Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-081

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 8
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔81 اَلتَّجْرِيدُ: هُوَ أَنْ يُنْتَزَعَ مِنْ أَمْرٍ ذِي صِفَةٍ أَمْرٌ آخَرُ مِثْلُهُ فِيهَا مُبَالَغَةً لِكَمَالِهَا فِيهِ، وَيَكُونُ بِمِنْ نَحْوُ: لِي مِنْ فُلَانٍ صَدِيقٌ حَمِيمٌ، أَوْ فِي كَمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: لَهُمْ فِيهَا دَارُ الْخُلْدِ، أَوِ الْبَاءِ نَحْوُ: لَئِنْ سَأَلْتَ فُلَانًا لَتَسْأَلَنَّ بِهِ الْبَحْرَ، أَوْ بِمُخَاطَبَةِ الْإِنْسَانِ نَفْسَهُ۔ علمِ بدیع کے اندر محسناتِ معنویہ کا بیان چل رہا ہے بھئی۔ گزشتہ سبق میں آپ نے "تَأْكِيدُ الْمَدْحِ بِمَا يُشْبِهُ الذَّمَّ" اور "تَأْكِيدُ الذَّمِّ بِمَا يُشْبِهُ الْمَدْحَ"، یہ دو صنعتیں آپ نے گزشتہ سبق میں پڑھی تھیں بھئی۔ آج ہم تجرید کے بارے میں پڑھیں گے، تجرید۔ تجرید اس کو کہتے ہیں بھئی کہ ایک موصوف سے اسی جیسا دوسرا موصوف نکال لیا جائے بھئی۔ کیا کیا جائے؟ ایک موصوف سے اسی جیسا دوسرے موصوف کو نکال کر ثابت کر دیا جائے مبالغہ کرنے کے لیے، اس بات کا میں مبالغہ پیدا کرنے کے لیے کہ اس صفت میں یہ موصوف بڑا ہی کامل ہے، اتنا کامل ہے کہ اس سے اسی جیسا ایک اور موصوف بھی نکالا جا سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آئی؟ تجرید کسے کہتے ہیں؟ ایک موصوف سے، ایک چیز ہے وہ ایک صفت کے ساتھ موصوف ہے، اس موصوف سے اسی جیسا ایک اور موصوف نکالا جائے۔ اور یہ کس لیے کیا جاتا ہے؟ مبالغہ پیدا کرنے کے لیے، یعنی یہ بتلانے کے لیے کہ یہ جو موصوف ہے جس میں یہ جو یہ صفت پائی جا رہی ہے، یہ موصوف اس صفت میں اتنے کامل درجے کو پہنچا ہوا ہے کہ اس سے اسی جیسا ایک اور موصوف نکالنا بھی ممکن ہے۔ اس سے اسی جیسا ایک اور موصوف نکالنا بھی ممکن ہے۔ کیوں ممکن ہے؟ کیونکہ یہ اس صفت میں بڑے ہی کمال کو پہنچا ہوا ہے، اتنے کمال کو پہنچ چکا ہے کہ اس سے اسی جیسا ایک اور موصوف نکالنا بھی ممکن ہے۔ مثلاً عرب عام استعمال کرتے ہیں: "لِي مِنْ فُلَانٍ صَدِيقٌ حَمِيمٌ"۔ لِی، میرے لیے، مِنْ فُلَانٍ، فلاں میں سے، صَدِيقٌ حَمِيمٌ، گہرا دوست ہے۔ میرے لیے، عبارت پر غور کر رہے ہیں بھئی؟ میرے لیے فلاں میں سے ایک گہرا دوست ہے۔ عرب کیا کہتے ہیں؟ "لِي مِنْ فُلَانٍ صَدِيقٌ حَمِيمٌ"، میرے لیے فلاں میں سے ایک گہرا دوست ہے، گہرا دوست ہے۔ تو کہنا تو یہ چاہیے تھا: فلاں میرا گہرا دوست ہے، فلاں میرا گہرا دوست ہے، لیکن کیا کہا؟ میرے لیے فلاں میں سے گہرا دوست ہے۔ یعنی وہ جو فلاں ہے وہ گہری، میرے ساتھ جو اس کی گہری دوستی ہے، اس میں اس کمال کو پہنچ چکا ہے کہ اس سے ایک اور گہرے دوست کو نکالنا ممکن ہے۔ ایک اور گہرے دوست کو نکالنا ممکن ہے، چنانچہ اس سے ایک اور موصوف کو نکال کر ثابت کر دیا۔ کیا کہا؟ "لِي مِنْ فُلَانٍ"، میرے لیے فلاں میں سے کیا ہے؟ فلاں میں سے کیا ہے؟ گہرا دوست ہے۔ بھئی وہ خود گہرا دوست ہے یا اس میں سے کیا ہے؟ گہرا دوست، وہ خود گہرا دوست ہے لیکن عبارت کیا استعمال کرتے ہیں؟ اس میں سے۔ یعنی وہ اس گہری دوستی میں اتنے کمال کو پہنچ چکا ہے کہ اس میں سے ایک اور گہرے دوست کا نکالنا اور اس کو ثابت کرنا ممکن ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جی دیکھیے، آگے بہت سی مثالیں آ رہی ہیں۔ اَلتَّجْرِيدُ، تجرید یہ ہے: هُوَ أَنْ يُنْتَزَعَ۔ جی، سب سے پہلے بھئی آسان لفظوں میں میں نے بتایا: تجرید کسے کہتے ہیں؟ ایک موصوف سے اسی جیسا دوسرا موصوف نکالنا مبالغہ پیدا کرنے کے لیے، یہ بتلانے کے لیے کہ یہ موصوف اس صفت کے اندر بڑے کامل درجے کو پہنچا ہوا ہے، اتنے کامل درجے کو پہنچا ہوا ہے کہ اس سے اسی جیسا ایک اور موصوف نکالنا بھی ممکن ہے۔ دیکھیے، کہتے ہیں: اَلتَّجْرِيدُ: هُوَ أَنْ يُنْتَزَعَ، تجرید یہ ہے کہ نکالا جائے، مِنْ أَمْرٍ، ایک چیز میں سے، کیسی چیز؟ ذِي صِفَةٍ، جو صفت والی ہو یعنی موصوف ہو یعنی کیا ہو؟ موصوف۔ هُوَ أَنْ يُنْتَزَعَ مِنْ أَمْرٍ ذِي صِفَةٍ، وہ یہ کہ نکالا جائے ایک صفت والے امر میں سے یعنی ایک موصوف میں سے، أَمْرٌ آخَرُ، کس کو نکالا جائے؟ ایک اور امر کو، مِثْلُهُ، جو اسی کے مثل ہو، فِيهَا، اس صفت کے اندر۔ یعنی ایک موصوف سے اسی جیسا دوسرا موصوف نکالا جائے۔ مُبَالَغَةً، مبالغہ کرنے کے لیے، کس لیے؟ مبالغہ کرنے کے لیے بھئی۔ یہ مفعول لہٗ ہے جو ماقبل کی علت بیان کرتا ہے۔ مُبَالَغَةً، "ضَرَبْتُهُ تَأْدِيبًا"، میں نے اس کی پٹائی کی، کس لیے پٹائی کی؟ ادب سکھانے کے لیے۔ تو "تَأْدِيبًا" جیسے مفعول لہٗ ہے، یہ "مُبَالَغَةً" بھی کیا ہے؟ مفعول لہٗ، ماقبل کی علت بیان کر رہا ہے کہ ایک موصوف سے دوسرے موصوف کو نکالا جاتا ہے جو اسی کے مثل ہوتا ہے، مُبَالَغَةً، مبالغہ کرنے کے لیے، لِكَمَالِهَا فِيهِ، بوجہ اس صفت کے کامل ہونے کے فِيهِ اس موصوف میں، اس امر میں، کہ وہ صفت اس موصوف میں کامل ہے۔ پھر یاد رکھیے: وَيَكُونُ بِمِنْ، یہ تجرید ہے نا، ایک موصوف کو کیا کیا جاتا ہے؟ ایک موصوف سے دوسرے اسی جیسے موصوف کو نکالا جاتا ہے۔ تو اس میں پھر کبھی حرفِ جر استعمال ہوتا ہے اور کبھی حرفِ جر استعمال نہیں ہوتا۔ حرفِ جر استعمال ہو تو پھر وہ کبھی "مِنْ" ہوگا، کبھی "فِي" ہوگا، اور کبھی "بَاء" ہوگی۔ یہ جو ایک موصوف سے دوسرے موصوف کو نکالا گیا، یا تو یہ کس کے واسطے سے ہوگا؟ حرفِ جر کے واسطے سے، یا بغیر حرفِ جر کے۔ اگر حرفِ جر کے ساتھ ہو تو وہ تین حروفِ جارہ ہیں جو استعمال ہو سکتے ہیں اس میں: نمبر ایک مِنْ، نمبر دو فِي، اور نمبر تین بَاء ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَيَكُونُ بِمِنْ، اور کبھی یہ تجرید کس کے ساتھ ہوگی؟ مِنْ کے ساتھ، نَحْوُ، مثال کے طور پر: لِي مِنْ فُلَانٍ صَدِيقٌ حَمِيمٌ، میرے لیے فلاں میں سے صَدِيقٌ حَمِيمٌ گہرا دوست ہے۔ فلاں میں سے، دیکھو اس میں سے، یہ نہیں کہا وہ میرا گہرا دوست ہے بلکہ کیا کہا؟ فلاں میں سے۔ یعنی اس میں سے ایک گہرے دوست کو نکال کر ثابت کر رہا ہے کہ اس میں سے میرے لیے ایک گہرا دوست ہے۔ یعنی وہ گہری دوستی میں اس حد کو پہنچ چکا ہے کہ اس سے ایک اور اسی جیسا گہرا دوست نکالنا اور اس کو ثابت کرنا ممکن ہے بھئی۔ اور یہ عام استعمال ہوتا ہے، آپ بھی استعمال کرتے ہیں اس طرح: آپ کہتے ہیں: لشکر میں دس ہزار سپاہی ہیں۔ لشکر میں دس ہزار، بھئی لشکر میں دس ہزار کا کیا معنی؟ لشکر تو خود انہی دس ہزار کا نام ہے۔ لشکر تو خود کس کا نام ہے؟ انہی دس ہزار کا نام ہے، لیکن آپ کیا کہتے ہیں؟ لشکر میں دس ہزار آدمی۔ اسی طرح آپ بھی کہتے ہیں: کتاب میں دس ابواب ہیں۔ بھئی انہی دس ابواب کا نام تو کیا ہے؟ کتاب ہے، اور آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ کتاب میں کیا ہے؟ دس ابواب۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ کیا ہے؟ یہ تجرید ہے یہ سب بھئی۔ تو عرب بھی اسی طرح کہتے ہیں: "لِي مِنْ فُلَانٍ صَدِيقٌ حَمِيمٌ"، فلاں میں سے میرے لیے گہرا دوست ہے۔ تو یہاں دیکھیے، کون سا حرف استعمال کیا؟ مِنْ بھئی، مِنْ بھئی۔ أَوْ فِي، اور کبھی فِي استعمال ہوگا، كَمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہے: لَهُمْ، ان جہنمیوں کے لیے، فِيهَا، اس جہنم میں، دَارُ الْخُلْدِ، ہمیشگی کا گھر ہوگا، ہمیشہ رہنے کا گھر ہوگا۔ اب دیکھیے، لَهُمْ، ان جہنمیوں کے لیے، فِيهَا، توجہ ہے سبق پر؟ فِيهَا، اس جہنم میں دَارُ الْخُلْدِ ہے، ہمیشہ رہنے کا گھر۔ بھئی جہنم میں ہمیشہ رہنے کا گھر ہے یا جہنم خود ہمیشہ رہنے کا گھر ہے؟ جہنم خود ہمیشہ رہنے کا گھر ہے، لیکن اس ہمیشگی کے اندر وہ اتنے کمال کو پہنچ چکی ہے کہ اس میں سے ایک اور دار الخلد کو نکال کر اس کے اندر ثابت کر دیا گیا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو؟ جہنم خود کیا ہے؟ ہمیشگی کا گھر، ہمیشہ رہنے کا گھر ہے، جہنمی جہنمی جو ہوں گے، کفار جو ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ لیکن کہا کیا گیا قران میں؟ اس جہنم میں کیا ہے ان کے لیے؟ ہمیشہ رہنے کا گھر ہے۔ تو یہ تجرید ہے، اور کس کے ذریعے ہے؟ فِي کے۔ لَهُمْ فِيهَا دَارُ الْخُلْدِ، ان جہنمیوں کے لیے اس جہنم میں ہمیشہ رہنے کا گھر ہے۔ أَوِ الْبَاءِ، یا وہ کس کے ذریعے ہوگی تجرید؟ با کے ذریعے، نَحْوُ، مثال کے طور پر: لَئِنْ سَأَلْتَ فُلَانًا، اگر آپ سوال کریں فلاں سے یعنی اگر آپ مانگیں۔ یہاں سوال سے وہ سوال پوچھنا نہیں مراد بلکہ کیا مراد ہے؟ مانگنا مراد ہے۔ لَئِنْ سَأَلْتَ فُلَانًا، اگر آپ فلاں سے مانگیں گے، لَتَسْأَلَنَّ بِهِ الْبَحْرَ، تو البتہ آپ ضرور مانگیں گے بِهِ اس کے ذریعے سے الْبَحْرَ سمندر سے۔ کس سے مانگیں گے؟ سمندر سے۔ بھئی یہ بات پہلے بھی گزر چکی، عربی میں سمندر کو سخاوت کے اندر بطورِ مثال کے ذکر کیا جاتا ہے، کیونکہ سمندر سے آپ جانتے ہیں لاکھوں لوگوں کا رزق وابستہ ہے بھئی، لاکھوں لوگوں کا رزق وابستہ ہے۔ تو سخاوت اور فیاضی کے اندر سمندر کو بطورِ مثال کے ذکر کیا جاتا ہے۔ کوئی بڑا ہی سخی ہو تو کہتے ہیں: فُلَانٌ كَالْبَحْرِ، وہ کس کی طرح ہے؟ سمندر کی طرح ہے، یا یوں کہہ دیتے ہیں: فُلَانٌ بَحْرٌ، فلاں تو سمندر ہے۔ اب دیکھیے، ایک شخص ہے سخاوت میں انتہائی کمال کو پہنچا ہوا ہے۔ اب آپ کسی سے کہتے ہیں: بھئی اگر آپ اس کے پاس گئے اور آپ نے اس سے مانگا تو دراصل اس کے واسطے سے آپ سمندر سے مانگ رہے ہیں۔ کس سے مانگ رہے ہیں؟ سمندر سے مانگ رہے ہیں۔ بھئی وہ خود سمندر ہے، یوں کہو نا کہ آپ اس سے مانگیں گے تو گویا کس سے مانگ رہے ہیں؟ سمندر سے، لیکن کہا کیا جا رہا ہے عبارت میں؟ لَتَسْأَلَنَّ بِهِ الْبَحْرَ، آپ اس کے ذریعے سے کس سے مانگ رہے ہیں؟ سمندر سے۔ تو گویا وہ سخاوت میں اتنے کمال کو پہنچ چکا ہے، بحر ہونے میں، بحر ہونے میں وہ اتنے کمال کو پہنچ چکا ہے کہ اس سے ایک اور بحر کو نکال کر ثابت کر دیا۔ اور آپ سوال تو اس سے کر رہے ہیں لیکن اس سے نکال کر کیا ثابت کیا ہے؟ ایک اور سمندر۔ تو آپ کہنے والے کو کہتے ہیں کہ اس سے مانگ رہے ہیں تو دراصل اس کے ذریعے سے آپ ایک اور کس سے مانگ رہے ہیں؟ ایک اور سمندر سے مانگ رہے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ نَحْوُ، مثال کے طور پر: لَئِنْ سَأَلْتَ فُلَانًا لَتَسْأَلَنَّ بِهِ الْبَحْرَ، اگر آپ مانگیں فلاں سے تو البتہ آپ ضرور مانگیں گے اس کے ذریعے سے سمندر سے۔ أَوْ بِمُخَاطَبَةِ الْإِنْسَانِ نَفْسَهُ، یا انسان کا اپنے نفس سے خطاب کرنا، اس کے ذریعے ہوگی تجرید بھئی۔ کس کے ذریعے ہوگی؟ انسان کو اپنے نفس کے ساتھ خطاب کرنے کے۔ بھئی دیکھیے، آپ نے بھی پڑھا، پہلے بھی کئی مثالیں اس طرح کی آ چکی ہیں کہ شاعر کیا کرتا ہے بعض اوقات؟ اپنے آپ کو ہی خطاب کرتا ہے، اسی طرح انسان بھی کیا کرتا ہے؟ کبھی کبھار اپنے آپ کو خطاب کرتا ہے۔ تو یہ بھی تجرید ہے، یہ بھی کیا ہے؟ تجرید ہے۔ یعنی جس صفت کی بات چل رہی ہے آپ نے گویا یہ بتلانے کے لیے کہ اس صفت میں آپ کا نفس اتنے کمال کو پہنچ چکا ہے کہ اس سے اسی جیسا ایک اور نفس نکالنا ممکن ہے۔ چنانچہ چنانچہ تو پھر انسان کیا کرتا ہے؟ اپنے نفس سے اپنے جیسے ایک اور نفس کو نکالتا ہے، اس کو سامنے بٹھاتا ہے اور پھر اس سے خطاب شروع کر دیتا ہے کہ تمہیں اب آخرت کی فکر کرنی چاہیے، اب دنیا کو چھوڑ دینا چاہیے اور آخرت کی طرف پورے طور پر متوجہ ہو جانا چاہیے۔ تو دیکھو یہ اب اپنے نفس سے خطاب کر رہا ہے، یہ بھی تجرید ہے۔ اپنے آپ سے تو خطاب نہیں کیا جاتا، لیکن یہاں کیا ہے؟ تجرید ہے۔ کیا کر رہا ہے، کہنے والا کیا کر رہا ہے؟ اپنے آپ سے اپنے جیسے ہی ایک نفس کو نکالا، اس کو سامنے بٹھایا اور اس کو کیا کرنے لگا؟ خطاب کرنے لگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہے: أَوْ بِمُخَاطَبَةِ الْإِنْسَانِ نَفْسَهُ، یا یہ تجرید انسان کو اپنے نفس کو خطاب کرنے کے ذریعے ہوگی، كَقَوْلِهِ، جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے: لَا خَيْلَ عِنْدَكَ تُهْدِيهَا وَلَا مَالُ فَلْيُسْعِدِ النُّطْقُ إِنْ لَمْ تُسْعِدِ الْحَالُ شاعر اپنے آپ سے کہتا ہے: لَا خَيْلَ عِنْدَكَ، خیل یاد رکھیے یہ گھوڑوں کی جماعت کو کہتے ہیں، ایک گھوڑے کو نہیں بلکہ گھوڑوں کی جماعت کو۔ لَا خَيْلَ عِنْدَكَ، شاعر اپنے آپ سے کہہ رہا ہے: لَا خَيْلَ عِنْدَكَ، نہ تو تمہارے پاس گھوڑے ہیں، ایسے گھوڑے تُهْدِيهَا، أَهْدَى يُهْدِي کے معنی ہدیہ پیش کرنا، ہدیہ دینا، کہ جن کو کیا کرو تم بطورِ ہدیہ کے پیش کرو یعنی بطورِ تحفے کے دو، وَلَا مَالُ، اور نہ تیرے پاس مال ہے۔ فَلْيُسْعِدِ النُّطْقُ، أَسْعَدَ يُسْعِدُ کے معنی مدد کرنا۔ نطق، نطق کہتے ہیں بات کرنا، بولنا یعنی گفتار، گفتار۔ فَلْيُسْعِدِ النُّطْقُ، پس چاہیے کہ مدد کرے گفتار یعنی بول چال کو کیا کرنی چاہیے؟ مدد کرنی چاہیے، إِنْ لَمْ تُسْعِدِ الْحَالُ، اگر حال مدد نہیں کرتا۔ اگر حال مدد نہیں کرتا تو کس کو مدد کرنی چاہیے؟ گفتار کو یعنی بولنے کو مدد کرنی چاہیے۔ بھئی ایک شاعر ہے، مال وغیرہ اس کے پاس ہے نہیں، اب یہ ایک بادشاہ کے پاس جا رہا ہے تو بادشاہ کے پاس اب بادشاہ کے ساتھ تعلق ہے، تو انسان جب اپنے جاننے والے اور تعلق والے کے پاس جاتا ہے تو کیا کرتا ہے؟ عموماً کوئی تحفہ وغیرہ اس کے اس کے لیے لے جاتا ہے۔ تو شاعر اپنے آپ سے خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تیرے پاس تو کوئی گھوڑے نہیں ہیں، نہ مال ہے جن کو کیا کرے آگے جا کر تو بطورِ ہدیہ کے پیش کرے، تو چلو مال نہ سہی، گھوڑے نہ سہی، لیکن جب یعنی تیرا حال تیری مدد نہیں کر رہا اس سلسلے میں تو تجھے کس کو تیری مدد کرنی چاہیے؟ بولنے کو، یعنی تجھے اچھا کلام بادشاہ کے سامنے پیش کرنا چاہیے، اس کی تعریف میں اشعار کہنے چاہئیں، اگر حال تیری مدد نہیں کرتا تو کم از کم کس کو مدد کرنی چاہیے تیری؟ بولنے کو یعنی تجھے اپنی گفتار کو اچھا کرنا چاہیے اور اس بادشاہ کی مدح و ثناء کرنی چاہیے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو یہ تجرید ہے کہ اپنے نفس کو وہ خطاب کر رہا ہے۔ لَا خَيْلَ عِنْدَكَ تُهْدِيهَا وَلَا مَالُ، فَلْيُسْعِدِ النُّطْقُ إِنْ لَمْ تُسْعِدِ الْحَالُ، نہ تو تیرے پاس ایسے گھوڑے ہیں کہ جن کو تو جن کو تو ہدیے کے طور پر پیش کرے، اور نہ تیرے پاس مال ہے، پس چاہیے کہ گفتار مدد کرے تیری، پس چاہیے کہ گفتگو جو ہے وہ مدد کرے اگر حال مدد نہیں کرتا۔ أَوْ بِغَيْرِ ذَلِكَ، یا اس کے علاوہ ہوگی۔ تجرید، تجرید کی صورتیں بیان ہو رہی ہیں نا، تجرید یا کس کے ساتھ ہوگی؟ مِنْ کے ساتھ، یا فِي کے ساتھ، یا بَاء کے ساتھ، یا انسان کو اپنے نفس کو خطاب کرنے کے ساتھ ہوگی، أَوْ بِغَيْرِ ذَلِكَ یا اس کے علاوہ ہوگی، یہ پانچویں صورت آ گئی۔ كَقَوْلِهِ، جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے: فَلَئِنْ بَقِيتُ لَأَرْحَلَنَّ لِغَزْوَةٍ تَحْوِي الْغَنَائِمَ أَوْ يَمُوتَ كَرِيمُ یہ کوئی یہ شاعر جو ہے یہ یہ جہاد پر گیا اور وہاں پر زخمی ہو گیا بھئی، زخمی ہو گیا۔ اب زخمی حالت میں گھر پہنچا ہے، اب شعر کہتا ہے اس حالت میں: فَلَئِنْ بَقِيتُ، اگر میں باقی رہا یعنی اگر میں زندہ رہا، لَأَرْحَلَنَّ، تو البتہ میں ضرور کوچ کروں گا یعنی سفر پر نکلوں گا، لِغَزْوَةٍ، ایک غزوے کے لیے یعنی غزوے پر جہاد پر میں نکلوں گا۔ فَلَئِنْ بَقِيتُ لَأَرْحَلَنَّ لِغَزْوَةٍ، اگر میں باقی رہا تو البتہ ضرور میں نکلوں گا ایک ایسے غزوے پر، تَحْوِي الْغَنَائِمَ، حَوَى يَحْوِي کے معنی جمع کرنا، غنائم جمع ہے غنیمت کی، اور غَزْوَةٍ نکرہ آیا، نکرہ کے بعد تَحْوِي فعل آیا، نکرہ کے بعد فعل آئے تو اس کے لیے عموماً کیا بنتا ہے؟ صفت۔ تو موصوف سے پہلے کیا لفظ لاتے ہیں؟ ایسا یا ایسی۔ فَلَئِنْ بَقِيتُ لَأَرْحَلَنَّ لِغَزْوَةٍ تَحْوِي الْغَنَائِمَ، اگر میں باقی رہا تو میں البتہ ضرور نکلوں گا ایک ایسے غزوے پر، تَحْوِي الْغَنَائِمَ، کہ وہ غزوہ کس کو جمع کرے گا؟ غنیمتوں کو، یعنی وہ غزوہ کس کو جمع کرے گا؟ غنیمتوں کو، یعنی غزوے والے کیا کریں گے؟ غنیمتیں جمع کریں گے، ان کو فتح حاصل ہوگی۔ أَوْ يَمُوتَ كَرِيمُ، أَوْ بمعنی إِلَّا کے ہے بھئی، أَوْ کس معنی میں ہے؟ إِلَّا۔ آپ نے پڑھا ہے بھئی نحو کے اندر کہ یہ أَوْ کبھی کس معنی میں آتا ہے؟ إِلَّا یا إِلَى کے معنی میں۔ اور جب یہ إِلَّا کے معنی میں ہے تو اس کے بعد "أَنْ" مقدر ہوگا تو يَمُوتُ نہیں پڑھنا بلکہ کیا پڑھنا ہے؟ يَمُوتَ، تا پر نصب پڑھیں بھئی۔ أَوْ يَمُوتَ كَرِيمُ، یا مر جائے گا کریم ایک سخی شخص۔ یا اگر میں زندہ رہا تو غزوے پر نکلوں گا، ورنہ ایک سخی شخص مر جائے گا۔ یعنی اگر میں باقی نہ رہا تو پھر تو جہاد پر نہ جا سکوں گا تو ایک سخی شخص مر جائے گا۔ کون مراد ہے اس سے؟ اپنا آپ ہی مراد ہے۔ ایک سخی شخص مر جائے گا یعنی میں مر جاؤں گا۔ لیکن ذکر کس کے ساتھ کیا؟ غائب کے ساتھ۔ گویا سخاوت کے اندر اپنا اپنی صفت بیان کر دی کہ میں اتنے درجے کو پہنچ چکا پہنچا ہوا ہوں کہ مجھ سے ایک اور کریم کا نکالنا ممکن ہے، چنانچہ اپنے سے ایک اور کریم کا انتزاع کیا اور کہا کہ اگر باقی نہ رہا تو یہ کریم، یہ سخی مر جائے گا بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ فَلَئِنْ بَقِيتُ لَأَرْحَلَنَّ لِغَزْوَةٍ تَحْوِي الْغَنَائِمَ أَوْ يَمُوتَ كَرِيمُ، اگر میں باقی رہا تو البتہ ضرور نکلوں گا میں ایک ایسے غزوے پر جو غنیمتوں کو جمع کرنے والا ہوگا یا مر جائے گا ایک معزز شخص، ایک معزز شخص، ایک سخی شخص بھئی۔ تو دیکھو اب اپنے سے کریم کا انتزاع کیا، لیکن کیا یہ اپنے آپ سے مخاطبت ہے، اپنے آپ سے کوئی خطاب کر رہا ہے؟ یہ اس قبیل سے نہیں ہے بھئی۔ اوپر والے میں تو تھا وہ اپنے آپ کو خطاب کر رہا تھا شاعر کہ تو تیرے پاس گھوڑے بھی نہیں ہیں، تو یہ کس کو خطاب تھا؟ اپنے آپ کو۔ لیکن یہاں پر ایسی بات نہیں ہے، تو یہ بھی تجرید ہے، اپنے آپ سے انتزاع کر رہا ہے لیکن مخاطبت نہیں ہے، اس میں اس کو خطاب نہیں کر رہا بھئی۔ اگلی صنعت ہے: حُسْنُ التَّعْلِيلِ۔ تعلیل کا معنی ہے علت بیان کرنا، کسی چیز کی وجہ بیان کرنا۔ حُسْنُ التَّعْلِيلِ، تعلیل کا حسن، علت بیان کرنے کا حسن۔ حسنِ تعلیل اس کو کہتے ہیں کہ کسی چیز کی کوئی علت اور وجہ بیان کی جائے جو غیر حقیقی ہو، حقیقی علت نہیں، کوئی اور انوکھی سی علت کسی چیز کی بیان کی جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ حسنِ تعلیل کہتے ہیں، حسنِ تعلیل۔ حُسْنُ التَّعْلِيلِ: هُوَ أَنْ يُدَّعَى لِوَصْفٍ عِلَّةٌ غَيْرُ حَقِيقِيَّةٍ فِيهَا غَرَابَةٌ۔ حسنِ تعلیل وہ یہ ہے کہ أَنْ يُدَّعَى کہ دعویٰ کیا جائے لِوَصْفٍ کسی وصف کے لیے عِلَّةٌ غَيْرُ حَقِيقِيَّةٍ، دعویٰ کیا جائے کسی وصف کے لیے کس چیز کا؟ ایک ایسی غیر حقیقی علت کا، فِيهَا غَرَابَةٌ، اس میں کیا ہو؟ غرابت ہو یعنی انوکھا پن ہو، انوکھی علت بیان کرنا کسی چیز کی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ انوکھی علت ہو، عجیب ہو۔ كَقَوْلِهِ، جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے: لَوْ لَمْ تَكُنْ نِيَّةُ الْجَوْزَاءِ خِدْمَتَهُ لَمَا رَأَيْتَ عَلَيْهَا عِقْدَ مُنْتَطَقِ لَوْ لَمْ تَكُنْ، اگر نہ ہو، یہ کیا بھئی؟ یہ عبارت یہ اعراب غلط لگے ہوئے ہیں: "لَوْ لَمْ تَكِنَّ"، لَوْ لَمْ تَكُنْ ہے بھئی۔ لَوْ لَمْ تَكُنْ نِيَّةُ الْجَوْزَاءِ، اگر یہ کَانَ يَكُونُ سے ہے، لَوْ لَمْ تَكُنْ، اگر نہ ہو نِيَّةُ الْجَوْزَاءِ جوزاء کی نیت۔ جوزاء، یاد رکھیے، علمِ فلکیات والوں نے یعنی یہ جو ستاروں وغیرہ کے علوم سے بحث کرتے ہیں، انہوں نے آسمان کے بارہ حصے بنا رکھے ہیں فرضی، آسمان کو کتنے میں تقسیم کیا؟ کتنے حصوں میں؟ بارہ۔ بھئی رات کے وقت آپ آسمان پر ستاروں کو دیکھتے ہیں تو سال بھر کے اندر یہ احوال بدلتے ہیں، سال بھر میں یہ احوال بدلتے ہیں، تو پورے سال میں جو ستارے نظر آتے ہیں یعنی جو آسمان دکھائی دیتا ہے سال بھر کے اعتبار سے اس کے بارہ فرضی حصے کر لیے گئے ہیں اور ہر ایک حصے کو برج کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ برج کہتے ہیں۔ اور ایک حصے میں یہ زمین جو ہے لگ بھگ ایک مہینے کے قریب گزارتی ہے۔ ان برجوں میں سے ایک برج کا نام جوزاء ہے، کیا نام ہے؟ جوزاء۔ اور اس جوزاء برج جو ہے یعنی وہ حصہ جب آسمان کا دکھائی دیتا ہے اس میں ستاروں کا ایک مجموعہ ہے جس نے کچھ دائرے کی سی صورت بنائی ہوئی ہے، کس طرح کی صورت ہے؟ جیسے آپ نے اگر فلکیات یا ستاروں کی کتابیں جن میں ان کی صورتیں ہوتی ہیں دیکھی ہوں، آپ نے دیکھا ہوگا بعض ستاروں کی صورتوں سے فرضی صورتیں بنائی جاتی ہیں، جیسے دبِ اصغر ہے، دبِ اکبر ہے، کچھ ستارے ہیں ان سے فرضی طور پر ریچھ کی صورت بنائی جاتی ہے۔ اب وہ ریچھ جیسی صورت تو نہیں ہے، لیکن کس طرح کی بنا لی جاتی ہے، فرض کر لی جاتی ہے؟ کہ یہ گویا ریچھ جیسی شکل ہے۔ تو اسی طرح کچھ ستارے ہوں گے پورا دائرہ تو نہیں ہوگا لیکن کچھ صورت اس جیسی کچھ ہوگی کہ ایک ستارہ کچھ بیچ میں ہے اور ارد گرد والے کچھ ٹیڑھے میڑھے ہو کر کچھ نہ کچھ کون سی صورت بنا لیتے ہیں؟ کچھ دائرے جیسی صورت بنا لیتے ہیں۔ تو یہ جو سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ وہاں ستاروں کا مجموعہ ہے، تو یہ دائرے کی صورت بنا لیتے ہیں، ستاروں کا دائرہ، اس کو نِطَاقُ الْجَوْزَاءِ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ نطاق، طا کے ساتھ اور نون، طا، الف اور قاف دو نقطوں والا، نطاق۔ تو اس کو نِطَاقُ الْجَوْزَاءِ کہتے ہیں، جوزاء کا کمربند بھئی، جوزاء کا کمربند۔ نطاق اصل میں کہتے ہیں کمربند کو، کمر پر جو چیز باندھی جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ نطاق کہتے ہیں۔ تو وہ جو ستاروں کی دائرے کی سی کچھ صورت ہے اس کو نِطَاقُ الْجَوْزَاءِ کہتے ہیں، جوزاء کا کمربند بھئی، جوزاء کا کمربند۔ شاعر کہتا ہے: میں جس کی تعریف کر رہا ہوں، جس بادشاہ کی، جو میرا ممدوح ہے، ساری چیزیں اس کی خدمت میں لگی ہوئی ہیں، وہ اتنا عظیم آدمی ہے، ساری چیزیں اس کی خدمت کر رہی ہیں۔ تو شاعر کہتا ہے کہ میرا ممدوح جو ہے ساری چیزیں اس کی خدمت میں لگی ہوئی ہیں اور جو جوزاء ہے وہ بھی اس کی خدمت کے لیے تیار کھڑا ہے، تیاری اس نے کر رکھی ہے۔ اگر جوزاء نے اس کی خدمت کی تیاری نہ کی ہوتی، وہ اس کی خدمت کے لیے تیار نہ ہوتا تو اس نے اپنی کمر پر کمربند نہ باندھا ہوتا۔ آپ دیکھتے ہیں کہ بعض آدمی جب وہ کوئی کام وغیرہ کرنے لگتے ہیں، کمر پر وہ رومال وغیرہ باندھ لیتے ہیں بھئی، تو اس طرح شاعر کہتا ہے جوزاء نے بھی کیا کر رکھا ہے؟ میرے ممدوح کی خدمت کرنے کے لیے تیار ہے اور اپنی کمر پر اس نے کمربند کمربند باندھ لیا ہے، وہ اس کی خدمت کے لیے تیار ہے۔ معنی سمجھ میں آیا؟ اب دیکھیے، یہ کوئی حقیقی علت ہے؟ وہ ستارے دائرے کی صورت میں اس لیے ہیں کہ وہ اس کی ممدوح کی خدمت کے لیے جوزاء تیار ہے؟ تو دیکھو یہ غیر حقیقی علت بیان کر رہا ہے بھئی جو حقیقت سے اس کا تعلق نہیں۔ لیکن بہرحال غرابت ہے اس کے اندر، ایک انوکھی علت بیان کر دی کہ یہ ستارے کیوں دائرے کی شکل میں جمع ہیں؟ کیونکہ دراصل جوزاء نے کیا کر رکھا ہے؟ میرے ممدوح کی خدمت کا ارادہ کر رکھا ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو دوبارہ ترجمہ دیکھیے: حُسْنُ التَّعْلِيلِ، حسنِ تعلیل جو ہے: هُوَ أَنْ يُدَّعَى لِوَصْفٍ عِلَّةٌ غَيْرُ حَقِيقِيَّةٍ فِيهَا غَرَابَةٌ، کہ دعویٰ کیا جائے، هُوَ أَنْ يُدَّعَى، یہ کہ دعویٰ کرنا لِوَصْفٍ کسی وصف کے لیے، عِلَّةٌ غَيْرُ حَقِيقِيَّةٍ، ایک ایسی غیر حقیقی، بھئی دیکھیے، عِلَّةٌ ہے موصوف، یہ کیا ہے؟ موصوف۔ غَيْرُ حَقِيقِيَّةٍ، یہ ہے اس کی صفتِ اول۔ غیر حقیقیۃ کیا ہے علت کے لیے؟ صفتِ اول۔ اور فِيهَا غَرَابَةٌ، فِيهَا ہے خبرِ مقدم اور غَرَابَةٌ ہے اسمِ مؤخر، مبتدائے مؤخر۔ مبتدا خبر مل کر ہوا جملہ، اور جملہ بھی کس کے حکم میں ہوتا ہے؟ نکرہ کے حکم میں، تو لہٰذا یہ دوسرا نکرہ آیا، یہ صفتِ ثانی ہے علت کے لیے۔ ایک علت کی صفت کیا؟ غیر حقیقی، اور دوسری صفت کیا؟ فیہا غرابۃ، یہ پورا جملہ بھی صفت ہے۔ اور موصوف اب ترجمہ کیسے کرتے ہیں بھئی؟ بھئی وہ میں شاید پہلے آپ کو بتا چکا ہوں، موصوف صفت کا اردو میں ترجمہ کرنے کی دو صورتیں ہیں: ایک صورت یہ کہ صفت کو صفت عربی میں تو مؤخر ہوتی ہے لیکن اردو میں اس کو مقدم کر دیا جاتا ہے۔ جیسے آپ کہتے ہیں، عربی میں کہتے ہیں: "رَجُلٌ شُجَاعٌ"، رَجُلٌ کیا ہے؟ موصوف، اور شُجَاعٌ کیا ہے؟ صفت، اور صفت دیکھو موصوف سے مؤخر ہے، لیکن اردو میں صفت مقدم ہوتی ہے، اردو میں اسی کو آپ کیسے ترجمہ کریں گے اس کا؟ بہادر آدمی، دیکھو بہادر کا لفظ پہلے آیا اور آدمی کا لفظ بعد میں، تو صفت اردو میں مقدم ہوتی ہے۔ دوسری صورت جو عام میں ذکر کرتا ہوں کہ موصوف کو چاہے آپ مقدم ہی رکھیں، موصوف جیسے عربی میں پہلے ہے اردو میں بھی کیا کریں؟ پہلے، اور لیکن اس سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لے آئیں: ایسا آدمی شُجَاعٌ جو بہادر ہے، یہ دوسری صورت ہے بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو یہاں دو صفات آئیں، اب ہم دونوں طریقوں کو استعمال کر لیتے ہیں: ایک صفت کو مقدم کر دیتے ہیں اور دوسری کے لیے کیا لفظ لے آتے ہیں؟ ایسا یا ایسی کا۔ تو غَيْرُ حَقِيقِيَّةٍ اس کو ہم علت کی پر مقدم کر دیں گے ترجمے میں اور فِيهَا غَرَابَةٌ کے لیے شروع میں کیا لے آئیں گے؟ ایسا یا ایسی۔ تو دیکھیے: عِلَّةٌ غَيْرُ حَقِيقِيَّةٍ، ایسی غیر حقیقی علت، فِيهَا غَرَابَةٌ جس کے اندر کیا ہو؟ غرابت ہو، انوکھا پن ہو۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں: حُسْنُ التَّعْلِيلِ: هُوَ أَنْ يُدَّعَى لِوَصْفٍ عِلَّةٌ غَيْرُ حَقِيقِيَّةٍ فِيهَا غَرَابَةٌ، حسنِ تعلیل جو ہے وہ یہ کہ دعویٰ کیا جائے کسی وصف کے لیے ایسی غیر حقیقی علت کا جس کے اندر غرابت ہو، كَقَوْلِهِ، جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے: لَوْ لَمْ تَكُنْ نِيَّةُ الْجَوْزَاءِ خِدْمَتَهُ لَمَا رَأَيْتَ عَلَيْهَا عِقْدَ مُنْتَطَقِ، اگر نہ ہوتی جوزاء کی نیت خدمتہ، میرے اس ممدوح کی خدمت، لما رايت، تو البتہ آپ نہ دیکھتے علیہا اس جو اس جوزاء پر، کیا نہ دیکھتے؟ عِقْدَ مُنْتَطَقِ۔ عقد کہتے ہیں ہار کو، عربی میں عِقْدٌ کسے کہتے ہیں؟ ہار کو۔ اور یہاں کمربند کو ہار کہا، ہار۔ میں نے مثال ذکر کی، جو بھی چیز کمر پر باندھی جائے وہ کیا ہے؟ کمربند ہے۔ اسی طرح بعض عورتیں وہ کمربند استعمال کرتیں اور اس کے اوپر موتی وغیرہ چیزیں اتنی لگی ہوتیں کہ گویا وہ کیا صورت اختیار کر لیتا؟ ہار جیسا ہی بن جاتا۔ تو وہ بھی تو یہاں پر بھی چونکہ وہ ستارے ہیں تو کس صورت میں ہیں؟ جنہوں نے دائرہ بنایا ہوا ہے، وہ ستارے ہیں تو موتیوں کی طرح ہیں، تو ان سے گویا کیا بن رہا ہے؟ کمربند ہے لیکن کمربند بھی کس صورت میں ہے؟ ہار کی صورت میں ہے، اس لیے اس کو عقد کہا۔ اور منتطق، منتطق یاد رکھو طا پر فتحہ پڑھنا ہے، منتتق نہیں، یہاں پہ یہ کسرہ غلط لگا ہوا ہے، مُنْتَطَق بھئی، طا پر فتحہ، یہ اسمِ مفعول کا صیغہ ہے۔ اِنْتَطَقَ کے معنی ہوتے ہیں کمربند باندھنا، تو منتطِق یہ اسمِ فاعل ہوگا اور اس کا معنی ہوگا کمربند باندھنے والا، اور منتطَق وہ جس کو باندھا گیا ہے، وہ وہ کمربند جس کو باندھا گیا ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھیے: عِقْدَ مُنْتَطَقِ، یہ مضاف مضاف الیہ ہیں لیکن یہاں موصوف کی اضافت ہو رہی ہے صفت کی طرف۔ عقد اصل میں ہے موصوف اور منتطق ہے اس کی صفت، اور آپ نے قافیہ اور شرح جامی وغیرہ میں پڑھا ہوگا کہ کبھی کبھار کیا کر دیا جاتا ہے؟ موصوف کی اضافت کر دی جاتی ہے کس کی طرف؟ صفت کی طرف۔ تو اصل میں یوں ہے، عبارت یوں ہے گویا: "لَمَا رَأَيْتَ عَلَيْهَا عِقْدًا مُنْتَطَقًا"، عِقْدًا مُنْتَطَقًا، ایسا ہار منتطقاً جسے کمر پر باندھا گیا ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ عقداً کو میں نے کیا بنایا؟ موصوف، اور منتطقاً کو کیا بنایا؟ صفت۔ "لَمَا رَأَيْتَ عَلَيْهَا عِقْدًا مُنْتَطَقًا"، تو اگر جوزاء کی نیت میرے ممدوح کی خدمت نہ ہوتی تو آپ اس کے اوپر عِقْدًا مُنْتَطَقًا یعنی باندھا ہوا وہ ہار جو کمر پر باندھا گیا ہے اس کو نہ دیکھتے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لَمَا رَأَيْتَ عَلَيْهَا عِقْدَ مُنْتَطَقِ، لیکن اس وقت اضافت کی صورت میں پڑھنا ہے آپ نے بھئی، تو البتہ آپ نہ دیکھتے اس پر عِقْدَ مُنْتَطَقِ کمر پر باندھے ہوئے ہار کو اس پر آپ نہ دیکھتے بھئی۔ یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ حسنِ تعلیل کسے کہتے ہیں؟ کسی چیز کی غیر حقیقی کوئی ایسی علت بیان کر دینا جس کے اندر انوکھا پن ہو بھئی۔ اگلی صنعت، آگے دیکھیے: اِئْتِلَافُ اللَّفْظِ مَعَ الْمَعْنَى، اگلی صنعت ہے بھئی: اِئْتِلَافُ اللَّفْظِ مَعَ الْمَعْنَى۔ ائتلاف کا معنی ہے موافق ہونا، لفظ کا معنی کے ساتھ موافق ہونا، لفظ کا معنی کے ساتھ موافق ہونا۔ یعنی جس طرح کی آپ بات کرنا چاہتے ہیں، لفظ بھی اسی جیسے لے آتے ہیں۔ مثلاً آپ بہادری، شجاعت اور جنگوں کی بات کرنا چاہتے ہیں، آپ بڑے سخت اور ہیبت والے الفاظ اپنے کلام میں استعمال کریں، تو دیکھو اپ کے الفاظ کس کے موافق ہو گئے؟ معنی کے۔ یا آپ عشق و محبت والی بات کرنا چاہتے ہیں تو بڑے میٹھے میٹھے، نرم نرم الفاظ اور نازک الفاظ لے کر آئیں اپنے کلام میں، تو دیکھو آپ کے الفاظ کس کے موافق ہو گئے؟ معنی کے موافق ہو گئے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ اِئْتِلَافُ اللَّفْظِ مَعَ الْمَعْنَى۔ تو کہتے ہیں: اِئْتِلَافُ اللَّفْظِ مَعَ الْمَعْنَى، لفظ کا موافق ہونا معنی کے ساتھ: هُوَ أَنْ تَكُونَ الْأَلْفَاظُ مُوَافِقَةً لِلْمَعَانِي، وہ یہ کہ الفاظ جو ہیں معانی کے موافق ہوں، فَتُخْتَارُ، فا، تختا، یہ اس کو مجہول کا صیغہ پڑھنا بھئی، معروف نہیں، فَتُخْتَارُ الْأَلْفَاظُ الْجَزْلَةُ، پس اختیار کیا جائے گا الْأَلْفَاظُ الْجَزْلَةُ سخت الفاظ کو، وَالْعِبَارَاتُ الشَّدِيدَةُ، اور شدید سخت عبارتوں کو، لِلْفَخْرِ وَالْحَمَاسَةِ، فخر اور حماسہ کہتے ہیں بہادری کو۔ فخر اور بہادری کے لیے سخت الفاظ اور شدید عبارتوں کو، سخت عبارتوں کو، تیز عبارتوں کو اختیار کیا جاتا ہے، کیا کیا جاتا ہے؟ اختیار کیا جاتا ہے۔ یاد رکھیے: الْأَلْفَاظُ الْجَزْلَةُ یہ ہے معطوف علیہ، وَالْعِبَارَاتُ الشَّدِيدَةُ یہ کیا ہے؟ معطوف، اور یہ عطفِ تفسیری ہے، عطفِ تفسیری۔ میں عطفِ تفسیری پہلے بیان کر چکا ہوں، کسے کہتے ہیں؟ جس میں معطوف یعنی وہ جو بعد میں آ رہا ہے ماقبل کی تفسیر بیان کرے۔ تو اگر آپ سے کوئی پوچھے: "الْأَلْفَاظُ الْجَزْلَةُ" کا کیا معنی؟ آپ کہیں گے: "الْعِبَارَاتُ الشَّدِيدَةُ"، یہ اسی کا معنی بیان ہو رہا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَتُخْتَارُ الْأَلْفَاظُ الْجَزْلَةُ وَالْعِبَارَاتُ الشَّدِيدَةُ لِلْفَخْرِ وَالْحَمَاسَةِ، پس اختیار کیا جاتا ہے سخت الفاظ کو اور تیز عبارتوں کو فخر اور شجاعت کے لیے، وَتُخْتَارُ الْكَلِمَاتُ الرَّقِيقَةُ وَالْعِبَارَاتُ اللَّيِّنَةُ لِلْغَزَلِ وَنَحْوِهِ، اور اختیار کیا جاتا ہے الْكَلِمَاتُ الرَّقِيقَةُ، بھئی یہ الْجَزْلَةُ اس میں بھی دیکھیے یہ زا پر فتحہ ہے، یہ غلط کتابت کی غلطی ہے، زا کو ساکن پڑھنا ہے۔ اور اسی طرح بعض لفظوں پر فتنصب لگا ہوا ہے، نصب نہیں بلکہ ان پر پیش لگائیں بھئی۔ وَتُخْتَارُ الْكَلِمَاتُ الرَّقِيقَةُ وَالْعِبَارَاتُ اللَّيِّنَةُ، اور اختیار کیا جاتا ہے الْكَلِمَاتُ الرَّقِيقَةُ نازک کلمات کو، وَالْعِبَارَاتُ اللَّيِّنَةُ اور نرم عبارتوں کو، لیّن کا کیا معنی؟ نرم۔ اور یہ بھی عطفِ تفسیری ہے۔ اگر کوئی آپ سے پوچھے: "الْكَلِمَاتُ الرَّقِيقَةُ"، رقیق کلمات، کیا معنی؟ آپ کہیں گے: "الْعِبَارَاتُ اللَّيِّنَةُ"، یہ اسی کا معنی بیان ہو رہا ہے، نازک کلمات یعنی نرم عبارتیں، نرم الفاظ والی۔ لِلْغَزَلِ، غزل کہتے ہیں بھئی عورتوں سے عشق و محبت کی بات کرنا، تو دیکھو غزل کے لیے نرم اور نازک کلمات اور عبارتوں کو اختیار کیا جاتا ہے، وَنَحْوِهِ اور اس جیسی چیزوں کے لیے، كَقَوْلِهِ، جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے۔ شاعر کہتا ہے: إِذَا مَا غَضِبْنَا غَضْبَةً مُضَرِيَّةً هَتَكْنَا حِجَابَ الشَّمْسِ أَوْ قَطَرَتْ دَمَا إِذَا مَا أَعَرْنَا سَيِّدًا مِنْ قَبِيلَةٍ ذُرَا مِنْبَرٍ صَلَّى عَلَيْنَا وَسَلَّمَا إِذَا مَا غَضِبْنَا، شاعر پہلے اپنی شجاعت، اپنے قبیلے کی بیان کر رہا ہے، دیکھیے کتنے سخت الفاظ لے کر آتا ہے: إِذَا مَا غَضِبْنَا، جب ہم لوگ غضبناک ہوتے ہیں، ہمیں غصہ چڑھتا ہے، غَضْبَةً مُضَرِيَّةً، مضر قبیلے جیسا غصہ۔ قبیلۂ مضر عرب کا ایک بہت بڑا اور مشہور قبیلہ تھا بھئی، تو معلوم ہوا ان کا کوئی غضب وغیرہ زیادہ مشہور ہوگا اس لیے اس کی طرف نسبت کر رہا ہے۔ إِذَا مَا غَضِبْنَا، جب ہم لوگ غضبناک ہوتے ہیں، ہمیں غصہ چڑھتا ہے، غَضْبَةً مُضَرِيَّةً، مضر قبیلے جیسا غصہ، هَتَكْنَا، ہتک کا معنی ہوتا ہے پھاڑنا، حجاب کہتے ہیں پردے کو، هَتَكْنَا حِجَابَ الشَّمْسِ، تو ہم سورج کے پردے کو پھاڑ دیتے ہیں۔ جب ہم لوگوں کو مضر قبیلے جیسا غصہ چڑھتا ہے تو ہم کیا کرتے ہیں؟ سورج کے پردوں کو بھی چاک سورج کے پردوں کو چاک کر دیتے ہیں، أَوْ قَطَرَتْ دَمَا، أَوْ یہاں پر بھی یہاں پر إِلَى کے معنی میں، إِلَى أَنْ۔ إِلَى أَنْ، یہاں تک کہ قَطَرَتْ دَمًا، قَطَرَتْ کے اندر ہِیَ ضمیر شمس کو راجع، یہاں تک کہ وہ سورج خون اس سے ٹپکنے لگتا ہے، اس سورج سے خون ٹپکنے لگتا ہے۔ تو دیکھیے، اپنی شجاعت کی بات کر رہا ہے، اب کتنے سخت الفاظ وہ لے کر آیا: غَضِبْنَا اور غَضْبَةً مُضَرِيَّةً اور هَتَكْنَا اور اسی طرح قَطَرَتْ دَمًا بھئی، یہاں کہ اس سے خون ٹپکنے لگتا ہے۔ اور آگے اب فخر کی بات کرنے لگا ہے تو دیکھیے فخر جیسے الفاظ لائے گا، کہتا ہے: إِذَا مَا أَعَرْنَا سَيِّدًا مِنْ قَبِيلَةٍ ذُرَا مِنْبَرٍ صَلَّى عَلَيْنَا وَسَلَّمَا إِذَا مَا، جس وقت کہ أَعَرْنَا، أَعَارَ يُعِيرُ عاریت سے ہے، یہ عاریت سے۔ أَعَارَ يُعِيرُ عاریت، تو عاریتاً بھئی کسی کو کوئی چیز استعمال کے لیے دینا اس کو کیا کہتے ہیں؟ عاریت۔ إِذَا مَا أَعَرْنَا، جب ہم بطورِ عاریت کے دیتے تھے دے دیتے ہیں، کس کو؟ سَيِّدًا مِنْ قَبِيلَةٍ، کسی قبیلے کے سردار کو، جب ہم بطورِ عاریت کے دے دیتے ہیں، کیا دے دیتے ہیں؟ اگلے مصرعے میں آ رہا ہے: ذُرَا مِنْبَرٍ، یہ ذِی مِنْبَرٍ نہیں ہے، یہ کتابت کی غلطی ہے، ذُرَا مِنْبَرٍ۔ اور ذرا جمع ہے ذروۃ کی، اور ذروۃ کہتے ہیں بلندی کو، کس کو؟ بلندی، تو ذرا اس کی جمع ہوئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ذرا یہ ذروۃ کی جمع ہے، ذرا ذرا منبر، اور یہ ذرا بھی یا کے ساتھ ہی ہے بھئی، صرف درمیان میں را رہ گئی ہے: ذرا منبر، ذرا۔ تو جب ہم کسی قبیلے کے سردار کو عاریت کے طور پر دے دیتے ہیں ذُرَا مِنْبَرٍ، منبر کی بلندیاں جب ہم ان کو دے دیتے ہیں بطورِ عاریت کے، صَلَّى عَلَيْنَا، تو وہ ہمارے لیے دعائیں کرتا ہے، وَسَلَّمَا، اور سلام کرتا ہے۔ دیکھیے، فخر کی باتیں آئیں تو دیکھو سید، قبیلہ اور منبر کی ذرا منبر آیا اور صَلَّى عَلَيْنَا وَسَلَّمَا بھئی، اتنی۔ عبارت پر نظر ہے بھئی؟ دوبارہ ترجمہ دیکھ لیجیے شعر کا: إِذَا مَا غَضِبْنَا غَضْبَةً مُضَرِيَّةً هَتَكْنَا حِجَابَ الشَّمْسِ أَوْ قَطَرَتْ دَمَا، إِذَا مَا أَعَرْنَا سَيِّدًا مِنْ قَبِيلَةٍ ذُرَا مِنْبَرٍ صَلَّى عَلَيْنَا وَسَلَّمَا، جب ہم غضبناک ہوتے ہیں مضر قبیلے کی طرح غضبناک، تو ہم چاک کر دیتے ہیں، ہم پھاڑ دیتے ہیں سورج کے پردے کو، یہاں تک کہ اس سے خون ٹپکنے لگتا ہے۔ اور جب ہم بطورِ عاریت کے کسی قبیلے کے سردار کو منبر کی بلندیاں دے دیتے ہیں تو وہ ہمارے لیے دعا کرتا ہے اور سلام کرنے لگتا ہے۔ یعنی وہ سردار بھی ہمارے لیے دعائیں اور ہمیں سلام کرنے لگتا ہے تو باقی پورا قبیلہ بھی اس کے تابع ہوتا ہے، وہ بھی ہمیں کیا کرنے لگتا ہے؟ سلام اور دعائیں ہمارے لیے کرنے لگتے ہیں، یعنی ہم اتنے عظیم لوگ ہیں۔ وَكَقَوْلِهِ، اور جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے: لَمْ يَطُلْ لَيْلِي وَلَكِنْ لَمْ أَنَمْ وَنَفَى عَنِّي الْكَرَى طَيْفٌ أَلَمْ اب دیکھیے، اب عشق و محبت کی بات آئی اگلے شعر میں، تو شاعر کتنے نرم الفاظ استعمال کر رہا ہے۔ شاعر کہتا ہے: لَمْ يَطُلْ، لَمْ يُطِلْ نہیں بھئی، یہ یہ غلط اعراب لگے ہیں، لَمْ يَطُلْ لَيْلِي۔ لیلی میں یا متکلم کی آخر میں، میری رات لمبی نہیں ہوئی، میری رات لمبی نہیں ہوئی۔ وَلَكِنْ لَمْ أَنَمْ، نَامَ يَنَامُ کے معنی سونا۔ وَلَكِنْ لَمْ أَنَمْ، لیکن میں نہیں سویا، وَنَفَى عَنِّي الْكَرَى، کرا کہتے ہیں اونگھ کو بھئی، اونگھ آنا، نیند سے پہلے اونگھ آنا، اسی طرح نیند کو بھی کہتے ہیں، لیکن یہاں اونگھ ہے بھئی، یا نیند لے لیں، وَنَفَى عَنِّي الْكَرَى، اور مجھ سے نفی کر دی اونگھ کی، مجھ سے اونگھ کو دور کر دیا، کس چیز نے دور کر دیا اونگھ اور نیند کو مجھ سے؟ یہ فاعل آگے ہے: طَيْفٌ، طیف کہتے ہیں خیال کو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ طَيْفٌ کس کو کہتے ہیں؟ خیال کو۔ اور طَيْفٌ موصوف ہے، اور آگے أَلَمَّ، أَلَمَّ یہ فعل ہے بھئی۔ أَلَمَّ يُلِمُّ إِلْمَامًا کے معنی ہوتے ہیں کسی چیز کا ساتھ جڑ جانا، لاحق ہو جانا، مل جانا، اس کو کیا اس کے لیے کیا فعل استعمال ہوتا ہے؟ أَلَمَّ يُلِمُّ إِلْمَامًا۔ طَيْفٌ أَلَمَّ، دیکھو نکرہ کے بعد فعل آیا تو موصوف صفت والا ترجمہ، اور موصوف سے پہلے کیا لائیں گے؟ ایسا یا ایسی۔ لیکن مجھ سے دور کر دیا نیند کو طَيْفٌ أَلَمَّ، ایک ایسے خیال نے جو مجھے آ گیا تھا، جو مجھے آ گیا تھا یعنی جو میری عشق اور محبت میں مجھے جو عشق میں جس درد میں، جس تکلیف میں میں مبتلا تھا اس وہ خیال آیا اور پھر میری نیند ہی اڑ گئی، اس کے بعد پھر مجھے نیند نہیں آئی بھئی۔ تو دیکھیے، اب عشق و محبت کی بات تھی تو شاعر بڑے ہی نرم لفظ لایا: لَمْ يَطُلْ لَيْلِي، لَمْ أَنَمْ، نَفَى عَنِّي الْكَرَى، طَيْفٌ أَلَمْ، سمجھ میں آیا بھئی؟ لَمْ يَطُلْ لَيْلِي وَلَكِنْ لَمْ أَنَمْ، اچھا أَنَمْ، دیکھیے: أَنَمْ پڑھا ہے نا، تو آخر میں فعل ہے أَلَمَّ، اس کو بھی پڑھیں گے: أَلَمْ، کیسے پڑھیں گے؟ أَلَمْ، لیکن دراصل فعل کیا ہے؟ أَلَمَّ، تو ایک میم کو بھی حذف کر دیا اور آخر میں ساکن بھی پڑھ دیا ضرورتِ شعری کی بنا پر، کیونکہ شعر میں بہت سی ایسی چیزیں جائز ہوتی ہیں جو بغیر عام کلام کے اندر جن کی گنجائش نہیں۔ لَمْ يَطُلْ لَيْلِي، میری رات لمبی نہیں ہوئی، یعنی رات بھی لمبی نہیں تھی، نیند بھی نہیں آئی مجھے اس خیال کی وجہ سے اور پھر رات بھی لمبی نہ ہوئی کہ میں اس میں کیا کر لیتا؟ پھر نیند کو پورا کر لیتا۔ لَمْ يَطُلْ لَيْلِي، میری رات لمبی نہیں ہوئی، وَلَكِنْ لَمْ أَنَمْ، لیکن میں نہیں سویا، وَنَفَى عَنِّي الْكَرَى، اور نفی کر دی مجھ سے، دور کر دیا مجھ سے اونگھ کو، طَيْفٌ أَلَمَّ، ایک ایسے خیال نے جو جو میرے ساتھ لگ گیا تھا، جو میرے ساتھ لاحق ہو گیا بھئی۔ اچھا بھئی، ایک معنی تو میں نے یہ بتلا دیا: طَيْفٌ أَلَمَّ، طَيْفٌ أَلَمَّ، طَيْفٌ کو بنایا موصوف اور أَلَمَّ کو اس کی صفت بنایا، صفت بنایا۔ تو اور دوسرے دوسری ترکیب دوسرا ترجمہ آپ کرنا چاہیں وہ بھی کر سکتے ہیں کہ آپ "طَيْفُ أَلَمٍ" کو مضاف مضاف الیہ بنا دیں۔ طیف کا معنی ہے خیال، اور الم کہتے ہیں تکلیف کو، دکھ اور درد کو، تکلیف، دکھ اور درد۔ تو شاعر کہتا ہے: لَمْ يَطُلْ لَيْلِي، میری رات لمبی نہیں ہوئی، وَلَكِنْ لَمْ أَنَمْ، لیکن میں نہیں سویا، وَنَفَى عَنِّي الْكَرَى، اور دور کر دیا مجھ سے نیند کو، کس چیز نے؟ طَيْفُ أَلَمٍ، یہ مضاف مضاف الیہ ہیں، أَيْ: طَيْفُ أَلَمٍ، طَيْفُ أَلَمٍ، کس چیز نے نیند کو دور کر دیا مجھ سے؟ طَيْفُ أَلَمٍ، ایک درد کے خیال نے، ایک درد کے خیال نے مجھ سے نیند کو دور کر دیا، درد کے خیال نے۔ تو جس طرح بھی آپ پڑھنا چاہیں پڑھ سکتے ہیں، چاہے اضافت والی صورت بنائیں چاہے موصوف صفت والی بھئی۔ تو بعض علماء نے یہ ترجمہ کیا ہے، یہ جو ابھی میں نے ذکر کیا اضافت والا، اور بعض کبار علماء نے وہ موصوف صفت والا ترجمہ اس کا ذکر کیا بھئی۔ چلیے بھئی، بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔