Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-078

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 10
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔78 اَلِاسْتِخْدَامُ: هُوَ ذِكْرُ اللَّفْظِ بِمَعْنًى وَإِعَادَةُ ضَمِيرٍ عَلَيْهِ بِمَعْنًى آخَرَ، أَوْ إِعَادَةُ ضَمِيرَيْنِ تُرِيدُ بِثَانِيهِمَا غَيْرَ مَا أَرَدْتَهُ بِأَوَّلِهِمَا، فَالْأَوَّلُ نَحْوُ قَوْلِهِ تَعَالَى: فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ، أَرَادَ بِالشَّهْرِ الْهِلَالَ، وَبِضَمِيرِهِ الزَّمَانَ الْمَعْلُومَ۔ علمِ بدیع چل رہا ہے۔ مختلف صنعتیں آپ پڑھ رہے ہیں جن سے کلام کے اندر حسن پیدا ہوتا ہے۔ ایک صنعت آپ نے توریہ پڑھی کہ ایک لفظ کا ایک معنی قریب ہو اور ایک معنی بعید ہو، سننے والا معنی قریب کو سمجھتا ہے اور آپ کس کا ارادہ کرتے ہیں؟ معنی بعید کا ارادہ کرتے ہیں کسی خفی قرینے کی وجہ سے۔ اسی طرح ایک صنعت ابہام تھی کہ ذو معنی کلام کرنا جس کے دو متضاد معانی نکلتے ہوں۔ اسی طرح ایک صنعت توجیہ تھی، توجیہ اس کو کہتے تھے کہ کلام میں ایسے لفظ استعمال کرنا جو کسی کے نام وغیرہ ہوں۔ اسی طرح ایک صنعتِ طباق تھی کہ دو متضاد معانی کو کلام میں جمع کرنا۔ اسی طرح ایک صنعت مقابلہ ہے کہ دو یا تین معانی کو ذکر کرنا پھر ان کے علی الترتیب جو ہے وہ ان کے متضاد یا ان کے مقابل کو لے کر آنا۔ تدبیج بھی ایک صنعت آپ نے پڑھی، تدبیج کہتے تھے کہ اپنے کلام کو رنگوں کے ساتھ مزین کرنا یعنی مقابل رنگوں کو ذکر کرنا لیکن ان رنگوں سے رنگ نہیں مراد ہونے چاہئیں بلکہ ان کے ذریعے کسی معنی سے کنایہ یا توریہ ہونا چاہیے۔ اسی طرح ایک صنعت ادماج آپ نے پڑھی، ادماج اس کو کہتے تھے کہ آپ کلام کو ایک معنی کے لیے چلائیں اور اس کے ضمن میں دوسرے معنی کو بھی بیان کرتے چلے جائیں۔ اسی طرح ایک صنعت استتباع پڑھی، استتباع کے اندر مدح کی قید زائد تھی کہ آپ مدح کرتے ہیں ایک وصف کی اور اس کے ضمن میں دوسرا وصف بھی مدح کے طور پر لے آتے ہیں۔ اور ایک صنعت مراعاۃ النظیر پڑھی، مراعاۃ النظیر اس کو کہتے ہیں کہ آپ کلام کے اندر دو یا دو سے زیادہ مناسب چیزوں کو جمع کرتے ہیں یعنی ایک چیز ذکر کی اور ساتھ اس کے کئی مناسبات بھی ذکر کر دیئے، یہ ہے مراعاۃ النظیر۔ آج ہم صنعتِ استخدام پڑھیں گے، صنعتِ استخدام۔ صنعتِ استخدام کو پہلے سمجھ لیں۔ بھئی صنعتِ استخدام اس کو کہتے ہیں کہ آپ اپنے کلام میں ایک لفظ لے کر آئے، ایک لفظ کو لے کر آئے اور اس لفظ کے دو یا دو سے زیادہ معانی آتے ہیں، دو یا دو سے زیادہ معانی میں وہ عموماً استعمال ہوتا ہے، چاہے وہ سارے معنی حقیقی ہوں، چاہے وہ ایک حقیقی ہو اور باقی معنی مجازی ہوں، جیسے شیر کا لفظ ہے، یہ جنگلی درندے کو بھی کہتے ہیں اور یہی لفظ بہادر آدمی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ تو مثلاً آپ کوئی ایک لفظ لے کر آئے جس کے دو یا تین معانی آتے ہیں، تو جب لفظ کو لے کر آئے تو اس لفظ سے ایک معنی کا ارادہ کیا اور آگے اسی کی طرف ایک ضمیر آپ نے لوٹا دی، ضمیر کے ذریعے آپ نے دوسرے معنی کا ارادہ کیا۔ ضمیر لوٹ اسی کی طرف رہی ہے لیکن معنی کون سا ارادہ کر رہے ہیں آپ؟ دوسرے معنی کا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ ہے استخدام۔ یا دوسری صورت یہ ہے کہ ایک لفظ آپ ذکر کرتے ہیں، آگے دو ضمیریں لے کر آتے ہیں، لفظ کے ذریعے ایک معنی کا ارادہ، پہلی ضمیر کے ذریعے دوسرے معنی کا ارادہ اور تیسری ضمیر کے ذریعے تیسرے معنی کا آپ ارادہ کرتے ہیں، یہ ہے استخدام۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو استخدام میں ایک لفظ ذکر ہوگا اور آگے ایک ضمیر ذکر ہوگی، لفظ سے ایک معنی کا ارادہ اور ضمیر جو اسی کی طرف لوٹ رہی ہے اس کے ذریعے دوسرے معنی کا ارادہ۔ یا دوسری صورت: ایک لفظ لائے ہیں اور آگے پھر دو ضمیریں لائے ہیں جو اسی کی طرف لوٹ رہی ہیں، لفظ کے ذریعے ایک معنی کا ارادہ اور ایک ضمیر کے ذریعے دوسرے معنی کا ارادہ اور تیسری ضمیر کے ذریعے تیسرے معنی کا ارادہ ہو بھئی۔ یہ ہے استخدام۔ دیکھیے خود ذکر کر رہے ہیں: اَلِاسْتِخْدَامُ: هُوَ ذِكْرُ اللَّفْظِ بِمَعْنًى، استخدام وہ جو ہے لفظ کو ذکر کرنا ہے بمعنیً کسی ایک معنی میں، وَإِعَادَةُ ضَمِيرٍ عَلَيْهِ بِمَعْنًى آخَرَ، اور لوٹانا ضمیر کو اس کی طرف دوسرے معنی میں، ضمیر کو اس کی طرف دوسرے معنی میں لوٹانا، أَوْ إِعَادَةُ ضَمِيرَيْنِ، یا دوسری صورت یہ ہے استخدام کی کہ آپ لوٹائیں دو ضمیروں کو، تُرِيدُ بِثَانِيهِمَا غَيْرَ مَا أَرَدْتَهُ بِأَوَّلِهِمَا، اس حال میں کہ آپ ارادہ کرتے ہیں ان دو ضمیروں میں سے دوسری ضمیر سے، دوسری ضمیر کے ذریعے آپ ارادہ کرتے ہیں غَيْرَ مَا أَرَدْتَهُ بِأَوَّلِهِمَا اس کے علاوہ کا جس کا آپ نے پہلے دو سے ارادہ کیا تھا، یعنی پہلے دو یعنی لفظ اور پہلی ضمیر سے جن کا ارادہ کیا تھا، تیسری ضمیر میں ان کے علاوہ کا ارادہ کرتے ہیں۔ فَالْأَوَّلُ، پہلے کی مثال، نَحْوُ قَوْلِهِ تَعَالَى، جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے۔ پہلی قسم کون سی؟ کہ لفظ کو ذکر کیا جائے ایک معنی میں اور ضمیر اس کی طرف لوٹائی جائے دوسرے معنی میں، اس میں ایک ضمیر آئے گی۔ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ، پس جو تم میں سے دیکھے، فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمْ، پس جو کوئی تم میں سے دیکھے یعنی مشاہدہ کرے الشَّهْرَ رمضان کے چاند کا، رمضان کے چاند کا، فَلْيَصُمْهُ، تو اسے چاہیے کہ اس مہینے کے روزے رکھے۔ اب دیکھیے بھئی، ایک لفظ آیا "الشَّهْرَ"، شہر کا معنی کیا؟ مہینہ، مہینہ، اور اسی طرح اس ہلال کو بھی وہ ہلال بھی کس کا ہے؟ بھئی جیسے رمضان مہینہ ہے، اسی طرح چاند کو بھی کیا کہیں گے؟ رمضان کا چاند، کیا کہتے ہیں؟ رمضان کا چاند۔ تو یہاں شہر بول کر ہلال مراد ہے، شہر بول کر ہلال مراد ہے۔ کیوں؟ بھئی کیا قرینہ ہے، کس سے پتہ چلا اس سے ہلال مراد ہے؟ بھئی اس لیے کیونکہ پیچھے آیا: "فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمْ"، جو کوئی تم میں سے مشاہدہ کرے، اور مشاہدہ رمضان کے مہینے کا تو نہیں ہو سکتا کیونکہ رمضان کا مہینہ یہ تو ایک زمانے کا نام ہے اور زمانے کا کوئی ایسا وجود نہیں کہ جو آنکھوں سے دکھائی دے۔ لہٰذا معلوم ہوا اس سے کیا مراد ہے؟ رمضان کا چاند مراد ہے کہ اس کو جو دیکھ لے، اس کا جو مشاہدہ کر لے، فَلْيَصُمْهُ، تو اس کو چاہیے کہ اب یہ "فَلْيَصُمْهُ" ہا ضمیر بھی راجع الشہر کو، لیکن اس شہر اس ضمیر کو جب شہر کی طرف راجع کیا تو اس سے کون سے معنی کا ارادہ کیا؟ روزے، روزے کس میں رکھے گا؟ رمضان کے مہینے میں، تو اب زمانے کے معنی میں ہوا یہ، کس معنی میں؟ زمانے کے معنی، کیونکہ روزے کس میں رکھے جاتے ہیں؟ اس زمانے میں رکھے جائیں گے، اس چاند پر جا کر نہیں رکھے جائیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا پہلے الشہر کو ذکر کیا، اس سے کیا مراد؟ وہ رمضان کا چاند یعنی ہلال مراد ہے شروع کا، اور "فَلْيَصُمْهُ" یہ ہا ضمیر بھی الشہر کو راجع کی، لیکن یہاں پر یہ کس معنی میں؟ زمانے کے معنی میں ہے، وہ مہینہ بھئی، وہ مہینہ جو ہے وہ زمانہ ہے بھئی۔ اور نیز ہم نے کیا معنی کیا؟ "فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمْ"، جو کوئی تم میں سے اس مہینے کا مشاہدہ کرے یعنی اس چاند کا مشاہدہ کرے۔ اچھا اگر اس "شَهِدَ" کے معنی ہم پا لینے کے کر لیں، کیا معنی کر لیں؟ پا لیں۔ جو کوئی تم میں سے اس مہینے کو پا لے، جس کو وہ رمضان کا مہینہ مل جائے تو اس کو اس میں روزے رکھنے چاہئیں، اس کو اس میں روزے رکھنے۔ تو اگر یہ معنی بھی ہم کر لیں پھر بھی الشہر سے ہلال ہی مراد لینا پڑے گا۔ کیا مراد لینا پڑے گا؟ جس کو وہ مہینہ مل جائے، کیونکہ اگر مہینہ ملنے پر یہ حکم موقوف ہو تو مہینہ مل گیا اس کو، یہ کب کہیں گے؟ جب پورا مہینہ گزر جائے پھر کہا جائے گا اس کو پورا مہینہ مل گیا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ جب پورے مہینے کو پا لے گا تو پھر ہی "فَلْيَصُمْهُ" امر متوجہ ہو جائے گا کہ اب اس کو کیا کرنے چاہئیں؟ روزے رکھنے چاہئیں، پھر تو اس کا مطلب ہوا رمضان کے گزرنے کے بعد روزے فرض ہوں گے، اس سے پہلے فرض ہی نہیں، کیونکہ جب تک پورا مہینہ نہیں گزرے گا اس نے پورے مہینے کو پایا نہیں۔ معلوم ہوا یہاں شہر کس معنی میں ہے؟ چاند کے معنی میں، جو اس رمضان کے چاند کو دیکھ لے، اس کو مشاہدہ کر لے، اس کو چاہیے کہ رمضان کے مہینے میں روزے رکھے۔ بھئی معنی اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ أَرَادَ بِالشَّهْرِ الْهِلَالَ، اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا شہر کے لفظ کے ذریعے الہلال، چاند کا، وَبِضَمِيرِهِ الزَّمَانَ الْمَعْلُومَ، اور اس کی ضمیر کے ذریعے اس معلوم زمانے کا یعنی رمضان کے مہینے کا۔ وَالثَّانِي، اور دوسری قسم، دوسری قسم کیا تھی؟ کہ ایک لفظ ذکر ہو اور اس کے بعد کتنی ضمیریں آئیں؟ دو ضمیریں، لفظ کے ذریعے ایک معنی کا ارادہ اور پہلی ضمیر کے ذریعے دوسرے معنی کا اور تیسری ضمیر کے ذریعے ان دونوں کے علاوہ تیسرے معنی کا ارادہ ہو، اور دوسری کی مثال جیسے ایک شاعر کا قول ہے: فَسَقَى الْغَضَا وَالسَّاكِنِيهِ وَإِنْ هُمُو شَبُّوهُ بَيْنَ جَوَانِحِي وَضُلُوعِي فَسَقَى الْغَضَا، غضا یہ کوئی خاص قسم کے درخت ہیں بھئی، خاص قسم کے۔ لغت میں اس کا معنی جھاؤ کے درخت لکھا ہے، جھاؤ بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ کوئی خاص درخت ہیں کہتے ہیں جس کی لکڑی بڑی سخت ہوتی ہے، تو وہ درخت مراد ہیں۔ فَسَقَى الْغَضَا، شاعر دعا دے رہا ہے، فسقی، فا عاطفہ ہے بھئی، پس سقی سقی الغضا، یعنی سیراب یہ دعا ہے، یہ کیا ہے؟ دعا۔ اللہ سیراب کرے غضا کو، پس سیراب کرے وہ یعنی اللہ الغضا، کس کو؟ غضا درختوں کو۔ بھئی جیسے ماضی کا صیغہ آپ دعا میں استعمال کرتے ہیں: "رَحِمَهُ اللَّهُ"، "رَحِمَهُ اللَّهُ"، یہاں بھی اسی طرح "سَقَى" کا لفظ ماضی کا صیغہ استعمال ہوا دعا کے لیے، اور نیز وہاں پر "رَحِمَهُ اللَّهُ" لفظِ اللہ صراحۃً آتا ہے، یہاں پر ضمیر لوٹا دی اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف۔ فَسَقَى الْغَضَا، اللہ کیا کرے؟ غضا درختوں کو سیراب کرے یعنی ان پر بارش برسائے۔ وَالسَّاكِنِيهِ، ساکن، رہائشی، ساکنین، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ وَالسَّاكِنِيهِ، یہ ہا ضمیر بھی غضا ہی کو راجع، غضا ہی کو راجع، لیکن اب یہ درخت کے معنی میں نہیں بلکہ جگہ کے معنی میں ہے، کس معنی میں؟ جگہ کے معنی میں، کیونکہ غضا جہاں درخت ہوتے ہیں اس جگہ کو بھی مجازاً کیا کہہ دیتے ہیں؟ اس جگہ کو ہی اس جگہ کو ہی غضا کہہ دیتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ تو یہ غضا غضا یہ درختوں کا بھی نام، جس جگہ پر یہ درخت ہوں اس کو بھی مجازاً غضا کہہ دیتے ہیں اور اسی طرح اس کی لکڑی سے جو آگ جلائی جائے اس کو بھی مجازاً غضا کہہ دیتے ہیں، کیا کہہ دیتے ہیں؟ تو کتنے معنی میں استعمال ہوا یہ لفظ؟ تین، اولاً غضا کا کیا معنی؟ درخت۔ دوسرے آگے "وَالسَّاكِنِيهِ"، ہا ضمیر اس کی طرف لوٹائی، اب یہ ہا ضمیر غضا کی طرف راجع لیکن کس معنی میں؟ جگہ کے معنی میں، کہ اس جگہ کے رہنے والے جو ہیں۔ اور آگے ایک اور ضمیر بھی لوٹے گی اور وہ کس معنی میں ہوگی؟ آگ کے معنی میں، وہ آگ جو غضا کی لکڑی سے جلائی جائے۔ فَسَقَى الْغَضَا وَالسَّاكِنِيهِ، اللہ سیراب کرے غضا درختوں کو اور اس غضا جگہ پر رہنے والوں کو، وَإِنْ هُمُو، یہ واو جو ہے اشباع کے لیے ہے، اشباع کا معنی لمبا کرنا، حرکت کو لمبا کرنے کے لیے۔ یہ چونکہ شعر ہے، اشعار کے مخصوص اوزان ہوتے ہیں میں نے بتلایا تھا، ایک حرف کی کمی بیشی سے بھی پورے شعر کا وزن خراب ہو جاتا ہے، تو یہاں واو کو بڑھا دیا اشباع کے لیے، آواز کو لمبا کرنے کے لیے، کس لیے؟ اشباع کا معنی لمبا کرنا۔ تو ہم ضمیر ہے یہ مذکر جمع کی، وَإِنْ هُمُو، اگرچہ انہوں نے شَبُّوهُ، شَبَّ يَشُبُّ کے معنی ہوتے ہیں آگ جلانا، آگ جلانا۔ اگرچہ انہوں نے غضا جلا دی ہے، کیا معنی غضا جلا دی ہے؟ آگ جلا دی ہے، تو یہ "شَبُّوهُ" کی ہا ضمیر غضا کو راجع لیکن کس معنی میں؟ آگ کے۔ اگرچہ ان لوگوں نے شَبُّوهُ آگ جلائی ہے بَيْنَ جَوَانِحِي وَضُلُوعِي، جوانح جمع ہے جانحۃ کی اور ضلوع جمع ہے ضلع کی، اور یاد رکھیے یہ دونوں پسلیوں کو کہتے ہیں۔ جوانح کا معنی بھی پسلیاں، ضلوع کا معنی بھی پسلیاں، چنانچہ اسی لیے یہ بعض علماء نے لکھا کہ یہ عطفِ تفسیری ہے، کیا ہے؟ کیونکہ جوانح کا معنی بھی پسلیاں اور ضلوع کا معنی بھی پسلیاں، تو جَوَانِحِي یا متکلم کے ساتھ مل گئی، میری پسلیاں، وَضُلُوعِي اور میری پسلیاں، یہاں بھی یا ضمیر متکلم کی مل گئی۔ تو یہ عطفِ تفسیری ہے، عطفِ تفسیری کس کو کہتے تھے؟ جس میں معطوف یعنی وہ جو بعد میں آتا ہے وہ ماقبل یعنی معطوف علیہ کی تفسیر اور معنی بیان کرتا ہے، "جَوَانِحِي" آیا تھا آگے پھر "وَضُلُوعِي" لا کر اس کی تفسیر کر دی گئی کہ جوانحی سے کیا مراد ہیں؟ میری پسلیاں مراد ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اس کو کیا کہتے ہیں؟ عطفِ تفسیری۔ تو بعض علماء نے اس کو عطفِ تفسیری لکھا، جبکہ بعض علماء نے ان دونوں میں کچھ فرق کیا۔ فرق کیا اور کہا کہ جوانح جو ہیں وہ پسلیاں ہیں جو سینے کے نچلے حصے کی طرف ہیں، جو پیٹ کی جانب ہیں، جو چھوٹی پسلیاں ہیں۔ اور ضلوع جو اوپر سینے کی طرف ہیں۔ بعضوں نے اس کا عکس کیا: جوانح وہ پسلیاں جو سینے کی طرف ہیں اور ضلوع وہ پسلیاں جو نیچے کی طرف ہیں جو چھوٹی ہیں، اور بعضوں نے کہا: جوانح وہ پسلیاں جو کمر، پشت کی جانب ہیں جو حصہ ان کا، اور ضلوع جو پسلیاں سینے کے، تو اس طرح بعضوں نے کچھ فرق وغیرہ کیا اور بعضوں نے لکھا کہ یہ عطفِ تفسیری ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ "وَإِنْ هُمُو شَبُّوهُ بَيْنَ جَوَانِحِي وَضُلُوعِي"، اگرچہ ان لوگوں نے آگ جلائی ہے بَيْنَ جَوَانِحِي میری پسلیوں کے درمیان یعنی میرے سینے میں، یعنی میرے دل میں، مراد کیا ہے؟ میرے دل میں۔ اگرچہ ان لوگوں نے آگ جلائی ہے میرے دل میں۔ شاعر غضا مقام، غضا کے درختوں کو، اس جگہ پر رہنے والوں کو دعا دے رہا ہے اور کہتا ہے کہ اے اللہ ان لوگوں کو سیراب کر، اگرچہ ان لوگوں نے میرے دل میں آگ جلائی ہے، آگ مراد ہے عشق و محبت کی آگ بھئی، کون سی آگ مراد ہے؟ معلوم ہوا شاعر کی محبوبہ اس مقام پر رہتی تھی تو لہٰذا اب وہ کیا کر رہا ہے؟ کیا کہتا ہے؟ اگرچہ انہوں نے میرے دل میں محبت کی آگ جلائی ہے، مجھے تکلیف اور غم میں مبتلا کر دیا ہے لیکن اے اللہ ان لوگوں کو کیا کر؟ ان کے اس درختوں کو بھی اور اس جگہ پر رہنے والوں کو بھی سیراب کر دے، معنی سمجھ میں آ گیا۔ فَسَقَى الْغَضَا وَالسَّاكِنِيهِ وَإِنْ هُمُو شَبُّوهُ بَيْنَ جَوَانِحِي وَضُلُوعِي، پس اے اللہ سیراب کر غضا درختوں کو اور غضا مقام پر رہنے والوں کو، اور اگرچہ ان لوگوں نے آگ جلائی ہے میری پسلیوں کے درمیان یعنی میرے دل میں۔ اب خود معنی بیان کر رہے ہیں: اَلْغَضَا شَجَرٌ بِالْبَادِيَةِ، بادیہ کہتے ہیں جنگل کو، اَلْغَضَا شَجَرٌ بِالْبَادِيَةِ، غضا ایک درخت ہے جنگل میں، وَضَمِيرُ سَاكِنِيهِ يَعُودُ إِلَيْهِ، اور "سَاكِنِيهِ" کی ہا ضمیر بھی اسی کی طرف لوٹ رہی ہے بِمَعْنَى مَكَانِهِ، کس معنی میں؟ اس غضا کے جگہ کے معنی میں یعنی وہ جگہ مراد ہے، وَضَمِيرُ شَبُّوهُ يَعُودُ إِلَيْهِ بِمَعْنَى نَارِهِ، اور "شَبُّوهُ" کی جو ہا ضمیر ہے یہ بھی یعود الیہ، اسی غضا کی طرف لوٹ رہی ہے بمعنی نارہ، بمعنی اس کی آگ کے۔ اَلِاسْتِطْرَادُ: هُوَ أَنْ يَخْرُجَ الْمُتَكَلِّمُ مِنَ الْغَرَضِ الَّذِي هُوَ فِيهِ إِلَى آخَرَ لِمُنَاسَبَةٍ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى تَتْمِيمِ الْأَوَّلِ۔ اگلی صنعت ہے: استطراد، طا کے ساتھ، استطراد۔ استطراد اس کو کہتے ہیں، استطراد کا معنی ہے بات کو لمبا کرنا، ایک بات سے دوسری بات نکالنا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ استطراد کہتے ہیں، بات کو لمبا کرنا۔ استطراد اس کو کہتے ہیں کہ متکلم کوئی ایک بات بیان کر رہا تھا، اس بات کو ذکر کرتے کرتے اسی کے مناسب کسی دوسری بات کی طرف چلا گیا اور پھر وہ ذکر کر کے واپس پھر اپنے مضمون کی طرف جو بات وہ کر رہا تھا اس کی طرف لوٹ آیا اس کو پورا کرنے کے لیے، اس کو کہتے ہیں استطراد۔ کیا کہتے ہیں؟ استطراد۔ دیکھو بات سے بات اس نے نکالی۔ تو ایک بات ذکر کر رہا تھا اس سے کس طرف چلا گیا؟ اسی کے مناسب کسی دوسری بات کی طرف، اس کی مناسبت تھی، اور پھر اس سے واپس لوٹ آیا پہلی بات کی طرف اس کو مکمل کرنے کے لیے، یہ ہے استطراد۔ تو کہتے ہیں: اَلِاسْتِطْرَادُ: هُوَ أَنْ يَخْرُجَ الْمُتَكَلِّمُ، استطراد یہ ہے کہ نکلے متکلم، بات کرنے والا، مِنَ الْغَرَضِ الَّذِي هُوَ فِيهِ اس مقصد سے جس کے اندر وہ تھا، اس سے متکلم نکلے إِلَى آخَرَ دوسرے مقصد کی طرف لِمُنَاسَبَةٍ کسی مناسبت کی وجہ سے، ان دونوں میں کوئی مناسبت ہوگی دونوں مقصدوں میں، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى تَتْمِيمِ الْأَوَّلِ، پھر وہ متکلم لوٹتا ہے پہلی غرض کو مکمل کرنے کی طرف۔ تتمیم کا معنی مکمل کرنا، پھر وہ لوٹتا ہے پہلی غرض کو یعنی پہلی بات کو مکمل کرنے کی طرف، كَقَوْلِ السَّمَوْءَلِ، جیسے سموأل شاعر کا قول ہے: وَإِنَّا أُنَاسٌ لَا نَرَى الْقَتْلَ سُبَّةً إِذَا مَا رَأَتْهُ عَامِرٌ وَسَلُولُ يُقَرِّبُ حُبُّ الْمَوْتِ آجَالَنَا لَنَا وَتَكْرَهُهُ آجَالُهُمْ فَتَطُولُ وَمَا مَاتَ مِنَّا سَيِّدٌ حَتْفَ أَنْفِهِ وَلَا طُلَّ مِنَّا حَيْثُ كَانَ قَتِيلُ وَإِنَّا أُنَاسٌ لَا نَرَى الْقَتْلَ سُبَّةً، بھئی یہ سین پر زبر لگی ہے، زبر نہیں بھئی، پیش ہونی چاہیے: سُبَّةً۔ شاعر اپنے قبیلے کی بہادری، جرات اور شجاعت کو بیان کر رہا ہے اور کہتا ہے: وَإِنَّا أُنَاسٌ، بے شک ہم ایسے لوگ ہیں، إِنَّا أُنَاسٌ، بے شک ہم ایسے لوگ ہیں، لَا نَرَى الْقَتْلَ سُبَّةً، سبۃ کہتے ہیں عیب کو، عیب اور عار بھئی۔ ہم ایسے لوگ ہیں: لَا نَرَى الْقَتْلَ سُبَّةً، کہ ہم قتل کرنے کو کوئی عار نہیں سمجھتے، کوئی عار نہیں، یا یوں کہیں قتل ہونے کو ہم کوئی عار نہیں سمجھتے کہ اگر ہم قتل کر دیے جائیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جو بھی معنی آپ۔ کہ بے شک ہم ایسے لوگ ہیں جو قتل کو عیب نہیں سمجھتے، إِذَا مَا رَأَتْهُ عَامِرٌ وَسَلُولُ، جبکہ اس کو سمجھتے ہیں قبیلۂ عامر والے اور قبیلۂ سلول والے۔ ہم لوگ قتل کو عیب نہیں سمجھتے، یعنی کسی کو یعنی قتل ہونا، قتل ہونا زیادہ مناسب بنتا ہے قتل ہونا کہیں۔ ہم لوگ ہم مارے بھی جائیں، قتل بھی ہو جائیں اس کو ہم کوئی عیب نہیں سمجھتے، إِذَا مَا رَأَتْهُ عَامِرٌ وَسَلُولُ، جبکہ اس کو سمجھتے ہیں قبیلۂ عامر والے اور قبیلۂ سلول والے یعنی وہ اس کو عیب سمجھتے ہیں۔ تو دیکھو شاعر بیان کر رہا ہے اپنے قبیلے کی بہادری، شجاعت، فخر کی باتیں کر رہا ہے، اور وہاں سے وہ نکل گیا قبیلۂ عامر اور قبیلۂ سلول کی مذمت کے بیان کرنے کی طرف بھئی، کس کی طرف؟ مذمت بیان کرنے کی طرف، اس لیے کیونکہ "بِضِدِّهَا تَتَبَيَّنُ الْأَشْيَاءُ" بھئی، چیزوں کے پتہ کس سے چلتا ہے؟ ان کی ضد سے چلتا ہے، صبح کا ذکر کر دیں، صبح کی تفصیل بیان کر دیں تو شام کا خود بخود پتہ چل جائے گا، سردی کی تفصیل بیان کر دی جائے تو گرمی کا خود بخود پتہ چل جائے گا۔ تو ضد کے ذریعے چیز کا پتہ چل جاتا ہے، تو لہٰذا تاکہ خوب ہماری شجاعت کھل کر سامنے آ جائے اس لیے ان کی ساتھ مذمت کر رہا ہے، ان کی بزدلی بیان کر رہا ہے۔ ہم لوگ جو ہیں قتل کو عیب نہیں سمجھتے جبکہ اس کو قبیلۂ عامر اور سلول والے سمجھتے ہیں یعنی عیب سمجھتے ہیں۔ يُقَرِّبُ حُبُّ الْمَوْتِ، حُبُّ الْمَوْتِ، یہ موت مضاف الیہ ہے، مجرور ہونا چاہیے، یہ زبر غلط لگا ہوا ہے بھئی۔ يُقَرِّبُ حُبُّ الْمَوْتِ آجَالَنَا لَنَا، قریب کر دیتی ہے موت کی محبت آجَالَنَا، آجال جمع ہے اجل کی، اجل بھی موت کو کہتے ہیں، اجل بھی کس کو کہتے ہیں؟ موت کو، اسی طرح کسی کا مقررہ وقت جو ہے، جو مدتِ حیات ہے اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ اجل کہتے ہیں۔ يُقَرِّبُ حُبُّ الْمَوْتِ آجَالَنَا لَنَا، قریب کر دیتی ہے موت کی محبت، کس کو قریب کر دیتی ہے؟ آجَالَنَا، ہماری موت کو۔ موت بھی ہمارے ساتھ محبت کرتی ہے تو موت جو ہمارے ساتھ محبت کرتی ہے اس کی وجہ سے یہ ہماری موت کو ہمارے قریب کر دیتی ہے، موت کی محبت ہمارے قریب کر دیتی ہے ہمارے وقتِ مقررہ کو۔ تو کہتے ہیں: يُقَرِّبُ حُبُّ الْمَوْتِ آجَالَنَا لَنَا، موت کی محبت جو ہے وہ قریب کر دیتی ہے ہماری اجل کو لنا، ہمارے، وَتَكْرَهُهُ آجَالُهُمْ، اور ان سے ان سے نفرت کرتی ہے، ان کو ناگوار سمجھتی ہے آجَالُهُمْ ان کی موت، ان کی اجل ان کی جو اجل ہیں وہ ان کو ناپسند کرتی ہیں، فَتَطُولُ، تو ان کی اجل لمبی ہو جاتی ہے، یعنی ان کی زندگی لمبی ہو جاتی ہے، یعنی عرصۂ حیات لمبا ہو جاتا ہے۔ شاعر کہہ یہ رہا ہے کہ ہم بہادر لوگ ہیں، قتل کر بھی دیے جائیں ہم اس کو کوئی عیب سمجھتے ہی نہیں، ہاں قبیلۂ عامر اور سلول والے اس کو عیب سمجھتے ہیں کہ کیا ہو جائیں؟ قتل ہو جائیں۔ تو اور ہم سے موت بھی محبت کرتی ہے، چنانچہ جب موت ہم سے محبت کرتی ہے تو ہم لوگوں کی اجل یعنی موت جلدی آ جاتی ہے کیونکہ موت ہم سے کیا کرتی ہے؟ محبت کرتی ہے۔ اور ان لوگوں سے ان کی موت ان کو ناگوار سمجھتی ہے، ان سے نفرت کرتی ہے، جب نفرت کرتی ہے تو ان سے دور رہتی ہے اور ان کی زندگی لمبی ہو جاتی ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: يُقَرِّبُ حُبُّ الْمَوْتِ آجَالَنَا لَنَا وَتَكْرَهُهُ آجَالُهُمْ فَتَطُولُ۔ "وَتَكْرَهُهُ"، یہ آجَالُهُمْ اس کا فاعل ہے، اس سے کراہت کرتی ہے، اسے ناگوار سمجھتی ہے، کیا چیز؟ آجَالُهُمْ، ان کی موت۔ یہ "تَكْرَهُهُ"، یہ ہا ضمیر راجع ہے عامر اور سلول کو، کس کو؟ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے یہ تو مفرد کی ضمیر ہے، یہاں ہم ضمیر ہونی چاہیے تھی، کیا ہونی چاہیے تھی؟ ہم، تو یہ مفرد کی کیوں لائے؟ تو بھئی یہاں ہم تاویل کر لیں گے، تاویل کر لیں گے کہ ہا ضمیر راجع ہے الجمع کی تاویل میں، کس تاویل میں؟ الجمع، وہ مجموعہ بن گیا کہ عامر اور سلول جمع ہیں یا مفرد ہیں؟ ایک دو فردوں کا نام ہے یا دو قبیلے ہیں، بہت سے افراد ہیں؟ بہت سے افراد، تو یہ جمع ہو گئے، اور جمع جمعٌ یہ تو یہ جمع ہوئے اور جمع کا لفظ کیا ہے؟ مفرد مذکر، تو اس کی طرف ضمیر بھی کون سی لوٹا دی؟ مفرد مذکر کی، یا تاویل کر لیتے ہیں "كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ"، "كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ"، اور آجال جو ہیں، موت جو ہیں وہ موت جو ہے وہ ناپسند کرتی ہے "كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ"، ان میں سے ہر ایک کو ناپسند کرتی ہے تو دیکھو "كُلُّ وَاحِدٍ" کی تاویل میں ضمیر مفرد مذکر کی لوٹانا صحیح۔ وَمَا مَاتَ مِنَّا سَيِّدٌ حَتْفَ أَنْفِهِ، اور نہیں مرا منا، ہم میں سے سَيِّدٌ، کوئی سردار، حَتْفَ أَنْفِهِ، حتف کہتے ہیں موت کو، حتف موت، انف، انف کہتے ہیں ناک کو، ناک کو۔ اور عربی زبان میں، عرب جو ہیں عرب، جو شخص اپنی طبعی موت مرتا، یعنی کسی نے قتل نہیں کیا، کسی نے قتل نہیں کیا اور اپنی طبعی موت مر گیا اس کو اس کے لیے عربی عرب کہتے تھے: "مَاتَ حَتْفَ أَنْفِهِ"، کیا کہتے؟ "مَاتَ حَتْفَ أَنْفِهِ"، یعنی لفظی ترجمہ: وہ اپنی ناک کی موت مرا ہے، اپنی یہ لفظی ترجمہ۔ با محاورہ: وہ اپنی طبعی موت مرا ہے، وہ اپنی طبعی موت مرا ہے یعنی کسی نے اس کو قتل وغیرہ نہیں کیا۔ بھئی یہ طبعی موت کے لیے وہ "مَاتَ حَتْفَ أَنْفِهِ" یہ کیوں کہتے تھے؟ وجہ کیا ہے؟ بھئی وجہ یہ کہ عربوں کا عقیدہ یہ تھا کہ کسی کو اگر تلوار یا نیزے وغیرہ سے قتل کیا جائے تو اس کی روح اسی جگہ سے نکلتی ہے جہاں پر تلوار یا نیزہ مارا گیا، جہاں پر تلوار یا نیزے کا زخم لگا ہے وہیں سے موت کے وقت اس کی روح نکلی، اور جو شخص اپنی طبعی موت مرتا ہے اس کی روح ناک سے نکلتی ہے۔ یہ کس کا عقیدہ تھا؟ عربوں کا۔ تو لہٰذا جو شخص طبعی موت مرا ہے ان کے خیال میں اس کی روح کہاں سے نکلی؟ ناک، تو اس کے لیے کیا کہتے؟ "مَاتَ حَتْفَ أَنْفِهِ"، وہ اپنی ناک کی موت مرا ہے یعنی اپنی طبعی موت مرا ہے۔ تو شاعر کہتا ہے: "وَمَا مَاتَ مِنَّا سَيِّدٌ حَتْفَ أَنْفِهِ"، اور نہیں مرا ہم میں سے کوئی سردار اپنی طبعی موت، یعنی ہم ایسے بہادر لوگ ہیں، ہمارا ہر وقت جنگوں اور لڑائیوں ہی میں وقت گزرتا ہے، ہمیں جنگوں، لڑائیوں اور موت، کسی چیز سے خوف نہیں آتا، ہم میں سے کوئی سردار وہ اپنی طبعی موت نہیں مرا، ہر ایک کو کیا کیا گیا؟ قتل کیا دشمنوں نے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ وَلَا طُلَّ مِنَّا حَيْثُ كَانَ قَتِيلُ، قتیل بمعنی مقتول کے ہے۔ وَلَا طُلَّ مِنَّا، طل کے معنی ہیں خون کا رائیگاں جانا، خون کا رائیگاں۔ عربی میں کہتے ہیں: "طَلَّ دَمُ الْقَتِيلِ"، "طَلَّ دَمُ الْقَتِيلِ"، اس مقتول کا خون رائیگاں گیا، بیکار گیا۔ کیا معنی بیکار گیا؟ معنی یہ کہ اس کی کوئی دیت وغیرہ نہیں لی گئی، اس کا کوئی خون بہا نہیں لیا گیا، اس کو کسی نے قتل کر دیا تھا اور خاندان والوں نے اس کا خون بہا اور فدیہ وغیرہ نہیں لیا تو اس کو کہتے ہیں اس کا خون رائیگاں گیا: "طَلَّ دَمُ الْقَتِيلِ"۔ تو شاعر کہتا ہے: وَلَا طُلَّ مِنَّا، اور نہ ہم میں سے کسی کا خون رائیگاں گیا ہے حَيْثُ كَانَ قَتِيلُ، جہاں کہیں بھی وہ مقتول ہوا، جہاں کہیں بھی کوئی ہم میں سے مقتول ہوا، ہم میں سے کسی کا خون رائیگاں نہیں گیا یعنی ہر ایک کے قتل پر ہم نے کیا کیا ہے اس کا؟ خون بہا لیا ہے، کہنا یہ چاہتا ہے یعنی ہم میں سے بھی کوئی طبعی موت نہیں مرتا، ہر ایک کیا ہوتا ہے؟ مقتول ہوتا ہے اور ہر ایک کا کیا لیا جاتا ہے؟ خون بہا لیا جاتا ہے، ہم اس کے خون بہا وصول کرتے ہیں جو اس کو قتل کرتا ہے، معنی سمجھ میں آ گیا۔ اب دیکھیے دوبارہ ترجمہ: وَإِنَّا أُنَاسٌ لَا نَرَى الْقَتْلَ سُبَّةً إِذَا مَا رَأَتْهُ عَامِرٌ وَسَلُولُ اور ہم ایسے لوگ ہیں کہ ہم قتل ہونے کو عیب شمار نہیں کرتے جبکہ قبیلۂ عامر اور قبیلۂ سلول والے اس کو عیب سمجھتے ہیں، يُقَرِّبُ حُبُّ الْمَوْتِ آجَالَنَا لَنَا وَتَكْرَهُهُ آجَالُهُمْ فَتَطُولُ قریب کر دیتی ہے موت کی محبت ہماری اجل کو ہمارے، اور نفرت کرتی ہے ان سے، تو ان کی اجل جو ہیں وہ لمبی ہو جاتی ہیں، وَمَا مَاتَ مِنَّا سَيِّدٌ حَتْفَ أَنْفِهِ وَلَا طُلَّ مِنَّا حَيْثُ كَانَ قَتِيلُ اور ہم میں سے کوئی سردار طبعی موت نہیں مرا اور نہ ہم میں سے کسی کا خون رائیگاں گیا ہے جہاں کہیں وہ جہاں کہیں وہ قتل ہوا بھئی، جہاں کہیں وہ مقتول ہوا۔ فَسِيَاقُ الْقَصِيدَةِ لِلْفَخْرِ، پس قصیدے کا چلاؤ کس لیے ہے؟ فخر کے لیے ہے، شاعر کیا کر رہا ہے؟ فخر کے طور پر یہ ذکر کر رہا ہے، اپنے قبیلے کی بہادری بیان کر رہا ہے، وَاسْتَطْرَدَ مِنْهُ إِلَى هِجَاءِ عَامِرٍ وَسَلُولٍ، اور اس نے بات نکالی اس میں سے کس کی طرف، یا وہ نکلا اس میں سے کس کی طرف؟ قبیلۂ عامر اور قبیلۂ سلول کی ہجو اور مذمت بیان کرنے کی طرف، ثُمَّ عَادَ إِلَيْهِ، پھر فخر کی طرف لوٹ آیا، آخر میں پھر کیا کر رہا ہے؟ فخر کی بات کر رہا ہے۔ تو درمیان میں کس کی طرف نکلا؟ قبیلۂ عامر اور سلول کی ہجو بیان کرنے کی طرف، کیونکہ جب ان کی ہجو بیان کر دی جائے گی تو اس سے ان کی شجاعت اور زیادہ ظاہر ہوگی، اس لیے کیونکہ "اَلْأَشْيَاءُ تَتَبَيَّنُ بِأَضْدَادِهَا"، چیزیں اپنی اضداد کے ذریعے واضح ہوتی ہیں اور پہچانی جاتی ہیں۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی۔ اَلِافْتِنَانُ، اگلی صنعت ہے: افتنان بھئی، افتنان۔ کہتے ہیں: هُوَ الْجَمْعُ بَيْنَ فَنَّيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ، افتنان جو ہے وہ جمع کرنا ہے دو مختلف قسم کے فنوں کو، دو مختلف قسم کے فن جمع کرنا اپنے کلام کے اندر، اس کو کیا کہتے ہیں؟ افتنان، افتنان بھئی۔ كَالْغَزَلِ وَالْحَمَاسَةِ، جیسے کہ غزل اور حماسہ ہے، ان کو جمع کر دینا۔ غزل کہتے ہیں عورتوں سے عشق و محبت کی باتیں کرنا، یعنی ایسے اشعار جس میں اپنی محبوبہ کا ذکر ہو، عورتوں کے حسن و جمال وغیرہ کا ذکر ہو، ان سے عشق کی باتیں مذکور ہوں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ غزل کہتے ہیں۔ اور حماسہ، حماسہ کہتے ہیں جوشیلے جوشیلی چیز جو ہو، جو جوشیلا کلام ہو بھئی، اور اسی طرح جنگ وغیرہ جو ہے اس کے لیے بھی کیا لفظ استعمال ہوتا ہے؟ حماسہ، جنگ، لڑائی وغیرہ۔ تو دیکھیے، غزل میں عورتوں سے عشق و محبت کی باتیں ذکر ہوتی ہیں اور حماسہ جو ہے یہ کلام کی ایک قسم ہے جس کے اندر کون سی باتیں ہوں گی؟ جنگ اور لڑائی اور شجاعت اور بہادری وغیرہ کی باتیں ذکر ہوں گی۔ اب کوئی شخص کیا کرتا ہے؟ اپنے کلام کے اندر غزل اور حماسہ دونوں کو جمع کر دیتا ہے، تو دو فنوں کو اس نے جمع کر دیا، اور یہ بڑا مشکل کام ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ کیونکہ غزل کے اندر میٹھے، نرم الفاظ استعمال کرنا پڑتے ہیں، جبکہ جنگ والے اشعار کے اندر سخت بھئی اور تیز الفاظ، تیز زبان استعمال کرنا پڑتی ہے، تو یہ بالکل دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، تو ان دونوں کو اپنے کلام میں اکٹھا کرنا یہ بڑی مہارت کا کام ہے، کوئی آسان کام نہیں ہے بھئی۔ تو دیکھیے اس کو کہیں گے۔ تو کہتے ہیں: هُوَ الْجَمْعُ بَيْنَ فَنَّيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ، وہ جمع کرنا ہے دو مختلف فنوں کو، كَالْغَزَلِ وَالْحَمَاسَةِ، جیسے کہ غزل اور حماسہ ہے، وَالْمَدْحِ وَالْهِجَاءِ، اور تعریف اور ہجو یعنی مذمت ہے، تعریف بھئی اور مذمت، ان دونوں کو جمع کر دینا ایک ہی کلام کے اندر۔ کیونکہ تعریف کے اندر میٹھے لفظ لانا پڑیں گے اور ہجو اور مذمت کے اندر سخت اور ناگوار الفاظ لانا پڑیں گے۔ وَالتَّعْزِيَةِ وَالتَّهْنِئَةِ، اور اسی طرح تعزیہ اور تہنیت کو جمع کر دینا۔ تعزیہ کہتے ہیں تعزیت، تعزیت کرنا بھئی، کسی کے مرنے پر افسوس کرنا، وَالتَّهْنِئَةِ اور تہنیت کہتے ہیں مبارکباد بھئی، اور ان دونوں کو جمع کر دینا کہ اب آپ اپنے کلام میں افسوس اور مبارکباد کو جمع کر دیں، افسوس کے موقع پر غم والے الفاظ لانا پڑتے ہیں اور مبارکباد کے موقع پر خوشی اور مسرت سے بھرے ہوئے الفاظ ذکر کرنا پڑتے ہیں، تو دونوں بالکل دو الگ چیزیں ہیں، ان دونوں کو جمع کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے، تو ان دونوں کو کوئی جمع کر دے اسی طرح مدح اور ہجو یعنی مدح اور مذمت کو جمع کر دے یا غزل اور حماسہ غزل اور حماسہ وغیرہ کو جمع کر دے تو اس کو افتنان کہتے ہیں کہ اس شخص نے دو مختلف فنوں کو اپنے کلام میں جمع کر دیا۔ كَقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هَمَّامٍ السَّلُولِيِّ، جیسے کہ عبداللہ ابن ہمام سلولی کا قول ہے: حِينَ دَخَلَ عَلَى يَزِيدَ، جس وقت کہ وہ یزید پر داخل ہوا یعنی اس کے پاس آیا، وَقَدْ مَاتَ أَبُوهُ مُعَاوِيَةُ، اور تحقیق ان کے والد حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کا انتقال ہوا تھا، وَخَلَفَهُ هُوَ فِي الْمُلْكِ، اور انہوں نے اس جانشین بنایا تھا اس کو فی الملک، سلطنت میں، حکومت میں، اس کو کیا بنایا تھا؟ جانشین۔ یا خَلَفَهُ پڑھ لیں یا خَلَفَهُ پڑھ لیں، وَخَلَفَهُ هُوَ فِي الْمُلْكِ، اور خلیفہ بنا تھا، جانشین ہوا تھا یہ یزید فی الملک، کس کے اندر؟ سلطنت میں، کس میں؟ سلطنت میں۔ ان سے کیا کہا عبداللہ ابن ہمام سلولی نے؟ وہ آیا اور آ کر کہنے لگا: آجرک اللہ، اب دیکھیے بھئی، ایک طرف دیکھیں تو غم کا مقام ہے، ان کے والد کا انتقال ہوا ہے، وہ غم اظہارِ غم بھی کرے گا، تعزیت بھی کرے گا، اور ساتھ ساتھ یہ خلیفہ بنا ہے، خوشی کا بھی مقام ہے تو اس پر مبارکباد اور خوشی کے الفاظ بھی کہے گا، اور یہ کیسے دونوں چیزیں وہ کہنے والا جمع کرتا ہے اپنے کلام میں، وہ شخص کہتا ہے: آجَرَكَ اللَّهُ عَلَى الرَّزِيَّةِ، رزیۃ کہتے ہیں مصیبت کو، آجَرَكَ اللَّهُ عَلَى الرَّزِيَّةِ، اللہ آپ کو بدلہ دے اس مصیبت پر، وَبَارَكَ لَكَ فِي الْعَطِيَّةِ، اور اللہ آپ کو برکت دے اس عطیہ اور اس انعام میں، اس عطیہ اور اس انعام میں، وَأَعَانَكَ عَلَى الرَّعِيَّةِ، اور اللہ آپ کی مدد فرمائے علی الرعیۃ، رعایا اور عوام کے معاملے میں، فَقَدْ رُزِئْتَ عَظِيمًا وَأُعْطِيتَ جَسِيمًا، رزیء کے معنی مصیبت میں ڈالا، رزء کے معنی مصیبت میں ڈالنا، فَقَدْ رُزِئْتَ عَظِيمًا، پس تحقیق تحقیق آپ عظیم مصیبت میں ڈالے گئے ہیں، وَأُعْطِيتَ جَسِيمًا، اور آپ کو عطا کیا گیا ہے جسیمًا، بڑی چیز، آپ کو بڑی چیز عطا کی گئی ہے، فَاشْكُرِ اللَّهَ عَلَى مَا أُعْطِيتَ، پس آپ اللہ کا شکر ادا کیجیے، فَاشْكُرِ اللَّهَ عَلَى مَا أُعْطِيتَ، پس آپ اللہ کا شکر ادا کیجیے اس چیز پر جو آپ کو عطا کی گئی، وَاصْبِرْ عَلَى مَا رُزِئْتَ، اور آپ صبر کیجیے اس پر جو جس مصیبت میں آپ ڈالے گئے ہیں، فَقَدْ فَقَدْتَ الْخَلِيفَةَ وَأُعْطِيتَ الْخِلَافَةَ، پس تحقیق آپ نے فقد کے معنی ہیں کھو دینا، کسی چیز کا ہاتھ سے نکل جانا، کھو دینا، یہ کیا ہے؟ فقد۔ فَقَدْ فَقَدْتَ الْخَلِيفَةَ، پس تحقیق آپ نے خلیفہ کو کھو دیا ہے، وَأُعْطِيتَ الْخِلَافَةَ، اور آپ کو خلافت دے دی گئی ہے، فَفَارَقْتَ خَلِيلًا وَوُهِبْتَ جَلِيلًا، پس آپ ایک گہرے دوست سے جدا ہو گئے ہیں، وَوُهِبْتَ جَلِيلًا، اور آپ کو ایک بڑی چیز ہبہ کر دی گئی ہے، عطا کر دی گئی ہے، عظیم چیز آپ، جلیل عظیم بھئی، خلیل گہرا دوست، فَفَارَقْتَ خَلِيلًا، آپ جدا ہو گئے ہیں گہرے دوست سے، وَوُهِبْتَ جَلِيلًا، اور آپ کو عظیم چیز عطیہ کر دی گئی ہے۔ معنی دیکھ رہے ہیں بھئی؟ کس طرح وہ افسوس کے ساتھ ساتھ مبارکباد کے کلمات اور وہ بھی ذکر کرتا چلا جا رہا ہے، اور کیسے تسلسل اور روانی ہے کلام کے اندر کہ انسان حیران رہتا ہے بھئی۔ غم کے ساتھ ہی وہ ساتھ پھر وہ مبارک کا لفظ بھی لے آتا ہے، پھر غم کا اظہار کرتا ہے پھر ساتھ ہی کون سا لفظ لے آتا ہے؟ ساتھ دوسرا بھی ذکر کرتا چلا جاتا ہے بھئی، کمال کیا ہے بھئی اس شخص نے اس نے کلام کے اندر۔ آگے اشعار بھی دو شعر بھی اس نے کہے، اچھا: اصْبِرْ يَزِيدُ فَقَدْ فَارَقْتَ ذَا ثِقَةٍ وَاشْكُرْ حِبَاءَ الَّذِي بِالْمُلْكِ أَصْفَاكَا اصْبِرْ يَزِيدُ، صبر کر اے یزید، اصبر یا یزید، یہ یا یزید جو ہے مرفوع ہے، منادیٰ ہے: اصْبِرْ يَزِيدُ، صبر کر اے یزید، فَقَدْ فَارَقْتَ ذَا ثِقَةٍ، پس تحقیق تو جدا ہو گیا ہے ایک قابلِ اعتماد شخص سے، ذَا ثِقَةٍ، ثقۃ کہتے ہیں اعتماد کو، ثقہ کس کو کہتے ہیں؟ قابلِ اعتماد۔ ذَا ثِقَةٍ، بھئی ذو مال کا کیا معنی ہوتا ہے؟ مال والا، واو کے ساتھ: ذو مال، اور حالتِ نصبی میں کیسے پڑھتے ہیں؟ ذا مال، تو یہاں بھی اسی طرح یہ ذو ہے، حالتِ نصبی میں ہے: ذَا ثِقَةٍ، ذَا ثِقَةٍ، فَقَدْ فَارَقْتَ ذَا ثِقَةٍ، پس تحقیق آپ جدا ہوئے ہیں ایک قابلِ اعتماد شخص سے، وَاشْكُرْ حِبَاءَ الَّذِي بِالْمُلْكِ أَصْفَاكَا، اور آپ شکر ادا کیجیے، دیکھو پچھلے مصرعے میں تھا آپ صبر کیجیے، غم کی بات ہے، اگلے مصرعے میں ہے: "وَاشْكُرْ"، اور آپ کیا کیجیے؟ شکر ادا کیجیے، حِبَاءَ الَّذِي، حباء کہتے ہیں عطیے کو، انعام کو، حباء۔ اور ملک، بادشاہت، اصفیٰ، چن لینا، چن لینا۔ وَاشْكُرْ حِبَاءَ الَّذِي، اور آپ شکر ادا کیجیے حِبَاءَ الَّذِي اس ذات کے انعام کا، اس ذات کے انعام کا جس نے کہ بِالْمُلْكِ أَصْفَاكَا، بادشاہت کے لیے آپ کو چن لیا ہے، حکومت کے لیے آپ کو چن لیا ہے۔ وَاشْكُرْ حِبَاءَ الَّذِي بِالْمُلْكِ أَصْفَاكَا، اور آپ شکر ادا کیجیے اس ذات کے انعام کا جس نے بادشاہت کے لیے آپ کو اصفاکا، چن لیا ہے۔ لَا رُزْءَ، بھئی رزءً نہیں، رُزْءَ، را پر پیش ہو: لَا رُزْءَ أَصْبَحَ فِي الْأَقْوَامِ نَعْلَمُهُ كَمَا رُزِئْتَ وَلَا عُقْبَى كَعُقْبَاكَا لَا رُزْءَ، رزءٌ وہی مصیبت بھئی، أَصْبَحَ، اصبح کا ایک معنی آتا ہے ظاہر ہونے کے، عربی میں کہتے ہیں: أَصْبَحَ الْحَقُّ، حق ظاہر ہو گیا، عربی میں کیا کہتے ہیں؟ حق ظاہر، تو یہاں بھی اصبح ظاہر ہونے کے معنی میں ہے۔ شاعر کہتا ہے: لَا رُزْءَ أَصْبَحَ فِي الْأَقْوَامِ نَعْلَمُهُ، کوئی مصیبت جو ظاہر ہوئی ہو فِي الْأَقْوَامِ، قوموں میں، نَعْلَمُهُ، جس کو ہم جانتے ہوں، ایسی نہیں ہے۔ ایسی نہیں، لَا رُزْءَ أَصْبَحَ، کوئی مصیبت ظاہر نہیں ہوئی فِي الْأَقْوَامِ، کس کے اندر؟ قوموں میں، نَعْلَمُهُ، جس کو ہم جانتے ہوں، یعنی کسی قوم میں ایسی مصیبت نہیں ظاہر ہوئی جس کو ہم جانتے ہوں کہ کبھی ایسی کسی پر مصیبت آئی ہو، ہم کسی ایسی قوم کو نہیں جانتے جن میں اس طرح کی مصیبت ظاہر ہوئی ہو، معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ لَا رُزْءَ أَصْبَحَ فِي الْأَقْوَامِ نَعْلَمُهُ، کوئی مصیبت ظاہر نہیں ہوئی لوگوں میں، نَعْلَمُهُ کہ ہم اس کو جانتے ہوں کہ اس طرح کی مصیبت ہو، ہم نہیں جانتے کسی ایسی مصیبت کو جو لوگوں میں ظاہر ہوئی ہو۔ كَمَا رُزِئْتَ، جیسے کہ آپ مصیبت میں ڈالے گئے ہیں، وَلَا عُقْبَى كَعُقْبَاكَا، اور نہ کوئی ایسا بدلہ، عقبیٰ کا ایک معنی بدلے کے بھی آتے ہیں: وَلَا عُقْبَى كَعُقْبَاكَا، اور نہ کوئی ایسا بدلہ جیسے کہ آپ کا بدلہ ہے، ہم ایسا بدلہ بھی نہیں جانتے لوگوں میں سے کہ کسی پر غم آیا ہو، مصیبت آئی ہو اور اس غم اور مصیبت کا اسے اللہ اتنا بڑا بدلہ دے دیں اور اتنا بڑا بدلہ اس کو دے دیں جیسے آپ کو اللہ نے بدلہ دے دیا بھئی، اس مصیبت کا اللہ نے آپ کو بدلہ دیا۔ یا عقبیٰ کے معنی انجام کر لیں اور نتیجہ کر لیں: وَلَا عُقْبَى كَعُقْبَاكَا، اور نہ کوئی ایسا نتیجہ جیسے کہ آپ کا نتیجہ اور انجام ہے یعنی جس طرح آپ کو انعام دیا گیا، مصیبت آئی تو اس کے بدلے میں عظیم انعام بھی دے دیا گیا بھئی۔ دوبارہ ترجمہ اشعار کا دیکھ لیجیے: اصْبِرْ يَزِيدُ فَقَدْ فَارَقْتَ ذَا ثِقَةٍ وَاشْكُرْ حِبَاءَ الَّذِي بِالْمُلْكِ أَصْفَاكَا صبر کر اے یزید، اے یزید پس تحقیق تو جدا ہو گیا ہے ایک قابلِ اعتماد آدمی سے، اور آپ شکر ادا کیجیے، حباء الذی بالملک اصفاکا، اس ذات کے انعام کا جس نے حکومت کے لیے آپ کو اصفاکا چن لیا ہے۔ لَا رُزْءَ أَصْبَحَ فِي الْأَقْوَامِ نَعْلَمُهُ كَمَا رُزِئْتَ وَلَا عُقْبَى كَعُقْبَاكَا کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو ظاہر ہوئی لوگوں میں جس کو ہم جانتے ہوں، کما رزئت، جیسے کہ آپ مصیبت میں ڈالے گئے ہیں، ولا عقبیٰ کعقباکا، اور نہ ایسا بدلہ، ایسا انجام جیسے کہ آپ کو بدلہ دیا گیا، اس جیسا کوئی بدلہ بھی ہم نہیں جانتے بھئی۔ تو دیکھیے یہ تھا افتنان بھئی، کہنے والے نے کیا کیا؟ تعزیت یعنی افسوس، اور تہنیت یعنی مبارکباد کو جمع کر دیا ایک ہی کلام کے اندر، اس کو کہتے ہیں افتنان۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔