Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-004

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 03 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 18
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔۴‏ قال المصنف رحمه الله تعالى بعدما تیمن بالتسمیۃ الحمد لله الذي هدانا الى الصراط ‏المستقيم فتفسير قوله فتفسير قوله الحمد لله واضح وأما الهداية فكما قيل الدلالة ‏الموصلة إلى المطلوب أو الدلالة على ما يوصل إلى المطلوب‎.‎ قال المصنف بھئی۔ شارح فرماتے ہیں قال المصنف کہ مصنف یعنی جو منار کے مصنف ہیں انہوں ‏نے فرمایا بعدما تیمن بالتسمیۃ بعد اس کے کہ جب انہوں نے برکت حاصل کی ‏بسم اللہ کے ساتھ بھئی۔ کس کے ساتھ برکت حاصل کی؟ بسم اللہ سے برکت حاصل کرنے کے بعد ‏صاحب منار فرماتے ہیں الحمد للہ الذی۔ تو یہ جو شرح کا حصہ ہے الحمد للہ ‏سے پہلے جو کہا قال المصنف، اس میں شارح یعنی ملا جیون رحمہ اللہ نے ‏اشارہ کر دیا اور بتلا دیا کہ یہ بسم اللہ بھی جو ہے الحمد للہ سے پہلے ذکر ہے ‏اور وہ بھی کیا ہے متن کا حصہ ہے، بتلایا نہ کہ بھئی جب بسم اللہ سے برکت ‏حاصل کر لی اس کے بعد آگے انہوں نے پھر فرمایا الحمد، معلوم ہوا بسم اللہ ‏پہلے ذکر کی اور اس کے بعد یہ اگلی عبارت ہے بھئی۔ لیکن اس کی شرح ‏نہیں کی بھئی کیونکہ اس کے مباحث بھئی اور جگہ جگہ بعض جگہ پڑھ چکے ‏ہوں گے اور کتابوں میں تفصیلاتی جائے گی تو وہ اس لیے انہوں نے ذکر نہیں ‏کی بھئی۔ اب یہ متن ہے بھئی الحمد لله الذي، یہ منار بھئی، الحمد لله الذي هدانا، تمام ‏تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں الذي هدانا جس نے ہمیں ہدایت دی الى الصراط ‏المستقيم، سیدھے راستے کی طرف۔ فتفسير قوله الحمد لله، یہاں سے جو شرح کا حصہ ہے اگلے متن تک اس میں ‏چار چیزیں بیان ہوں گی بھئی، چار چیزیں۔ ایک ہدایت کا معنی بیان کریں گے ‏اور پھر اس کے بعد متن پر وارد ہونے والا ایک اعتراض اور اس کے جواب ‏کو ذکر کریں گے اور پھر اس کے بعد صراط مستقیم کا معنی بیان کریں گے ‏اور آخر کے اندر صراط مستقیم کے تین تین مصداق بیان کریں گے کہ یہ جو ‏متن میں صراط مستقیم آیا اس کے تین مصداق ہو سکتے ہیں، تین چیزوں پر یہ ‏صادق آ سکتا ہے بھئی۔ فتفسير قوله الحمد لله واضح، پس ماتن کا قول الحمد للہ جو ہے اس کی تفسیر ‏واضح ہے بھئی، اس کی تفسیر کی حاجت نہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اس ‏کے مباحث آپ پڑھ چکے ہیں آپ جانتے ہیں معروف ہیں تو اس کی تفسیر ‏واضح ہے اس لیے اس کی بھی تفسیر نہیں کریں گے باقی آگے ہدایت کا لفظ ‏آیا هدانا اور صراط مستقیم لفظ آیا تو ان کی تشریح کریں گے بھئی شرح کے ‏اندر بھئی۔ آگے بھئی پہلے آپ مسئلہ سمجھ لیں ہدایت پر بحث کرنے لگے ہیں۔ یاد رکھیے ‏ہدایت کے دو معنی آتے ہیں بھئی۔ ہدایت کا ایک معنی ہے اراءة الطريق، اراءة ‏الطريق راستہ دکھانا، اری یری کا کیا معنی ہوتا ہے؟ دکھانا، تو اراءة الطريق ‏راستہ دکھانا اور دوسرا معنی ہے ہدایت کا ایصال إلى المطلوب، مطلوب تک ‏پہنچا دینا، اوصل یوصل ایصال کا کیا معنی ہے؟ پہنچانا، ایصال إلى المطلوب، ‏مطلوب اور مقصود تک پہنچا دینا، تو ہدایت کے کتنے معنی ہوئے؟ دو معنی، ‏ایک اراءة الطريق اور ایک ایصال إلى المطلوب بھئی۔ جیسے دیکھیے آپ سے کسی شخص نے پوچھا کہ مسجد کہاں ہے؟ آپ نے اس ‏کا ہاتھ پکڑا، اسے لے کر چلے اور مسجد تک اسے پہنچا دیا بھئی خود اس ‏کے ساتھ چل کر گئے بھئی، تو یہ کون سا کیا ہوا بھئی؟ ایصال إلى المطلوب، ‏مطلوب تک آپ نے پہنچا دیا بھئی۔ اور ایک ہے اراءة الطريق، راستہ دکھا دینا۔ ‏کہ آپ سے اس نے مسجد کا پوچھا، آپ نے کہا بھئی وہ سامنے جو راستہ ہے ‏وہ سیدھا مسجد تک جاتا ہے۔ تو آپ نے کیا کیا؟ اراءة الطريق یعنی راستہ ‏دکھایا، راستے تک پہنچایا بھی نہیں ہے صرف دکھا دیا بس، وہ سامنے جو ‏راستہ ہے وہ سیدھا کہاں تک جاتا ہے؟ مسجد تک، بات سمجھ میں آئی؟ تو ‏ایصال إلى المطلوب میں کیا ہوتا ہے مقصود تک باقاعدہ پہنچا دیا جاتا ہے اور ‏اراءة الطريق میں کیا ہوتا ہے راستہ دکھلا دیا بھئی۔ اب شارح فرماتے ہیں کہ بھئی ہدایت کے یہ دو معنی ذکر کیے گئے ہیں بھئی ‏اور پھر علماء فرماتے ہیں کہ ہدایت کی نسبت جب اللہ تعالی کی طرف ہو کہ ‏اللہ نے ہدایت دی تو علماء فرماتے ہیں اس کا معنی ہوگا ایصال إلى المطلوب۔ ‏اللہ نے ہدایت دی، کیا معنی؟ اللہ نے مقصود تک پہنچا دیا۔ اور جب ہدایت کی ‏نسبت قرآن یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی رسول کی طرف ہوگی تو اس ‏کا کیا معنی ہوگا؟ اراءة الطريق، راستہ دکھلا دیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جب ہدایت کی نسبت اللہ کی طرف ہو تو اس کا معنی کیا ‏ہے؟ ایصال إلى المطلوب اور جب پیغمبر کی طرف یا قرآن کی طرف اس کی ‏نسبت ہو تو کیا معنی ہوگا؟ اس کا پھر اراءة الطريق، ایک یہ ضابطہ ذکر کیا ‏علماء نے بعض۔ اور دوسرا یہ ضابطہ ذکر کیا کہ بھئی یہ جو ہدایت ہے یہ دو مفعول چاہتا ہے ‏بھئی، یہ فعل کتنے مفعول چاہتا ہے؟ دو، جیسے اهدنا الصراط المستقيم، اهد، ‏اے اللہ! ہدایت دے دیجیے، کس کو؟ نا، یہ مفعول اول ہے، ہمیں، کس چیز کی ‏ہدایت؟ الصراط المستقيم، یہ کیا ہے مفعول ثانی، تو یہ دو مفعول چاہتا ہے۔ اور ‏مفعول ثانی کی طرف یہ کبھی بغیر کسی حرف، کسی واسطے کے متعدی ہوتا ‏ہے اور کبھی کبھار درمیان میں إلى یا لام لے آتے ہیں، إلى الصراط المستقيم یا ‏للصراط المستقيم، تو مفعول ثانی پر کبھی کیا آ جاتا ہے إلى یا لام اور کبھی إلى ‏یا لام نہیں آتا بھئی۔ تو گویا ہدایت کا لفظ کبھی مفعول ثانی کی طرف بغیر ‏واسطے کے متعدی ہوگا اور کبھی بواسطة حرف جر یعنی إلى یا لام کے ‏ذریعے متعدی ہوگا۔ اور کہتے ہیں جب یہ بغیر واسطے کے متعدی ہو تو اس کا ‏معنی ہے ایصال إلى المطلوب، اهدنا الصراط المستقيم، إلى یا لام ہے صراط ‏سے پہلے؟ نہیں، تو جب إلى یا لام نہ ہو بغیر کسی واسطے کے متعدی ہو ‏مفعول ثانی کی طرف تو کیا معنی ہوگا؟ ایصال إلى المطلوب یعنی اے اللہ! ہمیں ‏کیا کیجیے؟ صراط مستقیم تک پہنچا دیجیے۔ اور جب یہ متعدی ہو إلى یا لام کے ذریعے تو اس وقت اس کا معنی کریں گے ‏اراءة الطريق کے بھئی، کیا کریں گے؟ اراءة الطريق کے، بات سمجھ میں آئی ‏یہاں تک بھئی؟ آسان بات ہے بھئی، تو ہدایت کے کتنے معنی بیان کیے؟ دو ‏معنی بیان کیے، ایک پہلا معنی کیا؟ اراءة الطريق بھئی، دوسرا معنی؟ ایصال ‏إلى المطلوب بھئی، اور جب اس کی نسبت ذات باری تعالی کی طرف ہو تو ‏کون سا معنی ہوگا؟ ایصال إلى المطلوب، اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم یا ‏قرآن کی طرف ہو تو اس کا کیا معنی ہوگا؟ اراءة الطريق ہوگا، نیز دوسرا ‏ضابطہ یہ بیان کیا کہ جب یہ بغیر واسطے کے متعدی ہو مفعول ثانی کی طرف ‏تو پھر کون سا معنی ہوگا؟ ایصال إلى المطلوب اور جب بواسطة إلى یا لام کے ‏ہو تو پھر اراءة الطريق بھئی۔ تو دیکھیے اب ذرا کتاب میں بھئی، تو کہتے ہیں فالحمد لله کی تفسیر تو واضح ‏ہے وأما الهداية، اور باقی ہدایت جو ہے فكما قيل، تو جیسا کہ کہا گیا ہے الدلالة ‏الموصلة إلى المطلوب، وہ دلالت جو پہنچانے والی ہو مطلوب تک، یہ کون سا ‏ترجمہ ہوا؟ وہ دلالت جو پہنچانے والی ہے مطلوب تک، موصلة پہنچانے والی ‏ہے ایصال إلى المطلوب آ گیا نہ بھئی مطلوب تک پہنچانے، أو الدلالة على ما ‏يوصل إلى المطلوب، یا دلالت کرنا ہے رہنمائی کرنا ہے علی ما اس چیز پر ‏يوصل إلى المطلوب جو کیا کرتی ہے مطلوب تک، دیکھو راستے پر رہنمائی ‏کی اور وہ راستہ پھر کہاں تک پہنچاتا ہے؟ مطلوب تک پہنچاتا ہے تو یہ کون ‏سا معنی بیان ہوا؟ اراءة الطريق بھئی، وأجمعوا، اور علماء نے اس بات پر ‏اجماع کیا ہے على أنه إذا نسب إلى الله تعالى، کہ جب اس کی نسبت کی جائے ‏اللہ تعالی کی طرف يراد به الأول، تو مراد جو ہے اس کے ذریعے اول معنی ‏ہوتا ہے یعنی ایصال إلى المطلوب، وإذا نسب إلى الرسول أو القرآن، اور جب ‏اس کی نسبت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم أو القرآن یا قرآن کی طرف کی جائے ‏يراد به الثاني، تو مراد کیا ہوتا ہے اس سے؟ ثانی معنی، کون سا بھئی؟ اراءة ‏الطريق، وقالوا أيضا، اور علماء نے یہ بھی فرمایا ہے إن أنه إذا عدي إلى ‏المفعول الثاني، کہ جب اس کو متعدی کیا جائے مفعول ثانی کی طرف بلا ‏واسطة يراد به الأول، بغیر کسی واسطے کے تو اس سے مراد کیا ہوگا؟ ارادہ ‏کیا جاتا ہے اس کے ذریعے معنی اول کا، وإذا عدي إليه بواسطة إلى أو اللام، ‏اور جب اس کو متعدی کیا جائے مفعول ثانی کی طرف بواسطة إلى یا لام کے ‏يراد به الثاني، تو اس کے ذریعے کون سا معنی مراد ہوتا ہے؟ اراءة الطريق، ‏دوسرا معنی بھئی۔ اب دیکھیے بھئی اب اشکال ذکر کریں گے آگے پھر جواب دیں گے۔ دیکھیے ‏متن ذرا دیکھ لو بھئی اعتراض سمجھو بھئی، هدانا، ہمیں ہدایت دی، کس نے ‏ہدایت دی؟ اللہ نے ہدایت دی تو ہدایت کی نسبت کس کے طرف ہوئی؟ اللہ کی ‏طرف ہوئی تو کون سا معنی ہونا چاہیے؟ ایصال إلى المطلوب، اور آگے آ رہا ‏ہے إلى الصراط المستقيم بھئی متعدی بلا واسطہ ہے یا واسطے کے ساتھ؟ اور ‏یہ کیا تقاضا کرتا ہے؟ کون سا معنی ہونا چاہیے؟ اراءة الطريق، تو ہم اگر ‏دیکھیں کہ ہدایت کی نسبت ذات باری تعالی کی طرف ہے تو یہ یہاں معنی ‏ایصال إلى المطلوب ہونا چاہیے اور یہ دیکھیں کہ یہ تو إلى درمیان آگے آ رہا ‏ہے مفعول ثانی پر تو یہ کیا معنی ہونا چاہیے؟ اراءة الطريق۔ اشکال سمجھ میں ‏آ گیا بھئی؟ تو کہتے ہیں وها هنا إن نظر إلى أنه منسوب إلى الله تعالى، اور یہاں پر اگر ‏نظر کی جائے اس بات کی طرف کہ یہ ہدایت جو ہے، ہدایت کا لفظ منسوب ‏ہے اللہ کی طرف ينبغي أن يراد به الأول، تو مناسب یہ ہے کہ اس سے کون سا ‏معنی مراد ہونا چاہیے؟ معنی اول یعنی ایصال إلى المطلوب، وإن نظر إلى أنه ‏عدي بواسطة، اور اگر نظر کی جائے اس بات کی طرف کہ یہ متعدی ہے ‏بواسطة إلى بھئی کس کے واسطے سے؟ إلى کے واسطے سے ينبغي أن يراد به ‏الثاني، مناسب یہ ہے کہ ارادہ کیا جائے اس سے ثانی معنی کا، تو اب دیکھو ‏بھئی ایک طرف دیکھتے ہیں تو ایصال إلى المطلوب معنی ہونا چاہیے، دوسری ‏طرف دیکھتے ہیں تو اراءة الطريق، دونوں میں ٹکراؤ آ گیا بھئی۔ اب آگے فإما سے جواب ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ فإما سے، فإما أن يقدر هدانا ‏رسله، پس یا تو یہ مقدر نکالا جائے گا هدانا رسله بھئی، اب دیکھو بھئی جواب ‏آ گیا بھئی، ہدایت کی نسبت اللہ کی طرف نہیں بلکہ کس کی طرف ہے؟ رسله ‏مقدر بھئی مقدر نکال لیا تو ہدایت کی نسبت پہلے تو آپ نے متن میں کس کی ‏طرف کی تھی؟ اللہ کی طرف، اور اب بتلا دیا کہ رسلہ مقدر ہے تو کس کی ‏طرف ہوئی نسبت؟ رسول کی طرف، اور جب رسول کی طرف متعدی کی ‏طرف نسبت ہو تو کیا معنی ہوتا ہے؟ اراءة الطريق، اور آگے إلى آیا، إلى بھی ‏کیا چاہتا ہے معنی کیا ہو؟ اراءة الطريق، تو اب اشکال ختم ہو گیا بھئی۔ تو یا تو کہتے ہیں مقدر نکالا جائے هدانا رسله، یعنی یعنی بھئی هدانا کے اندر ‏ضمیر ہے اور وہ ضمیر راجع ہے کس کی طرف؟ اللہ کی طرف، اور اس سے ‏پہلے مضاف محذوف ہے۔ کیا تقریر کرنی ہے آپ نے بھئی؟ ہدایت کے اندر ‏ضمیر کس کو راجع؟ ذات باری تعالی کو، ٹھیک ہے؟ لیکن اس سے پہلے کیا ‏لفظ محذوف نکال لیں گے؟ مضاف، رسل کو، تو ضمیر راجع تھی ذات باری ‏تعالی کو اس سے پہلے رسل مضاف نکال لیا، کیا بن گئی عبارت؟ رسله، ‏سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ معنی نہیں کہ رسله سارے کو یہاں مقدر نکالیں گے، ‏پھر تو درست نہیں ہے، پھر تو خرابی کیا لازم آئی؟ فاعل کو مقدر ماننا پڑے ‏گا اور فاعل کو تو کسی صورت میں آپ نے پڑھ، آپ پڑھ چکے ہیں بھئی کافیہ ‏کے اندر بھئی کہ فاعل کے فعل کے، کے فعل کے فاعل کو کبھی بھی حذف ‏نہیں کر سکتے، جائز ہی نہیں ہے بھئی، عبارت ہی غلط ہو گئی اگر فاعل ذکر ‏نہیں ہے، فعل جب بھی آئے گا اس کے ساتھ ہمیشہ کیا آئے گا؟ فاعل آئے گا، ‏تو یہ معنی نہیں کہ رسله یہاں مقدر ہے سارا، نہیں، رسله کی یہ جو ھا ہے یہ ‏تو پہلے ہی هدى کے اندر موجود تھی بھئی، صرف اس ھا سے پہلے کیا کر لیا ‏بھئی؟ مضاف محذوف مان لیا بھئی، سمجھ میں آیا؟ یا یہ ضمیر راجع ہے لفظ ‏اللہ کو اور اس لفظ اللہ سے پہلے کیا کر لیں گے؟ مضاف محذوف نکال لیں گے ‏رسول اللہ بھئی، هدانا رسول الله۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟ تو کہتے ہیں فإما أن يقدر هدانا رسله، یا تو یہ عبارت مقدر مانی جائے بھئی ‏هدانا رسله، أو يقال، یا یہ کہا جائے كلمة إلى مزيدة للتأكيد والتقوية، کہ کلمہ إلى ‏وہ زائد ہے تاکید اور تقویت کے لیے، تاکید اور تقویت کے لیے زائد ہے بھئی، ‏بھئی دیکھیے خرابی کیا لازم آ رہی تھی؟ ایک جواب تو دے دیا بھئی کہ هدانا ‏کیا مان لیں؟ هدانا رسله، تو هدانا رسله کیا تقاضا کرتا ہے ہدیٰ کا کیا معنی ہونا ‏چاہیے؟ اراءة الطريق، اور إلى إلى الصراط المستقيم یہ بھی کیا تقاضا کرتا ہے؟ ‏کون سا معنی ہونا چاہیے؟ اراءة الطريق، اشکال ختم، دوسری صورت یہ ہے ‏کہ ہدیٰ کی نسبت اسی طرح اللہ ہی کی طرف مانیں بھئی، هدانا، کس نے ہدایت ‏دی ہمیں؟ اللہ نے، کیا تقاضا کرتا ہے؟ کون سا ترجمہ ہونا چاہیے؟ ایصال إلى ‏المطلوب، آگے إلى کو زائد مان لو بھئی، کیا کرو؟ إلى کو زائد مان لو، جب آپ ‏إلى کو زائد مان لیا آپ نے تو گویا کہ ہدیٰ کیا ہے بغیر واسطے کے متعدی ہے ‏کس کی طرف؟ صراط مستقیم کی طرف مفعول ثانی کی طرف بھئی، اور بغیر ‏واسطے کے متعدی ہو یہ بھی کیا تقاضا کرتا ہے؟ کیا معنی ہونا چاہیے؟ ایصال ‏إلى المطلوب، تو اشکال کیا ہو گیا؟ ختم ہو گیا۔ تو کہتے ہیں إلى مزيدة للتأكيد والتقوية، اور کلمہ إلى زائد ہے تاکید اور تقویت ‏کے لیے، یعنی تا بھئی آپ جانتے ہیں بھئی کچھ کبھی بعض حروف زائد آ ‏جاتے ہیں اور اس سے جملے میں کیا پیدا ہو جاتی ہے؟ تاکید آ جاتی ہے، قوت ‏آ جاتی ہے بھئی، سمجھ میں آیا۔ وبالجملة بھئی کہتے ہیں حاصل یہ ہے لا يخلو ‏هذا عن تمحل بھئی، کہ نہیں ہے یہ جگہ خالی تمحل سے، تمحل کہتے ہیں حیلہ ‏کرنا، حیلہ کرنا، کچھ نہ کچھ حیلہ کرنا پڑے گا، حیلے سے یہ جگہ خالی نہیں ‏ہے بھئی، یا تکلف کر لیں اس کا معنی، یہ جگہ تکلف سے خالی نہیں ہے ‏بھئی، کچھ نہ کچھ تکلف کرنا پڑے گا، یا تو رسلہ کو کیا کرنا پڑے گا؟ مقدر ‏نکالنا پڑے گا، یا کیا کرنا پڑے گا؟ إلى کو زائد ماننا پڑے گا بھئی، زائد ماننا ‏پڑے گا، اور تو یہ جگہ تو کچھ تکلف کرنا پڑے گا، اور نیز پھر بھی دونوں ‏پر اعتراض باقی رہتے ہیں بھئی، پہلی صورت میں بھئی کیا مضاف کیا ‏محذوف نکالا آپ نے بھئی؟ رسل کا لفظ محذوف نکالا، تو حذف جو ہے آپ ‏جانتے ہیں الحذف خلاف الأصل بھئی، حذف کیا ہے خلاف اصل، اصل تو ہے ‏چیز کو مذکور ہونا چاہیے حذف نہیں ہونا چاہیے بھئی اصل مذکور ہو۔ یہ اصل ‏ہے اور پھر اس کو حذف کرتے ہیں تو وہ فرع ہے بھئی۔ نیز پھر دوسری یہ کہ ‏ہدایت کی نسبت اقویٰ سے ضعیف کی طرف ہو گئی بھئی، کس کی طرف؟ ‏ضعیف کی طرف ہو گئی، جب آپ نے رسول مقدر نکالا تو پہلے اس ہدایت کی ‏نسبت اللہ کی طرف تھی جو سب سے قوی ذات ہے اور جب رسول مقدر مان ‏لیا تو اب اللہ سے ہدایت کی نسبت ہٹ کر کس کی طرف آ گئی؟ رسول کی ‏طرف آ گئی، تو اقویٰ سے نسبت ہٹا کر کس کی طرف کرنا پڑی؟ ضعیف کی ‏طرف کرنا پڑی اور یہ مناسب نہیں ہے بھئی، نسبت تو اقویٰ کی طرف ہونی ‏چاہیے بھئی۔ اور نیز "إلى" کو جب زائد آپ نے لیا، دوسرا جو جواب دیا، تو پھر یہ جو زائد ‏ہونا ہے یہ بھی خلافِ اصل ہے۔ اصل تو یہ ہے کہ زائد نہیں ہونا چاہیے بلکہ ‏کیا ہونا چاہیے؟ وہ معنیٰ کا فائدہ دے بھئی اپنے، لیکن آپ زائد، آپ کہہ رہے ‏ہیں یہ زائد ماننا پڑے گا اور زیادتی تو کیا ہے، خلافِ اصل ہے، تو دونوں ‏صورتوں میں خرابی ہے بھئی۔ ‎"‎وَالصِّرَاطُ الْمُسْتَقِيْمُ هُوَ الصِّرَاطُ الَّذِي يَكُوْنُ عَلَى الشَّارِعِ الْعَامِّ‏‎"‎ اور صراطِ مستقیم جو ہے "هُوَ الصِّرَاطُ الَّذِي" وہ راستہ ہے "يَكُوْنُ عَلَى الشَّارِعِ ‏الْعَامِّ" جو کس پر ہو؟ شاہراہ پر ہو بھئی، شارع کس کو کہتے ہیں؟ شاہراہ کو ‏بھئی۔ "الَّذِي يَكُوْنُ عَلَى الشَّارِعِ الْعَامِّ" وہ راستہ ہے جو شاہراہ پر ہو، بڑی سڑک ‏بھئی جس پر ہر ایک چلتا ہے بھئی، جیسے یہاں آپ کے سامنے یہ فیروز پور ‏روڈ کیا ہے؟ شاہراہ ہے بھئی۔ ‎"‎وَيَسْلُكُهُ كُلُّ وَاحِدٍ" اور چلتا ہے اس پر ہر ایک "مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُوْنَ فِيْهِ الْتِفَاتٌ" ‏بغیر اس کے کہ اس کے اندر توجہ ہو "إِلَى شِعَبِ الْيَمِيْنِ وَالشِّمَالِ"، شعب، شعب ‏کہتے ہیں گھاٹی کو بھئی، پہاڑ کے اندر تنگ راستہ جو ہو، چٹانوں کے درمیان ‏سے جو تنگ راستہ ہو وہ کیا کہلاتا ہے؟ شعب، گھاٹی۔ بغیر اس کے کہ اس ‏میں توجہ ہو دائیں یا بائیں گھاٹی کی طرف۔ بھئی بتلایا صراطِ مستقیم وہ راستہ ہے جو شاہراہ پر ہو بھئی اور اس پر ہر ‏ایک چلتا ہو اور دائیں بائیں گھاٹیوں اور راستوں کی طرف توجہ نہ ہو، کیا ‏معنیٰ دائیں بائیں راستوں کی طرف توجہ نہ ہو؟ یعنی دائیں بائیں بھٹکنے کا ‏اندیشہ اس پر نہیں ہوتا، کھلی سڑک ہے، بڑی واضح بھئی، عام صاف راستہ ‏ہے بھئی، تو اس میں بھٹکنے کا خطرہ نہیں ہوتا بھئی۔ ہاں، اس کے مقابلے ‏میں کوئی چھوٹی، چھوٹا راستہ ہے بھئی، اس پہ تو بھٹکنے کا خطرہ ہے بھئی ‏کہ دائیں طرف ہو سکتا ہے بائیں طرف، لیکن جب بڑی کھلی سڑک ہو واضح ‏چیز ہے، وہاں کسی قسم کے، کبھی قسم کا اندیشہ نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں "وَالصِّرَاطُ الْمُسْتَقِيْمُ هُوَ الصِّرَاطُ الَّذِي يَكُوْنُ عَلَى الشَّارِعِ الْعَامِّ" اور ‏صراطِ مستقیم وہ راستہ ہے جو شارع، شاہراہ پر ہو "وَيَسْلُكُهُ كُلُّ وَاحِدٍ" اور ‏چلتا چلے، چلتا ہو اس پر ہر ایک "مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُوْنَ فِيْهِ الْتِفَاتٌ" بغیر اس کے ‏کہ اس میں توجہ ہو "إِلَى شِعَبِ الْيَمِيْنِ وَالشِّمَالِ" دائیں بائیں گھاٹی کی طرف ‏بھئی، دائیں، شعب کا معنیٰ گھاٹی کے بھی، راستے کے بھی آتے ہیں، دائیں ‏بائیں راستوں کی طرف توجہ نہیں، یعنی بھٹکنے کا اندیشہ نہیں ہوتا۔ ‎"‎وَهُوَ الَّذِي يَكُوْنُ مُعْتَدِلًا بَيْنَ الْإِفْرَاطِ وَالتَّفْرِيْطِ" اور وہ وہ راستہ ہے "الَّذِي يَكُوْنُ ‏مُعْتَدِلًا" جو میانہ ہو، متوسط، درمیان والا ہو بھئی، سیدھا ہو، درست ہو۔ "بَيْنَ ‏الْإِفْرَاطِ وَالتَّفْرِيْطِ" افراط اور تفریط کے درمیان بھئی، افراط اور تفریط کے ‏درمیان سیدھا ہو۔ افراط کہتے ہیں کسی چیز میں حد سے تجاوز کرنا، حد سے ‏زیادتی کرنا بھئی، حد سے بڑھ کر زیادتی کرنا اور تفریط کہتے ہیں حد سے ‏بڑھ کر کمی کرنا بھئی کسی چیز میں۔ افراط کا کیا معنیٰ؟ حد سے بڑھ کر ‏زیادتی کرنا اور تفریط کا کیا معنیٰ؟ حد سے زیادہ کمی کرنا بھئی۔ تو "وَهُوَ الَّذِي" وہ راستہ ہے "يَكُوْنُ مُعْتَدِلًا بَيْنَ الْإِفْرَاطِ وَالتَّفْرِيْطِ" جو افراط اور ‏تفریط کے درمیان سیدھا ہو یا افراط اور تفریط کے درمیان میانہ ہو، متوسط ‏ہو، اس کے بیچ میں ان دونوں کے بیچ میں ہو، نہ حد سے زیادتی ہو اور نہ ‏حد سے کمی ہو بھئی۔ یہ بتلایا صراطِ مستقیم کا معنیٰ بھئی۔ اب اس کے مصداق ذکر کرنے لگے ہیں بھئی، اس سے مراد کیا ہے؟ اے اللہ! ‏ہمیں صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت دے، یہ تو بتلا دیا، صراطِ مستقیم بڑی ‏شاہراہ کو کہتے ہیں جو افراط، سیدھا راستہ بھئی جو افراط اور تفریط کے ‏درمیان ہو۔ اب اس سے مراد کیا ہے؟ بھئی، تین مصداق بیان کریں گے بھئی کہ ‏یا تو اس سے مراد، یہ صادق آتا ہے شریعتِ محمدی، سمجھ میں آیا؟ حضور ‏صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر اور اسی طرح یہ اہل السنت والجماعت کے ‏عقیدوں پر بھی یہ صادق آتا ہے کہ وہ عقیدے ہمیں کیا کر، اے اللہ! نصیب فرما ‏اور اسی طرح وہ طریقۂ سلوک جو جس میں عشق و محبت دونوں ہوں، عشق ‏و محبت کے اور عقل بھئی، دونوں ہوں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھیے ‏بھئی، تشریح آگے آ رہی ہے، آسان بات ہے۔ کہتے ہیں "وَهٰذَا صَادِقٌ عَلٰى شَرِيْعَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اور یہ صادق آتا ‏ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر "لِأَنَّهَا مُتَوَسِّطَةٌ بَيْنَ الْإِفْرَاطِ الَّذِي ‏فِي دِيْنِ مُوسٰى عَلَيْهِ السَّلَامُ" اس لیے کہ یہ شریعت جو ہے متوسط ہے اس افراط ‏کے بیچ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دین میں تھی "وَالتَّفْرِيْطِ" اور اس ‏افراط میں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دین میں تھی اور اس تفریط میں ‏‏"الَّذِي فِي دِيْنِ عِيْسٰى عَلَيْهِ السَّلَامُ" جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دین میں ‏تھی، اس کے بیچ ہے بھئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دین میں افراط تھا بھئی، یعنی مراد ہے سختی ‏بھئی، حد سے زیادہ سختی تھی بھئی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دین ‏میں تفریط تھی، یعنی حد سے زیادہ نرمی تھی بھئی اور جبکہ حضور صلی اللہ ‏علیہ وسلم کی شریعت میں نہ حد سے زیادہ سختی ہے اور نہ حد سے زیادہ ‏نرمی ہے، تو یہ اس افراط اور تفریط کے بیچ ہے، متوسط ہے بھئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دین کے بارے میں بھئی، کچھ باتیں یہ آپ کے ‏حاشیے میں بھی دی ہوئی ہیں، بعض علماء نے ذکر کی ہیں کہ بھئی اتنی ‏سختی تھی کہ کہ کوئی شخص جو ہے گناہ کرتا تھا تو توبہ ویسے نہیں قبول ‏ہوتی تھی، توبہ میں اپنے آپ کو قتل کرنا ہوتا تھا وہ، اس کو قتل کرتے تھے ‏پھر اس کی توبہ، سمجھ میں آیا؟ اور اسی طرح لکھا ہے کہ جھوٹ بولنے پر ‏زبان کاٹی جاتی تھی، زبان کاٹنی پڑتی تھی بھئی اور اسی طرح بدن پر ‏نجاست لگ جاتی تو بدن کا وہ حصہ کاٹنا پڑتا تھا۔ تو بہرحال سختی تھی بھئی، ‏کافی سختی تھی اس شریعت کے اندر حضرت موسیٰ علیہ السلام۔ سمجھ میں ‏آیا؟ قصاص کے طور پر قاتل، قاتل کو قصاص میں قتل کرنا ضروری ہوتا تھا، ‏مقتول کے اولیاء کو معاف کرنے کی اجازت نہیں تھی بھئی، جبکہ حضرت ‏عیسیٰ علیہ السلام کے دین میں معافی کرنا پڑتا تھا، قصاص لے ہی نہیں ‏سکتے تھے بھئی، جبکہ ہمارے ہاں درمیانہ راستہ ہے بھئی، قصاص لینا چاہے ‏تو قصاص لے لے، معاف کرنا چاہے تو معاف کر دے بھئی۔ اسی طرح یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں زکوٰۃ ‏کے طور پر مال کا چوتھا حصہ دینا پڑتا تھا، ہمیں تو چالیسواں حصہ دینا پڑتا ‏ہے، 40 درہم میں سے کتنا دیں گے مثلاً اگر نصاب کے برابر ہو تو؟ ہر 40 ‏میں سے 1 درہم اور انہیں ہر 40 میں سے 10 درہم دینے پڑیں گے، یعنی ‏ہمارے نزدیک ڈھائی فیصد، ان کے نزدیک 25 فیصد بھئی دینا پڑتا تھا، تو یہ کہتے ہیں "وَهٰذَا صَادِقٌ عَلٰى شَرِيْعَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اور یہ ‏صادق ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر "لِأَنَّهَا مُتَوَسِّطَةٌ بَيْنَ ‏الْإِفْرَاطِ الَّذِي فِي دِيْنِ مُوسٰى عَلَيْهِ السَّلَامُ" اس لیے کہ یہ جو شریعت ہے یہ ‏متوسط ہے اس افراط میں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دین میں تھی اور ‏اس تفریط کے بیچ جو کس میں تھی؟ عیسیٰ علی، تو اس افراط اور تفریط کے ‏درمیان متوسط ہے یہ شریعت بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دین میں کہتے ہیں بڑی نرمی ‏تھی بھئی، مشرکہ عورتوں سے نکاح بھی جائز تھا بھئی، شراب بھی جائز تھی ‏بھئی، وغیرہ بھئی۔ یہ تو ایک مصداق ہوا۔ ‎"‎وَعَلٰى عَقَائِدِ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ"، یہاں اہل کا لفظ ہونا چاہیے بھئی، کتابت کی ‏غلطی ہے، رہ گیا ہے۔ "وَعَلٰى عَقَائِدِ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ" اور اہل السنت ‏والجماعت کے عقائد پر بھی یہ صادق آتا ہے، یہ صراطِ مستقیم بھئی کس پر ‏صادق آتا ہے؟ دیکھو، پیچھے آیا تھا نا "هٰذَا صَادِقٌ عَلٰى شَرِيْعَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ ‏عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، اسی "عَلٰى شَرِيْعَةِ" پر عطف ہے "عَلٰى عَقَائِدِ أَهْلِ السُّنَّةِ" ای "هٰذَا ‏صَادِقٌ عَلٰى عَقَائِدِ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ" اور یہ صراطِ مستقیم صادق آتا ہے اہل ‏السنت والجماعت کے عقائد پر بھی، "فَإِنَّهَا مُتَوَسِّطَةٌ بَيْنَ الْجَبْرِ وَالْقَدَرِ وَبَيْنَ ‏الرَّفْضِ وَالْخُرُوْجِ وَبَيْنَ التَّشْبِيْهِ وَالتَّعْطِيْلِ الَّذِي فِي غَيْرِهَا‎".‎ یہاں کچھ فرقوں کا ذکر آ گیا بھئی، مختصر بھئی یاد رکھیے۔ فرقۂ جبریہ، ایک ‏ہے فرقۂ جبریہ، ایک ہے فرقۂ قدریہ بھئی۔ اچھا بھئی، فرقۂ جبریہ کہتا ہے کہ ‏انسان مجبورِ محض ہے بھئی، انسان کیا ہے؟ مجبورِ محض ہے بھئی، نہ وہ ‏اپنے افعال کا خالق ہے اور نہ اپنے افعال کا کاسب ہے۔ نہ اپنے افعال کا خالق ‏ہے اور نہ افعال، اپنے افعال کا کاسب ہے، انسان کی حیثیت جمادات کی طرح ‏ہے، یعنی یہ پتھر وغیرہ کی طرح ہے بھئی، یعنی انسان مجبورِ محض ہے ‏بھئی، انسان مجبورِ محض ہے، اللہ نے جو کچھ لکھ دیا تقدیر کے اندر بھئی، ‏انسان کو اسی کے مطابق چلنا پڑے گا، وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا بھئی، انسان ‏کو کیا کرنا، کیا ہے؟ اسی کے مطابق چلتا ہے جو اللہ نے لکھ دیا ہے، اگر اللہ ‏نے لکھ دیا ہے یہ نیک بخت ہے تو وہ ایمان لائے گا، اگر اللہ نے لکھ دیا ہے ‏یہ بدبخت ہے بھئی، تو جو جو اللہ نے لکھا ہے اسی کے مطابق انسان کو چلنا ‏پڑتا ہے، تو انسان کی حیثیت کس کی طرح ہو گئی؟ جمادات، پتھر کی طرح ہو ‏گئی، اس کی اپنی مرضی کا کسی چیز میں دخل نہیں ہے بھئی۔ اور دوسرا فرقۂ قدریہ ہے بھئی، دال پر بھی فتحہ ہے، قدریہ۔ فرقۂ قدریہ والے ‏وہ تقدیر کا سرے سے انکار کرتے ہیں کہ تقدیر کوئی چیز ہی نہیں ہے، وہ ‏کہتے ہیں انسان اپنے افعال کا خالق بھی ہے، کاسب بھی ہے، جبریہ والوں نے ‏تو کہا تھا نہ خالق ہے اور نہ کاسب، قدریہ والے کیا کہتے ہیں بھئی؟ خالق بھی ‏ہے اور کاسب بھی ہے، کاسب بھی ہے، وجہ یہ کہ وہ کہتے ہیں بھئی انسان کو ‏اپنے افعال کا خالق قرار دینا پڑے گا، انہی میں سے معتزلہ کا بھی یہی عقیدہ ‏تھا بھئی، یہ بھی ایک گمراہ فرقہ گزرا ہے بھئی، کہ انسان کیا ہے؟ اپنے افعال ‏کا خالق بھی ہے اور کاسب بھی، بھئی کیوں خالق؟ اس طرح تو کہتے ہیں بھئی ‏دیکھو، انسان کے افعال دو قسم کے ہیں، کچھ افعالِ خیر ہیں، کچھ افعالِ شر ‏ہیں بھئی، کچھ تو خیر کے افعال ہیں، نیکی کی نماز پڑھی بھئی، روزہ رکھا ‏وغیرہ بھئی، فقیر کو مال وغیرہ دیا، یہ تو نیکیاں ہیں، کچھ برے افعال بھی تو ‏ہیں، زنا ہے، چوری ہے، ڈاکا ہے، تو اگر ہم یہ کہیں کہ اللہ ان کے خالق ہیں ‏تو ایک قبیح چیز کی نسبت اللہ کی طرف کرنا لازم آئے گا، ایک قبیح فعل کی ‏نسبت کس کی طرف کرنا لازم آئے گا؟ اللہ کی طرف کہ اللہ اس چوری کے ‏فعل کے بھی خالق، اللہ اس ڈاکے کے فعل کے خالق بھی کون؟ اللہ، اور یہ ‏درست نہیں ہے کہ اللہ کی طرف قبیح کی نسبت کی جائے بھئی، لہٰذا وہ کیا ‏کہتے ہیں کہ انسان اپنے افعال کا خالق ہے اور کاسب بھی ہے بھئی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اہل السنت والجماعت کا عقیدہ متوسط ہے بھئی، وہ نہ ‏تو انسان کو مجبور مانتا ہے اور نہ ہی افعالِ انسان کو اپنے افعال کا خالق ‏بھئی، اہل السنت والجماعت کے نزدیک بھئی، انسان اپنے افعال کا خالق نہیں، ‏خالق کون ہیں افعال کے؟ اللہ تعالیٰ، ہاں انسان اپنے افعال کا کاسب ہے اور ‏سزا و جزا کا دارومدار کسب پر ہے بھئی کہ اس نے کیا کیا ہے، اس کام کا ‏پھر ارادہ کیا، اس کو سرانجام دیا بھئی، تو خالق کون ہیں؟ اللہ بھئی، چاہے ‏افعالِ خیر ہیں چاہے افعالِ شر ہیں، سب کے خالق اللہ ہیں بھئی، اس لیے کہ ‏اگر اے قدریہ! تمہاری بات مان لی جائے تو اس کا مطلب ہے خالق ایک بھئی ‏ان کے نزدیک کیا تھا؟ انسان اپنے، ہر انسان اپنے افعال کا خالق خود، تو خالق ‏ایک ہوا یا لا تعداد خالق ہو گئے بھئی، بے شمار ہو گئے؟ جب ہر انسان اپنے ‏افعال کا خالق ہے تو ہر انسان خالق ہوا، تو خالق ایک رہا یا خالق بے شمار ہو ‏گئے؟ بے شمار ہو گئے، خرابی لازم آتی ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو ہم کہتے ‏ہیں بھئی کہ انسان اپنے افعال کا کاسب تو ہے، خالق نہیں، خالق کون ہیں؟ اللہ ‏تعالیٰ بھئی، خالق ایک ہی ہے بھئی، بھئی وہ کہتے ہیں پھر سزا و جزا کیسے ‏جب خالق اللہ تعالیٰ ہیں؟ ہم کہتے ہیں بھئی، سزا و جزا کا دارومدار، جنت اور ‏جہنم جو ملے گا اس کا تعلق خلق سے نہیں ہے، اس کا تعلق کسب سے ہے، ‏خالق تو اللہ تعالیٰ ہیں اس کے، لیکن کسب کون کرتا ہے؟ انسان کرتا ہے، نیت ‏اور ارادہ کیا، اس کو سرانجام دیا بھئی، یہ کون کرتا ہے؟ انسان کرتا ہے اور ‏جو آپ نے کیا کہا کہ اس صورت میں تو فعلِ قبیح کی نسبت کس کی طرف ‏کرنا لازم آئے گی؟ اللہ کی طرف، کہنا پڑے گا چوری کے خالق کون؟ اللہ، ‏ڈاکے کے خالق کون؟ ہم کہتے ہیں نہیں بھئی، خلقِ قبیح قبیح نہیں ہے، کسی ‏قبیح چیز کو پیدا کرنا قبیح، ہاں اس کو قبیح استعمال کرنا یہ برا ہے بھئی، ‏جیسے بھئی تلوار ہے، تلوار بنانا یہ تو کمال ہے، ہاں اس کو استعمال کرنا، قتل ‏کرنا اس سے یہ کیا ہے؟ قبیح ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو خلقِ قبیح قبیح نہیں ‏ہے بھئی، بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اللہ تمام افعال کے خالق ہیں، ‏ہر چیز کے خالق ہیں بھئی، ہاں پھر ان افعال میں کسب کون کرتا ہے؟ انسان ‏بھئی اور اسی پر پھر اسے اگر اچھے چیز کا کسب کیا تو اسے جنت ملے گی ‏اور اگر برے کا کیا تو جہنم۔ اسی طرح بھئی، آگے آ رہا ہے "الرفض والخروج"، رفض بھئی، روافض بھئی ‏جنہیں آپ شیعہ کہتے ہیں بھئی اور خروج سے خارجيوں کا عقیدہ بھئی، بھئی ‏ان کا ان کے عقائد بھی کیا ہیں؟ ان میں افراط اور تفریط ہے، حد سے زیادی ‏ہے یا حد سے، جیسے بھئی شیعہ جو ہیں، روافض جو ہیں حضرت علی رضی ‏اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت میں حد سے بڑھ گئے بھئی۔ یہاں تک کہ باقی تمام، ‏اکثر، بلکہ تمام تقریباً صحابہ کو کیا قرار دے دیا؟ وہ کافر ہی انہوں نے کہہ دیا ‏بھئی۔ اور عجیب و غریب عقائد ہیں بھئی ان کے۔ تو یہ حضرت علی رضی اللہ ‏تعالیٰ عنہ کی محبت میں حد سے تجاوز کیا ان نے بھئی۔ تو روافض کیا ہیں بھئی؟ انہوں نے وہ یہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ‏محبت میں حد سے تجاوز کیا بھئی۔ اور خوارج نے حضرت علی رضی اللہ ‏تعالیٰ عنہ کی محبت میں حد سے کمی کی بھئی، یہاں تک کہ ان کے کفر کا ‏قول کیا بھئی۔ یہی وہ لوگ تھے، یہی اسلام میں پہلا فرقۂ فاسقہ و مبتدعہ ہے ‏بھئی۔ پہلا بدعتی فرقہ ہے بھئی اسلام کے اندر یہ خوارج بھئی۔ یہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ تھے، منبر پر ہوتے، تقریر کر رہے ‏ہوتے، یہ ان کے لوگ درمیان میں کھڑے ہو جاتے اور نعرہ لگاتے تھے: سَوَّدَ ‏اللَّهُ وَجْهَكَ، اللہ آپ کے چہرے کو سیاہ کرے بھئی۔ لیکن حضرت علی رضی اللہ ‏تعالیٰ عنہ بھئی امیر المؤمنین ہیں بھئی، ایک اشارے پر اس شخص کی گردن ‏تن سے جدا کی جا سکتی ہے بھئی۔ لیکن یہ کوئی عام شخص نہیں ہے بھئی، ‏یہ وہ شخص ہے جس نے سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ‏ساری زندگی بسر کی ہے بھئی۔ اعلیٰ اخلاق بھئی، انتہا درجے کا عفو و ‏درگزر ان کا دیکھیے، کچھ بھی نہیں کہتے تھے ان کو بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ وہ خوارج کیا نعرہ لگاتے تھے؟ سَوَّدَ اللَّهُ وَجْهَكَ، اللہ آپ ‏کے چہرے کو سیاہ کرے۔ اسی لیے اس کے مقابلے میں پھر اہل السنۃ ‏والجماعۃ میں کیا نعرہ مشہور ہوا؟ کیا بات؟ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ، ہر یہ صرف ‏حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں آپ جہاں بھی پڑھیں گے كَرَّمَ ‏اللَّهُ وَجْهَهُ، اللہ ان کے چہرے کو معزز کرے بھئی، محترم کرے۔ تو یہ کیا وجہ ‏ہے؟ باقی کے ساتھ کیوں نہیں کہتے؟ وجہ یہ کہ یہ اس وہ جو سَوَّدَ اللَّهُ کا نعرہ ‏لگاتے تھے، اس کے مقابلے میں پھر انہوں نے یہ کہنا شروع کیا اہل السنۃ ‏والجماعۃ نے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو آپ کو وجہ بھی پتہ چل گئی بھئی کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ‏ساتھ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ کیوں کہتے ہیں بھئی۔ اور اسی طرح بھئی تشبیہ و تعطیل آگے لفظ آ رہے ہیں بھئی۔ تشبیہ یہ بعض ‏فرقے تھے جو تشبیہ دیتے تھے اللہ تعالیٰ کو مخلوق کے ساتھ اور کہتے تھے ‏جس طرح مخلوق کا جسم ہے، اسی طرح اللہ کا بھی جسم ہے۔ حالانکہ ہمارا ‏کیا عقیدہ ہے؟ اللہ جسم سے کیا ہیں؟ پاک ہیں بھئی، جسم سے پاک ہیں۔ اور اسی طرح تعطیل بھئی، یہ بھی بعض لوگ کیا کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ‏معطل ہیں بھئی۔ معطل ہیں، یعنی بیکار ہیں، کوئی کام اللہ تعالیٰ سر انجام نہیں ‏دے رہے بھئی، نعوذ باللہ من ذلک۔ یہ حکماء تھے، حکماء کہتے تھے بھئی۔ ‏حکماء کہتے تھے اللہ تعالیٰ سے عقلِ اول کا صدور ہوا۔ کیا ہوا؟ اللہ تعالیٰ سے ‏عقلِ اول کا صدور ہوا بھئی، صدور۔ یعنی خود بخود پیدا ہوئی۔ اختیار سے بھی ‏پیدا نہیں فرمایا، بلکہ خود بخود کیا ہو گئی اللہ سے عقلِ اول پیدا ہو گئی، ‏صدور ہوا۔ پھر اس عقلِ اول نے عقلِ ثانی کو پیدا کیا۔ پھر عقلِ ثانی نے عقلِ ‏ثالث کو پیدا کیا۔ عقلِ ثالث نے عقلِ رابع کو، رابع نے خامس کو، اسی طرح ‏یہاں تک کہ عقلِ تاسع نے عقلِ عاشر کو پیدا کیا۔ عقلِ تاسع نے کیا کیا؟ عقلِ عاشر کو پیدا کیا بھئی۔ اور یہ جو عقلِ عاشر ہے، ‏یہ عقلِ فعال ہے، سارے اس عالم کا نظام یہ عقل چلا رہی ہے بھئی۔ یہ کس کا ‏عقیدہ تھا بھئی؟ حکماء کا بھئی۔ تو یہ عقلِ عاشر جو ہے عقلِ فعال ہے، یہ ‏سارے کام کر رہی ہے، سارا کائنات، ساری کائنات کا نظام یہ چلا رہی ہے ‏اور اللہ تعالیٰ معطل اور بیکار ہیں بھئی، نعوذ باللہ من ذلک۔ ویسے ہی خیالی ‏اور فرضی باتیں بھئی۔ جبکہ اہل السنۃ والجماعۃ کا کیا عقیدہ ہے بھئی؟ کہ اللہ تعالیٰ معطل نہیں ہیں ‏بھئی۔ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ، ہر روز اللہ کی ایک شان ہوتی ہے بھئی۔ کسی کو ‏زندگی دے رہے ہیں، کسی کو موت دے رہے ہیں، کسی کو تخت، تخت دے ‏رہے ہیں تو کسی کو تختہ دے رہے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ ‏سارے کائنات، ساری کائنات کا نظام اللہ جل شانہُ فرما رہے ہیں بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جبر و قدر، رفض و خروج اور تشبیہ و ‏تعطیل کا پتہ چل گیا؟ جی، اب ترجمے پہ نظر رکھیے ذرا۔ اور یہ جو صراطِ ‏مستقیم ہے، یہ صادق آتا ہے اہل السنۃ والجماعۃ کے عقائد پر بھی، اس لیے کہ ‏یہ عقائد متوسط ہیں۔ اس جبر، کیا لفظ لانا ہے آپ نے جبر سے پہلے؟ اس کا۔ ‏اس لیے کہ یہ عقیدے متوسط ہیں اس جبر و قدر اور رفض و خروج اور تشبیہ ‏و تعطیل میں الَّذِي فِي غَيْرِهَا جو ان عقائد کے علاوہ میں ہے۔ غَيْرِهَا کی ہا ‏ضمیر بھی کس کو راجع ہے؟ عقائدِ اہل السنۃ کو۔ یعنی ان کے علاوہ جو عقائد ‏کے اندر کیا ہے، بعض میں جبر ہے، بعض میں قدر ہے، بعض میں رفض ‏ہے، بعض میں خروج ہے، بعض میں تشبیہ ہے، بعض میں تعطیل ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ دوبارہ سن لو بھئی۔ اور یہ صادق آتا ہے اہل السنۃ ‏والجماعۃ کے عقائد پر بھی، اس لیے کہ وہ عقائد جو ہیں متوسط ہیں اس جبر و ‏قدر، رفض و خروج اور تشبیہ و تعطیل کے بیچ الَّذِي فِي غَيْرِهَا جو کہ ان کے ‏علاوہ دوسرے عقائد میں، اس کے علاوہ جو دوسرے عقائد میں جبر و قدر، ‏رفض و خروج اور تشبیہ و تعطیل ہے، اہل السنۃ والجماعۃ کے عقائد اس کے ‏مقابلے میں متوسط ہیں۔ وَعَلَى طَرِيقِ سُلُوكٍ جَامِعٍ بَيْنَ الْمَحَبَّةِ وَالْعَقْلِ، اور یہ صادق آتا، اس کا عطف ‏اسی عقائد پر، عَلَى عَقَائِدَ پر کر لیں یا عَلَى شَرِيعَةِ مُحَمَّدٍ پر کر لیں۔ اور یہ ‏صراطِ مستقیم صادق آتا ہے وَعَلَى طَرِيقِ سُلُوكٍ، سلوک کہتے ہیں بھئی تصوف ‏کی اصطلاح میں اصطلاح ہے بھئی تہذیبِ اخلاق بھئی، اپنے اخلاق کو مہذب ‏کرنا، اچھے اخلاق اپنانا اور برے اخلاق کو اپنے سے دور کرنا بھئی، سمجھ ‏میں آیا؟ یہ آسان لفظوں میں یوں کہو: حق کی تلاش بھئی۔ سلوک کسے کہتے ‏ہیں؟ حق کی تلاش۔ اور یہ جو صراطِ مستقیم ہے، یہ صادق آتا ہے وَعَلَى طَرِيقِ سُلُوكٍ حق کی ‏تلاش کے اس راستے پر، ایسے راستے پر جَامِعٍ جو جامع ہو بَيْنَ الْمَحَبَّةِ وَالْعَقْلِ ‏محبت اور عقل کے درمیان جامع ہو، یعنی اس میں محبت بھی ہو اور ساتھ ‏ساتھ عقل بھی ہو۔ فَلَا يَكُونُ عِشْقًا مَحْضًا مُفْضِيًا إِلَى الْجَذْبِ، مُفْضِيًا تو نہیں آپ ‏کی کتابوں میں؟ نہ، شد نہیں ہونا چاہیے بھئی، یہ کتابت کی غلطی ہے۔ فَلَا ‏يَكُونُ عِشْقًا مَحْضًا مُفْضِيًا إِلَى الْجَذْبِ، تو یہ عشقِ محض، صرف عشق بھی نہیں ‏ہے جو پہنچانے والا ہے، لے جانے والا ہے إِلَى الْجَذْبِ مجذوبیت تک۔ وَلَا عَقْلًا ‏صِرْفًا اور محض عقل بھی نہیں ہے، صرف عقل بھی نہیں ہے مُوصِلًا إِلَى ‏الْإِلْحَادِ وَالْفَلْسَفَةِ، الحاد کہتے ہیں بے دینی کو بھئی، جو پہنچانے والی ہو بے ‏دینی اور فلسفے تک بھئی، نعوذ باللہ منہ ہم اللہ سے اس کی پناہ چاہتے ہیں ‏بھئی۔ بھئی کس پر صادق آتا ہے یہ صراطِ مستقیم؟ وہ راستہ، بھئی ایک تو عشقِ ‏محض ہے، صرف عشق ہو عقل ذرا بھی نہ ہو اس کے ساتھ، تو یہ عشق کہاں ‏تک پہنچا دے گا انسان کو؟ مجذوبیت تک پہنچا دے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ ‏مجذوبیت تک بھئی، جنون تک پہنچا دے گا۔ اور صرف عقل ہو، اس کے اس ‏میں عشق اور محبت ذرا بھی نہیں ہے، تو وہ عقل انسان کو کہاں تک لے ‏جائے گی؟ بے دینی تک بھئی۔ کیا صرف عقل کے ذریعے حق تک پہنچا جا ‏سکتا ہے؟ نہیں بھئی، صرف عقل، بلکہ عقل محبت بھی ہو اور اس کے ساتھ ‏ساتھ کیا ہو؟ عقل بھی ہو بھئی۔ اور تو یہ اس وہ حق کی تلاش کا وہ راستہ جو ‏جامع ہو کس کے درمیان؟ محبت اور عقل کے درمیان، اس کے اوپر بھی کیا ‏صادق آتا ہے؟ صراطِ مستقیم۔ صرف عشقِ محض ہو تو یہ کہاں تک لے جائے ‏گا؟ مجذوبیت اور جنون تک، اور صرف عقل ہو تو یہ کہاں تک لے جائے گی؟ ‏بے دینی تک بھئی، صرف عقل ہو بھئی، عقل میں تو چیزیں آتی ہی نہیں ہیں ‏ساری، وہ کہاں حق تک ہمیں پہنچائے گی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ فرشتے دیکھے، دیکھے ہیں بھئی؟ جو فرشتے دیکھے ہی نہیں ‏ہیں تو عقل کبھی تسلیم کرے گی؟ عقل نہیں تسلیم کرے گی بھئی۔ تو عقل تو ‏صرف محسوس اور مشاہد چیزوں کو ہی تسلیم کرتی ہے اور کسی چیز کو ‏تسلیم ہی، تو یہاں عقل بھی ہو اور ساتھ ساتھ کیا ہو؟ عشق و محبت بھی ہو، تو ‏پھر یہ جامع راستہ ہے، اس کے ذریعے حق تک پہنچا جاتا ہے۔ وَفِيهِ تَلْمِيحٌ إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى، اور اس ماتن کا جو کلام آیا بھئی الحمد للہ الذی ہدانا ‏الی صراط مستقیم، اس میں تلمیح، اس میں تلمیح ہے یعنی اشارہ ہے إِلَى قَوْلِهِ ‏تَعَالَى اللہ کے اس قول کی طرف: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ۔ اهْدِنَا الصِّرَاطَ، یاد ‏رکھیے تلمیح کہتے ہیں اپنے کلام کے اندر کسی شعر یا واقعے یا ضرب المثل ‏یا کسی قرآن کی آیت یا کسی حدیث وغیرہ کی طرف اشارہ کر دینا۔ اپنے کلام ‏بھئی، ایسا کلام لے کر آنا بھئی جس کے ذریعے کیا ہو جائے؟ کسی شعر یا ‏واقعے یا آیت یا حدیث کی طرف کیا ہو جائے؟ اشارہ۔ تو ہدانا الی صراط ‏مستقیم کس کی طرف اشارہ ہو رہا ہے؟ جی؟ اهْدِنَا الصِّرَاطَ، بھئی وہ آیت تو وہ ‏آیت اس طرح ہے بھئی؟ ہدانا ہے وہاں پر؟ نہیں، لیکن لفظ وہی ہیں، وہاں پر ‏اہدِ یہاں ہدا ہے، وہاں بھی نا ہے، وہاں بھی صراطِ مستقیم ہے، تو واضح اشارہ ‏ہو رہا ہے اس آیت کی طرف بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی یہاں تک؟ چلیے بس مولانا، ہذا ہو المرام واللہ اعلم ‏بحقیقۃ الکلام۔