گذشتہ اسباق میں آپ نے پڑھا بھئی۔
دین کے مسئلے میں اگر دو گواہوں کے اندر اختلاف بھی آ جائے
لیکن، صاحبین کے نزدیک، لیکن معنیٰ کے اندر اگر اتفاق ہو بھئی
تو پھر گواہی کو کیا کر لیا جائے گا؟ قبول کر لیا جائے گا
بشرطیکہ دعویٰ کتنے کا ہو؟ بشرطیکہ دعویٰ اکثر کا ہو۔
تو یہ ان مسائل میں تھا جہاں پر مقصود مال تھا بھئی، جہاں دین تھا بھئی۔ اور باقی کچھ جگہ پر عقد آ جاتے ہیں، ان میں کئی قسمیں آپ کو انہوں نے بتلا دیں۔
بتلایا تھا کہ بیع و شراء اور کتابت جو ہے، اس میں دونوں جانب سے عقد مقصود ہوتا ہے، مال مقصود نہیں ہوتا، لہٰذا یہاں پر اگر گواہوں کے اندر اختلاف آئے گا تو پھر گواہی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ مثلاً ایک گواہ گواہی دیتا ہے الف پر عقد ہوا تھا، دوسرا گواہ گواہی دیتا ہے کہ الف اور مائۃ پر کیا ہوا تھا؟ عقد ہوا تھا۔
اب دیکھو، یہاں لفظاً بھی اتفاق آیا اور سمجھ میں آیا دونوں نے کیا ذکر کیا بھئی؟ الف اور الف کا ذکر بھئی۔ تو الف دونوں میں آ رہا ہے تو لفظوں کے اعتبار سے بھی دونوں میں اتفاق آیا اقل کے اندر۔
تو لیکن معنیٰ یہ اس گواہی کو کیا کیا جائے گا؟ رد کیا جائے گا، کیونکہ یہاں پر مال مقصود نہیں بھئی، تو الف اور الف میں تو اتفاق آیا
لیکن عقد میں اختلاف آ گیا کیونکہ ایک نے عقد کا ذکر کتنے مال پر کیا؟ الف پر، دوسرے نے عقد کا ذکر کتنے پر کیا؟ الف اور مائۃ، تو ایک عقد الف پہ ہو وہ الگ ہوگا، ایک عقد الف و مائۃ پر ہو یہ الگ، ایک ہی عقد، ایک ہی وقت میں الف پر بھی ہو اور الف اور مائۃ پر بھی ہو ایسا نہیں ہو سکتا، لہٰذا یہاں چونکہ عقد میں اختلاف آ گیا تو گواہی دونوں عقدوں پر الف والے عقد پر بھی ایک گواہی ہوئی، الف و مائۃ والے عقد پر بھی، تو لہٰذا یہ گواہی رد کی جائے گی۔
چنانچہ بیع و شراء اور کتابت اس مسئلے میں جانبین سے جس طرف سے بھی دعویٰ آ جائے مسئلہ یوں ہی رہے گا، چاہے دعویٰ کرنے والا بائع ہو، چاہے دعویٰ کرنے والا مشتری، دونوں طرف سے عقد مقصود ہے، اور چاہے کتابت کے اندر دعویٰ کرنے والا آقا ہو، چاہے دعویٰ کرنے والا غلام ہو، دونوں طرف سے عقد ہی مقصود ہے۔
ہاں! اس کے برخلاف کچھ مسئلے اور عقد اور ہیں، جیسے عتاق بالمال ہے مولانا، صلح عن قود ہے بھئی، اور رہن ہے، اور خلع ہے بھئی، اس کے اندر اگر دعویٰ کرنے والا غلام ہو عتاق بالمال کے اندر، اور صلح کے اندر دعویٰ کرنے والا قاتل ہو، اور رہن کے اندر دعویٰ کرنے والا راہن ہو، اور خلع کے اندر دعویٰ کرنے والی بیوی ہو، تو پھر عقد مقصود ہوگا، اور اگر دوسرا فریق دعویٰ کرنے والا ہے تو پھر کیا مقصود ہوگا؟ مال مقصود ہوگا، تو لہٰذا جب عقد مقصود ہے جن کی جانب سے وہاں پر گواہی میں اختلاف قبول نہیں بلکہ رد کیا جائے گا، اور جب دین مقصود ہے تو اقل کے اندر اگر وہ اگر اتفاق آ جاتا ہے بشرطیکہ مدعی نے کیا کیا ہے بھئی؟
مثلاً ایک گواہ نے الف کہا ہے، دوسرے نے الف و مائۃ کہا ہے، تو یہاں پر اتفاق آ گیا بشرطیکہ مدعی نے دعویٰ کتنے کا کیا ہو؟ الف و مائۃ کا، تو پھر اقل پر فیصلہ کر دیا جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
تو اس پر بھئی علامہ صدر الشریعہ نے شرح کے اندر ایک اعتراض کیا، اعتراض کا خلاصہ یہ تھا کہ آپ نے کہا کہ اگر ایک جانب سے یعنی غلام، قاتل، راہن یا بیوی دعویٰ کرتی ہے ان مسئلوں کے اندر تو مقصود کیا ہے؟ عقد، اور اگر دوسرا فریق دعویٰ کرتا ہے تو مقصود کیا ہے؟ مال، کہتے ہیں نہیں بھئی! دوسری جانب سے بھی عقد ہی مقصود ہونا چاہیے بھئی، اور اس کو بھی قبول، بس ایک اعتراض ذکر کر دیا بھئی، سمجھ میں آیا؟
اعتراض، تو وہ اس طرح کہتے ہیں دیکھیے! کہ دین کے مسئلے کے اندر گواہوں میں اختلاف آ بھی جائے تو وہاں تطبیق ممکن ہوتی ہے، لیکن یہاں تطبیق ممکن ہی نہیں ہے بھئی۔ مثلاً دین کے مسئلے میں ایک گواہ نے کہا ایک ہزار، دوسرے نے ایک ہزار ایک سو کہا، تو تطبیق ممکن ہے، ہم یوں کہیں گے شاید یہ مدیون نے ایک گواہ کے سامنے ہزار کا اقرار کیا تھا، دوسرے کے سامنے ایک ہزار ایک سو، تو جتنا جس کے سامنے اقرار کیا تھا دونوں نے اتنے اتنے کی گواہی دے دی، تطبیق آ گئی بھئی، یا مدیون نے کیا کیا تھا بھئی؟
اصل قد تو ایک ہزار ایک سو تھا اور اس نے دونوں کے سامنے کتنے کا اقرار کیا تھا؟ ایک ہزار ایک سو کا اقرار کر لیا تھا، لیکن پھر ایک گواہ کے سامنے اس نے سو ادا کر دیے یا سو معاف کر دیے یا اقرار کر لیا کہ میں سو کیا کر چکا ہوں؟ معاف کر چکا ہوں یا
تو اب یہ سو کے معاف کرنے یا ادا کرنے کا پتہ تو صرف ایک گواہ کو ہے، دوسرے کو تو پتہ ہی نہیں، تو دوسرے نے کو چونکہ پتہ نہیں تھا تو اس نے ایک ہزار ایک سو پر گواہی دے دی اور پہلے کو چونکہ پتہ تھا تو اس نے صرف کتنے کی گواہی دے دی؟ ایک ہزار، تو تطبیق آ گئی، تو دین کے مسئلے میں تو تطبیق ممکن ہے، لیکن کہتے ہیں یہاں پر تطبیق ممکن نہیں بھئی، کیوں؟ اس لیے کہ یہاں پر اصل مقصود عقد ہے، دین نہیں بھئی، مال تو بالتبع آئے گا، اور تو لہٰذا ایک عقد جو ایک ہزار پر ہوا اور ایک عقد ایک ہزار ایک سو پر ہوا دونوں کیا ہو گئے؟ الگ الگ، تو لہٰذا جانبِ آخر سے بھی اگر گواہوں میں اختلاف آ جائے تو اس کو قبول نہیں ہونا چاہیے۔
اعتراض سمجھ میں آیا بھئی؟ جی! آگے دیکھیے۔
والإِجَارَةُ كَالْبَيْعِ فِي أَوَّلِ الْمُدَّةِ وَكَالدَّيْنِ بَعْدَهَا
اور اجارہ جو ہے بیع کی مثل ہے اولِ مدت کے اندر، اور دین کی مثل ہے بعدہا، مدت کے بعد بھئی۔ بھئی! اجارہ کسی کو کرائے پر کوئی چیز کسی سے لینا بھئی، اجرت پر، اجرت پر، سمجھ میں آیا بھئی؟ نفع کسی چیز کا۔ تو اجرت پر کوئی چیز لینا، کرائے پر لینا بھئی، اس کے اندر بھئی، کیا مقصود ہے بھئی؟
تو کہتے ہیں بھئی یاد رکھو! اجارہ اگر اولِ مدت کے اندر اختلاف آیا دونوں میں فریقوں میں، تو ابتداء کے اندر یہ بیع کی طرح کا حکم ہوگا اس کا۔ اولِ مدت ابتداء میں آ جائے بھئی، ابھی وہ مقصود حاصل نہیں ہوا، مثلاً آپ نے گھر کرائے پر لیا ہے، سال کا کتنا کرایہ دیں گے؟ مثلاً لاکھ روپیہ آپ سال کا کرایہ دیں گے۔ تو ابھی صرف بات چیت ہوئی ہے، ابھی آپ پورا سال رہے نہیں، اختلاف آ گیا آپ میں اور کرائے پر جو دینے والا ہے اس شخص مالک میں اختلاف آ گیا، قاضی کے پاس معاملہ چلا گیا، اب یہاں پر مقصود کہتے ہیں عقد ہوگا۔ مقصود کیا ہوگا؟ عقد ہوگا، یہ بیع کی طرح ہے اور بیع کے اندر سے جس کی طرف سے بھی دعویٰ ہوتا تھا مقصود کیا ہوتا تھا؟ عقد، یرحمک اللہ!
باقي جیسے بیع بیع میں آپ نے کیا پڑھا تھا بھئی؟ چاہے مشتری دعویٰ کرے، چاہے بائع مقصود کیا ہے؟ عقد، اور جب عقد مقصود ہے تو گواہوں کا اختلاف قابلِ قبول ہوگا؟ نہیں قبول ہوگا، لہٰذا یہ بھی اگر اولِ مدت کے اندر آ جائے اختلاف تو چاہے مالک کی طرف سے دعویٰ ہو، چاہے کرائے دار کی طرف سے دعویٰ ہو دونوں صورتوں میں مقصود کیا ہوگا؟ لہٰذا گواہوں کے اندر معمولی سا اختلاف بھی قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
لیکن اگر اس نفع کو اٹھانے کے بعد اختلاف آ گیا، آپ پورا سال رہے گھر کے اندر، اس کے بعد آ کر اب چاہے آپ دعویٰ کریں، چاہے مالک کیا کرے؟ دعویٰ کرے، یہ اب دین کی طرح ہو گیا، کیونکہ اب مقصود عقد کا اثبات نہیں ہے بلکہ مقصد دونوں کا کس چیز میں کیا ہے؟ مال، مال میں اختلاف ہے بھئی اب، اور اس صورت میں یہ دین کی طرح ہوا، اور دین کے مسئلے میں آپ نے کیا پڑھا تھا؟
کہ اگر گواہوں میں اختلاف آ جائے تو اقل پر گواہی قبول کر لی جائے گی بشرطیکہ دعویٰ اکثر کا ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
وَالإِجَارَةُ كَالْبَيْعِ فِي أَوَّلِ الْمُدَّةِ وَكَالدَّيْنِ بَعْدَهَا
اور اجارہ بیع کی مثل ہے اولِ مدت کے اندر، ابتدائے مدت کے اندر، وَكَالدَّيْنِ بَعْدَهَا أي بَعْدَ الْمُدَّةِ اور دین کی طرح ہے اجارہ بعدہا، یعنی مدت کے بعد، کیوں بھئی؟ یہ فرق کیوں کیا؟ کہتے ہیں إِذْ فِي أَوَّلِ الْمُدَّةِ الْمَقْصُودُ هُوَ الْعَقْدُ فَلَا يُقْبَلُ الشَّهَادَةُ اس لیے کہ اولِ مدت میں مقصود وہ عقد ہی ہوتا ہے فَلَا يُقْبَلُ الشَّهَادَةُ تو لہٰذا گواہی قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ گواہی میں اختلاف آ رہا ہے۔
وَبَعْدَ الْمُدَّةِ يَكُونُ الدَّعْوَى مِنَ الأَجِيرِ اور مدت پوری ہو جانے کے بعد دعویٰ کس کی طرف سے ہوگا؟ اجیر کی طرف سے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ ملازم وغیرہ مثلاً جسے آپ نے رکھا ہے کرائے پر یا جس سے چیز وہ وَهُوَ يَدَّعِي الأُجْرَةَ اور وہ کس چیز کا دعویٰ کر رہا ہے؟ اجرت کا دعویٰ کر رہا ہے، فَيَكُونُ كَدَعْوَى الدَّيْنِ تو یہ کس کی طرح ہوا؟ اجیر بھئی ملازم کسی کو آپ اجرت پر نہیں رکھتے بھئی؟ یہ بھی کرائے پر ہے نا، اس کے ایک شخص کی خدمات کو آپ کیا کر لیتے ہیں کرائے پر لے لیں بھئی، ایک مہینہ میرے پاس ملازمت کرو گے، اتنے پیسے میں آپ کو دوں گا، تو اجرت دے رہے ہیں منافع کے عوض میں، جیسے میں نے مثال کس کی دے دی؟ مکان کی بھئی، مکان کے منافع آپ لے رہے ہیں، تو انہوں نے اجیر کی مثال دے دی۔
تو اس صورت میں کہتے ہیں دعویٰ اجیر کی طرف سے ہوگا اور وہ کس چیز کا دعویٰ کرے گا؟ اجرت کا، فَيَكُونُ كَدَعْوَى الدَّيْنِ تو یہ کس کی طرح ہوا دین کے فَيُقْبَلُ كَمَا تُقْبَلُ فِي دَعْوَى الدَّيْنِ تو قبول کیا جائے گا گواہی کو کہ جیسے کہ قبول کیا جاتا ہے کس کے اندر بھئی؟ دین کے دعویٰ میں، یعنی معمولی فرق بھی آ جائے بشرطیکہ دعویٰ اکثر کا ہو۔
وَصَحَّ النِّكَاحُ بِأَلْفٍ اِسْتِحْسَانًا وَقَالَا رُدَّتْ فِيهِ أَيْضًا
صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی:
ایک عورت نے ایک شخص پر دعویٰ کر دیا کہ اس نے میرے ساتھ نکاح کیا ہے، وہ شخص منکر ہے بھئی، اور عورت نے دو گواہ پیش کر دیے، ایک گواہ کہتا ہے کہ نکاح ہوا ہے اس عورت کا اس شخص کے ساتھ ایک ہزار کے بدلے، دوسرے نے بھی گواہی دی کہ اس عورت کا اس شخص سے نکاح ہوا ہے ایک ہزار اور ایک سو کے بدلے میں، تو اب یہاں پر گواہی کو قبول کیا جائے گا یا نہیں؟ نکاح پر فیصلہ کر دیا جائے گا یا نہیں بھئی؟
کہتے ہیں بھئی! استحساناً نکاح صحیح ہو جائے گا، فیصلہ گواہی کو قبول کر لیا جائے گا، ورنہ قیاس کا تقاضا تو یہی ہے کہ یہاں پر گواہی کو کیا کر دیا جائے؟ رد، کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ یہاں نکاح کے اندر مال مقصود نہیں ہوتا، اس میں دونوں جانب سے کیا مقصود ہوا کرتا ہے؟ عقد مقصود ہوتا ہے، اور جب دونوں جانب سے عقد مقصود ہوا تو یہ کس کی طرح ہوا؟ بیع کی طرح، اور بیع کے اندر اگر دو گواہوں میں اختلاف آتا تھا تو پھر کیا کرتے تھے؟ گواہی کو رد کرتے تھے، تو یہاں بھی گواہی کو رد کر کیا جانا چاہیے۔
لیکن استحساناً اس گواہی کو ہم قبول کر لیتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ کیوں استحساناً؟ اس لیے کہ نکاح کے اندر جو مال ہوتا ہے وہ طبعاً آتا ہے، اصل مقصود کیا ہوتا ہے؟ عقد، اور عقد کے اندر تو اختلاف نہیں بھئی، ایک گواہ بھی کس چیز کی گواہی دے رہا ہے؟ عقد ہو چکا، دوسرا گواہ بھی کس کی گواہی دے رہا ہے؟ عقد ہو چکا، ہاں! صرف مال میں اختلاف آ رہا ہے، لیکن مال تو مقصود نہیں ہے، مال تو کیا ہے؟ تبع ہے مولانا، اصل کے اندر تو دونوں گواہوں میں اختلاف نہیں، جب اصل میں اختلاف نہیں تو اصل ثابت ہو جائے گا، اچھا اصل ثابت ہوا اس پر فیصلہ ہو جائے گا اور مال مہر وغیرہ وہ کتنا ثابت ہوگا؟ کتنا مال؟ کہتے ہیں بھئی! اقل پہ فیصلہ کر دیں گے، کس پر کر دیں گے فیصلہ؟ اقل پر، اور ہاں! اس میں یہ بھی نہیں دیکھنا کہ دعویٰ اکثر کا ہے یا اکثر کا نہیں، دعویٰ چاہے اکثر کا ہو، دعویٰ چاہے اقل کا ہو، دونوں صورتوں میں کس پر فیصلہ کر دیا جائے گا؟ اقل کا بھئی۔
باقی دین کی صورتوں میں اگر دعویٰ اقل کا ہوتا تھا تو ہم گواہی کو کیا کر دیتے تھے؟ رد کرتے تھے، اور اکثر کا ہوتا تھا تو اقل پر گواہی کو قبول کر لیتے تھے، یہاں پر دعویٰ چاہے اکثر کا ہو چاہے دعویٰ اقل کا ہو دونوں صورتوں میں اقل پر کیا کر لیا جائے گا گواہی کو قبول، کیونکہ یہاں اصل مقصود عقد ہے، اور عقد پر دونوں گواہ متفق ہیں، ایک گواہ بھی کہہ رہا ہے اس عورت کا اس مرد سے نکاح ہو چکا، دوسرا گواہ بھی کہہ رہا ہے اس عورت کا اس مرد سے نکاح ہو چکا۔
وَصَحَّ النِّكَاحُ بِأَلْفٍ اِسْتِحْسَانًا اور صحیح ہے نکاح ایک ہزار پر کے بدلے استحساناً بھئی، وَقَالَا رُدَّتْ فِيهِ أَيْضًا یہ امام صاحب کے نزدیک، وَقَالَا صاحبین فرماتے ہیں رد کیا جائے گا بھئی، امام صاحب کے نزدیک قبول ہے استحساناً، صاحبین فرماتے ہیں رد کیا جائے گا، کیوں بھئی؟ هَذَا هُوَ الْقِيَاسُ بھئی، کہتے ہیں قیاس بھی یہی ہے بھئی، جو صاحبین کا قول ہے قیاس بھی یہی ہے، کیوں؟ کہتے ہیں لِأَنَّ الْمَقْصُودَ هُوَ الْعَقْدُ مِنَ الْجَانِبَيْنِ اس لیے کہ نکاح میں دونوں طرف سے عقد ہی مقصود ہوا کرتا ہے، فَصَارَ كَالْبَيْعِ تو نکاح کس کی طرح ہوا؟ بیع کی طرح، اور بیع کے اندر جس طرف سے بھی دعویٰ ہوتا لیکن گواہوں میں اختلاف آتا تو ہم کیا کر دیتے تھے؟ رد، تو صاحبین اس لیے یہاں قیاس سے کام لیتے ہیں اور فرماتے ہیں گواہی کو کیا کر لیا جائے گا؟ رد، لیکن امام صاحب فرماتے ہیں استحساناً قبول کریں گے، اور وجہِ استحسان کی یہ ہے کہ أَنَّ الْمَالَ فِي النِّكَاحِ تَبَعٌ کہ مال جو نکاح میں ہوتا ہے وہ تابع ہوتا ہے، وَلَا اخْتِلَافَ فِيمَا هُوَ الأَصْلُ اور کوئی اختلاف نہیں دونوں گواہوں کے درمیان اس چیز کے اندر جو اصل ہے، اصل کیا ہے؟ عقد، دونوں گواہوں میں اس عقد کے اندر کوئی اختلاف نہیں بھئی، وَهُوَ الْعَقْدُ اصل وہ عقد ہے، فَيَثْبُتُ تو عقد ثابت ہو جائے گا، ثُمَّ وَقَعَ الاِخْتِلَافُ فِي التَّبَعِ تو اصل عقد تو ثابت ہو گیا پھر واقع اختلاف کس کے اندر ہوا؟ تابع، تابع کے اندر بھئی، فَيُقْضَى بِالأَقَلِّ تو فیصلہ کس پر کر دیا جائے گا؟ اقل پر، وَيَسْتَوِي دَعْوَى أَقَلِّ الْمَالَيْنِ أَوْ أَكْثَرِهِمَا فِي الصَّحِيحِ اور صحیح ہے دعویٰ دونوں مالوں میں سے اقل کا بھی اور دونوں میں سے اکثر کا بھی صحیح قول کے مطابق، چاہے دعویٰ اقل کا ہو چاہے دعویٰ اکثر کا ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بھئی۔
وَقَدْ قِيلَ جی! یہ بعض فقہاء نے فرق کیا، وہ فرماتے ہیں بھئی! اگر دعویٰ زوجہ کی طرف سے ہو تو پھر یہ اختلاف ہے امام صاحب کا اور صاحبین کا، اگر بی دعویٰ کرنے والی بیوی ہو بھئی، اس لیے کہ جی! اچھا! اور اگر دعویٰ کرنے والا مرد ہو بھئی، تو پھر تو اتفاق ہے، امام صاحب کے نزدیک بھی قبول نہیں کیا جائے گا اور صاحبین کے نزدیک بھی قبول نہیں، پھر امام صاحب بھی فرماتے ہیں کہ جب مرد دعویٰ کر رہا ہے تو مقصود ہے عقد، اور عورت جب دعویٰ کرے تو ممکن ہے کیا مقصود ہو؟ مال مقصود ہو، تو لہٰذا عورت کی جانب سے امام صاحب فرماتے ہیں قبول کر لیں گے، اور صاحبین کیا فرماتے ہیں قبول نہیں، جبکہ خاوند کے مسئلے میں دونوں ترجان دونوں امام صاحب بھی اور صاحبین فرماتے ہیں کہ قبول نہیں کریں گے۔
وَقَدْ قِيلَ اور تحقیق کہا گیا ہے أَنَّ الاِخْتِلَافَ فِي دَعْوَى الزَّوْجَةِ کہ اختلاف کس کے اندر ہے بھئی؟ یہ جو متن میں ذکر ہوا بھئی، یہ اختلاف بیوی کے دعویٰ کے اندر ہے، أَمَّا فِي دَعْوَى الزَّوْجِ فَلَا تُقْبَلُ اِتِّفَاقًا باقی اگر خاوند کے دعویٰ ہو تو پھر قبول نہیں کیا جائے گا بالاتفاق، إِذِ الْمَقْصُودُ هُوَ الْعَقْدُ اس لیے کہ پھر مقصود کیا ہوتا ہے؟ جب دعویٰ خاوند کر رہا ہے تو مقصود عقد، لَا الْمَالُ یہ واؤ غلط ہے مولانا، کتابت کی غلطی ہے، مقصود عقد ہوگا، مال مقصود نہیں ہوگا بھئی۔
وَفِي جَانِبِ الزَّوْجَةِ اور زوجہ کی جانب سے يُمْكِنُ أَنْ يَكُونَ الْمَقْصُودُ هُوَ الْمَالُ ممکن ہے کہ مقصود کیا ہو؟ زوجہ کی طرف سے تو مال مقصود ہونا ممکن ہے، لَكِنَّ الصَّحِيحَ لیکن علامہ صدر الشریعہ فرماتے ہیں: یہ بعض فقہاء نے بعض علماء نے فرق ذکر کیا کہ اختلاف ااا بیوی کے دعوے میں ہے، خاوند کے دعوے میں اختلاف نہیں، لیکن کہتے ہیں لَكِنَّ الصَّحِيحَ صحیح قول یہ ہے أَنَّ الاِخْتِلَافَ فِي الْفَصْلَيْنِ کہ اختلاف دونوں فصلوں میں ہے، چاہے دعویٰ زوج کی طرف سے ہو چاہے دعویٰ یہ اسی طرح ہے، امام صاحب کے نزدیک استحساناً قبول کریں گے اور صاحبین کے نزدیک رد کیا جائے گا جیسا کہ متن میں آیا بھئی۔
وَلَزِمَ الْجَرُّ لِشَاهِدِ الإِرْثِ بِقَوْلِهِ مَاتَ وَتَرَكَهُ مِيرَاثًا لَهُ أَوْ مَاتَ وَذَا فِي مِلْكِهِ أَوْ فِي يَدِهِ
اچھا!
اب م ارث گواہ ہے، یہ وراثت کے مسئلے میں کوئی گواہی دیتا ہے تو اس کے لیے کہتے ہیں جر لازم ہے، وَلَزِمَ الْجَرُّ اور جر لازم ہے لِشَاهِدِ الإِرْثِ وراثت کے گواہ
بھئی دیکھو! زید مر گیا اور بكر اس کا ایک ہی بیٹا ہے اور کوئی رشتہ دار نہیں اس وقت بھئی،
تو اب دو گواہ آ کر گواہی دیتے ہیں کہ یہ بكر
کیا ہے؟ زید کا بیٹا ہے، زید کا بیٹا ہے بھئی۔
یہ سارا زید کا مال تھا اور میں میں جانتا ہوں کہ زید کے اس کے علاوہ اور کوئی رشتے دار بھی نہیں زندہ اس وقت بھئی۔ تو کہتے ہیں اس پر فوراً وارث کے لیے فیصلہ نہیں کر دیں گے بلکہ جر بھی ضروری ہے۔ کیا ضروری ہے؟ اس گواہ ان گواہوں کے لیے جر بھی ضروری ہے، جر کا معنی ہے کھینچنا کھینچنا۔ یعنی مال کو کھینچ کر وارث تک پہنچانا۔ جر کا کیا معنی ہے؟ کھینچنا، اس معنی یہ گواہ مال کو کھینچ کر مورث سے کھینچ کر منتقل کر دیں گے کس کی طرف؟ وارث کی طرف، کس طرح؟ یوں کہیں گے کہ وہ مورث مر گیا ہے اور یہ جو اس مال ہے اس نے مثلاً زید مر گیا ہے اور یہ سارا مال اس نے بطورِ میراث کے بقر کے لیے چھوڑا ہے، یہ جر ہو گیا ان کا۔
دیکھو وارث کے مرنے کا بھی ذکر آ گیا، مورث کے مرنے کا بھی ذکر آ گیا بھئی اور وارث کی طرف دین وہ مال کو نقل کرنے کا بھی مورث کے مرنے کا ذکر کیا کہ وہ مر گیا اور جی؟ وارث کی طرف مال بھی منتقل کیا یعنی گواہ نے یہ کہا کہ یہ جو مال اس نے کا تھا یہ اس نے بطورِ میراث کے کس کے لیے چھوڑا ہے؟ بقر کے لیے بھئی، تو سمجھ میں آیا؟ اس کو جر کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ جر، تو یہ ضروری ہے بھئی۔
"وَلَازِمٌ الْجَرُّ لِشَاهِدِ الْإِرْثِ" اور لازم ہے جر بھئی۔ اور لازم ہے جر بھئی "لِشَاهِدِ الْإِرْثِ" وراثت کے گواہ کے لیے جر کھـ کرنا بھی لازم ہے "بِقَوْلِهِ" اس قول کے ساتھ "مَاتَ" کہ مورث جو ہے وہ مر گیا ہے "وَتَرَكَهُ" اور اس مال کو اس نے چھوڑا ہے "مِيرَاثًا لَهُ" بطورِ میراث کے اس وارث کے لیے، یوں کہے۔ "أَوْ مَاتَ" یا یوں کہے مولانا "مَاتَ" وہ مورث مر گیا "وَذَا فِي مِلْكِهِ أَوْ فِي يَدِهِ" اور یہ جو گھر تھا یا یہ جو مال تھا اس کی ملک میں تھا "أَوْ فِي يَدِهِ" یا اس کے بھئی جب وہ مر گیا ہے اور یہ چیز یہ جائیداد اس کے ملکیت میں تھی یا اس کے قبضے میں تھی تو خود بخود وہ جائیداد کس کی طرف منتقل ہو جائے گی اب؟ وارث کی طرف منتقل ہو جائے گی۔
"إِذَا قَالَ الشُّهُودُ كَانَ هَذَا لِمُورِثِ هَذَا الْمُدَّعِي" واؤ نہیں ہے مولانا یہ کتابت کی غلطی ہے۔ جب گواہوں نے کہا "كَانَ هَذَا" یہ جو جائداد یہ جو مال تھا، یہ جو جائیداد ہے "لِمُورِثِ هَذَا الْمُدَّعِي" اس مدعی کے مدعی کے بھئی بقر نے دعویٰ کیا ہے نا کہ میں کس کا بیٹا ہوں؟ زید کا بیٹا ہوں اور میرے علاوہ اس کا اور کوئی رشتے دار نہیں اور اب دو گواہوں کو بھی وہ ساتھ لے کر آیا وہ گواہی دے رہے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ مدعی کا ہونا تو ضروری ہے آپ نے پڑھا ہے، مدعی کے بغیر کبھی گواہ آتے ہیں خود بخود بھئی؟ نہیں، تو مدعی وہ خود دعویٰ اس نے کیا ہے اور پھر آ کر گواہ گواہی دے رہے ہیں اس کے لیے۔
تو اب گواہوں نے کہا "كَانَ هَذَا لِمُورِثِ هَذَا الْمُدَّعِي" یہ جو جائداد یہ جو مال تھا، یہ اس مدعی کے مورث کا تھا۔ یہ مال کس کا تھا؟ تو یہ صرف کہہ دینے سے "لَا يُقْضَى لِلْوَارِثِ" وارث کے لیے فیصلہ نہیں کیا جائے گا "حَتَّى يَجُرَّ الْمِيرَاثَ إِلَى الْمُدَّعِي" یہاں تک کہ وہ میراث کا جر کرے، اس کو کھینچے کس کی طرف؟ مدعی کی طرف کھینچے "بِقَوْلِهِمْ" اپنے اس قول کے ساتھ "مَاتَ" کہ مورث کیا ہوا؟ مر گیا "وَتَرَكَهُ مِيرَاثًا لَهُ" اور یہ مال اس نے بطورِ میراث کے اس وارث کے لیے چھوڑا ہے "إِلَى آخِرِهِ" آخر تک جو اوپر متن میں آیا۔
"خِلَافًا لِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ" برخلاف امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے "فَإِنَّهُ لَا يُشْتَرَطُ الْجَرُّ عِنْدَهُ" اس لیے کہ جر شرط نہیں ہے ان کے نزدیک، جر کی شرط ان کے نزدیک نہیں لگائی جائے گی۔
"فَإِنْ قَالَ كَانَ لِأَبِيهِ أَعَارَهُ أَوْ أَوْدَعَهُ أَوْ أَجَارَهُ مَنْ فِي يَدِهِ جَازَ بِلَا جَرٍّ" لیکن اگر گواہوں نے یہ کہا بھئی، بھئی مکان ہے، مکان خالد کے پاس ہے، گواہوں نے آ کر کیا کہا؟ یہ مکان کس کا تھا بھئی؟ میرے مدعی یہ جو مدعی ہے اس کے باپ کا تھا۔ کس کا تھا؟ اور اس کا باپ اس کے باپ کا تھا اور یہ جو خالد کے پاس ہے یہ بطریقِ اعارہ کے ہے، اعارہ کس کو کہتے ہیں بھئی؟ ویسے استعمال کے لیے کوئی چیز کسی کو دے دینا عاریۃً دے دینا یعنی اس نے ویسے ہی بطورِ استعمال کے لیے کس کو دیا تھا؟ تو یہ مکان تھا زید کا، میرا مدعی ہے بقر اور بقر کا دعویٰ کیا ہے کہ وہ کس کا بیٹا ہے؟ زید کا، تو گواہ کہہ رہا ہے کہ یہ میرا مدعی جو ہے یہ اس کے باپ کا مکان تھا اور اس نے خالد کو کس لیے دیا ہوا تھا؟ عاریۃً دیا ہوا تھا "أَوْ أَوْدَعَهُ" یا اس کے پاس بطورِ امانت کے تھا مثلاً کوئی اور چیز تھی اس کے پاس بطورِ امانت کے رکھوائی تھی "أَوْ أَجَارَهُ" یا بطورِ کرائے کے مثلاً مکان تھا کس طور پر دیا تھا؟ بطورِ کرائے کے دیا تھا، کس کو؟ "مَنْ فِي يَدِهِ" اس شخص کو جس کے اس وقت قبضے میں ہے، تو اس کے قبضے میں عاریت کے طور پر ہے یا امانت کے طور پر ہے یا اجارے کے طور پر ہے "جَازَ" تو یہ گواہی بھی جائز ہے، قبول کی جائے گی "بِلَا جَرٍّ" بغیر جر کے بھئی، بغیر جر کے۔
کیوں؟ کہتے ہیں "لِأَنَّ يَدَ الْمُسْتَعِيرِ وَالْمُودَعِ وَالْمُسْتَأْجِرِ قَائِمَةٌ مَقَامَ يَدِهِ" اس لیے کہ مستعیر وہ جو عاریۃً چیز کو لینے والا ہے، مستعیر ودع وہ جس کے پاس چیز بطورِ امانت کے رکھوائی گئی ہے "وَالْمُسْتَأْجِرِ" مستاجر کون ہے؟ کرائے کو چیز پر لینے والا ہے، ان کے جو قبضہ ان سب کا جو قبضہ ہے "لِأَنَّ يَدَ الْمُسْتَعِيرِ وَالْمُودَعِ وَالْمُسْتَأْجِرِ" ان کا جو قبضہ ہے "قَائِمَةٌ مَقَامَ يَدِهِ" یہ قائم مقام ہے مورث کے قبضے کے، کہ یہ کس کے قبضے کے قائم مقام ہے؟ بھئی دیکھو زید نے ان کو امانت کے طور پر دیا تھا یا کرائے کے طور پر دیا تھا یا عاریۃً دیا تھا تو کیا چیز ان پر ان کا قبضہ ہو گا یا یہ اس وقت بھی دراصل قبضہ کس کا ہے بھئی؟ مالک ہی کا قبضہ شمار ہوتا ہے، ان لوگوں کا قبضہ بھی دراصل کس کا قبضہ شمار ہوتا ہے؟ مالک، تو یہ قائم مقام ہوتا ہے مالک کے قبضے کے ہی، جب یہ مالک کے قبضے کے قائم مقام تھے اور مالک تو مر چکا، جب مالک مر چکا تو اب جر کی ضرورت نہیں، خود بخود بھئی انتقال کس کی طرف ہو جائے گا؟ وارث، بھئی مورث کا تو ہو گیا انتقال تو مورث تو مر گیا تو اب ان چیزوں کے اندر قبضہ اس کا تھا اب وہ تو نہ رہا تو قبضہ خود بخود کس کی طرف منتقل ہو گیا؟ وارث کی طرف منتقل ہو گیا، لہٰذا اب جر کی ضرورت نہیں بھئی، یہ معنی ہے "جَازَ بِلَا جَرٍّ" تو جائز ہے بغیر جر کے بھئی۔ تو "فَلَا حَاجَةَ إِلَى الْجَرِّ" بھئی تو اب کوئی حاجت جر کی حاجت نہیں اس لیے کہ انتقال ضرورت کی بناء پر خود بخود ثابت ہو جائے گا۔
"وَلَوْ شَهِدَا بِيَدِ حَيٍّ مُنْذُ كَذَا رُدَّتْ" صورتِ مسئلہ یہ ہے، زید آپ کے پاس ایک گاڑی ہے، زید نے دعویٰ کر دیا یہ گاڑی میری ہے اور دو گواہ لے کر آ گیا، ان دونوں گواہوں نے گواہی دی کہ قاضی صاحب ہم نے پچھلے تین ماہ سے ہم دیکھ رہے تھے یہ گاڑی زید کے قبضے میں تھی۔ پچھلے تین ماہ تک یہ گاڑی کس کے قبضے میں تھی؟ زید کے قبضے میں تھی، تو کیا صرف یہ اس وقت تو یہ کس کے قبضے میں ہے؟ مدعی علیہ کے قبضے میں ہے لیکن پچھلے تین ماہ تک یہ کس کے قبضے میں تھی؟ زید کے، میرے مدعی کے قبضے میں تھی، اس وقت اگرچہ اس کے قبضے میں نہیں ہے تو یہ کہتے ہیں بھئی گواہی کو رد کر دیا جائے گا، کیا کیا جائے گا؟ اس لیے کہ اس فی الحال اس کے قبضے میں بھی نہیں، پہلے اس کے قبضے میں تھی اور اس کے قبضے میں ہونے سے اس کی ملکیت نہیں ثابت ہو جاتی کہ اب ہم فیصلہ کر دیں یہ چیز بھی اسی کی ہے۔ ہو سکتا ہے کیونکہ قبضے کئی قسم پر ہوتے ہیں بھئی، ہو سکتا ہے اس کے پاس بطورِ کرائے کے ہو، ہو سکتا ہے اس کے پاس بطورِ غصب کے اس نے قبضہ کیا ہو، ہو سکتا ہے اس کے پاس عاریۃً بطورِ قبضے کے ہو، سمجھ میں آیا؟ امانت وغیرہ کے طور پر ہو بھئی اس کے پاس بھئی۔
تو قبضے کی کئی صورتیں بن گئیں، تو قبضے کی مجهول ہوا، کون سا قبضہ تھا؟ گواہوں نے کوئی بتلایا کون سا قبضہ تھا؟ قبضہ ہے کئی قسم پر اور تو یہ جو مدعی کا قبضہ تھا وہ مجهول ہوا، جب دعویٰ مجهول ہوا تو مجهول دعوے پر گواہی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
یہ معنی ہے "وَلَوْ شَهِدَا" اگر گواہی دی دو گواہوں نے "بِيَدِ" ای "بِيَدِ حَيٍّ" کسی زندہ شخص کے "أَيْ بِيَدِ رَجُلٍ حَيٍّ" کسی زندہ آدمی کے قبضے کی بھئی، کسی زندہ آدمی کے یعنی وہ جو مدعی مراد ہے، پہلے تو گواہی کس کی دے رہے تھے بھئی؟ وراثت کے مسئلے میں کس کی گواہی تھی؟ کس کے قبضے میں تھی پہلے چیز؟ وہ مر چکا، اب ہے زندہ کے بارے میں کہ اس وقت تو اس کے قبضے میں نہیں لیکن یہ زندہ ہے آدمی، اگر گواہوں نے گواہی دی کسی دن کسی چیز پر کسی زندہ آدمی کے قبضے کی "مُنْذُ كَذَا" اتنی مدت تک بھئی مثلاً سمجھ میں آیا بھئی؟ مثلاً "مُنْذُ شَهْرَيْنِ" کتنے مہینے تک؟ دو ماہ، "رُدَّتْ" تو رد کیا جائے گا۔
"أَيْ شَهِدَا" گواہی دی دو گواہوں نے "أَنَّهُ كَانَ فِي يَدِ الْمُدَّعِي" کہ یہ گواہ یہ چیز کس کے قبضے میں تھی؟ مدعی کے قبضے میں تھی "مُنْذُ شَهْرٍ" بھئی ایک ماہ سے "وَالْحَالُ أَنَّهُ لَيْسَ فِي يَدِ الْمُدَّعِي عِنْدَ الدَّعْوَى" اور حال یہ ہے کہ اس وقت یہ مدعی کے قبضے میں نہیں ہے "عِنْدَ الدَّعْوَى" دعوے کے دعوے کے وقت یا اس وقت نہیں ہے لیکن پہلے ایک ماہ سے کس کے قبضے میں تھی؟ مدعی کے "لَا تُقْبَلُ" گواہی قبول نہیں کی جائے گی "لِأَنَّ الْيَدَ مُتَنَوِّعَةٌ" اس لیے کہ قبضہ جو ہے وہ تقسیم ہوتا ہونے والا ہے "إِلَى يَدِ مِلْكٍ" کس قبضے کون سے قسموں کی طرف؟ ایک یدِ ملک ہے اس کا ملکیت والا قبضہ ہے "وَيَدِ أَمَانَةٍ" دوسرا کون سا ہے؟ امانت والا قبضہ ہے "وَيَدِ ضَمَانٍ" اور ایک ضمان والا قبضہ ہے مثلاً غصب وغیرہ ہے بھئی "فَتَعَذَّرَ الْقَضَاءُ" تو یہ شہادت کس پر ہوئی مولانا؟ یہ گواہی دے رہے ہیں تو قبضہ طے کیا انہوں نے کون سا قبضہ تھا؟ تو قبضہ ہوا مجهول "فَتَعَذَّرَ الْقَضَاءُ بِشَهَادَةِ الْيَدِ الْمَجْهُولِ" تو قضا فیصلہ کرنا ناممکن نہ رہا "بِإِعَادَةِ الْيَدِ الْمَجْهُولِ" کہ اس مجهول قبضے کو کیا کر دیا جائے دوبارہ لوٹا دیا جائے۔
بھئی گواہی ہوئی مجهول چیز پر، تو اب اس مجهول چیز پر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ مجهول چیز دوبارہ آ جائے، مجهول کیسے آئے گی؟ لازمی بات ہے قبضہ جو بھی آئے گا وہ کسی خاص نوع کا آئے گا اور گواہوں نے کوئی تعین کی؟ نہیں بھئی، تو اگر خاص نوع بیان کرتے ملکیت مثلاً بیان کرتے پھر تو فیصلہ ممکن تھا لیکن اب چیز ہے مجهول اور مجهول چیز کو واپس لوٹا کر ایسا فیصلہ ہم کر دیں مجهول پر درست نہیں۔
"وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تُقْبَلُ" اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں گواہی قبول کی جائے گی۔ "وَإِنْ أَقَرَّ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ بِذَلِكَ" جی دوسری بھئی دو صورتیں اور بیان کر رہے ہیں، اس صورت میں گواہی قبول کر لی جائے گی اگرچہ قبضہ مجهول ہی ہے۔ آگے دو صورتیں ذکر کر رہی ہیں ذکر ذکر کر رہے ہیں بھئی جس میں قبضہ کیا ہے؟ مجهول ہے لیکن اس کے باوجود گواہی کو کیا کر لیا جائے گا؟ دیکھو بھئی "وَإِنْ أَقَرَّ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ بِذَلِكَ" اور اگر مدعی علیہ نے اس کو کیا کر لیا، ہاں دو گواہیاں نہیں ایک اقرار ہے ایک میں گواہی ہے، اگر مدعی علیہ نے بھی اس کا اقرار کر لیا گاڑی کس کے پاس تھی؟ جی؟ آپ کے پاس تھی، دعویٰ کس نے کیا ہے؟ گواہوں نے کیا کہا تھا؟ یہ گاڑی پچھلے تین مہینے کس کے پاس رہی ہے؟ لہٰذا یہ زید کی گاڑی اس کو دلائی جائے بھئی۔
ہم کہتے ہیں نہیں بھئی جو اس کے قبضے میں رہی ہے وہ ہمیں پتہ نہیں کس قبضے میں رہی ہے یا تو بتاؤ یہ بطورِ اس کے ملک میں وہ مالک تھا اس کا بھئی۔ اب آپ نے بھی اقرار کر لیا قاضی کے سامنے کہ جی قاضی صاحب یہ گاڑی واقعی پچھلے ایک مہینے، دو مہینے یا تین مہینے سے کس کے قبضے میں تھی؟ زید کے، بس مولانا اب آپ نے اقرار کر لیا اب فیصلہ آپ کے اقرار پر ہو گا مولانا اور گاڑی کس کے حوالے کر دی جائے گی؟ جی۔
سمجھ میں آیا؟ کیوں؟ بھئی اس لیے کہ فیصلہ ہے اقرار پر اور جہال جہالت جو آ رہی ہے وہ مقر بہ میں آ رہی ہے، جس چیز کا آپ نے اقرار کیا وہ مجهول ہے، پتہ نہیں کون سا قبضہ تھا زید کا آپ نے یہ بیان نہیں کیا لیکن قبضہ تو بیان کر دیا یا نہیں؟ تو فیصلہ ہم اقرار پر کر رہے ہیں، مقر بہ مجهول بھی ہو تو اس سے کوئی حرج لازم نہیں آتا۔
یا مولانا دو گواہوں نے آ کر گواہی یہ دی آپ نے قاضی کے سامنے اقرار نہیں کیا، آپ نے باہر کسی دو آدمیوں کے سامنے اقرار کیا تھا انہوں نے آ کر اب گواہی دے دی زید کی طرف سے کہ قاضی صاحب یہ مدعی علیہ نے ہمارے سامنے کل وہاں بیٹھے ہوئے اقرار کیا تھا کہ یہ گاڑی زید کے پاس دو یا تین ماہ رہی ہے۔ اب مولانا انہوں نے جو گواہی دی وہ صرف قبضے پر قبضے پر گواہی دی ہے یا آپ کے اقرار پر گواہی دی ہے؟ آپ کے اقرار پر، تو آپ کا اقرار ثابت ہو گیا، جب آپ کا اقرار ثابت ہوا تو گاڑی کس کو دلا دی جائے گی؟ زید کو اس لیے کہ اقرار کی وجہ سے آپ کا مؤاخذہ ہو سکتا ہے اگرچہ مقر بہ کیا ہو مجهول ہی کیوں نہ ہو اس سے کوئی حرج نہیں۔
"وَإِنْ أَقَرَّ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ بِذَلِكَ" اگر اقرار کر لیا مدعی علیہ نے اس چیز کا اس قبضے کا "أَوْ شَهِدَا" یا دو گواہوں نے گواہی دی "بِأَنَّهُ أَقَرَّ بِيَدِ الْمُدَّعِي" کہ اس گواہ اس مدعی علیہ نے اقرار کیا ہے مدعی کے قبضے کا "صَحَّ" تو یہ صحیح ہے "لِأَنَّ جَهَالَةَ الْمُقَرِّ بِهِ" اس لیے کہ مقر بہ کی جہالت "لَا تَمْنَعُ صِحَّةَ الْإِقْرَارِ" یہ اقرار کے صحیح ہونے سے مانع نہیں، اقرار پھر بھی صحیح رہے گا، مقر بہ چاہے مجهول ہی کیوں نہ ہو اور فیصلہ ہم نے کس پر کیا ہے؟ اقرار پر کیا ہے اور اقرار کیا ہوا؟ صحیح ہے اگرچہ مقر بہ مجهول کیوں نہ ہو۔ چلیے بس مولانا "هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ"