Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-009

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 14
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔9‏ المنقول عنه نقلاً متواتراً بلا شبهة. صفة ثالثة للقرآن، أي المنقول عن الرسول عليه السلام نقلاً متواتراً بلا شبهة في نقله. ‏واعترز بقوله: «متواتراً» عما نقل بطريق الآحاد كقراءة أبيّ رضي الله تعالى عنه في قضاء رمضان: «فعدة من أيام أخر ‏متتابعات‎».‎ أحمد بن مصطفى رحمة الله عليه، كتاب الله كى تعريف فرما رہے ہیں بھئی، آج قرآن كى تيسرى صفت بيان كى بھئی۔ پہلى ‏صفت كيا بيان كى تھے؟ «المنزل على الرسول عليه السلام»، دوسری صفت ذكر كى تھے «المكتوب في المصاحف»، ‏تيسرى تيسرى صفت ذكر كر رہے ہیں «المنقول عنه نقلاً متواتراً بلا شبهة»، جو منقول ہو حضور عليه السلام سے، ايسى ‏نقل جو متواتر ہے بغير كسى شبہ كے۔ تو کہتے ہیں: صفة ثالثة للقرآن. جي‏‎.‎ بھئی، یہ جو شرح آ رہی ہے، اس میں دو باتیں بيان كريں گے بھئی۔ دو بحثیں۔ پہلى بحث جو ہے، «متواتراً» اور «بلا ‏شبهة» كى جو قيودات ذكر كيں مصنف نے، ان کے بارے میں كريں گے، اور دوسرى بحث جو ہے، بعض شارحين نے ‏‏«بلا شبهة» كى ايک تقرير كى تھی، اس تقرير كو بيان كريں گے اور اس پر بحث كريں گے بھئی۔ پہلى بحث میں كيا ہوگا؟ متواتر اور بلا شبہ كى قيد كے بارے میں بتلائيں گے۔ اور آخر میں دوسرى بحث جو ہے، اس میں ‏بعض شارحين نے بلا شبہ كى تقرير كى تھی، وہ بيان كريں گے اور اس پر بحث كريں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: صفة ثالثة للقرآن. یہ تيسرى صفت ہے قرآن کی۔ «أي المنقول عن الرسول عليه السلام». «عنه» اس ضمير کا ‏مرجع بتلا ديا یہاں پر بھئی۔ پہلے ذرا عبارت كى وضاحت كر دى، پھر بحث شروع كريں گے۔ يعنى وہ جو منقول ہو «عنه ‏أي عن الرسول عليه السلام»، حضور عليه السلام سے منقول ہو، «نقلاً متواتراً» بھئی، كس طريقے پر منقول ہو؟ متواتر ‏طريقے پر، «بلا شبهة في نقله»، اور بغير كسى شبہ كے ہو فی نقله، اس کے نقل کرنے میں، يعنى اس کے نقل کرنے میں ‏كسى قسم کا كوئی شبہ نہ ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: واعترض بقوله متواتراً عما نقل بطريق الآحاد. کہتے ہیں: ماتن نے احتراز فرمایا اپنے اس قول اپنے اس ‏متواتراً کا لفظ ذكر كيا، قول ذكر كيا، اس کے ذریعے احتراز فرمایا عما اس سے جو «نقل بطريق الآحاد»، جس كو كس ‏طريقے پر نقل كيا گيا ہے؟ آحاد كے طريقے پر بھئی۔ بھئی، میں نے آپ كو بتلايا تھا متواتر كسے کہتے ہیں؟ کہ جس کے نقل کرنے والے ہر زمانے میں اتنے كثير راوى ہوں ‏کہ عقل ان کے اجتماع على الكذب كو كيا سمجھے؟ محال سمجھے کہ اتنے لوگ اس بات كو نقل كر رہے ہیں، معلوم ہوا یہ ‏بات قطعى ہے، يقينى ہے، اس میں كسى قسم کا شبہ نہيں ہے بھئی، اتنے لوگ جھوٹ پر جمع نہيں ہو سکتے، یہ يقيناً سچى ‏بات ہے۔ پھر بتلايا تھا ايک مشہور بھئی، مشہور وہ ہے کہ جس كے نقل کرنے والے اتنے زيادہ تو نہ ہوں، ليكن كسى زمانے كے ‏اندر بھی تين سے كم نہ ہوں بھئی، تو اس کا درجہ متواتر سے كم ہوتا ہے۔ اور پھر بتلايا تھا آحاد كے بارے میں بھئی، يا ‏خبر واحد، خبر واحد كسے کہتے ہیں؟ کہ جس کے نقل کرنے والے كسى زمانے میں تين سے كم ہوں، چاہىے ہر زمانے ‏میں ہی تين سے كم ہوں، چاہىے كسى ايک زمانے میں تين سے كم ہو جائيں، ہر صورت میں یہ كيا کہلاتی ہے؟ خبر واحد ‏کہلاتی ہے بھئی۔ اچھا، تو ماتن نے جب قيد لگا دى «متواتراً»، تو اس کے ذریعے وہ جو منقول ہے بطريق آحاد كے، وہ بھی خارج، اور وہ ‏جو منقول ہے بطريق شہرت كے، وہ بھی كيا ہوا؟ خارج۔ كيونکہ متواتر اور ہے، مشہور اور ہے، خبر آحاد اور ہے، اور ‏جب متواتر کہا، تو كيا كيا نکل گئے؟ آحاد اور مشہور، خبر آحاد اور مشہور نکل گئے۔ تو يہی بات بيان كر رہے ہیں بھئی، کہتے ہیں: واعترض بقوله متواتراً، اپنے اس قول كے ذریعے، یہ جو متواتراً کا قول ‏ہے، اس کے ذریعے مصنف نے احتراز كيا، عما نقل بطريق الآحاد، اس سے جس كو نقل كيا گيا ہے آحاد كے طريقے پر، ‏كقراءة أبيّ رضي الله تعالى عنه في قضاء رمضان، جيسے ابى ابن كعب رضي الله تعالى عنه كى قراءت ہے قضاء رمضان ‏كے بارے میں، تو ان كى قراءت میں كيا آیا ہے؟ «فعدة من أيام أخر متتابعات‎».‎ تو یہ جو «متتابعات» کا لفظ ہے بھئی، یہ وہ صرف حضرت ابى ابن كعب كے مصحف میں ہے اور قرائے سبعہ كے ‏مصاحف میں نہيں ہے بھئی، اور یہ منقول ہے كس طريقے پر؟ خبر آحاد كے طريقے پر منقول ہے، تو جب متواتر کہا، تو ‏یہ كيا ہو گيا؟ خارج ہو گيا۔ وعما نقل بطريق الشهرة، اور اسی طرح یہ احتراز ہے اس سے جو نقل كيا گيا ہے كس طريقے پر؟ شہرت كے طريقے پر، ‏كقراءة ابن مسعود رضي الله تعالى عنه في حد السرقة، جيسے كہ حضرت ابن مسعود رضي الله تعالى عنه كى قراءت ہے حد ‏سرقہ كے بارے میں، ان كے مصحف میں ہے بھئی: «فاقطعوا أيمانهما‎».‎ ‎«‎السارق والسارقة فاقطعوا أيمانهما»، چورى کرنے والا مرد اور چورى کرنے والى عورت، فاقطعوا تو كاٹ دو ان کے ‏أيمانهما، ان کے دائيں ہاتھ بھئی، دائيں ہاتھ كاٹ دو۔ جبکہ قرائے سبعہ كے مصاحف میں كيا لفظ موجود ہے؟ ہم كيا پڑھتے ‏ہیں؟ «أيديهما»، ان کے ہاتھ كاٹ دو، ليكن حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضي الله تعالى عنه كے مصحف میں كيا ہے؟ ان ‏کے دائيں ہاتھ كاٹ دو، تو یہ جو أيدى كى جگہ أيمان کا لفظ آیا ، یہ صرف كس میں ہے؟ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضي ‏الله تعالى عنه كے مصحف میں، اور وہ مصحف كس طريقے پر منقول ہے؟ شہرت كے طريقے پر منقول ہے، تواتر كے ‏طريقے پر منقول نہيں، تو جب متواتر كى قيد لگا دى، تو یہ جو شہرت كے طريقے پر منقول تھا، یہ بھی كيا ہوا؟ خارج ہو ‏گيا قرآن كى تعريف سے۔ اسی طرح انہى كے مصحف میں آیا ہے وفي كفارة اليمين، كفارہ يمين كے بارے میں آیا ے: «فصيام ثلاثة أيام ‏متتابعات»، پس روزے ركھنا ہے تين دن كے پے در پے۔ یہ جو پے در پے کا لفظ‎«‎‏ آیا متتابعات»، یہ قرائے سبعہ كے ‏مصاحف میں موجود نہيں ہے بھئی، تو یہ بھی شہرت كے طريقے پر، كيونکہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضي الله تعالى ‏عنه كے مصحف میں ہے، اور وہ شہرت كے طريقے پر منقول ہے، تو یہ بھی كيا ہوا متواتراً كى قيد كے ذریعے؟ خارج ‏ہوا۔ تو متواتراً كى قيد کا فائدہ بتلا ديا کہ اس كے ذریعے وہ بھی قراءت نکل گئی، قرآن سے وہ چيز بھی خارج ہو گئی جو كس ‏طريقے پر منقول ہو؟ آحاد كے طريقے پر، اور وہ بھی نکل گئی جو كس طريقے پر منقول ہو؟ شہرت كے طريقے پر۔ اب آگے «بلا شبهة» كے بارے میں بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں: وقيل قوله بلا شبهة تأكيد على مذهب الجمهور. کہتے ہیں: ‏‏«بلا شبهة» كى قيد صرف تاكيد كے طور پر ہوئی جمهور كے مذہب پر بھئی۔ اس لیے ادھر سمجھو بھئی، کہ متواتر، بھئی ‏متواتر میں نے بتلايا کہ عقل يعنى اس کے نقل کرنے والے ہر زمانے میں اتنے كثير لوگ ہوں کہ عقل ان کے جھوٹ پر ‏جمع ہونے كو محال سمجھے، کہ اتنے لوگ جھوٹ پر جمع نہيں ہو سکتے، يقيناً یہ بات سچى ہے، قطعى ہے، يقينى ہے۔ تو ‏اس متواتر كے اندر كسى قسم کا شبہ نہيں ہوتا، كسى قسم کا شبہ نہيں ہوتا، تو جب متواتر کہہ ديا، تو پتہ لگ گيا تھا کہ یہ ‏كس قسم كى ہے، متواتر میں تو شبہ ہوتا ہی نہيں، تو آگے «بلا شبهة» اسی كے لیے كيا بن گئی؟ تاكيد، اس کے ذریعے ‏كسى چيز سے احتراز نہيں بھئی۔ بھئی بلا شبہ بغير شبہ كے ہو، متواتر سے اس بات کا كيا ہوا تھا؟ پتہ تو چل گيا تھا، جو چيز متواتر ہے، وہ يقيناً كيا ہے؟ ‏بلا شبہ، تو دوبارہ «بلا شبهة» لائے، تو اسی كى كيا كر دى؟ تاكيد ہو گئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: وقوله بلا شبهة تأكيد على مذهب الجمهور، یہ تاكيد ہے جمهور كے مذہب پر، لأن كل ما يكون متواتراً يكون بلا ‏شبهة، اس لیے کہ ہر وہ چيز جو متواتر ہو، وہ بغير شبہ كے ہوتی ہے، وہ بغير شبہ كے ہوگی۔ وعند الخصاف احتراز عن المشهور، جبکہ امام خصاف كے نزديك «بلا شبهة» كے ذریعے مشہور سے احتراز ہوا۔ امام ‏خصاف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خبر مشہور بھی متواتر كى ايک قسم ہے۔ خبر مشہور بھی كس كى قسم ہے؟ بھئی جمهور ‏نے تو مشہور كو متواتر كى قسيم بنايا تھا، ليكن امام خصاف كيا فرماتے ہیں؟ مشہور كس كى قسم ہے؟ متواتر كى، تو وہ ‏متواتر میں داخل ہے۔ تو لہٰذا مشہور ابھی بھی باقى تھی، ليكن جی، تو «بلا شبهة» کہہ كر اس كو كيا كر ديا؟ نکال ديا، ‏كيونکہ کہتے ہیں: مشہور متواتر كى قسم ہے، ليكن اس میں كچھ شبہ آ جاتا ہے، اس میں كچھ شبہ ہوتا ہے۔ سمجھ میں آیا ؟ تو جب متواتر کہا، تو اس میں كيا ہوئی؟ خبر مشہور بھی ان کے نزديك داخل تھی ابھی بھی، ليكن جب «بلا ‏شبهة» کہا، تو خبر مشہور كيا ہو گئی؟ خارج، کیوں خارج ہوئی؟ كيونکہ اس میں كيا ہوتا ہے؟ شبہ ہوتا ہے، تو وہ بھی ‏متواتر، تو پہلے داخل تھی، ليكن جب «بلا شبهة» کہا، تو بھئی اس میں تو شبہ ہوتا ہے، اور یہ کہہ رہے ہیں بغير شبہ كے ‏ہو، تو لہٰذا وہ كيا ہوا؟ خارج ہو گيا۔ تو کہتے ہیں: وعند الخصاف، اور امام خصاف رحمہ اللہ كے نزديك، هو احتراز عن المشهور، یہ «بلا شبهة» جو ہے، یہ ‏احتراز ہے مشہور سے، لأن المشهور عنده قسم من المتواتر لكن مع شبهة، اس لیے کہ مشہور ان کے نزديك متواتر كى قسم ‏ہے، ليكن شبہے كے ساتھ، يعنى اس میں كيا ہوتا ہے؟ شبہ ہوتا ہے۔ وهذا كله على تقدير أن يكون اللام في المصاحف للجنس. کہتے ہیں: یہ جو ہم نے تقرير كى اوپر بھئی، کہ متواتر كے ذریعے ‏كس سے احتراز كيا؟ وہ جو منقول ہے آحاد كے طريقے پر، اور وہ جو منقول ہے شہرت كے طريقے پر، اور پھر بتلايا ‏تھا «بلا شبهة» جمهور كے نزديك تاكيد ہے، اور امام خصاف رحمہ اللہ كے نزديك اس كے ذریعے احتراز ہے كس سے؟ ‏خبر مشہور سے، یہ جتنى تقرير ہم نے كى، یہ اس وقت ہے جبکہ «المصاحف» كے اندر الف لام جنسى مراد لیں، جيسے ‏كہ پچھلے سبق میں آیا تھا کہ «المصاحف» میں الف لام جنسى بھی ہو سکتا ہے اور الف لام عہدى بھی ہو سکتا ہے، پھر ‏وہاں یہ بات ذكر ہوئی تھی کہ الف لام جنسى ہوا، پھر تو اس کے اندر اور مصاحف بھی كيا ہو گئے؟ شامل، داخل ہو گئے ‏بھئی، كيونکہ جنسِ مصاحف سارے مراد ہوئے، تو شارح نے بتلايا تھا كوئی بات نہيں بھئی، اگر اور چيزیں اور مصاحف ‏بھی داخل ہو گئے تو كوئی حرج نہيں، كيونکہ آگے قيودات آ رہی ہیں، ان قيودات كے ذریعے باقى مصاحف كيا ہو جائيں ‏گے؟ خارج ہو جائيں گے۔ تو کہتے ہیں: وہ تقرير لیں «المصاحف» میں الف لام جنسى لیں، باقى چيزیں داخل تھیں، تو اب ‏ان كو «المنقول عنه نقلاً متواتراً بلا شبهة» كے ذریعے كيا كر ديا؟ نکال ديا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ باقى آگے بتلائيں گے کہ اگر «المصاحف» كے اندر الف لام عہدى لیں، جيسے دوسرى تقرير كى تھی کہ الف لام كونسا ہو ‏سکتا ہے؟ عہدى، جب عہدى ہے، تو پھر اس صورت كے اندر بھئی اس سے معہود كيا تھا؟ كونسے مصاحف مراد تھے ‏پھر؟ قرائے سبعہ كے مصاحف مراد تھے، اور قرائے سبعہ كے مصاحف تو منقول ہیں متواتر طريقے پر، بغير كسى شبہ ‏كے۔ وہ تو منقول ہیں؟ تو جب قرائے سبعہ كے مصاحف مراد ہوئے، تو باقى مصاحف كيا ہو گئے؟ وہ «المصاحف» كے ‏لفظ سے ہی خارج ہو گئے، صرف كونسے رہ گئے؟ قرائے سبعہ كے، اور وہ تو منقول ہیں كس طريقے پر؟ تواتر اور ‏بغير شبہ كے ساتھ، تو پھر ان قيودات کا كيا فائدہ؟ تو کہتے ہیں بھئی اس صورت میں پھر یہ قيدِ احترازى نہ رہے گی، اس ‏کے ذریعے كسى چيز سے احتراز نہيں، كيونکہ جن چيزوں سے احتراز ہونا تھا، وہ تو پہلے ہی احتراز ہو چکا ہے ‏‏«المصاحف» كے الف لام كى وجہ سے، وہ كيا ہو گئیں؟ وہ چيزیں خارج ہو چکی تھیں، پھر بھئی اس كو کیوں ذكر كيا؟ ‏تو بتلائيں گے بھئی یہ صرف كيا كر رہے ہیں؟ واقعہ بيان كر رہے ہیں۔ واقعہ كيا ہے؟ کہ وہ جو مصاحف ہیں، كس ‏طريقے پر منقول ہیں؟ تواتر كے طريقے پر، اور بغير شبہ كے۔ صرف اس واقعہ كو بيان كر ديا۔ تو کہتے ہیں: وهذا كله على تقدير أن يكون اللام في المصاحف للجنس، یہ سارا اس تقدير پر ہے کہ الف لام جو «المصاحف» ‏میں آیا ، وہ جنس كے لیے ہو، وأما إذا كان للعهد، اور اگر وہ الف لام كس كے لیے ہو؟ عہد كے لیے ہو، فتخرج القراءات ‏غير المتواترة كلها، تو نکل جائيں گی وہ قراءتیں جو غير متواترہ ہیں، سارى كى سارى، بقوله في المصاحف، «في ‏المصاحف» كے ذریعے نکل جائيں گی، فيكون قوله المنقول عنه إلى آخره بياناً للواقع، اور ماتن کا قول «المنقول عنه» سے ‏لے كر آخر تک جو ہے، وہ صرف كيا ہوگا؟ واقعہ کا بيان ہوگا، چيزیں تو وہ پہلے ہی نکل گئی تھیں، ليكن پھر آگے واقعہ ‏کا بيان كر ديا کہ کس قسم كيا ہیں؟ وہ مصاحف منقول ہیں؟ وہ تو منقول ہیں متواتر اور بلا شبہ بھئی، تو معلوم ہوا وہ قرآن ‏كى تعريف میں، قرآن كے بارے میں بتلايا، وہ قرآن كيا ہے؟ منقول ہے تواتر كے طريقے پر اور بغير شبہ كے، اور اس ‏میں صرف داخل كونسے؟ قرائے سبعہ، اور وہ بھی كس طريقے پر ہیں؟ تواتر اور بلا، تو صرف ان کا بيان كر ديا۔ بات ‏سمجھ میں آئی سب كو بھئی؟ وقيل قوله بلا شبهة. یہ ہے بحثِ ثانى بھئی، پہلى بحث بھئی متواتر اور بلا شبہ كے بارے میں تھی، وہ گزر گئی، اب ‏دوسرى بحث ذكر كر رہے ہیں، میں نے بتلايا تھا بعض شارحين نے بلا شبہ كى تقرير كى، شارح ان كى اس تقرير كو ذكر ‏كريں گے اور پھر اس پر بحث فرمائيں گے۔ جی ديكيھے بھئی، آسان باتیں ہیں: وقيل، اور کہا گيا ہے: قوله بلا شبهة احتراز عن التسمية، کہ ماتن کا یہ جو قول ہے «بلا ‏شبهة»، یہ احتراز ہے تسميہ سے، يعنى بسم الله سے احتراز ہے، اس قيد كے ذریعے بسم الله كو قرآن سے خارج كر ديا، وہ ‏قرآن میں داخل نہيں بھئی۔ یہ كوئی اور شارح كيا كر رہے ہیں «بلا شبهة» كى قيد کا فائدہ بتلا رہے ہیں، کہ «بلا شبهة» كى قيد کیوں لگائی ماتن ‏نے؟ کہ اس كے ذریعے كس كو نكالا؟ بسم الله كو قرآن ہونے سے خارج كر ديا، بسم الله قرآن میں داخل نہيں۔ کیوں نہيں ‏داخل بھئی؟ ديكيھے بھئی، کہتے ہیں اس لیے کہ كئى دليلیں ہیں: لأن فيها شبهةً، اس لیے کہ بسم الله كے اندر كيا ہے؟ شبہ، ‏يعنى اس کا قرآن میں سے ہونے كے اندر شبہ ہے، ولذا لم يكفر جاحدها، اسی لیے كافر نہيں قرار ديا جاتا اس کے انكار ‏کرنے والے كو۔ كفّر يكفّر تكفير کا معنى ہے كسى كى طرف کفر كى نسبت کرنا، كسى كو كافر قرار دينا، اور کہتے ہیں اسی وجہ سے اس ‏کے بسم الله كے انكار کرنے والے كو كافر قرار نہيں ديا جاتا، يعنى بسم الله کا قرآن کا جز ہونے سے جو انكار کرتا ہے، ‏اس كو كافر قرار نہيں، یہ دليل ہے اس بات كى کہ بسم الله كيا ہے؟ قرآن میں داخل نہيں، اگر قرآن میں داخل ہوتی تو اس ‏صورت میں آيت ہوتی، تو پھر تو اس کے انكار کرنے والے كو كيا قرار دينا چاہيے تھا؟ كافر قرار دينا چاہيے تھا، ليكن ‏اس کے انكار کرنے والے كو كافر نہيں قرار ديا جاتا، معلوم ہوا بسم الله قرآن میں داخل نہيں، بلكم خارج ہے، اور اسی لیے ‏‏«بلا شبهة» كے ذریعے اس كو كيا كر ديا؟ نکال ديا۔ دوسری دلیل: وَلَمْ يَجُزِ الْإِكْتِفَاءُ بِهَا فِي الصَّلَاةِ، نیز صرف بسم اللہ پر اکتفاء کرنا نماز میں یہ جائز نہیں ہے۔ بھئی، آپ جانتے ہیں نماز میں قرات فرض ہے بھئی۔ قرات کیا ہے؟ فرض ہے، اور بسم اللہ بھی قرآن میں سے ہے، تو پھر بسم اللہ پر اکتفاء جائز ہونا چاہیے، لیکن صرف بسم ‏اللہ پڑھ لے تو وہ فرض ادا نہیں ہوتا۔ معلوم ہوا صرف بسم اللہ پر اکتفاء کرنا جائز نہیں، معلوم ہوا یہ قرآن سے خارج ہے۔ ‏اگر قرآن میں داخل ہوتی تو اس پر اکتفاء کرنا جائز ہونا چاہیے تھا، سمجھ میں آیا؟ کیونکہ اللہ قرآن میں کیا فرماتے ہیں: ‏فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ بھئی، جو قرآن میں سے میسر ہو آسانی سے پڑھ سکو، وہ پڑھ لو۔ تو یہ بسم اللہ بھی جو پڑھ لے ‏تو بھئی اگر یہ قرآن میں سے ہوتی تو اس کے ذریعے کیا ہونا چاہیے تھا؟ فرض بھئی، ہمارے نزدیک ایک آیت لمبی پڑھ ‏لے تو فرض ادا ہو جاتا ہے یا نہیں ہوتا؟ فرض ادا ہو جاتا ہے، لیکن بسم اللہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ بھئی اس کے ‏لیے صرف اسی پر اکتفاء کرنا، صرف اس کو پڑھ لے تو فرض ادا نہیں ہوگا۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ بسم اللہ قرآن میں ‏داخل نہیں، جب داخل نہیں ہے تو بلا شبہ کے ذریعے اس کو کیا کر دیا؟ خارج کر دیا۔ یہ دو دلیلیں ہو گئیں، تیسری دلیل: وَلَمْ تَحْرُمُ تِلَاوَتُهَا لِلْجُنُبِ وَالْحَائِضِ وَالنُّفَسَاءِ، اور حرام نہیں ہے بسم اللہ کی تلاوت جنبی ‏کے لیے اور حائضہ کے لیے اور نفاس والی کے لیے۔ حالانکہ قرآن کی تلاوت جو ہے جنبی، حائضہ اور نفاس والی کے لیے کیا ہے؟ حرام ہوتی ہے، لیکن بسم اللہ کی تلاوت ‏اس ان کے لیے حرام نہیں، معلوم ہوا یہ قرآن میں داخل نہیں۔ تو سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ کیا ہے؟ معلوم ہوا بسم اللہ قرآن میں داخل نہیں بھئی، کیونکہ اگر داخل ہوتی تو پھر تو اس کی تلاوت جنبی، حائضہ اور نفاس والی ‏کے لیے کیا ہونی چاہیے؟ حرام ہونی چاہیے، لیکن اس کی تلاوت ان کے لیے حرام نہیں، معلوم ہوا بسم اللہ قرآن میں داخل ‏نہیں، جب داخل نہیں تو بلا شبہ کے ذریعے اس کو کیا کر دیا؟ خارج کر دیا۔ سمجھ میں آیا؟ تو تین دلیلیں ذکر تھیں، بتلایا تھا کہ بلا شبہ کے ذریعے بسم اللہ سے احتراز ہے اور بسم اللہ کو قرآن سے ‏نکال دیا کیونکہ بسم اللہ قرآن میں داخل نہیں اور پھر تین دلیلیں ذکر کیں۔ پہلی دلیل یہ ذکر کی کہ اس کے انکار کرنے والے کو کافر نہیں قرار دیتے، معلوم ہوا کہ یہ قرآن کی آیت نہیں۔ اگر قرآن ‏کی آیت ہوتی تو انکار کرنے والے کو کیا قرار دینا چاہیے تھا؟ کافر۔ دوسری دلیل یہ ذکر کی کہ اس نماز میں کوئی بھی ‏آیت پڑھی جائے فرض ادا ہو جاتا ہے، لیکن صرف بسم اللہ پر اکتفاء کرنا جائز نہیں، معلوم ہوا یہ قرآن میں داخل نہیں، ‏ورنہ اس پر اکتفاء جائز ہونا چاہیے تھا۔ نیز بھئی، آیت کی تلاوت تو جنبی، حائضہ وغیرہ کے لیے کیا ہوتی ہے؟ حرام ‏ہوتی ہے، لیکن بسم اللہ کی تلاوت ان کے لیے حرام نہیں، معلوم ہوا یہ قرآن میں داخل نہیں، ورنہ اس کی تلاوت بھی ان ‏کے لیے کیا ہونی چاہیے تھی؟ حرام، تو معلوم ہوا بسم اللہ قرآن میں داخل نہیں، تو اس کو بلا شبہ کے ذریعے کیا کر دیا؟ ‏خارج کر دیا بھئی۔ اچھا، تو آگے شارح فرماتے ہیں: وَالْأَصَحُّ أَنَّهَا مِنَ الْقُرْآنِ، زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کس میں سے ہے؟ قرآن میں سے ‏ہے بھئی، قرآن میں سے ہے بھئی۔ لہذا بلا شبہ کے ذریعے اس کو خارج بھی نہیں کہا جائے گا بھئی، قرآن میں سے ہے ‏بھئی۔ اور باقی آپ نے جو دلیلیں ذکر کیں ان کے اب جوابات ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: آپ نے کیا کہا تھا اس کے انکار ‏کرنے والے کو کافر نہیں قرار دیا جاتا، کہتے ہیں: وَإِنَّمَا لَمْ يُكَفَّرْ جَاحِدُهَا، اور اس کے انکار کرنے والے کو کافر قرار ‏نہیں دیا جاتا لِوُجُودِ الشُّبْهَةِ، شبہ کے پائے جانے کی وجہ سے۔ کس کی وجہ سے؟ شبہ کے پائے جانے کی وجہ سے، وجہ ‏یہ مولانا کہ امام مالک رحمہ اللہ انکار کرتے ہیں بسم اللہ کے قرآن میں داخل ہونے سے، وہ فرماتے ہیں بسم اللہ قرآن میں ‏داخل نہیں۔ تو ایک فقیہ، بڑے فقیہ کا قول جب آ گیا کہ بسم اللہ قرآن میں داخل نہیں، تو باقی کہہ رہے ہیں قرآن میں داخل ‏ہے، لیکن ایک کے بھی انکار کر دینے کی ایک کر دینے کی وجہ سے شبہ آ گیا، کیا آ گیا؟ ادنیٰ شبہ، ادنیٰ شبہ تو ضرور ‏آ گیا، تو جب اور جب شبہ آ گیا، تو اس شبہ کی وجہ سے کسی کو اب کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ باقی آپ نے کہا تھا کہ نماز میں اس پر اکتفاء کرنا جائز نہیں ہے تو معلوم ہوا یہ قرآن سے خارج ہے؟ کہتے ہیں: نہیں ‏بھئی۔ قرآن میں تو داخل ہے، لیکن اس پر اکتفاء کرنا اس لیے درست نہیں ہے کہ بعض کے نزدیک یہ پوری آیت نہیں ہے ‏بھئی۔ بعض کے نزدیک یہ پوری اور قرآن کے وہ نماز میں تو کیا تھا کہ ایک ایک پوری آیت پڑھی جائے لمبی آیت بھئی، ‏تو لہذا جب یہ پوری آیت نہیں تو اس سے فرض بھی ادا نہیں ہوگا، اسی لیے کہا کہ صرف اس پر اکتفاء کرنا جائز نہیں۔ ‏فرض کی ادائیگی کے لیے تو کیا ضروری تھا کہ ایک پوری آیت پڑھی جائے بھئی۔ وَإِنَّمَا لَمْ يَجُزِ الْإِكْتِفَاءُ بِهَا فِي الصَّلَاةِ، ‏اور جائز نہیں ہے اس پر اکتفاء کرنا نماز کے اندر لِعَدَمِ كَوْنِهَا آيَةً تَامَّةً عِنْدَ الْبَعْضِ، بوجہ نہ ہونے اس کے پوری آیت بعض ‏کے نزدیک، کہ بعض کے نزدیک یہ پوری آیت نہیں ہے بھئی۔ جیسے بھئی آپ کے حاشیے میں انہوں نے ذکر کیا ہوا ہے ‏بھئی، کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھئی، وہ فرماتی ہیں ان سے روایت ہے کہ حضور علیہ السلام نے فاتحہ ‏پڑھی اور بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الحمد لله رب العالمين، اس سارے کو ایک آیت شمار کیا۔ حضور علیہ السلام نے فرماتی ‏ہیں میرے سامنے سورہ فاتحہ پڑھی اور بسم اللہ کے ساتھ الحمد للہ رب العالمین کو ملایا اور اس سارے کو کیا شمار کیا؟ ‏ایک آیت شمار کیا، معلوم ہوا الحمد للہ کو ملائیں ساتھ تو پوری آیت بنے گی، اس کے بغیر پوری آیت نہیں، تو بعض کے ‏نزدیک یہ پوری آیت نہیں بھئی۔ ہمارے نزدیک تو پوری آیت ہے، لیکن بعض کے نزدیک کیا ہے؟ پوری آیت نہیں، جب ‏بعضوں نے کہا کہ یہ پوری آیت نہیں، تو اس کے پوری آیت ہونے میں کیا آ گیا؟ شبہ آ گیا، اور قرات تو نماز میں فرض ‏ہے، اور وہ چیز جس میں شبہ آ جائے اس کے ذریعے فرض ادا نہیں ہو سکتا، اس لیے ہم نے کہا صرف اس پر اکتفاء ‏کرنا جائز نہیں۔ وَإِنَّمَا يَجُوزُ التَّلَاوَةُ، باقی آپ نے کہا بھئی جنبی، حائضہ اور نفاس والی کے لیے کے لیے کیا ہے؟ ان کی تلاوت جائز ہے، ‏تو کہتے ہیں بھئی ان کے لیے اس کی تلاوت برکت کی نیت سے ہو تو جائز ہے، تلاوت کی نیت سے ہو تو حرام ہے۔ کس ‏نیت سے ہو؟ برکت کی نیت سے، بھئی کوئی کام شروع کرنے لگی ہیں تو اس کے شروع میں برکت کے لیے کیا پڑھ لیں؟ ‏بسم اللہ، تو یہ بسم اللہ کس لیے ہے؟ کس نیت سے ہے؟ برکت کی نیت سے ہے، قرآن کی تلاوت کی نیت سے نہیں، اگر اس ‏نیت سے پڑھیں گی تو پھر کیا ہے؟ حرام ہے۔ کہتے ہیں: وَإِنَّمَا يَجُوزُ التَّلَاوَةُ لِلْجُنُبِ وَأُخْتَيْهِ، اور جائز ہے تلاوت جنبی کے ‏لیے اور اس کی جو دو بہنیں ہیں، یعنی کون؟ حائض اور نفاس والی جو ہیں، کیونکہ وہ وہ اختین سے جس اس کی بہنیں ‏یعنی جس کے جو مشابہ ہیں، مراد کیا ہیں؟ اس کے جو مشابہ ہیں، تو وہ بھی جنبی کی طرح ہیں بھئی، جنابت کی حالت ‏میں ہیں، اس کے مشابہ ہو گئیں۔ تو ان کے لیے جائز ہے تلاوت بِقَصْدِ التَّبَرُّكِ لَا بِقَصْدِ التَّلَاوَةِ، تبرک کے ارادے سے، ‏تبرک کے قصد سے لَا بِقَصْدِ التَّلَاوَةِ نہ کہ تلاوت کے قصد سے، تلاوت کے ارادے سے بھئی۔ یہاں تک بحث سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھا، تو یہ تو اس بسم اللہ کی بات ہو رہی ہے جو سورتوں کے شروع میں قرآن میں ہوتی ہے، اور باقی وہ بسم اللہ جو ‏سورہ نمل میں آتی ہے بھئی: اِنَّهٗ مِنْ سُلَيْمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ، وہ بسم اللہ تو بالاتفاق جزوِ آیت ہے۔ وہ کیا ہے؟ ‏جزوِ آیت ہے بھئی، اس میں سے، اس کی بات نہیں ہو رہی ہے جو درمیان میں ہے۔ تو ہمارے نزدیک یاد رکھو، بسم اللہ قرآن کا تو جزو ہے۔ یہ جو سورتوں کے شروع میں بسم اللہ لکھی ہوتی ہے، یہ قرآن ‏کا جزو ہے، کسی سورت کا جزو نہیں ہے بھئی۔ کسی سورت کا جزو نہیں۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن کا ہی ‏جزو نہیں ہے۔ اور جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ہر سورت کا جزو ہے بھئی۔ ہر سورت کا جزو ہے، اسی لیے ‏وہ بسم اللہ جہراً پڑھتے ہیں نمازوں کے اندر بھئی، جہراً پڑھتے ہیں بھئی۔ ہمارے نزدیک قرآن کا جزو ہے، قرآن کا، ہاں کسی سورت کا جزو نہیں۔ اسی لیے علماء لکھتے ہیں کہ جو رمضان میں ‏قرآن ختم کرتا ہے، اسے کسی نہ کسی سورت کے شروع میں ایک مرتبہ بسم اللہ اونچی آواز سے پڑھ لینی چاہیے تاکہ ‏قرآن پورا ہو جائے بھئی۔ قرآن کیا ہو جائے؟ پورا، یہ بسم اللہ بھی آیت ہے، یہ رہ نہ جائے بھئی، تو ایک دفعہ کسی ایک ‏میں اونچی پڑھ لے بھئی۔ وَهُوَ اسْمٌ لِلنَّظْمِ وَالْمَعْنَى جَمِيعًا، یہ متن آ گیا پھر بھئی۔ وَهُوَ اسْمٌ لِلنَّظْمِ وَالْمَعْنَى جَمِيعًا، نظم سے مراد لفظ ہیں، اور قرآن نام ہے ‏نظم اور معنی دونوں کا، یعنی لفظ اور معنی دونوں کا نام ہے بھئی، دونوں کا نام ہے۔ بھئی، آگے جو شرح کریں گے شارح بھئی، اس میں سب سے پہلے اس جو ماتن عبارت لے کر آئے، اس کے لانے کا ‏مقصد بیان فرمائیں گے۔ اس عبارت کے لانے کا مقصد کہ کیا مقصد ہے، جی۔ اس کے بعد بھئی اس کے بعد بحث کریں ‏گے اس بارے میں کہ ماتن نظم کا لفظ لائے، لفظ کیوں نہیں کہا انہوں نے، یہ نظم کو کیوں اس اختیار فرمایا بھئی، اور پھر ‏آخر میں ایک فائدہ ذکر کریں گے، تو تین باتیں آئیں گی بھئی۔ پہلی پہلی میں کیا ہوگا؟ اس عبارت کا مقصد بیان ہوگا، اور ‏پھر اس کے بعد بتلائیں گے دوسری بحث کہ نظم کا کہا، لفظ کیوں نہیں کہا متن کے اندر، اور پھر اس کے بعد ایک فائدہ ‏بتلائیں گے، تو تین باتیں ذکر ہوں گی۔ اب دیکھیے بھئی: تَمْهِيدٌ لِتَقْسِيمِهِ بَعْدَ بَيَانِ تَعْرِيفِهِ. یہ دفعِ اعتراض ہے بھئی۔ اعتراض یہ کہ بھئی قرآن کی تعریف پیچھے ‏مکمل ہو چکی، کتاب اللہ کی تعریف کیا ہو گئی؟ مکمل ہو گئی، اس کی حقیقت کا پورا پتہ چل گیا، تو اب ماتن کو یہ کہنے ‏کی کیا ضرورت تھی: وَهُوَ اسْمٌ لِلنَّظْمِ وَالْمَعْنَى جَمِيعًا؟‏ تو بتلا رہے ہیں بھئی کہ بھئی ٹھیک ہے قرآن کی حقیقت کا پورا پتہ چل گیا آپ کو، لیکن یہ جو عبارت لائے ہیں، یہ کوئی ‏وضاحت کے لیے نہیں لائے، بلکہ یہ آگے آنے والے متن کے لیے تمہید ہے بھئی۔ آگے آنے والے آگے کیا ہو رہی ہیں؟ ‏تقسیمات شروع ہو رہی ہیں مولانا، تقسیم شروع ہوگی کتاب اللہ کی: خاص، عام، مشترک، مؤول وغیرہ، وہ تقسیمات شروع ‏ہوں گی، ان تقسیمات کے لیے یہ تمہید ہے بھئی، کیا ہے؟ تمہید ہے۔ بھئی کس طرح تمہید ہے؟ پہلے یہ سمجھ لو بھئی۔ ‏دیکھو، آگے تقسیمات شروع ہوں گی قرآن کی، اور کتاب اللہ کی تقسیم شروع ہوگی، اور وہ تقسیم لفظ اور معنی دونوں کے ‏اعتبار سے ہیں بھئی۔ لفظ کے اعتبار سے بھی ہیں اور معنی کے اعتبار سے بھی ہیں۔ جی، اور بعض وجوہ ایسی تھیں جن ‏سے یہ وہم پڑتا تھا کہ کہ قرآن جو ہے صرف لفظ کا نام ہے، بعض وجوہ سے یہ وہم پڑتا تھا کہ قرآن صرف معنی کا نام ‏ہے۔ کس کا نام ہے؟ معنی کا نام ہے، تو مصنف نے اس تقسیم کے تقسیموں کے شروع کرنے سے پہلے ہی بتلا دیا کہ ‏بھئی یہ جو وہم ہیں یہ باطل ہیں، قرآن صرف لفظ کا نام بھی نہیں، قرآن صرف معنی کا نام بھی نہیں ہے، بلکہ قرآن کیا ‏ہے؟ لفظ اور معنی دونوں کا نام ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ تمہید ہے ان کے لیے بھئی۔ تو اس کے اندر اس بحث کے اندر کیا کر رہے ہیں؟ ایک تو بتلا دیا کہ یہ کیا ہے؟ تَمْهِيدٌ لِتَقْسِيمِهِ بَعْدَ بَيَانِ تَعْرِيفِهِ، یہ کتاب ‏اللہ کی تقسیم کے لیے تمہید ہے اس کی تعریف بیان کر دینے کے بعد، تعریف بیان کر دی گئی، اب تقسیم کے لیے کیا ہے؟ ‏تمہید ہے، یعنی أَنَّ الْقُرْآنَ اسْمٌ لِلنَّظْمِ وَالْمَعْنَى جَمِيعًا، یعنی قرآن نام ہے نظم اور معنی دونوں کا، اور پھر آگے ذکر کر رہے ‏ہیں وہ بعض وجوہ جن کی وجہ سے یہ شبہ پڑتا ہے کہ قرآن شاید صرف کس کا نام ہے؟ لفظ کا، پھر وہ وہم وہ وجوہ ذکر ‏کریں گے جن سے کیا شبہ کیا وہم پڑتا ہے؟ کہ قرآن شاید صرف کس کا نام ہے؟ معنی کا نام ہے۔ تو وہ وہم اور ان کے ‏منشاء بھی ذکر کریں گے جس سے وہ وہم پیدا ہو رہے ہیں، اور پھر ان وہموں کا بطلان بھی ذکر کریں گے کہ یہ وہم ‏باطل ہیں، قرآن صرف لفظ کا نام بھی نہیں، قرآن صرف معنی کا نام بھی نہیں، بلکہ دونوں کے مجموعے کا نام ہے بھئی۔ تو ایک وہم بعض وجوہ سے یہ پڑتا تھا کہ قرآن صرف لفظ کا نام ہے بھئی، جن چیزوں سے یہ وہم پڑتا تھا وہ ذکر کر ‏رہے ہیں، کہتے ہیں: لَا أَنَّهُ اسْمٌ لِلنَّظْمِ فَقَطْ، یہ صرف نظم کا نام نہیں ہے كَمَا يُنْبِئُ عَنْهُ تَعْرِيفُهُ بِالْإِنْزَالِ وَالْكِتَابَةِ وَالنَّقْلِ، ‏جیسے کہ خبر دیتی ہے اس بارے میں اس کی تعریف بھئی، کتاب اللہ کی جو تعریف کیا ہے اس سے یہ خبر دیتی ہے، ‏کیونکہ اس میں كَمَا يُنْبِئُ عَنْهُ تَعْرِيفُهُ، جیسے کہ خبر دیتی ہے اس بارے میں اس کتاب اللہ کی تعریف بِالْإِنْزَالِ وَالْكِتَابَةِ ‏وَالنَّقْلِ، جس کی تعریف کی گئی انزال، کتابت اور نقل کے ساتھ۔ اس کی تعریف میں کیا ذکر ہوا تھا؟ منزَّل یا منزَل آیا تھا، ‏منزَل بھئی، اور اسی طرح مکتوب آیا تھا، اور منقول آیا تھا، معلوم ہوا کتاب اللہ کیا ہے؟ وہ انزال کے ساتھ متصف ہے، ‏کتابت کے ساتھ متصف ہے اور نقل کے ساتھ متصف ہے، اور انزال، کتابت اور نقل ان کے ساتھ تو لفظ متصف ہوتا ہے، ‏معنی متصف نہیں ہوتا، معلوم ہوا قرآن صرف کس چیز کا نام ہے؟ لفظ کا، تو انزال، کتابت اور نقل کے لفظوں سے یہ وہم ‏پیدا ہو رہا تھا کہ شاید قرآن کس کا نام ہے صرف؟ لفظ کا، تو اس شبہے کو متن میں دور کیا۔ نیز وَلَا أَنَّهُ اسْمٌ لِلْمَعْنَى فَقَطْ، نیز یہ صرف اسم یہ معنی کا نام بھی نہیں ہے كَمَا يُتَوَهَّمُ مِنْ تَجْوِيزِ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ، جیسے ‏کہ جیسے کہ وہم ہوتا ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے جائز قرار دے دینے سے، بھئی کس چیز کو جائز قرار دیا ‏ہے؟ لِلْقِرَاءَةِ الْفَارِسِيَّةِ فِي الصَّلَاةِ مَعَ الْقُدْرَةِ عَلَى النَّظْمِ الْعَرَبِيِّ، وہ قرا قراءت فارسی قراءت کو انہوں نے جائز قرار دیا ہے ‏نماز میں باوجود قدرت ہونے کے عربی نظم پر۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا ایک قول ہے بھئی، پہلا قول، جس میں وہ ‏کیا فرماتے ہیں کہ ایک شخص عربی نظم پر قادر ہو، پھر بھی اس کے لیے نماز کے اندر فارسی میں قراءت جائز ہے، ‏اور فارسی میں آپ جانتے ہیں لفظ تو نہ رہے، صرف کیا آئے گا؟ معنی ہی آئے گا بھئی، کیا آئے گا؟ وہ معنی ہوگا، تو ‏معلوم ہوا اس قول سے کہ قرآن صرف کس چیز کا نام ہے؟ معنی کا، تو امام صاحب کے اس قول سے یہ وہم پیدا ہوتا تھا ‏کہ شاید قرآن صرف کس کا نام ہے؟ معنی کا، جیسے کہ وہ انزال، کتابت اور نقل سے یہ وہم پیدا ہوتا تھا کہ شاید قرآن ‏صرف کس چیز کا نام ہے؟ لفظ کا، نظم کا۔ اچھا۔ اب بھئی ان کا یہ ان وہموں کو دفع کر رہے ہیں بھئی، ان کا بطلان بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں: وَذَلِكَ لِأَنَّ الْأَوْصَافَ الْمَذْكُورَةَ ‏جَارِيَةٌ فِي الْمَعْنَى تَقْدِيرًا، بھئی آپ نے کیا کیا وہم پیدا ہوا تھا کہ انزال، کتابت اور نقل سے پتہ کیا وہم پیدا ہو رہا تھا؟ کہ ‏کیونکہ انزال، کتابت اور نقل صرف کس میں ہوتی ہے؟ لفظ میں، یعنی نظم میں ہوتی ہے، تو قرآن صرف کس کا نام ہوا؟ ‏نظم۔ کہتے ہیں: نہیں بھئی، انزال، کتابت اور نقل جیسے لفظ میں ہے، اسی طرح معنی میں بھی ہے، ہاں لفظ کے اندر ‏انزال، کتابت اور نقل حقیقۃً ہے، اور معنی کے اندر انزال، کتابت اور نقل کیا ہے؟ تقدیراً ہے، یعنی لفظ کے واسطے سے، ‏جب لفظ منزل ہوا بات سمجھ میں آگئی سب کو؟ تو کہتے ہیں: "وذٰلک لأن الأوصاف المذکورة جاریة في المعنی تقدیرًا"، اس لیے کہ یہ جو اوصافِ مذکورہ ہیں، یہ معنی ‏کے اندر بھی جاری ہوتے ہیں تقدیرًا۔ یعنی لفظ ان کے ساتھ متصف ہوتا ہے حقیقتًا، اور معنی ان سے متصف ہوتا ہے ‏تقدیرًا متصف ہوتا ہے بھئی! کیونکہ لفظ پھر کس پر دلالت کرتے ہیں؟ معنی پر۔ ‎"‎وجواز الصلاة"، یاد رکھیے بھئی! امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قول میں نے ذکر کیا کہ وہ پہلے ان کا قول یہ تھا کہ ‏جو شخص عربی نظم پر قادر ہو اس، پھر بھی اس کے لیے نماز میں فارسی قرأت جائز ہے، لیکن بعد میں بھئی امام ‏صاحب نے اپنے اس قول سے رجوع فرمایا، صاحبین کے قول کی طرف جو فرماتے ہیں کہ جائز نہیں ہے بھئی، جائز ‏نہیں ہے۔ لیکن بہرحال قول تو ایک مرتبہ آگیا بھئی، تو اس قول سے شبہ پڑتا تھا کہ شاید امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ‏نزدیک قرآن صرف کس کا نام ہے؟ معنی کا! اس لیے کہ فارسی قرأت جب کرے گا فارسی زبان میں ادا کرے گا اس معنی ‏کو، تو وہ تو صرف معنی ادا ہو رہا ہے، قرآن کی نظم تو نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا قرآن صرف کس کا نام ہے؟ معنی کا، یہ ‏وهم پڑتا تھا‎!‎ تو اب اس کی تفصیل بیان کر رہے ہیں بھئی کہ کیوں اجازت دی تھی امام صاحب نے؟ کہتے ہیں: "وجواز الصلاة ‏بالفارسیة"، اور نماز کا جائز ہونا فارسی کے ساتھ، "إنما هو لعذر حکمی"، یہ تو عذرِ حکمی کی وجہ سے ہے۔ کس کی ‏وجہ سے ہے؟ بھئی وہ شخص تو عربی نظم پر قادر ہے، لیکن اسے معذور قرار دے دیا حکماً بھئی۔ حکماً کیا قرار دے ‏دیا؟ حقیقتًا وہ معذور ہے عربی نظم سے کے پڑھنے سے؟ اس کے پڑھنے سے وہ معذور نہیں، لیکن کیا کیا؟ حکماً کیا ‏قرار دیا؟ معذور، تو یہ عذرِ حکمی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: یہ نماز میں وجواز الصلاة بالفارسیة، نماز کا فارسی کے ساتھ جائز ہونا، إنما هو لعذر حکمی، یہ عذرِ حکمی ‏کی وجہ سے ہے، بھئی عذرِ حکمی کیا؟ وہ خود بیان کر رہے ہیں: وهو، اور وہ یہ، أن حالة الصلاة حالة المناجاة مع الله ‏تعالیٰ، کہ نماز کی حالت جو ہے، وہ اللہ کے ساتھ راز و نیاز کی حالت ہے۔ مناجات کا معنی ہوتا ہے کسی سے راز کی ‏بات کہنا، سرگوشی کرنا۔ تو انسان کیا کرتا ہے؟ اللہ کے حضور راز و نیاز کی باتوں میں مشغول ہوتا ہے نماز میں بھئی۔ وہ جی! والنظم العربي معجز بلیغ، جبکہ عربی نظم وہ تو معجز ہے، بلیغ ہے بھئی! اتنا جو نظمِ عربی ہے آپ جانتے ہیں ‏بھئی! قرآن فصاحت و بلاغت کے انتہائی اعلیٰ درجے پر ہے بھئی، کوئی کلام اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا، تو یہ معجز ہوا، ‏سب کو عاجز کر دینے والا ہوا، کوئی اس کا مقابلہ نہیں! تو یہ جو نظمِ عربی ہے، یہ تو معجز ہے، بلیغ ہے، فلعله لا يقدر ‏علیه، تو شاید وہ اس پر قادر ہی نہ ہو سکے۔ اللہ کے ساتھ راز و نیاز کی باتوں میں مصروف ہے، اب یہ شخص نظمِ عربی ‏پر قادر تو ہے، لیکن چونکہ یہ کلام اللہ ہے، بے انتہا فصیح و بلیغ ہے، معجز ہے، تو شاید اتنی اس وجہ سے وہ اس پر ‏قادر ہی نہ ہو سکے، اس لیے انہوں نے کہا کہ عربی میں، فارسی میں قرأت، فارسی میں قرأت کیا ہے؟ جائز ہے۔ أو، یا اس وجہ سے، لأنه إن اشتغل بالعربي، أو لأنه اس کا عطف ہے لعذر حکمی پر بھئی۔ یا تو عذرِ حکمی کی وجہ سے ‏ہے، یا اس لیے کہ إن اشتغل بالعربي، کہ اگر وہ شخص مشغول ہو گیا عربی کے اندر، ينتقل الذهن منه إلی حسن البلاغة ‏والبراعة، تو اس کے، اس کا ذہن منتقل ہو جائے گا عربی نظم سے، کس کی طرف منتقل ہو جائے گا؟ إلی حسن البلاغة ‏والبراعة۔ براعت کہتے ہیں بھئی کمال کو! تو اس کا ذہن منتقل ہو جائے گا اس سے حسنِ بلاغت اور حسنِ کمال کی طرف ‏بھئی! ويلتذ بالأسباع والفواصل، اور وہ لذت حاصل کرنے لگے گا سجعوں اور فواصل سے، کس سے؟ سجعوں اور فواصل ‏سے‎!‎ بھئی دیکھو! ایک ہے سجع، آپ دیکھتے ہیں بھئی کہ بعض اوقات عربی عبارت کوئی شخص لکھتا ہے، تو کلام کے ‏چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوتے ہیں اور ہر ایک ٹکڑے کا اختتام ایک جیسے حرف پر ہو رہا ہوتا ہے، سمجھ میں آیا؟ ایک ‏جیسے، جیسے مقامات میں آپ دیکھتے ہیں بھئی، چھوٹے سے دو دو تین تین چار چار لفظ کے ٹکڑے ہوتے ہیں، کلام چل ‏رہا ہے، لیکن ان یہ جو ٹکڑے ہیں، ان کے اختتام کیا ہے؟ ایک جیسے حروف پر ہو رہا ہے، جیسے اشعار کا اختتام ایک ‏جیسے حروف پر ہوتا ہے، اسی طرح نثر میں بھی بعض اوقات کیا کرتے ہیں؟ عبارت کے اندر اپنا کمال دکھاتے ہیں اور ‏ایک جیسے حروف آخر میں لے کر آتے ہیں بھئی‎!‎ جیسے یہاں پر آپ کہیں دیکھ لیجیے بھئی! دیکھیے بھئی! متن، متن بھئی، شروع میں دیکھیے: "الحمد لله الذي هدانا إلی ‏الصراط المستقيم"، کس پر اختتام ہوا؟ میم پر۔ آگے آیا: "والصلاة علی من اختص بالخلق العظيم"، کس پر؟ میم پر۔ "وعلی آله ‏الذين قاموا بنصرة الدين القويم"، دیکھا بھئی؟ تو یہ جو کلامِ منشور بھئی نثر جو ہے، ایک نظم ہوتی ہے، ایک نثر بھئی۔ نظم ‏یہ اشعار ہیں بھئی، اور ان کے علاوہ یہ جو اس وقت ہم کتاب میں پڑھ رہے ہیں، یہ اشعار، نظم ہے یا نثر ہے بھئی؟ یہ نثر ‏ہے۔ تو نثر کے اندر یہ جو چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کلام کے ہوتے ہیں، انہیں فقرہ کہا جاتا ہے۔ کیا کہتے ہیں؟ فقرہ! تو اس ‏فقرے کا اختتام جب ایک جیسے حروف پر ہوتا ہے، تو یہ کہلاتے ہیں سجع بھئی! کیا کہلاتے ہیں؟ رعایتِ سجع بھئی‎!‎ اور قرآن میں بھی آپ دیکھتے ہیں بھئی، بعض اوقات کیا ہوتا ہے؟ آیتوں کا اختتام ایک جیسے حروف پر اکثر جگہ ہوتا ‏ہے، تو تو یہ بھی سجع ہے، لیکن قرآن میں بطورِ ادب کے سجع نہیں کہتے، بلکہ کہتے ہیں رعایتِ فاصلہ بھئی، اس کو ‏فاصلہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ فاصلہ کہتے ہیں بطورِ ادب کے، اس لیے کہ سجع کبوتر کی آواز کو کہتے ہیں، تو قرآن ‏پر اس کا اطلاق مناسب نہیں تھا، تو لہٰذا اس کے لیے فاصلہ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ ہے وہی چیز، ‏صرف تعبیر الگ ہے بھئی، لفظ الگ ہے اور اس فاصلہ کی جمع فواصل آتی ہے بھئی، کیا آتی ہے؟ فواصل! جبکہ نظم ‏کے اندر بھئی، اگر اشعار، نظم میں اشعار ایک جیسے حروف پر ختم ہوتے ہیں، اس کو قافیہ کہتے ہیں بھئی۔ نثر میں ہو ‏تو سجع، نظم میں ہو تو قافیہ، اور قرآن میں یہی سجع کیا کہلاتے ہیں؟ فاصلہ، جمع ہے فواصل‎!‎ تو بتلا رہے ہیں بھئی! امام صاحب نے اس کی اجازت کیوں دی؟ کہتے ہیں اس لیے کہ قرآن جو نظمِ عربی ہے، وہ بلاغت ‏کا بے انتہا بلاغت کے اعتبار سے بے انتہا اونچا کلام ہے، بڑا حسین و جمیل کلام ہے بھئی! سمجھ میں آیا؟ تو اس کا ذہن ‏اس سے کس کی طرف منتقل ہو جائے گا؟ اس عبارت کے حسن و جمال کی طرف منتقل ہو جائے گا بھئی، اور وہ اس ‏عبارت کے حسن و جمال سے لطف اندوز ہونے لگے گا کہ کتنی پیاری عبارت ہے! کتنی بہترین عبارت ہے! اور عبارت ‏کی طرف جب اس کی توجہ ہوئی، تو اللہ کے ساتھ اس کا حضورِ قلب خالص نہ رہا بھئی! ہونا تو یہ چاہیے تھا صرف اللہ ‏کی طرف توجہ ہو، کسی اور چیز کی طرف توجہ نہ ہو، لیکن اس نظمِ عربی میں مشغول ہونے کی وجہ سے بھئی اس کی ‏توجہ کس کی طرف چلی گئی؟ اس عبارت کے حسن و جمال کی طرف اس کی توجہ چلی گئی بھئی! تو اس صورت میں ‏یہی، یہ جو نظم تھی، یہ اس کے اور اللہ کے درمیان حجاب بن گئی بھئی، پردہ بن گئی۔ ويلتذ بالأسباع والفواصل، اور وہ لذت حاصل کرنے لگے گا، لطف اندوز ہونے لگے گا سجعوں اور فواصل سے بھئی، ولم ‏يخلص الحضور مع الله تعالى، اور خالص نہیں رہے گا اس کا حضور اللہ کے ساتھ، یعنی اس کا حضورِ قلب اللہ کے ساتھ ‏خالص نہیں رہے گا، یعنی اللہ کی طرف اس کی کامل توجہ نہیں رہے گی، بل يكون هذا النظم حجابًا بينه وبين الله تعالى، ‏بلکہ یہ جو نظم ہے، یعنی یہ نظمِ قرآنی، یہ حجاب بن جائے گی اس کے اور اللہ کے درمیان بھئی! کیا بن جائے گی؟ حجاب ‏بن جائے گی، پردہ بن جائے گی، رکاوٹ بن جائے گی اس کے اور اللہ کے درمیان! وكان أبو حنيفة رحمه الله تعالى، اور ‏امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تو، مستغرقًا في بحر التوحيد والمشاهدة، وہ تو ڈوبے ہوئے تھے توحید اور مشاہدے کے سمندر ‏میں، لا يلتفت إلا إلى الذات، وہ توجہ نہیں فرماتے تھے مگر صرف ذاتِ باری تعالیٰ ہی کی طرف بھئی! ان کی تو بڑی ‏کامل توجہ ہوتی تھی بھئی‎!‎ فلا طعن عليه، تو ان پر کوئی اعتراض نہیں ہے، في أنه كيف يجوز القراءة بالفارسية مع القدرة على العربي المنزل، کہ وہ ‏کیسے جائز قرار دیتے ہیں فارسی قرأت کو باوجود قدرت ہونے کے اس عربی پر جو نازل کی گئی ہے؟ یعنی وہ جو نظمِ ‏قرآنی جو نازل کی گئی ہے، اس پر قدرت کے باوجود وہ فارسی میں قرأت کی اجازت کیوں دیتے ہیں؟ اس بات سے ان پر ‏ان پر کوئی طعن نہیں ہے، کوئی اعتراض نہیں ہے بھئی! تقریر سمجھ میں آئی بھئی؟ دو وجہیں ذکر کر دیں مولانا، دو ‏وجہیں ذکر کر دیں کہ امام صاحب نے فارسی میں قرأت کی اجازت کیوں دی؟ پہلی وجہ عذرِ حکمی کی وجہ سے، عذرِ ‏حکمی یہ بیان کیا کہ بھئی نماز کی حالت اللہ کے ساتھ مناجات کی حالت ہے، اللہ کے ساتھ راز و نیاز کی باتیں ہیں، تو اور ‏عربی جو نظم ہے، وہ بڑی معجز ہے، بلیغ ہے، فصیح ہے، تو کہیں ایسا نہ ہو وہ شخص اس پر قادر ہی نہ ہو سکے، تو ‏قرأت ہی اس سے رہ نہ جائے بھئی! سمجھ میں آیا؟ اور قرأت تو فرض ہے، تو کہیں اس سے فرض ہی نہ رہ جائے، اس ‏لیے انہوں نے اجازت دی۔ "أو لأنه" سے دوسری وجہ ذکر کی، یا اس لیے کہ وہ امام صاحب جو ہیں، امام صاحب تو بہت ‏بڑے ولی اللہ بھئی! ان کی کامل توجہ تو ہر وقت کس کی طرف رہتی تھی؟ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف رہتی تھی! تو انہوں ‏نے دیکھا کہ بھئی قرآن کی عبارت اتنی فصیح و بلیغ ہے، تو وہ شخص اگر قرآن کی عبارت میں مشغول ہوگا، تو اس کی ‏توجہ ذاتِ الٰہی سے ہٹ کر کس کی طرف چلی جائے گی؟ جی، حالانکہ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ اس وقت صرف ‏اللہ کی طرف دھیان ہو، اللہ کی طرف توجہ ہو، کسی اور چیز کی طرف ادنیٰ درجے میں بھی توجہ نہ ہو بھئی! تو اس لیے ‏انہوں نے اجازت دے دی بھئی کہ فارسی میں بھی قرأت وہ کر سکتا ہے۔ لہٰذا اس بات میں ان پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا ‏سکتا، اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔ باقی اس سے جو یہ وهم پیدا ہوا تھا کہ جو انہوں نے جائز قرار دیا فارسی قرأت کو، تو شاید ان کے نزدیک قرآن صرف ‏معنی کا نام ہے، لفظ کا نام، نظم کا نام نہیں ہے؟ کہتے ہیں: نہیں بھئی! یہ جو اجازت دی، اس وجہ سے دی جو ہم نے ذکر ‏کر دی، وأما في غير الصلاة فهو يراعي جانبهما جميعا، باقی نماز کے علاوہ کے اندر، تو وہ رعایت رکھتے ہیں اس کی ‏دونوں جانب کی۔ وہ رعایت رکھتے ہیں دونوں جانب کی! نماز میں صرف اس وجہ سے اجازت دی، یہ وجہ نہیں تھی کہ ‏وہ صرف ان کے نزدیک صرف قرآن معنی کا نام ہے، بلکہ نماز میں ان وجوہ کی وجہ سے اجازت دی، باقی نماز کے ‏علاوہ وہ دونوں جانب کی رعایت رکھتے ہیں۔ چنانچہ امام صاحب کے نزدیک اگر صرف فارسی معنی لکھا ہوا ہو، معنی ‏لکھا ہوا ہو قرآن کا فارسی ترجمہ ہو، تو اس قرآن کو امام صاحب کے نزدیک جنبی کے لیے چھونا بھی جائز، نفاس والی ‏کے لیے چھونا بھی جائز، اسی طرح ان کے لیے اسے پڑھنا بھی جائز! اسے پڑھنا بھی جائز! معلوم ہوا ان کے نزدیک ‏قرآن نظم اور معنی دونوں کا نام ہے، صرف معنی کا نام قرآن نہیں! اگر معنی کا نام قرآن ہوتا، تو اس فارسی ترجمے کو ‏جنبی کے لیے چھونے کو وہ کیا قرار دیتے؟ جائز قرار نہ دیتے! اس کی تلاوت کو بھی اس کے لیے جائز قرار نہ دیتے! ‏لیکن وہ فارسی ترجمے والے جس میں صرف فارسی ترجمہ لکھا ہے، اس کو چھونے کے بھی جائز قرار دیتے ہیں اور ‏اس کی تلاوت کو بھی جائز قرار دیتے ہیں! معلوم ہوا ان کے نزدیک یہ قرآن نظم اور معنی دونوں کا نام ہے، اگر صرف ‏معنی کا نام ہوتا تو یہ اجازت وہ نہ دیتے بھئی‎!‎ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ نماز کے علاوہ جب وہ دونوں جانب کی رعایت رکھتے ہیں، تو معلوم ہوا ان کے نزدیک ‏بھی قرآن کیا ہے؟ لفظ اور معنی دونوں کا نام ہے۔ چلیے، یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ پہلی بحث ‏مکمل ہوئی بھئی، پہلی بحث مکمل ہو گئی بھئی۔ اور میں نے آپ کو بتلایا بھئی، یہ امام صاحب کا پہلا قول تھا۔ پھر انہوں نے کیا کیا؟ رجوع کر لیا صاحبین کے قول کی ‏طرف کہ فارسی، عربی پر قدرت کے ہوتے ہوئے فارسی میں قرأت جائز نہیں ہے۔ لیکن بہرحال ان کا ایک قول تو تھا ‏پہلے، یہ قول کیوں تھا؟ اس کی وجہ بھی انہوں نے بیان کر دی۔ جی، تو دونوں وهم جو تھے، بھئی بعض باتوں سے کیا ‏وهم پیدا ہوتا تھا؟ کہ قرآن صرف کس چیز کا نام ہے؟ نظم کا نام ہے۔ بعض باتوں سے کیا وهم پیدا ہوا؟ کہ قرآن صرف ‏معنی کا نام ہے۔ بتلایا کہ یہ دونوں وهم ہیں، باطل ہیں، درست نہیں ہیں بھئی! سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ انزالِ کتابت اور ‏نقل کے ساتھ جیسے لفظ موصوف ہوتا ہے، اسی طرح لفظ کے واسطے سے معنی بھی موصوف، تو وہ بھی آگیا! اور باقی ‏امام صاحب نے نماز میں جو صرف فارسی قرأت کی اجازت دی، وہ اس لیے نہیں کہ وہ معنی کے، صرف معنی کے ‏قرآن ہونے کے قائل تھے، بلکہ اس کی یہ دو وجہیں ہیں، باقی نماز کے علاوہ وہ دونوں جانب کی رعایت فرماتے تھے، ‏معلوم ہوا ان کے نزدیک بھی قرآن نظم اور معنی دونوں کا نام ہے۔ چلیے بس مولانا، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔ ‏