درس نمبر۔66
عِلْمُ الْبَيَانِ: اَلْبَيَانُ: عِلْمٌ يُبْحَثُ فِيهِ عَنِ التَّشْبِيهِ وَالْمَجَازِ وَالْكِنَايَةِ. اَلتَّشْبِيهُ: إِلْحَاقُ أَمْرٍ بِأَمْرٍ فِي وَصْفٍ بِأَدَاةٍ لِغَرَضٍ، وَالْأَمْرُ الْأَوَّلُ يُسَمَّى الْمُشَبَّهَ وَالثَّانِي الْمُشَبَّهَ بِهِ، وَالْوَصْفُ وَجْهَ الشَّبَهِ، وَالْأَدَاةُ الْكَافُ أَوْ نَحْوُهَا، نَحْوُ: اَلْعِلْمُ كَالنُّورِ فِي الْهِدَايَةِ.
آج ہم علمِ بلاغت کے اندر فنِ ثانی شروع کر رہے ہیں: علمِ بیان، بھئی۔ آپ نے پڑھا تھا کہ علمِ بلاغت یہ تین علوم کا مجموعہ ہے: علمِ معانی، علمِ بیان، اور علمِ بدیع بھئی، علمِ بدیع۔ علمِ معانی مکمل ہوا جس میں یہ بتلایا گیا کہ کلام کو مقتضائے حال کے مطابق کیسے کیا جائے گا، کس موقع پر کس قسم کا کلام کیا جائے گا۔ تفصیل گزر گئی، اب علمِ بیان کا آغاز ہے۔
اَلْبَيَانُ: عِلْمٌ يُبْحَثُ فِيهِ عَنِ التَّشْبِيهِ وَالْمَجَازِ وَالْكِنَايَةِ۔ علمِ بیان ایسا علم ہے جس میں بحث کی جاتی ہے تشبیہ، مجاز، اور کنایہ سے۔ بھئی علمِ بیان وہ علم ہے جس میں یہ بتلایا جاتا ہے کہ ایک ہی معنی کو مختلف طریقوں سے کیسے ادا کرنا ہے۔ ایک ہی معنی کو مختلف طریقوں سے کیسے ادا کرنا ہے، ایک ہی معنی کو، یا آسان لفظوں میں یوں کہیے: ایک ہی بات کو مختلف انداز میں کیسے کرنا ہے؟ یہ بتلایا جاتا ہے علمِ بیان میں۔
بھئی مختلف مواقع ہوتے ہیں، وہاں پر مختلف قسم کے کلام کی ضرورت پیش آتی ہے۔ کہیں خوب واضح کلام چاہیے ہوتا ہے، کہیں پر کچھ خفی انداز کا کلام پسندیدہ ہوتا ہے، تو مختلف مواقع ہوتے ہیں، تو اس علم میں یہ بتایا جاتا ہے کہ ایک ہی معنی کو، ایک ہی بات کو مختلف انداز میں کیسے کیا جائے گا، بھئی۔ جیسے کہتے ہیں ایک بادشاہ تھا، اس نے خواب دیکھا کہ اس کے سارے دانت گر گئے ہیں بھئی، خواب دیکھا اس نے۔ تو اس نے معبروں کو بلوایا، تعبیر کرنے والوں کو، اور تعبیر کرنے والے کو بلوا کر اس سے پوچھا: "میں نے یہ خواب دیکھا ہے، اس کی کیا تعبیر ہے؟" تو وہ تعبیر کرنے والا کہنے لگا کہ "بادشاہ سلامت! آپ کے خاندان کے سارے لوگ یعنی بیوی، بچے وغیرہ، رشتہ دار وہ آپ کی زندگی میں ہی مر جائیں گے۔" بادشاہ بڑا غضبناک ہوا کہ یہ کیسی تعبیر کی ہے خواب کی؟ کہا: "لے جاؤ بھئی اس کو، جیل میں ڈال دو۔"
دوسرے تعبیر کرنے والے کو بلوایا اور کہا: "میں نے اس طرح خواب دیکھا ہے کہ میرے سارے دانت گر گئے ہیں، اس کی کیا تعبیر ہے؟" تو وہ کہنے لگا: "مبارک ہو بادشاہ سلامت! معلوم ہوا آپ کی زندگی آپ کے سارے خاندان والوں میں سے سب سے لمبی آپ کی زندگی ہے، اللہ آپ کو سب سے لمبی زندگی دیں گے۔" اب بادشاہ بڑا خوش ہوا اور اس کو انعام وغیرہ دیا۔ تو دیکھیے، وہی بات تھی، ایک نے بالکل واضح لفظوں میں کر دی تو بڑی بری معلوم ہوئی، اور اسی کو دوسرے نے کنائے کے انداز میں کر دیا تو بات بڑی خوشگوار ہو گئی اور خوشنما بن گئی بھئی۔ تو مختلف مواقع پر مختلف قسم کے کلام کی ضرورت پیش آتی ہے۔
تو یہ چنانچہ یہ کہتے ہیں بھئی: اَلْبَيَانُ: عِلْمٌ يُبْحَثُ فِيهِ عَنِ التَّشْبِيهِ وَالْمَجَازِ وَالْكِنَايَةِ۔ علمِ بیان ایسا علم ہے جس میں بحث کی جاتی ہے تشبیہ، مجاز، اور کنایہ سے۔ علمِ بیان کی تعریف بھئی، انہوں نے کتاب کے اندر جو ذکر کیا کہ: اَلْبَيَانُ: عِلْمٌ يُبْحَثُ فِيهِ عَنِ التَّشْبِيهِ وَالْمَجَازِ وَالْكِنَايَةِ، کہ علمِ بیان وہ ایسا علم ہے يُبْحَثُ فِيهِ جس میں بحث کی جاتی ہے عَنِ التَّشْبِيهِ تشبیہ کے بارے میں، وَالْمَجَازِ اور مجاز کے بارے میں، وَالْكِنَايَةِ اور کنایہ کے بارے میں۔ کہ علمِ بیان ایسا علم ہے جس کے اندر تشبیہ، مجاز، اور کنایہ کے بارے میں بحث کی جاتی ہے۔
یہ چونکہ یہ کتاب ابتدائی درجات کے طلباء کے لیے لکھی گئی، تو اس میں یہ آسان انداز اختیار کیا گیا طلباء کی آسانی کے لیے کہ علمِ بیان میں کیا کیا جاتا ہے؟ تشبیہ، مجاز، اور کنایہ سے بحث کی جاتی ہے۔ جبکہ اس کی تعریف یہ علمِ بیان کی، وہ حاشیے میں دی ہوئی ہے، اس کو بھی سمجھ لیں کہ: أَنَّ الْمَشْهُورَ فِي تَعْرِيفِ الْبَيَانِ أَنَّهُ عِلْمٌ يُعْرَفُ بِهِ إِيرَادُ الْمَعْنَى الْوَاحِدِ بِطُرُقٍ مُخْتَلِفَةٍ فِي وُضُوحِ الدَّلَالَةِ عَلَيْهِ۔ کہ علمِ بیان وہ ایسا علم ہے يُعْرَفُ بِهِ کہ جس کے ذریعے جانا جاتا ہے إِيرَادُ الْمَعْنَى الْوَاحِدِ ایک معنی کو لانا بِطُرُقٍ مُخْتَلِفَةٍ مختلف طریقوں سے۔ اور وہ طریقے مختلف ہوتے ہیں، بِطُرُقٍ مُخْتَلِفَةٍ فِي وُضُوحِ الدَّلَالَةِ عَلَيْهِ، اور وہ طریقے مختلف کس اعتبار سے ہوتے ہیں؟ وہ اس اعتبار سے وہ طریقے مختلف ہوتے ہیں فِي وُضُوحِ الدَّلَالَةِ دلالت کے واضح ہونے میں عَلَيْهِ اس معنی پر، کہ وہ طریقے مختلف ہوتے ہیں اس معنی پر دلالت کے واضح ہونے کے اعتبار سے۔
بھئی دیکھیے، عربی میں جب کسی شخص کی سخاوت بیان کی جاتی ہے تو اس کو سمندر کے ساتھ عموماً تشبیہ دیتے ہیں، ایک طریقہ یہ ہے۔ ایک طریقہ کیا ہے؟ عربی میں جب کسی شخص کی سخاوت بیان کرنی ہو تو اس کو سمندر کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: زَيْدٌ كَالْبَحْرِ فِي السَّخَاءِ، یا زَيْدٌ كَالْبَحْرِ فِي الْكَرَمِ۔ زید سمندر کی طرح ہے فِي الْكَرَمِ سخاوت کے اندر، یا زَيْدٌ كَالْبَحْرِ فِي السَّخَاءِ، زید سمندر کی طرح ہے سخاوت میں۔ تو دیکھیے زید کو تشبیہ دی گئی، کس کے ساتھ؟ سمندر کے ساتھ، اور کس چیز میں تشبیہ دی گئی؟ سخاوت میں، فِي السَّخَاءِ، سخاوت میں۔
اب یہاں پر دیکھیے ہر جز تشبیہ کا ذکر کر دیا گیا لفظوں میں: زَيْدٌ كَالْبَحْرِ فِي السَّخَاءِ۔ دوسری صورت، اسی کو آپ یوں بیان کرتے ہیں: زَيْدٌ كَالْبَحْرِ، زَيْدٌ كَالْبَحْرِ، آپ نے فِي السَّخَاءِ کو ذکر ہی نہیں کیا لیکن سننے والا سمجھ جاتا ہے۔ تیسری صورت کہ آپ کاف کو بھی درمیان سے درمیان میں سے حذف کر دیں اور یوں کہیں: زَيْدٌ بَحْرٌ، زید کیا ہے؟ سمندر ہے، لیکن سننے والا سمجھ گیا کہ زید سمندر جیسا ہے اور کس چیز میں ہے؟ سخاوت میں ہے۔ تو دیکھیے یہاں تشبیہ تین طریقوں سے ہو سکتی ہے: ایک یہ کہ ہر تشبیہ کا ہر جز، ہر رکن باقاعدہ لفظوں میں ذکر کر دیا جائے اور یوں کہا جائے: زَيْدٌ كَالْبَحْرِ فِي السَّخَاءِ۔ دوسری صورت یہ کہ یوں کہا جائے کہ: زَيْدٌ كَالْبَحْرِ۔ تیسری صورت یہ کہ کاف کو بھی حذف کر دیں اور یوں کہیں: زَيْدٌ بَحْرٌ۔ تو تینوں کے اندر تشبیہ ہی ہے، ہے تینوں کے اندر تشبیہ ہی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو زَيْدٌ بَحْرٌ کا بھی یہی معنی ہے کہ زَيْدٌ كَالْبَحْرِ، زید سمندر جیسا ہے۔
لیکن سب سے زیادہ وضاحت کس کے اندر ہے؟ جس میں لفظ سارے ذکر ہیں، ارکان سارے ذکر ہیں: زَيْدٌ كَالْبَحْرِ فِي السَّخَاءِ، اس میں وضاحت زیادہ۔ اور اس کے مقابلے میں باقی دو میں کم۔ اور دوسری طرف جس میں کاف ذکر ہے: زَيْدٌ كَالْبَحْرِ، اور ایک ہوا جس میں کاف ذکر نہیں: زَيْدٌ بَحْرٌ، ان دونوں میں سے کس کے اندر وضاحت زیادہ؟ زَيْدٌ كَالْبَحْرِ، ظاہر سی بات ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھیے یہ تشبیہ کے اندر مختلف طریقے آ گئے اور ہر ایک میں سخاوت بیان ہوئی، تشبیہ بیان ہوئی، لیکن وضاحت کے اعتبار سے یہ طریقے مختلف ہیں بھئی۔ ہر ایک دلالت کر رہا ہے زید کی سخاوت پر، لیکن وضاحت کے اعتبار سے مختلف ہیں؛ ایک طریقہ زیادہ واضح ہے باقی دو کی بنسبت۔ اسی طرح دوسرا طریقہ جو ہے وہ آخری طریقے کی بنسبت زیادہ واضح ہے۔ تو دیکھو ایک ہی معنی کو لایا گیا اور طریقے مختلف ہیں بھئی، مختلف ہیں۔
اور اسی بات کو اگر مجاز کے انداز میں بیان کیا جائے تو یوں کہیں گے مثلاً: رَأَيْتُ بَحْرًا، میں نے کس کو دیکھا؟ سمندر کو دیکھا، اور مراد کیا ہے؟ زید، جو سخی آدمی ہے وہ مراد ہے۔ تو دیکھو اس کے ذریعے بھی سخاوت، لیکن یہ مجاز ہے۔ اور اسی سخاوت کے لیے اگر کنایہ استعمال کرتے ہیں، اس کی بھی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً آپ کہہ دیتے ہیں: زَيْدٌ كَثِيرُ الرَّمَادِ، زید زیادہ راکھ والا ہے۔ زید زیادہ راکھ والا ہے، اس سے بھی سخاوت پر دلالت ہو گئی کیونکہ زیادہ راکھ کا معنی یہ ہے کہ اس کے ہاں معلوم ہوا لکڑی زیادہ جلتی ہے، اور لکڑی زیادہ جلتی ہے معلوم ہوا کھانا زیادہ پکتا ہے، اور کھانا زیادہ پکتا ہے معلوم ہوا مہمان زیادہ آتے ہیں، اور مہمان زیادہ آتے ہیں معلوم ہوا سخی آدمی ہے، جبھی مہمان زیادہ آتے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس نے بھی سخاوت پر دلالت کر دی۔
تو دیکھیے، تشبیہ، مجاز، کنایہ: تشبیہ کیسے ہے؟ زَيْدٌ بَحْرٌ۔ مجاز جیسے: رَأَيْتُ بَحْرًا۔ اور کنایہ جیسے: زَيْدٌ كَثِيرُ الرَّمَادِ۔ تو یہ سب اسی معنی پر دلالت کر رہے ہیں، لیکن ان کی وضاحت ان کا معنی پر دلالت کرنا بھی ایک درجے کا نہیں۔ کچھ میں ظہور زیادہ ہوگا دوسروں کی بنسبت۔ کوئی بات ان میں سے عربوں کے ہاں جب وہ اس کو استعمال کرتے ہیں، کسی کے اندر وضاحت زیادہ درجے کی ہے، وہ زیادہ واضح طریقے پر دلالت کر رہا ہے سخاوت پر، اور بعض دوسرے کے مقابلے میں کچھ کم درجے کے ہیں بھئی۔
تو دیکھیے یہ ہے کہ طریقے مختلف ہیں، معنی ایک ہی ہے اور دلالت کے واضح ہونے کے اعتبار سے تینوں مختلف ہیں بھئی۔ ہر ایک کی دلالت مختلف کس اعتبار سے مختلف ہے؟ وضاحت کے۔ دلالت تو ایک ہی معنی پر کر رہے ہیں، لیکن وضاحت کے اعتبار سے یہ مختلف ہیں، ایک ہی درجے کی دلالت نہیں ہے ان میں؛ کسی میں زیادہ ہے، کسی میں کم ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے کہ: أَنَّهُ عِلْمٌ يُعْرَفُ بِهِ إِيرَادُ الْمَعْنَى الْوَاحِدِ، وہ ایسا علم ہے کہ جس کے ذریعے جانا جاتا ہے ایک معنی کو لانا، بِطُرُقٍ مُخْتَلِفَةٍ فِي وُضُوحِ الدَّلَالَةِ عَلَيْهِ، ایسے طریقوں کے ساتھ جو مختلف ہوتے ہیں اس معنی پر دلالت کے واضح ہونے میں۔ ایک معنی کو لانا ایسے مختلف طریقوں سے، یا یوں کہیں ایک معنی کو لانا ایسے طریقوں سے جو مختلف ہوں کس چیز میں؟ اس معنی پر دلالت کے واضح ہونے میں، کسی میں دلالت واضح ہو، کسی میں دلالت اوضح ہو یعنی ان سے زیادہ ہو بھئی، زیادہ۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
تو چونکہ یہ تعریف ذرا مشکل تھی، اس لیے طلباء کے لیے آسہولت کے لیے انہوں نے آسان لفظوں میں تعریف کر دی اور کتاب میں کیا کہا: اَلْبَيَانُ: عِلْمٌ يُبْحَثُ فِيهِ عَنِ التَّشْبِيهِ وَالْمَجَازِ وَالْكِنَايَةِ، کہ علمِ بیان وہ ایسا علم ہے جس میں بحث کی جاتی ہے تشبیہ کے بارے میں، مجاز کے بارے میں، اور کنایہ کے بارے میں۔
تشبیہ، وہ تو آپ جانتے ہی ہیں، ایک چیز کی مشابہت بیان کرنا دوسری چیز کے ساتھ، جیسے میں نے کہا: زَيْدٌ كَالْبَحْرِ، زید کس کی طرح ہے؟ سمندر کی طرح ہے، تو دیکھو زید کی میں نے مشابہت بیان کی کہ زید سمندر کے ساتھ مشابہ ہے۔
مجاز اس کو کہتے ہیں: لفظ کو معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کرنا۔ یعنی جس معنی کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے، مقرر کیا گیا ہے، اس معنی میں آپ نہیں اس لفظ کو استعمال کرتے بلکہ کسی اور معنی میں استعمال کر لیتے ہیں۔ جیسے: أَسَدٌ، رَأَيْتُ أَسَدًا يَرْمِي، میں نے ایک شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا۔ اب شیر تیر نہیں چلاتا، معلوم ہوا اسد بول کر کیا مراد ہے؟ بہادر آدمی۔ اب اسد کا لفظ بول کر بہادر آدمی مراد دینا یہ مجاز ہے، کیونکہ اسد کا لفظ عربی زبان میں شیر کے لیے وضع ہے، بہادر آدمی کے لیے وضع نہیں۔ یہ تو اس جنگلی درندہ جو ہے اس کے لیے وضع ہے اور مقرر کیا گیا ہے، تو آپ نے اس لفظ کو معنی موضوع لہ یعنی جس معنی کے لیے اس کو مقرر کیا گیا تھا اس کے لیے نہیں استعمال کیا بلکہ کسی دوسرے معنی کے لیے یعنی غیر موضوع لہ معنی کے لیے استعمال کر لیا، اس کو کہتے ہیں مجاز۔ یا جیسے "بحر" کا لفظ سمندر کے لیے وضع ہے، لیکن آپ اس سے وہ معنی موضوع لہ یعنی سمندر مراد نہیں لیتے بلکہ کیا مراد لیتے ہیں؟ سخی آدمی مراد لیتے ہیں، تو یہ لفظ کو آپ نے کس معنی میں استعمال کر لیا؟ معنی غیر موضوع لہ میں، تو اس کو مجاز کہیں گے۔ تو عربی زبان میں سمندر کے ساتھ مشابہت بیان کی جاتی ہے سخاوت میں بھئی، کسی کی سخاوت بیان کرنی ہو تو سمندر سے تشبیہ دیتے ہیں، کیونکہ سمندر جو ہے وہ اس کی بھی سخاوت ظاہر ہے، کتنے ہی لوگوں کا رزق سمندر سے وابستہ ہوتا ہے، وہ سمندر ہی سے مچھلیاں وغیرہ پکڑتے ہیں اور اس کے ذریعے اپنے گزر بسر کا سامان کرتے ہیں، اور بعض لوگ اس سے موتی وغیرہ اور چیزیں نکالتے ہیں اور اس کے ذریعے فائدے حاصل کرتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو عربی زبان میں جب کسی کی سخاوت بیان کرنی ہو تو اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ سمندر کے ساتھ اس کو تشبیہ دی جاتی ہے۔
اور تیسرا ہے کنایہ، کنایہ یہ بھی پہلے میں بیان کر چکا ہوں کہ ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا۔ زید لمبے قد والا ہے، اسی معنی کو میں یوں ادا کرتا ہوں: زید لمبی قمیص والا ہے، زید لمبی قمیص والا ہے۔ تو ملزوم بولا اور اس کے جس کی قمیص لمبی ہوگی، لازم ہے اس کے ساتھ کہ یقیناً اس کا قد بھی لمبا ہو۔ تو ملزوم بولا اور ارادہ کس کا کیا؟ لازم کا کیا، اس کو کہتے ہیں کنایہ، ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے ان کی مکمل تفصیل آ رہی ہے، تو بہرحال اتنا ہی ہی سمجھ لیجئے کہ مجاز کہتے ہیں لفظ کو معنی غیر موضوع لہ، تشبیہ، تشبیہ کہتے ہیں ایک چیز کی دوسری چیز کے ساتھ مشابہت بیان کرنا، اور مجاز کہتے ہیں لفظ کو معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کرنا، اور کنایہ کہتے ہیں ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا۔
تو کہتے ہیں: اَلْبَيَانُ: عِلْمٌ يُبْحَثُ فِيهِ عَنِ التَّشْبِيهِ وَالْمَجَازِ وَالْكِنَايَةِ، علمِ بیان وہ ایسا علم ہے جس میں بحث کی جاتی ہے تشبیہ، مجاز، اور کنایہ کے بارے میں۔
اَلتَّشْبِيهُ، اب تشبیہ کا بیان شروع کیا سب سے پہلے۔ کہتے ہیں: اَلتَّشْبِيهُ: إِلْحَاقُ أَمْرٍ بِأَمْرٍ فِي وَصْفٍ بِأَدَاةٍ لِغَرَضٍ۔ تشبیہ کہتے ہیں: إِلْحَاقُ أَمْرٍ بِأَمْرٍ، ملانا ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ، فِي وَصْفٍ، کسی وصف میں، بِأَدَاةٍ، کسی ادات کے ذریعے یعنی کسی کلمے کے ذریعے، لِغَرَضٍ، کسی مقصد کے لیے۔ مثلاً بھئی میں نے کہا تھا: زَيْدٌ كَالْبَحْرِ، زَيْدٌ كَالْبَحْرِ، میں نے زید کو سمندر کے ساتھ ملایا، جب مشابہت بیان کی کہ زید کس کی طرح ہے؟ سمندر کی طرح ہے، تو میں نے زید کو کس کے ساتھ ملا دیا؟ سمندر کے ساتھ ملا دیا، اور کسی وصف میں ملایا، کس چیز میں ملایا میں نے؟ سخاوت کے اندر بھئی ملایا۔ اور کوئی حرف میں نے درمیان میں جس کے ذریعے تشبیہ جو تشبیہ بتلائے، وہ جیسے کاف، کاف کا لفظ بیچ میں آ رہا ہے: زَيْدٌ كَالْبَحْرِ، زید کس جیسا ہے؟ سمندر جیسا۔ تو یہ جس حرف کے ساتھ، جس کلمے کے ساتھ تشبیہ بیان کی جائے اس کو اداتِ تشبیہ کہتے ہیں، اداتِ تشبیہ کہتے ہیں۔ اس کی بھی آگے تفصیل آ جائے گی، اداتِ تشبیہ یہ حرف بھی ہو سکتا ہے، یہ فعل بھی ہو سکتا ہے، اور یہ اسم بھی۔
حرف جیسے کاف: زَيْدٌ كَالْأَسَدِ، زَيْدٌ كَالْبَحْرِ، یہ کاف کس لیے آ رہا ہے؟ تشبیہ کے لیے۔ یا اسی طرح زَيْدٌ كَأَنَّهُ أَسَدٌ، یا زَيْدٌ كَأَنَّهُ بَحْرٌ، تو دیکھیے كَأَنَّهُ، كَأَنَّ یہ حرف بھی استعمال ہوتا ہے تشبیہ کے لیے۔ اسی طرح اسم بھی استعمال ہو سکتا ہے مشابہت بیان کرنے کے لیے: زَيْدٌ مِثْلُ أَسَدٍ، زَيْدٌ مِثْلُ، تو مِثْل کا لفظ، یا زَيْدٌ شِبْهُ أَسَدٍ، شِبْهٌ کا لفظ بھی استعمال ہو سکتا ہے، شِبْهٌ کا بھی وہی معنی ہے جو مِثْل کا ہے۔ یا زَيْدٌ مُشَابِهُ أَسَدٍ، سمجھ رہے ہیں؟ مشابہ، مماثل، مثل، شبہ، یہ سارے لفظ استعمال ہو سکتے ہیں، یہ اسم میں ہیں۔ اسی طرح فعل بھی استعمال ہو سکتا ہے مشابہت بیان کرنے کے لیے: زَيْدٌ يُشَابِهُ بَحْرًا، زید کس کے مشابہ ہے؟ بحر کے مشابہ ہے، تو فعل وغیرہ بھی استعمال ہو سکتے ہیں، ان کو کہتے ہیں اداتِ تشبیہ۔ کیا کہتے ہیں؟ ادات، وہ کلمہ جس کے ذریعے مشابہت بیان کی جائے اس کو کہتے ہیں اداتِ تشبیہ۔ ادات کا معنی آلہ، آلہ، یعنی یہ آلۂ تشبیہ ہے، اس کے ذریعے تشبیہ بیان کی جا رہی ہے۔
تو دیکھیے تشبیہ کی تعریف چل رہی ہے، وہ کہ: إِلْحَاقُ أَمْرٍ بِأَمْرٍ، ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ملانا، فِي وَصْفٍ، کسی وصف کے اندر، بِأَدَاةٍ، کسی ادات تش کسی ادات کے ساتھ، کسی کلمے کے کسی کلمے کے ذریعے، لِغَرَضٍ، کسی غرض کی وجہ سے، کسی مقصد کے لیے۔ تشبیہ کی مثال ذہن میں رکھیں، پھر بات سمجھ میں آ جائے گی بھئی۔ مثلاً میں نے کیا کہا تھا؟ زَيْدٌ كَالْبَحْرِ فِي السَّخَاءِ، زید سمندر جیسا ہے سخاوت میں۔ تو میں نے زید کو کس کے ساتھ ملایا؟ سمندر کے ساتھ، یہ ہے إِلْحَاقُ أَمْرٍ بِأَمْرٍ، ایک چیز کو ملانا دوسری چیز سے۔ میں نے زید کو سمندر کے ساتھ ملا دیا۔ اور کس چیز میں ملایا؟ سخاوت میں، یعنی فِي وَصْفٍ، کسی وصف میں۔ اور کس کلمے کے ساتھ کے ذریعے ملایا؟ کاف کے ذریعے، كَالْبَحْرِ، یہ کاف کے ذریعے، اس کو کیا کہیں گے؟ اداتِ تشبیہ کہیں گے۔ اور یہ کسی مقصد کے لیے ہو گا، اور یہ مقصد کیا ہے یہاں پر؟ آپ زید کی سخاوت بیان کرنا چاہتے ہیں، کیا کرنا چاہتے ہیں؟ ہاں زید کی سخاوت بیان کرنا آپ کا مقصد تھا، اور غرضیں ہیں آگے اس کی بھی تفصیل آ جائے گی کن کن مقاصد کے لیے تشبیہ دی جاتی ہے۔
تو کہتے ہیں: اَلتَّشْبِيهُ: إِلْحَاقُ أَمْرٍ بِأَمْرٍ فِي وَصْفٍ بِأَدَاةٍ لِغَرَضٍ، وہ ملانا ہے ایک چیز کو کسی دوسری چیز کے ساتھ کسی وصف میں بِأَدَاةٍ کس کے ذریعے؟ ادات کے ذریعے، لِغَرَضٍ کسی مقصد کے لیے۔ وَالْأَمْرُ الْأَوَّلُ يُسَمَّى الْمُشَبَّهَ، اور پہلا امر، پہلی چیز جو ہے اس کو مشبہ کہتے ہیں، یعنی جس کو ملایا گیا۔ میں نے کس کو کس کے ساتھ ملایا؟ زید کو سمندر کے ساتھ، تو زید ہوا مشبہ، اس کو تشبیہ دی گئی ہے۔ اور کس کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے؟ سمندر کے ساتھ، تو سمندر کہلائے گا مشبہ بہ، مشبہ بہ۔ تو کہتے ہیں: وَالْأَمْرُ الْأَوَّلُ يُسَمَّى الْمُشَبَّهَ، پہلی چیز جو ہے اس کو مشبہ کہتے ہیں، وَالثَّانِي الْمُشَبَّهَ بِهِ، اور دوسری چیز کو کیا کہتے ہیں؟ مشبہ بہ کہتے ہیں۔ وَالْوَصْفُ، اور وہ جو وصف ہوتا ہے اس کو کہتے ہیں: وَجْهَ الشَّبَهِ، وَجْهَ الشَّبَهِ۔ بھئی یاد رکھیے یہ بھی لفظ عام غلط رائج ہے، غلط مشہور ہے: وجہ شبہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ وجہ شبہ، وجہ شبہ نہیں بھئی۔ ایک لفظ ہے شِبْهٌ، ایک ہے شَبَهٌ۔ شِبْهٌ کا معنی ہے مِثْل، مِثْل، اور شَبَهٌ کا معنی ہے مشابہت اور تشبیہ۔ شَبَهٌ مصدر ہے۔ اور تو آپ یہاں خود غور کر لیجیے، وَجْهُ الشَّبَهِ، اگر وَجْهُ الشِّبْهِ ہو تو کیا معنی ہوگا؟ مثل کی وجہ، اور اگر لفظ ہو وَجْهُ الشَّبَهِ، کیا معنی ہوگا؟ تشبیہ کی وجہ، تشبیہ کی وجہ۔ تو زَيْدٌ كَالْبَحْرِ فِي السَّخَاءِ، یہ فِي السَّخَاءِ کیا ہے؟ زید سمندر جیسا ہے کس چیز میں؟ سخاوت میں، سخاوت میں، تو یہ سخاوت میں یہ ہے وجہِ تشبیہ۔ کس چیز میں تشبیہ جس چیز میں یعنی جس وصف میں تشبیہ دی جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ وجہِ تشبیہ کہتے ہیں، وجہِ تشبیہ کہتے ہیں، اور دوسرا مختصر نام کیا ہے؟ وجہِ شبہ بھئی، وجہِ شبہ۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟
تو کہتے ہیں: وَالْوَصْفُ وَجْهَ الشَّبَهِ، اور وہ جو وصف ہوتا ہے جس میں تشبیہ دی جائے اس کو وَجْهَ الشَّبَهِ، اس کو وجہ وجہ الشبہ کہتے ہیں۔ وَالْأَدَاةُ الْكَافُ أَوْ نَحْوُهَا، اور اداتِ تشبیہ جو ہیں وہ کاف یا اس جیسے کلمات ہیں، کاف یا اس جیسے کلمات ہیں بھئی۔ نَحْوُ، مثال کے طور پر: اَلْعِلْمُ كَالنُّورِ فِي الْهِدَايَةِ، علم جو ہے كَالنُّورِ وہ روشنی کی طرح ہے فِي الْهِدَايَةِ رہنمائی کرنے میں۔ علم روشنی کی طرح ہے رہنمائی کرنے میں۔ بھئی کس کو کس کے ساتھ تشبیہ دی گئی؟ علم کو، کس کے ساتھ؟ نور یعنی روشنی کے ساتھ۔ تو علم کو کیا کہیں گے؟ مشبہ، اور روشنی جس کے ساتھ تشبیہ دی گئی اسے؟ وہ مشبہ بہ ہوا، اور کس حرف کے ساتھ تشبیہ دی گئی؟ کاف کے ساتھ، اس کو کیا کہیں گے؟ اداتِ تشبیہ کہیں گے، کیا کہیں گے؟ اداتِ تشبیہ، اور کس وصف میں تشبیہ دی گئی؟ ہدایت دینے میں، رہنمائی کرنے میں، تو یہ ہدایت کیا ہوا؟ یہ وجہِ تشبیہ ہے۔
یہی بیان کر رہے ہیں: فَالْعِلْمُ مُشَبَّهٌ، تو علم جو ہے وہ مشبہ ہے، وَالنُّورُ مُشَبَّهٌ بِهِ، اور نور یعنی روشنی جو ہے وہ مشبہ بہ ہے، وَالْهِدَايَةُ وَجْهُ الشَّبَهِ، اور ہدایت جو ہے وجہِ شبہ ہے، وَالْكَافُ أَدَاةُ التَّشْبِيهِ، اور کاف کیا ہے؟ اداتِ تشبیہ بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ وجہِ شبہ لفظ نہیں ہے، وجہِ شبہ لفظ ہے، وجہِ شبہ۔ چنانچہ علامہ تفتازانی نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے مختصر المعانی کے اندر بھئی، کہ وجہِ یہ شَبَهٌ لفظ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْكَافُ أَدَاةُ التَّشْبِيهِ، اور کاف کیا ہے؟ اداتِ تشبیہ ہے۔
وَيَتَعَلَّقُ بِالتَّشْبِيهِ ثَلَاثَةُ مَبَاحِثَ، اور متعلق ہیں تشبیہ کے ساتھ تین بحثیں، تشبیہ سے تین بحثیں متعلق ہیں: اَلْأَوَّلُ فِي أَرْكَانِهِ، پہلی بحث ہے اس تشبیہ کے ارکان میں، کہ تشبیہ کے ارکان کیا کیا ہیں؟ ارکان، رکنِ شے کہتے ہیں جس سے کوئی چیز بنے، جس پر اس کا وجود موقوف ہو بھئی، اس چیز کے اجزاء میں سے ہو۔ تو اَلْأَوَّلُ فِي أَرْكَانِهِ، پہلی بحث جو ہے تشبیہ کے ارکان کے بارے میں ہے، وَالثَّانِي فِي أَقْسَامِهِ، دوسری بحث کس کے بارے میں ہے؟ تشبیہ کے اقسام اور اس کی قسموں کے بارے میں ہے، وَالثَّالِثُ فِي الْغَرَضِ مِنْهُ أَيْ مِنَ التَّشْبِيهِ، اور تیسری بحث جو ہے تشبیہ سے جو غرض ہوتی ہے اور جو مقصد ہوتا ہے اس کے بارے میں۔ تو تین بحثیں یہاں کریں گے: ایک تشبیہ کے ارکان کے بارے میں کہ کیا کیا ہیں ارکانِ تشبیہ، دوسری بحث کریں گے اس میں تشبیہ کی قسمیں بیان کریں گے، اور تیسری بحث کے اندر تشبیہ کی غرضیں اور اس کے مقاصد بیان کریں گے کہ کن کن مقاصد کی بناء پر تشبیہ کی جاتی ہے، جیسے تعریف میں آیا تھا لِغَرَضٍ، تعریف میں کیا ذکر کیا تھا؟ إِلْحَاقُ أَمْرٍ بِأَمْرٍ فِي وَصْفٍ بِأَدَاةٍ لِغَرَضٍ، کسی مقصد کے لیے یہ ملایا جاتا ہے ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ، وہ مقاصد کیا کیا ہو سکتے ہیں وہ آگے بیان کریں گے بھئی۔
تو کہتے ہیں: اَلْمَبْحَثُ الْأَوَّلُ فِي أَرْكَانِ التَّشْبِيهِ، پہلی بحث جو ہے تشبیہ کے ارکان کے بارے میں۔ کہتے ہیں: أَرْكَانُ التَّشْبِيهِ أَرْبَعَةٌ، تشبیہ کے ارکان چار ہیں، چار ارکان، وہی جو بیان ہوئے: مشبہ، مشبہ بہ، اداتِ تشبیہ، اور وجہِ تشبیہ بھئی، وجہِ تشبیہ، یہ چار ارکان۔ تو کہتے ہیں: أَرْكَانُ التَّشْبِيهِ أَرْبَعَةٌ، ارکانِ تشبیہ چار ہیں: اَلْمُشَبَّهُ وَالْمُشَبَّهُ بِهِ، ایک مشبہ ہے اور ایک مشبہ بہ ہے، يُسَمَّيَانِ طَرَفَيِ التَّشْبِيهِ، ان کو طرفینِ تشبیہ کہتے ہیں۔ طَرَفَيِ التَّشْبِيهِ، اصل میں تھا طَرَفَيْنِ التَّشْبِيهِ، ان کو تشبیہ کی دو طرف کہتے ہیں، دو کنارے کہتے ہیں۔ کس کو؟ تشبیہ کی دو طرفین کیا ہیں؟ مشبہ اور مشبہ بہ۔ تو يُسَمَّيَانِ طَرَفَيِ التَّشْبِيهِ، ان دونوں کو تشبیہ کی طرفین کہتے ہیں۔ تو یہ دو ہو گئے ارکانِ تشبیہ، وَوَجْهُ الشَّبَهِ، یہ تیسرا وجہِ شبہ جو ہے تیسری تیسرا رکن، وَالْأَدَاةُ، اور ادات بھئی یعنی اداتِ تشبیہ، یہ چار ارکان ہیں۔
اب کہتے ہیں: وَالطَّرَفَانِ، تشبیہ کی جو طرفان ہیں، دو طرفین ہیں، إِمَّا حِسِّيَّانِ، یا تو وہ دونوں کیا ہوں گے؟ حسی ہوں گے، آگے آ رہا ہے چند لفظوں کے بعد: وَإِمَّا عَقْلِيَّانِ، یا دونوں کیا ہوں گے؟ عقلی۔ بھئی مشبہ اور مشبہ بہ یا تو وہ حسی ہوں گے یا وہ عقلی ہوں گے، کیا ہوں گے؟ حسی اور عقلی بھئی۔
حسی کسے کہتے ہیں، عقلی کسے کہتے ہیں، یہ سمجھ لیں بھئی۔ حسی وہ چیز ہے کہ اس چیز یا اس کے مادے کا ادراک حواسِ خمسہ ظاہرہ کے ذریعے ہو بھئی۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ وہ چیز جس کا ادراک کس کے ذریعے ہو؟ حواسِ خمسہ ظاہرہ کے ذریعے، یا اس چیز کا تو ادراک حواسِ خمسہ ظاہرہ کے ذریعے نہیں ہوتا کیونکہ وہ خیالی چیز ہے، لیکن اس کا جو مادہ ہے وہ کس وہ کیا ہے؟ اس کا ادراک کس سے ہوتا ہے؟ حواسِ خمسہ ظاہرہ سے ہوتا ہے۔
حواسِ خمسہ ظاہرہ، پانچ حواس جو ظاہر ہیں، حواسِ خمسہ ظاہرہ، پانچ حواس جو ظاہر ہیں: قوتِ باصرہ ہے، دیکھنے کی طاقت، دیکھنے کی قوت؛ قوتِ شامہ ہے، سونگھنے کی قوت؛ قوتِ لامسہ ہے، چھونے کی قوت، چھونے کی قوت؛ اور قوتِ ذائقہ ہے، چکھنے کی قوت؛ اور قوتِ سامعہ ہے، سننے کی قوت۔ یہ پانچ قوتیں اللہ نے انسان کو نصیب فرمائی ہیں جن کے ذریعے وہ مختلف چیزوں کا علم حاصل کرتا ہے، یہ پانچ چیزیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
اور اصل ان میں پھر عقل ہے۔ عقل ان پانچ چیزوں کے ذریعے چیزوں کا علم حاصل کرتی ہے، عقل ہے تو ان کے ذریعے علم بھی حاصل ہوگا، عقل نہیں تو ان کے ذریعے علم بھی حاصل نہیں۔ تو عقل کے لیے یہ آلات ہیں۔ جیسے آپ بھئی لکھنے کے لیے قلم استعمال کرتے ہیں، تو قلم ہوا آپ کا آلہ، اسی طرح عقل کے لیے یہ پانچ چیزیں آلات ہیں، عقل ان کے ذریعے کیا کرتی ہے؟ مختلف چیزوں کا علم حاصل کرتی ہے عقل۔ تو یہ پانچ حواس ہیں: قوتِ باصرہ ہے، قوتِ شامہ ہے، قوتِ لامسہ ہے، قوتِ سامعہ ہے، اور قوتِ ذائقہ ہے۔
بھئی بعض چیزوں کے کا علم ہمیں چکھنے سے چلتا ہے، اس کو چکھیں تو پتہ چلتا ہے کڑوی ہے یا میٹھی ہے یا نمکین ہے یا ترش ہے وغیرہ، اس کے ذائقوں کا پتہ لگتا ہے۔ اس کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ قوتِ قوتِ ذائقہ سے، اور یہ قوت اللہ نے زبان میں رکھی ہے، کس میں رکھی ہے؟ زبان میں، زبان کے ذریعے پتہ چلتا ہے کسی چیز کے ذائقے کا۔ دوسری ایک قوتِ سامعہ ہے، بعض چیزوں کا پتہ ہمیں سننے سے لگتا ہے جیسے آوازیں، کہ یہ آواز کس کی ہے، کون یہ کس کی آواز ہے، کس قسم کی آواز ہے، ہلکی ہے، تیز ہے، اور بولنے والا کون ہے، زید ہے یا عمر ہے یا بکر ہے وغیرہ، یا قریب سے آواز آ رہی ہے یا دور سے آ رہی ہے، تو یہ آواز کا ادراک کس کے ذریعے ہوتا ہے؟ قوتِ سامعہ کے ذریعے، اور یہ قوت اللہ نے کان میں رکھی ہے، کان میں۔ اور ایک ہے قوتِ باصرہ، بعض چیزوں کا پتہ اور علم دیکھنے سے ہوتا ہے اور یہ قوت اللہ نے آنکھوں میں رکھی ہے، کہ اس کے ذریعے پتہ چلتا ہے روشنی اور تاریکی کا اور چیزوں کے رنگ وغیرہ ان کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ دیکھنے سے چلتا ہے، یہ ہے قوتِ باصرہ، ص کے ساتھ، باصرہ۔ اور ایک ہے اور قوتِ شامہ، شامہ، م مشدد ہے، قوتِ شامہ یعنی سونگھنے کی قوت، اور یہ قوت اللہ نے ناک میں رکھی ہے، اس کے ذریعے ہمیں کسی چیز کی بو وغیرہ کا پتہ چلتا ہے بھئی۔ اور ایک ہے قوتِ لامسہ، چھونے کی قوت، کسی چیز کو ہم ہاتھ لگائیں تو پتہ لگتا ہے یہ سخت چیز ہے یا نرم ہے یا خشک ہے یا گیلی ہے وغیرہ، ان چیزوں کا علم ہوتا ہے، اور یہ قوت سارے بدن میں اللہ نے رکھی ہے، سارے بدن میں، بدن کا جو حصہ بھی کسی چیز پہ لگتا ہے ہمیں فوراً پتہ لگ جاتا ہے کہ کوئی چیز لگی ہے بدن پر، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ قوتِ تو یہ پانچ آلات ہیں عقل کو اللہ نے دیے ہیں، ان کے ذریعے وہ مختلف چیزوں کا علم حاصل کرتی ہے اور ان کو کہتے ہیں حواسِ خمسہ ظاہرہ، حواسِ خمسہ ظاہرہ۔
تو جس چیز کا ادراک یا جس چیز کا علم حواسِ خمسہ ظاہرہ کے ذریعے ہوگا، اس کو کہیں گے یہ حسی، کیا کہیں گے؟ حسی کہیں گے۔ اور جس کا ادراک ان کے ذریعے نہیں ہو سکتا، اس کو کہیں گے عقلی، کیا کہیں گے؟ عقلی۔ تعریف سمجھ میں آ رہی ہے؟
انہوں نے کیا کہا کہ: وَالطَّرَفَانِ إِمَّا حِسِّيَّانِ، جو دو طرفین ہیں تشبیہ کے یعنی مشبہ اور مشبہ بہ، یا تو وہ دونوں کیا ہوں گے؟ حسی ہوں گے، یا وہ کیا ہوں گے؟ عقلی ہوں گے۔ حسی ہونے کا کیا معنی؟ کہ ان کا ادراک کس کے ذریعے ہوگا؟ حواسِ خمسہ ظاہرہ کے ذریعے، تو جن کا ادراک ان کے ذریعے ہو، وہ سب حسی میں آ گئیں بھئی، ان حواسِ خمسہ کے ذریعے وہ حسی میں داخل ہیں۔ اور اسی میں خیالی چیز بھی آ گئی، ایک خیالی چیز۔ مثلاً بھئی آپ ایک چیز کی تشبیہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں مثلاً کہ یہ فلاں چیز تو ہیرے کی یا یوں کہیں یاقوت، یاقوت ایک قیمتی پتھر ہے، فلاں چیز تو یاقوت کی تلوار جیسی ہے، فلاں چیز تو یاقوت کی تلوار جیسی ہے۔ اب یاقوت کی تو تلوار نہیں ہوتی، یہ تو ایک خیالی چیز ہے، کیا ہے؟ خیالی۔ عام طور پر بنائی جاتی ہے، دیکھتے ہیں آپ؟ نہیں، تو یہ ہاں تو یہ ایک خیالی چیز ہے، لیکن اس خیالی چیز کا مادہ کیا ہے؟ کس چیز سے یہ تلوار بیان کر رہے ہیں کہ بنی ہو؟ یاقوت سے، اور یاقوت تو ایک قیمتی پتھر ہے اور وہ کس اس کا ادراک کس کے ذریعے ہوتا ہے؟ دیکھنے کے ذریعے، یعنی حواسِ خمسہ ظاہرہ کے ذریعے، تو یہ بھی حسی میں داخل ہوگا۔ اب یاقوت کی تلوار یہ اس کا تو یہ اس کا تو وجود نہیں، یہ تو ایک خیالی چیز ہے، لیکن اس کا مادہ کیا ہے؟ کس چیز سے بنی ہے؟ یاقوت، اور یاقوت کا ادراک کس کے ذریعے ہوتا ہے؟ حواس سے، تو یہ بھی حسی میں داخل ہوگی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو حسی کیا کیا چیزیں ہوئیں؟ جن کا ادراک کس کے ذریعے ہو؟ حواسِ خمسہ ظاہرہ کے ذریعے ہو، یا ان کے مادے کا ادراک کس کے ذریعے ہو؟ حواسِ خمسہ ظاہرہ سے، یعنی جس چیز سے وہ بنی ہے اس کا ادراک کس سے ہوتا ہے؟ حواسِ خمسہ ظاہرہ سے، تو وہ بھی اس حسی میں داخل۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
حسی کسے کہیں گے؟ جن چیزوں کا ادراک حواسِ خمسہ ظاہرہ سے ہو ان کو کیا کہیں گے؟ حسی۔ اسی طرح وہ چیز جس کے مادے کا ادراک کس کے ذریعے ہو؟ حواسِ خمسہ ظاہرہ سے، وہ بھی اس میں داخل، تو خیالی چیزیں بھی اس میں داخل ہو گئیں جن کے مادے کا ادراک حواسِ خمسہ ظاہرہ سے ہوگا۔
جبکہ اس کے علاوہ جو چیزیں ہوں گی جن کا ادراک یا ان کے مادے کا ادراک حواسِ خمسہ ظاہرہ سے نہ ہو، اس کو کیا کہیں گے؟ عقلی۔ تو جب ان جن کا ادراک ان چیزوں حواسِ خمسہ ظاہرہ سے نہیں ہوتا، ان کا ادراک پھر عقل کرتی ہے، کون کرتی ہے؟ عقل کرتی ہے۔ جیسے جہالت، یا جیسے یوں کہیں سخاوت، سخاوت۔ سخاوت کو کبھی آپ نے دیکھا ہے اپنی آنکھوں سے؟ نہیں، سخاوت تو ایک وصف ہے، اس کا تو اپنا الگ کوئی وجود ہی نہیں، تو اس کا ادراک نہ قوتِ باصرہ سے ہو سکتا ہے، نہ قوتِ سامعہ سے، نہ قوتِ شامہ سے، نہ قوتِ لامسہ سے اور نہ قوتِ ذائقہ سے، کسی کے ذریعے اس کا ادراک نہیں ہو سکتا، اس کا اس کا ادراک عقل براہِ راست کرتی ہے۔ وہ ان آلات کے ذریعے نہیں کرتی بلکہ خود عقل براہِ راست کرتی ہے، وہ جانتی ہے یہ ایک معنی کا نام ہے، یہ کسی کا وصف ہوتا ہے، وصف ہوتا ہے، تو لہٰذا اس کو عقلی کہیں گے، کیا کہیں گے؟ عقلی کہیں گے۔
اب دیکھیے بھئی، بحث چل رہی ہے ارکانِ تشبیہ کے بارے میں، توجہ ہے سبق کی طرف؟ ارکانِ تشبیہ انہوں نے بیان کیا چار ہیں بھئی: مشبہ، مشبہ بہ، اداتِ تشبیہ، اور وجہِ تشبیہ، یہ چار ارکانِ تشبیہ ہیں۔ ان میں سے جو مشبہ اور مشبہ بہ ہیں، ان کو طرفینِ تشبیہ کہتے ہیں، تشبیہ کی دو طرفین۔ اور یہ دونوں یا تو یہ یہاں تین صورتیں بنتی ہیں ادھر بھئی، ادھر توجہ کیجیے، تین صورتیں: مشبہ بھی حسی، مشبہ بہ بھی کیا ہے؟ حسی۔ مشبہ کا ادراک بھی حواسِ خمسہ ظاہرہ سے ہوتا ہے یا اس کے مادے کا، اور مشبہ بہ یا اس کے مادے کا ادراک بھی کس سے ہوتا ہے؟ حواس سے، تو دونوں حسی ہوئے، ایک صورت۔ دوسری صورت: دونوں عقلی ہوں گے، مشبہ بھی عقلی ہے یعنی اس کا ادراک حواسِ خمسہ ظاہرہ سے نہیں نہیں ہوتا یا اس کے مادے کا بھی ادراک حواسِ خمسہ ظاہرہ سے نہیں، اور اسی طرح مشبہ بہ بھی ایسا ہی ہوگا، تو مشبہ اور مشبہ بہ دونوں کیا ہوں گے؟ عقلی۔ تو ایک صورت یہ ہے کہ مشبہ اور مشبہ بہ دونوں حسی ہوں، دوسری صورت یہ کہ مشبہ اور مشبہ بہ دونوں کیا ہوں؟ عقلی ہوں۔ تیسری صورت کہ ایک حسی ہو اور ایک عقلی ہو۔ ایک حسی ہوگا اور ایک عقلی، یا تو مشبہ حسی ہوگا اور مشبہ بہ عقلی، یا اس کا عکس ہوگا، مشبہ عقلی ہوگا اور مشبہ بہ حسی ہوگا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو تین ہی صورتیں بن گئیں: مشبہ مشبہ بہ دونوں حسی ہوں گے، یا دونوں عقلی ہوں گے، یا دونوں مختلف ہوں گے، کوئی ایک حسی ہوگا اور کوئی ایک عقلی ہوگا۔
تو کہتے ہیں: وَالطَّرَفَانِ إِمَّا حِسِّيَّانِ، اور وہ جو دو طرفین ہیں وہ یا تو دونوں حسی ہوں گے، نَحْوُ، مثال کے طور پر: اَلْوَرَقُ كَالْحَرِيرِ فِي النُّعُومَةِ۔ ورق یہ پتے کو کہتے ہیں بھئی، پتے، یا اسی طرح کاغذ کا یہ جو ورق ہے اس کو بھی کہتے ہیں۔ كَالْحَرِيرِ، حریر ہے ریشم، نعومت کہتے ہیں نرم ہونا، ملائم ہونا۔ اب کوئی خاص پتہ ہے اس کے بارے میں آپ کہتے ہیں: اَلْوَرَقُ كَالْحَرِيرِ، یہ پتہ کس کی طرح ہے؟ ریشم کی طرح ہے، فِي النُّعُومَةِ، ملائم ہونے میں۔ یہ پتہ ملائم ہونے میں ریشم کی طرح ہے۔ کس کو تشبیہ دی؟ ورق یعنی پتے کو، تو یہ کیا ہوا؟ مشبہ۔ اور کس سے تشبیہ دی؟ حریر، ریشم سے۔ اب پتے کا ادراک بھی حواسِ خمسہ ظاہرہ سے ہوتا ہے، دیکھنے سے ہوتا ہے، اور ریشم کا ادراک بھی کس کے ذریعے ہوتا ہے؟ حواسِ خمسہ ظاہرہ سے، تو دیکھو دونوں مشبہ اور مشبہ بہ دونوں حسی ہیں، دونوں کیا ہیں؟ حسی ہیں۔ تو کہتے ہیں: اَلْوَرَقُ كَالْحَرِيرِ فِي النُّعُومَةِ، یہ پتہ ریشم کی طرح ہے فِي النُّعُومَةِ ملائم ہونے میں۔
وَإِمَّا عَقْلِيَّانِ، یا دونوں طرفین جو ہیں وہ عقلی ہوں گے، نَحْوُ، مثال کے طور پر: اَلْجَهْلُ كَالْمَوْتِ، کہ جہالت جو ہے وہ موت کی طرح ہے۔ جہالت کس کی طرح؟ موت کی طرح۔ تو دیکھو جہالت ایک وصف ہے، اس کا تو اپنا الگ خارج میں وجود ہے ہی نہیں، سمجھ میں آیا؟ کیونکہ جہالت کہتے ہیں علم کا نہ ہونا، جہالت کسے کہتے ہیں؟ علم کا نہ ہونا، تو یہ تو ایک عدمی چیز ہے، جس چیز کا وجود ہی نہیں ہے اس کو تو آنکھوں سے ہم دیکھ بھی نہیں سکتے بھئی۔ اسی طرح موت، موت کس چیز کا نام ہے؟ عدمِ حیات کا نام ہے، حیات نہ ہونے کا نام، حیات کے ختم ہونے کا نام ہے، تو یہ ایک عدمی چیز ہے، اس کا اپنا کوئی وجود ہے ہی نہیں، یہ ایک وصف ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک صفت ہے، ایک معنی ہے، الگ اپنا وجود نہیں۔ تو جہالت کا ادراک بھی حواسِ خمسہ ظاہرہ سے نہیں ہو سکتا، اسی طرح موت کا ادراک بھی حواسِ خمسہ ظاہرہ سے نہیں ہو سکتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ دونوں عقلی ہوئے، یہ دونوں کیا ہیں؟ عقلی ہوئے، عقلی ہوئے۔
اچھا آپ کے ذہن میں آئے گا کہ ہم تو موت کو دیکھتے ہیں، کوئی آدمی مرتا ہے کسی کے سامنے وہ دیکھ لیتا ہے وہ مر رہا ہے، تو موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا؟ نہیں بھئی، نہیں۔ موت وہ موت کو اس نے نہیں دیکھا، ہاں مرنے سے جو کیفیت حاصل ہوئی اس کو آپ دیکھ رہے ہیں، کہ اس کی حرکت وغیرہ ختم ہو گئی، وہ اب آدمی دوسرا نظر جو مر گیا وہ اب حرکت وغیرہ نہیں، تو وہ مرنے کے بعد جو کیفیت حاصل ہوئی آپ اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں، خود موت اس کا مشاہدہ نہیں کیا آپ نے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اس کا مشاہدہ کیونکہ موت تو نام ہے عدمِ حیات کا، زندگی کا نہ ہونا، دیکھو یہ تو ایک عدمی چیز ہے، اس کا تو اپنا کوئی الگ وجود ہے ہی نہیں، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا اس کا ادراک عقل کے ذریعے ہوتا ہے، حواسِ خمسہ ظاہرہ کے ذریعے نہیں ہوتا بھئی۔
تو نَحْوُ: اَلْجَهْلُ كَالْمَوْتِ، جہالت جو ہے موت کی طرح ہے، تو کس کو تشبیہ دی گئی؟ جہالت کو، اور کس کے ساتھ تشبیہ دی گئی؟ موت کے ساتھ، تو جہالت ہے مشبہ اور موت ہے مشبہ بہ، اور دونوں عقلی ہیں بھئی، عقلی۔
وَإِمَّا مُخْتَلِفَانِ، یا وہ دونوں مختلف ہوں گے، نَحْوُ: خُلُقُهُ كَالْعِطْرِ، خُلُق، لام پر بھی ضمہ پڑھیے گا بھئی، خُلُقُهُ كَالْعِطْرِ۔ خُلُق اس کی جمع اخلاق، اخلاق، آپ بھی استعمال کرتے ہیں فلاں اچھے اخلاق والا آدمی ہے یا اچھے اخلاق والا نہیں، تو خُلُق کہتے ہیں عادت کو، مزاج اور طبیعت کو بھئی۔ خُلُقُهُ كَالْعِطْرِ، عطر کہتے ہیں خوشبو کو، فلاں کا اخلاق جو ہے خوشبو کی طرح ہے، فلاں کا اخلاق خوشبو کی طرح ہے۔ اب دیکھیے اخلاق یہ تو ایک وصف کا نام ہے، اس کا اپنا الگ کوئی خارج میں وجود نہیں، اپنا الگ وجود نہیں، یہ کسی ذات کے ساتھ قائم ہوگا، اپنا الگ اس کا وجود نہیں، آپ نے کبھی دیکھا ہے اخلاق کا الگ اپنا وجود؟ نہیں، یہ کسی آدمی کا وصف ہوگا، اس میں آپ کہیں گے اس کے اخلاق اچھے ہیں یا اخلاق اچھے نہیں۔ تو یہ ہے عقلی، مشبہ ہوا عقلی، اور کس کے ساتھ تشبیہ دی؟ خوشبو کے ساتھ، اور خوشبو اگر خوشبو سے مراد وہ جسم ہے وہ تو ہمیں آنکھوں سے نظر آتا ہے بوتل کے اندر خوشبو ہوتی ہے، یا اگر خوشبو سے مراد اس کی بو ہے تو اس کا ادراک کس کے ذریعے ہوتا ہے؟ قوتِ شامہ کے ذریعے، تو دونوں صورتوں میں ادراک کس سے ہو رہا ہے؟ حواسِ خمسہ ظاہرہ سے، تو یہ حسی ہوا۔ تو دیکھو مشبہ ہوا عقلی اور مشبہ بہ کیا ہے؟ حسی ہے، تو دونوں مختلف ہوئے۔ تو کہتے ہیں: وَإِمَّا مُخْتَلِفَانِ، یا دونوں طرفین مختلف ہوں گی، نَحْوُ: خُلُقُهُ كَالْعِطْرِ، اس کے اخلاق جو ہیں وہ خوشبو کی طرح ہیں۔
وَوَجْهُ الشَّبَهِ، وجہِ شبہ بھئی یعنی وجہِ تشبیہ کو بیان کر رہے ہیں۔ وجہِ تشبیہ کہتے ہیں: هُوَ الْوَصْفُ الْخَاصُّ الَّذِي قُصِدَ اشْتِرَاكُ الطَّرَفَيْنِ فِيهِ۔ بھئی میں نے کہا تھا: زَيْدٌ كَالْبَحْرِ، زید سمندر کی طرح ہے، یا وہ مثال لے لیں: اَلْعِلْمُ كَالنُّورِ، علم کس کی طرح ہے؟ روشنی کی طرح ہے، کس چیز میں؟ ہدایت میں، رہنمائی کرنے میں، تو یہ ہدایت جو ہے یہ ہے وجہِ تشبیہ، یہ کیا ہے؟ وجہِ تشبیہ۔ بھئی میں نے علم کو تشبیہ دی، علم کو ملا دیا، کس کے ساتھ ملایا؟ روشنی کے ساتھ، کس چیز میں ملایا؟ ہدایت میں ملایا، کس چیز میں؟ ہدایت میں۔ تو دیکھو ایک خاص وصف کے اندر دونوں کا اشتراک بیان کیا، کس چیز میں؟ وہ کون سا وصف ہے؟ ہدایت۔ اس ہدایت میں میں نے اشتراک بیان کر دیا کہ جیسے روشنی کے اندر یہ وصف ہے، اسی طرح علم میں بھی یہ ہدایت والا وصف پایا جاتا ہے۔ یا جیسے میں کہتا ہوں: زَيْدٌ كَالْبَحْرِ فِي السَّخَاءِ، میں نے زید کو کس کے ساتھ ملایا؟ سمندر کے ساتھ، اور کس چیز میں؟ سخاوت میں، یعنی جیسے یہ سخاوت والا خاص وصف سمندر میں ہے، اسی طرح کس کے اندر پایا جاتا ہے؟ زید میں بھی پایا جاتا ہے، تو یہ ہے وجہِ تشبیہ، خاص وصف میں کیا کرنا؟ مشبہ اور مشبہ بہ کا اشتراک بیان کرنا کہ دونوں اس وصف میں شریک ہیں۔ سبق کی طرف توجہ ہے بھئی؟
تو کہتے ہیں: وَوَجْهُ الشَّبَهِ، اور وجہِ تشبیہ جو ہے هُوَ الْوَصْفُ الْخَاصُّ، وہ خاص وصف ہے، خاص وصف کہا اس لیے کیونکہ جب آپ تشبیہ بیان کر رہے ہیں تو وہ وصف خاص ہونا چاہیے، پھر ہی تشبیہ کا کوئی فائدہ ہوگا۔ اگر وہ وصف عام ہو، وہ سخاوت ہر ایک میں پائی جائے تو پھر تشبیہ کا کوئی فائدہ ہوگا؟ نہیں، معلوم ہوا یہ وصف ہر ایک میں نہیں پایا جاتا، یہ خاص وصف ہے جس میں آپ مشابہت بیان کر رہے ہیں۔ اسی طرح علم کی تشبیہ دی روشنی کے ساتھ ہدایت کے اندر، اگر یہ ہدایت ہر ایک ہر چیز میں پائی جائے، عام وصف ہو، پھر تو تشبیہ کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ تو اسی لیے کہا: هُوَ الْوَصْفُ الْخَاصُّ، وہ خاص وصف ہے الَّذِي قُصِدَ اشْتِرَاكُ الطَّرَفَيْنِ فِيهِ کہ جس کے اندر دونوں طرفین کے اشتراک کا ارادہ کیا جائے، كَالْهِدَايَةِ فِي الْعِلْمِ وَالنُّورِ، جیسے کہ ہدایت کا وصف تھا علم اور نور یعنی روشنی میں۔
وَأَدَاةُ التَّشْبِيهِ، اور اداتِ تشبیہ، کہتے ہیں: هِيَ اللَّفْظُ الَّذِي يَدُلُّ عَلَى مَعْنَى الْمُشَابَهَةِ، وہ لفظ ہے جو مشابہت کے معنی پر دلالت کر رہا ہو، کس معنی پر دلالت کر رہا ہو؟ زَيْدٌ كَالْأَسَدِ، یا زَيْدٌ كَالْبَحْرِ، میں نے زید کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ سمندر کے ساتھ، کس چیز سے، کس لفظ نے آپ کو بتایا کہ میں تشبیہ دے رہا ہوں؟ کاف نے، تو یہ ہے اداتِ تشبیہ۔ یہی بیان کر رہے ہیں: هِيَ اللَّفْظُ الَّذِي يَدُلُّ عَلَى مَعْنَى الْمُشَابَهَةِ، یہ وہ لفظ ہے جو دلالت کر رہا ہو مشابہت کے معنی پر، كَالْكَافِ، جیسے کہ کاف ہے، وَكَأَنَّ، اور جیسے کہ کأن کا لفظ ہے، وَمَا فِي مَعْنَاهُمَا، اور وہ کلمہ جو ان دونوں کے معنی میں ہو اور جی اور جو لفظ جو ان کے معنی میں ہو۔
وَالْكَافُ يَلِيهَا الْمُشَبَّهُ بِهِ، اور کاف جو ہے وہ مشبہ بہ کے ساتھ ملا ہوتا ہے۔ وَلِيَ يَلِي کا کیا معنی؟ ملا ہونا۔ کاف ملا ہوتا ہے مشبہ بہ کے ساتھ: زَيْدٌ كَالْبَحْرِ، یہ کاف کس پر داخل ہوا، کس کے ساتھ ملا ہوا ہے؟ بحر بحر پر، اور بحر کیا ہے؟ مشبہ بہ، تو کاف ہمیشہ کس پر داخل ہوتا ہے؟ مشبہ بہ پر۔ تو کہتے ہیں: وَالْكَافُ يَلِيهَا الْمُشَبَّهُ بِهِ، کاف جو ہے اس کے ساتھ مشبہ بہ ملا ہوتا ہے، بِخِلَافِ كَأَنَّ، بخلاف کس کے؟ کأن کے، فَيَلِيهَا الْمُشَبَّهُ، وہ اس کے ساتھ کون ملا ہوتا ہے؟ اس کے ساتھ مشبہ ملا ہوتا ہے، کون؟ مشبہ ملا ہوتا ہے۔ مثلاً دیکھیے: كَأَنَّ زَيْدًا بَحْرٌ، گویا کہ زید کیا ہے؟ سمندر ہے، تو كَأَنَّ کس پر داخل ہوا؟ زید پر، اور زید کیا ہے؟ مشبہ مشبہ ہے بھئی، مشبہ۔
نَحْوُ، مثال کے طور پر: كَأَنَّ الثُّرَيَّا رَاحَةٌ تَشْبُرُ الدُّجَى۔ بھئی میری کتاب میں "تشبه" ہے، آپ کی کتابوں میں بھی "تشبه" ہے؟ ہاں یہ کتابت کی غلطی ہے بھئی، "تشبه" نہیں ہونا چاہیے، تَشْبُرُ، با کے بعد را ہے، را، تَشْبُرُ، ت، ش، ب اور ر، تَشْبُرُ:
كَأَنَّ الثُّرَيَّا رَاحَةٌ تَشْبُرُ الدُّجَى
لِتَنْظُرَ طَالَ اللَّيْلُ أَمْ قَدْ تَعَرَّضَا
ثریا، ثریا یاد رکھیے یہ ستاروں کا ایک مجموعہ ہے جو آسمان پر دکھائی دیتا ہے اور عام آدمی کو اس میں سات ستارے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ستاروں کا ایک مشہور مجموعہ ہے، علمِ فلکیات کی کتابوں میں اس کی صورت وغیرہ بھی دی ہوتی ہے کہ کس طرح کا مجموعہ ہے، آسانی سے پہچانا جاتا ہے بھئی۔ تو یہ ستاروں کا مجموعہ ہے اور عام آدمی کو، عام نگاہ والے کو، عام نظر والے کو اس میں سات ستارے نظر آتے ہیں اس مجموعے میں۔ کسی کی نظر تیز ہو تو اس کو نو ستارے تک، نو تک اس میں نو ستارے دکھائی دیتے ہیں، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں گیارہ یا تیرہ ستارے دکھائی دیتے تھے، سمجھ میں آیا؟ تو یہ ستاروں کا مجموعہ ہے۔ ہاں دوربین کے ذریعے دیکھیں تو پھر ہزارہا ستارے اس میں دکھائی دیتے ہیں بھئی۔ تو اردو کو اس اردو میں اس کو ثریا بھی کہتے ہیں اور پروین بھی کہتے ہیں اس ستاروں کے مجموعے کو۔
رَاحَةٌ، راحة کہتے ہیں ہتھیلی کو، ہتھیلی۔ تَشْبُرُ، شَبَرَ يَشْبُرُ کے معنی ہیں بالشت سے ماپنا، بالشت۔ بھئی بالشت جانتے ہیں یا نہیں؟ یہ انگوٹھے کے سرے سے لے کر چھوٹی انگلی کے کنا سرے تک، آپ کسی چیز کو ماپتے ہیں تو اس انگوٹھے اور اس چھوٹی انگلی کے ذریعے ماپتے ہیں کہ ایک بالشت ہے یہ چیز، یا دو بالشت ہے، یا تین بالشت ہے، تو یہ جو چھوٹی انگلی کے کنارے سے لے کر انگوٹھے اور چھوٹی انگلی کو پورا پھیلا دیں، تو چھوٹی انگلی کے کنارے سے لے کر انگوٹھے کے کنارے تک جو فاصلہ بنتا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ بالشت۔ تو بالشت کے ساتھ کسی چیز کو ناپنا، یہ کہلاتا ہے شَبَرَ يَشْبُرُ، تو یہ معنی ہے تشبر۔ اَلدُّجَى، دجیٰ کہتے ہیں رات کی تاریکی کو، رات کے اندھیرے کو۔ طَالَ اللَّيْلُ، طال کا معنی لمبا ہونا۔ تَعَرَّضَا، تعرض کا معنی ہوتا ہے کنارے کو ظاہر کرنا، أَيْ أَبْدَى عُرْضَهُ، أَبْدَى عُرْضَهُ، عرض کنارے کو کہتے ہیں، کوئی چیز اپنا کنارہ ظاہر کر دے، أَبْدَى عُرْضَهُ، اس چیز نے اپنا کنارہ ظاہر کر دیا، تو عربی میں اس کے لیے لفظ ہے تعرض، کنارے کو ظاہر کرنا، کنارے کو ظاہر کرنا۔
كَأَنَّ الثُّرَيَّا رَاحَةٌ تَشْبُرُ الدُّجَى، گویا کہ ثریا، ستاروں کا جو مجموعہ ہے، رَاحَةٌ وہ ایسی ہتھیلی ہے تَشْبُرُ الدُّجَى جو رات کی تاریکی کو ناپتی ہے بالشت کے ساتھ۔ گویا کہ ستاروں کا یہ مجموعہ کیا ہے؟ ایسی ہتھیلی ہے جو بالشت کے ساتھ کیا کرتی ہے؟ رات کی تاریکی کو ماپتی ہے، اس کو نا اس کو ناپتی ہے، لِتَنْظُرَ تاکہ یہ دیکھے طَالَ اللَّيْلُ کہ رات لمبی ہو گئی ہے، أَمْ قَدْ تَعَرَّضَا یا اس کا کنارہ ظاہر ہو گیا ہے یعنی ختم ہونے والی ہے۔ یا کہ رات لمبی ہے یا اس کا کنارہ ظاہر ہو گیا یعنی اس وہ ختم ہونے والی ہے، صبح ہونے والی ہے۔
تو شاعر نے تشبیہ دی، کس کو؟ ثریا ستاروں کا جو مجموعہ ہے۔ کس کے ساتھ تشبیہ دی؟ ہتھیلی ہتھیلی کے ساتھ بھئی، ہتھیلی کے ساتھ۔ تو ثریا کیا ہوا؟ مشبہ، اور ہتھیلی کیا ہوئی؟ مشبہ بہ۔ اور كَأَنَّ کس پر داخل ہوا، اس کے ساتھ کون سا لفظ جڑا ہوا ہے؟ ثریا یعنی مشبہ، تو دیکھو كَأَنَّ مشبہ اس کے ساتھ ملا ہوتا ہے۔
وَكَأَنَّ تُفِيدُ التَّشْبِيهَ إِذَا كَانَ خَبَرُهَا جَامِدًا، اور كَأَنَّ یہ تشبیہ کا فائدہ دیتا ہے جبکہ اس کی خبر اسمِ جامد ہو، وَالشَّكَّ، اور یہ شک کا فائدہ دیتا ہے إِذَا كَانَ خَبَرُهَا مُشْتَقًّا، جبکہ اس کی خبر کیا ہو؟ مشتق ہو۔ میری کتاب میں ہے "مشتقان"، آپ کی کتاب میں بھی ہے؟ ہاں نون نہیں ہونا چاہیے: إِذَا كَانَ خَبَرُهَا مُشْتَقًّا، جبکہ اس کی خبر کیا ہو؟ مشتق ہو۔ نَحْوُ، مثال کے طور پر: كَأَنَّكَ فَاهِمٌ، گویا کہ آپ سمجھنے والے ہیں۔ فَهِمَ يَفْهَمُ سے فاهم اسمِ فاعل آیا، گویا کہ آپ سمجھنے والے، گویا کہ آپ سمجھدار ہیں، یوں کر لیں ترجمہ، گویا کہ آپ سمجھدار ہیں۔
بھئی یاد رکھیے کہ كَأَنَّ، ایک تو فرق اس کا کاف سے یہ کہ کاف داخل ہوتا تھا مشبہ بہ پر اور كَأَنَّ کس پر داخل ہوتا ہے؟ مشبہ پر داخل ہوتا ہے۔ اور نیز دوسرا یہ کہ كَأَنَّ اگر یہ اس کی خبر اسمِ جامد ہو تو پھر یہ تشبیہ کا فائدہ دے گا، اور اگر اس کی خبر کیا ہو؟ مشتق ہو، تو پھر یہ تشبیہ کا فائدہ نہیں دے گا بلکہ یہ شک کا فائدہ دے گا، شک کا فائدہ دے گا۔
اسمِ جامد اور مشتق تو جانتے ہی ہوں گے، اسمِ جامد جو نہ خود کسی لفظ سے مشتق ہوا ہو، اس کا اشتقاق ہوا ہو، نہ آگے اس سے اور لفظوں کا اشتقاق ہو، اسے کیا کہتے ہیں؟ اسمِ جامد، جیسے رجل ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ کتاب ہے وغیرہ بھئی۔ اور مشتق، آپ جانتے ہیں مصدر سے بارہ چیزوں کا اشتقاق ہوتا ہے، مصدر سے بارہ چیزوں: فعلِ ماضی بھی ہے، فعلِ مضارع بھی ہے، اسمِ فاعل ہے، اسمِ مفعول ہے، اسمِ آلہ ہے، اسمِ ظرف ہے، امر ہے، نہی ہے، اور اسمِ تفضیل ہے وغیرہ، ان چیزوں کا، سمجھ میں آیا؟ تو یہ چیزیں مشتقات ہیں، ان کا مصدر سے اشتقاق ہوتا ہے، اور باقی کیا ہیں؟ اسمِ جامد ہیں بھئی، جامد۔ بات سمجھ بھی آئی کہ مشکل ہو گئی؟ تو اگر كَأَنَّ کی خبر کیا ہو؟ اسمِ جامد ہو، تو یہ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ تشبیہ کا۔ اور اگر كَأَنَّ کی خبر کیا ہو؟ مشتق ہو، یعنی اسمِ فاعل، اسمِ مفعول وغیرہ کا صیغہ ہو، تو پھر یہ کس کا فائدہ دیتا ہے؟ شک کا فائدہ دیتا ہے، تشبیہ کا فائدہ نہیں دیتا۔
مثال کیا ذکر کی؟ كَأَنَّكَ فَاهِمٌ، گویا کہ آپ کیا ہیں؟ سمجھدار ہیں، تو دیکھو فاهم یہ اسمِ فاعل ہے، مشتق ہے، اور اس یہ كَأَنَّ کی خبر واقع ہو رہا ہے، تو یہ کس کا فائدہ دے رہا ہے؟ شک کا۔ گویا کہنے والے کو شک ہے اس بات میں کہ آپ کیا ہیں؟ سمجھدار ہیں۔ اسی لیے کہا: كَأَنَّكَ فَاهِمٌ، گویا کہ آپ کیا ہیں؟ سمجھدار ہیں۔
وَقَدْ يُذْكَرُ فِعْلٌ يُنْبِئُ عَنِ التَّشْبِيهِ، اور کبھی کبھار ایسا فعل ذکر کیا جاتا ہے يُنْبِئُ، أَنْبَأَ يُنْبِئُ کے معنی خبر دینا، بتلانا، جو تشبیہ کے بارے میں بتلاتا ہے۔ بھئی دیکھیے، بعض افعال تو ایسے ہیں ان کو وضع ہی تشبیہ کے لیے کیا گیا ہے جیسے شَابَهَ يُشَابِهُ، شَابَهَ يُشَابِهُ کا کیا معنی ہوتا ہے؟ ایک چیز کا دوسری چیز کے مشابہ، تو اس کو یہ تو وضع ہی تشبیہ کے لیے ہے، لیکن بعض اوقات ایک فعل کو تشبیہ کے لیے وضع تو نہیں کیا گیا ہوتا لیکن پھر بھی بعض جگہ وہ کیا کرتا ہے؟ وہ وضع تو تشبیہ کے لیے نہیں کیا گیا لیکن وہ تشبیہ کا فائدہ دیتا ہے۔ جیسے دیکھیے مثال بھئی، نَحْوُ قَوْلِهِ تَعَالَى، جیسے کہ اللہ تعالی کا قول ہے: إِذَا رَأَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَنْثُورًا، اور جب تو ان کو دیکھے گا، جب تو ان کو دیکھے گا تو گمان کرے گا لُؤْلُؤًا مَنْثُورًا، لؤلؤ موتی بھئی، منثور بکھرے ہوئے، پھیلے ہوئے، تو تو گمان کرے گا جیسے کہ بکھرے ہوئے موتی ہوتے ہیں، جیسے پھیلے ہوئے موتی ہوتے ہیں۔
بھئی جنت کے اندر، جنت کے اندر جو خدمت کرنے والے ہوں گے، خدام جو ہوں گے، وہ کم عمر ہوں گے، کم عمر ہوں گے، کم عمر لڑکے ہوں گے، اس لیے کیونکہ اگر خادم، خادم بڑی عمر کا ہو تو بعض اوقات اس کو کام کہنے میں اگرچہ وہ خادم ہوتا ہے لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ ہچکچاہٹ ہوتی ہے انسان کو، سمجھ میں آیا بھئی؟ لیکن اگر خادم کیا ہو؟ چھوٹی عمر والا ہے، بچہ ہے، تو اس کو کہنے میں ہر کام بلا جھجک انسان اس کو کہتا ہے، وہ دوڑ دوڑ کر وہ کام کرتا ہے جلدی سے بھئی۔ تو اور نیز، نیز انسان ہر چیز میں حسن کو پسند کرتا ہے، تو وہ جنت میں جو خادم ہوں گے وہ بھی بڑے حسین و جمیل ہوں گے، تو ان کے بارے میں اللہ فرما رہے ہیں: إِذَا رَأَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَنْثُورًا، کہ جب تو ان کو دیکھے گا، اے مخاطب جب تو ان کو دیکھے گا، حَسِبْتَهُمْ تو تو گمان کرے گا ان کو لُؤْلُؤًا مَنْثُورًا گویا کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں، کہ ادھر ادھر بھاگ دوڑ کر تیزی سے کام کر رہے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟
تو یہ تشبیہ بیان ہوئی، اب یہاں دیکھو بھئی: حَسِبْتَهُمْ، تو ان کو کیا گمان کرے گا؟ بکھرے ہوئے موتی، تو یہ حَسِبْتَ فعل کس چیز کا فائدہ دے رہا ہے؟ تشبیہ کا فائدہ دے رہا ہے۔ یہ معنی ہے: وَقَدْ يُذْكَرُ فِعْلٌ يُنْبِئُ عَنِ التَّشْبِيهِ، اور کبھی کبھار کوئی ایسا فعل ذکر کر دیا جاتا ہے تو جو تشبیہ کا فائدہ دیتا ہے۔ اب یہ حَسِبْتَ کا فعل یہ تشبیہ کے لیے تو وضع نہیں کیا گیا لیکن یہ کیا کر رہا ہے؟ تشبیہ کا فائدہ دے رہا ہے۔ نَحْوُ قَوْلِهِ تَعَالَى، جیسے کہ اللہ کا قول ہے: إِذَا رَأَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَنْثُورًا، جب تو ان کو دیکھے گا تو تو گمان کرے گا کہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔
وَإِذَا حَذَفْتَ أَدَاةَ التَّشْبِيهِ وَوَجْهَهُ يُسَمَّى تَشْبِيهًا بَلِيغًا، اور جب آپ اداتِ تشبیہ اور وجہِ تشبیہ کو حذف کر دیں تو اس کو تشبیہِ بلیغ کہتے ہیں۔ تشبیہِ بلیغ بھئی کتابوں میں ذکر آئے گا، انہوں نے آپ کو بتلا دیا کہ تشبیہِ بلیغ اس کو کہتے ہیں جس میں اداتِ تشبیہ کو بھی حذف کر لیا جائے اور وجہِ تشبیہ کو بھی کیا کر لیا جائے؟ حذف۔ جیسے دیکھیے: زَيْدٌ كَالْبَحْرِ فِي السَّخَاءِ، زید کیا ہے؟ مشبہ، کاف کیا ہے؟ اداتِ تشبیہ، اور بحر کیا ہے؟ مشبہ بہ، اور فِي السَّخَاءِ، یہ سخاء کیا ہے؟ وجہِ تشبیہ ہے۔ ان میں سے اداتِ تشبیہ کاف اس کو بھی حذف کر دیں، اور وجہِ تشبیہ فِي السَّخَاءِ اس کو بھی کیا کر دیں؟ حذف، کیا رہ گیا؟ زَيْدٌ بَحْرٌ، زَيْدٌ بَحْرٌ، یہ ہے تشبیہِ بلیغ بھئی۔ جب اداتِ تشبیہ کو بھی حذف کر دیا جائے اور وجہِ تشبیہ کو بھی حذف کر دیا جائے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تشبیہِ بلیغ کہتے ہیں۔
یہ معنی ہے: وَإِذَا حَذَفْتَ أَدَاةَ التَّشْبِيهِ وَوَجْهَهُ يُسَمَّى تَشْبِيهًا بَلِيغًا، اور جب آپ حذف کر دیں اداتِ تشبیہ کو اور وجہِ تشبیہ کو تو اس کو تشبیہ کو تشبیہِ بلیغ کہتے ہیں۔ نَحْوُ، مثال کے طور پر: وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ لِبَاسًا، اللہ فرما رہے ہیں: اور ہم نے رات کو لباس بنایا ہے، ہم نے رات کو لباس بنایا ہے، یعنی جیسے لباس بدن کو ڈھانپ لیتا ہے، چھپا لیتا ہے، اسی طرح رات کی تاریکی بھی ہر چیز کو اپنے اندر چھپا لیتی ہے۔ تو اللہ فرما رہے ہیں ہم نے بنایا ہے رات کو لباس، تو گویا اصل کلام یوں ہے: وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ كَاللِّبَاسِ فِي السَّتْرِ، وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ كَاللِّبَاسِ فِي السَّتْرِ، اور ہم نے رات کو لباس جیسا بنایا ہے فِي السَّتْرِ چھپانے میں، ڈھانپنے میں۔ تو پھر کیا کیا گیا؟ کاف حرفِ تشبیہ کو بھی حذف کر دیا گیا ہے، ذکر نہیں کیا گیا، اور وجہِ تشبیہ کو بھی، تو یہ کیا ہے؟ تشبیہِ بلیغ ہے، بلیغ ہے۔ گویا رات ہی کو لباس قرار دے دیا گیا، وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ لِبَاسًا، ہم نے رات کو لباس بنایا ہے، رات ہی کو لباس کہہ دیا گیا۔ أَيْ كَاللِّبَاسِ فِي السَّتْرِ، یعنی کہ لباس کی طرح ہے فِي السَّتْرِ ڈھانپنے میں۔
یعنی مثلاً آپ کہنا یہ چاہتے تھے: زید، آپ زید کے لیے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ سخاوت ثابت کرنا چاہتے ہیں، زید کے لیے۔ تو جب آپ نے کہہ دیا: زَيْدٌ بَحْرٌ، وجہِ تشبیہ بھی حذف، اداتِ تشبیہ بھی حذف، تو گویا آپ نے زید کو ہی عینِ سمندر قرار دے دیا، زید کیا ہے؟ سمندر ہے، زید اور سمندر تو سخاوت کرنے والا ہے، تو معلوم ہوا زید بھی کیا ہے؟ سخاوت، تو گویا آپ اپنے مقصد تک پہنچ گئے فوراً، سیدھا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کہ آپ نے اس کو عینِ مشبہ بہ ہی قرار دے دیا بھئی، تو اس کو تشبیہِ بلیغ کہتے ہیں۔
تو گویا اس میں مبالغہ ہے، کیا ہے؟ ہاں یا یہ مبالغہ سے کر رہے ہیں، بعضوں نے اس کا معنی پہنچنے کے کیے کیونکہ اس میں بھی اپنے مقصد کو پہنچ گیا ہے کہنے والا، یا اس میں یوں کہیں کہ اس کے اندر مبالغہ ہے کہ مشبہ کو عینِ مشبہ بہ ہی قرار دے دیا گیا کہ یہ سمندر ہی ہے، جب عینِ سمندر ہی ہے پھر تو ظاہر سی بات ہے کہ وہ کیا ہے؟ سخی ہے ہی بھئی، کیونکہ سمندر تو کیا ہے؟ سخی، اور یہ بھی سمندر ہے تو معلوم ہوا یہ بھی سخی ہے۔
چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔