Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-016

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 12
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔16 وكان مهر مقدرا شرعا غير مضاف إلى العبد عطف على ما سبق وتفريع على حكم الخاص. أي ولأجل أن العمل بالخاص واجب ولا يحتمل البيان، كان المهر مقدرا من جانب الشارع غير مضاف تقديره إلى العباد. وكان المهر مقدرا، جي، اس کا عطف بھئی اوپر متن میں جو آیا: "وجب مهر المثل"، اس پر بھی عطف کر سکتے ہیں، اور جو گزشتہ متن اس سے پہلے گزرا تھا: "ولذلك صح إيقاع الطلاق بعد الخلع"، تو "صح إيقاع الطلاق" پر بھی اس کا عطف کر سکتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ دونوں پر عطف کر سکتے ہیں۔ تو "ولذلك" بھی ان کے ساتھ جڑ گیا بھئی، پہلے کیا تھا: "ولذلك صح إيقاع الطلاق"، اب اس پر "صح" پر عطف کیا تو کیا بن گئی عبارت؟ "ولذلك كان المهر مقدرا شرعا غير مضاف إلى العبد"، اور اسی وجہ سے "كان المهر مقدرا"، مهر جو ہے وہ مقرر ہے شرعاً، شریعت کے اعتبار سے یعنی شارع کی طرف سے، "غير مضاف إلى العبد"، بندے کی طرف نسبت نہیں ہے اس کے مقرر کرنے کی، یعنی بندہ کی طرف سے مقرر نہیں ہے بلکہ کس کی طرف سے مقرر ہے؟ شارع کی طرف سے مقرر ہے بھئی، دیکھیے یہ سارا خود بتلائیں گے شارع۔ کہتے ہیں: عطف على ما سبق، یہ عطف ہے وہ جو پہلے گزرا بھئی، میں نے بتلایا "صح" جو گزرا تھا ماقبل متن میں یا "وجب مهر المثل" دونوں پر عطف کر سکتے ہیں بھئی۔ وتفريع على حكم الخاص، اور یہ تفریع ہے خاص کے حکم پر، أي ولأجل أن العمل، بھئی کس کے ساتھ یہ جڑا تھا بھئی؟ پہلے متن سے پہلے کیا آیا تھا؟ "ولذلك صح"، تو اس کا تعلق بھی "ولذلك كان المهر"، تو اس اسی کے اعتبار سے اب ترجمہ کر رہے ہیں "ولذلك" کو ساتھ ملا کر، اسی وجہ سے، أي لام اجلیہ ہے "لذلك" کے اندر، کیا معنی ہوا؟ أي لأجل، اس وجہ سے کہ "أن العمل بالخاص"، "ذلك" کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہوا؟ خاص کا جو حکم بیان ہوا تھا اس کی طرف اشارہ ہوا کہ وہ جو عمل خاص خاص پر کیا ہے؟ عمل واجب ہے، "ولذلك"، اسی وجہ سے، کیا معنی اسی وجہ سے؟ یعنی کہ کیا حکم بیان ہوا تھا پہلا؟ خاص پر عمل واجب ہے، اس کی طرف اشارہ ہے۔ اور اسی وجہ سے کہ خاص پر عمل واجب ہے "ولا يحتمل البيان"، اور وہ بیان کا احتمال نہیں رکھتا، "كان المهر مقدرا من جانب الشارع"، مهر جو ہے وہ مقرر ہے کس کی جانب سے؟ شارع کی جانب سے، دیکھیے یہ متن اوپر والا اب اس کی تشریح شروع ہو گئی، "شرعا" کا کیا معنی بتلایا؟ أي من جانب الشارع، یعنی شارع کی جانب سے مقرر ہے، "غير مضاف تقديره إلى العباد"، منسوب، "غير مضاف" منسوب نہیں ہے بندے کی طرف، بھئی کیا چیز منسوب نہیں ہے؟ بتلایا: تقديره بھئی، اس کا مقرر کرنا وہ بندے کی طرف منسوب نہیں ہے بھئی۔ بيانه، بیان اس کا یہ ہے بھئی، بھئی یاد رکھیے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مهر کی مقدار مقرر کرنا یہ بندوں کی رائے کے سپرد ہے، جو وہ باہمی رضامندی سے جو بھی مهر طے کرنا چاہیں مهر طے کر سکتے ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ عقدِ نکاح عقدِ معاوضہ ہے بھئی، تو یہ بیع کی طرح ہوا، تو جیسے بیع عقدِ معاوضہ ہے اور عقدِ معاوضہ میں آپ جانتے ہیں جانبین جس ثمن پر بھی راضی ہو جائیں اس پر وہ اسے ثمن مقرر کر سکتے ہیں، تو یہاں پر بھی جانبین جس مقدار پر بھی راضی ہو جائیں اس کو بطورِ مهر کے مقرر کر سکتے ہیں بھئی۔ بيانه، بیان اس کا یہ ہے کہ أن تقدير المهر عند الشافعي رحمہ اللہ مفوض إلى رأي العباد واختيارهم، بیان اس کا یہ ہے کہ مهر کا مقرر کرنا امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وہ سپرد کیا گیا ہے بندوں کی رائے اور ان کے اختیار کے، بندوں کی رائے اور ان کے اختیار کے سپرد ہے وہ جو بھی مقرر کرنا چاہیں۔ فكل ما يصلح ثمنا يصلح مهرا عنده، پس جو بھی چیز ثمن بننے کی صلاحیت رکھتی ہو وہ صلاحیت رکھتی ہے مهر بننے کی بھی ان کے نزدیک بھئی۔ وعندنا، ہمارے نزدیک بھئی، جبکہ ہمارے نزدیک یاد رکھیے مهر کی مقدار جو ہے مقرر ہے اللہ کی طرف سے، یہاں یہ البتہ جانبِ اکثر میں مقرر نہیں ہے بلکہ جانبِ اقل، اکثر مهر کی کوئی مقدار مقرر نہیں ہے جتنا بھی مقرر کرنا چاہیں کر سکتے ہیں زیادہ سے زیادہ، لیکن کم سے کم مقدار مقرر ہے اور وہ دس درہم ہے، کم سے کم مقدار کیا ہے؟ دس درہم ہے، دس درہم سے کم مهر نہیں بھئی، دس درہم سے کم مهر نہیں۔ سو ہم وعندنا، ہمارے نزدیک، وإن كان لا يقدر في جانب الأكثر، اگرچہ مهر کی مقدار مقرر نہیں ہے اکثر کی جانب یعنی زیادہ سے زیادہ کی، لكن يقدر في جانب الأقل، لیکن جانبِ اقل میں کیا ہے؟ اقل میں وہ مقرر ہے، وهو أن لا يكون أقل من عشرة دراهم، اور وہ یہ کہ وہ دس درہم سے کم نہیں ہوگی، عملا بقوله تعالى، عمل کرتے ہوئے اللہ کے اس قول پر بھئی، ہم اللہ کے اس قول سے استدلال کرتے ہیں، قد اللہ فرماتے ہیں: قد علمنا ما فرضنا عليهم في أزواجهم وما ملكت أيمانهم، تحقیق ہم جانتے ہیں وہ جو فرضنا ہم نے مقرر کیا ہے علیہم ان خاوندوں پر فی ازواجہم ان کی بیویوں کے بارے میں وما ملكت أيمانهم اور وہ جن کے وہ جن کے جو ان کے دائیں ہاتھ جن کے مالک ہیں یعنی ان کی باندیاں بھئی، جو ہم نے مقرر کیا ان خاوندوں پر ان کی بیویوں کے بارے میں اور ان کی باندیوں کے بارے میں۔ أي قد علمنا ما قدرنا، دیکھو معنی کر دیا "فرضنا" کس معنی میں ہے؟ "قدرنا" مقرر کرنے کے معنی میں ہے، یعنی تحقیق ہم جانتے ہیں وہ جو ہم نے مقرر کیا ان خاوندوں پر فی حق أزواجهم ان کی بیویوں کے بارے میں، جی، اور وہ کیا ہے؟ وهو المهر، کیا مقرر کیا اللہ تعالیٰ نے؟ مهر ہے، فالفرض لفظ خاص، تو فرض کیا ہے؟ ایک خاص لفظ ہے بھئی، وضع لمعنى التقدير، جس کو کس معنی کے لیے وضع کیا گیا ہے؟ تقدیر کے معنی کے لیے وضع کیا گیا ہے یعنی مقرر کرنا ہے اس کا معنی، اس معنی کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے بھئی۔ بھئی یاد رکھیے آگے آپ کو شارح بتلائیں گے کہ لغت کے اندر جو ہے اس کو وضع کیا گیا ہے ایجاب اور قطع کے لیے، لغت کے اعتبار سے یہ لفظ کس معنی کے لیے وضع ہے؟ ایجاب اور قطع کے لیے، واجب کرنا اور کاٹنا اس معنی کے لیے وضع ہے بھئی۔ تو بھئی یہاں تو اوپر پہلے ذکر ہوا کہ اس کو کس کے لیے معنی کے لیے وضع کیا گیا ہے؟ تقدیر کے معنی کے لیے، مقرر کرنے کے معنی کے لیے وضع ہے، یاد رکھو یہ فقہاء کی اصطلاح میں ہے، کس کی؟ فقہاء کی اصطلاح میں ہے بھئی، تو فقہاء کی اصطلاح میں یہ فرض کا لفظ کس معنی میں استعمال ہوتا ہے؟ زیادہ تر یہ مقرر کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ چنانچہ کہتے ہیں بھئی: فرض القاضي النفقة، قاضی نے کیا کیا؟ نفقہ مقرر کیا، اسی طرح علمِ میراث بھئی جس کے اندر وارثوں کے مقررہ حصے بیان ہوتے ہیں اس کو کیا کہتے ہیں؟ ان مقررہ حصوں کو فرائض کہا جاتا ہے فرائض بھئی، فرض کی جمع۔ تو معلوم ہوا اس کے معنی مقرر کرنے کے ہیں، تو گویا یہ حقیقتِ عرفیہ ہے، یہ کیا ہے؟ یعنی فقہاء کے عرف میں اس گویا اس لفظ کو اس معنی کے لیے وضع یعنی شریعت میں گویا اس معنی کے لیے وضع ہے مقرر کرنے کے معنی کے لیے شریعت میں۔ تو کہتے ہیں: فالفرض لفظ خاص وضع لمعنى التقدير، فرض کا لفظ خاص ہے، وضع لمعنى التقدير، جس کو وضع کیا گیا ہے مقرر کرنے کے معنی کے لیے۔ وكذلك ضمير المتكلم خاص على ما قالوا، اور اسی طرح متکلم کی ضمیر بھی خاص ہے بنا بر اس کے جو علماء نے فرمایا ہے بھئی، متکلم کی ضمیر بھی کیا ہے؟ خاص ہے، بھئی اس پر اشکال ہوتا ہے کہ متکلم کی ضمیر بھئی "أنا" جو ہے وہ تو مذکر کے لیے بھی ہے اور مونث کے لیے بھی ہے، اسی طرح بھئی جو جمع کی ضمیر ہے متکلم کی وہ تو تثنیہ کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے، جمع کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے، مذکر کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے، مونث کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے، وہ خاص کیسے ہے بھئی؟ تو محشی جواب دیتے ہیں کہ بعین اعتبار خاص ہے یعنی کہ غائب اور مخاطب، جب متکلم کہتے ہیں تو غائب اور مخاطب سے کیا ہوا؟ احتراز ہوا، یعنی غائب اور مخاطب کو یہ شامل نہیں ہے، تو اس اعتبار سے یہ کیا ہے؟ خاص ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں متکلم کی ضمیر بھی خاص ہے، متکلم کی ضمیر بھئی وہ جو "فرضنا" کے ساتھ ملی ہوئی ہے "نا" ضمیر بھئی، وكذا الإسناد خاص عند صاحب التوضيح، اور اسی طرح اسناد بھی کیا ہے خاص؟ کس کے نزدیک؟ صاحبِ توضح کے نزدیک بھئی، اسناد بھئی یعنی یہ مقرر کرنا شارع کی جانب سے ہے کسی اور کی طرف سے؟ نہیں، "فرضنا" مقرر کیا، کس نے مقرر کیا؟ ہم نے، اللہ فرما رہے ہیں، تو شارع کی جانب ہوئی اس مقرر کرنے کی نسبت اور اسناد کس کی طرف ہے؟ شارع کی طرف ہے، کسی اور کی طرف نہیں ہے، تو یہ اسناد بھی خاص ہوئی بھئی، فعلم، پس یہ جان لیا گیا، أن المهر مقدر في علم الله تعالى، کہ مهر جو ہے وہ مقرر ہے اللہ کے علم میں، وقد بينه النبي عليه السلام، اس کو بیان کیا، تحقیق اس کو بیان کیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے، بقوله، اپنے اس قول کے ساتھ: لا مهر أقل من عشرة دراهم، دس درہم سے کم مهر نہیں ہے بھئی، دس درہم سے کم مهر نہیں ہے بھئی۔ وكذا نقيسه على قطع اليد، اسی طرح ہم اس کو قیاس کرتے ہیں قطعِ ید پر بھئی، قطعِ ید پر، ایک تو یہ حدیث آ گئی: "لا مهر أقل من عشرة دراهم"، اسی طرح قیاس بھی اس ہمارا مؤید ہے، ہم اس کو قیاس کرتے ہیں "على قطع اليد" بھئی، کس پر؟ قطعِ ید پر، لأنه أيضا عوض العشرة دراهم، اس لیے کہ وہ قطعِ ید جو ہے وہ بھی دس درہم کا عوض ہے بھئی، دس درہم، معلوم بھئی آپ جانتے ہیں بھئی کوئی چوری کر لے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے، لیکن ہر چوری پر نہیں، وہ کم از کم کتنے مال کی چوری ہو؟ دس درہم کی چوری ہو تو پھر اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے بھئی، معلوم ہوا انصا ایک انسانی عضو کی کم سے کم قیمت کتنی ہے؟ دس درہم ہے بھئی، دس درہم ہے، اور یہ بات ہو رہی ہے نکاح کی، تو نکاح کے اندر بھئی نکاح بھئی، تو یہاں پر بھی مهر کم سے کم کتنا ہونا چاہیے؟ دس درہم ہونا چاہیے اس لیے کیونکہ یہ عوض ہے بضع کا اور وہ بھی ایک انسانی عضو ہے تو کم سے کم قیمت کتنی ہوئی؟ دس بھئی، عوض اس کا کم سے کم دس درہم ہوا۔ فالتقدير خاص، تو شارع فرماتے ہیں کہ تقدیر جو ہے وہ کیا ہے؟ مقرر کرنا، خاص ہوا، وإن كان المقدر مجملا، اگرچہ جو مقررہ مقدار ہے وہ کیا ہے؟ مجمل ہے، بھئی تقدیر تو خاص ہے، یہ مقرر کرنا کس کی طرف سے ہے؟ اللہ کی طرف سے، لیکن کتنا مقرر ہے؟ یہ اجمال تھا، اس اجمال کے لیے کیا چاہیے؟ بیان چاہیے، تو حدیث اس کے لیے کیا بن گئی؟ بیان بن گئی۔ تو کہتے ہیں: وإن كان المقدر مجملا محتاجا إلى البيان، اگرچہ مقدار جو ہے وہ مقررہ مقدار وہ مجمل ہے اور محتاج ہے بیان کی، وهذا في اصطلاح الفقهاء، اور یہ جو ہم نے کہتے ہیں فرض بمعنی تقدیر کے کیا، یہ کس کی اصطلاح میں ہے؟ فقہاء کی اصطلاح میں ہے، وأما في اللغة، باقی لغت کے اندر، فهو حقيقة في الإيجاب والقطع، یہ فرض کا لفظ حقیقت ہے ایجاب اور قطع کے معنی میں، اس کا معنی کیا آتا ہے؟ واجب کرنا اور کاٹنا، ولهذا قال الشافعي رحمه الله، اور اسی وجہ سے امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: إن الفرض هاهنا بمعنى الإيجاب، کہ یہاں فرض کس معنی میں ہے؟ ایجاب یعنی واجب کرنے کے معنی میں ہے، مقرر کرنے کے معنی میں نہیں ہے، بقرينة تعديته بعلى، قرینہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کسے کہتے ہیں؟ "هو أمر يشير إلى المطلوب"، وہ چیز جو مطلوب کی جانب اشارہ کر رہی ہو بھئی۔ تو یہاں دو قرینے ہیں مولانا، یا یوں کہیں یا دو دلیلیں موجود ہیں اس کے اندر بھئی، دو اس بات پر دو دلیلیں موجود ہیں، ایک دلیل کیا ہے؟ "تعديته بعلى"، کہ اس فرض کو متعدی کیا گیا ہے کس کے ساتھ؟ "على" کے ساتھ، "على" کے ساتھ اس کو متعدی کرنا یہ قرینہ ہے کہ یہ بمعنی ایجاب کے ہیں، اس لیے کہ فرض کے ساتھ فرض کا جب صلہ "على" آئے، صلہ بھئی یعنی یاد رکھو فعل کے ساتھ جو حرفِ جار استعمال ہوتا ہے وہ اس کا صلہ کہلاتا ہے، تو جب "فرض" کا صلہ "على" آئے تو یہ بمعنی ایجاب کے ہوتا ہے واجب کرنے کے بھئی، چنانچہ عربی میں کہتے ہیں: "فرضت عليه أي أوجبت عليه"، یعنی میں نے اس پر کیا کر دیا؟ واجب کر دیا، تو یہ "على" بتلا رہا ہے یہ فرض کس معنی میں ہے؟ واجب کرنے کے معنی میں، ایجاب کے معنی میں ہے، تو یہ پہلا قرینہ ہوا کہ ایجاب کے معنی میں ہے، وعطف "وما ملكت أيمانهم" على "أزواجهم"، دوسرا کہ "وما ملكت أيمانهم" کا عطف ہے "أزواجهم" پر۔ کس پر عطف ہے؟ "أزواج" پر عطف ہے، جو ہم نے ان خاوندوں پر مقرر کیا ان کی بیویوں کے بارے میں اور ان کی باندیوں کے بارے میں، اور امام ش امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ باندیوں کے بارے میں تو آپ جانتے ہی ہیں کہ باندی کا مهر اس کے آقا پر نہیں ہوتا بھئی، باندی کا مهر اس کے آقا پر نہیں ہوا کرتا، اور یہاں پر باندیوں کا عطف ہو رہا ہے "أزواج" پر، تو معلوم ہوا ان کی بھی بات آ گئی کہ ان کے لیے بھی کیا کیا ہے؟ خاوندوں ان کے آقاوں پر کیا کیا ہے؟ مقرر کیا ہے، اور وہ مهر تو مقرر ہوتا نہیں، ہاں ان کے لیے نفقہ اور کسوہ ہوتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ کھانا پینا اور ان کا لباس وغیرہ وہ خا وہ ان کے آقا کے ذمہ واجب ہوتا ہے، تو جب باندیوں کا ذکر ہوا اور ان کا عطف "أزواج" پر ہوا، تو معلوم ہوا اس سے مراد مهر نہیں ہے بلکہ اس سے کیا مراد ہے؟ نفقہ اور کسوہ، کیونکہ نفقہ اور کسوہ جیسے باندی کے لیے ہوتا ہے واجب، اسی طرح بیوی کے لیے بھی واجب، معلوم ہوا یہاں مهر کی بات ہی نہیں چل رہی، یہ "وما ملكت أيمانهم" کا لفظ جو آ گیا اس نے بتلا دیا کہ یہاں مهر کی بات نہیں ہو رہی بلکہ کس کی بات ہو رہی ہے؟ نفقے اور کسوہ کی بات ہو رہی ہے بھئی۔ تو یہ کہتے ہیں یہ دوسرا قرینہ ہے، کہتے ہیں: وعطف "وما ملكت أيمانهم" على "أزواجهم"، اور یہ عطف کرنا "وما ملكت أيمانهم" کو "أزواجهم" پر یہ دوسرا قرینہ ہے جو بتلاتا ہے کہ فرض یہاں کس معنی میں ہے؟ ایجاب کے معنی میں ہے، مقرر کرنے کے معنی میں نہیں، کیونکہ باندیوں کے لیے تو کوئی مهر مقرر نہیں ہے بھئی۔ لأن المهر لا يقدر في حق ما ملكت أيمانهم، اس لیے کہ مهر جو ہے وہ مقرر نہیں ہے باندیوں کے حق میں، فيكون المراد به النفقة والكسوة، تو اس کے لیے مراد جو ہوگا کیا مراد ہوگا؟ نفقہ اور کسوہ، وهو واجب في حق الأزواج وما ملكت أيمانهم جميعا، اور یہ نفقہ اور کسوہ یہ تو واجب ہے بیویوں کے حق میں بھی اور بیویوں اور باندیوں سب کے حق میں یہ واجب ہے۔ سمجھ میں آیا امام شافعی رحمہ اللہ کا استدلال؟ سمجھ میں آیا بھئی؟ قلنا، ہم جواب دیتے ہیں: تعديته بعلى إنما هو لتضمين معنى الإيجاب، کہ یہ جو اس کو لفظ کو "فرضنا" کو متعدی کرنا ہے "على" کے ساتھ یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ متضمن ہے ایجاب کے معنی کو، بھئی تضمین آئی بھئی، تضمین یاد رکھو ایک فعل کے اندر دوسرے فعل کے معنی کی رعایت رکھنا بھئی، ایک فعل آپ استعمال کرتے ہیں لیکن اس کے اندر دوسرے فعل کے معنی کی بھی رعایت رکھتے ہیں کہ اس کا معنی بھی ساتھ آ جائے اور اس پر دلالت آگے آنے والا صلہ کرتا ہے، کیا کرتا ہے؟ آگے آنے والا حرفِ جار بتلاتا ہے، وہ حرفِ جار بتلائے گا بھئی اس فعل کا یہ صلہ تو نہیں آتا لیکن آپ یہ صلہ لے کر آئے ہیں، معلوم ہوا آپ نے کیا کیا؟ اس دوسرے فعل کے معنی کی رعایت رکھی ہے جس کا یہ صلہ آتا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں بھی تضمین ہے، "فرضنا" کا معنی مقرر کرنے کے ہیں، لیکن اس میں ایجاب کے معنی کی بھی رعایت ملحوظ ہے، ایجاب کا معنی بھی یہاں مراد ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟ تضمین کس کو کہتے ہیں؟ ایک فعل کے اندر دوسرے فعل کے معنی کی رعایت رکھنا، اور اس کا پتہ کس کے ذریعے چلتا ہے؟ صلے، صلہ بتلاتا ہے بھئی کہ بھئی اس فعل کا تو یہ صلہ نہیں آتا اس معنی کے اعتبار سے، یہ معنی آیا تو معلوم ہوا دوسرے فعل کی بھی رعایت رکھی گئی۔ تو کہتے ہیں یہ جو اس کو متعدی کرنا ہے "على" کے ساتھ "إنما هو لتضمين معنى الإيجاب"، ایجاب کے معنی کی تضمین کی وجہ سے ہے، یعنی ایجاب کا معنی بھی ہے، تو گویا یوں ہوئی عبارت بھئی: "ما فرضنا موجبا عليهم"، جو ہم نے ان پر مقرر کیا اس طور پر کہ وہ ان پر واجب ہے۔ وعطف ما ملكت أيمانهم بتقدير فرضنا ثان، اور یہ جو ما ملكت أيمانهم کا عطف ہوا، اور پھر آپ نے کیا کہا کہ عطف بتلا رہا ہے کہ یہاں مہر کی بات نہیں چل رہی بلکہ کس کی بات چل رہی ہے؟ نفقے اور کسوے کی، تو ہم جواب دیتے ہیں کہ بھئی! یہ عطف اس پر ہے ہی نہیں، بلکہ یہاں ایک فرضنا ثانی مقدر ہے بھئی، یہاں ایک اور فرضنا نکالنا محذوف موجود ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ اور پھر جملے کا عطف جملے پر ہے: فرضنا عليهم في أزواجهم وفرضنا عليهم فيما ملكت أيمانهم، تو دو فرضنا ہیں یہاں۔ تو کہتے ہیں: وعطف ما ملكت أيمانهم بتقدير فرضنا ثان، اور ما ملكت أيمانهم کا جو عطف ہے وہ فرضنا ثانی کی تقدير کے ساتھ ہے، أي وما فرضنا عليهم فيما ملكت أيمانهم، دیکھیں یہ نکال کر بتلایا کہ ما ملكت أيمانهم سے پہلے کیا نکالیں گے؟ فرضنا عليهم پہلے نکال لیں گے۔ على أن يكون هذا بمعني أوجبنا والأول بمعني قدرنا، بناء بریں کہ یہ والا جو دوسرا فرضنا ہے یہ بمعنی أوجبنا کے ہوگا، واجب کرنے کے معنی میں ہے، والأول بمعني قدرنا، اور پہلا کس معنی میں ہے؟ قدرنا کے معنی میں ہے، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ بھئی دیکھیے! امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا تھا، وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو ما ملكت أيمانهم کا عطف ہے أزواجهم پر، یہ بتلا رہا ہے کہ یہاں مہر کی بات چل ہی نہیں رہی، اس لیے کہ باندیوں کے بارے میں تو بالاتفاق آقا پر کوئی مہر نہیں ہوتا بھئی۔ جی، تو سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ جواب دے رہے ہیں بھئی کہ وما ملكت أيمانهم کا عطف أزواج پر ہے ہی نہیں، بلکہ یہاں کیا ہے؟ ایک اور فرضنا مقدر ہے۔ تو وہ کس طرح ہوئی آیت پوری بھئی؟ محذوف عبارت نکال لیں: قد علمنا ما فرضنا عليهم في أزواجهم وفرضنا عليهم فيما ملكت أيمانهم، تو یہاں ایک اور فرضنا ہے اور پھر یہ پورا جملہ ہوگا اور اس پورے جملے کا عطف کس پر ہے؟ ماقبل والے فرضنا پر ہے، تو دو فرضنا ہوئے، اور پہلے فرضنا کا معنی ہے مقرر کرنا اور دوسرے فرضنا کا معنی کیا ہے؟ واجب کرنا جو ہم نے ان پر واجب کیا ہے بھئی باندیوں کے لیے، اور باندی کے لیے کیا واجب ہے؟ نفقہ اور کسوہ واجب ہے، جبکہ بیویوں کے لیے مقرر جو کیا ہے اور وہ کیا ہے؟ مہر ہے بھئی۔ هكذا قالوا، اسی طرح علماء نے فرمایا ہے۔ شاید اس کے لیے کہتے ہیں بھئی شارح اشارہ کر رہے ہیں اس بات کی طرف بھئی کہ یہ احناف کی طرف سے جو جوابات دیے گئے وہ تکلفات سے خالی نہیں، تکلف کرنا پڑتا ہے بھئی۔ معلوم ہوا یہاں پر بھئی دلیل کیا ہوئی؟ ذرا کمزور ہے بھئی، امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل قوی ہے بھئی۔ جی، لیکن میں نے بتایا یہ صرف اس قانون کے اعتبار سے ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور بھی بہت سے دلائل ہیں ہمارے پاس، ہر ہر مسئلے میں بہت سے دلائل ہوتے ہیں، لیکن یہاں بھئی وہ مختصر انہوں نے، انہوں نے کوئی مذاہب کے درمیان وہ کیا کہتے ہیں؟ دلائل کی جنگ نہیں ہو رہی کہ اس مسئلے کے اندر جو دلیلیں ہیں وہ ساری ذکر کریں، بس ایک قانون ذکر ہوتا ہے، اس قانون کے تحت کیا کس طرح دلیل بنتی ہے اس مسئلے کے لیے، تو یہ معنی نہیں کہ صرف یہی دلیل ہے، اس کے علاوہ اور کوئی دلیل ہی نہیں، اس کے علاوہ بھی دلائل، ہر ہر مسئلے میں بہت سے دلائل ہیں مولانا، قرآن، حدیث وغیرہ۔ تو اسی لیے انہوں نے کہا چونکہ یہاں یہ بات کمزور تھی تو کہا هكذا قالوا، اسی طرح علماء نے فرمایا ہے۔ ثم ذكر المصنف رحمه الله دلائل كل من المسائل الثلاثة، پھر اس کے بعد ذکر فرمایا مصنف نے تینوں مسائل کے دلائل، تینوں مسائل میں سے ہر ایک کے دلائل ذکر فرمائے، فقال، تو فرماتے ہیں: عملا بقوله تعالى: فإن طلقها فلا تحل له، وأن تبتغوا بأموالكم، وقد علمنا ما فرضنا عليهم، بھئی پچھلے متن جو گزرے، پیچھے متن کیا تین تفریعات جو آخری ذکر ہوئیں: ولذلك، صرف متن متن دیکھیے، ولذلك صح إقاع الطلاق بعد الخلع، اور اسی وجہ سے خلع کے بعد طلاق کا واقع کرنا صحیح ہے، ووجب مهر المثل بنفس العقد في المفوضة، اور اسی وجہ سے مہرِ المثل واجب ہوگا نفسِ عقد ہی کے ذریعے مفوضہ کے اندر، وكان المهر مقدرا شرعا غير مضاف إلى العبد، اور اسی وجہ سے مہر جو ہے وہ مقررہ ہے شارع کی جانب سے، بندے کی طرف اس کا مقرر کرنے کی نسبت نہیں ہے۔ دیکھو! متن کے اندر کوئی دلیل ذکر نہیں ہوئی بھئی، وہ تو شارح نے نیچے پھر شرح کی اور اس کے اندر اس دلیل کو ذکر کیا۔ تو ماتن نے صرف تین مسائل ذکر کیے اور پھر اب آخر میں آکر کیا کر رہے ہیں؟ ہر ایک کی دلیل ذکر کر رہے ہیں، چنانچہ فرماتے ہیں: عملا بقوله تعالى، عمل کرتے ہوئے اللہ کے اس قول پر: فإن طلقها فلا تحل له، یہ دلیل ہے مولانا کس مسئلے کی؟ صح إقاع الطلاق بعد الخلع، کہ خلع کے بعد طلاق دینا صحیح ہے، اللہ کے اس قول پر عمل کرتے ہوئے، وأن تبتغوا بأموالكم، یہ کس مسئلے کی دلیل ہے؟ ووجب مهر المثل بنفس العقد في المفوضة، مفوضہ کے اندر نفسِ عقد سے ہی مہرِ المثل واجب ہو جائے گا، اس دلیل سے کہ اللہ فرماتے ہیں: وأن تبتغوا بأموالكم، وقد علمنا ما فرضنا عليهم، یہ کس مسئلے کی دلیل ہے؟ وكان المهر مقدرا، بھئی کہ مہر مقرر ہے، اللہ کے اس قول کی وجہ سے: قد علمنا ما فرضنا عليهم۔ فقوله عملا تعليل لقوله صح، یہ علت بیان کر رہے ہیں ماتن کے قول صح کی، سمجھ میں آیا؟ صح، یعنی یہ مفعول لہ ہے، مفعول لہ کس کو کہتے ہیں؟ جو ماقبل کی کیا بیان کرتا ہے؟ علت بیان کرتا ہے، تو یہ علت بیان کر رہے ہیں لقوله، ماتن کا قول جو صح إلى آخره، إلى، لفظ ہے یہ إلى آخره سے بھئی مخفف تخفیف کی ہے، على طريق اللف والنشر المرتب، بھئی کس طریقے پر ہے؟ یہ تعلیل طریقہِ لف و نشر مرتب کے طریقے پر ہے۔ یاد رکھیے لف و نشر یہ علمِ بدیع کی اصطلاح ہے، اگلے سال آپ ان شاء اللہ پڑھیں گے، علمِ بدیع میں لف و نشر کہتے ہیں کہ چند چیزوں کو پہلے ذکر کیا جائے، دو، تین یا چار چیزیں اکٹھی ذکر کر دیں اور پھر ہر ایک سے متعلقہ کوئی بات آگے ذکر کر دی۔ تو جو پہلے چار پانچ چیزیں ذکر مثلاً تھیں اس کو کہتے ہیں لف، اور اس کے بعد ہر ایک سے متعلقہ بات جو ذکر کی، تفصیل جو بیان کی اس کو کیا کہتے ہیں؟ نشر کہتے ہیں، جیسے یہاں پہلے تین مسائل ذکر ہوئے اور پھر آگے ان کی کیا ذکر کر دیا؟ ہر ایک کی دلیل ذکر کر دی، تو جو پہلے تین مسئلے ذکر ہوئے وہ تھا لف، اور اب یہ جو تین دلیلیں ذکر ہوئیں یہ کیا ہے؟ نشر ہے، اور پھر یہ لف و نشر دو قسم پر ہے کہ لف کے اندر چیزوں کی جو ترتیب تھی نشر میں بھی وہی ترتیب ہوگی یا وہ ترتیب نہیں؟ اگر وہی ترتیب ہے، مثلاً وہاں تین چیزیں ذکر تھیں، نشر کے اندر بھی جو ان سے متعلقہ باتیں ہیں اسی ترتیب سے ہیں، پہلی بات کا تعلق پہلے سے، دوسری کا دوسرے سے، تیسری کا تیسرے سے، تو یہ لف و نشر مرتب ہے، اور اگر نشر کے اندر ترتیب نہ ہو وہی لف والی، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ لف و نشر غیر مرتب کہتے ہیں بھئی، لف و نشر غیر مرتب بھئی، تو یہاں ان تینوں کے دلائل ذکر کر دیے بھئی۔ فقوله: "فإن طلقها فلا تحل له" ناظر إلى المسألة الأولى، پس اللہ تعالیٰ کا یہ قول جو ہے فإن طلقها فلا تحل له جو متن میں آیا ناظر إلى المسألة الأولى، یہ دیکھنے والا ہے مسئلہ اولیٰ، پہلے مسئلہ کی طرف یعنی پہلے مسئلہ کے اعتبار سے ہے، یعنی یہ اس کی دلیل ہے، وقوله تعالى: وأن تبتغوا بأموالكم، اور اللہ کا یہ قول ہے جو ہے وأن تبتغوا بأموالكم جو متن میں آیا ناظر إلى المسألة الثانية، یہ کس کے اعتبار سے ہے؟ مسئلہ ثانیہ کے اعتبار سے ہے یعنی اس کی دلیل ہے، وقوله: قد علمنا ما فرضنا عليهم ناظر إلى المسألة الثالثة، اور قد علمنا ما فرضنا عليهم جو ہے یہ مسئلہ ثالثہ کے اعتبار سے ہے، وقد بينت كل ذلك بالتفصيل تحت كل مسألة فتأمل، اور تحقیق میں نے بیان کر دیا ہے ان میں سے ہر ایک کو تفصیل کے ساتھ ہر مسئلہ کے ساتھ فتأمل، پس آپ کیا کیجیے؟ غور کر لیجیے بھئی، شارح فرما رہے ہیں کہ میں ہر ایک کو تفصیل کے ساتھ بیان کر چکا ہوں بھئی۔ ثم لما فرغ المصنف رحمه الله عن تعريف الخاص وحكمه وتفريعاته أراد أن يبين بعض أنواعه المستعملة في الشريعة كثيرا، پھر جب مصنف رحمہ اللہ فارغ ہوئے خاص کی تعریف سے اور اس کے حکم سے اور اس کی تفریعات سے، تو انہوں نے ارادہ فرمایا کہ وہ بیان کر دیں اس خاص کی ان بعض انواع کو المستعملة في الشريعة جو استعمال ہوتی ہیں شریعت کے اندر كثيرا کثرت سے، وهو الأمر والنهي، اور وہ امر اور نہی ہیں بھئی، تو امر اور نہی یہ خاص کی اقسام ہیں، کثرت سے استعمال ہوتی ہیں، تو اب ان کا بیان کرنے لگے ہیں بھئی، اور پھر یاد رکھیے ان میں سے امر کو مقدم کریں گے بھئی، امر کو کیا کریں گے؟ مقدم کریں گے، وجہ یہ کہ شریعت کا جو پہلا حکم آتا ہے وہ امر کی قبیل سے ہے، اور وہ کیا ہے؟ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ بھئی، اے لوگو! اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، یہ امر کی قبیل سے ہے بھئی۔ فقال، تو ماتن فرماتے ہیں: ومنه الأمر، خاص میں سے امر بھی ہے، امر کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: وهو قول القائل لغيره على سبيل الاستعلاء افعل، وہ قائل کا کہنا ہے کسی دوسرے کو على سبيل الاستعلاء، استعلاء کے طریقے پر یعنی اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے، اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے کسی کہنے والے کا دوسرے سے کہنا: افعل، افعل کہنا۔ صورت، معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ استعلاء، استعلاء علو سے ہے، بلند بھئی، بلند سمجھنا یعنی بڑا سمجھنا۔ أي من الخاص الأمر، منہ ضمیر کا مرجع بتلایا، منہ کی ضمیر کس کو راجع ہے؟ خاص کو، خاص میں سے امر ہے، يعني مسمى الأمر لا لفظه، یعنی مسمائے امر مراد ہے، لفظ یہ امر کا لفظ نہیں مراد بھئی۔ مسمائے امر مراد ہے۔ بھئی دیکھیے! امر: ا م ر، ہمزہ، میم، را: امر، یہ لفظ، یہ حروف ملے کیا لفظ بنا؟ امر، اور یہ یاد رکھو یہ دلالت کرتا ہے وہ جو امر آپ پڑھتے ہیں: اضرب، یہ کیا ہے؟ امر ہے، انصر، یہ کیا ہے؟ امر ہے، افتح، یہ کیا ہے؟ امر ہے، تو یہ جو ہے، یہ یعنی ایک ہوتا ہے اسم، ایک ہے مسمیٰ، مثلاً میں نے زید کہا تو آپ کے ذہن میں کس کا تصور آیا؟ ذاتِ زید کا، تو ذاتِ زید ہوئی مسمیٰ، اور زید کیا ہے؟ اسم۔ تو یہاں پر بھی امر کہا اور امر جب بھی امر بولا تو ذہن میں کیا آیا؟ وہ صیغہ آیا بھئی، کیا آیا؟ صیغہ آیا امر والا، تو معلوم ہوا امر جو ہے اسم ہے اور اس کا مسمیٰ کیا ہے؟ وہ صیغہ ہے، اس کا مسمیٰ کیا ہے؟ صیغہ ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو ایک ہوتا ہے اسم اور ایک کیا ہے؟ مسمیٰ، تو امر بولیں تو کیا، یہ کس چیز پر یہ دلالت کرتا ہے؟ اس صیغے پر دلالت کرتا ہے، کس پر دلالت کرتا ہے؟ صیغے پر دلالت کرتا ہے۔ اچھا، تو کہتے ہیں یہاں امر سے امر کا لفظ نہیں مراد بلکہ مسمائے امر مراد ہے، یعنی وہ صیغہ مراد ہے جس پر یہ امر کیا کر رہا ہے؟ دلالت کر رہا ہے، یعنی وہ اضرب، انصر، اشرب وغیرہ بھئی، یہ صیغہ مراد ہے۔ تو امر سے امر کا لفظ نہیں مراد بلکہ کیا مراد ہے؟ مسمائے امر مراد ہے، یہی بات کر رہے ہیں: يعني مسمى الأمر لا لفظه، امر سے یعنی کہ مسمائے امر مراد ہے، لا لفظه، اس کا یہ لفظِ امر مراد نہیں ہے۔ بھئی کیوں؟ مسمائے امر کیوں مراد ہے؟ لفظِ امر کیوں نہیں مراد؟ دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی، کہتے ہیں: لأنه يصدق عليه أنه لفظ وضع لمعنى معلوم، بھئی دیکھیے بھئی، آگے متن میں دیکھ لیجیے ذرا: ويختص مراده بصيغة لازمة، اور اس امر کی مراد خاص ہے ایسے صیغے کے ساتھ جو اس مراد کے ساتھ لازم ہو بھئی، اور مرادِ امر سے کیا ہے؟ وجوب مراد ہے بھئی، امر کی مراد کیا ہے؟ وجوب، وہ کس لیے آیا کرتا ہے؟ وجوب کے لیے، اضرب امر آیا، کیا معنی؟ کس لیے آیا؟ وجوب کے لیے، یعنی کہ مخاطب سے کہا جس پر پٹائی کو کیا کیا جا رہا ہے؟ واجب کہ فلاں کی پٹائی کرو، تو معلوم ہوا امر کی مراد اس صیغے کی مراد کیا ہے؟ وجوب بھئی، اس سے کیا معنی سمجھ میں آتا ہے؟ وجوب، اور یہاں پر وجوب کی بات کریں گے اور اس وجوب پر یہ امر کا لفظ دلالت کر رہا ہے یا وہ صیغہ دلالت کر رہا ہے؟ جی؟ امر نے دلالت کی صیغے پر اور صیغہ جب بولو گے وہ دلالت کرے گا کس چیز پر؟ وجوب پر، اور ہم نے بھی کس سے بحث کرنی ہے؟ یہی بات کرنی ہے کہ امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے آتا ہے، اور وجوب کا پتہ اس امر لفظ سے چل رہا ہے یا اس صیغے سے پتہ چل رہا ہے؟ اس صیغے سے پتہ چل رہا ہے، اس لیے کہا کہ امر سے امر کا لفظ مراد نہیں، اس لیے کیونکہ اس کا مدلول تو صیغہ ہے، اور ہم کس سے بحث کریں گے؟ جس کا مدلول کیا ہو؟ وجوب ہو، اور وجوب کس کا مدلول ہے؟ اس صیغے کا مدلول ہے۔ تو وہ اور وہ صیغہ کیا ہے؟ مسمائے امر ہے، امر کا مدلول لفظِ امر کا۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ لأنه يصدق عليه، اس لیے کہ اس مسمائے امر پر یعنی اس صیغے پر یہ بات صادق آتی ہے کہ أنه لفظ وضع لمعنى معلوم، کہ وہ ایسا لفظ ہے جس کو وضع کیا گیا ہے ایک معلوم معنی کے لیے، وهو الطلب على الوجوب، اور وہ طلب کرنا ہے کس طریقے پر؟ وجوب، تو یہ طلب کا وجوب کے طریقے پر جو طلب ہے یہ اس صیغے کا مدلول ہے، اس لفظِ امر کا مدلول نہیں ہے بھئی۔ والقول مصدر يراد به المقول، اور قول مصدر ہے، مراد اس سے جو ہے مقول ہے، لأن الأمر من أقسام الألفاظ، اس لیے کہ امر جو ہے الفاظ کے اقسام میں سے ہے بھئی، کس کی اقسام میں سے ہے؟ الفاظ کی اقسام میں سے ہے، اس لیے کیونکہ انہوں نے بتایا امر کیا ہے؟ امر وہ صیغہ ہے اور وہ صیغہ کس قبیل سے ہے؟ الفاظ کی قبیل سے ہے، تو معلوم ہوا "هو" جو ہے یہ کس قبیل سے ہے؟ لفظ کی قبیل سے، اور آگے خبر آرہی ہے: قول القائل، اور قول تو مصدر ہے، قول تو کیا ہے؟ مصدر ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ مصدر تو نہیں ہے بھئی، وہ جو وہ تو صیغہ ہے، لفظ ہے بھئی، تو لہٰذا یہاں خبر کا حمل مبتدا پر صحیح نہیں بنتا، یا یوں کہہ لو آسان لفظوں میں کہ "هو" ہے ذات اور قول ہے مصدر، اور مصدر کا حمل ذات پر نہیں ہوتا، تو جواب دے رہے ہیں کہ یہ قول بمعنی مقول کے ہے، کیونکہ آپ جانتے ہیں مصدر کبھی اسمِ فاعل کے معنی میں ہوتا ہے کبھی اسمِ مفعول کے معنی میں، تو یہاں قول مصدر کس معنی میں ہے؟ قول بمعنی مقول اسمِ مفعول کے معنی میں ہے، یعنی وہ جس کو بولا گیا ہو، اور بولا گیا کس کو ہے؟ صیغے کو، لفظ ہی کو بولا گیا ہے بھئی، تو معلوم ہوا حمل صحیح ہوا۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہتے ہیں: والقول مصدر يراد به المقول، اور قول مصدر ہے، ارادہ کیا گیا اس کے ذریعے مقول کا، لأن الأمر من أقسام الألفاظ، اس لیے کہ امر کس کی اقسام میں سے ہے؟ الفاظ کی اقسام میں سے ہے بھئی۔ وهو جنس، بھئی اور یہ جِنس ہے بھئی، قول القائل کیا ہے؟ جنس ہے، يشمل كل لفظ، یہ ہر لفظ کو شامل ہے، کیونکہ جو لفظ بھی ہے وہ مقول ہے بھئی، تو وہ اس کے تحت داخل ہو گیا، جو بھی لفظ ہے وہ کیا ہے؟ مقول ہے، اور انہوں نے کہا: قول القائل، أي مقول القائل، کسی کہنے والے کا کہا ہوا، تو ہر لفظ اس میں داخل ہو گیا، تو یہ جنس ہوا، وقوله على سبيل الاستعلاء، اور ماتن کا جو قول ہے: على سبيل الاستعلاء، يخرج به الالتماس والدعاء، اس کے ذریعے التماس اور دعا نکل جاتے ہیں۔ یاد رکھیے! ایک ہے امر، ایک ہے التماس، ایک ہے دعا۔ اس دعا کی بھی یہی تعریف ہے التماس کی بھی یہی تعریف ہے، امر کی بھی یہی تعریف ہے، بس درمیان میں جو آیا نہ علیٰ سبیل الاستعلاء، یہ قید الگ الگ ہے سب میں۔ امر میں کیا قید انہوں نے ذکر کر دی؟ کس طریقے پر ہوتا ہے امر؟ استعلاء اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے اور اگر علیٰ سبیل الخضوع ہو، خضوع عاجزی کے طریقے پر تو یہ دعا ہے، یہ کیا ہے؟ دعا ہے اور اگر علیٰ سبیل التصاوی ہو، علیٰ سبیل مساوات ہو گئی، برابری کے طریقے پر تو پھر یہ ہے، اس کو التماس کہا جاتا ہے، کیا کہا جاتا ہے؟ التماس۔ بھئی دیکھیے! آپ اپنے سے کسی چھوٹے کو اگر کہتے ہیں، کسی کام کا کہتے ہیں اور وہ صیغہ بولتے ہیں، کیا بولتے ہیں؟ صیغہ بولتے ہیں وہی والا بھئی افعل، چھوٹے کو کہتے ہیں تو یہ کس طریقے پر آپ نے کہا؟ استعلاء کے طریقے پر اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے کہا، لہٰذا یہ کیا کہلائے گا؟ امر۔ لیکن اپنے کسی برابر کے ساتھی کو کہتے ہیں کہ بھئی یہ کام کر دو، وہی صیغہ بولتے ہیں لیکن یہ کیا اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے کہا یا برابر کے طریقے پر کہا؟ یہ ساتھی ہے اس کو ایک کام کہہ دیا تو اس کو امر نہیں کہتے بلکہ کیا کہتے ہیں؟ التماس کہا جاتا ہے۔ اور اگر اپنے آپ کو عاجز سمجھتے ہوئے کہا جائے جیسے آپ دعا کرتے ہیں: اللّٰہم اغفر لی، اے اللہ! میری مغفرت فرما، تو دیکھو اغفر، یہ وہی صیغہ آ گیا لیکن یہ کس طریقے پر ہے؟ عاجزی کے طریقے پر ہے تو اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ دعا کہا جاتا ہے۔ تو لہٰذا جب شارح نے قید لگا دی علیٰ سبیل الاستعلاء، تو یہ پہلی فصل ہے اس کے ذریعے کون خارج ہو گئے؟ التماس اور دعا کیونکہ وہ علیٰ سبیل الاستعلاء نہیں ہوتے۔ تو کہتے ہیں: وقولہ علیٰ سبیل الاستعلاء يخرج بہ التماس والدعا، متن کے قول جو ہے علیٰ سبیل الاستعلاء اس کے ذریعے نکل جاتے ہیں التماس اور دعا۔ وبقي فیہ النہی، اور اس کے اندر کیا باقی رہتا ہے؟ نہی باقی رہتی ہے داخلاً داخل ہو کر یعنی وہ اس کے اندر ہی داخل باقی رہتی ہے۔ فخرج بقولہ افعل، پس وہ نکل گئی متن کے قول افعل کے ذریعے کیونکہ نہی میں بھی کہا جاتا ہے، استعلاء کے طریقے پر ہوتی ہے لیکن افعل نہیں ہوتا بلکہ لا تفعل ہوتا ہے۔ تو معلوم ہوا بھئی قول القائل لغیرہ، یہ کیا ہے؟ جنس ہے۔ علیٰ سبیل الاستعلاء، یہ فصلِ اول ہے، اس کے ذریعے دعا اور التماس خارج ہوئے اور افعل یہ فصلِ ثانی ہے، اس کے ذریعے نہی خارج ہوئی۔ والمراد بقولہ افعل، یہ ایک اشکال کا جواب دے رہے ہیں، ایک اعتراض کا، کہ بھئی افعل کے ذریعے یہ تو صرف کس کو شامل ہوا؟ صرف ثلاثی مجرد سے جو آئے وہ بنے گا افعل، ثلاثی مزید سے جو صیغے آئیں گے وہ تو اس میں داخل، رباعی مجرد، رباعی مزید والے صیغے بھی اس میں داخل نہیں۔ نیز پھر افعل یہ تو صرف مخاطب کے امر کا صیغہ ہے، حالانکہ امر کے صیغے متکلم کے لیے بھی آتے ہیں، وہ لام کے ساتھ آتے ہیں، لافعل، لنفعل۔ اسی طرح غائب کے لیے بھی آتے ہیں، لیفعل، چاہیے کہ وہ یہ کرے، سمجھ میں آیا؟ تو امر کے صیغے تو ان کے لیے بھی آتے ہیں، وہ تو اس سے خارج ہوئے، تو بتلانے لگے ہیں بھئی کہ بھئی افعل سے صرف یہ افعل صیغہ ہی مراد نہیں ہے، دیکھیے خود بتلا رہے ہیں: والمراد بقولہ افعل کل ما کان مشتقاً من المضارع علیٰ ہذہ الطریقۃ، ہر وہ صیغہ ہے جو مشتق ہو کس سے؟ مضارع سے علیٰ ہذہ الطریقۃ، اسی طریقے پر یعنی امر بنانے کے طریقے پر جو بھی صیغہ مضارع سے مشتق ہو گا وہ سارے اس سے مراد ہیں۔ تو لہٰذا ثلاثی مزید کے بھی آ گئے اس کے اندر داخل ہو گئے، متکلم والے بھی داخل ہو گئے اور غائب والے بھی اور مزید والے بھی، سارے داخل ہو گئے۔ سواء کان حاضراً او غائباً، برابر ہے کہ وہ حاضر ہو یا غائب ہو۔ او متکلماً معروفاً او مجہولاً، اور یا متکلم ہو یا معروف ہو یا مجہول ہو ولكن بشرط ان يكون المقصود منہ ايجاب الفعل۔ اچھا بھئی! شارح نے آپ کو بتلایا کہ افعل سے ہر وہ صیغہ مراد ہے جو مشتق ہو مضارع سے اسی طریقے پر یعنی جو امر بنانے کا معروف طریقہ ہے، معلوم طریقہ ہے، چاہے وہ حاضر ہو یا غائب ہو یا متکلم ہو، معروف ہو یا مجہول ہو۔ ولكن بشرط ان يكون المقصود منہ ايجاب الفعل ويعد القائل نفسہ عالياً، لیکن اس شرط کے ساتھ، دو شرطیں ذکر کریں گے مولانا، ایک شرط یہ کہ اس کے ذریعے فعل کا ایجاب مقصود ہو۔ امر کے ذریعے کیا ہے؟ اس صیغے کے ذریعے، ہاں اس صیغے کے ذریعے ایک تو فعل کا ایجاب مقصود ہو اور دوسری شرط یہ ہے کہ کہنے والا اپنے آپ کو بڑا سمجھے بھئی، دو شرطیں ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: ولكن بشرط ان يكون المقصود منہ ايجاب الفعل، لیکن اس شرط پر کہ اس سے جو ہے صیغے کے ذریعے مقصود جو ہے فعل کو واجب کرنا ہو ويعد القائل نفسہ عالياً اور شمار کرے کہنے والا اپنے آپ کو عالی بھئی، بلند شمار کرے، بڑا شمار کرے۔ سواء کان عالياً فی الواقع او لا، برابر ہے کہ وہ واقع میں بڑا ہو یا بڑا نہ ہو، بڑا ہو یا نہ ہو اس سے بات، بحث نہیں ہے، بات یہ ہے کہ قول کس طریقے پر کرے؟ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے۔ ولہٰذا نسب الى سوء الادب ان لم يكن عالياً، اور اسی وجہ سے نسبت کی جاتی ہے سوئے ادب یعنی بے ادبی کی طرف اگر وہ بڑا نہ ہو۔ وہ بڑا نہ ہو بھئی۔ بھئی سمجھ میں آیا؟ معلوم ہوا انہوں نے کہا بھئی اسی وجہ سے بے ادبی کی طرف نسبت کی جاتی ہے اگر وہ بڑا نہ ہو۔ معلوم ہوا کہ اس میں استعلاء، سبیل الاستعلاء کی قید معتبر ہے، کس کے اندر؟ امر کے اندر علیٰ سبیل الاستعلاء کی قید معتبر ہے، اگر یہ قید معتبر نہ ہوتی تو اس کو بے ادبی کوئی نہ سمجھتا، لیکن اس کو بے ادبی سمجھا جاتا ہے جب ہو چھوٹا اور بڑے سے اس طریقے پر بات کرے تو اس کو کیا سمجھا جاتا ہے؟ بے ادبی، معلوم ہوا امر کے اندر کون سی شرط ملحوظ ہے؟ استعلاء کی قید ملحوظ ہے مولانا۔ وبما ذکرنا اندفع ما قيل، کہتے ہیں جو ہم نے یہ تقریر ذکر کی بھئی اس کے ذریعے دور ہو گیا وہ جو کہا گیا ہے بھئی، ایک اعتراض آگے ذکر کریں گے کہ وہ اعتراض بھی دور ہو گیا۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ بھئی امر سے آپ کی کیا مراد ہے؟ اگر آپ کی امر سے مراد اہل عربیت کی اصطلاح مراد ہے تو پھر علیٰ سبیل الاستعلاء کی قید درست نہیں، یا یوں کہو کہ اگر آپ اس سے اہل عربیت کی اصطلاح مراد لیتے ہیں تو بھی بات درست نہیں بنتی، اگر آپ اس سے اصولیین کی اصطلاح مراد لیتے ہیں تو بھی بات درست نہیں بنتی۔ اہل عربیت کی اصطلاح مراد لیں بھئی تو پھر اس صورت میں کہتے ہیں بات اس لیے درست نہیں کہ علیٰ سبیل الاستعلاء کی قید صحیح نہیں، اس لیے کہ اہل عربیت، عرب والے جو ہیں وہ تو کہ وہ تو اس سے جو استعلاء کے طریقے پر ہو یا استعلاء کے طریقے پر نہ ہو، سب کو کیا کہتے ہیں؟ امر کہتے ہیں۔ دعا کو بھی کیا کہتے ہیں؟ امر ہے، اللّٰہم اغفر لی، آپ کہتے ہیں یا نہیں بھئی؟ یہ اغفر کیا ہے؟ امر ہے، امر کا صیغہ ہے بھئی۔ اسی طرح التماس کو بھی وہ کیا کہتے ہیں؟ امر ہی کہتے ہیں، تو معلوم ہوا خرابی کیا آئی کہ علیٰ سبیل الاستعلاء کی قید صحیح نہیں۔ اور اگر اس سے آپ کی مراد اصولیین کی اصطلاح ہے تو پھر اس صورت کے اندر بھئی اس میں تحدید اور تعجیز داخل ہو جاتے ہیں۔ تحدید کا معنی دھمکی دینا، تعجیز کا معنی عاجز کرنا بھئی۔ تحدید کا کیا معنی؟ دھمکی دینا، اور تعجیز کا کیا معنی؟ عاجز کرنا۔ مثلاً بھئی، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اعملوا ما شئتم، تم عمل کرو جو چاہو، تو اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ یہ امر ہے، اجازت دی جا رہی ہے اور جو بھی چاہیں کرنا وہ ان پر واجب ہے، بلکہ یہ بطورِ دھمکی کے اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کفار کو، تو یہ جو اعملوا ما شئتم اللہ فرما رہے ہیں، یہ بطورِ دھمکی کہ دعوت و تبلیغ کے باوجود تم لوگ ایمان نہیں لاتے تو جو چاہے عمل کرتے رہو، لوٹ کر بالآخر تمہیں ہمارے ہی پاس آنا ہے۔ امر آیا اعملوا، لیکن کس اعتبار سے ہے یہ؟ ہاں، بطورِ تحدید کے ہے، اسی طرح بطورِ تعجیز کے بھی آتا ہے، جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: فاتوا بسورۃ من مثلہ، کہ تم لے آؤ اس جیسی کوئی سورت، اس جیسی کوئی سورت ہی لے آؤ، تو یہ کیا ان پر واجب کیا جا رہا ہے کہ وہ اس جیسی سورت لے کر آئیں؟ جی؟ بلکہ ان آقاوں کو عاجز کیا جا رہا ہے، مطلب لے آؤ تم اور کبھی بھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم ایسی کیا ہو؟ کوئی سورت لے آؤ بھئی۔ تو کہتے ہیں ہماری جو تقریر ہے اس سے یہ اشکال رفع ہو گیا، اس لیے کہ ہم نے کیا کہا تھا؟ کہ اس میں کون سی قید معتبر ہے؟ علیٰ سبیل الاستعلاء کی بھی شرط ہے اور دوسری کیا شرط تھی؟ کہ اس میں کیا ہو مقصود؟ فعل کا واجب کرنا مقصود ہو بھئی، فعل کا واجب کرنا مقصود ہو۔ تو ہماری بحث ہے علم اصول فقہ میں، تو یہاں اصول فقہ ہی کی اصطلاح مراد ہے، اس پر اشکال ہوا تھا کہ پھر اس میں تحدید بھی داخل ہو گئے، تعجیز بھی، کیونکہ وہ بھی علیٰ سبیل الاستعلاء ہیں۔ تو اس میں کیا داخل ہو گئے؟ تحدید اور تعجیز بھی داخل ہو گئے، اس لیے کیونکہ وہ استعلاء کے طریقے پر ہیں، حالانکہ ان کو تو داخل نہیں ہونا چاہیے، تو شارح نے بتلایا بھئی کہ ہماری جو تقریر تھی وہ اگر آپ کے ذہن میں ہو تو یہ اشکال رفع ہو جاتا ہے، اس لیے کہ وہاں ہم نے کہا تھا کہ کس شرط پر ہے کہ مقصود کیا ہونا چاہیے امر کے ذریعے؟ فعل کا ایجاب مقصود ہونا چاہیے اور تحدید اور تعجیز کے اندر فعل کا ایجاب مقصود نہیں، لہٰذا وہ اس کے اندر داخل ہی نہیں ہوئے۔ تو کہتے ہیں: وبما ذکرنا، اور وہ جو ہم نے ذکر کیا اندفع ما قيل، دور ہو گیا اس کے ذریعے وہ جو کہا گیا ہے کہ ان اريد بہ اصطلاح العربیۃ فلا حاجۃ الى قولہ علیٰ سبیل الاستعلاء، کہ اگر اس کے ذریعے ارادہ کیا گیا ہے اہل عربیت کی اصطلاح کا تو کوئی ضرورت نہیں علیٰ سبیل الاستعلاء کہنے کی لان التماس والدعاء ايضاً امر عندهم، اس لیے کہ التماس اور دعا یہ بھی ان کے نزدیک امر ہی ہیں۔ تو ان کو نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وان اريد بہ اصطلاح الاصول، اور اس کے ذریعے اگر اصول فقہ کی اصطلاح کا ارادہ کیا گیا ہے فيصدق علیٰ ما اريد بہ التحديد والتعجيز، تو پھر اس صورت میں یہ صادق آتی ہے اس پر بھی جس کے ذریعے کس کا ارادہ کیا جائے؟ تحدید اور تعجیز کا لانہم ايضاً علیٰ سبیل الاستعلاء، اس لیے کہ وہ بھی استعلاء ہی کے طریقے پر ہوتا ہے۔ تو اس کو یہ جو ہم نے تقریر ذکر کی اس کے ذریعے یہ اعتراض کیا ہوا؟ فترفع ہو گیا، دور ہو گیا۔ اس طرح خود بتلا رہے ہیں: وذلك لانا نتكلم علیٰ اصطلاح الاصولی، اور وہ اس وجہ سے کہ ہم کلام کر رہے ہیں اصول فقہ کی اصطلاح پر وليس المقصود مجرد الاستعلاء، اور محض استعلاء مقصود نہیں ہے بل الزام الفعل، بلکہ فعل کا لازم کرنا بھی مقصود ہوتا ہے وذا لا يصدق الا علیٰ الوجوب، اور یہ الزامِ فعل صادق نہیں آتا مگر کس پر؟ وجوب پر ہی صادق آتا ہے، وجوب میں الزامِ فعل ہوتا ہے، اس کے علاوہ میں نہیں بخلاف التحديد والتعجيز، بر خلاف تحدید اور تعجیز کے کہ اس میں وجوب نہیں ہوتا بھئی بخلاف التحديد والتعجيز ونحوہما، یا اس جیسی اور چیزیں۔ ويختص مرادہ بصيغۃ لازمۃ، اور خاص ہے مرادہ، امر کی مراد، خاص ہے، مختص ہے امر کی مراد بصيغۃ، ایسے صیغے کے ساتھ لازمۃ، جو کیا ہے؟ لازم ہے یعنی اس مراد کے ساتھ لازم ہے۔ بيان لكون الامر خاصاً، دیکھیے بھئی آگے ذرا ترجمہ تھوڑا دیکھ لیں پھر تشریح کرتے ہیں: بيان لكون الامر خاصاً، یہ بیان ہے اس بات کا کہ امر کیا ہے؟ خاص ہے یعنی يختص مراد الامر، یعنی امر کی مراد وہ خاص ہے، بھئی امر کی مراد کیا ہے؟ کہتے ہیں: وہو الوجوب، وہ وجوب ہے، تو امر کی مراد یعنی وجوب خاص ہے بصيغۃ لازمۃ للمراد، ایسے صیغے کے ساتھ لازم ہے اس مراد کے ساتھ۔ والغرض منہ بيان الاختصاص من الجانبین، اور غرض اس کے ذریعے بیان کرنا ہے جانبین سے اختصاص کو۔ جانبین سے کیا کرنا ہے؟ ماتن یہ جو عبارت لے کر آئے، یہ جو ماتن کی اس قول کے ذریعے غرض کیا ہے؟ مقصود کیا ہے؟ جانبین سے اختصاص کو بیان کرنا ہے، جانبین سے اختصاص کا کیا معنی؟ بھئی دیکھیے! ایک ہے لفظ، ایک ہے معنی۔ ایک ہے لفظ اور ایک ہے معنی۔ تو لفظ وہ صیغہ اور معنی وہ اس کی مراد بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لفظ جو ہے بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ صیغہ وہ معنی لفظ کے ساتھ خاص ہوتا ہے بھئی، اس صیغے کے ساتھ خاص ہوتا ہے، مراد کیا ہوتی ہے؟ اس صیغے کے ساتھ خاص ہوتی ہے یعنی اسی سے سمجھ میں آتی ہے، اور کسی چیز سے اور بعض اوقات جو ہوتا ہے لفظ میں عموم ہوتا ہے یا معنی کے اندر عموم ہوتا ہے، لفظ کے اندر عموم ہوتا ہے یعنی وہ اس سے صرف، وہ صرف وجوب پر، وجوب پر ہی دلالت نہیں کرتا، اور چیزوں پر بھی دلالت کرتا ہے اور کبھی معنی کے اندر عموم ہوتا ہے کہ معنی صرف اسی لفظ سے نہیں سمجھ آ رہا بلکہ کسی اور چیز سے بھی سمجھ میں آتا ہے۔ بھئی دیکھیے! یہاں سے دراصل مقصد یہ ہے ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے، ہمارے نزدیک وجوب صرف اس صیغے سے ثابت ہوتا ہے، وجوب کس سے ثابت ہوتا ہے؟ اس صیغے سے ثابت ہوتا ہے جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وجوب اس صیغے سے بھی ثابت ہوتا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے بھی ثابت ہوتا ہے، یہ بات شوافع کا مذہب ہے۔ تو بات شوافع کیا کہتے ہیں؟ اس صیغے کے ذریعے بھی وجوب ثابت ہوتا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کے ذریعے بھی وجوب ثابت ہوتا ہے اور اسی طرح بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ صیغۂ امر صرف وجوب کے لیے نہیں آتا بلکہ یہ وجوب کے لیے بھی آتا ہے، ندب کے لیے بھی آتا ہے اور اباحت کے لیے بھی آتا ہے۔ اباحت اور ندب جانتے ہیں یا نہیں بھئی؟ مباح اسے کہتے ہیں، مباح وہ فعل جس کا کرنا جائز ہو یعنی اس کے کرنے پر ثواب کوئی نہیں اور چھوڑنے پر سزا کوئی نہیں، مباح کام۔ اور ایک ہے مندوب، مندوب وہ ہے جس میں کرنے پر ثواب ہوتا ہے لیکن چھوڑنے پر سزا کوئی نہیں ہوتی بھئی، اسے کیا کہا جاتا ہے؟ مندوب، تو بعض علماء فرماتے ہیں بھئی کہ امر جو ہے یہ مشترک، امر کا صیغہ مشترک ہے ان تینوں معانی کے اندر بھئی، یہ وجوب کے لیے بھی آتا ہے، ندب کے لیے بھی آتا ہے اور اباحت کے لیے بھی آتا ہے، وجوب، ندب اور معلوم ہوا وہ اشتراک کے قائل ہیں کہ یہ صیغہ کیا ہے؟ مشترک ہے ان تین معانی میں بھئی، کبھی وجوب کے لیے ہو گا، کبھی ندب کے لیے ہو گا اور کبھی اباحت کے لیے ہو گا بھئی، یہ ہیں اشتراک والے بھئی۔ جبکہ بعض شوافع فرماتے ہیں کہ جیسے امر یہ صیغہ وجوب کے لیے ہے اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل بھی کس کے لیے ہے؟ وجوب کے لیے ہے، تو معلوم ہوا یہ لوگ ترادف کے قائل ہیں یعنی ان کے نزدیک امر اور فعلِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مترادف ہیں، جیسے امر سے وجوب آتا ہے اسی طرح فعلِ نبی سے بھی کیا آتا ہے؟ وجوب آیا کرتا ہے، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو لہٰذا اب شارح ان کو رد کرنا چاہتے ہیں بھئی، ترادف کی بھی نفی کرنا چاہتے ہیں، اشتراک کی بھی بھئی، اشتراک کی نفی کیسے ہو گی کہ ہم کیا کہیں؟ کہ امر صرف یہ صیغہ صرف وجوب کے لیے آتا ہے۔ جب ہم یہ کہیں گے تو معلوم ہوا ندب اور اباحت کے لیے تو اشتراک کی نفی ہو جائے گی۔ اور جب ہم یہ کہیں گے کہ یہ صرف اسی صیغے سے وجوب آتا ہے، تو ترادف کی نفی ہو جائے گی۔ معلوم ہوا فعلِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وجوب نہیں آتا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہاں مقصد ہے اب مصنف جو ہیں وہ نفی کرنا چاہتے ہیں ترادف کی بھی اور اشتراک کی بھی بھئی۔ ترادف میں پھر ذرا دہرا لو بھئی اشتراک کی نفی کیسے ہوگی؟ کیا کہیں ہم؟ یہ صیغہ صرف کس کے لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے آتا ہے۔ معلوم ہوا ندب اور اباحت کے لیے اشتراک کی نفی ہو گئی۔ اور ترادف کی نفی کیسے ہوگی کہ ہم کیا کہیں؟ کہ وجوب صرف اسی صیغے سے آتا ہے۔ یہ صیغہ صرف وجوب کے لیے آتا ہے، اس سے کس کی نفی؟ اشتراک۔ اور وجوب صرف اسی صیغے سے آتا ہے، اس سے کس کی نفی ہو جائے گی؟ ترادف کی نفی ہو جائے گی۔ معلوم ہوا وجوب صرف اس صیغے سے آ رہا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے وجوب نہیں آئے گا بھئی۔ تو مقصد یہ ہے بھئی ان کا۔ اب اس کے لیے ضروری ہے کہ ان دونوں کے درمیان کیا ہو؟ اختصاص ہو۔ کیا ضروری ہے؟ اختصاص ہو۔ یعنی یہ صیغہ جب بھی آئے گا، کس معنی کے لیے آئے گا؟ وجوب۔ اور وجوب جب بھی آئے گا، کس کے ساتھ آئے گا؟ اس صیغے کے ساتھ۔ معلوم ہوا یہ صیغہ لازم ہے کس کے ساتھ؟ وجوب کے ساتھ، اور وجوب لازم ہے اس صیغے کے ساتھ۔ جب ہم کہیں گے یہ وجوب، یہ صیغہ لازم ہے کس کے ساتھ؟ وجوب کے ساتھ یا یوں کہیں اس صیغے کے ساتھ لازم کیا ہے؟ وجوب لازم ہے۔ معلوم ہوا اباحت اور ندب اباحت اور استحباب اس سے کیا ہوا؟ نکل گیا۔ اور جب ہم کیا کہیں گے؟ کہ وجوب خاص ہے کس کے ساتھ؟ اس صیغے کے ساتھ، تو کس کی نفی ہو جائے گی؟ ترادف کی بھئی ترادف کی۔ تو اب اختصاص بتلانا ہے کہ یہ صیغہ خاص ہے وجوب کے ساتھ اور وجوب خاص ہے اس صیغے کے ساتھ، تو یہی بیان کرنا چاہتے ہیں۔ کہتے ہیں: "والغرض منه بيان الاختصاص من الجانبين" اور غرض اس قول کے ذریعے بیان کرنا ہے اختصاص کو من الجانبين دونوں جانب سے، یعنی مراد اور صیغے کے درمیان اختصاص ہے۔ یہ مراد خاص ہے اس صیغے کے ساتھ اور یہ صیغہ خاص ہے اس مراد کے ساتھ۔ "أي لا يكون الأمر إلا للوجوب" یعنی امر نہیں ہوگا مگر کس لیے؟ وجوب کے لیے۔ "ولا يثبت الوجوب إلا من الأمر" اور امر وجوب ثابت نہیں ہوگا مگر کس سے؟ امر سے ہی "دون الفعل" نہ کہ فعل سے۔ "فيكون نفيا للاشتراك والترادف جميعا" تو اس صورت میں یہ نفی ہو جائے گی اشتراک اور ترادف دونوں کی۔ اب وہ تقریر کریں گے کس طرح ترادف کی نفی ہے اور کس طرح اشتراک کی نفی ہے، "وذلك" اور یہ جو اشتراک اور ترادف کی نفی ہے وہ کس طرح ہے؟ کہ "بأن يقال" بعین طور کہ یوں کہا جائے، دو تقریریں کریں گے شارح بھئی دو تقریریں کریں گے۔ دونوں تقریروں کے ذریعے اشتراک اور ترادف دونوں کی نفی کرنی ہے بھئی۔ بعین طور کہ یوں کہا جائے کہ "إن دخول الباء هاهنا على المختص" کہ یہ جو متن کی عبارت آئی: "ويختص مراده بصيغة لازمة" یہاں پر یہ جو با داخل کا داخل ہونا ہے وہ کس پر ہے؟ مختص پر، کس پر؟ مختص پر داخل ہے بھئی۔ ایک ہوتا ہے مختص، ایک ہوتا ہے مختص بہ۔ وہ چیز جو دوسری کے ساتھ خاص ہو، تو یہ جو چیز دوسری کے ساتھ خاص ہے مختص ہے، اس کو خاص ہے یہ کہیں گے مختص، اور جس چیز کے ساتھ خاص ہے اس کو کیا کہیں گے؟ مختص بہ۔ تو یہاں پر جو با داخل ہوئی وہ مختص پر داخل ہوئی ہے "على طريقة قولهم" عربوں کے اس قول کے طریقے پر یعنی یوں کہا جاتا ہے، عرب یوں کہتے ہیں: "خصصت فلانا بالذكر" فلاں کو میں نے خاص کیا ذکر کے ساتھ، فلاں کو خاص کیا؟ ذکر کے ساتھ۔ اب مفہوم پہ توجہ رکھنا، کیا معنی ہے؟ خاص کیا۔ یعنی اپنے ذکر کو اس کے ساتھ خاص کر دیا۔ اپنے ذکر کو اس کے ساتھ خاص کر دیا، یعنی اس کے علاوہ کسی اور کا ذکر؟ نہیں۔ تو کس کو خاص کیا؟ اپنے ذکر کو، کس کے ساتھ خاص کیا؟ فلاں کے ساتھ، فلاں کے ساتھ۔ تو مختص کون ہوا؟ ذکر، اور ذکر کس پر ذکر پر کیا داخل ہو رہی ہے؟ با، معلوم ہوا ذکر ہوا مختص، اور وہ فلاں کیا ہوا با سے ماقبل والا؟ مختص بہ۔ اب متن میں دیکھو، با کس پر داخل ہے؟ صیغے پر، معلوم ہوا صیغہ کون ہے؟ مختص ہے، وہ صیغہ خاص ہے۔ اور مختص بہ کون ہے؟ مرادہ یعنی اس کی مراد یعنی کہ وجوب۔ معلوم ہوا وہ صیغہ خاص ہے کس کے ساتھ؟ وجوب کے ساتھ۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جی، تو یہاں پر معلوم ہوا با داخل ہوئی ہے کس پر؟ مختص پر، یعنی کہنا یہ چاہتے ہیں بھئی، ویسے تو ماقبل والا مختص ہوتا ہے اور با جس پر داخل ہو وہ کیا ہوتا ہے؟ مختص بہ۔ لیکن یہاں پر عربوں کا یہ اس طریقے پر عرب کلام کرتے ہیں "خصصت فلانا بالذكر" میں نے فلاں کو اپنے ذکر کے ساتھ خاص کر دیا، معلوم اور اس کلام کے اندر با کس پر داخل کر دیتے ہیں؟ مختص پر۔ تو اصل کلام میں ہوتا ہے مختص پہلے ہوتا ہے اور با کا مدخول مختص بہ ہی ہوتا ہے، لیکن کبھی کبھار جس پر با داخل ہو وہ کیا ہوتا ہے؟ مختص، اور ماقبل والا کیا ہوتا ہے؟ مختص بہ۔ تو پہلی تقریر اسی پر مبنی ہے کہ با کے مدخول کو مختص بنائیں گے اور ماقبل کو مختص بہ۔ دوسری تقریر میں جا کر بتلائیں گے کہ ماقبل کو مختص بنائیں گے اور مابعد کو مختص بہ۔ تو یہاں پر با داخل ہوئی ہے مختص پر عربوں کے اس قول کے طریقے پر "خصصت فلانا بالذكر فتكون الصيغة مختصة بالوجوب" تو صیغہ کیا ہوگا؟ با کس پر داخل ہے؟ صیغے پر، معلوم ہوا وہ صیغہ کیا ہے؟ مختص۔ تو معلوم تو وہ صیغہ مختص ہوگا وجوب کے ساتھ "دون الإباحة والندب" نہ کہ اباحت اور ندب۔ جب وہ صیغہ مختص ہے، خاص ہے وجوب کے ساتھ، تو معلوم ہوا اباحت اور ندب کے لیے وہ نہیں آئے گا۔ تو کس کی نفی ہو گئی؟ اشتراک کی نفی ہو گئی۔ "وهذا نفي الاشتراك" اور یہ کیا ہے؟ اشتراک کی نفی ہے۔ آگے "ويكون معنى قوله" اور آگے ماتن کا جو قول ہے لازمۃ اس کا معنی یہ ہے کہ "أن الصيغة لازمة للمراد" کہ وہ صیغہ لازم ہے۔ بھئی کس چیز کے ساتھ لازم ہے؟ "للمراد" اس مراد، یعنی اس اور مراد کیا ہے؟ وجوب۔ معلوم ہوا یہ صیغہ لازم ہے کس کے ساتھ؟ وجوب کے ساتھ، وجوب کے ساتھ۔ وہ صیغہ کیا ہے؟ کیا ترجمہ کیا ابھی؟ "بصيغة لازمة للمراد" بھئی، وہ صیغہ لازم ہے کس کے ساتھ؟ مراد کے ساتھ، اور مراد سے کیا مراد؟ وجوب۔ وہ صیغہ لازم ہے کس کے ساتھ؟ وجوب کے ساتھ۔ معلوم ہوا جب بھی وجوب آئے گا، وہاں کیا ہوگا؟ صیغہ ہوگا، یہ اس کے ساتھ لازم ہے۔ معلوم ہوا اسی صیغے سے وجوب آئے گا، فعل کے ذریعے وجوب نہیں آئے گا۔ تو کس کی نفی ہو گئی؟ ترادف کی نفی ہو گئی بھئی۔ وہ تو کہتے تھے فعل بھی وجوب کے لیے ہے اور یہ صیغہ بھی وجوب کے لیے ہے۔ لیکن جب انہوں نے کہہ دیا کہ یہ صیغہ وجوب کے ساتھ خاص ہے، معلوم ہوا جب بھی وجوب ہوگا اس کے ساتھ کیا لازم ہے؟ یہ صیغہ بھی ہوگا، یہ صیغہ بھی ہوگا۔ یہ لازم ہے اس کے ساتھ بھئی۔ تو معلوم ہوا اسی صیغے کے ذریعے وجوب آئے گا، فعل کے ذریعے نہیں آئے گا۔ "فيكون معنى قوله لازمة" "أن الصيغة لازمة للمراد" تو جی، یہاں دیکھو "ويكون معنى قوله لازمة" بھی پڑھ سکتے ہیں، "لازمة" بھی پڑھ سکتے ہیں۔ "لازمة" پڑھیں تو یہ وہ اعرابِ حکائی ہے، یعنی متن کی متن کو ذکر کر رہے ہیں نا، تو وہاں یہ حکایت کر رہے ہیں۔ یہ "قوله" کے ذریعے "لازمة" کے ذریعے کیا کر رہے ہیں؟ اس متن کی حکایت کر رہے ہیں، تو یہ ہوئی حکایت۔ وہ ہوا محکی عنہ جس سے حکایت کی جا رہی ہے اور وہاں پر صیغہ کا لازمۃ کا لفظ کیا تھا؟ لازمۃ آیا تھا، مجرور تھا، تو یہاں بھی اس حکایت میں بھی اسی طرح پڑھ لو۔ کیا کر لو؟ اسی طرح پڑھ لو، "لازمة" بھی پڑھ سکتے ہیں۔ تو اس کو کہتے ہیں اعرابِ حکائی، کیا کہتے ہیں؟ اعرابِ حکائی، یعنی جیسے استعمال ہوا تھا وہی اعراب رکھا ہم نے، اسی کے مطابق رکھا، اعراب نہیں بدلا بھئی۔ اور ایک ہے کہ اپ اس کو "لازمة" پڑھیں اور اس کو "قول" کے لیے مفعول بنا دیں، مقولہ بنا دیں۔ کیا بنا دیں؟ مقولہ، اور مقولہ کیا ہوتا ہے؟ مفعول ہوتا ہے، وہ منصوب ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: "ويكون معنى قوله لازمة" یا "لازمة" معنی یہ ہے لازم کا کہ "أن الصيغة لازمة للمراد" کہ وہ صیغہ لازم ہے اس مراد، یعنی وجوب کے ساتھ لازم ہے "ولا تنفك عنه" اور اس سے جدا جدا نہیں ہوتا "ولا يكون المراد مفهوما من غير الصيغة" اور یہ مراد مفہوم نہیں ہوتی اس صیغے کے علاوہ سے "وهو الفعل" صیغے کے علاوہ سے کون مراد ہے؟ "وهو الفعل" وہ فعل ہے، یعنی فعل سے یہ مراد مفہوم نہیں ہوتی، یعنی فعل کے ذریعے وجوب مفہوم نہیں ہوتا۔ "وهذا نفي الترادف" اور یہ کس کی نفی ہے؟ ترادف کی نفی ہے۔ تو دیکھا یہ تقریر کی جس کے لیے اشتراک کی بھی نفی ہو گئی اور ترادف کی بھی نفی ہو گئی۔ "أو يقال" "أو يقال" یہ بھی اوپر جو جواب دینا تقریر شروع کی تھی "وذلك بأن يقال" تو یہ "يقال" اسی پر عطف ہے، "أن" کے تحت ہے معنًى۔ "أو" یا یوں کہا جائے کہ "إن الباء داخلة على المختص به" کہ با کس پر داخل ہو رہی ہے؟ مختص بہ پر داخل ہو رہی ہے "كما هو أصلها" جیسے کہ اس کی اصل ہے۔ اچھا، بھئی دیکھو، اوپر متن پہ ذرا ترجمے پہ غور کرنا۔ پہلے کے مطابق ہم نے کیا کیا تھا؟ "ويختص مراده بصيغة" کہ وہ صیغہ خاص ہے کس کے ساتھ؟ مراد۔ اب اس طرح اب دوسری طرح: "ويختص مراده" وہ مراد یعنی وجوب خاص ہے اس صیغے کے ساتھ، اپنی اصل پر برقرار رکھو۔ اچھا، "أي لا يفهم هذا المراد بغير الصيغة" بھئی کیا معنی؟ متن پہ ذرا نظر رکھو، وہ مراد، مراد سے کیا مراد ہے؟ وجوب، وہ وجوب خاص ہے صیغے کے ساتھ۔ معلوم ہوا وجوب صیغے کے بغیر کہیں اور سے مفہوم نہیں ہوتا۔ معلوم ہوا فعل سے وجوب مفہوم نہیں ہوتا، تو کس کی نفی ہو گئی؟ ترادف کی نفی ہو گئی۔ وہ وجوب خاص ہے صیغے کے ساتھ، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو معلوم ہوا فعل سے وجوب مفہوم نہیں ہوتا، تو ترادف کی نفی ہو گئی۔ "أي لا يفهم هذا المراد بغير الصيغة" یعنی مفہوم نہیں ہوتی وہ مراد بغیر صیغہ کے اس صیغے کے علاوہ کے ذریعے، اور اس صیغے کے علاوہ کون ہے؟ "وهو الفعل" وہ فعل ہے۔ "فيكون هو نفيا للترادف" تو یہ ترادف کی نفی ہو گی "ثم قوله لازمة" پھر ماتن کا قول جو لازمۃ ہے "إن حمل على اللازم الأعم" اب یاد رکھو لازم دو قسم پر ہے: ایک لازمِ مساوی ہے، ایک لازمِ اعم ہے بھئی۔ لازمِ مساوی اس کو کہتے ہیں کہ جہاں ملزوم ہو وہاں لازم ہو اور جہاں لازم ہو وہاں ملزوم ہو۔ جیسے انسان اور ناطق، جہاں انسان ہے کیا ہے؟ ناطق ہے وہ، اور جہاں ناطق ہے وہاں انسان بھئی۔ تو انسان کے ساتھ کیا لازم ہے؟ ناطق، اور ناطق کے ساتھ کیا لازم ہے؟ انسان۔ تو یہاں دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں اور کون سا لازم ہے؟ مساوی۔ کبھی ایسا ہو سکتا ہے کہ ناطق تو ہو لیکن انسان نہ ہو؟ یا انسان تو ہو لیکن ناطق نہ ہو؟ ایسا نہیں۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ لازمِ مساوی، یعنی وہ لازم اس چیز کے اس ملزوم کے بغیر کسی اور کے ساتھ نہیں آتا۔ جب بھی وہ لازم آئے گا اسی ملزوم کے ساتھ آئے گا، یہ ملزوم جب آئے گا وہ لازم بھی آ جائے گا اور یہ لازم کسی اور کے ساتھ نہیں آتا، اس کو کہتے ہیں لازمِ مساوی۔ اور ایک ہوتا ہے لازمِ اعم بھئی، لازمِ اعم وہ ہے جو ایک چیز کے ساتھ لازم ہے لیکن اس کے علاوہ اور چیزوں کے ساتھ بھی آتا ہے، جیسے روشنی سورج کے ساتھ بھئی۔ روشنی سورج کے ساتھ کیا ہے؟ لازم ہے، لیکن یہ لازمِ اعم ہے بھئی، اس لیے دیکھو سورج جب بھی ہوگا کیا پائی جائے گی؟ روشنی، یہ اس کے ساتھ لازم ہے۔ لیکن روشنی جب بھی ہو سورج کا پایا جانا ضروری نہیں، دیکھو رات کو آپ بلب جلاتے ہیں، سمجھ میں آیا؟ موم بتی جلاتے ہیں، اب روشنی تو ہے لیکن سورج نہیں، تو یہ لازمِ مساوی ہے یہ روشنی سورج کے لیے یا لازمِ اعم ہے؟ لازمِ اعم ہے۔ سورج کے ساتھ لازم ہے لیکن صرف سورج ہی کے ساتھ پائی جائے ایسا نہیں، اس کے بغیر بھی پائی جائے گی۔ تو اب یہاں دیکھیے کہ اس لازم کی بات کرنے لگے ہیں۔ "ثم قوله لازمة إن حمل على اللازم الأعم" اگر لازم کو محمول کیا جائے لازمِ اعم پر "فيكون هو أيضا نفيا للترادف" تو اس صورت میں بھی یہ ترادف ہی کی نفی ہوگی "لأن الملزوم لا يوجد بدون اللازم" اس لیے کہ ملزوم نہیں پایا جائے گا کس کے بغیر؟ لازم کے۔ دیکھو، متن پہ نظر رکھو، وہ صیغہ لازم ہو اس مراد کے ساتھ، وہ صیغہ کیا ہو؟ ایسا صیغہ جو کہ لازم ہے اس مراد کے ساتھ۔ اور لازم کون سا لازم مراد لے رہے ہیں؟ لازمِ اعم، یعنی جب بھی وجوب آئے گا اس کے ساتھ کیا ہوگا؟ یہ صیغہ لازم ہے، یہ صیغہ کیا ہے؟ صیغے کو لازم بنانا ہے نا، تو جب بھی وجوب ہوگا اس کے ساتھ یہ صیغہ لازم ہے، لیکن یہ صیغہ وجوب کے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔ لازمِ اعم ہے نا، تو اس وجوب کے ساتھ تو صیغہ لازم ہے لیکن صیغہ اس وجوب کے ساتھ لازم اس کے بغیر بھی پایا جا سکتا ہے۔ تو اشتراک کی نفی ہوئی؟ اشتراک کی تو نفی نہیں ہوئی۔ کیا؟ ترجمہ پھر غور کرو، یہ صیغہ کس کے ساتھ لازم ہے؟ وجوب کے ساتھ، یعنی وجوب جب بھی آئے گا کس کے ذریعے آئے گا؟ اسی صیغے کے ذریعے آئے گا، معلوم ہوا فعل کے ذریعے کبھی بھی وجوب نہیں، تو کس کی نفی ہوئی؟ ترادف کی نفی ہوئی، لیکن اشتراک کی نفی نہیں ہوئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ ترادف کی نفی ہو گئی بھئی۔ اچھا۔ "ثم قوله لازمة إن حمل على اللازم الأعم فيكون هو أيضا نفيا للترادف لأن الملزوم لا يوجد بدون اللازم" اس لیے کہ ملزوم جو ہے "لا يوجد بدون اللازم" وہ پایا نہیں جاتا بغیر لازم کے۔ ملزوم جب بھی ہوگا کیا پایا جائے گا؟ لازم، لیکن لازم تو ہے اعم، لازم جب بھی پایا جائے ملزوم کا پایا جانا ضروری نہیں۔ "فلا يفهم نفي الاشتراك قط" تو اس سے مفہوم نہیں ہوتی اشتراک کی نفی کبھی بھی، اس سے کبھی بھی اشتراک کی نفی مفہوم نہیں۔ دیکھو، تو دو باتیں آ گئیں: "ويختص مراده بصيغة" خاص ہے وہ مراد یعنی وجوب خاص ہے کس کے ساتھ؟ اس صیغے کے ساتھ۔ معلوم ہوا وجوب جب بھی آئے گا کس کے ساتھ آئے گا؟ صیغے کے ساتھ آئے گا، معلوم ہوا فعل کے ساتھ کس کی نفی ہوئی؟ ترادف کی نفی ہوئی، اور آگے کہا "لازمة" سے کیا مراد ہے؟ لازمِ اعم، یعنی وہ صیغہ لازم ہے کس کے ساتھ؟ وجوب کے ساتھ، یعنی وجوب جب بھی پایا جائے گا کیا آئے گا یہ؟ صیغہ، لیکن یہ لازم کون سا ہے؟ اعم، اس وجوب کے علاوہ بھی یہ پایا جا سکتا ہے۔ تو یہاں پر بھی صرف ترادف ہی پہلے بھی ترادف کی نفی تھی، اب بھی کس کی نفی ہو گئی؟ ترادف ہی کی نفی ہوئی، اشتراک کی نفی نہیں ہوئی۔ "فينبغي أن يحمل اللازم على اللازم المساوي" پس مناسب یہ ہے کہ یہاں پر لازم کو محمول کیا جائے کس پر؟ لازمِ مساوی پر۔ لازمِ مساوی کسے کہتے ہیں؟ کہ ملزوم پایا جائے گا تو لازم ہے، ملزوم نہیں تو لازم بھی نہیں، اور لازم جب بھی پایا جائے گا تو کس کے ساتھ ہوگا؟ اسی ملزوم کے ساتھ ہوگا، کسی اور کے ساتھ نہیں۔ تو یہاں پر بھی یہ صیغہ لازم ہے، ایسا صیغہ جو لازم ہے، کس کے ساتھ؟ وجوب کے ساتھ۔ معلوم ہوا صیغہ وجوب کے ساتھ لازم ہے، جب بھی آئے گا وجوب جب بھی آئے گا کس کے کس کے اس صیغے کے ساتھ ہوگا، اور یہ صیغہ بھی کیا کون سا لازم ہے؟ لازمِ لازمِ مساوی ہے، معلوم ہوا یہ لازم کسی اور کے اعم نہیں، کسی اور کے ساتھ نہیں آئے گا، جب بھی آئے گا اس کے ساتھ کیا آئے گا یہ؟ وجوب آئے گا۔ تو لہٰذا جب ہم اس کو محمول کر لیں گے لازمِ مساوی پر، تو اس صورت میں ترادف کی بھی نفی ہو گئی اور اشتراک کی بھی نفی ہو گئی۔ سمجھ میں آیا؟ کس طرح نفی ہوئی دونوں کی؟ دیکھو یہ یہ صیغہ کیا ہے؟ کِس کے ساتھ؟ وجوب کے ساتھ لازم ہے، یعنی وجوب جب بھی آئے گا کس کے ذریعے آئے گا؟ الخ فعل کے ذریعے نہیں آئے گا، تو کس کی نفی ہوئی؟ ترادف کی۔ اور اشتراک کی بھی نفی ہو گئی، کہ یہ صیغہ کون سا لازم ہے؟ لازمِ مساوی ہے۔ معلوم ہوا یہ صیغہ جب بھی ہو گا اس کے ساتھ کیا آئے گا؟ وجوب آئے گا، یہ نہیں ہو سکتا صیغہ ہو اور وجوب نہ آئے، معلوم ہوا یہ اس کے ساتھ لازم ہے، تو ندب اور اباحت کی کیا ہو گئی؟ نفی، تو دونوں کی اکٹھی نفی ہو گئی۔ فینبغی ان یحمل اللازم علی اللازم المساوی مناسب یہ ہے کہ اس لازم کو محمول کیا جائے لازمِ مساوی پر، ای لا یوجد المراد بدون الصيغة ولا الصيغة بدون المراد یعنی نہیں پائی جاتی وہ مراد یعنی وجوب نہیں پایا جاتا بغیر صیغے کے، اور نہ ہی صیغہ پایا جاتا ہے بغیر اس مراد کے یعنی وجوب کے بغیر، فقط فہم حینئذ تو تدکیک سمجھ دی جائے گی اس وقت نفی الترادف والاشتراک جمیعا ترادف اور اشتراک دونوں کی نفی کنایۃً، کنایہ کے طریقے پر، کس طریقے پر؟ کنایہ کے طریقے پر، بھئی صراحتاً تو انہوں نے نہیں کہا بھئی کہ وجوب کے لیے صیغہ صرف صیغہ وجوب کے لیے آئے گا، فعل نہیں۔ اگر یوں کہتے پھر تو صراحتاً تھا، صراحتاً انہوں نے کوئی کہا؟ اور صراحتاً کوئی یہ کہا کہ یہ صیغہ ندب اور اباحت کے لیے نہیں آئے گا؟ تو کنایۃً کہا، کیا کہا اس سے؟ کنایۃً کہا، کنایۃً بات مفہوم ہو رہی ہے۔ اچھا اب پہلے ایک دفعہ کنایۃً بات کر دی، اب آگے تصریح کے تصریح بھی کریں گے اس کی، کہتے ہیں ثم صرح بعد ذلك بنفی الترادف قصدا پھر اس کے بعد اس نفیِ ترادف کی قصداً تصریح بھی کر دی، فقال تو فرمایا، حتى لا يكون الفعل موجبا یہاں تک کہ فعل موجب یعنی ایجاب کرنے والا نہیں ہو گا، جب فعل ایجاب کرنے والا نہیں، یہ کس کی نفی کر دی؟ کون سے مذہب کی؟ ترادف کی، کس کی نفی کر دی؟ ترادف کی، فعل ایجاب کرنے والا نہیں ہے، معلوم ہوا ایجاب کرنے والا صرف کون صیغہ ہے؟ صیغہ ہے صرف وہ تو یہ، آگے چل کر بھئی وہ نفی کریں گے اشتراک کی بھی صراحتاً، فی الحال اسی پر بحث کریں گے۔ کہتے ہیں اذا كان المراد مخصوصا بالصیغة جب وہ مراد مخصوص ہے صیغے کے ساتھ، لا يكون فعل النبي عليه السلام موجبا على الامة من غير مواظبة علیہ السلام تو حضور علیہ السلام کا جو فعل ہے وہ ایجاب کرنے والا نہیں ہو گا امت پر، من غیر مواظبۃ علیہ السلام حضور علیہ السلام کی مواظبت کے بغیر۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل وہ واجب نہیں ہو گا امت پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مواظبت یعنی پابندی کے بغیر، اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پابندی کے ساتھ وہ فعل کیا ہو، لیکن علماء لکھتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پابندی سے ایک فعل کرنا یہ بھی اس کے واجب ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ ہاں اگر پابندی سے کیا ہو اور چھوڑنے سے منع کیا ہو، یہ کس چیز کی دلیل ہے؟ وجوب کی، لیکن پھر بھی یہ جو وجوب مفہوم ہو رہا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مواظبت سے مفہوم نہیں ہو رہا بلکہ وہ جو کیا کیا؟ چھوڑنے سے جو منع کیا جا رہا ہے، چھوڑنے سے جب منع کیا جا رہا ہے تو معلوم ہوا اس کے کرنے کا حکم بھی دیا جا رہا ہے، تو وجوب پھر بھی کس سے آیا؟ صیغے سے ہی آیا۔ خلافا لبعض اصحاب الشافعی رحمہ اللہ بخلاف بعض اصحاب شافعی رحمہ اللہ کے، فانہم یقولون اس لیے کہ وہ کہتے ہیں، ان فعل النبي عليه السلام ایضا موجب کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل بھی ایجاب کرنے والا ہے، اما لانه امر وكل امر للوجوب یا اس لیے کہ یہ بھی امر ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل بھی کیا ہے؟ بھئی علی سبیل الترقی کہتے ہیں بھئی، ترقی کے طریقے پر، فعل کو باقاعدہ امر کی ایک قسم ہی بنا دیا، کہ امر دو قسم پر ہے، ایک وہ صیغہ ہے اور ایک فعلِ نبی ہے۔ ایک صیغہ ہے اور ایک فعلِ نبی ہے، تو صیغے کے ساتھ ساتھ فعل کو بھی کس کی قسم بنا دیا؟ امر کی قسم بنا دیا ترقی کرتے ہوئے، اور دوسرا قول تنزل کے طریقے پر ذرا نیچے آ گئے اور کہا کہ ہاں ٹھیک ہے، امر تو یہی امر تو یہ صیغہ ہی صیغہ ہی ہے، لیکن اس صیغے سے کیا آتا ہے؟ وجوب، اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے بھی کیا آتا ہے؟ وجوب، تو دیکھو دوسرا قول ذرا نیچے اتر کر ہے، پہلے قول میں تو کہا تھا کہ وہ فعل امر ہی کتنی قسم پر ہے؟ دو قسم پر، ایک وہ صیغے کی صورت میں اور ایک وہ فعل کی صورت میں، اور دوسرا ذرا نیچے آ گئے کہ ٹھیک ہے وہ امر کی قسم تو نہیں لیکن جیسے وجوب مفہوم ہوتا ہے صیغے سے، اسی طرح وجوب مفہوم ہوتا ہے اس فعلِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی۔ یہ تو خود بتلا رہے ہیں، اما لانه امر وكل امر للوجوب اس لیے کہ یا تو وہ فعل وہ امر ہے وکل امر للوجوب اور ہر امر کس لیے آیا کرتا ہے؟ وجوب کے لیے، واما لانه مشارك للامر القولي في حكم الوجوب یا اس لیے کہ وہ امرِ قولی کے ساتھ شریک ہے کس چیز کے اندر؟ حکمِ وجوب کے اندر۔ وهذا الخلاف بيننا وبينهم في كل ما لم يكن سهوا منه عليه السلام اور یہ اختلاف ہمارے اور ان کے درمیان ہے ہر اس فعل کے میں جو نہ ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بطورِ سہو کے، ما لم یکن سہوا منہ علیہ السلام جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بطورِ سہو کے یعنی بھول چوک میں نہ ہوا ہو، بھول چوک میں ہوا ہو تو اس میں تو بالاتفاق ہمارے نزدیک بھی وجوب نہیں، ان کے نزدیک بھی وہ وجوب اس میں نہیں، اسی طرح ولا تبعاً له اور نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بطورِ طبیعت کے ہو جیسے کھانا پینا وغیرہ، تو یہ بھی اس قسم کا جو فعل ہو گا وہ بھی جیسے ہمارے نزدیک تو ہے ہی نہیں وجوب کے لیے، ان کے نزدیک بھی وہ وجوب کے لیے نہیں ہو گا، ولا مخصوصاً به اور نہ ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ فعل مخصوص ہو بھئی، ورنہ بعض افعال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہیں جیسے تہجد حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض ہے بھئی، اور جیسے بھئی چار شادیوں سے زیادہ کی اجازت ہونا یہ بھی مخصوص ہے کس کے ساتھ؟ تو تہجد کا فرض ہونا یہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے، اور چار سے زیادہ نکاح کی اجازت یہ بھی کس کے ساتھ مخصوص ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، تو اس قسم کے فعل میں تو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ وجوب کے لیے نہیں ہے، اور ہم تو پہلے سے قائل ہیں کہ فعل وجوب کے لیے نہیں ہے۔ جی! تو ان افعال میں ہے کہتے ہیں جو سہواً، طبعاً نہ ہوں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص نہ ہوں، والا فعدم كونه موجباً بالاتفاق ورنہ اس فعل کا موجب نہ ہونا یہ بالاتفاق ہے، یعنی ایسا اگر نہ ہو۔ کیسا نہ ہو؟ یعنی سہواً ہو، طبعاً ہو یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہو۔ تو پھر اس صورت میں بالاتفاق ہمارے نزدیک وہ کیا ہے؟ ان ہمارے اور ان کے نزدیک ایجاب کرنے والا نہیں ہے بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ دوبارہ دوبارہ ترجمہ دیکھ لو، وهذا الخلاف بيننا وبينهم في كل ما لم يكن سهوا منه عليه السلام اور یہ اختلاف ہمارے اور ان کے درمیان ہر اس فعل کے درمیان ہے جو لم یکن سہوا منہ جو حضور علیہ السلام سے سہو کے طریقے پر نہ ہوا ہو، ولا تبعاً له اور نہ بطورِ طبع کے، ولا مخصوصاً به اور نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہو، والا فعدم كونه موجباً بالاتفاق ورنہ پھر اس فعل کا موجب نہ ہونا یعنی ایجاب کرنے والا نہ ہونا یہ کیا ہے؟ بالاتفاق ہے۔ اچھا، للمنع عن الوصال وخلع النعال آگے بتلا رہے ہیں متعلق بقولہ حتى لا يكون الفعل موجبا اس عبارت کا تعلق ماقبل متن میں جو گزری تھی بات حتی لا یکون الفعل موجباً، یہاں تک کہ فعل جو ہو گا وہ موجب ایجاب کرنے والا نہیں ہو گا، للمنع عن الوصال بوجہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے منع کرنے کے صومِ وصال سے، وخعل النعال اس کا عطف وصال پر ہے للمنع عن خلع النعال، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے اتارنے سے منع کرنے کی وجہ سے، فعل موجب نہیں ہو گا، ایجاب کرنے والا نہیں ہو گا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صومِ وصال اور جوتے اتارنے سے منع کرنے کی وجہ سے بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ دیکھیے خود تشریح کریں گے بھئی، بالکل آسان ہے آگے، متعلق بقولہ حتى لا يكون الفعل موجبا، یہ متعلق ہے ماقبل میں جو متن آیا تھا حتی لا یکون الفعل موجباً کے ساتھ، وحجة لنا اور ہماری دلیل ہے، یہ کیا ہے اس کے ساتھ متعلق ہے اور ہماری دلیل ہے، ای لمنعه علیہ السلام اصحابه عن صوم الوصال اب اسی متن کو کھول کر بیان کر رہے ہیں، یہ بوجہ منع کرنے حضور علیہ السلام کے اپنے صحابہ کو عن صوم الوصال کس سے؟ صومِ وصال، صومِ وصال یاد رکھو پے در پے روزہ رکھنا، مسلسل روزہ رکھنا، آپ تو روزہ رکھتے ہیں شام کے وقت افطار کر لیتے ہیں، ایک یہ کہ صبح رکھا ہے دن کو بھی روزہ رہا، رات کو بھی مسلسل روزہ رہا، اگلے دن بھی روزہ رکھا، پھر اگلی رات بھی روزہ رکھا، پھر اگلے دن بھی روزہ رکھا، مسلسل دن کو بھی روزہ ہے، رات کو بھی روزہ ہے بھئی، درمیان میں افطار کر ہی نہیں رہے بھئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ صومِ وصال، یعنی مسلسل روزہ ہے۔ مسلسل ہے، سمجھ میں آیا؟ وصال وصل سے ہے، ملا ہوا ہونا نہ، بھئی یہاں بھی روزے کیا ہیں ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، درمیان میں افطار آ ہی نہیں رہا بھئی، تو یہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم صومِ وصال فرمایا کرتے تھے، مسلسل روزے رکھتے تھے اس طرح بھئی دن کو بھی رات کو، کبھی دو تین دو دن، تین دن، چار دن بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ صومِ وصال، بزرگ بھی رکھتے بھئی بعض، امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ کے بارے میں آتا ہے بھئی وہ یہ سرکاری مال سے اپنے آپ کو بہت بچاتے تھے بھئی، سمجھ میں آیا؟ احتیاط تھی ان کے ورع، ورع تھی، تقویٰ تھا، بے انتہا اپنے آپ کو بچاتے تھے بھئی، جہاں شبہ بھی پڑتا تھا اس سے بھی اپنے آپ کو بچاتے تھے، اب ان کے بیٹے جو تھے وہ سرکاری محکمے میں تھے قاضی وغیرہ یا کچھ تھے بھئی، ان کی بھی چونکہ سرکاری تنخواہ ملتی تھی تو بیٹے کے گھر سے بھی ایک ذرہ نہیں کھاتے تھے بھئی، ذرہ بھر نہ کھایا بھئی، سمجھ میں آیا؟ یہ کوئی شریعت کا حکم نہیں تھا لیکن احتیاط بھئی احتیاط، جتنا جو بڑا ہوتا ہے اسی اس کا وہ اتنی ہی زیادہ کیا کرتا ہے؟ تو ان کا مقام بہت اونچا تھا، آپ دیکھتے ہیں بھئی ان کے مذہب کو آج بھی سینکڑوں سال گزر گئے، اللہ نے اسی طرح زندہ و تابندہ رکھا ہے اور برقرار رکھا ہے بھئی۔ تو وہ بھئی ایک مرتبہ ایسا ہوا کہتے ہیں کہ کہیں کسی جگہ ایسا موقع آیا کہ وہاں ان کو خطرہ تھا کہ یہ اب خلیفہ یہ جو گورنر ہے، یہ مجھے کھانے پر بلائے گا ضرور بھئی، کہیں سفر میں تھے کسی جگہ پہنچے تو اب یہ مجھے ضرور بلائے گا، اب میں انکار کرتا ہوں تو نیا مسئلہ کھڑا ہو جائے گا، چنانچہ آپ نے صومِ وصال رکھنا شروع، صومِ وصال شروع فرما دیا بھئی، ایک دن گزر گیا، کچھ نہیں کھا پی رہے بھئی، اب وہ خلیفہ بھی اور گورنر بھی نہیں کہہ سکتا اس طرح تو بھئی، دو دن گزر گئے، تین دن تک، یہاں تک کہتے ہیں ساتواں آٹھواں دن آ گیا بھئی کچھ نہیں کھا رہے بھئی، بڑی منتوں سے چچا وغیرہ جو ان کے تھے وہ آئے، انہوں نے درخواست کی، رونے لگ پڑے کہ حضرت آپ کا انتقال ہو جائے گا، خدا کے لیے افطار کر لیجیے، تو پھر افطار کر لیا بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ اس اللہ والے تھے مولانا، احتیاط دیکھو حرام شبہ، حرام قطعی نہیں ہے لیکن شبہ ہے اس سے بھی اپنے آپ کو بچانے کتنا بچا رہے ہیں بھئی۔ والد صاحب کے پیر تھے، پیر علاؤ الدین صاحب بھئی، رحمہ اللہ تعالیٰ، بڑے اللہ والے تھے بھئی، بڑے اللہ والے بھئی، اتنے انوارات تھے ان کے اسی سے اندازہ لگائیں کہ وہ والد صاحب کے پاس آئے تھے ملنے کسی وجہ سے، والد صاحب نے ملاقات کی تو ان کے جو انوارات دیکھے تو وہیں پر، وہیں پر بیعت ہو گئے، گھر پہ آئے ہوئے تھے وہیں پر بیعت ہو گئے، ایک شاگرد ساتھ تھا اس سے بھی کہا بیعت کر لو، معلوم ہوا کہ بہت ہی خاص انوارات جو دیکھے جس سے اتنے متاثر ہوئے کہ فوراً بیعت ہو گئے، اور انہوں نے اگرچہ وہ عالم نہیں تھے بھئی، اور انہوں نے دین کے لیے بڑی قربانی دی تھی، بہت زیادہ بھئی مشکلات، پورے خاندان والے ان کے مخالف ہوئے تھے کہ جب یہ دین کی طرف آئے تھے، لیکن انہوں نے کسی کی پرواہ نہیں کی بھئی، بس کسی کی پرواہ نہیں کی، سب کچھ چھوڑ دیا اور رشتہ داروں کو چھوڑ دیا، مال و دولت ہر چیز کو چھوڑ دیا، تو وہ ان کا جب ضعیف ہو گئے، ان کا آپریشن ہونا تھا بھئی، آپریشن ہونا تھا، ڈاکٹروں نے کہا کہ حضرت آپ کے آپریشن گردے وغیرہ کی تکلیف تھی، آپریشن کر دیتے ہیں، ڈاکٹر بڑے بڑے مرید تھے، کہنے لگے حضرت آپ بے فکر رہیں، ہم نے سارا کچھ کر لیا ہے، انتظام آپریشن فلاں تاریخ کو ہو گا اور سارا کچھ ہر چیز کا انتظام ہے، خون کا بھی ہم نے پہلے سے بندوبست کر لیا ہے بھئی، خون کی اگر ضرورت پڑی تو وہ اس کا بھی، تو ان کی بات سننے کے قابل ہے، فرمانے لگے بھئی میرا آپریشن کر دو لیکن خدارا مجھے کسی کا خون نہ لگانا بھئی، میں نے اپنے اس خون کی حرام سے بڑی حفاظت کی ہوئی ہے، پتہ نہیں تم کس کا خون لگاؤ گے؟ کیسا خون ہو گا؟ اس کا کیا اثر پڑے گا بھئی؟ اتنی احتیاط کرتے ہیں بزرگ بھئی۔ تو یہ تھا صومِ وصال بھئی، تو کہتے ہیں ای لمنعه علیہ السلام اصحابه عن صوم الوصال بوجہ منع کرنے حضور علیہ السلام کے اپنے صحابہ کو صومِ وصال سے، وخعل النعال اور جوتے اتارنے سے، رویا روایت کیا گیا انہ علیہ السلام واصل کہ حضور علیہ السلام نے بھئی مسلسل روزے رکھے، صومِ وصال رکھا، فواصل اصحابه اصحابه تو صومِ وصال صحابہ نے بھی رکھا، فانکر علیہم الموافقۃ فی وصال الصوم تو حضور علیہ السلام نے انکار فرمایا ان پر صوم کے وصال کی موافقت میں بھئی، جس طرح میں مسلسل روزے رکھتا ہوں تم اس طرح مسلسل روزے نہ رکھو بھئی، تو ان کو منع فرمایا، فقال حضور فرمانے لگے، ایکم مثلی تم میں سے کون میری طرح ہے؟ يطعمني ربي ويسقيني میرا رب مجھے کھلاتا ہے اور مجھے سیراب کرتا ہے یعنی مجھے پلاتا ہے، ای انتم لا تستطيعون صياما متوالية الليل والنهار یعنی تم استطاعت نہیں رکھتے روزوں کی مسلسل رات اور دن کو، رات اور دن کے مسلسل روزوں کی تم استطاعت نہیں رکھتے، ولي قوة روحانية من عند الله تعالى اور میرے لیے تو روحانی قوت ہوتی ہے اللہ کی طرف سے، اطعم عنده کھلایا جاتا ہوں اس کی طرف سے، واسقى من شراب المحبة اور سیراب کیا جاتا ہوں، پلایا جاتا ہوں محبت کی شراب میں سے، سمجھ میں آیا؟ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ کیا فرما رہے ہیں؟ کہ میری طرح تم استطاعت اس کی نہیں رکھتے بھئی، مجھے تو اللہ کی طرف سے روحانی غذا دی جاتی ہے، قوت دی جاتی ہے، اللہ کی خاص رحمت مجھ پر ہوتی ہے بھئی قوت جس سے مجھے حاصل ہوتی ہے۔ کما قال قائل جیسے کہ کہنے والا کہتا ہے شعر، وذكرك للمشتاق خير شرابي اور آپ کا ذکر اور آپ کا ذکر مشتاق یعنی عاشق کے لیے خیر شرابی بہترین شراب ہے، وكل شراب دونه كسرابي اور ہر شراب اس کے علاوہ سراب کی طرح ہے، اس کے علاوہ ہر شراب کس کی طرح ہے؟ سراب کی طرح ہے بھئی، یعنی اے اللہ آپ کا ذکر عاشق کے لیے سب سے بہترین شراب ہے، وکُلُ اس کے علاوہ ہر شراب کیا ہے؟ وہ کس کی طرح ہے؟ سراب کی طرح ہے، دھوکے کی طرح ہے، سراب جانتے ہیں یا نہیں جانتے بھئی؟ صحرا کے اندر دوپہر کے وقت دور بھئی یہ ریت پر دھوپ پڑتی ہے تو بڑی چمکتی ہے، تو دور سے چمکتی ہوئی ریت یوں لگتی ہے جیسے پانی بہہ رہا ہو بھئی، اسے سراب کہتے ہیں، وہ جو نظر کا دھوکہ ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اسے سراب کہتے ہیں، اسی طرح آپ نے بھی سراب دیکھا ہو گا بھئی، یہ سڑک کے اوپر بھی گرمیوں میں آپ نے دیکھا ہو گا دور یوں لگتا ہے جیسے پانی سا جا رہا ہو، وہ سڑک پر پانی دکھائی دیتا ہے یا نہیں بھئی؟ یہ ہے وہ سراب بھئی، پانی لیکن آپ جتنا بھی چلتے جائیں وہ آگے ہی چلتا چلا جاتا ہے، پہنچتے نہیں اس تک کبھی بھی آپ بھئی، یہ سراب ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ولہٰذا چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا، بھئی علماء اب بھی رکھتے ہیں بھئی، لیکن چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نہی آ چکی ہے، تو کہتے ہیں پھر ایک آدھ قطرہ درمیان میں پانی کا پی لیتے ہیں، اس کے لیے افطار کر لیتے ہیں تاکہ حدِ کراہت سے کیا ہو جائے؟ ان کا یہ روزہ نکل جائے بھئی۔ ولہٰذا تری الامۃ اور اسی وجہ سے آپ دیکھتے ہیں قوم کو یعنی کہ وہ المجاہدین وہ جو مجاہدہ کرنے والے ہیں، یفطرون بشر ببشرۃ بقطرۃ فی اربعینات وہ افطار کرتے ہیں ایک قطرے کے پینے کے ساتھ فی اربعینات اپنے چِلوں کے اندر بھئی، یہ قطرہ پی کر وہ افطار کرتے ہیں، لیخرج عن حد الکراہۃ تاکہ وہ نکل جائے کس سے؟ کراہت کی حد سے، وهذا فی صوم الفرض والنفل سواء اور یہ فرض اور نفل دونوں روزوں میں برابر ہے، یہ کراہت کیا ہے؟ فرض روزے ہوں یا نفل روزے ہوں، اگر آپ ان میں وصال کریں گے تو کیا ہے؟ کراہت ہے بھئی، مکروہ ہے بھئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ وروي أنه عليه السلام كان يصلي بأصحابه. اچھا یہ تو تھا بھئی منع عن الوصال کی تشریح ہو گئی، حدیث وغیرہ تفصیل بیان کر دی۔ دوسرا کیا ہے؟ جوتے اتارنے سے منع فرمایا وہ بھی آسان ہے دیکھیے بھئی۔ وروي أنه عليه السلام كان يصلي بأصحابه، وہ نماز پڑھ رہے تھے اپنے صحابہ کے ساتھ۔ إذ خلع نعليه، جب آپ نے اپنے جوتے اتار دیے۔ فخلعوا نعالهم، تو صحابہ نے بھی اپنے جوتے اتار دیے۔ یاد رکھیے اس وقت نماز جوتوں میں پڑھی جاتی تھی بھئی، سمجھ میں آیا؟ جوتے کے اندر نماز پڑھی جاتی تھی۔ وجہ یہ کہ عرب کا علاقہ رتیلا ہے، ریت ہے مولانا، وہاں جوتوں اور خصوصاً اب آج کل تو ہر طرف گندگی نجاست ہے وہاں تو بس ریت ہوتی تھی، گھروں سے جو کوڑا کرکٹ بھی نکلتا تھا وہ تنکے وغیرہ ہی ہوتے تھے بھئی، آج کل تو ہر طرف تعفن زدہ چیزیں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ اس وقت اس طرح نہیں تھا تو وہ جوتے پہنتے تھے ریت میں چل پھر رہے ہیں جوتے پاک صاف ستھرے ہیں اسی طرح بھئی، انہی کے اندر کیا کرتے تھے؟ نماز پڑھتے تھے، نماز پڑھتے تھے۔ ہاں اب کیا ہے؟ بغیر جوتوں کے ہم پڑھتے ہیں بھئی اور جوتے مسجد میں کوئی لے جائے اسے کیا سمجھا جاتا ہے؟ بے ادبی سمجھا جاتا ہے بھئی۔ تو فخلعوا نعالهم، انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے۔ فلما قضى صلاته، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز ادا کر لی۔ قال، پھر صحابہ سے فرمایا: ما حملكم على إلقائكم نعالكم؟ کس چیز نے تم کو ابھارا تھا اپنے جوتے اتارنے پر؟ قالوا: رأيناك ألقيت نعليك، صحابہ نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ! ہم نے آپ کو دیکھا تھا کہ آپ نے جوتے اتارے تھے۔ قال، حضور نے فرمایا: إن جبريل عليه السلام أخبرني، جبرائیل علیہ السلام نے مجھے خبر دی تھی۔ أن فيهما قذراً، کہ ان جوتوں میں گندگی ہے، نجاست لگی ہوئی ہے۔ میں نے تو اس لیے اتارے تھے وہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے اطلاع دے دی تھی تو میں نے اتار دیے۔ پھر آگے حضور فرمانے لگے: إذا جاء أحدكم المسجد، جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے۔ فلينظر، تو اسے چاہیے کہ دیکھ لے۔ فإن رأى في نعليه قذراً، اگر اس وہ اپنے جوتوں میں گندگی یا نجاست دیکھے۔ فليمسحه، چاہیے کہ اس کو کیا کرے؟ پونچھ ڈالے، پونچھ دےوے۔ وليصل فيهما، اور ان میں کیا کرے؟ نماز پڑھ لے۔ هذه تمسكات أبي حنيفة رحمه الله، یہ تمسکات ہیں بھئی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے۔ وأما الشافعي رحمه الله، باقی امام شافعی رحمہ اللہ۔ فقال تارة على سبيل التنزل، شافعی سے مراد اصحابِ شوافع ہیں بھئی، اوپر بیان ہو چکا ہے۔ باقی یہ امام صاحب کے تمسکات ہیں یعنی ان کے دلائل ہیں، ان کی دلیلیں ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا؟ منع فرمایا صومِ وصال سے اور جوتے اتارنے سے منع فرمایا، معلوم ہوا فعل وجوب کے لیے نہیں ہے اگر فعل وجوب کے لیے ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم منع نہ فرماتے۔ یعنی یہ استدلال، یہ دلیلیں ہیں امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی اس چیز پر کہ فعل جو ہے وہ موجب نہیں ہے وہ ایجاب کرنے والا نہیں ہے بھئی۔ جیسے اوپر آپ نے دیکھا حدیث کے اندر کہ حضور علیہ السلام نے صومِ وصال سے صحابہ کو منع فرمایا اور اسی طرح جوتے اتارنے سے منع فرمایا حالانکہ یہ آپ ہی کے فعل کی متابعت کر رہے تھے صحابہ اور فعلِ نبی اگر فریقِ مخالف یعنی شوافع کی بات لی جائے تو فعلِ نبی تو آتا ہے وجوب کے لیے تو پھر اس پر تو عمل کیا ہونا چاہیے تھا؟ واجب ہونا چاہیے تھا لیکن حضور علیہ السلام اپنے اس فعل سے منع فرما رہے ہیں صحابہ کو، معلوم ہوا فعلِ نبی وجوب کے لیے نہیں ہے، اسے ایجاب کسی چیز کا نہیں ہوگا بھئی، وہ واجب نہیں ہوگا امت پر۔ باقی اصحابِ شوافع فقال تارة على سبيل التنزل، تو وہ کبھی تنزل کے طریقے پر کہتے ہیں کہ إن الفعل للوجوب لكالأمر، کہ فعل بھی وجوب کے لیے ہوتا ہے جیسے امر ہے یعنی فعل خود تو امر نہیں لیکن امر کی طرح ہے وجوب میں۔ لأنه عليه السلام شغل عن أربع صلوات، اس لیے کہ حضور علیہ السلام مشغول ہوئے تھے چار نمازوں سے بھئی، چار نمازیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رہ گئیں غزوہِ خندق میں بھئی، کفار بہت سارے جمع ہو کر آئے تھے تو وہ خندق کھودنے وغیرہ میں مشغول تھے بھئی تو حضور کی چار نمازیں رہ گئیں بھئی۔ تو مشغول رہے چار نمازوں سے خندق والے دن فقضاهن مرتبة، تو حضور علیہ السلام نے ان کو ادا فرمایا ترتیب کے ساتھ، ان کی قضا فرمائی ترتیب کے ساتھ۔ وقال، اور حضور نے صحابہ سے فرمایا: صلوا كما رأيتموني أصلي، تم بھی نماز پڑھو جیسے کہ تم مجھے دیکھتے ہو کہ میں نماز پڑھتا ہوں، یعنی تمہاری بھی اگر نمازیں کہیں قضا رہ جائیں تو تم ان کو بھی اسی طرح کیا کر لینا؟ ترتیب، قضا میں بھی ترتیب کا خیال رکھنا بھئی۔ فجعل متابعة أفعاله لازمة لأمته، تو حضور علیہ السلام نے اپنے افعال کے اتباع کو لازم قرار دے دیا اپنی امت کے لیے، دیکھو خود حضور کیا فرما رہے ہیں: صلوا كما رأيتموني أصلي، تو اپنے افعال کی متابعت کو لازم قرار دے دیا اپنی امت کے لیے۔ یہ دلیل کون ذکر کر رہے ہیں؟ شوافع بھئی، شوافع ذکر۔ فأجاب عنه المصنف رحمه الله بقوله، تو جواب دیتے ہیں اس کے مصنف اپنے اس قول کے ساتھ، کہتے ہیں: والوجوب استفيد بقوله عليه السلام: صلوا كما رأيتموني أصلي لا بالفعل، کہ وجوب جو ہے وہ اس کا فائدہ حاصل ہو رہا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے ذریعے کہ بھئی ٹھیک ہے یہاں وجوب آ رہا ہے لیکن وجوب فعل سے نہیں آ رہا بلکہ صلوا امر آ گیا یا نہیں آیا؟ جی، تو صلوا كما رأيتموني أصلي، کہ تم بھی نماز پڑھو جیسے تم مجھے دیکھتے ہو میں نماز پڑھتا ہوں، تو وجوب اس کی حضور کے قول کے ذریعے آ رہا ہے لا بالفعل، فعل کے ذریعے نہیں آ رہا۔ إذ لو كان الفعل موجباً، اس لیے کہ اگر فعل بھی ایجاب کرنے والا ہوتا۔ لاتبعوه بمجرد رؤية الفعل، تو صحابہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کرتے محض فعل کو دیکھنے سے ہی۔ ولم يحتاجوا إلى هذا القول أصلاً، اور وہ اس قول کے ہرگز محتاج نہ ہوتے۔ تو یہ امام شافعی رحمہ اللہ، اصحابِ شوافع نے کہا، یہ کس طریقے پر کہا؟ تنزل کے طریقے پر کہا، یہ نہیں کہا کہ فعل امر کی قسم ہے بلکہ کیا کہا؟ فعل سے بھی وجوب آتا ہے جیسے کس کی طرح ہے؟ جیسے امر سے کیا آتا ہے؟ وجوب۔ وقال تارة على سبيل الترقي، اور کبھی ترقی کے طریقے پر کہتے ہیں: إن الفعل قسم من الأمر، کہ فعل جو ہے وہ امر کی قسم ہے۔ لأن الأمر نوعان: قول وفعل، اس لیے کیونکہ امر دو قسم پر ہے: قول اور ایک فعل۔ لأنه أطلق الله تعالى لفظ الأمر على الفعل، اس لیے کیونکہ اللہ تعالی نے امر کا لفظ، امر کے لفظ کا اطلاق کیا ہے فعل پر۔ في قوله، اپنے اس قول کے اندر: وما أمر فرعون برشيد، اور نہیں تھا فرعون کا فعل درست، فرعون کا فعل درست نہیں تھا۔ أي فعله، وما أمر امرِ فرعون أي فعلِ فرعون، أي فعله، یعنی فرعون کا فعل بھئی۔ بھئی یہاں دیکھیے امر آیا اور اس کی صفت آگے لائی گئی رشید اور امر ہے لفظ کی قبیل سے اور لفظ کی صفت رشید نہیں آتی، اس کے صحیح ہونے کے لیے سدید کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ سدید آگے خود شارح بھی بتلا رہے ہیں اور یہ جو رشید ہے یہ فعل کی صفت آتی ہے۔ فعل صحیح ہو ہدایت والا ہو تو کہتے ہیں یہ فعل کیا ہے؟ رشید ہے، سیدھا ہے، صحیح ہے اور قول صحیح ہو تو کیا کہتے ہیں؟ یہ قول سدید ہے، سیدھا ہے، صحیح ہے بھئی۔ تو یہاں پر بھئی امر کی صفت رشید لائی گئی، معلوم ہوا امر بول کر کیا مراد ہے؟ فعل مراد ہے، تو فعل پر اللہ کے لیے اللہ نے امر کا لفظ استعمال کیا بھئی، فعل کے لیے امر کا لفظ استعمال کیا، معلوم ہوا فعل بھی امر ہے۔ معلوم ہوا فعل بھی امر ہے تو امر سے جس طرح وجوب آتا ہے اس طرح فعل سے بھی کیا آئے گا؟ وجوب آئے گا کیونکہ یہ بھی امر ہی ہے، بات، دلیل سب کو سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی؟ آئی۔ اب یاد رکھیے وما أمر فرعون برشيد یہ متن کا حصہ ہے بھئی متن کا۔ وما أمر فرعون برشيد، فرعون کا فعل درست نہیں تھا۔ أي فعله، اس کا فعل۔ لأن القول لا يوصف بالرشيد، اس لیے کیونکہ قول، قول کو موصوف نہیں کیا جاتا رشید کے ساتھ۔ وإنما يوصف بالسديد، اور قول کو تو سدید کے ساتھ موصوف کیا جاتا ہے۔ فأجاب المصنف عنه بقوله، تو مصنف رحمہ اللہ نے اس کا، اس سے کا جواب دیا بقولہ اپنے اس قول کے ساتھ، کہتے ہیں: وسمي الفعل به لأنه سببه، وسمي الفعل به أي بالأمر، فعل کو امر کہا گیا۔ لأنه سببه، اس لیے کیونکہ امر فعل کا سبب ہے۔ خود بتلا رہے ہیں ضمیـ، ضمائر کے مرجع، اوپر آیا تھا سمي الفعل به، انہوں نے کہا سمي الفعل بلفظ الأمر، أي سمي الفعل بلفظ الأمر ذکر کیا گیا فعل کو امر کے لفظ کے ساتھ۔ لأن الأمر سبب للفعل، اس لیے کیونکہ امر کیا ہوتا ہے؟ فعل کا سبب ہوتا ہے۔ بھئی دیکھیے میں نے آپ سے کہا اضرب، میں نے حکم دیا یہ امر ہے اور میں نے کہا اضرب زيداً، آپ نے پھر زید کی پٹائی کی۔ تو یہ جو آپ کا فعل ہے یہ ہوا مسبب اور میرا حکم دینا اس کا کیا ہوا؟ سبب، تو حکم جو ہوتا ہے وہ فعل کا سبب ہوا کرتا ہے۔ تو یہاں، تو ان دونوں میں مناسبت ہے مولانا، تو لہذا امر بول کر آیت کے اندر کیا مراد ہے؟ فعل، کیوں؟ امر بول کر فعل اس لیے مراد ہے کیونکہ امر فعل کا سبب ہوا کرتا ہے۔ امر کیا ہوتا ہے؟ فعل کا سبب ہوا کرتا ہے بھئی۔ فيكون من باب المجاز، تو یہ کس قبیل سے ہو جائے گا؟ مجاز کی قبیل سے ہو جائے گا بھئی، بھئی ایک ہے معنیِ موضوع لہ، ایک ہے معنیِ غیرِ موضوع لہ۔ جس لفظ کے، جس معنی کے لیے کسی لفظ کو وضع کیا جائے وہ ہے اس کا معنیِ موضوع لہ اور اگر تو اس معنی میں استعمال ہو تو کہتے ہیں کہ یہ لفظ اپنے معنیِ موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے، جیسے اسد کا لفظ شیر کے لیے وضع ہے تو اسد بول کر شیر ہی مراد لیں تو یہ کس میں استعمال ہوا؟ معنیِ موضوع لہ میں، یہ ہے حقیقت اور اگر اسد کا لفظ بولیں اور اس سے کوئی بہادر انسان مراد لیں تو یہ پھر معنیِ غیرِ موضوع لہ میں استعمال ہوا، تو اب کیا کہیں گے؟ یہ کیا ہے؟ یہ اسد کا لفظ مجاز ہے یعنی معنیِ غیرِ موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے اور معنیِ موضوع لہ اور غیرِ موضوع لہ دونوں میں کوئی مناسبت ہوتی ہے بغیر مناسبت کے نہیں کہ آپ مثلاً چیونٹی بول کر گدھا مراد لے لیں اس طرح نہیں، کوئی نہ کوئی درمیان میں ربط اور تعلق ہوتا ہے پھر ہی ایک لفظ دوسرے معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ آپ نے اسد کے لفظ کو بہادر آدمی کے لیے استعمال کیا کیونکہ مناسبت موجود ہے جیسے شیر کے اندر بہادری کا وصف اسی طرح بہادر آدمی میں بھی بہادری کا وصف، تو مناسبت ہے۔ اسی طرح یہاں پر بھی امر کا لفظ بولا گیا کس کے لیے؟ فعل کے لیے، دونوں کے اندر مناسبت ہے کیونکہ امر وہ سبب ہوتا ہے اور فعل اس کا مسبب ہوتا ہے بھئی، اس لیے تو فيكون من باب المجاز، تو یہ کس باب سے ہوا؟ یہ مجاز کے باب سے ہوا یہ، یہ جو قرآن میں آیا وما أمر فرعون برشيد، تو یہاں لفظِ امر کیا ہے؟ کس باب سے ہے؟ امر بول کر کیا مراد ہے؟ فعل، تو یہ مجاز کے باب سے ہوا، وإنما الكلام في الحقيقة، اور یہ کلام یہ جو ہمارا کلام چل رہا ہے یہ تو کس کے بارے میں ہے؟ حقیقت کے بارے میں ہے، ہم امر کے حقیقی معنی بتلا رہے ہیں کہ وہ وجوب ہے، امر کا حقیقی معنی کیا ہے؟ وجوب ہے، اسی بارے میں بحث چل رہی ہے بھئی۔ تو لہذا معلوم ہوا بھئی کہ یہ مجاز کے قبیل سے ہے لہذا اسے آپ کا دلیل کے طور پر پیش کرنا صحیح نہیں ہے بھئی، تو اس کے ذریعے آپ یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ یہاں امر بول کر فعل مراد ہے، معلوم ہوا فعل بھی امر ہے اور جب وہ امر ہے تو امر سے وجوب آتا ہے تو فعل کے ذریعے بھی کیا آئے گا؟ وجوب آئے گا بھئی، یہ آپ دلیل کے طور پر پیش، کیونکہ یہ مجاز کے قبیل سے ہے اور ہماری بات حقیقت میں چل رہی ہے مجاز کے اندر نہیں، مجاز کا دائرہ تو بڑا وسیع ہے۔