آگے سبق دیکھیے بھئی۔
لِلضَّرُورَةِ، أَيْ لِلضَّرُورَةِ وَزْنِ الشِّعْرِ أَوْ رِعَايَةِ الْقَافِيَةِ، فَإِنَّهُ إِذَا وَقَعَ غَيْرُ الْمُنْصَرِفِ فِي الشِّعْرِ فَكَثِيرًا مَا يَقَعُ مِنْ مَنْعِ صَرْفِهِ انْكِسَارٌ يُخْرِجُهُ عَنِ الْوَزْنِ أَوْ زِحَافٌ يُخْرِجُهُ عَنِ السَّلَاسَةِ۔ أَمَّا الْأَوَّلُ فَكَقَوْلِهِ شِعْرٌ: صُبَّتْ عَلَيَّ مَصَائِبٌ لَوْ أَنَّهَا صُبَّتْ عَلَى الْأَيَّامِ صِرْنَا لَيَالِيَا۔
بھئی، گزشتہ سبق میں صاحبِ قافیہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ غیر منصرف کو منصرف پڑھنا بھی جائز ہے ضرورت کی وجہ سے یا تناسب کی وجہ سے بھئی۔ اور پھر یہاں اشکال ہوتا تھا کہ صاحبِ قافیہ تو يَجُوزُ لے کر آئے ہیں اور آگے جو ہے ذکر کیا کہ یہ غیر منصرف کو منصرف پڑھنا جائز ہوتا ہے یا تو ضرورتِ شعری کی وجہ سے یا تناسب کی وجہ سے۔ اور ضرورتِ شعری کی وجہ سے تو یہ واجب ہوتا ہے کہ غیر منصرف کو منصرف پڑھا جائے۔ تو يَجُوزُ، يَجُوزُ کے اندر تو جانبین برابر ہوتی ہیں۔ ایک جب آپ کو کہا جائے کہ آپ کے لیے یہ کام جائز ہے معلوم ہوا آپ چاہے کریں یا نہ کریں دونوں صورتیں اس میں آتی ہیں۔ لیکن یہاں جو آگے تفصیل ذکر کی گئی کہ ضرورت اور تناسب کی وجہ سے یہ صرف جائز ہوتی ہے اس میں تو ضرورت کا ذکر آیا اور ضرورت کی وجہ سے تو واجب ہوتا ہے تو يَجُوزُ کا لفظ اس کو شامل نہیں۔
يَجُوزُ کا لفظ اس کو، يَجُوزُ میں تو دونوں جانبیں برابر ہوتی ہیں اور جبکہ ضرورت میں تو اس کا کرنا واجب ہوتا ہے تو واجب يَجُوزُ کے اندر داخل نہیں بھئی۔ واجب يَجُوزُ میں داخل نہیں۔ تو صاحبِ جامی نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہاں پر یہ جو يَجُوزُ آیا یہ يُمكنُ کے معنی میں ہے، جائز ہے یعنی ممکن ہے۔ اور امکان جو ہے یہاں امکانِ عام مراد ہے مقید بجانب الوجود جس کو کس سے تعبیر کرتے ہیں؟ لَا يَمْتَنِعُ سے تعبیر کرتے ہیں بھئی، لَا يَمْتَنِعُ سے۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ امکان دو قسم پر ہے: ایک امکانِ عام اور ایک امکانِ خاص۔ پھر امکانِ عام کہتے ہیں جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی۔ ایک ہے وجود، ایک ہے عدم۔ اگر وجود ذکر ہے تو جانبِ مخالف یعنی عدم، معلوم ہوا عدم ضروری نہیں۔ اور اگر عدم ذکر ہے یعنی قضیہ سالبہ ہے تو پھر معلوم ہوا جب کہ عدم ممکن ہے، معلوم ہوا جانبِ مخالف یعنی وجود ضروری نہیں۔
میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ امکانِ عام دو قسم پر ہے: ایک امکانِ عام مقید بجانب الوجود اور ایک امکانِ عام مقید بجانب العدم۔ امکانِ عام مقید بجانب الوجود جو ہے اس کو لَا يَمْتَنِعُ سے تعبیر کرتے ہیں اور امکانِ عام مقید بجانب العدم اس کو لَا يَجِبُ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور قضیہ موجبہ کے اندر جب امکان کا ذکر آتا ہے تو اس سے امکانِ عام مقید بجانب الوجود مراد ہوتا ہے۔ مثلاً میں نے کہا ہو سکتا ہے زید آیا ہو، تو یہ دیکھو اس میں نفی نہیں ہے یہ قضیہ موجبہ ہے۔ تو اس میں امکانِ عام مقید بجانب الوجود ہے۔ تو اس کی جانبِ مخالف کیا؟ عدم۔ معلوم ہوا عدم ضروری نہیں۔ جب عدم ضروری نہیں وجود چاہے ضروری ہو یا نہ ہو دونوں اس میں آ گئے۔ عدم بس ضروری نہیں ہے۔ عدم ضروری نہیں ہے باقی وجود ضروری ہو یا ضروری نہ ہو۔
تو یہ امکانِ عام ہے بھئی۔ اور دوسرا ہے امکانِ خاص۔ امکانِ خاص کے اندر جانبین سے ضرورت کی نفی ہوتی ہے یعنی وجود بھی ضروری نہیں اور عدم بھی ضروری نہیں۔ اور اسی لیے اس کو امکانِ خاص کہتے ہیں کہ اس میں دو قیدیں آ گئیں اور جتنی قیدیں بڑھتی جائیں چیز خاص ہوتی چلی جاتی ہے، اس کے افراد کم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ تو اس کے اندر چونکہ دو قیدیں تھیں اس لیے اس کو امکانِ خاص کہا۔ اور امکانِ عام میں ایک قید ہوتی ہے ایک وقت کے اندر اس لیے اس کو امکانِ عام کہا وہ اس کے مقابلے میں عام ہے بھئی۔ اور پھر میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ چیزیں بنیادی طور پر تین قسم کی ہیں بھئی: کچھ واجب ہیں، کچھ ممتنع ہیں، کچھ ممکن ہیں۔ تو جو واجب ہے اس کا ہونا ضروری وہ ہے يَجِبُ، تو باقی دونوں وہ کیا ہوئے؟ لَا يَجِبُ۔ تو لَا يَجِبُ کے اندر ممتنع بھی آ گیا اور ممکن بھی آ گیا۔
اور جو ممتنع ہے اس کو تعبیر کس سے کرتے ہیں؟ يَمْتَنِعُ سے کہ وہ ناممکن ہے۔ تو باقی دونوں اس میں کیا ہو گئیں؟ لَا يَمْتَنِعُ، لَا يَمْتَنِعُ بھئی اس میں دونوں صورتیں آ گئیں واجب بھی اور ممکن بھی داخل ہو گئے۔ تو یہاں پر بھی امکان سے کیا مراد ہے؟ امکانِ عام مقید بجانب الوجود کیونکہ يَجُوزُ صَرْفُهُ قضیہ موجبہ ہے اور قضیہ موجبہ میں جب امکان ذکر ہو تو وہ امکانِ عام مقید بجانب الوجود ہوتا ہے اور اس کو تعبیر کس سے کرتے ہیں؟ لَا يَمْتَنِعُ سے، یعنی ناممکن نہیں ہے۔ تو امکانِ عام مقید بجانب الوجود ہے۔ معلوم ہوا عدم ضروری نہیں۔ عدم ضروری نہیں اور وجود چاہے ضروری ہو یا ضروری نہ ہو دونوں اس کے اندر آ گئے بھئی۔ تو لِلضَّرُورَةِ بھی آ گیا اور لِلتَّنَاسُبِ بھی آ گیا۔ لِلضَّرُورَةِ میں ضروری ہوتا ہے واجب ہوتا ہے اور لِلتَّنَاسُبِ میں ضروری نہیں ہوتا۔ تو يَجُوزُ کس معنی میں ہے؟ يُمكنُ کے معنی میں ہے یعنی ممکن ہے اور کون سا امکان مراد ہے؟ امکانِ عام مقید بجانب الوجود مراد ہے۔
اس کے بعد صَرْفُهُ کے بعد صاحبِ جامی نے آپ کو بتلایا تھا کہ غیر منصرف کو منصرف کرنا جائز ہے۔ تو بتلایا کہ بھئی معنی یہ ہے کہ منصرف کرنا نہیں بلکہ منصرف کے حکم میں کرنا جائز ہے۔ یعنی منصرف والا حکم دینا اس کو جائز ہے۔ حقیقتاً یہ منصرف نہیں بنے گا کیونکہ صاحبِ قافیہ نے غیر منصرف کی کیا تعریف کی؟ کہ غیر منصرف وہ ہے جس میں دو سبب پائے جائیں یا ایک سبب جو دو کے قائم مقام ہو۔ تو اگر آپ غیر منصرف پر ضرورت وغیرہ کی وجہ سے کسوہ یا تنوین لے بھی آئیں تو اس کسوے اور تنوین کے لانے سے وہ دو علتیں تو نہیں ختم ہوں گی۔ جب دو علتیں ہیں تو صاحبِ قافیہ کی تعریف کے مطابق یہ کیا ہے؟ غیر منصرف ہی ہے۔ جبکہ بعضوں نے دوسرا جواب دیا کہ یہ جو صَرْفُهُ ہے صَرْفُهُ کا لغوی معنی کر لیں اس کا ترجمہ منصرف کرنا نہ کریں بلکہ اس کا ترجمہ کر لیں پھیرنا۔ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پھیرنا۔ اور حُكْمُهُ کی ھا ضمیر راجع کر دیں حکم کی طرف وہ جو غیر منصرف کا حکم گزرا، أَيْ يَجُوزُ صَرْفُهُ جائز ہے پھیرنا اس حکم کو۔ غیر منصرف کے اس حکم کو پھیرنا جائز ہے یعنی حکم تو ہے کہ اس پر کسرہ یا تنوین نہیں آئے گا لیکن اس کو پھیرنا اور کسرہ اور تنوین کو داخل کرنا یہ بھی جائز ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب آئیے آگے دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں: لِلضَّرُورَةِ، أَيْ لِلضَّرُورَةِ وَزْنِ الشِّعْرِ أَوْ رِعَايَةِ الْقَافِيَةِ۔ تو غیر منصرف کو منصرف کا حکم دینا جائز ہے لِلضَّرُورَةِ ضرورت کی وجہ سے۔ اب ضرورت سے کیا مراد ہے؟ کہتے ہیں: أَيْ لِلضَّرُورَةِ وَزْنِ الشِّعْرِ وزنِ شعر کی ضرورت کی وجہ سے أَوْ رِعَايَةِ الْقَافِيَةِ یا رعایتِ قافیہ کی ضرورت کی وجہ سے کہ رعایتِ قافیہ رکھنے کے لیے بھئی۔ قافیہ، بھئی اشعار آپ جانتے ہیں۔ عربی اشعار میں جو شعر کے آخر میں وزن جو ہے ہر قصیدہ ہو تو ہر شعر کے اندر آخر میں وہی وزن لایا جاتا ہے۔ اس کو قافیہ کہتے ہیں۔ قصیدے میں اشعار کا اختتام ایک جیسے حرف پر اور ایک جیسے وزن پر ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ قصیدے کے اندر اشعار کا اختتام ایک جیسے وزن اور ایک جیسے حرف پر ہوتا ہے۔ تو یہ جو ایک جیسا وزن سب شعروں کے آخر میں آ رہا ہو اس کو کہتے ہیں قافیہ۔ رعایتِ قافیہ یعنی قافیہ کی رعایت رکھی جاتی ہے، قافیہ کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔
اور یہ جو ایک حرف آخر میں ایک جیسا آتا ہے اس کو حرفِ روی کہتے ہیں۔ اس کا بھی ذکر آگے آنے والا ہے: حَرْفٌ رَوِيٌّ۔ یہ جو شعر کے بالکل آخر میں جو حرف آئے اس کو کیا کہتے ہیں؟ حرفِ روی کہتے ہیں۔ اور یہ تمام اشعار میں ایک ہی جیسا آتا ہے قصیدے کے اندر۔ جیسے سبع معلقات ہیں بھئی۔ سبع معلقات میں امرؤ القیس جو ہے اپنے معلقے میں کہتا ہے: قِفَا نَبْكِ مِنْ ذِكْرَى حَبِيبٍ وَمَنْزِلِ، بِسِقْطِ اللِّوَى بَيْنَ الدَّخُولِ فَحَوْمَلِ۔ تو دیکھو حَوْمَلِ یہ وزن آیا آخر میں۔ یہ ہے قافیہ۔ یہ حَوْمَلِ وزن کیا ہے؟ یہ ہے قافیہ۔ اور یہ جو لام آخر میں آیا یہ ہے حرفِ روی۔ یہ کیا ہے؟ حرفِ روی۔ اب پورے قصیدے کے اندر وہ اس وزن کا بھی لحاظ رکھتا ہے اور اس لام کا بھی لحاظ رکھتا ہے۔ مثلاً اگلا شعر دیکھ لو: فَتُوضِحَ فَالْمِقْرَاةِ لَمْ يَعْفُ رَسْمُهَا، لِمَا نَسَجَتْهَا مِنْ جَنُوبٍ وَشَمْأَلِ۔ دیکھو وہاں کیا تھا؟ حَوْمَلِ، یہاں کیا آیا؟ شَمْأَلِ، دیکھو وہی وزن۔ وزن بھی وہی اور آخر میں جو لام پہلے شعر میں آخر میں لامِ مکسور تھا یہاں بھی کیا ہے؟ لامِ مکسور ہے۔ تو یہ جو لام ہے اس کو کیا کہیں گے؟ حرفِ روی کہیں گے۔ اور جو آخر میں وزن آیا اس کو کیا کہیں گے؟ قافیہ کہیں گے۔
تیسرا شعر دیکھ لیں بھئی: تَرَى بَعَرَ الْآرَامِ فِي عَرَصَاتِهَا، وَقِيعَانِهَا كَأَنَّهُ حَبُّ فُلْفُلِ۔ كَأَنَّهُ حَبُّ فُلْفُلِ، دیکھو حَوْمَلِ، شَمْأَلِ، فُلْفُلِ۔ آپ کہیں گے نہیں بھئی فُلْفُلِ میں تو حرکات الگ ہیں۔ بھئی بات وزنِ شعری کی چل رہی ہے۔ وزنِ شعری کے اندر متحرک کے مقابلے میں متحرک آنا چاہیے ساکن کے مقابلے میں ساکن آنا چاہیے حرکات ایک جیسی ہونا ضروری نہیں ہے۔ حَوْمَلِ، دیکھو حا متحرک اور واؤ ساکن۔ فُلْفُلِ، دیکھو اس میں فا متحرک اور لام ساکن۔ پھر حَوْمَلِ میم پر حرکت اور آگے لام مکسور، اور فُلْفُلِ اس کے آخر میں بھی فا متحرک اور آگے لام مکسور ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو وزنِ شعری کے اندر متحرک کے مقابلے میں متحرک آتا ہے ساکن کے مقابلے میں ساکن آتا ہے حرکات کا ایک جیسا ہونا ضروری نہیں ہے بھئی۔ تو اس کو رعایتِ قافیہ کہتے ہیں۔
اور یہ جو شعر کے آخر میں حرف آتا ہے اس کو حرفِ روی کہتے ہیں۔ اور اسی کی نسبت سے قصیدے کا نام بھی رکھا جاتا ہے۔ تو جیسے یہاں پر ہر شعر کے آخر میں لام آ رہا ہے تو اس کو کہیں گے قصیدہ لامیہ۔ قصیدہ لامیہ، لام والا قصیدہ بھئی یعنی جس کے آخر میں لام آ رہا ہے۔ اسی طرح اگر دال آئے گا تو قصیدہ دالیہ بھئی۔ اگر تا آئے گی تو قصیدہ تائیہ بھئی۔ اسی طرح میم آئے گا تو قصیدہ میمیہ بھئی۔ تو یہ حرفِ روی کے اعتبار سے قصیدے کی نسبت کی جاتی ہے اس حرفِ روی کی طرف بھئی۔
دیکھیے کتاب پر، کہتے ہیں: أَيْ لِلضَّرُورَةِ وَزْنِ الشِّعْرِ أَوْ رِعَايَةِ الْقَافِيَةِ، وزنِ شعر کی ضرورت کی وجہ سے اور اسی طرح رعایتِ قافیہ کی وجہ سے۔ فَإِنَّهُ إِذَا وَقَعَ غَيْرُ الْمُنْصَرِفِ فِي الشِّعْرِ، اس لیے کیونکہ جب غیر منصرف شعر میں واقع ہوتا ہے فَكَثِيرًا مَا، تو بسا اوقات جو ہے يَقَعُ مِنْ مَنْعِ صَرْفِهِ، واقع ہوتا ہے اس کے غیر منصرف ہونے کی وجہ سے۔ مِنْ مِنْ أَجْلِ ہے علت بیان کرتا ہے، علت بیان کر رہا ہے۔ كَثِيرًا مَا يَقَعُ مِنْ مَنْعِ صَرْفِهِ، تو بسا اوقات اس غیر منصرف کی منعِ صرف کی وجہ سے کیا واقع ہوتا ہے؟ انْكِسَارٌ، انکسار کا معنی ہے ٹوٹنا، ٹوٹنا۔ تو اس میں ٹوٹن واقع ہوتی ہے يُخْرِجُهُ عَنِ الْوَزْنِ، جو اس کو وزن سے نکال دیتا ہے۔ قصیدے کے اندر غیر منصرف آیا تو اس غیر منصرف کی وجہ سے اس کا وزن ٹوٹ جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اچھا اسی طرح آگے زحاف کا ذکر آ رہا ہے: أَوْ زِحَافٌ يُخْرِجُهُ عَنِ السَّلَاسَةِ۔ زحاف یاد رکھو یہ شعر کے اندر مخصوص جگہوں پر خاص قسم کا تغیر و تبدل جو ہے اس کو زحاف کہتے ہیں۔ آپ نے چونکہ یہ فن ابھی پڑھا نہیں پوری تفصیل تو یہاں ذکر نہیں کی جا سکتی بس مختصراً اتنا یاد رکھیں: شعر کے مخصوص اوزان ہوتے ہیں۔ اس وزن کے اندر بسا اوقات معمولی سی تبدیلی کر کے ایک نیا وزن اسی میں بنا لیا جاتا ہے۔ تو زحاف کسے کہتے ہیں؟ شعر کے اندر مخصوص جگہوں پر مخصوص قسم کی جو تبدیلی ہے اس کو زحاف کہتے ہیں۔ اس میں کبھی یوں کیا جاتا ہے کسی حرفِ ساکن کو حذف کر لیتے ہیں۔ کبھی کبھار یوں کرتے ہیں متحرک کو ساکن کر لیتے ہیں۔ اور کبھی یوں کرتے ہیں متحرک کو حذف کر لیتے ہیں۔ توجہ ہے؟ کیا کرتے ہیں؟ کبھی ساکن حرف کو حذف کر لیا، کبھی متحرک کو حذف کر لیا، کبھی صرف حرکت کو حذف کیا۔ توجہ ہے کیا کیا جاتا ہے؟ کبھی حرفِ ساکن کو حذف کر لیا، کبھی صرف حرکت کو حذف کر لیا اور کبھی متحرک کو حذف کیا یعنی دونوں چیزیں حذف کر دیں حرف بھی حذف ہو گیا اور ساتھ حرکت بھی حذف ہو گئی۔
جیسے مثلاً فَاعِلٌ، فَاعِلٌ اس کے اندر یہ الف ساکن ہے کبھی اس کو گرا دیں گے فَعِلٌ بن گیا، کیا بن گیا؟ فَعِلٌ۔ دیکھو ایک نیا وزن بنا لیا۔ یا جیسے مُتَفَاعِلٌ، مُتَفَاعِلٌ میں تا پر دیکھو فتحہ ہے۔ تا یعنی متحرک ہے، تا کیا ہے؟ متحرک ہے۔ تو اس تا کو ساکن کر دیا: مُتْفَاعِلٌ۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو مُتْفَاعِلٌ بن گیا تو وہ مُسْتَفْعِلٌ بن گیا گویا کہ۔ مُتْفَاعِلٌ اور مُسْتَفْعِلٌ دونوں کا ایک ہی وزن ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ شعر کے اندر جو ہے ضمہ کے مقابلے میں ضمہ، فتحہ کے مقابلے میں فتحہ، کسرہ کے مقابلے میں کسرہ اس طرح نہیں دیکھا جاتا بس یہ دیکھا جاتا ہے ساکن کے مقابلے میں ساکن آنا چاہیے اور متحرک کے مقابلے میں متحرک آنا چاہیے۔ تو مُتْفَاعِلٌ اور مُسْتَفْعِلٌ دیکھو دونوں کا ایک ہی وزن ہے۔ ساکن کے مقابلے میں ساکن آ رہا ہے اور متحرک کے مقابلے میں متحرک آ رہا ہے۔ تو یہاں تو بہرحال حرکات بھی ایک جیسی ہیں لیکن چاہے حرکات ایک جیسی نہ بھی ہوں بس صرف ساکن کے مقابلے میں ساکن آنا چاہیے اور متحرک کے مقابلے میں متحرک آنا چاہیے۔ تو شعر کے اندر یہ جو مخصوص قسم کے تبدیلی کی جاتی ہے اس کو زحاف کہتے ہیں۔ مختلف قسم کی تبدیلیاں کی جاتی ہیں ان میں سے ایک تبدیلی کا نام کیا ہے؟ زحاف ہے، زحاف۔
تو یاد رکھو جو زحاف ہے اس کی وجہ سے بھی شعر کے وزن میں روانی برقرار نہیں رہتی۔ عموماً زحاف کی وجہ سے شعر کے اندر وہ روانی اور وہ سلاست اور وہ ترنم باقی نہیں رہتا بھئی۔ میں نے بتایا شعر کے مخصوص اوزان ہوتے ہیں، ایک حرف ادھر ادھر ہو جائے تو شعر کا وزن ٹوٹ جاتا ہے۔ لیکن آپ دیکھتے ہیں انہی اوزان پر ہر شاعر اپنی اپنی بات کرتا ہے۔ ہر شاعر کسی ایک شاعر ایک چیز کے بارے میں شعر کہتا ہے دوسرا دوسری چیز کے بارے میں تیسرا تیسری چیز کے بارے میں۔ تو بسا اوقات شعر بناتے ہوئے، شعر بناتے ہوئے شاعر کو کوئی ایسا لفظ نہیں ملتا کہ جو پورا شعر کا وزن برقرار رکھا جا سکے۔ تو وہاں پر ان کے لیے زحاف کی گنجائش ہوتی ہے۔ وہ معمولی سا رد و بدل کر سکتے ہیں وزن میں، لیکن خاص طریقے سے، ہر طریقے سے نہیں۔ خاص طریقے سے ان کو معمولی سے رد و بدل کی اس میں گنجائش ہوتی ہے جس کی وجہ سے شعر کا وزن بدلتا ضرور ہے لیکن شعر کا وزن ٹوٹتا نہیں، خراب نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ سے سلاست اور روانی میں کمی آ جاتی ہے، البتہ شعر کا وزن پھر بھی برقرار ہوتا ہے۔ اگر وہ اس کی گنجائش اس کو نہ دیتے تو پھر شاعر کے لیے وہاں کوئی لفظ اس کو مل ہی نہیں رہا تھا جو مناسب لفظ ہو وہاں لے کر آتا۔
تو اس کے لیے گویا یوں سمجھیں کچھ اس کو رخصت مل جاتی ہے کہ وزن میں معمولی سی وہ رد و بدل کے ساتھ بھی کہہ سکتا ہے۔ لیکن وہ رد و بدل بھی میں نے بتایا خاص قسم کا ہوتا ہے جس سے وزن تھوڑا بدلتا ہے ٹوٹتا نہیں ہے، خراب نہیں ہوتا۔ تو اس کو زحاف کہتے ہیں بھئی، کیا کہتے ہیں؟ زحاف کہتے ہیں۔
اچھا دیکھیے بھئی، یہ پھر ترجمہ دیکھ لیں۔ کہتے ہیں: فَإِنَّهُ إِذَا وَقَعَ غَيْرُ الْمُنْصَرِفِ فِي الشِّعْرِ، اس لیے کیونکہ جب غیر منصرف جو ہے وہ شعر میں واقع ہوتا ہے فَكَثِيرًا مَا يَقَعُ مِنْ مَنْعِ صَرْفِهِ، تو بسا اوقات اس کے غیر منصرف ہونے کی وجہ سے واقع ہوتا ہے، کیا واقع ہوتا ہے؟ انْكِسَارٌ يُخْرِجُهُ عَنِ الْوَزْنِ، یعنی ایسی کسر، ایسی ٹوٹن واقع ہوتی ہے جو اس شعر کو وزن سے نکال دیتی ہے أَوْ زِحَافٌ، یا اس میں ایسا زحاف واقع ہوتا ہے يُخْرِجُهُ عَنِ السَّلَاسَةِ، جو اس شعر کو سلاست سے نکال دیتا ہے۔ سلاست کا معنی ہے روانی۔ اشعار میں کیا ہوتا ہے؟ خاص قسم کی روانی اور ترنم ہوتا ہے تو وہ زحاف کی وجہ سے وہ وزن تو مثلاً نہیں ٹوٹا لیکن روانی نہ رہی شعر کی۔
أَمَّا الْأَوَّلُ، پہلے کی مثال، تو پہلے کی مثال کہ جس میں غیر منصرف کو غیر منصرف پڑھا جاتا تو شعر کا وزن ٹوٹ جاتا۔ تو شعر کے وزن کو ٹوٹنے سے بچانے کی ضرورت کی وجہ سے غیر منصرف کو منصرف پڑھا گیا۔ جیسے أَمَّا الْأَوَّلُ، پہلے کی مثال فَكَقَوْلِهِ شِعْرٌ: صُبَّتْ عَلَيَّ مَصَائِبٌ لَوْ أَنَّهَا، صُبَّتْ عَلَى الْأَيَّامِ صِرْنَا لَيَالِيَا۔ صُبَّتْ، صَبَّ يَصُبُّ کے معنی ہوتے ہیں انڈیلنا، ایک چیز پر پانی وغیرہ ڈالنا یا کوئی اور چیز ڈالنا۔ تو یہاں، یہاں ڈالنے کا معنی کر لیں۔ صُبَّتْ عَلَيَّ، میرے اوپر ڈال دی گئیں یا یوں کہیں میرے اوپر نازل ہوئیں مَصَائِبٌ، یہ ہے محلِ استشهاد بھئی۔ یہاں مصائب یہ غیر منصرف ہے لیکن ضرورتِ شعری کی بنا پر اس پر تنوین پڑھی گئی کیونکہ اگر اس پر تنوین نہیں پڑھیں گے تو سارا شعر کا وزن ہی خراب ہو جائے گا۔ صُبَّتْ عَلَيَّ مَصَائِبٌ، میرے اوپر تکلیفیں ڈالی گئیں، میرے اوپر بہت سی تکلیفیں ڈالی گئیں لَوْ أَنَّهَا صُبَّتْ عَلَى الْأَيَّامِ، اگر وہ ڈالی جاتیں دنوں پر، جو ایام ہیں، دن ہیں ان پر اگر یہ تکلیفیں ڈالی جاتیں، یہ مصیبتیں ڈالی جاتیں صِرْنَا لَيَالِيَا، تو وہ راتیں ہو جاتے۔ وہ دن بدل کر کیا بن جاتے؟ رات بن جاتے، ان کی روشنی ختم ہو جاتی بھئی، اتنی تکلیفیں۔
یہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا شعر ہے بھئی۔ کہ ایک مرتبہ حضور علیہ السلام کی وفات کے بعد قبرِ مبارک پر تشریف لائیں تو وہاں ان غم کی کیفیت، بے انتہا غم کی کیفیت ان پر طاری تھی۔ اس وقت انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ صُبَّتْ عَلَيَّ مَصَائِبٌ، میرے اوپر اتنی مصیبتیں نازل ہوئی ہیں اگر یہ مصیبتیں دنوں کے اوپر نازل ہوتیں تو وہ دن بدل کر کیا بن جاتے؟ رات بن جاتے، ان کی روشنی ہی ختم ہو جاتی بھئی۔ تو یہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس موقع پر پڑھے۔ تو پھر اس میں علماء فرماتے ہیں: بعض کہتے ہیں یہ ان کا اپنا شعر ہے اور بعض کہتے ہیں یہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شعر ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟
آگے دیکھیے، کہتے ہیں: وَأَمَّا الثَّانِي، اور دوسرا جو ہے، کون سا دوسرا؟ جس میں زحاف سے بچنے کے لیے غیر منصرف کو منصرف پڑھا گیا۔ اگر غیر منصرف پڑھا جاتا تو شعر میں زحاف واقع ہوتا۔ تو یہ دوسرے کی مثال ہے جس میں زحاف سے بچنے کے لیے غیر منصرف کو منصرف پڑھا گیا۔ پہلے میں تھا وزن ٹوٹ جاتا اگر اس کو غیر منصرف پڑھتے۔ اور دوسرا زحاف جو ہے، جس میں غیر منصرف کو منصرف پڑھا گیا ہے، توجہ ہے؟ اگر اس کو غیر منصرف بھی پڑھا جاتا تو وزن پھر بھی نہیں خراب ہونا تھا۔ وزن، ہاں وزن پھر بھی خراب نہیں ہونا تھا البتہ وہ جو شعر تھا وہ سلاست سے نکل جاتا، اس میں وہ روانی نہ رہتی بھئی۔ کہتے ہیں: وَأَمَّا الثَّانِي، دوسرے کی مثال فَكَقَوْلِهِ شِعْرٌ: أَعِدْ ذِكْرَ نُعْمَانٍ لَنَا إِنَّ ذِكْرَهُ، هُوَ المِسْكُ مَا كَرَّرْتَهُ يَتَضَوَّعُ۔ أَعِدْ، أَعَادَ يُعِيدُ کے معنی ہیں لوٹانا۔ ذِكْرَ نُعْمَانٍ، نعمان جو ہے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا نام ہے۔ ابو حنیفہ کنیت ہے اور نام کیا ہے؟ نعمان بھئی۔ أَعِدْ ذِكْرَ نُعْمَانٍ لَنَا، شاعر کہتا ہے کہ ہمارے لیے نعمان یعنی ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا ذکر لوٹاؤ یعنی دوبارہ ان کا ذکر کرو إِنَّ ذِكْرَهُ هُوَ المِسْكُ، کہ بے شک ان کا ذکر جو ہے هُوَ المِسْكُ وہ مشک خوشبو ہے۔ آپ جانتے ہیں مشک سب سے قیمتی خوشبوؤں میں شمار ہوتی ہے، ہرن کے نافے سے حاصل کی جاتی ہے۔ تو بہت قیمتی خوشبو ہے اور سب سے اعلیٰ خوشبوؤں میں شمار ہوتی ہے۔ تو کہتا ہے شاعر: إِنَّ ذِكْرَهُ هُوَ المِسْكُ، کہ امام صاحب کا ذکر جو ہے وہ تو مشک خوشبو ہے مَا كَرَّرْتَهُ يَتَضَوَّعُ، جس قدر تو اس کو اس کا تکرار کرے گا یعنی جتنا اس کو تو بار بار دہرائے گا يَتَضَوَّعُ، تضوع کا معنی ہے خوشبو کا پھوٹنا، خوشبو کا پھیلنا۔ تم جس قدر ان کا ذکر کرو گے اسی قدر خوشبو پھیلتی چلی جائے گی۔
یاد رکھو علماء فرماتے ہیں کہ بڑے اولیاء، اللہ کے جلیل القدر اولیاء کا ذکر کیا جائے جس مجلس کے اندر تو وہاں اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے، اللہ کی رحمت برسنے لگتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اللہ کے اولیاء کا ذکر، خاص خاص بڑے اولیاء، ان کا ذکر جس مجلس میں کیا جاتا ہے ان کی باتیں دوسروں کو سنائی جاتی ہیں اس طریقے سے ان کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہاں اللہ کی رحمت برستی ہے بھئی۔ تو شاعر کہتا ہے: أَعِدْ ذِكْرَ نُعْمَانٍ لَنَا إِنَّ ذِكْرَهُ، کہ ہمارے لیے نعمان کا ذکر پھر دہراؤ کیونکہ ان کا ذکر جو ہے هُوَ المِسْكُ مَا كَرَّرْتَهُ يَتَضَوَّعُ، وہ تو مشک خوشبو ہے جسے جتنی بار بھی لگایا جائے اس کی خوشبو پھیلتی چلی جاتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جس قدر بھی اس کو دہرایا جائے، بار بار لوٹایا جائے یا بار بار اس کو لگایا جائے تو وہ پھیلتی چلی جاتی ہے۔
معنی سمجھ میں آ گیا؟ کہتے ہیں، کہتے ہیں یہ شعر ہے امامِ شافعی رحمہ اللہ کا۔ انہوں نے امام صاحب کی شان میں یہ شعر ذکر فرمایا بھئی۔ فَإِنَّهُ لَوْ فُتِحَ نُونُ نُعْمَانَ، اس لیے کیونکہ اگر فتحہ دیا جائے نعمان کے نون کو، لَوْ فُتِحَ نُونُ نُعْمَانَ، نعمان اس کے آخر میں الف نون زائدتان بھی ہیں اور یہ علم بھی ہے تو یہ غیر منصرف ہے لیکن دیکھو شعر کے اندر: أَعِدْ ذِكْرَ نُعْمَانٍ لَنَا، اس پر کسرہ اور تنوین پڑھی گئی بھئی۔ اب اگر اس پر نُعْمَانَ لَنَا پڑھ دیتے یعنی غیر منصرف بھی اس کو پڑھ دیا جاتا تو بھی وزن نہیں ٹوٹنا تھا، شعر کا وزن برقرار رہتا۔ لیکن شعر کے اندر وہ روانی نہ رہتی سلاست نہ رہتی۔ تو کہتے ہیں: فَإِنَّهُ لَوْ فُتِحَ نُونُ نُعْمَانَ مِنْ غَيْرِ تَنْوِينٍ، اس لیے کیونکہ اگر فتحہ دے دیا جاتا نعمان کے نون کو یعنی جو آخر میں نون ہے مِنْ غَيْرِ تَنْوِينٍ بغیر تنوین کے يَسْتَقِيمُ الْوَزْنُ، تو بھی وزن درست رہتا وَلَكِنْ يَقَعُ فِيهِ زِحَافٌ يُخْرِجُهُ عَنِ السَّلَاسَةِ، لیکن اس کے اندر زحاف واقع ہوتا جو اس کو سلاست سے نکال دیتا كَمَا يَحْكُمُ بِهِ سَلَامَةُ الطَّبْعِ، جیسے کہ اس کا فیصلہ کرتی ہے سلامتِ طبع۔ طبیعت کی سلامتی اس کا فیصلہ کرتی ہے۔ جس کی طبیعت سلیم ہو جس کو اللہ نے ذوق دیا ہو وہ فوراً سنتے ہی شعر کے وزن میں تھوڑی سی بھی خرابی ہو، تھوڑی سی بھی روانی میں کمی آ جائے وہ فوراً اس کو محسوس کر لیتا ہے۔ یہ معنی ہے: كَمَا يَحْكُمُ بِهِ سَلَامَةُ الطَّبْعِ، جیسے طبیعت کی سلامتی اس کا فیصلہ کرتی ہے یعنی یہ حکم لگا دیتی ہے۔
فَإِنْ قُلْتَ، جی! اب یہاں سے ایک اعتراض ذکر کریں گے اور پھر اس کا جواب۔ اعتراض یہ: کہ بات چل رہی ہے ضرورت کی۔ ضرورتِ شعری، جس کا کرنا ضروری ہوتا ہے اس کے بغیر شعر کا وزن ہی صحیح نہیں رہتا۔ اور آپ اس کے درمیان زحاف کو بھی ذکر کر رہے ہیں حالانکہ زحاف آپ نے ابھی ہمیں خود بتایا کہ أَعِدْ ذِكْرَ نُعْمَانٍ لَنَا، اگر اس نعمان کو غیر منصرف یعنی فتحہ کے ساتھ بھی پڑھ دیا جاتا تو وزن تو نہ ٹوٹتا۔ تو معلوم ہوا کہ زحاف سے بچنا ضروری نہیں ہے۔ شعر کا وزن تو پھر بھی برقرار ہے۔ شعر کا وزن تو پھر بھی برقرار ہے، تو معلوم ہوا زحاف سے بچنا ضروری نہیں۔ جب بچنا ضروری نہیں تو اس کو لِلضَّرُورَةِ کے تحت آپ نے کیسے ذکر کر دیا؟ اور اس کو کیسے ضروری قرار دے دیا؟ تو آپ کو بتلائیں گے صاحبِ جامی کہ بھئی بعض زحافات سے بچنا ضروری ہوتا ہے جب اس سے بچا جا سکے۔ کیونکہ زحاف کی وجہ سے شعر کے میں سلاست جو ہے اس میں کمی آ رہی تھی سلاست سے وہ شعر نکل رہا تھا۔ تو بسا اوقات جب زحاف سے بچنا ممکن ہو تو شعراء کے نزدیک وہاں بچنا ضروری ہوتا ہے تو یہ بھی لِلضَّرُورَةِ کے تحت داخل ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: فَإِنْ قُلْتَ الْإِحْتِرَازُ عَنِ الزِّحَافِ لَيْسَ بِضَرُورِيٍّ، اگر آپ یہ کہیں کہ زحاف سے بچنا وہ تو ضروری نہیں ہے فَكَيْفَ يَشْمُلُهُ قَوْلُهُ لِلضَّرُورَةِ، تو ماتن کا قول لِلضَّرُورَةِ اس کو کیسے شامل ہوا؟ وہ اس کو کیسے شامل ہوا وہ تو اس پر صادق ہی نہیں آ رہا۔ قُلْنَا، ہم کہتے ہیں: الْإِحْتِرَازُ عَنْ بَعْضِ الزِّحَافَاتِ، کہ بعض زحافات سے بچنا إِذَا أَمْكَنَ الْإِحْتِرَازُ عَنْهُ، جب اس سے بچنا ممکن ہو ضَرُورِيٌّ عِنْدَ الشُّعَرَاءِ، وہ ضروری ہوتا ہے شعراء کے نزدیک۔ بعض زحافات سے بچنا جب ممکن ہو تو وہ شعراء کے نزدیک ضروری ہوتا ہے۔
آگے دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: وَأَمَّا الضَّرُورَةُ الْوَاقِعَةُ لِرِعَايَةِ الْقَافِيَةِ فَكَمَا فِي قَوْلِهِ، اور باقی وہ ضرورت جو واقع ہوتی ہے رعایتِ قافیہ کی وجہ سے فَكَمَا فِي قَوْلِهِ جیسے کہ اس قول میں ہے اس شعر میں ہے: سَلَامٌ عَلَى خَيْرِ الْأَنَامِ وَسَيِّدِي، حَبِيبِي إِلَٰهِ الْعَالَمِينَ مُحَمَّدِ، بَشِيرٍ نَذِيرٍ هَاشِمِيٍّ مُكَرَّمِ، عَطُوفٍ رَؤُوفٍ مَنْ يُسَمَّى بِأَحْمَدِ۔ یہ بھی کہتے ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اشعار ہیں بھئی۔ وہ فرماتے ہیں: سَلَامٌ عَلَى خَيْرِ الْأَنَامِ، سلامتی ہو علیٰ خیر الانام، انام کہتے ہیں مخلوق کو بھئی، مخلوقات۔ سلامتی ہو علیٰ خیر الانام، ان پر جو تمام مخلوقات سے افضل ہیں، بہتر ہیں وَسَيِّدِي اور جو سردار ہیں حَبِيبِي إِلَٰهِ الْعَالَمِينَ، وہ تمام جہانوں کے جو معبود ہیں ان کے محبوب ہیں مُحَمَّدِ یعنی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بَشِيرٍ، وہ خوشخبری دینے والے ہیں نَذِيرٍ، نذیر کا کیا ترجمہ؟ ڈرانے والے، عموماً طلباء یہی ترجمہ کرتے ہیں۔ بہتر ترجمہ اس کا یہ ہے: نَذِيرٍ خبردار کرنے والے ہیں۔ کیا کرنے والے ہیں؟ دیکھو اب کتنا بہترین ترجمہ ہو گیا۔ ڈرانے والے اور ایک ہے خبردار کرنے والے یعنی اگر اس دین کی طرف نہیں آؤ گے تو پھر آخرت میں بڑا خوفناک انجام ہوگا تو خبردار کرنے والے ہیں۔ تو نَذِيرٍ خبردار کرنے والے ہیں هَاشِمِيٍّ، ہاشمی ہیں یعنی قبیلہ بنو ہاشم سے تعلق رکھتے ہیں مُكَرَّمِ، معزز ہیں عَطُوفٍ، شفقت کرنے والے ہیں رَؤُوفٍ، مہربان ہیں مَنْ يُسَمَّى بِأَحْمَدِ، جو موسوم ہیں احمد کے نام کے ساتھ یعنی ان کا نام کیا ہے؟ احمد۔ اب دیکھو مقامِ استشهاد ہے: بِأَحْمَدِ، تو یہ احمد یہ تو غیر منصرف ہے لیکن یہاں پر اس پر کسرہ پڑھا گیا۔ کس لیے؟ رعایتِ قافیہ کے لیے بھئی۔ کیونکہ اشعار کے اندر دیکھو پیچھے کیا آیا تھا؟ حَبِيبِي إِلَٰهِ الْعَالَمِينَ مُحَمَّدِ، وہاں پر بھی دال پر کسرہ تھا اور یہاں پر بھی پھر کیا ہوگا؟ دال پر کسرہ ہوگا پھر ہی رعایتِ قافیہ ہوگی بھئی۔ میں نے بتایا قافیہ کسے کہتے ہیں؟ شعر کے آخر میں جو وزن آئے تو اس کو برقرار رکھنے کے لیے یہاں کسرہ ضروری ہے۔
فَإِنَّهُ لَوْ قَالَ بِأَحْمَدَ بِالْفَتْحِ، اس لیے کیونکہ اگر شاعر جو ہے وہ بِأَحْمَدَ کہہ دیتے فتحہ کے ساتھ لَا يُخِلُّ بِالْوَزْنِ، تو یہ وزن میں تو خلل نہ ڈالتا وَلَكِنَّهُ يُخِلُّ بِالْقَافِيَةِ، لیکن یہ قافیہ میں خلل ڈال دیتا فَإِنَّ حَرْفَ الرَّوِيِّ فِي سَائِرِ الْأَبْيَاتِ، اس لیے کیونکہ حرفِ روی جو ہے فِي سَائِرِ الْأَبْيَاتِ باقی اشعار کے اندر الدَّالُ الْمَكْسُورَةُ، وہ دالِ مکسورہ ہے۔ حرفِ روی کسے کہتے ہیں میں پہلے بیان کر چکا۔ شعر کا آخری حرف جو ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ حرفِ روی جس کی طرف اس قصیدے کی نسبت کی جاتی ہے۔ تو یہاں دیکھو دال ہے تو یہ کیا کہلائے گا؟ قصیدہ دالیہ بھئی۔
أَوْ لِلتَّنَاسُبِ، یا تناسب کی وجہ سے۔ غیر منصرف کو منصرف کا حکم دینا جائز ہے ضرورت کی وجہ سے أَوْ لِلتَّنَاسُبِ یا تناسب یعنی مناسبت کی وجہ سے۔ دیکھیے خود معنی بیان کر رہے ہیں: أَيْ وَيَجُوزُ صَرْفُ غَيْرِ الْمُنْصَرِفِ لِيَحْصُلَ التَّنَاسُبُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمُنْصَرِفِ، اور غیر منصرف کی صرف جائز ہے لِيَحْصُلَ التَّنَاسُبُ تاکہ تناسب حاصل ہو جائے بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمُنْصَرِفِ اس غیر منصرف اور منصرف کے درمیان لِأَنَّ رِعَايَةَ التَّنَاسُبِ بَيْنَ الْكَلِمَاتِ أَمْرٌ مُهِمٌّ عِنْدَهُمْ، اس لیے کیونکہ کلمات کے درمیان مناسبت کی رعایت رکھنا أَمْرٌ مُهِمٌّ یہ اہم چیز ہے عِنْدَهُمْ عربوں کے نزدیک۔ عربوں کے نزدیک کلمات میں بھی کیا ہونی چاہیے؟ مناسبت ہونی چاہیے۔ یہ واجب تو نہیں ہے لیکن اہم ہے ان کے نزدیک بھئی۔ وَإِنْ لَمْ يَصِلْ إِلَى حَدِّ الضَّرُورَةِ، اگرچہ یہ حدِ ضرورت تک نہ پہنچا ہو۔ یعنی ضروری تو نہیں لیکن اہم ضرور ہے بھئی۔
تو وَإِنْ لَمْ يَصِلْ، یہ اِن سے پہلے واؤ آیا یہ اِن وصلیہ ہے بھئی۔ اگرچہ کے ساتھ اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں یہ ان کے نزدیک اہم چیز ہے وَإِنْ لَمْ يَصِلْ إِلَى حَدِّ الضَّرُورَةِ اگرچہ یہ ضرورت کی حد کو نہیں پہنچتا مِثْلُ سَلَاسِلًا وَأَغْلَالًا، جیسے سَلَاسِلًا وَأَغْلَالًا۔ اب دیکھو میں نے بتلا دیا کہ أَغْلَالًا پر تنوین آ رہی تھی تو سَلَاسِلًا جو ہے اس پر بھی تنوین لائی گئی مناسبت کی وجہ سے، حالانکہ سلاسل یہ غیر منصرف ہے بھئی۔ اور سلاسل یہ زنجیروں کو کہتے ہیں، زنجیروں کو۔ اور اغلال یہ طوق بھئی جو گلے میں مجرموں کے گلے میں طوق ڈالے جاتے ہیں جس کے ساتھ ان کے ہاتھوں کو باندھ دیا جاتا ہے گلے کے ساتھ۔ تو سَلَاسِلًا وَأَغْلَالًا، تو حَيْثُ صُرِفَ سَلَاسِلًا، اس حیثیت سے کہ صُرِفَ سَلَاسِلًا لِتَنَاسُبِ الْمُنْصَرِفِ الَّذِي يَلِيهِ، کہ سلاسلًا جو ہے اس کو منصرف کیا گیا لِتَنَاسُبِ الْمُنْصَرِفِ اس منصرف کی مناسبت کی وجہ سے الَّذِي يَلِيهِ جو اس کے ساتھ ملا ہوا ہے، جو اس کے ساتھ واقع ہے أَعْنِي أَغْلَالًا، یعنی کہ أَغْلَالًا۔ فَقَوْلُهُ سَلَاسِلًا وَأَغْلَالًا، جی! اب دیکھیے जरा متن یہ جو مثال پہ نظر رکھو۔ دیکھو یہ سَلَاسِلًا یہ ہے مثال اس غیر منصرف کی جس پر کیا پڑھا گیا؟ جس پر تنوین پڑھی گئی یعنی اس کو منصرف والا حکم دیا گیا۔ اور أَغْلَالًا یہ مثال ہے اس اسم کی جس کی وجہ سے غیر منصرف کو منصرف پڑھا گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ سَلَاسِلًا وَأَغْلَالًا آپ یہ نہ سمجھیں یہ دو مثالیں ہیں دونوں غیر منصرف ہیں، نہیں۔ بلکہ دراصل اس میں دونوں اسم آ گئے: ایک وہ غیر منصرف جس کو کیا پڑھا گیا؟ منصرف۔ اور ایک وہ منصرف جس کی وجہ سے اس غیر منصرف کو منصرف پڑھا گیا تو یہ دونوں کی مثال ہے۔
تو صاحبِ قافیہ دونوں کی مثال دینا چاہتے تھے۔ صرف سلاسل کہہ دیتے تو یہ اس غیر منصرف کی تو مثال بن جاتی لیکن جس اسم کی وجہ سے اس کا حکم بدلا ہے اس کی مثال نہ رہتی، بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: فَقَوْلُهُ سَلَاسِلًا وَأَغْلَالًا مِثَالٌ لِمَجْمُوعِ غَيْرِ الْمُنْصَرِفِ، سَلَاسِلًا وَأَغْلَالًا یہ مثال ہے لِمَجْمُوعِ غَيْرِ الْمُنْصَرِفِ مجموعے کی، اس غیر منصرف کا مجموعہ الَّذِي صُرِفَ، جسے منصرف کیا گیا وَالْمُنْصَرِفِ اور اس منصرف کا الَّذِي صُرِفَ غَيْرُ الْمُنْصَرِفِ لِتَنَاسُبِهِ، کہ غیر منصرف کو منصرف پڑھا گیا لِتَنَاسُبِهِ اس کی مناسبت کی وجہ سے۔ عبارت سمجھ میں آئی؟ پھر دیکھو: فَقَوْلُهُ سَلَاسِلًا وَأَغْلَالًا، مصنف کا قول سَلَاسِلًا وَأَغْلَالًا جو ہے مِثَالٌ لِمَجْمُوعِ غَيْرِ الْمُنْصَرِفِ، آگے آ رہا ہے وَالْمُنْصَرِفِ۔ یہ غیر منصرف اور منصرف دونوں کے مجموعے کی، یوں کہو مجموعی، دونوں کی اکٹھی مثال ہے۔ دونوں کی مجموعی مثال ہے، کس کے؟ غیر منصرف اور منصرف کی۔ غیر منصرف کون سا؟ جس کو منصرف پڑھا گیا۔ اور منصرف کون سا؟ جس کی وجہ سے منصرف پڑھا گیا بھئی۔ یہ معنی ہے: مِثَالٌ لِمَجْمُوعِ غَيْرِ الْمُنْصَرِفِ، یہ مثال ہے اکٹھی اس غیر منصرف کی الَّذِي صُرِفَ، جس کو منصرف پڑھا گیا وَالْمُنْصَرِفِ اور اس منصرف کی الَّذِي صُرِفَ غَيْرُ الْمُنْصَرِفِ لِتَنَاسُبِهِ، کہ جس کی مناسبت سے غیر منصرف کو منصرف پڑھا گیا۔
سَلَاسِلًا وَأَغْلَالًا یہ دونوں کی مثال ہے۔ وہ غیر منصرف جس کو منصرف پڑھا گیا اس میں وہ بھی ہے اور اس کے اندر وہ اسم بھی ہے جس کی وجہ سے غیر منصرف کو جس کے ساتھ مناسبت پیدا کرنے کے لیے غیر منصرف کو منصرف پڑھا گیا بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَمَا يَقُومُ مَقَامَهُمَا الْجَمْعُ وَأَلِفَا التَّأْنِيثِ، اور وہ علت جو دو علتوں کے قائم مقام ہے۔ وہ ان میں سے ایک جو ہے وہ جمع ہے اور دوسری جو ہے أَلِفَا التَّأْنِيثِ، تانیث کے دو الف ہیں بھئی۔ یہ دیکھو وَأَلِفَا التَّأْنِيثِ، اصل میں کیا تھا؟ أَلِفَانِ، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ أَلِفَا التَّأْنِيثِ، تانیث کے دو الف ہیں۔ عبارت سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ جو تانیث ہے، تانیثِ لفظی کی تین علامتیں ہیں بھئی: ایک تائے مربوطہ ہے یعنی گول تا، ایک اسی طرح الفِ مقصورہ ہے، ایک الفِ ممدودہ ہے۔ الفِ ممدودہ وہ ہے جس میں الف کے بعد ہمزہ آتا ہے۔ یہ ہے الفِ ممدودہ۔ اور اس میں یاد رکھنا یہ دراصل دو الف تھے بھئی۔ دو الف تھے اور پھر دوسرے کو ہمزہ سے بدل دیا گیا۔ اور یہ جو دوسرا الف جو ہمزہ سے بدلا ہے اصل میں یہ تانیث کے لیے ہے پہلا الف تانیث کے لیے نہیں۔ تو یہ الف جو ہمزہ سے بدل گیا یہ ہے تانیث کی علامت اور اس سے پہلے چونکہ الف ہے اور الف کے بعد جب ہمزہ آئے تو اس الف کو خوب لمبا کرتے ہیں، کھینچتے ہیں تو اس لیے اس کو الفِ ممدودہ کہتے ہیں۔ تو الفِ مقصورہ وہ ایک الف ہے اور الفِ ممدودہ حقیقت میں دو الف تھے اور اس میں سے جو دوسرا تھا وہ کس سے بدل گیا؟ ہمزہ سے، اور دراصل یہ تانیث کی علامت ہے۔ یہ جو پہلا الف ہے ہمزہ سے ماقبل میں جو الف ہے یہ تانیث کی علامت نہیں ہے بھئی۔
تو یہ أَلِفَا التَّأْنِيثِ سے یہ دو الف مراد ہیں تانیث والے یعنی الفِ مقصورہ اور الفِ ممدودہ۔
أَلِفَا التَّأْنِيثِ، یہ أَلِفَا مضاف ہے اور التَّأْنِيثِ مضاف الیہ ہے۔ أَلِفَا التَّأْنِيثِ، جی اعراب بتائیے۔ أَلِفَا، یہ کیا ہے؟ مرفوع ہے، مرفوع ہے۔ خبر بن رہا ہے نا: الْجَمْعُ وَأَلِفَا التَّأْنِيثِ۔ وَمَا يَقُومُ مَقَامَهُمَا، یہ ہے مبتدا۔ یہ مَا کیا ہے؟ مبتدا ہے اور يَقُومُ مَقَامَهُمَا یہ اس کا صلہ ہے موصول کا۔ موصول صلہ مل کر مبتدا اور الْجَمْعُ وَأَلِفَا التَّأْنِيثِ یہ معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر یہ کیا بنے گا؟ خبر۔ اور خبر کیا ہوتی ہے؟ مرفوع۔ تو یہ أَلِفَا التَّأْنِيثِ اس کا اعراب مجھے بتلائیے بھئی۔ أَلِفَا، مرفوع، مرفوع ہے اور کون سا مرفوع ہے؟ لفظاً ہے، تقدیراً ہے یا محلاً ہے؟ وَأَلِفَا التَّأْنِيثِ۔ جی! شاباش یہ تقدیراً ہے۔ أَلِفَا، دیکھو أَلِفَا التَّأْنِيثِ۔ اصل میں کیا تھا؟ أَلِفَانِ۔ تو یہ تثنیہ ہے اور رفع کس کے ساتھ آتا ہے؟ الف کے ساتھ اور یہ الف ابھی موجود ہے أَلِفَانِ۔ لیکن جب اس کی اضافت کر دی التَّأْنِيثِ کی طرف اب کیسے پڑھیں گے؟ أَلِفَا التَّأْنِيثِ۔ وہ الف اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے گر گیا تو اب اس الف پر آپ تلفظ کر رہے ہیں؟ نہیں تلفظ کر رہے تو معلوم ہوا یہ اب کیا ہے؟ مرفوع، یہ أَلِفَا مرفوع تقدیراً ہے بھئی تقدیراً ہے۔ جیسے پیچھے مثال آئی تھی: جَاءَنِي أَبُو القَوْمِ، رَأَيْتُ أَبَا القَوْمِ، مَرَرْتُ بِأَبِي القَوْمِ۔ وہاں پر بھی وہ واؤ، الف اوریاء اجتماعِ ساکنین سے گر گئے تھے تو اعراب تقدیری تھا بھئی۔
اب دیکھیے بھئی کتاب پر، کہتے ہیں: وَمَا يَقُومُ مَقَامَهُمَا، اور مَا سے کیا مراد ہے؟ أَيِ الْعِلَّةُ الْوَاحِدَةُ، دیکھو مَا کی تفسیر کی صاحبِ جامی نے: أَيِ الْعِلَّةُ الْوَاحِدَةُ، وہ ایک علت۔ دیکھو مَا کی تفسیر معرفہ کے ساتھ کی معلوم ہوا یہ مَا کون سا ہے؟ مَا موصولہ ہے موصوفہ نہیں۔ بھئی وجہ یہ کہ یہ مبتدا بن رہا ہے اور مبتدا میں اصل ہے کہ وہ معرفہ ہونا چاہیے اس لیے اس کو مَا موصوفہ نہیں بنایا بلکہ مَا موصولہ بنایا کیونکہ مَا موصولہ معرفہ ہوتا ہے۔
تو کہتے ہیں: وَمَا يَقُومُ مَقَامَهُمَا، أَيِ الْعِلَّةُ الْوَاحِدَةُ الَّتِي تَقُومُ مَقَامَ الْعِلَّتَيْنِ مِنَ الْعِلَلِ التِّسْعِ، یعنی وہ ایک علت جو دو علتوں کے قائم مقام ہوتی ہے مِنَ الْعِلَلِ التِّسْعِ نو علتوں میں سے۔ پھر سنو ترجمہ: الْعِلَّةُ الْوَاحِدَةُ الَّتِي تَقُومُ مَقَامَ الْعِلَّتَيْنِ مِنَ الْعِلَلِ التِّسْعِ، ترجمہ آخر سے دیکھو: ان نو علتوں میں سے وہ ایک علت جو دو کے قائم مقام ہوتی ہے، عِلَّتَانِ وہ دو علتیں ہیں بھئی۔ یہ عِلَّتَانِ یہ خبر ہے بھئی مَا يَقُومُ مَقَامَهُمَا کی۔ نو علتوں میں سے وہ ایک علت جو دو کے قائم مقام ہوتی ہے عِلَّتَانِ وہ دو علتیں ہیں بھئی، دو علتیں ہیں۔
تو بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ وَمَا يَقُومُ مَقَامَهُمَا یہ ہے مبتدا اور اس کی خبر الْجَمْعُ وَأَلِفَا التَّأْنِيثِ کو نہ بنائیں بلکہ اس کی خبر کس کو بنا دو؟ عِلَّتَانِ مُكَرَّرَتَانِ اس کو خبر بنا دے۔ اس کو خبر بنا دے۔
اور وہ دو علتیں ہیں مُكَرَّرَتَانِ جو مکرر ہیں۔ مُكَرَّرَتَانِ بھئی وہ دو علتیں جو مکرر ہیں۔ یہ مُكَرَّرَتَانِ کا لفظ اس لیے لائے صاحبِ جامی کہ بتلانا یہ چاہتے ہیں یا یوں کہیں ایک اعتراض کا جواب دینا چاہتے ہیں۔ اعتراض یہ کہ دو علتیں جب اسم میں آتی تھیں تو اسم میں دو فرعیتیں آتی تھیں اور اس کی وجہ سے وہ فعل کے مشابہ ہوتا تھا، فعل میں بھی کتنی فرعیتیں؟ دو فرعیتیں۔ تو اگر یہ ایک علت جو ہے جو دو علتوں کے قائم مقام ہے، یہ جب آئے گی تو پھر تو اسم میں ایک فرعیت آئی۔ کیا آئی؟ ایک فرعیت کی وجہ سے تو اسم فعل کے مشابہ نہیں بنے گا بھئی۔ کم از کم کتنی فرعیتیں آئیں؟ دو۔ تو آپ کو بتلا رہے ہیں کہ یہ دو علتیں بھی ایسی ہیں جن میں تکرار ہے بھئی۔ ان میں کیا ہے؟ تکرار ہے۔ دیکھو آگے چل کر آپ کو بتلائیں گے کہ یہ جو جمع منتہی الجموع کا صیغہ ہے یہ دوسرے درجے پہ جاتا ہے۔ یاد رکھو عربی زبان میں ایک لفظ کی ایک جمع آتی ہے، پھر آگے اس جمع کی جمع آتی ہے، پھر کبھی کبھار آگے پھر اس جمع کی جمع آتی ہے۔ تو یہ تین تین چار چار تک یہ سلسلہ چلا جاتا ہے کہ پہلے مفرد کی ایک جمع آئی، پھر آگے جمع کی جمع آئی، پھر اس جمع کی آگے جمع آئی۔ تو یہ تین تین چار چار تک بسا اوقات سلسلہ چلا جاتا ہے۔ تو یہ جو جمع منتہی الجموع ہے یہ عموماً دوسرے درجے پر آتی ہے۔ اس میں دوسرے درجے پر آتی ہے، پہلے اس کی ایک جمع آئی مثلاً كَلْبٌ، كَلْبٌ چھوٹے کاف کے ساتھ اس کا معنی ہے کتا۔ اس کی جمع آتی ہے أَكْلُبٌ، أَكْلُبٌ، پھر اس أَكْلُبٌ کی جمع آگے آتی ہے أَكَالِبُ بھئی۔ تو دیکھو جمع کی جمع آئی اور أَكَالِبُ یہ کون سا صیغہ ہے؟ جمع منتہی الجموع والا اور کتنے نمبر پر آیا؟ دوسرے نمبر پر۔ تو یوں سمجھو گویا جمع میں تکرار آ گیا، دو دفعہ جمع آ گئی۔ جب دو دفعہ جمع آ گئی تو گویا دو فرعیتیں آ گئیں۔ یہ دو جمعیں آ گئیں تو جمع میں تکرار آیا تو یوں سمجھو ایک فرعیت نہیں ہے بلکہ دو فرعیتیں ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جب دو فرعیتیں آ گئیں تو اب یہ دو علتوں کے قائم مقام بن گیا بھئی۔
تو کہتے ہیں: عِلَّتَانِ مُكَرَّرَتَانِ، ان نو میں سے وہ ایک علت جو دو کے قائم مقام ہو عِلَّتَانِ وہ دو ایسی علتیں ہیں مُكَرَّرَتَانِ جو مکرر ہوتی ہیں یعنی جن میں تکرار ہوتا ہے قَامَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا مَقَامَ الْعِلَّتَيْنِ، ان میں سے ہر ایک علت جو ہے وہ دو علتوں کے قائم مقام ہے لِتَكَرُّرِهِمَا ان کے تکرار کی وجہ سے۔ ان کے تکرار کی وجہ سے بھئی، ان کے تکرار کی وجہ سے۔
إِحْدَاهُمَا الْجَمْعُ، ان میں سے ایک کیا ہے؟ ان دو علتوں میں سے ایک جمع ہے۔ وہ جمع الْبَالِغُ إِلَى صِيغَةِ مُنْتَهَى الْجُمُوعِ، جو پہنچنے والی ہے منتہی الجموع کے صیغے تک۔ وہ جمع جو کہاں تک پہنچ گئی؟ جمع منتہی الجموع تک یعنی پہلے مفرد کی ایک جمع آئی پھر اس کے بعد وہ کہاں دوبارہ جمع آ کر کہاں تک پہنچ گئی؟ جمع منتہی الجموع تک بھئی۔ فَإِنَّهُ قَدْ تَكَرَّرَ فِيهِ الْجَمْعِيَّةُ حَقِيقَةً، اس لیے کیونکہ تحقیق اس کے اندر تکرار آ گیا جمعیت کا حقیقتاً۔ حقیقتاً جمع ہونے کا تکرار آ گیا كَأَكَالِبَ وَأَسَاوِرَ وَأَنَاعِيمَ۔ أَكَالِبَ میں نے بتلا دیا یہ کلب کی جمع ہے، کلب کی جمع پہلے کیا آتی ہے؟ أَكْلُبٌ اور پھر اس کی جمع أَكَالِبَ۔ تو یہ جمع منتہی الجموع ہے اور دوسرے درجے میں آئی ہے تو گویا جمع کا تکرار آ گیا۔ جب جمع کا تکرار آیا تو یہ دو سببوں کے قائم مقام ہو گیا بھئی۔ وَأَسَاوِرَ، اساویر جمع ہے سِوَارٌ کی اور سوار کنگن کو کہتے ہیں۔ سوار کنگن کو کہتے ہیں اور سوار کی جمع ہے أَسْوِرَةٌ اور پھر اس أَسْوِرَةٌ کی جمع اساویر آتی ہے بھئی۔ تو دیکھو یہ بھی دوسرے درجے پر آئی۔ وَأَسَاوِرَ وَأَنَاعِيمَ، جی! اناعیم جمع ہے نَعَمٌ کی۔ نعم مویشی کو کہتے ہیں بھئی، یہ گائے، بیل، بکری، اونٹ وغیرہ۔ تو یہ مویشی ان کو کیا کہتے ہیں؟ نَعَمٌ۔ اس نعم کی جمع أَنْعَامٌ بھئی اور پھر اس أَنْعَامٌ کی جمع أَنَاعِيمُ۔ تو دیکھو جمع منتہی الجموع آیا اور دوسرے درجے میں آیا تو گویا اس میں تکرارِ جمع ہے۔ تو یہ دو علتوں کے قائم مقام ہے۔
تو کبھی کبھار جمعیت کا اس کے اندر حقیقتاً تکرار آتا ہے، پہلے ایک جمع آتی ہے اور پھر جمع منتہی الجموع آتا ہے۔ اور کبھی حقیقتاً تو دوسرے درجے میں یہ جمع نہیں آتی پہلے ہی درجے میں آ جاتی ہے جیسے مسجد کی جمع مَسَاجِدُ۔ دیکھو اب فوراً پہلے ہی درجے میں جمع منتہی الجموع آ گئی۔ یا مصباح کی جمع مَصَابِيحُ، فوراً پہلے ہی درجے میں منتہی الجموع، جمع منتہی الجموع آ گئی۔ کہتے ہیں بھئی یہ بھی حکماً اسی کے درجے میں ہے کیونکہ اس کی صورت اور وزن بالکل اس جیسا ہے تو لہٰذا اس کا بھی وہی حکم، اس وہاں تکرارِ جمعیت حقیقتاً تھی تو حکماً یہاں بھی تکرارِ جمعیت کو سمجھا جائے گا۔
تو یہاں پر بھی تکرارِ جمعیت کا حکم لگا دیا جائے گا اگرچہ حقیقتاً نہیں لیکن حکماً ہے بھئی۔
أَوْ حُكْمًا، یا تکرارِ جمعیت اس میں ہوگا حکماً كَالْجُمُوعِ الْمُوَافَقَةِ لَهَا فِي عَدَدِ الْحُرُوفِ وَالْحَرَكَاتِ وَالسَّكَنَاتِ، جیسے کہ وہ جمعیں جو ان جمعوں کے موافق ہیں عددِ حروف میں بھی، حروف کی تعداد میں بھی وَالْحَرَكَاتِ وَالسَّكَنَاتِ اور حرکات اور سکنات میں بھی۔ دیکھو مَسَاجِدُ، أَسَاوِرَ۔ دیکھو حروف بھی برابر ہیں اور حرکات و سکنات بھی ایک جیسی ہیں، برابر ہیں۔ اور أَنَاعِيمُ اور اسی طرح کیا ہے؟ مَصَابِيحُ، تو مصابیح جو ہے وہ حروف کی تعداد میں بھی اور حرکات و سکنات میں بھی اناعیم کی طرح ہے۔ كَمَسَاجِدَ وَمَصَابِيحَ، جیسے کہ مساجد اور مصابیح ہے۔ وَالثَّانِيَتُهُمَا التَّأْنِيثُ لَكِنْ لَا مُطْلَقًا بَلْ بَعْضُ أَقْسَامِهِ، اور ان علتوں میں سے دوسری علت جو ہے التَّأْنِيثُ وہ تانیث ہے۔ لَكِنْ لَا مُطْلَقًا، لیکن مطلقاً ہر تانیث نہیں بَلْ بَعْضُ أَقْسَامِهِ، بلکہ اس کے بعض اقسام ہیں وَهُوَ أَلِفَا التَّأْنِيثِ، اور وہ تانیث کے دو الف ہیں بھئی۔ الْمَقْصُورَةُ وَالْمَمْدُودَةُ، مقصورہ اور ممدودہ۔ دو الف تانیث والے: ایک الفِ مقصورہ اور ایک الفِ ممدودہ۔ میں نے کل آپ کو بتلایا تھا بھئی۔
کہ ایک چیز کا اجمالاً ذکر آئے اور پھر اس کی تفصیل آ جائے تو وہاں تین طرح پڑھنا جائز ہے: رفع بھی، نصب بھی اور جر بھی۔ یہاں پر بھی دیکھو: وَهُوَ أَلِفَا التَّأْنِيثِ، وہ تانیث کے دو الف ہیں بھئی۔ أَلِفَا التَّأْنِيثِ اجمالاً ذکر آ گیا۔ تفصیل نہیں بیان کی کہ ایک ممدودہ ہوتا ہے اور ایک مقصورہ۔ پھر آگے تفصیل بیان کر دی کہ تانیث کے دو الف کون سے ہیں؟ الْمَقْصُورَةُ وَالْمَمْدُودَةُ۔ تو الْمَقْصُورَةُ وَالْمَمْدُودَةُ یہ اجمال کے بعد تفصیل آ گئی تو اس میں اب تین وجہیں پڑھنا جائز ہیں۔ کس طرح؟
یا تو اس کو بدل بنا دو أَلِفَا التَّأْنِيثِ، تانیث کے دو الف، تو یہ الفا سے بدل بنے گا اور وہ مرفوع ہے تو الْمَقْصُورَةُ وَالْمَمْدُودَةُ یہ بدل بھی مرفوع ہوگا۔ یا اس کو أَعْنِي فعل کے لیے مفعول بناؤ: أَعْنِي الْمَقْصُورَةَ وَالْمَمْدُودَةَ، تو اس صورت میں یہ منصوب ہوگا۔ یا تیسری ترکیب یہ کہ اس کو خبر بناؤ اس کے لیے مبتدا محذوف نکال لو اور پھر ایک ہی مبتدا سب کے لیے نکال لو: أَيْ هُمَا الْمَقْصُورَةُ وَالْمَمْدُودَةُ، وہ دو الف کیا ہیں؟ مقصورہ اور ممدودہ ہیں۔ تو هُمَا یہ ہے مبتدا جو الفا التانیث کی طرف راجع ہے اور الْمَقْصُورَةُ وَالْمَمْدُودَةُ اس کی خبر۔ یا دونوں میں سے ہر ایک کے لیے الگ الگ مبتدا نکال لو۔ کیسے؟ إِحْدَاهُمَا الْمَقْصُورَةُ وَالثَّانِيَةُ هُمَا الْمَمْدُودَةُ۔ الْمَقْصُورَةُ مونث ہے نا؟ تو اس کے لیے مبتدا بھی کیسا نکالو؟ مونث۔ إِحْدَاهُمَا، ان دونوں میں سے ایک، کن دونوں میں سے؟ الف میں، ان دو الفوں میں سے ایک جو ہے الْمَقْصُورَةُ وہ الفِ مقصورہ ہے وَالثَّانِيَةُ هُمَا الْمَمْدُودَةُ اور دوسرا ممدودہ ہے۔
تو کہتے ہیں: اور تانیث کے دو الف یعنی الفِ مقصورہ اور الفِ ممدودہ، أَيْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا، یعنی ان میں سے ہر ایک۔ بتلانا یہ چاہتے ہیں: تانیث کے دو الف اکٹھے ذکر کیے تو یہ نہ سمجھنا کہ یہ دونوں اکٹھے ہوں گے تو پھر یہ دو سببوں کے قائم مقام ہوں گے بلکہ دونوں میں سے ہر ایک الگ الگ دو سببوں کے قائم مقام ہے۔ یہ معنی ہے: أَيْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا، یعنی ان دونوں میں سے ہر ایک جو ہے وہ دو سببوں کے قائم مقام ہے كَحُبْلَى وَحَمْرَاءَ، جیسے حُبْلَى اور حَمْرَاءَ بھئی۔ لِأَنَّهُمَا لَازِمَتَانِ، اب یہاں سے وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ یہ تانیث کے جو دو الف ہیں یہ دو سببوں کے قائم مقام کیوں ہیں؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ ان کو کلمہ کے ساتھ ہی وضع کیا گیا ہے۔ جب اس حُبْلَى کو وضع کیا گیا تھا تو الف کے ساتھ وضع کیا گیا تھا اور حَمْرَاءَ جو ہے جب اس کو وضع کیا گیا تھا تو اس الفِ ممدودہ کے ساتھ وضع کیا گیا تھا۔ اور یہ ان کے ساتھ لازم ہے، جدا نہیں ہو سکتا کیونکہ وضع ہی ایسی ہے۔ وضع ہی ایسی، ایک چیز وضع کے اعتبار سے ہی اس کے ساتھ ہے تو اس کو اب جدا نہیں کر سکتے۔ چنانچہ حُبْلَى اس سے یہ الف جدا نہیں ہوتا۔ عرب حُبْلٌ کہیں استعمال کر لیں؟ نہیں بھئی، ہم نے آج تک نہیں سنا۔ معلوم ہوا یہ الف کبھی بھی حُبْلَى سے جدا نہیں ہوتا۔ اور اسی طرح حَمْرَاءَ اس میں سے حُمْرٌ کو علیحدہ استعمال کر لیں عرب؟ ہم نے کبھی آج تک نہیں سنا۔ تو معلوم ہوا یہ دونوں الف وضع کے اعتبار سے ہی اس کلمے کے ساتھ لازم ہیں۔ توجہ ہے؟ تو ایک تو آ گئی اس کلمے میں تانیث اور دوسرا سبب آ گیا لزومِ تانیث، تانیث کا اس کے ساتھ لازم ہونا۔ تانیث کا؟ تو تانیث کا اس کے ساتھ لازم ہونا اس کو ایک اور تانیث کے درجے میں اتار لیا۔ تو دو تانیثیں گویا آ گئیں بھئی۔ کتنی تانیث؟ دو تانیثیں۔ جب دو تانیثیں آئیں تو دو فرعیتیں آ گئیں تو اب اسم کس کی طرح ہو گیا؟ فعل کی طرح ہو گیا۔ تو دو سبب اس میں کیا؟ تانیث اور لزومِ تانیث ہے، تانیث کا لازم ہونا۔ تو اس کو بھی ایک تانیث ہی کے درجے میں اتار لیا۔
تو کہتے ہیں: كَحُبْلَى وَحَمْرَاءَ، جیسے حُبْلَى اور حَمْرَاءَ لِأَنَّهُمَا لَازِمَتَانِ لِلْكَلِمَةِ وَضْعًا، اس لیے کیونکہ یہ دونوں الف جو ہیں یہ کلمہ کے ساتھ لازم ہیں وَضْعًا بالاعتبار وضع کے لَا تُفَارِقَانِهَا أَصْلًا، یہ جدا ہوتے ہی نہیں أصلاً، أَيْ قَطْعًا قطعی طور پر جدا نہیں ہوتے فَلَا يُقَالُ فِي حُبْلَى حُبْلٌ وَلَا فِي حَمْرَاءَ حُمْرٌ، لہٰذا حُبْلَى میں حُبْلٌ نہیں کہتے اور حَمْرَاءَ میں حُمْرٌ نہیں کہتے یعنی استعمال نہیں کرتے فَيُجْعَلُ لُزُومُهُمَا لِلْكَلِمَةِ بِمَنْزِلَةِ تَأْنِيثٍ آخَرَ، تو ان دونوں کا کلمہ کے ساتھ جو لزوم ہے اس کو ایک اور تانیث کے درجے میں کر لیا گیا۔
ترجمہ سمجھ میں آیا؟ فَيُجْعَلُ لُزُومُهُمَا لِلْكَلِمَةِ بِمَنْزِلَةِ تَأْنِيثٍ آخَرَ، تو ان دونوں کا کلمہ کے ساتھ جو لزوم ہے اس کو ایک اور تانیث کے درجے میں کر لیا گیا فَصَارَتِ التَّأْنِيثُ مُكَرَّرًا، تو تانیث مکرر ہو گئی یعنی دو دفعہ آ گئی بِخِلَافِ التَّاءِ، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اسی لیے اوپر صاحبِ جامی نے کیا فرمایا تھا؟ عِلَّتَانِ مُكَرَّرَتَانِ، دو ایسی علتیں جو مکرر ہیں یعنی جن میں تکرار ہے۔ تو جمع منتہی الجموع میں بھی تکرار، چاہے کبھی حقیقتاً ہوگا کبھی حکماً ہوگا تو جمعیت کا اس میں تکرار ہے۔ اور الفِ ممدودہ اور الفِ مقصورہ جو تانیث والے ہیں ان میں بھی تکرار ہے تو گویا تکرارِ تانیث ہے وہاں پر۔
بِخِلَافِ التَّاءِ، اب یہاں سے ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں۔ سوال کا جواب۔
کہ یہ الفِ تانیث ان کو دو سببوں کے قائم مقام کیا، یہ تا جو ہے وہ بھی تانیث کی علامت ہے۔ اس کو دو سببوں کے قائم مقام کیوں نہیں کیا؟ تو اب بتلانے لگے ہیں کہ یہ جو تا ہے یہ وضع کے اعتبار سے کلمے کے ساتھ نہیں ہوتی بلکہ یہ تو صرف مذکر مؤنث میں فرق کرنے کے لیے لائی جاتی ہے۔ یہی قَائِمٌ مذکر کے لیے استعمال کرنا ہے تو تا لانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہی قَائِمٌ آپ مؤنث کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو ساتھ تا لے آؤ۔ تو یہ تا کس لیے ہے؟ مذکر اور مؤنث میں فرق کرنے کے لیے ساتھ ملائی جاتی ہے۔ یہ بالاعتبار وضع کے کلمے کے ساتھ لازم نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ التَّاءِ، بخلاف تا کے فَإِنَّهَا لَيْسَتْ لَازِمَةً لِلْكَلِمَةِ بِحَسَبِ أَصْلِ الْوَضْعِ، کیونکہ یہ جو ہے کلمہ کے ساتھ لازم نہیں ہے اصلِ وضع کے اعتبار سے فَإِنَّهَا وُضِعَتْ فَارِقَةً بَيْنَ الْمُذَكَّرِ وَالْمُؤَنَّثِ، اس لیے کیونکہ اس تا کو وضع کیا گیا ہے فرق کرنے کے لیے مذکر اور مؤنث کے درمیان۔
فَلَوْ عَرَضَ اللُّزُومُ بِعَارِضٍ كَالْعَلَمِيَّةِ مَثَلًا لَمْ يَقْوَ قُوَّةَ اللُّزُومِ الْوَضْعِيِّ، عبارت پہ نظر ہے؟ لَمْ يَقْوَ قُوَّةَ اللُّزُومِ الْوَضْعِيِّ، قَوِيَ يَقْوَى کا معنی قوت والا ہونا، طاقتور ہونا۔ اور قُوَّةً آگے جو آ رہا ہے، یہ قُوَّةً اسی کا مصدر ہے بھئی۔ وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفعولِ مطلق۔ تو یہ مفعولِ مطلق ہے بھئی قُوَّةَ اللُّزُومِ۔ اور یہ مفعولِ مطلق آپ نے پڑھا ہے کہ یہ کبھی تشبیہ کے لیے آتا ہے۔ جَلَسْتُ جِلْسَةَ القَارِئِ، میں کس کی طرح بیٹھا؟ قاری کی طرح بیٹھا۔ تو یہ قسم اور نوع بتلانے کے لیے آتا ہے تو یہاں پر بھی قُوَّةَ اللُّزُومِ الْوَضْعِيِّ یہ تشبیہ کے لیے ہے۔ وضعی لزوم جیسی قوت، وضعی لزوم جیسی قوت بھئی۔ دیکھیے بھئی: فَلَوْ عَرَضَ اللُّزُومُ، فَلَوْ عَرَضَ اللُّزُومُ بِعَارِضٍ، یہاں سے ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں۔ سوال یہ کہ آپ نے کیا کہا؟ یہ تا مذکر اور مؤنث میں فرق کرنے کے لیے لائی جاتی ہے اور کلمے کے ساتھ لازم نہیں ہوتی، کبھی جڑ جاتی ہے، کبھی جدا ہو جاتی ہے۔ ہم آپ کو دکھاتے ہیں کہ کبھی کبھار یہ تا کلمہ کے ساتھ لازم ہو جاتی ہے جیسے قَائِمَةٌ، قَائِمَةٌ یہ کسی کا نام رکھ دیں، اب یہ تا لازم ہو گئی کیونکہ علم میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی۔ اب یہ قَائِمَةٌ سے یہ تا جدا نہیں ہو سکتی۔ تو اس تا کو بھی کیا کرنا چاہیے؟ دو سببوں کے قائم مقام قرار دینا چاہیے۔ تو آپ کو بتلائیں گے کہ نہیں بھئی اصل اعتبار وضعِ اول کا ہے۔ اور وضعِ اول کے اعتبار سے یہ صرف مذکر مؤنث میں فرق کرنے کے لیے ہے، یہ کلمے کے ساتھ لازم نہیں ہے۔ اور یہ جو علم بنایا گیا تو علم کے اندر بھی وضع ہوتی ہے لیکن یہ وضعِ ثانی ہے بھئی۔ کسی کا نام رکھ دیا گیا تو یہ دوسری مرتبہ گویا اس لفظ کو وضع کیا گیا اور اعتبار کس کا ہے؟ وضعِ اول کا ہے۔ تو اس علمیت کی وجہ سے بھی یہ تا لازم ہو گئی کلمہ کے ساتھ، لیکن یہ اس کا لزوم اتنا قوی نہیں ہے جیسا لزوم کس میں تھا قوی؟ وضعِ اول میں جیسا قوی تھا۔
تو کہتے ہیں: فَلَوْ عَرَضَ اللُّزُومُ، اگر لزوم عارض ہو جائے بِعَارِضٍ کسی عارض کی وجہ سے كَالْعَلَمِيَّةِ مَثَلًا، جیسے کیا ہے؟ جیسے کہ علمیت ہے یعنی علم ہونا مَثَلًا مثال کے طور پر۔ تو کہتے ہیں: لَمْ يَقْوَ قُوَّةَ اللُّزُومِ الْوَضْعِيِّ، تو یہ قوی نہیں ہوتا قُوَّةَ اللُّزُومِ الْوَضْعِيِّ لزومِ وضعی کی طرح طاقتور۔ جیسے ایک لزوم وضع کے اعتبار سے ہوتا ہے وہ بڑا قوی لزوم ہے وہ جدا ہی نہیں ہوتا اور ایک لزوم آیا علمیت کی وجہ سے، یہ اس جیسا قوی لزوم نہیں ہے۔ تو اس کو اس کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔ تو یہ معنی ہے: لَمْ يَقْوَ قُوَّةَ اللُّزُومِ الْوَضْعِيِّ، تو یہ لزومِ وضعی کی طرح طاقتور نہیں ہو سکتا۔
بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی هَذَا هُوَ المَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الكَلَامِ۔