Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-082

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 06 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 8
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔82 محسناتِ لفظیہ، تشابہ الاطراف۔ هو جعل اخر جملة صدر تاليتها او اخر بيت صدر ما يليه۔ كقوله تعالىٰ: فِيْهَا مِصْبَاحٌ، اَلْمِصْبَاحُ فِيْ زُجَاجَةٍ، اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ۔ وكقول الشاعر: اذا نزل الحجاج ارضا مريضة تتبع اقصى دائها فشفاها، شفاها من الداء العضال الذي بها غلام اذا هز القناة سقاها۔ بھئی محسناتِ معنویہ مکمل ہوئے اور اس میں آپ نے مختلف قسم کی چوبیس صنعتیں آپ نے پڑھیں جن کی وجہ سے معنیٰ کے اندر حسن پیدا ہوتا ہے۔ اب محسناتِ لفظیہ میں وہ صنعتیں ذکر کریں گے جن سے لفظوں کے اندر حسن پیدا ہوتا ہے بھئی، کس کے اندر؟ لفظوں کے اندر حسن پیدا ہوتا ہے اور یہ بات پہلے ذکر ہو چکی کہ محسناتِ لفظیہ سے بعض اوقات معنیٰ کے اندر بھی حسن آئے گا، لیکن لفظوں میں جو حسن آئے گا وہ اصل اصلاً ہوگا اور بالذات ہوگا اور معنیٰ کے اندر جو حسن آئے گا وہ طبعاً ہوگا، یعنی اس لفظی حسن کے تابع ہوگا بھئی۔ جی تو اب محسناتِ لفظیہ کے اندر مختلف صنعتیں ذکر کریں گے۔ سب سے پہلی صنعت بھئی، تشابہ الاطراف۔ تشابہ الاطراف، طرف کی جمع ہے اطراف اور طرف کنارے کو کہتے ہیں۔ تشابہ الاطراف یعنی کناروں کا باہم ایک دوسرے کے مشابہ ہونا، کناروں کا باہم ایک دوسرے کے مشابہ ہونا۔ بھئی یاد رکھیے تشابہ الاطراف یہ ہے کہ مثلاً آپ کلام کرتے ہیں اور کلام کے اندر جو جملے لاتے ہیں وہ اس طریقے پر کہ پہلے جملے کا اختتام جس لفظ پر ہوتا ہے، اگلے جملے کا آغاز اسی لفظ سے آپ کرتے ہیں۔ پہلے جملے کا اختتام، پہلے جملے کے آخر میں جو لفظ آتا ہے اگلے جملے کے آغاز میں بھی آپ وہی لفظ لے آتے ہیں تو یہ ہے تشابہ الاطراف بھئی۔ تو دیکھو دونوں کنارے ایک دوسرے کے مشابہ ہو گئے، پہلے جملے کا آخری کنارہ اور دوسرے جملے کا پہلا کنارہ ایک دوسرے کے مشابہ ہو گئے۔ اسی طرح شعر کے اندر بھی ہے بھئی کہ پہلے شعر کے آخر میں جو لفظ آپ لے کر آئیں اگلے شعر کے شروع میں وہی لفظ لے آئیں تو یہ کیا ہے؟ تشابہ الاطراف، یعنی پہلے شعر کا آخری کنارہ دوسرے شعر کے پہلے کنارے کے مشابہ ہو گیا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں تشابہ الاطراف: هو جعل اخر جملة، وہ بنانا ہے جملے کے آخر کو، یعنی پہلے جملے کے آخر کو بنانا، کیا بنانا؟ صدر تاليتها، تالی کا معنیٰ ہوتا ہے پیچھے آنے والا اور تالیۃ اسی کی مؤنث ہے۔ تو جملہ جملہ دیکھیے جملے کے آخر میں کیا ہے؟ گول تا ہے، یہ مؤنث ہے تو اس کی صفت کیا لائی گئی؟ تالیۃ، اور تو اور تالیہ، صدر تاليتها اس کے پیچھے آنے والے جملے کا صدر۔ هو جعل اخر جملة، وہ بنانا جملے کے آخر کو، کیا بنانا جملے کے آخر کو؟ صدر تاليتها اس کے پیچھے آنے والے جملے کا صدر بنا دینا، یعنی اس کے آغاز میں اس کو لے آنا، ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ هو جعل اخر جملة صدر تاليتها، وہ بنانا ہے جملے کے آخر کو پیچھے اس کے پیچھے آنے والے جملے کا صدر، یعنی اس کا شروع بنا دینا، او اخر بيت، یا شعر کے آخر کو بنا دینا، او اخر بيت، یا شعر کے آخر کو بنا دینا، صدر ما يليه، اس شعر کا صدر جو اس کے ساتھ ملا ہوا ہے، جو اس کے ساتھ ملا، یعنی اس کے بعد آ رہا ہے، یعنی پہلے شعر کے آخر میں جو لفظ آیا اس کے آخر میں جو لفظ آیا ہے، اگلے شعر کے شروع میں وہ لفظ لے آنا۔ اب دونوں کی مثالیں ذکر کریں گے، عام کلام کی بھی مثال، یعنی نثر کی بھی مثال ذکر کریں گے اور وہ قرآن سے اور شعر کی بھی مثال ذکر کریں گے۔ كقوله تعالىٰ، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے: فِيْهَا مِصْبَاحٌ، فِيْهَا مِصْبَاحٌ، تو دیکھیے اس جملے کے آخر میں کیا آیا؟ مصباح لفظ آیا، اور اگلا جملہ ہے: اَلْمِصْبَاحُ فِيْ زُجَاجَةٍ، تو دیکھیے اگلے جملے کے آغاز میں وہی مصباح لفظ آ گیا۔ اور پھر اس جملے کے آخر میں کیا آیا؟ اَلْمِصْبَاحُ فِيْ زُجَاجَةٍ، زجاجہ آیا، تو اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ، اگلے جملے کے شروع میں کیا آ گیا؟ زجاجہ آ گیا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: اللہ نور السماوات والارض، اللہ زمین اور آسمانوں کا نور ہیں۔ مثل نوره كمشكاة، اللہ کے نور کی مثال ایک ایسے طاق کی طرح ہے، فیها مصباح، جس میں کیا ہو؟ چراغ ہو۔ المصباح في زجاجة، زجاجہ کہتے ہیں شیشے کو بھئی، المصباح في زجاجة، وہ چراغ جو ہے شیشے میں رکھا ہو۔ الزجاجة كانها كوكب دري، اور وہ شیشہ جو ہے كانها كوكب دري، گویا کہ وہ ایک چمکتا ہوا ستارہ ہو۔ کوکب ستارہ، دُرّی چمکتا ہوا، تو وہ شیشہ گویا کہ ایک چمکتا ہوا ستارہ ہو۔ تو دوبارہ دیکھ لیں ترجمہ، فیها مصباح، ایسا طاق کہ اس کے اندر چراغ رکھا ہو، المصباح في زجاجة، اور وہ چراغ جو ہے شیشے میں ہو، الزجاجة كانها كوكب دري، اور وہ شیشہ گویا کہ ایک چمکتا ہوا ستارہ ہو۔ وكقول الشاعر، اور جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے: اذا نزل الحجاج ارضا مريضة، جب اترتا ہے حجاج ارضاً مريضۃً کسی بیمار زمین میں، ارضاً چونکہ مؤنث ہے عربی کے اندر تو اس کی صفت مريضۃً مؤنث لائی گئی۔ جب حجاج جو ہے وہ نازل ہوتا ہے اترتا ہے کسی بیمار زمین پر، تتبع اقصى دائها، تتبع کا معنیٰ ہے تلاش کرنا، تتبع کا کیا معنیٰ؟ تلاش کرنا۔ اقصی، اقصی کہتے ہیں آخری کنارے کو، آخری کسی چیز کا آخری کنارہ۔ دائها، داءٌ کہتے ہیں مرض کو اور بیماری کو۔ تو جب حجاج کسی بیمار زمین پر اترتا ہے، تتبع اقصى دائها، تو وہ تلاش کر لیتا ہے اس کے مرض کے آخری کنارے کو، اس بیمار زمین کے مرض کے آخری کنارے کو وہ تلاش کر لیتا ہے، یعنی یوں کہیں بیماری کی جڑ تک وہ پہنچ جاتا ہے، فاشفاها، تو اس کو پھر شفا دے دیتا ہے۔ اس زمین کو کیا کر دیتا ہے؟ ہاں، جڑ بیماری کی جڑ وہ تلاش کر لیتا ہے اس کا پتہ لگا لیتا ہے، فشفاها، تو اس کو پھر شفا دے دیتا ہے۔ شفاها من الداء العضال، یہ عین پر ضمہ پڑھیں بھئی، شفاها من الداء العضال الذي بها، داء کسے کہتے ہیں؟ ابھی گزرا، داءٌ مرض اور بیماری کو، اور داءٌ عضالٌ، ضاد کے ساتھ، داءٌ عضالٌ لا علاج بیماری کو کہتے ہیں۔ داءٌ عضالٌ کسے کہتے ہیں؟ لا علاج۔ تو شفاها من الداء العضال الذي بها، شفا دے دیتا ہے اس زمین کو اس کی اس لا علاج بیماری سے الذی بہا جو اس کے ساتھ ہوتی ہے، جو اس زمین کو لگی ہوتی ہے، اس لا علاج بیماری سے اس زمین کو شفا دے دیتا ہے۔ غلامٌ، ای هو غلامٌ، وہ ایک ایسا لڑکا ہے، بھئی غلام عربی زبان میں غلام کو بھی کہتے ہیں اور لڑکے کو بھی کہتے ہیں، غلامٌ وہ ایک ایسا لڑکا ہے، اذا هز القناة، ہزّ کے معنیٰ حرکت دینا، قناۃ، گول تا کے ساتھ، قناۃ کہتے ہیں نیزے کو، غلام اذا هز القناة، وہ ایک ایسا لڑکا ہے جب وہ حرکت دیتا ہے نیزے کو، سقاها، تو اس کو سیراب کر دیتا ہے، کیا کرتا ہے؟ سیراب کر دیتا ہے۔ تو یہ کوئی شاعر ہے اور حجاج کی تعریف کر رہا ہے، اذا نزل الحجاج ارضا مريضة، جب حجاج اترتا ہے کسی بیمار زمین میں، یعنی جہاں بغاوت وغیرہ ہوتی ہے، کیا ہوتی ہے؟ بغاوت وغیرہ ہوتی ہے، بغاوت کا مرض ہوتا ہے جس زمین میں، جب وہاں حجاج آتا ہے، تتبع اقصى دائها، تو وہ تلاش کر لیتا ہے اس زمین کے اس مرض کے آخری کنارے کو، یعنی اس کی جڑ تک پہنچ جاتا ہے، یعنی اس بغاوت کے بغاوت کی جڑ اور اس کے اسباب کا پتہ چلا لیتا ہے، فشفاها، تو پھر اس زمین کو کیا کرتا ہے؟ شفا دے دیتا ہے، یعنی اس سے بغاوت کے مرض کو ختم کر دیتا ہے۔ شفاها من الداء العضال الذي بها، وہ شفا دے دیتا ہے اس زمین کو اس کے اس لا علاج مرض سے الذی بہا جو اس زمین کو لگا ہوتا ہے، یعنی اس بغاوت کے مرض کو۔ غلامٌ، وہ ایک ایسا لڑکا ہے، اذا هز القناة، جب وہ نیزے کو حرکت دیتا ہے، سقاها، تو اس کو سیراب کرتا ہے، یعنی باغیوں کے خون کے ساتھ اس کو سیراب کر دیتا ہے، ان باغیوں کو ختم کر دیتا ہے۔ تو یہ شعر مثال ہے تشابہ الاطراف کی بھئی، دیکھیے پہلے شعر کے آخر میں آیا: فشفاها، شفاها آیا پہلے شعر کے آخر میں، تو اگلے شعر کے شروع میں آ گیا شفاها، تو یہ کیا ہے؟ تشابہ الاطراف بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ الجناس هو تشابه اللفظين في النطق لا في المعنى، اگلی صنعت ہے صنعتِ جناس بھئی، جناس۔ صنعتِ جناس، هو تشابه اللفظين، وہ دو لفظوں کا ایک دوسرے کے مشابہ ہونا، في النطق، بولنے میں یعنی تلفظ میں، تلفظ میں، لا في المعنى، نہ کہ معنیٰ میں۔ تو دو لفظ بولنے میں ایک جیسے ہوں، تلفظ بالکل ایک جیسا ہو اور معنیٰ کیا ہو؟ الگ الگ ہو۔ اس کو کہتے ہیں صنعتِ جناس، کیا کہتے ہیں؟ صنعت۔ تو کہتے ہیں الجناس هو تشابه اللفظين في النطق لا في المعنى، جناس جو ہے وہ دو لفظوں کا باہم ایک دوسرے کے مشابہ ہونا ہے فی النطق بولنے میں یعنی تلفظ میں، لا فی المعنیٰ نہ کہ معنیٰ میں۔ ويكون تاما وغير تام، اور یہ جناس یا تو تام ہوگا یا غیر تام۔ تام کا معنیٰ پورا یعنی کامل، یعنی یہ جناس کامل ہوگا، کامل جناس ہوگا یا غیر کامل جناس ہوگا۔ جناسِ تام کسے کہتے ہیں؟ پہلے وہ بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: فالتام، پس جناسِ تام وہ ہے، ما اتفقت حروفه في الهيئة والنوع والعدد والترتيب۔ جناسِ تام وہ ہے وہ لفظ کہ اتفقت حروفه کہ جس کے حروف متفق ہوں فی الہیئۃ، صورت میں، والنوع، اور قسم میں، والعدد، اور تعداد میں، والترتیب، اور ترتیب میں۔ بھئی یاد رکھیے یہ چار شرطیں ہیں بھئی، جناسِ تام انہوں نے بتایا، ایک ہے جناسِ تام ایک جناسِ غیر تام۔ تام کا معنیٰ یعنی کامل پورا، ایک کامل جناس ہے ایک غیر کامل جناس۔ کامل جناس وہ ہے جس میں وہ جو دو حرف ہیں، جناس کہتے کس کو تھے؟ دو لفظوں کا ایک دوسرے کے مشابہ ہونا، تو وہ مشابہت جو ہے ہیئت کے اندر بھی ہو، نوع میں بھی ہو، عدد میں بھی ہو اور ترتیب میں، ان چاروں چیزوں کے اندر جب اتفاق ہو دو لفظوں کا تو اس کو جناسِ تام کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ جناسِ تام۔ کون سی چار چیزیں؟ نمبر ایک، ہیئت، نمبر دو، نوع، نمبر تین، عدد، نمبر چار، ترتیب، یہ چار چیزیں ہیں بھئی، ان چاروں کا ہونا ضروری ہے دونوں لفظوں میں۔ ہیئت کسے کہتے ہیں؟ یاد رکھیے ہیئت وہ جو لفظ کی صورت ہے حرکت و سکون کے اعتبار سے، کس اعتبار سے؟ حرکت و سکون کے اعتبار سے۔ مثلاً پہلے لفظ کے اندر پہلے حرف پر زبر ہے تو دوسرے لفظ میں بھی پہلے پر کیا ہو؟ زبر ہو۔ پہلے میں لفظ میں دوسرا حرف ساکن تھا تو دوسرے لفظ میں بھی دوسرا حرف کیا ہونا چاہیے؟ ساکن۔ تیسرا لفظ پہلے تیسرا حرف پہلے لفظ کے اندر اگر متحرک ہے تو دوسرے لفظ میں بھی تیسرا حرف کیا ہونا چاہیے؟ متحرک ہونا چاہیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یعنی بعینہٖ اسی جیسا اسی جیسے اعراب ہوں اس لفظ پر، اعراب نہیں، اعراب تو آخری حرکت کو کہتے ہیں، اسی جیسی حرکت ہو، اسی جیسی اس کے حروف کی حرکت، یعنی بالکل ایک جیسے صیغے ہوں بھئی یوں کہیے۔ اور یاد رکھیے آخری حرف کی حرکت کا اعتبار نہیں۔ آخری حرف جو ہوگا کوئی بھی اسم وغیرہ ہو آخری حرف کا اعتبار نہیں، کیونکہ آخر میں تو اعراب آیا کرتے ہیں وہ بدلتے رہتے ہیں، اس کو نہیں دیکھنا آخر کو، باقی حروف کے اندر حرکتیں بالکل ایک جیسی ہونی چاہئیں۔ سمجھ میں آیا؟ زبر کے مقابلے میں دوسری طرف بھی زبر ہو، سکون کے مقابلے میں سکون ہو، زیر کے مقابلے میں زیر ہو وغیرہ سارا ایک جیسا، تو یہ اس طرح ہوں گے تو کہا جائے گا کہ ان کی ہیئت میں اتفاق ہے، ان کی ہیئت متفق ہے۔ والنوع، دوسری چیز ہے نوع بھئی۔ یاد رکھیے نوع سے مراد یہ حروفِ تہجی جو ہیں، ان میں سے ہر حرف ایک نوع ہے۔ ا، ب، ت، ث آپ جو حروفِ تہجی ہیں، تو الف یا یوں کہیں شروع میں جو ہمزہ ہے، دیکھو ہمزہ ایک نوع، با الگ نوع، تا الگ نوع، ثا الگ نوع، جیم الگ نوع، تو نوع کے اندر بھی اتفاق ہونا چاہیے، یعنی پہلے لفظ کے شروع میں اگر ہمزہ ہے تو دوسرے میں بھی کیا ہونا چاہیے؟ دوسرے لفظ میں، وہاں پر بھی شروع میں ہمزہ ہونا چاہیے۔ پہلے لفظ کے اندر اگر دوسرے نمبر پر مثلاً نون ہے تو دوسرے لفظ کے اندر بھی دوسرے نمبر پر کون سا حرف ہونا چاہیے؟ نون ہونا چاہیے۔ پہلے لفظ کے اندر اگر تیسرے نمبر پر مثلاً سین ہے تو دوسرے لفظ میں بھی تیسرے نمبر پر کیا ہونا چاہیے؟ سین ہونا چاہیے، تو پھر ہم کہیں گے کہ ان کی نوع کیا ہے؟ ایک ہی ہے۔ عدد، عدد یعنی تعدادِ حروف بھی ایک جیسی ہو، ایک لفظ میں اگر تین حروف ہیں تو دوسرے لفظ میں بھی کتنے حروف ہونے چاہئیں؟ تین ہونے چاہئیں، یہ ہے عدد۔ ترتیب بھی اسی طرح ہونی چاہیے، یعنی ایک لفظ میں ہمزہ پہلے ہے تو دوسرے میں بھی ہمزہ پہلے ہی ہونا چاہیے، دوسرے میں سین درمیان میں ہے تو یہاں پر بھی سین کیا ہونا چاہیے؟ درمیان میں ہی ہونا چاہیے وغیرہ بھئی۔ تو لہٰذا جناسِ تام کسے کہتے ہیں؟ کہ دونوں لفظ آپس میں متفق ہوں کتنی چیزوں میں؟ چار چیزوں میں، ہیئت، نوع، عدد اور ترتیب۔ تو جب ہیئت کی قید لگا دی، ہیئت کی، ہیئت ایک جیسی ہونی چاہیے، لہٰذا بَرْدٌ اور بُرْدٌ یہ لفظ خارج ہو گئے جناسِ تام سے، یہ ان میں جناسِ تام نہیں۔ کیوں نہیں تام؟ ہیئت ایک جیسی نہیں، اس لیے کیونکہ اگرچہ حروف ایک جیسے، ان کی تعداد وغیرہ بھی ایک جیسی، لیکن پہلے لفظ میں با پر پیش ہے اور دوسرے بَرْدٌ کے اندر با پر کیا ہے؟ زبر ہے، تو ہیئت ایک جیسی نہیں۔ اور نوع کی قید لگا دی تو لہٰذا یَفْرَحُ اور یَمْرَحُ یہ اس جیسے الفاظ نکل گئے، کیونکہ یَفْرَحُ میں دوسرے نمبر پر کیا ہے؟ فا، اور یَمْرَحُ میں دوسرے نمبر پر کیا ہے؟ میم ہے، تو یہ ایک نوع کے نہ رہے، دونوں جگہ فا ہوتی تو پھر ہم کہتے یہ ایک نوع کے ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ عدد کی قید لگا دی تو لہٰذا سَاق اور مَسَاق یہ نکل گئے، کیونکہ ساق کے اندر س، ا، ق تین حروف ہیں، تو مساق کے اندر شروع میں ایک میم زائد ہے، تو عددِ حروف ایک جیسے نہیں ان میں۔ اور ترتیب کی قید لگا دی تو لہٰذا حَتْفٌ اور فَتْحٌ جیسے لفظ نکل گئے، حتفٌ اس میں بھی ح، ت اور ف ہے، فتحٌ میں بھی وہی حروف ہیں، لیکن ترتیب وہ نہیں ہے بھئی، وہاں حتفٌ میں ح پہلے تھی اور ف آخر میں، تو فتحٌ میں ف پہلے ہے اور ح آخر میں، اس کا عکس ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جناسِ تام کے اندر دو لفظوں کا اتفاق ضروری ہے کتنی چیزوں کے اندر؟ چار چیزوں میں، پہلی چیز ہیئت میں، یعنی حرکتوں میں اور حرکت اور سکون میں، اور دوسری چیز نوع میں، اور تیسری چیز عدد، اور چوتھی چیز ترتیب میں بھئی۔ پھر یاد رکھیے آگے تقسیم کریں گے اور بتائیں گے کہ یہ دو قسم پر ہے، یا تو یہ متماثل ہوگا یا مستوفیٰ ہوگا۔ کیا ہوگا؟ متماثل یا مستوفیٰ۔ متماثل وہی جناسِ تام کی قسم ہے، جب دونوں لفظ ایک ہی قسم کے ہوں، اب یہاں قسم کا اور معنیٰ، یعنی ایک اسم ہے تو دوسرا بھی اسم ہو، ایک فعل ہے تو دوسرا بھی کیا ہونا چاہیے؟ فعل ہونا چاہیے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس کو کیا کہیں گے؟ جناسِ تام ہو اور لفظ بھی ایک ہی قسم کے ہوں، یعنی ایک اسم ہے تو دوسرا بھی اسم ہو، ایک فعل ہے مثلاً تو دوسرا بھی فعل ہو، تو اس کو جناسِ متماثل کہیں گے۔ اور اگر دونوں لفظ الگ الگ نوع کے ہیں، یعنی ایک اسم ہے تو دوسرا لفظ کیا ہے؟ فعل ہے۔ بھئی ہیئت بھی ایک جیسی ہے ان کی اور نوع بھی ایک جیسی ہے ان کے حروف ایک جیسے ہیں، اور ان کی تعداد بھی حروف کی ایک جیسی ہے اور ترتیب بھی ایک جیسی ہے، لیکن ہے ایک اسم اور ایک ہے فعل بھئی، ایک اسم ہے اور ایک فعل، تو اس کو جناسِ متماثل نہیں کہیں گے بلکہ کیا کہیں گے؟ جناسِ مستوفیٰ، کیا کہیں گے؟ جناسِ مستوفیٰ، فرق سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں: وهو متماثل، اور جناس جو ہے وہ متماثل ہوگا، ان كان بين لفظين من نوع واحد، اگر وہ دو ایسے لفظوں کے درمیان ہوا من نوع واحد جو ایک ہی نوع کے ہوں، جو کس کے ہوں؟ ایک ہی، تو اوپر جو نوع آیا تھا اس سے مراد تھے وہ حروف بھئی، ہر حرف کیا ہے؟ حروفِ تہجی میں سے ہر حرف کیا ہے؟ ایک نوع، یہاں نوع سے کیا مراد ہے؟ اسم یا فعل وغیرہ ہونے میں کہ ایک اسم ہے تو دوسرا بھی اسم ہو۔ تو کہتے ہیں: وهو متماثل ان كان بين لفظين من نوع واحد، اور جناس وہ یا تو متماثل ہوگا اگر دو ایسے لفظوں کے درمیان ہو من نوع واحد جو ایک ہی نوع کے ہوں، نحو، مثال کے طور پر: لم نلق غيرك انسانا يلاذ به، فلا برحت لعين الدهر انسانا۔ اب بھئی یہاں مقامِ استشہاد ہے انسان بھئی، پہلے مصرعے میں بھی لفظ آیا انسان، دوسرے مصرعے کے اندر بھی لفظ آیا انسان، لیکن پہلا انسان جو لفظ آیا اس کا معنیٰ ہے جو آپ بھی استعمال کرتے ہیں انسان بھئی آدمی بھئی، کیا معنیٰ ہے؟ آدمی۔ اور دوسرا جو انسان آیا لفظ وہ آنکھ کی پتلی مراد ہے اس سے، کیا مراد ہے؟ آنکھ کی پتلی بھئی، اس کو بھی عربی زبان میں انسان کہتے ہیں۔ بھئی آنکھ کی پتلی کسے کہتے ہیں؟ جانتے ہیں یا نہیں جانتے بھئی؟ بھئی یہ جو آنکھ کے اندر سیاہی ہے سیاہ دائرہ ہے، یہ اس سیاہی کے اندر ایک اور چھوٹا سا سیاہ دائرہ اگر آپ نے غور کیا ہو دکھائی دیتا ہے بھئی، اس کو کہتے ہیں آنکھ کی پتلی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور اس کے ذریعے ڈاکٹر وغیرہ عموماً انسان کی موت کا پتہ چلاتے ہیں، زندہ شخص کی اس یہ آنکھ کی پتلی اس میں چمک ہوتی ہے اور یہ کھلی واضح ہوتی ہے، جبکہ مردہ شخص جیسے ہی انسان مرتا ہے تو یہ پتلی میں کوئی واضح فرق آ جاتا ہے، وہ دیکھتے ہی فوراً پہچان لیتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، تو یہ اس کو بھی انسان کہتے ہیں عربی میں یہ آنکھ کی پتلی۔ تو اب دیکھیے پہلا لفظ بھی ہے انسان دوسرا لفظ بھی ہے انسان، ہیئت میں بھی یہ دونوں لفظ ایک جیسے، نوع کے اندر بھی بھئی ایک جیسے حروف ہیں دونوں میں، عددِ حروف بھی ایک برابر ہیں دونوں لفظوں کے اور ترتیب بھی حروف کی ان کے اندر ایک ہی جیسی ہے، تو لہٰذا ان میں جناسِ تام ہے، کیا ہے؟ جناسِ تام، اور پھر نیز دونوں اسم ہیں تو یہ جناسِ تام متماثل ہوا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ لم نلق غيرك انسانا، لقی يلقیٰ کے معنیٰ ہوتے ہیں ملاقات کرنا، شاعر کہتا ہے: لم نلق، ہم نے ملاقات نہیں کی، غيرك، آپ کے علاوہ، انساناً، کسی ایسے انسان سے، يلاذ به، یہ اعراب غلط لگے ہوئے ہیں بھئی، يلاذ یہ فعل ہے اور بہٖ یہ با جارہ ہے اور ہا الگ ضمیر ہے بھئی، با جارہ ہے۔ لاذ یلوذ کے معنیٰ ہوتے ہیں پناہ پکڑنا، کسی کی حفاظت حاصل کرنا بھئی، کسی کی حفاظت میں آنا۔ اور انسان ہے نکرہ اور يلاذ اس کے بعد فعل آیا اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت، اور موصوف صفت کا ترجمہ کرتے ہوئے موصوف سے پہلے کیا لفظ لاتے ہیں؟ ایسا یا ایسی کا۔ تو شاعر کہتا ہے: لم نلق غيرك انسانا يلاذ به، ہم نے ملاقات نہیں کی آپ کے علاوہ کسی ایسے انسان سے يلاذ کہ پناہ پکڑی جائے بہٖ اس کے ساتھ، کہ جس کے ساتھ کیا کی جائے؟ جس کی پناہ پکڑی جائے، یعنی جس کی حفاظت حاصل کی جائے، جو کیا کرتا ہو لوگوں کو؟ حفاظت دیتا ہو بھئی۔ لم نلق غيرك انسانا يلاذ به، ہم نے ملاقات نہیں کی آپ کے علاوہ کسی ایسے انسان سے يلاذ بہٖ کہ اس سے کہ اس کی پناہ پکڑی جاتی ہو۔ فلا برحت، فلا برحت یہ وہی افعالِ ناقصہ میں آپ نے پڑھا ہے، ما برح ما برح، سمجھ میں آیا بھئی؟ اسی سے یہ مخاطب کا صیغہ آ گیا، فلا برحت، اور ما برح کا کیا معنیٰ ہوتا ہے؟ ما زال، ہمیشہ ہمیشہ۔ فلا برحت، پس ہمیشہ آپ جو ہیں، لعين الدهر، زمانے کی آنکھ کے لیے، انسانا، آنکھ کی پتلی ہیں، آپ ہمیشہ زمانے کی آنکھ کی پتلی ہیں بھئی، یعنی جس کی وجہ سے وہ حیات ہوتی ہے اور اس کا پتہ چلتا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یا یہ دعا دے رہا ہے: فلا برحت لعين الدهر انسانا، آپ ہمیشہ زمانے کی آنکھ کی پتلی رہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ومستوفى، اور جناسِ تام کی دوسری قسم ہے مستوفیٰ، ان كان من نوعين، اگر وہ دو لفظ کیا ہوں؟ دو نوع سے ہوں، دو مختلف انواع سے ہوں، یعنی ایک اسم ہو تو دوسرا فعل ہو۔ نحو، مثال کے طور پر: فدارهم ما دمت في دارهم، وارضهم ما دمت في ارضهم۔ فدارهم، دارهم، یہ امر کا صیغہ ہے دارى يداري مداراة سے، دارهم، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، دارى يداري مداراۃ کا کیا معنیٰ ہے؟ اچھا برتاؤ کرنا۔ تو شاعر کسی سے کہہ رہا ہے: دارِ، اچھا برتاؤ کرو، هم، دارهم، ان لوگوں کے ساتھ، ما دمت، یہ وہی ما دام ہے ما دام، جب تک کہ، اور مخاطب کا صیغہ اس کے مطابق، ما دمت في دارهم، جب تک تو ان کے گھر میں ہے۔ تو دیکھو فدارهم، یہ پہلا دارہم جو تھا یہ کیا تھا؟ فعل تھا امر کا صیغہ، دارِ اور ہم ضمیر ساتھ ملی ہوئی ہے، اور دوسرا دارهم، یہاں دار سے کیا مراد ہے؟ گھر مراد ہے، دار گھر کو کہتے ہیں۔ تو شاعر کہتا ہے: فدارهم ما دمت في دارهم، کہ تو ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کر جب تک تو ان کے گھر میں ہے، وارضهم ما دمت في ارضهم، یہاں پر بھی ارضِ، ارضى یرضی سے امر کا صیغہ ہے، اور ان کو راضی رکھ، وارضهم، اور ان کو راضی رکھ، ما دمت في ارضهم، جب تک تو ان کی زمین میں ہے۔ تو یہاں پر بھی ارضهم پہلا آیا اس کے اندر یہ ارضِ صیغہ امر ہے، اور ارضهم دوسرا آیا اس میں یہ ارض کیا ہے؟ زمین کو ارض کہتے ہیں۔ تو دیکھیے دونوں دو دونوں لفظ تلفظ میں بالکل ایک جیسے ہیں اور ان میں ان کے حروف متفق ہیں ہیئت میں بھی، نوع میں بھی، عدد میں بھی اور ترتیب میں بھی، تو جناسِ تام ہے، لیکن نوع مختلف ہے، جیسے پہلا دارہم یہ ہے فعل اور دوسرا دارہم یہ ہے اسم، اور پہلا ارضہم یہ ہے فعل اور دوسرا ارضہم کیا ہے؟ اسم ہے۔ یہ تو ایک تقسیم تھی۔ اور دوسری دو قسمیں، دوسری دو قسمیں کہ وہ جناسِ تام یا تو متشابہ ہوگا یا کیا ہوگا؟ مفروق ہوگا۔ بھئی جناسِ تام متشابہ یہ ہے، توجہ سے سننا، کہ دو لفظوں کے درمیان تلفظ کے اعتبار سے دو لفظ بالکل ایک جیسے ہیں، دو لفظ کیا ہیں؟ ایک جیسے۔ لیکن ان میں سے ایک لفظ مفرد ہے اور دوسرا مرکب ہے، ایک ایک لفظ ہوگا اور دوسرا دو یا دو سے زیادہ لفظ ہوں گے بھئی، وہ مرکب ہوں گے، صورت سمجھ میں آ گئی۔ اور پھر جب ایک لفظ مرکب ہو اور ایک مفرد ہو تو ان دونوں کا تلفظ تو ہے ایک جیسا، تلفظ تو جناسِ تام میں بالکل ایک جیسا ہوگا، تلفظ تو ہے ایک جیسا، رسم الخط یعنی لکھنے کے اندر بھی بالکل ایک جیسے ہوں گے یا ایک جیسے نہیں ہوں گے۔ اگر لکھنے میں بالکل ایک جیسے ہیں، تلفظ میں بھی ایک جیسے، ایک مفرد ہے اور ایک کیا ہے؟ مرکب ہے، تلفظ میں بالکل ایک جیسے ہیں لیکن لکھنے میں نہیں لکھنے میں بھی اور لکھنے میں بھی متفق ہیں ایک جیسے ہیں تو اس کو کہیں گے متشابہ، اس جناسِ تام کو کیا کہیں گے؟ متشابہ۔ اور اگر لکھنے میں ایک جیسے نہیں ہیں تو اس کو جناسِ تام مفروق کہیں گے، کیا کہیں گے؟ مفروق کہیں گے۔ تو کہتے ہیں: ومتشابه ان كان بين لفظين احدهما مركب والاخر مفرد واتفقا في الخط، اور وہ جناس متشابہ ہے اگر وہ دو ایسے دو لفظوں کے درمیان ہو احدهما مركب کہ ان دو میں سے ایک مرکب ہو، والاخر مفرد اور دوسرا مفرد ہو، واتفقا في الخط اور دونوں متفق ہوں کس کے اندر؟ خط میں یعنی لکھنے میں، نحو، مثال کے طور پر: اذا ملك لم يكن ذا هبة، فدعه فدولته ذاهبة۔ بھئی یہاں دو دفعہ لفظ آیا ذا هبۃ، ذاہبۃ۔ یہ جو پہلا ذا هبۃ آیا یاد رکھیے اس میں یہ ذا الگ ہے اور ہبۃ الگ ہے، ذا یہ وہی ذو مال، ذو مال کا کیا معنیٰ ہوتا ہے؟ مال والا، تو ذو الگ لفظ ہے اور مال الگ، وہی ذو مال اگر حالتِ نصبی میں ہو تو کس طرح پڑھیں گے؟ ذا مال، یہاں پر بھی حالتِ نصبی کی وجہ سے ذا هبۃ پڑھا گیا ذا هبۃ، تو ذا الگ ہے اور ہبۃ، ہبۃ آپ جانتے ہیں عطیے اور تحفے کو کہتے ہیں، فقہ میں بھی آپ پڑھتے ہوں گے کتاب الہبۃ بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور دوسرا ذاهبة آیا ذاہبۃ، وہ ذهب يذهب سے ہے، ذاهبة جانے والا، اسم فاعل کا صیغہ ہے مؤنث کا۔ تو پہلا ذا هبة آیا اور دوسرا بھی ذاهبة آیا، تو یہ ایک پہلا مرکب ہے دو لفظوں سے اور دوسرا مفرد ہے ایک ہی صیغہ ہے، اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی۔ تو شاعر کہتا ہے: اذا ملك لم يكن ذا هبة، جب بادشاہ نہ ہو ذا هبة، کیا معنیٰ؟ ہاں ہبہ والا نہ ہو یعنی عطیہ دینے والا نہ ہو، فدعه، تو تو اس کو چھوڑ دے، فدولته ذاهبة، دولت کہتے ہیں حکومت کو، فدولته ذاهبة، تو اس کی حکومت جو ہے ذاہبۃ جانے والی ہے۔ جب بادشاہ انعامات اور عطایا دینے والا نہ ہو، کسی کو کوئی انعام دیتا ہی نہیں ہے، سب کچھ اپنے پاس روک کر رکھا ہے کسی کی مدد نہیں کرتا، تو چھوڑ دو اس کو، جلدی اس کی حکومت جانے والی ہے۔ اذا ملك لم يكن ذا هبة، جب بادشاہ نہ ہو ہبہ کرنے والا، فدعه، تو تو اس کو چھوڑ دے، فدولته ذاهبة، تو اس کی دولت جانے والی ہے۔ تو دیکھیے پہلا ذا هبۃ اور دوسرا ذاہبۃ، یہ دونوں لفظ ہیئت، نوع، عدد اور ترتیب کے اعتبار سے بالکل ایک جیسے ہیں، لیکن پہلا ہے مرکب ذا اور ہبۃ سے، اور دوسرا کیا ہے؟ مفرد ہے ایک ہی لفظ ہے ذاہبۃ، ذہب سے۔ ومفروق، اور جناس مفروق ہوگا، ان لم يتفقا، اگر وہ دونوں لفظ رسم الخط میں متفق نہ ہوں، ایک لفظ ہے مفرد ایک لفظ کیا ہے؟ مرکب، اور رسم الخط بھی ایک جیسا نہیں تو اس کو کیا کہیں گے؟ جناسِ تام مفروق بھئی، نحو، مثال کے طور پر: كلكم قد اخذ الجاما ولا جام لنا، ما الذي ضر مدير الجام لو جاملنا۔ شاعر کہتا ہے: كلكم قد اخذ الجاما، تم سب جو ہو كلكم تم میں سے ہر ایک جو ہے قد اخذ الجاما، تحقیق اس نے جام لے لیا، اس نے شراب کا جام لے لیا، ولا جام لنا، اور ہمارے لیے کوئی جام نہیں، ہمیں جام نہیں ملا ہمارے لیے کوئی جام نہیں، ما الذي ضر مدير الجام، ما الذی وہ کیا چیز ہے؟ ضر کہ وہ نقصان دیتی، مدير الجام، ادار يدير سے مدیر اسم فاعل ہے، گھمانے والا، حرکت دینے والا، ما الذي ضر وہ کیا چیز تھی جو نقصان دیتی مدير الجام جام کو گھمانے والے کو، جام کو حرکت دینے والے کو یعنی ساقی کو، ساقی جو شراب پلانے والا ہے اس کو کیا چیز نقصان دے رہی تھی، لو جاملنا، اگر وہ ہم سے اچھا سلوک کرتا، یعنی ہمیں بھی وہ شراب کا جام دیتا۔ تو دیکھیے یہاں آخر میں آیا جاملنا، جاملنا، جامل يجامل کے معنیٰ ہوتے ہیں اچھا سلوک کرنا، یہ فعل ہے، کیا ہے؟ فعل ہے۔ اور پچھلے مصرعے کے آخر میں آیا تھا: ولا جام لنا، اور ہمارے لیے کوئی جام نہیں ہے، تو بالکل ایک جیسا تلفظ ہے، لا جام لنا، اور اگلے مصرعے کے آخر میں بھی آیا جاملنا، تو پہلے میں بھی جام لنا اور دوسرے میں بھی جاملنا، لیکن فرق کیا ہے؟ پہلا ہے مرکب، جام لفظ الگ ہے اور لنا الگ ہے، اور دوسرے میں جاملنا ایک ہی لفظ ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور رسم الخط دونوں کا الگ الگ ہے، پہلے میں آپ دیکھ رہے ہیں جام کا میم الگ ہے لنا سے بھئی، اور دوسرے میں جاملنا کے اندر میم کو لام کے ساتھ ملا کر لکھا گیا ہے، تو یہ جناسِ تام مفروق ہے کہ ایک لفظ مرکب ہے ایک لفظ مفرد ہے اور دونوں کا رسم الخط الگ الگ ہے بھئی۔ آپ کہیں گے کہ ولا جام لنا، یہ جام لنا یہ مرکب ہے کیونکہ دو لفظ ہیں، تو آگے بھی جاملنا وہ بھی تو مرکب ہے، جامل فعل اور نا ضمیر ہے ساتھ بھئی، نا کیا ہے؟ ضمیر۔ تو جواب یہ کہ ضمیرِ متصل وہ چونکہ کلمے سے الگ ہو ہی نہیں سکتی، ضمیرِ متصل، لہٰذا اس کو جزءِ کلمہ شمار کیا جاتا ہے تو اس کو ایک ہی لفظ شمار کیا جائے گا بھئی۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا اچھی طرح؟ كلكم قد اخذ الجاما ولا جام لنا، ما الذي ضر مدير الجام لو جاملنا، تم میں سے ہر ایک نے جام لے لیا اور ہمارے لیے کوئی جام نہیں ہے، کیا چیز نقصان دے رہی تھی جام گھمانے والے کو یعنی ساقی کو، اگر وہ ہم سے اچھا سلوک کرتا بھئی۔ اچھا بھئی، جناسِ تام کی دو تین مثالیں اور بھئی۔ جیسے ایک شاعر کہتا ہے، ایک شاعر کہتا ہے: طرقت الباب حتى كل متني طرقت الباب، طا ہے، را، قاف دو نقطوں والا اور تا، طرقت الباب حتى كل، کل یہ الگ لکھنا ہے، متني، یہ الگ لکھنا ہے، یہ الگ لفظ ہے، کل، کاف چھوٹا بھئی، کاف لام۔ لکھ لیا بھئی؟ طرقت الباب حتى كل متني، دوسرا مصرع: ولما كلمتني كلمتني یہاں ملا کر لکھنا ہے دوسرا مصرع، ولما كلمتني، پہلے کل اور متنی کو الگ لکھا تھا اب ملا کر لکھنا ہے سارا، كلمتني، اگلا لفظ بھی اسی طرح ملا کر لکھنا ہے: كلمتني۔ لکھ لیا بھئی؟ بھئی دیکھیے، طرقت الباب طرقت الباب، شاعر کہتا ہے کہ میں محبوبہ سے ملنے گیا، طرقت الباب، میں نے وہ دروازہ کھٹکھٹایا، طرق الباب کے کیا معنیٰ ہیں؟ دروازہ کھٹکھٹانا۔ طرقت الباب، میں نے وہ دروازہ کھٹکھٹایا، حتى كل متني، کلّ کے معنیٰ ہیں تھک جانا تھک جانا، متني، متنٌ کہتے ہیں کمر کو، متنی میری کمر، حتى كل متني، یہاں تک کہ تھک گئی میری کمر، یعنی انتظار کرتے کرتے میری کمر تھک گئی۔ طرقت الباب حتى كل متني، میں نے دروازہ وہ دروازہ کھٹکھٹایا یہاں تک کہ میری کمر تھک گئی یعنی میں تھک گیا، ولما كلمتني، تو وہ بڑی دیر بعد آئی، ولما كلمتني، کلم یکلم کے معنیٰ بات کرنے کے، ولما كلمتني، اور جب اس نے مجھ سے بات کی، كلمتني، تو اس نے مجھے زخمی کر دیا، میرے دل کو کیا کر دیا؟ زخمی کر دیا، تو کلم کے ایک معنیٰ زخمی کرنے کے بھی آتے ہیں، آپ نے پڑھا ہے بھئی جامی وغیرہ کے شروع میں کلمہ کی بحث میں ذکر کیا جاتا ہے۔ شعر کا معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ ولما كلمتني كلمتني، اور جب اس نے مجھ سے بات کی تو كلمتني مجھے زخمی کر دیا یعنی میرے دل کو زخمی کر دیا۔ اب دیکھیے بھئی، دوسرے مصرعے کے اندر جو آئے نا كلمتني كلمتني، یہ مثال ہے کس کی؟ یہ ہے متماثل، کیا ہے؟ متماثل۔ دونوں لفظ دونوں فعل ہیں ایک ہی نوع کے ہیں اور ہیئت، نوع، عدد اور ترتیب ساری ان میں ایک جیسی ہے، تو ان میں کون سا جناس ہے؟ جناسِ تام متماثل۔ اور پہلے مصرعے کے اندر جو آیا نا كل متني، اس کے اعتبار سے ان دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ اس کی دیکھا جائے تو یہ ہے جناسِ تام مفروق بھئی، جناسِ تام مفروق، کیونکہ یہاں پر كلمتني ملا کر لکھا گیا ہے اور اوپر کل الگ لکھا گیا ہے اور متنی علیحدہ ہے بھئی۔ دوسرا دوسری مثال ایک اور شعر ہے بھئی۔ شاعر کہتا ہے: ان في بستاننا نارنجنا ان في بستاننا نارنجنا جلدی لکھیے بھئی جلدی، ان في بستاننا نارنجنا، من جنى من الگ لکھیں گے، جنى یا کے ساتھ لکھیں گے اوپر کھڑی زبر آئے گی، من جنى، پھر آگے ملا کر لکھیں گے: نارنجنا، من جنى نارنجنا، لکھ لیا بھئی؟ اس سے آگے اب لکھنا ہے: ناراً، ناراً، ن، ا، ر، ا، ناراً، اور پھر آگے دوبارہ جنى، ج، ن، ی الگ لکھنا ہے، ج، ن، ی، جنى، کھڑی زبر اوپر آئے گی۔ لکھ لیا بھئی؟ ان في بستاننا نارنجنا، من جنى نارنجنا نارا جنى۔ ان فی بستاننا، بے شک ہمارے باغ میں نارنجنا، نارنج نارنگی بھئی، نارنگی وہ آپ نے اگر دیکھا ہو بھئی لیموں کے برابر چھوٹے چھوٹے سے مالٹوں کی قسم ہوتی ہے ایک بھئی، چھوٹے سے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ نارنگی کہتے ہیں بھئی۔ تو تو شاعر کہتا ہے: ان في بستاننا نارنجنا، بے شک ہمارے باغ میں ہماری نارنگیاں ہیں، من جنى، جنى يجنی کے معنیٰ ہوتے ہیں درخت سے پھل چننا، درخت سے پھل توڑنا اتارنا، من جنى نارنجنا، جس نے ہماری نارنگیوں کو توڑا، نارا جنى، ناراً آگ کو جنى اس توڑا اس نے، اس نے کس کو توڑا؟ آگ کو توڑا ہے، ہم اس سے نمٹ لیں گے وہ دیکھ لے گا کس طرح اس نے ہماری نارنگیاں توڑیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو دیکھیے بھئی، مقامِ استشہاد ہے ایک نارنجنا لفظ، اور کوئی بھی لفظ لے لیں چاہے پہلے مصرعے والا دیکھ لیں یا دوسرے مصرعے میں جو درمیان میں آیا، اور ایک آخری ناراً جنى۔ تلفظ میں بالکل ایک جیسے ہیں، نارنجنا، وہ بھی ہے ناراً جنى، لیکن پہلا نارنجنا وہ کیا ہے؟ مفرد ہے، کیا ہے؟ کیونکہ ضمیرِ متصل ہے نا، نارنجنا، نا ضمیر ضمیرِ متصل ہے اور ضمیرِ متصل کو کیا سمجھا جاتا ہے؟ جزءِ کلمہ سمجھا جاتا ہے، تو وہ مفرد ہے۔ اور دوسرا ہے ناراً جنى، ناراً مفعولِ مقدم ہے اور جنى فعل ہے تو وہ مرکب ہے، اور رسم الخط دونوں کا الگ ہے بھئی، لہٰذا یہ کون سی قسم ہوئی؟ مفروق، جناسِ تام مفروق بھئی۔ فارسی میں اس کی مثال بھئی، فارسی میں: رحمتِ حق بہانہ می جوید رحمتِ حق بہانہ می جوید یعنی رحمتِ حق، اللہ کی رحمت جو ہے بہانہ می جوید، بہانہ چاہتی ہے، بہانہ تلاش کرتی ہے انسان کی مغفرت کے لیے بھئی، جی۔ اور آگے پھر لکھیں: رحمتِ حق بہا نمے جوید رحمتِ حق بہا نمے جوید، یہاں نون کو میم کے ساتھ ملا کر لکھنا ہے، نمے جوید۔ پہلے میں بہانہ، بہانہ لفظ میں نون اور ہا الگ تھے، اب کیسے لکھنا ہے؟ رحمتِ حق بہا نمے جوید۔ تو رحمتِ حق بہا، بہا کا معنیٰ ہوتا ہے زیادہ، اللہ کی رحمت زیادہ جو ہے نمے جوید، نہیں چاہتی۔ اللہ کی رحمت، ہاں، اللہ کی رحمت بہانہ چاہتی ہے زیادہ نہیں چاہتی۔ تو دیکھیے تلفظ دونوں کا بالکل ایک جیسا، رحمتِ حق بہانہ می جوید، رحمتِ حق بہا نمے جوید، بالکل تقریباً ایک ہی جیسا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تلفظ، اور پہلا بہانہ ایک لفظ ہے اور دوسرا بہا نمے جوید، دوسرے میں یہ جو نون ہے یہ نفی کے لیے ہے یہ الگ لفظ ہے، تو یہ رسم الخط دونوں کا الگ الگ، پہلا مفرد ہے دوسرا مرکب اور رسم الخط الگ الگ ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ جناسِ تام مفروق بھئی۔ اردو میں اس کی مثال بھئی، بھئی یہ کوئی سیاستدان تھا یہ اس کو یہ برطانیہ گیا انگلینڈ گیا بھئی، اور یہاں کہا اس نے کہ میں بیمار ہوں مجھے یرقان ہو گیا ہے، یرقان بیماری جس میں آپ جانتے ہیں کہ انسان کا رنگ زرد پڑ جاتا ہے، آنکھیں تک اس کی پیلی پڑ جاتی ہیں، تو تو کہتا ہے میں یرقان کا علاج کروانے جا رہا ہوں انگلینڈ بھئی۔ وہاں چلا گیا اور پھر وہاں کہیں اس نے شراب وغیرہ پی اور وہ سب کو پتہ چل گیا، اخبارات میں بھی اس کا ذکر آیا، تو اس پر ایک شاعر کہتا ہے بھئی، شاعر کہتا ہے۔ شاعر کہتا ہے: آپ تو جھڑوانے گئے تھے پیلیا انگلینڈ میں بھئی یہ یرقان اس میں جسم بھی پیلا پڑ جاتا ہے آنکھیں بھی پیلی تو اس کو پیلیا بھی کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ پیلیا۔ تو شاعر یہ کہتا ہے: آپ تو جھڑوانے گئے تھے پیلیا انگلینڈ میں آپ تو انگلینڈ میں پیلیا جھڑوانے یعنی پیلیا اتروانے گئے تھے اس کا علاج کروانے گئے تھے، آپ تو جھڑوانے گئے تھے پیلیا انگلینڈ میں اگلا مصرع: پھر دوا کے طور پر کیا پی لیا انگلینڈ میں پھر دوا کے طور پر کیا پی لیا انگلینڈ میں۔ تو دیکھیے دونوں مصرعوں میں پیلیا لفظ آ رہا ہے، لیکن پہلا پیلیا وہ بیماری اور یہ ملا کر لکھیں گے سارا ایک ہی لفظ بھئی، اور دوسرے میں جو آیا دوسرے مصرعے میں پی لیا، وہاں پی الگ اور لیا الگ، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور رسم الخط دونوں کا الگ الگ ہے، کیا ہے؟ رسم الخط الگ الگ ہے بھئی، رسم الخط الگ الگ ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ جناسِ تام مفروق بھئی۔ تو چار قسمیں جناسِ تام کی آپ نے پڑھ لیں بھئی: متماثل، مستوفیٰ، متشابہ اور مفروق بھئی۔ متماثل جس میں دونوں لفظ اسم ہوں یا دونوں کیا ہوں؟ فعل ہوں۔ اور مستوفیٰ جس میں اگر ایک اسم ہے تو دوسرا فعل ہو۔ اور متشابہ جس میں ایک لفظ مرکب ہو اور دوسرا مفرد ہو اور رسم الخط ایک جیسا ہو۔ اور مفروق جس میں ایک لفظ مرکب ہے اور ایک مفرد ہے اور رسم الخط بھی دونوں کا علیحدہ علیحدہ ہو بھئی۔ چلیے بس بھئی، ھٰذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔