مولانا اسباب منع صرف چل رہے تھے بھئی۔
صاحبِ قافیہ نے آپ کو بتلایا کہ اسبابِ منعِ صرف نو ہیں بھئی، اور ہر ایک کی انہوں نے تفصیل بیان کی۔
اس کے بعد اسبابِ منعِ صرف میں یہ بتلایا کہ جب یہ دو سبب آ جائیں گے تو کلمہ کیا بن جائے گا؟ غیر منصرف، یعنی غیر منصرف بنانے کا طریقہ بتلایا یہ دو سبب آ جائیں تو کیا ہو جائے گا کلمہ؟ غیر منصرف۔ پھر اس کے بعد غیر منصرف کو منصرف بنانے کا طریقہ بتلایا آپ کو کہ وہ اسباب جن میں علمیت آتی ہے جن کے ساتھ جمع ہوتی ہے، ان سے علمیت کو ختم کر دو تو وہ کیا بن جائیں گے؟ منصرف بن جائیں گے۔
اور علمیت کے جمع ہونے کی دو صورتیں تھیں۔ بعض کے ساتھ ویسے سبب کے طور پر جمع ہوتی تھی، اور بعض کے ساتھ علمیت جمع ہوتی ہے شرط کے درجے میں بھئی، کس کے درجے میں؟ شرط کے درجے میں۔ تو کچھ اسباب ایسے تھے جن کے ساتھ علمیت ویسے جمع ہو جاتی ہے جیسے عدل، عدل کے ساتھ کبھی کبھار کیا جمع ہو جاتی ہے؟ علمیت جیسے عُمَرُ، عُمَرُ کے اندر ایک عدل ہے اور دوسری کیا ہے؟ علمیت ہے، تو کیا عدل میں شرط تھی کہ علمیت بھی ہونی چاہیے پھر مؤثر ہوگا؟ وہاں شرط نہیں تھی۔ اور بعض میں علمیت کی شرط ہوتی ہے کہ علمیت ہوگی تو یہ سبب مؤثر ہوگا ورنہ یہ سبب مؤثر نہیں، جیسے تانيث بالتاء ہے۔
تانيث بالتاء کے مؤثر ہونے کے لیے کیا شرط تھی؟ علمیت۔ علمیت ہوگی تو تانيث بالتاء مؤثر ہوگی، علمیت نہیں تو تانيث بالتاء بھی مؤثر نہیں، پھر نہیں سبب بنے گی۔
تو اب جب آپ نے... تو علم کے جمع ہونے کی دو صورتیں تھیں؛ یا تو کبھی وہ شرط کے طور پر آتی تھی علمیت ساتھ، اور کبھی بغیر شرط کے ویسے ہی جمع ہو جاتی تھی۔
تو جب کوئی ایسا اسم ہو جس میں علمیت تھی اور ساتھ ایک اور سبب تھا، جب آپ علمیت کو ختم کریں گے تو وہ اسم کیا بن جائے گا؟ منصرف بن جائے گا۔ اور پھر اس میں ایک سبب رہے گا یا سبب نہیں رہے گا؟ تو کہا کہ دو قسم پر تھے؛ بعض میں علمیت کیا تھی؟ شرط۔ جب ان سے آپ نے علمیت کو ختم کر دیا... علمیت کیسے ختم کرتے ہیں؟ مثلاً مولانا! علم کس پر دلالت کرتا ہے؟ شخصِ معین پر۔ آپ اس کی معین پر دلالت کو ختم کر دیں وہ علم نہیں رہے گا۔ مثلاً زید کس پر دلالت کرتا ہے؟ ایک فلاں آدمی جو سامنے مثلاً بیٹھا ہے اس کا نام کیا ہے؟ زید۔ تو یہ معین شخص ہے، میں جب بھی زید بولوں گا فوراً آپ کو یہ شخص سمجھ آئے گا۔ آپ یوں کریں پانچ چھ سات آٹھ کا سب کا نام زید رکھ دیا، اب میں زید بولتا ہوں آپ کو کوئی معین سمجھ میں آتا ہے؟ اب یہ علم نہیں رہا بلکہ کیا بن گیا؟ نکرہ بن گیا، کیونکہ علم تو کس پر دلالت کرتا ہے؟ شخصِ معین پر، اور یہ شخصِ معین پر نہیں، تو یہ ذاتِ معین پر دلالت نہیں کر رہا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو آپ نے علمیت جب ختم کر دی، تو اس کے بعد اب وہ اسم غیر منصرف نہ رہا بلکہ کیا بن گیا؟ منصرف۔ لیکن کیا اس میں اب ایک سبب باقی ہے یا ایک سبب باقی نہیں؟ تو کہا تھا کہ وہ اسباب جن میں علمیت شرط تھی، جب آپ نے علمیت کو ختم کیا تو وہ مشروط بھی نہ رہا، اور وہ اسم منصرف ہوا اور اس میں اب ایک بھی سبب نہیں، مثلاً مولانا! مثلاً کیا؟ طَلْحَةُ۔
طَلْحَةُ کیا ہے؟ نام، علم ہے، تو ایک تو یہ غیر منصرف ہے، ایک سبب اس کے اندر کیا ہے؟ تائے تانيث ہے، تانيث ہے ایک، اور دوسری... ہاں تو ایک سبب ہے تانيث اور ایک سبب ہے علمیت۔ اور تانيث بالتاء کے اندر علمیت کیا تھی؟ شرط تھی۔ اب آپ اس سے علمیت کو ختم کریں، کئیوں کا نام طلحہ رکھ دیا ہم نے، علمیت ہوئی ختم، یہ بن گیا نکرہ۔ اور جب علمیت ختم ہوئی تو اب یہ کیا بن گیا؟ منصرف، لیکن اب کیا اس میں ایک سبب باقی ہے یا سبب باقی نہیں؟ تو آپ کیا کہیں گے؟ اب اس میں کوئی سبب باقی نہیں، اس لیے کہ ایک کو تو آپ نے ختم کیا اور دوسرا کیا تھا؟ تانيث، اور تانيث بالتاء، اور تانيث بالتاء کے سبب بنتی ہے غیر منصرف ہونے کا لیکن شرط کیا تھی؟ علمیت ہوگی تو یہ تانيث مؤثر ہوگی، اثر دکھائے گی، علمیت نہیں تو یہ مؤثر بھی نہیں، جب علمیت آپ نے شرط ختم کر دی تو مشروط بھی ختم ہو جائے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
جیسے وضو ہے تو نماز ہوگی، وضو نہیں تو نماز بھی نہیں، اگرچہ ایک آدمی صورتاً پڑھ رہا ہے، صورتاً وہ ہے لیکن حقیقتاً وہ تو نماز نہیں، وہ نماز نہیں۔
سمجھ میں آیا؟ تو یہاں بھی اب طَلْحَةُ کے اندر تائے تانيث، تانيث اب بھی موجود ہے جب ہم نے اس کو نکرہ بنا دیا، لیکن یہ تانيث مؤثر نہیں۔
اور بعض کے ساتھ علمیت ویسے جمع ہوئی تھی، جب اس سے علمیت آپ نے ختم کی تو وہ بھی منصرف ہوا لیکن اب اس میں ایک سبب باقی ہے مولانا! جیسے عُمَرُ ہے، عُمَرُ آپ نے ایک جماعت کا نام رکھ دیا تو یہ نکرہ بن گیا مولانا، تو علمیت ختم ہوئی لیکن عدل اس میں اب بھی موجود، تو یہ منصرف ہوا لیکن اب کیا ہے؟ اس میں ایک سبب باقی ہے۔
سمجھ میں آیا؟ تو بتلایا تھا: فَإِذَا نُكِّرَ بَقِيَ بِلَا سَبَبٍ أَوْ عَلَى سَبَبٍ وَاحِدٍ، جب اس کو نکرہ بنایا جائے گا تو وہ باقی رہے گا بغیر کسی سبب کے یا ایک سبب کے ساتھ۔
یہ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟
وَخَالَفَ سِيبَوَيْهِ الْأَخْفَشُ فِي مِثْلِ أَحْمَرَ عَلَمًا إِذَا نُكِّرَ اِعْتِبَارًا لِلصِّفَةِ بَعْدَ التَّنْكِيرِ.
اور مخالفت کی ہے امام سیبویہ نے امام اخفش کی فِي مِثْلِ أَحْمَرَ، أَحْمَرَ جیسے لفظوں اسموں کے اندر، عَلَمًا اس حال میں کہ وہ کیا ہوں؟ علم ہوں، إِذَا نُكِّرَ جب ان کو نکرہ بنایا جائے۔ اور مخالف... اِعْتِبَارًا مولانا! یہ مفعول لہ ہے، ضَرَبْتُ زَيْدًا تَأْدِيبًا، میں نے زید کی پٹائی کیوں کی؟ ادب سکھانے کے لیے، تو یہ تَأْدِيبًا کیا ہے؟ مفعول لہ۔ یہاں بھی اِعْتِبَارًا مفعول لہ ہے، مخالفت کی کس لیے؟ اعتبار کرنے کے لیے، لِلصِّفَةِ بَعْدَ التَّنْكِيرِ صفت کا اعتبار کرنے کے لیے بَعْدَ التَّنْكِيرِ کس کے بعد؟ تنکیر کے بعد۔
مخالفت کی ہے امام سیبویہ نے امام اخفش کی۔
یاد رکھو امام سیبویہ استاد ہیں، امام اخفش ان کے شاگرد ہیں۔ سمجھ میں آیا؟
تو امام سیبویہ نے امام اخفش کی مخالفت کی ہے فِي مِثْلِ أَحْمَرَ، أَحْمَرَ جیسے اسموں میں۔ بھئی أَحْمَرَ جیسے اسم سے کیا مراد ہے؟ کہتے ہیں أَحْمَرَ سے مراد ایسے اسم ہیں جن میں وصَفیتِ اصلی ہو، ساتھ ساتھ ایک اور سبب بھی ہو۔ ایسا اسم جو غیر منصرف ہو مولانا! اور دو سبب اس میں کیا کیا ہوں بھئی؟ ایک وصفیت ہو اور دوسرا کوئی اور سبب ہو۔ أَحْمَرَ میں دیکھو مولانا! یہ کیا ہے؟ وصف ہے، سمجھ میں آیا؟ تو ایک ہو گئی وصفیت اور دوسرا سبب اس کے اندر کیا ہے؟ وزنِ فعل، تو یہ کیا ہوا؟ غیر منصرف۔ تو أَحْمَرَ سے مراد ایسے اسماء ہیں جو غیر منصرف ہوں دو سببوں کی... کون سے دو سببوں کی وجہ سے؟ ایک وصفیت کی وجہ سے اور ایک کوئی اور... کوئی اور بھئی! ایک وزن... ایک وصف ہونا چاہیے اور دوسرا کوئی اور۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ أَحْمَرَ جیسا لفظ ہو، اسم ہو، جس میں ایک سبب وصف ہونا چاہیے اور ایک کوئی اور ہونا چاہیے، اس کو جب آپ کسی کا علم بنا دیں مولانا، کیا بنا دیں؟ علم بنا دیں۔ ایک آدمی کا نام میں نے احمر رکھ دیا بھئی، جب میں نے علم اس کو بنا دیا اب وصفیت باقی رہی؟ آپ مجھے بتائیے بھئی! میں نے آپ کو بتلایا تھا وصف علم کے ساتھ کبھی جمع نہیں ہو سکتا، کیونکہ وصف دلالت کرتا ہے ذاتِ مبہم پر، علم دلالت کرتا ہے ذاتِ معین پر، اور ایک ہی چیز مبہم بھی ہو اور معین بھی ہو، یہ نہیں ہو سکتا۔ یا یوں کہیں علم دلالت کرتا ہے خصوص پر، اور وصف دلالت کرتا ہے عموم پر، اور ایک ہی چیز میں عموم بھی ہو اور خصوص بھی ہو، یہ نہیں ہو سکتا۔
تو أَحْمَرَ جیسا لفظ تھا، اس میں ایک سبب مثلاً کیا ہے؟ وصف، دوسرا کوئی اور ہے۔ اس کو ہم نے کیا بنا دیا؟ کسی کا نام بنا دیا، علم بنا دیا، تو وصفیت تو چلی گئی، کیا رہ گیا؟ علم، اور دوسرا سبب کیا ہے اس میں مثلاً؟ وزنِ فعل ہے۔ تو یہ اب بھی غ... پہلے بھی غیر منصرف تھا أَحْمَرَ، اب بھی کیا ہے؟ کیا ہے؟ غیر منصرف۔ لیکن پہلے دو سبب کیا تھے؟ ایک وصف، وصفیت اور دوسرا وزنِ فعل، اور اب دو سبب کیا ہیں؟ علمیت اور وزنِ فعل، علمیت اور وزنِ فعل۔
اب ہم اس کو نکرہ بناتے ہیں أَحْمَرَ کو، کیا بنانے کا طریقہ ہے؟ ایک جماعت کا نام کیا رکھ دیتے ہیں؟ سب کا نام احمر رکھ دیتے ہیں، تو یہ کیا بن گیا؟ نکرہ۔ جب نکرہ بنا تو علمیت کیا ہوئی؟ ختم ہوئی، نکرہ جو بن گیا، علمیت ختم۔
اب سوال یہ کہ احم... اب أَحْمَرَ منصرف ہے یا غیر منصرف؟ کیا ہے؟ مسئلہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ امام اخفش فرماتے ہیں اب یہ منصرف ہے مولانا! اب اس میں صرف ایک سبب ہے اور وہ کیا؟ وزنِ فعل۔ وصفیت؟ کہتے ہیں کوئی وصفیت نہیں ہے، وصفیت ایک دفعہ جا چکی ہے، جب آپ نے اس کو علم بنایا تھا تو کیا بن... وصفیت کیا ہوئی تھی؟ چلی گئی تھی، اور وہ وصفیت اب بغیر کسی وجہ کے خود بخود واپس نہیں آ سکتی۔ کوئی مقتضیٰ ہی نہیں، کوئی چیز تقاضا ہی نہیں کر رہی، وصفیت کیوں واپس آئے گی؟
تو جب ایک دفعہ زائل ہو چکی ہے وصفیت تو دوبارہ واپس نہیں آئے گی، جبکہ امام سیبویہ فرماتے ہیں کہ وہ وصفیت جو ہے وہ پھر واپس آ جائے گی اور یہ اسم کیا رہے گا؟ غیر منصرف۔ علمیت سے پہلے بھی غیر منصرف تھا، علمیت آنے کے بعد بھی غیر منصرف، اور علمیت کے چلے جانے کے بعد پھر کیا ہے؟ غیر منصرف۔ جب علمیت چلی گئی اب بھی غیر منصرف، کون سے دو اسباب ہیں اس کے اندر؟ ایک وصفیت واپس جو آئی پھر اس کا اعتبار کیا، اور دوسرا کیا ہے؟ وزنِ فعل۔ جبکہ امام اخفش کیا فرماتے ہیں کہ اب یہ کلمہ کیا ہے؟ منصرف ہے، جو وصفیت چلی گئی وہ بغیر کسی مقتضیٰ کے، بغیر کسی ضرورت کے واپس نہیں آئی۔
مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو خلاصۂ کلام یہ کہ أَحْمَرَ جیسے الفاظ میں، جیسے اسموں میں امام اخفش کی مخالفت کی ہے امام سیبویہ نے۔ أَحْمَرَ سے مراد ایسے اسماء ہیں جن میں دو سبب ہوں مولانا غیر انصراف کے، اور ان دو سببوں میں سے ایک وصفیت ہونی... ایک وصف ہونا چاہیے۔ تو جب ایک وصف ہے، ایک دوسرا سبب ہے، وہ کلمہ کیا ہے؟ غیر منصرف۔ پھر جب اس کو علم بنا دیا جائے تو اب وصفیت تو چلی گئی لیکن علمیت آ گئی، تو ایک سبب علمیت ہوا اور ایک وہی دوسرا وصف، تو یہ کیا ہے؟ غیر منصرف۔ اب اس کو پھر اگر ہم نکرہ بنائیں، علمیت اس کی زائل کر دیں تو اب کیا یہ کلمہ کیا رہے گا؟ غیر منصرف رہے گا یا... تو امام اخفش کیا فرماتے ہیں؟ یہ اب کیا بن جائے گا؟ منصرف، کیونکہ اب بغیر ضرورت کے وہ وصفیت واپس نہیں... نہیں آ سکتی۔ اور امام سیبویہ کیا فرماتے ہیں کہ وہ وصفیت کیا ہوگی؟ واپس آ جائے گی، تو وہ زائل ہو چکی لیکن وہ پھر بھی اس کا اعتبار کرتے ہیں بھئی۔ یہ مسئلہ ہے بھئی۔
وَخَالَفَ سِيبَوَيْهِ الْأَخْفَشُ، بھئی خَالَفَ فعل ہے، سِيبَوَيْهِ اس کا فاعل، مخالفت کی ہے کس نے؟ امام سیبویہ نے۔ سِيبَوَيْهِ، وَيْهِ مرکبِ صوتی ہے مولانا! مرکبِ صوتی، صوت آواز کو کہتے ہیں، جس کا ایک جزو صوت ہو، یہ وَيْهِ یہ کیا ہے؟ صوت ہے۔ تو یہ دو جزو ہیں؛ ایک سِيبِ، ایک وَيْهِ، سمجھ میں آیا؟ اور اول جزو مبنی علی الفتح ہے، با پر فتحہ پڑھنا ہے، سِيبَ۔ اور دوسرا جزو مبنی علی الکسر ہے، سِيبَوَيْهِ، سمجھ میں آیا؟ تو اس کے دونوں جزو مبنی ہیں۔ سمجھ میں آ رہی ہے بات بھئی؟ دونوں جزو مبنی ہیں، ورنہ یہ فاعل ہے، فاعل کیا... تو یہ محلاً مرفوع ہے، یہ کیا ہے؟ محلاً مرفوع۔ جیسے آپ کہتے ہیں خَالَفَ زَيْدٌ، زید تو مبنی نہیں ہے، معرب ہے اس لیے اس پر اعراب ظاہر ہو گیا، سیبویہ چونکہ مبنی ہے اس لیے اس پر اعراب ظاہر نہیں، یہ محلاً مرفوع ہے، فاعل ہے۔ اور الْأَخْفَشَ یہ کیا ہے؟ مفعول، اس لیے اس پر فتحہ پڑھیں گے۔
وَخَالَفَ سِيبَوَيْهِ الْأَخْفَشَ اور مخالفت کی ہے سیبویہ نے امام اخفش کی، فِي مِثْلِ أَحْمَرَ، أَحْمَرَ جیسے اسموں میں، عَلَمًا یہ حال ہے مولانا! احمر سے، احمر جیسے اسم اس حال میں کہ وہ کیا ہوں؟ علم ہوں، إِذَا نُكِّرَ جب اس کو کیا کیا جائے؟ نکرہ بنایا جائے، تو اِعْتِبَارًا یہ مفعول لہ ہے مولانا، مخالفت کی ہے امام سیبویہ نے، کیوں مخالفت کی ہے؟ ضَرَبْتُ زَيْدًا تَأْدِيبًا، میں نے زید کی پٹائی کیوں کی ہے؟ ادب سکھانے کے لیے، تو یہ مفعول لہ ہے خَالَفَ کے لیے مولانا! مخالفت کی ہے کس لیے؟ اعتبار کرنے کے لیے، لِلصِّفَةِ بوجہِ اعتبار کرنے کے، بوجہِ... مخالفت کی ہے بوجہِ اعتبار کرنے کے لِلصِّفَةِ کس چیز کا؟ صفت کا، بَعْدَ التَّنْكِيرِ کس کے بعد؟ تنکیر کے بعد، نکرہ بنانے کے بعد۔
یہاں ایک اشکال ہوتا ہے مولانا! بھئی دیکھو، امام سیبویہ ہیں استاد، امام اخفش ہیں ان کے شاگرد، تو صاحبِ قافیہ نے کہا امام سیبویہ نے مخالفت کی ہے کس کی؟ امام... حالانکہ وہ استاد ہیں مولانا! اور استاد... ادب کا تقاضا یہ ہے کہ مخالفت کی نسبت شاگرد کی طرف کرنی چاہیے تھی کہ شاگرد نے مخالفت کی ہے کس کی؟ اپنے... لیکن یہ کہہ رہے ہیں سیبویہ استاد نے مخالفت کی ہے کس کی؟ اپنے... شاگرد کی! اس کی کیا وجہ ہے؟ صاحبِ قافیہ نے ایسا کیوں کیا؟ مخالفت کی نسبت امام سیبویہ کی طرف کیوں کی؟ امام اخفش کی طرف کیوں نہیں کی؟ حالانکہ ان کی طرف کرنی چاہیے تھی وہ شاگرد ہیں۔
تو جواب یہ مولانا! کہ چونکہ شاگرد کا قول قاعدے کے مطابق تھا، شاگرد کا قول کیا ہے؟ قاعدے کے مطابق ہے، اس لیے مولانا مخالفت کی نسبت امام سیبویہ کی طرف کر دی تاکہ اس بات پر تنبیہ ہو جائے کہ کن کا قول قاعدے کے مطابق ہے بھئی؟ امام اخفش کا۔ یعنی امام اخفش تو یوں فرماتے ہیں، یہ قول قاعدے کے مطابق ہے اور امام سیبویہ نے اس کی کیا کی ہے؟ مخالفت کی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو اگر ایسا نہ کرتے تو کیا اس نقطے کی طرف اشارہ ہوتا؟ پھر تو پتہ نہ چلتا کس کا قول قاعدے کے مطابق ہے اور کس کا قول قاعدے کے مطابق... لیکن اب پتہ چل رہا ہے، معلوم ہوا امام اخفش کا قول کیا ہے؟ قاعدے کے مطابق ہے، اسی لیے کہا کہ وہ تو یوں فرماتے ہیں اور امام سیبویہ کیا کرتے ہیں؟ ان کی مخالفت کرتے ہیں بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو اس نقطے کی طرف اشارہ کرنے کے لیے اس لیے مخالفت کی نسبت امام سیبویہ کی طرف کی بھئی۔
وَلَا يَلْزَمُهُ بَابُ حَاتِمٍ لِمَا يَلْزَمُ مِنِ اِعْتِبَارِ الْمُتَضَادَّيْنِ.
مِنِ اِعْتِبَارِ الْمُتَضَادَّيْنِ فِي حُكْمٍ وَاحِدٍ.
اور امام سیبویہ پر لازم نہیں آتا بَابُ حَاتِمٍ۔ کیا لازم نہیں آتا؟ بابِ حاتم لازم نہیں آتا، یعنی بابِ حاتم کا اعتراض ان پر لازم یا بابِ حاتم کا غیر منصرف ہونا ان پر لازم نہیں آتا۔
ای اب اصلِ عبارت یوں کر لو: وَلَا يَلْزَمُهُ عَدَمُ انْصِرَافِ بَابِ حَاتِمٍ، لازم نہیں آتا ان پر بابِ حاتم کا غیر منصرف ہونا۔
بھئی یہ ایک اشکال ہو رہا تھا امام سیبویہ پر، تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ نہیں بھئی، یہ اشکال امام سیبویہ پر نہیں ہو سکتا۔
امام سیبویہ نے کیا فرمایا بھئی؟ امام سیبویہ فرماتے ہیں کہ أَحْمَرُ جیسے لفظ کو جب آپ علم بنا دیتے ہیں تو وصفیت تو چلی گئی، غیر منصرف ہے، لیکن اگر آپ پھر اس کو کیا بنائیں گے؟ نکرہ، تو وصفیت کیا ہو جائے گی؟ واپس آ جائے گی۔ معلوم ہوا اس وصف وصف کو زائل ہو جانے کے بعد بھی اس کا اعتبار کرتے ہیں امام سیبویہ۔
بھئی یہ أَحْمَرُ تھا۔ اس میں کیا تھی؟ وصفیت۔ میں نے اس کو کیا بنا دیا؟ علم بنا دیا، وصفیت کیا ہوئی؟ زائل ہو گئی۔ پھر مولانا اس کو نکرہ بنایا، امام سیبویہ کیا فرماتے ہیں؟ اب بھی یہ لفظ کیا ہے؟ غیر منصرف۔ ایک سبب کیا؟ وزنِ فعل، مثلاً، اور دوسرا؟ تو دیکھو زوال ایک کی زائل ہو چکی تھی، وہ اس کا پھر بھی کیا کر رہے ہیں؟ اعتبار کر رہے ہیں۔
تو جب وصفیت زائل ہو چکی اور اس کے زائل ہو جانے کے بعد بھی وہ اس کا اعتبار کر رہے ہیں، تو حاتم جیسے لفظوں میں بھی ان کو وصفیت کا اعتبار کرنا چاہیے۔ حاتم جیسے لفظوں میں بھی کیا کرنا چاہیے؟ بھئی حاتم سے کیا مراد ہے؟ کہتے ہیں حاتم سے مراد ایسا اسم ہے جو اصلِ وضع میں تو وصف ہو، لیکن فی الحال علم ہو۔
حاتم کون سا صیغہ ہے؟ اسمِ فاعل، اور اسمِ فاعل کیا ہے؟ صفت۔ اب پھر اس کو کیا بنا دیا گیا؟ نام بنا دیا گیا۔ تو بھئی حاتم، اس میں کیا ہے؟ وصفیت ہے مولانا، کیا ہے؟ وصفیت ہے، پھر کیا بنا دیا گیا اس کو؟ علم بنا دیا، اب وصفیت ہے؟ جی؟ اب نہیں، اب علمیت ہے۔
تو امام سیبویہ پر اشکال ہوتا ہے مولانا کہ اے امام سیبویہ! آپ نے أَحْمَرُ کے مسئلے میں ہمیں بتلایا تھا۔ أَحْمَرُ کے مسئلے میں آپ نے وصفیت کا اعتبار زوال کے بعد بھی کیا تھا۔ وصفیت کے زائل ہو جانے کے بعد بھی آپ نے کیا کیا تھا وصفیت کا؟ اعتبار کیا تھا، تو یہاں بھی بابِ حاتم کے اندر بھی وصفیت زائل ہو چکی، لیکن آپ کو اس کا اعتبار کرنا چاہیے۔
کیا کرنا چاہیے؟ آپ کو اس کا اعتبار کرنا چاہیے اور حاتم جیسے لفظ کو غیر منصرف ہونا چاہیے، کیا ہونا چاہیے؟ دیکھو، حاتم میں ایک علمیت ہے فی الحال علم، لیکن اصلِ وضع میں کیا ہے؟ وصف، تو وہ اصلِ وضع کے اعتبار سے وصف تو ہے، لیکن وہ وصفیت زائل ہو چکی، لہٰذا فی الحال اس میں کیا ہے؟ ایک سبب، علمیت، اور ایک سبب سے یہ غیر منصرف بنا؟ نہیں، بلکہ اب بھی کیا ہے؟ منصرف۔
لیکن اے امام سیبویہ! آپ نے زوال کے بعد بھی أَحْمَرُ میں کس کا اعتبار کیا تھا؟ وصفیت، تو یہاں بھی زوال کے بعد بھی کس کا اعتبار کریں؟ وصفیت کا اعتبار کریں، لہٰذا اس حاتم کو غیر منصرف پڑھنا چاہیے آپ کو۔ ایک علمیت اور ایک زائل ہو چکی ہے مولانا، لیکن زوال کے بعد بھی آپ کیا کر لیتے ہیں اس کا؟ اس کا اعتبار کرتے ہیں، تو یہاں بھی اس کا کیا کرنا چاہیے؟ اعتبار کرنا چاہیے، جب اعتبار کریں گے تو کتنے سبب ہو گئے؟ دو، ایک علمیت فی الحال اور ایک وصفیت کس میں؟ اصلِ وضع میں، تو اس کو کیا ہونا چاہیے؟ لیکن آپ نہیں کہتے۔
جب وہاں کرتے ہیں تو یہاں کیوں نہیں کرتے بھئی؟ اشکال ہوا یا نہیں ہوا بھئی؟ کہتے ہیں نہیں، یہ اشکال نہیں ہو سکتا امام سیبویہ پر، اس لیے کہ اس صورت میں دو متضاد چیزوں کا جمع کرنا لازم آئے گا ایک حکم میں۔
حکم کیا ہے مولانا؟ لفظ کو کیا پڑھنا ہے؟ غیر منصرف۔ اور دو متضاد چیزیں کیا ہیں؟ ایک علمیت ہے اور ایک وصفیت، اور علمیت اور وصفیت آپس میں کیا ہیں؟ متضاد ہیں۔ ایک عموم پر دلالت کرتا ہے تو دوسرا خصوص پر، ایک ذاتِ مبہم پر دلالت کرتا ہے تو دوسرا ذاتِ معین پر۔ لہٰذا امام سیبویہ پر یہ اشکال نہیں لازم آتا کہ آپ کو اس میں علمیت اور وصفیت کا اعتبار کرنا چاہیے، کیوں اشکال لازم نہیں آتا؟ کیونکہ یہ دونوں آپس میں متضاد ہیں، یہ دونوں تو جمع ہو ہی لہٰذا آپ یہ ان پر اشکال نہیں کر سکتے۔ سمجھ میں آئی بات؟ سب کو سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟
وَلَا يَلْزَمُهُ بَابُ حَاتِمٍ، اور لازم نہیں آتا ان پر مولانا بابِ حاتم، یعنی بابِ حاتم کا غیر منصرف ہونا ان پر لازم نہیں آتا، لِمَا بوجہ اس کے يَلْزَمُ جو لازم آتی ہے۔ بوجہ اس کے جو لازم آتی ہے۔
سمجھ میں آیا؟ بھئی کیا ہے؟ کیا لازم آتی ہے؟ مِن بیانیہ ہے، مِن بیان کر رہا ہے۔ یعنی مِن، یعنی کے ساتھ اس کا ترجمہ کریں: یعنی اعتبار کرنا الْمُتَضَادَّيْنِ دو متضاد چیزوں کا فِي حُكْمٍ وَاحِدٍ کس میں؟ حکمِ واحد میں۔
ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ مِن بیانیہ ہے، دیکھو: لِمَا بوجہ اس چیز کے يَلْزَمُ جو کیا ہے؟ بھئی کیا چیز لازم آتی ہے؟ ما مبہم، بیان آنا چاہیے اس کے لیے، تو مِن نے بیان کیا، کیا لازم آتی ہے؟ یعنی کہ اعتبار کرنا دو متضاد چیزوں کا ایک ہی حکم میں۔ کیا چیز لازم آتی ہے؟ دو متضاد چیزوں کا ایک ہی حکم میں اعتبار کرنا لازم آئے گا، لہٰذا ان پر یہ اشکال متوجہ نہیں ہوتا۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟
وَلَا يَلْزَمُهُ بَابُ حَاتِمٍ، اور لازم نہیں آتا امام سیبویہ پر بابِ حاتم کا غیر منصرف ہونا لِمَا يَلْزَمُ بوجہ اس چیز کے جو ان پر لازم بوجہ اس کے جو لازم آتی ہے، یعنی کہ اعتبار کرنا دو متضاد چیزوں کا فِي حُكْمٍ وَاحِدٍ ایک ہی حکم کے اندر۔
وَجَمِيعُ الْبَابِ بِاللَّامِ أَوْ بِالْإِضَافَةِ يَنْجَرُّ بِالْكَسْرِ، اور سارا کا سارا باب، کس کا سارا باب؟ غیر منصرف کا۔ بِاللَّامِ کس کے ساتھ؟ لام، بھئی یہاں سے یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ غیر منصرف مولانا! اس پر جب الف لام داخل ہو جائے یا اس کی اضافت ہو جائے، تو اب اس پر کسرہ آ جائے گا۔
بھئی جَاءَنِي عُمَرُ، رَأَيْتُ عُمَرَ، مَرَرْتُ بِعُمَرَ، کسرہ آ سکتا ہے غیر منصرف پر؟ غیر منصرف پر نہ کسرہ اور نہ تنوین۔ لیکن اگر اس عمر پر الف لام داخل کر دیں یا اس عمر کی اضافت کر دیں مولانا، تو اس پر کسرہ آ جائے گا۔ تنوین تو اب بھی نہیں آ سکتی، تنوین اس لیے نہیں آ سکتی کیونکہ الف لام اور تنوین اکٹھے ہو سکتے ہیں؟ نہیں، اضافت اور تنوین اکٹھے ہو سکتے ہیں؟ نہیں، تو وہ تنوین تو الف لام اور اضافت کی وجہ سے آ ہی نہیں سکتی، البتہ کسرہ آ جائے گا۔ اب آپ کہیں گے: جَاءَنِي الْعُمَرُ، رَأَيْتُ الْعُمَرَ، مَرَرْتُ بِالْعُمَرِ۔ جَاءَنِي عُمَرُكَ، اضافت کے ساتھ، رَأَيْتُ عُمَرَكَ، مَرَرْتُ بِعُمَرِكَ۔ تو دیکھا! پورا باب اسی طرح ہے مولانا، جس غیر منصرف پر بھی الف لام داخل ہو جائے گا اس پر کیا آ سکتا ہے؟ کسرہ، اور جو بھی غیر منصرف جب اس کی اضافت کر دی جائے تو اس پر کیا آ جائے گا؟ کسرہ آ جائے گا۔
سمجھ میں آیا؟ تو یہ میں نے آپ کو بتلایا تھا مولانا شروع کتاب میں کہ یہ الف لام اور اضافت اسم کے بڑے خاصے ہیں۔ الف لام اور اضافت کیا ہیں اسم کے؟ یاد ہے بات یا بھول گئے ہیں بھئی؟ الف لام اور کیوں اسم کے بڑے خاصے اس لیے ہیں مولانا کہ یہ مدلولِ اسم کو بدل دیتے ہیں۔ وہ چیز جس پہ اسم دلالت کر رہا تھا اس کو بدل دیتے ہیں۔ میں کہتا ہوں: جَاءَنِي غُلَامٌ، یہ غُلَامٌ کوئی بھی غلام ہو سکتا ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ غُلَامٌ کا لفظ ہر غلام پر صادق آ سکتا ہے۔ لیکن اب میں کہتا ہوں: الْغُلَامُ، کیا اس سے؟ میرے سامنے 30 غلام مثلاً کھڑے ہیں، اب میں کہتا ہوں: غُلَامٌ، کسی ایک، ہر ایک کیا ہے؟ غُلَامٌ، ہر ایک کیا ہے؟ غُلَامٌ، یہ بھی، وہ بھی، تیسرا بھی، چوتھا بھی، پانچواں بھی غُلَامٌ۔ لیکن میں کہتا ہوں: الْغُلَامُ، کیا اب اس سے ہر غلام مراد ہو سکتا ہے؟ اس سے کوئی خاص غلام مراد ہے مولانا، دیکھو مدلولِ اسم میں تبدیلی آئی یا نہیں آئی؟ پہلے اسم کیا کر رہا تھا؟ اس کا مدلول عام تھا، اب اس کا مدلول کیا بن گیا؟ خاص۔ میں کہتا ہوں اسی طرح میں کہتا ہوں: غُلَامُ زَيْدٍ، اب کیا اس کا اطلاق ہر غلام پہ ہو سکتا ہے؟ تو دیکھو اضافت کی وجہ سے بھی پہلے مدلول عام تھا، اب مدلول کیا بن گیا؟ خاص۔ تو چونکہ یہ الف لام اور اضافت سے مدلولِ اسم بدل جاتا ہے، تو یہ اسم کے بڑے خاصے شمار ہوتے ہیں، سمجھ میں آیا؟
اور چونکہ، تو یہاں پر جب بھی الف لام اور اضافت آئی، یاد رکھو یہ جو کلمے کو ہم غیر منصرف پڑھتے ہیں، وجہ اس کی یہ کہ اس کی مشابہت فعل کے ساتھ آ جاتی ہے۔ کلمے کو غیر منصرف کیوں پڑھتے ہیں؟ اس کی مشابہت کس سے آ جاتی ہے؟ فعل کے ساتھ مشابہت، اور فعل میں کسرہ اور تنوین نہیں، فعل میں جر آتا ہے کبھی؟ حرفِ جر اس پہ داخل ہوتا ہے؟ مضاف الیہ بنتا ہے؟ تو جر تو دو ہی وجہ سے آتا ہے۔ تو فعل پر جر بھی نہیں آ سکتا تھا اور اس پر تنوین بھی نہیں، اسی لیے غیر منصرف پر جر بھی نہیں آ سکتا اور تنوین بھی نہیں، تو جب، تو اسم، فعل سے کیونکہ اس کی مشابہت ہے، لیکن جب اس پر الف لام آ گیا یا جب اس کی اضافت ہو گئی مولانا، تو اسم کا بڑا خاصہ اس، وہاں پر آ گیا مولانا، جب بڑا خاصہ آیا تو وہ مشابہت جو اس کی تھی وہ کمزور پڑ گئی، کیا پڑ گئی؟ کمزور پڑ گئی۔ کمزور پڑ گئی، اب وہ جر کو، جو پہلے نہیں آ سکتا تھا، اب اسم کے ساتھ مشابہت قوی ہوئی اور، ای، اب وہ مشابہت کمزور ہو گئی، تو اسم والی جہت راجح ہو گئی مولانا، اور اسم پہ تو کسرہ آیا کرتا ہے، لہٰذا اب ان پر بھی کیا آ جائے گا؟ کسرہ آ جائے گا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تنوین تو آ نہیں سکتی۔
وَجَمِيعُ الْبَابِ بِاللَّامِ، اور سارا کا سارا باب غیر منصرف کا، سمجھ میں آیا؟ الباب میں الف لام عہدِ خارجی ہے، مراد کون سا باب ہے؟ بَابُ غَيْرِ الْمُنْصَرِفِ۔ تو سارا کا سارا باب غیر منصرف کا جو ہے بِاللَّامِ اس حال میں کہ وہ لام کے ساتھ ہو، أَوْ بِالْإِضَافَةِ یا کس کے ساتھ ہو؟ اضافت کے ساتھ ہو، يَنْجَرُّ مجرور ہوگا، بِالْكَسْرِ کس کے ساتھ؟ کسرہ کے ساتھ۔
سمجھ میں آیا؟ مجرور ہوگا، کس کے ساتھ؟ کسرہ کے ساتھ، کہا یہ صاحبِ کافیہ نے، صرف یہ نہیں کہا يَنْجَرُّ، سمجھ میں آیا؟ کہ صرف اس پہ جر آ جائے گا، کیونکہ جر تو مولانا غیر منصرف پہ بھی آتا ہے۔ مَرَرْتُ بِعُمَرَ، یہ کیا ہے؟ بتائیے، مجرور ہے یا نہیں؟ جر آیا یا نہیں آیا؟ ہاں، جر بصورت کس کے آیا ہے؟ فتحہ کے آیا ہے، جر بصورت کس کے آیا ہے؟ فتحہ، تو مجرور، تو اسی لیے کہا مجرور ہوگا، صرف اسی پہ اکتفا نہیں کیا، بِالْكَسْرِ، کس کے ساتھ مجرور ہوگا؟ کسرہ، باقاعدہ کسرہ کی حرکت اس پر آئے گی۔ سب کو بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے مولانا، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔