سبق نمبر۔۵
والصلاة على من اختص بالخلق العظيم، فتفسير الصلاة واضح، وقوله «على من اختص» كناية عن محمد صلى الله عليه وسلم تنبيهاً على أن كونه مختصاً بالخلق العظيم مما تقرر في الأذهان، حتى لا ينتقل الذهن من هذا الوصف إلى غيره عليه السلام.
والصلاة على من اختص بالخلق العظيم. اور رحمت نازل ہو اس ذات پر «اختص بالخلق العظيم» جو مختص ہے خلق عظیم کے ساتھ بھئی۔ جو مختص ہے؟ خلق عظیم کے ساتھ۔
فتفسير الصلاة واضح. آگے شرح شروع ہو رہی ہے۔ اس شرح کے اندر تین باتیں مصنف بیان کریں گے بھئی۔ ایک تو یہ کہ «من اختص بالخلق العظيم» اس سے کون مراد ہیں؟ اس سے کون مراد ہیں؟ یہ بتلائیں گے۔
دوسری بات، خلق عظیم کا معنی بیان کریں گے۔ اور تیسری بات، خلق عظیم کی مراد بیان کریں گے کہ اس سے مراد کیا ہے بھئی؟ کتنی باتیں بیان ہوں گی؟ تین باتیں۔ سب سے پہلے کہ «من اختص بالخلق العظيم» اس سے کون مراد ہیں؟ اور پھر اس کے بعد خلق عظیم کا معنی بیان ہو گا۔ اور پھر اس کے بعد خلق عظیم کی مراد متعین کریں گے کہ اس سے کیا مراد ہے۔
تو چنانچہ کہتے ہیں بھئی: فتفسير الصلاة واضح. صلاة کی تفسیر واضح ہے، اس کی تفسیر کرنے کی حاجت نہیں۔ اور کتابوں میں آپ کو وہ تفصیل مل جائے گی۔ وقوله «على من اختص» كناية عن محمد صلى الله عليه وسلم.
اور یہ کہتے ہیں ماتن کا قول «على من اختص»، یہ کنایہ ہے محمد صلى الله عليه وسلم سے۔ یہ کنایہ ہے؟ محمد صلى الله عليه وسلم سے۔
کنایہ کہتے ہیں بھئی ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا۔ کنایہ کسے کہتے ہیں؟ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا۔ اس کی آسان مثال: جیسے زید کا مثلاً قد لمبا ہے، تو ایک ہے آپ صراحتاً کہہ دیں "زید لمبے قد والا ہے"، یہ تو آپ نے تصریح کر دی، صراحتاً کیا کہہ دیا؟ زید لمبا ہے۔ اور ایک ہے کہ یہی معنی ادا کریں کنایہ کے رنگ میں، آپ یوں کہیں "زید لمبی قمیص والا ہے"۔ جب قمیص لمبی ہے تو اس کے ساتھ لازم ہے کہ معلوم ہو اس کا قد بھی لمبا ہے۔ تو یہ کنایہ کہلاتا ہے۔
تو آپ نے کیا کہا؟ "زید لمبی قمیص والا ہے" اور آپ کی مراد کیا ہے؟ لمبے قد والا۔ ہاں یہ بتانا مقصد نہیں ہے کہ قمیص لمبی ہے، اگر یہ بتلانا مقصد ہوا پھر تو کنایہ نہ رہا۔ تو یہ معنی بھی آپ لے سکتے ہیں کہ لمبی قمیص والا ہے، آپ کا ارادہ یہ ہے بتلانے کا مقصد یہ ہے، لیکن اگر آپ کا ارادہ کہا آپ نے کہ "زید لمبی قمیص والا ہے" اور ارادہ کیا کیا؟ لمبے قد والا، تو ملزوم بول کر لازم، کیونکہ لمبی قمیص کے ساتھ لازم ہے اس کا قد بھی کیا ہو گا؟ لمبا ہو گا جبھی اس کی قمیص لمبی ہے بھئی۔
تو یہ کنایہ کہلاتا ہے بھئی۔ تو یہاں پر بھی کہ کہتے ہیں «من اختص» یہ کنایہ ہے محمد صلى الله عليه وسلم سے۔ «من اختص» وہ ذات جو مختص ہے، جو مخصوص ہے «بالخلق العظيم» کس کے ساتھ؟ خلق عظیم کے ساتھ۔ تو یہ کنایہ ہے محمد صلى الله عليه وسلم سے۔
سوال پیدا ہوا کہ جب یہ حضور صلى الله عليه وسلم سے کنایہ ہے تو انہوں نے صراحتاً محمد لفظ ہی کو کیوں نہیں ذکر کر دیا؟ حضور صلى الله عليه وسلم کے نام ہی کو کیوں نہیں ذکر کیا؟ یہ «من اختص بالخلق العظيم» کے ساتھ کیوں ذکر کیا؟
کہتے ہیں: تنبيهاً، اس بات پر تنبیہ کرنے کے لیے کہ على أن كونه مختصاً بالخلق العظيم، کہ حضور صلى الله عليه وسلم کا خلق عظیم کے ساتھ مختص ہونا مما تقرر في الأذهان، یہ ان چیزوں میں سے ہے جو بیٹھ چکی ہے، جم چکی ہے ذہنوں کے اندر، حتى لا ينتقل الذهن من هذا الوصف إلى غيره عليه السلام، یہاں تک کہ ذہن منتقل نہیں ہوتا اس وصف سے علاوہ حضور صلى الله عليه وسلم کی طرف۔ حضور کے علاوہ کسی اور کی طرف ذہن منتقل نہیں ہوتا۔
تو یہاں مصنف جو ہیں انہوں نے حضور صلى الله عليه وسلم کا نام ذکر نہیں کیا بلکہ کنایہ کیا، اور کیا کنایہ لے کر آئے؟ «من اختص بالخلق العظيم» لے کر آئے بھئی۔ تو یہ کنایہ ہے حضور صلى الله عليه وسلم سے، اور یہ کنایہ کیوں کیا؟ تاکہ اس بات پر تنبیہ ہو جائے کہ یہ خلق عظیم کے خلق عظیم کے ساتھ مختص ہونا، یہ بات ذہنوں میں جم چکی ہے، ذہنوں میں بیٹھ چکی ہے، سب کے علم میں ہے کہ یہ خلق عظیم کے ساتھ مختص یہ کون سی ذات ہے؟ حضور صلى الله عليه وسلم کی ذات ہی ہے اور کوئی ذات نہیں ہے، لہٰذا یہ بولا جائے تو ذہن صرف حضور صلى الله عليه وسلم کی طرف منتقل ہوتا ہے، ان کی ذات ذہن میں آتی ہے، کسی اور ذات کی طرف ذہن نہیں جاتا بھئی۔ تو چنانچہ وہ کنائے کے رنگ میں لے کر آئے تاکہ حضور صلى الله عليه وسلم کے اس وصف کی طرف اشارہ ہو جائے۔
اگر نام لے آتے تو اس وصف کی طرف اشارہ نہ ہوتا، یوں ہوتا: «والصلاة على محمد»، رحمت ہو کس پر؟ محمد پر۔ لیکن خلق عظیم کے ساتھ آپ مختص ہیں یہ پتہ نہ چلتا۔ لیکن اب کنائے کے رنگ میں عبارت لے کر آئے تو اب یہ تو پتہ چل گیا رحمت حضور صلى الله عليه وسلم پر ہو، لیکن ساتھ یہ بھی علم ہوا کہ حضور صلى الله عليه وسلم کی ذات مختص ہے کس کے ساتھ؟ خلق عظیم کے ساتھ۔
تو کہتے ہیں، دوبارہ دیکھیے: وقوله «على من اختص» كناية عن محمد صلى الله عليه وسلم تنبيهاً على أن كونه مختصاً بالخلق العظيم مما تقرر في الأذهان، حتى لا ينتقل الذهن من هذا الوصف إلى غيره عليه السلام. اور ماتن کا قول «على من اختص» یہ کنایہ ہے محمد صلى الله عليه وسلم سے، تنبیہ کرنے کے لیے اس بات پر کہ حضور صلى الله عليه وسلم کا مختص ہونا خلق عظیم کے ساتھ ان چیزوں میں سے ہے جو بیٹھ چکی ہے، جو جم چکی ہے ذہنوں میں، یہاں تک کہ منتقل نہیں ہوتا ذہن اس وصف سے حضور علیہ السلام کے علاوہ کی طرف۔ حضور کے علاوہ کی طرف ذہن منتقل نہیں ہوتا بلکہ حضور ہی کی طرف منتقل ہوتا ہے۔
والخلق هو ملَكة يصدر عنها الأفعال بسبوعة. یہاں سے خلق کا معنی بیان کر رہے ہیں بھئی۔ بھئی یاد رکھیے، انسان کو جو وصف حاصل ہو وہ ابتداءً "حال" کہلاتا ہے۔ کیا کہلاتا ہے؟ حال کہلاتا ہے۔ حال۔
مثلاً بھئی، آج آپ سبق پڑھتے ہیں اور سبق پڑھتے ہیں، سبق کو آپ نے اچھی طرح سمجھ لیا، تو اب یہ سبق آپ کا حال بن گیا۔ آپ سے کوئی بھی اس مقام کی شرح پوچھے گا، آپ نہایت آسانی سے کر دیں گے کیونکہ اس مقام کی شرح جو ہے وہ آپ کے ذہن میں بیٹھ چکی ہے۔ لیکن دو چار دن گزریں گے تو سب کچھ ذہن سے نکل جائے گا۔ لیکن اگر آپ نے اس مقام کا کئی مرتبہ تکرار کیا تو یہ بات یہ شرح آپ کے ذہن میں پختہ ہو جائے گی۔ اب یہ ملکہ بن گیا آپ کا بھئی۔ اب آپ سے جب بھی کوئی اس کتاب کو اٹھا کر اس مقام کی شرح پوچھے گا، آپ بسہولت اور آسانی کے ساتھ کر لیں گے بھئی۔ تو یہ ہے ملکہ بھئی، کہ وہ وصف آپ کے ساتھ پختہ ہو جائے۔
تو ابتداءً جو وصف حاصل ہو وہ کیا کہلاتا ہے؟ حال۔ اور جو پختہ ہو جائے جو وصف، وہ کیا کہلاتا ہے؟ ملکہ کہلاتا ہے۔ جیسے بھئی، ہر چیز کے ماہرین ہوتے ہیں۔ تو جس چیز کا ماہر ہے اس کا اسے ملکہ حاصل ہے۔ مثلاً آپ تقریر کرتے ہیں، ایک آدھی آپ نے تقریر یاد کی اور تقریر کی بھئی، تو یہ آپ کو تقریر کا ملکہ نہیں ہے بلکہ یہ کیا ہے؟ حال ہے بھئی، وصف آپ کو حاصل ہوا تقریر کا، بیان کا۔ لیکن اگر آپ اسی میں محنت کرتے رہے تو تقریر اور بیان کرنا یہ آپ کا ملکہ بن جائے گا، آپ کو اس میں مہارت حاصل ہو جائے گی، پھر جس وقت جہاں بھی کوئی آپ سے کہے، آپ کیا کر سکیں گے؟ باآسانی بیان کر سکیں گے، تقریر کر سکیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو یہ، تو وہ وصف جو انسان کے ساتھ پختہ ہو جائے اور اس کی وجہ سے پھر وہ افعال وہ والا فعل انسان سہولت سے اور آسانی سے سرانجام دے سکے، اس میں مہارت حاصل ہو جائے، اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ ملکہ کہا جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو یہی بات بیان کر رہے ہیں: والخلق هو ملكة يصدر عنها الأفعال بسهولة، خلق جو ہے وہ ایسا ملکہ ہے کہ صادر ہوتے ہیں، یعنی واقع ہوتے ہیں اس سے افعال آسانی کے ساتھ۔ وہ جس جن افعال کا ملکہ ہے وہ افعال بڑی آسانی اور سہولت سے واقع ہوتے ہیں اس سے۔
والخلق العظيم، جی یہ معنی بیان کر دیا۔ اب خلق عظیم سے کیا مراد ہے؟ وہ بتلانے لگے ہیں۔ والخلق العظيم له على ما قالت عائشة رضی الله تعالى عنها هو القرآن. اور خلق عظیم حضور صلى الله عليه وسلم کے لیے، بناء بر اس کے جو فرمایا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے، وہ قرآن ہے بھئی۔ وہ کیا ہے؟ وہ قرآن ہے۔
بھئی اس پر اشکال ہوتا ہے، بھئی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حضور علیہ السلام کے خلق کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ قرآن ہے۔ تو خلق عظیم سے کیا مراد ہوا؟ قرآن۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بھئی قرآن تو کلام اللہ ہے، اللہ کی صفت ہے، اللہ کی ذات کے ساتھ قائم ہے، تو حضور علیہ السلام کے ساتھ کے لیے ہونے کا کیا معنی؟ شارح بتلا رہے ہیں: يعني أن العمل بالقرآن كان جبلة له من غير تكلف، یعنی قرآن پر عمل جو ہے وہ مراد ہے۔ قرآن پر عمل، یعنی قرآن میں جو چیزیں بیان کیں اور جن چیزوں کا حکم دیا اللہ تعالیٰ نے، حضور صلى الله عليه وسلم کی زندگی میں وہ سب چیزیں موجود تھیں، آپ ان سب پر جیسا جیسا اللہ کا حکم ہوتا بعینہِ اسی اللہ کے حکم پر چلا کرتے تھے۔ گویا قرآن کی ایک چلتی پھرتی تفسیر تھے بھئی۔
يعني أن العمل بالقرآن كان جبلة له، جبلة، جیم کے نیچے بھی کسرہ ہے، با کے نیچے بھی کسرہ بھئی، اور لام مشدد ہے۔ جبلت کہتے ہیں بھئی فطرت کو، فطرت کو۔ فطرت کو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ فطرت کو۔
فطرت بھئی، بعض چیزیں اللہ نے پیدائشی کسی کے اندر رکھی ہوں وہ فطرت کہلاتی ہے اس کی۔ مثلاً بھئی دیکھیے، پرندوں پرندوں ہی کو دیکھ لیجیے، پرندے کیا کرتے ہیں؟ گھونسلا بناتے ہیں۔ کیا یہ گھونسلا بنانے کی کوئی تربیت کسی نے ان کو دی ہے؟ نہیں بھئی، ان کی اللہ نے فطرت میں رکھ دیا ہے، جب انڈے دینے کا وقت آتا ہے وہ خود پرندہ گھونسلا بنانا شروع کر دیتا ہے، اس کی فطرت میں اللہ نے رکھا ہے، کوئی اس کا استاد نہیں، کوئی سکھانے والا نہیں۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ ہے فطرت بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں: أن العمل بالقرآن كان جبلة له، کہ قرآن پر عمل حضور صلى الله عليه وسلم کی فطرت تھا، یعنی مزاج تھا، یہاں کیا معنی کر لیں؟ مزاج۔ حضور علیہ السلام کا مزاج تھا من غير تكلف بغیر کسی تکلف کے بھئی، بغیر کسی بغیر کسی تکلف کے بھئی۔ جب ایک چیز مزاج کا حصہ بن جائے تو اس پر عمل انسان کے لیے دشوار نہیں رہتا، اسی طرح قرآن پر عمل جو ہے حضور صلى الله عليه وسلم کا مزاج بن چکا تھا بھئی، تو آپ بغیر تکلف کے اس پر کیا کرتے تھے؟ عمل کرتے تھے۔
وقيل، یہ ایک قول ذکر کر دیا کہ خلق عظیم سے کیا مراد ہے؟ قرآن، یعنی عمل بالقرآن بھئی۔ وقيل هو الجود بالكونين والتوجه إلى خالقهما. اور کہا گیا ہے کہ خلق عظیم جو ہے وہ دونوں جہانوں کی سخاوت ہے، جود کہتے ہیں سخاوت کو۔ وہ سخاوت ہے بالكونين دونوں جہانوں کی، یعنی دنیا اور آخرت کی۔
یہ خلق عظیم کا دوسرا معنی بیان کر رہے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے، دوسری مراد ذکر کر رہے ہیں: هو الجود بالكونين، وہ سخاوت کرنا ہے دونوں جہان کی، دونوں جہان میں، والتوجه إلى خالقهما، اور توجہ کرنا ہے دونوں جہان کے خالق کی طرف بھئی۔
تو حضور علیہ السلام مختص ہیں خلق عظیم کے ساتھ، یعنی وہ دونوں جہان میں سخاوت کرنے والے ہیں اور متوجہ رہنے والے ہیں کس کی طرف؟ خالق کی طرف بھئی۔
تو حضور علیہ السلام کی ذات سخاوت کا سرچشمہ ہے، اس دنیا کے اندر بھی ان کی سخاوت وہ سخاوت فرماتے رہے اور ان کی سخاوت آج تک جاری ہے، اور آخرت میں بھی سخاوت فرمائیں گے۔ دنیا کے اندر مالی اعتبار سے بھی سخاوت فرماتے تھے، خود بھوکے رہتے تھے، جو کچھ ہوتا دوسروں کو کھلا دیتے تھے، مال غنیمت آتا تھا تو سارا وہیں پر تقسیم فرما دیتے مسلمانوں اور غرباء کے اندر، اور گھر کے اندر کوئی درہم وغیرہ باقی رہ جاتے رات تک تو آپ کو نیند نہیں آتی تھی، آپ کی سخاوت کا یہ حال تھا بھئی۔
اور اس کے ساتھ ساتھ وعظ و ارشاد اور دعوت وغیرہ کی صورت میں بھی آپ نے آپ اپنے خزانے لٹاتے رہے اور اللہ کے احکام پہنچاتے رہے، اور یقیناً یہ بہت بڑے خزانے ہیں کہ جن کی وجہ سے جن پر عمل کر کے انسان جنت کو حاصل کرتا ہے اور اللہ کے انعامات کا مستحق بن جاتا ہے، تو دنیا کے اندر بھی آپ خزانے لٹاتے رہے مالی اعتبار سے بھی اور وعظ و ارشاد کی صورت میں بھی خزانے لٹاتے رہے، اور آخرت کے اندر بھی آپ کی سخاوت جاری ہو گی، آپ مسلمانوں کو آب کوثر پلائیں گے اور مسلمانوں کی شفاعت فرمائیں گے اور انہیں اپنے ساتھ جنت میں لے کر جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی حضور صلى الله عليه وسلم کی شفاعت نصیب فرمائے اور حوض کوثر سے پانی کا پینا نصیب فرمائے بھئی۔
والتوجه إلى خالقهما. وقيل هو الجود بالكونين، دونوں جہان کی سخاوت، یہ بھی حضور صلى الله عليه وسلم میں وصف تھا، والتوجه إلى خالقهما، اور دونوں جہان کے خالق کی طرف متوجہ رہنا، حضور علیہ السلام بھی ہر آن اپنے خالق کی طرف متوجہ رہتے تھے، کوئی ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرتا تھا جس میں آپ اپنے خالق کی یاد سے غافل ہو جائیں۔ تو خلق عظیم کی تیسری مراد کیا ہے؟ کہ دونوں جہان میں سخاوت کرنا اور دونوں جہانوں کے خالق کی طرف متوجہ رہنا۔ اوریہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا وصف ہے بھئی۔
معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں: وقيل هو الجود بالكونين. اور کہا گیا ہے وہ دونوں جہان کی سخاوت ہے والتوجه إلى خالقهما. اور توجہ کرنا ہے دونوں جہان کے خالق کی طرف۔ یہ دوسرا معنی بیان ہوا بھئی۔
وقيل هو ما أشار إليه عليه السلام بقوله: "صل من قطعك، واعف عمن ظلمك، وأحسن إلى من أساء إليك." اور کہا گیا ہے کہ خلقِ عظیم وہ چیز ہے أشار إليه عليه السلام، جس کی طرف اشارہ فرمایا خود حضور علیہ السلام نے اپنے اس قول کے ساتھ: "صل من قطعك" وصل یصل سے امر ہے صل، جوڑنا، جوڑو۔ صل، تو جوڑ من، اس شخص کے ساتھ قطعك، جو تجھ سے قطع کرے، یعنی جو تجھ سے تعلق جوڑے، توڑے، تو اس کے ساتھ تعلق کو جوڑو۔ واعف عمن ظلمك، اور تو معاف کر عمن، اس شخص کو ظلمك، جو تجھ پر ظلم کرے۔ وأحسن إلى من أساء إليك، اور تو احسان کر اس شخص کے ساتھ أساء إليك، جس نے تمہارے ساتھ برائی کی بھئی، جس نے تمہارے ساتھ برائی کی بھئی۔
تو سمجھ میں آیا بھئی؟ تو خلق کے تین درجے ہو گئے۔ بھئی، یہ بھی اچھا خلق ہے کہ جو برائی کرتا ہے، اس کا بدلہ برائی کے ساتھ دیا جائے۔ لیکن اس سے اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ جو برائی بھی آپ کے ساتھ کرے، آپ اسے معاف کر دیں۔ اور سب سے اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ جو آپ کے ساتھ برائی بھی کرے، آپ اس کے ساتھ احسان اور نیکی کریں بھئی۔ اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق تھا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو تیسرا معنی بیان کیا، کہتے ہیں: قيل هو ما أشار إليه عليه السلام بقوله کہ وہ ہے جس کی طرف اشارہ فرمایا حضور علیہ السلام نے اپنے قول کے ساتھ، اس قول کے ساتھ: "صل من قطعك" کہ تعلق کو جوڑ اس سے جو تجھ سے تعلق کو توڑے، واعف عمن ظلمك اور معاف کر اس شخص کو جو تجھ پر ظلم کرے، وأحسن إلى من أساء إليك اور احسان کر، نیکی کر اس شخص کے ساتھ جو تیرے ساتھ برائی کرے۔
دو تین قول ذکر کر دیے کہ خلقِ عظیم سے کیا مراد ہیں؟ والأصح اور شارح فرماتے ہیں سب سے صحیح یہ ہے کہ إن الخلق العظيم خلقِ عظیم جو ہے وہ هو السلوك إلى ما يرضى عنه الله تعالى والخلق جميعا. وہ چلنا ہے إلى ما، اس راستے کی طرف، یعنی اس راستے پر يرضى عنه الله تعالى کہ اس سے اللہ بھی راضی ہو جائیں، والخلق جميعا اور مخلوق بھی۔ اللہ اور مخلوق سب کے سب اس سے کیا ہو جائیں؟ راضی ہو جائیں بھئی۔
اس طریقے پر چلنا، اس طریقے پر زندگی گزارنا وهو وهذا غريب جدا. اور یہ انتہائی نادر ہے بھئی، اور یہ انتہائی نادر ہے بھئی۔
شارح فرماتے ہیں اصح قول کیا ہے؟ خلقِ عظیم وہ ہاں، چلنا ہے اس راستے پر جس سے اللہ بھی راضی ہو جائیں، اللہ اور مخلوق دونوں راضی ہو جائیں، اور یہ بڑا ہی مشکل کام ہے بھئی۔ خالق کو راضی کرتے ہیں تو مخلوق ناراض ہوتی ہے، مخلوق کو راضی کرتے ہیں تو خالق ناراض ہوتا ہے۔ اور کوئی ایسا ایسا راستہ اس طریقے پر چلنا کہ جس سے خالق اور مخلوق دونوں راضی ہوں، کہتے ہیں یہ انتہائی نادر ہے، یہ وصف کسی کے اندر نہیں پایا جاتا، یہ صرف کس کے اندر ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر کامل درجے میں موجود ہے۔
تو کہتے ہیں: وهذا غريب جدا. یہ وصف جو ہے، یعنی اس طرح کا طریقہ اپنانا، اس طرح زندگی گزارنا، یہ جو معنی بیان ہوا تیسرا، آخری، کہتے ہیں: غريب جدا، یہ بڑا ہی نادر ہے۔
وهو تلميح إلى قوله تعالى اور کہتے ہیں یہ جو ماتن کا قول ہے: "من اختص بالخلق العظيم" جو آیا تھا، کہتے ہیں یہ اشارہ ہے إلى قوله تعالى، اللہ تعالی کے اس قول کی طرف: "وإنك لعلى خلق عظيم" اے پیغمبر! البتہ آپ خلقِ عظیم کے وصف پر ہیں۔ جو قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: "وإنك لعلى خلق عظيم" اس کی طرف اشارہ ہے، تلمیح ہے۔ تلمیح میں نے کل آپ کو بتلایا تھا بھئی، تلمیح کسے کہتے ہیں؟ کہ اپنے کلام کے اندر کسی شعر کی طرف یا کسی واقعے کی طرف یا کسی ضرب المثل کی طرف یا کسی آیت یا حدیث کی طرف اشارہ کرنا۔ تو یہاں بھی وہی الفاظ ہیں، خلقِ عظیم کے۔ جی۔
آگے ایک اشکال کا جواب دے رہے ہیں بھئی۔ اشکال یہ کہ اللہ نے تو قرآن میں فرمایا ہے: "وإنك لعلى خلق عظيم" اے پیغمبر! آپ خلقِ عظیم پر ہیں۔ یہ تو نہیں فرمایا کہ خلقِ عظیم آپ ہی کے ساتھ خاص ہے، کسی اور میں یہ وصف موجود نہیں۔ اور ماتن نے تو اوپر کہا: "من اختص بالخلق العظيم" انہوں نے تو اختصاص کو ذکر کیا، تو قرآن میں اختصاص نہیں اور متن میں اختصاص ہے، تو پھر یہ کیسے اس کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے؟ اس میں تو اختصاص کا ذکر ہے اور آپ کہہ رہے ہیں یہ قرآن کی طرف اشارہ، اور قرآن میں تو اختصاص کا ذکر نہیں۔
کہتے ہیں: وهو، اور یہ جو آیت جو ہے، یہ اللہ تعالی کا قول جو ہے: وإن لم يدل على الاختصاص لكن لما كان في محل المدح اختص به. یہ اگرچہ اختصاص پر دلالت نہیں کرتی، یہ اللہ کا یہ قول اگرچہ اختصاص پر دلالت اس میں اختصاص کا ذکر نہیں ہے، لكن لما كان في محل المدح لیکن یہ جب محلِ مدح کے اندر ہے یہ آیت بھئی، اللہ تعالی یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح فرما رہے ہیں، اور مدح ایسے ہی وصف پر کی جاتی ہے جو غیروں کے اندر نہ پایا جائے بھئی۔ جو غیروں کے اندر جب غیروں کے اندر حضور کے لیے اللہ فرما رہے ہیں کہ آپ خلقِ عظیم پر ہیں، تو اگر یہ باقیوں کے اندر بھی پایا جائے تو یہ تو کوئی ایسے اونچے درجے کی مدح نہ ہوئی، اور اللہ مدح فرما رہے ہیں، خالق مدح فرما رہا ہے، یقیناً مدح بھی انتہائی اعلیٰ درجے کی، اور اعلیٰ درجے کی مدح یہی، معلوم ہوا یہ وصف کسی اور میں نہیں، جبھی تو خالق اس وصف کے ساتھ اپنے محبوب کی تعریف فرما رہے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو کہتے ہیں: وإن لم يدل على الاختصاص اور یہ اللہ کا قول اگرچہ یہ اختصاص پر دلالت نہیں کرتا، لكن لما كان في محل المدح اختص به. لیکن جب یہ مدح کے مقام میں آیا اللہ کا یہ قول، اختص به، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وصف کے ساتھ خاص ہیں۔
وعلى آله الذين قاموا بنصرة الدين القويم.
اور جی، وعلى آله، اس کا عطف اوپر على من پر ہے، على من اختص پر ہے۔ اور رحمت نازل ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر، وہ آل الذين قاموا، جو اٹھے بنصرة الدين القويم، دینِ قویم کی نصرت کے ساتھ۔ جو سیدھے اور متوسط دین جو ہے، جو مضبوط دین ہے، قویم، مضبوط بھئی۔ مضبوط دین کی نصرت کے ساتھ کھڑے ہوئے، یعنی مضبوط دین کی نصرت انہوں نے سرانجام دی بھئی۔
تو رحمت نازل ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس آل پر بھی جو دینِ، جو مضبوط دین کی نصرت جنہوں نے سرانجام دی۔ جی، میں نے آپ کو کیا بتلایا؟ وعلى آله کا عطف کس پر ہے؟ على من اختص پر۔ شارح بھی یہی بتلا رہے ہیں آپ کو آگے، کہتے ہیں: عطف على قوله على من اختص. یہ عطف ہے ماتن کے قول على من اختص پر۔
آگے شارح تین چار سطریں جو ہیں "ثم اعلم" سے پہلے تک، تین چار سطروں کے بعد آ رہا ہے "ثم اعلم"، اس سے پہلے تک یہ جو چار پانچ سطریں ہیں، اس میں متن میں "آله" آیا، تو وہ لفظِ آل کا معنی بیان کریں گے۔ اور، اور اس کہ اس سے کیا مراد، اس کی مراد بیان کریں گے کہ اس سے کون کون مراد ہیں؟ اور پھر بتلائیں گے یہاں کون سا معنی مراد لینا زیادہ مناسب ہے بھئی۔ اور پھر اس کے بعد متن میں دین کا لفظ آیا، تو دین کا معنی بتلائیں گے اور یہ بتلائیں گے کہ دینِ قویم سے کیا مراد ہے بھئی۔
کہتے ہیں: والآل أهل بيته أو عترته أو كل مؤمن تقي. اور آل جو ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے أهل بيته، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے ہیں۔ میں نے شروع میں کئی اقوال آپ کو بتلائے تھے کہ اس میں علماء کے 15، 20 اقوال یا اس سے بھی زائد اقوال ہیں بھئی۔ حضور علیہ السلام کے گھر والے ہیں، یعنی حضور علیہ السلام کی ازواج بھئی۔ أو عترته، یا حضور علیہ السلام کی اولاد بھئی۔ عترت کسے کہتے ہیں؟ اولاد کو بھئی، یا حضور علیہ السلام کی اولاد مراد ہے۔ أو كل مؤمن تقي، یا ہر متقی مومن مراد ہے۔ یہ تین مشہور معنی جو تھے، وہ ذکر کر دیے۔ کہتے ہیں: وهو الأنسب هاهنا، اور یہاں پر یہ تیسرا معنی مناسب ہے۔ یا اس سے مراد ہر متقی مومن ہے اور یہی یہاں پر زیادہ مناسب ہے لأن المصنف رحمه الله لم يتعرض لذكر الأصحاب في الصلاة، فكان الأولى هو التعميم.
شارح بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے علماء کا یہ طریقہ ہے کہ وہ صلاۃ و سلام میں پیغمبر علیہ السلام کے ساتھ ساتھ صحابہ کو بھی ذکر کرتے ہیں، اور یہاں پر انہوں نے صحابہ کو ذکر نہیں کیا، تو آل کا کوئی ایسا معنی کر لیں جس سے وہ صحابہ بھی اس کے اندر داخل ہو جائیں۔ تو جب ہم نے آل کا کیا معنی کر لیا؟ ہر متقی مومن، تو اب صحابہ بھی داخل ہوئے، کیونکہ صحابہ تقویٰ کے اعتبار سے باقی سب سے اونچا درجہ رکھتے ہیں بھئی، تو وہ سب سے پہلے وہ داخل ہوئے اس میں بھئی۔
تو کہتے ہیں، یہ معنی یہ تیسرا معنی یہاں پر مناسب ہے: لأن المصنف رحمه الله لم يتعرض لذكر الأصحاب في الصلاة، کیونکہ مصنف رحمہ اللہ وہ درپے نہیں ہوئے، پیچھے نہیں پڑے صحابہ کے ذکر کے صلاۃ میں، مصنف صلاۃ میں صحابہ کے ذکر کے پیچھے نہیں پڑے یعنی ان کو ذکر نہیں فرمایا، فكان الأولى هو التعميم، تو بہتر وہ تعمیم ہے کہ عموم پیدا کیا جائے، ایسا معنی لیا جائے کہ صحابہ بھی اس میں شامل ہو جائیں بھئی، شامل ہو جائیں۔
اب دین کا معنی بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: والدين هو وضع إلهي سائق لذوي العقول باختيارهم المحمود إلى الخير بالذات، وهو يشمل العقائد والأعمال. اچھا، إلى الخير بالذات، یہاں تک دین کی تعریف ہے بھئی۔ کہتے ہیں: والدين هو وضع، وضع طریقہ بھئی۔ والدين هو وضع إلهي، وہ طریقہ ہے إلهي، جو الٰہ، معبود کی طرف منسوب ہو۔ إلهي، جو الٰہ کی طرف منسوب ہو بھئی۔ لاہوری کا کیا معنی؟ جو لاہور کی طرف منسوب ہو۔
تو چاہے وہ کوئی انسان ہو، چاہے کوئی اور چیز ہو، تو جب آپ نے کہا لاہوری، معلوم ہوا یہ چیز کس کی طرف منسوب ہے؟ لاہور۔ تو یہاں پر بھی الٰہ کے ساتھ یاءِ مشدد نسبت کے لیے بڑھا دی، وہ طریقہ جو معبود کی طرف منسوب ہو، معبود کی طرف جس کی نسبت کی جاتی ہو، سائق لذوي العقول.
بھئی، ایک ہوتا ہے ساق يسوق، اسی سے ہے سائق، اور ایک ہے قاد يقود، اور اسی سے ہے قائد۔ تو کوئی جانوروں کو جو مثلاً ہانک کر لے کر جاتے ہیں، تو وہ اگر وہ ہانکنے والا پیچھے ہے، جانور آگے ہیں، تو اس کو کہتے ہیں سائق۔ کیا کہتے ہیں؟ سائق۔ اور اگر لے جانے والا آگے ہے، جانور پیچھے ہیں، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قائد بھئی۔ اور اسی سے قائد بھی ہے، قوم کا قائد، وہ بھی چونکہ قوم کے آگے چلتا ہے، ساری قوم اس کے پیچھے چلتی ہے اس کے طریقے پر، تو اسی سے وہ قائد بھی ہے عام جو استعمال کرتے ہیں لفظ بھئی آپ۔
تو یہاں سائق کا معنی، سائق کا معنی ہوئے ہانکنے والا، مراد ہے لے جانے والا۔ تو کہتے ہیں: والدين هو وضع إلهي سائق لذوي العقول، دین وہ طریقہ ہے جو معبود کی طرف منسوب ہو اور لے جانے والا ہو عقل والوں کو باختيارهم المحمود، ان کے پسندیدہ اختیار کے ساتھ إلى الخير بالذات، خیر بالذات کی طرف۔
بھئی، ذوی العقول، عقل والے، یعنی انسان۔ یہ دین وہ طریقہ ہے جس کی نسبت کس کی طرف کی جاتی ہے؟ معبود کی طرف، کہ یہ اللہ کا بتلایا ہوا طریقہ ہے بھئی۔ اور یہ دین لے جاتا ہے عقل والوں کو کس طرف؟ خیر بالذات کی طرف، اور کس کے ساتھ؟ ان، یہ اپنے اختیار پر دین پر انسان اختیار کے ساتھ چلتا ہے یا غیر اختیاری طور پر؟ اپنے اختیار، انسان کو پورا پورا اختیار ہے کہ اس راستے کو، پر چلے یا اس راستے پر نہ چلے۔ چنانچہ یہی دیکھتے ہیں آپ شریعتِ محمدی کے اندر بھی۔ الحمدللہ! اللہ نے ہمیں یہ راستہ، اس راستے پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائی اور ہمیں پیدائشی طور پر دین، یہ دینِ اسلام نصیب فرمایا، اور پھر مسلمانوں میں سے بھی اہل حق میں سے الحمدللہ ثم الحمدللہ اللہ نے ہمیں پیدا فرمایا۔ جبکہ کفار کو آپ دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے اختیار کو اس راستے پر چلنے کے بجائے غلط راستوں پر چلنے کے لیے استعمال کرتے ہیں بھئی، غلط راستوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ تو یہ جو دین پر چلا جاتا ہے، کس طریقے پر چلا جاتا ہے؟ اپنے اختیار، اور یہ جو اختیار ہے، یہ پسندیدہ ہے یا غیر پسندیدہ ہے یہ جو دین پر چلتا ہے انسان؟ یہ پسندیدہ ہے، دین پر نہیں چلتا تو یہ کیا ہے؟ یہ ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے، اور دین پر چلا جائے تو اس کو پسندیدہ، اسی لیے کہا: باختيارهم المحمود، کہ ان کا وہ اختیار جو محمود ہے، جس کی تعریف کی گئی ہے یعنی قابلِ تعریف اختیار کے ساتھ عقل والوں کو یہ دین لے جاتا ہے إلى الخير بالذات، کس کی طرف؟ خیر بالذات کہ وہ چیز جو اپنی ذات کے اعتبار سے خیر ہے یعنی اللہ کی رضا مراد ہے۔ یہ دین کہاں تک لے جانے والا ہے؟ اللہ کی رضا تک بھئی، اس پر جب چلے گا انسان تو اللہ تعالیٰ کی رضامندی اسے حاصل ہو جائے گی۔ تو اللہ کی رضا اپنی ذات کے اعتبار سے خیر ہے، جی، اور بعض چیزیں واسطے کے اعتبار سے خیر ہوتی ہیں، جیسے جنت ہے مولانا، جنت بھی خیر ہے، لیکن اپنی ذات کے اعتبار سے؟ نہیں، بلکہ اس لیے یہ واسطہ ہے بیچ میں کہ یہ اللہ کی رضا کا مقام ہے۔ اللہ کی رضا کا مقام ہے، اگر یہ اللہ کی رضا کا مقام نہ ہوتا تو اس میں خیر بھی نہ ہوتی، تو اس میں خیر اس کی اپنی ذات کی وجہ سے ہے یا واسطے کی وجہ سے آئی؟ واسطے، اور وہ واسطہ کیا ہے؟ اللہ کی رضا بھئی، تو یہ اللہ کی رضا کا مقام ہے بھئی۔ تو لہٰذا خیر کبھی واسطے کے ساتھ ہوگی اور کبھی خیر اپنے ذات کے اعتبار سے، اور وہ اللہ کی رضا بھئی۔
تو کہتے ہیں دوبارہ ترجمہ سن لیجیے: والدين هو وضع إلهي، دین وہ طریقہ ہے جو اس کی نسبت معبود کی طرف کی جاتی ہو، لے جانے والا ہو لذوی العقول، عقل والوں کو باختیارہم المحمودِ، ان کے پسندیدہ اختیار کے ساتھ، ان کے قابلِ تعریف اختیار کے ساتھ۔
إلى الخير بالذاتِ خیر، کس کی طرف؟ خیرِ بالذات کی طرف، یعنی اللہ کی رضا کی طرف۔
وہو یشمل العقائد والأعمالَ، اور دین جو ہے وہ شامل ہوتا ہے عقیدوں کو بھی اور اعمال کو بھی۔ دین صرف عقیدے کا نام بھی نہیں، دین صرف اعمال کا نام بھی نہیں، بلکہ اس میں عقیدہ اور اعمال دونوں داخل ہوتے ہیں۔ جیسے دینِ اسلام میں دیکھ لیجیے بھئی، عقیدہ بھی ہو اور کہ اللہ ایک ہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری پیغمبر ہیں، قیامت قائم ہوگی، جنت ہے، جہنم ہے، وغیرہ بھئی۔ اور اعمال بھی ہیں اس کے اندر اللہ کے بتلائے ہوئے کہ نماز پڑھو، روزے رکھو، زکوۃ ادا کرو، حج کرو، وغیرہ بھئی۔
تو دین کیا ہوتا ہے؟ عقیدوں اور اعمال دونوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
جی، ویطلق علی کل دینِ۔
بئی یہاں سے اب وہ اعتراض ایک ہوتا ہے بھئی کہ آپ نے دین کی تعریف کر دی اور یہ تو ہر دین پر صادق آتا ہے اور پیچھے تو آیا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جو آل ہیں، انہوں نے دین کی نصرت سرانجام دی۔ دین کی نصرت کی بئی اور انہوں نے ہر دین کی نصرت کی ہے یا صرف اسی دین کی نصرت کی ہے بئی؟ جسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آل نے کس کی نصرت کی ہے؟ اسی کی، سمجھ میں آیا؟ پہلے تو وہ موجود ہی نہیں تھے بھئی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں تو تھے ہی نہیں، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں تھے ہی نہیں، تو انہوں نے نصرت کس دین کی کی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جو دین لائے، یعنی دینِ اسلام۔
اور ابھی تک جو تشریح ہوئی، اس کے مطابق دین کی تشریح کر دی اور دین تو پھر ہر دین پر صادق ہوا، تو معنیٰ یہ کیا بن گیا کہ انہوں نے ہر دین کی نصرت کی، حالانکہ یہ معنیٰ تو درست نہیں، تو آگے بتلائیں گے کہ بھئی یہ جو القویم کی صفت آگے آگئی، دین کے آگے قویم، سیدھا دین ہو، تو اس کے ذریعے اب کس کی طرف اشارہ ہوگیا؟ اسلام کی طرف کہ انہوں نے دینِ قویم، بھئی جو سیدھا دین ہے،
تو جواب اس کا دینے لگے ہیں۔
کہتے ہیں، ویطلق علی کل دینِ، اور اس کا اطلاق ہر دین پر ہوتا ہے، والإسلام ہو الدین المخصوص لمحمد صلی اللہ علیہ وسلم، اور اسلام وہ دین ہے جو مخصوص ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، ان کے ساتھ خاص ہے، ولعل فی وصفہ بالقویم إشارۃ إلیہِ، اور کہتے ہیں شاید یہ جو دین کو موصوف کیا قویم کے ساتھ، اس میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔
کس کی طرف؟ اسی کی طرف اشارہ ہے، لأن دین الإسلام ہو الموصوف بالاستقامۃِ، اس لیے کہ کیونکہ دینِ اسلام ہی استقامت کے ساتھ موصوف ہے۔ دینِ مستقیم کہا جائے، تو اس سے کیا مراد لیا جاتا ہے؟ حضور علیہ السلام کا دین مراد لیا جاتا ہے۔ تو ماتن نے بھی الدین کے ساتھ القویم کی صفت بڑھا دی اسی مقصد کے لیے، کیونکہ تاکہ صرف کون سا دین باقی رہے اس میں؟ صرف حضور علیہ السلام کی شریعت اس میں باقی رہے اور باقی اس سے خارج ہو جائیں، جیسے کہ صراطِ مستقیم کے اندر آپ پڑھ چکے ہیں کہ اس کا پہلا مصداق انہوں نے کیا بیان کیا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت ہے بھئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دین میں افراط تھا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دین میں تفریط تھی، اور یہ ہے متوسط اور سیدھا دین۔ تو یہاں پر بھی کہاں بالنسرۃ الدین القویم، قویم کی صفت ساتھ بڑھا دی، تو معلوم ہوا دین سے اب یہاں ہر دین مراد نہ رہا، بلکہ صرف دینِ قویم مراد ہوا، اور دینِ قویم کون سا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دین بھئی۔
تو یہی بات کہہ رہے ہیں، ولعل فی وصفہ بالقویم إشارۃ إلیہِ، اور شاید اس دین کو موصوف کرنے میں قویم کے ساتھ، إشارۃ إلیہِ، اسی دین کی طرف اشارہ ہے، لأن دین الإسلام ہو الموصوف بالاستقامۃِ، اس سے کیونکہ دینِ اسلام ہی موصوف ہوتا ہے، موصوف ہے استقامت کے ساتھ بھئی۔
ثم اعلم أن اصول الفقہ لہ حد اضافی وحد لقبی و غایۃ وموضوع۔
پھر تم جان لو کہ یہ جو اصولِ فقہ ہے، اس کے لیے حدِ اضافی بھی ہے، حدِ اضافی ہے اور حدِ لقبی ہے، اور غایہ ہے، اور موضوع ہے۔
بھئی دیکھیے، اصولِ فقہ کی تعریف، موضوع، غرض و غایت، یہ ایک علم ہے، نیا علم ہے۔ تو کتاب سے پہلے مصنف کو کیا کرنا چاہیے بھئی، یہاں پر؟ جی؟ تعریف، موضوع اور غرض و غایت کو ذکر کرنا چاہیے۔ لیکن، آپ کو شارح بتلائیں گے بھئی کہ ہاں یہ چیزیں ہونی چاہییں، لیکن چونکہ مصنف نے ذکر نہیں کیں، ماتن نے ذکر نہیں کیں، اس لیے ہم نے بھی اسی طرح چھوڑ دیا، جس طرح ماتن نے ان کو چھوڑ دیا تھا، ہم نے بھی اسی طرح اس کو چھوڑ دیا۔
اور میں نے آپ کو کتاب کے شروع میں لکھوا دی تھیں بھئی۔ علمِ اصولِ فقہ کسے کہتے ہیں؟ ہو علم بالقواعد یتوصل بہا إلى استنباط الاحکام الشرعیۃ الفرعیۃ من ادلتہا التفصیلیۃ۔
یہ تعریف ہے بھئی۔ اب یاد رکھیے بھئی، میں نے وہاں مختصر بات کی تھی تاکہ آپ تشویش میں نہ پڑیں۔ یاد رکھیے اصولِ فقہ، علمِ اصولِ فقہ کی دو تعریفیں کی جاتی ہیں۔
ایک حدِ لقبی ہے، ایک حدِ اضافی ہے۔ حد کہتے ہیں تعریف کو، جامع مانع تعریف کو کیا کہتے ہیں؟ حد۔ حدِ لقبی ہم نے کر دی، اس علم کا کیا نام ہے؟ اصول الفقه، اور اصول الفقه کی میں نے ایک ہی تعریف کر دی۔
یہ کیا ہے؟ حدِ، اس علم کا لقب کیا ہے؟ اصولِ فقہ۔ یعنی اس کا نام کیا ہے، ان کو آسان لفظوں میں، اس علم کا نام کیا ہے؟ اصولِ فقہ، حالانکہ اصول الفقه دو لفظ ہیں، لیکن دونوں کے مجموعے کی ایک، کیا کر دی میں نے؟ ایک ہی تعریف آپ کو شروع میں لکھوائی تھی، یہ کون سی تعریف ہے؟ حدِ لقبی ہے بھئی۔ ایک حدِ اضافی ہے بھئی، اضافت کے اعتبار سے جو تعریف ہے، یعنی مضاف، اصول کی الگ تعریف کی جائے اور فقہ کی الگ تعریف کی جائے، وہ کیا کہلاتی ہے؟ حدِ اضافی بھئی، اضافت کے اعتبار سے۔
تو آپ دیکھیے اصول الفقه، حدِ اضافی بھی ہم کر لیتے ہیں، آسان سی ہے۔ کیسے؟ اصول جمع ہے کس کی؟ اصل کی، اور اصل کسے کہتے ہیں؟ بھئی اصل کے کئی معانی بیان کیے ہیں علماء نے، بس آپ ایک دو معنیٰ یاد رکھیں، کافی ہیں۔
نمبر ایک، اصل کہتے ہیں ما یبتنی علیہ غیرہ، وہ چیز جس پر غیر کو بنایا جائے۔ وہ جس پر کیا کیا جائے؟ دوسری چیز کو اوپر بنایا جائے، اس کے اوپر رکھا جائے بھئی۔
یعنی بنیاد کہہ لو بھئی۔ بنیاد کو، اصل کا کیا معنیٰ ہوا؟ بنیاد، یعنی جس پر دوسری چیز بنائی جائے۔
پھر یہ جو دوسری چیز کا بنانا ہے پہلی چیز پر، یہ بنانا، یہ ابت، یہ حسی بھی ہو سکتا ہے، آنکھوں سے نظر آئے، اور عقلی بھی ہو سکتا ہے کہ آنکھوں سے دکھائی نہ دے۔ جیسے دیکھیے بھئی، یہ چھت کس پر بنائی گئی ہے؟ دیواروں پر، کس پر؟ دیواروں پر، تو کہیں گے یہ دیواریں چھت کے لیے اصل ہیں۔
اصل کس کو کہتے ہیں؟ بنیاد کو، تو چھت کی بنیاد کس پر ہے؟ دیوار پر، تو دیواریں کیا ہوئیں چھت کے لیے؟ اصل ہوئیں، یا یوں کہو دیوار کا اوپر والا حصہ، اس کو بنایا گیا ہے دیوار کے کون سے حصے پر؟ نیچے والے حصے پر، تو نچلا حصہ کیا ہوا اوپر کے لیے؟ اصل ہوا بنیاد، اور یہ ایک حصے کو دوسرے پر جو بنایا گیا ہے، یہ آنکھوں سے دکھائی دے رہا ہے یا نہیں دکھائی دے رہا؟ دے رہا ہے، تو یہ ابتناءِ حسی ہے، یہ کیا ہے ابتناءِ حسی، یعنی جو آنکھوں سے دکھائی دے رہی ہے، حساً دیکھ رہے ہیں، تو اس کا مشاہدہ ہو رہا ہے بھئی۔
اور ایک کیا ہے؟ ابتناءِ عقلی، جیسے حکم اس کی بناء ہوتی ہے دلیل پر بھئی۔
دلیل آ جائے تو کیا ثابت ہو جائے گا؟ حکم ثابت ہو جائے گا، تو حکم کی بنیاد کس پر ہوتی ہے؟ دلیل پر، لیکن یہ ابتناء حسی ہے یا عقلی ہے؟ عقلی ہے، آنکھوں سے دکھائی، جیسے چھت کی بنیاد ہے دیواروں پر، یہ تو آنکھوں سے نظر آ رہا ہے، لیکن حکم کی بنیاد کس پر ہو دلیل پر، یہ آنکھوں سے دکھائی، عقل فیصلہ کر دیتی ہے اس کا کہ دلیل جب آ گئی، تو اب اس سے یہ حکم ثابت ہو گیا۔
یہ تو اصل کی ایک ما، اصل کا ایک معنیٰ کیا بھئی، کیا معنیٰ کیا؟ ما یبتنی علیہ غیرہ، ہاں یہ حاشیے وغیرہ میں آپ کی دی ہوگی بھئی، وہ ما یبتنی علیہ غیرہ، جس پر کیا ہو غیر کی بناء ہو، تعمیر ہو، بنایا جائے غیر کو۔
تو یہ ابتناء عقلی کو بھی شامل ہوا اور ابتناء حسی کو۔ اسی طرح اصل قاعدے کو بھی کہتے ہیں، قانون کو، قاعدے کو، ضابطے کو، اسے بھی کیا کہتے ہیں؟ اصل کہتے ہیں، جیسے کہتے ہیں بھئی، الفاعل مرفوع اصل، یہ کیا ہے؟ قاعدہ ہے، قانون ہے فی النحو، کس کے اندر علمِ نحو میں، سمجھ میں آ گئی بات بھئی؟
تو اصل کے دو معنیٰ ذکر کیے، بس یہ دو آپ یاد رکھیں، کافی ہیں بھئی۔
بھئی حدِ اضافی کر رہے ہیں، حدِ اضافی کس کی کر رہے ہیں؟ اصول الفقه، اصل کی تحقیق، تعریف وغیرہ آ گئی یا نہیں آ گئی؟ ہاں، دوسرا لفظ کیا ہے؟ فقہ، فقہ کی تعریف آپ جانتے ہیں، کسے کہتے ہیں؟ ہو علم، قواعد وغیرہ کو نکال دو، باقی وہی تعریف، ہو علم بالاحكام الشرعية الفرعية من ادلتها التفصيلية۔
بھئی قواعد تو اصولِ فقہ میں پڑھتے ہیں نا، فقہ کے اندر قواعد تو نہیں، وہاں تو کیا پڑھا جاتا ہے؟ احکامِ شرعیہ فرعیہ کو، سمجھ میں آیا؟ ان کا جاننا، کس کے ساتھ؟ ادلہ تفصیلیہ یعنی ادلہ اربعہ سے، یہ فقہ، تو یہ حدِ اضافی ہو گئی بھئی، اصول کی الگ تعریف کر دی اور فقہ کی الگ تعریف کر دی،
تو کہتے ہیں، ثم اعلم، پھر تو جان لے، أن اصول الفقہ لہ حد اضافی وحد لقبی، کہ اصولِ فقہ جو ہے اس کی حدِ اضافی ہے اور حدِ لقبی ہے، و غایۃ، اور اس کا غایہ بھی ہے، غرض و غایت بھی آپ پڑھ چکے ہیں، و موضوع، اور اس کا موضوع ہے بھئی، موضوع کیا پڑھا آپ نے بھئی؟ ادلہ اربعہ، یعنی ادلہ اس کا موضوع ہیں، ولما لم یذکرہ المصنف رحمہ اللہ، جب اس کو ذکر نہیں کیا مصنف رحمہ اللہ نے، طویناہ علی غرہ، طویٰ یطوی کا کیا معنیٰ ہوتا ہے؟ لپیٹنا، غر، غر کہتے ہیں بھئی یاد رکھیے شکن کو، سلوٹ کو، بل کو،
کپڑے میں جو بل پڑا ہوا ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ غر، جو شکن پڑی ہوئی ہے، جو سلوٹ پڑی ہوئی ہے، اسے کیا کہتے ہیں؟ غر۔
دیکھیے، آپ نے ایک کپڑے کا تھان کھولا، جب تھان کھول لیا، بھئی اب دوبارہ آپ لپیٹنا چاہتے ہیں اسے، تو پہلے جو لپٹا ہونے کا وہ نشان اس پر ہوگا یا نہیں کپڑے پر بھئی؟ آپ اسی بل پر، اسی نشان پر، اسی سلوٹ کے مطابق پھر کپڑے کو اسی طرح لپیٹ دیتے ہیں، تو عربی میں کہتے ہیں، طویت الثوب علی غرہ، میں نے کپڑے کو اسی کے بل پر کیا کر دیا؟ لپیٹ دیا، جس بل پر پہلے وہ لپٹا ہوا تھا، اسی پر میں نے اسے لپیٹ دیا۔ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں،
کہتے ہیں طویناہ علی غرہ، ہم نے بھی اس کو اس کے بل پر لپیٹ دیا، یعنی انہوں نے نہیں چھیڑا تھا اس بات کو، تو ہم نے بھی اس بات کو نہیں چھیڑا، تعریف، موضوع اور غرض و غایت کو ذکر نہیں کیا۔
ولکن لا بد ہہنا من أن یعلم، لیکن ضروری ہے یہاں پر کہ یہ جانا جائے، أن علم اصول الفقہ علم یبحث فیہ عن إثبات الأدلۃ للأحکام، کہ علمِ اصولِ فقہ وہ علم ہے کہ جس میں بحث کی جاتی ہے، کس چیز کی بحث کی جاتی ہے؟ ادلہ کو ثابت کرنا للأحکام، کس کے لیے؟ احکام کے لیے ادلہ کو ثابت کرنے کی بحث کی جاتی ہے، فموضوعہ علی المختار ہو الأدلۃ والأحکام جمیعاً، تو اس علم کا موضوع جو ہے پسندیدہ قول پر، وہ ادلہ اور احکام جمیعاً دونوں ہیں بھئی، ادلہ اور احکام دونوں ہیں بھئی، میں نے آپ کو کیا لکھوایا تھا؟ ادلہ ہیں، صاحبِ نور الانوار کیا فرما رہے ہیں کہ اس علم کا موضوع پسندیدہ قول کے مطابق وہ ادلہ اور احکام دونوں ہیں۔
بھئی دونوں کیسے ہو سکتے ہیں بھئی ایک علم کا موضوع؟ ایک ہی ہو سکتا ہے بھئی، اس لیے کہ جتنے موضوع ہوں گے، معلوم ہوا اتنے ہی علوم ہیں، ایک علم نہیں ہے، ایک علم کا کتنا ہو سکتا ہے موضوع؟ ایک ہی چیز بھئی۔
تو آگے بتلائیں گے بھئی مصنف رحمہ اللہ، شارح بھئی، کہ بھئی دونوں میں اثبات ملحوظ ہے، ادلہ کے اندر بھی اور احکام میں بھی، دونوں میں اثبات ملحوظ ہے۔
ہاں، ادلہ ہیں اثبات کرنے والے، یعنی مثبت ہیں، اور احکام کیا ہیں؟ مثبت ہیں، یعنی ان کو ثابت کیا گیا، تو بعیں لحاظ یہ دونوں اثبات ملحوظ ہے، تو یہ دونوں ایک ہو گئے، تو لہٰذا اب تعددِ موضوع نہ رہا، اس کا اشکال نہیں کر سکتے آپ بھئی۔
شارح یہاں سے، انہوں نے کہا میں تعریف، موضوع اور غرض و غایت کو ذکر نہیں کروں گا، اور عام علماء اس علم کا موضوع ذکر کرتے ہیں صرف ادلہ، تو شارح اپنی طرف سے ایک بات اور ایک نقطہ بتلانا چاہتے تھے کہ اس علم کا موضوع صرف ادلہ نہیں ہے، بلکہ ادلہ بھی ہیں اور احکام بھی ہیں۔
ادلہ بھی ہیں اور احکام بھی ہیں۔
لیکن بھئی شاید یہ محشی حضرات وغیرہ، یہ ذکر کرتے ہیں کہ بھئی مختار قول یہ، حق یہی ہے کہ اس علم کا موضوع کیا ہیں؟ ادلہ ہیں بھئی، ادلہ بھئی۔
ہاں، باقی ان ادلہ سے چونکہ احکام ہی ثابت ہوتے ہیں، اس لیے احکام بھی ساتھ تبعاً آ جاتے ہیں، ورنہ دراصل موضوع کیا ہے؟ ادلہ ہیں۔
الأول من حیث إنہ مثبت، اول یعنی ادلہ اس حیثیت سے کہ وہ مثبت ہیں، ثابت کرنے والے ہیں، والثانی من حیث إنہ مثبت، اور ثانی یعنی احکام اس حیثیت سے کہ وہ مثبت ہیں بھئی، ثابت کیے گئے ہیں بھئی، چلیے بس مولانا، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔