وَمَنْ أَقَرَّ أَنَّهُ شَهِدَ زُورًا شُهِرَ وَلَمْ يُعَزَّرْ۔
وَمَنْ أَقَرَّ اور جس نے اققرار کر لیا أَنَّهُ شَهِدَ زُورًا کہ اس نے گواہی دی ہے جھوٹی بھئی، شُهِرَ اس کی تشہیر کی جائے گی، مشہوری کی جائے گی وَلَمْ يُعَزَّرْ اور اس کو سزا نہیں دی جائے گی بھئی۔ عَزَّرَ يُعَزِّرُ تعزیر کا معنی سزا دینا بھئی۔ سمجھ رہے ہیں؟ سزائیں دو قسم پر ہیں آپ جانتے ہیں شریعت میں، کچھ حدود ہیں جو من جانب اللہ مقرر ہیں، کچھ تعزیر ہیں جو قاضی اپنی مرضی سے دیتا ہے، اپنی رائے سے کسی کو کم زیادہ جتنا چاہے وہ دے سکتا ہے؛ تو اس کو یہ سزا، عام سزا تو اس کو سزا نہیں دی جائے گی۔ مصنف کیا فرما رہے ہیں بھئی؟ جس شخص نے گواہی دی اور بعد میں اقرار کر لیا قاضی کے پاس کہ میں نے کیا کیا تھا بھئی؟ جھوٹی گواہی دی تھی تو اب کیا کیا جائے گا؟ اس کو سزا دی جائے گی، پٹائی کی جائے گی، جیل میں ڈالا جائے گا یا نہیں بھئی؟ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھئی اس کی تشہیر کروائی جائے گی، اعلان کروایا جائے گا بھئی، یہ کیا ہے؟ جھوٹی گواہی اس شخص نے دی ہے اور تو اے لوگو! تم اس سے بچ کے رہنا اور دوسروں کو بھی اس سے بچانا بھئی۔ اور سمجھ میں آیا؟ تو سزا نہیں دی جائے گی۔
صاحبین فرماتے ہیں نہیں! سزا دی جائے گی، اس کی پٹائی ہوگی، کوڑے وغیرہ لگاؤ بھئی، قاضی اس کو لگوائے اور جیل میں بھی ڈالے بھئی، قید بھی کرے بھئی تاکہ اس کو عبرت ہو، آئندہ ایسا نہ کرے بھئی، باقی لوگ بھی رک جائیں بھئی۔ وَمَنْ أَقَرَّ اور جس نے اقرار کیا أَنَّهُ شَهِدَ زُورًا کہ اس نے گواہی دی ہے جھوٹی بھئی، شُهِرَ اس کی تشہیر کی جائے گی وَلَمْ يُعَزَّرْ اور سزا نہیں دی جائے گی۔ فَإِنَّ شُرَيْحًا رحمہ اللہ تعالی كان يُشْهِرُ وَلَا يُعَزِّرُ اس لیے کہ قاضی شریح جو تھے، یہ بڑے مشہور قاضی گزرے ہیں ہمارے تاریخِ اسلام کے اندر بھئی۔ اللہ نے ان کو بڑی فقاہت نصیب فرمائی تھی فیصلے کے اندر بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ عجیب عجیب فیصلوں کا تذکرہ آتا ہے، بڑے بڑے مشکل مقدمات ہوتے، اس کو بڑے آرام سے حل کر دیتے تھے بھئی۔ بڑے مجتہد تھے بھئی۔ تو یہ قاضی، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی دلیل ہوئی۔ یہ بھئی حضرت عمر ابن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں قاضی تھے۔ اچھا، اس لیے کہ شریح رحمہ اللہ جو ہیں بھئی كان يُشْهِرُ وہ کیا کرتے تھے بھئی؟ تشہیر کرتے تھے وَلَا يُعَزِّرُ اور سزا نہیں دیتے۔ چنانچہ کیا کرتے تھے؟ تشہیر کیسے کرتے تھے؟ کہتے ہیں فَيَبْعَثُهُ إِلَى سُوقِهِ اس کو بھیجتے تھے اس کے بازار کی طرف إِنْ كَانَ سُوقِيًّا اگر وہ بازار والا ہوتا، بازار والوں میں سے کوئی شخص ہوتا، تاجر ہے، دکان دار ہے یا وہاں کام وغیرہ کرتا ہے، تو وہاں پر بھجوا دیتے بھئی۔
جی! اور وہاں پر پھر بھئی، ساتھ ایک شخص بھی ہوتا، وہ جا کر ان سارے لوگوں کے سامنے اعلان کرتا کہ بھئی قاضی شریح نے آپ لوگوں کو سلام بھیجا ہے اور کہا ہے کہ اس کو ہم نے جھوٹی گواہی دیتے ہوئے پایا ہے، اس نے جھوٹی گواہی دی ہے، پس تم بھی اس سے بچنا اور تم بھی اس سے بچنا اور دوسروں کو بھی اس سے بچانا بھئی۔ یہ تب تھا کہ بازار والے ہوں، اگر بازار والا نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو عام کہیں ادھر ادھر کام وغیرہ کرتا ہے، تو پھر اس صورت کے اندر اس کے جو قوم والے تھے، جو اس کے رہنے قوم والے تھے، ان کے پاس بھیج دیتے تھے بھئی جہاں رہتا وغیرہ تھا۔ وہ سارے جب اکٹھے ہوتے جس وقت، اس وقت اس کو لے آتے اور پھر وہ اعلان ہوتا کہ قاضی شریح نے سلام بھیجا ہے اور کہا اس کو ہم نے جھوٹی گواہی دیتے ہوئے پایا ہے، لہذا تم بھی بچو اور دوسروں کو بھی اس سے بچاؤ۔
تو کہتے ہیں فَيَبْعَثُهُ إِلَى سُوقِهِ إِنْ كَانَ سُوقِيًّا بھیج دیتے تھے اس کو اس کے بازار کی طرف اگر وہ بازار والا ہوتا وَإِلَى قَوْمِهِ اور بھیج دیتے اس کو اس کی قوم کی طرف إِنْ لَمْ يَكُنْ سُوقِيًّا اگر وہ بازار والا نہ ہوتا عِنْدَ اجْتِمَاعِهِمْ کب بھیجتے اس کے قوم کے پاس؟ جب کہ ان کے جمع ہونے جب وہ جمع ہوتے (یعنی مثلا عصر وغیرہ کا وقت ہے، سارے بیٹھے ہوتے بھئی، جیسے پرانا طریقہ تھا بھئی، سمجھ میں آیا؟ گاؤں میں ایک جگہ ہوتی تھی بیٹھنے کی، اور سارے گاؤں والے عصر کے وقت وہاں اکثر اکٹھے ہیں، گپ شپ لگ رہی ہے، باتیں ہو رہی ہیں، تو اس وقت بھیجتے)۔ فَيَقُولُ تو وہ کہتا تھا قاضی کی طرف سے کوئی شخص بھئی إِنَّا أَخَذْنَاهُ شَاهِدَ زُورٍ ہم نے اس کو پایا ہے بھئی کیا پایا ہے؟ شاہدِ زور پایا ہے، فَاحْذَرُوهُ تم اس سے بچو وَحَذِّرُوا النَّاسَ اور لوگوں کو بھی اس سے بچاؤ۔
وَقَالَ یہ تو امام صاحب کا مسلک تھا، وَقَالَ اور صاحبین فرماتے ہیں: يُوجِعُهُ ضَرْبًا بھئی کہ قاضی اس کو تکلیف دے گا بھئی، جی! کس کے ذریعے؟ پٹائی کے ساتھ بھئی، پٹائی کرکے وَيَحْبِسُهُ بھئی اور اس کو قید کرے گا، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ اور یہی قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی۔ ان کی دلیل کیا ہے؟ یہ فرماتے ہیں بھئی: فَإِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ضَرَبَ شَاهِدَ الزُّورِ أَرْبَعِينَ صَوْتًا وَسَخَّمَ وَجْهَهُ کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ضرب لگائی، پٹائی کی بھئی جھوٹے گواہ کی، کتنے ضرب لگائی؟ أَرْبَعِينَ صَوْتًا بھئی چالیس کوڑے لگوائے شاہدِ زور کو وَسَخَّمَ وَجْهَهُ اور سیاہ کروایا اس کے سیاہ کیا اس کے چہرے کو۔ کوڑے بھی چالیس لگائے اور اس کے چہرے کو بھی سیاہ کیا۔
وَقَدْ قِيلَ جب کہ کہا گیا ہے: إِنَّمَا وَضَعَ الْمَسْأَلَةَ فِي الْإِقْرَارِ کہ ماتن مصنف نے مسئلے کو اقرار میں وضع کیا ہے بھئی۔ کس کے لیے وضع کیا ہے؟ اقرار میں۔ وَمَنْ أَقَرَّ کہا ماتن نے بھئی۔ یہ نہیں کہا کہ اگر پتہ چل جائے جھوٹی گواہی کا بلکہ کیا کہا ہے؟ جس نے اقرار کیا ہے؛ تو یہ اقرار میں کیوں وضع کیا؟ کہتے ہیں: لِأَنَّ شَهَادَةَ الزُّورِ لَا تُعْلَمُ إِلَّا بِالْإِقْرَارِ بھئی، اس لیے کہ شہادتِ زور کا پتہ ہی نہیں چل سکتا، مگر کس کے ذریعے؟ صرف اقرار کے ذریعے وَلَا تُعْلَمُ بِالْبَيِّنَةِ بینہ کے ذریعے اس کا پتہ بینہ کے ذریعے کیوں نہیں پتہ چل سکتا اس کا؟ کیونکہ یاد رکھو! بینہ اثبات کے لیے ہوتی ہے ہمیشہ، کبھی نفی کے لیے بینہ نہیں آتی۔ آپ بینہ پیش کردیں اس آدمی کے پاس مال نہیں ہے، نہیں بھئی! آپ پڑھ چکے ہیں، امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ یہ نفی ہے اور نفی پر بینہ قابلِ قبول نہیں ہے مولانا، یہ نفی! تو بینہ نفی پر نہیں ہوتی کسی چیز کی، بلکہ بینہ کسی چیز کے اثبات پر ہوتی ہے؛ تو یہ تو نفی میں ہوگی، لہذا قبول نہیں۔
جی! تو بھئی ماتن نے مسئلے کو بعض علماء نے کیا لکھا ہے کہ ماتن نے اس مسئلے کو کس پر خاص کیا ہے؟ کیونکہ جھوٹی گواہی کا پتہ اقرار کے بغیر چل ہی صاحبِ شرحِ وقایہ فرماتے ہیں: کبھی بغیر اقرار کے بھی جھوٹی گواہی کا پتہ چل جاتا ہے، دیکھیے، سنیے بھئی! أَقُولُ میں کہتا ہوں، یہ صاحبِ شرحِ وقایہ فرما رہے ہیں کہ میں کہتا ہوں: قَدْ يُعْلَمُ قَدْ تُعْلَمُ کہ کبھی کبھی جھوٹی گواہی کو جان لیا جاتا ہے بھئی بِدُونِ الْإِقْرَارِ بغیر کسی اقرار کے کَمَا إِذَا شَهِدَ بِمَوْتِ زَيْدٍ جیسے کسی ایک نے کسی نے گواہی دی زید کی موت کی أَوْ بِأَنَّ فُلَانًا قَتَلَهُ یا اس بات کی گواہی دی کہ فلاں نے (یعنی بکر نے) زید کو کیا کر دیا ہے؟ قتل کر دیا ہے، ثُمَّ ظَهَرَ زَيْدٌ حَيًّا پھر زید ظاہر ہوا اس حال میں کہ وہ تو پتہ چلا کہ کس قسم کی گواہی تھی اور اقرار سے چلا یا بغیر اقرار کے ہی چل گیا؟ بغیر اقرار کے۔ وَكَذَا إِذَا شَهِدَ بِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ اسی طرح اگر کسی نے گواہی دی ہلال کے دیکھنے کی کہ میں نے میں نے چاند دیکھ لیا ہے بھئی، چاند دیکھ لیا بھئی، فَمَضَى ثَلَاثُونَ يَوْمًا بھئی، پھر کتنے دن گزر گئے بھئی؟ بھئی مہینہ چاند کا زیادہ سے زیادہ کتنا ہو سکتا ہے؟ تیس سے اوپر جا سکتے ہیں؟ نہیں! اب ایک آدمی نے کہا: میں نے چاند دیکھا بھئی اور تیس دن پورے ہو گئے، تیس دن کے بعد بھی اگلا چاند نہیں نظر آ رہا، مطلع صاف ہے، بادل وغیرہ نہیں، اگر اس نے چاند دیکھا ہوتا تو تیسویں دن کو، تیسواں دن گزرنے کے بعد شام کو کیا ہونا چاہیے تھا؟ چاند نظر آنا چاہیے، لیکن پھر بھی نظر نہیں آیا، معلوم ہوا اس شخص نے جو گواہی دی تھی وہ جھوٹی تھی، وَذَاكَ وَكَذَا اسی طرح ہے إِذَا شَهِدَ بِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ گواہی دی چاند دیکھنے کی فَمَضَى ثَلَاثُونَ يَوْمًا پھر تیس دن گزر گئے وَلَيْسَ بِالسَّمَاءِ عِلَّةٌ اور آسمان میں کوئی علت بھی نہیں تھی بھئی وَلَمْ يَرَوُا الْهِلَالَ اور پھر بھی چاند کو تو آسمان میں کوئی علت، بادل وغیرہ کچھ بھی نہیں تھے، پھر بھی لوگوں نے چاند کو نہیں دیکھا، وہاں نہیں تھا چاند تو معلوم ہوا جھوٹی گواہی دی ہے۔ وَمِثْلُ هَذَا كَثِيرٌ اور اس قسم کی صورتیں کثیر ہیں بھئی، اس قسم کی مثالیں۔
فَصْلٌ بَلْ لَا رُجُوعَ عَنْهَا إِلَّا عِنْدَ قَاضٍ بھئی۔ رجوع کہتے ہو سکتا ہے، کہاں ہو سکتا ہے؟ کہتے ہیں: لَا رُجُوعَ عَنْهَا أَيْ عَنْ الشَّهَادَةِ رجوع نہیں ہو سکتا شہادت سے إِلَّا عِنْدَ قَاضٍ مگر کس کے پاس؟ قاضی کے پاس۔ حَصَرَ حَصَرَ آیا مولانا! بغیر قاضی کے رجوع ہو ہی نہیں سکتا بھئی! اب ایک شخص نے دس آدمیوں میں کھڑے ہو کر کہہ دیا: میں نے تو جھوٹی گواہی دی تھی، نہیں بھئی! کوئی فرق نہیں پڑتا، یہ رجوع درست نہیں ہے، رجوع کہاں پر ہو سکتا ہے صرف؟ آپ گواہ اٹھا کر لے آئیں بھئی کہ قاضی صاحب! اس نے اقرار کیا ہے، میں گواہ پیش کرتا ہوں، نہیں بھئی! نہیں۔
ذکر لا رجوع عنہا الا عند قاض رجوع نہیں ہو سکتا گواہی سے مگر قاضی کے پاس، یہی اس کی مجلس میں رجوع کرنا پڑے گا۔ فَإِنْ رَجَعَا عَنْهَا اگر رجوع کر لیا رجعات تثنیہ کا صیغہ ہے، دونوں گواہوں نے رجوع کر لیا عنھا یعنی الش شہادت سے قَبْلَ الْحُكْمِ بِهَا اس گواہی کی وجہ سے فیصلہ کرنے سے گواہی دے چکے ہیں بھئی، قاضی نے ابھی فیصلہ نہیں کیا تھا کہ دونوں نے کیا کر لیا؟ رجوع کر لیا، فَسَاقَطْتٌ بھئی! وہ شہادت کیا ہو جائے گی؟ ساقط، فیصلہ نہیں ہوگا۔ وَلَمْ يَضْمَنَاهُ بھئی، اور وہ دونوں اس کے ضامن بھی وہ دونوں دونوں پر ضمان بھی نہیں آئے گا، ضمان کس چیز کا؟ ابھی کوئی فیصلہ ہوا ہے؟ فیصلہ ہی نہیں، جب فیصلہ نہیں تو ضمان بھی نہیں۔ وَبَعْدَهُ اور فیصلے کے بعد اگر رجوع کر لیا، لَمْ يُفْسَخْ بھئی، فیصلے کو فسخ نہیں کیا جائے گا، فیصلہ برقرار رہے گا، ہاں ان دونوں پر اب ضمان آ جائے گا، اگر انہوں نے کوئی چیز تلف کی ہے کسی کی۔ مثلاً آپ نے آپ، آپ پر ایک آدمی نے دعویٰ کر دیا کہ آپ نے اس کا ایک لاکھ روپیہ دینا ہے، وہ دو گواہ بھی لے آیا، دونوں گواہوں نے قاضی کے پاس گواہی دے دی، قاضی نے فیصلہ کر دیا کہ آپ ایک لاکھ روپے اس کے حوالے کریں بھئی۔ تو جب فیصلہ کر دیا، فیصلے کے بعد اب ان دونوں گواہوں نے رجوع کر لیا، کہتے ہیں: اب فیصلے کو فسخ نہیں کیا جائے گا، فیصلہ برقرار رہے گا، اس لیے کہ یہ فیصلہ حجتِ شرعی کی وجہ سے ثابت ہو چکا۔ حجتِ شرعی کیا تھی؟ دو گواہوں کی گواہی، اس کو شریعت نے حجت قرار دیا ہے، اس پر قاضی فیصلہ کرنے پر مجبور ہے، تو قاضی نے فیصلہ کر دیا ہے، اب فیصلہ منسوخ نہیں ہو سکتا، اب پھر کیا کیا جائے گا؟ زمان آئے گا گواہوں پر یا زمان اب نہیں آئے گا؟ کہتے ہیں: بھئی زمان موقوف ہے آپ کے پیسے دینے تک، اب آپ پر کیا واجب ہو چکے ہیں؟ آپ نے مدعی کو کتنے دینے ہیں؟ فیصلہ ہوا ہے یا نہیں جھوٹی گواہی سے، ان کی جھوٹی گواہی بتلانے سے پہلے ان کی گواہی پر فیصلہ ہو گیا کہ آپ نے مدعی کو کتنے دینے؟ تو اب فیصلہ آپ کی ادائیگی پر موقوف ہے، آپ جب ادا کر دیں گے گواہوں پر فورا زمان آ جائے گا اور وہ آپ کا کتنا نقصان کیا انہوں نے جھوٹی گواہی سے؟ وہ اب آپ کو ادا کریں گے۔ اگر آپ پہلے ادا کر چکے ہیں، تو کیا کیا جائے گا؟ ان پر زمان آ گیا، اگر ابھی ادا نہیں کیا تو آپ کی ادائیگی پر موقوف ہے، جیسے ہی آپ ادا کریں گے فوراً کیا آ جائے گا؟ ان پر زمان آ جائے گا، تو آپ ایک لاکھ دے دیں گے مدعی کو اور پھر اپنا ایک لاکھ کس سے وصول کر لیں گے؟ گواہوں سے۔
أَيَّ إِنْ رَجَعَا عَنْ الشَّهَادَةِ بَعْدَ حُكْمِ الْقَاضِي لَمْ يُفْسَخِ الْحُكْمُ يَا یعنی کہ اگر رجوع کر لیا دونوں گواہوں نے شہادت گواہی دینے کے بعد بَعْدَ حُكْمِ الْقَاضِی قاضی کے فیصلے کے بعد لَمْ يُفْسَخِ الْحُكْمُ حکم کو فسخ نہیں کیا جائے گا۔ وَضَمِنَا اور وہ دونوں ضامن ہوں گے، مَا اس چیز کے، اس مال کے، أَتْلَفَاهُ جس کو ان دونوں نے کیا کر دیا ہے؟ تلف کر دیا ہے بِهَا کس کے ذریعے؟ بِالشَّهَادَةِ اس شہادت کے ذریعے۔۔ اچھا کب؟ إِذَا قَبَضَ مُدَّعَاهُ جبکہ مدعی، جی، جب مدعی کیا کر لے؟ اپنے مدعی پر بھئی مدعی نے کتنے کا دعویٰ کیا تھا؟ ہاں، تو جب وہ اس پر قبضہ کر لے گا، تو پھر یہ ضامن ہوں گے، سمجھ میں آیا؟ ضامن ہوں گے جب وہ مدعی قبضہ کر لے، کس پر قبضہ کر لے؟ مدعاهو اپنے مدعا پر یعنی جس کا دعویٰ کیا تھا، دَيْنًا كَانَ أَوْ عَيْنًا چاہے وہ دَيْن ہو یا عین ہو، یعنی کوئی ایسی چیز ہو جو تعین سے متعین ہوتی ہے، یا ایسی چیز ہو جو تعین سے متعین نہ نہ ہوتی۔
جی، حَتَّى إِذَا قَضَى الْقَاضِي یہاں تک کہ اگر قاضی نے فیصلہ کر دیا، وَلَمْ يَقْبِضِ الْوَلَمْ وَلَمْ يَقْبِضْ الْمُدَّعِي اور قبضہ نہیں کیا ابھی مدعی نے مُدَّعَاهُ کس پر اپنے، بھئی قاضی نے تو فیصلہ کر دیا ہے، لیکن مدعی نے ابھی اپنے مدعا پر یعنی مشہود بہ پر قبضہ نہیں کیا، لَا يَجِبُ الضَّمَانُ تو زمان ان دونوں پر کیونکہ ابھی کوئی چیز آپ کی تلف ہوئی ہے جب تک آپ نے دے وہ پیسے دیے نہیں؟ نہیں، ہاں! بل یتوقف الضمان علی القبض، بلکہ زمان موقوف رہے گا کس پر؟ قبضے پر، فَلَمَّا قَبَضَ جب مدعی کیا کر لے گا اس ایک لاکھ روپے پر آپ سے لے کر قبضہ کر لے گا، يَضْمَنُ الشُّهُودُ تو اب گواہ کیا بن جائیں گے؟ ضامن بن جائیں گے، وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رحمہ اللہ تعالی لَا زَمَانَ عَلَى الشُّهُودِ إِذَا رَجَعُوا امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کوئی زمان نہیں ہے گواہوں پر إِذَا رَجَعُوا جب وہ رجوع کر لیں، إِذْ لَا اعْتِبَارَ لِلتَّسْبِيبِ۔ تسبیب کا معنی ہے سبب بننا، سبب بننا۔
اور آگے ایک لفظ آ رہا ہے مباشرت بھئی، مباشرت، مباشرت کا معنی ہے سر انجام دینا، سر انجام دینا۔ بھئی آپ پڑھ چکے ہیں، مولانا کیا پڑھ چکے ہیں بھئی؟ ایک ہوتی ہے علت، ایک ہے سبب، سبب کسے کہتے ہیں؟ جو مفضی الی الشیء ہو واسطے کے ساتھ، اور علت کسے کہتے ہیں؟ جو مفضی الی الشیء ہو بغیر واسطے کے، بغیر واسطے کے بھئی، بغیر واسطے کے، سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھیے، سورج نکلتا ہے فوری کیا ہو جاتا ہے؟ دن ہوتا ہے، تو درمیان میں کوئی واسطہ ہے؟ درمیان میں کوئی واسطہ نہیں ہے، واسطہ نہیں ہے۔ اچھا، یہ واسطہ، یہ ہے علت، اور ایک ہے سبب بھئی، سبب وہ ہے جس کے اندر واسطہ آ جائے۔ جیسے ایک شاعر کہتا ہے: مغز کو باغ میں جانے متع جانے متع دینا کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا۔ شہد کی مکھی کو باغ میں مت جانے دینا ورنہ ناحق کس کا خون ہوگا؟ پروانے کا۔ بھئی یہ کیسے؟ مکھی کے جانے سے پروانے کی موت کا کیا تعلق؟ کہتے ہیں: دیکھو مکھی جائے گی اس باغ میں، وہ شہد کا وہ چھتا بنائے گی بھئی، پھولوں کا رس چوسے گی اور اس چھتے کے اندر شہد بنائے گی، جب شہد بن جائے گا، انسان کو پتہ چلے گا وہاں پر شہد ہے بھئی، وہ آئے گا بھئی، وہ اس چھتے کو اتارے گا، اس میں سے شہد نکال لے گا اور جو باقی چھتا بچے گا، اس سے موم بنائے گا اور اس موم سے پھر وہ شمع بنائے گا اور اس شمع کو جب روشن کرے گا، تو اس پہ پروانے آکر مر جائیں گے، تو دیکھو شہد کی مکھی کا باغ میں جانا یہ سبب بن گیا کس چیز کا؟ پروانے کی موت کا۔ تو براہ راست بنا یا کئی واسطے آئے درمیان میں؟ کئی واسطے آئے، باغ میں جائے گی، چھتا بنائے گی، پھر شہد بنائے گی، پھر انسان آئے گا، شہد اتارے گا، پھر اس سے کیا کرے گا؟ موم بنائے گا اور موم سے موم بتی شمع بنائے گا اور پھر اس سے آگ جلائے گا، تو کتنے ہی واسطے درمیان میں آ گئے، تو بس چاہے واسطہ ایک ہے یا زیادہ ہیں، یہ کیا کہلاتا ہے؟ سبب کہلاتا ہے۔ تو علت میں جو بغیر واسطے کے ہو مفضی الی الشیء، اور سبب جو ہوتا ہے واسطے کے ذریعے ہوتا ہے مفضی الی الشیء بھئی۔
اور آپ پڑھ چکے ہیں ہمارے نزدیک ضابطہ یہ ہے کہ جب سبب اور علت جمع ہو جائیں، تو حکم کی نسبت کس کی طرف کی جاتی ہے؟ جی! سبب بھی ہے، علت بھی ہے، تو حکم کی نسبت علت کی طرف کی جاتی ہے، سبب کی طرف نہیں کی جاتی بھئی، سبب کی طرف نہیں کی جاتی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بھئی، کہتے ہیں: دیکھیے، یہ جھوٹے گواہ جو ہیں، ان کی وجہ سے یہ آپ کے ایک لاکھ روپے کے تلف ہونے کا سبب بنے ہیں، لیکن درمیان میں قاضی آ گیا، انہوں نے تو صرف جھوٹی گواہی دی، آگے آپ پر ایک لاکھ کا یہ فیصلہ آپ کے خلاف کس نے سنایا؟ قاضی نے، تو قاضی ہے علت، آپ کے مال کے تلف کرنے کی علت کون؟ قاضی، اور سبب کون؟ گواہ، اور جب علت اور سبب اکٹھے ہو جائیں، تو نسبت کس کی طرف ہو سکتی ہے؟ علت کی طرف تو ہو سکتی ہے، سبب کی طرف نہیں۔ لہذا گواہ صرف سبب بنے ہیں، لہذا ان پر زمان نہیں آئے گا۔
تو کہتے ہیں: لَا زَمَانَ عَلَى الشُّهُودِ وہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالی رحمتہ واسعہ وہ فرماتے ہیں گواہوں پر کوئی زمان نہیں ہے إِذَا رَجَعُوا جب وہ رجوع کریں، إِذْ لَا اعْتِبَارَ لِلتَّسْبِيبِ اس لیے کہ سبب بننے کا کوئی اعتبار نہیں ہے عِنْدَ وُجُودِ الْمُبَاشَرَةِ جبکہ مباشرت پائی جائے، خود سر انجام دینا پایا جائے، یعنی علت پائی جائے، وَهُوَ حُكْمُ الْقَاضِي اور وہ کیا ہے؟ مباشرت قاضی کا فیصلہ ہے۔
قلنا ہم جواب میں کہتے ہیں: إِذَا تَعَذَّرَ تَضْمِينُ الْمُباشِرِ جب مباشِر (یعنی سر انجام دینے والے) کو زمان بنانا ممکن نہ رہے، بھئی قاضی کو ہم زمان بنا سکتے ہیں؟ قاضی کو بھئی بنا تو سکتے ہیں، لیکن بھئی اس صورت میں تو پھر کوئی قاضی نہیں بنا کرے گا۔ جب قاضی پر زمان آ جاتا ہے غلط جھوٹی گواہی سے اب قاضی کا کیا قصور؟ اس نے تو صرف گواہی سنی اور اس کے مطابق فیصلہ کر دیا، اب قاضی پر اگر ہم زمان لے آئیں، اس طرح تو کوئی شخص پھر کبھی قاضی بننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوگا بھئی اور بڑا عظیم حرج لازم آئے گا۔ تو لہذا یہاں سبب بھی آیا ہے اور علت بھی ہے، لیکن علت کی طرف نسبت کرنا ممکن نہ رہا، جب علت کی طرف ممکن نہ رہا، تو اب نسبت ہم کس کی طرف کر دیں گے؟ سبب، اور سبب کون بنے؟ گواہ، لہذا ہمارے نزدیک گواہوں پر کیا آ جائے گا؟ زمان۔
ہم کہتے ہیں: إِذَا تَعَذَّرَ تَضْمِينُ الْمُبَاشِرِ جب ممکن نہ رہا مباشِر (یعنی سر انجام دینے والے) کو زمان بنانا، کون ہے مباشِر؟ وَهُوَ الْقَاضِي وہ کون ہے؟ قاضی۔ تو جب سر انجام دینے والے کو زمان بنانا ممکن نہ رہا، کیوں نہیں ممکن؟ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ مَلْجَأٌ مَلْجَأٌ یا مِلْجَأٌ فِي الْقَضَاءِ اس لیے کہ وہ تو سہارا ہے فیصلے کے اندر، پناہ گاہ ہے، ذریعہ ہے مولانا کس کے اندر بھئی؟ فیصلے میں، قاضی نہیں تو فیصلہ کیسے ہوگا بھئی؟ تو وہ پناہ گاہ ہے، حفاظت ہے، سہارا ہے فیصلے کے اندر، تو لہذا اس لیے اس کو زمان بنانا ممکن نہیں، تو جب زمان بنانا ممکن نہ ہو، اب جزا رہی ہے يُعْتَبَرُ التَّسْبِيبُ تو اب کس کا اعتبار کیا جائے گا؟ سبب بننے کا اعتبار کیا جائے گا۔
إِذَا شَرطِ جزا سمجھ میں آئی؟ إِذَا تَعَذَّرَ تَضْمِينُ الْمُبَاشِرِ جب مباشی کو زمان بنانا ممکن نہ رہے يُعْتَبَرُ التَّسْبِيبُ تو پھر کیا کیا جائے گا؟ سبب بننے کا اعتبار کیا جائے گا۔ فَإِنْ رَجَعَ أَحَدُهُمَا ضَمِنَ نِصْفًا وَالْعِبْرَةُ لِلْبَاقِي لَا لِلرَّاجِعِ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی۔ یہ بات تو اور آپ کو پتہ چل گئی کہ اگر گواہ رجوع کر لیں، تو اس صورت میں فیصلے کے بعد فیصلے کے بعد رجوع کر لیں، تو فیصلہ منسوخ نہیں ہوگا بلکہ ان گواہوں پر کیا آ جائے گا؟ زمان آئے گا۔
بھئی اگر سارے گواہ نہیں رجوع کرتے، کچھ گواہ رجوع کر لیتے ہیں، تو ان پر کیسے زمان آئے گا، کیا صورت بنے گی؟ اب بتلانے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: فَإِنْ رَجَعَ أَحَدُهُمَا اگر دو گواہوں میں سے ایک نے رجوع کر لیا ضَمِنَ نِصْفًا تو کس پر کتنا زمان آئے گا؟ نصف، بھئی! کیونکہ یاد رکھو، ضابطہ بتلا رہے ہیں۔ وَالْعِبْرَةُ لِلْبَاقِي لَا لِلرَّاجِعِ اعتبار جو ہے وہ باقی کا ہے، لا للراجع رجوع کرنے والے کا اعتبار نہیں۔ یہ اہم ضابطہ ہے بھئی، رجوع کے اندر بھئی۔ ہمارے نزدیک کس کا اعتبار ہے بھئی؟ جی؟ باقی کا اعتبار ہے بھئی، باقی کا۔ اب دیکھیے بھئی، کتنے نے گواہی دی تھی ادھر دیکھو بھئی؟ دو نے، دو میں سے کتنے نے رجوع کیا؟ ایک نے، اب باقی کو دیکھو، باقی کتنے ہیں؟ ایک، اور ایک شخص نصاب کا شہادت کے نصاب کا کتنا ہے؟ نصف ہے، کتنا ہے؟ نصف، تو نصف نصاب اب بھی باقی ہے، تو نصف تو زمان نہیں آئے گا، اور نصف اس ایک پر کیا آ جائے گا؟ زمان آ جائے گا۔
صورت سمجھ میں آئی؟ اب آپ مجھے بتاتے جائیے، فتویٰ دیتے جائیے، تین آدمیوں نے ایک مسئلے کے اندر گواہی دی تھی بھئی، یوں چار نے دی تھی۔ کتنے نے گواہی دی تھی؟ چار آدمیوں نے ایک مسئلے میں گواہی دی تھی، ایک نے وہیں پر بعد میں فیصلے کے بعد رجوع کر لیا، کتنا زمان آئے گا اس پر؟ کوئی زمان اس پر نہیں آئے گا، کیونکہ نصابِ شہادت اب بھی پورا ہے، ابھی بھی کتنے گواہ ہیں؟ تین، اچھا، یہ تو دو تھے، اچھا ایک اور نے بھی رجوع کر لیا مولانا، اب کیا کریں گے بھئی؟ پھر کتنا ان دونوں پر زمان آئے گا؟ نہیں آئے گا زمان، کیونکہ ابھی بھی دو گواہ باقی ہیں، اور اعتبار کس کا ہے؟ باقی کا ہے، اور شہادت کے لیے کتنے گواہ چاہیے؟ دو، لہذا اب بھی نصابِ شہادت پورا ہے، اچھا، ایک اور نے بھی رجوع کر لیا مولانا، اب کتنا نصابِ شہادت رہ گیا؟ نصف رہ گیا، تو باقی اب تینوں پر نصف کا زمان آ جائے گا۔
مثلاً، گواہی سے مال کتنا طلب کیا ہے؟ ایک لاکھ، نصف کتنا آیا؟ پچاس، تو تینوں پر پچاس ہزار ملا کر ہے، ہر ایک پر الگ الگ پچاس ہزار نہیں، بلکہ تینوں ملا کر کتنا دے دیں گے؟ پچاس ہزار۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب آپ مجھے صورت بتلاتے جائیے، ایک مسئلے کے اندر ایک مرد نے اور دو عورتوں نے گواہی دی بھئی، پھر اس کے بعد ایک عورت نے رجوع کر لیا فیصلے کے بعد، تو اس پر کتنا زمان آئے گا؟ چوتھا حصہ، کیوں؟ کیونکہ ایک مرد کتنی عورتوں کے برابر ہوتا ہے؟ دو عورتوں کے برابر، تو دو ایک مرد ہے اور ایک عورت ہے، تو کل گویا کتنے حصے باقی ہیں؟ تین حصے باقی ہیں اور ایک حصہ حق، تو باقی کتنے رہ گئے؟ مرد ہے نصف شہادت، اور عورت کیا ہے؟ ربع شہادت تو نصف اور ربع ابھی بھی باقی ہیں، تین حصے ہو گئے، اور ایک ربع کیا ہوا؟ اس نے رجوع کیا ہے، تو اس پر کتنا زمان آیا؟ چوتھائی حصہ، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اچھا۔
اچھا، دوسری صورت بھئی، ایک مسئلہ ہے، اس کے اندر ایک مرد نے اور دس عورتوں نے گواہی دی بھئی، ایک مرد نے اور دس عورتوں نے۔ اچھا بھئی، آٹھ عورتوں نے وہیں پر رجوع کر لیا، کتنا زمان آئے گا؟ کوئی بھی نہیں۔ کیونکہ نصابِ شہادت اب بھی پورا، کتنا؟ ایک مرد اور دو عورتیں ابھی بھی ہے۔ اچھا، ایک اور عورت نے رجوع کر لیا مولانا، اب کیا صورت بنے گی؟ کتنا حصہ شہادت کا کتنا نصاب باقی ہے ابھی؟ تین چوتھا، کتنا باقی ہے؟ تین چوتھا، چار میں سے تین حصے ابھی بھی باقی، ایک ربع ختم ہوا ہے، تو ان نو کی نو پر کتنا آ جائے گا؟ صفر۔ یعنی یہ نو مل کر ایک ربع دے دیں گی، یہ نہیں کہ ہر ایک پہ الگ ربع آئے گا بلکہ مل کر ایک ربع دے دیں گی، تقسیم کر لیں گے اوپر۔ ایک اور عورت نے بھی رجوع کر لیا مولانا، اب صرف ایک مرد رہ گیا، اب ان دس عورتوں پر کتنا آ جائے گا؟ نصف بھئی، کیونکہ نصف نصاب ابھی بھی۔ اچھا بھئی، اس مرد نے بھی رجوع کر لیا، ساروں نے رجوع کر لیا، اب کیا مسئلہ ہوگا؟
اب اختلاف ہے، امام صاحب فرماتے ہیں، مرد کو پر چھٹا حصہ آئے گا۔ چھ حصے کریں گے، ایک حصہ کس پر آئے گا؟ مرد پر، اور پانچ حصے کن پر آئیں گے؟ ان عورتوں پر، کیوں؟ وہ ان کی دلیل یہ کہ ہر دو عورتیں کس کے برابر ہیں؟ ایک مرد، تو دس عورتیں کتنے مردوں کے برابر ہوئیں؟ پانچ، اور ایک وہ مرد بھی ہوا، کتنے ہو گئے؟ چھ، تو چھ حصے تھے، اس مرد پہ کتنا آتا تھا؟ ایک حصہ، کتنا آتا تھا؟ ایک، اور باقی پانچ حصے کس پر آتے ہیں؟ ان باقی دس عورتوں پر آ جائیں گے، تو اس مرد پر چھٹا حصہ آئے گا اور عورتوں پر پانچ حصے، صاحبین فرماتے ہیں: نہیں، اس مرد پر بھی نصف آ جائے گا اور عورتوں پر بھی نصف۔ معلوم ہوا، نصف پچاس ہزار مرد پر زمان آئے گا اور پچاس ہزار عورتوں پر آ جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
دیکھیے بھئی اب، فَإِنْ رَجَعَ أَحَدُهُمَا ضَمِنَ نِصْفًا اگر رجوع کر لیا دو گواہوں میں سے کسی ایک نے، ضَمِنَ نِصْفًا تو وہ ضامن ہوگا کتنے کا؟ نصف کا وَالْعِبْرَةُ لِلْبَاقِي لَا لِلرَّاجِعِ اور اعتبار باقی کا ہوگا، لا للراجع رجوع کرنے والوں کا نہیں۔ فَإِنْ رَجَعَ أَحَدُ ثَلَاثَةٍ فَلَا يَشْهَدُو جی، شَهِدُوا یہ صفت ہے ثلَاثَةٍ کی، ترجمہ غور سے سننا: فَإِنْ رَجَعَ اگر رجوع کر لیا ایسے تین میں سے ایک نے جنہوں نے گواہی دی تھی، ایسے تین جنہوں نے گواہی دی تھی، ان میں سے ایک نے اگر کیا کر لیا؟ رجوع کر لیا، لَمْ يَضْمَنَّ تو وہ اس ایک کو وہ ایک ضامن نہیں ہوگا، کیوں؟ لِبَقَاءِ نِصَابِ الشَّهَادَةِ نصابِ شہادت ابھی بھی باقی ہے، دو گواہ ہیں۔ وَإِنْ رَجَعَ آخَرُ اگر ایک اور نے بھی رجوع کر لیا، ضَمِنَا نِصْفًا ضَمِنَا تثنیہ ہے، وہ دونوں ضامن ہوں گے کتنے کے؟ نصف کے، لِأَنَّ نِصْفَ نِصَابِ الشَّهَادَةِ باقٍ اس لیے کہ نصف نصابِ شہادت جو ہے ابھی بھی باقی ہے وَإِنْ رَجَعَتْ امْرَأَةٌ مِنْ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ اگر رجوع کر لیا ایک عورت نے، کس میں سے؟ ایک مرد اور دو عورتوں میں سے، ضَمِنَتْ رُبْعًا تو یہ کتنے کی ضامن ہوگی؟ ایک ربع کی۔ وَإِنْ رَجَعَتَا اور اگر دونوں عورتوں نے رجوع کر لیا، ضَمِنَتَا نِصْفًا تو دونوں کتنے کی ضامن ہوں گی؟ نصف کی۔ وَإِنْ رَجَعَتْ ثَمَانٍ مِنْ رَجُلٍ وَعَشْرِ نِسْوَةٍ اگر رجوع کر لیا آٹھ عورتوں نے، کتنے میں سے؟ ایک مرد اور دس عورتوں میں سے، فَلَا غُرْمَ غُرْمَ زمان، جرمانے کو کہتے ہیں، زمان، فَلَا غُرْمَ تو ان عورتوں پر کوئی زمان نہیں بھئی، کیونکہ نصابِ شہادت اب بھی کتنے؟ ایک مرد اور دو عورتیں ابھی بھی ہے۔ وَإِنْ رَجَعَتْ أُخْرَى اگر ایک اور نے بھی رجوع کر لیا، ضَمِنَتِ التِّسْعُ رُبْعًا تو نو کی نو ضامن ہو جائیں گی کتنے کی؟ چوتھے حصے کی لِبَقَاءِ ثَلَاثَةِ أَرْبَاعِ النِّصَابِ اس لیے کہ نصاب کا تین چوتھائی ابھی بھی باقی ہے۔ وَإِنْ رَجَعَ الْكُلُّ اور اگر ساروں نے رجوع کر لیا، اس مرد نے بھی اور دس عورتوں نے بھی، فَعَلَى الرَّجُلِ السُّدُسُ تو اس مرد پر کتنا آئے گا؟ چھٹا حصہ آئے گا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، جب مرد پہ چھٹا آیا، فَمَا بَقِيَّةُ کن پر آ جائے گا؟ پانچ حصے کن پر آ جائے گا؟ عورتوں پر۔ وَنِصْفٌ عِنْدَ وَنِصْفٌ عِنْدَهُمَا اور صاحبین کے نزدیک مرد پر کتنا آئے گا؟ نصف آئے گا، وَمَا بَقِيَّةُ کس پر آ جائے گا؟ عورتوں پر نصف، یہی بات کہنے لگے ہیں وَمَا بَقِيَةُ عَلَيْهِنَّ اور ما بقیہ عورتوں پر آ جائے گا عَلَى الْقَوْلَيْنِ دونوں قولوں کے مطابق۔ امام صاحب کے نزدیک ما بقیہ کتنا ہے؟ پانچ حصے چھ میں سے، اور صاحبین کے نزدیک نصف ہے۔ لَهُمَا صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ إِنَّ الرَّجُلَ الْوَاحِدَ نِصْفُ النِّصَابِ کہ ایک مرد جو ہوتا ہے، وہ نصفِ نصاب ہے، فَالنِّسَاءُ إِنْ كَسُرْنَ يَقُمْنَ مَقَامَ رَجُلٍ وَاحِدٍ عورتیں اگرچہ وہ کثیر ہی کیوں نہ ہو جائیں، وہ قائم مقام ہیں ایک آدمی کے، یہ دلیل ہے ان کی، سمجھ میں آیا؟ وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ أَنَّ كُلَّ امْرَأَتَيْنِ مَعَ الرَّجُلِ تَقُومُ مَقَامَ رَجُلٍ وَاحِدٍ کہ ہر دو عورتیں مرد کے ساتھ، وہ قائم مقام ہیں کس کے؟ ہر دو عورتیں جب مرد کے ساتھ ملتی ہیں، وہ کس کی قائم مقام ہو جاتی ہیں؟ ایک کے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دس عورتیں پانچ مردوں کے قائم مقام ہوئیں۔ وَإِنْ رَجَعْنَ فَقَطْ اور اگر صرف عورتوں نے رجوع کیا، فَنِصْفٌ إِجْمَاعًا تو ان پر کتنا آئے گا؟ نصف آئے گا بالمجماع، لِبَقَاءِ نِصْفِ النِّصَابِ اس لیے کہ نصفِ نصاب باقی ہے، وَهُوَ الرَّجُلُ وہ آدمی ہے۔ چلیے من ہذا واللہ اعلم بحقیقتہ۔