Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الجامي · dars-101

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 06 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 8
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔101 آگے سبق دیکھیے بھئی: "وقد يتعدد الخبر من غير تعدد المخبر عنه فيكون اثنين فصاعداً، وذلك التعدد إما بحسب اللفظ والمعنى جميعاً، ويستعمل ذلك على وجهين: بالعطف مثل: زيد عالم وعاقل، وبغير العطف مثل: زيد عالم عاقل". گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا کہ کچھ جگہیں ہیں جہاں پر مبتدا کو مقدم کرنا واجب ہے بھئی۔ اور چار جگہیں صاحب قافیہ نے ذکر کیں: پہلی جگہ وہ کہ جب مبتدا مشتمل ہو ایسے معنی پر جو صدارت کلام کو چاہتا ہو، جیسے "من أبوك"۔ یا وہ مبتدا اور خبر دونوں معرفہ ہوں اور نیز کوئی قرینہ بھی موجود نہ ہو۔ یا دونوں مبتدا اور خبر جو ہیں ان دونوں میں تخصیص ہو بھئی، دونوں نکرہ ہوں لیکن دونوں میں تخصیص ہو اور کوئی قرینہ بھی موجود نہ ہو کہ کون مبتدا ہے اور کون خبر، تو ان تینوں صورتوں میں مبتدا کو مقدم کرنا واجب ہے بھئی۔ اور چوتھی صورت جو ذکر کی جس میں مبتدا کو مقدم کرنا واجب ہے کہ خبر جو ہے وہ مبتدا کا فعل ہو، یعنی وہ صفت بحالہ ہو، صفت بحال متعلقہ نہ ہو بھئی۔ تو اس میں بھی مبتدا کو مقدم کرنا واجب ہے، اس لیے کیونکہ اگر آپ اس فعل کو مبتدا پر مقدم کریں گے تو اس صورت میں یا تو وہ فعل مفرد ہوگا یا تثنیہ یا جمع۔ اگر وہ فعل مفرد ہے، مثلاً "زيد قام" تھا، پھر "قام" کو مقدم کر دیا: "قام زيد"، تو اب یہ "زيد" مبتدا مؤخر ہے لیکن اس کا التباس کس کے ساتھ لازم آ رہا ہے؟ فاعل کے ساتھ۔ سننے والا یہی سمجھے گا کہ یہ "قام" فعل ہے اور "زيد" اس کا فاعل ہے۔ دوسری صورت ہے تثنیہ اور جمع والی کہ یہ فعل جو ہے تثنیہ یا جمع ہو جیسے "الزيدان قاما" یا "الزيدون قاموا"، تو یہاں دیکھو اس کے اندر اگر آپ یہ جو مبتدا ہے "الزيدان" اور "الزيدون"، ان کو آپ مؤخر کریں گے اور فعل کو مقدم کریں گے اور یوں کہیں گے "قاما الزيدان" یا "قاموا الزيدون"، تو اس صورت میں یہ جو مبتدا مؤخر ہے اس کا التباس بدل کے ساتھ لازم آئے گا۔ فاعل کے ساتھ نہیں، کیونکہ یہ فعل تثنیہ اور جمع ہے، اور فعل تثنیہ یا جمع ہو تو وہ اسم ظاہر کو رفع نہیں دے سکتا۔ تو "قاما الزيدان"، تو اس "الزيدان" کا التباس کس کے ساتھ آ رہا ہے؟ بدل کے ساتھ۔ اور "قاموا الزيدون"، اس "الزيدون" کا التباس بھی کس کے ساتھ لازم آ رہا ہے؟ بدل کے ساتھ۔ ہاں البتہ بعض علماء کے نزدیک جب ایسی عبارت آئے جس کے اندر فعل تثنیہ یا جمع ہو تو پھر اس صورت میں وہ جو الف اور واو ہے اس کو وہ فاعل نہیں بناتے، ان کو وہ ضمیریں نہیں قرار دیتے بلکہ یہ الف کو تثنیہ کی علامت قرار دیتے ہیں اور واو کو جمع کی علامت۔ تو اس صورت میں پھر آگے آنے والے اسم ظاہر کو وہ فاعل بناتے ہیں "قاما الزيدان"۔ وہ کہتے ہیں "قاما" کے اندر یہ جو الف ہے یہ تثنیہ کی علامت ہے، یہ صرف یہ بتلا رہا ہے کہ اس کا اسناد آگے تثنیہ کی طرف ہے یعنی "الزيدان" جو اسم ظاہر ہے۔ اور "قاموا الزيدون"، وہ علماء فرماتے ہیں کہ یہ جو "قاموا" کے اندر واو ہے یہ صرف جمع کی علامت ہے، یہ صرف یہ بتلا رہا ہے کہ آگے وہ اسم ظاہر جو اس کا فاعل بن رہا ہے وہ جمع ہے بھئی۔ یہ کہتے ہیں اسی طرح ہے جیسے "ضربت هند"، اس "ضربت" کے اندر جیسے یہ تا جو ہے تانیث کی علامت ہے، یہ صرف اتنا بتاتی ہے کہ اس فعل کا اسناد کسی مؤنث ذات کی طرف کیا جا رہا ہے، تو جیسے "ضربت" کے اندر تا صرف تانیث کی علامت ہے، فاعل نہیں، اسی طرح وہ کہتے ہیں یہ "قاما الزيدان" اور "قاموا الزيدون" اس کے اندر الف اور واو یہ بھی صرف تثنیہ اور جمع کی علامتیں ہیں بھئی۔ تو ان علماء کے نزدیک یہ "الزيدان" اور "الزيدون" یہ فاعل بن سکتے ہیں۔ تو اس صورت میں پھر یہ مبتدا کا التباس فاعل کے ساتھ لازم آتا ہے ان علماء کے نزدیک۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اس کے بعد صاحب قافیہ نے کچھ وہ جگہیں ذکر کی تھیں جہاں پر خبر کو مقدم کرنا واجب ہے، اور انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جب خبر مفرد متضمن ہو ایسے معنی کو جس کے لیے صدارت کلام واجب ہو تو اس وقت خبر کو مقدم کرنا واجب ہے، جیسے "أين زيد"، یہ "أين" کیا ہے؟ یہ خبر ہے اور یہ متضمن ہے استفہام کے معنی کو، لہٰذا اس کو مقدم کرنا واجب ہے بھئی، واجب ہے۔ یا دوسری صورت یہ ہے کہ خبر جو ہے خبر کو مقدم کیا جائے گا تو پھر وہ مبتدا کے مبتدا واقع ہونے کو صحیح کر دے گی، جیسے "في الدار رجل"، تو اس کے اندر یہ "رجل" نکرہ ہے، اس کا مبتدا بننا صحیح نہیں جب تک کہ اس کے اندر تخصیص نہ آ جائے، تو اس کے اندر تخصیص جو ہے وہ تقدیم خبر کی وجہ سے آئی، لہٰذا یہاں خبر کو مقدم کرنا واجب ہے، پھر ہی اس مبتدا کا مبتدا بننا صحیح ہوگا۔ یا تیسری صورت یہ ہے کہ وہ جو مبتدا ہے اس کے اندر خبر کے متعلق کی کوئی ضمیر ہو اور خبر کا وہ متعلق ایسا ہے کہ اس کو خبر پر مقدم کرنا ممکن نہیں۔ تو مبتدا کے اندر خبر کے متعلق کی ضمیر ہے تو اس صورت میں پھر پوری خبر کو مقدم کرنا واجب ہے ورنہ تو اضمار قبل الذکر لازم آئے گا لفظاً اور رتبۃً، جیسے "على التمرة مثلها زبداً"۔ "على التمرة" یہ ہے خبر اور "مثلها" یہ ہے مبتدا، اس کے اندر دیکھو ہا ضمیر تمرہ کو راجع ہے، تو لہٰذا اب خبر کو مقدم کرنا واجب ہے بھئی۔ اور چوتھی صورت یہ کہ وہ جو خبر ہے وہ أنّ سے خبر واقع ہو، جیسے "عندي أنك قائم"۔ تو یہاں "عندي" خبر مقدم ہے اور "أنك قائم"، یہ أنّ کیا کرتا ہے؟ پورے جملے کو مفرد یعنی مصدر کی تاویل میں کر دیتا ہے، تو یہ جو أنّ حرف مشبہ بالفعل ہے یہی أنّ مصدریہ بھی ہے، یہ پورے جملہ اسمیہ کو مصدر بنا دیتا ہے۔ یاد رکھو حروف مصدر تین ہیں: أن، ما اور أنّ۔ أن اور ما یہ فعل پر داخل ہوتے ہیں اور اس فعل کو یعنی جملہ فعلیہ کو مصدر کے معنی میں کر دیتے ہیں، جبکہ أنّ جو ہے یہ حرف مشبہ بالفعل ہے اور آپ نے پڑھا ہے کہ یہ جو حروف مشبہ بالفعل ہیں یہ مبتدا خبر پر داخل ہوتے ہیں، تو یوں کہو یہ أنّ جو ہے جملہ اسمیہ پر داخل ہوتا ہے اور یہ اس جملہ اسمیہ کو مصدر بنا دیتا ہے۔ تو أن اور ما جملہ فعلیہ کو مصدر بناتے ہیں اور أنّ جملہ اسمیہ کو مصدر بنا دیتا ہے۔ تو "عندي أنك قائم"، تو یہ "عندي" خبر مقدم ہے کس سے؟ "أنك قائم" سے، اور "أنك قائم" یہ کس معنی میں ہے؟ "قيامك"، "أي: عندي قيامك"۔ تو لہٰذا اب اس "عندي" کو مقدم کرنا واجب ہے کیونکہ یہ أنّ سے خبر ہے۔ اگر اس "عندي" کو مؤخر کر دیا جائے گا تو أنّ کا التباس لازم آئے گا إنّ کے ساتھ، کیونکہ "أنك قائم" یہ کلام کے شروع میں آ جائے گا اور کلام کے شروع میں تو إنّ آتا ہے تو سننے والا، پڑھنے والا سمجھے گا کہ شاید یہ إنّ ہے بھئی۔ تو ان تمام صورتوں میں خبر کو مقدم کرنا واجب ہے۔ اب آئیے آج کے سبق پر، کہتے ہیں: "وقد يتعدد الخبر من غير تعدد المخبر عنه فيكون اثنين فصاعداً"۔ آگے صاحب قافیہ فرما رہے ہیں کہ کبھی کبھار خبر میں بھی تعدد آتا ہے، یعنی ایک ہی مبتدا کی کئی خبریں آتی ہیں۔ ایک مبتدا کی کئی خبریں آتی ہیں، مثلاً آپ کہتے ہیں: "زيد عالم شاعر كاتب"، تو "زيد" مبتدا ایک ہی ہے اور آگے کئی خبریں آ گئیں: "زيد عالم كاتب شاعر"، تو دیکھو تین خبریں آگے آ گئیں۔ تو کہتے ہیں: "وقد يتعدد الخبر من غير تعدد المخبر عنه"، اور کبھی کبھار خبروں میں تعدد ہوتا ہے یعنی خبریں متعدد ہوتی ہیں، "من غير تعدد المخبر عنه"، مخبر عنہ کے تعدد کے بغیر۔ مخبر عنہ جس کے بارے میں خبر دی جا رہی ہے یعنی مبتدا، مبتدا۔ مبتدا میں تعدد کے بغیر ہی خبر میں تعدد آتا ہے۔ بھئی یاد رکھو، مبتدا میں تعدد ہوگا تو پھر تو خبر میں بھی تعدد آئے گا بھئی۔ مبتدا میں تعدد ہوگا تو خبر کے اندر بھی تعدد آئے گا۔ مثلاً "هما عالـم وجاهل"، "هما" وہ دونوں "عالم وجاهل" عالم اور جاہل ہیں۔ تو دیکھو مبتدا میں تعدد ہے، مخبر عنہ میں تعدد ہے، "هما" دو دو کی بات کی جا رہی ہے، ایک کی بات نہیں کی جا رہی، اور دونوں میں سے ہر ایک کی الگ الگ بات کی جا رہی ہے، "عالم وجاهل"، عالم اور جاہل ہونے کا حکم ہر ایک پر نہیں لگایا جا رہا کیونکہ ایک ہی شخص عالم بھی ہو اور جاہل بھی ہو یہ نہیں ہو سکتا، یا وہ عالم ہوگا یا جاہل ہوگا۔ تو یہ جو عالم اور جاہل ہونے کا حکم ہے یعنی جو خبر میں تعدد آ رہا ہے یہ کس کے اعتبار سے ہے؟ کہ مخبر عنہ میں تعدد ہے وہ بھی دو افراد ہیں، تو ایک کے بارے میں کیا بتلایا کہ "أحدهما، أحدهما عالم وأحدهما جاهل"، تو دیکھا یہاں مخبر عنہ یعنی جس کے بارے میں خبر دی جا رہی ہے اس کے اندر تعدد ہے بھئی، جب اس کے اندر تعدد ہے تو خبر میں بھی تعدد آیا بھئی۔ لیکن یہاں اس مخبر عنہ کی بات نہیں کی جا رہی کہ جس کے اندر تعدد ہو، کیونکہ مخبر عنہ میں تعدد ہوگا تو خبر میں بھی کیا ہوگا؟ تعدد ہوگا۔ بلکہ یہاں اس مخبر عنہ یعنی اس مبتدا کی بات کی جا رہی ہے جس میں تعدد نہ ہو، جو خود تو ایک ہے لیکن اس کی خبریں کئی آ رہی ہیں آگے، بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: "وقد يتعدد الخبر من غير تعدد المخبر عنه"، اور کبھی کبھار خبر میں تعدد ہوتا ہے "من غير تعدد المخبر عنه"، مخبر عنہ میں تعدد کے بغیر ہی، "فيكون اثنين فصاعداً"، تو وہ خبر جو ہے دو ہوں گی "فصاعداً"، یا دو سے زیادہ ہوں گی، دو یا دو سے زیادہ خبریں ہوں گی۔ بھئی تعدد کے لیے کم از کم دو تو ضرور چاہئیں، تو دو بھی ہو سکتی ہیں، تین، چار، پانچ، جتنی بھی بنانا چاہیں بنا سکتے ہیں۔ بھئی دیکھیے، یہاں پر آیا "من غير تعدد المخبر عنه"، صاحب جامی نے یہ نہیں فرمایا "من غير تعدد المبتدأ"، مبتدا میں تعدد کے بغیر، بلکہ کیا فرمایا؟ "من غير تعدد المخبر عنه"، مبتدا کہہ لیں یا مخبر عنہ کہہ لیں، ایک ہی بات ہے۔ تو صاحب جامی نے یہ مخبر عنہ پھر کیوں ذکر کیا؟ مبتدا کو کیوں نہیں ذکر کیا؟ تو وجہ یہ کہ لفظ خبر کی رعایت کی، کہ خبر ہے تو جس کے بارے میں خبر ہے وہ کیا ہوا؟ مخبر عنہ۔ تو اس لیے مخبر عنہ کا لفظ استعمال کیا اور نیز تفنن کے لیے۔ کس کے لیے؟ تفنن۔ میں نے آپ کو گزشتہ سبق میں بتلایا تھا کہ تفنن کسے کہتے ہیں؟ ایک ہی بات کو، ایک ہی چیز کو مختلف عبارتوں سے ادا کرنا تاکہ کلام خوشگوار معلوم ہو، کلام میں لذت محسوس ہو۔ تو ایک ہی چیز کو مختلف انداز میں ذکر کرنا یہ تفنن کہلاتا ہے۔ دو جگہ ذکر آیا ایک چیز کا، ایک جگہ مثلاً مبتدا کا دو جگہ ذکر آیا، ایک جگہ لفظ مبتدا بول دیں دوسری جگہ مخبر عنہ بول دیں، دیکھو کلام میں حلاوت آگئی بھئی، لذت آگئی، ایک نیا لفظ آگیا بھئی۔ تو ایک چیز کو مختلف عبارتوں سے ادا کرنا یہ تفنن کہلاتا ہے۔ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: "وذلك التعدد إما بحسب اللفظ والمعنى جميعاً"۔ ادھر دیکھیے، آگے آپ کو بتلائیں گے کہ یہ جو تعدد ہے خبر کے اندر، کبھی لفظ اور معنی دونوں اعتبار سے ہوگا، کبھی صرف لفظوں کے اعتبار سے تعدد ہوگا معنی کے اعتبار سے تعدد نہیں۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: "زيد تاجر شاعر"، تو دیکھو تاجر کا معنی اور، شاعر کا معنی اور۔ لفظ بھی دو ہیں، تاجر کا لفظ الگ، شاعر کا لفظ الگ، اور معنی بھی دونوں کا الگ الگ ہے۔ تو دیکھو یہاں خبر میں تعدد ہے لفظاً بھی اور معناً بھی، لفظوں کے اعتبار سے بھی تعدد اور معنی کے اعتبار سے بھی تعدد۔ اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ لفظوں کے اعتبار سے تو تعدد ہوتا ہے لیکن معنی کے اعتبار سے تعدد نہیں ہوتا۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: "هذا حلو حامض"، یہ کتاب میں مثال آئے گی آگے بھئی، "هذا حلو حامض"، حامض ضاد کے ساتھ ہے بھئی، حلو کا معنی میٹھا، حامض کا معنی کھٹا۔ تو "هذا حلو حامض"، یہ یہ میٹھا ہے، کھٹا ہے۔ بھئی آپ جانتے ہیں کہ ایک خاص ذائقہ، ایک چیز جو میٹھی بھی ہے اور کھٹی بھی ہے، دونوں ذائقے بیک وقت اس کے اندر موجود ہیں، اس کو اردو میں کھٹ مٹھا کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ کھٹ مٹھا یا کھٹا میٹھا بھئی۔ اب یہ ایک ہی ذائقہ ہے، الگ الگ نہیں ہے بھئی، یہ ایک ہی ذائقہ ہے اور عربی میں اس کو کہتے ہیں "مزّ"، کیا کہتے ہیں؟ "مزّ" جو کھٹ مٹھا ہے اس کو "مزّ" کہتے ہیں۔ یا تو "مزّ" کہہ لیں، مثلاً کہیں "هذا مزّ"، یہ کھٹ مٹھا ہے۔ یا یوں کہیں "هذا حلو حامض"، یہ کھٹ مٹھا ہے بھئی، یا یوں کہیں یہ کھٹا میٹھا ہے بھئی۔ تو اب اس میں دیکھو "هذا" ہے مبتدا، "حلو حامض" یہ خبر ہے بھئی، اور اس میں دیکھو لفظوں میں تعدد ہے لیکن معنی کے اعتبار سے تعدد نہیں کیونکہ یہ ایک ہی ذائقے کا نام ہے۔ تو خبر میں تعدد آتا ہے، کبھی یہ تعدد لفظ اور معنی دونوں اعتبار سے ہوتا ہے جیسے "زيد شاعر وكاتب"، لفظوں کے اعتبار سے بھی تعدد اور معنی کے اعتبار سے بھی تعدد۔ اور بعض اوقات لفظوں کے اعتبار سے تو تعدد ہوتا ہے اور معنی کے اعتبار سے تعدد نہیں ہوتا۔ اب پھر اس میں یاد رکھو، اگر لفظ اور معنی دونوں اعتبار سے تعدد ہو تو پھر عطف کے ساتھ بھی اس کو لانا صحیح، بغیر حرف عطف کے بھی لانا صحیح۔ جیسے جیسے "زيد شاعر وكاتب"، دیکھو حرف عطف میں درمیان میں لے آیا، اور آپ چاہیں تو حرف عطف درمیان میں نہ لائیں: "زيد شاعر كاتب"، توجہ ہے؟ یہاں خبر میں تعدد ہے کس اعتبار سے؟ لفظ کے اعتبار سے بھی اور معنی کے اعتبار سے بھی، تو یہاں حرف عطف لانا بھی صحیح اور اس کے بغیر بھی صحیح ہے، دونوں طرح آپ یہ خبر لا سکتے ہیں۔ اور اگر خبر میں تعدد صرف لفظوں کے اعتبار سے ہے، معنی کے اعتبار سے تعدد نہیں ہے تو اس صورت میں عطف کو ترک کر دینا اولیٰ ہے۔ اس صورت میں پھر جمہور کے نزدیک درمیان میں حرف عطف لانا پسندیدہ نہیں، تو کیسے کہیں گے؟ "هذا حلو حامض" کہیں گے، "هذا حلو وحامض" کہنا پسندیدہ نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: "وذلك التعدد إما بحسب اللفظ والمعنى جميعاً"، اور وہ جو تعدد ہے خبر کے اندر یا تو وہ لفظ اور معنی دونوں اعتبار سے ہوگا، "ويستعمل ذلك على وجهين"، اور یہ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے: "بالعطف"، عطف کے ساتھ ہوگا، "مثل: زيد عالم وعاقل"، "وبغير العطف"، اور بغیر عطف کے بھی استعمال ہوگا، "مثل: زيد عالم عاقل"، دیکھو درمیان میں کوئی حرف عطف نہیں ہے۔ "وإما بحسب اللفظ فقط"، یا وہ جو تعدد ہے خبر کے اندر وہ صرف لفظ کے اعتبار سے ہے، "نحو: هذا حلو حامض"، یہ کھٹا میٹھا ہے، "فإنهما في الحقيقة خبر واحد"، اس لیے کیونکہ یہ دونوں حقیقت کے اعتبار سے ایک ہی خبر ہیں، "أي: مزّ"، یہ "مزّ" یہ کھٹا میٹھا بھئی، یہ اس ذائقے کا نام ہے۔ "وفي هذه الصورة ترك العطف أولى"، اور اس صورت میں عطف کو ترک کر دینا اولیٰ بہتر ہے، یعنی جب لفظوں میں تعدد ہے لیکن معنی میں تعدد نہیں تو وہاں حرف عطف کو چھوڑ دینا اولیٰ ہے۔ "ونظر بعض النحاة إلى صورة التعدد وجوّز العطف"، اور بعض نحویوں نے صورت تعدد کی طرف دیکھا، کس کی طرف؟ صورت تعدد کی طرف دیکھا جیسے "هذا حلو حامض"، کہتے ہیں بھئی صورت کے اعتبار سے تعدد ہے یا نہیں؟ لفظ دو آ رہے ہیں: "حلو" اور "حامض"، معنی بے شک ایک ہے لیکن لفظ تو دو ہیں، صورت تو تعدد والی ہے، لہٰذا حرف عطف لانا بھی جائز ہے۔ وہ کہتے ہیں "هذا حلو وحامض" کہنا بھی جائز ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "ونظر بعض النحاة إلى صورة التعدد وجوّز العطف"، اور بعض نحویوں نے صورت تعدد کی طرف نظر کی اور عطف کو جائز قرار دیا، "ولا يبعد أن يقال مراد المصنف بتعدد الخبر ما يكون بغير عاطف"۔ بھئی یہاں تک جو تقریر کی وہ عام شارحین کی تقریر کی صاحب جامی نے۔ متن متن ذرا دیکھو، کہتے ہیں: "وقد يتعدد الخبر مثل: زيد عالم عاقل"، اور کبھی کبھار خبر میں تعدد آتا ہے جیسے "زيد عالم عاقل"۔ متن میں جو مثال آئی ہے اس میں "عالم" اور "عاقل" دو خبریں ہیں زید کے لیے، اور دونوں کے درمیان حرف عطف نہیں ہے، حرف عطف نہیں ہے۔ لیکن عام شارحین جب اس مقام پر تقریر کرتے ہیں تو یہی تقریر کرتے ہیں کہ خبروں میں تعدد آئے گا، کبھی لفظاً اور معناً دونوں کے اعتبار سے ہوگا اور کبھی معناً ہوگا، اور پھر ان کے اندر حرف عطف لانا بھی جائز اور اس کے بغیر لانا بھی جائز ہے۔ یعنی حرف عطف کے ساتھ خبروں کے تعدد کو بھی وہ یہاں ذکر کرتے ہیں۔ توجہ ہے؟ خبر میں تعدد آئے کس کے ساتھ؟ حرف عطف کے ساتھ، جیسے "زيد عالم وعاقل"، حالانکہ صاحب قافیہ نے یہ مثال ذکر نہیں کی، انہوں نے کیا کہا؟ "زيد عالم عاقل" کہا، حرف عطف کو درمیان میں ذکر نہیں کیا، لیکن تمام شارحین ذکر فرماتے ہیں کہ حرف عطف کے ساتھ بھی صحیح یہ تعدد اور بغیر حرف عطف کے بھی یہ تعدد صحیح ہے۔ صاحب جامی فرماتے ہیں کہ یہ بات بھی بعید نہیں ہے کہ یوں کہا جائے کہ یہاں مصنف کی مراد وہ خبر ہے جس میں بغیر حرف عطف کے تعدد آئے، حرف عطف والا تعدد یہاں مراد نہیں۔ اور قرینہ کیا ہے؟ کہتے ہیں مصنف نے جو مثال ذکر کی، مصنف نے بغیر حرف عطف کے مثال ذکر کی، معلوم ہوا جو عطف کے ساتھ تعدد آئے وہ یہاں مصنف کی مراد نہیں ہے۔ اسی لیے انہوں نے بغیر عطف والی مثال ذکر کی، اور کیا وجہ ہے؟ کیوں ذکر کی بغیر عطف والی مثال؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ حرف عطف کے ذریعے تعدد میں کوئی خفاء نہیں۔ بھئی حرف عطف کے ذریعے تو تعدد مبتدا میں بھی آتا ہے، خبر میں بھی آتا ہے: "زيد وعمرو وبكر قائمون"، تو دیکھو مبتدا میں تعدد آیا: زید اور عمرو اور بکر۔ اور اسی طرح عطف کے ذریعے خبر میں بھی تعدد آتا ہے: "زيد عالم وعاقل"، تو حرف عطف کے ذریعے تو مبتدا میں بھی تعدد آتا ہے اور خبر میں بھی تعدد آتا ہے اور اس کے اندر کوئی خفاء نہیں، کوئی پوشیدگی نہیں، یہ بات ظاہر ہے، سب کو پتہ ہے بھئی۔ ہاں، حرف عطف کے بغیر مبتدا میں تعدد جائز نہیں، "زيد عمرو بكر قائمون"، یوں آپ نہیں کہہ سکتے کہ مبتدا میں تعدد لائیں بغیر عطف کے۔ تو مبتدا میں تو بغیر حرف عطف کے تعدد جائز نہیں تھا، تو سوال پیدا ہوا کیا خبر میں بھی بغیر حرف عطف کے تعدد جائز ہے یا جائز نہیں؟ تو صاحب قافیہ نے آپ کو بتلا دیا کہ خبر کے اندر بغیر بغیر عطف کے بھی تعدد جائز ہے۔ اور حرف عطف، اس کو ذکر نہیں کیا کیونکہ اس میں کوئی خفاء نہیں، وہ تو ہر ایک جانتا ہے، حرف عطف کے ساتھ تو مبتدا میں بھی تعدد ہو سکتا ہے اور خبر میں بھی تعدد ہو سکتا۔ تو خفاء صرف کس کے اندر تھا؟ بغیر حرف عطف کے، بغیر حرف عطف کے مبتدا میں تو تعدد نہیں ہو سکتا تھا تو کیا خبر میں بھی ہو سکتا ہے یا نہیں؟ اس میں خفاء تھا، لہٰذا اس لیے صاحب قافیہ نے باقاعدہ اس کی مثال ذکر کر دی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو معلوم ہوا یوں کہا جائے کہ صاحب قافیہ یہاں پر اس خبر کے تعدد کو بیان کر رہے ہیں جس میں حرف عطف نہ ہو بھئی، جس میں حرف عطف نہ ہو، جیسا کہ ان کی اس مثال سے واضح ہوتا ہے۔ اور نیز اس لیے بھی کیونکہ حرف عطف کے ساتھ جب تعدد لایا جائے گا تو وہ جو حرف عطف کے بعد آئے اس کو خبر نہیں کہتے، اس کو تو معطوف کہتے ہیں اور وہ تو توابع میں سے ہے بھئی۔ مثلاً "زيد عالم وعاقل"، یہ "عالم" تو خبر ہے اور یہ "وعاقل" جو ہے یہ یہ تو خبر نہیں، یہ تو معطوف کہلاتا ہے، یہ تو تابع ہے اور تابع پر وہی اعراب آتا ہے جو متبوع پر ہوتا ہے، یہ معطوف ہے اور معطوف پر معطوف علیہ والا اعراب ہی آتا ہے۔ تو کہتے ہیں: "ولا يبعد أن يقال مراد المصنف بتعدد الخبر ما يكون بغير عاطف"، اور یہ بات بھی بعید نہیں ہے کہ یوں کہا جائے کہ مصنف کی مراد جو ہے تعدد خبر سے وہ خبر ہے جو بغیر حرف عطف کے ہو، "لأن التعدد بالعاطف لا خفاء به"، اس لیے کیونکہ وہ تعدد جو عاطف یعنی حرف عطف کی وجہ سے آئے "لا خفاء به" اس میں تو کوئی خفاء نہیں، "لا في الخبر ولا في المبتدأ"، نہ تو خبر میں اور نہ ہی مبتدا میں، یعنی خبر میں بھی اس میں عطف کے ذریعے تعدد آتا ہے، مبتدا میں بھی آتا ہے، "ولا في غيرهما"، اور ان کے علاوہ کے اندر بھی کوئی خفاء نہیں ہے بھئی۔ آپ فاعل پر بھی عطف کرتے ہیں: "جاءني زيد وعمرو وبكر وخالد"، تو عطف کے ذریعے تو تعدد فاعل میں بھی آ جاتا ہے، عطف کے ذریعے تو تعدد مفعول بہ میں بھی آ جاتا ہے: "ضربت زيداً وبكراً وخالداً"، تو عطف کے ذریعے تعدد میں چونکہ کوئی خفاء نہیں تھا لہٰذا اس کو ذکر نہیں کیا۔ تو کہتے ہیں: "لأن التعدد بالعاطف لا خفاء به لا في الخبر ولا في المبتدأ ولا في غيرهما"، اس لیے کیونکہ حرف عطف کے ذریعے تعدد میں کوئی خفاء نہیں ہے نہ تو خبر میں اور نہ مبتدا میں اور نہ ان دونوں کے علاوہ میں، "وأيضاً المتعدد بالعطف ليس بخبر بل هو من توابعه"، اور نیز وہ جو متعدد بالعطف ہے، جس میں تعدد آیا عطف کی وجہ سے، "ليس بخبر"، وہ تو حقیقت میں خبر نہیں ہے، "بل هو من توابعه"، بلکہ وہ تو خبر کے توابع میں سے ہے، "ولهذا أورد في المثال الخبر المتعدد بغير عاطف"، اور اسی وجہ سے مصنف لے کر آئے مثال کے اندر وہ خبر جس کے اندر تعدد ہے بغیر عاطف کے۔ تو کہتے ہیں یہ بات بھی بعید نہیں ہے کہ یوں کہیں کہ یہاں جو تعدد صاحب قافیہ بیان کر رہے ہیں وہ کون سا تعدد ہے جو بغیر عاطف کے ہو بھئی، بغیر عاطف کے۔ اور اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ نہیں، وہ دونوں کو بیان کرنا چاہتے ہیں، تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر وہ بغیر عاطف کی مثال تو لائے ہیں، عاطف والی مثال کیوں نہیں لائے؟ عاطف والی مثال کیوں نہیں لائے؟ تو اس کا پھر یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ مصنف کی مراد تو دونوں ہیں، لیکن عاطف کے ساتھ خبر کے تعدد میں کوئی خفاء نہیں تھا لہٰذا اس کی مثال نہیں دی، اور بغیر عاطف کے خبر کے تعدد میں خفاء تھا لہٰذا اس لیے اس کی مثال باقاعدہ ذکر کر دی۔ کہتے ہیں: "ولو جعل التعدد أعم"، اور اگر تعدد کو عام قرار دیا جائے کہ چاہے عطف کے ساتھ ہو چاہے بغیر عطف کے، دونوں یہاں ذکر کر رہے ہیں، "فالاقتصار عليه لذلك"، تو اس مثال پر جو اکتفا کیا وہ اس وجہ سے کیا، یعنی ترک عطف والی مثال پر اکتفا کیا اس وجہ سے کیونکہ اس کے اندر خفاء تھا، باقیوں میں خفاء نہیں ہے۔ "وقد يتضمن المبتدأ معنى الشرط وهو سببية الأول للثاني أو للحكم به فلا يرد عليه نحو: وما بكم من نعمة فمن الله، فيشبه المبتدأ الشرط في سببيته للخبر كسببية الشرط للجزاء"۔ بھئی آگے صاحب قافیہ آپ کو بتلائیں گے کہ کبھی کبھار مبتدا بھی شرط کے معنی کو متضمن ہوتا ہے۔ مبتدا کے اندر بھی شرط والا معنی آ جاتا ہے، لہٰذا ایسے مبتدا کی خبر پر فا کا لانا جائز ہے، کیونکہ آپ جانتے ہیں بھئی شرط کی جزا پر عموماً کیا داخل کی جاتی ہے؟ فا، فا داخل کی جاتی ہے: "إن أكرمتني فجزاك الله خيراً"، دیکھو جزا پر کیا داخل کی گئی؟ فا۔ تو جیسے شرط کی جزا پر فا داخل کی جاتی ہے اسی طرح کبھی کبھار مبتدا جو ہے وہ متضمن ہوتا ہے معنی شرط کو، یعنی شرط کے معنی پر وہ مشتمل ہوتا ہے، اس کے اندر شرط والا معنی ہوتا ہے، تو اس مبتدا کی خبر پر فا کا لانا جائز ہے۔ فا کا لانا جائز ہے، یعنی آپ لانا چاہیں تو لے آئیں اور نہیں لانا چاہتے تو نہ لائیں بھئی۔ بھئی دیکھیے، پہلے متن متن۔ تو کہتے ہیں: "وقد يتضمن المبتدأ معنى الشرط"، اور کبھی کبھار مبتدا جو ہے شرط کے معنی کو متضمن ہوتا ہے، "فيصح دخول الفاء في الخبر"، تو صحیح ہے فا کا، جی ترجمہ کیجیے: "فيصح دخول الفاء في الخبر"، تو صحیح ہے فا کا داخل ہونا بھئی۔ فا کا داخل کرنا نہیں بلکہ "دخول الفاء"، فا کا داخل ہونا۔ "فيصح دخول الفاء في الخبر"، تو صحیح ہے فا کا داخل ہونا "في الخبر"، اس خبر میں، "وذلك الاسم الموصول بفعل أو ظرف أو النكرة الموصوفة بهما"۔ بھئی وہ کون سا مبتدا ہے؟ وہ بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں: "وذلك الاسم الموصول"، اور وہ مبتدا ہے جو اسم موصول ہو "بفعل أو ظرف"، فعل یا ظرف کے ساتھ۔ بھئی آپ جانتے ہیں کہ اسم موصول جو ہے اس کے لیے ہمیشہ صلہ چاہیے، موصول کے اندر بے انتہا ابہام ہوتا ہے، اتنا زیادہ ابہام ہوتا ہے کہ جب تک آگے ایک پورا جملہ نہیں آئے گا اس کا ابہام دور نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ موصول کے اندر بے انتہا ابہام ہے، اتنا ابہام کہ مفرد کے ذریعے وہ ابہام دور نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے جملہ لانا پڑے گا۔ تو کلام کے اندر جب بھی اسم موصول آئے اس کے فوراً بعد آگے ایک جملہ آئے گا جو اس کا صلہ کہلائے گا بھئی، اور موصول کے ساتھ صلہ ملے گا تو پھر اسم موصول کا معنی آپ کو سمجھ میں آئے گا، اس کے بغیر اسم موصول کا معنی آپ کو سمجھ میں نہیں آئے گا۔ جیسے مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: "الذي"، بلکہ پہلے دوسری مثال لیں، میں نے کہا: زید، فوراً آپ کے ذہن میں زید کا تصور آگیا کیونکہ زید معرفہ ہے، آپ کے ایک ساتھی کا نام زید ہے۔ تو جیسے ہی میں نے زید کہا، فوراً آپ کے ذہن میں زید کی صورت آگئی، آپ سمجھ گئے کہ کس کے بارے میں بات کی جا رہی ہے۔ تو اسی طرح اسم موصول وہ بھی معرفہ ہے اور معرفہ کسے کہتے ہیں جو کسی معین ذات پر دلالت کرے۔ اب میں نے کہا: "الذي"، "الذي" کا معنی ہے وہ جو کہ، تو "الذي" وہ جو کہ، کوئی ذات آپ کے ذہن میں آئی؟ نہیں بھئی، کیونکہ اس کے اندر ابہام ہے، وہ جو کہ، بھئی وہ جو کہ کون بھئی؟ کون مراد ہے؟ کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ تو اس کے اندر ابہام ہے، آگے اب ایک جملہ چاہیے پورا جو اس کے ابہام کو دور کرے گا اور وہ اس کا صلہ کہلاتا ہے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: "الذي أكرمك"، وہ شخص جس نے آپ کا اکرام کیا تھا، اب آپ سمجھ گئے کہ اچھا اس آدمی کی بات ہو رہی ہے۔ تو یہ "أكرمك" یہ صلہ ہے اور اس صلے نے آ کر موصول سے ابہام کو دور کر دیا۔ تو اسم موصول کو آپ جملے کے اندر چاہے مبتدا بنانا چاہیں، چاہے خبر، چاہے فاعل، چاہے مفعول، چاہے صفت، چاہے موصوف، جو بھی بنانا چاہتے ہیں پہلے صلے کو اس کے ساتھ جوڑنا پڑے گا، بغیر صلے کے اسم موصول نہ مبتدا بن سکتا ہے، نہ خبر، نہ فاعل، نہ مفعول، کچھ بھی نہیں بن سکتا کیونکہ اس کا معنی ہی نہیں سمجھ میں آئے گا۔ تو اسم موصول جب بھی آئے آپ نے فوراً اس کے صلے کو اس کے ساتھ جوڑنا ہے، اور صلہ ہمیشہ کیا ہوگا؟ جملہ ہوگا، اور جملے کو جب بھی کسی چیز سے جوڑنا ہو درمیان میں ربط ضروری ہے، تو اس صلے کے اندر بھی ایک ضمیر غائب کی چاہیے جو کس کی طرف لوٹے؟ اس اسم موصول کی طرف لوٹے بھئی۔ اور پھر یاد رکھنا یہ جو اسم موصول ہے اس کے لیے تو کوئی محل اعراب ہوگا۔ اسم موصول اگر مبتدا ہے تو وہ محلاً مرفوع ہوگا، اگر وہ خبر ہے تو خبر بھی مرفوع ہوتی ہے تو اسم موصول بھی مرفوع ہوگا، اور اگر اسم موصول مفعول بن رہا ہے تو وہ منصوب ہوگا۔ تو اسم موصول کے لیے کوئی نہ کوئی اعراب آئے گا، کوئی محل اعراب ہوگا اس کے لیے، لیکن یہ جو صلہ ہے آگے اس کے لیے کوئی محل اعراب نہیں۔ "لا محل له من الإعراب"، اس کے لیے کوئی محل اعراب نہیں۔ آپ کہیں گے بھئی موصول پر جو اعراب ہے وہی اعراب صلے کا بھی ہونا چاہیے، نہیں بھئی، یہ کوئی آپس میں موصوف صفت نہیں ہیں۔ موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے، صفت پر وہی اعراب آتا ہے جو موصوف پر آتا ہے، لیکن یہاں موصول کا صلہ ہے، یہ اس کی صفت نہیں ہے کہ اس پر بھی وہی اعراب آجائے۔ تو صلہ جو ہے اس کے لیے "لا محل له من الإعراب" کہیں گے بھئی۔ تو وہ مبتدا جو متضمن ہو شرط کے معنی کو، کہتے ہیں: "وذلك الاسم الموصول بفعل أو ظرف"، وہ اسم موصول ہے جو فعل یا ظرف کے ساتھ آئے، کس کے ساتھ آئے؟ فعل، یعنی ایسا اسم موصول جس کا صلہ فعل آئے، اور فعل اپنے فاعل یا نائب فاعل سے مل کر کیا بنتا ہے؟ جملہ، معلوم ہوا وہ اسم موصول جس کا صلہ جملہ فعلیہ ہو۔ اور اسی طرح "بفعل أو ظرف"، وہ اسم موصول جو ظرف کے ساتھ آئے، ظرف آپ جانتے ہیں ایک ظرف حقیقی ہے جس میں زمانے اور جگہ والا معنی ہو اور وہ مفعول فیہ بنتا ہے اور اور اس کے لیے بھی "ثبت" یا "ثابت" نکالتے ہیں اگر کلام کے اندر نہ ہو، کیونکہ مفعول فیہ ہے اور مفعول فیہ منصوب ہوتا ہے تو اس کے لیے عامل چاہیے، کس نے اس کو نصب دیا؟ یہ کس کے لیے مفعول فیہ ہے؟ اور اسی طرح ایک جار مجرور ہے اور جار مجرور کو مجازاً ظرف کہتے ہیں اور جار مجرور کے لیے متعلق چاہیے بھئی، تو جار مجرور کے لیے متعلق چاہیے۔ تو یہ جس سے جڑتے ہیں وہ ان کا متعلق کہلاتا ہے۔ وہ اگرچہ ان کے اندر عامل ہے، اس میں عامل ہے لیکن اس کے لیے متعلق کا لفظ بولتے ہیں۔ وجہ یہ کہ میں نے بتایا تھا کہ جب کوئی فعل کسی لفظ میں براہ راست عمل نہ کر سکے تو کس کا سہارا لیا جاتا ہے؟ حرف جر کا۔ حرف جر کا سہارا لیا جاتا ہے، تو یہ فعل اب اس مجرور میں عمل کر رہا ہے لیکن براہ راست نہیں بلکہ کس کے واسطے سے؟ حرف جر کے واسطے سے اس میں عمل کر رہا ہے، تو حرف جر کے ساتھ یہ جو مجرور ہے یہ متعلق کہلائیں گے کیونکہ درمیان میں حرف آ رہا ہے، فعل اس کے اندر براہ راست عمل نہیں کر رہا، تو اس لیے یہاں متعلق کا لفظ بولتے ہیں بھئی۔ تو وہ اسم موصول جو ظرف کے ساتھ ہو یعنی جس کا صلہ ظرف آئے، چاہے ظرف حقیقی ہو چاہے ظرف مجازی ہو۔ "الذي في الدار"، ترکیب کیسے ہوگی؟ "الذي" اسم موصول، "في" جارہ، "الدار" مجرور، جار مجرور مل کر متعلق کس سے؟ یہ ظرف آگیا موصول کا صلہ، کس سے متعلق؟ باقی جگہ پر "ثبت" اور "ثابت" دونوں نکال سکتے ہیں۔ بھئی پیچھے خبر کی بات آئی تھی کہ وہ خبر جو ظرف ہو تو صاحب قافیہ نے کیا فرمایا تھا؟ اس کی تاویل جملہ کے ساتھ کی جائے گی یعنی وہاں فعل مقدر نکالیں گے، توجہ ہے؟ تو یہ بصرہ والوں کا مذہب ہے جبکہ کوفہ والے اختلاف کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں صفت کا صیغہ یعنی اسم فاعل یا اسم مفعول یہاں مقدر نکالیں گے کیونکہ خبر کے اندر اصل یہ ہے کہ وہ مفرد ہونی چاہیے۔ جب خبر ظرف واقع ہو اس کے اندر تو علماء کا اختلاف ہے، بعض کیا فرماتے ہیں کہ اس کی تاویل جملہ کے ساتھ کی جائے گی، بعض کہتے ہیں اس کی تاویل مفرد کے ساتھ کی جائے گی، لیکن وہ ظرف جو صلہ بنے اس میں بالاتفاق اس کی تاویل جملہ کے ساتھ کی جائے گی یعنی وہاں فعل نکالیں گے۔ کیوں فعل نکالیں گے؟ کیونکہ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ بنے گا اور اگر آپ صفت کا صیغہ نکالیں گے تو پھر تو وہ مفرد بنے گا بھئی، اور حالانکہ موصول کا صلہ مفرد نہیں ہوتا بلکہ وہ جملہ ہوتا ہے اور جملہ کس صورت میں ہے؟ کہ اس ظرف کی تاویل کس کے ساتھ کی جائے؟ فعل کے ساتھ۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں وہ مبتدا جو متضمن ہو شرط کے معنی کو: "الاسم الموصول بفعل أو ظرف"، وہ اسم موصول ہے جو فعل یا ظرف کے ساتھ ہو، "أو النكرة الموصوفة بهما"، یا وہ نکرہ جو ان دونوں کے ساتھ موصوف ہو یعنی ان دونوں میں سے ایک کے ساتھ موصوف ہو۔ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا نکرہ کے بعد فعل آجائے تو وہ عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ اسی طرح میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ نکرہ کے بعد جار مجرور آجائے اور وہ کسی سے نہ جڑ رہا ہو تو وہ بھی عموماً اس نکرہ کے لیے صفت بنے گا۔ لہٰذا وہ نکرہ جو فعل کے ساتھ موصوف ہو رہا ہے یا وہ نکرہ جو ظرف کے ساتھ موصوف ہو رہا ہے اور مبتدا ہے، تو اس کے اندر بھی شرط والا معنی آگیا، لہٰذا اس کی خبر پر بھی فا کا داخل کرنا جائز ہے۔ یہ کچھ مثالیں اپنے سامنے لکھیں تاکہ ان کو ہم حل کر لیں اور بات خوب واضح ہو جائے بھئی۔ لکھیے بھئی: "الذي يأتيني فله درهم" "الذي يأتيني فله درهم" جی ترکیب کیجیے، معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ کیا معنی؟ "الذي يأتيني"، وہ شخص جو میرے پاس آئے گا، "فله درهم"، تو اس کے لیے ایک درہم ہے، یعنی میں اسے ایک درہم دوں گا۔ اب دیکھیے "الذي يأتيني"، ترکیب شروع کیجیے بھئی: "الذي" مرفوع محلاً اسم موصول، "يأتي" فعل با فاعل، میں نے بتایا تھا فعل کے ساتھ جب فاعل کی ضمیر ہو جڑی ہوئی تو پھر اس کو کیسے تعبیر کریں گے؟ فعل با فاعل۔ تو "يأتي" فعل با فاعل، اب اس کے اندر فاعل بھی بتا دیں، کیا ہے؟ "يأتي" کے اندر "هو" ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، آگے نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر صلہ موصول کے لیے۔ نہیں بھئی، یہ جملہ صلہ نہیں بن سکتا، آپ نے ربط کوئی نہیں بتایا، جی ربط دیجیے: ہاں "يأتيني" کے اندر جو "هو" ضمیر تھی وہ "الذي" کو راجع، اور پھر یہ بھی غور کر لیا کرو کہ ضمیر اور مرجع میں مطابقت ہے یا نہیں، "هو" ضمیر بھی مفرد مذکر اور "الذي" بھی مفرد مذکر ہے تو ضمیر اور مرجع میں بھی مطابقت ہے۔ تو فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر صلہ، موصول صلہ مل کر مبتدا، اور یہ مبتدا دیکھو وہ اسم موصول ہے جس کا صلہ فعل آ رہا ہے اور یہ متضمن ہوتا ہے معنی شرط کو، لہٰذا اسی لیے اس کی خبر پر فا کا لانا جائز ہے۔ تو یہ فا جو داخل ہو رہی ہے یہ جزا نہیں ہے، آپ کو جہاں ایسا کلام مل جائے اور فا کو دیکھتے ہی آپ آنکھیں بند کر کے کہہ دیں یہ جزا ہے۔ نہیں بھئی، آج آپ کو پتہ چل گیا کہ یہ فا کبھی خبر پر بھی داخل کرتے ہیں، یہ جزا نہیں ہے یہ خبر ہے، یہ کیا ہے؟ خبر ہے کیونکہ مبتدا متضمن تھا معنی شرط کو۔ اور "فله درهم"، تو یہ "له درهم" خبر ہے اور یہ پورا جملہ ہے۔ آپ نے پڑھا ہے کبھی کبھار خبر جو ہے جملہ ہوتی ہے، تو یہاں پر بھی یہ خبر جو ہے جملہ ہے بھئی، "له" جو ہے یہ جار مجرور ہے اور جار مجرور میں نے آپ کو بتلایا تھا وہ کبھی بھی مسند الیہ نہیں بنتا، مسند تو بن سکتا ہے مسند الیہ نہیں بن سکتا۔ تو لہٰذا "فله"، یہ "له" کیا ہے؟ خبر مقدم، اور "درهم" مبتدا مؤخر ہے۔ یہاں پھر اشکال ہوتا ہے کہ "درهم" تو نکرہ محض ہے اور نکرہ محض تو مبتدا نہیں بنتا، پھر یہ کیسے مبتدا بن گیا؟ کیا جواب دیں گے آپ؟ "فله درهم"، یہ "درهم" تو نکرہ ہے، یہ مبتدا کیسے بن سکتا ہے؟ جواب یہ کہ یہاں جو مبتدا مؤخر ہے اس کے اندر تخصیص آگئی تقدیم خبر کی وجہ سے۔ "له" کیا ہے؟ خبر مقدم ہے اور "درهم" مبتدا مؤخر، تو تقدیم خبر کی وجہ سے وہ مبتدا جو نکرہ ہے اس کے اندر تخصیص آگئی لہٰذا اس کا مبتدا بننا صحیح ہے۔ جی ترکیب کیجیے "فله درهم": جی فا جزائیہ، "له": لام جارہ، ہا ضمیر مجرور محلاً، مجرور محلاً، جار مجرور مل کر متعلق کس سے؟ "ثبت" بھی نکال سکتے ہیں، "ثابت" بھی نکال سکتے ہیں بھئی، یہ متعلق کس سے؟ "ثبت" فعل سے، "ثبت" فعل، اس کے اندر "هو" ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر مقدم، کس کے لیے؟ "درهم" کے لیے۔ نہیں بھئی یہ خبر نہیں بن سکتی جب تک ربط نہیں دیں گے یہ خبر نہیں بنے گی، جملہ کو آپ خبر بنا رہے ہیں، ربط دیجیے: جی، "له" کے اندر جو ہا ضمیر ہے یہ کس کو راجع؟ درہم کو۔ ترجمہ ذرا کرو: "فله درهم"، "أي: لدرهم درهم"، درہم کے لیے درہم ہے۔ دیکھو معنی صحیح نہیں ہو رہا، معلوم ہوا "له" کی ہا ضمیر درہم کو نہیں لوٹا سکتے ورنہ تو کیا معنی بن جائے گا؟ "لدرهم درهم"، درہم کے لیے درہم ہے بھئی۔ اور کوئی ضمیر ہے یہاں پر؟ ہاں "ثبت" کے اندر "هو" ضمیر تھی، "ثبت له"، اس کے لیے ثابت ہوگا، کیا ثابت ہوگا؟ درہم بھئی، تو "ثبت" کے اندر "هو" ضمیر ہے اور وہ لوٹا دیں درہم کی طرف اور اس سے ربط آگیا خبر کا مبتدائے مؤخر کے ساتھ۔ تو یہ خبر ہوئی، اور مبتدا اپنی خبر سے مل کر، ہاں "له" یہ خبر مقدم ہوئی اور "درهم" مبتدا مؤخر، تو مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ ہو کر یہ خبر، جملہ اسمیہ ہو کر یہ خبر کس کے لیے؟ "الذي يأتيني"، وہ جو مبتدا تھا اس کے لیے خبر بن گئی، اور یہ مبتدا کی خبر پورا جملہ ہے، اور جملے کو جب بھی کسی چیز سے جوڑنا ہو درمیان میں کیا ضروری؟ ربط ضروری، آپ نے "الذي" کے ساتھ ربط ہی نہیں دیا بھئی، ربط دیں بھئی: ہاں "فله" کی ہا ضمیر جو ہے یہ "الذي" کو راجع ہے، "الذي يأتيني"، وہ جو میرے پاس آئے گا، "له"، اس کے لیے ہے، "درهم"، کیا چیز؟ درہم بھئی۔ تو یہ "له" کی ہا ضمیر جو ہے یہ "الذي" کو راجع، اس نے ربط دے دیا۔ تو مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آگئی؟ ایک اور جملہ کیجیے جلدی جلدی، لکھیے بھئی، لکھیے بھئی: "الذي في الدار فله درهم" "الذي في الدار فله درهم" ترکیب کیجیے بھئی: "الذي" مرفوع محلاً اسم موصول، یہ مبتدا ہے اس لیے مرفوع ہے، آگے "في" جارہ، "الدار" مجرور، جار مجرور مل کر متعلق کس سے؟ "ثبت" سے۔ "ثابت" نکال سکتے ہیں یہاں؟ نہیں، کیونکہ ہمیں جملہ چاہیے۔ "ثابت" نکال سکتے ہیں، "ثابت" یاد رکھو نکال سکتے ہیں لیکن اس صورت میں پھر اس کے لیے ایک مبتدا بھی نکالنا پڑے گا، پورا جملہ چاہیے تو "هو" مبتدا الگ نکالیں گے اور "ثابت في الدار" الگ نکالیں گے اور یہ پسندیدہ نہیں کیونکہ حذف کم سے کم ہونا چاہیے، تو لہٰذا یہاں پر "ثبت" ہی نکالیں گے۔ جی تو "ثبت" فعل، "هو" ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو لوٹ رہی ہے "الذي" کی طرف بھئی، تو "ثبت" فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر یہ صلہ موصول کے لیے، موصول صلہ مل کر مبتدا، اور "فله درهم" اسی طرح خبر ہے، باقی ساری ترکیب اسی طرح ہوگی۔ ایک اور جملہ لکھیے بھئی: "الذي عندك فله درهم" "الذي عندك فله درهم" ترکیب کیجیے: "الذي" مرفوع محلاً اسم موصول، "عند" اعراب بولیے، "عند" منصوب لفظاً، منصوب لفظاً مضاف، کاف ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مفعول فیہ ہوا کس کے لیے؟ "ثبت" کے لیے۔ "ثبت" فعل، اس کے اندر "هو" ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ "الذي" کو، یہ ربط آگیا۔ تو "ثبت" فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر یہ صلہ، موصول صلہ مل کر مبتدا، اور "فله درهم" اس کی خبر، باقی ترکیب اسی طرح ہوگی۔ طریقہ سمجھ میں آگیا؟ یہ تینوں مثالوں میں دیکھو ان کے اندر ایسا اسم موصول مبتدا بن رہا ہے جس کا صلہ فعل ہے یا ظرف ہے، چاہے ظرف حقیقی ہو جیسے "عندك" اور چاہے ظرف مجازی ہو جیسے "في الدار"، تو یہ والا جو مبتدا ہے یہ متضمن ہوتا ہے معنی شرط کو، لہٰذا اس کی خبر پر فا کا لانا جائز۔ اگر آپ چاہیں تو فا لے آئیں اور آپ چاہیں تو فا کو نہ لائیں بھئی۔ اور دوسرا دوسرا وہ مبتدا انہوں نے بتایا: "أو النكرة الموصوفة بهما"، وہ نکرہ جو ان دونوں کے ساتھ، یعنی ان دونوں میں سے ایک کے ساتھ موصوف ہو رہا ہو، یعنی ایسا نکرہ جس کی صفت فعل آجائے یا ظرف آجائے، جس کی صفت فعل آجائے یا ظرف آجائے۔ اس کے لیے بھی مثال لکھیے بھئی: "كل رجل يأتيني فله درهم" جی ترکیب کیجیے: "كل" مرفوع لفظاً مضاف، یاد رکھو یہ جو لفظ "كل" ہے یہ ہمیشہ مضاف الیہ چاہتا ہے۔ "كل" کا معنی سارے، سب کے سب، بھئی سارے کیا چیز بھئی؟ ساری کتابیں یا سارے قلم یا سارے طلبہ یا سارے انسان؟ آگے مضاف الیہ چاہیے بھئی، تو "كل" ہمیشہ کس کا تقاضا کرتا ہے؟ مضاف الیہ کا، تو اس کے بعد ہمیشہ مضاف الیہ آئے گا۔ لیکن کبھی کبھار اس کے مضاف الیہ کو حذف کر دیتے ہیں اور اس کے عوض اس پر تنوین لے آتے ہیں، تو کیسے پڑھیں گے؟ "كلٌّ"۔ تو جب بھی لفظ "كل" اور اسی طرح لفظ "بعض"، "كل" اور "بعض"، "كل" کا معنی سارے، "بعض" کا معنی کچھ، تو دونوں مضاف الیہ چاہتے ہیں اور کبھی ان پر تنوین آپ کو عبارت میں نظر آئے گی، تو جب بھی "كل" اور "بعض" کے لفظ پر تنوین آجائے سمجھ جائیں یہ عوض ہے مضاف الیہ کے، مضاف الیہ کو حذف کر دیا گیا اور اس کے عوض "كل" اور "بعض" پر تنوین لے آئے۔ تو لہٰذا اگر "كل" پر تنوین آجائے تو آپ سمجھ جائیں کہ یہ تنوین عوض ہے مضاف الیہ سے، اور عموماً وہ واحد کا لفظ ہوتا ہے یا موقع کے مطابق جو بھی ہو، تو "كلٌّ، أي: كل واحد" بھئی، تو یہ تنوین کس کے عوض ہے؟ واحد جو مضاف الیہ ہے بھئی۔ تو ترکیب کر رہے تھے ہم: "كل رجل يأتيني فله درهم"، "كل" مرفوع لفظاً مضاف، "رجل" مجرور لفظاً مضاف الیہ ہے بھئی، اور اس کے بعد "يأتيني" فعل آ رہا ہے، اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ تو یہاں "رجل" موصوف ہے اور اس کے بعد "يأتيني" فعل اس کی صفت بنے گا۔ تو کیسے کہیں گے؟ "كل" مرفوع لفظاً مضاف، "رجل" مجرور لفظاً موصوف بھئی، "يأتيني": "يأتي" فعل با فاعل، اس کے اندر "هو" ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ رجل کو راجع ہے، یہ صفت کو موصوف سے جوڑتے ہیں، اور نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر صفت، موصوف صفت مل کر یہ مضاف الیہ ہوا لفظ "كل" کے لیے، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مبتدا، توجہ ہے؟ مبتدا، اور "فله درهم" یہ اس کی خبر ہے۔ اب دیکھو "كل رجل"، یہ ایسا مبتدا ہے جس کی صفت فعل آ رہا ہے، اور وہ مبتدا جس کی صفت فعل آئے تو وہ متضمن ہوتا ہے معنی شرط کو، لہٰذا اس کی خبر پر فا کا لانا جائز ہے، چاہیں تو لے آئیں چاہیں تو نہ لائیں بھئی۔ یہاں آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا: "كل رجل يأتيني"، یہ "يأتيني" کس کی صفت ہے؟ رجل کی، اور رجل تو مبتدا نہیں ہے، مبتدا تو "كل" کا لفظ ہے، وہ مرفوع ہے، "كل رجل"، یہ رجل تو مضاف الیہ ہے۔ تو اس کا جواب بھی یاد رکھنا کہ بھئی یہ جو "كل" ہے یہ صرف افراد کے احاطے کے لیے آتا ہے، "كل رجل" یعنی ہر آدمی، اس نے رجل کے تمام افراد کا احاطہ کر لیا کہ سب کے لیے یہی حکم ہے جو آگے ذکر ہونے والا ہے۔ تو یہ جو "كل" آتا ہے یہ افراد کے احاطے کے لیے آتا ہے، تو اس کے بعد وہ چیز ذکر ہوتی ہے جس کے افراد کا احاطہ کیا جا رہا ہے، تو گویا یہ "كل" سے یہ رجل ہی مراد ہیں، کوئی اور چیز مراد نہیں، تو یہ گویا تو جو رجل کا حکم ہے وہی "كل" کا بھی حکم ہے، جو رجل کی صفت ہے وہ "كل" کی بھی صفت ہے، جو رجل کا مضاف الیہ ہے وہ "كل" کا بھی مضاف الیہ ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ کیونکہ "كل" معنیٰ کے اعتبار سے وہی رجل ہی مراد ہے، کوئی اور چیز مراد نہیں، یہ اسی کے افراد کا احاطہ کر رہا ہے۔ دوسری مثال لکھیے بھئی: "كل رجل في الدار فله درهم" "كل" مرفوع لفظاً مضاف، "رجل" مجرور لفظاً موصوف، کیونکہ نکرہ کے بعد جار مجرور آ رہا ہے تو وہ اس کے لیے عموماً صفت بنتا ہے، "في" جارہ، "الدار" مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر متعلق کس سے؟ چاہے "ثبت" نکالیں یا "ثابت"، یہاں جملہ ہونا ضروری نہیں، تو "ثبت" نکالیں یا "ثابت"۔ اچھا "ثبت" فعل، اس کے اندر "هو" ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ رجل کو، رجل کو، یہ صفت کا ربط آگیا موصوف کے ساتھ، "ثبت" فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر صفت، موصوف صفت مل کر مضاف الیہ ہوا لفظ "كل" کے لیے، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مبتدا، اور "فله درهم" اس کی خبر ہے، اس میں پھر وہی ترکیب ہوگی جو ہم پہلے کر چکے بھئی۔ آپ نے "كل رجل في الدار"، آپ نے "في الدار" کو کس سے جوڑا؟ "ثبت" سے، ذرا مفرد نکالو: "كل رجل في الدار"، یہ "في الدار" کو مفرد سے جوڑو: "في" جارہ، "الدار" مجرور، جار مجرور مل کر متعلق کس سے؟ "ثابت" مفرد سے، یہ جار مجرور مل کر کس سے متعلق؟ جی؟ ہاں شاباش، تو جار مجرور مل کر متعلق ہوں گے "ثابتٍ" بھئی، "ثابتٌ" نہیں کہنا، کیونکہ اگر آپ "ثابتٌ" کہیں گے یہ تو رفع آگیا اور حالانکہ یہ تو صفت بن رہا ہے رجل کے لیے اور موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے، رجل مجرور ہے تو لہٰذا جو اس کی صفت "ثابت في الدار" آئے گی وہ بھی کیا ہوگی؟ مجرور، تو کیا کہیں گے؟ "في الدار" جار مجرور مل کر متعلق ہے "ثابتٍ" صیغہ اسم فاعل سے، اور "ثابتٍ" مجرور کیونکہ یہ صفت ہے، اور اس کے اندر "هو" ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ موصوف کو، اور اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ صفت رجل کے لیے، موصوف صفت مل کر یہ مضاف الیہ ہوا "كل" کے لیے، اور "كل" مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مبتدا اور آگے "فله درهم" اس کی خبر، طریقہ سمجھ میں آگیا؟ تو لہٰذا "ثابت" نکالیں گے تو کیسے پڑھیں گے؟ "ثابتٍ"، اور "ثبت" اگر آپ نے نکالا ہے: "كل رجل ثبت في الدار"، تو یہ "ثبت في الدار" پورا جملہ صفت ہے کس کی؟ رجل کی، اور رجل کیا ہے؟ مجرور، لہٰذا اس جملے کا محل اعراب کیا ہے؟ یہ بھی مجرور ہے کیونکہ صفت پر وہی اعراب آتا ہے جو موصوف پر۔ تو جملہ چونکہ مبنی ہے اس پر اعراب ظاہر نہیں ہوتا، تو "ثبت في الدار" پر اعراب ظاہر نہیں ہوا، جر ظاہر نہیں ہوا، لیکن "ثابتٍ في الدار"، یہ تو مفرد ہے اس پر جر ظاہر ہوا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں: "وذلك الاسم الموصول بفعل أو ظرف"، اور وہ اسم موصول ہے جو فعل یا ظرف کے ساتھ ہو، "أو النكرة الموصوفة بهما"، یا وہ مبتدا جو ہے ایسا نکرہ ہو جو موصوف ہو رہا ہو بہما فعل یا ظرف کے ساتھ، "مثل الذي يأتيني أو في الدار فله درهم"۔ دیکھو صاحب قافیہ کے پاس الفاظ کم ہوتے ہیں بھئی، ان کی کوشش ہوتی ہے میں مختصر سے مختصر بات کروں، تو یہاں وہ دو مثالیں دینا چاہتے تھے: ایک وہ اسم موصول جس کا صلہ فعل آئے، ایک وہ اسم موصول جس کا صلہ ظرف آئے، چنانچہ کیا فرمایا: "الذي يأتيني"، "الذي يأتيني" یہ اسم موصول ہے اور "يأتيني" اس کا صلہ ہے، آگے کیا فرمایا: "أو في الدار"، یہاں دوبارہ "الذي" نہیں فرمایا، کہتے ہیں باقی بات آپ خود سمجھ جائیں کہ "يأتيني" کی جگہ کیا لے آئیں؟ "في الدار" لے آئیں، اور "فله درهم" ایک ہی دفعہ خبر لے آئے کہ پہلے کے لیے خبر آپ خود نکال لیں، تو گویا یہ دراصل دو مثالوں کے درجے میں ہے، گویا یوں کہا جا رہا ہے: "الذي يأتيني فله درهم"، تو "الذي يأتيني" کے لیے "فله درهم" خبر حذف کر دی کیونکہ آگے دوسرے جملے کی خبر "فله درهم" آ رہی تھی، اس سے پتہ چل رہا تھا۔ اور پھر یہ دوسرے جملے میں کیا فرمایا: "أو في الدار"، اس سے "الذي" کو حذف کر دیا بھئی کیونکہ ایک دفعہ "الذي" پہلے ذکر کر چکے تھے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو اب آپ نے یہ نہیں کرنا: "أو في الدار"، کہ "في الدار" کا عطف کس پر کر دیں؟ "يأتيني" پر، اور اسی "الذي" کو کیا بنا دیں؟ مبتدا بنا دیں، نہیں نہیں، اس "في الدار" کے لیے الگ "الذي" نکالنا پڑے گا کیونکہ یہ الگ مثال ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ اور نیز وہ "الذي يأتيني" اس کے لیے خبر بھی الگ نکال لیں گے بھئی۔ آگے دیکھیے: "وكل رجل يأتيني أو في الدار فله درهم"، یہ بھی پھر دو مثالیں ہیں: "كل رجل يأتيني فله درهم" ایک مثال، اور "كل رجل في الدار فله درهم" یہ دوسری مثال بھئی، اس کے اندر بھی کچھ چیزیں پہلی مثال میں ذکر کر دیں اور کچھ چیزیں دوسری مثال میں ذکر کر دیں اور کچھ کو حذف کر لیا۔ تو یہاں دیکھو بڑا قیمتی ضابطہ صاحب قافیہ نے ذکر فرمایا کہ مبتدا کبھی متضمن ہوتا ہے معنی شرط کو، اور وہ وہ دو قسم کے مبتدا ہیں: ایک وہ اسم موصول جس کا صلہ فعل آئے یا ظرف آئے، اور ایک وہ مبتدا جو نکرہ ہے اور موصوف ہو رہا ہے کس کے ساتھ؟ فعل یا ظرف کے ساتھ، تو یہ متضمن ہے معنی شرط کو۔ اور اب آپ کلام عرب میں غور کریں گے آپ کو بہت مثالیں اس کی مل جائیں گی بھئی۔ جیسے حدیث میں آتا ہے: "من تشبه بقوم فهو منهم"، تو "من تشبه"، یہ "من" موصولہ ہے، "تشبه" اس کا صلہ، اور دیکھو صلہ فعل ہے، تو اس کے اندر شرط والا معنی آگیا: "من تشبه بقوم فهو منهم"، تو دیکھا یہاں فا کا لانا جائز ہے تو فا لائی گئی۔ اور اسی طرح: "من كان لله كان الله له"، "من كان لله"، "من" موصولہ اور "من كان لله" یہ "كان" فعل اس کا صلہ آیا اور تو لہٰذا اس کے اندر شرط والا معنی، تو اس کی خبر پر فا کا لانا جائز ہے، چاہے لائیں چاہے نہ لائیں، تو یہاں نہیں لائی گئی: "من كان لله كان الله له"۔ اسی طرح "والسارق والسارقة فاقطعوا أيديهما"، یہ بھی اسی کی مثال ہے، کیونکہ آپ نے پڑھا ہے کہ اسم فاعل اور اسم مفعول کے صیغوں پر جو الف لام داخل ہو وہ دراصل اسم موصول ہوتا ہے۔ میں نے مثال ذکر کی تھی "الضارب" کس معنی میں ہے؟ "الذي يضرب"، اور "المضروب" کس معنی میں ہے؟ "الذي يضرب" کے معنی میں ہے، تو "السارق" یہ الف لام کون سا ہے؟ الف لام اسمی ہے، اسم والا ہے یعنی اسم موصول ہے، اور "سارق" یہ اس کا صلہ ہے، صلہ ہے، توجہ ہے؟ پھر سنو، "السارق"، اس میں الف لام کیا ہے؟ اسم موصول، اور "سارق" کیا ہے؟ اس کا صلہ ہے بھئی، تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ موصول کا صلہ تو جملہ ہوتا ہے اور یہاں تو الف لام کا صلہ صرف لفظ سارق آ رہا ہے اور سارق تو مفرد ہے، تو میں ذکر کر چکا کہ "الضارب" کس معنی میں ہے؟ "الذي يضرب"، تو یہاں پر بھی یہ "السارق" کس معنی میں ہے؟ "الذي يسرق" یا "الذي سرق"، پھر اس "الذي" کو کون سی صورت دی گئی؟ الف لام والی، اور الف لام تو صرف مفرد پر داخل ہوتا ہے، وہ تو فعل پر داخل نہیں ہو سکتا، تو پھر اس صورت میں وہ جو فعل ہے اس کو بھی مفرد والی صورت دے دیتے ہیں، تو "الضارب" دراصل کس معنی میں ہے؟ "الذي يضرب" کے معنی میں ہے۔ تو "السارق" کس معنی میں ہوا؟ "الذي يسرق" یا "الذي سرق"، تو یہ اسم موصول ہے اور اس کا صلہ فعل آ رہا ہے اور یہ متضمن ہوتا ہے معنی شرط کو، لہٰذا اس کی خبر پر فا کا لانا جائز، تو قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: "والسارق والسارقة فاقطعوا"، دیکھو فا لائی گئی۔ اسی طرح قرآن میں دوسری جگہ ہے: "الزانية والزاني فاجلدوا"، "الزانية"، جی "الزانية" کس معنی میں ہے؟ ہاں مؤنث کے مطابق نکالیں، "الزانية": "التي، التي زنت"، "التي زنت"، "التي زنت والذي زنى"، ماضی کا صیغہ نکالیں یا مضارع کا موقع کے مطابق۔ اور پھر ایک اور قیمتی نکتہ یاد رکھیں: "والسارق والسارقة"، اس کے اندر "السارق" مذکر کو مقدم کیا گیا اور "السارقة" مؤنث کو مؤخر کیا گیا، اور "الزانية والزاني"، اس کے اندر "الزانية" مؤنث کو مقدم کیا گیا اور "الزاني" مذکر کو مؤخر کیا گیا، تو اس میں نکتہ کیا ہے؟ ایک میں مذکر مقدم ہے ایک میں مؤنث مقدم ہے، وجہ یہ علماء فرماتے ہیں اور بھی بہت سی وجوہات ذکر کی ہیں علماء نے، ایک ایک وجہ میں ذکر کر دیتا ہوں بھئی: "والسارق والسارقة"، اس کے اندر "السارق" جو مذکر ہے اس کو مقدم کیا، وجہ یہ کہ چوری کے لیے جرأت چاہیے بھئی، چوری کے لیے کیا چاہیے؟ جرأت چاہیے اور جرأت مرد کے اندر زیادہ ہے اس لیے "السارق" مذکر کو کیا کر دیا گیا؟ مقدم کر دیا گیا۔ اور نیز اس لیے کہ چوری کی جاتی ہے مال کے لیے اور مال کی زیادہ حاجت مرد کو ہوتی ہے کیونکہ اس کو اپنے لیے بھی مال چاہیے اور اپنے گھر والوں کے لیے بھی مال چاہیے ہوتا ہے، معاش کا ذمہ دار وہ ہوتا ہے، تو اس وجہ سے وہاں چونکہ مال کے لیے زیادہ طلب مرد کرتا ہے اس لیے مذکر کو مقدم ذکر کیا گیا۔ اور جو "الزانية والزاني"، یہاں مؤنث کو مقدم کیا گیا، وجہ یہ کہ زنا کا سبب شہوت ہے بھئی اور عورتوں میں شہوت زیادہ ہے اس لیے اس کو مقدم کیا اور مرد کو مؤخر، اور نیز اس لیے مقدم کیا کیونکہ زنا کا زیادہ باعث عورت بنتی ہے بھئی، عورت اگر مرد کو دعوت نہیں دے گی تو زنا نہیں ہو سکتا بھئی، اور عورت دعوت دے گی تو زنا ہو سکتا ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ تو زنا میں عموماً ہوتا ہی ایسا ہے کہ عورت ہی دعوت دینے والی اور سبب بنتی ہے زنا کا بھئی۔ اب دیکھیے بھئی اس سارے کو شرح کے ساتھ بھئی: کہتے ہیں: "وقد يتضمن المبتدأ معنى الشرط"، اور کبھی کبھار مبتدا متضمن ہوتا ہے شرط کے معنی کو۔ بھئی شرط کے معنی کو متضمن ہوتا ہے کیا معنی؟ شرط کے معنی سے کیا مراد ہے؟ کہتے ہیں: "وهو سببية الأول للثاني"، وہ اول کا سبب ہونا ہے ثانی کے لیے۔ بھئی ایک ہے شرط، ایک ہے جزا، تو اول جو ہے وہ سبب ہوتا ہے کس کے لیے؟ ثانی کے لیے۔ جیسے میں آپ سے کہتا ہوں: "إن ضربتني ضربتك"، اگر آپ میری پٹائی کریں گے "ضربتك" تو میں بھی آپ کی پٹائی کروں گا، تو دیکھو "إن ضربتني"، اگر آپ میری پٹائی کریں گے یہ سبب بنے گا کس چیز کا؟ "ضربتك" کا کہ میں بھی آپ کی پٹائی کروں گا، تو اول سبب ہوتا ہے کس کے لیے؟ ثانی کے لیے، یا یوں کہو شرط سبب ہوتی ہے جزا کے لیے بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ کہتے ہیں: "وهو سببية الأول للثاني"، اور وہ اول کا سبب ہونا ہے ثانی کے لیے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے، آگے ذرا دیکھیے اسی سطر میں آ رہا ہے: "فلا يرد عليه نحو: وما بكم من نعمة فمن الله"، "وما بكم من نعمة"، اور تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے "فمن الله"، تو وہ اللہ کی طرف سے ہے، توجہ ہے؟ تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے، دیکھو ما اسم موصول آیا اور اس کا صلہ ظرف آیا "بكم" بھئی، "بكم"، "أي: ما ثبت بكم من نعمة"، اور وہ اسم موصول جو جس کا صلہ ظرف آئے وہ متضمن ہوتا ہے معنی شرط کو، اسی لیے آگے اس کی خبر پر فا لائی گئی: "فمن الله"، "أي: فهو من الله"، تو وہ کس کی طرف سے ہے؟ اللہ کی طرف سے ہے بھئی، یا "فثبت من الله"، وہ اللہ کی طرف سے ثابت ہے۔ تو یہاں اشکال ہوتا ہے، آپ نے ہمیں کیا کہا کہ مبتدا کبھی کبھار متضمن ہوتا ہے معنی شرط کو، شرط کا کیا معنی؟ شرط سے کیا مراد ہے؟ یعنی اول کا سبب ہونا ثانی کے لیے، اور یہاں تو اول سبب نہیں ہے ثانی کے لیے۔ اول کیا ذکر؟ تمہارے پاس جو بھی نعمتیں ہیں، توجہ ہے اس جملے پہ نظر رکھیں: "وما بكم من نعمة"، تمہارے پاس جو بھی نعمتیں ہیں، "فمن الله"، وہ کس کی طرف سے ہیں؟ اللہ کی طرف سے ہیں، تو "وما بكم من نعمة" یہ ہے اول اور "فمن الله" یہ ہے ثانی، اور یہاں اول سبب نہیں ہے ثانی کے لیے۔ مجھے بتائیے، آپ کے پاس نعمتیں ہیں یہ سبب ہے اللہ کی طرف سے نعمتیں آنے کا؟ آپ کے پاس اللہ کی طرف سے اس لیے نعمتیں آتی ہیں کہ آپ کے پاس نعمتیں موجود ہیں؟ نہیں، بات سمجھ میں آگئی؟ یہاں اول ثانی کے لیے سبب نہیں ہے۔ "وما بكم من نعمة"، اور تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے، "فمن الله"، وہ کس کی طرف سے ہے؟ تو اول کیا ہے؟ آپ کے پاس نعمتوں کا ہونا، اور ثانی کیا ہے؟ اللہ کی طرف سے نعمتوں کا آنا، تو آپ کے پاس نعمتوں کا ہونا یہ سبب نہیں ہے اللہ کی طرف سے نعمتوں کے آنے کا، بلکہ اللہ کی طرف سے نعمتیں آئیں تو یہ سبب ہے آپ کے پاس نعمتیں ہونے کا، تو یہاں تو ثانی سبب ہے اول کے لیے۔ اللہ کی طرف سے نعمتیں ہیں اس لیے آپ کے پاس بھی نعمتیں ہیں، اگر اللہ نعمتیں نہ دیتے تو آپ کے پاس بھی نعمتیں نہ ہوتیں، تو یہاں پر تو یہاں پر تو اول سبب نہیں ہے ثانی کے لیے بلکہ ثانی سبب ہے کس کے لیے؟ اول کے لیے۔ اور آپ نے تو ہمیں کیا کہا؟ کہ اول سبب ہو ثانی کے لیے۔ تو صاحب جامی اس کا بھی جواب دے رہے ہیں، دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: "وهو سببية الأول للثاني"، وہ اول کا ثانی کے لیے سبب ہونا، "أو للحكم به"، یا اول کا سبب ہونا ہے ثانی کے حکم کا، "فلا يرد عليه"، لہٰذا یہ اشکال وارد نہیں ہو سکتا، "نحو: وما بكم من نعمة فمن الله"، یعنی اس جیسی مثال کو لے کر اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔ "أو للحكم به"، "به" کی ہا ضمیر ثانی کو راجع ہے، "أو للحكم بالثاني"، اول کا سبب ہونا حکم بالثانی کا یعنی ثانی کے حکم لگانے کا۔ دیکھو "للثاني" کو ذرا ہٹا دیں اور اس کی جگہ "للحكم بالثاني" لے آئیں: "وهو سببية الأول للحكم بالثاني"، یا وہ اول کا سبب ہونا کہ اول سبب ہے کس چیز کا؟ حکم بالثانی کا یعنی ثانی کے حکم لگانے کا۔ ثانی میں جو حکم لگایا گیا ہے اول اس کا سبب ہو، توجہ ہے؟ حکم لگانا یعنی بات کرنا، یوں کہو بات کرنا، یعنی ثانی میں جو بات کی گئی ہے اس کا سبب اول ہے۔ ذرا معنیٰ پہ غور کرو: "وما بكم من نعمة"، تمہارے پاس جو کوئی بھی نعمت ہے، یہ سبب ہے یہ اول سبب ہے ثانی کا حکم لگانے کا کہ حکم کیا لگایا جائے کہ یہ کس کی طرف سے ہے؟ اللہ کی طرف سے۔ تمہارے پاس نعمتوں کا ہونا یہ سبب بن رہا ہے، یہ بتلا رہا ہے کہ یہ نعمتیں کس کی طرف سے ہیں؟ اللہ کی طرف سے، تو اول سبب بنا کس چیز کا؟ ثانی کے وجود کا یا ثانی کے حکم کا؟ ثانی کے حکم یعنی یوں کہو ثانی کی بات کرنے کا سبب بنا، یعنی ثانی میں جو بات کی گئی ہے اس کا سبب اول ہے۔ آپ کے پاس نعمتیں ہیں یہ اللہ کی طرف سے نعمتیں آنے کا سبب نہیں ہے، یہ سبب ہے کس چیز کا؟ یہ حکم لگانے کا، یہ بات کہنے کا کہ یہ نعمتیں کس کی طرف سے ہیں؟ اللہ کی طرف سے ہیں بھئی۔ بات بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں؟ کیا بات ہوئی کہ اول سبب ہے کس چیز کا؟ ثانی کا یا ثانی کے حکم کا؟ تو یہاں اول ثانی کا سبب نہیں ہے بلکہ اول ثانی کے حکم کا سبب ہے کہ وہ حکم لگایا گیا بھئی۔ یعنی اول سبب ہے اس بات کا جو ثانی میں کی گئی ہے، ثانی کے اندر جو حکم لگایا گیا ہے اول اس کا سبب ہے۔ آپ کے پاس نعمتیں ہیں اس لیے یہ حکم لگایا گیا کہ یہ کس کی طرف سے ہیں؟ اللہ کی طرف سے ہیں۔ آپ کے پاس خود بخود تو نہیں ہو سکتیں لیکن نعمتیں ہیں، تو معلوم ہوا یہ نعمتیں کس کی طرف سے آئی ہیں؟ تو ثانی کے اندر جو حکم لگایا گیا ہے، جو بات کی گئی ہے، اس کے لیے اول سبب ہے۔ آپ کے پاس اگر نعمتیں نہ ہوتیں تو کیا یہ کہا جا سکتا تھا یہ اللہ کی طرف سے ہیں؟ جی؟ آپ کے پاس اگر نعمتیں نہ ہوتیں تو پھر تو یہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہیں کیونکہ آپ کے پاس نعمتیں ہی نہیں ہیں۔ لیکن چونکہ آپ کے پاس نعمتیں ہیں تو یہ حکم لگایا جا سکتا ہے، یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ نعمتیں کس کی طرف سے ہیں؟ اللہ کی طرف سے۔ تو دیکھا؟ یہاں اول ثانی کے لیے سبب نہیں ہے بلکہ اول ثانی کے اندر جو حکم لگایا گیا، ثانی کے اندر جو بات کی گئی اس کا سبب ہے۔ آپ کے پاس چونکہ یہ نعمتیں ہیں اس لیے کیا کہا گیا کہ یہ نعمتیں اللہ کی طرف سے ہیں۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں: "وهو سببية الأول للثاني"، اور وہ اول کا سبب ہونا ہے ثانی کے لیے، "أو للحكم به"، یا وہ اول کا سبب ہونا ہے ثانی کے حکم کا، "فلا يرد عليه"، لہٰذا یہ اشکال وارد نہیں ہوگا، "نحو: وما بكم من نعمة فمن الله"، مثال کے طور پر "وما بكم من نعمة فمن الله"، "فيشبه المبتدأ الشرط"، تو مبتدا مشابہ ہوا شرط کے، "في سببيته للخبر"، اس بات کے اندر کہ وہ سبب ہے خبر کے لیے، بھئی دیکھیے، شرط اور جزا میں جو شرط ہے نا وہ سبب ہوتی ہے جزا کا، شرط جو ہے وہ سبب ہوتی ہے جزا کا۔ مثلاً ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے: "إن دخلت الدار فأنت طالق"، "إن دخلت الدار"، اگر تو اس گھر میں داخل ہوئی، "الدار" دیکھو الف لام آیا اور الف لام کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے، معلوم ہوا کسی خاص گھر کی طرف خاوند نے اشارہ کیا، "إن دخلت الدار"، اگر تو اس گھر میں داخل ہوئی "فأنت طالق"، تو تجھے طلاق ہے۔ تو دیکھو اب وہ عورت اس گھر میں جائے گی تو یہ طلاق واقع ہو جائے گی، تو دیکھو اس گھر میں جانا یہ سبب بنے گا کس چیز کا؟ طلاق ہونے کا، تو دیکھو اول سبب ہے کس کے لیے؟ ثانی کے لیے، یعنی شرط سبب ہوتی ہے جزا کے لیے، توجہ ہے؟ تو یہاں پر بھی مبتدا اور خبر کے اندر بھی مبتدا متضمن ہوا معنی شرط کو تو وہ سبب ہوا کس کے لیے؟ ثانی یعنی خبر کے لیے، جس طرح کہ شرط جو اول ہے وہ سبب ہوتی ہے کس کے لیے؟ جزا کے لیے جو کہ ثانی ہے، بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں: "فيشبه المبتدأ الشرط في سببيته للخبر"، تو مبتدا مشابہ ہوا شرط کے، کس چیز میں مشابہ ہوا؟ "في سببيته للخبر"، اس بات میں کہ وہ مبتدا سبب بن رہا ہے "للخبر"، کس کے لیے؟ خبر کے لیے، "كسببية الشرط للجزاء"، جیسے کہ شرط کا سبب ہونا ہے جزا کے لیے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ "فيشبه المبتدأ الشرط"، تو مبتدا مشابہ ہوا شرط کے، "في سببيته للخبر"، خبر کے لیے اس کے سبب ہونے میں، "كسببية الشرط للجزاء"، جیسے کہ جزا کے لیے شرط کا سبب ہونا ہے۔ دیکھو بھئی یہاں لفظ آیا "فيشبه"، اس کو "يُشْبِهُ" پڑھنا بھئی، بعض طلبہ اس کو "يَشْبَهُ" پڑھتے ہیں، حالانکہ یہ یہ مادہ مجرد سے استعمال ہی نہیں ہوتا۔ مجرد سے یہ باب آتا ہی نہیں ہے ثلاثی مجرد سے، یہ ہمیشہ ثلاثی مزید فیہ سے آئے گا: اشبہ یشبہ، اسی طرح شبہ یشبہ، اسی طرح شابہ یشابہ، تو ثلاثی مزید سے استعمال ہوتا ہے، ثلاثی مجرد سے استعمال نہیں ہوتا، تو یہاں "فيُشْبِهُ" پڑھنا بھئی، "يَشْبَهُ" نہ پڑھنا۔ آگے دیکھیے: "فيصح دخول الفاء في الخبر"، تو فا کا داخل ہونا صحیح ہے خبر میں، "ويصح عدم دخوله فيه"، اور فا کا داخل نہ ہونا بھی صحیح ہے۔ بھئی متن میں کیا آیا کہ اس کی خبر میں فا کا داخل ہونا صحیح ہے، آگے صاحب جامی فرما رہے ہیں: "ويصح عدم دخوله"، تشریح کر رہے ہیں، فا کے داخل ہونا صحیح ہے معنی کیا ہے؟ کہ نہ داخل ہونا بھی صحیح ہے۔ یعنی یوں کہو فا کا داخل کرنا جائز ہے یعنی لازم نہیں، تو کہتے ہیں: "ويصح عدم دخوله فيه"، اور اس میں فا کا داخل نہ ہونا بھی صحیح ہے، "نظراً إلى مجرد تضمن المبتدأ معنى الشرط"، نظر کرتے ہوئے، دیکھتے ہوئے "إلى مجرد"، صرف اس بات کی طرف، محض اس بات کی طرف، کیا؟ "تضمن المبتدأ معنى الشرط"، کہ مبتدا متضمن ہے شرط کے معنی کو۔ صرف اس بات کی طرف نظر کرتے ہوئے کہ مبتدا متضمن ہے معنی شرط کو، تو اس کی خبر پر فا کا داخل ہونا بھی صحیح اور داخل نہ ہونا بھی صحیح۔ یعنی یوں کہو فا کا داخل کرنا جائز ہے یعنی لازم نہیں، صرف اس بات کی طرف نظر کرتے ہوئے کہ یہ مبتدا متضمن ہے معنی شرط کو، یعنی وہ دلالت مقصود ہے یا دلالت مقصود نہیں، اس کی طرف نظر نہ کریں، صرف اس بات کی طرف نظر کریں کہ مبتدا متضمن ہے معنی شرط کو۔ صرف اس بات کی طرف نظر کرتے ہوئے کہ مبتدا کیا ہے؟ متضمن ہے معنی شرط کو، تو فا کا لانا بھی جائز اور نہ لانا بھی جائز۔ یاد رکھو دراصل یہاں اشکال ہوتا ہے، اشکال یہ ہوتا ہے کہ صاحب قافیہ نے کیا فرمایا کہ مبتدا جب متضمن ہو معنی شرط کو تو اس کی خبر پر فا کا لانا جائز ہے، تو اشکال ہوتا ہے کہ نہیں بھئی آپ کی بات ٹھیک نہیں، یا تو فا کا لانا واجب ہوگا یا فا کا نہ لانا واجب ہوگا، جواز والی صورت یہاں نہیں، اس لیے کیونکہ مبتدا متضمن ہے معنی شرط کو، تو اب مبتدا کی اس معنی پر دلالت مقصود بھی ہوگی یا نہیں؟ توجہ ہے؟ میں نے آپ سے کیا کہا: "الذي يأتيني فله درهم"، یہ مبتدا کیا ہے؟ متضمن ہے معنی شرط کو، لیکن میرا بھی ارادہ ہے یا نہیں؟ متکلم جو اس جملے کو ادا کر رہا ہے یہ مبتدا متضمن ہے معنی شرط کو، اور معنی شرط کیا ہے کہ اول سبب ہوتا ہے کس کے لیے؟ ثانی کے لیے، تو اگر میرا بھی یہ ارادہ ہے، میں اول کو سبب بنا رہا ہوں کس کے لیے؟ ثانی کے لیے، تو یہ دلالت میری مقصود ہوئی، جب یہ دلالت مقصود ہوئی تو پھر فا کا لانا واجب ہے بھئی، کیونکہ میں اول کو سبب بنا رہا ہوں ثانی کے لیے جیسے شرط اور جزا میں، شرط کیا ہوتی ہے؟ سبب، اور ثانی کیا ہوتا ہے؟ مسبب، تو وہاں فا لے کر آتے ہیں، توجہ ہے؟ بات کیا ہوئی پھر سنو، یہاں صاحب قافیہ نے کیا فرمایا کہ فا کا لانا جائز، معترض یہ اعتراض کرتا ہے کہ نہیں آپ کی بات ہمیں قبول نہیں، فا کا لانا جائز اس کا تو مطلب ہے چاہے فا کو لاؤ یا نہ لاؤ، حالانکہ یہاں تو دو ہی صورتیں بنتی ہیں: ایک صورت میں فا کا لانا واجب ہے اور ایک صورت میں فا کا نہ لانا واجب ہے، جواز والی کوئی صورت نہیں ہے کہ آپ لائیں یا نہ لائیں، اس لیے کیونکہ دو ہی صورتیں بنتی ہیں، آپ ایک مبتدا لائے اور وہ مبتدا متضمن ہے معنی شرط کو، اور معنی شرط کسے کہتے ہیں کہ اول سبب ہوگا ثانی مسبب، تو یہ دلالت متکلم کا مقصود ہوگی، وہ یہ دلالت چاہتا ہے یا نہیں چاہتا؟ اس نے یہ جملہ ادا کیا ہے، اگر دلالت اس کا مقصد ہے، وہ اول کو سبب بنانا چاہتا ہے کس کے لیے؟ ثانی کے لیے، تو پھر تو فا کا لانا واجب ہے۔ فا کا لانا واجب ہے، یہ فا ہمیں بتلا رہی ہے کہ اول سبب ہے کس کے لیے؟ ثانی کے لیے بھئی۔ یعنی یوں کہیں سببیت پر اگر دلالت مقصود ہے تو فا کا لانا واجب، اور اگر سببیت پر دلالت مقصود نہیں ہے تو پھر فا کا نہ لانا واجب ہے بھئی، توجہ ہے؟ یا تو میں اول کو ثانی کے لیے سبب بنا رہا ہوں یا نہیں بنا رہا، دو ہی صورتیں ہیں، اگر میں سبب بنا رہا ہوں تو فا کا لانا واجب کیونکہ یہ فا بتائے گی کہ اول سبب ہے کس کے لیے؟ ثانی کے لیے، اور اگر یہ دلالت میری مقصود نہیں ہے، میں یہاں یہ نہیں بتلانا چاہتا تو پھر فا کا نہ لانا واجب ہے بھئی، کیونکہ فا لاؤں گا پھر تو سننے والا سمجھے گا کہ یہ شاید یہ مقصود ہے میرا کہ اول سبب ہے ثانی کے لیے، حالانکہ یہ میرا مقصود نہیں، تو یہاں دو ہی صورتیں بنتی ہیں کہ وہ دلالت مقصود ہوگی یا وہ دلالت مقصود نہیں، اگر دلالت مقصود ہے اس سببیت پر تو پھر فا کا لانا واجب، اور اگر وہ دلالت مقصود نہیں تو فا کا نہ لانا واجب ہے بھئی، یہاں تو جواز والی کوئی صورت نہیں ہے کہ لانا بھی صحیح اور نہ لانا بھی صحیح۔ تو صاحب جامی اس کا جواب دے رہے ہیں کہ بھئی دلالت کے مقصود ہونے اور غیر مقصود ہونے سے قطع نظر، صرف یہ دیکھو کہ مبتدا متضمن ہے معنی شرط کو، صرف اس بات کی طرف نظر کرتے ہوئے فا کا لانا بھی جائز اور نہ لانا بھی جائز۔ دلالت کے مقصود اور غیر مقصود ہونے کو نہ دیکھیں، صرف کس بات کی طرف نظر کریں کہ یہ مبتدا متضمن ہے کس کو؟ معنی شرط کو، لہٰذا جب یہ متضمن ہے معنی شرط کو تو فا چاہیں تو لے آئیں اور چاہیں تو نہ لائیں بھئی۔ یعنی یوں کہو، یعنی قصدِ دلالت ہے یا قصدِ دلالت نہیں ہے، اس سے قطع نظر اس کی طرف نظر نہ کریں، کیونکہ قصدِ دلالت ہے پھر تو فا کا لانا واجب، اور قصدِ دلالت نہیں ہے تو پھر فا کا نہ لانا واجب، تو قصدِ دلالت اور عدمِ قصدِ دلالت سے قطع نظر صرف اس بات کی طرف دیکھیں کہ یہ مبتدا متضمن ہے معنی شرط کو، تو پھر بایں لحاظ فا کا لانا جائز ہے۔ اور دلالت کی طرف نظر کریں تو پھر قصد ہوگا تو فا کا لانا واجب، قصد نہیں ہے تو پھر فا کا نہ لانا واجب، تو ان سے قطع نظر محض اس بات کی طرف دیکھتے ہوئے کہ یہ مبتدا متضمن تو ہے معنی شرط کو بھئی، اس میں شرط والا معنی تو ہے بھئی، تو بایں لحاظ فا کا لانا بھی جائز اور فا کا نہ لانا بھی جائز ہے۔ یا یوں کہیں یوں کہیں کہ یہاں تین صورتیں بنتی ہیں بھئی، تین صورتیں بنتی ہیں، آپ اکثر کتابوں میں پڑھیں گے جگہ جگہ آئے گا: ایک ہے بشرطِ شئے، ایک ہے بشرطِ لا شئے، اور ایک ہے لا بشرطِ شئے، یہ منطق وغیرہ کی کتابوں میں اکثر آتا ہے۔ دیکھو لفظوں سے ہی پتہ چل رہا ہے، کوئی بھی چیز ہو، کوئی بات ہو، یا تو وہ بشرطِ شئے ہوگی، اس میں کسی چیز کی شرط ہوگی، بشرطِ شئے ہوگی، ایک شئے کی شرط ہوگی اس میں یعنی ایک شئے کے ہونے کی شرط ہوگی اس میں۔ یا بشرطِ لا شئے ہوگی، یعنی ایک شئے کے نہ ہونے کی شرط ہوگی۔ اور تیسری صورت ہے لا بشرطِ شئے، یعنی اس میں کوئی شئے کی شرط ہے ہی نہیں، لا بشرطِ شئے، لا کس پر داخل ہو رہا ہے؟ شرطِ شئے پر، یعنی شرطِ شئے اس میں نہیں ہے، اس میں چاہے وہ شئے ہو یا نہ ہو دونوں کو شامل ہے۔ مثلاً آپ کا ایک ساتھی آپ کی دعوت کرتا ہے، آپ کا ایک ساتھی آپ کی دعوت کرتا ہے اور کہتا ہے بھئی میں آپ کی دعوت کر رہا ہوں اور اس میں میں آپ کو چائے بھی پلاؤں گا بھئی، دعوت میں چائے بھی پلاؤں گا، تو دیکھو یہ دعوت ہو گئی بشرطِ شئے، اس نے کس کو ساتھ ذکر، اس شرط کا لفظ منہ سے بولنے کی ضرورت نہیں ہے، دعوت میں اس نے کیا ذکر کر دیا؟ دعوت میں کیا ہوگا؟ چائے ہوگی، تو یہ دعوت ہوئی بشرطِ شئے، ایک شئے کی شرط کے ساتھ دعوت ہوئی کہ دعوت میں چائے بھی ہوگی۔ اور ایک صورت یہ ہے کہ وہ دعوت کرتا ہے آپ کی، وہ کہتا ہے لیکن اس میں چائے نہیں ہوگی بھئی، اس میں دیکھو چائے نہ ہونے کو شرط لگا دیا، تو اس کو کیا کہیں گے؟ بشرطِ لا شئے، لا شئے کی شرط لگائی ہے، ایک شئے کے نہ ہونے کی شرط لگائی ہے۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ وہ آپ کی دعوت کرتا ہے اور صرف اتنا کہتا ہے: میں آپ کی دعوت کروں گا بھئی۔ دیکھو نہ اس میں اس نے چائے کے ہونے کو ذکر کیا اور اور نہ اس کے نہ ہونے کو ذکر کیا، تو یہ دعوت ہے لا بشرطِ شئے، یعنی اس میں کسی شئے کی شرط نہیں، نہ کسی چیز کے ہونے کی شرط ہے نہ کسی چیز کے نہ ہونے کی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو گویا کوئی چیز جو ہے وہ کبھی کبھی بشرطِ شئے ہوگی، کبھی بشرطِ لا شئے ہوگی، اور کبھی لا بشرطِ شئے ہوگی۔ تو یہاں پر بھی یہاں پر بھی تین صورتیں بنتی ہیں، کتنی صورتیں؟ تین صورتیں بنتی ہیں۔ دیکھو مبتدا متضمن ہے معنی شرط کو، یا اور معنی شرط کسے کہتے ہیں کہ اول سبب ہو کس کے لیے؟ ثانی کے لیے، تو یہ جو اول کا ثانی کے لیے سبب ہونا یہ مقصود ہوگا، یہ دلالت مقصود ہوگی، یا عدمِ دلالت مقصود ہوگی، یا تو دلالت مقصود ہوگی یا عدمِ دلالت مقصود ہوگی، یا ان میں سے کوئی بھی چیز مقصود نہیں ہے، نہ دلالت مقصود ہے نہ عدمِ دلالت مقصود ہے۔ جب دلالت مقصود ہو تو پھر فا کا لانا واجب ہے، جب یہ دلالت مقصود ہے کہ اول کو آپ کیا بنا رہے ہیں ثانی کے لیے سبب، تو اس کے لیے کیا لانا واجب؟ فا کا لانا، اور جب عدمِ دلالت مقصود ہو، آپ اول کو ثانی کے لیے سبب نہیں بنانا چاہتے تو پھر فا کا نہ لانا واجب ہے، اور جب نہ دلالت مقصود ہے نہ عدمِ دلالت مقصود ہے تو یہ وہ تیسری صورت ہے کہ مبتدا بہرحال متضمن تو ہے معنی شرط کو، دلالت مقصود ہوتی تو فا کا لانا واجب تھا اور عدمِ دلالت مقصود ہوتی تو فا کا نہ لانا واجب تھا، لیکن یہاں آپ کا کوئی مقصد نہیں ہے، نہ دلالت نہ عدمِ دلالت، تو اس صورت میں بہرحال مبتدا متضمن تو ہے معنی شرط کو، تو پھر فا کا لانا بھی جائز اور نہ لانا بھی جائز۔ تو صاحب قافیہ نے یہ تیسری صورت یہاں ذکر کی ہے کہ جب نہ دلالت مقصود ہو نہ عدمِ دلالت مقصود ہو، صرف اس بات کی طرف نظر کریں کہ مبتدا متضمن ہے معنی شرط کو، لہٰذا اس پر فا کا لانا جائز ہے بھئی۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ یہاں امکانِ خاص مراد ہے، کیا مراد ہے؟ امکانِ خاص مراد ہے بھئی۔ آپ منطق میں پڑھ چکے ہیں، ایک ہے امکانِ عام اور ایک ہے امکانِ خاص۔ امکانِ عام کہتے ہیں جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی، یعنی جانبِ مخالف ضروری نہیں، جانبِ مخالف ضروری نہیں۔ دیکھو ایک ایک ہے ایک چیز کا ہونا، ایک ہے ایک چیز کا نہ ہونا، یہ ہونا اور نہ ہونا ایک دوسرے کے مخالف ہیں، توجہ ہے؟ ایک ہے چیز کا ہونا اور ایک ہے چیز کا نہ ہونا، ایک وقت میں ایک ہی ہوگا، یا ہونا ہوگا یا نہ ہونا ہوگا بھئی، تو یہ دونوں ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ تو امکانِ عام میں امکان ذکر کیا جاتا ہے کہ ہو سکتا ہے، ممکن ہے، مثلاً دیکھو بھئی میں آپ سے کہتا ہوں کہ ہو سکتا ہے زید ابھی آجائے، ممکن ہے زید ابھی آجائے، تو میں کس کو ذکر کر رہا ہوں؟ امکان کو، توجہ ہے؟ امکان کو ذکر کر رہا ہوں، تو دیکھو اس میں میں زید کے آنے کو ذکر کر رہا ہوں تو جانبِ مخالف کیا؟ نہ آنا، تو یہ امکانِ عام ہے، اس میں جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی ہوتی ہے، میں آنے کو ذکر کر رہا ہوں تو جانبِ مخالف کیا؟ نہ آنا، معلوم ہوا نہ آنا ضروری نہیں۔ نہ آنا اگر نہ آنا ضروری ہوتا پھر میں یہ نہیں کہہ سکتا تھا ہو سکتا ہے زید ابھی آجائے۔ مثلاً فرض کرو زید امریکہ میں ہے، زید کہاں پر ہے؟ امریکہ میں ہے، تو پھر کبھی میں کہوں گا ہو سکتا ہے ابھی زید آجائے؟ جی؟ کیونکہ اب اس کا نہ آنا ضروری ہے بھئی، مثلاً اتنی دور ہے کہ یہاں وہ پہنچ ہی نہیں سکتا بھئی، یا یوں دوسری مثال لو، امریکہ کی مثال بھی نہ لو، وہاں بھی احتمال ہے ہو سکتا ہے وہ سفر کر کے آ رہا ہو راستے میں آ جائے، بلکہ فرض کرو زید مر چکا ہے، زید مر چکا ہے، جب مر چکا ہے تو پھر کبھی میں کہوں گا کہ ہو سکتا ہے زید ابھی آجائے؟ کیوں؟ زید کے آنے کا امکان میں کیوں نہیں ذکر کر سکتا؟ کیونکہ جانبِ مخالف یعنی زید کا نہ آنا ضروری ہے، لازمی ہے بھئی، کیونکہ وہ مر چکا ہے، وہ آ ہی نہیں سکتا بھئی۔ توجہ ہے؟ ایک چیز کے ہونے کو میں تبھی ذکر کروں گا جب اس کا نہ ہونا ضروری نہ ہو، اگر نہ ہونا ضروری ہے پھر میں نہیں کہہ سکتا۔ زید زندہ ہے تو میں کہہ سکتا ہوں کہ ہو سکتا ہے ابھی زید آجائے کیونکہ اس کا نہ آنا ضروری نہیں، اور اگر زید مر چکا ہے اب تو اس کا نہ آنا ضروری ہے، لازمی ہے، وہ آ ہی نہیں سکتا، تو اب میں کبھی بھی نہیں کہوں گا ہو سکتا ہے زید آجائے، آنے کو ذکر نہیں کر سکتا، کیوں؟ کیونکہ جانبِ مخالف ضروری ہے یعنی نہ آنا ضروری ہے کیونکہ وہ مر چکا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو امکانِ عام کسے کہتے ہیں؟ جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی۔ آنا، آنے کے مخالف کیا؟ نہ آنا، کھانے کا مخالف کیا؟ نہ کھانا، پینے کا مخالف کیا؟ نہ پینا، چلنے کا مخالف کیا؟ نہ چلنا۔ تو جب ایک چیز ذکر ہوگی، جب ایک چیز کا امکان ذکر ہوگا تو اس کی جو جانبِ مخالف ہے اس کا ہونا ضروری نہیں، تبھی یہ امکان ذکر کیا جائے گا۔ مثلاً فرض کرو، فرض کرو ایک پتھر ہے ایک پورے کمرے جتنا بڑا ہے، اب مجھے بتائیے، زید اس کو اٹھا سکتا ہے یا نہیں اٹھا سکتا؟ ظاہر سی بات ہے زید نہیں اٹھا سکتا، معلوم ہوا اس کو نہ اٹھانا زید کے لیے ضروری ہے، لازم ہے، وہ اس کو نہیں اٹھا سکتا۔ جب زید کے لیے اس کا نہ اٹھانا ضروری ہے، لازم ہے، تو میں کبھی بھی یہ نہیں کہوں گا: بھئی ہو سکتا ہے زید اس کو اٹھا لے، یہ ہو سکتا ہے، وہی امکان ذکر کر رہا ہوں نا، یہ امکان تبھی ذکر کیا جاتا ہے جب جانبِ مخالف ضروری نہ ہو بھئی۔ جب جانبِ مخالف ضروری نہ ہو بھئی، اور جب جانبِ مخالف ضروری ہے پھر امکان نہیں ذکر کیا جا سکتا۔ زید اس پتھر کو نہیں اٹھا سکتا تو میں کبھی نہیں کہوں گا کہ ہو سکتا ہے زید اس کو اٹھا لے بھئی، بھئی اتنا بڑا پتھر تو ممکن ہی نہیں ہے وہ اٹھا لے، کیوں؟ کیونکہ اس کا نہ اٹھانا لازم ہے، ضروری ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ یا اور مثال لے لو، مثلاً دیکھو سورج مشرق سے نکلتا ہے، مشرق سے نکلتا ہے، اور شمال سے اس کا نکلنا ممکن ہے؟ شمال سے نکلنا ممکن نہیں، جب ممکن نہیں تو میں کبھی نہیں کہوں گا: ہو سکتا ہے آج سورج شمال سے نکل آئے۔ کیوں؟ کیونکہ جانبِ مخالف ضروری ہے، جانبِ مخالف کیا؟ ہاں شمال سے نہ نکلنا، اسی میں نفی لے کر آؤ۔ میں نے کس کو ذکر کیا؟ شمال سے نکلنے کو، اس کی جانبِ مخالف کیا؟ شمال سے نہ نکلنا ضروری ہے، لازمی ہے، شمال سے وہ نکل ہی نہیں سکتا۔ تو امکان تبھی ذکر کیا جاتا ہے جب جانبِ مخالف ضروری نہ ہو، اگر جانبِ مخالف ضروری ہو پھر امکان نہیں ذکر کیا جا سکتا بھئی، شمال سے سورج کا نکلنا ضروری ہے، لازمی ہے، یہاں سے وہ نکل ہی نہیں سکتا، لہٰذا میں کبھی بھی نہیں کہہ سکتا ہو سکتا ہے سورج آج شمال سے نکل آئے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو امکانِ عام کسے کہتے ہیں؟ جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی۔ اور جانبِ مخالف کیا معنی؟ ایک چیز کا ہونا ذکر ہے تو اس کے مخالف کیا؟ نہ ہونا، اگر ہونا ذکر ہے تو اس کی جانبِ مخالف ہے نہ ہونا، اور اگر نہ ہونا ذکر کر رہے ہیں تو اس کی جانبِ مخالف کیا ہے؟ ہونا بھئی۔ تو جو بھی چیز ذکر کی جائے، چاہے ہونا چاہے نہ ہونا، اس میں امکان تبھی آئے گا، اس کا امکان تبھی ہوگا جب اس کی جانبِ مخالف ضروری نہ ہو بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ یہ تھا امکانِ عام بھئی، اس میں جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی ہوتی ہے۔ اور ایک ہے امکانِ خاص، امکانِ خاص میں جانبین سے ضرورت کی نفی ہوتی ہے، دونوں جانب سے ضرورت کی نفی: نہ ہونا ضروری اور نہ نہ ہونا ضروری بھئی، نہ ہونا ضروری۔ امکانِ خاص اس میں دونوں جانب سے ضرورت کی نفی ہوتی ہے، نہ ہونا ضروری اور نہ نہ ہونا ضروری۔ مثلاً ایک پتھر ہے پچاس سیر کا پتھر ہے بھئی، پچاس سیر، اب دیکھو اس میں احتمال ہے ہو سکتا ہے زید اس کو اٹھا لے، ہو سکتا ہے زید اس کو نہ اٹھا سکے بھئی۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ہو سکتا ہے زید اس پتھر کو اٹھا لے، اٹھانے کی جانبِ مخالف کیا؟ نہ اٹھانا، معلوم ہوا نہ اٹھانا ضروری نہیں ورنہ میں یہ نہیں کہہ سکتا تھا۔ اور ہو سکتا ہے زید اس پتھر کو نہ اٹھائے، نہ اٹھانے کی جانبِ مخالف کیا؟ اٹھانا، معلوم ہوا اٹھانا ضروری نہیں، ہو سکتا ہے اٹھائے ہو سکتا ہے نہ اٹھائے، ایک بھی جانب ضروری نہیں ہے، چاہے آپ اٹھانے کو ذکر کریں چاہے نہ اٹھانے کو، اس کی جانبِ مخالف ضروری نہیں ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ امکانِ خاص کہتے ہیں۔ تو امکان عام میں ایک جانب، دیکھو کلام میں ایک چیز ذکر کریں گے یا ہونا یا نہ ہونا، تو جانب مخالف سے اگر ضرورت کی نفی ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ امکان عام۔ ہونا ذکر ہے تو اس کی جانب مخالف کیا؟ نہ ہونا، اور نہ ہونا کلام میں ذکر ہے تو اس کی جانب مخالف کیا؟ ہونا۔ تو اس میں جانب مخالف سے ضرورت کی نفی ہوتی ہے تو اس کو امکان عام کہتے ہیں، اور اگر دونوں جانب سے ضرورت کی نفی ہو تو اس کو امکان خاص کہتے ہیں۔ اب دیکھیے بھئی یہاں پر آیا کہ اس کی خبر پر، ایسے مبتدا کی خبر پر فا کا لانا صحیح ہے یعنی جائز ہے، یہ امکان خاص مراد ہے، یہ کیا ہے؟ امکان خاص مراد ہے۔ کیا معنی؟ فا کا لانا بھی جائز اور نہ لانا بھی، توجہ ہے؟ تو جب فا کا لانا جائز ہے معلوم ہوا جانب مخالف یعنی نہ لانا ضروری نہیں۔ اور اگر کہیں کہ فا کا نہ لانا بھی جائز ہے تو فا نہ لانے کی جانب مخالف کیا؟ فا کا لانا، معلوم ہوا فا کا لانا بھی لازم نہیں، اگر فا کا لانا لازم ہوتا پھر ہم یہ نہیں کہہ سکتے تھے فا کا لانا جائز ہے۔ تو اس میں دونوں جانبیں برابر ہیں، معلوم ہوا فا کا لانا بھی لازم نہیں اور نہ لانا بھی لازم نہیں۔ بھئی دیکھو تین صورتیں تھیں نا، ایک صورت کیا تھی؟ یا تو یہ دلالت مقصود ہوگی کہ اول ثانی کے لیے سبب ہے یا یہ دلالت مقصود نہیں ہوگی۔ اگر یہ دلالت مقصود ہے تو پھر فا کا لانا لازم ہے، دیکھو لانا لازم ہے، لانا لازم ہے۔ اور اگر دلالت مقصود نہیں تو پھر فا کا نہ لانا لازم ہے، دیکھو ان دو صورتوں میں ایک ایک چیز لازم ہو رہی ہے، ایک ایک چیز لازم ہے، لیکن جواز والی صورت میں کوئی ایک بھی چیز لازم اور ضروری نہیں، معلوم ہوا یہ کیا ذکر ہے؟ امکان خاص، کیونکہ امکان خاص میں ہونا اور نہ ہونا دونوں میں سے ایک بھی ضروری نہیں ہوتا، دونوں ممکن ہوتے ہیں، بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہاں پر بھی امکان خاص مراد ہے، امکان عام مراد نہیں ہے۔ دلالت مقصود ہوگی یا دلالت مقصود نہیں، ان میں امکان عام مراد ہے۔ دلالت مقصود ہے تو فا کا لانا لازم، معلوم ہوا نہ لانا جائز نہیں۔ اور دلالت مقصود نہیں تو پھر فا کا نہ لانا واجب ہے، معلوم ہوا فا کا لانا جائز نہیں، تو وہاں دیکھو ایک ایک جانب ضروری ہے، جبکہ یہاں پر دونوں جانبیں، دونوں جانبوں سے ضرورت کی نفی ہے، نہ فا کا لانا لازم، نہ فا کا نہ لانا لازم، تو اس میں امکان خاص مراد ہے، بات سمجھ میں آگئی۔ تو محض اس بات کی طرف نظر کرتے ہوئے کہ مبتدا متضمن ہے معنی شرط کو، تو یہاں معلوم ہوا لا بشرط شئے مراد ہے بھئی، کیا مراد ہے؟ لا بشرط شئے مراد ہے، یا یوں کہیں کہ یہاں پر امکان خاص مراد ہے۔ ایک ہے امکان عام اور ایک ہے امکان خاص، امکان عام میں جانب مخالف سے ضرورت کی نفی ہوتی ہے، مثلاً ہونا ذکر ہے تو اس کی جانب مخالف کیا؟ نہ ہونا، اور اگر نہ ہونا ذکر ہے تو اس کی جانب مخالف کیا؟ ہونا۔ امکان عام میں ایک چیز کا امکان ذکر کیا جاتا ہے کہ یہ ممکن ہے، اور یہ اسی وقت کہا جاتا ہے جب جانب مخالف ضروری نہ ہو، لازم نہ ہو، اگر جانب مخالف لازم ہو، ضروری ہو پھر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ممکن ہے۔ تو وہ صورت جس میں دلالت مقصود ہو اس میں فا کا لانا واجب ہے، اور وہ صورت جس میں دلالت مقصود نہیں اس میں فا کا نہ لانا واجب ہے، تو دیکھو اس میں ایک جانب لازم ہے، ضروری ہے، تو وہاں پر وہ امکان عام مراد ہے، اور یہاں پر امکان خاص مراد ہے اور امکان خاص میں دونوں جانبیں برابر ہوتی ہیں، ہونا بھی لازم نہیں اور نہ ہونا بھی لازم نہیں، تو وہ یہاں پر مراد ہے، بات سمجھ میں آگئی۔ پھر ترجمہ سنیں، کہتے ہیں: "فيصح دخول الفاء في الخبر"، تو صحیح ہے فا کا داخل ہونا اس خبر میں، "ويصح عدم دخوله فيه"، اور اس خبر کے اندر فا کا داخل نہ ہونا بھی صحیح ہے، یعنی دونوں صورتیں جائز ہیں، "نظراً إلى مجرد تضمن المبتدأ معنى الشرط"، اس بات کی طرف نظر کرتے ہوئے کہ مبتدا جو ہے وہ شرط کے معنی کو متضمن ہے۔ صرف اس بات کی طرف نظر کرتے ہوئے کہ مبتدا معنی شرط کو متضمن ہے، یعنی دلالت مقصود ہے یا دلالت مقصود نہیں اس کی طرف نظر کیے بغیر، صرف اس بات کی طرف نظر کرتے ہوئے کہ مبتدا متضمن ہے معنی شرط کو۔ تو کہتے ہیں: "نظراً إلى مجرد تضمن المبتدأ معنى الشرط"، مجرد کا ترجمہ کریں گے محض کے ساتھ، محض، "نظراً إلى مجرد تضمن المبتدأ معنى الشرط"، محض مبتدا کے معنی شرط کو متضمن ہونے کی طرف نظر کرتے ہوئے، ترجمہ سمجھ میں آیا ترجمہ؟ "نظراً إلى مجرد تضمن المبتدأ معنى الشرط"، محض اس بات کی طرف نظر کرتے ہوئے کہ مبتدا متضمن ہے شرط کے معنی کو، "وأما إذا قصدت الدلالة على ذلك المعنى في اللفظ"، اور جب ارادہ کیا جائے اس معنی پر دلالت کا، اور جب اس معنی پر دلالت کا ارادہ بھی کیا جائے "في اللفظ"، لفظوں کے اندر کہ لفظوں کے اندر بھی اس پر دلالت ہو جائے کہ یہ معنی مقصود ہے یعنی اول کو آپ سبب بنانا چاہتے ہیں کس کے لیے؟ ثانی کے لیے، "فيجب دخول الفاء فيه"، تو اس کے اندر فا کا داخل ہونا واجب ہے بھئی، کیونکہ آپ لفظوں میں دلالت کرنا چاہتے ہیں کہ اول سبب ہے ثانی کے لیے، "وأما إذا لم تقصد"، اور باقی جب یہ وہ دلالت مقصود نہ ہو، "فلم يجب دخوله فيه"، تو پھر اس خبر پر فا کا داخل کرنا واجب نہیں ہے، "بل يجب عدمه"، بلکہ عدم دخول جو ہے وہ واجب ہے، بلکہ پھر اس فا کا داخل نہ کرنا واجب ہے جب وہ دلالت مقصود نہیں ہے، اور جبکہ تیسری صورت یہ ہے کہ نہ دلالت مقصود ہے نہ عدم دلالت مقصود ہے، تو صرف اس بات کی طرف اگر دیکھیں کہ مبتدا میں بہرحال مبتدا متضمن تو ہے معنی شرط کو، چاہے مقصود ہے چاہے مقصود نہیں، لیکن متضمن تو ہے معنی شرط کو، تو اس کی طرف نظر کرتے ہوئے فا کا لانا بھی جائز ہے اور فا کا نہ لانا بھی جائز ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔