Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-017

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 14
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔17 ولما فرغ عن نفي الترادف قصداً شرع في نفي الاشتراك قصداً فقال: وموجبه الوجوب لا الندب والإباحة والتوقف. يعني: أن موجب الأمر الوجوب فقط عند العامة، لا الندب كما ذهب إليه بعض، ولا الإباحة كما ذهب إليه بعض، ولا التوقف كما ذهب إليه بعض، ولا الاشتراك لفظاً أو معنى بين الثلاثة أو الإثنين كما ذهب إليه آخرون. گزشتہ سبق میں نفی کی تھی انہوں نے اشتراک کی بھی اور ترادف کی بھی کنایۃً۔ پھر اس کے بعد ترادف کی نفی کی تھی قصداً، تو اب ترادف کی نفی کے بعد اشتراک کی نفی کرنے لگے ہیں بصراحت۔ تو کہتے ہیں: ولما فرغ عن نفي الترادف قصداً، جب مصنف رحمہ اللہ فارغ ہوئے ترادف کی نفی سے قصداً، قصداً ترادف کی نفی سے جب وہ فارغ ہوئے، تو شروع ہوئے اشتراک، قصداً اشتراک کی نفی میں۔ فقال: تو فرماتے ہیں: وموجبه الوجوب، امر کا موجب وجوب ہے۔ امر کا موجب کیا ہے؟ وجوب ہے۔ موجب یعنی حکم بھئی، حکم۔ تو کہتے ہیں: وموجبه الوجوب، امر کا حکم جو ہے وہ وجوب ہے، لا الندب والإباحة والتوقف، ندب، اباحت اور توقف نہیں۔ خود دیکھئے بتلا رہے ہیں: یعنی أن موجب الأمر الوجوب فقط، امر کا موجب یعنی حکم جو ہے وہ وجوب ہے عند العامة، اکثر علماء کے نزدیک، لا الندب كما ذهب إليه بعض، ندب نہیں ہے جیسے کہ اس کی طرف گئے ہیں بعض، بعض علماء، ولا الإباحة كما ذهب إليه بعض، اور اباحت بھی نہیں ہے جیسے کہ اس کی طرف بعض علماء گئے ہیں، ولا التوقف كما ذهب إليه بعض، اور نہ ہی توقف ہے جیسے اس کی طرف بعض علماء گئے ہیں، ولا الاشتراك لفظاً أو معنى، اور نہ ہی اشتراک لفظی یا معنوی ہے بين الثلاثة أو الإثنين، تین یا دو کے درمیان، كما ذهب إليه آخرون، جیسے اس کی طرف دوسرے علماء گئے ہیں۔ سمجھ میں آ رہی ہے بات؟ بالکل واضح بات وہی بیان کر رہے ہیں بھئی۔ تو اشتراک لفظی اور معنوی بھی نہیں ہے بھئی۔ یاد رکھیے اشتراک، ایک اشتراک لفظی ہے، ایک اشتراک معنوی ہے۔ اشتراک لفظی یہ ہے کہ ایک ہی لفظ کو مختلف معانی کے لیے الگ الگ وضع کیا جائے بھئی۔ ایک ہی لفظ کو مختلف معانی کے لیے الگ الگ وضع کیا جائے۔ یہ اشتراک لفظی ہے بھئی۔ جیسے مولانا، عین کا لفظ، اس کو چشمے کے لیے بھی وضع کیا گیا، اس کو سونے کے لیے بھی وضع کیا گیا، یعنی ذہب، اور اس کو سورج کے لیے بھی وضع کیا گیا، گھٹنے کے لیے بھی وضع کیا گیا، آنکھ کے لیے بھی وضع کیا گیا، جاسوس کے لیے بھی وضع کیا گیا، وغیرہ بھئی، بہت سے معانی کے لیے اس کو وضع کیا گیا۔ تو ایک ہی لفظ کو کئی معانی کے لیے الگ الگ وضع کرنا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ اشتراک لفظی۔ اور ایک اشتراک معنوی ہے، اشتراک معنوی اسے کہتے ہیں کہ لفظ کو ایسے معنی کلی کے لیے وضع کیا جائے جس کے کئی افراد ہوں۔ لفظ کو ایسے معنی کلی کے لیے وضع کیا جائے جس کے کئی افراد ہوں۔ جیسے انسان ہے بھئی، اس کے بہت سے افراد ہیں، رجل ہے بھئی، رجل کے بہت سے افراد ہیں۔ تو یہ کیا ہے؟ اشتراک معنوی ہے بھئی کہ افراد کثیر ہوں بھئی۔ تو کہا: اس کا حکم صرف وجوب ہے، ندب بھی نہیں ہے، اباحت بھی نہیں ہے، توقف بھی نہیں ہے، اور اشتراک لفظی یا معنوی دو یا تین کے درمیان یہ بھی نہیں ہے بھئی اس کا حکم بھئی۔ ولم يذكره المصنف رحمة الله لأنه يفهم مما ذكره التزاماً، بھئی مصنف نے اوپر ندب کی بھی نفی کی، اباحت کی بھی نفی کی، توقف کی بھی نفی کی، یہ اشتراک کی نفی کیوں نہیں کی؟ کہتے ہیں: مصنف نے اس لیے ذکر نہیں کیا کیونکہ جو انہوں نے ذکر کر دیا تھا اس سے التزاماً اشتراک کی بھی نفی سمجھ میں آ جاتی تھی بھئی۔ اس سے کیا سمجھ میں آ جاتی ہے؟ اس سے اشتراک کی نفی واضح طور پر سمجھ میں آ جاتی ہے، لہذا اس کو صراحۃً علیحدہ ذکر نہیں کیا۔ اس لیے کہ جب مصنف نے کہا: وموجبه الوجوب، امر کا حکم صرف کیا ہے؟ وجوب ہے، تو اشتراک معنوی کی نفی ہو گئی، معلوم ہوا اس کے معنی کے کئی افراد نہیں ہیں بلکہ اس کا ایک ہی معنی ہے۔ اور جب ندب، اباحت اور توقف کی نفی کی، تو اشتراک لفظی کی بھی کیا ہو گئی؟ نفی ہو گئی کہ یہ ندب، اباحت یا توقف کے لیے وضع نہیں ہے بھئی۔ تو یہ اسی لیے کہا: ولم يذكره المصنف رحمة الله، اشتراک کو ذکر نہیں کیا مصنف نے، لأنه يفهم، اس لیے کہ وہ سمجھ میں آ جاتا ہے، مما، اس چیز سے، ذكره، جو انہوں نے ذکر کی ہے، اور کس طریقے پر سمجھ میں آتا ہے؟ التزاماً سمجھ میں آ جاتا ہے بھئی کہ اس کے ساتھ کیا ہے یہ؟ لازم ہے بھئی کہ اشتراک نہیں ہے۔ جی، فأهل الندب يقولون، اہل ندب جو ہیں، يقولون، وہ کہتے ہیں: الأمر للطلب، امر کس لیے آتا ہے؟ طلب کے لیے آتا ہے۔ فلا بد أن يكون جانب الفعل فيه راجحاً حتى يطلب، پس ضروری ہے کہ اس کے اندر جانب فعل راجع ہونی چاہیے حتی کہ اسے طلب کیا جائے۔ دیکھئے مولانا، یہ حاشیہ دیکھ لیجیے ذرا۔ پانچ نمبر، میری کتاب میں تو پانچ نمبر حاشیہ ہے، اوپر جو آیا تھا: يعني أن موجب الأمر الوجوب فقط، اس کے اوپر۔ آپ کی کتابوں میں بھی یہی ہے بھئی؟ جی۔ قوله: موجب الأمر، أي الأثر الثابت بالأمر، یعنی وہ اثر جو ثابت ہوتا ہے کس کے ذریعے؟ امر کے ذریعے، وہ کیا ہے؟ وجوب ہے۔ یہ حکم، موجب اور حکم میں نے بتلایا ایک ہی معنی ہے تو حکم کا یہ معنی پہلے بھی گزر چکا ہے۔ عند أكثر العلماء، اکثر علماء کے نزدیک، وهو جواز الفعل مع حرمة الترك، وجوب کسے کہتے ہیں؟ فعل کا جائز ہونا مع حرمة الترك، ساتھ ترک کرنے کے حرمت کے۔ ایجاب کسے، واجب کسے کہیں گے بھئی؟ وجوب؟ فعل جس کا کرنا جائز اور چھوڑنا حرام ہو، جس کا کرنا جائز اور چھوڑنا حرام ہو۔ والندب جواز الفعل مع رجحانه، اور ندب کہتے ہیں فعل کا جائز ہونا مع رجحانه، ساتھ اس کے راجع ہونے کے۔ اس کا کرنا کیا ہو؟ راجع ہو اور چھوڑنا مرجوح ہو، تو کرنا راجع ہو۔ والإباحة جواز الفعل مع جواز الترك، اور اباحت کسے کہتے ہیں؟ فعل کا جائز ہونا ساتھ ترک کے جائز ہونے کے۔ تو دیکھو، جواز فعل تینوں کے اندر آ رہا ہے، وجوب میں بھی جواز فعل ہے، ندب میں بھی جواز فعل ہے، اباحت میں بھی جواز فعل ہے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ وجوب کے اندر چھوڑنا حرام ہوتا ہے، چھوڑنے کی اجازت نہیں ہوتی بھئی، کرنا پڑے گا۔ اور ندب کے اندر کرنا راجع ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ راجع ہوتا ہے، اور اباحت کے اندر کرنا اور نہ کرنا دونوں کیا ہیں؟ برابر ہیں، تو جواز فعل کے ساتھ جواز ترک بھی ہے۔ ثم اعلم، پھر آپ جان لیجیے، أن الموجب بفتح الجيم، کہ موجب ج کے فتح کے ساتھ، والمقتضى والحكم، والمقتضى والحكم، ألفاظ مترادفة عند الفقهاء، یہ تینوں لفظ کیا ہیں فقہاء کے نزدیک؟ مترادف ہیں، موجب، مقتضی، حکم، تینوں کا ایک ہی معنی ہے تینوں کا بھئی۔ جی، اب آئیے کتاب پر بھئی۔ تو اہل ندب يقولون، وہ کہتے ہیں: الأمر للطلب، امر کس لیے آتا ہے؟ طلب کے لیے آتا ہے۔ فلا بد أن يكون جانب الفعل فيه راجحاً، بھئی دیکھئے امر میں ایک فعل کو طلب کیا جاتا ہے، کیا کیا جاتا ہے؟ فعل کو طلب کیا جاتا ہے، آپ نے اپنے ساتھی سے کہا: اضرب زيداً، تو اضرب کے ذریعے آپ کیا کر رہے ہیں اس سے؟ ضرب کو طلب۔ تو امر کے ذریعے ایک فعل کو طلب کیا جاتا ہے، تو ضروری ہے کہ اس کے اندر جانب فعل راجع ہونی چاہیے اور ترک کیا ہونا چاہیے؟ بھئی جب آپ طلب کر رہے ہیں، تو فعل کے کرنے کو کیا ہونا چاہیے؟ راجع ہونا چاہیے بھئی، راجع ہونا چاہیے، حتى يطلب، یہاں تک کہ اسے کیا کیا جائے؟ طلب، راجع ہوگا تو اسے طلب کیا جائے گا۔ وأدناه الندب، اور طلب کا ادنیٰ درجہ کیا ہے؟ ندب ہے۔ سمجھ میں آیا؟ جس میں جانب فعل راجع ہوا کرتی ہے۔ اور اعلیٰ درجہ وجوب ہے مولانا، اعلیٰ درجہ۔ کیوں؟ کیونکہ وہاں پر فعل کی طلب بھی ہوتی ہے اور اس کا چھوڑنا کیا ہوتا ہے؟ حرام، معلوم ہوا طلب کس قسم کی ہے؟ بھئی اعلیٰ، طلب اعلیٰ درجے کی ہے کہ اس فعل کو چھوڑنا جائز ہی نہیں، اور طلب ادنیٰ درجے کی ہے تو فعل کیا ہے؟ راجع، کرنا بہتر ہے، نہ بھی کرے تو اس کی بھی گنجائش ہے بھئی۔ خلاصہ سمجھ میں آ گئی؟ تو طلب، تو کہتے ہیں: امر طلب کے لیے آتا ہے، تو لہذا ضروری ہے اس کے اندر جانب فعل کو راجع ہونا چاہیے حتی کہ اسے طلب کیا جائے، وأدناه الندب، اور اس کا ادنیٰ درجہ کیا ہے؟ ندب ہے۔ جی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو معلوم ہوا امر جو ہے وجوب اور ندب دونوں کے لیے آتا ہے۔ ان کے نزدیک کیا ہوا؟ امر کس لیے آیا؟ طلب کے لیے آیا، اور طلب کس کے اندر ہے؟ وجوب کے اندر بھی ہے اور ندب کے اندر بھی ہے، لیکن ادنیٰ درجہ کیا ہے؟ ندب، اور اعلیٰ درجہ کیا ہے؟ وجوب بھئی۔ وهذا كقوله تعالى، اور یہ جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: فكاتبوهم إن علمتم فيهم خيراً. بھئی مکاتب بھئی، غلام ہوتا ہے، آپ جانتے ہیں بھئی۔ مکاتب کسے کہتے ہیں؟ کہ جس کا آقا اس کے ساتھ اسے کہے بھئی کہ اگر اتنا مال لے آؤ تو تم آزاد ہو، اور غلام اس بات کو قبول کر لیتا ہے یا غلام یہ بات کرتا ہے، آقا اس کو قبول کر لیتا ہے اور دونوں میں عقد ہو جاتا ہے، یہ عقد کیا کہلاتا ہے؟ عقدِ کتابت کہلاتا ہے۔ اور غلام وہ پیسے لے آئے تو وہ کیا ہو جاتا ہے؟ آزاد ہو جاتا ہے، اور مکاتب آپ جانتے ہیں آزاد آدمی کی طرح ہوتا ہے، یعنی آقا کی خدمت اس کے ذمے نہیں ہے بلکہ جائے گا، پیسے کما کر لا کر دے گا اور اپنے آپ کو آزاد کروائے گا۔ تو مکاتب کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: والذين يبتغون الكتاب مما ملكت أيمانكم، اور وہ جو چاہتے ہیں کتابت کو ممام، ان میں سے ملكت أيمانكم، جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہیں بھئی۔ وہ غلام، یہ سمجھے؟ جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہیں سے مراد غلام اور باندیاں ہیں، وہ غلام اور باندیاں جو کس چیز کو چاہتے ہیں؟ وہ غلام جو کس چیز کو طلب کرتے ہیں؟ کتابت کو طلب کرتے ہیں، ان کے بارے میں اللہ فرما رہے ہیں: فكاتبوهم، تو تم ان کو کیا بنا دو؟ مکاتب بنا دو، إن علمتم فيهم خيراً، اگر تم ان میں کیا جانتے ہو؟ بھلائی جانتے ہو، بھلائی ہو اور وہ مالِ کتابت ادا کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں تو ان کو کیا بنا دو؟ مکاتب بنا دو۔ تو یہاں امر آیا مولانا، امر: فكاتبوهم، اور یہ امر بھئی کس لیے آیا ہے؟ ندب کے لیے آیا ہے بھئی، وجوب کے لیے نہیں ہے بھئی، ندب کے لیے آیا ہے، معلوم ہوا ان کو مکاتب بنانا کیا ہے؟ مندوب ہے، بہتر ہے۔ وأهل الإباحة يقولون، اور اہل اباحت کہتے ہیں: إن معنى الطلب، کہ طلب کا معنی یہ ہے، أن يكون مأذوناً فيه، کہ وہ فعل کیا ہونا چاہیے؟ مأذون فيه ہونا چاہیے، یعنی اس کی اجازت ہونی چاہیے۔ طلب کا کیا معنی ہے؟ کہ اس فعل کی کیا ہونی چاہیے؟ اجازت بھئی، اجازت بھئی، ولا يكون حراماً، اور وہ فعل حرام نہیں ہونا چاہیے، وأدناه هو الإباحة، اور اس کا، اجازت کا ادنیٰ درجہ کیا ہے؟ اباحت ہے۔ دیکھو وجوب میں بھی جواز فعل ہے، ندب میں بھی جواز فعل ہے، اور اباحت میں بھی کیا ہے؟ جواز فعل ہے۔ لیکن وجوب میں کیا تھا؟ ترک، چھوڑنا اس کا حرام تھا، ندب میں اس کا کرنا کیا تھا؟ راجع تھا، اور اباحت کے اندر اس کا کرنا اور نہ کرنا دونوں برابر ہیں، معلوم ہوا اجازت تینوں کی ہے اور سب سے ادنیٰ درجہ کونسا ہے؟ اباحت کا ہے، کونسا ہے؟ اباحت کا ہے بھئی۔ وهذا كقوله تعالى، اور یہ اللہ کے اس قول کی طرح ہے: فاصطادوا. اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: وإذا حللتم فاصطادوا، جب تم احرام سے حلال ہو جاؤ، فاصطادوا، تو شکار کرو۔ امر آیا مولانا، اور یہ امر بھئی کس لیے ہے؟ اباحت کے لیے ہے، کس لیے ہے؟ اباحت کے لیے ہے بھئی، کہ شکار کرنا تمہارے لیے کیا ہو گیا اب؟ بھئی حالتِ احرام میں تو شکار کرنا جائز نہیں تھا، لیکن جب تم حلال ہو جاؤ تو اب کیا کرو؟ شکار کرو، شکار کرنا حلال ہے بھئی۔ جائز ہو گیا، اجازت ہے اس کی بھئی۔ والمتوقفون يقولون، اور توقف کرنے والے بھئی، توقف کا معنی ہوتا ہے رکنا، رکنا۔ والمتوقفون يقولون، اور توقف کرنے والے کہتے ہیں: إن الأمر يستعمل لستة عشر معناً، کہ امر جو ہے وہ سولہ معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے، سولہ معانی کے لیے، كالوجوب، جیسے کہ وجوب ہے، وجوب کے لیے امر آتا ہے جیسے: وأقيموا الصلاة، نماز کیا کرو؟ نماز قائم کرو، والإباحة، اور کس لیے آتا ہے؟ اباحت کے لیے آتا ہے جیسے کیا اوپر آیا تھا: فاصطادوا، والندب، اور کس کے لیے آتا ہے؟ ندب کے لیے بھی آتا ہے: فكاتبوهم، جی، والتهديد، اور بطورِ دھمکی کے، دھمکی کے لیے بھی آتا ہے جیسے کیا آیا تھا: اعملوا ما شئتم، جو تم چاہتے ہو وہ عمل کرو، والتعجيز، اور کبھی کس لیے امر آیا کرتا ہے؟ تعجیز کے لیے آتا ہے، عاجز کر دینے کے لیے بھئی، اس کے دوسرے کے عجز کو ظاہر کرنے کے لیے، جیسے اللہ فرماتے ہیں: فأتوا، فأتوا بسورة من مثله، والإرشاد، اور کبھی رہنمائی کے لیے امر آتا ہے جیسے بھئی اس کی مثال آپ کے حاشیے میں دی ہوئی ہے بھئی، سولہ معانی کے لیے امر آتا ہے وہ سولہ کے سولہ ذکر کر دیے ہیں حاشیے میں بھئی، وہ آپ ضرور دیکھ لیجیے گا۔ تو ارشاد کی مثال جیسے: وأشهدوا ذوي عدل منكم، اور تم گواہ بنا لو اپنے میں سے دو عادل آدمیوں کو بھئی۔ والـ، اور کبھی کس لیے آتا ہے؟ تو ارشاد، ارشاد کہتے ہیں رہنمائی کرنا بھئی، کیا کرنا؟ تو یہ جو امر آیا یہ ارشاد کے طور پر ہے، رہنمائی کے طور پر ہے۔ بھئی یاد رکھیے ارشاد اور ندب قریب قریب ہیں۔ لیکن فرق یہ ہے کہ ارشاد آتا ہے دنیاوی فائدے کے لیے، اور جو ندب ہے وہ کس لیے ہے؟ اخروی فائدے کے لیے ہے، اخروی فائدہ ہے اس میں، اس میں دنیاوی فائدہ ہے۔ سمجھ میں آیا؟ کہ دو عادل آدمیوں کو کیا کر لو؟ گواہ بنا لو بھئی دنیاوی فائدہ ہے اس میں بعد میں کوئی انکار دوسرا کرنا چاہے تو پھر وہ انکار نہیں کر سکے گا۔ والتسخير، اور کس لیے آتا ہے امر؟ جیسے کہ تسخیر ہے، تسخیر کا معنی مغلوب کرنا، جیسے بھئی اس کی مثال ہے: كونوا قردة خاسئين بھئی، بنی اسرائیل میں بھئی وہ جنہوں نے اللہ کے حکم کی مخالفت کی تھی بھئی وہ مچھلی کے شکار اس سے نہریں چھوٹی چھوٹی بنا لیں یا تالابوں کی طرح تو مچھلیاں ادھر چلی جاتی ہیں، وہ راستہ بند کر دیتے، شکار پکڑتے نہیں تھے بس، کیونکہ اس دن شکار کی ممانعت تھی۔ پھر اگلے دن ان کو پکڑ لیتے تھے۔ سمجھے؟ تو بارہ اہ تو یہ اللہ کے حکم کے مخالفت تھی بھئی، جب راستہ بند کر دیا تو مچھلی روک لی گویا، حالانکہ اس دن تو شکار کی اجازت نہیں تھی بھئی۔ تو پھر ان سب کو بھئی کیا کیا؟ بندر بنا دیا گیا اور چند دن وہ زندہ رہے اور پھر سب مر گئے بھئی۔ تو اس کی مثال جیسے كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ، ہو جاؤ تم بندر مسخ شدہ۔ تو یہ امر کس لیے ہے؟ تسخیر کے لیے ہے، مغلوب کرنے۔ وغیر و غیر ذلک اور اس کے علاوہ اور معانی کے لیے بھئی، میں نے بتلایا انہوں نے بتایا 16 معانی کے لیے آتا ہے وہ سارے حاشیے میں ذکر ہیں، ان میں سے چند ایک ذکر کر دیے۔ تو کہتے ہیں اہل اہ متوقف کرنے والے کہتے ہیں کہ جو امر ہے وہ 16 معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے وجوب، اباحت، ندب، تحدید، تعجیز، ارشاد، تسخیر وغیرہ۔ فَمَا لَمْ تَكُنْ قَرِينَةٌ عَلَى أَحَدِهِمَا لَمْ يُعْمَلْ بِهِ، جب تک کوئی قرینہ کسی ایک پر قائم نہیں ہو جاتا اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ فَيَجِبُ التَّوَقُّفُ حَتَّى يَتَعَيَّنَ الْمُرَادُ، توقف کرنا واجب ہوگا یہاں تک کہ مراد کیا ہو جائے؟ متعین ہو جائے، اور قرینہ آ کر بتلا دے اس امر کے ذریعے کیا مراد ہے؟ تو پھر اس کے بعد عمل واجب ہوگا ورنہ اس سے پہلے کیا کیا جائے گا؟ توقف کیا جائے گا۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ وَعِنْدَنَا اور ہمارے نزدیک جو ہے اَلْوُجُوبُ حَقِيقَةُ الْأَمْرِ، وجوب وہ حقیقتِ امر ہے فَيُحْمَلُ عَلَيْهِ مُطْلَقُهُ، لہٰذا محمول کیا جائے گا وجوب پر ہی مطلقہ اَی مطلق الامرِ، کس کو؟ مطلقِ امر کو، مَا لَمْ تَقُمْ قَرِينَةٌ خِلَافِهِ، جب تک اس کے خلاف کوئی قرینہ قائم نہ ہو جائے، وَإِذَا قَامَتْ قَرِينَتُهُ يُحْمَلُ عَلَيْهِ عَلَى حَسَبِ الْمَقَامِ، اور جب اس کے خلاف کا قرینہ قائم ہو جائے تو پھر اس پر محمول کیا جائے گا مقام کے اعتبار سے بھئی۔ بھئی، بحث یہ چل رہی ہے کہ ہمارے نزدیک امر کس لیے ہے؟ وجوب کے لیے، یعنی جب امر مطلق ہو بھئی، اگر کوئی قرینہ قائم ہے وہ بتلا دے کہ یہ امر اباحت کے لیے ہے، ندب کے لیے ہے، وہاں تو امر اباحت، ندب وغیرہ ہی کے لیے ہوگا، لیکن اگر امر مطلق آئے اس کے ساتھ کوئی قرینہ وغیرہ نہیں تو اس صورت میں اس کو کس معنی پر محمول کیا جائے گا؟ ہمارے نزدیک امر کا حقیقی معنی کیا ہے؟ وجوب ہے، لہٰذا وجوب پر محمول کیا جائے گا۔ اہل ندب کیا کہتے ہیں؟ کہ امر وجوب اور ندب دونوں کے لیے آتا ہے، وہ طلبِ فعل کے لیے ہے اور جب کوئی قرینہ قائم نہ ہو تو اس صورت میں جو طلب کا ادنیٰ درجہ ہے اور وہ کیا ہے؟ ندب، اس پر محمول کر لیا جائے گا اور اہ جو اباحت والے ہیں وہ کہتے ہیں کہ امر کس لیے آیا کرتا ہے؟ طلب کے لیے آتا ہے، تو اِ طلب کا مع طلب کا معنی یہ ہوا کہ اس فعل کی اجازت ہے، وہ اس وہ وہ حرام نہیں۔ تو لہٰذا اس کے ذریعے معلوم ہوا اجازت ہے اور اجازت کا ادنیٰ درجہ کس کے اندر ہے؟ اباحت کے اندر ہے بھئی، تو لہٰذا اگر امر مطلق آئے اس کے ساتھ کوئی قرینہ نہ ہو تو اس سے کون سا معنی لیا جائے گا؟ اباحت والا۔ توقف والے کہتے ہیں بھئی جب امر مطلق آئے کوئی قرینہ قائم نہ ہو تو پھر توقف کیا جائے گا، اس پر عمل نہیں کیا جائے گا، اس لیے کہ ا امر جو ہے 16 معانی کے لیے آتا ہے اور ان 16 معانی میں سے کس پر ہم عمل کریں بھئی؟ کسی ایک کا بھی قرینہ نہیں ہے، تو کیا کریں گے؟ توقف کریں گے، عمل نہیں کریں گے، رک جائیں گے یہاں تک کہ کوئی قرینہ بتلا دے کہ اس سے یہ والا معنی مراد ہے، پھر اس پر کیا کیا جائے گا؟ عمل کیا جائے گا۔ جبکہ ہمارے نزدیک امر کیا ہے؟ وجوب کے لیے ہے، لہٰذا جب کوئی مطلق امر آئے کوئی قرینہ نہ ہو تو اس پر کس پر اس کو کس پر محمول کیا جائے گا؟ وجوب پر محمول کریں گے بھئی، کہ امر معلوم ہوا وجوب کے لیے آیا ہے، ہاں اگر وجوب کے خلاف کوئی قرینہ آ جاتا ہے تو پھر اس صورت میں مقام کے مطابق جو قرینہ آئے گا اسی پر محمول کر لیں گے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ سَوَاءٌ كَانَ بَعْدَ الْحَظْرِ أَوْ قَبْلَهُ، برابر ہے کہ وہ امر ممانعت کے بعد ہو یا اس سے پہلے ہو۔ کہتے ہیں متعلق بقولہ و موجبہ الوجوب، اس کا تعلق ماتن کے قول و موجبہ الوجوب سے ہے، امر کا حکم کیا ہے؟ وجوب ہے، سَوَاءٌ كَانَ بَعْدَ الْحَظْرِ أَوْ قَبْلَهُ، برابر ہے کہ وہ امر ممانعت سے کے بعد ہو یا ممانعت سے پہلے ہو۔ کہتے ہیں تو اس کا تعلق اس سے ہے، ورداً علیٰ من قال، اور یہ رد ہے بھئی بعض علماء نے لکھا کہ امر اگر ممانعت کے بعد آئے تو پھر وہ کس لیے ہوگا؟ اباحت کے لیے ہوگا، پہلے منع تھی ایک فعل سے، روکا گیا تھا پھر امر آیا اس فعل کے کرنے کا، تو منع کے بعد جب امر آئے گا تو وہ کس لیے ہوگا؟ اباحت کے لیے، مصنف نے ان کی بھی نفی فرما دی کہ ہمارے نزدیک امر وجوب کے لیے ہے چاہے ممانعت کے بعد آئے، چاہے ممانعت سے پہلے آئے۔ تو کہتے ہیں ورداً علیٰ من قال ان الامر بعد الحظر للاباحۃ و قبلہ للوجوبِ، جو یہ رد ہے ان پر جنہوں نے یہ کہا ہے کہ امر جو ہے ممانعت کے بعد وہ اباحت کے لیے ہوگا و قبلہ للوجوب اور ممانعت سے پہلے وجوب کے لیے ہوگا علیٰ حسب ما یقتضیہ العقل والعادۃُ، جیسا کہ عقل اور عادت اس کا تقاضا کرتی ہے اس کے اعتبار سے، عقل اور عادت کے تقاضے کے اعتبار سے اس کو کس پر محمول کریں گے؟ اگر ممانعت کے بعد ہو تو اباحت پر، اور اگر ممانعت سے پہلے ہو تو پہلے اگر منع نہیں تھی امر آ گیا، تو یہ کس لیے ہوا؟ وجوب کے لیے۔ اگر منع تھی اس فعل کا کرنا منع تھا پھر اس کے بعد اس فعل کا امر آیا، معلوم ہوا پہلے تو جائز نہیں تھا اب کیا ہو گیا؟ جائز ہو گیا، پہلے اجازت نہیں تھی اب کیا آ گئی؟ اجازت آ گئی، تو اس صورت میں اس کو کس پر محمول کر لیں گے؟ اباحت پر محمول کریں گے بھئی، اور جیسا کہ عقل اور عادت بھی اسی کا تقاضا کرتی ہے، عقل بھی یہی کہتی ہے عادت بھی کہ پہلے جب ممانعت ہے اس کے بعد امر آئے تو اس سے کیا معنی ہونا چاہیے؟ اباحت والا معنی ہونا چاہیے۔ کقول، دیکھیے دلیل بھی دیتے ہیں، کقولہ تعالیٰ جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا، اور جب تم حلال ہو جاؤ فَاصْطَادُوا تو شکار کرو۔ بھئی اس سے پہلے احرام کے اندر آپ جانتے ہیں شکار کرنا جائز نہیں بھئی، شکار سے منع کیا گیا ہے، پھر اللہ فرماتے ہیں وَإِذَا حَلَلْتُمْ، جب تم احرام سے حلال ہو جاؤ یعنی احرام اتار دو احرام ختم ہوا، فَاصْطَادُوا تو بتائیے حالتِ احرام میں شکار کیا تھا؟ منع تھا، اور اس منع کے بعد اب کیا آیا؟ فَاصْطَادُوا، امر آیا بھئی، معلوم ہوا یہ امر کس لیے ہے؟ اباحت کے لیے ہے۔ ونحن نقولُ، اور ہم کہتے ہیں، إِنَّ الْوُجُوبَ بَعْدَ الْحَظْرِ أَيْضًا مُسْتَعْمَلٌ فِي الْقُرْآنِ، کہ آپ نے کیا کہا ممانعت کے بعد جو امر آئے گا وہ کس لیے ہوگا؟ اباحت کے لیے ہوگا، بھئی منع کے بعد امر آئے اور اس سے وجوب ثابت ہو جائے ایسا بھی قرآن میں آیا ہے، معلوم ہوا آپ کی بات درست نہیں، کہ پہلے ممانعت تھی اس کے بعد کیا آیا؟ امر آیا، اور آپ کے قول کے مطابق اس سے کیا ہونا چاہیے؟ اباحت ثابت ہونی چاہیے لیکن اس سے کیا ثابت ہو رہا ہے؟ وجوب ثابت ہو رہا ہے۔ اور ہم کہتے ہیں کہ إِنَّ الْوُجُوبَ بَعْدَ الْحَظْرِ أَيْضًا مُسْتَعْمَلٌ فِي الْقُرْآنِ، کہ ممانعت کے بعد وجوب جو ہے اس کے اندر بھی امر استعمال ہوا ہے قرآن کے اندر، کقولہ تعالیٰ جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: فَإِذَا انْسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ، جب گزر جائیں حرمت والے مہینے، فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ، تو تم قتل کرو مشرکین کو، حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ، جہاں بھی تم ان کو پاؤ۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ وجوب بعد الحظر بھی کیا ہے قرآن میں؟ مستعمل ہے، کہ ممانعت کے بعد وجوب بھئی یہ بھی استعمال ہوا ہے قرآن میں، جیسے بھئی اشہرِ حرم کے اندر حرمت والے مہینے ہیں، بھئی آپ جانتے ہیں حرمت والے مہینے چار عرب ان کی بے انتہا تعظیم کیا کرتے تھے اور اسی طرح اسلام میں بھی، تو ان کے اندر جنگ سے روکا گیا تھا بھئی۔ سمجھ میں آیا کون کون سے مہینے ہیں؟ رجب ہے، ذی القعدہ ہے، ذی الحجہ ہے، اور محرم ہے۔ رجب، ذی القعدہ، ذی الحجہ اور محرم۔ تو رجب ان سے الگ ہے وہ رمضان سے پہلے ہی آتا ہے، اور باقی یہ ذی الحجہ سے ایک ماقبل کا مہینہ ایک ما بعد کا مہینہ بھئی۔ تو یہ چار مہینوں کے اندر جنگ کی ممانعت تھی، پھر اس کے بعد فَإِذَا انْسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ، اللہ فرما رہے ہیں جب حرمت والے مہینے گزر جائیں فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ، تو مشرکین کو کیا کرو؟ قتل کرو حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ، جہاں بھی تم ان کو پاؤ، تو یہ فاقتلوا امر آیا اور یہ وجوب کے لیے ہے، کس کے لیے ہے؟ وجوب کے لیے ہے، معلوم ہوا ممانعت کے بعد بھی امر کس کے لیے استعمال ہوا ہے قرآن میں؟ وجوب کے لیے استعمال ہوا ہے، تو آپ کی دلیل ٹوٹ گئی، آپ نے تو کہا تھا ممانعت کے بعد کس لیے ہوگا ہمیشہ؟ اباحت کے لیے ہوگا۔ باقی آپ نے جو مثال ذکر کی تھی وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا، کہ یہ کس کے بعد آیا ہے؟ اصطادوا امر کس کے بعد آیا ہے؟ ممانعت کے بعد، لہٰذا اس سے کیا ثابت ہو رہا ہے؟ اباحت ثابت ہو رہی ہے، اس کا بھی اب جواب دینے لگے ہیں، کہتے ہیں والاباحۃ فی قولہ تعالیٰ، اور جو اباحت ہے اللہ کے قول کے اندر وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا، اس کے اندر جو اباحت آئی ہے لَمْ یُفْہَمْ مِنَ الْاَمْرِ، یہ امر سے مفہوم نہیں ہوتی، بَلْ مِنْ قَوْلِہٖ تَعَالٰی اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبَاتُ، بلکہ اللہ کے اس قول سے مفہوم ہوتی ہے حلال کر دیا گیا تمہارے لیے پاکیزہ چیزوں کو بھئی، اور شکار بھی کس میں سے ہے؟ پاک چیزوں میں سے ہے، معلوم ہوا شکار بھی کیا ہے؟ حلال ہے، پاکیزہ چیزوں کے بارے میں کیا آیا اللہ کا حکم؟ وہ کیا ہے تمہارے لیے؟ حلال کر دی گئی ہیں، اور شکار بھی کس میں سے ہے؟ پاک چیزوں میں سے ہے، معلوم ہوا شکار بھی کیا ہے؟ حلال ہے، اور حلال کا لفظ کس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے؟ جی؟ کہ اس کی اجازت ہے، حلال کا لفظ کس میں استعمال کیا جاتا ہے؟ اجازت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تو یہ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبَاتُ سے اس امر کی اباحت کا پتہ چلا یعنی شکار کی اجازت ہے کیونکہ یہ بھی کس میں سے ہے؟ پاک چیزوں میں سے۔ سمجھ میں آئی بھئی بات؟ بھئی دیکھو نا انہوں نے کیا کہا تھا، اصطادوا کس لیے آیا ہے؟ اباحت کے لیے آیا ہے، اور کس کے بعد آیا ہے؟ ممانعت کے بعد، معلوم ہوا ممانعت کے بعد جو امر آئے گا وہ کس لیے ہوگا؟ اباحت کے لیے، یعنی اس کی اجازت ہوتی ہے، کیا ہوتی ہے اس کی؟ اجازت ہوتی ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں بھئی، یہ بات اس کی اجازت اس کا مباح ہونا اہ یہ اس کا پتہ امر سے نہیں چل رہا بلکہ اس کا پتہ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبَاتُ سے چل رہا ہے، اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبَاتُ کیا معنی؟ حلال کر دیا گیا ہے تمہارے لیے پاک چیزوں کو، اور پاک چیزوں میں سے ایک کیا ہے؟ شکار بھی پاک چیزوں میں سے ہے معلوم ہوا وہ بھی کیا ہے؟ حلال ہے، اور حلال ہونے کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ جائز ہے، اس کی اجازت ہے۔ تو سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ تھا قرینہ لفظیہ بھئی، یہ کیا تھا قرینہ لفظیہ تھا جس کے ذریعے اس شکار کے حلال ہونے کا یعنی یہاں اس امر کے ذریعے اباحت کا پتہ چلا، وَمِنْ اَنَّ الْاَمْرَ بِالِاسْتِیَادِ اِنَّمَا وَقَعَ مِنَّۃً وَّ نَفْعًا لِّلْعِبَادِ، اور قرینہ عقلیہ بھی اس پر ہے بھئی۔ اس امر سے اباحت کا جو پتہ چل رہا کہ یہ امر اباحت کے لیے ہے، اس کے دو قرینے ہیں مولانا، ایک قرینہ لفظیہ دوسرا قرینہ عقلیہ، پہلا قرینہ لفظیہ گزر گیا بھئی کہ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبَاتُ سے اس کا علم ہوا، دوسرا قرینہ عقلیہ ہے بھئی، قرینہ عقلیہ یہ ہے کہ یہ جو شکار کرنے کا حکم اہ آیا ہے، یہ بطورِ احسان اور نفع کے طور پر اللہ نے ذکر فرمایا ہے، کس طور پر؟ بطورِ احسان اور نفع کے طور پر ذکر فرمایا ہے، اور اگر اس کو فرض قرار دے دیا جائے تو پھر تو اس میں حرج لازم آئے گا، کیا لازم آئے گا؟ حرج، اللہ احسان کو ذکر فرما رہے ہیں اور اگر اس کو واجب قرار دے دیں پھر تو یہ تکلیف کا باعث ہو جائے گا، حرج میں پڑ جائیں گے بھئی، شکار کرنا کیا ہے؟ واجب ہے۔ تو معلوم ہوا یہ عقلی قرینہ ہے کہ جب اس کو احسان کے موقع پر کے طور پر ذکر کیا جا رہا ہے معلوم ہوا کہ اس سے وجوب مراد نہیں ہے بلکہ کیا مراد ہے؟ اباحت، تو یہ قرینہ عقلیہ ہوا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں یہ اس سے سمجھ میں نہیں آتا بلکہ اللہ کے قول اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبَاتُ سے سمجھ میں آتا آتی ہے یہ اباحت، وَمِنْ اَنَّ الْاَمْرَ بِالِاسْتِیَادِ، اور اس بات سے سمجھ میں آتی ہے کہ امر بالاستیاد جو ہے یہ شکار کرنے کا جو حکم ہے اِنَّمَا وَقَعَ مِنَّۃً وَّ نَفْعًا لِّلْعِبَادِ، یہ واقع ہوا ہے بطورِ احسان اور نفع کے لوگوں کے لیے، وَاِذَا کَانَ فَرْضًا فَیَکُوْنُ حَرَجًا، اور جب یہ فرض ہو پھر تو کیا ہوگا؟ حرج ہوگا۔ حَرَجًا عَلَیْہِمْ، تو پھر تو یہ مومنوں پر مسلمانوں پر حرج ہوگا، فَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ الْأَمْرُ عِنْدَ الْإِطْلَاقِ لِلْوُجُوبِ، پس مناسب ہے کہ امر کو اطلاق اطلاق کے وقت امر کس لیے ہو؟ وجوب کے لیے ہو، وَإِنَّمَا يُحْمَلُ عَلَى غَيْرِهِ بِالْقَرَائِنِ وَالْمَجَازِ، اور دوسرے معانی پر محمول کیا جائے گا قرائن کے ذریعے اور مجاز کے طریقے پر بھئی، مجاز کے ذریعے کیا جائے گا یا قرائن کے ذریعے، تو مطلق جب بھی امر آئے گا وہ کس لیے آئے گا؟ وجوب کے لیے آئے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو ماتن کی جو عبارت تھی وَمُوجَبُهُ الْوُجُوبُ لَا النَّدْبُ وَالْإِبَاحَةُ وَالتَّوَقُّفُ سَوَاءٌ كَانَ بَعْدَ الْحَظْرِ أَوْ قَبْلَهُ، اس سارے کے خلاصہ کیا نکلا؟ کہ کس چیز کو انہوں نے بتلایا؟ کہ امر مطلق امر کس لیے آئے گا؟ وجوب کے لیے آئے گا۔ کہتے ہیں ثُمَّ شَرَعَ فِي بَيَانِ دَلَائِلِ الْوُجُوبِ، بھئی یہ تو بتلا دیا کہ امر کا مقتضا کیا ہے؟ وجوب ہے، امر کا حکم کیا ہے؟ وجوب ہے، اب دلیلیں بھی ذکر کریں گے بغیر دلیل کے نہیں، تو کہتے ہیں ثُمَّ شَرَعَ فِي بَيَانِ دَلَائِلِ الْوُجُوبِ، پھر وجوب کے دلائل کے بیان میں شروع ہوئے فَقَالَ، تو فرماتے ہیں: لِانْتِفَاءِ الْخِيَرَةِ عَنِ الْمَأْمُورِ بِالْأَمْرِ بِالنَّصِّ۔ اچھا، لانتفاء الخیرۃ، انتفاء منتفی ہونا، یا ختم ہونا، الخیرۃ اختیار بھئی، اختیار کا ختم ہونا منتفی ہونا۔ آگے آ رہا ہے بالنص، اس بالنص جار مجرور کا تعلق انتفاء سے ہے، اختیار کا ختم ہونا کس کی وجہ سے؟ نص کی وجہ سے۔ کس سے اختیار کا ختم ہونا نص کی وجہ سے؟ عَنِ الْمَأْمُورِ بِالْأَمْرِ، وہ جو مامور بالامر ہے جس کو حکم دیا گیا ہے امر کے ذریعے، جس کو المامور بالامر، جس کو حکم دیا گیا ہے امر کے ساتھ، امر کے ساتھ جس کو حکم دیا گیا ہے۔ عبارت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ لِانْتِفَاءِ الْخِيَرَةِ عَنِ الْمَأْمُورِ بِالْأَمْرِ، تو بالامر کا تعلق مامور سے ہے، جس کو حکم دیا گیا ہے بالامر، کس کے ساتھ؟ امر کے ساتھ حکم دیا گیا ہے۔ البتہ جو بالنص آیا اس کا تعلق کس سے ہے؟ انتفاء سے ہے، اسی طرح عن المامور بالامر اس کا سارے کا تعلق کس سے ہے؟ اس کا بھی تعلق انتفاء سے ہے۔ اختیار کا ختم ہونا، کس سے ختم ہونا؟ عن المامور بالامر، اس شخص سے جس کو امر کے ساتھ حکم دیا گیا ہے، بالنص کس کے ذریعے؟ نص کے ذریعے handle. تو یہ دلیل ذکر فرما رہے ہیں مولانا کہ امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے آتا ہے بھئی، وجوب کیوں؟ لِانْتِفَاءِ الْخِيَرَةِ عَنِ الْمَأْمُورِ بِالْأَمْرِ بِالنَّصِّ، اس لیے کہ اختیار جو ہے مامور بالامر سے منتفی ہو جاتا ہے نص کے ذریعے، اگلا متن دیکھیے: وَاسْتِحْقَاقِ الْوَعِيدِ لِتَارِكِهِ، اور اس کا چھوڑنے والے کا وعید کا مستحق ہونے کی وجہ سے، اگلا متن دیکھیے: وَلِدَلَالَةِ الْإِجْمَاعِ وَالْمَعْقُولِ، اور اجماع اور معقول کی دلالت کی وجہ سے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ دلائل ذکر کریں گے بھئی۔ تو پہلی بات کیا ذکر کی؟ وجوب کی کیا دلیل ہے؟ کہ اختیار کا ختم ہو جانا نص کے ذریعے، کس سے اختیار کا ختم ہو جانا؟ مامور بالامر سے، یعنی جس کو امر کے ساتھ حکم دیا گیا ہے۔ أَيْ إِنَّمَا قُلْنَا إِنَّ مُوجَبَهُ الْوُجُوبُ لِانْتِفَاءِ الِاخْتِيَارِ عَنِ الْمَأْمُورِينَ الْمُكَلَّفِينَ بِالْأَمْرِ بِالنَّصِّ، ہم نے کہا کہ اوام امر کا حکم جو ہے وجوب ہے اس لیے کہ بوجہ اختیار کے ختم ہو جانے کے و وہ مامور مکلفین بالامر بالنص۔ جو مکلف ہیں بھئی, وہ مامور جو مکلف ہیں بالامرِ! کس کے ساتھ؟ امر کے ساتھ۔ بالنسِ! کس کے ذریعے؟ نس کے ذریعے۔ ان سے اختیار کا ختم ہو جانا ان مامورینِ مکلفین سے۔ یعنی نس کے ذریعے یہ جو مامور ہیں جن کو حکم دیا گیا ہے, جو مکلف ہیں, ان کے ان سے اختیار کا ختم ہو جانا, کس کے ذریعے؟ نس۔ نس میں آ رہا ہے کہ ان کا کوئی اختیار نہیں, سمجھ میں آیا بھئی! جب نس کے ذریعے پتہ چل گیا کہ ان کا اختیار نہیں, یعنی کسی اور اختیار کا نہ ہونا, یہ کس کے اندر ہوتا ہے؟ واجب کے اندر ہوتا ہے, مندوب اور مباح میں تو اختیار ہوتا ہے, فعل کو کرے یا فعل کو نہ کرے, لیکن نس کے ذریعے پتہ چل رہا ہے کہ جس کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے کوئی حکم کیا جائے, تو پھر ان کو کوئی اختیار باقی نہیں رہتا, اور اختیار باقی نہ رہنا, یہ کس کے لوازمات میں سے ہے؟ کس کے لوازم میں سے ہے؟ وجوب کے لوازم میں سے ہے, وجوب کے ساتھ لازم ہے کہ اس میں کسی قسم کا اختیار نہیں رہے گا۔ باقی اباحت اور ندب میں تو کیا ہوتا ہے؟ اختیار ہوتا ہے, بھئی! نس کے ذریعے پتہ چل رہا ہے کہ اختیار ختم ہو چکا ہے, اس نے کس بات پر دلالت کر دی؟ کہ امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے آتا ہے۔ اچھا, تو نس کے ذریعے اختیار ختم ہوا, اور وہ نس کیا ہے؟ کہتے ہیں: وهو قوله تعالى, وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: وما كان لمؤمن ولا مؤمنة إذا قضى الله ورسوله أمرا, اور نہیں ہے کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کے لیے إذا قضى الله ورسوله أمرا, جب فیصلہ فرما دیں اللہ اور اس کے رسول کسی معاملے کا, أن يكون لهم الخيرة, کہ ان کو کوئی اختیار ہو, من أمرهم, اللہ اور رسول کے حکم سے۔ اللہ اور رسول کے حکم سے ان کو کسی قسم کا اختیار اب نہیں, ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو بھئی دیکھیے, أن يكون لهم, یہ پہلی ضمیر کس کو راجع ہے؟ مومن اور مومنہ کو, لیکن وہ چونکہ نکرہ ہے, سیاقِ نفی میں آیا ہے, اور نکرہ سیاقِ نفی میں آئے تو کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ عموم کا فائدہ دیتا ہے, تو لہٰذا عموم آیا, تو اس لیے ان کی طرف کون سی ضمیر راجع کی گئی؟ جمع والی ضمیر راجع کی گئی۔ اور آگے من أمرهم کی هم ضمیر کس کو راجع کی گئی؟ اللہ اور اس کے رسول کو, بھئی وہ تو تثنیہ کی ضمیر راجع ہونی چاہیے تھی, کہتے ہیں بھئی, تعظیم کے طور پر, کس طور پر؟ تعظیم کے طور پر جمع کی ضمیر راجع کی گئی بھئی۔ اب دوبارہ ترجمہ دیکھیے: اور نہیں ہے کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کے لیے کہ جب فیصلہ فرما دیں اللہ اور اس کے رسول کسی معاملے کا کہ ان کو کوئی اختیار ہو اللہ اور رسول کے امر میں, اللہ اور رسول کے... اس نس سے کیا پتہ لگا بھئی؟ مومن مرد اور عورت کو اللہ کے اور رسول کے امر کے آنے کے بعد اختیار ہے؟ اختیار نہیں! اور اختیار کا نہ ہونا, یہ تو کس کے اندر ہوتا ہے؟ وجوب, معلوم ہوا امر بھی کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے ہو گا بھئی, کیونکہ جب امر آ جائے, پھر اس کے بعد کسی قسم کا اختیار نہیں, اور کسی قسم کا اختیار نہ ہونا, یہ تو کس میں ہوتا ہے؟ وجوب کی صورت میں۔ دیکیھیے خود اسی آیت کا ترجمہ بھی کریں گے: لأن معناه, اس لیے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے, اس نس کا معنی یہ ہے: إذا حكم الله ورسوله بأمر, جب فیصلہ کر دیں اللہ اور اس کے رسول کسی امر کا... یہاں آپ کی کتابوں میں بأمر ہے؟ اچھا! بأمر ہی ہونا چاہیے۔ جب فیصلہ فرما دیں اللہ اور اس کے رسول کسی معاملے کا, فلا يكون لمؤمن ولا مؤمنة, تو نہیں ہے کسی مومن مرد اور کسی مومنہ عورت کے لیے, أن يكون لهم الاختيار, کہ ان کے لیے کوئی اختیار ہو, من أمرهما, دیکھا أمرهما, بتلایا کہ یہ أمرهم کی هم ضمیر کس کو راجع ہے, اللہ اور رسول کو راجع ہے بھئی۔ اللہ اور اس کے رسول کے حکم میں سے... بھئی, اختیار نہیں ہے ان کو, بھئی, اختیار کا کیا معنی؟ إن شاؤوا قبلوا الأمر وإن شاؤوا لم يقبلوا, یعنی اگر وہ چاہیں تو قبول کر لیں, اور اگر چاہیں تو قبول نہ کریں, یہ اختیار ان کو نہیں ہے۔ بل يجب عليهم الإئتمار بأمرهما, بلکہ واجب ہے ان پر تعمیل کرنا ان دونوں کے حکم کی۔ ئتمار کا معنی تعمیل کرنا۔ بلکہ واجب ہے ان پر کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی کیا کریں حکم کی؟ تعمیل کریں۔ ولا يكون ذلك إلا في الواجب, اور یہ نہیں ہو گا مگر کس کے اندر؟ واجب کے اندر ہی ہو گا۔ تو دیکھو, نس کے ذریعے اختیار کے ختم ہونے کا پتہ چلا, اور اختیار کا ختم ہونا تو صرف کس کے اندر ہوتا ہے؟ واجب کے اندر ہوتا ہے, معلوم ہوا امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب... مطلب امر آ جائے, تو پھر اختیار نہیں رہتا, جب اختیار نہیں رہا, پتہ لگا یہ کیا, کس لیے آیا ہے؟ وجوب کے لیے آیا ہے۔ وقيل, اور بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ وہ نس یہ ہے بھئی, جس اختیار کے ختم ہونے کا پتہ لگا, کہ أن النص هو قوله تعالى, کہ وہ نس جو ہے, وہ اللہ کا یہ قول ہے: ما منعك ألا تسجد إذ أمرتك... إذ أمرتك خطابا لإبليس اللعين, بھئی! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں بھئی, اللہ تعالیٰ نے تمام فرشتوں کو اور ابلیس کو حکم دیا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں, تمام فرشتوں نے سجدہ کیا, لیکن ابلیس نے سجدہ نہیں کیا, تکبر کیا, تو اللہ نے فرمایا: ما منعك ألا تسجد, ألا تسجد, یہ لا زائدہ ہے مولانا, یہ کیا ہے؟ لا زائدہ ہے بھئی, تحسینِ عبارت کے لیے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ما منعك, کس چیز نے تجھے منع کیا تھا؟ کس چیز نے تجھے روکا تھا؟ أن تسجد, لا کیا ہے؟ زائدہ! تو کیا ہو... دراصل أن تسجد! کس چیز نے تجھے منع کیا تھا کہ تو سجدہ کرے, إذ أمرتك, جب کس چیز نے تجھے منع کیا تھا سجدہ کرنے سے, إذ أمرتك, جب میں نے تجھے حکم دے دیا؟ معلوم ہوا, جب حکم آ گیا, اس کے بعد کسی قسم کا اختیار نہیں! بات سمجھ میں آ گئی؟ اور معلوم ہوا جب اختیار نہیں, وہ تو صرف کس کے اندر آتا ہے؟ وجوب کی صورت میں آتا ہے۔ تو اللہ, وہ اللہ کے اس قول سے ہے بھئی: ما منعك ألا تسجد إذ أمرتك, کس چیز نے تجھے روکا تھا کہ تو سجدہ کرے جب میں نے تجھے حکم دے دیا تھا؟ خطابا لإبليس اللعين, خطاب کرتے ہوئے ابلیس لعین کو, أي ما بقي لك الاختيار بعد أن أمرتك, یعنی تیرے لیے کوئی اختیار باقی نہیں تھا جب بعد اس کے جب میں نے تجھے حکم دے دیا تھا, فلم تركت السجود؟ تو تو نے سجدوں کو... تو نے سجدہ کرنے کو کیوں چھوڑ دیا بھئی؟ سجود بھئی, مصدر ہے مولانا! سمجھ میں آیا بھئی؟ تو نے سجدہ کرنے کو کیوں چھوڑ دیا بھئی؟ تو دیکھو بھئی, بعضوں نے کہا: نس وہ ہے: وما كان لمؤمن ولا مؤمنة, اس سے اختیار کے ختم ہونے کا پتہ چل رہا ہے۔ بعض دوسرا قول بھی ذکر کیا, لیکن اس کو قيل کے ساتھ ذکر کیا بھئی, کس کے ساتھ؟ قيل کے ساتھ! آپ جانتے ہیں قيل صیغہ تمریض کہلاتا ہے, سمجھ میں آیا؟ اس کے ذریعے کس کو ذکر کیا جاتا ہے؟ ضعیف قول کو ذکر کیا جاتا ہے, کمزور قول کو بھئی۔ تو اس دوسرے قول کو قيل کے ساتھ ذکر کیا بھئی, معلوم ہوا پہلا قول کیا ہے؟ قوی ہے, قوی ہے بھئی۔ بھئی, پہلے کو ترجیح کیوں دی, کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں اس لیے کہ وہاں پر صراحتاً اختیار کے ختم ہونے کا پتہ چل رہا تھا, اور یہاں صراحتاً اختیار کے ختم ہونے کے ذکر نہیں ہے بھئی, وہاں صراحتاً تھا کہ اختیار نہیں ہے کسی مومن مرد اور مومن عورت کو اللہ کا حکم آ جانے کے بعد, اور یہاں پر یہ صراحتاً نہیں ہے, ہاں البتہ التزاماً مفہوم ہو رہا ہے, اس لیے کہ اللہ کیا فرما رہے ہیں کہ جب میرا حکم آ گیا تھا, جب میں نے حکم دے دیا تھا, تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے روکا؟ معلوم ہوا کہ اللہ کا حکم آنے کے بعد کسی قسم کا اختیار باقی نہیں تھا, تو اختیار کے ختم ہونے پر اس نے دلالت کی, لیکن کس طریقے پر؟ التزاماً! اور پہلے نے کیا کی تھی؟ صراحتاً! لہٰذا اس کو... جی, اس کو ذکر کیا بھئی, قوی قول کے طور پر۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ واستحقاق الوعيد لتاركه, دوسری وجہ ذکر کر رہے ہیں: واستحقاق الوعيد لتاركه, اور اس امر... لتارك الأمر, اس امر کے چھوڑنے والے کا وعید کا مستحق ہونے کی وجہ سے, اس امر کے چھوڑنے والے کا وعید کا مستحق ہونے کی وجہ سے بھئی, وعید آئی ہے جو امر کو چھوڑ دیتا ہے, حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کو چھوڑ دیتا ہے, اور اس پر عمل نہیں کرتا, اس کے لیے وعید آئی ہے, اور یہ وعید بتلا رہی ہے کہ حضور علیہ السلام کے حکم پر عمل کرنا واجب ہے, ورنہ وعید نہ آتی! معلوم ہوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امر پر حکم... کی تعمیل کرنا ضروری تھا, اس کو چھوڑنے کی اجازت, اگر چھوڑنے کی گنجائش ہوتی تو چھوڑنے والے کے لیے کوئی وعید آتی؟ اس کے چھوڑنے والے کے لیے وعید آئی ہے, تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کو چھوڑنے والے کا وعید کا مستحق ہونا, یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے آتا ہے, معلوم ہوا جب امر آ جائے, اس کے بعد اس کے چھوڑنے کی گنجائش نہیں, اور چھوڑنے کی گنجائش نہ ہونا, یہ کس میں ہوتا ہے؟ مندوب میں, مباح میں یا واجب میں؟ واجب, واجب کے اندر چھوڑنے کی گنجائش نہیں ہوتی, مندوب اور مباح میں تو چھوڑنے کی گنجائش... معلوم ہوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کو چھوڑنے کی گنجائش نہیں, وہ کیا ہے؟ واجب ہے, اس پر عمل کرنا واجب ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: واستحقاق الوعيد لتاركه, اور اس کے امر کو چھوڑنے والے کا وعید کا مستحق ہونے کی وجہ سے, کہتے ہیں: عطف على قوله "انتفاء الخيرة", یہ عطف ہے ماتن کے ماقبل میں جو قول آیا تھا: انتفاء الخيرة, اختیار کے منتفی ہونے پر, إلى آخره, آخر تک۔ أي إنما قلنا, ہم نے کہا کہ: إن موجبها الوجوب, کہ امر کا موجب کیا ہے؟ اس کا حکم وجوب ہے, لاستحقاق الوعيد لتارك الأمر بالنص, بوجہ اس امر کو چھوڑنے والے کے وعید کا مستحق ہونے کی وجہ سے نس کی وجہ سے, اس امر کو چھوڑنے والے کا وعید کا مستحق ہونے کی وجہ سے, نس کی وجہ سے اس کا وعید کا مستحق ہونے کی وجہ سے ہم نے یہ کہا کہ امر کا موجب کیا ہے؟ وجوب ہے, اس کی وجوب آئے گا۔ اور وہ نس کیا ہے؟ وهو قوله تعالى, اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: فليحذر الذين يخالفون عن أمره أن تصيبهم فتنة أو يصيبهم عذاب أليم, پس چاہیے کہ ڈریں وہ لوگ, بچیں وہ لوگ, ڈریں, بچیں, دونوں... جو بھی ترجمہ آپ مناسب سمجھیں۔ پس چاہیے کہ ڈریں وہ لوگ, الذين يخالفون عن أمره, جو مخالفت کرتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کی, ڈریں, کس بات سے ڈریں؟ أن تصيبهم فتنة, کہ ان کو کوئی فتنہ پہنچے دنیا میں, أو يصيبهم عذاب أليم, یا ان کو دردناک عذاب پہنچے کہاں پر؟ آخرت میں۔ تو چاہیے کہ ڈریں وہ لوگ جو حضور صلی اللہ علیہ اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں کہ ان کو دنیا میں کوئی فتنہ پہنچے یا ان کو آخرت میں... تو انہیں اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یا انہیں کوئی دردناک عذاب پہنچے۔ دیکھیے! خود معنی کر رہے ہیں, میں نے بھئی... میں نے بتلایا أمره سے کیا مراد ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا امر, اور فتنہ کہاں پر ہو گا؟ دنیا میں, اور عذابِ علیم کہاں پر ہو گا؟ آخرت میں, خود شارح بتلا رہے ہیں, کہتے ہیں: فليحذر الذين... فليحذر الذين يخالفون عن أمر الرسول عليه السلام, پس چاہیے کہ ڈریں وہ لوگ جو مخالفت کرتے ہیں حضور علیہ السلام کے امر کی, آیت نے کیا کہا تھا؟ عن أمره, ضمیر کا مرجع بتلا دیا, کس کو راجع ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو, ويتركونه, اور اس کو چھوڑ دیتے ہیں, یہ تفسیر... عطفِ تفسیری ہے مولانا! یہ يخالفون کی تفسیر بیان کی جا رہی ہے, حضور علیہ السلام کے امر کی مخالفت کرتے ہیں, کیا معنی مخالفت کرتے ہیں؟ ويتركونه, اسے چھوڑ دیتے ہیں! تو معلوم ہوا مخالفت کا کیا معنی ہے؟ عمل کو چھوڑ دینا, اس امر پر عمل کو چھوڑ دینا۔ تو انہیں چاہیے, انہیں بچنا چاہیے: أن تصيبهم فتنة في الدنيا أو عذاب أليم في الآخرة, کہ ان کو کوئی فتنہ پہنچے دنیا کے اندر یا دردناک عذاب پہنچے آخرت کے اندر۔ وهذا الوعيد لا يكون إلا بترك الواجب, اور یہ وعید نہیں ہو سکتی مگر واجب ہی کے چھوڑنے پر, واجب ہی کے چھوڑنے... اس لیے کہ مندوب کا تو چھوڑنا جائز ہوتا ہے, مباح کا چھوڑنا بھی جائز ہوتا ہے, ہاں! کس کے چھوڑنے کی اجازت نہیں ہوتی؟ وجوب کی, تو یہاں بھی یہ بات کہ عمل کو, امر کو کیا کیا تم نے؟ چھوڑ دیا, حالانکہ اس کے تو چھوڑنے کی اجازت نہیں تھی, تو اس نے بھی کس پر دلالت کی؟ وجوب پر... تو کہتے ہیں: وهذا الوعيد لا يكون إلا بترك الواجب, اور یہ وعید نہیں ہو سکتی مگر کس پر... کس کے لیے؟ مگر واجب کے چھوڑنے پر ہی! ولكن يرد عليه, لیکن اس پر یہ دو اعتراض وارد ہوتے ہیں, آگے دو اعتراض ذکر کرنے لگے ہیں۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہ نس کے ان... نس میں جو ہے, حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کو چھوڑنے والے کے لیے وعید آئی ہے, معلوم ہوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کو چھوڑنے کی اجازت نہیں, اس پر عمل کرنا واجب ہے, معلوم ہوا امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے آتا ہے۔ لیکن ولكن يرد عليه, لیکن اس پر اشکال ہوتا ہے, أنه موقوف, کہ یہ جو دلیل ہے, یہ موقوف ہے, على أن يكون هذا الأمر أيضا للوجوب, کہ یہ امر جو آیا, فليحذر, یہ کیا آیا؟ امر! آپ کی دلیل اس بات پر موقوف ہے کہ یہ امر أيضا للوجوب, اسے کس لیے ہونا چاہیے؟ وجوب کے لیے ہونا چاہیے, وهو ممنوع, اور یہ ممنوع ہے, یہ بات تسلیم نہیں, کیونکہ یہی تو آپ کا دعویٰ ہے۔ بھئی! دیکھیے, سب سے پہلے یہ سمجھ لیجیے۔ یہاں پر حکم لگایا گیا ہے ذات مع الوصف پر بھئی! کیا حکم لگایا گیا ہے؟ ذات مع... بھئی دیکھیے! جب بھی ذات مع الوصف پر کوئی حکم لگایا جائے, تو وہاں پر حکم کی علت کا بھی پتہ لگ جاتا ہے کہ اس... اس حکم کی علت یہ وصف ہے دراصل, اس حکم کی علت کیا ہے؟ مثلاً میں آپ کو کہتا ہوں: اکرم زیدا! زید کا اکرام کرو! کوئی وجہ پتہ لگی کیوں اکرام کرنے کا میں کہہ رہا ہوں؟ نہیں, صرف اتنا پتہ ہے زید کا اکرام کرنا ہے, اور کیوں کرنا ہے؟ وجہ پتہ لگی, علت کا کوئی پتہ نہیں, لیکن اگر میں ذات مع الوصف ذکر کر دیتا ہوں, مثلاً میں کہتا ہوں: اکرم العالِم! اس عالم کا کیا کرو؟ اکرام کرو! اب آپ کو علت... اب میں نے صرف ذات ذکر کی ہے یا ذات مع الوصف ذکر کی ہے؟ ذات مع الوصف! اور جب ذات مع الوصف پر کیا حکم لگایا کہ تم کیا کرو اس کا؟ اکرام کرو! تو جب ذات مع الوصف کو ذکر ہوئی, تو اس وصف نے بتلا دیا کہ یہ وصف ہی دراصل کیا ہے؟ اس حکم کی علت ہے, معلوم ہوا اکرام کی علت کیا ہے, کیوں اکرام کرنے کا کہا جا رہا ہے؟ کیوں اکرام کیا جائے گا؟ علم کی وجہ سے, کس کی وجہ سے؟ علم کی وجہ سے! بات سمجھ میں آ گئی بھئی, اکرام کرنے کی علت کیا ہے؟ علم ہے, عالم ہونا ہے اس کا, صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا جب محض ذات پر ایک حکم لگایا جائے, اس کی علت کا پتہ نہیں چلتا, لیکن جب ذات مع الوصف پر کوئی حکم لگایا جائے اس کے بارے میں کوئی حکم بیان کیا جائے, تو وہاں اس حکم کی علت کا بھی پتہ لگ جاتا ہے۔ اب دیکھیے ذرا آیت میں بھئی, آیت میں آیا ہے: فليحذر الذين يخالفون عن أمره, پس چاہیے کہ ڈریں وہ لوگ جو مخالفت کرتے ہیں حضور علیہ السلام کے حکم کی... کس کو کہا جا رہا ہے, کون ڈریں؟ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت کرنے والے ہیں, ان کو ڈرنا چاہیے, کس چیز سے ڈرنا... کس چیز سے بچنا چاہیے؟ کہ انہیں کوئی دنیا میں فتنہ پہنچے یا آخرت میں دردناک عذاب پہنچے۔ اچھا, تو یہاں پر پتہ لگا, یہاں پر پتہ لگا کہ یہ جو فتنہ پہنچے گا یا دردناک عذاب پہنچے گا, اس کی علت کیا ہے؟ کیونکہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت کی ہے, تو دیکھو الذين کے ساتھ ذات مع الوصف ذکر ہوئی: الذين يخالفون عن أمره, یہاں ذات کے ساتھ کیا کیا آ گیا... کیا آ گیا ساتھ اس کے؟ وصف, تو علت کا بھی پتہ لگ گیا کہ یہ ان کو ڈرنا چاہیے فتنے اور عذابِ علیم سے, کس وجہ سے ڈرنا چاہیے؟ کیونکہ یہ کیا کرتے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جب یہاں آیا امر, فليحذر کیا آیا؟ امر! اور فتنے اور عذابِ علیم سے معلوم ہوا ڈرنا اور بچنا واجب ہے۔ فليحذر کیا آیا؟ امر آیا, اور امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے آتا ہے, تو لہٰذا معلوم ہوا فتنے اور دردناک عظیم میں واقع ہونے سے اپنے آپ کو بچانا واجب ہے, بچانا! اور فتنہ اور عذاب آئے گا کس وجہ سے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کی مخالفت کی وجہ سے۔ تو معلوم ہوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت سے بھی اپنے آپ کو بچانا واجب ہے معلوم ہوا فلیحذر امر ہے اور اس سے پتہ لگا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے چھوڑنے سے اپنے آپ کو بچانا واجب ہے معلوم ہوا امر کس لیے آیا کرتا ہے؟ وجوب، معلوم ہوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کو چھوڑنے کی گنجائش نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ، دلیل سمجھ میں آئی؟ کیا حکم لگایا گیا تھا؟ ذات مع الوصف پر اور ذات مع الوصف کی وجہ سے علت کا پتہ لگ گیا، جب علت کا پتہ لگ گیا کہ یہ حکم ہے اس سے تم بچو اور اس کی علت یہ ہے جب اس سے بچے ہوں گے، اس بچنا ضروری ہے اور اس سے بچیں گے کس طرح؟ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت نہ کی جائے، تو معلوم ہوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفت کے امر کے مخالفت کرنا یعنی اس کو چھوڑنے کی بھی گنجائش، اس پر عمل کرنا واجب ہے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اب اس پر اعتراض کرنے والا اعتراض کرتا ہے کہ بھئی ٹھیک ہے فلیحذر کیا ہے؟ امر آیا اور آپ نے کیا کہا یہ امر کس لیے ہے؟ وجوب کے لیے ہے، کس لیے ہے؟ وجوب کے لیے ہے، کہتے ہیں بھئی یہی تو آپ کا یہ، اس کے لیے تو دلیل چاہیے بھئی۔ یہ ایسا دعویٰ ہے جس کے لیے کیا چاہیے؟ آپ کا دعویٰ ہی دراصل یہ تھا کہ امر کس لیے آیا کرتا ہے؟ امر وجوب کے لیے آیا کرتا ہے، تو یہاں پر آپ، آپ فلیحذر کے ذریعے وجوب ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کے حکم کی مخا، کو چھوڑنے سے اپنے آپ کو بچانا واجب ہے، یہ واجب وجوب کہاں سے آپ نے ثابت کیا؟ امر کے صیغے سے ثابت کیا، تو امر کے صیغے سے پہلے یہ تو ثابت کریں کہ امر کا صیغہ وجوب کے لیے آیا کرتا ہے، یہی تو آپ کا دعویٰ ہے کہ امر کا صیغہ کس لیے آتا ہے؟ اور دلیل میں بھی کیا ذکر کر رہے ہیں؟ کہ یہ دیکھو یہ امر آیا اور امر آتا ہے وجوب کے لیے، معلوم ہوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کو چھوڑنے سے اپنے آپ کو بچانا، یہ تو بھئی آپ نے دعوے کو ہی، اس کے لیے دلیل چاہیے تھی اور آپ نے دعوے ہی کو کس میں ذکر کر، دعوے کو ہی دلیل بنا دیا، کیا بنا دیا؟ دلیل بنا دیا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو لہذا کہتے ہیں آپ کی یہ دلیل اس وقت تام ہو گی جب یہ طے ہو جائے کہ فلیحذر وجوب کے لیے ہے، تو اس کے لیے دلیل چاہیے اور دلیل چاہیے تو آپ دعوے کے، تو آپ اسی دعوے کو دلیل کے طور پر ذکر کر رہے ہیں یہ تو مصادرہ علی المطلوب ہے، یہ کیا ہے؟ مصادرہ علی المطلوب ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ آپ نے کیا کہا؟ یحذر کس لیے آیا ہے؟ امر کا صیغہ اور کس لیے آیا ہے؟ وجوب کے لیے آیا ہے کیونکہ امر کا صیغہ ہے کہتے ہیں بھئی یہ عجیب بات ہے، آپ کا دعویٰ ہی یہ تھا کہ امر وجوب کے لیے ہے اور دلیل کے طور پر کس کو ذکر فرما رہے ہیں؟ فلیحذر کو کہ اور یہ بھی کیا ہے؟ امر ہے اور اور امر کس لیے آپ کہتے ہیں آتا ہے؟ وجوب کے لیے، معلوم ہوا یہ صیغہ بھی کس کے لیے آیا؟ وجوب، بھئی یہ تو آپ کا دعویٰ تھا، آپ دعوے کو ہی دلیل کے اندر لے آئے، اسی دعوے کو آپ نے دلیل بنا دیا بھئی۔ ہمیں، ہمیں تو یہ تسلیم نہیں ہے کہ امر وجوب کے لیے آتا ہے اور آپ نے اسی کے لیے کیا کر دیا؟ دعوے ہی کو کیا بنا دیا؟ دلیل بنا دیا، تو یہ تو درست نہیں ہے بھئی، یہ تو مصادرہ علی المطلوب ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ مصادرہ علی المطلوب ہے بھئی، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ یاد رکھیے مصادرہ علی المطلوب بھئی۔ مصادرہ، مفاعلہ اس کا لغوی معنیٰ ہے اصرار کرنا۔ اصرار کرنا، تو مصادرہ علی المطلوب کا لغوی معنیٰ کیا ہوا؟ مطلوب اور مقصود یعنی نتیجے اور دعوے پر اصرار کرنا، کیا کرنا؟ نتیجے اور دعوے پر اصرار کرنا کہ یہ اسی طرح ہے، دلیل کوئی نہیں اور اس پر کیا کیا جا رہا ہے؟ اصرار کیا جا رہا ہے بھئی۔ اور اصطلاح میں کہتے ہیں مصادرہ علی المطلوب کہ نتیجے کو دلیل کا جز بنا دیا جائے، نتیجے کو کیا کیا جائے؟ دلیل کا جز یا یوں کہو دعوے کو دلیل کا جز بنا دیا جائے بھئی، دعوے کو دلیل کا جز۔ مثلاً آپ کا دعویٰ یہ ہے الانسان ضاحکٌ، کیا دعویٰ ہے آپ کا؟ الانسان ضاحکٌ، آپ اس پر دلیل پیش کرتے ہیں، کیا دلیل؟ غور سے سننا، الانسان بشرٌ، انسان کیا ہے؟ بشر ہے، وکل بشر ضاحکٌ اور ہر بشر کیا ہے؟ ضاحک ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ حد اوسط کیا ہے یہاں پر؟ بشر کا لفظ دونوں میں آ رہا ہے اس کو گرا دو، کیا نتیجہ نکلا؟ الانسان ضاحکٌ۔ دعویٰ کیا تھا؟ الانسان ضاحکٌ اور دلیل کیا ذکر کی؟ الانسان بشرٌ، یہ ہے صغریٰ اور کل بشر ضاحکٌ، ہر بشر کیا ہے؟ ضاحک ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ الانسان ضاحکٌ، کہتے ہیں یہ مصادرہ علی المطلوب ہے۔ کہ آپ نے دعوے ہی کو دلیل کا جز بنا دیا، کس طرح؟ دعوے کا دعویٰ کیا تھا؟ الانسان ضاحکٌ؟ اور آپ نے کبریٰ کیا بنایا؟ کل بشر، کل بشر بشر انسان ہی کو تو کہتے ہیں وہ آپ نے نتیجے کبریٰ گویا یہی بن گیا الانسان ضاحکٌ۔ الانسان بشر کس کو کہتے ہیں؟ انسان ہی کو تو کہتے ہیں تو کل بشر ضاحکٌ گویا آپ نے کیا کہہ دیا؟ الانسان ضاحکٌ اور یہ ہے کبریٰ، معلوم ہوا آپ نے نتیجے کو کس کا جز بنا دیا؟ دلیل ہی کا جز، دعوے کو دلیل میں ہی ذکر کر دیا اس ہی کو دلیل بنا دیا، بات سمجھ میں آئی؟ تو آسان لفظوں میں یوں کہہ لو بھئی کہ دعوے ہی کو دلیل بنا دینا یہ کیا کہلاتا ہے؟ مصادرہ علی المطلوب کہلاتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب اعتراض سمجھو بھئی کہ یہاں مصادرہ علی المطلوب ہے لازم آ رہا ہے، کس طرح؟ کہ ماتن، آپ نے کیا کہا؟ کہ اس امر کو چھوڑنے والا کس چیز کا مستحق ہے؟ وعید کا مستحق ہے کس کے ذریعے؟ نص کے ذریعے اور نص کیا آئی ہے؟ فلیحذر الذین چاہیے کہ کیا کریں؟ وہ لوگ ڈریں جو کیا کرتے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں، معلوم ہوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت سے ڈرنا واجب ہے، تو معلوم ہوا یہ امر کس لیے آیا؟ وجوب کے لیے آیا، تو بھئی آپ کا تو دعویٰ ہی یہ تھا، دلیلیں کس کی چل رہی ہیں کہ امر کس لیے آیا کرتا ہے؟ وجوب کے لیے ہوتا ہے، تو یہ تو آپ کا دعویٰ تھا اور آپ نے اسی کو دلیل میں ذکر کر دیا کہ فلیحذر امر آیا اور امر کس لیے ہوا کرتا ہے؟ وجوب کے لیے ہوتا ہے، تو یہ بھی کیا ہے؟ یہ بھی وجوب کے لیے آیا، معلوم ہوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفت سے ڈرنا واجب ہے اور مخالفت سے ڈرنا واجب کس صورت میں ہو گا؟ کہ جب امر کس کے لیے ہو؟ وجوب کے لیے ہو، بھئی عجیب بات ہے دعوے کو ہی آپ نے دلیل بنا دیا، صغریٰ کبریٰ بنا لو بھئی بات اور واضح ہو جائے گی، آپ کہتے ہیں فلیحذر دعویٰ کیا ہے؟ الامر للوجوب، امر کس لیے ہوتا ہے؟ وجوب کے لیے آتا ہے، اب ذرا صغریٰ کبریٰ بناؤ کہ یہاں فلیحذر امر آیا اور فلیحذر یہ امر ہے، فلیحذر امرٌ یہ امر ہے اور والکل امر للوجوب اور ہر امر کس کے لیے ہوتا ہے؟ وجوب کے لیے، تو فلیحذر بھی کس لیے ہے؟ وجوب کے لیے۔ تو یہاں بھی آپ دیکھیے کبریٰ آپ نے وہی بنا دیا، دعویٰ کیا تھا؟ الامر للوجوب اور کبریٰ بھی کیا ہے؟ کل امر للوجوب، تو یہ مصادرہ علی المطلوب ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو پہلے یہ تو ثابت کرو کہ یہ امر وجوب کے لیے ہے پھر پتہ چلے گا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کے مخالفت وا مخالفت سے ڈرنا واجب ہے، واجب ہے بھئی۔ مصادرہ علی المطلوب کس کو کہتے ہیں؟ کہ دعوے کو دلیل کا جز بنا دیا جائے، تو یہاں بھی آپ نے کیا کر دیا؟ دعوے کو دلیل کا جز بنا دیا کس طرح؟ کہ فلیحذر امر آیا اور امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے آتا ہے، معلوم ہوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کو چھوڑنے سے اپنے آپ کو بچانا بھی واجب ہے کیونکہ امر کا صیغہ آیا ہے اور امر کس لیے آیا کرتا ہے؟ وجوب کے لیے آتا ہے، تو یہ آپ نے دعویٰ بھی یہ تھا کہ امر وجوب کے لیے آتا ہے اور دلیل میں بھی فلیحذر امر کا صیغہ ذکر کر رہے ہیں کہ وہ وجوب کے لیے ہے تو گویا آپ نے کیا کیا؟ دعوے ہی کو دلیل کا جز بنا دیا تو یہ کیا ہے؟ مصادرہ علی المطلوب ہے، ایک تو یہ اعتراض ہوا، اعتراض سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو کہتے ہیں ولكن يرد عليه لیکن اس پر یہ بات تو یہ اعتراض وارد ہوتا ہے انه موقوف على ان يكون هذا الامر ايضا للوجوب کہ یہ آپ کی دلیل جو ہے موقوف ہے اس بات پر کہ یہاں بھی امر کس کے لیے ہو؟ وجوب کے لیے ہو وهو ممنوع اور یہ بات ممنوع ہے یعنی ہمیں تسلیم نہیں ہے، تو اس کے لیے دلیل چاہیے اور دلیل میں پھر آپ اسی دعوے کو ذکر کریں گے تو پھر کیا خرابی لازم آئے گی؟ مصادرہ علی المطلوب کی خرابی لازم آئے گی۔ وانه دوسرا اعتراض یہ وانه لم لا يجوز ان تكون المخالفة على وجه الانكار دون الترك کہ یہ جائز یہ کیوں نہیں جائز بھئی؟ بھئی آپ نے کیا کیا؟ مخالفت کا کیا معنیٰ کیا؟ اوپر میں نے بتلایا تھا ويتركونه کیا ہے؟ عطف تفسیری، کس کا معنیٰ بیان کیا جا رہا ہے؟ مخالفت کا، معلوم ہوا مخالفت کا کیا معنیٰ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کے مخالفت کرنا یعنی ان کے امر کو چھوڑ دینا، کہتے ہیں آپ نے مخالفت کا معنیٰ ترکِ عمل کی کیے، آپ اس کا مع، یہ کیوں نہیں جائز کہ اس کا معنیٰ انکارِ امر سے کیا جائے؟ اس کا کیا معنیٰ کیا جائے؟ یعنی وہ لوگ جو حضور علیہ السلام کے حکم کا انکار کرتے ہیں، تو مخالفت کا معنیٰ آپ نے کیا ترکِ عمل، ترکِ عمل کے بجائے اس کا کیا معنیٰ کیا جا سکتا ہے؟ انکارِ امر کا بھی تو اس کا معنیٰ کیا جا سکتا ہے، تو وہ لوگ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کا انکار کرتے ہیں انہیں ڈرنا چاہیے کہ انہیں دنیا میں کوئی فتیا فتس نہ پہنچے یا آخرت میں دردناک عذاب پہنچے بھئی، تو لہذا اگر آپ اس کو کس پر محمول کر لیں؟ انکارِ امر پر اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کا انکار کون کرتے ہیں؟ کافر کرتے ہیں بھئی، کون کرتے ہیں؟ کافر، جو انکار کرتے ہیں وہ کافر ہیں بھئی اور معلوم ہوا یہ وعید تارکِ امر کے لیے ہے ہی نہیں، یہ وعید تو منکرِ امر کے لیے ہے یعنی کافر کے لیے ہے، کس کے لیے ہے؟ آپ نے اس کو کس چیز کے لیے دلیل بنایا؟ کس چیز کے لیے دلیل بنایا؟ ترکِ امر کے لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کو چھوڑنے والا کس چیز کا مستحق ہے؟ وعید کا، آپ مخالفت کا معنیٰ انکارِ امر کے کر لیں تو اب وعید کا مستحق تارکِ امر نہ ہوا بلکہ کون ہو گیا؟ منکرِ امر، کون؟ منکرِ امر جو ہے وہ وعید کا مستحق ہوا اور منکرِ امر کون ہے؟ کافر ہے، تو معلوم ہوا یہ آیت یہ وعید تو کس کے بارے میں ہے؟ کافروں کے بارے میں ہے، وہ مومن جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کو چھوڑ دیتا ہے اس سے متعلق ہی نہیں، اس کے بارے میں ہوتی تو پھر آپ کہتے دیکھو یہاں ترکِ امر کے بارے میں وعید آئی ہے معلوم ہوا امر کو چھوڑنے کی اجازت نہیں، امر پر عمل کرنا واجب ہے، معلوم ہوا امر کس سے آیا کرتا ہے؟ وجوب کے لیے، پھر آپ کی دلیل بن جاتی امر کس سے آیا کرتا ہے؟ وجوب کے لیے، کیونکہ تارکِ امر کے لیے کیا آ گئی؟ وعید آ گئی، لیکن ہم نے کہا کیا کس پر محمول کر لیں؟ منکر انکارِ امر پر وانه لم لا يجوز ان تكون المخالفة على وجه الانكار دون الترك اور یہ کیوں نہیں جائز کہ یہ مخالفت انکار کے طریقے پر ہو نہ کہ ترک؟ تو آپ انکارِ امر کے پر محمول کر لیں اس کو، کہتے ہیں والجواب جواب اس کا یہ کہ ان سياق الكلام دال على ان هذا الامر للوجوب بدون احتياج الى برهان ومصادرة على المطلوب کہ سیاقِ کلام اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ یہ امر وجوب کے لیے ہے، یہ امر کس لیے ہے؟ وجوب کے لیے ہے بدون احتياج الى برهان ومصادرة على المطلوب بغیر کسی دلیل اور بغیر کسی مصادرہ علی المطلوب، اس کی احتیاج ہے ہی نہیں، نہ تو کسی دلیل کی ضرورت ہے اور نہ مصادرہ علی پھر دلیل کے اندر ہم پھر اسی دعوے کا ذکر کریں اور مصادرہ علی المطلوب لازم آئے ایسا بھی نہیں، یہاں کسی دلیل کی ضرورت ہی نہیں، کلام کا چلاؤ خود بتلا رہا ہے کہ یہ امر وجوب کے لیے ہے اس لیے کیونکہ کیا کہا جا رہا ہے؟ بچائیں وہ اپنے آپ کو، کس چیز سے بچائیں؟ فتنے سے یا دردناک عذاب سے، اور فتنے اور دردناک عذاب جو ہے ناپسندیدہ چیز ہے اور ناپسندیدہ چیز سے اپنے آپ کو بچانا مستحب یا مباح ہوتا ہے یا ضروری ہوتا ہے؟ یہ تو ضروری ہوتا ہے، معلوم ہوا بچانا اپنے آپ کو ضروری ہے، معلوم ہوا یہ امر یہاں کس لیے ہے؟ وجوب کے لیے ہے، اس کے لیے کسی دلیل وغیرہ کی ضرورت ہی نہیں کہ پھر ہمیں بعد میں کہیں کہ یہ تو آپ نے مصادرہ علی المطلوب کیا ہے، وہ تو ہم جب دلیل ذکر کریں گے تب مصادرہ علی المطلوب آئے گا لیکن یہاں تو کسی دلیل کی ضرورت ہی نہیں ہے، خود کلام کا چلاؤ ہی کیا بتلا رہا ہے کہ یہ کس لیے آیا ہے؟ یہ وجوب کے لیے آیا ہے، آپ نے پہلا اعتراض یہ کیا تھا کہ پہلے یہ تو ثابت کرو کہ فلیحذر سے کیا ثابت ہو رہا ہے؟ وجوب کہ یہ امر ہے اور امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب، معلوم ہوا بچنا بھی کیا ہے؟ واجب ہے، کہتے ہیں بھئی سیاقِ کلام بتلا رہا ہے کہ یہ امر کس پر دلالت کر یہ کس لیے آیا ہے؟ وجوب کے لیے آیا ہے بدون احتياج الى برهان ومصادرة على المطلوب بغیر کسی ضرورت کے دلیل کے یا مصادرہ علی المطلوب کے، سیاقِ کلام سے یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے کہ یہ امر کس لیے آیا ہے؟ وجوب کے لیے، اس لیے کہ یہاں پر وعید آئی ہے کہ ان لوگوں کو کیا پہنچے گا؟ دنیا میں فتنہ یا آخرت میں دردناک عذاب، اور فتنہ اور دردناک عذاب کیا ہیں؟ ناگوار ناپسندیدہ چیزیں ہیں اور ناگوا ناپسندیدہ چیز سے بچنا مندوب اور مباح ہوتا ہے یا ضروری ہوتا ہے؟ ضروری ہوتا ہے، معلوم ہوا یہ امر کس لیے ہے؟ وجوب کے لیے ہے، اس کے لیے کسی دلیل یا مصادرہ علی المطلوب کی ضرورت ہی نہیں ہے، سیاقِ کلام سے یہ بات خود بخود سمجھ میں آ جاتی ہے، یہاں کسی دلیل کے احتیاج ہی نہیں ہے کہ فلیحذر یہاں کس لیے آیا ہے؟ وجوب کے لیے آیا ہے، تو پہلے اعتراض کا کیا ہو گیا؟ جواب ہو گیا— اور دوسرا آپ نے کہا کہ مخالفت کو ترکِ امر پر محمول نہ کریں بلکہ اس کو کس پر محمول کریں؟ انکارِ امر پر محمول کیوں نہیں کر لیتے؟ تو اس صورت میں یہ کافر کے بارے میں ہو جائے گی، کہتے ہیں بھئی یہ جو کہ المخالفت جو ہے عربوں کے نزدیک جو استعمال ہوتا ہے اور اس کا اطلاق ہوتا ہے وہ ترکِ عمل پر ہوتا ہے، انکارِ عمل پر نہیں، جب کہتے ہیں فلاں نے میری مخالفت کی تو کیا معنیٰ ہوتا ہے کہ اس نے میرے امر پر عمل کو ترک کر دیا، انکار کا اس اس سے مراد نہیں ہوتا، انکار پر اس کا اطلاق نہیں کیا جاتا، تو جواب دے رہے ہیں وان المخالفة فى استعمالهم اور مخالفت جو ہے وہ عربوں کے استعمال کے اندر انما تطلق على ترك العمل به وہ ترکِ عمل عمل بالامر کے پر اس کا اطلاق ہوتا ہے فتامل آپ کیا کر لیجیے اس مقام پر؟ غور کر لیجیے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی انہوں نے کیا کہا تھا کہ آپ اس مخالفت کو کس پر محمول کر لیں؟ انکارِ امر پر محمول کر لیں، ترکِ عمل پر محمول نہ کریں، یہ بھی تو جائز ہے؟ کہتے ہیں نہیں بھئی مخالفت کا لفظ جب عرب استعمال کرتے ہیں تو وہ اس کا اطلاق کس پر کیا کرتے ہیں؟ ترکِ عمل پر کے لیے اس کو استعمال کرتے ہیں، نیز مولانا آیت کے اندر بھی کہ یہاں ترکِ امر ہی مراد ہے انکارِ امر مراد نہیں، اس لیے کہ یہاں کیا ذکر ہو رہا ہے؟ کہ جو حضور علیہ السلام کے امر کی مخالفت کرتے ہیں ان کو دو باتوں میں سے ایک بات تکلیف، دو تکلیفوں میں سے ایک تکلیف پہنچے گی یا تو دنیا میں کیا پہنچے گا؟ فتنہ، یا آخرت میں دردناک عذاب، معلوم ہوا دو چیزوں میں سے ایک پہنچے گی، معلوم ہوا جب دنیا میں تکلیف یا فتنہ پہنچ گیا تو آخرت میں دردناک عذاب نہیں ہو گا اور حالانکہ کافروں کو تو آخرت میں کیا ہو گا؟ ہر حال میں دردناک عذاب ہو گا، یہ بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہاں مخالفت سے انکارِ امر نہیں مراد بلکہ کیا مراد ہے؟ ترکِ امر مراد ہے۔ ولدلالة الاجماع والمعقول اور اسی طرح اجماع کی دلالت اور معقول کی دلالت، بھئی یہ دلائل چاہ رہے ہیں کس چیز کے؟ کہ امر کس لیے آیا، آتا ہے؟ وجوب کے لیے، تو کہتے ہیں اجماع کی دلالت اور معقول کی وجہ سے بھی عطفٌ على ما قبله یہ عطف ہیں ما قبل پر وفي بعض النسخ اور بعض نسخوں کے اندر عبارت یوں آئی ہے متن کی وكذا دلالة الاجماع والمعقول يدلان عليه اور اسی طرح اجماع اور معقول کی دلالت یہ دونوں يدلان عليه وہ بھی اس پر کیا کرتے ہیں؟ دلالت کرتے ہیں، کس چیز سے دلالت کرتے ہیں کہ امر کس لیے ہوتا امر کا حکم کیا ہے؟ وجوب ہے۔ تو دیکھیے یہ جو متن میں آیا ولدلالة الاجماع والمعقول یہ تو مرکبِ ناقص ہے بھئی مفرد ہے یعنی جملہ نہیں، اور بعض نسخوں میں آیا وكذا دلالة الاجماع والمعقول يدلان یہ تو کیا ہے؟ جملہ ہے۔ تو اگر یہ اسی طرح متن ہو جیسے اس وقت آیا ہے تو اس صورت میں تو ما قبل پر عطف ہو گا، ما قبل میں کیا آیا تھا؟ لاستحقاق الوعيد لتاركه اور کیا آیا تھا؟ ولانتفاء الخيرة عن المامور بالامر بنص بھئی، تو انہی پر عطف ہو جائے گا لیکن اگر یہ جملہ ہو تو جملے کا عطف جملے پر ہوا کرتا ہے مفرد پر نہیں ہوا کرتا، پھر اس کا عطف کس پر ہے؟ کہتے ہیں اس صورت میں ماقبل کے جو وہ مرکبِ ناقص تھا اس کے مضمون پر عطف ہو جائے گا، اس سے جو بات سمجھ میں آ رہی ہے جو مضمون سمجھ میں آ رہا ہے وہ کیا ہے؟ اس پر عطف ہو جائے گا کیونکہ مفہوم کیا ہے؟ اس کا مضمون کیا ہے ماقبل کا؟ وہ تام ہے بھئی، کس طرح؟ کہ دیکھیے بھئی، انھوں نے کیا کہا؟ والاستحقاق ہے نا لام کے تحت آیا بھئی، "والاستحقاق الوعید لتارکه" کہ اس کا تارک کس چیز کا مستحق ہوتا ہے؟ وعید کا مستحق ہوتا ہے۔ دیکھو یہ معنی نکل آیا یا نہیں بھئی؟ تارکِ امر کیا ہوتا ہے؟ وعید کا مستحق۔ تو یہ مضمون ہے جو سابق کا وہ مرکب تام ہے وہ اور اس پر یہ مرکب تام کیا ہو جائے گا؟ اس کا عطف ہو جائے گا بھئی۔ وحاصلہ حاصل کلام یہ ہے کہ ان دلالۃ الاجماع تدل کہ اجماع کی دلالت وہ دلالت کرتی ہے بھئی کہ علی ان الأمر للوجوب بھئی۔ کہ امر کس کے لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے آتا ہے۔ لأنہم اجمعوا اس لیے کہ علماء نے اس بات پر اجماع کیا ہے کہ علی ان کل من اراد ان یطلب فعلا من احد کہ جو شخص بھی ارادہ کرے کسی سے فعل کو طلب کرنے کا لا یطلبہ إلا بلفظ الأمر، تو اس کو طلب نہیں کرے گا مگر کس لفظ کے ذریعے؟ امر کے لفظ کے ذریعے، معلوم ہوا طلب کے لیے، طلبِ فعل کے لیے کون سا لفظ استعمال کیا جائے گا؟ امر، یہ بات تو اس پر تو اجماع ہے۔ دوسری بات، والکمال فی الطلب ہو الوجوب کہ طلب کے اندر کمال کیا ہے؟ وہ وجوب۔ یعنی کامل درجے کی طلب کس کس صورت کے اندر ہے؟ وجوب کے اندر بھئی۔ ایک طلب مباح کے اندر بھی ہے بھئی، ندب کے اندر بھی، اس میں بھی طلب ہے۔ لیکن کس درجے کی ہے؟ ادنیٰ درجے کی طلب ہے اور کامل درجے کی طلب کیا ہے؟ کہ جس فعل کا امر کر رہے ہیں اس کے چھوڑنے کی اجازت نہ ہو، تو معلوم ہوا کامل درجے کی طلب کس کس کے اندر ہے؟ وجوب میں ہے، یہ دوسری بات ہوئی۔ والأصل النفی للاشتراک اور اصل کیا ہے؟ اشتراک کی نفی ہے۔ بھئی دیکھیے ایک لفظ ہے استعمال ہو رہا ہے دو تین معانی کے اندر، اب وہاں دو احتمال آگئے۔ ہو سکتا ہے یہ لفظ ہر ہر معنی کے لیے الگ وضع کیا گیا ہو تو یہ کیا ہے؟ اشتراک۔ اور ہو سکتا ہے ایک معنی حقیقی ہو اور باقی معنی کیا ہوں؟ مجازی ہوں، سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں اصل یہ ہے کہ لفظ جب ایسا موقع آ جائے تو لفظ کو مجاز پر محمول کرنا چاہیے اور اشتراک کی کیا کرنی چاہیے؟ نفی کرنی چاہیے، یہ ضابطہ ہے بھئی۔ تو کتنی باتیں ہو گئیں یہاں پر؟ تین باتیں، ایک تو اس بات پر اجماع ہوا ہے کہ جو شخص بھی کسی سے کسی فعل کو طلب کرے گا وہ کس کے ذریعے طلب کرے گا؟ امر کے ذریعے، دوسری بات کیا ہوئی یہاں پر؟ کہ طلبِ کامل کس میں ہے؟ کس صورت میں ہے؟ وجوب کی صورت میں ہے، اور تیسری بات یہ کہ اشتراک کی کیا ہو؟ نفی ہو، یعنی مجاز پر محمول کرنا چاہیے اور اشتراک کی، یہ مسلمہ قانون ہے۔ فتعین ان موجبہ الوجوب تو متعین ہو گئی یہ بات کہ امر کا حکم کیا ہے؟ وجوب ہے بھئی، وجوب بھئی۔ فتعین ان موجبہ الوجوب تو یہ بات متعین ہو گئی کہ امر کا موجب کیا ہے؟ وجوب ہے، یعنی امر کا حکم وجوب ہے۔ بھئی دیکھیے انھوں نے یہاں تین باتیں ذکر کیں اور جس پر پھر کہا کہ ان تین باتوں سے یہ بات متعین ہو گئی کہ امر کا حکم کیا ہے؟ وجوب۔ پہلی بات یہ ذکر کی لأنہم اجمعوا کہ علماء نے اس بات پر اجماع کیا ہے، کس بات پر اجماع ہے؟ کہ کسی سے جب کوئی فعل طلب کیا جائے تو اس کو کس لفظ کے ذریعے طلب کیا جائے گا؟ امر کے لفظ کے ذریعے، تو معلوم ہوا طلب کے لیے کیا آئے گا؟ امر۔ اور پھر طلب ہے تو طلب جو ہے یہ اعلیٰ درجے کی بھی ہو سکتی ہے اور ادنیٰ درجے کی بھی ہو سکتی ہے، اعلیٰ درجے کی کس کے اندر ہے؟ وجوب کے اندر۔ اور ادنیٰ درجے کی کس کے اندر ہے؟ کس کے اندر؟ ندب کے، جس کے اندر کیا ہوتی ہے؟ جانبِ فعل راجح ہوتا ہے۔ جانبِ فعل یا اجازت کے معنی میں کر لیں تو پھر اس صورت کے اندر اباحت بھی اس کے اندر ہے۔ لئے تو والمطلق إذا یطلق یراد بہ الفرد الکامل، مطلق کا جب اطلاق کیا جاتا ہے تو اس سے کس کی کس کا ارادہ کیا جاتا ہے؟ فردِ کامل کا ارادہ کیا جاتا ہے، اور کامل فرد طلب کے اندر وہ کس صورت میں ہے؟ کون سی طلب کس طریقے پر ہو؟ وجوب کے طریقے پر ہو جس کے اندر ترکِ فعل یعنی فعل کے چھوڑنے کی اجازت نہیں ہوتی بھئی۔ تو لہذا طلب کے لیے لفظِ امر آتا ہے اور کامل درجے کی طلب وجوب کے اندر ہے، لہذا امر سے کیا مراد ہونا چاہیے؟ وجوب مراد ہونا چاہیے، باقی اگر کوئی یہ کہے کہ ٹھیک ہے وجوب کامل درجے کامل درجے کی طلب وجوب کے اندر ہے، لیکن فعل اباحت اور ندب کے لیے بھی آتا ہے تو اس کا جواب یہ دیں گے کہ جو تیسری بات انھوں نے ذکر کی کہ والأصل النفی للاشتراک کہ اصل کیا ہے؟ اشتراک کی نفی، یعنی اگر کہیں ایسا موقع ہے جہاں پر لفظ کے دو تین معانی آتے ہیں اور یہ ایک احتمال یہ ہے کہ لفظ ان میں سے ہر معنی کے لیے الگ الگ وضع ہے تو یہ ہے اشتراک، اور دوسری صورت یہ ہے کہ لفظ جو ہے وہ اس کا ایک معنی کو حقیقی بنا لیا جائے اور باقی کو کیا قرار دے دیا جائے؟ مجازی معنی قرار دے دیا جائے، تو دیکھو ایک طرف ہے دیکھیں تو اشتراک ہے، دوسری طرف دیکھیں تو حقیقت اور مجاز ہیں، تو کہتے ہیں اصل یہ ہے کہ اشتراک کی نفی کی جائے اور لفظ کو کس پر محمول کیا جائے؟ مجاز پر محمول کر دیا جائے، ایک معنی کے اندر حقیقت اور باقی معانی کے اندر مجاز۔ تو یہاں پر بھی جب اشتراک کی نفی کریں، اصل ہے اشتراک کی نفی، اور اشتراک کی نفی کریں گے تو معلوم ہوا وجوب کے لیے جو ہے وجوب کے اندر امر کا استعمال یہ حقیقت ہے اور ندب اور اباحت کے اندر اس کا استعمال مجاز ہے، تو یہ بات متعین ہو گئی کہ امر کا موجب اور حکم کیا ہے؟ وجوب ہے، بات سمجھ میں آئی؟ کس طرح ثابت ہوا؟ تین باتیں ہوئیں، پہلی بات کیا ذکر کی انھوں نے کہ طلب کے لیے کون سا لفظ طلبِ فعل کے لیے کون سا لفظ آتا ہے؟ امر آتا ہے اور سوری طلب کے لیے ہوا، اور طلب کے اندر کامل درجہ کیا ہے؟ وجوب، لہذا امر کس کے لیے ہونا چاہیے؟ وجوب کے لیے ہونا چاہیے، اور پھر اگر آپ کہتے ہیں وجوب کے ساتھ ساتھ ندب اور اباحت کے لیے بھی ہونا چاہیے تو جواب یہ کہ اصل کیا ہے کہ اشتراک کی نفی کی جائے اور کس کی طرف جایا جائے؟ حقیقت اور مجاز، ایک معنی میں حقیقت ہے اور باقی معنی میں مجاز ہے، لہذا معلوم ہوا امر کا حکم اصل حکم کیا ہے؟ وجوب، یعنی وجوب کے اندر حقیقت ہے اور ندب اور اباحت میں کیا ہے؟ مجاز ہے۔ وإنما قال دلالۃ الاجماع۔ کدھر ہے بھئی؟ متن میں تھا ہاں دلالۃ الاجماع پڑھیں یا دلالۃ الاجماع پڑھیں، میں کل ذکر کر چکا ہوں۔ وإنما قال دلالۃ الاجماع اور ماتن نے دلالۃ الاجماع ماتن نے کہا لدلالۃ الاجماع بھئی کہنا تو چاہیے تھا للإجماع، کیا کہنا چاہیے تھا؟ للإجماع، یہ دلالت کا لفظ کیوں بڑھایا؟ کہتے ہیں لأن نفس الإجماع لم ینعقد اس لیے کہ نفسِ اجماع منعقد نہیں ہوا علی أن موجبہا الوجوب اس بات پر کہ امر کا موجب کیا ہے؟ اس بات پر نفسِ اجماع منعقد نہیں ہوا لأنہم مختلفون فیہ اس لیے کہ یہ تو کیا ہے؟ مختلف فیہ ہے، اس کے اندر تو اختلاف ہے، ابھی ذکر ہوا بھئی پیچھے کہ بعض کیا کہتے ہیں؟ یہ وجوب کے لیے ہے، تو بعض کہتے ہیں ندب کے لیے ہے، بعض کہتے ہیں اباحت کے لیے ہے، بعض توقف کرتے ہیں اس میں، اور بعض کیا کہتے ہیں؟ تینوں کے اندر کیا ہے؟ مشترک ہے وغیرہ، تو اس کے اندر تو اختلاف ہے، تو اجماع اس بات پر منعقد نہیں ہوا کہ امر کس کا حکم کیا ہے؟ اس بات پر اجماع منعقد نہیں ہوا، بل إنما الإجماع علی شيء يدل علیہ بلکہ اجماع تو ایک ایسی چیز پر منعقد ہوا ہے جو اس بات پر دلالت کرے، اجماع تو اس بات پر منعقد ہوا ہے کہ کسی فعل کو طلب کرنے کے لیے کون سا لفظ لائیں گے؟ امر لائیں گے، سمجھ میں آیا؟ اس پر اجماع ہوا ہے، لیکن اس نے دلالت آگے کر دی اور اس کے امر کا مقتضا کیا ہے؟ وجوب ہے، وجوب ہے۔ جیسے اوپر گزرا بھئی۔ وکذا الدلیل المعقول يدل اسی طرح جو عقلی دلیل ہے وہ بھی دلالت کرتی ہے علی أن الأمر للوجوب کہ امر کس کے لیے ہے؟ وجوب کے لیے، وهو اور وہ یہ بھئی کہ أن تصاریف الأفعال کلہا کالماضي والمستقبل والحال دالۃ علی معنی مخصوص کہ افعال کی ساری گردانیں جو ہیں جیسے ماضی ہے، مستقبل ہے اور حال، وہ دلالت کرتے ہیں معنی مخصوص پر بھئی، کس پر دلالت کرتے ہیں؟ معنی مخصوص پر، ماضی کس کے لیے ہے؟ زمانہ گزشتہ کے لیے، مستقبل کس کے لیے ہے؟ کس پر دلالت کرتا ہے؟ آنے والے زمانے پر، اور حال کس پر دلالت کرتا ہے؟ تو جیسے فعل کے سارے گردانے جو ہیں جیسے ماضی، حال اور مستقبل جو ہیں وہ دلالت کرتی ہیں معنی مخصوص پر، فینبغي أن یکون الأمر کذلک تو مناسب یہ ہے کہ امر کو بھی اسی طرح ہونا چاہیے دالا علی معنی الوجوب اسی طرح وجوب کے معنی پر دلالت کرنے والا ہونا چاہیے بھئی۔ وجوب کے معنی پر دلالت کرنے والا ہونا چاہیے۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ کیا بات کی انھوں نے عقلی دلیل کیا ذکر کی؟ کہ بھئی فعل کی جو گردانیں ہیں ماضی، مستقبل اور حال وہ دلالت کس پر کرتی ہیں؟ معنی مخصوص پر دلالت کرتی ہیں، تو لہذا امر کو بھی اسی طرح امر بھی فعل کی ایک قسم ہے، لہذا اس کو بھی کیا کرنا چاہیے؟ ایک معنی مخصوص پہ دلالت کرنا چاہیے اور وہ کیا ہے؟ تو معلوم ہوا یہ اس پر دلالت کرے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ لیکن اس پر اشکال ہوتا ہے مولانا، انھوں نے کہا ماضی، مستقبل، حال بھئی کہ ہر فعل کیا کرتا ہے؟ ایک مخصوص معنی پر دلالت کرتا ہے بھئی، اس پر اشکال ہوتا ہے، فعل مضارع تو حال اور استقبال دونوں پر دلالت کرتا ہے، وہ تو مشترک ہے کس کے درمیان؟ حال اور استقبال کے درمیان، تو جب وہ مشترک ہے پھر تو یہ امر یہ امر بھی کیا ہو سکتا ہے؟ مشترک، جب وہ مشترک ہے تو امر کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ مشترک ہونا چاہیے۔ جواب یہ مولانا کہ یہ غالباً اس مذہب پر یہ بات کر رہے ہیں کہ مضارع کے اندر آپ جانتے ہیں دو معنی آتے ہیں حال اور استقبال، تو بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ مضارع دونوں معانی کے اندر مشترک ہے، حال کے لیے اس کی وضع الگ اور استقبال کے لیے اس کی وضع الگ، بعض کہتے ہیں نہیں، یہ وضع اصل میں ہے حال کے لیے اور استقبال اس کا مجازی معنی ہے، بعض کہتے ہیں یہ استقبال کے لیے وضع ہے اور حال کیا ہے اس کا؟ مجازی معنی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس مذہب کو لیا جائے تو اس صورت میں ہر فعل وضع ہوا ایک مخصوص معنی کے لیے صرف اسی پر دلالت کر رہا ہے، لہذا فعل امر بھی جو ہے وہ فعل کی ایک قسم ہے تو وہ بھی کیا اسے بھی کیا کرنا چاہیے ایک؟ مخصوص معنی پر دلالت کرنا چاہیے اور وہ کیا ہے؟ وجوب بھئی، تو لہذا اس کو صرف وجوب کے لیے ہونا چاہیے، وجوب، ندب، اباحت تینوں کے لیے اس کو اس میں اشتراک نہیں ہونا چاہیے بھئی۔ ولیس هذا لإثبات اللغۃ بالقیاس بل لإثبات کون الأصل عدم الاشتراک۔ یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں، اعتراض یہ ہوتا ہے بھئی کہ امر کا وجوب کے لیے ہونا یہ ایک لغوی چیز ہے۔ یہ کیا چیز کیا ہے؟ بھئی لغت کی بات ہے نا کہ امر کس لیے آئے گا؟ وجوب کی بات وجوب کے لیے آئے گا مولانا، تو یہ تو آپ لغت کے اندر قیاس کر رہے ہیں اور لغت کے اندر تو قیاس جائز نہیں ہے بھئی، تو وہ بتلا رہے ہیں کہ وليس هذا لإثبات اللغۃ بالقیاس یہ لغت کو قیاس کے ذریعے ثابت کرنے کے لیے یہ دلیل نہیں ہے بل لإثبات کون الأصل عدم الاشتراک بلکہ یہ دلیل ہے کہ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کہ اصل کیا ہے؟ عدمِ اشتراک۔ تو عدمِ اشتراک کے اصل ہونے کو ثابت کرنے کے لیے یہ دلیل ہے بھئی، لغت کو قیاس کے ذریعے ثابت کرنے کی دلیل نہیں ہے۔ کہ اصل کیا ہے؟ عدمِ اشتراک، تو لہذا یہاں بھی کیا ہونا چاہیے؟ عدمِ اشتراک، لہذا امر کو کس کے لیے ہونا چاہیے صرف؟ وجوب کے لیے ہونا چاہیے بھئی۔ تو عدمِ اشتراک اصل ہے، اس پر یہ اس کے ثابت کرنے کے لیے ہے بھئی۔ جیسے وہاں اشتراک نہیں تھا باقی افعال میں، سمجھ میں آیا؟ تو ثابت ہوا اصل عدمِ اشتراک ہے، تو پھر لہذا امر کے اندر بھی کیا ہونا چاہیے؟ عدمِ اشتراک ہونا چاہیے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وقیل المعقول اور کہا گیا ہے کہ معقول وہو أن السيد إذا أمر عقلی دلیل وہ یہ ہے کہ أن السيد إذا أمر غلامہ بفعل کہ جب آقا حکم دیتا ہے اپنے غلام کو کسی کام کا ولم يفعل اور وہ اس کام کو نہیں کرتا استحق العقاب تو وہ مستحق ہو جاتا ہے کس چیز کا؟ سزا کا، فلولا لم يكن الأمر للوجوب معلوم ہوا امر وجوب کے لیے ہے۔ وہ سزا کا جبھی مستحق ہے فلولا لم يكن الأمر للوجوب اگر امر وجوب کے لیے نہ ہوتا لم استحق ذلك تو وہ اس سزا کا مستحق نہ ہوتا، یہ عقلی دلیل ہے۔ وقد نقل فی بیان النصوص والمعقول وجوہ أخر ترکتہا للإطناب۔ شارح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تحقیق نقل کیا گیا ہے نصوص اور معقول کے بیان میں وجوہ أخر دوسرے دلائل کو بھی، بھئی میں نے تو ایک نص ذکر کر دی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور اسی طرح عقلی دلیل بھی ایک ذکر کر دی، لیکن اس سلسلے میں اور نصوص اور عقلی دلائل بھی کیا کیے گئے ہیں؟ یعنی اور عقلی اور نقلی دلائل بھی ذکر کیے گئے ہیں ترکتہا للإطناب میں نے ان کو کیا کر دیا؟ طوالت کے پیشِ نظر ترک کر دیا کہ بات طویل ہو جائے گی۔ ثم شرع المصنف رحمہ اللہ في بیان أنه إذا لم يرد بالأمر الوجوب فماذا حکمہ؟ اب آگے یہ بتلانا چاہتے ہیں بھئی کہ انھوں نے پہلے ذکر کیا تھا کہ امر کا حکم کیا ہے؟ وجوب، پھر اس پر دلائل بھی ذکر کر دیے کہ اور ان دلائل کے ذریعے ثابت کر دیا کہ امر کا مقتضا کیا ہے؟ وجوب۔ اچھا اب سوال پیدا ہوا کہ بھئی امر ندب کے لیے استعمال تو ہوتا ہے، اباحت کے لیے استعمال تو ہوتا ہے، اگر وجوب کے لیے آئے گا یہ تو ہے اس کا حقیقی معنی، اگر ندب اور اباحت کے لیے استعمال ہو تو پھر یہ کیا ہے؟ پھر یہ اس کو کیا کہیں گے؟ تو بتلائیں گے آگے مولانا دو مذاہب بتلائیں گے، ایک علامہ فخر الاسلام کا مذہب ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ندب اور اباحت کے اندر امر کا استعمال یہ حقیقتِ قاصرہ ہے، جبکہ دیگر علماء فرماتے ہیں کہ وہ مجاز ہے، وہ کیا ہے؟ مجاز۔ حقیقتِ قاصرہ سمجھ لو بھئی، حقیقتِ قاصرہ اس کو کہتے ہیں کہ لفظ کو اپنے موضوع لہ کے جز میں استعمال کیا جائے، لفظ کو کیا کیا جائے؟ بھئی ہونا تو یہ چاہیے لفظ کو اپنے پورے موضوع لہ میں استعمال ہونا چاہیے، لیکن اگر یہ کیا لفظ کو استعمال کیا جائے کس کے لیے؟ جیسے انسان بھئی، یہ کس کے لیے وضع ہے؟ حیوانِ ناطق کے لیے، اس پورے مجموعے کے لیے کیا لفظ وضع ہے؟ انسان، لیکن انسان کے لفظ کو اگر استعمال کیا جائے صرف حیوان میں یا صرف ناطق میں، تو یہ پورے موضوع لہ میں استعمال ہوا ہے یا موضوع لہ کے جز میں؟ موضوع لہ کے جز میں استعمال، تو لفظ اگر اپنے موضوع لہ کے جز میں استعمال ہو تو یہ حقیقتِ قاصرہ کہلاتی ہے، کیا کہلاتی ہے؟ اس لیے بھئی کیونکہ یہ مجاز نہیں ہے، مجاز میں تو موضوع لہ کے علاوہ میں استعمال ہوتا ہے، یہ استعمال تو اپنے موضوع لہ میں ہی ہو رہا ہے لیکن پورے میں نہیں ہو رہا بلکہ اس کے ایک جز میں، تو اگر علاوہ میں ہو تو پھر تو مجاز کہیں گے، یہ تو موضوع لہ کے علاوہ میں نہیں استعمال ہوا بلکہ موضوع لہ کے جز ہی میں استعمال ہو رہا ہے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ثم شرع المصنف رحمہ اللہ پھر مصنف رحمہ اللہ شروع ہوئے فی بیان اس بات کے بیان میں أنه إذا لم يرد بالأمر الوجوب کہ جب اب ارادہ نہ کیا جائے امر کے ذریعے وجوب کا فماذا حکمہ؟ تو اس کا کیا حکم ہے؟ تو فرماتے ہیں وإذا أريدت بہ الإباحۃ أو الندب اور جب ارادہ کیا جائے امر کے ذریعے اباحت یا ندب کا، أي إذا أريدت بالأمر الإباحۃ أو الندب یعنی جب ارادہ کیا جائے امر کے ذریعے اباحت اور ندب کا وعدل عن الوجوب اور عدول کیا جائے کس سے؟ وجوب سے۔ یعنی وجوب سے پھرا جائے اور اس کے ذریعے اباحت اور ندب کا ارادہ کیا جائے فحينئذ اختلف فیہ تو اس صورت میں اس وقت اس میں اختلاف کیا گیا ہے فقیل إنه حقیقۃ لأنه بعضہ۔ تو کہا گیا ہے کہ یہ حقیقت ہے اس لیے کہ یہ ان میں سے ہر ایک اباحت اور ندب میں سے ہر ایک وجوب کا بعض ہے بھئی۔ لأنه کی ضمیر کس کو راجع ہے؟ اباحت اور ندب کو راجع ہے کل واحد کی تاویل میں بھئی۔ اور بعضہ کی ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ وجوب کو راجع ہے، خود دیکھیے شارح بھی بتلائیں گے دیکھیے: أي إن الأمر حقیقۃ فی الإباحۃ والندب، یہ متن کی دیکھو شرح کرتے جا رہے ہیں، انه ہا ضمیر کا مرجع إنه आया تھا متن میں فقیل إنه، بتلایا أي إن الأمر بھئی، کس کو ضمیر راجع ہے؟ امر کو، یعنی کہ امر جو ہے حقیقت ہے اباحت اور ندب میں بھی لأن کل واحد منہما، متن میں کیا آیا تھا؟ لأنه، انھوں نے بتلایا لأن کل واحد منہما کہ یہ ضمیر کس کو راجع ہے؟ اباحت اور ندب کو راجع ہے، اور کس تاویل میں؟ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا تَأْوِيلٌ لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا، اس لیے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک یعنی اباحت اور ندب میں سے ہر ایک، بعض الوجوبِ. متن میں آیا تھا بعض وہو. انہوں نے کیا بتلایا؟ بعض الوجوبِ. یہ وجوب کا بعض ہے وجوب کا بعض، یعنی اس کا جز ہے۔ وبعض الشيء يكون حقيقة قاصرة، اور بعض شے جو ہوتی ہے وہ اس کی حقیقت قاصرہ ہوتی ہے۔ دیکھیے، خود ذکر کریں گے کیسے حقیقت قاصرہ ہے۔ کہتے ہیں، لأن الوجوب عبارة عن جواز الفعل مع حرمة الترك. اس لیے کہ وجوب عبارت ہے جوازِ فعل مع حرمة الترك کہ فعل جائز ہو اور ترک کرنا حرام۔ والإباحة هي جواز الفعل، اور اباحت کس چیز سے عبارت ہے؟ یہ جوازِ فعل کا نام ہے۔ والإباحة هي جواز الفعل مع جواز الترك، یہ ہے مع جواز الترك آپ کی کتابوں میں؟ جی؟ یہ ہونا چاہیے، یہ لکھیں ساتھ بھئی۔ والإباحة هي جواز الفعل مع جواز الترك. لکھ لیا؟ والإباحة هي جواز الفعل مع جواز الترك. اور اباحت جو ہے، وہ کیا، کس چیز کا نام ہے؟ جوازِ فعل مع جوازِ ترک یعنی فعل کا کرنا بھی جائز اور اسے چھوڑنا بھی جائز، یہ اباحت میں ہوتا ہے۔ والندب هو جواز الفعل مع رجحانه، اور ندب وہ جوازِ فعل ساتھ اس کے راجح ہونے کے، اس سے عبارت ہے کہ وہ فعل راجح ہوتا ہے۔ فيكون كل منهما مستعملا في بعض معنى الوجوب، تو ان میں سے ہر ایک استعمال ہوا ہے اپنے وجوب کے معنی کے بعض میں استعمال ہوا ہے۔ بھئی دیکھیے، وجوب میں کیا آیا تھا؟ جوازِ فعل مع حرمة الترك، یہ ہے وجوب کا پورا معنی। اور ندب کا کیا معنی تھا؟ اس میں بھی جوازِ فعل آیا، اباحت میں بھی کیا آیا؟ جوازِ فعل آیا۔ تو لفظ وجوب امر کو کس لیے آنا چاہیے تھا؟ وجوب کے لیے، اور وجوب کسے کہتے ہیں؟ دو چیزیں ہیں: جوازِ فعل مع حرمة الترك، لیکن جب یہ استعمال ہوا ندب اور اباحت میں، تو وہاں صرف ایک جز ہے: جوازِ فعل تو ہے، حرمتِ ترک نہیں۔ تو موضوع لہ کے کس میں استعمال ہوا؟ جز میں، اور موضوع لہ کے جز میں لفظ استعمال ہو تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ حقیقتِ قاصرہ۔ فتكون كل منهما مستعملا في بعض معنى الوجوب، تو ان میں سے ہر ایک مستعمل ہوا ہے وجوب کے معنی کے بعض میں یعنی اس کے جز میں۔ وهو معنى الحقيقة القاصرة التي اريدت بلفظ الحقيقة، اور یہی معنی ہے حقیقتِ قاصرہ اس حقیقتِ قاصرہ کا جس کا ارادہ یہی معنی ہے حقیقتِ قاصرہ کا جس کا ارادہ کیا گیا ہے حقیقت کے لفظ کے ذریعے، جس کا ارادہ کس کے ذریعے کیا گیا ہے؟ یعنی حقیقت کے جز کا ارادہ کیا گیا ہے، یہ حقیقتِ قاصرہ ہے۔ وهو مختار فخر الإسلام، اور یہ مختار ہے کس کا؟ علامہ فخر الإسلام کا۔ تو وہ کہتے ہیں اگر ندب اور اباحت کے لیے امر کا لفظ استعمال ہو تو یہ کیا ہے؟ حقیقتِ قاصرہ ہے، مجاز نہیں۔ وقيل، اور کہا گیا ہے: لا، نہیں بھئی، حقیقتِ قاصرہ نہیں ہے، لأنه جاوز أصله، اس لیے کہ یہ اپنی اصل سے کیا کر گیا؟ تجاوز کر گیا، تو مجاز کو بھی مجاز اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ اپنی اصل سے کیا کر جاتا ہے؟ تجاوز। وضع تو موضوع لہ کے لیے ہے، لیکن وہ اس موضوع لہ سے تجاوز کر جاتا ہے دوسرے معنی کی طرف، تو لہٰذا اس کو مجاز کہتے ہیں۔ معلوم ہوا یہ بھی اپنی اصل سے تجاوز کر گیا تو یہ بھی کیا ہے؟ مجاز ہے۔ أي قيل إنه ليس بحقيقة، کہا گیا ہے کہ یہ حقیقت نہیں ہے، حينئذ بل مجاز، بلکہ کیا ہے؟ مجاز ہے۔ لأنه قد جاوز أصله، اس لیے کہ یہ اپنے اصل سے تجاوز کر گیا۔ بھئی، اصل کیا ہے؟ کہتے ہیں، وهو الوجوب، وہ کیا ہے؟ وجوب ہے، لأن الوجوب هو جواز الفعل مع حرمة الترك، اس لیے کہ وجوب کسے کہتے ہیں؟ وہ فعل کا جائز ہونا ساتھ ترک کے حرام کہ حرمت کے۔ والإباحة، اور اباحت جو ہے جواز الفعل مع جواز الترك، وہ کیا ہے؟ وہ فعل کا جائز ہونا ساتھ ترک کا جائز ہونا۔ والندب هو رجحان الفعل مع جواز الترك، اور ندب وہ فعل کا راجح ہونا ہے مع جوازِ ترک۔ تو یہ دیکھو، یہ تینوں کا معنی الگ الگ ہے بھئی۔ وجوب کا کیا معنی تھا؟ جوازِ فعل مع حرمة الترك، اور اباحت کا معنی تھا: جوازِ فعل مع جوازِ الترك، اور ندب کا معنی ہے: رجحانِ فعل مع جوازِ الترك। تو ہر ایک کا معنی الگ ہے مولانا، اور جب فعل کو آپ نے استعمال امر کو آپ نے استعمال کیا کس کے اندر؟ اباحت کے اندر، تو وہ الگ معنی ہے اور ندب میں استعمال کیا، وہ الگ معنی ہے۔ یہ معنی سارے آپس میں ایک دوسرے کے مباین ہیں مولانا، اور تو لفظ اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال ہوا یا غیرِ موضوع لہ میں؟ ہاں، ہر ایک کا معنی کیا ہے؟ الگ الگ، جب ہر ایک کا معنی الگ ہے تو معنی کس میں استعمال ہوا؟ وضع تو کس کے لیے تھا؟ وجوب کے لیے، استعمال ہوا ندب اور اباحت کے لیے، اور ندب اور اباحت تو الگ معنی ہے، تو یہ معنی موضوع لہ کے غیر میں استعمال ہوا اور معنی موضوع لہ کے غیر میں استعمال ہو تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ مجاز کہلاتا ہے۔ دیکھیے، خود بتلائیں گے اور بات واضح ہو جائے گی۔ فالخاص حاصل یہ ہے بھئی بحث کا، أن من نظر إلى الجنس، کہ جس نے صرف کس کی طرف نظر کی؟ جنس کی طرف، بھئی جنس کیا ہے؟ کہتے ہیں، الذي هو جواز الفعل، وہ جو کہ جوازِ فعل۔ تو جنہوں نے صرف جوازِ فعل کی طرف نظر کی، تو دیکھا جوازِ فعل تو کس کے اندر تھا؟ وجوب کے معنی کا ایک جز تھا، اور ندب اور اباحت میں بھی کیا آیا؟ جوازِ فعل آیا، تو یہ لفظ گویا کس میں استعمال ہوا؟ اپنے موضوع لہ کے جز میں، کس میں استعمال ہوا؟ تو انہوں نے حقیقتِ قاصرہ قرار دیا۔ تو جس نے نظر کی جنس کی طرف، الذي هو جواز الفعل، وہ جو کہ جوازِ فعل ہے، فقط ظنت، تو اس نے یہ گمان کیا، أنه مستعمل في بعض معناه، کہ یہ تو مستعمل ہوا ہے کس کے اندر؟ اپنے بعض معنی کے اندر، فيكون حقيقة قاصرة، تو یہ حقیقتِ قاصرہ ہے۔ ومن نظر إلى الجنس والفصل جميعا، اور جس نے نظر کی جنس اور فصل دونوں کی طرف، جس نے کس کی طرف نظر کی؟ یعنی ان کے مجموعے کی طرف بھئی، جنہوں نے صرف دیکھیے پہلے میں آیا تھا جوازِ فعل تینوں کے اندر آ رہا تھا، تو صرف جنس کی طرف نظر کریں تو ہر ایک میں جوازِ فعل آ رہا ہے، اور اگر مجموعے کو سارا دیکھیں بھئی، مجموعہ کیا ہے وجوب کا؟ جوازِ فعل مع حرمة الترك، اور اباحت کا کیا ہے؟ جوازِ فعل مع جوازِ الترك، اور ندب کا کیا ہے؟ جوازِ فعل مع رجحانِ فعل بھئی، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو اگر مجموعے کی طرف نظر کریں تو ہر ایک کا معنی الگ، اور اگر جنس کی طرف نظر کریں تو گویا اپنے جز ہی میں کیا ہو رہا ہے لفظ استعمال ہو رہا ہے۔ تو کہتے ہیں، ومن نظر إلى الجنس والفصل، تو دیکھیے، ایک جوازِ فعل جنس ہے، سب کے اندر آ رہا ہے، اور باقی فصل ہیں، تو جس نے جنس اور فصل دونوں کی طرف نظر کی، ظن أن كلا منهما معان متباينة، تو اس نے یہ گمان کیا کہ ان میں سے ہر ایک کیا ہیں؟ یہ تو مباین معانی ہیں، وأنوع على حدة، اور علیحدہ انواع ہیں، فلا يكون إلا مجازا، تو یہ نہیں ہوگا مگر مجاز ہی۔ وأما تحقيق أن هذا الاختلاف في لفظ الأمر أو في صيغ الأمر فمذكور في التلويح بما لا مزيد عليه. بھئی، پھر اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ اختلاف لفظِ امر میں ہے، یہ جو انہوں نے کہا نہ حقیقتِ قاصرہ ہے، اس طرح استعمال ہو، اور بعضوں نے کہا مجاز ہے، تو یہ کس میں اختلاف ہے؟ لفظِ امر میں اختلاف ہے يا صیغہِ امر میں، امر کے صیغوں میں اختلاف ہے؟ کہتے ہیں یہ بات تلویح میں مذکور ہے۔ بعض کہتے ہیں یہ اختلاف کس کے اندر مراد ہے؟ لفظِ امر میں، بعض کیا کہتے ہیں؟ کس کے اندر اختلاف مراد ہے؟ صیغوں میں، کیسے۔ دیکھو بھئی، امر کا لفظ وضع ہے، ا، م، ر کا یہ جو مجموعہ ہے، یہ کس کے لیے وضع ہے؟ میں نے کیا بتلایا تھا؟ صیغے کے لیے، کس کے لیے؟ معلوم ہوا اضْرِبْ یہ کیا ہے؟ امر، یہ کیا ہے؟ تو امر کا لفظ اس صیغے کے لیے اسی طرح اشْرَبْ، انْصُرْ امر کا لفظ ان صیغوں کے لیے وضع ہے ان صیغوں کے لیے۔ اب یہ صیغہ کبھی وجوب کے لیے آئے گا، کبھی کس کے لیے آئے گا؟ ندب کے لیے، کبھی یہ کس لیے آئے گا؟ اباحت کے لیے، تو امر کا لفظ بول کر یہ صیغہ مراد ہے، اور یہ صیغہ اگر وجوب کے معنی کے لیے آیا ہو، تو یہ امر کا لفظ کیا ہے؟ جی؟ حقیقت ہے، یہ لفظِ امر کس کے لیے آیا؟ صیغے کے لیے، اور وہ صیغہ کس میں استعمال ہوا ہے آگے؟ وجوب یعنی معنی حقیقى میں، تو یہ امر کا لفظ کس کے لیے استعمال ہوا؟ یہ جو جس معنی کے لیے استعمال ہوا، یہی اس کا موضوع لہ ہے، تو یہ امر کا لفظ کیا ہوا؟ حقیقت۔ اور اگر یہی امر کا لفظ ایسے صیغے کے لیے استعمال ہو جو وجوب کے لیے نہیں ہے بلکہ کس لیے آ رہا ہے؟ مثلاً اضْرِبْ ہے، اس کے ذریعے اضْرِبْ کے ذریعے وجوب نہیں مراد بلکہ کیا مراد ہے؟ ندب یا اباحت، تو اس امر کا اطلاق اس اضْرِبْ پر جو کس کے لیے آیا؟ ندب یا اباحت کے لیے، یہ مجاز ہے، یہ کیا ہے؟ یا یہ حقیقتِ قاصرہ ہے، اس میں اختلاف ہے بھئی۔ بعض کہتے ہیں حقیقتِ قاصرہ ہے، امر کا لفظ ہو تو اس صیغے کے لیے آنا چاہیے جو کس کے لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے، اگر اس صیغے پر اس کی دلالت یہ دلالت اس صیغے کے لیے اس کو استعمال نہیں کرتے بلکہ کس لیے استعمال کرتے ہیں؟ اس صیغے کے لیے جو کس لیے آ رہا ہے؟ ندب کے لیے یا اباحت کے لیے آ رہا ہے، تو یہ کیا ہے؟ مجاز یا حقیقتِ قاصرہ ہے، بعض کہتے ہیں اس میں اختلاف ہے، اور بعض کہتے ہیں یہ مجاز ہے، بعض کہتے ہیں یہ حقیقتِ قاصرہ ہے۔ اور بعض کہتے ہیں نہیں، جو صیغے ہیں بھئی امر کے صیغے ہیں، یعنی اضْرِبْ، انْصُرْ وغیرہ، اگر یہ اگر وجوب کے لیے آئیں تو یہ کیا ہیں؟ حقیقت، اور یعنی ان کے ذریعے جو امر آیا ہے، حکم ہوا ہے، وہ حکم کس طریقے پر ہو؟ وجوب کے طریقے پر ہو، تو پھر یہ کیا ہے؟ حقیقت، اور اگر یہ ندب اور اباحت، مثلاً اضْرِبْ کس لیے آتا ہے؟ کس چیز کو طلب کی، کس کو طلب کیا جا رہا ہے؟ ضرب کو، تو اگر یہ وجوب کے طریقے پر طلب ہے، تو پھر امر کس سے اضْرِبْ کس لیے آیا؟ وجوب کے لیے، اور یہ وضع بھی کس لیے ہے؟ وجوب کے لیے، تو یہ ہوا حقیقت، اور اگر یہ کس لیے استعمال ہو اضْرِبْ ندب یا اباحت کے لیے، تو پھر اس کو بعضوں نے کہا یہ حقیقتِ قاصرہ ہے، بعضوں نے کیا کہا؟ یہ مجاز ہے، صورت سمجھ میں آئی؟ تو اختلاف ہے اس کے اندر، بعض کہتے ہیں یہ اختلاف لفظِ امر میں ہے کہ لفظِ امر کا اطلاق اس صیغے پر جو وجوب کے لیے استعمال ہو رہا ہے حقیقت ہے، اور وہ صیغہ جو کس میں استعمال ہو رہا ہے؟ ندب یا اباحت کے لیے، اس کو بھی ہم امر کہتے ہیں، لیکن امر کا اس پر اطلاق یہ کیا ہے؟ حقیقتِ قاصرہ ہے یا مجاز ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور بعضوں نے کہا نہیں، وہ صیغے کی بات کی جا رہی ہے کہ وہ جو امر کا صیغہ ہے اضْرِبْ، وہ اگر وجوب کے لیے ہے تو حقیقت، اگر ندب اور اباحت کے لیے ہے تو حقیقتِ قاصرہ ہے یا مجاز ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ وأما تحقيق أن هذا الاختلاف في لفظ الأمر أو في صيغ الأمر فمذكور في التلويح، باقی یہ تحقیق کہ یہ اختلاف لفظِ امر میں ہے یا امر کے صیغوں میں ہے، فمذكور في التلويح، تو یہ کس کے اندر مذکور ہے؟ تلویح کے اندر مذکور ہے جو انشاء اللہ آپ سادسہ میں پڑھیں گے بھئی، انشاء اللہ۔ تو یہ تلویح کے اندر مذکور ہے، بما لا مزيد عليه، اس طور پر کہ اس پر مزید زیادتی کی گنجائش نہیں یا مزید زیادتی کی ضرورت نہیں، یعنی پوری تفصیل کے ساتھ وہاں مذکور ہے، کسی قسم کی اس میں کمی نہیں۔ بھئی چلیے بس مولانا، هذا هو المراد والله أعلم بحقيقة الكلام.