Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-079

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 7
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔79 اَلطَّيُّ وَالنَّشْرُ: هُوَ ذِكْرُ مُتَعَدِّدٍ عَلَى التَّفْصِيلِ أَوِ الْإِجْمَالِ، ثُمَّ ذِكْرُ مَا لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنَ الْمُتَعَدِّدِ مِنْ غَيْرِ تَعْيِينٍ اعْتِمَادًا عَلَى فَهْمِ السَّامِعِ، كَقَوْلِهِ تَعَالَى: جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوا فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ، فَالسُّكُونُ رَاجِعٌ إِلَى اللَّيْلِ، وَالِابْتِغَاءُ رَاجِعٌ إِلَى النَّهَارِ۔ علمِ بدیع کے اندر محسناتِ معنویہ کا ذکر چل رہا ہے بھئی۔ اب تک بارہ مختلف اقسام کی صنعتیں آپ پڑھ چکے ہیں جن کی وجہ سے معنی کے اندر حسن پیدا ہوتا ہے۔ آج ہم طی و نشر کے بارے میں پڑھیں گے بھئی۔ طی کا معنی ہے لپیٹنا، لپیٹنا، نشر کا معنی ہے کھولنا۔ طی و طی و نشر بھئی۔ نیز اسی کو لف و نشر بھی کہتے ہیں بھئی، لف و نشر آپ عام پڑھتے رہتے ہوں گے۔ طی اور لف کا ایک معنی ہے، لف کا معنی بھی لپیٹنا۔ اسی کو طی و نشر بھی کہتے ہیں اور لف و نشر بھی کہتے ہیں بھئی۔ بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے ایک صنعت پڑھی تھی تقسیم بھئی، تقسیم۔ اور تقسیم کی ایک صورت یہ تھی کہ متعدد چیزوں کو ذکر کیا جائے اور پھر ہر ایک سے متعلقہ کوئی بات ذکر کی جائے آگے، اور اس میں بھی تعیین ہو کہ مثلاً پہلی بات کا تعلق پہلی چیز سے ہے، دوسری کا تعلق دوسری سے ہے، تیسری کا تعلق تیسری سے ہے، تعیین ہوتی ہے تو اس کو کہتے تھے تقسیم۔ اور بعینہٖ یہی صورت ہو لیکن اگر تعیین نہ ہو تو اسی کو کہیں گے لف و نشر بھئی۔ متعدد چیزیں ذکر ہوں اور پھر آگے ہر ایک سے متعلقہ کوئی حکم یا کوئی بات ذکر کی جائے اور تعیین نہ کی جائے کہ پہلی بات کا تعلق کس سے ہے، دوسری کا کس سے ہے، تیسری کا کس سے ہے، بلکہ تعیین سامع کے حوالے کر دی جائے کہ سننے والا خود ہی سمجھ جائے گا پہلی بات کا تعلق کس سے ہے، دوسری کا کس سے ہے، اور تیسری کا کس سے ہے، تو اس کو کہتے ہیں لف و نشر بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ لف و نشر۔ تو تقسیم میں اور لف و نشر میں صرف کیا فرق آیا؟ ہاں، تقسیم کے اندر تعیین ہوگی، لف و نشر کے اندر تعیین نہیں ہوگی۔ تو کہتے ہیں: اَلطَّيُّ وَالنَّشْرُ: هُوَ ذِكْرُ مُتَعَدِّدٍ عَلَى التَّفْصِيلِ أَوِ الْإِجْمَالِ، طی و نشر جو ہے وہ ذکر کرنا ہے متعدد چیزوں کو علی التفصیل تفصیل کے طریقے پر، أَوِ الْإِجْمَالِ یا اجمال کے طریقے پر۔ بھئی طی و نشر، لف و نشر، پہلے کیا کیا جاتا ہے اس میں؟ متعدد چیزوں کو ذکر کیا جائے گا اور پھر آگے ہر ایک سے متعلقہ حکم یا کوئی بات ذکر کی جائے گی، تو یہ جو متعدد چیزوں کو ذکر کیا جائے گا ان کو ذکر کرنے کی دو صورتیں ہیں: یا تو تفصیل کے طریقے پر متعدد چیزیں ذکر ہوں گی یا اجمالاً ذکر ہوں گی۔ اجمالاً یہ کہ ساروں کو اکٹھا ذکر کر دیں، مثلاً میں کہتا ہوں: "جَاءَنِي ثَلَاثَةُ رِجَالٍ"، میرے پاس تین آدمی آئے، ایک صورت یہ ہے۔ ایک صورت یہ ہے میں یوں کہوں: "جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو وَبَكْرٌ"۔ تو اگر ہر ایک کا علیحدہ ذکر ہے تو اس کو کہیں گے تفصیل: "جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو وَبَكْرٌ"، یہ ہے تفصیل کے طریقے پر میں نے متعدد چیزوں کو ذکر کیا، ہر ایک کا علیحدہ ذکر کر رہا ہوں۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ سب کو اکٹھا ذکر کر دیتا ہوں: "جَاءَنِي ثَلَاثَةُ رِجَالٍ"، اب یہ ہے اجمالاً بھئی، جس میں یہ نہیں ذکر کون کون، زید ہے، عمرو، بکر، علیحدہ علیحدہ سب کے نام ذکر نہیں۔ تفصیل اور اجمال میں فرق سمجھ میں آیا؟ متعدد چیزوں کو ذکر کرنے کی دو صورتیں: یا ان کو کیسے ذکر کیا جائے گا؟ اجمالاً اکٹھا ہی، یا تفصیلاً یعنی ہر ایک کا نام وغیرہ یا ہر ایک کے لیے لفظ کو علیحدہ ذکر کیا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: هُوَ ذِكْرُ مُتَعَدِّدٍ عَلَى التَّفْصِيلِ أَوِ الْإِجْمَالِ، وہ متعدد چیزوں کو ذکر کرنا ہے تفصیل پر یا اجمال پر، یعنی تفصیلی طور پر یا اجمالی طور پر، ثُمَّ ذِكْرُ مَا لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنَ الْمُتَعَدِّدِ مِنْ غَيْرِ تَعْيِينٍ، پھر ذکر کرنا اس بات کو جو ان میں سے ہر ایک کے لیے ہے، اس حکم کو جو ان میں سے ہر ایک کے لیے ہے، من المتعدد ان متعدد میں سے، من غیر تعیین بغیر کسی تعیین کے، اعْتِمَادًا عَلَى فَهْمِ السَّامِعِ، اعتماد کرتے ہوئے کس پر؟ سامع کے فہم پر، وہ سمجھ جائے گا کہ پہلی بات کا تعلق کس سے ہے، دوسری کا کس سے ہے، اور تیسری کا کس سے ہے۔ كَقَوْلِهِ تَعَالَى، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے: جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، اور اللہ نے بنایا تمہارے لیے رات کو، وَالنَّهَارَ اور دن کو، لِتَسْكُنُوا فِيهِ، تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو، وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ، اور تاکہ تم تلاش کرو اس اللہ کے فضل میں سے یعنی روزی کو۔ اللہ نے تمہارے لیے رات کو اور دن کو بنایا تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور تاکہ اس میں روزی تلاش کرو بھئی۔ اب دیکھیے یہاں پر متعدد چیزوں کا ذکر آیا بھئی، کون کون سی؟ لیل اور نہار۔ یہ متعدد چیزیں، اور کس طریقے پر آیا؟ تفصیلاً آیا یا اجمالاً آیا؟ تفصیلاً آیا، لیل کا ذکر الگ، نہار کا ذکر الگ، تو یہ تفصیلاً ہے۔ پھر آگے ہر ایک سے متعلقہ بات ہو رہی ہے: "لِتَسْكُنُوا فِيهِ"، تاکہ تم اس میں کیا کرو؟ سکون حاصل کرو، یہ تعیین نہیں کی گئی سکون کس میں حاصل کرو، لیکن سننے والا خود سمجھ جاتا ہے کہ سکون کا تعلق کس سے ہے؟ رات سے ہے، اور تاکہ تم اس میں روزی تلاش کرو، سننے والا خود سمجھ جاتا ہے روزی تلاش کرنے کا تعلق کس سے ہے؟ دن کے ساتھ ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں متعدد چیزیں ذکر ہیں اولاً، اور وہ تفصیلاً ہیں یا اجمالاً ہیں؟ تفصیلاً ہیں، اور پھر ہر ایک سے متعلقہ بات ذکر ہے اور سننے والے کے حوالے ہے، وہ خود سمجھ جاتا ہے۔ یہاں ایک اشکال ہوتا ہے، اشکال یہ کہ آپ ذکر کر رہے ہیں لف و نشر کو، اور آپ نے بتلایا کہ لف و نشر اور تقسیم میں کیا فرق ہے؟ کہ تقسیم میں تعیین ہوتی ہے اور لف و نشر میں تعیین نہیں۔ تو اعتراض ہوتا ہے کہ یہاں پر تو آیا: "لِتَسْكُنُوا فِيهِ"، "فِيهِ" کی ہا ضمیر تو قطعی طور پر لیل کو راجع ہے، تو تعیین تو آ گئی، کیا آ گئی؟ تاکہ تم اس رات میں سکون حاصل کرو، تو تعیین آ گئی یہاں پر۔ تو یہ تو لف و نشر کی قسم نہیں بنی بلکہ کس میں ہونا چاہیے؟ تقسیم کے اندر داخل ہونا چاہیے۔ تو جواب یہ کہ بھئی یہ "فِيهِ" کی ہا ضمیر اس میں احتمال تھا، لیل کو بھی راجع ہو سکتی تھی اور نہار کو بھی راجع ہو سکتی تھی، لیکن یہ لیل کو راجع کی کس سے پتہ چلا؟ یہ جو سکون اور روزی تلاش ان دونوں معنی کے اندر ہم نے غور کیا اس سے ہمیں پتہ چلا اور کہ یہ "فِيهِ" کی ضمیر کو کس کو لوٹانا پڑے گا؟ لیل کو، ورنہ فی ذاتہٖ اس ہا ضمیر کے اندر احتمال تھا، یہ نہار کو بھی راجع ہو سکتی ہے کیونکہ نہار بھی واحد مذکر، اور لیل کو بھی راجع ہو سکتی ہے کیونکہ لیل کا لفظ بھی کیا ہے؟ واحد مذکر ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس میں دونوں احتمال تھے، لہٰذا یہ تعیین نہیں، تعیین تو پھر سننے والا سمجھ گیا کہ معلوم ہوا اس کا تعلق لیل سے ہے، اس کی طرف راجع کی بھئی۔ بات بھی سمجھ میں آ رہی ہے کہ مشکل ہے؟ دیکھیے آگے کہتے ہیں: فَالسُّكُونُ رَاجِعٌ إِلَى اللَّيْلِ، تو سکون جو ہے یہ لوٹ رہا ہے لیل کی طرف یعنی اس کا تعلق لیل سے ہے، وَالِابْتِغَاءُ رَاجِعٌ إِلَى النَّهَارِ، اور ابتغاء یعنی تلاش کرنا یعنی روزی کا یہ لوٹ رہا ہے کس کی طرف؟ نہار کی طرف یعنی اس کا تعلق نہار سے ہے۔ وَكَقَوْلِ الشَّاعِرِ، اور جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے: ثَلَاثَةٌ تُشْرِقُ الدُّنْيَا بِبَهْجَتِهَا شَمْسُ الضُّحَى وَأَبُو إِسْحَاقَ وَالْقَمَرُ ثَلَاثَةٌ، تین چیزیں ہیں، تُشْرِقُ الدُّنْيَا، أَشْرَقَ يُشْرِقُ کا معنی ہے روشن ہونا، کہ روشن ہوتی ہے دنیا، کہ روشن ہے دنیا بِبَهْجَتِهَا، بہجۃ کہتے ہیں خوبصورتی کو، حسن کو بھئی، کہ دنیا روشن ہے بِبَهْجَتِهَا ان کی خوبصورتی سے۔ شَمْسُ الضُّحَى، ایک تو چاشت کے وقت کا سورج ہے، چاشت کا وقت بھئی جب صبح جب سورج آسمان کے کنارے سے دو تین نیزے اونچا ہو جائے یعنی صبح کا وقت ہی کہیں بھئی۔ شَمْسُ الضُّحَى، ایک تو صبح کے وقت کا سورج ہے، وَأَبُو إِسْحَاقَ، اور ایک میرا ممدوح ہے جس کی میں تعریف کر رہا ہوں یعنی ابو اسحاق، وَالْقَمَرُ، اور تیسری چیز چاند ہے۔ دیکھیے، پہلے یہاں پر تین کو اکٹھا "ثَلَاثَةٌ" کہا گیا، اکٹھا ذکر کیا گیا بھئی، اجمالاً ذکر کیا گیا، اور پھر آگے تفصیل بیان کر دی گئی کہ وہ تین چیزیں کیا ہیں؟ شمس الضحیٰ ہے، ابو اسحاق ہے اور قمر ہے، تو یہ تین ان کی تفصیل آ گئی۔ تو پہلے ان کو تین "ثَلَاثَةٌ" کہہ کر ان سب کو لپیٹ دیا گیا تھا، ایک ہی لفظ میں تینوں کو ذکر کر دیا، اور پھر آگے ہر ایک کے کیا ذکر کر دیا؟ ہر ایک کا علیحدہ نام ذکر کر دیا، ہر ایک کا نام ذکر کر دیا، تو یہ کیا ہوا؟ لف و نشر۔ پہلے لپیٹ دیا اور پھر کھول دیا کہ یہ تین چیزیں ہیں بھئی جن سے دنیا روشن ہے اور چمک رہی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھیے بھئی، معلوم ہوا لف دو قسم کا ہو سکتا ہے: لف کے اندر متعدد چیزوں کا ذکر تفصیلاً بھی ہو سکتا ہے اور اجمالاً بھی ہو سکتا ہے۔ پہلی مثال جو آیت تھی اس کے اندر لف کے اندر تفصیل تھی، لیل اور نہار کا الگ الگ ذکر تھا، اور شعر کے اندر "ثَلَاثَةٌ"، یہاں لف کے اندر کیا ہے؟ اجمال ہے، اجمال۔ تو جہاں پر لف کے اندر تفصیل ہوتی ہے یاد رکھیے، لف کے اندر کیا ہو؟ تفصیل، یعنی متعدد چیزیں علیحدہ علیحدہ ذکر ہیں، پھر آگے ہر ایک سے متعلقہ جو حکم یا جو بات ذکر ہوتی ہے اس میں اگر وہی ترتیب ہو جو کس کے اندر تھی؟ لف کے اندر تھی، یعنی لف میں مثلاً تین چیزیں ذکر ہیں: زید، عمرو اور بکر، اور آگے نشر کے اندر جو حکم ذکر ہو رہا ہے وہاں بھی ترتیب اسی طرح ہے، پہلے حکم کا تعلق کس سے ہے؟ زید سے، دوسرے کا تعلق عمرو سے، اور تیسرے کا تعلق بکر سے، یعنی جو ترتیب لف میں تھی چیزوں کی، آگے نشر کے اندر ان کے احکام بھی اسی ترتیب سے آئیں تو اس کو کہتے ہیں لف و نشرِ مرتب۔ کیا کہتے ہیں؟ لف و نشرِ مرتب۔ اور اگر نشر کے اندر حکموں کی وہ ترتیب نہ رہے، ترتیب بدل جائے تو اس کو کہتے ہیں لف و نشرِ غیر مرتب۔ مثلاً تین چیزیں مثلاً ذکر ہوئیں اور بعد میں تین جو احکام بیان ہو رہے ہیں، پہلے حکم کا تعلق پہلی چیز سے نہیں ہے، مثلاً کس سے ہے؟ دوسری سے ہے، دوسرے حکم کا تعلق پہلی چیز سے ہے، تیسرے کا تعلق تیسری چیز سے ہے، تو دیکھو ترتیب وہ نہ رہی، لف میں اور ترتیب، نشر میں اور ترتیب، تو اس کو کہتے ہیں لف و نشرِ غیر مرتب۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو نشر میں اگر وہی ترتیب ہو جو لف والی تو کیا کہیں گے؟ لف و نشرِ مرتب، اور اگر وہ ترتیب نہ ہو تو؟ لف و نشرِ غیر مرتب۔ اور یہ صرف اسی صورت میں ہوگا جب لف کے اندر تفصیل ہوگی، تب ہی مرتب یا غیر مرتب اس کو کہہ سکتے ہیں۔ اگر لف کے اندر تفصیل نہیں بلکہ اجمال ہے: "ثَلَاثَةٌ"، پھر تو تینوں اکٹھے آ گئے، یہاں تو ترتیب یا عدمِ ترتیب کا سوال پیدا نہیں ہوتا بھئی۔ اگلی صنعت دیکھیے: إِرْسَالُ الْمَثَلِ وَالْكَلَامِ الْجَامِعِ: هُوَ أَنْ يُؤْتَى بِكَلَامٍ صَالِحٍ لِأَنْ يُتَمَثَّلَ بِهِ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ۔ ارسال المثل والکلام الجامع، مثل بھئی ضرب المثل، ضرب المثل، کہاوت، کہاوت، یا اسی طرح کوئی بامعنی جملہ یا مشہور قول وغیرہ جس سے کوئی عبرت یا نصیحت حاصل کی جائے اور اس قسم کے مواقع پر اس کو استعمال کیا جائے اس کو ضرب المثل کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ ضرب المثل کہتے ہیں۔ تو ارسال المثل، ارسال الکلام کا معنی ہوتا ہے بات کرنا، ارسال الکلام کا کیا معنی؟ بات کرنا، تو ارسال المثل کا کیا معنی ہوا؟ ضرب المثل بیان کرنا، ضرب المثل کے ساتھ بات کرنا۔ اسی طرح: وَالْكَلَامِ الْجَامِعِ، أَيْ: إِرْسَالُ الْكَلَامِ الْجَامِعِ، جامع کلام کے ساتھ بات کرنا، جامع ہو جو بھئی، جامع۔ ارسال المثل اور کلامِ جامع یہ کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: هُوَ أَنْ يُؤْتَى بِكَلَامٍ صَالِحٍ لِأَنْ يُتَمَثَّلَ بِهِ، وہ یہ کہ لایا جائے ایسا کلام صالح جو صلاحیت رکھتا ہے لِأَنْ يُتَمَثَّلَ بِهِ کہ اس کے ذریعے مثال بیان کی جائے، فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ، أَيْ: فِي مَوَاضِعَ كَثِيرَةٍ، بہت سی جگہوں میں۔ بھئی ضرب المثل بھی کس کو کہتے تھے؟ کوئی بامعنی جملہ یا مشہور قول جس سے عبرت یا نصیحت کے موقع پر ذکر کیا جاتا ہے، تو دیکھو اس قسم نصیحت یا عبرت کے موقع پر ہر جو اس کے مناسب موقع ہوگا اس موقع پر اس کلام کو ذکر کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح آپ کوئی ایسا شعر کہتے ہیں یا ایسا مصرع کہتے ہیں جس میں کوئی ایسا بامعنی جملہ ہے جسے اس قسم کے مواقع پر اور جگہوں پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہو تو اس کو کہیں گے ارسال المثل، یا ارسال الکلام الجامع کہیں گے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہتے ہیں: هُوَ أَنْ يُؤْتَى بِكَلَامٍ صَالِحٍ لِأَنْ يُتَمَثَّلَ بِهِ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ، وہ یہ کہ لایا جائے ایسا کلام جو صلاحیت رکھتا ہو کہ اس کے ذریعے مثال بیان کی جائے بہت سی جگہوں میں۔ وَالْفَرْقُ بَيْنَهُمَا، اب فرق بیان کر رہے ہیں دونوں میں کہ ارسال المثل اور ارسال الکلام الجامع میں کیا فرق ہے؟ کہتے ہیں: وَالْفَرْقُ بَيْنَهُمَا، اور فرق ان دونوں کے درمیان یہ ہے أَنَّ الْأَوَّلَ يَكُونُ بَعْضَ بَيْتٍ، کہ پہلا جو ہے وہ بعضِ بیت ہوگا یعنی شعر کا کچھ حصہ ہوگا، پورا شعر نہیں ہوگا، یعنی ارسال المثل میں کیا ہوگا؟ وہ جو بات ہوگی وہ مثلاً پورے شعر میں نہیں بلکہ شعر کے کچھ حصے میں مثلاً ایک مصرعے میں ہوگی، كَقَوْلِهِ، جیسے کہ کسی کا قول ہے، شاعر کا: لَيْسَ التَّكَحُّلُ فِي الْعَيْنَيْنِ كَالْكَحَلِ تکحل، تَكَحَّلَ يَتَكَحَّلُ تَكَحُّلًا کا معنی ہے آنکھوں میں سرمہ لگانا، اور کحل، بابِ سمع سے ہے، كَحِلَ يَكْحَلُ كَحَلًا، کاف پر فتحہ ہے، حا پر بھی فتحہ ہے: كَحِلَ يَكْحَلُ كَحَلًا، تو اس کا معنی ہوتا ہے قدرتی طور پر آنکھوں کا سیاہ ہونا، سرمگیں ہونا، قدرتی طور پر۔ بھئی بعض افراد کی آنکھ پلکیں جو ہیں قدرتی طور پر بڑی گھنی اور سیاہ ہوتی ہیں تو کہتے ہیں گویا اس کی آنکھوں میں قدرتی اس کی آنکھیں قدرتی طور پر ہی سرمگیں ہیں یعنی ان میں گویا سرمہ لگا ہوا ہے، سیاہ ہیں، خوب سیاہ ہیں۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کوئی شاعر کہتا ہے: لَيْسَ التَّكَحُّلُ فِي الْعَيْنَيْنِ كَالْكَحَلِ، کہ آنکھوں میں سرمہ لگانا یہ قدرتی طور پر آنکھوں کے سرمگیں ہونے کی طرح نہیں ہے۔ ایک ہے قدرتی طور پر آنکھیں سرمگیں ہوں، اور ایک ہے کہ آدمی خود کیا کرے؟ سرمہ لگا کر آنکھوں کو سیاہ کرے، تو شاعر کیا کہتا ہے؟ کہ مصنوعی طور پر سرمے کے ذریعے جو آنکھیں سیاہ کی جائیں وہ قدرتی سیاہ آنکھوں کی طرح نہیں ہیں۔ تو دیکھیے یہ ہے ارسال المثل۔ شعر کے ایک حصے کے اندر ایسا کلام ذکر کر دیا گیا جس کو اس قسم کی جگہوں پر استعمال کیا جا سکتا ہے، لہٰذا اس کو استعمال کیا جاتا ہے، جب بھی مصنوعی اور اصلی چیز میں فرق ذکر کرنا ہوتا ہے تو یہ اس کو بطورِ مثال کے ذکر کیا جاتا ہے کہ اصلی یعنی جہاں یہ کہنا جہاں بھی آپ یہ کہنا چاہیں کہ مصنوعی چیز اصلی چیز جیسی نہیں ہو سکتی، مصنوعی چیز قدرتی چیز جیسی نہیں ہو سکتی، اس موقع پر اس کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اور دیکھیے یہ پورا شعر نہیں ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ یہ ارسال المثل کے قبیل سے ہے۔ وَالثَّانِي، اور دوسری قسم یعنی ارسال الکلام الجامع، يَكُونُ بَيْتًا كَامِلًا، وہ کیا ہوگا؟ پورا شعر ہوگا، اس کو کلامِ جامع کہیں گے، كَقَوْلِهِ، جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے: إِذَا جَاءَ مُوسَى وَأَلْقَى الْعَصَا فَقَدْ بَطَلَ السِّحْرُ وَالسَّاحِرُ إِذَا جَاءَ مُوسَى، جب موسیٰ آ گئے، موسیٰ علیہ السلام، وَأَلْقَى الْعَصَا، اور انہوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی، فَقَدْ بَطَلَ السِّحْرُ، تو تحقیق جادو بھی باطل ہو گیا، جادو بھی مٹ گیا، وَالسَّاحِرُ، اور جادوگر بھی۔ إِذَا جَاءَ مُوسَى وَأَلْقَى الْعَصَا فَقَدْ بَطَلَ السِّحْرُ وَالسَّاحِرُ، جب حضرت موسیٰ علیہ السلام آ گئے اور انہوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی تو تحقیق جادو اور جادوگر باطل ہو گئے یعنی مٹ گئے، ختم ہو گئے۔ اب دیکھیے یہ پورے شعر کے اندر ایک جامع کلام آیا، جامع کلام، تو یہ کلامِ جامع کہلائے گا، اور اس کو جہاں پر بھی حق باطل پر غالب آ جائے اس موقع پر اس کو کہتے ہیں۔ جہاں پر بھی کیا ہو؟ باطل مٹ جائے اور حق غالب آ جائے تو کہتے ہیں: "إِذَا جَاءَ مُوسَى وَأَلْقَى الْعَصَا فَقَدْ بَطَلَ السِّحْرُ وَالسَّاحِرُ"، جب موسیٰ علیہ السلام آ گئے اور انہوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی تو جادو اور جادوگر سب کیا ہو گئے؟ مٹ گئے، ختم ہو گئے۔ تو یہ ہے کلامِ جامع بھئی۔ فرق دونوں میں سمجھ میں آ گیا؟ کہ مثل کیا ہوگی؟ وہ پورا کلام، پورا شعر نہیں ہوگا، اور کلامِ جامع میں پورا شعر ہوگا۔ اَلْمُبَالَغَةُ: هِيَ ادِّعَاءُ بُلُوغِ وَصْفٍ فِي الشِّدَّةِ أَوِ الضَّعْفِ حَدًّا يَبْعُدُ أَوْ يَسْتَحِيلُ۔ مبالغہ کرنا بھئی، مبالغہ۔ هِيَ ادِّعَاءُ بُلُوغِ وَصْفٍ، بلوغ کا معنی پہنچنا، ادعاء کا معنی دعویٰ کرنا، هِيَ ادِّعَاءُ بُلُوغِ وَصْفٍ، یہ کسی وصف کے پہنچنے کا دعویٰ کرنا، کسی وصف کے پہنچنے کا دعویٰ کرنا، فِي الشِّدَّةِ أَوِ الضَّعْفِ، شدت کے اندر یعنی زیادہ ہونے میں، سخت ہونے میں، أَوِ الضَّعْفِ یا ضعیف ہونے میں۔ عبارت پر نظر ہے بھئی؟ کسی وصف کا شدت یا ضعف میں پہنچنے کا دعویٰ کرنا، بھئی کہاں تک پہنچنے کا دعویٰ کرنا؟ حَدًّا يَبْعُدُ أَوْ يَسْتَحِيلُ، ایسی حد تک جو بعید ہو یا محال ہو، یا کیا ہو؟ محال ہو یعنی ممکن ہی نہ ہو۔ اس کو کہتے ہیں مبالغہ، کیا کہتے ہیں؟ مبالغہ۔ دیکھیے، مبالغہ اس کو کہتے ہیں کہ آپ کسی شخص کے کوئی وصف یا کسی چیز کا کوئی وصف ذکر کرتے ہیں، اور اس وصف کو بیان کرتے ہیں کہ وہ وصف اس حد تک پہنچا ہوا ہے کہ جو بڑا ہی بعید ہے، بڑا ہی مشکل ہو اس حد، اور یعنی عقل سے بعید ہو یا یوں کہیں محال ہو، کیا ہو؟ تو کسی وصف کا عقل سے بعید حد تک پہنچے ہوئے ہونے کا دعویٰ کرنا، یا محال حد تک پہنچے ہوئے ہونے کا دعویٰ کرنا یہ کیا ہے؟ مبالغہ ہے بھئی، مبالغہ ہے۔ تو کہتے ہیں: اَلْمُبَالَغَةُ: هِيَ ادِّعَاءُ بُلُوغِ وَصْفٍ فِي الشِّدَّةِ أَوِ الضَّعْفِ حَدًّا يَبْعُدُ أَوْ يَسْتَحِيلُ، مبالغہ جو ہے یہ کسی وصف کا شدت یا ضعف میں ایسی حد تک پہنچنے کا دعویٰ کرنا يَبْعُدُ جو بعید ہو یعنی عقل سے بعید ہو کہ بڑا ہی مشکل ہو وہاں تک پہنچنا کسی چیز کا، أَوْ يَسْتَحِيلُ یا کیا ہو؟ محال ہو یعنی ممکن ہی نہ ہو، وَتَنْقَسِمُ إِلَى ثَلَاثَةِ أَقْسَامٍ، اور یہ تقسیم ہوتا ہے تین قسموں کی طرف، اس کی تین قسمیں ہیں مبالغے کی بھئی، مبالغے کی: ایک دیکھیے آگے بتلائیں گے تبلیغ ہے، ایک اغراق ہے، اور ایک غلو ہے بھئی، غُلُوٌّ، غین پر بھی پیش ہے، لام پر بھی پیش، اور واو مشدد ہے: غُلُوٌّ۔ بھئی مبالغہ کسے کہتے تھے؟ کسی وصف کا شدت یا ضعف میں ایسی حد تک پہنچنا جو عقلاً بعید ہو یا محال ہو۔ پہلی قسم اس کی تبلیغ ہے: إِنْ كَانَ ذَلِكَ مُمْكِنًا عَقْلًا وَعَادَةً، اگر وہ عقلاً اور عادۃً ممکن ہو۔ ایسی حد تک پہنچنے کا دعویٰ کر دیا ہے ایک حد تک، لیکن وہ حد کیا ہے؟ اس حد تک اس وصف کا پہنچنا عقلاً بھی ممکن ہے، عقل بھی تسلیم کرتی ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے، اور عادۃً بھی ممکن ہے یعنی عام طور پر عادت میں بھی ایسا ہوتا ہے، ایسا ہوتا ہے، كَقَوْلِهِ فِي وَصْفِ فَرَسٍ، جیسے کہ ایک شاعر کا قول گھوڑے کی وصف میں، گھوڑے کی تعریف کے اندر بھئی، گھوڑے کی رفتار بیان کرتے ہوئے ایک شاعر کہتا ہے: إِذَا مَا سَابَقَتْهَا الرِّيحُ فَرَّتْ وَأَلْقَتْ فِي يَدِ الرِّيحِ التُّرَابَا إِذَا مَا سَابَقَتْهَا، جس سَابَقَ يُسَابِقُ کا معنی ہوتا ہے مقابلہ کرنا، إِذَا مَا سَابَقَتْهَا، جب مقابلہ کرتی ہے اس گھوڑے کے ساتھ، ہا ضمیر راجع ہے فرس کو، ہا ضمیر۔ فرس مؤنثِ سماعی ہے لہٰذا کون سی ضمیر لوٹائی؟ مؤنث کی، جب اس گھوڑے کے ساتھ مقابلہ کرتی ہے الرِّيحُ ہوا، فَرَّتْ، یہ دیکھیے پھر مؤنث کا صیغہ آیا، ہا ضمیر کس کو راجع؟ فرس کو، فَرَّتْ تو وہ گھوڑا دوڑتا ہے، وَأَلْقَتْ اور ڈال دیتا ہے فِي يَدِ الرِّيحِ ہوا کے ہاتھ میں التُّرَابَا مٹی، ہوا کے ہاتھ میں کیا ڈال دیتا ہے؟ مٹی۔ تو دیکھیے شاعر جو ہے گھوڑے کی رفتار کی تعریف کر رہا ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھیے لفظ آیا ریح بھئی، ریح۔ یاد رکھیے ریح کا لفظ عربی زبان میں تیز ہوا، آندھی وغیرہ کے لیے استعمال ہوتا ہے، جو خوشگوار ہوا ہو اس کے لیے عموماً ریاح کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ تو شاعر کہتا ہے: جب آندھی اس گھوڑ میرے گھوڑا جو ہے اس کے ساتھ مقابلہ کرتی ہے رفتار کے اندر تو میرا گھوڑا دوڑتا ہے اور اس آندھی کے ہاتھ میں مٹی ڈالتا ہوا چلا جاتا ہے، مٹی یعنی اس سے بھی آگے نکل جاتا ہے اور پیچھے آندھی کے اندر اس کی گھوڑے کے دوڑنے کی وجہ سے جو مٹی اڑتی ہے وہ آندھی کے پاس ہی رہ جاتی ہے۔ بات سمجھ میں آئی؟ اب دیکھیے اس شاعر نے گھوڑے کی رفتار کے رفتار بیان کر رہا ہے اور اس کا ایسی حد تک پہنچنے کا اس نے دعویٰ کر دیا جو بہت نادر ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ ہر گھوڑا تو اتنا رفتار والا نہیں لیکن بعض گھوڑے کیا ہوتے ہیں؟ بے انتہا تیز رفتار ہوتے ہیں، تو عام آندھی وغیرہ ہو وہ ہوا سے بھی آگے یعنی نکل جائیں گے، واقعی وہ مٹی وغیرہ، بھئی اگر آندھی کی رفتار تیز ہوئی پھر تو جو مٹی اڑے گی وہ گھوڑے سے آگے نکلتی چلی جائے گی، اور اگر آندھی متوسط یا درجے کی ہوئی تو گھوڑا یقیناً اس سے آگے رہے گا اور وہ مٹی جو اڑ رہی ہے وہ پیچھے ہی باقی رہے گی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور یہ عقلاً بھی ممکن ہے اور عادۃً ایسا ہوتا بھی ہے اگرچہ بہت کم ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو بہت تیز شدید تیز آندھی وہ تو نہیں بھئی، اس کا تو واقعی مقابلہ گھوڑا نہیں کر سکتا، تو جو عام متوسط آندھی ہو، تیز ہوا ہو، یقیناً وہ تیز رفتار گھوڑا اس سے زیادہ اس کی رفتار ہوگی بھئی۔ معنی شعر کا سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو دیکھیے، گھوڑے کا وصف بیان کر رہا ہے تیز رفتاری کو، اور اس تیز رفتاری کو اس حد تک پہنچنے کا دعویٰ کر دیا شاعر نے جو عقلاً بڑا بعید ہے، بڑا مشکل ہے یعنی بہت کم ایسا ہوتا ہے، لیکن بہرحال عقلاً ممکن بھی عقلاً بھی ممکن ہے، ایسا ہو سکتا ہے، اور نیز عادۃً بھی ممکن ہے، عام طور پر ایسا ہوتا بھی ہے بھئی۔ اور دوسری قسم ہے: وَإِغْرَاقٌ: إِنْ كَانَ مُمْكِنًا عَقْلًا لَا عَادَةً، اگر ایسا عقلاً تو ممکن ہو لیکن عادۃً ممکن یعنی عادۃً نہ ہوتا ہو، كَقَوْلِهِ، جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے: نُكْرِمُ جَارَنَا مَا دَامَ فِينَا وَنُتْبِعُهُ الْكَرَامَةَ حَيْثُ مَالَا شاعر کہتا ہے: نُكْرِمُ جَارَنَا، أَكْرَمَ يُكْرِمُ اکرام کرنا یعنی احسان کرنا، ہم احسان کرتے ہیں جَارَنَا، جار کہتے ہیں پڑوسی کو، اپنے پڑوسی کے ساتھ، مَا دَامَ فِينَا جب تک وہ ہمارے درمیان رہتا ہے، وَنُتْبِعُهُ الْكَرَامَةَ، اور ہم اس کے پیچھے کرامت کو یعنی احسان کو بھیجتے ہیں، حَيْثُ مَالَا، حیث جگہ اور مکان کے معنی میں عام استعمال ہوتا رہتا ہے، یہاں پر بھی حیث مکان کے معنی میں ہے۔ حَيْثُ مَالَا، جس طرف جس جگہ بھی وہ مائل ہو جائے یعنی جس جگہ بھی وہ چلا جائے، مَالَ يَمِيلُ کے معنی مائل ہونا، ایک طرف کو جھکنا، یہاں مراد ہے چلے جانا، حَيْثُ مَالَا جس جگہ بھی وہ چلا جائے۔ شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ ہم ایسے سخی اور نیک لوگ ہیں، ایسے بلند اخلاق والے لوگ ہیں کہ جب تک کوئی شخص ہمارے پڑوس میں رہتا ہے ہم اس کے ساتھ احسانات کرتے ہیں، اور یہ تو اور لوگ بھی کرتے ہیں، پڑوسی ہو تو لوگ اس کے ساتھ کیا کرتے ہیں؟ احسان کرتے ہیں، لیکن ہم تو اگر پڑوسی ہمارا اس جگہ کو چھوڑ کر کہیں اور جا کر رہنے لگے تو بھی ہم یہاں سے ہمارے احسانات اس کو پہنچتے رہتے ہیں یعنی عطایا اور انعامات وغیرہ ہماری طرف سے اس کو پہنچتے رہتے ہیں، معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو شاعر کیا کہتا ہے؟ نُكْرِمُ جَارَنَا مَا دَامَ فِينَا، ہم اکرام کرتے ہیں، ہم احسان کرتے ہیں اپنے پڑوسی کے ساتھ جب تک وہ ہمارے درمیان رہتا ہے، وَنُتْبِعُهُ الْكَرَامَةَ حَيْثُ مَالَا، اور ہم اس کے پیچھے احسان کو بھیجتے ہیں جہاں کہیں بھی وہ چلا جائے، مائل ہو جائے بھئی، جہاں بھی وہ چلا جائے۔ اب دیکھیے یہ عقلاً تو ممکن ہے، ایک پڑوسی ہے وہ آپ کے پاس سے جگہ چھوڑ کر کہیں اور دوسرے شہر میں جا کر رہنے لگا تو آدمی کیا کر سکتا ہے؟ یہاں سے احسانات کر سکتا ہے اس کے ساتھ، اس کو انعام چیزیں وغیرہ بھیج سکتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ لیکن عادۃً ایسا ہوتا نہیں، عادۃً ایسا جب تک کوئی شخص عموماً پڑوسی ہوتا ہے اس کو لوگ اس کا خیال رکھتے ہیں، لیکن جب وہ اس جگہ سے چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا تو پھر اس کے پیچھے احسانات کوئی بھیجتا نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ مثال اس کو کہتے ہیں اغراق۔ دوبارہ دیکھیے: وَإِغْرَاقٌ، اور مبالغے کی دوسری قسم اغراق ہے، إِنْ كَانَ مُمْكِنًا عَقْلًا لَا عَادَةً، اگر عقلاً ممکن ہو، لَا عَادَةً لیکن عادۃً ممکن نہ ہو، كَقَوْلِهِ، جیسے اس شاعر کا قول ہے: نُكْرِمُ جَارَنَا مَا دَامَ فِينَا وَنُتْبِعُهُ الْكَرَامَةَ حَيْثُ مَالَا۔ مَالَا، بھئی یہ مالا کے آخر میں جو الف ہے یہ الف اشباع، الاشباع کے لیے یعنی حرکت کو لمبا کرنے کے لیے ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ ورنہ یہ مفرد کا صیغہ ہے: مَالَ يَمِيلُ سے ماضی کا صیغہ "مَالَ"۔ جیسے اوپر "التُّرَابَا"، وہاں پر بھی آخر میں کیا آیا تھا؟ الف اشباع کے لیے آیا تھا، حرکت کو لمبا کرنے کے لیے بھئی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا اشعار کے مخصوص اوزان ہوتے ہیں، ایک حرف کی کمی بیشی سے بھی وزن شعر کا وزن خراب ہو جاتا ہے اور وہ شعر رہتا ہی نہیں، تو یہاں بھی اسی بنا پر الف کو آخر میں بڑھایا گیا بھئی، آواز کو لمبا کرنے کے لیے اور شعر کا وزن برقرار رکھنے کے لیے۔ وَغُلُوٌّ، اور تیسری قسم مبالغے کی غلو ہے، إِنِ اسْتَحَالَ عَقْلًا وَعَادَةً، اگر وہ محال ہو عقلاً بھی اور عادۃً بھی، كَقَوْلِهِ، جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے: تَكَادُ قِسِيُّهُ مِنْ غَيْرِ رَامٍ تُمَكِّنُ فِي قُلُوبِهِمُ النِّبَالَا تَكَادُ، قریب ہے، قِسِيُّهُ، قِسِيٌّ جمع ہے قوس کی، قوس، اور قوس کہتے ہیں کمان کو۔ تو شاعر کسی کی تعریف کر رہا ہے اور اس کی کمانوں کی تعریف کر رہا ہے، کہتا ہے: تَكَادُ قِسِيُّهُ، قریب ہے کہ میرے اس ممدوح کی کمانیں جو ہیں، مِنْ غَيْرِ رَامٍ، بغیر کسی پھینکنے والے کے، رامٍ پھینکنے والا، تیر چلانے والا، قریب ہے کہ اس کی کمانیں جو ہیں بغیر کسی تیر چلانے والے کے تُمَكِّنُ فِي قُلُوبِهِمُ النِّبَالَا، مَكَّنَ يُمَكِّنُ کے معنی ہوتے ہیں جما دینا، گاڑ دینا، تُمَكِّنُ گاڑ دیں فِي قُلُوبِهِمْ ان کے دلوں میں یعنی اس میرے ممدوح کے جو دشمن ہیں ان کے دلوں میں، النِّبَالَا، نبال جمع ہے نبلٌ کی، نبلٌ کہتے ہیں تیر کو، تیر۔ تَكَادُ قِسِيُّهُ مِنْ غَيْرِ رَامٍ تُمَكِّنُ فِي قُلُوبِهِمُ النِّبَالَا، قریب ہے کہ اس کی کمانیں جو ہیں بغیر کسی تیر چلانے والے کے ہی گاڑ دیں اس کے دشمنوں کے دلوں میں تیروں کو۔ اس کی کمانیں کیا ہیں؟ اتنی اعلیٰ ہیں کہ قریب ہیں بغیر کسی تیر چلانے والے کے ہی وہ کمانیں خود ہی کیا کر دیں؟ اس کے دشمنوں کے دلوں میں تیروں کو گاڑ دیں بھئی۔ اب دیکھیے، یہ نہ عقلاً ممکن ہے، نہ عادۃً ممکن ہے کہ کمان بغیر کسی چلانے والے کے تیروں کو کسی کے سینے میں یا دل میں گاڑ دے، ایسا عقلاً بھی ممکن نہیں اور عادۃً بھی نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو اس کو غلو کہتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور یہ تینوں قسمیں مقبول ہیں مبالغے کی، تینوں قسمیں مقبول ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ یعنی بلاغت کے اندر ان کا اعتبار ہے کہ ایک صورت کیا ہے؟ تبلیغ ہے کہ ایسا کسی وصف کا اس حد تک پہنچنے کا دعویٰ کرنا جو عقلاً بھی ممکن ہو اور عادۃً بھی ممکن ہو، اس کو کہتے ہیں تبلیغ۔ اور اگر عقلاً تو ممکن ہے لیکن عادۃً ممکن نہیں یعنی ہوتا نہیں، تو اس کو اغراق کہتے ہیں، اور اگر نہ عقلاً ممکن ہے اور نہ عادۃً ممکن ہے تو اس کو غلو کہتے ہیں، غلو۔ اور یاد رکھنا، عام مبالغہ نہیں ہے، دیکھیے: قریب ہے کہ وہ کمانیں بغیر کسی تیر چلانے والے کے ہی اس کے دشمنوں کے دلوں میں کیا کر دیں؟ تیروں کو گاڑ دیں۔ یہ یہ مبالغہ مقبول ہوا کیونکہ شاعر نے شروع میں لفظ بڑھا دیا: "تَكَادُ"، قریب ہے، یعنی حقیقت میں ایسا نہیں ہے لیکن قریب ہے، دیکھا؟ یہ "تَكَادُ" کا لفظ نہ ہوتا تو یہ غیر مقبول ہو جاتا، کیا ہوتا؟ غیر مقبول ہوتا، پھر بلاغت میں اس کی گنجائش نہ ہوتی کیونکہ یہ تو ممکن ہی نہیں ہے، لیکن شاعر نے کیا لفظ بڑھا دیا؟ "تَكَادُ"، قریب ہے اس کے، یعنی ہے تو ایسا نہیں لیکن اس کے قریب ہے، تو اب یہ مبالغہ مقبول بن گیا۔ تفصیل اگلی کتابوں میں آپ پڑھ لیں گے، تو مبالغہ اگر غلو ہو یعنی کوئی ایسی بات کی جائے جو عقلاً بھی ممکن نہیں ہے اور عادۃً بھی ممکن نہیں ہے، تو پھر یہ اس قسم کا مبالغہ بلاغت میں غیر مقبول ہوگا۔ دو صورتوں میں صرف مقبول ہو سکتا ہے: ایک یہ کہ بڑا ہی کوئی حسین خیال اس کے اندر پیش کیا گیا ہو پھر مقبول ہوگا، ایک انوکھی سی بات کی گئی ہو پھر کیا ہو جائے گا؟ مقبول ہوگا۔ یا اس پر ایسا لفظ بڑھا دیں جیسے یہاں "تَكَادُ" کا لفظ بڑھا دیا، یا یوں کہہ دیں جیسے "كَأَنَّ"، "كَأَنَّ" کا لفظ اگر اس پر بڑھا دیا جائے، گویا کہ، گویا کہ، سمجھ میں آیا؟ تو اس قسم کا لفظ اگر بڑھا دیا جائے پھر یہ غلو جو ہے یہ قسم مبالغۂ مقبولہ میں داخل ہے، ورنہ مبالغۂ مقبولہ میں داخل نہیں بھئی۔ اَلْمُغَايَرَةُ، اگلی صنعت ہے مغایرت بھئی۔ بھئی یا کے نیچے کسرہ تو نہیں لگا ہوا آپ کی کتابوں میں؟ نہیں یہ کسرہ درست نہیں ہے بھئی، مغایَرۃ، مفاعَلۃ باب ہے بھئی، مفاعلۃ۔ مغایَرۃ، اگلی صنعت ہے مغایرت بھئی، یہ آسان ہے بھئی۔ مغایرت اس کو کہتے ہیں کہ کہنے والا پہلے ایک چیز کی تعریف کرتا ہے اور پھر آگے چل کر اس کی مذمت بیان کرتا ہے، تو دیکھو اس کے کلام میں مغایرت ہے، پہلے اسی چیز کی کیا کی؟ تعریف کی، پھر آگے چل کر کیا کر دی؟ مذمت کر دی، اس کی برائی بیان کر دی۔ یا اس کا عکس کر لیں: پہلے ایک چیز کی مذمت اور برائی بیان کر دی اور پھر آگے چل کر کیا کر دی اس کی؟ تعریف کر دی بھئی، تو یہ بھی ایک صنعت ہے، اس سے بھی کلام کے اندر اور معنی کے اندر حسن پیدا ہوتا ہے، یہ کوئی آسان چیز نہیں ہے کہ ایک چیز کی پہلے کیا کی جائے؟ برائی کی جائے، اور پھر آگے کیا کیا جائے؟ اس کی تعریف کر دی جائے اچھے اور دلکش انداز کے اندر بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: اَلْمُغَايَرَةُ: هِيَ مَدْحُ الشَّيْءِ بَعْدَ ذَمِّهِ، یہ کسی چیز کی مدح کرنا ہے بعد ذمّہ، اس کی مذمت بیان کرنے کے بعد، اس کی برائی بیان کرنے کے بعد، أَوْ عَكْسُهُ، یا یہ اس کا عکس ہے، کیا معنی؟ پہلی صورت میں کیا تھا؟ مَدْحُ الشَّيْءِ بَعْدَ ذَمِّهِ، مدح کی ہے مذمت کے بعد یعنی مذمت پہلے اور مدح بعد میں۔ دوسری صورت اس کا: أَوْ عَكْسُهُ، یا اس کا عکس ہو یعنی مدح پہلے ہو اور مذمت بعد میں ہو، كَقَوْلِهِ فِي مَدْحِ الدِّينَارِ، جیسے کہ ابو زید سروجی مقامات میں فِي مَدْحِ الدِّينَارِ، دینار کی مدح کرتے ہوئے، اشرفی کی تعریف کرتے ہوئے: أَكْرِمْ بِهِ أَصْفَرَ رَاقَتْ صُفْرَتُهُ أَكْرِمْ بِهِ، افعالِ تعجب آپ نے پڑھا ہے: "مَا أَحْسَنَهُ وَأَحْسِنْ بِهِ"، یہ وہ "أَحْسِنْ بِهِ" ہے: أَكْرِمْ بِهِ، أَكْرِمْ بِهِ، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور کَرُمَ سے ہے، کَرُمَ سے، کَرُمَ الشَّيْءُ کا معنی ہے کسی چیز کا عمدہ ہونا، اعلیٰ ہونا۔ تو أَكْرِمْ بِهِ، کب کہیں گے؟ تعجب کے موقع پر جب کوئی چیز بڑی ہی عمدہ ہو۔ أَكْرِمْ بِهِ، کتنا عمدہ ہے، أَصْفَرَ اس حال میں کہ زرد ہے، دینار کیا ہے؟ کتنا عمدہ ہے اس حال میں کہ زرد ہے، رَاقَتْ صُفْرَتُهُ، رَاقَ يَرُوقُ کے معنی پسندیدہ ہونا، پسند آنا۔ صفرۃ کہتے ہیں زردی کو، رَاقَتْ صُفْرَتُهُ، پسندیدہ ہے اس کی زردی، اس کا زرد رنگ کیا ہے؟ پسندیدہ ہے۔ أَكْرِمْ بِهِ أَصْفَرَ رَاقَتْ صُفْرَتُهُ، کتنا عمدہ ہے اس حال میں کہ زرد رنگ کا ہے کہ اس کی زرد رنگ اس کا زرد رنگ جو ہے، اس کی زردی جو ہے پسندیدہ ہے یعنی خوبصورت ہے، اچھی لگتی ہے، بھلی لگتی ہے، بَعْدَ ذَمِّهِ، یہ شاعر نے کہا بَعْدَ ذَمِّهِ، اس کی مذمت بیان کرنے کے بعد، یعنی اس سے ماقبل اس نے کیا کیا تھا؟ مذمت بیان کی تھی، فِي قَوْلِهِ، اپنے اس قول کے اندر: تَبًّا لَهُ مِنْ خَادِعٍ مُمَاذِقِ تَبًّا لَهُ، أَيْ: أَلْزَمَهُ اللَّهُ تَبًّا، اللہ اس کے ساتھ تب کہتے ہیں ہلاکت اور بربادی کو، تَبًّا لَهُ، یہ اسی طرح استعمال ہوتا ہے کلامِ عرب میں کسی کے لیے بددعا کے طور پر: تَبًّا لَهُ، اس کے لیے بربادی ہو، اس کے لیے ہلاکت ہو۔ تَبًّا لَهُ، اس کے لیے بربادی ہو، ہلاکت ہو، مِنْ خَادِعٍ، خَدَعَ کے معنی دھوکہ دینے کے، خادع دھوکہ دینے والا، دھوکے باز۔ مماذق، مماذق کہتے ہیں دو رُخا، دو چہروں والا، منافق یعنی، سامنے کچھ اور ہے، پیچھے کچھ اور، اس کو کہیں گے۔ تو کہتے ہیں: تَبًّا لَهُ مِنْ خَادِعٍ مُمَاذِقِ، ہلاکت ہو اس کے اس دھوکے باز منافق کے لیے۔ تو شاعر نے پہلے اس دینار کی جو ہے مذمت بیان کی تھی اور پہلے کہا تھا: "تَبًّا لَهُ مِنْ خَادِعٍ مُمَاذِقِ"، ہلاکت ہو اس دھوکے باز منافق کے لیے یعنی کون؟ دینار بھئی، دینار۔ اور پھر چند آگے چل کر اس نے کیا کہا؟ "أَكْرِمْ بِهِ أَصْفَرَ رَاقَتْ صُفْرَتُهُ"، کتنا عمدہ ہے اس حال میں کہ زرد رنگ کا ہے اور اس کی اس کی زردی کیا ہے؟ پسندیدہ ہے، اچھی لگتی ہے، بھلی لگتی ہے۔ یہاں تک بات سمجھ، تو آج ہم نے کیا کیا پڑھا؟ ایک تو لف و نشر کے بارے میں پڑھا، اور کہ متعدد چیزوں کو ذکر کیا جائے اجمالاً یا تفصیلاً اور پھر آگے ہر ایک سے متعلقہ بات ذکر کی جائے بھئی۔ اور پھر ارسال المثل اور کلامِ جامع ہم نے پڑھا، ارسال المثل کس کو کہتے تھے؟ ایسا کلام کرنا، ایسا بامعنی کلام کرنا جسے اس قسم کے مواقع پر استعمال کیا جا سکتا ہو، اور اگر وہ پورا شعر نہیں تو وہ ارسال المثل ہے، اور اگر پورا شعر ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ ارسال الکلام الجامع۔ اور پھر مبالغہ پڑھا آپ نے کہ کسی وصف کا اس حد تک پہنچنے کا دعویٰ کرنا جو عقلاً بڑا بعید ہو یا عقلاً محال ہو، اور اس کی تین قسمیں ہیں جو تینوں کی تینوں مقبول ہیں بلاغت کے اندر: ایک تبلیغ ہے، ایک اغراق ہے، اور ایک غلو۔ تبلیغ اس کو کہتے ہیں جو عقلاً بھی ممکن ہو اور عادۃً بھی ممکن ہو، اغراق اسے کہتے ہیں جو عقلاً تو ممکن ہے لیکن عادۃً ایسا ہوتا نہیں، اور غلو اس کو کہتے ہیں جو عقلاً بھی ممکن نہ ہو اور عادۃً بھی ممکن نہ ہو۔ اور میں نے بتلایا جو چیز عقلاً بھی ممکن نہ ہو اور عادۃً بھی ممکن نہ ہو وہ تب مقبول ہوگا جب اس کے اندر کوئی اچھا اور عمدہ خیال پیش کیا جائے یا اس پر تکاد اور کانّ وغیرہ جیسے الفاظ کو بڑھا دیا جائے پھر مقبول ہوگا، ورنہ وہ مقبول نہیں۔ اور پھر اس کے بعد ایک صنعت مغایرت پڑھی کہ ایک چیز کی مدح کے بعد اس کی مذمت کرنا یا مذمت کے بعد اس کی مدح کرنا، یہ ہے مغایرت بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔