Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-084

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 18 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 28
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَحُقُوقُ عَقْدٍ يُضِيفُهُ الوَكِيلُ إِلَى نَفْسِهِ (أَيْ لَا يَحْتَاجُ فِيهِ إِلَى ذِكْرِ المُوَكِّلِ؛ فَإِنَّ فِي البَيْعِ وَالشِّرَاءِ عَنِ المُوَكِّلِ يَكْفِي أَنْ يَقُولَ الوَكِيلُ: بِعْتُ أَوْ اشْتَرَيْتُ). بھئی دیکھیے یہاں سے آپ کو تفصیل بتلائیں گے کہ حقوق دو قسم پر ہیں بھئی، اور عقد دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ عقد ہے جس کی نسبت وکیل اپنی طرف کرتا ہے، اور ایک وہ عقد ہے جس کی نسبت وکیل موکل کی طرف کرتا ہے۔ بھئی آپ کسی معاملے میں کسی شخص کو کیا بناتے ہیں؟ وکیل۔ تو یہ دو معاملات دو قسم کے ہیں؛ کچھ وہ معاملات ہیں جن میں وکیل موکل کا ذکر ہی نہیں کرتا، اپنی طرف ہی نسبت کر دیتا ہے، اور کچھ وہ معاملات ہیں جن میں وہ اپنی طرف نسبت نہیں کر سکتا، بلکہ کس کا ذکر کرنا پڑے گا؟ موکل کا ذکر کرنا پڑے گا۔ مثلاً دیکھو بھئی، میں نے ایک آدمی کو وکیل بنایا کہ جاؤ میرے لیے ایک گاڑی خرید کر لاؤ، اس کو ایک لاکھ روپے یا دو لاکھ روپے میں نے اس کے حوالے کر دیے۔ وہ جا کر ایک گاڑی خریدتا ہے تو کیا خرید پائے کو یہ کہے گا کہ یہ گاڑی میں نے فلاں شخص کے لیے تم سے خریدی، یا صرف یہ کہے گا میں نے تم سے یہ گاڑی خریدی؟ ہاں، یعنی موکل کا ذکر نہیں کرے گا، بس جو بھی ملا اس سے گاڑی خریدے گا، اور خرید کر پھر لا کر کس کے حوالے کر دے گا؟ موکل۔ تو یہ بیع و شراء ایسا معاملہ ہے جس میں موکل عقد کی نسبت کس کی طرف کرتا ہے؟ اپنی طرف کرتا ہے، اور بعض عقد ایسے ہوتے ہیں جن میں وکیل عقد کی نسبت کس کی طرف کرتا ہے؟ موکل کی طرف کرتا ہے۔ مثلاً بھئی، آپ نے اپنے ایک ساتھی کو بھیجا کہ جاؤ میرا نکاح کروا کر آؤ بھئی، وکیل بنا دیا۔ آپ کا ساتھی گیا، وہ جا کر کیا کہے گا؟ کہ میں نکاح کرتا ہوں یا آپ موکل کا نام لے کر کہے گا اس کا میں نے نکاح کیا؟ کس کا نام لے گا؟ اگر موکل کا نہیں لیتا تو پھر تو کس کا نکاح ہو جائے گا؟ وکیل کا اپنا ہی نکاح ہو جائے گا، سمجھ میں آیا؟ تو یہ عقد نکاح ایسا ہے، عقد نکاح جس میں عقد کی نسبت وکیل اپنی طرف نہیں کرتا بلکہ کس طرف کرتا ہے؟ موکل کی طرف۔ تو یاد رکھو، وہ عقد جس کی نسبت وکیل اپنی طرف کرتا ہے، اس کے حقوق کا تعلق بھی وکیل ہی سے ہوتا ہے، اور وہ عقد جس کی نسبت وکیل موکل کی طرف کرتا ہے، اس عقد کے حقوق کا تعلق بھی کس سے ہوتا ہے؟ اس کا تعلق موکل سے ہوتا ہے۔ حقوق مثلاً دیکھیے بھئی، میں نے آپ کو وکیل بنایا جاؤ میرے لیے گاڑی خریدو، تو اب آپ کا کام ہے کہ جاؤ مبیع پر قبضہ کریں بھئی۔ جب عقد آپ نے کیا ہے، تو مبیع پر قبضہ کرنا بھی کس کا حق ہے؟ وکیل کا حق ہے بھئی۔ تو یہ دیکھو بیع ایسا معاملہ ہے جس کی نسبت وکیل کس کی طرف کرتا ہے؟ اپنی طرف کرتا ہے۔ جب نسبت اپنی طرف کر رہا ہے تو حقوق کا تعلق بھی کس سے ہوگا؟ وکیل سے۔ لہٰذا آپ نے گاڑی خرید دی تو اس گاڑی پر قبضہ کرنا، کرنے کا حق، یہ اس گاڑی پر قبضہ کرنا یہ کس کا حق ہے؟ وکیل کا حق ہے۔ اچھا، اور گاڑی کا مطالبہ کرنا، قبضے سے پہلے مطالبہ کرتے ہیں، یہ مطالبہ کرنا بھی کس کا حق ہے؟ وکیل ہی کا حق ہے۔ اسی طرح بھئی، گاڑی لے لی، نکل لینے کے بعد اس میں عیب ملا، عیب کا پتہ چلا، تو اب عیب کی وجہ سے گاڑی کو لوٹانا، یہ بھی کس کا حق ہے؟ وکیل کا حق ہے، سمجھ میں آیا؟ تو حقوق کا تعلق کس سے ہوا؟ وکیل سے۔ لیکن اگر عقد ایسا ہے جس کی نسبت کس کی جانب کی جاتی ہے؟ موکل کی جانب، تو حقوق کا تعلق موکل سے ہوگا۔ مثلاً آپ کو آپ نے اپنے ایک ساتھی کو بھیجا کہ میرا نکاح کروا کر آؤ بھئی، وکیل بنایا بھئی۔ وہ جا کر آپ کا نکاح، وکیل بنتا ہے نکاح کروا دیتا ہے آپ کا۔ اب نکاح کے اندر بھئی، جس کا نکاح ہو بھئی، اس کو کیا دینا پڑتا ہے؟ اس سے مطالبہ کیا جاتا ہے مہر کا کہ لاؤ بھئی مہر دے دو، بیوی مطالبہ کرے گی بھئی۔ تو مہر معجل ہے کہ فوراً مہر دینا ہے، پہلے دینا ہے، تو وہ مطالبہ اب وکیل سے نہیں کیا جائے گا مہر کا، بلکہ کس سے کیا جائے گا؟ موکل سے کیا جائے گا، سمجھ میں آیا؟ موکل سے کیا جائے گا۔ وَحُقُوقُ عَقْدٍ (عَقْدِ حقوق مضاف ہے، عَقْدِ مضافٌ إِلَيْهِ، اور مضافٌ إِلَيْهِ بھی نکرہ ہے، اور نکرہ کے بعد کیا آ رہا ہے؟ يُضِيفُ فعل آ رہا ہے، اور میں نے آپ کو ضابطہ بتلایا ہے کہ نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت بنتا ہے) تو ترجمہ یوں ہوگا مولانا: ایسے عقد کے حقوق، ایسے (موصوف سے پہلے کیا لفظ لائیں گے؟ ایسے) تو ایسے عقد کے حقوق يُضِيفُهُ الوَكِيلُ کہ جس کی نسبت کرتا ہے، اضافت کرتا ہے الوَكِيلُ وکیل إِلَى نَفْسِهِ اپنی طرف۔ ایسے عقد کے حقوق اس سے ایک سطر چھوڑ کر نچلی سطر میں مولانا، متن کے اندر آخر میں آ رہا ہے: يَتَعَلَّقُ بِهِ، یہ خبر ہے۔ یہ کیا ہے؟ تو ایسے عقد کے حقوق جن کی نسبت وکیل اپنی طرف کرتا ہے، يَتَعَلَّقُ بِهِ یہ حقوق ایسے عقد کے حقوق کا تعلق کس سے ہوتا ہے؟ بِهِ أَيْ بِالوَكِيلِ وکیل کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ تو ایسے عقد کے حقوق جن کی نسبت کرتا ہے وکیل اپنے نفس کی طرف، متن متن دیکھیے، كَبَيْعٍ وَإِجَارَةٍ وَصُلْحٍ عَنْ إِقْرَارٍ بھئی، جیسے بیع ہے، بیع کے اندر بھی اپنی طرف نسبت کرتا ہے، اجارہ ہے، کرائے پر کوئی چیز دینی ہے، لینی ہے، اس پہ بھی اپنی طرف نسبت کرتا ہے، وَصُلْحٍ عَنْ إِقْرَارٍ اور صلح عن اقرار ہے، اس میں بھی وکیل کس کی طرف نسبت کرتا ہے؟ بھئی صلح عن اقرار جانتے ہو یا نہیں جانتے؟ دیکھیے صلح تین قسم پر ہے: صلح عن اقرار، صلح عن انکار، اور صلح عن سکوت بھئی۔ مثلاً آپ کی کوئی گاڑی ہے یا آپ کی زمین ہے، ایک دوسرا شخص اس پر دعویٰ کر دیتا ہے یہ گاڑی یا یہ زمین میری ہے، اب آپ اس کو کچھ مال دے کر صلح کر دیتے ہیں، اس کو چپ کروا دیتے ہیں کہ بھئی دعویٰ چھوڑ دو یہ مال لے لو، تو آپ نے اس سے صلح کر لی۔ اب یہ صلح تین قسم پر ہوگی؛ جب آپ نے مال دیا اس کو تو آپ نے اقرار کیا ہوگا، ہاں بھئی ٹھیک ہے یہ گاڑی آپ کی ہے، یا یہ زمین آپ کی ہے، لیکن یہ لو اتنے لاکھ روپے لے لو اور دعوے کو چھوڑ دو، تو یہ آپ نے صلح کی، وَصُلْحٍ عَنْ إِقْرَارٍ ہے، آپ نے اقرار کر لیا کہ واقعی یہ چیز یا یہ زمین کس کی ہے؟ مدعی کی ہے۔ دوسری صورت، آپ انکار کرتے ہیں کہ نہیں بھئی، یہ چیز یہ گاڑی یا یہ زمین آپ کی نہیں، لیکن چلو کوئی بات نہیں، یہ پیسے آپ رکھو اور دعوے کو چھوڑ دو، میں جھگڑا نہیں چاہتا، پیسے دے دیے، تو یہ صلح عن انکار ہے، آپ نے انکار کر دیا اس کے دعوے کو رد کر دیا۔ تیسرا ہے، آپ اقرار کرتے ہیں نہ انکار کرتے ہیں مولانا، سکوت، خاموشی ہے، بس پیسے دے کر کیا کہتے ہیں؟ معاملے کو یہیں ختم کر دو، چھوڑ دو، یہ لو دو چار لاکھ یا دس لاکھ جتنے دینا چاہیں، بھئی صلح کر لیتے ہیں۔ تو یہ صلح ہوئی سکوت، نہ تو اس میں آپ نے اقرار کیا کہ یہ چیز واقعتاً آپ کی ہے، اور نہ انکار کیا کہ یہ چیز آپ کی نہیں، تو صلح کتنے قسم پر ہوئی؟ تین: صلح عن انکار، صلح عن اقرار، اور صلح عن سکوت بھئی۔ اچھا، تو صلح عن اقرار کے مسئلے میں بھی وکیل عقد کی نسبت کس کی طرف کرتا ہے؟ صلح عن اقرار میں اپنی طرف کرتا ہے، موکل کی طرف نہیں کرتا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ صورت سمجھ میں آئی؟ ایک آدمی نے اٹھا، اس نے آپ کی زمین پر دعویٰ کر دیا یہ زمین میری ہے، آپ نے وکیل کو بھیجا جاؤ بھئی اس کو کچھ پیسے دے کر خاموش کروا دو، تسلیم کر لینا اس کے سامنے کہ یہ زمین واقعی تمہاری ہے، لیکن یہ پیسے لو اور اب دعوے سے دستبردار ہو جاؤ۔ تو یہ صلح، آپ نے وکیل بھیجا، اور کس مسئلے میں بھیجا؟ صلح عن اقرار میں۔ تو ان تمام کے اندر يَتَعَلَّقُ بِهِ حقوقِ عقد کا تعلق کس سے ہوتا ہے؟ وکیل سے۔ دیکھیے درمیان میں شرح ہے: أَيْ لَا يَحْتَاجُ (يَحْتَاجُ فِيهِ) محتاج نہیں ہوتا اس کے اندر وکیل إِلَى ذِكْرِ المُوَكِّلِ بھئی، وہ عقد جن کی نسبت وکیل اپنی طرف کرتا ہے، یعنی ان میں محتاج نہیں ہوتا موکل کے ذکر کا، فَإِنَّ فِي البَيْعِ وَالشِّرَاءِ عَنِ المُوَكِّلِ اس لیے کہ موکل کی طرف سے بیع و شراء کی صورت میں يَكْفِي کافی ہے أَنْ يَقُولَ الوَكِيلُ کہ وکیل یوں کہے، بِعْتُ بیع کے مسئلے میں کیا کہے؟ بِعْتُ، یہ نہ کہے بِعْتُ، میں نے بیچا اس چیز کو کس کی جانب سے؟ عَنْ زَيْدٍ زید کی طرف سے بیچا، یہ کہنا ضروری ہوتا ہے؟ آپ نے گاڑی دے کر اور اشْتَرَيْتُ تو یہ اسی طرح وکیل خریدتے ہوئے کیا کہے گا؟ اشْتَرَيْتُ۔ كَبَيْعٍ وَإِجَارَةٍ وَصُلْحٍ عَنْ إِقْرَارٍ يَتَعَلَّقُ بِهِ، فَيُسَلِّمُ المَبِيعَ بس مبیع کو سپرد کرے گا بھئی۔ بھئی مبیع سپرد کون کیا کرتا ہے بیع کے اندر؟ مبیع کس کے پاس تھا پہلے؟ بائع کے پاس، تو مبیع سپرد کرنا بائع کی ذمہ داری ہوتی ہے، اور وکالت کے اندر بھئی، بائع کون ہے؟ وکیل ہے، تو یہاں مراد وکیل بِالبَيْعِ مراد ہے، تو فَيُسَلِّمُ المَبِيعَ یہ مبیع سپرد کرے گا، کون سپرد کرے گا؟ وکیل بِالبَيْعِ، اسی لیے کہا أَيْ فِي الوَكَالَةِ بِالبَيْعِ وکالت بِالبَيْعِ کے اندر بھئی، وَيَقْبِضُهُ اور قبضہ کرے گا، ہ ضمیر راجع ہے مبیع کو، مبیع پر قبضہ کرے گا، بھئی بیع و شراء کے اندر بھئی، مبیع پر قبضہ کون کرتا ہے عقد کے بعد؟ مشتری کرتا ہے، اور یہاں مشتری کون ہے؟ وکیل، تو معلوم ہوا یہاں وکیل بِالشِّرَاءِ کیا کرے گا؟ مبیع پر قبضہ کرے گا۔ یہ معنی ہے وَيَقْبِضُهُ أَيْ فِي الوَكَالَةِ بِالشِّرَاءِ قبضہ کرے گا مبیع پر، یعنی کہ وکالت بِالشِّرَاءِ میں وکیل قبضہ کرے گا۔ وَثَمَنَ مَبِيعِهِ، اس کا عطف يَقْبِضُهُ کی ہ ضمیر پر کریں مولانا، ضمیر منصوب متصل جو ہے، اور قبضہ کرے گا اس اپنے مبیع کے ثمن پر بھئی، مبیع کے ثمن پر بھئی قبضہ کون کرتا ہے عقد میں؟ بائع کرتا ہے مشتری کرتا ہے ثمن پر قبضہ؟ جی؟ مشتری تو ثمن دیتا ہے، قبضہ کون کرتا ہے؟ بائع کرتا ہے، اور بائع یہاں کون ہے؟ وکیل، تو یہ وکیل بِالبَيْعِ ہوا، تو لہٰذا قبضہ کرے گا مبیع کے ثمن پر، کون؟ یہ کس میں ہوگا؟ وکالت بِالبَيْعِ کے اندر، وَيُطَالَبُ بِالثَّمَنِ مُشْتَرَاهُ مُشْتَرَاهْ لفظ ہے مولانا کتابت کی غلطی ہے، الف اور ہ ہونی چاہیے مُشْتَرَاه، اور مطالبہ کیا جائے گا خریدی ہوئی چیز، مشتری خریدنے والا اور مُشْتَرَاه وہ چیز جس کو خریدا گیا، اور مطالبہ کیا جائے گا خریدی ہوئی چیز کے ثمن کا، بھئی مطالبہ کس سے کیا جاتا ہے ثمن کا؟ مشتری سے، اور یہاں مشتری ہے وکیل (یعنی وکیل بِالشِّرَاءِ)، تو یہاں مطالبہ کیا جائے گا ثَمَنِ مُشْتَرَاه کا، کس سے؟ وکیل بِالشِّرَاءِ سے۔ وَيُخَاصَمُ فِي عَيْبِهِ، اور خصومت کی جائے گی اس مبیع کے عیب کے اندر، بھئی مشتری مبیع لے لیتا ہے اور اس میں وہ عیب نکل آئے کوئی تو کیا کرتا ہے بائع کو واپس کرتا ہے اور وہ انکار کرے تو اس سے خصومت کرتا ہے، مقدمہ کرتا ہے اس کے خلاف قاضی کے پاس، تو یہ خصومت کس کے ساتھ کی جائے گی بھئی؟ مشتری کرے گا، مشتری تو خصومت کرے گا اور کس سے کرے گا؟ بائع، اور بائع کون ہے؟ وکیل بِالبَيْعِ، وہ وکیل ہے تو وہ وکیل بِالبَيْعِ ہوا، تو خصومت کی جائے گی عیب کے اندر وکیل بِالبَيْعِ کے ساتھ بھئی، وَشُفْعَتِ اس کا عطف عیب پر ہے فِي عَيْبِهِ وَفِي شُفْعَةِ مَا بِيعَ، اور خصومت کی جائے گی اس چیز کے، اس زمین کے شفعہ کے اندر، مبیع جس کو کیا کیا گیا ہے؟ بیچا گیا ہے۔ تو ماں سے مراد ہے غیر منقولی جائیداد بھئی، غیر منقولہ چیز، اس کے بیچنے میں شفعہ کیا جائے گا بھئی، شفعہ آپ جانتے ہیں ایک آدمی کسی دوسرے کے شخص کی زمین کے پڑوس میں کوئی زمین خرید لیتا ہے، تو اس ساتھ والی زمین کو والے اس کے مالک کو کیا حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ شفعہ کرے، اور اس مشتری کو اتنے ہی پیسے دے کر یہ زمین اس سے زبردستی لے لے بھئی، اس کی چاہے مرضی نہ ہو بھئی، پھر بھی لے لے۔ یہ شفعہ کہلاتا ہے، تو یہاں پر دیکھیے بھئی، ایک شخص نے ایک وکیل کو بھیجا کہ جاؤ میرے لیے فلاں زمین خریدو، یہ وکیل گیا اس نے وہ زمین خرید دی، یہ وکیل بِالشِّرَاءِ ہے بھئی، کیا ہے وکیل بِالشِّرَاءِ؟ اب اس نے زمین خریدی ہے، اس زمین کے ساتھ والا جو مالک ہے دوسری زمین والا، اس نے شفعہ کر دیا، تو شفعہ کس پر کرے گا؟ وکیل پر، تو خصومت کس کے ساتھ کرے گا؟ کیونکہ مشتری کون ہے یہاں پر؟ وکیل بِالشِّرَاءِ ہے نا، وکیل ہے، تو لہٰذا شفعہ کے اندر بھی خصومت کس سے کی جائے گی؟ وکیل بِالشِّرَاءِ ہی سے خصومت کی جائے گی، اس وقت تک جب تک کہ وہ زمین موکل کے حوالے نہ کر دے۔ اگر وہ زمین وہ موکل کے حوالے کر دیتا ہے اس کے قبضے میں دے دیتا ہے تو اب وکیل کا کام ختم، لہٰذا اب خصومت کس کے ساتھ کی جائے گی؟ موکل کے ساتھ۔ تو یہ معنی ہے وَيُخَاصَمُ فِي شُفْعَةِ مَا بِيعَ اور خصومت کی جائے گی اس جائیداد کے شفے کے اندر جس کو بیچا گیا ہے بھئی، وَهُوَ فِي يَدِهِ اس حال میں کہ وہ مبیع کیا ہو کس کے قبضے میں ہو ابھی؟ وکیل کے قبضے ہو، قبضے میں ہو، فَإِنْ سَلَّمَهُ إِلَى آمِرِهِ، اچھا اوپر کیا بتلایا بھئی؟ کہ حقوق عقد کا تعلق کس سے ہے؟ وکیل سے ہوتا ہے۔ اب ایک آدمی کو آپ نے ایک چیز خریدنے کے لیے بیچا، وہ چیز خریدی اس نے، اس چیز کے اندر عیب نکل آیا، تو اب اس کو عیب کی وجہ سے واپس کرنے کا حق کس کا ہے؟ وکیل کا ہے۔ لیکن اس وقت تک ہے واپس کرنے کا حق جب تک کہ اس نے ابھی موکل کے سپرد نہ کی ہو، اگر وہ چیز لے آئے اور موکل کے حوالے کر دے تو اب وکیل کو عیب کا پتہ چلا، اب وکیل وہ چیز واپس کرنا چاہتا ہے، نہیں بھئی! اب واپس نہیں کر سکتا، اس کی وکالت ختم ہو چکی ہے، چیز کس کے قبضے میں آ چکی ہے؟ موکل، لہٰذا اب موکل کی اجازت ضروری، وہ اجازت دے دیتا ہے تو واپس کر سکتا ہے عیب کی وجہ سے، وہ اجازت نہیں دے تو واپس نہیں۔ یہ معنی ہے فَإِنْ سَلَّمَهُ إِلَى آمِرِهِ، پس اگر مبیع کو سپرد کر دیا وکیل نے إِلَى آمِرِهِ اپنے آمر، اپنے حکم دینے والے کے (یعنی موکل کے)، فَلَا يَرُدُّ بِالعَيْبِ تو وہ اس کو اب عیب کی وجہ سے واپس نہیں کر سکتا، إِلَّا بِإِذْنِهِ مگر اس کی اجازت سے۔ وَيَرْجِعُ بِثَمَنِ مُشْتَرَاهُ (یہ بھی مُشْتَرَاه لفظ ہے مولانا کتابت کی غلطی ہے، الف اور ہ ہونی چاہیے مُشْتَرَاه)، وَيَرْجِعُ بِثَمَنِ مُشْتَرَاهُ مُسْتَحَقًّا صورتِ مسئلہ یہ ہے۔ میں نے آپ کو وکیل بنا کر بھیجا جاؤ میرے لیے ایک چیز خرید کر لاؤ، آپ وہ چیز خرید لائے، چیز خرید لائے، بھئی بعد میں اس چیز کا کوئی مستحق نکل آیا بھئی، خریدنے کے بعد مستحق نکل آیا، زید درمیان میں آ گیا، اس نے کہا بھئی یہ چیز آپ نے بکر سے کیسے خرید لی؟ یہ تو میری چیز ہے۔ تو اب وہ چیز کون لے جائے گا؟ کون؟ دعویٰ کس نے کر دیا؟ زید کا دعویٰ ثابت ہو گیا، تو زید وہ چیز لے جائے گا، اور آپ نے تو کیا دیے تھے اس چیز کے؟ پیسے کس کو دیے تھے؟ بکر کو، تو یہ جو چیز جس کا استحقاق نکل آیا، کوئی اور مالک نکل آئے گا نکل آیا، اس کے ثمن کے لیے آپ رجوع کریں گے، ثمن واپس لیں گے، اور یہ رجوع کون کرے گا؟ وکیل بھئی، یہ وکیل کا حق ہے کہ وہ خریدی ہوئی چیز کے ثمن پر کیا کرے؟ رجوع کرے، اور یہ معنی ہے وَيَرْجِعُ بِثَمَنِ مُشْتَرَاهُ مُسْتَحَقًّا اور اپنی خریدی ہوئی چیز کے ثمن کے ساتھ رجوع کرے گا، مستحقاً اس حال میں کہ وہ خریدی ہوئی چیز کیسی ہو؟ مستحق ہو، یعنی کوئی اور اس کا مستحق نکل آئے بھئی۔ هَذَا كُلُّهُ عِنْدَنَا یہ سارے ہمارے نزدیک ہیں، یہ اوپر جتنے مسئلے بیان ہوئے، حقوق کا تعلق وکیل سے ہے یہ ہمارے نزدیک ہے، وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: يَرْجِعُ الحُقُوقُ إِلَى المُوَكِّلِ کہ وکیل کو حقوق نہیں حاصل ہوتے، ابتداً کس کو حاصل ہو جاتے ہیں؟ وہ فرماتے ہیں حقوق لوٹتے ہیں موکل کی طرف، موکل کی طرف۔ اب یہاں علامہ صدر الشریعہ آپ کو ایک اور فائدہ بتلا رہے ہیں۔ کیا بتلایا علامہ صدر الشریعہ نے؟ خلاصہ کلام ان کا یہ ہے بھئی، پہلے سمجھ لو۔ کہتے ہیں بھئی، حقوق دو قسم پر ہیں؛ کچھ وہ حقوق ہیں جو وکیل کے ہوتے ہیں، اور کچھ وہ حقوق ہیں جو وکیل پر ہوتے ہیں۔ مثلاً مبیع پر قبضہ کرنا، یہ وکیل کا حق ہے، اور ثمن ادا کرنا، یہ وکیل پر حق ہے۔ ایک ہے وکیل کا حق ہے، وہ دوسرے سے وصول کرتا ہے، ایک ہے وکیل پر حق ہے، اس سے کیا کی جاتی ہے؟ وصولی کی جاتی ہے۔ تو میں نے آپ کو گاڑی خریدنے کے لیے بیچا تو مبیع پر قبضہ کرنا آپ کا حق ہے، اور ثمن کا مطالبہ، یہ آپ پر حق ہے، آپ کو ادا کرنے پڑیں گے۔ تو دو قسم کے حقوق ہوئے، کچھ وکیل کے حقوق ہوتے ہیں، کچھ وکیل پر حقوق ہوتے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ بتلائیں گے کہ جو وکیل کے حقوق ہوتے ہیں، اس میں وکیل کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ بھئی مبیع پر قبضہ آپ کو میں نے بیچا، جاؤ میرے لیے گاڑی خرید کر لاؤ، اس گاڑی پر قبضہ کرنا کس کا حق ہے؟ وکیل کا۔ لیکن وکیل انکار کر دیتا ہے: نہیں بھئی! میں قبضہ نہیں کر سکتا، تو اب آپ میں آپ کو مجبور نہیں کر سکتا، بلکہ آپ کے وکیل ہیں چونکہ، تو اب آپ مجھے وکیل بنا دیں۔ عقد चूंकि آپ نے کیا ہے، قبضہ تو آپ ہی کو کرنا چاہیے تھا، میں تو ایک اجنبی ہوں، میرا عقد سے کوئی تعلق براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہے، تو اب وکیل चूंकि آپ نے کیا ہے، چیز پر قبضہ آپ کو کرنا چاہیے تھا، لیکن آپ نہیں کرنا چاہتے، اب آپ یوں کریں مجھے وکیل بنا دیں۔ موکل ہی کو کیا بنا دیں؟ جاؤ بھئی، میں نے آپ کے لیے گاڑی خریدی تھی، اب خود جا کر آپ کیا کر لو اس پر؟ قبضہ کر لو۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو وکیل موکل کو اپنا وکیل بنا دے گا قبضے کے اندر (یعنی موکل اس کو مجبور نہیں کر سکتا)۔ اور دوسری صورت کہ وہ حقوق جو وکیل پر ہیں، وکیل پر، آپ نے گاڑی خریدی، اب کیا ذمہ ہے آپ پر بھئی؟ ثمن کی ادائیگی آپ پر ہے، تو اس کے اندر مولانا، اب وہ اگر دوسرا شخص دعویٰ کرتا ہے آپ پر، تو آپ کو مجبور کیا جائے گا جواب دینے پر، سمجھ میں آیا؟ آپ کو کیا کیا جائے گا؟ اب یہاں آپ انکار نہیں کر سکتے۔ تو سنیے بھئی، لَا كَنْ يَعْلَمُ لیکن واجب ہے یہاں پر یہ بات کہ جان لیا جائے کہ ان الحقوق نوعان حقوق دو قسم پر ہیں: حق يكون للوكيل ایک ایسا حق ہے جو وکیل کے لیے ہے، و حق يكون على الوكيل اور ایک ایسا حق ہے جو وکیل پر ہے۔ فَالأَوَّلُ پس پہلا جو ہے وکیل کا جو حق ہے، كَقَبْضِ المَبِيعِ مبیع پر قبضہ کرنا وَمُطَالَبَةِ ثَمَنِ المُشْتَرَاه (یہ بھی مُشْتَرَاه ہے یہاں اچھا، تو اسی طرح خریدی ہوئی چیز کے ثمن کا مطالبہ کرنا، وَالمُخَاصَمَةِ فِي العَيْبِ اور عیب کے اندر خصومت کرنا، وَرُجُوعِ بِثَمَنِ المُسْتَحَقِّ اور مستحق چیز کے ثمن کے ساتھ رجوع کرنا، ففي هَذَا النَّوْعِ اس قسم کے اندر لِلْوَكِيلِ وکیل کو ولایت ہے هَذِهِ الامور ان امور کی، وَلَكِنْ لَا يَجِبُ عَلَيْهِ لیکن یہ امور اس پر واجب نہیں ہوتے، فَإِنْ اِمْتَنَعَ لَا يُجْبِرُهُ المُوَكِّلُ اگر وہ باز رہے، رک جائے، تو مجبور نہیں کر سکتا اس کو موکل عَلَى هَذِهِ الافعال ان افعال پر، کیوں مجبور نہیں کر سکتا؟ لِأَنَّهُ مُتَبَرِّعٌ فِي العَمَلِ اس لیے کہ وکیل جو ہے اس کو آپ کوئی پیسے دے رہے ہیں بھئی اس کام کے کرنے کے؟ وہ تو ویسے ہی آپ کے لیے گیا بیچارہ ایک چیز خرید کر لا رہا ہے، تو وہ متبرع ہے عمل کے اندر، تو اس کو مجبور نہیں کیا جا سکتا، بَلْ يُوُّكِلُ المُوَكِّلُ بلکہ وہ وکیل وکیل بنا دے گا المُوَكِلُ اپنے موکل کو لِهَذِهِ الافعالِ ان افعال کے لیے، وَسَيَأْتِي فِي كِتَابِ المُضَارَبَةِ بَعْضُ هَذَا اور عنقریب آ جائیں گے کتاب المضاربة کے اندر کچھ اس میں سے، کچھ اس قسم کے مسائل وہاں آ جائیں گے، وَهُوَ قَوْلُهُ وَكَذَا سَائِرُ الوُكَلَاءِ اور ماتن کا یہ قول ہے، وہاں پر یہ عبارت آئے گی بھئی کتاب المضاربة میں: وَكَذَا سَائِرُ الوُكَلَاءِ اور اسی طرح ہیں باقی وکلاء، سارے وکلاء۔ وَإِنْ مَاتَ الوَكِيلُ اور اگر وکیل مر جائے، بھئی مبیع پر قبضہ کرنا وغیرہ یہ کس کا حق تھا؟ وکیل کا۔ اگر وکیل مر جائے تو اب یہ قبضے کا حق اس کے وارثوں کو حاصل ہے، لہٰذا اب وارث جا کر اس چیز پر قبضہ کریں گے اور کس کو لا کر دے دیں گے؟ موکل کو دے دیں گے۔ لیکن اگر اس کے وارث انکار کر دیتے ہیں تو وارث کیا کر دیں پھر؟ موکل کو اپنا وکیل بنا دیں۔ وَإِنْ مَاتَ الوَكِيلُ اور اگر وکیل مر جائے فولاية هذه الافعال لورثته تو ان افعال کی ولایت جو ہے اس کے وکیل کے وارثوں کو حاصل ہوگی، فَإِنْ اِمْتَنَعُوا اگر وہ باز رہیں، وہ رک جائیں، نہ کریں، وَكَّلُوا مُوِّكِلَ مُورِثِهِمْ، وہ وکیل بنا دیں گے مُوِّكِلَ اپنے مورث کے موکل کو وارث بنا دیں گے، وکیل بنا دیں گے وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ لِلْمُوَكِّلِ وَلَايَةُ هَذِهِ الافعالِ بِلَا تَوْكِيلٍ من الوكيل او وارثه اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک موکل کو ان افعال کی ولایت حاصل ہوتی ہے بغیر وکیل بنائے ہی من الوكيل او وارثه وکیل یا اس کے وارث کی طرف سے وکیل بنائے بغیر ہی موکل کو کیا ہوتی ہے؟ ولایت حاصل ہوتی ہے۔ وَفِي النَّوْعِ الآخَرِ بھئی یہ تو ایک نوع تھی جس میں وکیل کے حقوق تھے، وَفِي النَّوْعِ الآخَرِ اور دوسری نوع جس کے اندر وکیل پر حقوق ہوتے ہیں، تو کہتے ہیں الوکیل مدعیٰ علیہ نوع ثانی کے اندر وکیل کیا ہے؟ مدعیٰ علیہ ہے، اس پر دعویٰ کیا جاتا ہے کہ لاؤ بھئی ثمن حوالے کرو۔ فَفِي هَذِهِ المَسَائِلِ اس قسم کے مسائل میں فَلِلْمُدَّعِي أَنْ يُجْبِرَ الوَكِيلَ عَلَى تَسْلِيمِ المَبِيعِ وَتَسْلِيمِ الثَّمَنِ وَأَخَوَاتِهِمَا تو مدعی کو یہ حق ہے کہ وہ مجبور کر دے وکیل کو مبیع کے تسلیم کرنے پر، یا ثمن کے سپرد کرنے پر وا خواتهما اور جو ان کے مشابہ ہیں، جتنے حقوق ہیں بھئی۔ تو صورت سمجھ میں آگئی اچھی طرح؟ چلیے مولانا، هَذَا هُوَ المَرَامُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الكَلَامِ۔
106 approved lectures · 84 of 106