وجود نہیں ہوتا، توجہ ہے؟ میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں کہ خارج میں مصدر کا کوئی وجود نہیں ہے، مصدر ایک معنوی چیز ہے جو کسی کی صفت بنتی ہے، کھانا، پینا، سونا، جاگنا، چلنا، پھرنا، یہ سب مصادر ہیں، خارج میں ان کا کوئی وجود نہیں۔ آپ کہیں گے بھئی خارج میں تو ہمیں یہ نظر آتے ہیں، ایک آدمی چلتا ہوا نظر آتا ہے، بیٹھنا ہے تو بیٹھا ہوا نظر آتا ہے، کھانا ہے تو ہمیں کھانا کھاتا ہوا نظر آتا ہے، تو میں نے بتلایا تھا کہ یہ جو ہمیں دکھائی دیتا ہے یہ مصدر سے حاصل ہونے والی صورت ہے، مصدر سے حاصل ہونے والی ہیئت ہے، اس کو حاصل بالمصدر کہتے ہیں۔ خارج میں ہمیں ہنسنا نہیں نظر آتا، ہاں اس ہنسنے سے جو حالت اور جو صورت حاصل ہوئی یعنی ہنسی وہ ہمیں نظر آتی ہے، تو خارج میں ہنسنا نہیں نظر آتا بلکہ ہنسی نظر آتی ہے کیونکہ ہنسنا مصدر ہے اور مصدر کا خارج میں وجود ہی نہیں ہے، تو پھر آپ کو نظر کیسے آئے گا جب ایک چیز کا خارج میں وجود ہی نہیں ہے؟ تو ہنسنے سے تو ہنسنے سے جو کیفیت اور جو ہیئت حاصل ہوئی یعنی ہنسی، ہمیں خارج میں ہنسی نظر آتی ہے۔ چلنا مصدر ہے، ہمیں خارج میں چلنا نہیں نظر آتا بلکہ اس چلنے سے جو ہیئت اور صورت حاصل ہوئی یعنی چال جو ہے وہ چال ہمیں نظر آتی ہے۔ اسی طرح دوڑنا مصدر ہے، خارج میں ہمیں دوڑنا نہیں نظر آتا بلکہ اس سے جو ہیئت اور صورت حاصل ہوئی یعنی دوڑ وہ ہمیں نظر آتی ہے، اور یہ ہے حاصل بالمصدر۔ کیا ہے؟ حاصل بالمصدر۔ دیکھو لفظوں پہ غور کرو، حاصل بالمصدر، مصدر سے جو چیز حاصل ہو رہی ہے، جو صورت حاصل ہو رہی ہے، جو ہیئت حاصل ہو رہی ہے وہ ہے یہ بھئی، تو وہ ہمیں پھر دکھائی دیتی ہے۔
تو دیکھو یہاں متن میں کیا آیا "جوازاً"، اور اس کا موصوف ہم نے کیا نکالا "حذفاً"، تو حذفاً ہوا موصوف اور جوازاً ہوئی اس کی صفت، اور جواز یہ جو صفت ہے یہ تو مصدر ہے اور مصدر کا حمل ذات پر صحیح نہیں، توجہ ہے؟ مصدر کا حمل ذات پر صحیح نہیں، تو لہٰذا پھر ذات پر حمل کرنا ہو تو پھر اس مصدر کو کبھی اسم فاعل کے معنیٰ میں لے لیتے ہیں، کبھی اسم مفعول کے معنیٰ میں۔ تو جواز بمعنی جائز کے ہوا، "أي: حذفاً جائزاً" بھئی، تو یہ جواز مصدر کس معنیٰ میں ہے؟ اسم فاعل یعنی جائز کے معنیٰ میں، "أي: حذفاً جائزاً"، ایسا حذف جو جائز ہے، دیکھو اب معنیٰ ٹھیک بن گیا۔ پہلے کیا تھا؟ "حذفاً جوازاً"، ایسا حذف جو جواز ہے، بھئی جواز ہے کیا معنیٰ؟ اب کیا بن گیا؟ "حذفاً جائزاً"، ایسا حذف جو جائز ہے۔
ہاں البتہ یہاں آپ کے ذہن میں ایک اشکال آئے گا کہ آپ نے کیا کہا؟ حذفاً موصوف اور جوازاً اس کی صفت، اور مصدر کس کا نام ہے؟ مصدر معنیٰ کا نام ہے، مصدر معنیٰ ہے، مصدر وصف ہے، لہٰذا یہ کسی ذات کے لیے صفت نہیں بن سکتا، ذات کے لیے صفت نہیں بن سکتا، تو آپ کے ذہنوں میں یہ اشکال آئے گا کہ حذفاً یہاں جو موصوف ہے وہ بھی تو مصدر ہے، حذفاً وہ حذف بھی تو کیا ہے؟ مصدر ہے، اور جوازاً بھی کیا ہے؟ مصدر ہے۔ تو "حذفاً جوازاً"، حذف جو موصوف ہے اس کو آپ کہتے ہیں وہ ذات ہے، وہ ذات ہے، اور جو جوازاً صفت مصدر ہے آپ اس کو کہتے ہیں یہ صفت ہے۔ جب وہی مصدر موصوف بنتا ہے تو آپ اس کو ذات قرار دیتے ہیں اور وہی مصدر جب صفت بنتا ہے تو آپ اس کو صفت قرار دیتے ہیں، اور صفت کا حمل تو ذات پر نہیں ہو سکتا، ذات پر ذات کا حمل تو ہو سکتا ہے صفت کا حمل نہیں ہو سکتا۔ "حذفاً جوازاً"، اس کو کس تاویل میں کر لیا؟ "حذفاً جائزاً"، اور جائزاً جائزاً یہ ذات مع الوصف پہ دلالت کر رہا ہے، جائز کوئی چیز ہوگی بھئی، تو اسے اسم فاعل یا اسم مفعول بنا لیں گے وہ ذات مع الوصف پر دلالت کرے گا، گویا وہ بھی ذات ہوئی، اور اب موصوف بھی کیا ہے؟ ذات، تو ذات کا ذات پر حمل ٹھیک ہو جائے گا۔ جیسے "زيد عدل"، زید کیا ہے؟ ذات، اور عدل مصدر ہے، اور مصدر کا حمل تو ذات پر صحیح نہیں، تو پھر عدل کو کس معنیٰ میں لیتے ہیں؟ عادل کے معنیٰ میں، اور عادل اسم فاعل ہے اور اسم فاعل کس پہ دلالت کرتا ہے؟ ذات مع الوصف پر۔ عادل کا کیا معنیٰ؟ عدل کرنے والا، معلوم ہوا کوئی ذات ہے جو عدل کے ساتھ موصوف ہو رہی ہے، توجہ ہے؟ تو لہٰذا مصدر کو کس معنیٰ میں لے لیتے ہیں؟ اسم فاعل کے معنیٰ میں یا اسم مفعول کے معنیٰ میں، پھر یہ ذات مع الوصف بن جاتا ہے اور پھر ذات کا ذات پر حمل صحیح ہو جاتا ہے۔ تو اشکال یہاں یہ ہوتا ہے کہ "حذفاً جوازاً"، یہاں تو موصوف بھی مصدر ہے اور جوازاً صفت بھی کیا ہے؟ مصدر ہے، تو یہاں تو حمل ہونا چاہیے۔
توجہ ہے؟ یاد رکھو، ذات سے مراد وہ ذات نہیں ہے جس کا خارج میں اپنا الگ وجود ہو، جس کا ہاں، دیکھو ذات کہتے ہیں اس کو بھی ذات کہتے ہیں جس کا خارج میں اپنا وجود ہوتا ہے اور جس کا اپنا وجود نہیں ہوتا اس کو صفت کہتے ہیں۔ مثلاً ایک زید ہے ایک زید کی سخاوت ہے، زید کا خارج میں اپنا الگ وجود ہے لیکن زید کی سخاوت یہ تو زید کی صفت ہے، اس کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں، زید ہے تو یہ سخاوت ہے، زید نہیں تو یہ سخاوت بھی نہیں۔ تو ذات تو کسے کہتے ہیں جس کا خارج میں اپنا الگ وجود ہو۔ اور "حذفاً جوازاً" بھئی، اس کے اندر جو موصوف ہے حذف، وہ بھی تو مصدر ہے، اس کا تو خارج میں اس کا بھی کوئی وجود نہیں، پھر آپ اس کو ذات کیسے قرار دے رہے ہیں؟ بات سمجھ میں آئی؟ اشکال کیا ہوا؟ "حذفاً جوازاً"، کہ حذف تھا موصوف، جوازاً اس کی صفت، اور موصوف تو ہے ذات اور صفت تو کیا ہے؟ مصدر، اور مصدر کا حمل تو ذات پر صحیح نہیں، لہٰذا جوازاً کو کس معنیٰ میں لے لو؟ جائزاً، "أي: حذفاً جائزاً"، تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بھئی حذفاً جو موصوف ہے وہ بھی تو مصدر ہے، آپ اس کو ذات کیسے کہہ رہے ہیں؟ ابھی تو آپ نے ہمیں بتایا کہ مصدر کا خارج میں کوئی وجود ہی نہیں ہوتا تو یہ ذات کیسے ہے؟ تو جواب یاد رکھنا کہ ذات سے مراد وہ ذات نہیں ہے کہ جس کا خارج میں اپنا الگ وجود ہو بلکہ ذات سے یہاں مراد ہے وہ چیز جس کے بارے میں خبر دی جا سکے، وہ چیز جس کے بارے میں خبر دی جا سکے، اور مصدر کے بارے میں بھی تو خبر دی جا سکتی ہے، تو جب مصدر موصوف بنتا ہے یا مبتدا بنتا ہے تو پھر وہ ذات کے درجے میں ہو جاتا ہے۔ کس کے درجے میں؟ ذات کے درجے میں ہو جاتا ہے، اس کے بارے میں خبر دی جا سکتی ہے، جیسے پیچھے مثال بھی گزری تھی: "العلم حسن"، علم اچھی چیز ہے۔ اب دیکھو علم، یہ بھی تو مصدر ہے، علم کا کیا معنیٰ؟ جاننا، علم کا معنیٰ ہے جاننا، دیکھو یہ بھی مصدر ہے لیکن جب یہ مبتدا بن گیا تو یہ ذات بن گئی، کیا بن گئی؟ کیا معنیٰ ذات کا؟ یہ معنیٰ نہیں خارج میں اس کا اپنا الگ وجود ہو گیا بلکہ ذات کسے کہتے ہیں؟ جس کے بارے میں خبر دی جا سکے، اور "العلم حسن"، علم کے بارے میں میں خبر دے رہا ہوں آپ کو "حسن" کہ وہ اچھی چیز ہے۔ تو مصدر کے بارے میں بھی خبر دی جا سکتی ہے، توجہ ہے؟ تو پھر جب مصدر کے بارے میں خبر دی جائے یا مصدر موصوف بنے تو وہ ذات ہوتا ہے یعنی اس کے بارے میں خبر دی جا سکتی ہے، اور تو وہ ذات کے درجے میں ہوا، تو جب ذات کے درجے میں ہوا تو پھر اس کی صفت یا خبر مصدر نہیں لا سکتے۔ تو یہاں پر بھی حذفاً یہ موصوف ہے اور جوازاً اس کی صفت، جب حذفاً موصوف ہے تو یہ کیا ہوا؟ ذات ہوا، کیا معنیٰ ذات؟ یعنی جس کے بارے میں خبر دی جا سکے یعنی جس کی صفت لائی جا سکے، تو جب یہ ذات ہوا تو آگے جو جوازاً جو ہے وہ تو صفت ہی ہے وہ تو مصدر ہی ہے اور مصدر کا حمل تو ذات پر صحیح نہیں، لہٰذا پھر جوازاً کو جائزاً کے معنیٰ میں لینا پڑے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو یہی بیان کر رہے ہیں دیکھیے، کہتے ہیں: "جوازاً، أي: حذفاً جائزاً"، یعنی ایسا حذف جو جائز ہو، "لا واجباً"، واجب نہ ہو بھئی۔ یعنی مبتدا کو کبھی حذف کرتے ہیں قرینہ قائم ہوتے وقت اور یہ حذف جائز ہوتا ہے واجب نہیں بھئی۔
"وقد يجب حذفه"، میں نے آپ کو بتلایا کہ صاحب قافیہ وہ مقام تو ذکر کریں گے جہاں مبتدا کا حذف جائز ہے، وہ مقام ذکر نہیں کریں گے جہاں مبتدا کا حذف واجب ہے، کیونکہ وہ مقام نہایت قلیل ہیں، وہ نادر ہیں، اور النادر کالمعدوم، نادر کو معدوم شمار کیا جاتا ہے تو لہٰذا اس کو شمار ہی نہیں کیا، ذکر ہی نہیں فرمایا۔ تو اب صاحب جامی اس کو بیان کریں گے بھئی، پہلے آپ اس کو سمجھ لیں پھر کتاب میں بھی دیکھتے ہیں۔
بھئی! یاد رکھو، کبھی کبھار صفت کو وصفیت سے کاٹ کر خبر بنا دیا جاتا ہے۔ کبھی کبھار صفت کو وصفیت سے کاٹ کر خبر بنا دیا جاتا ہے مدح کے لیے یعنی تعریف کے لیے، یا ذم کے لیے یعنی مذمت کے لیے، یا ترحم کے لیے بھئی۔ کبھی کبھار صفت کو وصفیت سے کاٹ کر خبر بنا دیا جاتا ہے یعنی یوں کہو اس پر رفع پڑھا جاتا ہے کیونکہ خبر پر کیا پڑھتے ہیں؟ رفع۔ تو دیکھو موصوف صفت کا اعراب تو ایک ہوتا ہے، جو موصوف پر اعراب آئے گا وہی اعراب صفت پر بھی آئے گا، اور موصوف پر تو رفع بھی آ سکتا ہے، نصب بھی اور جر بھی، تو صفت بھی اسی کے مطابق ہوگی، لیکن صفت کو وصفیت سے کاٹ کر اس پر وہ اعراب نہیں پڑھا جاتا جو اس پر آنا چاہیے بلکہ اس پر رفع پڑھ دیا جاتا ہے، رفع پڑھ دیا جاتا ہے، کس لیے؟ مدح کے لیے، یا ذم کے لیے، یا ترحم کے لیے۔ ترحم کا معنیٰ ہے رحم کو طلب کرنا، کسی کے لیے رحم کی دعا کرنا بھئی، توجہ ہے؟ تو بعض اوقات ایک صفت ہوتی ہے اس کو کاٹ کر اس پر رفع پڑھ دیا جاتا ہے مدح کے طور پر، یا اس پر رفع پڑھ دیا جاتا ہے مذمت کے طور پر، یا اس پر رفع پڑھ دیا جاتا ہے ترحم کے لیے، بات سمجھ میں آگئی؟
جیسے "بسم الله الرحمن الرحيم" بھئی، اس میں دیکھو لفظ اللہ موصوف ہے اور یہ مجرور ہے، یہ مجرور ہے مضاف الیہ ہے اسم کے لیے، اور الرحمن اور الرحیم یہ اس کی صفات ہیں اور موصوف مجرور ہے تو دونوں صفتیں بھی مجرور ہیں بھئی۔ لیکن بعض اوقات صفت کو وصفیت سے کاٹ کر اس پر رفع پڑھ دیا جاتا ہے مدح کے طور پر، تو یہاں آپ یوں پڑھ سکتے ہیں: "بسم الله الرحمن الرحيم"، ویسے تو ہے "الرحمن الرحيم"، لیکن اس پر کیا پڑھ دیا جائے؟ رفع پڑھ دیا جائے، رفع پڑھ دیا جائے، اور رفع اس پر کیوں پڑھا؟ خبر ہونے کی بنا پر، اس کا مبتدا محذوف ہے، "أي: هو الرحمن الرحيم"، تو یہ ھو مبتدا اور الرحمن اس کی خبر، اور خبر پر کیا پڑھتے ہیں؟ رفع، اس لیے اس پر رفع پڑھا گیا۔ اور وہ ھو کو لفظوں میں ذکر نہیں کرنا، اس کا حذف واجب ہے، اس لیے کیونکہ اگر وہ ھو لفظوں میں آپ ذکر کر دیں اور یوں کہیں: "بسم الله هو الرحمن الرحيم"، تو اب تو پتہ نہیں چلے گا کہ یہ پہلے صفت تھی۔ بھئی دیکھو نا، صفت کو کاٹ کر اس پر رفع پڑھنا ہے، تو اس کے لیے درمیان میں ھو مبتدا کو بیچ میں نہیں لائیں گے، اگر آپ مبتدا کو بیچ میں لے آتے ہیں پھر تو کسی کو پتہ نہیں چلے گا کہ یہ الرحمن پہلے لفظ اللہ کی صفت تھی بھئی۔ وہ تو یہی سمجھے گا ھو مبتدا، الرحمن اس کی خبر ہے، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا، یہ الگ بات کی جا رہی ہے۔ لیکن جب ھو کو حذف ہی رکھا اور الرحمن کو وصفیت سے کاٹ کر اس پر رفع پڑھ دیا، تو سننے والا فوراً چونک اٹھے گا کہ بھئی موصوف تو مجرور ہے اور صفت پر رفع پڑھ دیا، تو وہ سمجھ جائے گا کہ یہ یہ یہاں پر مثلاً مدح کے لیے اس پر رفع پڑھا گیا ہے۔ توجہ ہے؟ ایک ہے موصوف کی ویسے صفت لانا اور ایک ہے اس میں مدح کو بھی اپنی طرف سے شامل کر دینا کہ میں کیا کر رہا ہوں؟ مدح کر رہا ہوں بھئی۔ تو پھر لہٰذا کیسے پڑھیں گے؟ "بسم الله الرحمن الرحيم"، ھو کو نہیں پڑھنا، ھو محذوف ہے وجوباً بھئی۔ تو یہاں پر رفع پڑھا گیا مدح کی بنا پر، کس لیے؟ مدح کی بنا پر کہ متکلم جو ہے اللہ کی مدح بھی کر رہا ہے ساتھ بھئی۔
اور کبھی کبھار رفع پڑھا جاتا ہے مذمت کے لیے بھی بھئی، اور اس کی مثال ہے "أعوذ بالله من الشيطان الرجيم"، تو الشیطان مجرور ہے یہ ہے موصوف، اور الرجیم یہ بھی مجرور ہے یہ اس کی صفت ہے، لیکن کہنے والا شیطان کے ساتھ مذمت بھی کرنا چاہتا ہے تو وہ اس پر رفع پڑھ دے گا: "أعوذ بالله من الشيطان الرجيمُ"، جب یہ الرجیم پر رفع پڑھا گیا تو سننے والا چونک اٹھے گا کہ بھئی موصوف تو مجرور ہے تو اس کو بھی مجرور ہونا چاہیے تھا لیکن اس پر رفع پڑھا گیا تو وہ سمجھ جائے گا کہ یہ مذمت کے لیے اس پر رفع پڑھا گیا۔ تو یہاں پر صفت کو وصفیت سے کاٹ کر اس پر رفع پڑھا گیا، کس لیے؟ مذمت کے لیے بھئی۔
اور کبھی کبھار یہ ترحم کے لیے ایسا کیا جاتا ہے، مثلاً میں کہتا ہوں: "مررت بعبدك المسكينِ"، "مررت"، میں گزرا، "بعبدك"، آپ کے اس غلام پر، "المسكين"، جو مسکین، یعنی میں آپ کے مسکین غلام پر گزرا۔ "مررت بعبدك المسكين"، عبدك پر با جارہ داخل ہے وہ مجرور ہے تو المسکین اس کی صفت بھی کیا ہے؟ مجرور ہے، لیکن آپ اس کو وصفیت سے کاٹ کر اس پر رفع پڑھ دیتے ہیں: "مررت بعبدك المسكينُ"، دیکھا؟ رفع پڑھ دیا۔ تو یہ تو یہ کس لیے ہے یہاں؟ ترحم کے لیے بھئی کہ اس پر کیا کیا جائے؟ رحم کیا جائے بھئی، توجہ ہے؟
تو کیا کیا جاتا ہے بعض اوقات؟ صفت کو وصفیت سے کاٹ کر اس پر رفع پڑھا جاتا ہے، کس لیے؟ مدح کے لیے، یا ذم کے لیے، یا ترحم کے لیے بھئی۔ اور اس میں پھر مبتدا کو حذف کرنا واجب ہے، اگر مبتدا کو لفظوں میں ذکر کریں گے تو پھر تو کسی کو پتہ نہیں چلے گا کہ یہ پہلے صفت تھی اب اس پر رفع پڑھا گیا ہے۔ تو اس صورت میں مبتدا کا حذف واجب ہے بھئی، واجب ہے۔
دیکھیے بھئی کتاب پر، کہتے ہیں: "وقد يجب حذفه"، اور کبھی کبھار مبتدا کا حذف واجب ہوتا ہے، "إذا قطع النعت بالرفع"، نعت وصف کو کہتے ہیں، نعت، صفت، وصف، سب کا ایک ہی معنیٰ ہے۔ کہتے ہیں: "إذا قطع النعت بالرفع"، جب نعت یعنی وصف کو کاٹ دیا جائے "بالرفع"، کس کے ذریعے؟ رفع کے ذریعے، یعنی اس پر رفع پڑھا جائے۔ "نحو: الحمد لله أهلُ الحمدِ"، "الحمد لله أهلُ الحمدِ"، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے "أهلُ الحمدِ"، جو حمد کے کا اہل ہے، جو حمد کے لائق ہے۔ اب دیکھو یہ اہل الحمد یہ صفت ہے لفظ اللہ کی، اور لفظ اللہ پر لام جارہ داخل ہے وہ مجرور ہے، اور موصوف کا جو اعراب ہوتا ہے وہی صفت کا بھی، تو اصل میں یوں تھا: "الحمد لله أهلِ الحمدِ"، "أهلِ الحمدِ"، پھر اس کو وصفیت سے کاٹ کر اس پر رفع پڑھا گیا: "الحمد لله أهلُ الحمدِ"، اس سے پتہ چل گیا کہ یہاں متکلم کا مقصود مدح ہے بھئی، یہ کس لیے وصفیت سے کیوں کاٹا گیا ہے؟ مدح کے لیے بھئی۔ اور دیکھو یہ اہل الحمد پر رفع پڑھا گیا، معلوم ہوا اس کا مبتدا محذوف ہے اور وہ کیا ہے؟ ھو۔ وہی بیان کر رہے ہیں صاحب جامی بھی: "أي: هو أهل الحمد"، یعنی وہ حمد کا اہل ہے، حمد کے لائق ہے بھئی۔ "وإنما وجب حذفه"، بھئی یہ مبتدا کا حذف واجب کیوں ہے؟ میں نے بیان کر دیا، مجھے بتائیے کیا وجہ؟ کیونکہ اگر مبتدا کو ذکر کر دیں گے پھر تو نہیں پتہ چلے گا کہ یہ پہلے وصف تھا اور اب اس کو کیا بنایا گیا ہے؟ خبر بنایا گیا ہے۔ "هو أهل الحمد"، اگر ھو بھی ساتھ ذکر کر دیا جائے پھر تو کسی کو نہیں پتہ چلے گا کہ اہل الحمد پہلے صفت تھی پھر اس کو مبتدا کے لیے خبر بنایا گیا۔ تو کہتے ہیں: "وإنما وجب حذفه"، کہتے ہیں اس مبتدا کا حذف واجب ہے، "ليعلم أنه كان في الأصل صفة"، تاکہ یہ بات جان لی جائے کہ یہ اصل کے اندر صفت تھی، "فقطع لقصد المدح أو الذم أو غير ذلك"، پھر اس کو کاٹ دیا گیا یعنی وصفیت سے کاٹ دیا گیا "لقصد المدح"، مدح کے ارادے سے، "أو الذم"، یا ذم کے ارادے سے، "أو غير ذلك"، یا اس کے علاوہ یعنی ترحم کے لیے بھئی۔ "فلو ظهر المبتدأ لم يتبين ذلك"، اگر مبتدا ظاہر ہو بھئی یعنی اس کو بھی لفظوں میں ذکر کر دیا جائے، "لم يتبين ذلك"، تو پھر یہ بات واضح نہیں ہوگی، یہ بات ظاہر نہیں ہوگی۔ اگر "هو أهل الحمد" کہہ دیا جاتا پھر تو پتہ نہ چلتا کہ یہ اصل میں کیا تھا؟ وصف تھا اور پھر اس کو خبر بنایا گیا ہے۔ تو کہتے ہیں: "فلو ظهر المبتدأ لم يتبين ذلك"، اگر مبتدا ظاہر ہو جائے تو پھر یہ بات ظاہر نہیں ہوگی کہ یہ اصل میں کیا تھی؟ صفت تھی پھر اس کو کاٹ کر خبر بنایا گیا ہے۔
یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ یاد رکھو، مدح، ذم اور ترحم کے لیے جس طرح رفع پڑھنا جائز اسی طرح نصب پڑھنا بھی جائز ہے بھئی۔ جیسے دیکھیں: "بسم اللهِ الرَّحْمَنَ الرَّحِيمَ"، نصب پڑھ دیا جائے، "بسم الله الرحمن الرحيم"، نصب پڑھا جائے، اور یہ بھی اسی مدح کے لیے ہے۔ اور اس صورت میں یہ پھر مفعول بنے گا، نصب خود تو نہیں آتا، نصب کے لیے کوئی عامل چاہیے، تو یہاں فعل "أعني" محذوف ہے۔ "بسم الله، أعني الرحمن الرحيم"، أعني، یہ بھئی آپ کلام میں عام استعمال کرتے ہیں یعنی کا لفظ، بولتے ہیں یا نہیں؟ کسی لفظ کا معنیٰ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں یعنی کہ، تو اسی یعنی سے أعني متکلم کا صیغہ ہے، عنی یعنی کا معنیٰ ہوتا ہے مراد، مراد، أعني میری مراد جو ہے: بسم اللہ، میں شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے، أعني الرحمن الرحيم، میری مراد وہ جو کہ رحمن ہے اور رحیم ہے۔ اور اس صورت میں بھی یہ أعني کو حذف کرنا واجب ہے۔ اگر أعني کو لفظوں میں ذکر کر دیں گے تو پھر تو نہیں پتہ چلے گا کہ یہ الرحمن الرحیم پہلے صفت تھے اب اس کو کاٹ کر أعني کے لیے مفعول بنایا گیا ہے۔ اسی طرح ساتھ جڑا ہو اور موصوف والا اعراب پڑھنے کے بجائے جب آپ نصب پڑھیں گے تو سننے والا خود ہی سمجھ جائے گا کہ یہ مدح، ذم یا ترحم کی وجہ سے یہ نصب دیا جا رہا ہے۔ تو یہ مثال کس کی تھی؟ مدح والی: "بسم الله الرحمن الرحيم"، یہ یہ نصب ہے بنا بر مدح کے۔ اور مذمت کی وہی مثال: "أعوذ بالله من الشيطان الرجيمَ"، "أي: أعني الرجيمَ"۔ اور اسی طرح ترحم کے لیے بھی وہی مثال بنا لیں، ترحم کے لیے، مثلاً: "مررت بزيد المسكينَ"، میں گزرا زید پر "المسكينَ"، وہ زید جو مسکین ہے۔ اب دیکھو زیدٍ مجرور ہے اس پر با جارہ داخل ہے اور اس کی صفت المسکینی یہ بھی مجرور ہونی چاہیے تھی لیکن اس کو وصفیت سے کاٹ کر اس پر نصب پڑھا گیا۔ تو مدح، ذم اور ترحم کے لیے نصب بھی پڑھا جاتا ہے اور رفع بھی، رفع پڑھا جائے تو سمجھ جائیں یہ خبر ہے اور اس کا مبتدا محذوف ہے اور اس کو حذف کرنا واجب ہے، اور نصب پڑھا جائے تو سمجھ جائیں کہ یہ مفعول بہ ہے أعني فعل کے لیے، أعني فعل، أنا ضمیر اس کے اندر فاعل، اور آگے جو آئے گا وہ ہے اس کا مفعول۔ بات سمجھ میں آگئی؟
بھئی یہاں پر دیکھو لفظ آیا الحمد للہ بھئی، توجہ ہے؟ ذرا کتاب پر دیکھیں: "الحمد لله أهل الحمد"، اس میں دیکھو للہ، للہ دیکھو اس میں دو لام ہیں بھئی۔ بہت سے طلبہ یہ غلطی کرتے ہیں بھئی، وہ لفظ اللہ پر جب لام جارہ داخل کرتے ہیں تو پھر تین لام لکھ دیتے ہیں بھئی، تین لام لکھتے ہیں، حالانکہ دو ہی لام لکھیں گے بھئی۔ یاد رکھو یہ جو لفظ اللہ کو لکھا جاتا ہے دو لام کے ساتھ، یہ یہ لفظ اللہ کی خصوصیت ہے۔ لفظ اللہ کی خصوصیت ہے، اللہ دیکھو اس میں لام مشدد ہے، اور جو حرف مشدد ہو وہ دو لکھتے ہیں یا ایک لکھتے ہیں؟ مرَّ، مرَّ، اس میں را مشدد ہے اور ایک را لکھتے ہیں یا دو؟ ایک۔ تو جو حرف مشدد ہوتا ہے وہ دراصل دو حرف ہوتے ہیں لیکن لکھتے ایک ہی ہیں اور اس پر شد ڈال دیتے ہیں۔ تو اللہ، اس کے اندر بھی دیکھو عربی قوانین کے مطابق ایک لام لکھنا چاہیے اور اس پر شد ڈالنا چاہیے۔ لیکن یہ لفظ اللہ کی خصوصیت ہے کہ اس میں دو لام لکھے جاتے ہیں بھئی۔ والد صاحب رحمہ اللہ کی کتاب ہے فتح اللہ بھئی، اس میں اس لفظ اللہ کی خصوصیات والد صاحب نے ذکر فرمائی ہیں بھئی، اور وہ کوئی ہزار بارہ سو یا اس سے بھی زائد صفحات پر مشتمل کتاب ہے دو جلدوں میں، اور اس میں صرف یہ لفظ اللہ کی خصوصیات جمع کی ہیں انہوں نے، اور وہاں پر کوئی ساڑھے آٹھ سو سے زیادہ اس ایک لفظ کی خصوصیات ذکر فرمائی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ذات جتنی عظیم ہے اس ذات کا نام بھی اتنا ہی عظیم ہے بھئی۔ اور اس میں ایک خصوصیت یہ بھی درج ہے کہ یہ جو لفظ اللہ میں دو لام لکھے جاتے ہیں یہ لفظ اللہ کی خصوصیت ہے ورنہ عربی قوانین کے مطابق ایک لام لکھنا چاہیے کیونکہ یہ حرف مشدد ہے اور حرف مشدد ایک ہی لکھا جاتا ہے بھئی۔ تو لفظ اللہ میں دو لام لکھے جاتے ہیں، اور پھر جب اس پر لام جارہ داخل ہوتا ہے تو اب طلبہ تین لام لکھ دیتے ہیں، نہیں بھئی، اب ضابطے کے مطابق بن جائے گا۔ ایک لام جارہ ہو جائے گا اور ایک لام مشدد ہو جائے گا، تو دو ہی لام لکھنے ہیں تین نہیں لکھنے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟
معلوم ہوا کبھی مدح، ذم اور ترحم کی بنا پر کبھی رفع پڑھا جاتا ہے کبھی نصب۔ بھئی اصل مقصد ہوتا ہے ماقبل میں جو موصوف ہے اس سے اعراب کو بدلنا ہے، اعراب کو اس سے کیا کرنا ہے؟ بدلنا ہے بھئی۔ تو جب بدلے گا پھر ہی سننے والے کو پتہ چلے گا۔ مثلاً مثلاً: "جاءني زيدٌ الكريمُ"، زید مرفوع ہے، الکریم اس کی صفت یہ بھی مرفوع ہے۔ اب میں مدح بھی کرنا چاہتا ہوں ساتھ، "جاءني زيدٌ الكريمُ"، تو اس میں میں کیا کرنا چاہتا ہوں؟ مدح بھی کرنا چاہتا ہوں۔ اب آپ یہ کہیں اب آپ یہ کہیں کہ اس کو یہ خبر بنا دی میں نے کس کے لیے؟ ھو کے لیے، مدح کے لیے رفع بھی پڑھتے ہیں نصب بھی، تو میں کیا پڑھ رہا ہوں اس پر؟ رفع، میں نے کیا پڑھا: "جاءني زيدٌ الكريمُ"، کچھ آپ کو پتہ چلا مدح کا؟ نہیں پتہ چلا کیونکہ زید مرفوع ہے تو الکریم بھی مرفوع ہے تو یہاں تو کوئی فرق پڑا ہی نہیں ہے۔ تو لہٰذا جب موصوف کا جو اعراب ہے صفت کا اگر وہی اعراب ہے پھر تو مدح یا ترحم وغیرہ کا پتہ ہی نہیں چلے گا، تو اس کو بدلنا ضروری ہے۔ لہٰذا یہاں پر جب موصوف مرفوع ہے تو پھر اگر آپ اس کو ھو کے لیے خبر بنائیں گے یہ صفت کو پھر تو کسی کو پتہ نہیں چلے گا، لہٰذا ایسے موقع پر پھر نصب پڑھا جائے گا بھئی تاکہ پتہ چلے: "جاءني زيدٌ الكريمَ"، اب پتہ چل گیا کہ یہ تو صفت کا اعراب الگ آ رہا ہے، معلوم ہوا یہ مدح کی بنا پر منصوب ہے، أعني الكريمَ۔ بات سمجھ میں آگئی؟
آگے دیکھیے، کہتے ہیں: "ويجب حذفه أيضاً عند من قال في نعم الرجل زيد إن تقديره هو زيد"۔ بھئی دیکھیے "نعم الرجل زيد"، اس کے اندر دو ترکیبیں ہیں بھئی، ایک ترکیب کیا؟ نعم، نعم فعل از افعال مدح، الرجل مرفوع لفظاً اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر خبر مقدم ہے اور زید مبتدا مؤخر ہے، اور پھر یہ خبر، یہ تو "نعم الرجل" پورا جملہ ہے اور خبر کو جب بھی کسی چیز سے جوڑنا ہو درمیان میں ربط ضروری ہے، تو کچھ صفحے پہلے صاحب جامی نے عائد کی اقسام ذکر کی تھیں، ان میں بتلایا تھا کہ عائد کبھی کبھار الف لام ہوتا ہے، تو یہاں پر یہ جو الرجل پر الف لام آیا اس کے ذریعے اشارہ ہو رہا ہے زید مبتدا کی طرف تو اس کے ذریعے ربط آگیا، یہ عائد ہے بھئی۔ اور دوسری ترکیب ہے کہ "نعم الرجل" اس کو خبر مقدم نہ بنائیں، اس کو الگ جملہ بنا دیں۔ نعم فعل از افعال مدح، الرجل مرفوع لفظاً اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا، اور زید کو اس "نعم الرجل" کے لیے مبتدا نہ بنائیں بلکہ زید کے لیے ھو محذوف نکال لیں اور زید کو اس کی خبر بنا دیں: "نعم الرجل، هو زيد"، تو ھو مبتدا محذوف اور زید مرفوع لفظاً اس کی خبر۔ تو اس ترکیب کے مطابق یہاں دو جملے بن گئے: "نعم الرجل" جملہ فعلیہ اور "هو زيد" جملہ اسمیہ بن گیا۔ اور اس کے اندر یہ جو ھو ہے یہ ہے مبتدا اور اس کو حذف کرنا واجب ہے۔ اس کو حذف کرنا واجب ہے، کیونکہ الرجل سے یہ زید ہی مراد ہے۔ "نعم الرجل"، وہ کتنا اچھا آدمی ہے، تو یہ الرجل سے کون مراد ہے؟ زید ہی مراد ہے، تو تاکہ الرجل اور زید کے درمیان فصل نہ آ جائے بھئی۔ تو لہٰذا یہاں پھر ھو کو حذف کرنا واجب۔
بات سمجھ میں آئی؟ دیکھو یہاں دو ترکیبیں ہوتی ہیں، ایک ترکیب کے مطابق "نعم الرجل" خبر مقدم اور زید کیا ہے؟ مبتدا مؤخر، پھر تو یہاں کوئی حذف نہیں ہے، پھر تو یہ ہماری بحث سے خارج ہے، ہم بحث کر رہے ہیں جہاں مبتدا کو حذف کرنا واجب ہے، وہ دوسری ترکیب کے مطابق۔ دوسری ترکیب کے مطابق "نعم الرجل" جملہ فعلیہ الگ اور "هو زيد" آگے الگ جملہ اسمیہ، تو یہ جو "هو زيد" میں ھو مبتدا اور زید اس کی خبر ہے، اس ھو کو حذف کرنا واجب ہے بھئی۔ تو کہیں گے اسی طرح "نعم الرجل زيد"، لیکن ترکیب میں دو جملے الگ الگ بنائیں گے، زید کے لیے ھو مبتدا محذوف نکالیں گے اور اس ھو مبتدا کو حذف کرنا واجب ہے بھئی۔ تو یہ وہ چند جگہیں ہیں جہاں پر مبتدا کو حذف کیا جاتا ہے، تو یہ چونکہ نہایت قلیل تھیں اس لیے صاحب قافیہ نے ان کو متن میں ذکر نہیں فرمایا۔
تو کہتے ہیں: "ويجب حذفه أيضاً عند من قال في نعم الرجل زيد إن تقديره هو زيد"، اور مبتدا کا حذف ان کے نزدیک بھی واجب ہے جو "نعم الرجل زيد" کے بارے میں یہ فرماتے ہیں کہ "إن تقديره"، کہ اس کلام کی تقدیر کیا ہے؟ "هو زيد"، "هو زيد" اس کی تقدیر ہے، یعنی یہاں ھو مبتدا محذوف ہے اور زید اس کی خبر ہے، تو ان کے نزدیک یہاں مبتدا کا حذف واجب ہے بھئی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ "كقول المستهل أي: المبتدأ المحذوف جوازاً مثل المبتدأ المحذوف في مقول المستهل المبصر للهلال الرافع صوته عند إبصاره"، یہ مشکل عبارت ہے ذرا سمجھ لیں بھئی۔ پہلے ذرا متن دیکھ لیں: "كقول المستهل: الهلالُ واللهِ"، مستہل کہتے ہیں چاند کو دیکھنے والا۔ یہ ہلال سے ہے، ہلال سے۔ مستہل، کیا معنیٰ؟ چاند کو دیکھنے والا بھئی، نئے مہینے کا چاند جیسے رمضان کا چاند دیکھتے ہیں کے لیے لوگ جمع ہوتے ہیں یا عید کا چاند دیکھنے کے لیے لوگ جمع ہوتے ہیں، تو یہ جو چاند کو دیکھنے والے ہیں ان کو کیا کہیں گے؟ مستہل بھئی، چاند کو دیکھنے والا۔ اور اسی طرح مستہل آواز کو بلند کرنے والا اس کو بھی مستہل کہتے ہیں، اور یہاں دونوں معنیٰ ٹھیک ہیں کیونکہ لوگ مستہل چاند کو دیکھنے والے وہ عموماً اونچی آواز سے بولتے ہیں، جس کو چاند نظر آ جائے تو وہ بڑا اونچا کہتا ہے: وہ چاند ہے بھئی، مجھے نظر آ گیا بھئی۔ تو کہتے ہیں: "كقول المستهل"، جیسے کہ چاند کو دیکھنے والے کا قول ہے: "الهلالُ واللهِ"، اصل میں کلام یوں ہے: "هذا الهلالُ واللهِ"، یہ چاند ہے واللہ، اللہ کی قسم۔ تو دیکھو ھذا مبتدا محذوف ہے اور الہلال اس کی خبر ہے بھئی، اور ساتھ واللہ قسم کو ساتھ ذکر کر دیا۔ آگے صاحب جامی بتلائیں گے کہ بھئی یہ کیا وجہ ہے یہ واللہ قسم کو ساتھ کیوں ذکر کیا؟ صاحب قافیہ کے پاس تو الفاظ تھوڑے ہوتے ہیں، تو صرف الہلال کہہ دیتے، یہ واللہ قسم کو ساتھ ملانے کی کیا ضرورت تھی؟ اس سے تو بات بلاوجہ لمبی ہو گئی، تو اس کا جواب دیں گے کہ چونکہ چاند دیکھنے والوں کی عموماً عادت ہوتی ہے، چاند دکھائی دے تو چاند کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قسم بھی کھاتے ہیں، تو ان کی عادت کے مطابق قسم کو بھی ساتھ ذکر کر دیا۔ اور نیز اس وجہ سے کہ ہماری بحث چل رہی ہے اس خبر کے بارے میں جس کے مبتدا کو حذف کیا جاتا ہے، جس کے مبتدا کو، تو اگر آگے قسم نہ ہوتی تو الہلال پر وقف کرنا پڑتا بھئی، کیونکہ عرب جو ہے وہ وقف کرتے ہیں کلام کے آخر میں، تو پھر کیسے پڑھتے؟ الہلال، اب تو پتہ نہیں چلے گا کہ یہ الہلال مرفوع ہے یا منصوب ہے، اگر اس کو خبر بنانا جائز ہے تو اس کو مفعول بہ بنانا بھی جائز ہے، پھر تو یہ بھی احتمال آگیا کہ یہ خبر نہیں ہے بلکہ یہ مفعول بہ ہے فعل محذوف رأیت کے لیے، "أي: رأيت الهلالَ"، اور رأیت کو حذف کر دیا اور صرف کیا کہہ دیا؟ الہلال۔ توجہ ہے؟ تو اگر صرف الہلال لفظ کو ذکر کرتے تو اس پر تو وقف ہونا تھا اور پھر پتہ نہیں چلنا تھا کہ یہ مرفوع ہے یا منصوب ہے، اس میں تو پھر نصب کا بھی احتمال آ جانا تھا، لہٰذا آگے صاحب قافیہ نے قسم بھی ملا دی، اب الہلال کا لام جو ہے وسط کلام میں آگیا اور وسط کلام میں تو وقف نہیں کیا جاتا، تو اب اس پر جب رفع پڑھا جائے گا تو پتہ چل جائے گا کہ یہ مفعول بہ نہیں ہے بلکہ جب یہ مرفوع ہے تو اس کا مبتدا محذوف ہے یہ اس کے لیے خبر ہے، بات سمجھ میں آگئی۔
تو کہتے ہیں: "كقول المستهل: الهلال والله"، جیسے کہ چاند دیکھنے والے کا قول: "الهلال والله أي: هذا الهلال والله"، وہ چاند ہے اللہ کی قسم، معنیٰ سمجھ میں آگیا؟ ھذا کہہ لو یا ذلک کہہ لو۔ تو یہ "الهلال والله"، یہ مثال ذکر کر رہے ہیں صاحب قافیہ، کس کی مثال ذکر کر رہے ہیں؟ وہ مبتدا جس کو جوازاً حذف کیا جاتا ہے۔ تو "الهلال والله" بھی کہا جا سکتا ہے اور مبتدا کو ذکر کر دیا جائے: "هذا الهلال والله" یا "ذلك الهلال والله"، یہ بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ یہ وہ جگہ ذکر ہو رہی ہے جہاں مبتدا کو حذف کرنا جائز ہے، واجب نہیں۔ تو یہ الہلال کیا بن رہا ہے ترکیب میں؟ خبر، اس کا مبتدا محذوف۔ توجہ ہے؟ اب میں اشکال ذکر کرنے لگا ہوں، الہلال کیا بن رہا ہے ترکیب میں؟ خبر ہے اور اس کا مبتدا محذوف ہے، بات کس کی چل رہی ہے پیچھے؟ "وقد يحذف المبتدأ لقيام قرينة جوازاً"، کبھی کبھار مبتدا کو قرینہ قائم ہوتے وقت جوازاً حذف کر لیا جاتا ہے، "كقول المستهل"، جیسے کہ چاند دیکھنے والے کا قول: "الهلال والله"، جیسے یہ ہے۔ صاحب قافیہ پر اشکال ہوتا ہے: اے صاحب قافیہ! آپ ہمیں مثال میں وہ مبتدا ذکر کرتے جس کو حذف کرنا جائز ہے، آپ نے تو خبر کو ذکر کر دیا مثال میں، "الهلال والله"، الہلال مبتدا ہے یا خبر ہے؟ الہلال، "أي: هذا الهلال"، الہلال تو کیا بن رہا ہے؟ خبر۔ بات کس کی چل رہی ہے؟ وہ مبتدا جس کو حذف کرنا جائز ہو، تو آپ کو وہ مبتدا کی مثال ذکر کرنی چاہیے تھی اور آپ نے تو کس کی مثال ذکر کر دی؟ خبر کی مثال ذکر کر دی، اشکال سمجھ میں آیا؟ تو اب صاحب جامی اس کا جواب دیں گے، جواب دیں گے، دیکھو کتاب پر، کہتے ہیں: "كقول المستهل"، جیسے کہ مستہل کا قول ہے، مستہل کا یہ قول ہے، تو اس مستہل کے قول میں الہلال یہ تو خبر بن رہا ہے اور مثال کس کی دینی چاہیے تھی؟ مبتدا کی، تو اس کو اب عبارت نکال کر صاحب جامی بتلائیں گے کہ یہ اسی مبتدا کی مثال ہے۔ یعنی صاحب قافیہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ مبتدا جس کو حذف کیا جاتا ہے اس کی مثال، توجہ ہے؟ وہ مبتدا جس کو حذف کیا جاتا ہے اس کی مثال مستہل کا یہ قول ہے جس کے اندر مبتدا کو جوازاً حذف کیا گیا ہے۔ وہ مبتدا جس کو جوازاً حذف کیا جاتا ہے اس کی مثال مستہل کا یہ والا قول ہے جس میں مبتدا کو جوازاً حذف کیا گیا ہے، نہیں توجہ؟ کس کی مثال ذکر کرنا چاہتے ہیں؟ وہ مبتدا جس کو جوازاً حذف کیا جاتا ہے اس کی مثال یہ قول مستہل ہے، کون سا قول مستہل؟ یہ "الهلال والله"، جس کے اندر مبتدا کو جوازاً حذف کیا گیا ہے، جس کے اندر مبتدا کو، تو یہ اس مبتدا کی مثال بن گئی یا نہیں جس کو جوازاً حذف کیا جاتا ہے؟ بات سمجھ میں آگئی۔
تو کہتے ہیں: "كقول المستهل أي: المبتدأ المحذوف جوازاً"، دیکھو "كقول المستهل"، سنو عبارت پہ نظر رکھو مشکل مقام ہے، "كقول المستهل" جار مجرور ہے، کاف جارہ ہے، کاف جارہ ہے اور یہ "الهلال والله" یہ مقولہ ہے قول کے لیے، یہ کیا ہے؟ مقولہ ہے قول کے لیے۔ "كقول المستهل" یہ جار مجرور ہیں اور جار مجرور میں نے آپ کو بتایا یہ ہمیشہ کیا بنتے ہیں؟ خبر بنتے ہیں، مبتدا نہیں بنتے۔ تو اس کے لیے مبتدا کیا ہے؟ تو اس کے لیے کیا مبتدا نکالیں گے؟ دیکھو صاحب جامی نکال رہے ہیں: "أي: المبتدأ المحذوف جوازاً"، یہ ہے مبتدا، وہ مبتدا جس کو جوازاً حذف کیا جاتا ہے "كقول المستهل"، وہ کس کی طرح ہے؟ قول مستہل کی طرح ہے۔ اور کاف کس معنیٰ میں ہے؟ مثل کے معنیٰ میں، توجہ ہے؟ یہ عبارت پہ نظر رکھو، "كقول المستهل"، یہ کاف کس معنیٰ میں؟ مثل کے معنیٰ میں، اور یاد رکھو اس قول سے پہلے مبتدا کا لفظ محذوف نکال لیں: "كمبتدأ قول المستهل"، "كمبتدأ"، ترجمہ کریں، دیکھو "كقول المستهل" کو کیا بنایا؟ خبر، اس کا مبتدا کیا ہے؟ وہ جو صاحب جامی نے آگے نکالا ہے: "أي: المبتدأ المحذوف جوازاً"، وہ مبتدا کہ یہ "كقول المستهل" سے پہلے نکال لو: وہ مبتدا جو جوازاً محذوف کیا جاتا ہے "كقول المستهل"، وہ کس کی طرح ہے؟ قول مستہل کی طرح، اور قول سے پہلے مبتدا کا لفظ محذوف نکال لو، وہ مبتدا جس کو جوازاً حذف کیا جاتا ہے وہ "كمبتدأ قول المستهل"، وہ مستہل کے قول کے مبتدا کی طرح ہے، وہ کس کی طرح ہے؟ وہ مبتدا جس کو جوازاً حذف کیا جاتا ہے وہ مستہل کے قول کے مبتدا کی طرح ہے، اور مستہل کے قول کا جو مبتدا ہے وہ تو کیا ہے؟ محذوف ہے، وہ کیا ہے؟ لہٰذا جو آپ نے قول سے پہلے مبتدا نکالا اس کی صفت بھی ساتھ لے آئیں، آپ نے قول سے پہلے مضاف کیا محذوف نکالا؟ مبتدا، جیسے کہ مستہل کے قول کا مبتدا ہے اور مستہل کے قول کا مبتدا وہ بھی کیا ہے؟ محذوف۔ اب سنو عبارت: مبتدا کیا ہے؟ "كقول المستهل" کے لیے مبتدا نکالا وہ کیا ہے؟ "المبتدأ المحذوف جوازاً"، بات سمجھ میں آئی؟ وہ مبتدا جس کو حذف کیا جاتا ہے جوازاً "كمبتدأ قول المستهل"، وہ مستہل کے قول کے مبتدا کی طرح ہے جس کو کیا کر لیا گیا ہے؟ حذف کر لیا گیا ہے۔
تو دیکھو کہتے ہیں: "أي: المبتدأ المحذوف جوازاً"، یعنی وہ مبتدا جس کو جوازاً حذف کیا جاتا ہے "مثل المبتدأ"، متن میں آیا تھا کاف اور اس کاف کا کیا معنیٰ؟ مثل، تو مثل کا لفظ لے آئے، اور کاف کے بعد میں نے کیا بتایا کس کو محذوف نکالو؟ مبتدا کو، توجہ ہے؟ "مثل المبتدأ المحذوف في مقول المستهل"، جیسے کہ وہ مبتدا جو محذوف ہے مستہل کے قول میں۔ بھئی دیکھو میں نے کیا کہا؟ "كقول المستهل"، یہ کاف کے بعد کیا محذوف ہے؟ مبتدا، "كمبتدأ قول المستهل"، اور مبتدا مضاف اور قول المستہل مضاف الیہ، اور آپ نے پڑھا ہے کبھی اضافت فی کے معنیٰ میں ہوتی ہے جب مضاف الیہ مضاف کے لیے ظرف ہو، "صلاة الليل أي: صلاة في الليل"، صلاۃ مضاف، اللیل مضاف الیہ۔ صلاۃ اللیل کا کیا معنیٰ؟ وہ نماز جو رات میں پڑھی جائے، معلوم ہوا یہ جو اللیل مضاف الیہ ہے یہ مضاف یعنی صلاۃ کے لیے ظرف ہے۔ تو یہاں فی مقدر ہے، تو یہ صلاۃ اللیل کس معنیٰ میں ہے؟ بھئی صلاۃ ہے مضاف، اللیل ہے مضاف الیہ، اور دیکھو مضاف الیہ مضاف کے لیے ظرف ہے، یہ صلاۃ اس لیل میں ہے، تو یہاں کیا مقدر ہے؟ فی، "أي: صلاة في الليل"، "أي: صلاة في الليل"۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح یہاں قول المستہل سے پہلے کیا محذوف نکالا؟ مبتدا، "كمبتدأ قول المستهل"، مبتدا مضاف اور قول المستہل مضاف الیہ، اور یہ مبتدا جو ہے اس کے لیے قول المستہل کیا ہے؟ ظرف ہے، کیا ہے؟ وہ مبتدا کس میں آیا ہے؟ قول مستہل میں آیا ہے نا وہ جو محذوف ہے، تو اس مبتدا کے لیے قول مستہل کیا ہے؟ ظرف، اور اس ظرفیت کے لیے کیا لاتے ہیں؟ فی، تو اسی لیے صاحب جامی فی لائے، صاحب جامی نے اس اضافت کو توڑ دیا۔ جیسے "صلاة الليل"، یہ اضافت ہے، اس کو ذرا توڑ دیں: "صلاة في الليل"، آپ فی لے آئے اضافت ٹوٹ گئی، تو یہاں پر بھی میں نے کیا کہا تھا کہ قول المستہل سے پہلے مبتدا محذوف ہے اور یہ اضافت کون سی ہے؟ فی کے ساتھ ہے، اب اس اضافت کو توڑ دیا نیچے صاحب جامی نے، کیا کہا؟ "مثل المبتدأ المحذوف"، مبتدا کی صفت محذوف بھی لے آئے، ذرا اس محذوف کو ذرا ہٹا دیں: "مثل المبتدأ في مقول المستهل"، عبارت وہی بن گئی یا نہیں؟ کاف کس معنیٰ میں ہے؟ مثل، اور کاف کے بعد کیا محذوف تھا؟ مبتدا، اور مبتدا کے بعد کیا لے آئے؟ فی لے آئے، اور قول بمعنی مقول کے ہے، قول بمعنی مقول، مصدر ہے نا مصدر، جیسے مستہل کا قول، قول کا معنیٰ تو کہنا، تو یہاں قول بول کر کیا مراد ہے؟ مقولہ مراد ہے جو بات اس نے کی ہے، مصدر کبھی اسم فاعل اور اسم مفعول کے معنیٰ میں آتا ہے یا نہیں آتا؟ تو یہاں پر بھی قول مصدر ہے تو یہ مصدر کس معنیٰ میں ہے؟ قول، یہ دیکھو نا "الهلال والله"، یہ قول ہے اور قول تو مصدر ہے، تو معلوم ہوا یہ قول بمعنی مقول کے ہے، مقول کا کیا معنیٰ؟ وہ بات جو کہی گئی ہے، وہ بات تو یہ "الهلال والله" یہ بات کی گئی ہے، یہ قول نہیں ہے بلکہ یہ کیا ہے؟ مقول ہے، تو عربی زبان میں مصدر بمعنی مفعول کے عام استعمال ہوتا ہے جیسے خلق بمعنی مخلوق بھئی، اسی طرح قول بمعنی مقول بھئی۔ یہ جو آپ اکثر جملے بولتے ہیں: یہ فلاں کا قول ہے، یہ فلاں کا قول ہے، جی یہ قول کس معنیٰ میں ہوتا ہے؟ مقول کے معنیٰ میں ہوتا ہے، یہ فلاں کا مقولہ ہے یعنی اس کی کہی ہوئی بات ہے بھئی۔
تو لہٰذا عبارت سمجھ میں آگئی؟ "كقول المستهل"، یہ کاف کے بعد ہم نے کیا نکالا تھا؟ مبتدا، مبتدا کا لفظ، اور اس مبتدا کی اضافت تھی قول المستہل کی طرف، اور یہ اضافت کس کے ساتھ تھی؟ فی کے ساتھ، تو "كقول المستهل" یہ سارا کیا ہے؟ خبر، یہ جار مجرور ہے نا، اور جار مجرور کے لیے مبتدا بھی چاہیے، یہ کس کی خبر ہے؟ تو "كقول المستهل" اس کے لیے مبتدا کیا ہے؟ آگے جو آیا: "أي: المبتدأ المحذوف جوازاً"، یہ ہے مبتدا، وہ مبتدا جس کو جوازاً حذف کیا جاتا ہے "كقول المستهل"، وہ مستہل کے اس قول کی طرح ہے، اور اس مستہل کے قول کی تشریح کیا کی؟ "مثل المبتدأ المحذوف في مقول المستهل"، وہ مبتدا جس کو جوازاً حذف کیا جاتا ہے "مثل المبتدأ المحذوف في مقول المستهل"، یہ اس مبتدا کے مثل ہے جو محذوف ہے مستہل کے اس قول میں، مستہل کے اس مقولے میں، بات سمجھ میں آگئی۔
تو کہتے ہیں: "كقول المستهل أي: المبتدأ المحذوف جوازاً"، یعنی وہ مبتدا جس کو جوازاً حذف کیا جاتا ہے، "مثل المبتدأ المحذوف في مقول المستهل"، وہ اسی مبتدا کے مثل ہے جو محذوف ہے مستہل کے اس مقولے میں، "المبصر للهلال"، وہ مستہل جو چاند کو دیکھنے والا ہے، جو چاند کو دیکھ رہا ہے، "الرافع صوته"، جو اپنی آواز کو اونچا کر رہا ہے، جو اپنی آواز کو اونچا کرتا ہے، "عند إبصاره"، چاند کو دیکھتے وقت۔ میں نے کیا معنیٰ بیان کیا تھا مستہل کا؟ چاند دیکھنے والا، اس کو بھی مستہل کہتے ہیں، اور اسی طرح مستہل آواز بلند کرنے والا، اس کو بھی مستہل کہتے ہیں، تو یہ مستہل کا معنیٰ ہے۔ اور عبارت پہ نظر کرو، المستہل ہے موصوف اور "المبصر للهلال" یہ اس کی صفت اول، اور "الرافع صوته عند إبصاره" یہ ہے اس کی صفت ثانی۔
یاد رکھو یہ صفت کاشفہ ہے۔ یہ صفت کاشفہ ہے، کشف کا معنیٰ کھولنا، کھولنا، توجہ ہے؟ آپ بھی پڑھتے ہیں بزرگوں کو کشف ہوتا ہے، جو اللہ کے نیک بندے ہوتے ہیں اولیاء ہوتے ہیں ان کو بعض اوقات کشف ہوتا ہے یعنی اللہ کوئی بات آگے آنے والی وہ ان کو کھول کر پہلے ہی دکھا دیتے ہیں، تو کشف کا معنیٰ ہے کھولنا۔ یاد رکھو یہ جو صفت آتی ہے صفت یہ موصوف کی وضاحت کر دیتی ہے، اس کی توضیح کرتی ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: "جاءني زيدٌ العالمُ"، میرے پاس وہ زید آیا جو عالم ہے۔ اس زید میں دونوں احتمال تھے کہ پتہ نہیں عالم ہے یا عالم نہیں، میں العالم کی صفت لا کر میں نے وضاحت کر دی، میں نے توضیح کر دی کہ اب زید کیا ہے؟ عالم ہے۔ تو صفت کیا کرتی ہے؟ موصوف کی توضیح کرتی ہے، اس کی وضاحت کر دیتی ہے یعنی اس سے غیر کے احتمال کو ختم کر دیتی ہے۔ زید میں احتمال تھا عالم ہونے کا بھی اور غیر عالم ہونے کا بھی، تو جب عالم صفت آ گئی اس نے غیر عالم ہونے کے احتمال کو ختم کر دیا۔ تو معرفہ میں صفت کس لیے آتی ہے؟ توضیح کے لیے، اور نکرہ میں صفت آتی ہے تخصیص کے لیے، "غلامٌ مؤمنٌ"، اس مؤمن نے غلام کی کوئی وضاحت نہیں کی، ہاں اس میں تخصیص پیدا کر دی۔ پہلے غلام کا لفظ ہر ایک پر بولا جا سکتا تھا اب یہ صرف مومن غلام پر بولا جا سکتا ہے۔ تو نکرہ کی صفت آئے تو کیا فائدہ دیتی ہے؟ تخصیص کا، اور معرفہ کی صفت آئے تو وہ توضیح کا فائدہ دیتی ہے۔ کیا معنیٰ توضیح؟ وضاحت، کیا معنیٰ وضاحت؟ یعنی غیر کے احتمال کو ختم کر دیتی ہے۔ میں نے کہا: "جاءني زيدٌ التاجرُ"، میرے پاس وہ زید آیا جو تاجر ہے۔ دیکھا یہ تاجر زید کی صفت ہے، زید میں دونوں احتمال تھے تاجر ہونے کا بھی اور تاجر نہ ہونے کا بھی، تو التاجر صفت لا کر میں نے وضاحت کر دی کہ زید تاجر ہے تو غیر تاجر ہونے کا احتمال کیا ہوا؟ ختم ہو گیا۔ معرفہ کی صفت کس لیے لائی جاتی ہے؟ توضیح کے لیے۔
اور کبھی کبھار صفت موصوف کا معنیٰ بیان کرنے کے لیے لائی جاتی ہے، کبھی کبھار صفت موصوف کا معنیٰ بیان کرنے کے لیے لائی جاتی ہے، وہ توضیح کا فائدہ نہیں دیتی، وہ موصوف کا معنیٰ کھول کر بیان کر دیتی ہے، اس کو صفت کاشفہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ صفت کاشفہ کہتے ہیں۔ تو کبھی کبھار صفت جو ہے وہ موصوف کے توضیح کے لیے نہیں آتی بلکہ اس کے معنیٰ کو کھول کر بیان کرتی ہے، اس کو صفت کاشفہ کہتے ہیں۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: "هذا جسمٌ طويلٌ عريضٌ عميقٌ"، "هذا جسمٌ طويلٌ عريضٌ عميقٌ"، جسم موصوف، طویل، طویل کا معنیٰ لمبا، عریض، ضاد کے ساتھ، عریض کا معنیٰ چوڑا، اور عمیق، عمیق کا معنیٰ گہرا۔ تو جسم موصوف ہے اور طویل، عریض، عمیق یہ تین اس کی صفتیں لائی گئیں بھئی۔ اور یاد رکھو، جسم اس چیز کو کہتے ہیں جس کی کوئی لمبائی بھی ہو، چوڑائی بھی ہو اور گہرائی بھی ہو۔ ایک ہوتا ہے نقطہ، آپ نے منطق میں پڑھا ہوگا نقطہ بھئی، جس کی نہ گہرائی ہوتی ہے نہ چوڑائی نہ لمبائی بھئی، یعنی اس کی تقسیم نہ گہرائی میں کر سکتے ہیں نہ چوڑائی میں نہ لمبائی میں، کیونکہ اس میں گہرائی ہوتی ہی نہیں تو گہرائی میں تقسیم کیسے؟ لمبائی اس کی ہے ہی نہیں تو لمبائی میں تقسیم کیسے؟ چوڑائی اس کی ہے ہی نہیں تو چوڑائی میں تقسیم کیسے؟ پھر نقطے کے بعد خط ہے بھئی، دو یا زیادہ نقطے آپس میں ملیں گے تو خط بنے گا۔ دیکھو اب جب دو نقطے ملے تو لمبائی آگئی، لمبائی آگئی، اب یہ جو خط ہے یہ صرف لمبائی میں تقسیم کو قبول کرتا ہے، اس کی گہرائی چوڑائی ہے ہی نہیں تو یہ گہرائی چوڑائی میں تقسیم کو قبول بھی نہیں کرتا۔ پھر دو یا زیادہ خط آپس میں ملتے ہیں تو دو یا زیادہ خط آپس میں ملتے ہیں تو پھر سطح بنتی ہے، سطحٌ بھئی، سطح بنتی ہے۔ سطح وہ ہے جس کی کچھ لمبائی بھی ہوتی ہے کچھ چوڑائی بھی لیکن گہرائی نہیں ہوتی، تو یہ جو سطح ہے یہ لمبائی میں بھی تقسیم کو قبول کرتی ہے چوڑائی میں بھی، لیکن گہرائی میں تقسیم کو قبول نہیں کرتی۔ اور پھر دو یا زیادہ سطحیں آپس میں ملتی ہیں تو گہرائی بھی آگئی، دو سطحیں مل گئیں تو اب کیا آگئی؟ گہرائی بھی، لمبائی اور چوڑائی پہلے تھی اب گہرائی بھی آگئی، تو یہ جسم بن گیا۔ دو یا زیادہ سطحیں آپس میں ملیں گی تو جسم بنے گا، اور یہ جسم اس کی لمبائی بھی ہوتی ہے، گہرائی بھی اور چوڑائی بھی، تو یہ تینوں طرف تقسیم کو قبول کرتا ہے، لمبائی میں آپ اس کو تقسیم کرنا چاہیں تقسیم ہو جائے گا، گہرائی میں کرنا چاہیں گہرائی میں بھی ہو جائے گا، چوڑائی میں کرنا چاہیں تو چوڑائی میں بھی تقسیم ہو جائے گا۔ تو جسم کہتے ہی کس کو ہیں؟ جس کی لمبائی بھی ہو، چوڑائی بھی ہو اور گہرائی بھی ہو۔ تو اب میں نے آپ سے کیا کہا: "هذا جسم طويل عريض عميق"، جسم موصوف، طویل صفت اول، عریض صفت ثانی اور عمیق صفت ثالث۔ یہ تین صفتیں ہیں، لیکن اس سے کوئی نیا معنیٰ آیا بھئی جسم میں؟ نہیں، جسم تو کہتے ہی اس کو ہیں جو طویل بھی ہو، عمیق بھی ہو، عریض بھی ہو، تو یہ جو تین صفتیں ہیں یہ کوئی نیا معنیٰ نہیں دے رہیں، بلکہ یہ صفتیں کیا ہیں؟ کاشفہ ہیں، یعنی جسم کی حقیقت کو اور اس کے معنیٰ کو کھول کر بیان کر رہی ہیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ صفت کاشفہ کہتے ہیں۔
تو یہاں پر بھی دیکھو المستہل موصوف ہے، اور "المبصر للهلال" صفت اول اور "الرافع صوته عند إبصاره" صفت ثانی۔ اور مستہل کا معنیٰ ہی کیا ہے؟ چاند کو دیکھنے والا اور چاند کو دیکھ کر آواز کو بلند کرنے والا، تو یہ دونوں صفتیں کیا بنیں؟ صفت کاشفہ بنیں بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ جی، چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔