Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-073

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 9
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔73 وَتَنْقَسِمُ الِاسْتِعَارَةُ إِلَى مُرَشَّحَةٍ، وَهِيَ: مَا ذُكِرَ فِيهَا مُلَائِمُ الْمُشَبَّهِ بِهِ، نَحْوُ: أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَى فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ، فَالِاشْتِرَاءُ مُسْتَعَارَةٌ لِلِاسْتِبْدَالِ، وَذِكْرُ الرِّبْحِ وَالتِّجَارَةِ تَرْشِيحٌ۔ علمِ بیان میں آپ نے پڑھا تھا کہ تشبیہ، مجاز اور کنایہ کے بارے میں بحث کی جاتی ہے۔ تشبیہ کا بیان مکمل ہوا، اس کے بعد مجاز کا بیان چل رہا ہے، اور آپ نے پڑھا مجاز کہتے ہیں لفظ کو معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کرنا، یعنی لفظ کو معنی غیر حقیقی میں استعمال کرنا، اور ساتھ کوئی ایسا قرینہ ہو جو معنی حقیقی مراد لینے سے مانع ہو، اس سے روکنے والا ہو کہ حقیقی معنی کا وہاں ارادہ نہ کیا جا سکتا ہو۔ تو اس کو کہتے ہیں مجاز بھئی، مجاز۔ اور مجاز جو ہے اس کو وہ لفظ ہے جس کو آپ نے معنی غیر حقیقی میں استعمال کیا ہے تو وہ معنی جس میں استعمال کر رہے ہیں اور وہ معنی جو حقیقی ہے، ان دونوں کے درمیان کوئی تعلق ہوتا ہے۔ اگر یہ تعلق تشبیہ والا ہو تو اسے استعارہ کہتے ہیں، اور اگر یہ تعلق تشبیہ کے علاوہ کوئی اور ہو تو پھر اسے مجازِ مرسل کہتے ہیں۔ اور پھر آپ نے پڑھا تھا کہ استعارہ کے اندر یا تو مشبہ ذکر ہوتا ہے یا مشبہ بہ۔ اگر استعارہ کے اندر مشبہ بہ ذکر ہو تو اسے استعارۂ مصرحہ اور استعارۂ تصریحیّہ کہتے ہیں، اور اگر استعارہ کے اندر مشبہ ذکر ہو تو اسے استعارۂ مکنیہ اور استعارہ بالکنایہ کہتے ہیں۔ اور استعارہ بالکنایہ کے لیے قرینہ جو ہوتا ہے وہ استعارۂ تخییلیہ ہوتا ہے، یعنی مشبہ بہ کے لازم کو مشبہ کے لیے ثابت کرنا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ استعارۂ تخییلیہ۔ پھر استعارہ چاہے مصرحہ ہو یا استعارۂ مکنیہ ہو، دونوں دو قسم پر ہیں: یا اصلیہ ہوں گے یا تبعیہ۔ استعارۂ تبعیہ وہ ہے جس کے اندر مستعار جو ہے یعنی وہ لفظ جس میں استعارہ ہے وہ مستعار جو ہے وہ فعل ہو، یا کوئی اسمِ مشتق ہو، یا حرف ہو، یا کیا ہو؟ حرف ہو۔ جبکہ استعارۂ اصلیہ جس میں مستعار ایسا اسم ہو جو مشتق نہ ہو، مشتق نہ ہو۔ پھر اس کے بعد وجہ ذکر کی تھی کہ یہ استعارۂ تبعیہ کو تبعیہ کیوں کہتے ہیں؟ اس لیے کیونکہ یہ استعارہ تابع ہوتا ہے ایک اور استعارے کے، یا یوں کہیں اس استعارے کی بنیاد ایک اور استعارے پر ہوتی ہے۔ اس استعارے کی بنیاد ایک اور استعارے پر ہوتی ہے اس لیے اس کو استعارۂ تبعیہ کہتے ہیں۔ مثلاً فعل میں یا کسی اسمِ مشتق کے اندر اگر استعارہ ہوا تو دراصل پہلے استعارہ اس کے مصدر میں کیا گیا، کس میں؟ مصدر میں۔ اور اس کے مصدر کو معنی غیر حقیقی میں استعمال کر لیا گیا اور پھر اس مصدر سے اس مشتق کا، چاہے فعل ہو چاہے کوئی اسم ہو، اس کا اشتقاق اس مصدر سے کیا گیا، اور وہ مصدر تو تھا معنی غیر حقیقی میں تو یہ جو مشتق ہوا یہ بھی کس میں ہوگا؟ معنی غیر حقیقی میں۔ تو اس کا استعارہ اس کے استعارے کے تابع ہوا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ استعارہ بھی کس کو کہتے تھے؟ لفظ معنی غیر حقیقی میں۔ اس کے بعد یہ مثال آئی تھی: أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ۔ یہاں میں نے بتلایا تھا "عَلَى" جو حرف ہے اس کے اندر استعارہ ہے، استعارہ ہے، اور حرف کے اندر جو استعارہ ہو اسے بھی کیا کہتے ہیں؟ استعارۂ تبعیہ کہتے ہیں۔ تو یہاں پر دیکھیے: أُولَئِكَ عَلَى هُدًى، "عَلَى" سے پہلے کیا ذکر؟ "أُولَئِكَ"، وہ لوگ، اور وہ کون لوگ ہیں؟ ہدایت یافتہ جن کو ہدایت دی گئی، تو وہ ہوئے مہدی، اور "عَلَى" کے مابعد ذکر ہے "هُدًى" یعنی ہدایت کا ذکر ہے۔ تو ماقبل میں مہدی کا ذکر اور مابعد میں ہدایت کا ذکر ہے، تو مہدی اور ہدایت کے اندر اتصال ہوتا ہے۔ جس کو ہدایت دے دی گئی اس کا ہدایت سے تعلق جڑ گیا، اس کا ہدایت کے ساتھ اتصال آ گیا، تو اس اتصال کے لیے "عَلَى" حرف استعمال کیا گیا، حالانکہ "عَلَى" تو استعلاء کے لیے آتا ہے کہ ایک چیز دوسری چیز کے اوپر ہے بھئی، ایک چیز دوسری چیز کے اوپر ہے۔ تو وہ جو مہدی اور ہدایت کے درمیان اتصال تھا اس کے لیے "عَلَى" استعمال کر لیا گیا، تو "عَلَى" کو اپنے معنی حقیقی میں استعمال نہیں کیا گیا بلکہ معنی غیر حقیقی میں استعمال کیا گیا تو یہاں کیا ہوا؟ استعارہ ہوا، استعارہ۔ اور پھر میں نے تفصیل ذکر کی تھی کہ اس حرف میں استعارہ جو ہے اس کو تبعیہ کیوں کہتے ہیں؟ میں نے بتلایا تھا کہ "عَلَى" جو ہے یہ آتا ہے مطلقِ استعلاء کے لیے، اس کو عربوں نے کس لیے وضع کیا ہے، کس لیے مقرر کیا ہے؟ مطلقِ استعلاء کے لیے، یعنی کوئی بھی چیز دوسری چیز کے اوپر ہے تو اس کے لیے "عَلَى" استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن جہاں کہیں بھی آپ استعمال کریں گے تو وہ تو خاص موقع ہوگا، تو وہ مطلقِ استعلاء نہیں ہوگا، وہ خاص استعلاء ہوگا، کیا ہوگا؟ خاص استعلاء۔ تو یعنی عربوں نے اس کو وضع کیا مطلقِ استعلاء کے لیے، یعنی یہ کلی ہے، یہ کیا ہے؟ کلی ہے، اور جہاں بھی استعمال کریں گے وہ اس کی جزئی ہوگی بھئی، کیا ہوگی؟ جزئی ہوگی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی تھی کہ ایک ہے عام استعلاء، ایک ہے خاص استعلاء۔ عام استعلاء عربوں نے وضع کیا عام استعلاء کے لیے، جہاں بھی استعمال کرنا چاہیں استعلاء کے لیے آپ "عَلَى" کو استعمال کر سکتے ہیں لیکن جہاں کہیں بھی استعمال کریں گے مثلاً میں استعمال کرتا ہوں: "زَيْدٌ عَلَى السَّطْحِ"، زید کس پر ہے؟ چھت پر ہے۔ اب دیکھیے یہ عام استعلاء بتلا رہا ہے یا زید کا استعلاء بتلا رہا ہے؟ یہ زید کا استعلاء بتلا رہا ہے تو یہ خاص ہے، یہ کیا ہے؟ خاص۔ تو استعمال جہاں کہیں بھی کریں گے وہ خاص ہوگا۔ تو یہ اس کلی کے افراد میں سے ایک فرد ہے، اس کلی کی جزئیات میں سے ایک جزئی ہے، تو "عَلَى" مطلقِ استعلاء کے لیے ہے اور جہاں کہیں بھی آپ استعمال کریں گے وہ اس کی جزئی استعمال کریں گے، کیا استعمال کریں گے؟ جزئی۔ اس مطلقِ استعلاء کے لیے وضع ہے "عَلَى"، تو وہ ہے کلی، وہ مطلقِ استعلاء کے لیے، اور جہاں کہیں بھی استعمال کریں گے وہ اس کی جزئیات میں سے کوئی جزئی استعمال کریں گے، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔ اور یہاں پر یہ "عَلَى" استعمال ہوا اور عام مہدی کا ذکر ہے یہ یا یہ مخصوص مہدی جو ماقبل میں ذکر ہیں ان کا استعلاء بتلایا جا رہا ہے؟ مخصوص مہدی، معلوم ہوا یہاں پر بھی "عَلَى" کیا ہے؟ جزئی ہے، کیا ہے؟ جزئی ہے، جزئی ہے۔ اب تھوڑی سی اور تفصیل، تھوڑی سی اس میں مزید تھوڑا سا اضافہ کر لیں، بات تو سمجھ چکے ہیں آپ پوری، بس پورا تاکہ پوری بات آپ کے لیے واضح ہو جائے۔ دیکھیے بھئی جیسے یہ "عَلَى" مطلقِ استعلاء کے لیے ہے، کس لیے ہے؟ مطلقِ استعلاء، اسی طرح ہر مہدی، جو بھی مہدی ہوگا جسے بھی ہدایت دے دی جائے، اس میں اور ہدایت میں کیا آ جاتا ہے؟ اتصال آ جاتا ہے، کیا آ جاتا ہے؟ اتصال آ جاتا ہے۔ تو ہر مہدی اور ہدایت میں اتصال ہوگا، لیکن کون سا اتصال ہے؟ مطلق اتصال ہے، کیا ہے؟ مطلق ہے کہ جو بھی مہدی ہوگا اس کا ہدایت سے اتصال۔ زید اگر ہدایت یافتہ ہے اس کا بھی ہدایت سے اتصال آیا، لیکن جب زید کا میں نے ذکر کر دیا اب یہ اتصال عام نہ رہا، اب یہ اتصال خاص بن گیا، کیا بن گیا؟ کیونکہ یہ صرف زید کا اتصال ہدایت کے ساتھ بتا رہا ہے۔ تو ہر مہدی اور ہدایت میں کیا ہے؟ اتصال، یہ ہے مطلقِ اتصال، کیا ہے؟ مطلقِ اتصال۔ لیکن جب کسی خاص آدمی کے لیے ذکر کیا جائے گا یا خاص جماعت کے لیے، تو یہ مطلقِ اتصال نہ رہا، یہ اس مخصوص آدمی ہی کا اتصال اب بتلائے گا، جیسے یہاں پر بھئی: أُولَئِكَ عَلَى هُدًى، یہ مطلقِ اتصال بتایا جا رہا ہے یا ان مخصوص لوگوں کا اتصال ہدایت کے ساتھ بتایا جا رہا ہے؟ مخصوص لوگوں کا اتصال بتایا جا رہا ہے، تو یہاں پر جو اتصال ہے وہ بھی جزئی ہے۔ وہ مطلقِ اتصال کے افراد میں سے ایک فرد ہے، ایک جزئی ہے بھئی، جزئی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو یہاں پر استعارۂ تبعیہ کس طرح ہے اور استعارہ کس طرح ہے؟ بھئی یہ جو مطلقِ اتصال تھا، کیا تھا؟ کس میں؟ مہدی اور ہدایت میں، اس مطلقِ اتصال کے لیے اس وہ اس "عَلَى" کو لے لیا گیا مستعار جو مطلقِ استعلاء کے لیے آتا ہے۔ مطلقِ اتصال کے لیے مستعار کس کو لے لیا گیا؟ "عَلَى" کو، کون سا "عَلَى"؟ جو کس لیے آتا ہے؟ مطلقِ استعلاء کے لیے آتا ہے، یعنی اس کلی کے لیے جو اتصال تھی، کلی پہلی کلی کیا؟ مطلقِ اتصال، یہ بھی کیا ہے؟ کلی، اور اسی طرح مطلقِ استعلاء یہ بھی کیا ہے؟ کلی۔ تو ایک کلی کے لیے دوسری کلی کو مستعار لے لیا گیا، مہدی اور ہدایت میں تو اتصال ہوتا ہے، استعلاء نہیں ہوتا، لیکن اس کے لیے لفظ کون سا لے لیا گیا؟ "عَلَى" والا جو کس لیے آتا ہے؟ استعلاء کے لیے۔ تو اس مطلقِ اتصال کے لیے مطلقِ استعلاء والا لفظ یعنی "عَلَى" لے لیا گیا، تو اس کلی کے اندر کیا آیا؟ استعارہ آ گیا، کیا آ گیا؟ استعارہ۔ جب کلی کے اندر استعارہ آ گیا تو اس کے تمام افراد میں بھی کیا آ جائے گا؟ استعارہ آ جائے گا۔ جب مطلقِ "عَلَى" اتصال کے معنی میں لے لیا گیا، مطلقِ "عَلَى" کو کس معنی میں استعمال کر لیا گیا؟ مطلقِ "عَلَى" کو لے لیا گیا مہدی اور ہدایت میں اتصال کے لیے، کس کے لیے؟ تو مطلقِ "عَلَى" کو لے لیا گیا مطلقِ اتصال کے لیے، کس کے لیے؟ مطلقِ اتصال کے لیے۔ اور جب مطلقِ "عَلَى" مطلقِ اتصال کے معنی میں ہوا تو اس کے تمام جو افراد اور جزئیات ہیں وہ بھی کس معنی میں ہو گئے؟ اتصال کے معنی میں ہو گئے، کس معنی میں؟ اتصال۔ تو یہاں پر اس اتصال کے ایک فرد کے لیے، اس اتصال کی ایک جزئی کیونکہ یہاں اتصال جو "أُولَئِكَ عَلَى هُدًى" آیا، یہاں مطلقِ اتصال ہے یا خاص اتصال ہے؟ خاص، اور یہاں پر جو "عَلَى" آیا وہ بھی اب مطلق رہا یا خاص بن گیا؟ خاص۔ تو اس خاص اتصال کے لیے ایک خاص "عَلَى" کو استعمال کر لیا گیا، یعنی اس کلی کے افراد میں سے یا اس کلی کی جزئیات میں سے ایک جزئی کو استعمال کر لیا گیا۔ اس کلی کے جزئیات میں سے کون سی کلی؟ جو "عَلَى" تھا، کس لیے تھا؟ مطلقِ استعلاء کے لیے، اس کے جزئیات میں سے ایک جزئی جو کس لیے اب کیا بیان کرے گی؟ اتصال، لیکن جب جزئی ہے تو کیا بیان کرے گی؟ خاص استعلاء بیان کرے گی۔ تو اس "عَلَى" کے جزئیات میں سے ایک جزئی کو استعمال کر لیا گیا مہدی اور ہدایت کے درمیان جو اتصال تھا اس کی جزئیات میں سے ایک جزئی کے لیے۔ ہدایت اور مہدی کے، ہدایت اور مہدی کے، مہدی یوں کہیں، مہدی اور ہدایت میں جو مطلقِ اتصال تھا اس کی جزئیات میں سے ایک جزئی کے لیے کیا استعمال کر لیا گیا؟ مطلقِ "عَلَى" کے افراد میں سے ایک "عَلَى"، کون سا مطلقِ "عَلَى"؟ جس کو ہم نے کس معنی میں کر لیا تھا؟ اتصال کے معنی میں کر لیا تھا، تو اس کے افراد میں سے ایک فرد کو استعمال۔ تو "عَلَى" کے یہاں "عَلَى" کلی استعمال ہوئی ہے یا جزئی؟ یہاں جزئی ہے اور یہ جزئی کو استعمال کر لیا گیا، کس معنی میں؟ اتصال کے معنی میں، کس معنی میں؟ توجہ کریں بھئی توجہ، یہاں پر کیا استعمال کیا گیا؟ "عَلَى" کو، اور یہ "عَلَى" جزئی ہے یا کلی ہے جس کو ہم نے استعمال کر لیا؟ یہ جزئی ہے، اور اس جزئی کو کس معنی میں استعمال کیا؟ اتصال کے معنی میں، اور اتصال بھی یہاں پر خاص لوگوں کا بیان ہو رہا ہے تو یہ اتصال کلی ہے یا جزئی ہے؟ جزئی ہے، تو ایک اتصال کی ایک جزئی کے اندر "عَلَى" کی ایک جزئی کو استعمال کر لیا گیا بھئی، معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ جی، لہٰذا یہاں پر استعارۂ تبعیہ ہوا کیونکہ جزئی کے اندر استعارہ وہ تابع ہے کس کے اندر استعارے کے؟ کلی کے اندر، کس میں؟ کلی کے اندر۔ تو وہ "عَلَى" جو مطلقِ استعلاء کے لیے تھا، پہلے اس کو کس کے لیے استعمال کیا گیا؟ مطلقِ اتصال کے لیے، مطلقِ اتصال کے لیے، یعنی ایک کلی کو مستعار لے لیا گیا ایک دوسرے کلی معنی کے لیے، پھر اس کلی کے افراد میں سے ایک فرد کو یہاں استعمال کر لیا گیا۔ تو یہ جو "عَلَى" یہاں آیا یہ بھی ہے جزئی، اور یہ کس معنی میں ہے؟ اتصال کے معنی میں، اور اتصال بھی یہاں پر کون سا ہے؟ جزئی ہے، جزئی ہے، تو "عَلَى" کی ایک جزئی کو اتصال کی ایک جزئی کے معنی میں استعمال کر لیا گیا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو "عَلَى" کی جزئیات میں سے ایک جزئی کو اتصال کی جزئیات میں سے ایک جزئی کے اندر بطورِ استعارہ کے استعمال کر لیا گیا۔ اب آگے سبق دیکھیے بھئی: وَتَنْقَسِمُ الِاسْتِعَارَةُ إِلَى مُرَشَّحَةٍ وَهِيَ مَا ذُكِرَ فِيهَا مُلَائِمُ الْمُشَبَّهِ بِهِ۔ اب استعارہ کی مزید تقسیم کر رہے ہیں۔ پہلے تو آپ نے پڑھ لیا یا مصرحہ ہوگا یا مکنیہ ہوگا، اصلیہ ہوگا یا تبعیہ ہوگا۔ اب آگے تقسیم کر رہے ہیں تین قسمیں آپ کو مزید بتلائیں گے کہ استعارہ یا مرشحہ ہوگا، کیا ہوگا؟ مرشحہ ہوگا، اسی کو استعارۂ ترشیحیّہ بھی کہتے ہیں۔ تو یا استعارہ مرشحہ ہوگا یا استعارہ مجردہ ہوگا یا استعارہ مطلقہ ہوگا۔ کتنی قسم پر ہوا؟ تین قسمیں مزید بتلا رہے ہیں: یا استعارہ مرشحہ ہوگا، یا استعارہ مجردہ ہوگا، یا استعارہ مطلقہ ہوگا، اور تعریفیں آسان ہیں۔ بھئی دیکھیے، استعارے کے ساتھ پہلے تو یہ یاد رکھیے، استعارے کے ساتھ قرینے کا ہونا ضروری ہے۔ جب بھی استعارہ آئے گا ساتھ کوئی نہ کوئی کیا ہوگا؟ قرینہ ہوگا، وہ بتلائے گا کہ یہ لفظ اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال نہیں ہو رہا بلکہ کس معنی میں استعمال ہو رہا ہے؟ معنی غیر موضوع۔ اگر قرینہ نہیں ہوگا پھر تو سننے والے کو نہیں پتہ چلے گا، وہ تو لفظ کا حقیقی معنی ہی مراد لے گا، تو استعارے کے ساتھ ہمیشہ کیا ضروری ہے؟ قرینے کا ہونا ضروری ہے بھئی، قرینے کا ہونا ضروری ہے۔ تو قرینے کا ہونا ضروری ہے، ہاں اس قرینے سے زائد اگر مشبہ بہ کا کوئی مناسب ذکر کر دیا جائے استعارے کے ساتھ، مشبہ بہ کا کوئی مناسب ذکر کر دیا جائے تو اس کو کہیں گے استعارۂ مرشحہ۔ مشبہ بہ کے مناسب کوئی چیز ذکر کر دی جائے جس کی مناسبت کس کے ساتھ ہو؟ مشبہ بہ۔ بھئی کوئی چیز عبارت میں ایک تو ہے استعارہ، استعارہ آ گیا۔ ساتھ اس کے کچھ نہ کچھ کوئی نہ کوئی قرینہ بھی ضرور ہوگا، تو یہ استعارہ اور اس کے قرینے کے علاوہ کوئی اور چیز بھی ذکر کر دی جائے جو کس کے مناسب ہو؟ مشبہ بہ کے مناسب ہو، یعنی وہ چیزیں جو مشبہ بہ کے ساتھ مناسبت رکھتی ہیں ان میں سے کوئی چیز ذکر کر دی جائے استعارے کے اندر، تو اس کو استعارۂ مرشحہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ استعارۂ مرشحہ۔ ترشیح کا معنی ہے قوت دینا، قوت دینا، تو لہٰذا قوی کرنا، تو یہ استعارۂ مرشحہ جو ہے یہ بھی استعارے میں قوت پیدا کر دیتا ہے، کیا پیدا کر دیتا ہے؟ قوت پیدا کر دیتا ہے، تو یہ استعارۂ مرشحہ ہے بھئی۔ تو استعارۂ مرشحہ کسے کہتے ہیں؟ کہ استعارے کے بعد اور اس کے قرینے کے بعد مزید مشبہ بہ کے مناسب کسی چیز کو کلام میں ذکر کر دینا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ استعارۂ مرشحہ۔ اور اگر اس کا عکس ہو یعنی مشبہ بہ کا مناسب نہیں ذکر کیا گیا بلکہ مشبہ کا مناسب عبارت میں ذکر کر دیا گیا تو اس کو کہتے ہیں استعارۂ مجردہ، کیا کہتے ہیں؟ استعارۂ مجردہ۔ اور اگر نہ مشبہ بہ کا کوئی مناسب ذکر ہے، نہ مشبہ کا کوئی مناسب ذکر ہے، تو اس کو کہتے ہیں استعارۂ مطلقہ بھئی، کیا کہتے ہیں؟ تو کتنے قسمیں ہوئیں؟ تین: اول مرشحہ، دوسرا مجردہ، تیسرا مطلقہ۔ تو اگر استعارے میں مشبہ بہ کا کوئی مناسب ذکر کر دیا جائے تو اسے کیا کہتے ہیں؟ استعارۂ مرشحہ، اور اگر مشبہ کا کوئی مناسب ذکر کر دیا جائے تو یہ استعارۂ مجردہ ہے، اور اگر کسی کا کوئی مناسب نہ ذکر کیا جائے، نہ مشبہ کا کوئی مناسب ہے، نہ مشبہ بہ کا کوئی مناسب ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ استعارۂ مطلقہ کہتے ہیں بھئی۔ اب دیکھیے بھئی کتاب پر: وَتَنْقَسِمُ الِاسْتِعَارَةُ إِلَى مُرَشَّحَةٍ، اور تقسیم ہوتا ہے استعارہ مرشحہ کی طرف، ایک ڈیڑھ سطر بعد آ رہا ہے: وَإِلَى مُجَرَّدَةٍ، اور استعارہ مجردہ کی طرف، پھر ایک ڈیڑھ سطر بعد آ رہا ہے: وَإِلَى مُطْلَقَةٍ، اور استعارہ مطلقہ کی طرف۔ تو استعارہ ان تین قسموں کی طرف تقسیم ہوتا ہے، سب سے پہلے مرشحہ آیا تو اس کے بارے میں بتلا رہے ہیں: وَهِيَ مَا ذُكِرَ فِيهَا مُلَائِمُ الْمُشَبَّهِ بِهِ، ملائم کا معنی ہے مناسب بھئی، ملائم کا کیا معنی؟ مناسب۔ وہ استعارہ ہے کہ ذکر کیا جائے اس کے اندر مشبہ بہ کا کوئی مناسب، نَحْوُ، مثال کے طور پر: أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَى فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ، یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خرید لیا ہے، أُولَئِكَ الَّذِينَ، یہ وہی لوگ ہیں، اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ، خرید لیا ہے انہوں نے، کس کو؟ الضَّلَالَةَ، گمراہی کو، بِالْهُدَى، ہدایت کے بدلے میں، فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ، پس نفع نہیں کمایا تِجَارَتُهُمْ، ان کی تجارت نے، یعنی ان کی تجارت نفع بخش نہیں ہوئی۔ أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَى فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ، یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خرید لیا ہے گمراہی کو ہدایت کے بدلے میں، تو ان کی تجارت نفع بخش نہیں ہوئی۔ اب دیکھیے بھئی، یہاں پر اشتراء بول کر استبدال مراد ہے، اشتراء بول کر استبدال مراد ہے، اور قرینہ کیا ہے؟ قرینہ "الضَّلَالَةَ بِالْهُدَى" ہے۔ گمراہی کو ہدایت کے بدلے میں خریدا نہیں جاتا، گمراہی کو بدل لیا جاتا ہے، کیا کر لیا جاتا ہے؟ بدل لیا جاتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں اشتراء کس معنی میں ہے؟ بدلنے کے معنی میں، یعنی انہوں نے ہدایت چھوڑ کر اس کو کس سے بدل لیا ہے، کس کو اختیار کر لیا ہے اس کے بدلے میں؟ گمراہی کو اختیار کر لیا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا یہاں اشتراء کس معنی میں؟ استبدال یعنی بدلنے کے معنی میں ہے، بدلنے کے معنی میں ہے۔ اور قرینہ کیا ہے؟ میں نے بتلا دیا، یہ جو "الضَّلَالَةَ بِالْهُدَى" یہ قرینہ ہے کیونکہ گمراہی کو ہدایت کے بدلے خریدا نہیں جاتا، اس کے بدلے اختیار کیا جاتا ہے، اس سے بدل لیا جاتا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو مشبہ کون ہوا؟ استبدال، استبدال۔ انہوں نے تو بدلا ہے لیکن اس بدلنے کو تشبیہ دے دی گئی کس سے؟ خریدنے کے ساتھ، اشتراء کے ساتھ۔ تو استبدال ہوا مشبہ اور اشتراء یعنی خریدنا کیا ہوا؟ مشبہ بہ، اور یہاں کیا ذکر ہے؟ مشبہ بہ ذکر ہے، انہوں نے خرید لیا ہے۔ اور پھر تو یہ مشبہ بہ ہوا، اور اسی کے مناسب آگے نفع اور تجارت کا ذکر آ گیا، کیونکہ خریدنے میں نفع اور تجارت ہوتی ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ مشبہ بہ کے مناسب ذکر ہیں، یہ جو "رِبْحٌ" نفع کا ذکر ہے اور یہ جو تجارت کا ذکر ہے۔ ترشیح یہاں پر استعارۂ مرشحہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو کہتے ہیں: فَالِاشْتِرَاءُ مُسْتَعَارَةٌ لِلِاسْتِبْدَالِ، تو اشتراء کا لفظ جو ہے یہ مستعار ہے استبدال کے لیے، وَذِكْرُ الرِّبْحِ وَالتِّجَارَةِ تَرْشِيحٌ، اور ربح یعنی نفع اور نفع اور تجارت کا ذکر یہ ترشیح ہے، وَإِلَى مُجَرَّدَةٍ، اور تقسیم ہوتا ہے مجردہ کی طرف استعارہ، وَهِيَ الَّتِي ذُكِرَ فِيهَا مُلَائِمُ الْمُشَبَّهِ، اور یہ وہ استعارہ ہے جس میں مشبہ کا کوئی مناسب ذکر کیا جائے، نَحْوُ، مثال کے طور پر: فَأَذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ، فَأَذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ، تو اللہ نے چکھا دیا اس کو جوع، بھوک بھئی، بھوک اور خوف کا لباس۔ تو اللہ نے ان کو بھوک اور خوف کا لباس چکھا دیا۔ اب دیکھیے، یہاں پر لباس ذکر کیا گیا اور بھوک اور خوف کا لباس نہیں ہوتا، ان کی تکلیف اور ان کا ضرر اور نقصان ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ ضرر اور نقصان۔ تو وہ جو بھوک اور خوف کی تکلیف تھی، اس تکلیف کو، اس ضرر کو، اس نقصان کو تشبیہ دے دی گئی لباس کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ لباس کے ساتھ۔ کیونکہ جس طرح لباس پورے بدن کو ڈھانپ لیتا ہے، اس کا احاطہ کر لیتا ہے، اسی طرح یہ بھوک اور خوف کی جو تکلیف ہے، اس کا اثر بھی پورے بدن پر پڑتا ہے، انسان بھوک اور خوف میں کمزور اور دبلا پتلا ہو جاتا ہے اور اس کا رنگ زرد پڑ جاتا ہے، دیکھو پورے بدن پر اس تکلیف کا اثر پڑتا ہے۔ تو لہٰذا جیسے لباس پورے بدن کو ڈھانپ لیتا ہے، اسی طرح اس تکلیف کا اثر بھی کیا کرتا ہے؟ پورے بدن پر چھا جاتا ہے، تو لہٰذا اس تکلیف کو اور اس تکلیف کے اثر کو تشبیہ دے دی گئی لباس کے ساتھ۔ تو یہ جو تکلیف تھی، یہ ہے مشبہ، اور لباس کیا ہوا؟ مشبہ بہ، اور اس لباس مشبہ بہ کے لفظ کو مستعار لے لیا گیا کس کے لیے؟ اس تکلیف کے لیے، کیونکہ بھوک اور خوف کا لباس نہیں ہوتا بلکہ ان کی تکلیف ہوتی ہے، تو استعمال لباس کر لیا گیا بھئی، تو کس لفظ کو ذکر کر دیا گیا؟ مشبہ بہ کو، مشبہ بہ کو۔ اور یہ جو اذاقہ استعمال ہوا، چکھا دیا، یہ ہے تجرید بھئی، یہ کیا ہے؟ تجرید ہے، یعنی مشبہ کا مناسب ذکر کر دیا گیا۔ مشبہ کیا تھا؟ تکلیف، اور تکلیف کے لیے کلامِ عرب میں چکھنے اور چکھا دینے کا لفظ عام استعمال ہوتا ہے۔ کسی پر سختی آ جائے تو عربی میں کہتے ہیں: "ذَاقَ فُلَانٌ الْبُؤْسَى"، چکھا فلاں نے سختی کو، فلاں نے سختی کو چکھا۔ یا کوئی دوسرے کو تکلیف پہنچائے تو وہاں پر بھی کہتے ہیں: فلاں نے فلاں کو تکلیف چکھا دی، اذاقہ، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں پر بھی مشبہ کون؟ تکلیف، اور مشبہ بہ کیا تھا؟ لباس، اور چکھا دینا ذکر ہوا، اور چکھا دینا یہ لباس کے مناسب ہے یا اس تکلیف کے مناسب ہے؟ تکلیف کے مناسب ہے، تو یہاں مشبہ کا مناسب ذکر کیا گیا تو یہ کیا ہے؟ تجرید ہے تجرید، یعنی استعارۂ مجردہ۔ تو کہتے ہیں: نَحْوُ: فَأَذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ، تو چکھا دیا ان کو اللہ تعالی نے بھوک اور خوف کا لباس، اسْتُعِيرَ اللِّبَاسُ لِمَا غَشِيَ الْإِنْسَانَ عِنْدَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ، مستعار لے لیا گیا لباس کے لفظ کو لِمَا اس تکلیف کے لیے، غَشِيَ الْإِنْسَانَ جو انسان کو ڈھانپ لیتی ہے عِنْدَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ، بھوک اور بھوک اور خوف کے وقت بھئی، تو وہ تکلیف اور اس تکلیف کا اثر بھئی۔ تو اس کے لیے مستعار لے لیا گیا لباس کے لفظ کو، وَالْإِذَاقَةُ تَجْرِيدٌ لِذَلِكَ، اور اذاقت کو جو ذکر کیا گیا یہ تجرید ہے اس کے لیے۔ وَإِلَى مُطْلَقَةٍ، اور استعارہ تقسیم ہوتا ہے مطلقہ کی طرف، وَهِيَ الَّتِي لَمْ يُذْكَرْ مَعَهَا مُلَائِمٌ، اور یہ وہ استعارہ ہے جس کے ساتھ کوئی مناسب ذکر نہ کیا جائے، یعنی نہ مشبہ کا مناسب ہو اور نہ مشبہ بہ کا، نَحْوُ، مثال کے طور پر: يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ، وہ توڑتے ہیں اللہ کے عہد کو، یعنی اللہ سے جو عہد کر رکھا ہے اس کو وہ توڑتے ہیں، یعنی اللہ سے جو وعدہ کر رکھا ہے اس کو وہ لوگ توڑتے ہیں بھئی۔ تو یہاں پر بھئی یہاں پر يَنْقُضُونَ آیا، يَنْقُضُونَ، اور نقض کا معنی ہوتا ہے توڑنا، توڑنا۔ اور توڑا رسی وغیرہ جیسی چیز کو جاتا ہے، وعدے کو توڑا نہیں، وعدے کو باطل کیا جاتا ہے، کیا کیا جاتا ہے؟ بھئی اردو میں بھی ہم استعمال کرتے ہیں، لیکن وہاں اردو میں بھی اسی طرح استعارہ ہی ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ توڑنا تو ایسی چیز کا ہوگا جو کوئی سخت ہو، جیسے رسی وغیرہ ہے۔ تو یہاں ابطالِ عہد کے لیے، ابطالِ عہد کو گویا تشبیہ دے دی گئی رسی کے توڑنے کے ساتھ۔ تو ابطالِ عہد ہوا مشبہ اور رسی کا توڑنا کیا ہوا؟ مشبہ بہ، اور پھر اس مشبہ بہ کے لفظ کو استعمال کر لیا گیا کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے یعنی ابطالِ عہد کے لیے، تو یہ کیا آیا؟ استعارہ ہے یہاں پر، اور تو یہ استعارہ يَنْقُضُونَ میں ہے، کس میں ہے؟ يَنْقُضُونَ، کیونکہ نقض عہد کا نقض نہیں ہوتا بلکہ ابطال ہوتا ہے۔ تو یہاں نقض ابطال کے معنی میں ہے، نقض کس معنی میں ہے؟ ابطال کے معنی میں ہے، باطل کر دینے کے معنی میں ہے، ختم کر دینے کے معنی میں ہے، اور نہ مشبہ کا کوئی مناسب یہاں ذکر ہے اور نہ مشبہ بہ کا کوئی مناسب ذکر ہے۔ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ، وہ لوگ اللہ سے کیے ہوئے عہد کو توڑتے ہیں۔ وَلَا يُعْتَبَرُ التَّرْشِيحُ وَالتَّجْرِيدُ إِلَّا بَعْدَ تَمَامِ الِاسْتِعَارَةِ بِالْقَرِينَةِ، یہ بات میں پہلے بیان کر چکا کہ یہ جو مشبہ اور مشبہ بہ کا جو مناسب ذکر کیا جائے، یہ قرینے کے بعد آئے گا، کس کے بعد؟ قرینے کے بعد۔ اس لیے کیونکہ ہر استعارے کے ساتھ تو قرینے کا ہونا ضروری ہے، تو قرینے کو ہی آپ نے ترشیح یا تجرید نہیں بنانا، یہ ترشیح اور تجرید قرینے پر زائد چیز ہوگی، کیا ہوگی؟ زائد چیز ہوگی، تو سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ قرینے پر زائد ہوگی۔ تو معلوم ہوا ترشیح اور تجرید کب آئیں گے؟ جب استعارہ پورا ہو جائے قرینے کے ساتھ، استعارہ بھی آ گیا، ساتھ اس کے کوئی قرینہ بھی آ گیا جو بتلانے والا ہے کہ یہاں استعارہ ہے، پھر اس کے بعد کیا آ سکتے ہیں؟ ترشیح یا تجرید اس کے بعد آ سکتے ہیں۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں: وَلَا يُعْتَبَرُ التَّرْشِيحُ وَالتَّجْرِيدُ إِلَّا بَعْدَ تَمَامِ الِاسْتِعَارَةِ بِالْقَرِينَةِ، اور اعتبار نہیں کیا جاتا ترشیح اور تجرید کا مگر یہ کہ جب پورا ہو جائے استعارہ بالقرینہ، کس کے ساتھ؟ قرینے کے ساتھ۔ قرینے کے ساتھ مل کر جب استعارہ پورا ہو جائے تو پھر اس کے بعد دیکھا جاتا ہے کہ کہیں مزید کوئی مشبہ یا مشبہ بہ کے مناسبات میں سے کوئی چیز تو نہیں ذکر، اگر ذکر ہو مشبہ بہ کا مناسب تو اس کو استعارۂ مرشحہ کہہ دیتے ہیں، اور اگر مشبہ کا مناسب ذکر ہو تو اس کو استعارۂ مجردہ کہتے ہیں، اور اگر کسی کا بھی ذکر نہ ہو تو وہ استعارۂ مطلقہ ہے بھئی۔ اور پھر یہ بھی یاد رکھیے، ان میں سب سے ابلغ وہ استعارۂ مرشحہ ہے، اس کا درجہ، اور پھر دوسرے درجے پر مطلقہ ہے، اور تیسرے درجے پر مجردہ ہے۔ تیسرے درجے پر کون ہے؟ سب سے اعلیٰ کیا صورت ہے؟ کیا کیا جائے؟ استعارۂ مرشحہ کو لایا جائے۔ دوسرا درجہ کس کا؟ مطلقہ کا، اور آخری درجہ کس کا؟ مجردہ کا۔ بھئی وجہ یہ ہے کہ یہ جو استعارہ ہے نا استعارہ، دیکھیے اس میں آپ نے مشبہ کے لیے مشبہ بہ والا لفظ استعمال کر لیا۔ کون سا لفظ؟ میں کہتا ہوں: "رَأَيْتُ أَسَدًا يَرْمِي"، میں نے ایک شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا۔ بھئی تیر تو شیر نہیں چلا سکتا، معلوم ہوا اسد بول کر کیا مراد ہے؟ بہادر آدمی، گویا میں یہ کہہ رہا ہوں میں نے ایک بہادر آدمی کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا، لیکن بہادر آدمی کے لیے میں لفظ کیا لایا؟ اسد، اسد، یہ معلوم ہوا میں نے اس کو شیر کے ساتھ تشبیہ دے دی ہے، کیا تشبیہ دی ہے؟ تشبیہ، اور پھر شیر ہی کا لفظ اس کے لیے استعمال کر لیا بھئی، شیر ہی کا لفظ۔ تو گویا استعارے میں جب مشبہ کے لیے مشبہ بہ کا لفظ استعمال کیا گیا تو گویا یہ دعویٰ کر دیا جاتا ہے کہ یہ مشبہ مشبہ بہ کے افراد ہی میں سے ہے، انہی کی جنس میں سے ہے۔ یہ بہادر یہ جو بہادر ہے یہ گویا کس کی جنس میں سے ہے؟ شیر کی جنس میں سے ہے بھئی، گویا یہ دعویٰ کر دیا جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ ثابت کیا کرنا ہے؟ اس کی بہادری کو، اور جب یہ ثابت ہو جائے گا کہ یہ شیر کی جنس میں سے ہے تو بہادری خود بخود ثابت ہو جائے گی یا نہیں ہو جائے گی؟ تو لہٰذا استعارے کے اندر دراصل مشبہ بہ کا لفظ جب مشبہ کے لیے استعمال کر لیا جاتا ہے تو گویا دوسرے لفظوں میں کیا دعویٰ کر دیا جاتا ہے؟ کہ یہ مشبہ کس میں سے ہے؟ یہ مشبہ بہ کی جنس میں سے ہے، یہ انہی کے افراد میں سے ہے، یہ آدمی نہیں ہے یہ دراصل کس میں سے ہے؟ شیروں کی جنس میں سے ایک شیر ہے بھئی، سمجھ میں آئی بات؟ تو گویا یہ دعویٰ کیا جاتا ہے۔ اور جب یہ دعویٰ کر دیا گیا، تو لفظ تو میں نے ذکر کیا اسد کا، لیکن مراد اس سے کیا ہے؟ بہادر آدمی مراد ہے، بہادر آدمی۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ لفظ ذکر کر رہا ہوں اسد کا اور مراد اس سے کیا ہے؟ بہادر آدمی۔ اب اگر میں شیر کے مناسبات یعنی مشبہ بہ کے مناسبات ذکر کروں گا تو میرے اس دعوے میں قوت آ جائے گی۔ کیا آ جائے گی؟ قوت آ جائے گی۔ مثلاً میں کوئی شیر کے مناسب کوئی چیز ذکر کر دیتا ہوں، مثلاً: "رَأَيْتُ أَسَدًا يَرْمِي بِأَظْفَارِهَا"، میں نے ایک شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا اپنے ناخنوں سے یا اپنے پنجوں سے، کس کے ساتھ؟ اپنے پنجوں سے میں نے اس کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا، اب یہ اظفار ذکر کر دیے، یہ کس کے مناسب ہیں؟ یہ شیر کے مناسب ہیں، یا بالمخالب کہہ لیں پنجوں کے ساتھ: "رَأَيْتُ أَسَدًا يَرْمِي بِالْمَخَالِبِ"، میں نے ایک شیر کو اپنے پنجوں کے ساتھ تیر چلاتے ہوئے دیکھا، اور اسد بول کر کیا مراد ہے؟ بہادر آدمی مراد ہے۔ تو شیر جس کو لفظ کو میں ذکر کر رہا ہوں وہ کیا ہے؟ مشبہ بہ، تو جب میں نے مشبہ بہ کے ساتھ بہادر آدمی کو ذکر کیا یعنی اسد کے لفظ کے ساتھ، تو گویا میں نے یہ کیا دعویٰ کر دیا؟ کہ یہ آدمی کس میں سے ہے دراصل؟ شیر کی جنس میں سے ہے، اور آگے پھر میں نے ناخن بھی شیر کے ذکر کر دیے، تو گویا میرے دعوے میں کیا آ گئی؟ قوت آ گئی، شیر کے پنجے ثابت کر رہا ہوں، یا اسی طرح میں شیر کے گردن پر جو بڑے بال ہوتے ہیں وہ میں اس کے لیے ثابت کر دوں گا تو میرے دعوے میں قوت آئے گی یا نہیں آئے گی؟ میرے دعوے میں قوت آ جائے گی کہ دیکھو اس کے لیے پنجے بھی ثابت کر رہا ہوں، یہ بھی شیر میں ہوتا ہے، اس کے لیے گردن پر بال ہوتے ہیں وہ بھی ثابت کر رہا ہوں، معلوم ہوا یہ واقعی شیر ہی ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو استعارے میں دراصل یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ مشبہ مشبہ بہ کے افراد میں سے ہے، سمجھ میں آیا؟ اور پھر اس تشبیہ کو بھلا دیا جاتا ہے اور آگے مشبہ بہ کے مناسبات کو ذکر کر دیتے ہیں۔ کس کو؟ یہ پنجے اور بال تو کس کے ہوتے ہیں؟ شیر کے ہوتے ہیں۔ تو میں نے آگے یہ جو پنجے اور بال وغیرہ مثلاً میں ذکر کرتا ہوں، تو میں نے پیچھے گویا تشبیہ کو بھلا ہی دیا۔ میں پیچھے یہ بھول ہی گیا، میں نے جان بوجھ کر بھلایا جاتا ہے کہ اپنے دعوے کو مضبوط کرنے کے لیے۔ تو پیچھے میں نے اس کے لیے کیا لفظ استعمال کیا؟ اسد کا لفظ، گویا کیا دعویٰ کیا؟ کہ ہے تو یہ بہادر آدمی لیکن کس کی جنس میں سے ہے، یوں سمجھو یہ شیر ہے شیر، اور لفظ کون سا استعمال کیا؟ اسد، لیکن مراد تو ہے بہادر آدمی۔ لیکن میں آگے جب چلتا ہوں آگے جب میں شیر کے پنجے ذکر کرتا ہوں وغیرہ، تو میں اس طرح بن جاتا ہوں جیسے مجھے تو بھول ہی گیا کہ پیچھے اسد بول کر بہادر آدمی مراد تھا، یہ خود ہی شیر ہے، یہ کیا ہے؟ اور جب شیر ہے تو لازمی بات ہے اس کے کیا ہیں؟ پنجے بھی ہیں اور اس کی گردن پر کیا ہیں؟ بڑے بڑے بال بھی ہیں بھئی۔ تو تشبیہ کو بھلا دیا جاتا ہے۔ کس لیے؟ بھلایا کس لیے جاتا ہے؟ اپنے دعوے کو پکا کرنے کے لیے، مضبوط کرنے کے لیے، مشبہ بہ کے مناسب چیزوں کو کس کے لیے ثابت کرتا چلا جاتا ہے؟ مشبہ کے لیے، گویا اپنے دعوے میں مزید قوت پیدا کرتا چلا جاتا ہے کہ یہ واقعی شیر ہی کے افراد میں سے ہے، حقیقت میں یہ کس میں سے ہے؟ بات بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی؟ تو اب دیکھیے، میں استعارہ میں استعارہ کیا اور مشبہ کے لیے کون سا لفظ استعمال کیا؟ مشبہ بہ والا، تو گویا میں نے کیا دعویٰ کر دیا کہ یہ مشبہ کس کے افراد میں سے ہے؟ مشبہ بہ کے افراد میں سے ہے، یہ بھی اسی کی جنس میں سے ہے، یہ بھی وہی چیز ہے، تو اب اگر میں مشبہ بہ کے مناسبات اس کے لیے ثابت کروں گا تو میرے دعوے میں قوت آئے گی۔ لیکن اگر میں مشبہ کے مناسبات پھر ذکر کروں آگے، تو اس سے تو میرا دعویٰ کمزور ہو جائے گا، کیا ہو جائے گا؟ میں نے بہادر آدمی کے لیے لفظ کیا استعمال کیا؟ اسد، شیر کا، گویا میرا دعویٰ کیا ہے؟ یہ بھی کس میں سے ہے؟ یہ شیر کی جنس میں سے ہے۔ پھر میں اس کے لیے آدمی والی چیزیں ثابت کروں، دعویٰ پیچھے کیا یہ شیر کی جنس میں سے ہے اور چیزیں آگے کیا ثابت کر رہا ہوں؟ وہ کام ثابت کر رہا ہوں جو آدمی کے ہیں، تو پھر تو یہ تو میرا دعویٰ کمزور ہو جائے گا۔ اسی لیے مجردہ جس میں مشبہ کا مناسب ذکر ہو، اس میں چونکہ دعویٰ کمزور ہو رہا ہے لہٰذا اس کا درجہ سب سے کم ہے، اور مرشحہ جس کے اندر مشبہ بہ کا مناسب ذکر ہے وہ سب سے اعلیٰ اور افضل ہے، اور مطلقہ اس کے اس کا درجہ دوسرا ہے درمیان والا ہے، اس لیے کیونکہ اس میں اگر دعوے کو قوت دینے والی چیز نہیں ہے تو دعوے کو کمزور کرنے والی چیز بھی کوئی نہیں ہے، جبکہ مجردہ میں تو دعوے کو کمزور کرنے والی چیز ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے آگے بھئی: اَلْمَجَازُ الْمُرْسَلُ: هُوَ مَجَازٌ عَلَاقَتُهُ غَيْرُ الْمُشَابَهَةِ كَالسَّبَبِيَّةِ فِي قَوْلِكَ: عَظُمَتْ يَدُ فُلَانٍ، أَيْ: نِعْمَتُهُ الَّتِي سَبَبُهَا الْيَدُ۔ عَظُمَتْ يَدُ فُلَانٍ، یہ "يد" فاعل ہے بھئی، فاعل ہے "يد"، "عظمت" کے لیے، اس کو مرفوع ہونا چاہیے۔ بھئی اب مجازِ مرسل آیا۔ یہ آپ پیچھے پڑھ چکے کہ مجاز کس کو کہتے تھے؟ لفظ کو معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کیا جائے، اور اگر موضوع لہ، معنی موضوع لہ یعنی معنی حقیقی اور معنی مستعمل جس معنی میں آپ نے استعمال کیا، اس میں اگر تعلق کون سا ہو؟ تشبیہ والا ہو تو اسے کہتے ہیں استعارہ، اور اگر تعلق تشبیہ کے علاوہ ہو تو اسے کیا کہتے ہیں؟ مجازِ مرسل کہتے ہیں۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ مجازِ مرسل کے بہت سے علاقے ہیں، جیسے پیچھے مثال آئی تھی: "وَيَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ"، وہ اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں داخل کرتے ہیں، تو انگلیاں بول کر کیا مراد تھے؟ پورے مراد تھے، کیونکہ ظاہری بات ہے پوری انگلی تو کان میں داخل نہیں کی جا سکتی، تو وہاں کل بول کر جز مراد تھا۔ تو انگلی کا لفظ ذکر تھا اور مراد تھے پورے، تو انگلی اور پورے کے اندر کیا تعلق ہے؟ کل اور جز والا، انگلی کل ہے اور پورا اس کا جز ہے، تو وہاں کل اور جز والا تعلق تھا، تشبیہ والا تعلق نہیں تھا تو اس کو مجازِ مرسل کہتے ہیں۔ اور اس کے کئی علاقے ہیں بھئی، لفظ کو معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کیا جائے اور علاقہ تشبیہ کے علاوہ ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مجازِ مرسل، اور اس کے بہت سے علاقے ہیں، چند ایک یہاں ذکر کر رہے ہیں بھئی، یہ آسان مثالیں ہیں دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں: اَلْمَجَازُ الْمُرْسَلُ: هُوَ مَجَازٌ عَلَاقَتُهُ غَيْرُ الْمُشَابَهَةِ، مجازِ مرسل وہ مجاز ہے کہ جس کا علاقہ مشابہت کے علاوہ ہو، كَالسَّبَبِيَّةِ فِي قَوْلِكَ، جیسے کہ سببيت والا علاقہ ہے آپ کے اس قول میں: عَظُمَتْ يَدُ فُلَانٍ، عظیم ہو گیا فلاں کا انعام، أَيْ: نِعْمَتُهُ، یہاں "يد" بول کر نعمت مراد ہے، "يد" بول کر کیا مراد ہے؟ نعمت، کیا معنی نعمت؟ یعنی انعام اور احسان، کیا مراد ہے؟ انعام اور احسان۔ بھئی ایک آدمی ہے وہ آپ کو بہت سے عطایا دیتا رہتا ہے، آپ کو بہت سے عطایا، انعامات، چیزیں یعنی دیتا رہتا ہے، آپ کے ساتھ حسنِ سلوک کرتا ہے، کبھی کتنا مال دے دیا آپ کو، کبھی کتنا مال دے دیا، تو اب دیکھیے یہ اس کے انعامات بڑھ گئے، زیادہ ہو گئے یا نہیں ہو گئے بھئی؟ اس کے انعامات آپ پر زیادہ ہو گئے، تو اب آپ کہتے ہیں: عَظُمَتْ يَدُ فُلَانٍ، فلاں کے انعامات عظیم ہو گئے، بہت بڑھ گئے بھئی، یعنی بڑے انعامات وہ دیتا ہے۔ تو یہاں "يد" بول کر کیا مراد ہے؟ نعمت، کیا معنی نعمت؟ انعام، انعام سے کیا مراد ہے؟ وہ جو عطایا کرتا ہے، دوسروں کو بطورِ احسان کے عطایا دیتا ہے بھئی، تو وہ مراد ہیں۔ اور تو "يد" بول کر انعام مراد، "يد" بول کر انعام مراد۔ تو یہ اپنے معنی حقیقی میں ہے یا غیر حقیقی میں استعمال ہوا؟ غیر حقیقی میں استعمال ہوا، تو معلوم ہوا یہ مجاز ہے، اور پھر "يد" بول کر کیا مراد؟ انعام، ان میں تعلق کون سا؟ تشبیہ والا تعلق نہیں ہے، ہاتھ کے ساتھ وہ انعام کو تشبیہ نہیں دی جا رہی، بلکہ ہاتھ چونکہ سبب ہے، وہ انعام دیتا ہے، کس کے ساتھ دیتا ہے؟ ہاتھ کے ساتھ دیتا ہے، تو گویا سبب بول کر کیا مراد ہے؟ مسبب، سبب بول کر مسبب مراد ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ ہاتھ اس کا انعام کا سبب ہے اور انعام اس کا مسبب ہے، تو یہاں کیا ذکر ہے؟ سبب یا مسبب؟ سبب ذکر ہے، تو جو لفظ ذکر ہوگا اس کے اعتبار سے یہ آپ کو بتلائیں گے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں كَالسَّبَبِيَّةِ فِي قَوْلِكَ، جیسے کہ سببيت والا علاقہ ہے آپ کے اس قول میں: عَظُمَتْ يَدُ فُلَانٍ، عظیم ہو گیا فلاں کا انعام، أَيْ: نِعْمَتُهُ الَّتِي سَبَبُهَا الْيَدُ، یعنی اس کی نعمت یعنی اس کا انعام، وہ نعمت وہ انعام جس کا سبب ہاتھ ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ "عَظُمَتْ" مؤنث کا صیغہ استعمال کیا گیا "يد" کے لیے، "يد" کے لیے، سمجھ میں آیا؟ اس لیے کیونکہ وہ اعضاء جو دو دو ہیں وہ مؤنث استعمال ہوتے ہیں، ہاتھ بھی دو ہیں لہٰذا کیسے استعمال ہوں گے؟ یہ مؤنث، اس لیے مؤنث کا فعل لایا گیا: عَظُمَتْ يَدُ فُلَانٍ، فلاں کا کا انعام بڑھ گیا، بہت زیادہ ہو گیا۔ وَالْمُسَبَّبِيَّةِ فِي قَوْلِكَ، اور جیسے کہ مسببیت ہے آپ کے اس قول میں: أَمْطَرَتِ السَّمَاءُ نَبَاتًا، آسمان نے برسائے نباتاً پودے، بھئی آسمان پودے برساتا ہے یا بارش برساتا ہے؟ بارش، تو معلوم ہوا یہاں پودے بول کر، سبزہ بول کر یہ بارش مراد ہے۔ اور بھئی بارش کے لیے یہ پودوں کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا، نبات کا لفظ ذکر کیا گیا؟ کیونکہ بارش سبب ہے اور یہ پودے کیا ہیں؟ مسبب ہیں، بارش ہوتی ہے تو پودے اگتے ہیں، تو یہ بارش ان کا سبب اور یہ اس کا مسبب، تو یہ یہاں کون سا لفظ ذکر ہے؟ مسبب، پچھلی مثال میں کیا ذکر تھا؟ سبب، تو وہاں علاقہ تھا سببيت والا، جو لفظ ذکر ہوگا اس کے اعتبار سے علاقہ بتلائیں گے، اور یہاں ذکر ہے مسبب، تو کیا کہیں گے؟ یہاں علاقہ کون سا؟ مسببیت والا۔ خود بتلا رہے ہیں: أَيْ: مَطَرًا، أَمْطَرَتِ السَّمَاءُ نَبَاتًا، آسمان نے پودے برسائے بھئی، أَيْ: مَطَرًا یعنی کہ بارش، دیکھا بتلا دیا کہ نباتاً کا کیا معنی ہے یہاں؟ بارش ہے، يَتَسَبَّبُ عَنْهُ النَّبَاتُ کہ اس سے اگنا ہوتا ہے، یعنی یہ سبب ہوتا ہے کس چیز کا؟ اگنے کا، جی۔ وَالْجُزْئِيَّةِ فِي قَوْلِكَ، اور جیسے جزئیت والا علاقہ ہے آپ کے اس قول میں: أُرْسِلَتِ الْعُيُونُ لِتَطَّلِعَ عَلَى أَحْوَالِ الْعَدُوِّ، بھیج دی گئیں الْعُيُونُ آنکھیں، آنکھیں یعنی نگاہیں بھیج دی گئیں لِتَطَّلِعَ عَلَى أَحْوَالِ الْعَدُوِّ تاکہ آپ مطلع ہو جائیں دشمن کے احوال پر، أَيِ: الْجَوَاسِيسُ، یعنی جاسوسوں کو، آنکھوں کو بھیج دیا گیا، کیا مراد ہے؟ جاسوس مراد ہیں کہ جاسوسوں کو بھیج دیا گیا، سمجھ میں ایا بھئی؟ معنی سمجھ میں ایا بھئی؟ تو آنکھیں بول کر کیا مراد ہیں؟ جاسوس، اور آنکھیں جاسوس کا جز ہیں۔ اہم جز ہے کہ وہ ہیں تو جاسوسی کرے گا، وہ نہیں تو جاسوسی بھی نہیں، اسی لیے آنکھوں کے ساتھ جاسوس کو ذکر کیا جاتا ہے۔ تو آنکھ جز ہے اور جاسوس کل ہے، تو عبارت میں کیا ذکر ہے؟ جز، تو جز بول کر کل مراد ہے، تو کہیں گے یہاں علاقہ کون سا ہے؟ جزئیت والا ہے۔ وَالْكُلِّيَّةِ، اور کبھی کلیت والا علاقہ ہوگا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى جیسے کہ اللہ تعالی کے اس قول میں ہے: يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ، وہ داخل کرتے ہیں اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں، وہ داخل کرتے ہیں اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں، أَيْ: أَنَامِلَهُمْ، یعنی اپنے پوروں کو، تو انگلیاں بول کر کیا مراد ہیں؟ پورے مراد ہیں، تو یہ اپنے معنی حقیقی میں استعمال ہے یا غیر حقیقی میں؟ غیر حقیقی میں، اور کیا لفظ ذکر ہے؟ اصابع، اور مراد کیا ہیں؟ انامل، تو کل ذکر ہے اور مراد کیا ہے؟ جز، تو کون سا لفظ ذکر ہے؟ کل، تو کیا کہیں گے یہاں علاقہ کون سا؟ کلیت والا، یہی انہوں نے ذکر کیا تھا: وَالْكُلِّيَّةِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى۔ وَاعْتِبَارِ مَا كَانَ، اور اعتبار کرتے ہوئے مَا كَانَ اس حالت کا جس پر وہ تھے، یعنی زمانۂ ماضی کا اعتبار کرتے ہوئے، بعض اوقات ایک چیز پر زمانۂ ماضی کے اعتبار سے ایک لفظ کا اطلاق کر دیا جاتا ہے، جیسے کہ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى اللہ تعالی کے اس قول میں ہے: وَآتُوا الْيَتَامَى أَمْوَالَهُمْ، اور دے دو یتیموں کو ان کا مال۔ وَآتُوا الْيَتَامَى أَمْوَالَهُمْ، اور تم لوگ دے دو یتیموں کو ان کا مال۔ اب بھئی یتیموں کو مال بالغ ہونے کے بعد دیا جاتا ہے، کب دیا جاتا ہے؟ شریعت کا حکم یہ ہے کہ یتیم ہے اس کا اچھے طریقے سے خیال رکھو اور اس کے مال کی حفاظت کرو، ضرورت ہو بقدرِ ضرورت اس پر خرچ کرتے رہو اس کے مال میں سے، اور پھر جب وہ بالغ ہو جائے، سمجھدار ہو جائے تو اس کا مال اس کے حوالے کر دو بھئی۔ اب مال کب دیا جاتا ہے یتیموں کو؟ بالغ ہونے پر، اور یاد رکھیے یتیم، یتیم، یتیم وہ شخص جس کے والد کا انتقال ہو جائے اور وہ ابھی بالغ نہ ہوا ہو تو اسے یتیم کہتے ہیں، جب بالغ ہو جائے تو پھر اسے یتیم نہیں کہا جاتا۔ تو یتیم کون ہوگا ہمیشہ؟ نابالغ ہوگا، اور یہاں کہا جا رہا ہے کہ دے دو ان کا مال، معلوم ہوا یہ کیا ہو چکے؟ بالغ، اور جب بالغ ہو گئے تو پھر تو ان کو یتیم نہیں کہنا چاہیے لیکن ان پر کیا لفظ، کس لفظ کا اطلاق کیا جا رہا ہے قرآن میں؟ يتامى یعنی یتیم کا اطلاق کیا جا رہا ہے، تو یتیم بول کر دراصل کیا مراد ہیں؟ بالغ، اور بالغ کو تو یتیم کہتے نہیں، تو لہٰذا یہ لفظ اپنے معنی حقیقی میں ہوا یا غیر حقیقی میں؟ غیر حقیقی میں، اور کس اعتبار سے؟ اس زمانۂ ماضی کے اعتبار سے ان کو یتیم کہا گیا، کیونکہ یہ زمانۂ ماضی میں کیا تھے؟ بالغ ہونے سے پہلے کیا تھے؟ یتیم تھے، بالغ ہونے کے بعد پھر کسی کو یتیم نہیں کہا جاتا، تو یہ زمانۂ ماضی کے اعتبار سے ان کو یتیم کہا گیا۔ یہ معنی ہے: وَاعْتِبَارِ مَا كَانَ، اور اعتبار کرتے ہوئے اس حالت کا جس پر وہ، اس حال کا جس پر وہ تھے، جیسے کہ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى اللہ کے اس قول میں: وَآتُوا الْيَتَامَى أَمْوَالَهُمْ، أَيِ: الْبَالِغِينَ، یعنی کہ جو بالغ ہیں ان کو ان کا مال دے دو یتیم۔ وَاعْتِبَارِ مَا يَكُونُ، یہ تو تھا زمانۂ ماضی کے اعتبار سے، کبھی زمانۂ مستقبل کے اعتبار سے ایک لفظ کا اطلاق ایک چیز کے لیے، ایک لفظ کو ایک چیز کے لیے استعمال کر لیا جاتا ہے، جیسے کہ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى اللہ تعالی کے اس قول میں ہے: إِنِّي أَرَانِي أَعْصِرُ خَمْرًا، کہ بے شک میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ أَعْصِرُ خَمْرًا، میں شراب نچوڑ رہا ہوں۔ بھئی شراب کو نہیں نچوڑا جاتا، انگور کو نچوڑا جاتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی، کس کو؟ انگور کو نچوڑا جاتا ہے، لیکن اس انگور کو خمر کے لفظ کے ساتھ ذکر کر دیا گیا، تو خمر بول کر مراد کیا ہے؟ انگور، اور اس انگور کو خمر کیوں کہہ دیا؟ مستقبل کے اعتبار سے، یعنی کیونکہ اسی رس سے آگے چل کر پھر کیا بنائی جائے گی؟ شراب بنائی جائے گی، اس لیے اس کو مستقبل میں جو کچھ ہونا ہے اسی لفظ سے، مستقبل میں جو اس نے بننا ہے وہ لفظ ابھی سے اس کے لیے استعمال کر لیا گیا۔ سمجھ میں ایا بھئی؟ یہ معنی ہے: وَاعْتِبَارِ مَا يَكُونُ، اور اعتبار کرتے ہوئے اس چیز کا جو وہ ہوگی، جیسے کہ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى جیسے کہ اللہ کے اس قول میں: إِنِّي أَرَانِي أَعْصِرُ خَمْرًا، بے شک میں نے دیکھا کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں، أَيْ: عِنَبًا، یعنی کہ انگور نچوڑ رہا ہوں۔ وَالْمَحَلِّيَّةِ فِي نَحْوِ، "فِي" کا لفظ ہے آپ کی کتابوں میں؟ "فِي" ہونا چاہیے۔ وَالْمَحَلِّيَّةِ، اور محل ہونے کا تعلق بھئی، جیسے اس جیسی مثال میں: قَرَّرَ الْمَجْلِسُ ذَلِكَ، مجلس نے یہ طے کر دیا ہے۔ قَرَّرَ الْمَجْلِسُ ذَلِكَ، مجلس نے یہ بات طے کر دی ہے۔ بھئی مجلس، مجلس، مجلس کوئی بات طے کرتی ہے یا مجلس والے طے کرتے ہیں؟ مجلس والے طے کرتے ہیں، تو مجلس بول کر اہلِمجلس مراد ہیں، تو یہ معنی مجلس کا لفظ اپنے معنی حقیقی میں ہے یا غیر حقیقی میں؟ غیر حقیقی میں ہے، اور یہاں تعلق کون سا ہے؟ محليت، کیونکہ مجلس والے، مجلس بیٹھنے کی جگہ، مجلس کیا معنی؟ بیٹھنے کی جگہ، تو یہ محل ہے ان لوگوں کے بیٹھنے کا محل ہے، اور وہ لوگ جو ہیں وہ حالّ ہیں، وہ کیا ہیں؟ حَالٌّ، لام مشدد پڑھنا۔ حلول سے ہے، حلول، حلول سے، وہ مجلس میں آنے والے ہیں، کیا ہیں؟ بھئی بیٹھنے کی جگہ مثلاً یہ کمرہ، یہ مجلس ہے، اور جو اس میں ائے گا اس کو کہیں گے حَالٌّ، وہ اس میں آنے والا ہے، حَالٌّ، اسمِ فاعل کا صیغہ ہے۔ حَلَّ يَحُلُّ حُلُولًا سے حَالٌّ، آنے والا، تو جو اس میں آنے والے ہیں، سمجھ میں ایا بھئی؟ تو یہاں پر مجلس بول کر کیا مراد ہیں؟ اہلِمجلس، اور وہ کیا ہیں؟ وہ حالّ ہیں، اس میں حلول کرنے والے ہیں، آنے والے ہیں، یہ معنی ہے: وَالْمَحَلِّيَّةِ فِي نَحْوِ: قَرَّرَ الْمَجْلِسُ ذَلِكَ، طے کر دیا مجلس نے اس بات کو، أَيْ: أَهْلُهُ، أَيْ: أَهْلُ الْمَجْلِسِ، یعنی کہ مجلس والوں نے۔ وَالْحَالِّيَّةِ، اور حالّ ہونے کا تعلق ہوگا کبھی فِي قَوْلِهِ تَعَالَى جیسے کہ اللہ کے اس قول میں ہے: فَفِي رَحْمَةِ اللَّهِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ، پس اللہ کی رحمت میں وہ لوگ ہمیشہ رہیں گے۔ فَفِي رَحْمَةِ، اللہ کی رحمت میں، یعنی جنت میں، یعنی جنت میں۔ تو جنت ہے محل، اور رحمت اس میں اترنے والی ہے، تو رحمت ہوئی حالّ۔ جیسے مجلس تھی اور اہلِمجلس، مجلس جگہ تھی اور آنے والے حالّ تھے، اسی طرح جنت کیا ہے؟ محل، اور رحمت اس میں اترنے والی، نازل ہونے والی تو وہ ہے حالّ، تو یہاں پر: فَفِي رَحْمَةِ اللَّهِ، حالّ بول کر کیا مراد ہے؟ محل یعنی جنت مراد ہے، فَفِي رَحْمَةِ اللَّهِ، أَيْ: جَنَّتِهِ، یعنی اللہ کی جنت میں، بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ مختلف علاقے ہیں مجازِ مرسل کے بھئی، مجازِ مرسل کے، کہیں سبب بول کر مسبب مراد ہوتا ہے، کبھی مسبب بول کر سبب، کبھی جز بول کر کل، کبھی کل بول کر جز، کبھی ماضی کے اعتبار سے ایک لفظ کا اطلاق کر دیا جاتا ہے، کبھی مستقبل کے اعتبار سے ایک لفظ کا اطلاق کر دیا جاتا ہے، کبھی حالّ بول کر محل مراد ہوتا ہے، کبھی محل بول کر حالّ مراد ہوتا ہے۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔