Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-002

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 03 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 23
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔۲‏ بسم الله الرحمن الرحيم‎.‎ الحمد لله الذي جعل اصول الفقه مبنى للشرايع والاحكام، واساسا لعلم الحلال والحرام، وصيرها ‏موثقة بالبراهين والدلايل، وموشحة بالحلي والشمايل. والصلاة والسلام على سيدنا محمد ن الذي ‏اجرى هذه الرسوم الى يوم الدين، وايد العلماء بالايدي المتين‎.‎ الحمد لله الذي جعل اصول الفقه مبنى للشرايع والاحكام. تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے الذى ‏جعل اصول الفقه، جس نے بنایا اصول فقہ کو، مبنى، مبنى کہتے ہیں بنیاد کو، جس نے بنایا ‏اصول فقہ کو بنیاد للشرايع والاحكام، شریعتوں اور احکام کے لیے بھئی۔ یاد رکھیے ش یہ ‏والاحكام یہ عطف تفسیری ہے بھئی، عطف عطف تفسیری اس کو کہتے ہیں جس میں ‏معطوف بیان کرے معطوف، تفسیر کرے معطوف علیہ کی۔ جو پہلے آتا ہے اس کو ‏معطوف علیہ کہتے ہیں، جو بعد میں اس واؤ کے بعد آئے اسے معطوف کہتے ہیں۔ تو جو ‏معطوف ہوتا ہے، وہ تفسیر کرتا ہے کس کی؟ معطوف علیہ کی۔ اسی کا معنی بیان کر دیتا ‏ہے۔ تو شرائع کہتے ہیں، شرائع جمع ہے شریعت کی اور شریعت کہتے ہیں اللہ کے بتلائے ‏ہوئے طریقے کو بھئی، اللہ کے بتلائے ہوئے احکام کو کیا کہا جاتا ہے؟ شریعت۔ تو آگے ‏والاحكام کے ذریعے اسی شریعت کا معنی کر دیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ‏یہ عطف تفسیری ہے۔ تو تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے الذى جعل اصول الفقه مبنى للشرايع ‏والاحكام، جس نے بنایا اصول فقہ کو بنیاد شریعتوں اور احکام کے لیے، واساسا لعلم الحلال ‏والحرام‎.‎ یہ پھر عطف تفسیری ہے مولانا۔ اساس کا معنی بھی بنیاد اور ماقبل میں کیا ذکر ہوا تھا؟ ‏مبنى. یہ اسی پر عطف ہے مبنى پر بھئی۔ اور علم حلال و حرام یہ وہی شریعت کا نام ہے ‏بھئی۔ شریعت میں کیا احکام بیان ہوتے ہیں؟ حلال و حرام کے احکامات بیان ہوتے ہیں ‏بھئی۔ تو یہ مصنف کی عادت ہے، قدم قدم پر وہ عطف تفسیری لے کر آتے ہیں وضاحت ‏کے لیے اور تحسین عبارت کے لیے بھئی۔ جی اور بنیاد بنایا اصول فقہ کو لعلم الحلال، الحلال والحرام، حلال اور حرام کے علم کے ‏لیے۔ تو تمام دوبارہ سنیں، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے اصول فقہ کو شریعتوں ‏اور احکام کے لیے بنیاد بنایا اور حلال و حرام کے علم کے لیے بنیاد اساس بنایا۔ وصيرها، ‏ها ضمیر بھئی، ها ضمیر کے نیچے نمبر لکھا ہوا ہے دو بھئی، اوپر کس کے نیچے ہے؟ ‏شرائع۔ تو یہ ضمیر انہوں نے راجع کی شرائع کو بھئی، لیکن ظاہر یہ ہے مولانا کہ یہ ها ‏ضمیر اصول فقہ کو راجع ہے۔ کس کو راجع ہے؟ اصول فقہ کو، اصول فقہ کو راجع بھئی۔ اصول جمع ہے اصل کی اور اصول جمع ہوئی اور جمع بتاویل جماعۃ کے واحد مونث کے ‏حکم میں ہوتی ہے۔ تو اسی لیے اس کی طرف عموماً کون سی ضمیر لوٹا لاتے ہیں؟ واحد ‏مونث کی۔ جمع ہوئی، تین جمع کے کتنے افراد ہوتے ہیں کم از کم؟ تین افراد، تین افراد ‏ہوئے تو کیا بن گئی؟ جماعت اور جماعت کا لفظ عربی میں کیسے لکھتے ہیں؟ گول تا کے ‏ساتھ، معلوم ہوا یہ مونث ہے۔ جماعت کا لفظ کیا ہے؟ مونث۔ تو جب جمع آ گئی تو جمع کے ‏افراد آ گئے تو یہ جماعت ہوئی اور جماعت تو یہ کس، جماعت کی تاویل میں ہو کر کس ‏کے حکم میں؟ واحد مونث، جماعت کا لفظ واحد مونث ہے بھئی۔ اس لیے اسی طرح واحد ‏مونث کی ضمیر لوٹا لاتے ہیں۔ وصيرها، صير کا معنی کر دینا، بنا دینا۔ اور کر، بنا دیا ان اس اس اس فقہ کے جو اصول ‏ہیں ان کو بنا دیا موثقة، قابل اعتماد۔ اصول فقہ کو اللہ تعالی نے کیا بنایا؟ قابل اعتماد بنایا ‏بالبراهين والدلايل، براهین اور دلائل کے ذریعے، براهین جمع ہے برھان کی بھئی۔ برھان ‏دلیل کو کہتے ہیں بھئی، کس کو کہتے ہیں؟ دلیل کو کہتے ہیں۔ لیکن عام دلیل نہیں، وہ دلیل ‏جو یقینیات سے مرکب ہو، کس سے مرکب ہو؟ یقینیات سے بھئی۔ یعنی یقینی، بھئی آپ دلیل بناتے ہیں، صغریٰ، کبریٰ ملاتے ہیں اور نتیجہ نکالتے ہیں بھئی۔ ‏سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے العالم متغير وكل متغير حادث ينتج، نتیجہ کیا نکلا؟ العالم حادث ‏بھئی۔ تو یہ جو آپ صغریٰ، کبریٰ ملاتے ہیں پہلا صغریٰ ہے، پھر کبریٰ اور ان دونوں کو ‏ملا کر نتیجہ نکالا، تو یہ صغریٰ اور کبریٰ اگر یقینی ہو، قطعی ہوں بھئی، جس میں کسی ‏کو شک و شبہ ہی نہیں، یقینی چیز ہے۔ تو اس سے جو دلیل بنے گی، وہ بڑی قطعی، بڑی ‏مضبوط اور قوی ہو گی بھئی، اس دلیل کو برھان کہا جاتا ہے بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ برھان ‏بھئی۔ اور دلائل جمع ہے دلیل کی، وہ عام ہے بھئی، چاہے یقینی ہو، چاہے یقینی نہ ہو بھئی۔ تو یہ ‏یقینی کو بھی شامل ہوا بھئی۔ وصيرها، تو یہ صير کا عطف جعل پر ہے۔ کس پر عطف ‏ہے؟ جعل پر۔ تمام تعریفیں دوبارہ اوپر دیکھیے اس اللہ کے لیے الذی جعل اصول الفقه مبنا، ‏جس نے اصول فقہ کو کیا بنایا؟ بنیاد۔ اور آگے ہے صير، اس کو جعل کی جگہ رکھیں ذرا، ‏الذی صيرها موثقة بالبراهين، وہ اللہ جس نے اصول فقہ کو قابل اعتماد بنایا برھان اور دلائل ‏کے ساتھ، دلائل کے ذریعے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو برھان اور دلائل بھئی اور اس سے ‏مراد دلائل نقلیہ ہیں بھئی، کیا مراد ہیں؟ دلائل نقلیہ۔ کچھ دلائل نقلیہ ہیں، کچھ دلائل عقلیہ۔ ‏نقلا، دلائل نقلیہ جن کی بنیاد نقل پر ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ یہ قرآن و حدیث وغیرہ یہ ‏ایک نسل سے دوسری نسل کی طرف کیا ہو رہے ہیں؟ نقل ہو رہے ہیں بھئی۔ تو یہ جو ‏قرآن و حدیث یہ دلائل نقلیہ ہیں بھئی۔ اسی طرح جو بزرگوں کی باتیں ہیں، وہ نقل ہو کر اگلی نسلوں کی طرف پہنچتی ہیں اور ‏کچھ دلائل عقلیہ ہیں عقل کی روشنی میں بھئی، عقل فیصلہ کرتی ہے اور عقل کے ذریعے ‏دلیل بنائی جاتی ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھئی، یہ کون ‏سی دلیل ہوئی؟ نقلی دلیل بھئی، دلائل نقلیہ میں سے ہے۔ اور ایک آپ خود غور و فکر ‏کرتے ہیں یا علماء کوئی دلیل آپ کو ذکر کرتے ہیں، عقل کے ذریعے خود غور و فکر کر ‏کے ایک دلیل بنائی، یہ کیا ہے؟ دلیل عقلی ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے ابھی آپ ‏نے مثال پڑھی العالم متغير وكل متغير حادث. یہ عالم متغیر ہے، اس میں تبدیلیاں آتی رہتی ‏ہیں اور ہر وہ چیز جس میں تبدیلی آئے، وہ حادث ہے، حادث کا کیا معنی؟ حادث یعنی ایک ‏ہے قدیم، قدیم اسے کہتے ہیں جس پر کبھی عدم نہ آیا ہو، کبھی کوئی وقت ایسا نہ ہو جس ‏میں وہ چیز نہ ہو اور قدیم صرف اللہ کی ذات اور اللہ کی صفات ہیں بھئی۔ باقی تمام عالم ‏کی چیزیں حادث ہیں، یعنی ایک زمانہ تھا ان کا وجود نہ تھا بھئی۔ تو العالم متغير، عالم کیا ہے؟ متغیر، یعنی اس میں تبدیلیاں آتی ہیں، اور وكل متغير حادث، ‏اور ہر متغیر شے کیا ہوتی ہے؟ حادث ہوتی ہے، یعنی وہ قدیم نہیں ہو سکتی، ہمیشہ سے ‏نہیں ہو سکتی اور نہ ہمیشہ رہے گی بھئی۔ تو یہ عقلی دلیل ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ ‏گئی بھئی؟ تو یہ عقلی دلیل اور اسی بات کو اگر قرآن اور حدیث کے الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ‏جائے کہ احادیث میں آتا ہے کہ اللہ نے تمام چیزوں کو پیدا فرمایا، پہلے کسی چیز کا وجود ‏نہیں تھا، تو یہی اب کون سی دلیل بن جائے گی؟ دلیل، دلیل نقلی کہلائے گی یہ بھئی۔ تو اللہ نے، وہ اللہ جس نے بنایا اصول فقہ کو قابل اعتماد بالبراهين والدلايل، برھان اور ‏دلائل کے ذریعے وموشحة، اور ان کو، اصول فقہ کو مزین کیا، اس موشحة کا عطف موثقة ‏پر ہے۔ وشح يوشح توشيح کے معنی ہیں مزین کرنا، آراستہ کرنا بھئی۔ بالحلي، حلی جمع ہے ‏حلیۃ کی، حلی، حلی بھئی یہ یا مشدد ہے، یہ جمع ہے کس کی؟ حلیۃ کی، اور یہ زیور کو ‏کہا جاتا ہے بھئی۔ والشمايل، شمائل جمع ہے شملۃ کی، شملۃ، شملہ کہتے ہیں عادت اور ‏خصلت کو، عادت اور خصلت کو۔ تو تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے اصول فقہ کو قابل اعتماد بنایا بالبراهين والدلايل، ‏دلائل نقلیہ کے ذریعے وموشحة، اور ان اصول فقہ کو مزین فرمایا بالحلي والشمايل، زیور ‏اور عادات کے ساتھ، مراد اس سے دلائل عقلیہ ہیں مولانا، دلائل عقلیہ بھئی، دلائل عقلیہ۔ ‏سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جو دلائل نقلیہ تھے، ان کو براهین اور دلائل کہا مصنف نے کہ ‏اصل تو وہ دلیلیں ہیں اور وہ برھان ہیں دلیلیں ہیں، اور یہ جو عقلی دلائل تو اصل چیز وہ ‏ہیں، باقی یہ عقلی دلائل جو ہیں یہ بھی احکام شریعت کو حسین بنانے کے لیے ہیں اور اس ‏سے ان کا حسن اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ کسی کافر کے سامنے جب آپ بات کریں، وہ تو ‏حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہیں مانے گا بھئی، قرآن کی بات تو وہ نہیں مانے گا، ‏لیکن اگر آپ عقلی دلیل پیش کریں گے تو جو اس کی عقل جسے اس کی عقل قبول کرے، ‏تو یہ اسے کیا، بہتر محسوس ہو گی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دلائل عقلیہ اصل نہیں ‏ہیں، اصل کیا ہیں؟ دلائل نقلیہ ہیں، لیکن دلائل عقلیہ کے ذریعے بھی کیا ہے، احکام شریعت ‏کا حسن اور زیادہ نکھر کر سامنے آ جاتا ہے، تو کفار دلائل عقلیہ کو جلدی قبول کرتے ہیں ‏بھئی۔ تو ان دلائل عقلیہ کو زیور اور عادت کہا بھئی، زیور اور دلائل عقلیہ کو زیور اور عادت ‏قرار دیا، کیونکہ اصل حسن انسان کی ذات کا ہوتا ہے اور باقی زیور اور خصلتوں سے ‏بھی حسن پیدا ہوتا ہے، لیکن وہ اصل نہیں، اصل اس کی اپنی ذات کا حسن جو اللہ نے اسے ‏عطا کیا ہو۔ تو لہذا یہاں پر اسی وجہ سے یہ جو دلائل نقلیہ تھے، ان کو برھان اور دلائل ‏قرار دیا اور جو دلائل عقلیہ تھے، ان کو کیا کہا؟ زیور اور خصلت کے ساتھ ان کو تعبیر ‏کیا۔ ترجمہ یہاں تک سب کو اچھی طرح سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ صيرها کا عطف کس پر ہو رہا ‏ہے؟ جعل پر، اور ها ضمیر کس کو راجع کرنا چاہیے؟ اصول فقہ کو بھئی، اس کی بات ‏چل رہی ہے۔ اور جی اور وہ یہ موشحة اس کا عطف کس پر ہو رہا ہے؟ موثقة پر جی، ‏ترجمہ ایک مرتبہ پھر دیکھ لیں جی، شروع کتاب ہے۔ الحمد لله الذي، تمام تعریفیں اس اللہ ‏کے لیے جس نے بنایا اصول فقہ کو شرائع اور احکام کے لیے بنیاد اور حلال اور حرام ‏کے علم کے لیے اساس بنایا اور اصول فقہ کو قابل اعتماد بنا دیا برھان اور دلائل کے ‏ذریعے، وموشحة، یعنی ان کو قابل اعتماد بنایا دلائل نقلیہ کے ذریعے وموشحة بالحلي ‏والشمايل، اور اصول فقہ کو مزین فرمایا دلائل عقلیہ کے ساتھ۔ والصلاة والسلام على سيدنا محمدن الذي اجرى هذه الرسوم الى يوم الدين، اور رحمت اور ‏سلامتی ہو ہمارے سردار محمد پر الذی اجرى، وہ محمد جنہوں نے جاری فرمایا هذه ‏الرسوم، ان رسموں کو، جنہوں نے جاری فرمایا ان رسموں، یعنی دین کے اس طریقے کو ‏جاری فرمایا بھئی، دین کے ان احکامات کو، تو ان پر رحمت ہو، جاری فرمایا الى يوم ‏الدين، کب تک کے لیے؟ قیامت تک کے لیے یہی دین ہے، تو دین کی ان، دین اسلام کی ان ‏رسموں کو، ان طریقوں کو جاری فرمایا قیامت کے دن تک بھئی۔ جی، تو دین بدلے، جزا ‏کو کہتے ہیں، یوم الدین قیامت کا دن بھئی۔ وايد العلماء، اور تائید کی علماء کی، اید یوید تائید ‏کا معنی ہوتا ہے قوت دینا بھئی، اور قوت دی تائید کی علماء کی بالايادي المتين، اید کہتے ‏ہیں قوت اور توانائی کو، متین، مضبوط اور پائیدار بھئی، متین کا معنی مضبوط، مضبوط، ‏پائیدار۔ اور تائید کی علماء کی مضبوط قوت کے ساتھ، پائیدار قوت کے ساتھ بھئی، یعنی ‏انہیں ایسی قوت عطا کی جو ختم ہونے والی نہیں ہے، دیرپا ہے، مضبوط ہے، ہمیشہ رہے ‏گی۔ مراد یہی ہے کہ یہ علماء کی اس کو طاقت دی دلائل نقلیہ کے ساتھ بھئی، قرآن اور ‏حدیث کے دلائل ان کو عطا کر دیے جو بڑے مضبوط اور قوی دلائل ہیں۔ ورفع درجاتهم في اعلى عليين، اور بلند کیے ان علماء کے درجات بھئی، حضور صلی اللہ ‏علیہ وسلم اس رفع کا عطف کس پر ہے؟ اید کا عطف بھی اجرى پر ہے۔ الذی اجرى، وہ ‏محمد جنہوں نے جاری کیا ان رسموں کو اور وہ محمد جنہوں نے علماء کی تائید کی ورفع ‏درجاتهم، اور وہ محمد جنہوں نے علماء کے درجوں کو بلند کیا فی اعلى عليين، کس کے ‏اندر؟ اعلی علیین، جنت کے اونچے بالا خانوں میں۔ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ‏وجہ سے یہ ایمان کی دولت ہمیں نصیب ہوئی ہے اور یہ علم قرآن اور حدیث حضور کے ‏واسطے سے ہمیں پہنچا ہے، تو گویا وہ، وہ باعث ہوئے ہیں علماء کے درجے کے جنت ‏میں اونچے درجے جو علماء کو ملیں گے، اس کا باعث حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اور بلند کیے علماء کے درجے فی اعلى عليين، علیین یہ جنت کے ایک مقام کا نام ہے ‏بھئی، اونچا مقام ہے۔ اور علیین جمع ہے علیۃ کی، علیۃ، علیۃ بالا خانے کو کہتے ہیں بھئی۔ ‏تو اعلی علیین اونچے بالا خانے۔ اور وہ جنہوں نے بلند کیے علماء کے درجے فی اعلى ‏عليين، جنت کے اونچے بالا خانوں میں وشهد لهم بالفلاح واليقين، اور گواہی دی ان کے لیے ‏کامیابی کی واليقين، اور ایمان کی، ان کے ایمان اور ان کی کامیابی کی گواہی دی۔ فلاح ‏بھلائی کو کہتے ہیں، کامیابی۔ وعلى اله واصحابه الهادين المهتدين، اور حضور صلی اللہ ‏علیہ وسلم کی آل پر بھی صلاۃ و سلام ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آل بھئی، اس کے ‏کیا معنی ہیں؟ بھئی اس سے کون، کیا مراد ہے؟ کئی علماء کے بہت سے اقوال ہیں، 15، ‏‏20 یا اس سے بھی زائد اقوال ہیں علماء کے۔ بعض علماء فرماتے ہیں، حضور صلی اللہ ‏علیہ وسلم کی آل سے مراد ان کے متبعین ہیں، ان کا اتباع کرنے والے، یعنی مومنین ہیں۔ ‏اور بعض علماء کہتے ہیں کہ اس سے مراد متقی مومنین مراد ہیں، متقی، عام مومنین نہیں ‏بلکہ جو متقی ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اور دلائل ہیں ہر ایک کے بھئی، احادیث وغیرہ ‏سے، یہ جیسے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں آتا ہے کہ حضور صلی اللہ ‏علیہ وسلم سے پوچھا گیا، "من آلُ محمد؟" آلِ محمد کون ہیں اللہ کے پیغمبر؟ حضور صلی ‏اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا، "کلُّ تقیٍّ" ہر متقی ہے۔ تو بعض کہتے ہیں اس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع کرنے والے ہیں، بعض ‏کہتے ہیں متقی مومنین اس سے مراد ہیں، بعض کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ‏ازواج مراد ہیں، بعض کہتے ہیں کہ اس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جو قریبی ‏رشتہ دار ہیں بنو ہاشم میں سے وہ مراد ہیں، بعض کہتے ہیں جو قریبی رشتہ دار بنو ہاشم ‏اور بنو عبدالمطلب میں سے ہیں وہ مراد ہیں، اور بعض کہتے ہیں کہ اس سے نیک علماء ‏مراد ہیں، بعض کہتے ہیں کہ اس سے مجتہدین علماء جو ہیں صرف وہ مراد ہیں، بعض ‏کہتے ہیں اس سے سارے قریش والے مراد ہیں، بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد حضرت ‏حسن، حضرت حسین، حضرت فاطمہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہم ہیں، تو ‏مختلف اقوال میں نے بتائے ۱۵، ۲۰ کے لگ بھگ اقوال ہیں علماء کے بھئی۔ تو یہاں موقع محل کے مناسب مراد کو متعین کیا جائے گا بھئی۔ موقع محل کے کہ کیا مراد ‏ہے؟ تو یہاں زیادہ بہتر کیا ہے؟ تمام مومنین یا متقی مومنین مراد لیے جائیں بھئی، یہاں آل ‏سے کیا مراد ہیں؟ متقی مومنین مراد ہیں تا کہ آپ جیسے اولیاء اللہ بھی اس میں داخل ہو ‏جائیں اور وہ بھی اس صلوٰۃ و سلام میں شریک ہو جائیں بھئی۔ وَاَصَحَابِہٖ اور صلوٰۃ و سلام ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر، اَلہَادِینَ، ہادی ‏کہتے ہیں جو دوسروں کو راستہ دکھائے بھئی، رہنمائی کرے۔ وَالمُہتَدِینَ، مہتدی جو خود ‏ہدایت پر ہو، ہدایت یافتہ بھئی۔ تو رحمت و سلامتی نازل ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اور آپ کی آل پر بھی ‏وَاَصَحَابِہٖ اور آپ کے صحابہ پر بھی، وہ صحابہ اَلہَادِینَ جو رہنمائی کرنے والے ہیں ‏دوسروں کی، اَلمُہتَدِینَ اور ہدایت یافتہ ہیں، وَتَابِعِیہِم، صحابی آپ جانتے ہیں بھئی، صحابی ‏کسے کہتے ہیں؟ وہ مومن جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہو اور حالتِ ‏ایمان ہی میں دنیا سے رخصت ہوا ہو، اسے کیا کہتے ہیں؟ صحابی، اور یہ بہت اونچا ‏درجہ ہے، چنانچہ علماء لکھتے ہیں اگر تمام دنیا کے اولیاء جمع ہو جائیں، تمام زندگی ‏انہوں نے اللہ کی عبادت کی ہو، ایک لحظہ بھی اللہ کی عبادت سے غافل نہ ہوئے ہوں، پھر ‏بھی تمام دنیا کے اولیاء مل کر بھی ادنیٰ درجے کے، ادنیٰ سے ادنیٰ درجے کے کسی ‏صحابی کو بھی نہیں پہنچ سکتے، اور صحابی کا یہ مقام اس لمحے کا مرہونِ منت ہے کہ ‏اس نے سرورِ کونین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے، جو بہت بڑی سعادت ‏ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو صحابی کا بہت اونچا مقام ہے اور ہمیں سب کو صحابہ سے محبت ہے، یقیناً آپ سب ‏حضرات کو بھی صحابہ سے انتہا درجے کی محبت ہوگی، یہ اللہ کا ہم پر خاص انعام ہے ‏کہ ہمیں صحابہ کی محبت نصیب فرمائی ہے اور صحابہ وہ ہیں جنہوں نے ہم تک دین ‏پہنچایا اور انتہا درجے کی تکالیف برداشت کیں، ان کی احوال انسان پڑھتا ہے، حیران رہ ‏جاتا ہے کہ کیسے لوگ تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کس حد تک محبت تھی جسے ‏لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا بھئی، ایسے ایسے عجیب واقعات انسان حیران رہ جاتا ہے ‏بھئی۔ غزوۂ بدر کے موقع پر، غزوۂ بدر کے موقع پر بھئی صحابہ کے اپنے ہی رشتہ دار ان کے ‏مقابلے میں آئے تھے، مکہ والے سارے ان کے رشتہ دار عزیز، کسی کے والد ہیں، کسی ‏کے بھئی ہیں، کسی کا بیٹا ہے، ایک مسلمان ہے تو باقی کفار کی طرف سے آ رہے ہیں ‏لڑنے، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی محبت اللہ نے انہیں نصیب فرمائی تھی کہ ‏اس کے لیے، ان کے لیے انہوں نے نہ اپنے والدین کو دیکھا، نہ اپنے بھئی کو دیکھا، نہ ‏اپنے کسی رشتہ دار کو دیکھا، جو سامنے آتا گیا اس کی گردن اڑاتے چلے گئے بھئی۔ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ غزوۂ بدر کے ‏اندر جب مسلمانوں کو اللہ نے فتح نصیب فرمائی اور ۷۰ کفار بڑے بڑے وہ مردار ہوئے ‏اور ۷۰ کے لگ بھگ کو مسلمانوں نے گرفتار کر لیا، تو ان زخمی، تو ان قیدیوں کو ‏مسلمان اب اونٹوں پر باندھ کر مدینہ منورہ کی طرف لے کر آ رہے ہیں، حضرت ابو عبیدہ ‏بن الجراح نے اپنے والد کو گرفتار کیا تھا اور ان کو اونٹ پر باندھا ہوا ہے، لے کر مدینہ ‏کی طرف آ رہے ہیں۔ کس کو لے کر آ رہے ہیں؟ ذرا تصور تو کریں مولانا، اپنے والد کو ‏باندھا ہوا ہے، کیوں؟ کیونکہ ان کے والد حضور کے مقابلے پہ آئے تھے۔ اور یہ ابو عبیدہ بن الجراح بڑے سردار آدمی تھے بھئی، اور اسلام سے پہلے بھی، اسلام ‏سے پہلے یہ والدین کے اتنے فرماں بردار تھے، اتنے فرماں بردار تھے کہ پورے عرب ‏میں ان کی مثال ذکر کی جاتی تھی بھئی۔ چنانچہ عرب کہتے تھے بھئی والدین کی فرماں ‏برداری ایسی کرنی چاہیے جس طرح ابو عبیدہ کرتے ہیں بھئی۔ بڑے تھے، سردار تھے قوم ‏کے، لیکن بیچ مجلس کے اندر آ کر والد سخت ڈانٹ دیتا، تھپڑ بھی لگا دیتا، مجال ہے ابو ‏عبیدہ ایک لفظ زبان پر لے آئیں یا سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھ لیں بھئی! اتنا ادب و احترام ‏تھا، لیکن یہی جب ابو عبیدہ اسلام لے کر آتے ہیں، دل کے اندر اللہ اور اس کے رسول کی ‏محبت آ جاتی ہے تو پھر آج وہی اپنے اسی والد کو جس کے سامنے کبھی انہوں نے سر ‏بھی نہیں اٹھایا تھا محبت اور احترام کی وجہ سے، انہی کو باندھا ہوا لے کر آ رہے ہیں۔ راستے میں چلتے چلتے والد چونکہ باندھے ہوئے ہیں، تکلیف پہنچی ہے اور بیٹا اونٹ لے ‏کر چل رہا ہے تو ان کے والد نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی، ‏کوئی بری باتیں کیں، گالیاں وغیرہ دیں، تو ابو عبیدہ فوراً جنہوں نے کبھی زبان نہیں کھولی ‏اپنے والد کے سامنے، فوراً سختی سے بولے کہ، "اباجان! خبردار! میرے محبوبِ اعظم ‏کے بارے میں کوئی بات آپ کی، ان کے خلاف کوئی بات آپ کی زبان پر نہیں آنی ‏چاہیے۔" باپ خاموش ہو گیا۔ پھر کچھ دیر چلے، تھوڑی دیر بعد پھر باپ نے کوئی اس طرح کی ناگوار باتیں کیں، پھر ‏کہا، "اباجان! خبردار! میں آپ کو آخری وارننگ دے رہا ہوں، اب میرے محبوبِ اعظم کے ‏خلاف کوئی بات آپ کی زبان پر نہیں آنی چاہیے۔" باپ پھر خاموش ہوا، کچھ دیر آگے ‏چلے، کچھ دیر اور گزری، پھر باپ نے کوئی باتیں کیں اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ ‏تعالی عنہ نے فوراً اپنی تلوار نکالی اور اپنے باپ کی گردن اڑا دی۔ لشکر میں کہرام برپا ہو گیا کہ ابو عبیدہ یہ کیا کیا تم نے؟ قیدی کو قتل کر دیا حضور صلی ‏اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر، اور عام قیدی بھی نہیں، اپنے والد کو قتل کر دیا ہے! ‏حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بلوايا، پوچھا، "ابو عبیدہ! یہ کیا کیا؟" کہا، "یا رسول ‏اللہ! اس نے آپ کی شان میں گستاخی کی تھی اور میری غیرتِ محبت نے گوارا نہیں کیا، ‏اس لیے میں نے ان کی گردن اڑا دی۔" اللہ کی طرف سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ‏وحی نازل ہوئی کہ، "اے محمد! ابو عبیدہ سے کہہ دیجیے آپ نے جو کچھ کیا، ٹھیک کیا۔‎"‎ تو یہ عجیب لوگ تھے صحابہ، انسان حیران ہوتا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے انسانوں کی ‏صورت میں فرشتے تھے گویا بھئی، ایسی صفات اللہ نے ان کو دی تھیں۔ جی، بات دور ‏نکل گئی بھئی، تو صحابی کسے کہتے ہیں؟ وہ شخص جس نے ایمان کی حالت میں حضور ‏صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہو اور ایمان کی حالت میں اس کا انتقال ہوا ہو بھئی۔ اور تابعی، اور تابعی کسے کہتے ہیں؟ جس نے کسی صحابی کی، وہ مومن جس نے کسی ‏صحابی کی زیارت کی ہو، وہ تابعی کہلاتا ہے، اور یہ بھی بڑا اونچا درجہ ہے، بہت اونچا ‏مقام ہے مولانا، اور جس نے کسی تابعی کی زیارت کی، اسے کیا کہتے ہیں؟ تبع تابعی ‏کہتے ہیں بھئی، یہ بھی بہت اونچے درجے کا مقام ہے۔ تو فرما رہے ہیں صاحبِ کتاب: وَتَابِعِیہِم اور ان کے تابعین پر، وَتَبَعِہِم اور جو تبع تابعین ‏ہیں، مِنَ الاَئِمَّۃِ المُجتَہِدِین ائمۂ مجتہدین میں سے، ائمۂ مجتہدین، وہ ائمہ جو اجتہاد کرنے ‏والے تھے۔ جی، وَعَلٰی اٰلِہٖ اور رحمت و سلامتی ہو عَلٰی اٰلِہٖ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر، ‏وَاَصَحَابِہٖ اور ان کے صحابہ پر، اَلہَادِینَ المُہتَدِین وہ صحابہ جو ہدایت دینے والے ہیں، ‏ہدایت یافتہ ہیں، وَتَابِعِیہِم اور ان کے تابعین پر، وَتَبَعِہِم اور تبع تابعین پر، مِنَ الاَئِمَّۃِ ‏المُجتَہِدِین ائمۂ مجتہدین میں سے، ائمۂ مجتہدین میں سے۔ تو اس میں وہ ائمہ، ائمۂ اربعہ میں سے جو تابعین اور تبع تابعین ہیں وہ داخل ہوئے بھئی، ‏اور مقصد اس عبارت کے لانے کا یہ ہے صاحبِ نور الانوار کا کہ وہ امامِ اعظم ابو حنیفہ ‏رحمہ اللہ کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں واضح بھئی، کیونکہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ ‏اللہ بالاتفاق تابعی ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو چونکہ یہ کتاب بھی حنفی اصولِ فقہ کے ‏اندر ہے، تو لہٰذا ان کے نام کی طرف صراحتاً واضح اشارہ کرنے کے لیے وہ یہ عبارت ‏لے کر آئے۔ تو رحمت و سلامتی ہو تابعین اور تبع تابعین پر کن میں سے؟ ائمۂ مجتہدین میں سے۔ چلیے، بس کریں مولانا، ہٰذَا ہُوَ المَرَام وَاللّٰہُ اَعلَمُ بِحَقِیقَۃِ الکَلَام۔