Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الجامي · dars-089

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 06 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 9
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔89 آگے سبق دیکھیے بھئی: "وحذفت المفعول تحرزاً عن التكرار لو ذكر وعن الإضمار قبل الذكر في الفضلة لو أضمر، إن استغني عنه، وإلا، أي: وإن لم يستغن عنه، أظهرت، أي: المفعول، نحو: حسبني منطلقاً وحسبت زيداً منطلقاً؛ لأنه لا يجوز حذف أحد مفعولي باب حسبت". بھئی، گزشتہ سبق میں تنازع فعلین کا مسئلہ چل رہا تھا۔ آپ نے پڑھا کہ تنازع فعلین کے مسئلے میں دو اختلاف بڑے ہیں۔ ایک اختلاف ہے امام فراء کا جمہور کے ساتھ۔ امام فراء فرماتے ہیں کہ وہ صورت جس کے اندر پہلا فاعل کا تقاضا کرے تو پہلے ہی کو عامل بنائیں گے۔ اس لیے کیونکہ اگر آپ نے دوسرے کو عامل بنایا تو پہلے کے لیے یا تو فاعل کو حذف کرنا پڑے گا یا فاعل کی ضمیر لانا پڑے گی، اور دونوں ہی جائز نہیں۔ حذف فاعل بھی جائز نہیں اور اضمار قبل الذکر بھی جائز نہیں۔ جبکہ امام کسائی فرماتے ہیں کہ اس صورت میں اگر پہلا فاعل کا تقاضا کرے اور آپ دوسرے کو عامل بنائیں تو پھر پہلے کے لیے فاعل کو حذف کر دیں گے، یعنی فاعل نسیاً منسیاً ہوگا۔ نسیاً منسیاً کا معنی بھولا بسرا، یعنی بالکل بھلا ہی دیا۔ یعنی یہ فعل فاعل کو گویا چاہتا ہی نہیں ہے، اس کا تقاضا ہی نہیں کر رہا۔ تو پہلے فعل کے لیے اس صورت میں فاعل کو حذف کر دیں گے تاکہ ہم اضمار قبل الذکر کی خرابی سے بچ جائیں۔ تو اضمار قبل الذکر تو نہیں کریں گے، البتہ فاعل کو حذف کر دیں گے۔ جبکہ جمہور کہتے ہیں کہ جب پہلا فاعل کا تقاضا کر رہا ہو تو بھی ثانی کو عمل دینا جائز ہے۔ اور اس صورت میں پہلے کے لیے فاعل کو حذف نہیں کریں گے، جیسے کہ امام کسائی نے کہا، اس لیے کیونکہ حذف فاعل جائز نہیں، ہاں ضمیر لے آئیں گے۔ اور اس صورت میں کیا خرابی لازم آتی تھی؟ اضمار قبل الذکر کی۔ تو اس کا جواب بھی جمہور دیتے ہیں کہ اضمار قبل الذکر عمدہ میں جائز ہے بشرط تفسیر کہ آگے تفسیر آجائے۔ تو یہاں تو یہاں دیکھو پہلے کے اندر ضمیر لے آئیں گے اور دوسرے فعل کے فوراً بعد وہ اسم آ رہا ہے جس کی طرف ضمیر لوٹ رہی ہے، تو وہ مرجع آگے آگیا تو اس ضمیر کی تفسیر آگئی بھئی کہ یہ ضمیر کس کو راجع ہے، اس سے کون مراد ہے۔ تو یہ ہے اضمار قبل الذکر عمدہ میں اور یہ جائز ہے بشرط تفسیر بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحب جامی نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ جو امام فراء کا مذہب متن میں ذکر ہوا کہ متن میں کیا مذہب ذکر ہوا؟ کہ پہلا جب فاعل کا تقاضا کرے تو اسی کو عامل بنائیں گے، ثانی کو عامل بنا ہی نہیں سکتے۔ یہ مذہب، یہ روایت جو ہے امام فراء سے یہ مشہور نہیں ہے۔ اور فرماتے ہیں کہ امام فراء سے دو اور روایتیں بھی ہیں۔ ایک روایت یہ ہے کہ جب پہلا فعل فاعل کا تقاضا کر رہا ہو تو اگر دوسرا بھی فاعل کا تقاضا کر رہا ہے تو پھر دونوں کو آپس میں شریک کر دو رفع دینے میں: "ضربني وأكرمني زيدٌ"، اس "زيدٌ" کے اندر ضرب اور اکرم دونوں کو شریک کر لیں گے، دونوں اس کو رفع دے رہے ہیں بھئی۔ جبکہ جمہور کے نزدیک یہ جائز نہیں کہ ایک ہی معمول پر دو عامل داخل ہو جائیں۔ اور دوسری روایت امام فراء سے یہ ہے کہ دونوں فعل مثلاً فاعل کا تقاضا کر رہے ہیں اور آپ نے دوسرے کو عامل بنایا ہے تو پہلے فعل کے لیے اس اسم ظاہر کے بعد ضمیر لے آؤ، وہ فاعل بن جائے گی۔ وہ کیا بن جائے گی؟ اس کے لیے فاعل بن جائے گی، جس طرح نصب والی حالت کے اندر بعد میں ضمیر لے آتے ہیں۔ جیسے دیکھو یہ مثالیں تھیں بھئی کل کے سبق کے بالکل آخری سطر میں: "ضربني وأكرمني زيدٌ هو"۔ ضربنی چاہتا ہے یہ زید میرا فاعل بنے، اکرمنی چاہتا ہے یہ زید میرا فاعل بنے۔ تو ایک روایت تو کیا کہ دونوں کو شریک کر دیا جائے، دونوں مل کر زید کو رفع دیں، اور دوسری روایت کیا کہ اکرمنی کو آپ نے زید میں فاعل بنا دیا تو ضربنی کے لیے زید کے بعد "هو" ضمیر لے آؤ۔ یہ "هو" ضمیر فاعل ہے ضربنی کے لیے اور نیز یہ ضمیر راجع ہے زید کو۔ تو دیکھو پہلے فعل کے لیے فاعل بھی آگیا اور نیز اضمار قبل الذکر کی خرابی سے بھی ہم بچ گئے کیونکہ اس اسم ظاہر کے بعد ضمیر ہم نے نکالی ہے۔ اگلی مثال دیکھیے: "وضربني وأكرمت زيداً هو"، ضربنی چاہتا ہے زیداً میرے لیے فاعل بنے اور اکرمت چاہتا ہے زیداً میرے لیے مفعول بنے، تو پہلا فاعل کا تقاضا کر رہا ہے۔ تو آپ نے ثانی کو عامل بنایا یعنی اکرمت کو اور اس نے زیداً کو نصب دے دیا۔ اب پہلا فعل فاعل کا تقاضا کر رہا ہے تو اس کے لیے زیداً کے بعد "هو" ضمیر لے آؤ اور یہ "هو" ضمیر ضربنی کے لیے فاعل بن جائے گی اور یہ ضمیر راجع ہے زید کو۔ تو دیکھو پہلے فعل کے لیے فاعل بھی آگیا اور اضمار قبل الذکر کی خرابی سے بھی ہم بچ گئے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اب آئیے بھئی آج کے سبق پر۔ کہتے ہیں: "وحذفت المفعول تحرزاً عن التكرار لو ذكر وعن الإضمار قبل الذكر في الفضلة لو أضمر، إن استغني عنه، وإلا، أي: وإن لم يستغن عنه، أظهرت، أي: المفعول"۔ ادھر دیکھیے، بحث چل رہی ہے تنازع فعلین کی۔ اور تنازع فعلین کے اندر ہم پہلا مذہب کر رہے تھے بصرہ والوں کا۔ بصرہ والوں کے نزدیک پسندیدہ یہ ہے کہ ثانی کو عامل بنایا جائے اور اول اگر فاعل کا تقاضا کر رہا ہے تو اول میں فاعل کی ضمیر لے آئیں گے کیونکہ اضمار قبل الذکر عمدہ میں جائز ہے بشرط تفسیر۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ کس کا مذہب چل رہا ہے؟ بصرہ والوں کا۔ عامل کس کو بنایا؟ ثانی کو۔ تو اول اگر کس کا تقاضا کر رہا ہے؟ فاعل کا، تو اول فعل کے اندر فاعل کی ضمیر لے آئیں گے، اور اگر اول مفعول کا تقاضا کر رہا ہے تو پھر مفعول کو حذف کر دیں گے۔ کیا کریں گے؟ مفعول کو حذف کر دیں گے۔ اس لیے کیونکہ یہاں تین احتمال ہی بنتے ہیں، تین احتمال: عامل کس کو بنایا؟ ثانی کو، اور پہلا کس کا تقاضا کر رہا ہے؟ مفعول کا۔ تو تین ہی احتمال بنتے ہیں: یا تو اس مفعول کو دوبارہ ذکر کر دو، یا اس کی ضمیر لے آؤ، یا اس کو حذف کر دو۔ توجہ ہے؟ یا اس مفعول کو پہلے فعل کے لیے دوبارہ لے آؤ، ذکر کر دو، لیکن دوبارہ ذکر پسندیدہ نہیں، اس سے تو تکرار لازم آئے گا اور تکرار بغیر کسی نقطے کے ہو، بغیر کسی وجہ کے ہو وہ پسندیدہ نہیں۔ جیسے: "ضربت وأكرمت زيداً"، یہ زیداً کو نصب کس نے دیا؟ اکرمت نے، توجہ ہے؟ اکرمت نے نصب دیا، اور ضربت بھی کیا چاہتا ہے؟ مفعول چاہتا ہے۔ تو پھر اگر ہم دوبارہ مفعول کو لائیں تو عبارت یوں بن جائے گی: "ضربت زيداً وأكرمت زيداً"۔ "ضربت زيداً وأكرمت زيداً"، دیکھا اسی مفعول کا تکرار آگیا، وہ مفعول دو دفعہ آیا، تو اس اسم کا تکرار آگیا اور تکرار پسندیدہ نہیں۔ "ضربت زيداً وأكرمت زيداً"، بھئی ایک دفعہ ایک اسم کو ذکر کیا جاتا ہے دوبارہ اس کی ضمیر وغیرہ لائی جاتی ہے، دوبارہ اس کو ذکر نہیں کیا جاتا۔ تو اگر ذکر کریں گے تو کیا خرابی لازم آئے گی؟ تکرار لازم آئے گا اور تکرار پسندیدہ نہیں۔ کس صورت میں؟ پہلا کس کا تقاضا کر رہا ہے؟ مفعول کا۔ اس کے لیے ہم یا تو مفعول کو دوبارہ لائیں گے تو تکرار لازم آئے گا اور تکرار پسندیدہ نہیں۔ یا ہم مفعول کی ضمیر لائیں گے، لیکن اس صورت میں تو اضمار قبل الذکر کی خرابی لازم آئے گی۔ اضمار قبل الذکر عمدہ میں تو جائز ہے بشرط تفسیر، لیکن مفعول تو کیا ہے؟ فضلہ ہے، اس کے اندر تو اضمار قبل الذکر جائز نہیں۔ تو دیکھو مفعول کو دوبارہ ذکر بھی نہیں کر سکتے، اس کی ضمیر بھی نہیں لا سکتے، تو پھر تیسری صورت یہی رہ گئی کہ مفعول کو کیا کر لیا جائے؟ حذف کر لیا جائے۔ توجہ ہے؟ تو ثانی کو جب آپ عامل بنائیں اور پہلا مفعول کا تقاضا کر رہا ہو تو پھر اس مفعول کو کیا کر لیا جائے گا؟ حذف کر لیا جائے گا۔ لیکن بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ مفعول کو حذف کرنا جائز نہیں ہوتا۔ مفعول کو حذف کرنا جائز نہیں ہوتا اور یہ افعال قلوب کے اندر ہوتا ہے۔ کس کے اندر؟ افعال قلوب کے اندر ہوتا ہے۔ یاد رکھو افعال قلوب کچھ افعال ہیں جن کا تعلق قلب سے ہے، دل سے ہے، ظاہر میں کچھ کرنا نہیں پڑتا۔ ان کا تعلق کس سے ہے؟ دل سے ہے، اس میں کچھ کرنا نہیں پڑتا۔ تو ان کو افعال قلوب کہتے ہیں اور یہ افعال قلوب دو مفعول چاہتے ہیں۔ یاد رکھو عام افعال ایک ہی مفعول چاہتے ہیں، لیکن بعض افعال ہیں وہ دو مفعول چاہتے ہیں۔ اور وہ افعال جو دو مفعول چاہتے ہیں پھر یاد رکھو وہ دو قسم پر ہیں: کچھ کو کہتے ہیں یہ باب اعطیت سے ہیں، کچھ کے بارے میں کہتے ہیں یہ باب علمت سے ہیں۔ عام افعال کتنے مفعول چاہتے ہیں؟ ایک مفعول چاہتے ہیں، لیکن بعض افعال ہیں وہ دو مفعول چاہتے ہیں۔ وہ جو دو مفعول کو چاہنے والے افعال ہیں وہ دو قسم پر ہیں: کچھ کو کیا کہتے ہیں؟ یہ کس یہ کس قسم کے ہیں؟ یہ باب اعطیت سے ہیں، اور کچھ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ یہ باب علمت سے ہیں، یعنی یہ افعال قلوب میں سے ہیں۔ یاد رکھو تو باب اعطیت بھی دو مفعول چاہتا ہے اور باب علمت بھی دو مفعول چاہتا ہے۔ "أعطيت زيداً درهماً"، اعطیت کے ساتھ یہ تا ضمیر فاعل کی، زیداً مفعول اول اور درہماً مفعول ثانی، میں نے زید کو درہم دیا۔ اعطیت میں نے عطا کیا، میں نے دیا، اس کے لیے وہ ذات بھی چاہیے جس کو آپ نے چیز دی ہے اور کیا چیز دی ہے وہ بھی چاہیے، تو دو مفعول چاہیے ہیں۔ اور اسی طرح باب علمت ہے وہ بھی دو مفعول چاہتا ہے: "علمت زيداً عالماً"، علمت میں نے جان لیا، میں نے مان لیا، میں نے یقین کر لیا زیداً عالماً کہ زید عالم ہے۔ تو دیکھو یہ بھی دو مفعول چاہتا ہے، لیکن دونوں میں فرق کیا ہے؟ یاد رکھو، باب اعطیت کے جو دو مفعول ہوتے ہیں ان کی ذات الگ الگ ہوتی ہے۔ باب اعطیت کے جو دو مفعول ہوتے ہیں ان کی ذات الگ الگ ہوتی ہے، جبکہ باب علمت کے جو دو مفعول ہوتے ہیں ان کی ذات ایک ہوتی ہے۔ تو باب اعطیت کے جو دو مفعول ہیں ان کی ذات الگ الگ، جیسے: "أعطيت زيداً درهماً"، مفعول اول کیا؟ زید۔ مفعول ثانی کیا؟ درہم۔ دیکھو دونوں کی ذات الگ ہے، زید اور ہے، درہم اور چیز ہے بھئی، دونوں کی ذات الگ الگ ہے۔ جبکہ باب علمت یا افعال قلوب کے جو دو مفعول ہیں ان کی ذات ایک ہی ہوتی ہے: "علمت زيداً عالماً"، میں نے زید کے بارے میں یقین کیا کہ وہ عالم ہے۔ تو دیکھو جو زید ہے وہی عالم بھی ہے۔ کس کے بارے میں میں نے یقین کیا عالم ہونے کا؟ زید ہی کے بارے میں یقین کیا، تو زید بھی وہی اور عالم بھی وہی ہے۔ فرق سمجھ میں آگیا؟ تو یہ جو باب اعطیت ہے اس کے تو ایک مفعول کو حذف کرنا اور ایک کو باقی رکھنا جائز ہے، لیکن باب علمت میں جائز نہیں ہے کہ ایک مفعول کو آپ حذف کر لیں اور ایک کو باقی رکھیں۔ توجہ ہے؟ عام افعال ایک مفعول چاہتے ہیں، لیکن بعض افعال وہ دو مفعول چاہتے ہیں، اور وہ پھر دو قسم پر ہیں: کچھ کو کہتے ہیں یہ باب اعطیت سے ہیں، کچھ کو کہتے ہیں یہ باب علمت سے ہیں، اور باب علمت یہ افعال قلوب بھی کہلاتے ہیں۔ ان میں فرق یہ ہے کہ باب اعطیت کے جو دو مفعول ہیں ان کی ذات الگ الگ ہوتی ہے، جب ذات الگ الگ ہے تو ایک کو ذکر کریں ایک کو حذف کر دیں آپ کے لیے جائز ہے۔ لیکن باب علمت کے اندر دونوں مفعولوں کی ذات ایک ہوتی ہے، لہٰذا ایک کو حذف کریں اور ایک کو باقی رکھیں، یہ جائز نہیں۔ باب علمت یعنی افعال قلوب کے اندر ایک مفعول کو حذف کریں اور ایک مفعول کو باقی رکھیں، یہ جائز نہیں ہے۔ بھئی کیوں نہیں جائز؟ وجہ کیا؟ اس کو اچھی طرح سمجھ لو۔ وجہ یہ، مثلاً میں نے کیا کہا: "علمت زيداً عالماً"، میں نے یقین کیا کہ زید عالم ہے۔ اس میں پہلی بات تو یہ یاد رکھو کہ یہ جو دونوں مفعول ہیں یہ دراصل مبتدا خبر تھے۔ کیا تھے؟ "علمت زيداً عالماً"، پہلے علمت نہیں تھا، صرف "زيدٌ عالمٌ"، زید تھا مبتدا اور عالم تھی اس کی خبر کہ زید عالم ہے۔ پھر اس پر علمت داخل ہوا، اس نے مبتدا کو اپنا مفعول اول بنایا اور خبر کو اپنا مفعول ثانی بنایا: "علمت زيداً عالماً"۔ تو یہ دونوں مفعول آپس میں کس کے درجے میں ہیں؟ مبتدا خبر کے درجے میں ہیں، اور مبتدا خبر میں سے ایک کو باقی رکھیں اور ایک کو حذف کر دیا جائے، یہ جائز نہیں، پھر تو بات کا پتہ ہی نہیں چلتا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ تو ایک وجہ یہ۔ دوسری وجہ دوسرے طریقے سے اس کو سمجھو کہ یہاں پر یہ دو مفعول ہیں لیکن حقیقت میں جو مفعول ہے وہ مضمون جملہ ہے۔ حقیقت میں یہاں مفعول کیا ہے؟ مضمون جملہ ہے۔ مضمون جملہ کسے کہتے ہیں؟ دیکھو مضمون جملہ کیسے نکالتے ہیں، اس کا طریقہ سمجھ لو۔ "زيدٌ قائمٌ"، "زيدٌ قائمٌ"، آپ سے کوئی پوچھے: اس جملے کا مضمون کیا ہے؟ تو مضمون جملہ نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ جو خبر ہے اس کا مصدر نکالو اور مبتدا کی طرف اس کی اضافت کر دو۔ "زيدٌ قائمٌ"، خبر کیا؟ "قائمٌ"۔ اس "قائمٌ" کا مصدر نکالو: قیام۔ اور اس قیام کی اضافت کر دو مبتدا کی طرف: "قيام زيدٍ"۔ تو آپ سے کوئی پوچھے: "زيدٌ قائمٌ" اس جملے کا مضمون کیا ہے؟ آپ کہیں گے: اس جملے کا مضمون قیام زید ہے۔ اس جملے کا مضمون کیا ہے؟ قیام زید ہے۔ اس میں کیا بیان ہو رہا ہے؟ قیام زید بیان ہو رہا ہے۔ "زيدٌ عالمٌ"، اس کا مضمون جملہ نکالیں، خبر کیا؟ "عالمٌ"، "عالمٌ" کا مصدر نکالیں: علم، علم۔ اس کی اضافت کریں زید مبتدا کی طرف: علم زید بھئی، "علم زيدٍ"۔ "علم زيدٍ"، اس جملے کا مضمون کیا؟ "علم زيدٍ" کہہ لیں یا اردو میں کہہ لیں علم زید، اس جملے کا مضمون علم زید ہے، یعنی اس میں علم زید بیان ہو رہا ہے۔ اور "زيدٌ قائمٌ" میں کیا بیان ہو رہا ہے؟ قیام زید بیان ہو رہا ہے۔ تو مضمون جملہ نکالنے کا کیا طریقہ؟ کہ خبر کا مصدر نکالیں اور اس کی مبتدا کی طرف اضافت کر دیں۔ اچھا یہ تو آسان تھا، اب ذرا مشکل جملہ لائیں، اس کا مضمون جملہ نکالیں: "زيدٌ قائمٌ في الدار"، "زيدٌ قائمٌ في الدار"، ترکیب کیا ہے؟ زید: مبتدا، قائم: مرفوع لفظاً اسم فاعل، اور فی الدار: جار مجرور اسی قائم سے متعلق ہے۔ معلوم ہوا زید کا قیام کس جگہ ہے؟ گھر میں ہے۔ تو فی جارہ، الدارِ مجرور، جار مجرور مل کر متعلق کس سے؟ قائم سے۔ قائم صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر "هو" ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ زید کو راجع۔ اسم فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ جی "زيدٌ قائمٌ في الدار"، اس کا مضمون جملہ نکالیے۔ خبر کیا؟ خبر کیا؟ قائم۔ خبر صرف قائم نہیں ہے بلکہ قائم فی الدار ہے، تو آپ صرف قائم جو صفت کا صیغہ ہے اس کو مثلاً لے لیا، اور اس قائم کا مصدر کیا؟ قیام۔ اور اس کی اضافت کر دو مبتدا کی طرف: "قيام زيدٍ"، اور باقی جو جار مجرور وغیرہ ہیں ان کو ساتھ ویسے ہی ذکر کر دو۔ اب آپ سے کوئی پوچھے: "زيدٌ قائمٌ في الدار" کا مضمون جملہ کیا؟ آپ کیا کہیں گے؟ کہ اس جملے میں قیام زید فی الدار بیان ہو رہا ہے، گھر کے اندر زید کا قیام بیان ہو رہا ہے۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ اچھا تیسری صورت ذرا ایک اور جملہ کر لیں: "زيدٌ في الدار"، "زيدٌ في الدار"، ترکیب کریں۔ زید: مرفوع لفظاً مبتدا۔ فی: جارہ۔ الدارِ: مجرور لفظاً۔ جار مجرور مل کر متعلق کس سے؟ ثبت یا ثابت جو بھی نکال لیں، یہ متعلق ہوئے ثبت سے۔ ثبت: فعل، اس کے اندر "هو" ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ زید مبتدا کو راجع، کیونکہ خبر کو مبتدا سے جوڑتے ہیں۔ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا: "زيدٌ في الدار"۔ جی مضمون جملہ نکالیں۔ آپ کہیں گے بھئی خبر کیا ہے؟ فی الدار ہے، اس کا تو اس کا کیا مصدر ہو سکتا ہے؟ بھئی فی الدار کو کس سے جوڑا؟ ثابت یا ثبت سے، تو اس ثبت یا ثابت کا مصدر نکال لو اور وہ کیا ہے؟ ثبوت بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ اس ثبوت کی، مصدر کی اضافت کر دو مبتدا کی طرف: "ثبوت زيدٍ"، "ثبوت زيدٍ"، اور جار مجرور کو اسی طرح ساتھ جوڑ دو: "ثبوت زيدٍ في الدار"۔ اب آپ سے کوئی پوچھے: "زيدٌ في الدار" اس جملے کا مضمون کیا؟ آپ کیا کہیں گے؟ "ثبوت زيدٍ في الدار"، کہ یوں کہو یوں کہو، اس جملے میں کیا بیان ہو رہا ہے؟ ثبوت زید فی الدار بیان ہو رہا ہے۔ اردو میں ترجمہ کرو ثبوت زید فی الدار: زید کا گھر میں ہونا یہ بیان ہو رہا ہے۔ اس جملے میں زید کا گھر میں ہونا بیان ہو رہا ہے، ثبوت زید فی الدار۔ طریقہ سمجھ میں آیا مضمون جملہ کس طرح نکالتے ہیں؟ اب دیکھیے بھئی، بات چل رہی تھی کہ افعال قلوب جو ہیں ان کے ایک مفعول کو حذف کرنا اور ایک کو باقی رکھنا یہ جائز نہیں، کیوں؟ کیونکہ یہاں جو مفعول ہوتا ہے وہ دراصل مضمون جملہ ہوتا ہے۔ یہ جو دو مفعول ہیں آپس میں کس کے درجے میں ہیں؟ مبتدا خبر کے درجے میں ہیں، تو دراصل یہاں مفعول مضمون جملہ ہے۔ مثلاً جملہ کیا تھا: "علمت زيداً قائماً"، مثلاً قائماً کو لے آئیں، "علمت زيداً قائماً"، تو علمت فعل از افعال قلوب، تا ضمیر اس کا فاعل، اور زیداً مفعول اول، اور قائماً مفعول ثانی۔ لیکن یہاں دیکھنے میں تو زیداً اور قائماً مفعول ہیں، لیکن حقیقت میں مفعول کیا ہے علمت کا؟ مضمون جملہ۔ مضمون جملہ نکالو زیداً قائماً کا: قیام زید، قیام زید۔ تو گویا اصل کلام یوں ہے: "علمت قيام زيدٍ"، "علمت قيام زيدٍ"، دیکھا قیامَ یہ منصوب ہے، کیوں منصوب؟ کیونکہ یہ علمت کے لیے مفعول بنا اور زیدٍ تو مضاف الیہ ہے۔ میں نے قیام زید کو جان لیا۔ تو افعال قلوب میں ایک مفعول کو حذف کرنا اور دوسرے کو باقی رکھنا جائز نہیں، کیوں؟ کیونکہ یہاں حقیقت میں جو مفعول ہے وہ مضمون جملہ ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو اگر اس میں سے ایک کو حذف کر دیں گے ایک کو باقی رکھیں گے تو یہ تو گویا آپ نے ایک جز کو ہی کیا کر لیا؟ حذف کر لیا۔ اچھا تو مذہب بیان ہو رہا تھا بصرہ والوں کا۔ بصرہ والے کیا کہتے ہیں کہ اگر ثانی کو عامل بنائیں اور پہلا فاعل کا تقاضا کر رہا ہو تو اس میں فاعل کی ضمیر لے آئیں گے، اور اگر پہلا مفعول کا تقاضا کر رہا ہے تو مفعول کو حذف کر دیں گے۔ یہ اس وقت ہے جب مفعول کو حذف کرنا جائز ہو، اور اگر یہ فعل افعال قلوب میں سے ہے اس کے تو مفعول کو حذف کرنا جائز نہیں، پھر کیا کریں گے؟ تو کہتے ہیں پھر اس صورت میں اس مفعول کو دوبارہ لانا پڑے گا، کیونکہ ضمیر بھی نہیں لا سکتے کیونکہ اضمار قبل الذکر فضلہ میں جائز نہیں، اور حذف بھی نہیں کر سکتے کیونکہ افعال قلوب کے ایک مفعول کو حذف کرنا جائز نہیں، تو تیسری صورت پھر یہی رہ گئی کہ اس کو دوبارہ ذکر کیا جائے گا۔ اب اپنے سامنے ذرا مثال لکھیے، اس سے یہ مسئلہ آپ کو پوری طرح سمجھ میں آجائے گا بھئی۔ لکھیے بھئی: "حسبني"، "حسبني" کے بعد ایک لفظ کی جگہ خالی چھوڑ دیں، اور آگے لکھیں: "وحسبتُ زيدٌ منطلقٌ"، "زيدٌ منطلقٌ"۔ منطلق: میم، نون اور طا ہے بھئی، طا، ظا، اور لام اور قاف دو نقطوں والا، منطلق۔ انطلق ینطلق انطلاق کے معنی ہیں چلنا بھئی، چلنا۔ کیا لکھا؟ "حسبني وحسبتُ زيدٌ منطلقٌ" بھئی، اور حسبنی کے بعد ایک لفظ کی جگہ آپ نے چھوڑ دی۔ اچھا تو دیکھو حسبنی اور حسبت یہ جھگڑا کر رہے ہیں زید اور منطلق کے بارے میں۔ حسبنی چاہتا ہے میں عامل بنوں، اور حسبت چاہتا ہے میں عامل بنوں۔ حسبنی یہ افعال قلوب میں سے ہے، یہ ایک فاعل چاہتا ہے اور دو مفعول چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ حسبنی ایک مفعول جڑا ہوا ہے، اور آگے یہ زیداً کو اپنا فاعل بنانا چاہتا ہے اور منطلق کو یہ اپنا مفعول بنانا چاہتا ہے، کیونکہ ایک مفعول تو جڑ گیا ساتھ: حسبنی، یہ یا ضمیر ہے۔ تو اس کے لیے فاعل بھی چاہیے اور ایک مفعول بھی چاہیے، تو یہ چاہتا ہے آگے جو زید آ رہا ہے اس کو میں اپنے لیے فاعل بناؤں اور جو منطلق آ رہا ہے اس کو میں اپنے لیے مفعول بناؤں۔ اور اگلا فعل حسبت وہ بھی افعال قلوب میں سے ہے، وہ بھی ایک فاعل چاہتا ہے اور دو مفعول چاہتا ہے۔ تو اس حسبت کے ساتھ یہ جو تا ضمیر ہے یہ فاعل کی جڑی ہوئی ہے، یہ چاہتا ہے آگے زیداً کو اپنے لیے مفعول اول بنائے اور منطلق کو اپنے لیے مفعول ثانی بنائے۔ اور مذہب کس کا بیان ہو رہا ہے؟ بصرہ والوں کا۔ تو ثانی کو عامل بنایا تو اس حسبت نے زیداً کو نصب دے دیا، اس کو اپنے لیے مفعول اول بنایا تو زید کو زیداً کر دیں بھئی، یہ نصب کس نے دیا؟ حسبت نے۔ اور منطلق کو منطلقاً کر دیں، اس کو بھی حسبت نے نصب دے دیا، اس کو اپنے لیے مفعول ثانی بنا لیا۔ تو زیداً یہ حسبت کے لیے مفعول اول بنا اور منطلقاً اس کے لیے مفعول ثانی بن گیا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اور پہلا فعل حسبنی کیا چاہتا تھا؟ جی؟ وہ ایک فاعل چاہتا تھا اور ایک مفعول۔ حسبنی ایک مفعول تو ساتھ جڑا ہوا ہے، ایک یہ فاعل کا تقاضا کر رہا ہے ایک مفعول کا۔ جب ثانی کو عامل بنا دیا تو حسبنی کے اندر پھر فاعل کی تو ضمیر لے آئیں گے، کیونکہ اگر ثانی کو آپ عامل بنائیں اور پہلا فاعل کا تقاضا کر رہا ہو تو اس میں کیا کرتے ہیں؟ فاعل کی ضمیر لے آتے ہیں۔ تو حسبنی کے اندر "هو" ضمیر آگئی، اور یہ "هو" ضمیر کس کو راجع؟ زید کو راجع، کس کو؟ زید کو۔ اور یہ اضمار قبل الذکر ہے، لیکن اضمار قبل الذکر عمدہ میں جائز ہے بشرط تفسیر، کیونکہ "هو" ضمیر آئی، ابہام پیدا ہوا کہ یہ کس کو راجع ہے؟ آگے "وحسبت زيداً"، یہ زیداً نے آ کر تفسیر کر دی، یہ مرجع آگیا کہ "هو" ضمیر کس کو راجع؟ زید کو راجع۔ تو یہ ہے اضمار قبل الذکر بعد التفسیر بھئی، اور یہ عمدہ میں جائز ہے۔ اب دیکھو حسبنی کے اندر "هو" ضمیر فاعل کی آگئی، یا ضمیر مفعول اول ہے، آگے جو منطلقاً آ رہا تھا یہ اس کو مفعول ثانی بنانا چاہتا تھا، لیکن اس کے اندر عامل کس کو بنایا آپ نے؟ حسبت کو عامل بنا دیا۔ اب اس حسبنی کے لیے مفعول چاہیے، مفعول ثانی چاہیے۔ تو ایک صورت یہ کہ مفعول کو حذف کر دیں، کیا کر دیں؟ حذف کر دیں، لیکن حذف کر نہیں سکتے کیونکہ یہ افعال قلوب میں سے ہیں۔ یہ حسبنی کس میں سے ہے؟ افعال قلوب میں سے ہے اور اس کے ایک مفعول کو باقی رکھنا اور ایک کو حذف کرنا جائز نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس کی ضمیر لے آئیں، کیا لے آئیں؟ ضمیر لے آئیں، جو کس کو راجع ہو؟ اس منطلقاً کو راجع ہو۔ لیکن اس صورت میں تو اضمار قبل الذکر کی خرابی لازم آئے گی، ضمیر پہلے آگئی اور مرجع بعد میں ہے۔ اور یہ کس میں ہے؟ عمدہ میں ہے یا فضلہ میں ہے؟ فضلہ ہے، یہ تو مفعول ہے بھئی۔ مفعول چاہیے نا حسبنی کے لیے۔ مثلاً دیکھو حسبنی کے بعد ہم "إياه" ضمیر لے آتے ہیں، کیا لے آتے ہیں؟ "إياه" ضمیر لے آتے ہیں، یہ مفعول ثانی ہے حسبنی کے لیے، لیکن یہ تو اضمار قبل الذکر لازم آیا، اور کس میں لازم آیا؟ فضلہ کے اندر، اور یہ جائز نہیں۔ معلوم ہوا ضمیر بھی نہیں لا سکتے، حذف بھی جائز نہیں کیونکہ افعال قلوب میں سے ہے، ضمیر بھی نہیں لا سکتے کیونکہ کیونکہ اضمار قبل الذکر فضلہ میں جائز نہیں۔ تو آخری صورت یہی رہ گئی کہ اس منطلقاً کو دوبارہ لے آئیں بھئی۔ لہٰذا یہ جو حسبنی کے بعد ایک لفظ کی جگہ آپ نے چھوڑی تھی، یہاں منطلقاً کو لکھ لیں بھئی: "منطلقاً"، لکھ لیا؟ یہ منطلقاً یہ مفعول ثانی ہے حسبنی کے لیے۔ حسبنی کے اندر "هو" ضمیر فاعل کی ہے، یا ضمیر مفعول اول ہے، اور منطلقاً اس کا مفعول ثانی ہے بھئی۔ تو جملہ کیا بن گیا؟ "حسبني منطلقاً وحسبت زيداً منطلقاً"، زید نے میرے بارے میں گمان کیا کہ یہ چلنے والا ہے یعنی یہ چل رہا ہے، اور میں نے زید کے بارے میں گمان کیا کہ وہ چل رہا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو حاصل کلام کیا کہ بصرہ والوں کے مذہب کے مطابق ثانی کو عامل بناتے ہیں، تو پھر اول فاعل کا تقاضا کرے گا یا مفعول کا۔ اگر پہلا فعل فاعل کا تقاضا کرے تو اس میں فاعل کی ضمیر لے آئیں گے، اور اگر وہ مفعول کا تقاضا کرے تو مفعول کو حذف کر دیں گے، اور اگر مفعول کو حذف کرنا ممکن نہ ہو یعنی وہ فعل افعال قلوب میں سے ہو تو پھر اس مفعول کو دوبارہ لے کر آئیں گے، اس کو حذف بھی نہیں کر سکتے اور اس کی ضمیر لانا بھی جائز نہیں کیونکہ ورنہ تو اضمار قبل الذکر کی خرابی لازم آئے گی فضلہ کے اندر اور وہ جائز نہیں بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی۔ دیکھیے بھئی کتاب پر۔ پہلے متن متن دیکھیے۔ کہتے ہیں: "وحذفت المفعول"، اور آپ مفعول کو حذف کر دیں گے، "إن استغني عنه"، اگر اس سے بے نیازی حاصل ہو۔ آپ مفعول کو حذف کر دیں گے اگر اس سے بے نیازی حاصل ہو، یعنی اس کے بغیر بھی کام چل سکتا ہو تو مفعول کو حذف کر دیں گے، اور اگر اس سے بے نیازی حاصل نہ ہو یعنی اس کو حذف نہیں کر سکتے یعنی وہ فعل افعال قلوب میں سے ہے تو پھر آپ کو دوبارہ اس مفعول کو لانا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: "وحذفت المفعول"، اور آپ مفعول کو حذف کریں گے، "إن استغني عنه"، اگر اس مفعول سے بے نیازی حاصل ہو یعنی اس کو حذف کیا جا سکے، "وإلا"، اور اگر ایسا نہ ہو یعنی اس سے بے نیازی نہ ہو یعنی اس کو حذف نہ کیا جا سکے، "أظهرت"، تو آپ کیا کریں گے؟ اس مفعول کو دوبارہ ظاہر کریں گے یعنی اسم ظاہر کی صورت میں لائیں گے۔ حذف بھی جائز نہیں، اضمار قبل الذکر بھی جائز نہیں، تو آخری صورت یہی ہے کہ دوبارہ اسم ظاہر کی صورت میں لے آئیں بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ جی اب شرح کے ساتھ اس کو دیکھیے۔ کہتے ہیں: "وحذفت المفعول"، اور آپ مفعول کو حذف کر لیں گے۔ بات کیا چل رہی ہے کہ آپ نے عامل کس کو بنایا؟ ثانی کو، اور پہلا کس کا تقاضا کرے؟ مفعول کا، تو مفعول کو کیا کر لو؟ حذف۔ کیونکہ تین احتمال ہیں، تین صورتیں بن سکتی ہیں: یا مفعول کو دوبارہ لاؤ، یا مفعول کی ضمیر لاؤ، یا مفعول کو کیا کر دو؟ حذف۔ مفعول کو دوبارہ لائیں گے تو تکرار لازم آئے گا، ایک ہی اسم دو بار آ رہا ہے، اور تکرار بغیر نقطے کے اور بغیر وجہ کے پسندیدہ نہیں۔ اور ضمیر بھی نہیں لا سکتے کیونکہ اضمار قبل الذکر فضلہ میں جائز نہیں، تو آخری صورت کیا رہ گئی؟ اس کو کیا کر دیں گے؟ حذف۔ توجہ ہے؟ یہ عام افعال کی بات ہو رہی ہے، افعال قلوب کی بات اب آگے کریں گے۔ کہتے ہیں: "وحذفت المفعول"، اور آپ مفعول کو حذف کر لیں گے یعنی جب پہلا فعل مفعول کا تقاضا کر رہا ہو، "تحرزاً عن التكرار لو ذكر"، تکرار سے بچنے کے لیے لو ذکر اگر اس کو ذکر کر دیا جائے۔ اگر مفعول کو ذکر کر دیں گے پھر تو تکرار لازم آئے گا اور تکرار تو پسندیدہ نہیں۔ "وعن الإضمار قبل الذكر"، اور اضمار قبل الذکر سے بچنے کے لیے، "في الفضلة"، کس کے اندر؟ فضلہ کے اندر، "لو أضمر"، اگر ضمیر لائی جائے۔ اگر ضمیر لائی جائے پھر تو اضمار قبل الذکر فضلہ میں لازم آئے گا اور اس سے تو بچنا ضروری ہے، لہٰذا ضمیر بھی نہیں لا سکتے اور دوبارہ ذکر بھی نہیں کر سکتے ورنہ تو تکرار لازم آئے گا، تو آخری صورت کیا رہ گئی کہ اس کو پھر کیا کر لیں گے؟ حذف کر لیں گے۔ "إن استغني عنه"، اگر اس سے بے نیازی حاصل ہو بھئی، یعنی اس کو حذف کیا جا سکے۔ "وإلا"، یہ "وإلا"، بھئی میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بتایا ہوگا کہ یہ إلا سے پہلے اگر واو آ جائے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ إلا استثناء کے لیے نہیں۔ استثناء کے لیے ایک إلا آتا ہے وہ ایک ہی حرف ہے، اور یہ جو إلا سے پہلے واو آ جائے یہ وہ استثناء والا إلا نہیں ہے بلکہ یہ دراصل ہے إن اور لا: "وإن لا"۔ تو نون کو بھی لام کر کے لام میں ادغام کر دیا گیا تو کیا بن گیا؟ "إلا"۔ تو یہ دراصل دو حروف ہیں: إن اور لا، اور اصل میں عبارت یوں ہے: "وإن لم يكن كذلك"، اگر ایسا نہ ہو۔ "وإن لم يكن"، پیچھے کیا بتایا کہ آپ مفعول کو حذف کر لیں گے اگر مفعول سے بے نیازی حاصل ہو، اور اگر ایسا نہ ہو یعنی مفعول سے بے نیازی حاصل نہ ہو، "أظهرت"، پھر کیا کریں گے؟ اس کو دوبارہ اسم ظاہر کی صورت میں لائیں گے۔ تو یہ إلا کس سے مرکب ہے؟ إن، لا سے، اور اصل عبارت کیا ہے؟ "وإن لم يكن كذلك"، اگر ایسا نہ ہو۔ یہ جو ہے نا عبارت "وإن لم يكن كذلك"، اگر ایسا نہ ہو، یہ ہر جگہ لگ جاتی ہے یہ عبارت۔ لیکن موقع کے مطابق اسی کے مطابق بھی آپ عبارت بنا سکتے ہیں، مثلاً یہاں کیا ہے کہ مفعول کو ادھر دیکھیے، کہ اپ مفعول کو حذف کریں گے اگر اس سے بے نیازی حاصل ہو، "وإلا"، اور اگر اس سے بے نیازی حاصل نہ ہو تو "أظهرت"، تو پھر کیا کریں گے؟ دوبارہ اسم ظاہر۔ تو آپ چاہیں یوں کہہ لیں "وإن لم يكن كذلك"، اور اگر ایسا نہ ہو تو "أظهرت" آپ کیا کریں گے؟ دوبارہ اسم ظاہر لائیں گے، اور آپ چاہیں تو "وإن لم يستغن عنه"، اور اگر اس سے بے نیازی حاصل، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: "وإلا، أي: وإن لم يستغن عنه"، اور اگر اس مفعول سے بے نیازی حاصل نہ ہو یعنی اس کو حذف نہ کیا جا سکے، "أظهرت، أي: المفعول"، تو آپ ظاہر کریں گے "أي: المفعول"، یعنی مفعول کو۔ یہ "المفعول" نکال کر بتلا دیا کہ أظهرت فعل کا مفعول محذوف ہے اور وہ لفظ مفعول ہے بھئی، "أظهرت المفعول"، آپ اس مفعول کو دوبارہ اسم ظاہر کی صورت میں لے آئیں گے۔ عبارت سمجھ میں آگئی؟ یہاں یاد رکھو، یہاں آیا: "إن استغني عنه" بھئی، ایک قیمتی نحوی نکتہ یاد رکھنا۔ یہاں آیا "إن استغني عنه" بھئی، اگر اس سے بے نیازی حاصل ہو، استغنی فعل مجہول آیا۔ استغناء تو فعل لازم ہے، استغناء فعل لازم ہے اور فعل لازم اس کے لیے کیا چاہیے ہوتا ہے؟ صرف فاعل، مفعول نہیں آتا۔ اب اسی سے فعل مجہول بنا لیا گیا: "استغني عنه"، اور فعل مجہول میں کیا کرتے ہیں؟ مفعول کو نائب فاعل بناتے ہیں، توجہ ہے؟ لیکن استغناء کا تو کوئی مفعول ہی نہیں تھا، تو اب کس کو نائب فاعل بنائیں گے؟ کیا ہے نائب فاعل بھئی؟ تو بعض اوقات یاد رکھو، بعض اوقات عبارتوں میں کوئی فعل آتا ہے اور اس کے فاعل یا نائب فاعل کا پتہ نہیں چلتا۔ یہاں تو فعل مجہول ہے، فعل مجہول کے لیے کیا چاہیے؟ نائب فاعل۔ اور بعض اوقات فعل معروف آتا ہے اور فعل معروف کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل۔ تو بعض اوقات کوئی فعل عبارت میں آتا ہے وہ فعل معروف ہوتا ہے لیکن پتہ نہیں چل رہا ہوتا کہ اس کا فاعل کیا ہے، اور بعض اوقات فعل مجہول آتا ہے اور یہ پتہ نہیں چلتا کہ اس کا نائب فاعل کیا ہے۔ تو یاد رکھو اس میں ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ فاعل یا نائب فاعل جو اس فعل کے اندر ضمیر ہوتی ہے اس کو اسی کے مصدر کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے۔ کیا کیا جاتا ہے؟ اسی کے مصدر کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے، یعنی اسی کا مصدر جو ہے اسی کو فاعل یا نائب فاعل بنا دیتے ہیں۔ جیسے یہاں ہے: "استغني عنه"، استغنی کے اندر "هو" ضمیر کس کو راجع؟ تو "هو" ضمیر اسی استغنی کا مصدر، استغنی کا مصدر کیا؟ استغنی یستغنی استغناءً، تو یہ "هو" ضمیر استغناء کو راجع ہے۔ کس کو؟ استغناء کو۔ تو "إن استغني هو"، یہ "هو" ضمیر کس کو راجع؟ استغناء کو، اس کی جگہ ذرا استغناء لے آؤ: "إن استغني الاستغناءُ"، "إن استغني الاستغناءُ"، توجہ ہے؟ تو ضمیر اسی فعل کے مصدر کو راجع کر دی جاتی ہے۔ پھر اس کا ترجمہ کیسے کریں گے؟ ترجمے کا بھی طریقہ یاد رکھو۔ یاد رکھو پھر اس کا ترجمہ یقع یا حصل کے ساتھ کر لیں گے۔ دیکھو ادھر: "استغني الاستغناءُ، أي: يقع الاستغناءُ"، استغناء واقع ہو جائے، یا "حصل الاستغناءُ"، استغناء حاصل ہو جائے، یقع یا حصل کے ساتھ اس کی تفسیر کر دیں۔ پھر سنیں، استغنی کے اندر "هو" ضمیر کس کو راجع؟ اسی کے مصدر استغناء کو، تو گویا عبارت کیا بن گئی: "استغني الاستغناءُ"، پھر اس کا ترجمہ کیسے کریں گے؟ "يقع الاستغناءُ"، استغناء واقع ہو جائے، یا "حصل الاستغناءُ"، استغناء حاصل ہو جائے، "عنه"، اس مفعول سے۔ اب ترجمہ سنو: "إن استغني عنه"، اور اگر "يقع الاستغناء عنه"، اس مفعول سے استغناء واقع ہو جائے، یا "حصل الاستغناء عنه"، اور اگر اس مفعول سے استغناء حاصل ہو جائے، بے نیازی حاصل ہو جائے، ترجمے کا طریقہ آگیا؟ اسی طرح ایک کتاب تھی سلم بھئی منطق کی جس کو اب تو نصاب سے نکال دیا گیا ہے، اس کے اندر عبارت آتی تھی: "وإلا لدار أو تسلسل"، اور اگر ایسا نہ ہو "لدار"، دارا دور سے ہے، دور سے ہے، تو دور لازم آئے گا، "أو تسلسل"، یا تسلسل لازم آئے گا۔ دور اس کو کہتے ہیں کہ ایک چیز موقوف ہو جائے اس چیز پر جو خود اس پر موقوف ہے، اس کو دور کہتے ہیں، اور اس میں ایک بھی چیز کا پتہ نہیں چلتا اور یہ باطل ہے۔ مثلاً کس نے آپ سے پوچھا: زید کا گھر کہاں ہے؟ آپ نے کہا: بکر کے گھر کے سامنے۔ پھر پوچھا: بکر کا گھر کہاں ہے؟ آپ نے کہا: زید کے گھر کے سامنے۔ اب دیکھو اس میں دونوں میں سے ایک کا بھی پتہ نہیں چل سکتا۔ زید کے گھر کا تب پتہ چلے گا جب آپ کو کس کا پتہ چلے؟ بکر کے گھر کا، اور بکر کے گھر کا تب پتہ چلے گا جب آپ کو زید کے گھر کا پتہ چلے۔ تو زید کے گھر کا جاننا موقوف ہو گیا بکر کے گھر پر، اور بکر کے گھر کا جاننا موقوف ہو گیا زید کے گھر پر، تو دونوں میں سے ایک کا بھی پتہ نہیں چل سکتا بھئی۔ تو اس کو کہتے ہیں دور بھئی، کیا کہتے ہیں؟ اور اس میں ایک بھی چیز کا پتہ نہیں چلتا، تو دور بھی باطل۔ اسی طرح تسلسل بھی باطل ہے۔ تسلسل بھی، تسلسل کہتے ہیں ایک چیز کے بعد دوسری، دوسری کے بعد تیسری آئے۔ مثلاً دیکھو، مناطقہ، یہ یونان والے تھے منطقی اور یہ منطقی اور فلسفی، لیکن یہ بھی واجب الوجود یعنی اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے۔ اگرچہ اپنی طرف سے انہوں نے چیزیں اس میں گھڑی ہوئی تھیں کہ واجب الوجود کیسی ذات ہوگی، لیکن مانتے تھے۔ وجہ یہ کہ اگر واجب الوجود کو نہ مانا جائے تو تسلسل لازم آتا ہے اور وہ بھی کہتے تھے تسلسل نہیں ہو سکتا۔ مثلاً کس طرح تسلسل؟ یہ یاد رکھو، یہ کائنات کی جتنی چیزیں ہیں یہ سب ممکنات ہیں، کیا ہیں؟ اور ہر ممکن چیز کے لیے کوئی بنانے والا چاہیے۔ ہر ممکن چیز کے لیے کوئی بنانے والا چاہیے، تو مثلاً ایک چیز ہے، اگر اس کو بنانے والا بھی ممکن ہے، معلوم ہوا اس کو بھی کس نے بنایا ہے، تو اس کے لیے بھی کوئی بنانے والا چاہیے۔ اگر اس کو بنانے والا بھی کوئی ممکن ہے، معلوم ہوا اس کے لیے بھی کیا چاہیے؟ کوئی بنانے والا۔ اگر اس کو بنانے والا بھی ممکن ہے تو اس کے لیے بھی ایک بنانے والا چاہیے، تو یہ سلسلہ چلتا ہی رہے گا، کہیں رکے گا ہی نہیں، حالانکہ یہ باطل ہے، یہ نہیں ہو سکتا، یہ سلسلہ کہیں رکنا چاہیے۔ تو چنانچہ مجبور ہو کر انہوں نے مان لیا کہ کوئی ایک ذات ہے جس نے ان چیزوں کو بنایا ہے۔ اگر اس ذات کو ہم نہیں مانیں گے تو تسلسل لازم آئے گا: ایک چیز کو بنانے والا دوسری چیز، دوسری چیز کو بنانے والی کوئی تیسری چیز، تیسری چیز کو بنانے والی کوئی چوتھی چیز، یہ سلسلہ چلتا ہی رہے گا، کہیں بھی نہیں رکے گا۔ تو دور بھی باطل اور تسلسل بھی باطل۔ تو میں عبارت ذکر کر رہا تھا: "وإلا لدار أو تسلسل"، دارا فعل ماضی ہے، تسلسل یہ بھی فعل ماضی ہے۔ اب اس کا فاعل کیا ہے؟ یہ "هو" ضمیر کس کو راجع دارا کے اندر اور تسلسل کے اندر؟ تو طریقہ میں نے بتا دیا۔ کچھ پتہ نہیں چل رہا کہ "هو" ضمیر کس کو راجع، تو پھر کیا کرتے ہیں؟ اس کے اندر جو ضمیر ہے انہی کے مصدر کو راجع کریں گے، تو دارا کی ضمیر دور کو راجع: "أي: لدار الدورُ"، اور تسلسل کی ضمیر تسلسل مصدر کو راجع: "لتسلسل التسلسلُ"، عبارت سمجھ میں آگئی؟ "وإلا لدار الدور أو تسلسل التسلسل"۔ اچھا اب پھر اس کا ترجمہ کیسے کریں گے؟ ترجمے کا طریقہ بھی میں نے بتا دیا، کیا؟ "يقع الدور" یا "حصل الدور"، اور "يقع التسلسل" یا "حصل التسلسل"، "وإلا لدار أو تسلسل"، ورنہ "وإلا"، اور اگر ایسا نہ ہو تو "لدار الدور، أي: يقع الدور"، تو دور واقع ہوگا، "أو تسلسل التسلسل، أي: يقع التسلسل"، تسلسل واقع ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہو تو دور واقع ہوگا یا تسلسل واقع ہوگا، طریقہ سمجھ میں آگیا؟ تو بعض اوقات فعل کے فاعل یا نائب فاعل کا پتہ نہیں چلتا تو اس صورت میں اس فعل کی ضمیر کو اسی کے مصدر کی طرف راجع کر دیا جاتا ہے اور اس کا ترجمہ یقع یا حصل وغیرہ کے ساتھ کیا جاتا ہے، بات سمجھ میں آگئی۔ اب دیکھیے ذرا "إن استغني عنه"، ایک ترکیب تو یہ کہ استغنی کے اندر "هو" ضمیر کس کو راجع؟ اسی کے مصدر کو، "أي: يقع الاستغناء"، استغناء واقع ہوگا، "عنه"، کس سے؟ کس سے کس کی بات چل رہی ہے؟ مفعول سے۔ اگر مفعول سے استغناء حاصل ہو تو پھر اس کو کیا کریں گے؟ حذف کریں گے، توجہ ہے؟ تو عنہ کی ہا ضمیر کس کو راجع؟ ماقبل میں جو مفعول کا ذکر آیا اس کو راجع۔ یہ تو ایک صورت تھی کہ استغنی کی ضمیر کس کو راجع کر دی؟ مصدر کو۔ دوسری صورت یہ ہے، یاد رکھو قیمتی بات، کہ یہ جو جار مجرور فعل کے ساتھ آجائے اسی کو اس کا نائب فاعل بنا دیا جائے۔ اسی کو فعل مجہول کے اندر "هو" ضمیر یا تو اسی کے مصدر کو راجع کر دیں یا اگر ساتھ جار مجرور ہے تو اس جار مجرور کو اس کا نائب فاعل بنا دیں۔ وہ ضمیر مصدر کو نہ راجع کریں، اس کے اندر ضمیر نکالیں ہی نہ، استغنی کے اندر کوئی ضمیر نہیں، بلکہ یہی "عنه"، یہ جو جار مجرور ہیں یہی اس کا نائب الفاعل ہے۔ یہ فعل مجہول ہے نا، اس کے لیے کیا چاہیے؟ نائب فاعل، توجہ ہے؟ تو فعل مجہول کے جب نائب الفاعل کا پتہ نہ چل رہا ہو تو ایک طریقہ کیا کہ اس کے اندر "هو" ضمیر جو کس کو لوٹا دیں؟ اسی کے مصدر کو۔ دوسرا طریقہ کیا کہ اس کے ساتھ اگر جار مجرور ہو تو اسی جار مجرور کو اس کا نائب فاعل بنا دیں۔ تو دوسری ترکیب یہ، اب استغنی کے اندر کوئی ضمیر نہ نکالیں، اسی "عنه" جار مجرور کو اس کا نائب فاعل بنا دیں، اور جار مجرور کو کیا کہتے ہیں؟ ظرف، مجازاً ظرف کہتے ہیں، تو یوں کہیں گے یہ "عنه" ظرف جو ہے یا یہ "عنه" جار مجرور جو ہے یہ استغنی کا نائب الفاعل ہے۔ اب یہ نائب الفاعل ہوتا کیسے ہے؟ جار مجرور کیسے نائب الفاعل بنتا ہے؟ اس کو سمجھ لیں بھئی، قیمتی بات بتلانے لگا ہوں بھئی۔ ہمیشہ یاد رکھو، یہ جار مجرور کے نائب فاعل ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پہلی بات تو یہ یاد رکھیں کہ یہ جار مجرور اسی سے متعلق ہوتا ہے۔ جو جار مجرور جس کو نائب الفاعل بنایا جائے وہ اسی فعل سے متعلق ہوتا ہے، تو یہ "عنه" جار مجرور ہے اور جار مجرور کے لیے متعلق چاہیے، تو اس کا متعلق کیا ہے؟ استغنی، یہ اسی سے متعلق ہے۔ اور پھر اس میں یاد رکھیں، یہ عن، عن تو حرف جر ہے، آگے جو ہا ضمیر ہے اصل میں یہ نائب الفاعل ہے۔ اصل میں یہ نائب الفاعل ہے لیکن سارے کو ہی نائب الفاعل کہہ دیا جاتا ہے کیونکہ عن تو حرف ہے بھئی، کیا ہے؟ تو یوں کہہ دیں یہ جار مجرور اس کا نائب فاعل ہے، لیکن معنیٰ کیا ہوتا ہے دراصل؟ کہ وہ جو ضمیر جو اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے وہ کیا ہے حقیقت میں؟ نائب الفاعل ہے، توجہ ہے؟ تو کیسے کہیں گے؟ استغنی: فعل، اور "عنه" جار مجرور اس کا نائب الفاعل۔ تو ہر جگہ اسی طرح ہوگا، آپ نے پھر پریشان نہیں ہونا کہ جار مجرور کیسے نائب فاعل بنے گا۔ پہلی بات تو یہ یاد رکھنا وہ جار مجرور اسی سے متعلق ہوگا، اور دوسری بات یہ یاد رکھنا کہ پورا جار مجرور نائب فاعل نہیں ہے، یہ ویسے مجازاً کلام کیا جاتا ہے، حقیقت میں کیا ہے؟ جو مجرور ہے وہ حقیقت میں نائب الفاعل ہے، چاہے وہ ضمیر ہو، چاہے کوئی اسم وغیرہ ہو، جو بھی مجرور ہوگا حقیقت میں وہ نائب الفاعل ہے، توجہ ہے؟ اب اس ہا ضمیر کا اعراب کیا ہے؟ اعراب کیا ہے؟ تو یاد رکھو ضمیر ہے اور ضمیر کس میں سے؟ مبنیات میں سے، اور مبنی کا اعراب کیسے بتاتے ہیں؟ محلاً بتلاتے ہیں، تو "عنه" کی یہ جو ہا ضمیر ہے یہ محلاً مجرور ہے کیونکہ عن داخل ہے۔ عن حرف جر کیا کرتا ہے؟ جر، تو یہ مجرور محلاً ہے، اور یہ اس کا محلے قریب ہے۔ اس کا محلے قریب کیا؟ مجرور۔ محلے قریب کیا؟ مجرور، اور محلے بعید ہے اس کا یہ مرفوع ہے، نائب الفاعل ہے استغنی کے لیے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ کیا کہ یہ ضمیر ہے اور ضمیر کا اعراب کیسے بتاتے ہیں؟ محلاً، تو محلاً اس کا اعراب ایک محلے قریب ہوا ایک محلے بعید، محلے قریب کیا؟ مجرور ہے کیونکہ عن جارہ داخل ہے وہ جر دیتا ہے، اور محلے بعید کیا؟ کہ یہ نائب الفاعل ہے، مرفوع ہے، کس کے لیے نائب الفاعل ہے؟ استغنی کے لیے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو جہاں کہیں عبارت میں یہ آجائے کہ یہ جار مجرور نائب فاعل ہے تو آپ سمجھ جائیں کہ اصل میں نائب الفاعل کون ہے؟ وہ جو ضمیر ساتھ جڑی ہوئی ہے بھئی۔ آگے دیکھیے، تو کہتے ہیں: آپ مفعول کو حذف کریں گے "إن استغني عنه"، اگر اس مفعول سے بے نیازی حاصل ہو، "وإلا، أي: وإن لم يستغن عنه"، اور اگر اس مفعول سے بے نیازی حاصل نہ ہو یعنی اس کو حذف نہ کیا جا سکے، "أظهرت، أي: المفعول"، تو آپ ظاہر کریں گے یعنی مفعول کو، یعنی اس کو اسم ظاہر کی صورت میں لائیں گے، "نحو: حسبني منطلقاً وحسبت زيداً منطلقاً"، یہ مثال سمجھ میں آگئی؟ "لأنه لا يجوز حذف أحد مفعولي باب حسبت"، اس لیے کیونکہ جائز نہیں ہے حذف کرنا، کس کو؟ "أحد مفعولي باب حسبت"، اصل میں تھا "أحد مفعولين"، دو مفعولوں میں سے ایک بھئی، پھر اس نون کو اضافت کی وجہ سے حذف کر دیا، تو "أحد مفعولي باب حسبت"، باب حسبت کے دو مفعولوں میں سے ایک کو، اس کو حذف کرنا جائز نہیں۔ کہتے ہیں: "لأنه لا يجوز حذف أحد مفعولي باب حسبت"، اس لیے کیونکہ جائز نہیں ہے کہ باب حسبت کے دو مفعولوں میں سے ایک کو حذف کر لیا جائے، "ولا يجوز إضماره"، اور اس کی ضمیر لانا بھی جائز نہیں، کیوں؟ "لئلا يلزم الإضمار قبل الذكر في الفضلة"، تاکہ فضلہ کے اندر اضمار قبل الذکر لازم نہ آئے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ یہ تھی تفصیل بصرہ والوں کے مذہب کی۔ حاصل کلام کیا؟ بصرہ والوں کے نزدیک کس کو عامل بنانا اولیٰ؟ ثانی کو۔ پھر پہلا یا مفعول کا تقاضا کرے گا یا فاعل کا۔ اگر پہلا فاعل کا تقاضا کر رہا ہے تو اس میں فاعل کی ضمیر لے آؤ، اور اگر وہ مفعول کا تقاضا کر رہا ہے تو پھر اگر وہ افعال قلوب میں سے نہیں ہے تو مفعول کو کیا کر لو؟ حذف کر لو، اور اگر وہ افعال قلوب میں سے ہے تو دوبارہ اس مفعول کو اسم ظاہر کی صورت میں لانا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ "وإن أعملت الفعل الأول"، اور اگر آپ پہلے فعل کو عمل دیں، اب کوفہ والوں کا مذہب آگیا۔ کوفہ والوں کے مذہب کی مثالیں لکھ لیجیے بھئی، اس کی بھی ہم مکمل مثالیں کر لیتے ہیں پھر آپ کے لیے عبارت کو سمجھنا آسان ہوگا بھئی۔ بھئی ادھر دیکھیے، ہم کوفہ والوں کا مذہب کریں گے، اور کوفہ والے کس کو عامل بناتے ہیں؟ پہلے کو۔ کوفہ والے پہلے کو عامل بناتے ہیں، اور پھر چار قسم کی مثالیں کریں گے ہم۔ پہلی صورت جس میں دونوں فعل فاعلیت کے بارے میں جھگڑا کریں گے، دوسری صورت جس میں دونوں فعل مفعولیت کے بارے میں جھگڑا کریں گے، تیسری صورت یہ ہے کہ پہلا فعل فاعلیت کا تقاضا کرے گا اور دوسرا مفعولیت کا، اور چوتھی صورت یہ ہے کہ پہلا مفعولیت کا تقاضا کرے گا اور دوسرا فاعلیت کا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ جی لکھیے مثال بھئی، اوپر لکھ لیں: کوفہ والوں کا مذہب۔ لکھیے بھئی، پہلی مثال جس میں دونوں فعل فاعل کا تقاضا کر رہے ہوں: "ضربني وأكرمني زيدٌ"۔ "ضربني وأكرمني زيدٌ"۔ دوسری مثال اسی کے نیچے لکھیے: "ضربني وأكرمني الزيدانِ"۔ "ضربني وأكرمني الزيدانِ"۔ تیسری مثال لکھیے: "ضربني وأكرمني الزيدونَ"۔ "ضربني وأكرمني الزيدونَ"۔ دیکھو یہ دونوں فعل فاعل کا تقاضا کر رہے ہیں، ضربنی کے ساتھ یا ضمیر مفعول کی ساتھ جڑی ہوئی ہے، اسی طرح اکرمنی کے ساتھ بھی یا ضمیر مفعول کی جڑی ہوئی ہے، آگے زید اسم ظاہر آ رہا ہے۔ اس اسم ظاہر میں پھر تین صورتیں ہیں: کبھی وہ مفرد ہوگا، کبھی تثنیہ ہوگا، کبھی جمع ہوگا۔ تو پہلی مثال پہ نظر رکھیں: ضربنی چاہتا ہے یہ زید میرے لیے فاعل بنے، میں اس کو رفع دوں، اور اکرمنی چاہتا ہے کہ یہ زید میرے لیے فاعل بنے، میں اس کو رفع دوں۔ مذہب چل رہا ہے کوفہ والوں کا، عامل کس کو بنائیں گے؟ پہلے فعل کو۔ تو ضربنی نے زیدٌ کو رفع دے دیا، زیدٌ پر تنوین ڈال دیں: "زيدٌ"، یہ رفع کس نے دیا؟ ضربنی نے۔ اور اکرمنی کے لیے بھی تو فاعل چاہیے، تو پھر اس کے اندر فاعل کی ضمیر لے آئیں گے، اور فاعل ہے مفرد مذکر تو اکرمنی کے اندر بھی کون سی ضمیر ہے؟ "هو" کی، وہ بھی مفرد مذکر ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو پہلی مثال بن گئی: "ضربني وأكرمني زيدٌ"۔ دوسری مثال پہ آئیے: "ضربني وأكرمني الزيدانِ"، ضربنی چاہتا ہے الزیدانِ کو میں رفع دوں، اکرمنی چاہتا ہے میں رفع دوں، کس کو عامل بنایا؟ ضربنی کو۔ ضربنی نے الزیدانِ کو رفع دے دیا، تو اب اکرما کے اندر الزیدانِ کی ضمیر لائیں گے بھئی، اور الزیدانِ کیا ہے؟ مفرد ہے، تثنیہ ہے، یا جمع ہے؟ تثنیہ ہے۔ تو اکرمنی کے اندر ہمیں تثنیہ کی ضمیر چاہیے، تو اس کو تثنیہ کے فعل کے ساتھ بدل دیں: اکرمنی کی جگہ "أكرماني"، الف بھی لے آئیں۔ اب "أكرماني"، یہ الف ضمیر کس کو راجع؟ الزیدانِ کو، توجہ ہے؟ الزیدانِ کو راجع، اور نیز اضمار قبل الذکر کی خرابی سے بھی ہم بچ گئے بھئی، کس طرح؟ الزیدانِ کو رفع کس نے دیا؟ ضربنی نے۔ تو الزیدانِ دیکھنے میں یا لفظوں کے اندر تو اکرمنی سے مؤخر ہے لیکن اس کو رفع ضربنی نے دیا ہے تو یہ ضربنی کے فوراً بعد اس کا مرتبہ ہے، معلوم ہوا یہ اکرمنی سے رتبے کے اعتبار سے مقدم ہے۔ توجہ ہے؟ الزیدانِ لفظوں میں تو اکرمنی سے مؤخر ہے لیکن رتبے میں اس سے مقدم ہے، تو یہ اضمار قبل الذکر صرف لفظاً لازم آیا، رتبۃً لازم نہیں آیا اور یہ جائز ہے بھئی۔ تو یہ دوسرا جملہ کیا بن گیا: "ضربني وأكرماني الزيدانِ"۔ تیسرا جملہ: "ضربني وأكرمني الزيدونَ"، اس الزیدون میں دونوں جھگڑ رہے ہیں، کس کو عامل بنایا؟ ضربنی کو، اس نے الزیدون کو رفع دے دیا۔ تو اکرمنی کے اندر اس کی ضمیر لائیں گے، اور کون سی ضمیر چاہیے ہمیں؟ جمع والی، کیونکہ الزیدون جمع ہے، تو اکرمنی کی جگہ جمع والا صیغہ لے آؤ: "أكرموني"، "أكرموني"۔ یہ جمع کی ضمیر الزیدون کو راجع، اور الزیدون اکرامونی سے لفظوں میں تو مؤخر ہے لیکن رتبے کے اعتبار سے مقدم ہے۔ تو کیا مثال بن گئی: "ضربني وأكرموني الزيدونَ"۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اگلی مثالیں لکھیے بھئی، جب دونوں مفعول کا تقاضا کریں: "ضربتُ وأكرمتُ زيداً"۔ "ضربتُ وأكرمتُ زيداً"۔ اگلی مثال لکھیے: "ضربتُ وأكرمتُ الزيدانِ"۔ "ضربتُ وأكرمتُ الزيدانِ"۔ تیسری مثال لکھیے: "ضربتُ وأكرمتُ الزيدونَ"۔ "ضربتُ وأكرمتُ الزيدونَ"۔ لکھ لیا؟ اب دیکھیے بھئی، ضربت کے ساتھ فاعل کی ضمیر جڑی ہوئی ہے اور یہ آگے زیداً کو نصب دینا چاہتا ہے، اس کو اپنا مفعول بنانا چاہتا ہے۔ اکرمت کے ساتھ بھی تا ضمیر فاعل کی جڑی ہوئی ہے اور یہ آگے زیداً کو اپنا مفعول بنانا چاہتا ہے، اس کو نصب دینا چاہتا ہے۔ مذہب چل رہا ہے کوفہ والوں کا، کس کو عامل بنائیں گے؟ پہلے فعل کو، تو ضربت نے زید کو نصب دے دیا، تو زید کو زیداً کر دیں بھئی، زید پر نصب لے آئیں: "زيداً"۔ یہ نصب کس نے دیا زید کو؟ ضربت نے۔ تو اکرمت کے لیے بھی مفعول چاہیے، توجہ ہے؟ اب اس میں یاد رکھو، یہاں دونوں صورتیں جائز: مفعول کو حذف کرنا بھی جائز کیونکہ مفعول فضلہ ہے، اور اس کی ضمیر بھی لا سکتے ہیں۔ ضمیر بھی لا سکتے ہیں، اور ضمیر لانا بہتر ہے کیونکہ جب ضمیر ذکر ہوگی اور ضمیر تو اسی زید کو راجع ہوگی تو پتہ چل جائے گا کہ مفعول یہی ہے، اور اگر آپ مفعول کو بالکل حذف کر دیں تو پھر پتہ نہیں چلے گا کہ یہی مفعول ہے جو آگے ذکر ہے یا کوئی اور ذات ہے بھئی۔ تو ضمیر لائیں گے، کون سی ضمیر لائیں گے جو کس کو راجع ہوگی؟ زید کو، اور زید کیا ہے؟ مفرد مذکر، تو اکرمت کے ساتھ مفرد مذکر کی ضمیر جوڑ دیں: "وأكرمته"، "وأكرمته"۔ تو کیا مثال بن گئی: "ضربتُ وأكرمته زيداً"۔ "ضربتُ وأكرمته زيداً"، یہ زیداً کو نصب کس نے دیا؟ ضربت نے، ضربت نے۔ اور اکرمت کے لیے مفعول چاہیے تھا تو اس میں دو صورتیں جائز: آپ اس مفعول کو کیا کر لیں؟ حذف کر لیں، یا اس کی ضمیر لے آئیں، اور ضمیر لانا اولیٰ ہے، بہتر ہے تاکہ پتہ چل جائے یہی مفعول ہے، کوئی اور نہیں۔ توجہ ہے؟ دیکھو "أكرمته" کے اندر ہا ضمیر لے آئے اور یہ ہا ضمیر کس کو راجع؟ زید کو، معلوم ہوا اکرام کس کا کیا ہے؟ زید کا کیا ہے، یہی مفعول ہے۔ اور اگر ہا ضمیر نہ لاتے تو "أكرمتُ"، میں نے اکرام کیا، کس کا اکرام کیا؟ کچھ پتہ نہ چلتا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو مفعول کا حذف یہاں اولیٰ ہے یا اس کی ضمیر لانا اولیٰ؟ ضمیر لانا اولیٰ ہے تاکہ پتہ چل جائے کہ کس کا اکرام کیا ہے۔ "أكرمته" کی ہا ضمیر آگئی اور یہ ہا ضمیر کس کو راجع؟ زید کو، تو اس نے بتلا دیا کہ اکرام کس کا کیا گیا ہے؟ زید کا کیا گیا ہے۔ اس پر آپ کے ذہنوں میں اشکال آئے گا کہ یہ تو اضمار قبل الذکر ہے، "أكرمته" کی ہا ضمیر پہلے آگئی اور زیداً اس کے بعد آ رہا ہے، ضمیر پہلے ہے اور مرجع بعد میں ہے، یہ تو اضمار قبل الذکر ہے۔ تو جواب گزر چکا کہ زیداً کا تعلق کس سے جڑ چکا؟ ضربت پہلے فعل سے، اس نے اس کو نصب دیا تھا۔ تو اس کا تعلق پہلے فعل سے ہے، تو دیکھنے میں تو زیداً اکرامتی کے بعد ہے، لیکن رتبے کے اعتبار سے زیداً اس پر مقدم ہے، گویا اصل کلام اب یوں ہے: "ضربت زيداً وأكرمته"۔ زیداً لفظوں میں تو اکرمت سے مؤخر، لیکن رتبے کے اعتبار سے مقدم ہے، وہ ضربت کے بعد ہے اس کا رتبہ بھئی۔ تو ہا ضمیر راجع ہے زید کو، اور زید لفظوں میں تو مؤخر ہے لیکن رتبے میں مقدم ہے، تو یہ اضمار قبل الذکر لفظاً ہوا، رتبۃً نہ ہوا اور یہ جائز ہے۔ اگلی مثال بھئی: "ضربت وأكرمت الزيدانِ"، ضربت چاہتا ہے الزیدانِ کو میں نصب دوں، اکرمت چاہتا ہے میں نصب دوں، کوفہ والوں کا مذہب چل رہا ہے، کس نے نصب دیا؟ ضربت نے۔ ضربت نے نصب دیا، الزیدانِ کو نصب دے دیں، الزیدانِ کو نصب دے دیں۔ یہ تثنیہ ہے، تثنیہ کا نصب کس کے ساتھ آتا ہے؟ تثنیہ کا نصب کس کے ساتھ آتا ہے؟ یا کے ساتھ، تو الزیدانِ کو بدل دیں الزیدینِ سے، الزیدینِ سے۔ یہ الزیدینِ کو نصب کس نے دیا؟ ضربت نے۔ اب اکرمت کے لیے بھی کیا چاہیے؟ مفعول۔ ایک صورت یہ کہ مفعول کو حذف کر لیں، ایک صورت یہ کہ مفعول کی ضمیر لے آئیں، دونوں جائز ہیں، مفعول کو حذف کرنا بھی جائز اور اس کی ضمیر لانا بھی جائز، لیکن بہتر کیا ہے؟ ضمیر لے آئیں۔ تو ضمیر لے آئیں ایسی ضمیر جو الزیدینِ کو راجع ہو، اور وہ تثنیہ مذکر ہے تو تثنیہ مذکر کی ضمیر لے آئیں: "وأكرمتهما"۔ تو اکرمت کے ساتھ ہما ضمیر جوڑ دیں، تو جملہ کیا بن گیا: "ضربتُ وأكرمتهما الزيدينِ"، طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تیسری مثال بھئی: "ضربت وأكرمت الزيدونَ"، جی الزیدون کو نصب دیں، کون نصب دے گا؟ ضربت۔ تو الزیدون کو نصب دے دیں، یہ جمع مذکر سالم ہے، جمع مذکر سالم کا نصب کس کے ساتھ آتا ہے؟ یا کے ساتھ، تو الزیدون کو بدل دیں الزیدینَ سے: "الزيدينَ"۔ یہ نصب کس نے دیا؟ ضربت نے۔ اور اکرمت کے لیے مفعول چاہیے، چاہے آپ حذف کر لیں، چاہے آپ ضمیر لے آئیں، لیکن بہتر کیا؟ ضمیر لے آئیں، تو کون سی ضمیر لائیں گے؟ الزیدینَ جمع ہے تو جمع والی ضمیر لائیں گے، جمع کی ضمیر اس کے ساتھ جوڑ دیں اکرمت کے ساتھ: "وأكرمتهم"، "وأكرمتهم"، تو جملہ کیا بن گیا پورا؟ "ضربت وأكرمتهم الزيدينَ"۔ الزیدینَ کو نصب کس نے دیا؟ ضربت نے۔ اور اکرمت کے لیے مفعول کی ضمیر لے آئے، مفعول کو حذف بھی کر سکتے ہیں اور ضمیر بھی لا سکتے ہیں، لیکن پسندیدہ کیا کہ ضمیر لائی جائے۔ اگلی مثال کیجیے جس میں پہلا فاعل کا تقاضا کرے اور دوسرا مفعول کا: "ضربني وأكرمتُ زيدٌ"، "ضربني وأكرمتُ زيدٌ"۔ اگلی مثال بھی اسی طرح لکھیے، بس صرف اسم ظاہر کو تثنیہ لے آئیں: "ضربني وأكرمتُ الزيدانِ"، "ضربني وأكرمتُ الزيدانِ"۔ اگلی مثال میں اسم ظاہر کو جمع لے آئیں: "ضربني وأكرمتُ الزيدونَ"، "ضربني وأكرمتُ الزيدونَ"۔ پہلا جملہ کیا لکھا؟ "ضربني وأكرمتُ زيدٌ"، ضربنی چاہتا ہے زید کو رفع دے، اپنا فاعل بنائے، اکرمت چاہتا ہے زید کو نصب دے، اپنا مفعول بنائے۔ کس کا مذہب چل رہا ہے؟ کوفہ والوں کا۔ عامل کس کو بنائیں گے؟ پہلے فعل یعنی ضربنی کو، ضربنی کو عامل بنا دیں، اس نے زید کو رفع دے دیا، زید پر رفع لکھ دیں: "زيدٌ"۔ یہ رفع کس نے دیا؟ ضربنی نے۔ اور آگے اکرمت کیا چاہتا ہے؟ مفعول چاہتا ہے، تو اس میں کیا کریں گے؟ مفعول کو حذف کرنا بھی جائز اور ضمیر لانا بھی جائز، لیکن پسندیدہ کیا؟ ضمیر لائیں۔ تو ضمیر لے آئیں جو زید کو لوٹے: "وأكرمته"، ہا ضمیر مفرد کی ساتھ جوڑ دیں۔ تو کیا مثال بن گئی: "ضربني وأكرمته زيدٌ"۔ دوسری مثال پر آئیے: "ضربني وأكرمتُ الزيدانِ"، ضربنی چاہتا ہے الزیدانِ کو رفع دے، اکرمت چاہتا ہے نصب دے، کس کو عامل بنائیں گے؟ ضربنی کو۔ تو الزیدانِ پر رفع آگیا، کس نے دیا یہ رفع؟ ضربنی نے۔ اب اکرمت کیا چاہتا ہے؟ مفعول، اور مفعول کو حذف کرنا بھی جائز اور ضمیر لانا بھی جائز، لیکن پسندیدہ کیا؟ ضمیر لائی جائے، تو ضمیر لے آؤ جو الزیدانِ کو لوٹے۔ شاباش، "أكرمتهما"، ہما ضمیر ساتھ جوڑ دیں اکرمت کے: "ضربني وأكرمتهما الزيدانِ"، "ضربني وأكرمتهما الزيدانِ"۔ تیسرا جملہ کیا لکھا تھا: "ضربني وأكرمتُ الزيدونَ"، یہ الزیدون کو رفع کس نے دیا؟ ضربنی نے۔ تو اکرمت کے ساتھ کیا لے آئیں گے؟ مفعول کی ضمیر۔ کون سی ضمیر لائیں گے؟ جمع مذکر کی ہم ضمیر لائیں گے، تو "أكرمتهم"، اس کے ساتھ ہم ضمیر جوڑ دیں۔ تو کلام کیا بن گیا، جملہ کیا بن گیا؟ "ضربني وأكرمتهم الزيدونَ"، توجہ ہے؟ جی روانی سے کیسے پڑھیں گے؟ "ضربني وأكرمتهمُ الزيدونَ"۔ اگلی مثال لکھیے بھئی جس میں پہلا مفعول کا تقاضا کرے اور دوسرا فاعل کا تقاضا کرے: "ضربتُ وأكرمني زيدٌ"، "ضربتُ وأكرمني زيدٌ"۔ لکھ لیا؟ دوسری مثال بھی اسی طرح لکھیے، صرف اسم ظاہر کو تثنیہ لے آئیں: "ضربتُ وأكرمني الزيدانِ"، "ضربتُ وأكرمني الزيدانِ"۔ تیسری مثال میں اسم ظاہر کو جمع لے آئیں: "ضربتُ وأكرمني الزيدونَ"، "ضربتُ وأكرمني الزيدونَ"۔ اب اس کو حل کریں، پہلا جملہ کیا؟ "ضربتُ وأكرمني زيدٌ"، ضربت کیا چاہتا ہے؟ زید کو نصب دے، اس کو اپنا مفعول بنائے۔ اور اکرمنی چاہتا ہے کہ زید کو رفع دے، اپنا فاعل بنائے۔ کس کو عامل بنایا؟ ضربت کو، اس نے زید کو نصب دے دیا، تو زید کو زیداً کر دیں بھئی۔ یہ نصب کس نے دیا؟ ضربت نے۔ اور اکرمنی کیا چاہتا ہے؟ یہ فاعل چاہتا ہے، تو اس کے اندر "هو" ضمیر آگئی۔ تو جملہ کیا بن گیا: "ضربتُ وأكرمني زيداً"۔ اگلا جملہ: "ضربتُ وأكرمني الزيدانِ"، کس کو عامل بنایا؟ ضربت کو، اس نے الزیدانِ کو نصب دے دیا۔ الزیدانِ کو نصب دے دیں، الزیدینِ کر دیں اس کو۔ الزیدانِ کو بدل دیں الزیدینِ سے، یہ نصب آیا، تثنیہ کا نصب یا کے ساتھ آتا ہے۔ یہ نصب کس نے دیا؟ ضربت نے۔ تو اکرمنی کیا چاہتا ہے؟ فاعل۔ تو اس کے اندر فاعل کی ضمیر لائیں گے، اور یہ ضمیر کس کو لوٹے گی؟ زید کو، اور زید ہے تثنیہ تو ہمیں تثنیہ کی ضمیر چاہیے، تو اکرمنی کو تثنیہ والے فعل سے بدل دیں: "وأكرماني"، اکرمنی کی جگہ "أكرماني"، تثنیہ والا فعل لے آئیں۔ تو جملہ کیا بن گیا: "ضربتُ وأكرماني الزيدينِ"، طریقہ سمجھ میں آیا؟ تیسری مثال کیا تھی: "ضربتُ وأكرمني الزيدونَ"، کس کو عامل بنائیں گے؟ ضربت کو۔ ضربت کیا چاہتا ہے؟ الزیدون کو نصب دے، نصب دے دیں بھئی۔ الزیدون کو بدل دیں کس سے؟ الزیدینَ سے۔ یہ نصب کس نے دیا؟ ضربت نے۔ اور اکرمنی کیا چاہتا ہے؟ فاعل چاہتا ہے، تو اس کے اندر فاعل کی ضمیر لے آئیں گے اور وہ ضمیر کس کو لوٹے گی؟ الزیدینَ کو اور وہ جمع مذکر ہے، تو اکرمنی کے اندر جمع مذکر والی ضمیر لائیں گے، تو اکرمنی کو جمع مذکر کے صیغے سے بدل دیں: "وأكرموني"، "وأكرموني"۔ تو جملہ پورا کیا بن گیا؟ "ضربتُ وأكرموني الزيدينَ"۔ طریقہ سمجھ میں آگیا؟ بھئی ادھر دیکھیے پھر سنیں، پہلے بصرہ والوں کا مذہب ذکر ہوا تھا۔ بصرہ والے کس کو عامل بناتے تھے؟ ثانی کو، ثانی کو۔ تو پہلا اگر فاعل کا تقاضا کرتا تھا تو اس میں فاعل کی ضمیر لاتے تھے، اور اگر پہلا مفعول کا تقاضا کرتا تھا تو مفعول کو حذف کرتے تھے۔ جبکہ دوسرا مذہب کوفہ والوں کا ہے، کوفہ والے کس کو عامل بناتے ہیں؟ پہلے کو۔ تو دوسرا فعل اگر فاعل کا تقاضا کر رہا ہو تو اس میں فاعل کی ضمیر لائیں گے، اور اگر دوسرا مفعول کا تقاضا کر رہا ہو تو مفعول کو حذف کرنا بھی جائز اور اس کی ضمیر لانا بھی جائز، لیکن بہتر کیا ہے؟ ضمیر لاؤ، حذف نہ کرو مفعول کو۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ یہ تو عام افعال کے اندر تھا، اور اگر افعال قلوب ہوں پھر کیا کریں گے بھئی؟ افعال قلوب ہوں، کوفہ والوں کے مذہب کے مطابق کس طرح اس کو حل کریں گے؟ اس کے لیے مثال لکھیے بھئی، لکھیے بھئی: "حسبني وحسبتُهما"، "حسبني وحسبتُهما" کے بعد ایک لفظ کی جگہ چھوڑ دیں، آگے لکھیں: "الزيدانِ"، "الزيدانِ" اور آگے لکھیں "منطلقاً"، "منطلقاً"۔ کیا لکھا؟ "حسبني وحسبتُهما الزيدانِ منطلقاً"، اور حسبتھما کے بعد میں نے کہا تھا ایک لفظ کی جگہ چھوڑ دیں۔ اب دیکھو بھئی، حسبنی اور حسبتھما دونوں افعال قلوب میں سے ہیں۔ حسبنی یہ ایک فاعل چاہتا ہے اور دو مفعول، یہ چاہتا ہے الزیدانِ کو اپنے لیے فاعل بنائے اور منطلقاً کو اپنے لیے مفعول ثانی بنائے کیونکہ ایک مفعول حسبنی کے ساتھ یا ضمیر تو جڑی ہوئی ہے۔ اور حسبتھما، حسبتھما یہ بھی ایک فاعل چاہتا ہے اور دو مفعول، تو حسبتھما یہ تا ضمیر فاعل کی بھی ساتھ جڑی ہوئی ہے اور ہما ضمیر مفعول اول بھی ساتھ ہے، لیکن یہ مفعول ثانی چاہتا ہے۔ تو آگے جو آخر میں منطلقاً آ رہا ہے اس میں تنازع ہے، جھگڑا ہے۔ حسبنی چاہتا ہے یہ میرے لیے مفعول ثانی بنے اور حسبتھما چاہتا ہے یہ میرے لیے مفعول ثانی بنے، توجہ ہے؟ اچھا، مذہب کس کا چل رہا ہے؟ کوفہ والوں کا۔ عامل کس کو بناتے ہیں؟ پہلے کو۔ تو حسبنی کو عامل بنایا اور الزیدانِ کو اس کے لیے فاعل بنا دیا، الزیدانِ کو حسبنی نے رفع دے دیا۔ اور منطلقاً کو اس حسبنی کے لیے مفعول ثانی بنا دیا، اس نے اس کو نصب دے دیا۔ اب حسبتھما اپنے لیے مفعول ثانی چاہتا ہے، تو ایک صورت یہ ہے کہ مفعول ثانی کو حذف کر لیں، لیکن یہ تو افعال قلوب ہیں اس میں تو حذف جائز نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس کی ضمیر لے آئیں، کیا لے آئیں؟ ضمیر لے آئیں۔ اب توجہ سے سنو، اب ہم ضمیر لاتے ہیں یہاں حسبتھما کے بعد، تو ضمیر لاتے ہیں جو کس کو راجع؟ منطلقاً کو، توجہ ہے؟ مثلاً میں "إياه" ضمیر لے آیا، بھئی "هو" نہیں لاؤں گا کیونکہ "هو" ضمیر تو مرفوع ہے، یہ تو مبتدا وغیرہ بنتی ہے، اور مجھے یہاں مفعول کی ضمیر چاہیے اور مفعول کیا ہوتا ہے؟ منصوب۔ ضمیریں آپ نے پڑھا ہے: کچھ ضمیریں مرفوع ہوتی ہیں، کچھ منصوب، کچھ مجرور۔ پھر کچھ متصل ہوتی ہیں، کچھ منفصل، توجہ ہے؟ تو ضمیریں کل پانچ قسم پر ہیں: جو ضمیر مرفوع ہے وہ متصل بھی ہوتی ہے اور منفصل بھی۔ ضمیر منصوب بھی، وہ بھی متصل بھی ہوتی ہے اور منفصل بھی۔ جبکہ مجرور صرف متصل ہوتی ہے، توجہ ہے؟ ضمیریں، ضمیر یا متصل ہوگی یا منفصل، پھر یا وہ مرفوع ہوگی یا منصوب یا مجرور۔ مرفوع دو قسم پر ہے: ضمیر مرفوع متصل بھی ہوتی ہے اور منفصل بھی، توجہ ہے؟ اور ضمیر منصوب وہ بھی متصل بھی ہوتی ہے اور منفصل بھی، اور مجرور صرف متصل ہوتی ہے، منفصل نہیں ہوتی۔ مرفوع ضمیر کی مثال: "هو"، یہ مرفوع ہے، یہ مبتدا بنتی ہے، یہ جہاں رفع کا محل ہو وہاں آتی ہے، اور یہ کسی سے جڑی ہوئی ہے؟ نہیں، تو یہ مرفوع منفصل ہے۔ اور "ضربتُ"، یہ تا ضمیر کیا ہے؟ یہ بھی مرفوع ہے، فاعل ہے، فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع، لیکن یہ فعل کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، تو دیکھو مرفوع کبھی منفصل ہوتی ہے جیسے "هو"، "هو، هما، هم، هي، هما، هن"، ساری ضمیریں ہیں بھئی۔ اور "ضربتُ"، یہ تا ضمیر کیا ہے؟ یہ بھی مرفوع ہے لیکن متصل۔ اسی طرح منفصل کبھی متصل ہوتی ہے کبھی منفصل: "ضربته"، یہ ہا ضمیر کیا ہے؟ مفعول کی ہے اور مفعول کیا ہوتا ہے؟ منصوب، تو یہ منصوب متصل ہے۔ اور یہی ضمیر کبھی منفصل بھی آتی ہے اور وہ ہے "إياه"، آپ نے پڑھا ہے: "إياه، إياهما، إياهم، إياها، إياهما، إياهن، إياك، إياكما، إياكم"، بات سمجھ میں آگئی؟ یہ منصوب منفصل ہے، جب ایسی جگہ ہو جہاں ہم جوڑ نہیں سکتے، الگ رکھنا ہے تو پھر یہ منصوب منفصل لاتے ہیں۔ اور مجرور صرف متصل ہوتی ہے: "كتابك"، یہ کاف ضمیر کیا ہے؟ یہ مضاف الیہ ہے، مجرور ہے اور متصل ہے۔ لہٰذا یہاں پر: "حسبني وحسبتُهما الزيدانِ منطلقاً"، یہ جو آخر میں منطلقاً ہے اس میں حسبنی اور حسبتھما کا تنازع ہے، حسبنی چاہتا ہے یہ میرے لیے مفعول بنے اور حسبتھما چاہتا ہے میرے لیے مفعول بنے۔ آپ نے کس کے لیے مفعول بنایا؟ حسبنی کے لیے۔ تو حسبتھما کے لیے اب مفعول چاہیے۔ ایک صورت یہ ہے کہ مفعول کو حذف کر دیں، لیکن مفعول کو یہاں حذف نہیں کر سکتے کیونکہ یہ افعال قلوب میں سے ہیں۔ پھر دوسری صورت یہ ہے کہ اس کی ضمیر لے آئیں، کیا لے آئیں؟ اور ابھی کوفہ والوں کا مذہب ذکر ہوا، جب ثانی مفعول کا تقاضا کر رہا ہو تو اس میں مفعول کو حذف کرنا بھی جائز تھا، اس کی ضمیر لانا بھی جائز۔ حذف کرنا اس لیے جائز کیونکہ مفعول فضلہ ہے، اور ضمیر بھی لا سکتے ہیں کیونکہ اس صورت میں اضمار قبل الذکر کی خرابی بھی لازم نہیں آتی، توجہ ہے؟ تو یہاں پر بھی یہ منطلقاً اس کے اندر عامل کون؟ حسبنی ہے، تو یہ اس کا تعلق پہلے فعل سے ہے۔ تو لفظوں کے اعتبار سے یہ بے شک آخر میں ہے لیکن رتبے کے اعتبار سے یہ حسبتھما سے مقدم ہے، توجہ ہے؟ جب مقدم ہے تو اس کی ضمیر ہم لا سکتے ہیں اور اضمار قبل الذکر کی خرابی بھی لازم نہیں آئے گی۔ چنانچہ ہم ضمیر لاتے ہیں، اور ضمیر کون سی چاہیے؟ مرفوع چاہیے یا منصوب چاہیے؟ منصوب چاہیے، اور متصل چاہیے یا منفصل؟ متصل چاہیے یا منفصل؟ منفصل چاہیے۔ وجہ یہ کہ دیکھو آپ لفظوں پہ غور کرو: "حسبتُهما"، متصل تا ضمیر فاعل کی بھی جڑی ہوئی ہے اور ایک ہما ضمیر مفعول کی بھی جڑی ہوئی ہے، تو ایک اور متصل مفعول کی نہیں آ سکتی بھئی، تو ہمیں کیا لانا پڑے گی؟ منفصل۔ اب ہم ضمیر لاتے ہیں "إياه"، یہ "إياه" ضمیر واحد مذکر غائب، اور یہ کس کو راجع؟ منطلقاً کو۔ ضمیر اور مرجع میں مطابقت ہے، منطلقاً بھی مفرد مذکر اور "إياه" بھی مفرد مذکر، تو ہم "إياه" ضمیر لے آئے لیکن مسئلہ پھر بھی حل نہیں ہوا، اس لیے کیونکہ یہ مفعول ثانی ہے، یہ مفعول ثانی ہے اور مفعول اول کیا ہے حسبتھما کا؟ ہما ضمیر، وہ تثنیہ کی ضمیر، اور مفعول ثانی "إياه" مفرد کی ضمیر، تو یہ تو دونوں میں مطابقت نہیں ہے۔ یہ تو دونوں مفعولوں میں مطابقت نہیں ہے، حسبتھما کا مفعول اول کیا؟ ہما، اور ثانی کیا؟ "إياه"۔ تو مفعول اول تثنیہ، تثنیہ کی ضمیر، اور مفعول ثانی کیا؟ مفرد کی ضمیر، حالانکہ دونوں مفعول آپس میں مبتدا خبر کی طرح ہوتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کے مطابق ہونے چاہئیں، تو لہٰذا "إياه" ضمیر نہیں لا سکتے ہم۔ اچھا یوں کرتے ہیں پھر ہم تثنیہ کی ضمیر لے آتے ہیں: "إياهما"، "حسبتُهما إياهما"، اب دونوں مفعولوں میں مطابقت ہو گئی۔ حسبتھما کا مفعول اول ہما تثنیہ کی ضمیر اور "إياهما" بھی کیا ہے؟ تثنیہ کی ضمیر، تو دونوں مفعول ایک دوسرے کے مطابق ہو گئے، لیکن اب مرجع کے ساتھ مطابقت نہیں ہے۔ مرجع تو ہے منطلقاً، وہ تو ہے مفرد، اور "إياهما" ضمیر کیا لے آئے آپ؟ تثنیہ لے آئے، تو تثنیہ کی ضمیر تو مفرد کو راجع نہیں ہو سکتی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ معلوم ہوا یہاں ضمیر بھی ہم نہیں لا سکتے۔ حذف بھی جائز نہیں کیونکہ افعال قلوب کے ایک مفعول کو حذف کرنا جائز نہیں، ضمیر بھی نہیں لا سکتے کیونکہ اگر ضمیر لائیں گے تو یا تو پھر مفرد کی لائیں گے یا تثنیہ کی۔ اگر مفرد کی ضمیر لاتے ہیں پھر مرجع کے ساتھ تو مطابقت ہو جائے گی لیکن دونوں مفعولوں کی آپس میں مطابقت نہیں ہوگی، اور اگر آپ تثنیہ کی ضمیر لاتے ہیں پھر دو مفعولوں کی مطابقت تو ہو جائے گی لیکن مرجع کے ساتھ ضمیر کی مطابقت نہیں ہوگی۔ تو پھر آخری صورت یہ ہے کہ پھر اس اسم ظاہر کو دوبارہ لائیں گے۔ کیا کریں گے؟ حذف بھی نہیں کر سکتے، ضمیر بھی نہیں لا سکتے، تو آخری صورت یہ ہے کہ اسی اسم ظاہر کو دوبارہ لائیں گے۔ لہٰذا یہاں اسم ظاہر دوبارہ لائیں گے۔ "حسبتهما" کے بعد اسی "منطلقاً" کو دوبارہ لائیں لیکن یہ پہلے مفعول کے مطابق ہونا چاہیے۔ پہلا مفعول کیا ہے؟ تثنیہ، لہٰذا "منطلقاً" کو نہ لاؤ بلکہ تثنیہ لاؤ۔ کیا لاؤ گے؟ "منطلقانِ"، توجہ ہے؟ اور "منطلقانِ" تو تثنیہ ہے مرفوع ہے اور ہمیں تو مفعول چاہیے جو منصوب ہوتا ہے، تو حالت نصبی میں لے جاؤ اس کو: "منطلقينِ"، تو "حسبتهما" کے بعد "منطلقين" لے آئیں بھئی۔ تو "حسبتهما" کے بعد "منطلقين" لے آئیں بھئی۔ "منطلقاً" کیوں نہیں لائے؟ کیونکہ پھر دونوں مفعولوں میں مطابقت نہیں رہے گی، پہلا مفعول "هما" ہے تثنیہ، تو دوسرا بھی ہمیں تثنیہ چاہیے تو "منطلقين" لے آئے، اور "منطلقين" حالت نصبی میں لائے کیونکہ یہ مفعول ہے، مفعول کیا ہوتا ہے؟ منصوب، اور تثنیہ کا نصب کس کے ساتھ آتا ہے؟ یا ماقبل مفتوح کے ساتھ تو "منطلقين" لائے۔ تو جملہ کیا بن گیا؟ "حسبني وحسبتهما منطلقين الزيدان منطلقاً"۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو کوفہ والوں کا مذہب کیا ہوا کہ اول کو عامل بنائیں گے، ثانی اگر فاعل کا تقاضا کرے تو اس میں فاعل کی ضمیر لے آئیں گے، اور اگر ثانی مفعول کا تقاضا کرے تو مفعول کو حذف کرنا بھی جائز اور اس کی ضمیر لانا بھی جائز، لیکن بہتر کیا ہے؟ ضمیر لے آئیں تاکہ مفعول کا پتہ چل جائے، اور اگر افعال قلوب میں سے ہے وہ فعل ثانی تو پھر اس صورت میں حذف بھی جائز نہیں اور ضمیر لانا بھی جائز نہیں تو پھر اس اسم ظاہر کو دوبارہ لائیں گے۔ طریقہ سمجھ میں آگیا؟ اب دیکھیے کتاب پر بھئی، پہلے متن متن دیکھیے: کہتے ہیں "وإن أعملت الأول"، اور اگر آپ پہلے فعل کو عامل بنائیں "أضمرت الفاعل في الثاني"، تو آپ فاعل کی ضمیر لائیں گے فعل ثانی میں "والمفعول"، اور اسی طرح مفعول کی ضمیر لائیں گے "على المختار"، مذہب مختار پر۔ مفعول میں کیا بتلایا؟ حذف بھی جائز اور ضمیر لانا بھی جائز، لیکن مختار کیا ہے؟ ضمیر لانا۔ یہ معنی ہے کہ "والمفعول" کہ مفعول کی بھی ضمیر لائیں گے "على المختار" مذہب مختار کے مطابق یعنی اس کو حذف نہیں کریں گے، "إلا أن يمنع مانع"، مگر یہ کہ کوئی مانع آجائے، یعنی افعال قلوب آجائیں تو وہاں حذف بھی جائز نہیں اور مفعول کی ضمیر لانا بھی جائز نہیں، "فتظهر"، تو پھر آپ کیا کریں گے؟ مفعول کو دوبارہ اسم ظاہر کی صورت میں لائیں گے۔ عبارت سمجھ میں آگئی؟ اب دیکھیے شرح کے ساتھ اس سارے کو۔ کہتے ہیں "وإن أعملت الفعل الأول"، اور اگر آپ فعل اول کو عمل دیں "كما هو مختار الكوفيين"، جیسے کہ کوفہ والوں کا مختار ہے یعنی ان کا پسندیدہ مذہب ہے "أضمرت الفاعل في الفعل الثاني"، تو آپ فاعل کی ضمیر لائیں گے فعل ثانی میں "لو اقتضاه"، اگر فعل ثانی کس کا تقاضا کرے؟ فاعل کا، تو پھر آپ فاعل کی ضمیر لائیں گے، "نحو: ضربني وأكرمني زيدٌ"۔ کس کو عامل بنایا؟ "ضربني" کو، اور "أكرمني" کے اندر "هو" ضمیر لے آئے جو کس کو راجع ہے؟ زید کو۔ دیکھو بھئی! اس مثال پر نظر رکھو، "نحو: ضربني وأكرمني زيدٌ"، زید کو رفع کس نے دیا؟ "ضربني" نے، اور "أكرمني" میں کیا لے آئے؟ ضمیر، اور یہ ضمیر کس کو راجع ہے؟ زید۔ زید لفظوں میں تو بے شک مؤخر لیکن رتبے کے اعتبار سے مقدم ہے، تو یہ اضمار قبل الذکر صرف لفظاً ہے رتبۃً نہیں، اور یہ جائز ہے۔ اب دیکھیے عبارت، کہتے ہیں "نحو: ضربني وأكرمني زيد، إذا جعلت زيداً فاعل ضربني"، جب آپ زید کو "ضربني" کا فاعل بنا دیں "وأضمرت في أكرمني ضميراً راجعاً إلى زيد"، اور آپ ضمیر لے آئیں "أكرمني" کے اندر ایسی ضمیر جو لوٹ رہی ہو زید کی طرف "لتقدمه رتبة"، اس وجہ سے کہ زید جو ہے رتبے کے اعتبار سے مقدم ہے "فلا محذور فيه"، تو اس میں کوئی ممنوع چیز نہیں، تو اس میں کوئی ممنوع نہیں۔ بھئی! جب ثانی کو آپ عامل بناتے تھے بصرہ والوں کے نزدیک تو پھر پہلے فعل کے اندر فاعل کی ضمیر لاتے تھے، اور تو وہاں اضمار قبل الذکر کی خرابی لازم آتی تھی، لیکن جمہور کیا کہتے ہیں؟ اضمار قبل الذکر عمدہ میں جائز ہے بشرط تفسیر، جبکہ کوفہ والوں کے مذہب پر عمل کریں پہلے کو عامل بنائیں تو ثانی کے اندر ضمیر لائیں گے اور وہ ضمیر اگرچہ اس لفظ کو راجع ہے جو بعد میں آ رہا ہے لیکن وہ لفظوں کے اعتبار سے مؤخر ہے رتبے کے اعتبار سے کیا ہے؟ مقدم ہے، تو اس صورت میں اضمار قبل الذکر صرف لفظاً لازم آیا ہے رتبۃً لازم نہیں، اور یہ جائز ہے دیکھو کوئی خرابی لازم نہیں آئی۔ یہ معنی ہے تو کہتے ہیں: "وأضمرت في أكرمني ضميراً راجعاً إلى زيد"، اور آپ "أكرمني" کے اندر ایسی ضمیر لاتے ہیں جو لوٹ رہی ہے زید کی طرف "لتقدمه رتبة"، بوجہ اس زید کے رتبے کے اعتبار سے مقدم ہونے کے "فلا محذور فيه حينئذ"، تو اس وقت اس کے اندر کوئی ممنوع چیز نہیں ہے یعنی کوئی ممنوع لازم نہیں آتا "لا حذف الفاعل"، نہ تو فاعل کا حذف لازم آتا ہے کیونکہ آپ فاعل کی ضمیر لا رہے ہیں "ولا الإضمار قبل الذكر لفظاً ورتبة"، اور نہ ہی اضمار قبل الذکر لفظاً اور رتبۃً لازم آ رہا ہے "بل لفظاً فقط"، بلکہ صرف اضمار قبل الذکر لفظاً لازم آ رہا ہے "وهو جائز"، اور وہ جائز ہے۔ "وأضمرت المفعول في الفعل الثاني لو اقتضاه"، اور آپ مفعول کی ضمیر لائیں گے فعل ثانی کے اندر "لو اقتضاه"، اگر فعل ثانی مفعول کا تقاضا کرے "على المذهب المختار"، کس کے مطابق؟ بھئی کوفہ والوں کا مذہب چل رہا ہے، عامل پہلے کو بنایا دوسرا فعل کس کا تقاضا کر رہا ہے؟ مفعول کا، تو اس میں دو صورتیں جائز: حذف بھی جائز اور ضمیر لانا بھی جائز، لیکن پسندیدہ کیا؟ ضمیر لائی جائے، حذف نہ کیا جائے بھئی، تاکہ مفعول کا پتہ چل جائے۔ یہ معنی ہے "على المذهب المختار"، تو آپ مفعول کی ضمیر لائیں گے پسندیدہ مذہب کے مطابق "ولم تحذفه"، اور اس کو حذف نہیں کریں گے۔ پسندیدہ مذہب کے مطابق ضمیر لائیں گے مفعول کی اور اس کو حذف نہیں کریں گے "وإن جاز حذفه"، اگرچہ حذف بھی جائز ہے۔ بھئی کیوں؟ ضمیر کیوں لائیں گے؟ کہتے ہیں "لئلا يتوهم"، تاکہ کہیں یہ وہم نہ کیا جائے "أن مفعول الفعل الثاني مغاير للمذكور"، کہ فعل ثانی کا مفعول وہ مغایر ہے مذکور سے، اس مذکور سے مغایر ہے کوئی اور ہے۔ بھئی دیکھو نا: "ضربني وأكرمت زيدٌ"، "ضربني وأكرمت زيدٌ"، اور ایک صورت یہ ہے کہ میں ضمیر لے آؤں: "ضربني وأكرمته زيدٌ"، جب "أكرمت" کے لیے میں نے مفعول کو حذف کر دیا تو اب پتہ نہیں کہ یہی مفعول زید ہی ہے یا کوئی اور ہے؟ اور جب میں نے "أكرمته" کے ساتھ ہا ضمیر جوڑ دی تو اب پتہ چل گیا یہ ہا ضمیر تو کس کو راجع ہے؟ زید کو، معلوم ہوا اکرام بھی اسی کا ہوا ہے، مفعول کا پتہ چل گیا۔ تو اگر آپ مفعول کو حذف کر دیں گے تو پھر پھر مفعول کا پتہ نہیں چلے گا، سننے والا سمجھے گا شاید مفعول کوئی اور ہے یہ زید نہیں ہے۔ یہ معنی ہے "لئلا يتوهم"، ضمیر مفعول کی لائیں گے تاکہ یہ وہم نہ کیا جائے "أن مفعول الفعل الثاني مغاير للمذكور"، کہ فعل ثانی کا مفعول وہ مغایر ہے اس مذکورہ یہ جو اسم ظاہر جو مذکور ہے اس کے مغایر ہے اس کے علاوہ ہے۔ "ويكون الضمير حينئذ راجعاً إلى لفظ متقدم رتبة"، اور اس صورت میں جو ضمیر ہے اس صورت میں جو ضمیر ہے "راجعاً"، وہ راجع ہے "إلى لفظ متقدم رتبة"، ایسے لفظ کی طرف جو رتبے کے اعتبار سے متقدم ہے، جو رتبے کے اعتبار سے مقدم ہے۔ "ضربني وأكرمته زيدٌ"، یہ "زيدٌ" کا تعلق کس سے؟ "ضربني" سے، اس نے اس میں عمل کیا ہے، تو زید لفظوں میں بے شک مؤخر ہے لیکن رتبے کے اعتبار سے مقدم ہے اور یہ "أكرمته" کی ہا ضمیر اسی کو راجع ہے۔ تو اس صورت میں "ويكون الضمير حينئذ راجعاً إلى لفظ متقدم رتبة"، اور اس وقت پھر یہ ضمیر راجع ہوگی ایسے لفظ کی طرف جو رتبے کے اعتبار سے مقدم ہے "كما تقول"، جیسے آپ کہتے ہیں: "ضربني وأكرمته زيدٌ"۔ یہاں تک باتیں سمجھ میں آگئیں؟ آگے: "إلا أن يمنع مانع"، بھئی انہوں نے بتایا اگر آپ پہلے فعل کو عامل بنائیں تو اگر دوسرا فعل دوسرا فعل اگر فاعل کا تقاضا کرے تو اس میں فاعل کی ضمیر لے آؤ، اور اگر وہ مفعول کا تقاضا کرے تو مفعول کو حذف کرنا بھی جائز لیکن پسندیدہ کیا ہے؟ اس کی ضمیر لے آؤ، "إلا أن يمنع مانع"، مگر یہ کہ کوئی مانع آجائے، کوئی مانع آجائے۔ کس چیز سے مانع؟ بھئی وہ افعال قلوب میں، حذف بھی جائز نہیں تھا اور ضمیر لانا بھی جائز نہیں تھا، تو پھر پھر پھر آپ کیا کرتے ہیں؟ دوبارہ اسم ظاہر کو لاتے ہیں۔ تو یہ معنی ہے "إلا أن يمنع مانع"، مگر یہ کہ کوئی مانع آجائے "من الإضمار"، ضمیر لانے سے بھی، ضمیر بھی نہیں لا سکتے "كما هو القول المختار"، جیسے کہ قول مختار ہے، پسندیدہ قول کیا ہے؟ دوسرا جب مفعول کا تقاضا کر رہا ہے تو اس میں حذف بھی جائز، ضمیر لانا بھی جائز، لیکن پسندیدہ کیا؟ ضمیر لائی جائے، تو کہتے ہیں "كما هو القول المختار"، جیسے کہ قول مختار ہے، تو "إلا أن يمنع مانع من الإضمار"، مگر یہ کہ کوئی مانع آجائے ضمیر لانے سے بھی "كما هو القول المختار"، جیسے کہ قول مختار ہے، "ومن الحذف"، اور حذف سے بھی کوئی مانع آجائے "كما هو القول غير المختار"، جیسے کہ قول غیر مختار ہے۔ جب فعل ثانی مفعول کا تقاضا کرے اس میں حذف بھی جائز اور ضمیر لانا بھی جائز، حذف ہے غیر مختار اور ضمیر لانا مختار ہے۔ اور دیکھو صاحب جامی نے "إلا أن يمنع مانع" کے بعد کیا بتایا؟ مانع آجائے کس چیز سے؟ "من الإضمار ومن الحذف"، اضمار سے بھی مانع آجائے اور حذف سے بھی مانع آجائے، تو آگے آیا "فتظهر المفعول"، تو پھر آپ کیا کریں گے؟ مفعول کو دوبارہ اسم ظاہر کی صورت میں لائیں گے۔ تو کوئی مانع آجائے ضمیر بھی نہیں لا سکتے اور حذف بھی نہیں کر سکتے جیسے افعال قلوب کے اندر ہے، "فتظهر المفعول"، تو پھر آپ کیا کریں گے؟ مفعول کو دوبارہ اسم ظاہر لائیں گے "فإنه إذا امتنع الإضمار والحذف"، اس لیے کیونکہ جب اضمار بھی ممتنع ہوا اور حذف بھی ممتنع ہوا "فلا سبيل إلا إلى الإظهار"، تو پھر کوئی راستہ نہیں مگر اظہار کی طرف ہی، یعنی دوبارہ اسم ظاہر کو لانا پڑے گا۔ "نحو: حسبني وحسبتهما منطلقين الزيدان منطلقاً"، "حيث أعمل حسبني"، اس طور پر کہ "حسبني" کو اب دیکھو یہ "حسبني وحسبتهما منطلقين الزيدان منطلقاً"، اس میں جو تفصیل میں نے بیان کی تھی اب وہ ساری یہ یہاں بیان کریں گے۔ کہتے ہیں دیکھو: "حيث أعمل حسبني"، "حسبني" کو عامل بنایا گیا "فجعل الزيدان فاعلاً له"، تو "الزيدان" کو اس کے لیے فاعل بنا دیا گیا "ومنطلقاً مفعولاً له"، اور "منطلقاً" کو اس کے لیے مفعول بنا دیا گیا "وأضمر المفعول الأول في حسبتهما"، اور "حسبتهما" کے اندر مفعول اول کی ضمیر لائی گئی یہ جو "هما" ضمیر ہے، "وأظهر المفعول الثاني"، اور دوسرے مفعول کو ظاہر لایا گیا "وهو منطلقين"، اور وہ کیا ہے؟ "منطلقين"۔ بھئی اس کو ظاہر کیوں لایا گیا؟ کہتے ہیں "لمانع"، ایک مانع کی وجہ سے "وهو"، اور وہ یہ "أنه لو أضمر مفرداً"، کہ اگر اس کی ضمیر مفرد کی لائی جائے "خالف المفعول الأول"، کہ اگر ضمیر مفرد کی لائی جائے "خالف المفعول الأول"، تو یہ ضمیر مخالف ہو جائے گی کس کے؟ مفعول اول کے۔ یا اس کو "المفعولُ الأولُ" کو مرفوع پڑھ لو اس کو "خالف" کا فاعل بنا دو، یا "خالف المفعولُ الأولُ"، تو وہ مفعول اول مخالف ہو جائے گا اس ضمیر کے کیونکہ وہ تو تثنیہ ہے اور ضمیر تو کیا ہے؟ مفرد کی آپ نے نکالی۔ "ولو أضمر مثنى"، اور اگر تثنیہ کی ضمیر لائی جائے "خالف المرجع"، پھر تو یہ ضمیر مرجع کے مخالف ہو جائے گی "وهو قوله: منطلقاً"، اور مرجع کیا ہے؟ وہ وہ "منطلقاً" ہے وہ تو مفرد ہے۔ اب یہاں سے ایک اور بات آپ کو بتلائیں گے، اس جملے پہ نظر رکھو: "حسبني وحسبتهما منطلقين الزيدان منطلقاً"، انہوں نے کیا بتایا آپ کو؟ کہ یہ "حسبني" اور "حسبتهما" ان کا تنازع ہے کس کے بارے میں؟ وہ جو آخر میں "منطلقاً" آ رہا ہے، توجہ ہے؟ اس میں جھگڑا ہے، "حسبني" چاہتا ہے یہ میرے لیے مفعول ثانی بنے، "حسبتهما" چاہتا ہے یہ میرے لیے مفعول ثانی بنے۔ پھر "حسبتهما" کے لیے آپ نے مفعول ثانی کیا نکالا؟ "منطلقين"، کیا نکالا؟ معلوم ہوا "حسبتهما" تو تثنیہ والا مفعول چاہتا ہے، اور یہ آگے جو "منطلقاً" ہے وہ تو مفرد ہے، معلوم ہوا اس میں تو جھگڑا ہی نہیں ہو سکتا بھئی! کیونکہ "حسبني" مفعول ثانی کو مفرد چاہتا ہے اور "حسبتهما" مفعول ثانی تثنیہ چاہتا ہے، اور "منطلقاً" تو مفرد ہے، وہ تو "حسبني" کے لیے مفعول بن سکتا ہے "حسبتهما" کے لیے مفعول بن ہی نہیں سکتا، اسی لیے تو آپ نے جب اس کے لیے مفعول نکالا تو تثنیہ نکالا، وہ مفرد مفعول کا تقاضا ہی نہیں کر رہا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو صاحب جامی آپ کو بتلائیں گے کہ ہاں بات ایسی ہی ہے، اس "منطلقاً" کو اگر اسی طرح مفرد ہونے کے اعتبار سے دیکھا جائے تو پھر اس میں جھگڑا ہو ہی نہیں سکتا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ ہاں، کہتے ہیں جھگڑے کا تصور اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ آپ یہ تصور کریں کہ آپ یہ تصور کریں کہ دیکھو "منطلقاً"، توجہ ہے؟ یہ "منطلق" دو چیزوں پہ دلالت کر رہا ہے: ایک یہ مفرد ہونے پہ بھی دلالت کر رہا ہے کہ یہ مفرد ہے، دوسرا یہ اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ کوئی ذات ہے جو انطلاق کے ساتھ موصوف ہے۔ "منطلق" کا کیا معنیٰ؟ کوئی ذات ہے جو چلنے والی ہے، تو اس میں مفرد ہونے پر بھی یہ دلالت کر رہا ہے اور ذات کے منطلق ہونے پر بھی یہ کیا کر رہا ہے؟ دلالت کر رہا ہے۔ کہتے ہیں جھگڑے کا تصور اسی وقت ہو سکتا ہے جب آپ مفرد اور تثنیہ سے قطع نظر یہ دیکھیں کہ "منطلق" دلالت کر رہا ہے ایک ایسی ذات پر جو انطلاق کے ساتھ موصوف ہے، جو کس کے ساتھ موصوف ہے؟ بھئی دیکھو "ضارب" کا کیا معنیٰ؟ ایک ذات ہے جو ضرب کے ساتھ موصوف ہے یعنی جس نے ضرب لگائی ہے، "شارب" کا کیا معنیٰ؟ ایک ذات ہے جو شرب کے ساتھ موصوف ہے یعنی جس نے پینے والا فعل کیا ہے، "آکل"، "آکل" اکل کا معنی کھانا کھانا، "آکل" کا کیا معنیٰ؟ ایک ذات ہے جو کھانے کے ساتھ موصوف ہے، تو اسی طرح یہاں "منطلق" آیا، "منطلق" نے کس پر دلالت کی؟ ایک ذات ہے جو انطلاق کے ساتھ موصوف ہے، کس کے ساتھ؟ انطلاق یعنی چلنے کے ساتھ موصوف ہے۔ تو کہتے ہیں جھگڑے کا تصور اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ جب آپ "منطلقاً" میں یہ ملاحظہ کریں کہ یہ ایک ایسی ذات پر دلالت کر رہا ہے جو انطلاق کے ساتھ موصوف ہے، افراد اور تثنیہ سے قطع نظر۔ افراد اور افراد اور تثنیہ سے قطع نظر یہ ایک ایسی ذات پر دلالت کر رہا ہے جو انطلاق کے ساتھ موصوف ہے، اور "حسبني" بھی ایسا مفعول چاہتا ہے جو انطلاق کے ساتھ موصوف ہو، اور "حسبتهما" بھی ایسا مفعول چاہتا ہے جو انطلاق کے ساتھ موصوف ہو۔ افراد اور تثنیہ سے قطع نظر اس لیے کیونکہ اگر افراد اور تثنیہ کو آپ مدنظر رکھیں گے پھر تو جھگڑا ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ "حسبني" مفرد مفعول ثانی چاہتا ہے اور "حسبتهما" تثنیہ چاہتا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ دیکھیے کتاب پر، کہتے ہیں: "ولا يخفى أنه لا يتصور التنازع في هذه الصورة"، اور یہ بات مخفی نہیں ہے کہ تنازع کا تصور نہیں کیا جاتا اس صورت میں "إلا إذا لاحظت المفعول الثاني اسماً دالاً على اتصاف ذات ما بالانطلاق"، مگر یہ کہ جب آپ ملاحظہ کریں مفعول ثانی کو کہ اسماً دالاً کہ وہ ایک ایسا اسم ہے جو دلالت کر رہا ہے علی اتصاف ذات ما کسی ایک ذات کے متصف ہونے پر کہ ایک ذات متصف ہو رہی ہے بالانطلاق کس کے ساتھ؟ جب آپ مفعول ثانی کو ملاحظہ کریں صرف اس حیثیت سے کہ ایک ذات انطلاق کے ساتھ متصف ہو رہی ہے "من غير ملاحظة تثنيته وإفراده"، بغیر اس کے تثنیہ اور مفرد ہونے کے۔ اس کے تثنیہ اور مفرد ہونے کو ملاحظہ کیے بغیر، صرف اتنا دیکھیں کہ منطلقاً ایک ایسی ذات پر دلالت کر رہا ہے جو انطلاق کے ساتھ موصوف ہے، مفرد یا تثنیہ ہونے کو نہ دیکھیں۔ پھر ہی جھگڑے کا تصور کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ مفرد یا تثنیہ ہونے کو ملاحظہ کریں گے، پھر اس میں جھگڑا نہیں ہو سکتا۔ تو کہتے ہیں: "من غير ملاحظة تثنيته وإفراده"، بغیر اس کے مفرد ہونے اور اس کے تثنیہ ہونے کو ملاحظہ کرتے ہوئے، "وإلا"، اور اگر ایسا نہ ہو، یعنی آپ تثنیہ اور افراد کو بھی ملاحظہ کریں، "فالظاهر أنه لا تنازع بين الفعلين في المفعول الثاني"، پھر ظاہر یہی ہے کہ کوئی جھگڑا نہیں ہے دو فعلوں کے درمیان مفعول ثانی میں، "لأن الأول يقتضي مفعولاً مفرداً"، اس لیے کیونکہ پہلا فعل تقاضا کر رہا ہے مفعول مفرد کا، "والثاني مفعولاً مثنى"، اور دوسرا ایسے مفعول کا جو تثنیہ ہو، "فلا يتوجهان إلى أمر واحد"، تو یہ دونوں ایک چیز کی طرف متوجہ ہی نہیں ہیں، "فلا تنازع"، تو کوئی جھگڑا بھی نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آگئی اچھی طرح؟ حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔