سبق نمبر۔13
و بطل شرط الولاء والترتيب والتسمية والنية في آية الوضوء. هذا تفريع ثان عليه وعطف على قوله: «فلا يجوز». يعني إذا كان الخاص لا يحتمل البيان فبطل شرط الولاء كما شرطه مالك رحمه الله تعالى. وشرط الترتيب والنية كما شرطهما الشافعي رحمه الله تعالى. وشرط التسمية كما شرطه أصحاب الظواهر في آية الوضوء.
أچھا بھئی! فرماتے ہیں: «و بطل شرط الولاء والترتيب والتسمية والنية في آية الوضوء». باطل ہے ولاء کی شرط. ولاء کا معنیٰ ہے پے در پے کرنا، مسلسل کرنا. پے در پے اور مسلسل کی شرط، اور ترتیب کی شرط، اور تسمیہ یعنی بسم اللہ پڑھنے کی شرط، اور نیت کی شرط فی آية الوضوء کس کے اندر؟ آيت وضوء کے.
وضوء کے اندر مختلف ائمہ نے مختلف شرائط لگائی ہیں. بعض نے پے در پے کرنے کی، بعضوں نے ترتیب اور بسم اللہ اور نیت کی وغیرہ بھئی شرائط لگائی ہیں بھئی.
تو مصنف رحمہ اللہ فرما رہے ہیں ماتن بھئی کہ یہ شرطیں لگانا آيت وضوء میں یہ باطل ہے. یہ باطل ہے. شارح فرماتے ہیں: «هذا تفريع ثان عليه» کہ یہ دوسری تفریع ہے اس حکم پر، وہ جو خاص کا حکم بیان ہوا تھا کہ «الخاص لا يحتمل البيان» خاص بیان کا احتمال نہیں رکھتا، یہ اس پر دوسری تفریع ہے.
تو دیکھو اسی ضابطے پر بہت سے مسائل نکالتے چلے جا رہے ہیں. پہلا مسئلہ یہ نکالا تھا کہ تعدیل کی شرط لگانا باطل ہے. یہ کس مسئلے سے معلوم ہوا؟ کس حکم سے؟ کہ خاص جو ہے وہ بیان کا احتمال نہیں رکھتا کیونکہ وہ بین ہے. لہذا تعدیل کی شرط لگانا جائز نہیں. اسی پر اب دوسری تفریع کر رہے ہیں کہ ولاء، ترتیب، تسمیہ اور نیت کی شرط لگانا آيت وضوء میں یہ باطل ہے.
تو کہتے ہیں: «هذا تفريع ثان عليه» یہ دوسری تفریع ہے اس خاص کے حکم پر. «وعطف على قوله: فلا يجوز» اور یہ اوپر جو متن میں آیا تھا «فلا يجوز» اس پر عطف ہے بھئی.
یہ دیکھئے بس آسان بحث ہے، ساری خود ذکر کر رہے ہیں. «يعني إذا كان الخاص لا يحتمل البيان» کہ جب خاص احتمال نہیں رکھتا بیان کا «فبطل شرط الولاء» تو ولاء کی شرط لگانا باطل ہے «كما شرطه مالك رحمه الله» جیسے کہ اس کی شرط لگائی ہے امام مالک رحمہ اللہ نے. وہ فرماتے ہیں پے در پے کرنا ضروری ہے، اگر پے در پے نہیں کرو گے وضوء تو وضوء نہیں ہوگا.
اسی طرح «و شرط الترتيب» اس کا عطف بھی ماقبل میں یہ جو آیا پیچھے آیا نا «بطل شرط الولاء»، تو یہ «شرط الولاء» پر عطف ہے.
تو عبارت کیا ہوئی؟ «بطل شرط الترتيب والنية» اور باطل ہے ترتیب اور نیت کی شرط «كما شرطهما الشافعي رحمه الله تعالى» جیسے کہ اس کی، ان دونوں کی شرط لگائی ہے امام شافعی رحمہ اللہ نے. «و شرط التسمية» اور باطل ہے بسم اللہ کی شرط «كما شرطه أصحاب الظواهر» جیسے کہ شرط لگائی ہے اصحابِ ظواہر نے.
تو یہ سب نے شرط لگائی ہے. کس کے اندر لگائی ہے؟ «في آية الوضوء» کس کے اندر؟ آيت وضوء کے اندر بھئی. آيت وضوء «وهو قوله تعالى» وہ اللہ کا یہ قول ہے: «فاغسلوا وجوهكم».
أچھا بھئی! پہلے یہ اصحابِ ظواہر کا لفظ آیا بھئی. اصحابِ ظواہر.
ظواہر اصحابِ ظواہر یا ظاہریہ انہیں کہتے ہیں جو مقلد ہیں امام داؤد ظاہری کے بھئی، امام داؤد ظاہری رحمہ اللہ تعالی.
انہیں ظاہریہ یا اصحابِ ظواہر اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ نصوص یعنی قرآن اور حدیث کو ان کے ظاہر پر ہی حمل کرتے ہیں، ظاہر پر ہی محمول کرتے ہیں. بس حدیث کے جو ظاہری الفاظ ہیں ان سے جو معنیٰ سمجھ میں آ رہا ہے وہ حکم ہے. بس ظاہر پر رکھتے ہیں اور قیاس کے یہ منکر ہیں بھئی، قیاس کا انکار کرتے ہیں.
جبکہ باقی چاروں ائمہ کیا ہیں؟ وہ قیاس کے قائل ہیں بھئی.
بھئی آج تک آپ نے تو یہ پڑھا ہے کہ مذاہبِ فروعیہ چار ہیں بھئی. ایک مذہب امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ، ایک مذہب امام شافعی رحمہ اللہ، ایک مذہب امام مالک رحمہ اللہ کا اور ایک مذہب امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ کا. آج قیمتی بات آپ کو بتلاؤں بھئی، مذاہبِ فروعیہ چار نہیں پانچ ہیں بھئی، پانچ ہیں بھئی. پانچواں مذہب ہے امام داؤد ظاہری رحمہ اللہ کا بھئی.
سمجھ میں آیا؟ اور میں نے بتایا ان کو اصحابِ ظواہر کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ قرآن اور حدیث کو کس پر محمول کرتے ہیں؟ ظاہر پر بھئی، جو ظاہری معنیٰ سمجھ میں آ رہا ہے بس بھئی وہی ہے. وہی مراد ہے. اور یہ قیاس کے منکر ہیں بھئی.
علماء فرماتے ہیں کہ یہ پانچوں ائمہ اہل حق ہیں. اور ان میں سے کسی کے خلاف نا شائستہ کلمات زبان پر لانا یا طعن کرنا جائز نہیں ہے بھئی. کیونکہ یہ سب ائمہ ہدیٰ اور متبعِ سنت ہیں بھئی. اور ان کا مقصد اتباعِ سنت اور اتباعِ کتاب اللہ ہے بھئی. اتباعِ کتاب اللہ. اور ان سب کا، ان پانچوں کا مذہب بھئی قرآن اور حدیث سے ماخوذ ہے.
تو امام داؤد ظاہری بھی انہی میں سے ہیں بھئی. امام داؤد ظاہری.
امام داؤد ظاہری بہت بڑے امام اور تقویٰ اور ورع کے ایک بہت اونچے مقام پر فائز ہیں بھئی، بڑا اونچا مقام ہے.
بغداد کے اندر کہتے ہیں ان کا حلقہ علم بڑا مشہور و معروف تھا اور بڑے امراء، فضلاء، علماء ان کی مجلس میں حاضر ہوا کرتے تھے بھئی.
اور ان کے ہزاروں متبعین تھے. لیکن پھر اللہ کی مشیت کہ چار مذاہب باقی رہ گئے، ان کا مذہب ختم ہو گیا بھئی. ان کا مذہب ختم ہو گیا. تو یہ ہیں اصحابِ ظواہر کہلاتے ہیں بھئی. سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ اصحابِ ظواہر.
تو اصحابِ ظواہر نے کس چیز کی شرط لگائی ہے؟ بسم اللہ کی شرط لگائی ہے کہ بسم اللہ پڑھنا ضروری ہے فرض وضوء میں بھئی.
آيت وضوء یہ ہے مولانا «وهو قوله تعالى» وہ اللہ کا یہ قول ہے: «فاغسلوا وجوهكم» پس تم دھو لو اپنے چہروں کو.
بھئی آيت معروف ہے، آپ جانتے ہیں بھئی. «يا أيها الذين آمنوا إذا قمتم إلى الصلاة فاغسلوا وجوهكم وأيديكم إلى المرافق وامسحوا برؤوسكم وأرجلكم إلى الكعبين».
«يا أيها الذين آمنوا» اے ایمان والو! «إذا قمتم إلى الصلاة» جب تم نماز کے لئے اٹھنے کا ارادہ کرو، یہاں قیام بول کر ارادہ قیام مراد ہے بھئی. جب تم نماز کے لئے اٹھنے کا ارادہ کرو «فاغسلوا وجوهكم» تو دھو لو اپنے چہروں کو «وأيديكم» اور اپنے ہاتھوں کو «إلى المرافق» کہنیوں تک «وامسحوا برؤوسكم» اور مسح کرو تم اپنے سروں کا «وأرجلكم إلى الكعبين» اور دھو لو اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک دھو لو بھئی.
«فاغسلوا وجوهكم» کی اشارہ. «الآية» اس کو «الآيةُ» بھی پڑھ سکتے ہیں اور «الآيةَ» بھی پڑھ سکتے ہیں منصوب بھی مرفوع بھی.
اگر اس کو مرفوع پڑھیں تو یہ مبتدا ہے خبر محذوف، «الآية معلومة»، آيت کیا ہے؟ معلوم ہے، بس اشارہ کر دیا ایک دو لفظوں سے.
اور اگر اس کو منصوب پڑھیں تو یہ مفعول بنے گا، «اقرأ الآية»، آيت کیا کیجئے؟ پڑھ لیجئے یعنی باقی آيت آپ پڑھ لیجئے بھئی.
أچھا! «و بيان ذلك» اب بیان کرنے لگے ہیں بھئی تفصیل سے مسئلہ. «و بيان ذلك» بیان اس کا یہ ہے «أن مالكاً رحمه الله تعالى يقول» کہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «إن الولاء فرض في الوضوء» کہ ولاء یعنی پے در پے کرنا فرض ہے وضوء کے اندر.
بھئی پے در پے فرض ہے، پے در پے کا کیا معنیٰ؟ کہتے ہیں: «وهو أن يغسل أعضاءه في الوضوء متتابعاً» وہ یہ کہ وضوء کرنے والا دھوئے اپنے اعضاء کو وضوء کے اندر متتابعاً پے در پے. متتابعاً، متوالياً ایک معنیٰ ہے بھئی، پے در پے کے بعد دوسرا عضو دھوتا چلا جائے. تو یوں ترجمہ کر لیں پے در پے مسلسل بھئی. «بحيث لم يجف العضو الأول» اس حیثیت سے کہ خشک نہ ہو پہلا عضو بھئی.
وہ وضوء، یہ وضوء کرنے والا اپنے اعضاء کو وضوء میں دھوئے بھئی پے در پے مسلسل اس طور پر کہ پہلا عضو خشک نہ ہوا ہو. یہ نہ ہو کہ چہرہ دھویا پھر باتوں میں مصروف ہوا اور پھر اب ہاتھ دھونے لگا ہے تو جب تک چہرہ خشک ہو گیا. تو یہ وضوء، وہ فرماتے ہیں یہ تو پے در پے کرنا فرض تھا اس نے فرض چھوڑ دیا لہذا اس کا وضوء ہی نہیں ہوگا. ہمارے نزدیک نہیں بھئی، وضوء ہو جائے گا بھئی.
تو وہ فرماتے ہیں اس طرح وضوء کرے کہ ابھی پہلا عضو خشک نہ ہوا ہو، باقی عضو اگلا، باقی عضو دھو لے.
اور دلیل کیا ہے؟ کہتے ہیں: «لمواظبة النبي عليه الصلاة والسلام» حضور علیہ السلام کی مواظبت کی وجہ سے. حضور علیہ السلام نے اس کی پابندی فرمائی ہے، ہمیشہ اسی طرح فرمایا ہے. معلوم ہوا یہ مواظبت کیا، یہ پے در پے دھونا فرض ہے. حضور علیہ السلام نے اس پر پابندی فرمائی ہے. تو پابندی سے معلوم ہوا یہ فرض ہے بھئی. جی.
«و أصحاب الظواهر» اور اصحابِ ظواہر جو ہیں «يقولون» وہ کہتے ہیں: «إن التسمية فرض في الوضوء» کہ بسم اللہ پڑھنا فرض ہے وضوء کے اندر «لقوله عليه السلام» حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے. یہ حدیث پیش کرتے ہیں: «لا وضوء لمن لم يسم» اس شخص کا وضوء ہی نہیں ہے جس نے بسم اللہ نہ پڑھی. یہ دلیل ان کی آ گئی بھئی.
«والشافعي رحمه الله يقول» اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «إن الترتيب والنية في الوضوء فرض» کہ ترتیب اور نیت وضوء میں فرض ہے «لقوله عليه الصلاة والسلام» حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے: «لا يقبل الله صلاة امرئ حتى يضع الطهور في مواضعه» کہ قبول نہیں فرماتے اللہ کسی بندے کی نماز یہاں تک کہ وہ رکھ دے پاکی کو «في مواضعه» اس کی جگہوں میں بھئی. سمجھ گئے؟ یعنی وضوء کے اعضاء جو ہیں وہ ان کو دھو لے. «فيغسل وجهه» تو دھوئے وے بس دھوئے اپنے چہرے کو «ثم يديه» پھر اپنے ہاتھ دونوں ہاتھوں کو. «الحديث» یہ بھی اسی طرح ہے بھئی، «الحديثَ»، «الحديثُ». «الحديث معلوم» یا «اقرأ الحديثَ».
تو یہ دلائل آ گئے بھئی.
اور دوسری، یہ اس سے تو ترتیب آئی بھئی، کیوں؟ اس لئے کہ «فيغسل وجهه ثم يديه»، «ثم» آیا اور «ثم» کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ ترتیب کا. میں آپ سے کہتا ہوں «جاءني زيد ثم عمرو»، کیا پتہ لگا آپ کو؟ کہ زید آیا اس کے بعد عمرو آیا، تو «ثم» ترتیب کا فائدہ دیتا ہے.
تو اس سے ترتیب معلوم ہوا، ترتیب فرض ہے. «ثم» کا لفظ حضور علیہ السلام نے ذکر فرمایا حدیث میں. «ولقوله عليه السلام» اور حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے، یہ اب نیت بھی وہ فرض جو قرار دیتے ہیں اس حدیث کی وجہ سے: «إنما الأعمال بالنيات» اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے «والوضوء أيضاً عمل» اور وضوء بھی عمل ہے «فلا يصح بدون النية» تو وہ بھی بغیر نیت کے صحیح نہیں ہے بھئی.
جی ساروں کے مذاہب بیان ہوئے، ہر ایک کی دلیل بھی ساتھ ذکر ہو گئی بھئی. «و نحن نقول» ہم کہتے ہیں: «إن الله تعالى أمرنا في الوضوء بالغسل والمسح» کہ اللہ تعالی نے ہمیں وضوء میں غسل اور مسح کا حکم دیا ہے. «فاغسلوا وجوهكم وأيديكم إلى المرافق وامسحوا» تو یہاں صرف غسل اور مسح کا ذکر ہے، صرف انہی کا حکم دیا گیا ہے. «وهما خاصان» اور یہ دونوں کیا ہیں؟ خاص ہیں «وضعا لمعنى معلوم» جن کو وضع کیا گیا ہے معنیٰ معلوم کے لئے بھئی، اور وہ کیا ہے؟ «وهو الإسالة والإصابة» غسل کا معنیٰ ہے اسالہ، پانی کا بہانا، اور مسح کا معنیٰ ہے اصابہ، پانی کا پہنچانا یعنی تر ہاتھ کا پھیر دینا اس عضو پر جس پر مسح کرنا ہے.
تو لہذا آيت وضوء کے اندر صرف غسل اور مسح کا حکم دیا گیا ہے اور غسل اور مسح خاص ہیں، ان کا معنیٰ معلوم ہے وہ اسالہ اور اصابہ ہے. «فاشتراط هذه الأشياء كما شرطها المخالفون لا يكون بيانا للخاص لكونه بينا بنفسه» پس شرط لگانا ان چیزوں کی جیسے کہ شرط لگائی ہے مخالفین نے، یہ بیان نہیں بن سکتا خاص کے لئے «لكونه بينا بنفسه» اس لئے کہ خاص کیا ہوتا ہے؟ بین بنفسہ ہوتا ہے، وہ خود واضح ہوتا ہے، بین ہوتا ہے. «فلا يكون إلا نسخا» تو یہ شرط لگانا نہیں ہوگا مگر نسخ ہی، کیا ہوگا؟ نسخ بھئی. کتاب اللہ میں تو صرف غسل اور مسح کا ذکر آیا تھا تو وہ اور کوئی قید نہیں تھی بھئی، تو نص تو مطلق تھی لیکن اگر آپ یہ شرط لگا دیں گے تو ات الوصف اطلاق کیا ہو جائے گا؟ منسوخ ہو جائے گا، مطلق نہ رہے گی بھئی.
تو یہ تو اگر ہم یہ شرط یہ شرط لگا دی جائے تو یہ تو نسخ ہی ہوگا «وهو لا يصح بأخبار الآحاد» اور یہ اخبارِ آحاد کے ذریعہ صحیح نہیں. «غايته» بھئی آخری حد یہ ہے یعنی آخری بات اس میں یہ ہوگی «أن تراعي منزلة كل واحد من الكتاب والسنة» کہ رعایت رکھی جائے کتاب اور سنت میں سے ہر ایک کے درجے کی. «فما ثبت بالكتاب يكون فرضاً» پس وہ جو ثابت ہوگا کتاب اللہ کے ذریعہ وہ فرض ہوگا «وما ثبت بالسنة ينبغي أن يكون واجباً» اور جو سنت یعنی حدیث سے ثابت ہو مناسب یہ ہے کہ اسے واجب ہونا چاہئے. آگے بتائیں گے لیکن ہم یہاں اس کے ان کی چیزوں کے سنت ہونے کے قائل ہیں، واجب ہونے کے قائل نہیں، ہاں درمیان میں وجہ ذکر کریں گے. تو کہتے ہیں مناسب یہ ہے کہ ان کو واجب ہونا چاہئے کیونکہ حدیث سے ثابت ہیں «كما في الصلاة» جیسے کہ نماز میں کیا ہوتا ہے؟ واجب ہوتا ہے، تو ان کو وضوء میں کیا ہونا چاہئے؟
«لكن لا واجب في الوضوء بالإجماع» لیکن واجب نہیں ہے وضوء کے اندر بالاجماع بھئی، وضوء میں بالاجماع کوئی واجب نہیں ہے. «لأن الواجب كالفرض في حق العمل وهو لا يليق إلا بالعبادات المقصودة» اس لئے کہ واجب فرض کی طرح ہوتا ہے عمل کے حق میں، عمل کے اعتبار سے کس کی طرح ہوتا ہے؟ بھئی آپ جانتے ہیں بھئی، فرض وہ ہے جس میں عمل بھی واجب، اعتقاد بھی واجب. اعتقاد نہ رکھا تو کافر ہو گیا، اعتقاد بھی واجب. اور واجب جو ہوتا ہے اس کا درجہ فرض سے کم ہے، اس میں عمل تو واجب ہوتا ہے اعتقاد واجب نہیں ہے بھئی.
تو عمل کے اعتبار سے واجب بھی فرض کی طرح ہے، جیسے فرض پر عمل ضروری ہوتا ہے واجب پر بھی عمل ضروری ہوتا ہے. اور جیسے فرض کے چھوڑنے پر عقاب ہے سزا ہے، اسی طرح واجب کے چھوڑنے پر بھی سزا ہے.
تو کہتے ہیں یہ لیکن کوئی واجب نہیں ہے وضوء کے اندر بالاجماع اس لئے کہ واجب تو فرض کی طرح ہوتا ہے عمل کے اعتبار سے «وهو لا يليق إلا بالعبادات المقصودة» اور وہ من لائق نہیں ہے مگر عباداتِ مقصودہ کے.
مگر وہ کس کے وہ لائق نہیں ہے مگر کس کے لائق ہے صرف؟ بھئی وضوء عبادتِ مقصودہ نہیں ہے وہ تو وسیلہ ہے.
تو اگر اس کو ہم واجب قرار دے دیں، تو وضو میں واجب نہیں ہے، کوئی بالاجماع کہتے ہیں بھئی۔ کیونکہ واجب فرض کی طرح ہوتا ہے، اور یہ ا واجب جو ہے عبادات مقصودہ کے لائق ہے اور وضو تو عبادت مقصودہ نہیں، لہذا اس میں واجب کا حکم ہم نہیں لگا سکتے۔ فنزلنا عن الوجوب إلى السنية، تو ہم اتر آئے وجوب سے سنیت کی طرف۔ وجوب سے نچلا واجب سے نچلا درجہ کس کا ہے؟ سنت کا ہے بھئی۔ تو ہم اتر آئے وجوب سے سنیت کی طرف بھئی، سنت ہونے کی طرف بھئی۔ یہ یائے مشدد اور تا آخر میں ملاتے ہیں بھئی، صفت کے صیغوں میں، اسماء کے آخر میں ان سے مصدر بنانے کے لیے۔ تو سنیت کا کیا معنیٰ؟ سنت ہونا۔ فنزلنا عن الوجوب إلى السنية، پس ہم اتر آئے وجوب سے سنت ہونے کی طرف، وقلنا اور ہم نے قول کیا بسنية هذه الأشياء في الوضوء، ان چیزوں کے وضو میں سنت ہونے کا، سنت ہونے کا قول کیا بھئی۔ وقلنا اور ہم قائل ہو گئے بسنية هذه الأشياء في الوضوء، وضو کے اندر ان اشیاء کے سنت ہونے کے، ہم وضو میں ان اشیاء کے سنت ہونے کے قائل ہو گئے بھئی۔
مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ جی۔ بھئی، امام مالک رحمہ اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نے جو پابندی سے اور مواظبت کے ساتھ پے در پے وضو کیا تھا، اس کو دلیل کے طور پر پیش کیا۔ احادیث میں آئے ذکر آتا ہے وضو کی پابندی سے۔ اور اصحابِ ظواہر نے یہ "لا وضوء لمن لم يسم" یہ حدیث پیش کی بھئی۔ امامِ شافعی رحمہ اللہ نے "لا يقبل الله صلاة امرئ" یہ ایک حدیث پیش کی، اور "إنما الأعمال بالنيات" یہ حدیث پیش کی بھئی۔ اور آخر میں مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھئی کہ یہ وضو کے اندر صرف غسل اور مسح کا ذکر ہے اور یہ خاص ہیں، اور خاص بیان کا احتمال نہیں رکھتا، لہذا خبرِ واحد کے ذریعے ان پر زیادتی نہیں جائز نہیں ہے۔ لہذا ان چیزوں کو جیسے کہ غسل اور مسح فرض ہیں، ان کو بھی فرض قرار نہیں دیا جا سکتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ ان کو کیا قرار دے دیا جائے؟ کہ ہر ایک کے مرتبے کی رعایت رکھیں جو کتاب اللہ سے ثابت ہے، وہ فرض ہو، اور جو سنت سے ثابت ہے، وہ واجب ہو۔ لیکن بالاجماع وضو کے اندر کوئی واجب نہیں ہے اس لیے کیونکہ واجب یہ وضو عبادتِ غیر مقصودہ ہے اور واجب اس کے لائق نہیں ہے۔ واجب تو عبادتِ مقصودہ کے لائق ہے۔ تو لہذا اب مجبورا ہم واجب سے کس کی طرف اتر آئے؟ سنت کی طرف اتر آئے، ان کے سنت ہونے کا قول کیا ہم نے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ بحث کی انہوں نے بھئی اپنے اصول قانون اصل کے مطابق بحث کی بھئی۔ یہ معنیٰ نہیں کہ ہمارے پاس صرف یہی دلیل ہے مولانا، احناف کے مذہب میں کہیں بھی مسئلہ قرآن اور حدیث سے باہر نہیں ہے بھئی۔ جو بھی مسئلہ اٹھا لیں۔ اور کوئی ایک آدھی دلیل نہیں ہے بھئی، ہر مسئلے کے اندر بہت سے دلائل ہیں، بہت زیادہ دلائل ہیں بھئی، قرآن کے بھی، حدیث کے بھی، قیاس، اجماع وغیرہ بڑے دلائل ہیں بھئی۔ لیکن یہاں یہ صرف اپنے ضابطے کے مطابق بس جواب دیتے ہیں کہ ضابطے کے مطابق یہ جواب ہو گیا سب کو، ایک دلیل گویا یہ ہوتی ہے۔
اچھا۔ تمام صلاۃ پہ اشارہ تعلیل ہے تسلیم کا؟ جیسے نماز میں واجبات ہیں بھئی، نماز میں کتنے واجبات ہیں بھئی۔ وہ سب چیزیں آ جائیں گی جو جو واجب ہیں نماز کے اندر۔
اچھا تو انہوں نے پوچھا بھئی الشافعي پر الف لام کیوں آیا ہے اور مالک پر الف لام کیوں نہیں آتا بھئی؟ ہوتا ہے نا، عبارت میں آپ دیکھ رہے ہیں مالک پر الف لام نہیں ہے، الشافعي پر الف لام ہے۔ بعض اسماء ایسے ہوتے ہیں، ان پر الف لام نہیں لاتے بھئی عربی کے اندر بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ہر اسم پر الف لام نہیں لاتے بھئی۔ جیسے مکہ ہے، مکہ پر الف لام آپ کلامِ عرب میں دیکھیں بھئی، وہ مکہ پر الف لام نہیں لاتے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ الف لام ہر اسم پر نہیں داخل کرتے، یہ آپ کلامِ عرب کو آپ کو دیکھنا پڑے گا، کس پر لاتے ہیں، کس پر نہیں لاتے بھئی۔ تو ہر جگہ وہ نہیں لاتے، بعض اسماء پر وہ لے کر آتے ہیں، بعض پر نہیں لے کر آتے بھئی، وہ پسند نہیں ہے، معلوم ہو ان کے نزدیک یہ پسندیدہ نہیں ہے ورنہ کوئی تو لے کر آتا، کوئی ایک بھی نہیں لے کر آتا بھئی۔ تو بعض جن اسماء پر وہ لاتے ہیں، ہم بھی انہی کے ان کی زبان ہے بھئی، ان کے متبع ہیں اس سلسلے میں، وہاں ذکر کریں گے، جہاں وہ نہیں لاتے تو وہاں، چنانچہ آپ دیکھیں گے بھئی بعد میں جو کتابیں وغیرہ مصنفین تحریر کرتے ہیں، اہ اب مکہ کا لفظ جہاں بھی آئے گا، الف لام نہیں لائیں گے۔ کیونکہ عرب والے اسی طرح استعمال کرتے ہیں الف لام کے بغیر، ہر جگہ استعمال کرتے ہیں۔ تو جن بعد میں جو بھی مصنف آیا، وہ انہی کے طریقہ پر چلتا ہے کہ الف لام نہیں بھئی، کلامِ عرب میں اس پر الف لام نہیں لایا جاتا۔ مدینہ ہے، وہاں المدینہ آئے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور اس کی بہت سی مثالیں اب آپ غور کیجیے گا، آپ کو بہت مثالیں مل جائیں گی۔ مثلاً مکہ ہے بھئی میں نے ذکر کیا بھئی، مکہ پر الف لام آپ کو نہیں ملے گا بھئی۔ محمد ہے بھئی، صلی اللہ علیہ وسلم، تو لفظِ محمد پر بھی الف لام نہیں ہوگا، احمد ہے بھئی اس پر بھی الف لام نہیں ہوگا، عائشہ ہے بھئی رضی اللہ تعالیٰ عنہا، یہ عائشہ کہہ دیں، اس پر بھی الف لام نہیں ہوگا، عمر ہے بھئی، عثمان ہے، بہت سی مثالیں آپ کو ملیں گی، آپ غور کرتے جائیے بھئی، وہ کہیں بھی اس پر الف لام نہیں لاتے، بعض پر لے کر آتے ہیں، جیسے العليُّ بھئی، الزبيرُ بھئی، رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
اچھا، تو امام مالک رحمہ اللہ نے بھئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مواظبت کو ذکر کیا بطورِ دلیل کے بھئی۔ لیکن اس کا بھی ہم جواب دیتے ہیں کہ بھئی صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مواظبت یہ فرض ہونے کی دلیل نہیں ہے، واجب ہونے کی دلیل نہیں ہے بھئی۔ اس لیے کہ مواظبت تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف پر بھی فرمائی ہے بھئی۔ حالانکہ اسے سنتِ مؤکدہ قرار دیا جاتا ہے بھئی، معلوم ہوا مواظبت دلیل نہیں ہے واجب فرض کی۔ ہاں مواظبت کے ساتھ انکار على الترك ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ترک پر انکار بھی آیا ہو تو پھر یہ دلیل ہے اس کے واجب ہونے کی۔ یعنی چھوڑنے سے منع فرمایا ہو، انکار على الترك کا کیا معنیٰ ہے؟ چھوڑنے سے منع فرمایا ہو۔ چھوڑنے سے منع کیا ہو تو پھر یہ دلیل ہے وجوب کی بھئی۔
اسی طرح بھئی اور بھی بڑے جوابات ہیں بھئی، یہ ایک آدھ دو تسلی کے لیے میں آپ کے ذکر کر رہا ہوں بھئی، حاشیے میں آپ کے دیے ہوئے ہیں وہاں بھی آپ دیکھ سکتے ہیں بھئی۔ کہ اصحابِ ظواہر نے یہ حدیث ذکر کی "لا وضوء لمن لم يسم" اس شخص کا وضو ہی نہیں ہے جس نے بسم اللہ نہ پڑھی بھئی۔ ہم کہتے ہیں احناف جواب دیتے ہیں کہ یہاں کمال کی نفی ہے، اس شخص کا وضو کامل نہیں ہے جس نے بسم اللہ نہیں پڑھی۔ ہاں اور حدیث میں ہے بس یہ ایک جواب آپ تسلی کے لیے یاد رکھیں۔
اور امامِ شافعی رحمہ اللہ بھئی کی دلیل پہلی آئی تھی "لا يقبل الله صلاة امرئ حتى يضع الطهور في مواضعه فيغسل وجهه ثم يديه"، انہوں نے کیا فرمایا تھا کہ "ثم" لے کر آئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کلام میں، "ثم" نے کس بات پر دلالت کی کہ چہرے کا دھونا پہلے ہے، ہاتھوں کا دھونا بعد میں ہے، ترتیب بتلا دی معلوم ہوا ترتیب کیا ہے؟ فرض ہے اس "ثم" کے لفظ نے بتلا دیا۔ جی اور بھی بہت سے جوابات ہیں کہ یہ حدیث پہلے ضعیف ہے بھئی، اس کو علماء نے ضعیف قرار دیا ہے، دوسرا بھئی اہ ابو داؤد کے اندر بھئی روایت احادیث آتی ہے بھئی کہ حضور علیہ السلام سر کا مسح بھول گئے تھے وضو کے اندر، بعد میں ان کو یاد آیا تو اپنی ہتھیلی کی تری کے ذریعے مسح فرمایا۔ وضو پورا کر چکے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم، بعد میں یاد آیا کہ میں مسح نہیں کیا بھئی، ہاتھوں پر تری تھی، اسی کے ذریعے کیا کر لیا؟ مسح کر لیا۔ تو ترتیب بدل گئی یعنی بدل گئی؟ معلوم ہوا ترتیب فرض نہیں ورنہ فرض کے چھوٹنے پر تو وضو ہونا ہی نہیں چاہیے تھا، لیکن یہاں حضور نے ترتیب کے بدلنے کے باوجود آخر میں اسی طرح پھر یاد آنے پر مسح کر لیا اور باقی وضو اسی طرح تھا بھئی۔
جی اور باقی "إنما الأعمال بالنيات" یہ دلیل یہ حدیث ذکر کی بھئی، آگے کیا کہا بھئی کہ وضو بھی عمل ہے "فلا يصح بدون النية" وضو بغیر نیت کے صحیح نہیں، معلوم ہوا شوافع جو ہیں الأعمال سے پہلے صحت مضاف نکالتے ہیں، تو یوں ہوئی عبارت بھئی "إنما صحة الأعمال بالنيات" اعمال کے صحیح ہونے کا دارومدار کس پر ہے؟ نیت پر، ترجمہ سمجھ میں آیا؟ صحیح ہونے کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور نیت نہیں کی تو وضو بھی عمل ہے تو بغیر نیت کے وہ بھی صحیح نہیں، یہ ان کی دلیل ہوئی بھئی۔ ہم جواب دیتے ہیں بھئی کہ الأعمال سے پہلے صحت کا لفظ مضاف محذوف نہیں ہے، بلکہ ثواب کا لفظ محذوف ہے، "إنما ثواب الأعمال بالنيات" عملوں کے ثواب کا دارومدار کس پر ہے؟ نیت پر ہے، نیت ٹھیک ہوگی تو ثواب ملے گا، نیت ٹھیک نہیں ہوگی تو ثواب نہیں ملے گا۔
یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ پھر یہاں پر مولانا محشی حضرات نے بعض اعتراضات کیے ہیں مصنف پر بھی بھئی، مصنف پر بھی کیا کیے ہیں؟ اعتراضات۔ پہلا اعتراض یہ کیا ہے کہ آپ نے یہ ذکر کیا کہ یہ ساری خبرِ آحاد ہیں، یہ ساری احادیث کیا ہیں؟ خبرِ آحاد ہیں، حالانکہ "إنما الأعمال بالنيات" یہ تو خبرِ مشہور ہے بالاتفاق بھئی، بلکہ بعض علماء نے تو اس کو خبرِ متواتر قرار دیا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور خبرِ متواتر اور اس کے لیے تو قرآن کا نسخ جائز ہے بھئی، خبرِ مشہور کے ذریعے بھی قرآن پر زیادتی جائز ہے بھئی۔ تو آپ کا اس کو خبرِ واحد قرار دینا باقی باقیوں کے حدیثوں کے ساتھ اسے بھی خبرِ واحد قرار دینا صحیح نہیں، یہ پہلا اعتراض کیا۔ دوسرا آپ نے کہا کہ وضو میں کوئی واجب نہیں ہے بالاجماع، کہتے ہیں بھئی امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ کے بارے میں آتا ہے، ان کے نزدیک کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا واجب ہے، اور حالانکہ آپ نے کیا کہا؟ وضو کے اندر کوئی واجب نہیں ہے۔ اجماع ہے اس بات پر، معلوم ہوا کہ تو روایتوں میں کیا ہے؟ امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ کے نزدیک کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا واجب ہے۔ جی اور ایک یہ اعتراض کیا کہ آپ نے کہا کہ واجب عبادتِ مقصودہ کے لائق تو ہے، عبادتِ غیر مقصودہ کے لائق نہیں، اس پر کہا بھئی کہ بھئی واجب کا درجہ فرض سے کم ہے اور وضو میں جب فرض آ گیا اعلیٰ درجے والی چیز تو واجب کیوں نہیں اس کے لائق بھئی؟ سمجھ میں آیا اعتراض سمجھ میں آیا بھئی؟ چار چیزیں فرض ہیں تو آپ کہتے ہیں واجب اس کے لائق نہیں ہے۔
اچھا جی آگے دیکھیے بھئی۔ والطهارة في آية الطواف اور طہارت آیتِ طواف میں، کیا معنیٰ بھئی؟ عطف کہاں ہو رہا ہے؟ بتلا رہے ہیں عطف على قوله الولاء، یہ عطف ہو رہا ہے ماتن کے قول الولاء پر بھئی، پچھلے متن میں آیا تھا بطل شرط الولاء، یہ الولاء پر کیا ہو رہا ہے؟ طہارت کا عطف ہو رہا ہے بھئی۔ لہذا الولاء کو اٹھاؤ، اس کی جگہ طہارت رکھو، عبارت بن جائے گی بطل شرط الطهارة في آية الطواف، باطل ہے طہارت کی شرط لگانا کس کے اندر؟ آیتِ طواف کے اندر بھئی۔ تو کہتے ہیں عطف على قوله الولاء، یہ عطف ہے ماتن کے قول الولاء پر والتفريع ثالث عليه اور تیسری تفریع ہے اس پر اس خاص کے حکم پر، بھئی کون سا؟ خود بتلا رہے ہیں أي إذا كان الخاص بينا بنفسه لا يحتمل البيان، یعنی جب خاص جو ہے بین بنفسہ ہے، وہ بیان کا احتمال نہیں رکھتا فبطل شرط الطهارة في آية الطواف، تو باطل ہوئی طہارت کی یعنی پاکی یعنی وضو کی شرط لگانا آیتِ طواف کے اندر وهي قوله تعالى اور آیتِ طواف اللہ کا یہ قول ہے وليطوفوا بالبيت العتيق، چاہیے کہ وہ جی حاجیوں کے بارے میں ہے اور چاہیے کہ وہ حج کرنے والے جو ہیں، وہ طواف کریں بیتِ عتیق کا یعنی بیت اللہ کا۔ بیتِ عتیق سے کیا مراد ہے؟ بیت اللہ، عتیق کا معنیٰ قدیم بھئی، تو اس کو بیتِ قدیم بیتِ عتیق کہا، اس لیے کیونکہ یہ زمین پر اللہ کی عبادت کے لیے بنایا جانے والا پہلا گھر تھا بھئی۔ کہ وہ طواف کریں بیت اللہ کا فإن الشافعي رحمه الله تعالى يقول، اس لیے کہ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں إن طواف البيت لا يجوز بدون الطهارة، کہ بیت اللہ کا طواف جائز نہیں ہے بغیر طہارت کے لقوله عليه السلام، حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے الطواف بالبيت صلاة، الطواف بالبيت صلاةٌ بھئی، بیت اللہ کا طواف بھی نماز ہے یعنی نماز کی طرح ہے۔ بیت اللہ کا طواف بھی کیا ہے؟ نماز کی طرح ہے۔ جب یہ نماز کی طرح ہوا تو نماز کے لیے تو وضو ضروری ہے، تو معلوم ہوا طواف کے لیے بھی وضو ضروری ہے۔ ایک یہ حدیث ذکر کی، دوسرے وقوله علیہ السلام اور حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے ألا لا يطوفن بالبيت محدث ولا عريان، ہرگز طواف نہ کرے بیت اللہ کا بے وضو اور ننگا، محدث کہتے ہیں بے وضو کو، عریان ننگے کو بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ لا يطوفن، ہرگز طواف نہ کرے بیت اللہ کا بے وضو اور ننگا۔ یہ دو حدیثیں ذکر کر دیں، دیکھو یہاں بھی بے وضو کا ذکر آیا، منع کیا، معلوم ہوا وضو طواف کے لیے ضروری ہے۔ ونحن نقول، ہم جواب میں ہم کہتے ہیں إن الطواف لفظ خاص معناه معلوم، کہ طواف کا لفظ جو ہے وہ خاص ہے اس کا معنیٰ معلوم ہے وهو الدوران حول الكعبة، اور وہ چکر لگانا ہے کعبہ کے گرد فاشتراط الطهارة فيه لا يكون بيانا له، لہذا طہارت کی شرط لگانا اس طواف کے اندر یہ اس کے لیے خاص کے لیے بیان نہیں بن سکتا لكونه بينا بنفسه، اس لیے کہ یہ کیا ہے؟ بین بنفسہ، یہ خود بین ہے، واضح ہے بل يكون نسخا، بلکہ یہ تو نسخ ہوگا، یعنی وصفِ اطلاق مقید آپ نے کیا کیا بھئی؟ وہاں مطلق طواف کا ذکر آیا تھا، آپ نے کس چیز کی قید لگا دی؟ وضو کی، تو مطلق کو کیا کر دیا؟ مقید کر دیا، تو گویا وصفِ اطلاق کو آپ نے منسوخ کر دیا، تو یہ نسخ ہوا وهو لا يجوز بخبر الواحد، اور یہ نسخ تو خبرِ واحد کے ذریعے جائز نہیں ہے غايتها، زیادہ سے زیادہ یہ ہے أن تكون واجبة، کہ یہ کیا ہو؟ واجب ہو، یہ طہارت واجب ہوگی ينقص بتركها الطواف، کہ ناقص ہو جاتا ہے اس کے چھوڑنے کی وجہ سے طہارت بھئی۔ ہم کہتے ہیں بھئی یہ کتاب اللہ سے جو ثابت ہے، وہ کیا ہوا؟ اچھا یہ تو ہاں، یہ حج کے طواف کی بات ہو رہی ہے نا، وہ طوافِ زیارت حج کے اندر کیا ہوتا ہے؟ فرض۔ اچھا، تو غايتها زیادہ سے زیادہ یہ ہے أن تكون واجبة، کہ وہ طہارت کیا ہوگی؟ طہارت طواف کے اندر واجب ہوگی ينقص بتركها الطواف، ناقص ہو جائے گا اس طہارت کو چھوڑنے کی وجہ سے طہارت۔ اگر طہارت نہ ہو تو طواف میں نقصان آ جائے گا، یہ نہیں کہ طواف ہوگا ہی نہیں بلکہ طواف میں نقصان آ گیا، کمی آ گئی فيجبر بالدم، تو اس کی تلافی کی جائے گی قربانی کے ذریعے، دم کے ذریعے، دم کہتے ہیں قربانی کو بھئی، حج وغیرہ کے اندر بھئی کوئی واجب چھوٹ جائے تو پھر کیا کرنا پڑتا ہے؟ قربانی کرنا پڑتی ہے بھئی۔ فيجبر بالدم في طواف الزيارة وبالصدقة في غيره، پس تلافی کی جائے گی قربانی کے ذریعے طوافِ زیارت میں اور صدقے کے ذریعے اس کے علاوہ طواف میں۔ بھئی دیکھو، طوافِ زیارت تو حج کے اندر فرض ہے بھئی اور فرض طواف کے اندر، فرض طواف کو بغیر وضو کے کیا، معلوم ہوا جنایت بڑی ہے، جب جنایت بڑی ہے تو لہذا کیا کرنا پڑے گا؟ اس کی تلافی بھی بڑی چیز یعنی قربانی کے ذریعے ہوگی بھئی، اور اگر عام طواف میں کیا بھئی، عام طواف میں بھئی وہ د
پھر وہ طواف تو پھر وہی فرض ہے، باقی طواف کی مرضی ہے بھئی کرتے رہیں، جب مرضی طواف کریں۔ تو پھر اس صورت میں اب جنایت کی ہے اور اس کی تلافی کرنا پڑے گی لیکن جنایت بڑے درجے کی نہیں ہے، لہذا اب صدقے کے ذریعے کیا ہو جائے گی؟ تلافی ہو جائے گی، کچھ صدقہ کر دے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی سب کو؟
وَأَمَّا زِيَادَةُ كَوْنِهِ سَبْعَةَ أَشْوَاطٍ وَابْتِدَاؤُهُ مِنَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فَلَعَلَّهُ ثَبَتَ بِالْخَبَرِ الْمَشْهُورِ وَهِيَ جَائِزٌ بِالِاتِّفَاقِ۔
اور باقی زیادہ اس زیادہ ہوں، زیادتی اس کے سات چکر کے ہونے کی زیادتی اور اس کی ابتداء کرنا حجر اسود سے، بھئی یاد رکھو طواف کے اندر بیت اللہ کے گرد سات چکر لگائے جاتے ہیں، ہر طواف میں۔ ایک طواف میں کتنے چکر ہیں؟ سات چکر، اور اس کی ابتداء کی جاتی ہے حجر اسود سے ابتداء کی جاتی ہے۔
تو کہتے ہیں باقی یہ جو یہ اعتراض ہوتا ہے کہ بھئی آپ نے کہا کہ طواف کیا ہے؟ اس کا معنی معلوم ہے، اس پر خبر واحد کے ذریعے زیادتی نہیں کی جا سکتی، خبر واحد اس کے لیے بیان نہیں بن سکتی بھئی۔ تو آپ خود بھی تو زیادتی کرتے ہیں، آپ نے کے نزدیک طواف میں سات چکروں کا ہونا فرض ہے، ضروری ہے بھئی۔ اور اسی طرح طواف کی ابتداء حجر اسود سے ہونا ضروری ہے۔ تو دیکھو آپ وہاں تو مطلق چکر لگانے کا ذکر تھا، وہاں کوئی سات کی بات ہوئی تھی بھئی؟ وہاں حجر اسود سے ابتداء کی بات ہوئی؟ نہیں ہوئی۔ تو جواب دے رہے ہیں مولانا، کہتے ہیں یہ جو سات چکر ہونے کی زیادتی ہے وَابْتِدَاؤُهُ مِنَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ اور حجر اسود سے جو اس کی ابتداء ہے طواف کی فَلَعَلَّهُ ثَبَتَ بِالْخَبَرِ الْمَشْهُورِ شاید کہ وہ ثابت ہو کس کے ذریعے؟ خبر مشہور کے ذریعے ثابت ہو وَهِيَ جَائِزٌ بِالِاتِّفَاقِ اور یہ زیادتی جو خبر مشہور کے ذریعے ہو وہ بالاتفاق جائز ہے، خبر مشہور کے ذریعے جائز ہے بھئی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ بعض علماء نے اور جواب بھی دیا بھئی، اور جواب دیا۔ کہ بھئی آیت کے اندر طہارت کے اعتبار سے کوئی اجمال نہیں، بھئی اجمال ہو تو اس کے لیے بیان چاہیے ہوتا ہے۔ تو آیت کے اندر وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ اس کے اندر طہارت کے اعتبار سے کوئی اجمال نہیں ہے، کیونکہ طہارت کا طواف میں کے معنی میں کوئی دخل ہی نہیں ہے۔ طواف کا تو کیا معنی ہے؟ چکر لگانا، تو طہارت کا اس میں دخل ہے اس کے معنی میں کوئی؟ دخل ہے ہی نہیں، ہاں البتہ چکر لگانے میں کتنے چکر لگائے، کہاں سے ابتداء کرے اس کا دخل تو ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس اعتبار سے اس میں اجمال ہے اور جب یہ اجمال ہے تو یہ مجمل ہوئی اس اعتبار سے اور مجمل کے لیے خبر واحد بیان بن سکتی ہے، لہذا ان کے لیے بھی کیا ہوئی خبر واحد بیان بن جائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں فَلَعَلَّهُ شاید کہ یہ ثابت ہو خبر مشہور کے ذریعے وَهِيَ جَائِزٌ بِالِاتِّفَاقِ اور یہ زیادتی جائز ہے بالاتفاق، یعنی وہ زیادتی جو خبر مشہور سے ہو۔
وَالتَّأْوِيلُ بِالْأَطْهَارِ فِي آيَةِ التَّرَبُّصِ، یہ متن ہے مولانا یاد رکھنا وَالتَّأْوِيلُ بِالْأَطْهَارِ فِي آيَةِ التَّرَبُّصِ یہ تین، چار، پانچ لفظ ہیں یہ متن ہے سارا بھئی۔
اچھا بھئی، کس پر عطف ہو رہا ہے؟ شارح بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں عطفٌ عَلَى قَوْلِهِ شَرْطُ الْوَلَاءِ، یہ عطف ہے ماتن کے قول شَرْطُ الْوَلَاءِ پر۔ بھئی شَرْطُ الْوَلَاءِ کہاں آیا تھا؟ پچھلے سے پچھلے متن میں آیا تھا، بَطَلَ شَرْطُ الْوَلَاءِ، اس شَرْطُ الْوَلَاءِ سارے کو ہٹا دو اور اس پر آپ التَّأْوِيلُ کا عطف کرو، بَطَلَ التَّأْوِيلُ بِالْأَطْهَارِ فِي آيَةِ التَّرَبُّصِ۔ طہروں طہروں کے ساتھ تاویل کرنا آیتِ تربص میں یہ باطل ہے، ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ آیتِ تربص میں طہروں کے ساتھ تاویل کرنا باطل ہے۔
بھئی دیکھیے بھئی، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ، تو یہاں یہ آیتِ تربص ہوئی بھئی، رکنے کا حکم ہے۔ اور ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ کا لفظ آیا بھئی، قُرُوء، یاد رکھو قُرُوء جمع ہے قُرْءٌ کی، اور قُرْءٌ جو ہے یہ اس اس کا معنی طہر بھی ہے اور اس کا معنی حیض بھی ہے، یہ اضداد میں سے ہے۔ دیکھو طہر اور حیض ایک دوسرے کی ضد ہیں اور اس کے دونوں معنی آ رہے ہیں، تو اس قسم کے لفظ کو کیا کہتے ہیں؟ اضداد میں سے بھئی، دونوں ضد معنی ہیں اس کے بھئی۔
تو یہ اضداد میں سے ہے، اب اس یہاں پر قُرُوء سے کیا مراد ہے بھئی؟ یاد رکھیے ہمارے نزدیک قُرُوء سے مراد یہاں حیض ہیں، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اس سے کیا مراد ہیں؟ طہر مراد ہیں، طہر مراد ہیں۔ تو دیکھو دو معنی تھے قُرُوء کے، ایک معنی تھا طہر، ایک معنی تھا حیض، ہم تو یہ کون سا لفظ ہوا؟ مشترک ہوا جس کے دو معنی آ گئے بھئی، اور مشترک کے ایک معنی کو ترجیح دے دی جائے تو وہ کیا بن جاتا ہے؟ مؤول، تو یہ مؤول ہوا، اس میں تاویل کی گئی، ایک معنی کو ترجیح دی گئی۔ تو یہ ہمارے نزدیک بھی مؤول، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی مؤول، لیکن ہم نے تاویل کے ذریعے کس معنی کو ترجیح دی بھئی؟ حیض کے معنی کو، اور امام شافعی رحمہ اللہ نے طہر کے معنی کو ترجیح دی ہے تاویل کے ذریعے، یہی بات بیان کر رہے ہیں وَبَطَلَ التَّأْوِيلُ بِالْأَطْهَارِ فِي آيَةِ التَّرَبُّصِ، آیتِ تربص میں طہروں کے ساتھ تاویل کرنا باطل ہے۔ سمجھ میں آیا؟ طہروں کے ساتھ تاویل کرنا باطل ہے۔
دیکھیے بھئی اب ساری تقریر ذکر کریں گے شارح خود بھئی، کہتے ہیں عطفٌ عَلَى قَوْلِهِ شَرْطُ الْوَلَاءِ یہ عطف ہے ماتن کے قول شَرْطُ الْوَلَاءِ پر وَتَفْرِيعٌ رَابِعٌ عَلَيْهِ اور چوتھی تفریع ہے اس حکم پر، أَيْ إِذَا كَانَ الْخَاصُّ بَيِّنًا بِنَفْسِهِ لَا يَحْتَمِلُ الْبَيَانَ یعنی جب خاص بین بنفسہ ہو تو وہ بیان کا خاص بین بنفسہ ہے تو وہ احتمال نہیں رکھتا بیان کا۔ یہاں مولانا شارح سے سہو ہوا ہے، یہ دوسرے قانون پر تفریع نہیں ہے، پہلے قانون پر تفریع ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ جی۔ تو بے خیالی میں بھئی وہ یہ دوسرا ہی لکھ گئے اوپر بھئی، دوسرا تو پہلے قانون پر تفریع ہے، پہلا قانون کیا ہے؟ کہ خاص اپنے مخصوص کو قطعی طور پر شامل ہوتا ہے، اس پر یہ تفریع ہے۔
تو کہتے ہیں فَبَطَلَ تَأْوِيلُ الْقُرُوءِ بِالْأَطْهَارِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى لہذا قُرُوء تا قُرُوء کی تاویل اطہار کے ساتھ کرنا باطل ہے اللہ کے اس قول میں وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ۔ اور طلاق والیاں جو ہیں وہ روکیں اپنے نفسوں کو تین قُرُوء تک، وَبَيَانُهُ بیان اس کا یہ ہے کہ أَنَّ قَوْلَهُ تَعَالَى قُرُوءٌ مُشْتَرَكٌ بَيْنَ مَعْنَى الطُّهْرِ وَالْحَيْضِ کہ اللہ کا یہ قول جو قُرُوء ہے یہ مشترک ہے دو معنی طہر اور حیض میں، مشترک تھا طہر اور حیض کے معنی میں فَأَوَّلَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ بِالْأَطْهَارِ تو تاویل کی اس کی امام شافعی رحمہ اللہ نے طہروں کے ساتھ لِقَوْلِهِ تَعَالَى اللہ کے اس قول کی وجہ سے فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ۔ اللہ قرآن میں کیا فرماتے ہیں فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ؟ امام شافعی رحمہ اللہ اس سے استدلال کرتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ تاویل کرتے ہیں کہ قُرُوء سے مراد طہر ہیں اللہ کے اس قول کی وجہ سے عَلَى أَنَّ اللَّامَ لِلْوَقْتِ کہ یہ جو لام ہے اس کے اندر یہ کس لیے ہے؟ وقت کے لیے ہے، أَيْ فَطَلِّقُوهُنَّ لِوَقْتِ عِدَّتِهِنَّ کہ تم طلاق دو ان کو لِوَقْتِ عِدَّتِهِنَّ ان کی عدت کے وقت، ان کو طلاق دو ان کی عدت کے وقت بھئی، وَهُوَ الطُّهْرُ اور عدت کا وقت وہ کیا ہے؟ طہر ہے، بھئی طہر کیوں ہے؟ کہتے ہیں لِأَنَّ الطَّلَاقَ لَمْ يُشْرَعْ إِلَّا فِي الطُّهْرِ بِالْإِجْمَاعِ اس لیے کہ طلاق مشروع نہیں ہے مگر طہر کے اندر ہی بالاجماع۔ بالاجماع مولانا، طلاق دینے کا وقت طہر ہے، کس وقت میں دینی چاہیے؟ طہر میں دینی چاہیے بھئی، طہر میں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ حیض میں طلاق دینا درست نہیں ہے بھئی، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے بیٹے ہیں بھئی، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما، انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی حالتِ حیض میں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا تو ناراضگی کا اظہار فرمایا اور رجوع کرنے کا حکم دیا بھئی، سمجھ میں آیا؟ معلوم ہوا حیض کے اندر طلاق دینا پسندیدہ نہیں جی درست نہیں ہے، درست نہیں ہے بھئی۔
اچھا، تو کہتے ہیں لِأَنَّ الطَّلَاقَ لَمْ يُشْرَعْ إِلَّا فِي الطُّهْرِ بِالْإِجْمَاعِ اس لیے کہ طلاق مشروع نہیں ہے مگر طہر ہی کے اندر بالاجماع۔ جی، تو کیا آیا آیت میں؟ دوبارہ آیت پہ نظر رکھو جو ترجمہ کیا بھئی فَطَلِّقُوهُنَّ لِوَقْتِ عِدَّتِهِنَّ کہ تم ان عورتوں کو طلاق دو ان کی عدت کے وقت میں، ان کی عدت کے وقت میں۔ تو دیکھو طلاق طہر کیا ہے؟ طلاق کا وقت ہے، طلاق کس وقت دینی چاہیے؟ طہر کے وقت میں۔ اور وہی وقت ہے ان کی عدت کا بھی خود آگے آیا نا لِوَقْتِ، طلاق دو کس وقت دو؟ عدت کے وقت میں، اور طلاق صرف کس وقت دینی ہے؟ معلوم ہوا عدت کا وقت بھی کون سا ہوا؟ طہر ہوا، ثابت ہوا یا نہیں بھئی کہ قُرُوء سے کیا مراد ہے؟ طہر مراد۔
وَأَوَّلَهُ آگے دیکھیے اب ہمارا ہماری دلیل، وَأَوَّلَهُ أَبُوهَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِالْحَيْضِ۔ وَأَوَّلَهُ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِالْحِيَضِ، حیض جمع کر لو بھئی جمع، کیونکہ قُرُوء کا لفظ جمع آیا تھا تو تاویل بھی جمع کے لفظ کے ساتھ، اور تاویل کی ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے حیضوں کے ساتھ قُرُوء کی بِدَلَالَةِ جی؟ بالحیض نہیں ہے آپ کی کتابوں میں؟ ہے؟ ہاں، بِالْحِيَضِ بھئی وَأَوَّلَهُ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِالْحِيَضِ کا لفظ ہونا چاہیے بھئی۔ ہونا چاہیے بھئی، یہ کتابت کی غلطی ہے بھئی، لکھو بھئی یہاں پر تاویل کی ہے، کس چیز کے ساتھ تاویل کی ہے یہ بھی تو ذکر ہو بھئی۔ تو حیض اسی حیض کی طرح لکھنا ہے بس صرف حرکات مختلف ہو گئے، وَأَوَّلَهُ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ بِالْحِيَضِ۔ اور تاویل کی ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے کس کے ساتھ؟ حیضوں کے ساتھ، بِدَلَالَةِ قَوْلِهِ تَعَالَى اللہ تعالی کے اس قول کی دلالت کی وجہ سے، ثَلَاثَةَ۔ قرآن میں کیا لفظ آیا تھا؟ ثَلَاثَةَ کا لفظ آیا تھا، اس کی دلالت کی وجہ سے، کیوں بھئی؟ کیسے؟ اب خود بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں لِأَنَّهُ خَاصٌّ اس لیے کہ یہ ثَلَاثَةَ کیا ہے؟ خاص، لَا يَحْتَمِلُ الزِّيَادَةَ وَالنُّقْصَانَ یہ زیادی اور کمی کا احتمال نہیں رکھتا، بھئی دیکھو ثَلَاثَةَ کون سا عدد ہے؟ جو دو سے بڑا ہو اور چار سے چھوٹا ہو۔ یہ کمی کا بھی احتمال نہیں رکھتا کہ دو کو تین کہہ دیا جائے، زیادی کا بھی احتمال نہیں رکھتا کہ چار کو کیا کہہ دیا جائے؟ تین، تین تو وہ ایک مخصوص عدد ہے اسی پر اس نے دلالت کرنی ہے، تو یہ نہ زیادی کا احتمال رکھتا ہے اور نہ کمی کا، وَالطَّلَاقُ لَمْ يُشْرَعْ إِلَّا فِي الطُّهْرِ اور طلاق مشروع نہیں ہے مگر طہر ہی کے اندر، یہ بات بھی طے ہے۔ اچھا، فَإِذَا طَلَّقَهَا فِي الطُّهْرِ جب اس نے جب طلاق دے دی اس نے طہر کے اندر وَكَانَتِ الْعِدَّةُ أَيْضًا هِيَ الطُّهْرُ اور عدت بھی کیا ہو؟ یہ طہر ہی ہو، فَلَا يَخْلُو تو پھر خالی نہیں ہے دو باتوں میں سے ایک بات پیش آئے گی، کیا؟ كَأَنْ إِمَّا أَنْ يُحْتَسَبَ ذَلِكَ الطُّهْرُ مِنَ الْعِدَّةِ أَوْ لَا کہ اس طہر کو جس کے اندر طلاق دی ہے اس کو بھی شمار کیا جائے گا عدت کے اندر یا عدت میں شمار نہیں کریں گے۔ اس کو عدت میں شمار کریں گے یا شمار نہیں؟ دیکھو دوبارہ سنو بھئی، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے تاویل کی ہے قُرُوء کی کس کے ساتھ؟ حیضوں کے ساتھ بھئی، اور دلیل کے طور پر اللہ کا یہ قول ثَلَاثَةَ ذکر فرمایا، کہ ثَلَاثَةَ خاص ہے جو کمی اور زیادی کا احتمال ایک مخصوص عدد پر دلالت کر رہا ہے بھئی، اور مخصوص عدد پر پہلی بات یہ یاد رکھو، دوسرا یہ کہ طلاق مشروع ہے صرف کس حالت میں دینی چاہیے؟ طہر کی حالت میں دینی چاہیے، اب اگر طہر ہی کو ہم کیا شمار کر لیں؟ جی؟ کہ اگر طہر ہی کو عدت شمار کر لیں تو دو خرابیوں میں سے ایک خرابی لازم آئے گی، کیا؟ جس طہر میں طلاق دی ہے اس کو شمار کریں گے یا شمار نہیں کریں گے؟ اگر اس کو بھی کرتے ہیں تو تین طہر پورے نہ ہوئے بلکہ تین سے طہر کیا ہو جائیں گے؟ کم، تو ثَلَاثَةَ پر عمل نہ ہوا۔ اور اگر اس طہر کو شمار نہیں کرتے، اگلے تین طہر شمار کرتے ہو تو کچھ حصہ تو اس کا بھی تھا، تو لہذا تین پر پھر بھی عمل نہ ہوا اور عدت کیا ہوئی؟ تین طہروں سے زیادہ ہو گئی، مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو ثَلَاثَةَ پر عمل نہ رہا حالانکہ ثَلَاثَةَ خاص ہے بھئی۔ اچھا جی۔
تو کہتے ہیں فَلَا يَخْلُو إِمَّا أَنْ يُحْتَسَبَ ذَلِكَ الطُّهْرُ مِنَ الْعِدَّةِ أَوْ لَا شمار کیا جائے گا اس طہر کو بھی عدت میں سے یا شمار نہیں کیا جائے گا، فَإِنِ احْتُسِبَ مِنْهَا اگر اس کو شمار کیا گیا عدت میں سے كَمَا هُوَ مَذْهَبُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى جیسے کہ مذہب ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا، وہ شمار کرتے ہیں بھئی، وہ اس کو بھی شمار کرتے ہیں۔ فَيَكُونُ قُرْءَيْنِ وَبَعْضًا مِنَ الثَّالِثِ تو عدت کیا ہو گئی؟ دو قُرْء دو دو طہر اور تیسرے کا بعض، تیسرا یعنی وہ جو پہلا مراد ہے، پہلا تھا اس میں سے جب پہلے طہر میں طلاق دینی ہے اور وہی کیا ہے؟ عدت بھی ہے، تو جب طلاق دے گا کچھ نہ کچھ حصہ تو اس کا گزر چکا ہو گا، تو وہ بعض ہوا، لِأَنَّ بَعْضًا مِنْهُ قَدْ مَضَى اس لیے کہ اس میں سے کچھ تو گزر چکا ہے، وَإِنْ لَمْ يُحْتَسَبْ مِنْهَا اور اگر اس کو شمار نہ کیا جائے اس طہر کو جس میں طلاق دی ہے اس کو اگر عدت میں سے شمار نہ کیا جائے وَيُؤْخَذُ ثَلَاثٌ أُخَرُ اور اس کے علاوہ تین کو لیا جائے ما وَيُؤْخَذُ ثَلَاثٌ أُخَرُ مَا سِوَى هَذَا الْقُرْءِ اور تین دوسرے جو ہیں طہر لیے جائیں اس اس اس قُرْء کے علاوہ تین دوسرے قُرْء لیے جائیں، يَكُونُ ثَلَاثًا وَبَعْضًا تو اس صورت میں کیا ہو جائیں گے قُرْء؟ تین اور اور کچھ بھئی، یعنی تین سے کچھ زائد ہو جائیں گے، وَعَلَى كُلِّ تَقْدِيرٍ اور ہر تقدیر پر يَبْطُلُ مُوجَبُ الْخَاصِّ الَّذِي هُوَ ثَلَاثَةٌ باطل ہو جائے گا اس خاص کا مقتضا جو کہ ثَلَاثَةٌ ہے، وہ جو ثَلَاثَةٌ خاص ہے اس کا مقتضا کیا ہو جائے گا؟ باطل، وہ تو کس چیز کا تقاضا کرتا ہے؟ وہ تو کس چیز پر دلالت کرتا ہے بھئی؟ صرف تین کے عدد پر دلالت کرتا ہے، تین سے کم بھی مراد نہیں، تین سے زیادہ بھی مراد نہیں، تو لہذا اب اگر آپ طہر کو عدت شمار کرتے ہیں تو جس طہر کے اندر طلاق دی ہے اس کو شمار کریں گے یا نہیں کریں گے؟ اگر اسے شمار کرتے ہیں تو ایک یہ والا طہر ہوا، اگلے دو پورے ہو گئے، تو اگلے دو تو پورے لیکن یہ والا پورا نہیں، تو دو قُرْء اور کچھ تیسرے کا حصہ آ گیا، اور اگر اس کو شمار نہیں کرتے تو اگلے تین پورے شمار کریں گے تو اس کا بھی تو کچھ حصہ ہے، تو تین سے کیا ہوئی بات؟ زیادہ ہو گئی۔
کہتے ہیں وَأَمَّا إِذَا كَانَتِ الْعِدَّةُ هِيَ الْحَيْضُ اور عدت اگر کیا ہو؟ یہ حیض ہو، وَالطَّلَاقُ فِي الطُّهْرِ جیسے کہ ہمارا مذہب ہے، تو اب اگر عدت ہم حیض کو شمار کریں وَالطَّلَاقُ فِي الطُّهْرِ اور طلاق کس میں ہو؟ طہر میں ہو، لَمْ يَلْزَمْ شَيْءٌ مِنَ الْمَحْظُورَيْنِ۔ محظور کہتے ہیں قابلِ اعتراض شے کو جس چیز سے بچا جائے، بچا جائے۔ قابلِ اعتراض شے، تو کہتے ہیں لَمْ يَلْزَمْ شَيْءٌ مِنَ الْمَحْظُورَيْنِ تو ان دو قابلِ اعتراض چیزوں میں سے کوئی ایک بھی نہیں آئے گی، بھئی دو قابلِ اعتراض چیزیں کیا ہیں؟
تین سے زیادہ ہونا یا تین سے کم ہونا، یہ دونوں قابلِ احتراز ہیں۔ ان سے بچنا چاہیے۔ پورے تین پہ عمل ہونا چاہیے۔ تو کہتے ہیں اگر عدت حیض کو شمار کریں اور طلاق طہر میں ہو، تو پھر ان دو قابلِ احتراز چیزوں میں سے کوئی ایک بھی لازم نہیں آئے گی۔
بلکہ شمار کیے جائیں گے تین حیض بعدِ مضئ الطہر الذی وقع فیہ الطلاق، بعد گزر جانے اس طہر کے جس کے اندر طلاق واقع ہوئی تھی۔ بھئی طہر کے اندر طلاق واقع ہوئی ہے اور ہمارے نزدیک کس کو شمار کرنا چاہیے عدت؟ حیض کو۔ تو جس طہر میں طلاق دی ہے، اس سے اگلے حیض کے تین پورے شمار کر لو، پورے پورے تین حیض بھئی۔
وقد قیل، وقد قیل ان ھذا، ھذا الزام علی الشافعی رحمہ اللہ تعالی یمکن ان یستنبط من لفظ القرء۔ یہاں سے بھئی بعض احناف نے کہا کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف استدلال کیا جا سکتا ہے بھئی، لفظِ قروء سے بھی استدلال کیا جا سکتا ہے بھئی، ثلاثہ کو، ثلاثہ کے بجائے لفظِ قروء سے بھی کیا کیا جا سکتا ہے؟ استدلال کیا جا سکتا ہے۔ تو ان کے اس قول کو ذکر کریں گے شارح اور پھر اس کو رد کریں گے کہ نہیں بھئی، یہ تفریع درست نہیں ہے بھئی۔
بعض احناف نے کیا کہا؟ کہ لفظِ قروء سے ہی استدلال کیا جا سکتا ہے، اس لیے کہ قروء جمع ہے قرء ان کی اور قروء ہوئی جمع اور جمع کا اطلاق کم سے کم کتنے پر ہوتا ہے؟ تین پر ہوتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو تین، لہٰذا تین حیض قروء پورے ہونے چاہئیں۔ تو تین قروء کیا ہونے چاہئیں؟ پورے ہونے چاہئیں۔
تو استدلال کس طرح کیا جا سکتا ہے ثلاثہ کے بجائے صرف کس سے استدلال کر سکتے ہیں؟ قروء سے۔ کہتے ہیں اس لیے کہ قروء جمع ہے اور جمع کا اطلاق کم سے کم تین افراد پر ہوتا ہے۔ معلوم ہوا قروء بھی کم سے کم کتنے ہونے چاہئیں؟ تین ہونے چاہئیں، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ جو طہر شمار کرتے ہیں وہ دو اور تیسرے کا کچھ حصہ ہوتا ہے، تین پورے نہیں ہوتے۔ حالانکہ جمع کا اطلاق تو تین سے کم پر نہیں ہوتا۔ شارح جواب دیں گے کہ نہیں بھئی، یہ بات درست نہیں ہے بھئی، جمع کا اطلاق تین سے کم پر بھی ہو جاتا ہے بھئی، جیسے اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہے: "الحج اشھر معلومات" بھئی، حج کے مہینے معلوم ہیں بھئی۔
یاد رکھیے رمضان گزرتے ہی حج کے مہینے شروع ہو جاتے ہیں بھئی، رمضان کے بعد شوال آیا، ذوالقعدہ آیا اور پھر ذوالحجہ آیا، تو رمضان گزرتے ہی حج کے ایام شروع ہو جاتے ہیں بھئی۔ تو شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے 10 ایام بھئی، تو یہ دو ماہ 10 دن ہوئے، تو یہ تین ماہ پورے نہیں ہیں لیکن قرآن میں کیا آیا؟ اشھر، جمع کا صیغہ آیا۔ سمجھ میں آیا؟ اور جمع کا اطلاق تو ویسے ہم کیا کہتے ہیں کم سے کم کتنے پر ہوتا ہے؟ تین پر، اور یہاں دو سے کچھ زائد پر اطلاق ہو رہا ہے۔ معلوم ہوا جمع کا اطلاق تین سے کم پر بھی ہو جاتا ہے۔
کہتے ہیں وقد قیل ان ھذا الزام علی الشافعی رحمہ اللہ تعالی یمکن ان یستنبط من لفظ، من لفظ قروء بدون ملاحظۃ قولہ ثلاثۃ اور تحقیق کہا گیا ہے کہ یہ الزام امام شافعی رحمہ اللہ پر ممکن ہے کہ اس کا استنباط کیا جائے لفظِ قروء سے ہی بغیر ملاحظہ کیے اللہ تعالیٰ کے قول ثلاثہ کو، لانھ جمع اس لیے کہ قروء کا لفظ جو ہے وہ جمع ہے واقلھ ثلاثۃ اور جمع کے کم سے کم کتنا افراد ہوتے ہیں؟ تین ہوتے ہیں افراد، وھذا فاسد رد کر رہے ہیں بھئی اس تقریر کو شارح بھئی، کہتے ہیں وھذا فاسد یہ درست نہیں ہے، لان الجمع یجوز ان یذکر ویرا دہ بہ ما دون الثلاثۃ اس لیے کہ جمع کے اندر جائز ہے کہ اس کو ذکر کیا جائے اور ارادہ کیا جائے اس سے تین سے کم کا، کما فی قولہ تعالی جیسے اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہے: الحج اشھر معلومات، حج کے مہینے معلوم ہیں بھئی، جی اور وہ کتنے ہیں؟ دو ماہ 10 دن بھئی، شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے 10 دن، پھر بھی اس کے لیے اشھر جمع کا لفظ ذکر کیا گیا، معلوم ہوا تین سے کم کے لیے بھی جمع کا اطلاق ہو جاتا ہے۔
بخلاف اسماء العدد، بخلاف کس کے؟ اسماءِ عدد، فانھا نص فی مدلولاتھا اس لیے کہ وہ قطعی ہوتے ہیں اپنے مدلولات میں، نص کا یہاں کیا ترجمہ کریں؟ قطعی۔ اس لیے کہ اسماءِ عدد جو ہیں وہ قطعی ہوتے ہیں اپنے مدلولات کے اندر بھئی، قطعی ہوتے ہیں۔ مثلاً تین بولا تو تین سے تین ہی مراد ہے، تین سے کم اور زیادہ مراد نہیں، اور جمع کے ذریعے تو تین سے کم بھی مراد ہو سکتے ہیں لہٰذا جمع کے صیغے سے استدلال صحیح نہیں۔
واما قولہ تعالی بھئی امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا فرمایا تھا کہ یہ قروء سے کیا مراد ہے؟ طہر، اور کس وجہ سے کہتے ہیں بھئی وہ ذکر کیا تھا کہ اللہ فرماتے ہیں فطلقوھن لعدتھن بھئی یہاں لام کس لیے آیا ہے؟ وقت کے لیے۔ اب اس کا بھی جواب دینا چاہتے ہیں، کہتے ہیں بھئی لعدتھن میں لام وقت کے لیے نہیں ہے بلکہ لام اجلیہ ہے بھئی، لام کیا ہے؟ اجلیہ ہے بھئی۔
یہ جو سبب ذکر کرنے کے لیے آتا ہے، وجہ ذکر کرنے کے لیے، واما قولہ تعالی باقی اللہ کا یہ قول جو ہے فطلقوھن لعدتھن کہ یہ جو ہے فمعناہ لاجل عدتھن، لعدتھن کا کیا معنی ہے؟ لاجل عدتھن، عدت کے لیے یعنی، کیا معنی عدت کے لیے؟ ای طلاقھن بحیث یمکن احصاء عدتھن، احصاء عدتھن، یعنی ان کو طلاق دو اس طور پر کہ ممکن ہو ان کی عدت کا شمار کرنا، ان کی عدت کا شمار کرنا ممکن ہو بھئی، وذلک بان یکون فی طھر لا وطء فیہ اور وہ اس طور پر کہ وہ طلاق جو ہے ایسے طہر میں ہو لا وطء فیہ جس کے اندر وطی نہ ہو، وطی نہ پائی جائے، لانھ یعلم حینئذ اس لیے کہ پھر اس وقت یہ جان لیا جائے گا کہ انھا غیر حامل کہ یہ کیا ہے؟ حاملہ نہیں ہے۔
بھئی جب اس طہر کے اندر حیض آیا، حیض کا آنا علامت ہے وہ حاملہ نہیں، اس کے بعد طہر آیا اس طہر میں طلاق دی ہے تو اس طہر میں بھی وطی نہیں ہونی چاہیے، صحبت نہیں ہے۔ جب صحبت نہیں ہے معلوم ہوا حاملہ بھی نہیں ہے، تو اب کیا ہے؟ آرام سے عدت کس کے ذریعے پوری کر لے گی؟ حیض کے ذریعے، تو لانھ یعلم حینئذ انھا غیر حامل اس لیے کہ یہ جان لیا جائے گا اس وقت کہ یہ حاملہ نہیں ہے، فتعتد بثلاث حیض بلا شبھۃ تو یہ عدت گزار لے گی تین حیضوں کے ساتھ بغیر شبہے کے، ولا تطلقو فی، فی طھر وطئ فیہ۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ معنی بیان کر رہے ہیں، ان کو اس طور پر طلاق دو کہ ان کی عدت کو شمار کرنا ممکن ہو اور ولا تطلقو مراد یہ ہے کہ انہیں طلاق نہ دو فی طھر وطئ فیہ ایسے طہر میں جس میں وطی کی گئی ہو، لانھ لم یعلم حینئذ اس لیے کہ اس وقت یہ نہیں جانا جائے گا کہ انھا حامل فتعتد بوضع الحمل او غیر حامل فتعتد بالحیض کہ یہ حاملہ ہے تو وضعِ حمل کے ساتھ عدت گزارے گی یا غیر حاملہ ہے تو کس کے ساتھ عدت گزارے گی؟ حیض کے ساتھ۔
طہر میں اگر صحبت ہوئی ہے پھر تو پتا ہی نہیں ہے کہ حاملہ ہے یا حاملہ نہیں، حاملہ ہوتی تو پھر وضعِ حمل تھی کے ساتھ عدت گزارے گی اور غیر حاملہ ہو تو کس کے ساتھ گزارے گی؟ حیض کے ساتھ، وکذا لا تطلقو فی الحیض اور اسی طرح حیض میں بھی طلاق نہ دو، یہ مراد ہے بھئی سمجھ میں آیا؟ کس کی ساری مراد بیان ہو رہی ہے؟ فطلقوھن لعدتھن۔
لام کون سا ہے؟ اجلیہ ہے یعنی ان کی عدت کے لیے ان کو کیا کرو؟ طلاق دو، یعنی اس طریقے پر کہ عدت کو شمار کرنا ممکن ہو، اور وہ کس طریقے پر ہے کہ ایسے طہر میں دی جائے جس کے اندر صحبت نہ کی ہو، ایسا طہر نہیں ہونا چاہیے جس میں صحبت کی ہو، ایسے طہر میں طلاق نہ دو اور نیز حیض میں بھی نہ دو ورنہ کیا ہوگا؟ حیض میں بھی نہ دو دیکھئے خود ذکر کر رہے ہیں وکذا لا تطلقو فی الحیض، طلاق نہ دو انہیں حیض کے اندر، لان ھذا الحیض لم یعتبر عندنا اس لیے کہ یہ حیض جس میں طلاق دی ہے یہ ہمارے نزدیک معتبر نہیں، ولا الطھر الذی یلیہ اور نہ ہی وہ طہر جو اس کے ساتھ ملا ہوا ہے، اس حیض کے بعد کیا آئے گا؟
بھئی حیض کے اندر طلاق دی، تو یہ حیض تو شمار نہیں، اگلا طہر، طہر تو ہمارے نزدیک بھئی قروء سے طہر مراد ہی نہیں ہے بھئی تو اس کو بھی شمار نہیں، اگے اگے پھر جو حیض تین آئیں گے ان کو شمار کریں گے تو عورت پر عدت کیا ہو گئی؟ طویل ہو گئی بھئی۔
تو کہتے ہیں لان ھذا الحیض لم یعتبر عندنا اس لیے کہ یہ حیض ہمارے نزدیک معتبر نہیں ہے، ولا الطھر الذی یلیہ اور نہ ہی وہ طہر جو اس کے ساتھ ملا ہوا ہے، فینبغی ان یحتسب فیہ ثلاث حیض اخر پس مناسب یہ ہے کہ شمار کیا جائے اس کے اندر تین اور حیضوں کو، تین اور حیضوں کو شمار کرنا پڑے گا، یہ والا تو ہمارے نزدیک معتبر ہی نہیں ہے، فتطول العدۃ علیھا تو لمبی ہو جائے گی عدت اس عورت پر بلا تقریب، بغیر تقریب، بلا بغیر کسی مناسبت کے۔
بلا تقریب کا معنی ہے بغیر مناسبت کے، مراد ہے بلا وجہ کے، یعنی بلا وجہ فتطول العدۃ علیھا بلا تقریب تو لمبی ہو جائے گی عدت اس عورت پر بغیر وجہ کے، بلا وجہ ہی اس پر عدت کیا ہو جائے گی؟ لمبی ہو جائے گی جب آپ اس کو حیض کے اندر طلاق دیں گے کیونکہ یہ حیض ہم شمار نہیں کرتے، اگلے تین حیض شمار کرنے پڑیں گے تو بلا وجہ ہی اس پر کیا ہو گئی عدت؟ لمبی ہو گئی بھئی۔
ثم لکل واحد من ومن الشافعی رحمہ اللہ تعالی فی ھذا المقام قرائن پھر ہر ایک کے لیے ہم میں سے اور امام شافعی رحمہ اللہ میں سے ہر ایک کے لیے فی ھذا المقام قرائن اس مقام پر اور بھی ایسے قرائن ہیں، تستنبط من نفس الآیۃ جن کا استنباط کس سے کیا جاتا ہے؟ نفسِ آیت ہی سے استنباط کیا جاتا ہے، بوجوہ متعددۃ مختلف وجوہ سے بھئی۔
مختلف طریقوں سے، قد ذکرتھا فی التفسیرات الاحمدیۃ بالبسط والتفصیل تحقیق میں نے ان کو ذکر کیا ہے تفسیراتِ احمدیہ میں بسط اور تفصیل، بسط و تفصیل کا ایک معنی ہے، بسط کا معنی بھی تفصیل بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ یا بسط کا معنی پھر وضاحت کے کر لیں بھئی، وضاحت بھی اس کا معنی آتا ہے، میں نے ان کو اس ان قرائن کو ذکر کیا ہے تفسیراتِ احمدیہ میں وضاحت اور تفصیل کے ساتھ، فاطلعھا ان شئت تو ان کا مطالعہ کر لیجیے اگر آپ چاہتے ہیں۔
قرائن یاد رکھو جمع ہے قرینہ کی، اور قرینہ کس کو کہتے ہیں؟ القرینۃ ھو امر یشیر الی المطلوب، القرینۃ ھو امر یشیر الی المطلوب قرینہ وہ امر ہے جو مطلوب اور مقصود کی طرف اشارہ کر رہا ہو، تو کوئی بھی چیز جو مطلوب کی طرف اور مقصود کی طرف اشارہ کر رہی ہو اسے کیا کہا جاتا ہے؟ قرینہ۔
تو شارح یہاں سے بتلا رہے ہیں کہ بھئی یہ تو ہم نے بحث کر لی بھئی، جو اصل ضابطہ ذکر کیا تھا اس کے مطابق مختصر ہم نے یہاں بحث کر لی، تو اس پر اور بھی دلیلیں ہیں بھئی، امام شافعی رحمہ اللہ کی بھی اور دلائل ہیں، ہمارے بھی اور دلائل ہیں جو اسی آیت سے ہم ان کا استنباط کرتے ہیں بھئی، اسی آیت سے ان کا استنباط کیا گیا ہے اور وہ میں نے تفصیل کے ساتھ اپنی تفسیرِ احمدی کے اندر ذکر کر دیا ہے بھئی ان کو، سمجھ میں آیا بھئی؟
خلاصہ سن لو بھئی، بھئی خاص کے لیے جو خاص کا حکم بیان کیا تھا، اس کے اب پہلے حکم پر یہ تفریع ذکر کر رہے ہیں، پہلی تین تفریعات جو تھیں وہ دوسرے ضابطے، دوسرے حکم پر تھیں اور یہ تفریع کس پر ہے؟ پہلے حکم پر ہے کہ خاص شامل ہوتا ہے مخصوص کو قطعی طور پر، قطعی طور پر۔
چنانچہ بھئی، اللہ تعالیٰ قرآن میں کیا فرماتے ہیں: "والمطلقات یتربصن بانفسھن ثلاثۃ قروء" کہ وہ عورتیں جن کو طلاق دی گئی ہے وہ روکے رکھیں اپنے نفسوں کو تین قروء تک بھئی۔ اب قروء ایسا لفظ ہے جس کا معنی حیض کے بھی آتے ہیں اور طہر کے بھی آتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے اس میں تاویل کرتے ہیں اور اس سے کیا مراد لے لیتے ہیں؟ طہر مراد لے لیتے ہیں بھئی، طہر مراد لیتے ہیں، اور دلیل ان کی کیا ہے؟ کہ دوسری، قرآن میں اللہ فرما رہے ہیں: "فطلقوھن لعدتھن" کہ ان عورتوں کو طلاق دو ان کی عدت کے وقت میں، وہ فرماتے ہیں یہ لام وقت کے معنی میں ہے، عدت کے وقت میں ان کو طلاق دو، اور طلاق تو مشروع ہے کہ کب دینی چاہیے؟ طہر میں، اور وہی ہے عدت کا بھی وقت، کہ طلاق دو ان کو عدت کے وقت میں، معلوم ہوا طلاق اور عدت کا ایک ہی وقت ہے، تو طلاق کا وقت تو طہر ہے، تو معلوم ہوا عدت میں بھی کیا ہے؟ طہر ہی مراد ہے، جی۔
اور پھر ہم جواب دیتے ہیں بھئی، کہ خاص کیا ہوتا ہے؟ اپنے مدلول کو قطعی طور پر شامل ہوتا ہے، اور یہاں لفظِ ثلاثہ آیا اور ثلاثہ خاص ہے، اور ثلاثہ ایک معلوم عدد کا نام ہے جو دو سے زائد ہے اور چار سے کم ہے، تو اگر آپ طہر مراد لے لیں تو اس ثلاثہ پر عمل نہیں ہوتا حالانکہ ثلاثہ کیا ہے؟ اپنے مدلول کو قطعی طور پر ثابت کر رہا ہے، اور دو تین طہر وہاں پورے نہیں ہو سکتے، اب یہاں حیض مراد لے لو تو حیض تین پورے ہو جاتے ہیں، لہٰذا اس سے کیا مراد لیں گے ہم؟ ہم اس سے حیض مراد لیتے ہیں بھئی۔
پھر اس کے بعد ایک اعتراض ذکر، بعض احناف نے اور جواب دیا تھا کہ بھئی قروء سے استدلال کر لیتے ہیں بھئی، ثلاثہ کی طرف جانے کی ضرورت ہی نہیں، قروء سے بھی استدلال ممکن ہے۔ شارح نے کہا نہیں بھئی، قروء جمع ہے لیکن جمع کا اطلاق کبھی کبھار تین سے کم پر بھی ہو جاتا ہے، لیکن ثلاثہ کا اطلاق تین سے کم پر نہیں ہوتا اور نہ زائد پر ہوتا ہے بھئی۔
باقی جو آپ نے کہا "فطلقوھن لعدتھن" یہ لام وقت کے لیے ہے، ہم کہتے ہیں نہیں یہ لام وقت کے لیے نہیں ہے بلکہ لام اجلیہ ہے، جو سبب اور وجہ ذکر کرنے کے لیے ہے، ان کو طلاق دو ان کی عدت کے لیے، یعنی اس طریقے پر کہ عدت کو شمار کرنا ممکن ہو، اور وہ کس طرح ہے؟ کہ ایسے طہر میں طلاق دی جائے جس کے اندر صحبت نہ کی ہو، ایسا طہر نہیں ہونا چاہیے جس میں صحبت کی ہو، ایسے طہر میں طلاق نہ دو اور نیز حیض میں بھی نہ دو۔ چلیے بس مولانا، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔