Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-065

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 9
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔65 وَمِنْهَا الِالْتِفَاتُ، وَهُوَ: نَقْلُ الْكَلَامِ مِنْ حَالَةِ التَّكَلُّمِ أَوِ الْخِطَابِ أَوِ الْغَيْبَةِ إِلَى حَالَةٍ أُخْرَى مِنْ ذَلِكَ، فَالنَّقْلُ مِنَ التَّكَلُّمِ إِلَى الْخِطَابِ نَحْوُ: "وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ"۔ علم المعانی کے آٹھ ابواب مکمل ہوئے، اس کا خاتمہ چل رہا ہے اور خاتمے کے اندر یہ بیان کر رہے ہیں مصنف کہ بعض اوقات کلام کو مقتضائے ظاہر کے خلاف لایا جاتا ہے، یعنی کسی نقطے کا متکلم اعتبار کرتا ہے اور ظاہرِ حال کے مخالف لے آتا ہے کلام کو۔ تو دوسرے لفظوں میں میں نے بتلایا یوں کہیے کہ یہاں حال خود تقاضا کرتا ہے کہ کیا کیا جائے؟ ظاہر سے عدول کیا جائے، ظاہرِ حال کے مطابق کلام نہ لایا جائے بلکہ اس سے عدول کیا جائے، بھئی۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں کہ کلام لانا مقتضائے ظاہر کے خلاف، اور اس کی بہت سی صورتیں ہیں جو یہ ذکر کر رہے ہیں۔ آج ہم التفات کے بارے میں پڑھیں گے بھئی، التفات۔ یاد رکھیے کلام کے تین طریقے ہیں بھئی کلام کے: ایک تکلم ہے، ایک خطاب ہے، ایک غیبت ہے بھئی، غیبت۔ تکلم، یعنی متکلم جب اپنے بارے میں کوئی بات کرتا ہے کہ اج میں سبق پڑھنے گیا تھا، میں نے سبق پڑھا، میں نے زید سے ملاقات کی، وغیرہ۔ تو دیکھو میں نے، متکلم اپنی بات کر رہا ہے، کس کی؟ اپنی بات کر رہا ہے۔ تو اس کو کہتے ہیں تکلم، تکلم۔ اور ایک ہے کہ مخاطب کی بات کرتا ہے کہ آپ کا نام زید ہے، آپ فلاں درجے میں پڑھتے ہیں، آپ فلاں جگہ رہتے ہیں، تو دیکھو آپ آپ کے ساتھ بات ہو رہی ہے اور کس کی بات ہو رہی ہے؟ مخاطب کی۔ اس کو کہتے ہیں خطاب۔ اور بعض اوقات بات جو ہے وہ کسی غائب تیسرے شخص کی بات ہوتی ہے اور اس کو کہتے ہیں غیبت بھئی، یعنی غائب کے بارے میں بات ہو رہی ہے کہ زید جو ہے وہ نیک لڑکا ہے، زید فلاں درجے میں پڑھتا ہے، اور وہ اج سبق میں آیا تھا، وغیرہ بھئی۔ تو دیکھو یہ کس کے بارے میں بات ہو رہی ہے؟ غائب کے بارے میں۔ تو کلام کے تین طریقے ہیں: ایک تکلم، ایک خطاب اور ایک غیبت۔ تکلم کے اندر بھی ضمیر استعمال ہوتی ہے کیونکہ متکلم جب اپنے بارے میں بات کرتا ہے تو اپنا نام نہیں لیتا بلکہ ضمیر استعمال کرتا ہے کہ میں ادھر گیا تھا، میں نے یہ کام کیا، میں فلاں جگہ رہتا ہوں، وغیرہ۔ دیکھیے "میں" کا لفظ استعمال کر رہا ہے اور "میں" اردو کے اندر کیا ہے؟ ضمیر۔ اسی طرح عربی میں "أنا" کہے گا یا "نحن" کہے گا، تو متکلم اپنی تعبیر ضمیر سے کرتا ہے۔ اور جو سامنے ہوتا ہے مخاطب جس سے بات کی جا رہی ہو، اس کا بھی نام نہیں لیا جاتا بلکہ اس کے لیے بھی ضمیر استعمال ہوتی ہے، جیسے اردو میں کیا استعمال کرتے ہیں ضمیر؟ "آپ" بھئی "آپ"۔ آپ یا تم، تو وغیرہ بھئی۔ اور غائب جو ہے، غائب کے لیے کبھی تو اس کا نام وغیرہ ذکر ہوتا ہے اور کبھی ضمیر بھئی۔ مثلاً وہ، زید، زید اچھا لڑکا ہے، وہ فلاں درجے میں پڑھتا ہے، وہ فلاں جگہ رہتا ہے، تو شروع میں دیکھو نام آیا، تو غائب کی تعبیر کبھی کس سے کرتے ہیں؟ نام کے ساتھ، اور کبھی کبھار اس کی تعبیر کس سے کرتے ہیں؟ غائب کی ضمیر ہے، وہ یا "هو" کہہ لیں یا "هي" وغیرہ بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور پھر اس میں یہ بھی یاد رکھیے کہ جو بھی ضمیر نہیں وہ ہے اسمِ ظاہر۔ اسمِ ظاہر اور اسمِ ضمیر ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔ جو بھی ضمیر نہیں وہ کیا ہے؟ اسمِ ظاہر۔ جیسے یہ قلم، قلم، قلم کیا ہے؟ ضمیر ہے؟ ضمیر نہیں، تو اس کو کیا کہیں گے؟ یہ اسمِ ظاہر۔ کتاب، کتاب ضمیر ہے؟ نہیں، تو یہ اس کو کیا کہیں گے؟ اسمِ ظاہر۔ تو جو بھی ضمیر نہیں لیکن ہے اسم، اس کو کہتے ہیں اسمِ ظاہر۔ اور یاد رکھیے اسمِ ظاہر بھی غائب کے درجے میں ہوتا ہے۔ اسمِ ظاہر کس کے درجے میں؟ غائب کے درجے میں، جیسے زید۔ زید ضمیر ہے؟ ضمیر نہیں، کیا ہے؟ معلوم ہوا اسمِ ظاہر ہے، کیا ہے؟ اور اسمِ ظاہر ہے، اور نام ہے، اور نام مخاطب کا لیا جاتا ہے؟ نہیں، متکلم کا لیا جاتا ہے؟ نہیں، نام کس کا لیا جاتا ہے؟ غائب کا۔ اسی لیے تو یہ زید اسمِ ظاہر ہے اور یہ عبارت میں ذکر کیا جا رہا ہے، معلوم ہوا زید موجود نہیں، نہ وہ متکلم ہے نہ وہ مخاطب ہے، وہ غائب ہے۔ تو لہٰذا اسمِ ظاہر کس کے درجے میں ہوتا ہے؟ غائب کے درجے میں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ کلام کے کتنے طریقے؟ تین: تکلم، خطاب اور غیبت۔ اور متکلم اپنی تعبیر کس سے کرتا ہے؟ ضمیر کے ساتھ۔ مخاطب کی تعبیر بھی کس سے کرتا ہے؟ ضمیر کے ساتھ۔ اور غائب کی تعبیر کبھی اسمِ ظاہر کے ساتھ ہو گی اور کبھی ضمیر کے ساتھ۔ گویا آپ کو یہ پتہ چل گیا کہ اسمِ ظاہر وہ غائب کے درجے میں ہے۔ اسمِ ظاہر کس کے درجے میں؟ غائب کے درجے میں ہے۔ اب دیکھیے التفات کا ذکر آیا، التفات۔ تو التفات اس کو کہتے ہیں کہ کلام کے ایک طریقے سے دوسرے طریقے کی طرف منتقل ہونا، یا یوں کہیں کلام کو ایک طریقے سے دوسرے طریقے کی طرف منتقل کرنا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ التفات، التفات۔ کیا کہلاتا ہے؟ التفات۔ بھئی بات چل رہی ہے، متکلم تکلم والا انداز چل رہا ہے اور وہاں تکلم کا انداز چلتے چلتے اچانک مخاطب والا انداز شروع ہو جائے، تو اس کو کہیں گے التفات۔ کیا کہیں گے؟ التفات، کہ یہ التفات ہوا ہے تکلم سے خطاب کی طرف۔ یا خطاب والا انداز چل رہا تھا، چلتے چلتے اچانک غائب والا انداز شروع ہو گیا، تو اس کو کیا کہیں گے؟ التفات، کہ خطاب سے التفات ہوا کس کی طرف؟ غیبت کی طرف بھئی۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ تو التفات، کلام کے ایک طریقے سے دوسرے طریقے کی طرف کلام کو منتقل کرنا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ التفات کہلاتا ہے۔ لیکن یاد رکھیے اس میں، مثلاً بھئی میں آپ سے کہتا ہوں کہ میرا نام زید ہے، آپ کا نام عمر ہے، اس کو التفات نہیں کہیں گے۔ میرا نام زید ہے، اب دیکھیے یہ تکلم ہے۔ آپ کا نام عمر ہے، دیکھو اب مخاطب کی بات آ گئی، لیکن اس کو التفات نہیں کہیں گے۔ التفات اس کو کہتے ہیں کہ مقتضائے ظاہر کے خلاف آپ منتقل ہوں بھئی ایک انداز سے دوسرے کی طرف۔ آپ کس کے خلاف منتقل ہوں؟ مقتضائے ظاہر کے خلاف آپ منتقل ہوتے ہیں۔ بھئی بات کس کی چل رہی ہے؟ کلام کو مقتضائے ظاہر کے خلاف لانا۔ اب دیکھیے مثلاً ایک کلام کا ایک انداز چل رہا ہے اور تکلم والے صیغے سارے استعمال ہو رہے ہیں، متکلم والے صیغے استعمال ہو رہے ہیں، "أنا" یا "نحن" وغیرہ۔ اور اس سے آپ منتقل ہوتے ہیں کس کی طرف؟ خطاب کی طرف۔ تو اس خطاب کی طرف جو منتقل ہوئے، اس کو التفات تب کہیں گے جب کہ یہ جو خطاب والا صیغہ یا خطاب والا جو لفظ لائے ہیں، یہ مقتضائے ظاہر کے خلاف ہو۔ کیا ہو؟ یعنی سننے والا یہاں پر بھی متکلم ہی کے صیغے کا انتظار کر رہا تھا، آپ نے کون سا استعمال کر دیا؟ خطاب والا۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ آپ کون سا انداز چلا رہے ہیں؟ تکلم والا، سارے صیغے اور ساری ضمیریں کون سی ہیں؟ متکلم والی ضمیریں استعمال ہو رہی ہیں۔ اور آگے ایک دم آپ نے کون سی استعمال کر لی؟ مخاطب والی، مثلاً کوئی بھی چاہے مخاطب والی کہہ لیں یا غیبت والی کہہ لیں، مطلب انداز بدل گیا۔ تو آپ نے مخاطب والی ضمیر استعمال کر لی اور اس مقام پر ہونی متکلم ہی کی ضمیر چاہیے تھی، لیکن آپ نے کون سی استعمال کر لی ہے؟ مخاطب والی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو آپ نے مخاطب والی ضمیر استعمال کر لی تو آپ کا کلام مقتضائے ظاہر کے خلاف ہوا۔ سننے والا تو اس مقام پر بھی انتظار کر رہا تھا، کون سی ضمیر ہونی چاہیے؟ متکلم والی ہی ہونی چاہیے، جیسے پیچھے تکلم والی تھی آگے بھی کون سی ہونی چاہیے؟ تکلم والی ہونی چاہیے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو التفات کب کہیں گے؟ ایک طریقے سے دوسرے طریقے کی طرف انسان کلام کو منتقل کرے اور یہ منتقل کرنا مقتضائے ظاہر کے خلاف ہو اور سامع اس کا منتظر نہ ہو، سامع تو اور چیز کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ تو منتظر تھا پیچھے تکلم والے صیغے ہیں تو یہاں بھی کون سا آئے گا؟ تکلم۔ یا مثلاً پیچھے خطاب والے تھے، وہ یہاں بھی انتظار کر رہا تھا خطاب والا ہی صیغہ آئے گا، لیکن آپ نے غائب والا استعمال کر دیا۔ دیکھو مثال سے وضاحت ہو گی۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: "إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ"، اے پیغمبر! ہم نے آپ کو خیرِ کثیر عطا کی، "فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ"، ہونا کیا چاہیے تھا؟ "فصل لنا وانحر"، پس آپ ہمارے لیے نماز پڑھیے۔ پیچھے تکلم والا انداز چل رہا ہے: اے پیغمبر! ہم نے آپ کو کیا عطا کی؟ خیرِ کثیر، تو ہمارے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ ہم نے آپ کو خیرِ کثیر عطا کی، تو آگے کیا ہونا چاہیے؟ ہمارے لیے پس آپ ہمارے لیے نماز پڑھیے اور ہمارے لیے قربانی کیجیے کیونکہ ہم نے آپ کو خیرِ کثیر عطا کی ہے۔ لیکن یہ نہیں کہا گیا "فصل لنا"، ماقبل میں تو تھا "إِنَّا"، ہم نے، "أَعْطَيْنَا"، ہم نے عطا کی، کون سے صیغے چل رہے ہیں؟ تکلم والے، آگے بھی تکلم والا ہی ہونا چاہیے: "فصل لنا"، آپ ہمارے لیے کیا کیجیے؟ نماز پڑھیے۔ لیکن کیا کہا گیا وہاں پر؟ "فَصَلِّ لِرَبِّكَ"، "رب" کا لفظ استعمال کر لیا گیا اور "رب" ضمیر ہے یا اسمِ ظاہر ہے؟ اسمِ ظاہر، اور اسمِ ظاہر کس کے درجے میں؟ غائب کے، تو کس طریقے سے کس طریقے کی طرف انتقال ہوا؟ تکلم سے غیبت کی طرف انتقال ہوا۔ تو یہاں پر سننے والا تو ابھی بھی اس انتظار میں ہے کہ یہاں کیا ہونا چاہیے؟ "فصل لنا" ہونا چاہیے، لیکن انتقال کس کی طرف کیا گیا؟ غیبت کی طرف انتقال کر دیا، تو اس کو التفات کہیں گے کہ جو مقتضائے ظاہر کے خلاف ہو اور سننے والا اس کا انتظار نہ کر رہا ہو، وہ تو کسی اور لفظ کا منتظر ہے، وہ تو اس انتظار میں ہے کہ اسی انداز میں کلام آئے گا جیسے پہلے آ رہا تھا؛ تکلم کے صیغے چل رہے ہیں تو آگے بھی تکلم ہی آئے گا، یا غائب کے چل رہے تھے تو آگے بھی غائب کا ہی انداز آئے گا، یا خطاب کے صیغے چل رہے تھے تو آگے بھی کیا آئے گا؟ خطاب والا۔ لیکن وہاں تکلم کرنے والا، بات کرنے والا انداز بدل دیتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ التفات۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو اس میں کیا ضروری ہے التفات کے اندر؟ کہ جہاں منتقل کیا گیا کلام کو ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف، وہ کیا ہو؟ مقتضائے ظاہر کے خلاف، اور سننے والا اس کا منتظر نہ ہو، سننے والا تو اسی گزشتہ انداز کا انتظار کر رہا ہو شاید اسی انداز کا کلام آئے گا، لیکن آپ ایک دم دوسرے انداز کی طرف منتقل ہو گئے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ التفات۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا، میرا نام زید ہے، آپ کا نام عمر ہے، یہاں کوئی التفات ہے؟ نہیں، یہاں کوئی التفات نہیں، کہیں ایسا نہیں کہ آپ انتظار کر رہے ہوں کہ ایک ہی جیسا وہ لفظ آئے گا یا فلاں ضمیر آئے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ یا جیسے میں کہتا ہوں: "أنا زيد"، میں کیا ہوں؟ "أنا" ہے ضمیر، کون سا انداز؟ تکلم والا، تکلم والا۔ آگے آیا "زيد"، زید کیا ہے؟ اسمِ ظاہر، اور اسمِ ظاہر کس کے درجے میں؟ غائب کے، تو آپ یہ نہ کہیں یہ التفات ہوا، تکلم سے کس کی طرف؟ غیبت کی طرف، اس لیے کیونکہ "أنا" مبتدا ہے اور جب ضمیر مبتدا آتی ہے تو آگے اس کی خبر آتی ہی اسمِ ظاہر ہے، وہاں آگے خبر تو ضمیر نہیں آئے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ہاں تو یہاں آپ کے میں نے کہا: "أنا زيد"، کوئی آپ کے ذہن میں آیا کہ کہیں اس نے تبدیلی کی ہے کلام کو اس طرح نہیں ہونا چاہیے تھا؟ نہیں، لیکن وہاں پر آتا ہے: "إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ"، فوراً آتا ہے یہاں تو کیا ہونا چاہیے تھا؟ "فصل لنا" ہونا چاہیے تھا بھئی۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اور یاد رکھیے اس کا فائدہ کیا ہے، کیوں کیا جاتا ہے؟ بھئی وجہ یہ کہ "كل جديد لذيذ"، ہر نئی چیز میں لذت ہوتی ہے، اور پہلے ایک انداز کلام کا چل رہا ہے، اگر سارا ہی کلام ایک انداز میں چلتا رہے تو سننے والے کی اتنی توجہ نہیں رہے گی، لیکن جب انداز بدلتا ہے، نئے طرح کا کلام آتا ہے تو سننے والے کی توجہ بڑھ جاتی ہے اور اس کو سننے میں لذت محسوس ہوتی ہے، کلام کی شیرینی اور حلاوت جو ہے وہ بڑھ جاتی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ جی۔ تو کہتے ہیں: وَمِنْهَا الِالْتِفَاتُ، اور کلام کو مقتضائے ظاہر کے خلاف لانے کے طریقوں میں سے ایک طریقہ التفات ہے، وَهُوَ: نَقْلُ الْكَلَامِ مِنْ حَالَةِ التَّكَلُّمِ أَوِ الْخِطَابِ أَوِ الْغَيْبَةِ، اور وہ نقل کرنا ہے کلام کو تکلم یا خطاب یا غیبت کی حالت سے، إِلَى حَالَةٍ أُخْرَى مِنْ ذَلِكَ، ایک دوسری حالت کی طرف من ذلک، جو اس حالت کی طرف أُخْرَى مِنْ ذَلِكَ جو دوسری سے الگ ہو، دوسری سے علیحدہ ہو، دوسری کے علاوہ ہو۔ فَالنَّقْلُ مِنَ التَّكَلُّمِ إِلَى الْخِطَابِ، اور یاد رکھیے تین طریقے ہیں نا، اور ہر طریقے سے دوسرے طریقے کی طرف انتقال ہو سکتا ہے، تو التفات کی چھ صورتیں بن جاتی ہیں۔ تکلم سے انتقال ہو کس کی طرف؟ خطاب کی طرف، یا تکلم سے انتقال ہو کس کی طرف؟ غیبت کی طرف۔ اور اسی طرح غیبت سے بھی غیبت سے انتقال ہو کس کی طرف؟ تکلم کی طرف، یا غیبت سے انتقال ہو کس کی طرف؟ خطاب کی طرف، اس میں بھی دو صورتیں۔ یا خطاب سے انتقال ہو کس کی طرف؟ غیبت کی طرف، یا خطاب سے انتقال ہو کس کی طرف؟ تکلم کی طرف، تو چھ صورتیں یہاں بنتی ہیں۔ یہ ایک دو مثالیں ذکر کریں گے بھئی۔ فَالنَّقْلُ مِنَ التَّكَلُّمِ إِلَى الْخِطَابِ، پس نقل کرنا تکلم سے خطاب کی طرف، اس کی مثال: نَحْوُ: "وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ"۔ "وَمَا لِيَ"، اور مجھے کیا ہوا ہے، "لَا أَعْبُدُ" کہ میں عبادت نہ کروں، "الَّذِي" اس ذات کی، "فَطَرَنِي" جس نے مجھے پیدا کیا۔ فطر کا کیا معنی ہے طاء کے ساتھ؟ پیدا کرنا۔ "الَّذِي فَطَرَنِي"، جس نے مجھے پیدا کیا، "وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ" اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے، اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ بھئی دیکھیے، یہاں پر ماقبل میں "وَمَا لِيَ"، مجھے کیا ہوا، کس کی بات چل رہی ہے؟ متکلم کی، تو تکلم کا انداز ہے۔ "لَا أَعْبُدُ"، کہ میں عبادت نہ کروں، کون سی صیغہ ہے؟ متکلم والا۔ "الَّذِي فَطَرَنِي"، نی، فطرنی، یہ آخر میں کون سی ضمیر ہے؟ متکلم کی ہے۔ "وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ"، اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے، تو دیکھو التفات ہوا تکلم سے خطاب کی طرف۔ ماقبل میں سارے متکلم اپنی بات کر رہا ہے اور آگے آیا "وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ"، اسی کی طرف تم لوگ لوٹائے جاؤ گے، تو کس کی طرف انتقال ہوا؟ تکلم سے خطاب کی طرف۔ تو ذہن تو یہ کہتا ہے کہ یہاں بھی کیا ہونا چاہیے تھا؟ تکلم والا، اور ہونا چاہیے تھا: "وإليه أرجع"، اسی کی طرف میں لوٹوں گا، اسی کی طرف میں لوٹوں گا۔ یا یہاں پر "ترجعون" مجہول کا صیغہ ہے، آپ مجہول کا مثلاً ہونا یہ چاہیے تھا: "وإليه أرجع"، اسی کی طرف میں لوٹایا جاؤں گا بھئی۔ بھئی یہاں التفات سمجھ میں آ گیا سب کو؟ تو یہ حبیب نجار، حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والے اور ان کے اصحاب میں سے ایک شخص اور اہل ایمان میں سے یہ ان پر ایمان لائے تھے، اور ان کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دعوت دینے کے لیے بستی والوں کی طرف بھیجا اور یہ ان سے بستی والوں کو جا کر دعوت دے رہے ہیں اور ان سے کہتے ہیں: "وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي"، یہ خود تو صحابی صحابی ہیں بھئی پیغمبر کے اور اس بستی والوں کو کیا کر رہے ہیں؟ دعوت دے رہے ہیں جو ایمان پر نہیں۔ یہ خود اہل ایمان میں سے ہیں جو بات کر رہے ہیں، تو کیا کہتے ہیں: "وَمَا لِيَ"، مجھے کیا ہوا، "لَا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي" کہ میں اس ذات کی عبادت نہ کروں کہ جس نے مجھے پیدا کیا، "وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ" اور اسی کی طرف تم لوٹائے۔ تو اصل میں تو، اصل میں تو سارا کلام ہی یوں ہونا چاہیے تھا کہ تم لوگوں کو کیا ہوا ہے، تم اس ذات کی عبادت نہیں کرتے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے، کیا کیے جاؤ گے؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ اسی کی طرف، تو ہونا تو خطاب یہ تو خود ایمان لا چکے ہیں، تو بات تو ان کی کر رہے ہیں کہ تم لوگوں کو کیا ہوا، تم اس ذات کی عبادت نہیں کرتے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے، لیکن انداز اس انداز میں بات کریں تو شاید ان لوگوں کو برا لگے، اس لیے اپنے اپنے متکلم والے صیغے استعمال کیے کہ مجھے کیا ہوا کہ میں اس ذات کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا، یعنی مجھے تو یقیناً اسی کی عبادت کرنی چاہیے، "وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ" اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے، اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے بھئی۔ تو التفات کیا بھئی۔ تو التفات کیا خطاب کی طرف، اور اصل میں تو ہونا ہی سارا کلام کون سا چاہیے تھا؟ خطاب والا ہونا چاہیے تھا، لیکن انہوں نے اپنے بارے میں اپنے صیغے شروع میں استعمال کیے، اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لیے کہ میں تم لوگوں کے لیے بھی وہی بات پسند کرتا ہوں جو میں اپنے لیے پسند کرتا ہوں۔ یہ میں تمہیں کوئی ایسا عام سا مشورہ نہیں دے رہا بلکہ بڑا ہی مخلصانہ مشورہ دے رہا ہوں کہ جو بات میں اپنے لیے پسند کرتا ہوں وہی تمہارے لیے بھی پسند کر رہا ہوں بھئی۔ "أي أرجع"، اس کو "أرجع" پڑھ لیں یا "أي أرجع"، کیا پڑھ لیں؟ اسی کی طرف میں لوٹایا جاؤں گا۔ تو یہ پہلا طریقہ۔ "ومن التكلم إلى الغيبة"، اور تکلم سے غیبت کی طرف نقل کی مثال: نَحْوُ: "إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ"۔ اے پیغمبر! بے شک ہم نے آپ کو خیرِ کثیر عطا کی، پس آپ نماز پڑھیے اپنے پروردگار کے لیے اور قربانی کیجیے۔ تو یہاں پر بھی "إِنَّا"، تکلم والا انداز چل رہا ہے، "أَعْطَيْنَا"، ہم نے عطا کی، آگے کیا آیا؟ "فَصَلِّ لِرَبِّكَ"، اور رب، "ربك" آیا، اور "ربك" کیا ہے؟ اسمِ ظاہر ہے، تو تکلم سے انتقال ہوا کس کی طرف؟ غیبت کی طرف۔ جی، "ومن الخطاب إلى التكلم"، اور خطاب سے تکلم کی طرف نقل کرنا، كَقَوْلِ الشَّاعِرِ، جیسے ایک شاعر کا قول ہے: أَتَطْلُبُ وَصْلَ رَبَّاتِ الْجَمَالِ وَقَدْ سَقَطَ الْمَشِيبُ عَلَى قَذَالِي شاعر اپنے آپ کو خطاب کر رہا ہے اور اپنے آپ سے کہتا ہے: "أَتَطْلُبُ وَصْلَ رَبَّاتِ الْجَمَالِ"، طلب یطلب کے معنی طلب کرنا، وصل کہتے ہیں ملاقات کو، جمال جمال اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے، حسن و جمال بھئی۔ ربات بھئی، بھئی رب، رب کا ایک رب کا ایک معنی ہے پروردگار، اسی طرح رب کا ایک معنی ہے مالک، مالک۔ آپ نے فقہ کی کتابوں میں بھی پڑھا ہوگا رب المال، کیا معنی ہوتا ہے رب المال؟ مال کا جو مالک ہے، مال کا مالک۔ اسی کی مونث آتی ہے ربۃ، مونث کیا آتی ہے؟ ربۃ، اور اسی کی یہ جمع ہے ربات۔ ربات الجمال، حسن و جمال کی جو مالکا ہیں، یعنی یوں کہو جو حسینائیں ہیں، ربات الجمال کا کیا معنی؟ حسینائیں۔ شاعر اپنے آپ کو خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے: "أَتَطْلُبُ وَصْلَ رَبَّاتِ الْجَمَالِ"، کیا تو حسیناؤں کی ملاقات کو طلب کرتا ہے؟ اپنے آپ کو کیا کہہ رہا ہے؟ کیا تو حسیناؤں کی ملاقات کو طلب کرتا ہے، کیا تو حسیناؤں کی ملاقات چاہتا ہے؟ "وَقَدْ سَقَطَ الْمَشِيبُ عَلَى قَذَالِي"، یہ واؤ حالیہ ہے، اور حال یہ ہے کہ تحقیق سقط، گر چکا ہے، المشیب، مشیب کہتے ہیں بڑھاپا، یعنی سفید بال اور بڑھاپا، اور تحقیق گر چکا ہے یعنی اتر چکا ہے المشیب بڑھاپا، "عَلَى قَذَالِي"، قذال، ذال کے ساتھ بھئی، قذال۔ قذال کہتے ہیں، بھئی ایک ہے یہ گردن کا سامنے والا حصہ سینے کی طرف، اور ایک ہے گردن کا پچھلا حصہ کمر کی جانب جو ہے، اس کو کہتے ہیں قذال بھئی، یعنی گدی۔ قذال کا کیا معنی؟ گدی، یعنی گردن کا جو پچھلا حصہ ہے۔ اور اسی طرح سر کا جو آخری حصہ ہے گردن کی طرف، اس کو بھی قذال کہتے ہیں، تو یہاں مراد سر ہے بھئی، قذال سے کیا مراد ہے؟ ہاں گدی مراد نہیں ہے بلکہ سر مراد ہے، کیونکہ سر کے آخری حصے کو بھی قذال کہتے ہیں، تو وہ حصہ بول کر پورا سر مراد ہے۔ اور تحقیق "سَقَطَ الْمَشِيبُ عَلَى قَذَالِي"، اتر چکا ہے، گر چکا ہے یعنی اتر چکا ہے المشیب بڑھاپا "عَلَى قَذَالِي" میرے سر پر، یعنی میرے بال سفید ہو گئے ہیں۔ اب دیکھیے، ماقبل میں کیا تھا؟ خطاب کر رہا تھا اپنے آپ کو، تو یہاں پر بھی ہونا چاہیے تھا: اور تحقیق بڑھاپا اتر چکا ہے علی قذالک، تمہارے تمہارے سر پر، لیکن شاعر نے کاف ضمیر کے بجائے کون سی ضمیر استعمال کر لی؟ متکلم کی، ہونا تو چاہیے تھا کہ بڑھاپا اتر چکا اپنے آپ کو خطاب کر رہا ہے نا کہ اے میرے نفس! کیا تو حسیناؤں کی ملاقات چاہتا ہے اور حال یہ ہے کہ بڑھاپا تمہارے سر پر اتر چکا ہے؟ یوں ہونا چاہیے کہ بڑھاپا تمہارے سر پر اتر چکا ہے، لیکن کہتا کیا ہے؟ حال یہ ہے کہ بڑھاپا میرے سر پر اتر چکا ہے، تو یہ التفات کیا خطاب سے کس کی طرف؟ تکلم کی طرف۔ تو یہ مثال بھی کس کی ہے؟ "ومن الخطاب إلى التكلم"، خطاب سے تکلم کی طرف۔ معنی اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ تو شاعر کہتا ہے: أَتَطْلُبُ وَصْلَ رَبَّاتِ الْجَمَالِ وَقَدْ سَقَطَ الْمَشِيبُ عَلَى قَذَالِي کیا تو چاہتا ہے حسیناؤں کی ملاقات کو اور حال یہ ہے کہ بڑھاپا جو ہے وہ اتر چکا ہے میرے سر پر۔ وَمِنْهَا تَجَاهُلُ الْعَارِفِ، وَهُوَ: سَوْقُ الْمَعْلُومِ مَسَاقَ غَيْرِهِ لِغَرَضٍ۔ اور کلام کو مقتضائے ظاہر کے خلاف لانے کی قسموں میں سے ایک تجاهل العارف بھی ہے، تجاهل العارف یعنی تجاهلِ عارف، تجاهلِ عارف۔ تجاهل کا معنی ہے بتکلف جاہل بننا۔ آپ کو ایک چیز کا علم ہے لیکن آپ بتکلف جاہل بن جاتے ہیں، یوں ظاہر کرتے ہیں جیسے آپ کو پتہ ہی نہیں بھئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تجاهل، تجاهل۔ عارف، عارف کا معنی ہے جاننے والا، عارف کا کیا معنی؟ جاننے والا۔ تجاهل العارف، جاننے والے کا بتکلف جاہل بننا، یعنی یوں کہیں جاننے والے کا بتکلف لاعلم بننا۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تجاهل العارف کا کیا معنی؟ بھئی جب آپ کو ایک چیز کا پتہ ہے، پھر آپ اس کے بارے میں پوچھتے ہیں تو آپ کیا کر رہے ہیں؟ بتکلف جاہل بن رہے ہیں، اپنے آپ کو لاعلم ظاہر کر رہے ہیں، تو جب آپ کو علم ہے تو آپ کو تو پوچھنا نہیں چاہیے، لیکن آپ پھر بھی اس طرح کی بات کرتے ہیں تو یہ آپ مقتضائے ظاہر کے مطابق کلام کر رہے ہیں یا اس کے خلاف کر رہے ہیں؟ مقتضائے ظاہر کے خلاف، اسی لیے یہ مقتضائے ظاہر کے خلاف جو قسمیں ہیں ان میں سے قسم ہے۔ تو کہتے ہیں: وَمِنْهَا تَجَاهُلُ الْعَارِفِ، اور مقتضائے ظاہر کے خلاف کلام لانے کی اقسام میں سے ایک تجاهلِ عارف ہے، وَهُوَ: سَوْقُ الْمَعْلُومِ مَسَاقَ غَيْرِهِ۔ سوق کا معنی ہے، س، و اور ق دو نقطوں والا، سوق، سوق کا معنی ہے ہانکنا، ہانکنا، چلانا۔ بھئی آپ جانوروں کا ریوڑ ہانکتے ہیں، آپ پیچھے ہیں جانور سارے آگے، اس کو کیا کہیں گے؟ سوق، اور آپ ہوئے سائق، ہانکنے والے، ہاں۔ اور اگر آگے سے کسی چیز کو چلانے والا آگے ہو اور باقی اس کے پیچھے ہوں، تو اس کو کہتے ہیں قائد بھئی۔ جیسے قوم کا بھی قائد ہوتا ہے، وہ ہر معاملے میں آگے ہوتا ہے اور ساری قوم اس کے پیچھے ہوتی ہے۔ تو سوق کا معنی ہانکنا، یعنی پیچھے سے کسی چیز کو چلانا۔ تو یہاں چلانے کے معنی میں ہے: وَهُوَ سَوْقُ الْمَعْلُومِ، ایک معلوم چیز کو چلانا، مَسَاقَ غَيْرِهِ أَيْ غَيْرِ الْمَعْلُومِ، غیرِ معلوم کے چلانے کی غیر مساق مصدر ہے۔ معلوم چیز کو چلانا کس کی طرح؟ مَسَاقَ غَيْرِهِ أَيْ مَسَاقَ غَيْرِ الْمَعْلُومِ، غیرِ معلوم چیز کے چلانے کی طرح، ایک معلوم چیز کو غیرِ معلوم چیز کے چلانے کی طرح چلانا۔ یعنی یوں کہیں آسان لفظوں میں: معلوم کے ساتھ غیرِ معلوم والا برتاؤ کرنا۔ ایک معلوم چیز کے ساتھ کون سا برتاؤ کرنا؟ آپ کو علم ہے اس چیز کا لیکن آپ لاعلم بن جاتے ہیں، تو یہ آپ معلوم چیز کے ساتھ کون سا برتاؤ کر رہے ہیں؟ غیرِ معلوم والا برتاؤ کر رہے ہیں۔ "لِغَرَضٍ"، اور یہ کسی غرض کی وجہ سے ہو گا، کسی نقطے کی وجہ سے، بغیر غرض کے ہو تو پھر یہ اس باب سے نہیں، جی کیونکہ یہ بلاغت ہم پڑھ رہے ہیں بھئی۔ تو یہاں جو بھی مقتضائے ظاہر وغیرہ سے جو عدول کیا جاتا ہے، وہ کسی نقطے کی وجہ سے ہوتا ہے، بغیر نقطے کے نہیں بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَمِنْهَا تَجَاهُلُ الْعَارِفِ، اور کلام کو مقتضائے ظاہر کے خلاف لانے کی اقسام میں سے ایک تجاهلِ عارف ہے، وَهُوَ: سَوْقُ الْمَعْلُومِ مَسَاقَ غَيْرِهِ لِغَرَضٍ، اور وہ ایک معلوم چیز کو چلانا ہے غیرِ معلوم چیز کے چلانے کی طرح کسی مقصد کی وجہ سے، یعنی معلوم کے ساتھ غیرِ معلوم والا برتاؤ کرنا کسی غرض اور کسی مقصد کی وجہ سے۔ بھئی اس کا عام علماء اس کا نام رکھتے ہیں "تجاهل العارف"، کیا نام رکھتے ہیں؟ جاننے والے کا بتکلف جاہل بننا، لیکن بعض علماء فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ نام نہ استعمال کرو، تجاهل العارف نہ کہو بلکہ یوں کہو: سَوْقُ الْمَعْلُومِ مَسَاقَ غَيْرِهِ، کیا کہو؟ سَوْقُ الْمَعْلُومِ مَسَاقَ غَيْرِهِ، یہ جو ابھی لفظ استعمال ہوئے، کہتے ہیں یہ نام اس کا رکھو، تجاهل العارف نام رکھنا اس کا مناسب نہیں۔ وجہ اس کی کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں بھئی دیکھیے، یہ کلام اللہ کے اندر بھی استعمال ہوا ہے، اللہ کے کلام میں بھی آیا ہے۔ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: "وَمَا تِلْكَ بِيَمِينِكَ يَا مُوسَى"، اے موسیٰ! تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ اب اللہ سوال کر رہے ہیں، اگرچہ اللہ ہر چیز کو جاننے والے ہیں، ہر چیز کو جانتے، تو ایک معلوم چیز کے ساتھ کون سا کس طریقے پر اس کے بارے میں کلام کیا گیا؟ جیسے وہ غیرِ معلوم ہو، اس کا علم نہ ہو۔ تو لہٰذا یہاں اس کو کیا کہنا چاہیے؟ "سوق المعلوم مساق غيره" کہنا چاہیے، اس کو تجاهل العارف نہیں کہنا چاہیے، اس لیے کیونکہ یہ اللہ کے کلام میں استعمال ہوا ہے تو پھر تو وہاں بھی یہ لفظ استعمال آپ کریں گے کہ یہاں کیا ہے؟ تجاهلِ عارف ہے، تو کہ جاننے والا اپنے آپ کو بتکلف جاہل بن رہا ہے، تو جہل کی نسبت اللہ کی طرف کرنا لازم آئے گا اور یہ بڑی گستاخی کی بات ہے کہ اللہ کی طرف جہل کی نسبت کی جائے بھئی۔ اس لیے وہاں وہ کیا فرماتے ہیں، کیا کہنا چاہیے؟ "سوق المعلوم مساق غيره" کہنا چاہیے، اور یہ کسی غرض اور مقصد کی وجہ سے ہو گا، كَالتَّوْبِيخِ، جیسے کہ ڈانٹ ڈپٹ ہے، ڈانٹنا کسی کو بھئی۔ نحو، مثال کے طور پر: أَيَا شَجَرَ الْخَابُورِ مَا لَكَ مُورِقًا كَأَنَّكَ لَمْ تَجْزَعْ عَلَى ابْنِ طَرِيفِ بھئی یہ ایک شخص تھا ولید ابن طریف بھئی، ولید ابن طریف، اس کو کسی نے قتل کر دیا تھا تو اس کی بہن جو ہے وہ اس کے غم میں یہ اشعار کہتی ہے، یہ شعر اسی میں سے ہے، اپنے بھئی کے غم میں وہ شعر کہہ رہی ہے اور کیا کہتی ہے؟ دیکھیے بھئی: أَيَا شَجَرَ الْخَابُورِ، اے خابور کے درخت! أیا، یہ أیا حرفِ ندا ہے، آپ نے حروفِ ندا پڑھ لیے، یا، أیا، هيا وغیرہ، تو أیا حرفِ ندا۔ شجر الخابور، خابور کے درخت، یہ کوئی درخت کی قسم تھی جو اس علاقے میں پایا جاتا تھا جہاں پر یہ تھے بھئی۔ تو یہ جو شخص جو مر گیا ہے اس کی بہن کہہ رہی ہے وہ ایک کسی درخت کو خطاب کرتے ہوئے: أَيَا شَجَرَ الْخَابُورِ، اے خابور کے درخت! مَا لَكَ، تجھے کیا ہو گیا ہے، مُورِقًا، اس حال میں کہ تو سرسبز و شاداب ہے۔ اس حال میں کہ تو سرسبز و شاداب۔ بھئی ورق، ورق، و، ر اور ق دو نقطوں والا ورق، یہ پتے کو کہتے ہیں عربی زبان میں۔ ورق جیسے کتاب کے ورق کو کہتے ہیں، اسی طرح پتے کو بھی ورق کہتے ہیں، تو أَوْرَقَ الشَّجَرُ، أَوْرَقَ الشَّجَرُ کا معنی ہوتا ہے درخت کا پتوں والا ہو جانا۔ جب درخت پر خوب پتے وغیرہ آ جائیں تو کیا کہتے ہیں؟ أَوْرَقَ الشَّجَرُ، اور اس درخت کو کیا کہیں گے؟ مُورِقٌ، پتوں والا، اسمِ فاعل نا، اسی سے أَوْرَقَ يُورِقُ إِيْرَاقًا فَهُوَ مُورِقٌ، پتوں والا۔ تو مورق کا معنی ہے پتوں والا ہونا، یعنی سرسبز و شاداب ہونا، سرسبز و شاداب۔ اور آگے آ رہا ہے جزع، جزع کے جزعٌ کے معنی ہوتے ہیں افسوس کرنا، پریشانی پریشان ہونا، جَزِعَ يَجْزَعُ، افسوس کرنا، پریشان ہونا۔ تو دیکھیے شاعرہ کہتی ہے: أَيَا شَجَرَ الْخَابُورِ، اے خابور کے درخت! مَا لَكَ، تجھے کیا ہو گیا ہے، مُورِقًا، اس حال میں کہ تو سرسبز و شاداب ہے، یعنی پتوں والا ہے، پتوں سے بھرا ہوا ہے، كَأَنَّكَ لَمْ تَجْزَعْ، گویا کہ تو پریشان نہیں ہے، بے تاب نہیں ہے، عَلَى ابْنِ طَرِيفِ، کس پر؟ ابنِ طریف پر۔ میرا بھئی ولید ابن طریف جو فوت ہوا ہے، جو جس کو قتل کیا گیا ہے، یوں لگتا ہے گویا کہ تو اس کے مرنے پر پریشان اور غمزدہ نہیں ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ دوبارہ سنیے: أَيَا شَجَرَ الْخَابُورِ مَا لَكَ مُورِقًا، اے خابور کے درخت! کیا ہو گیا ہے تجھے کہ تو پتوں سے بھرا ہوا ہے، سرسبز و شاداب ہے، كَأَنَّكَ لَمْ تَجْزَعْ عَلَى ابْنِ طَرِيفِ، گویا کہ تو بے تاب نہیں ہے ابنِ طریف پر، یعنی اس کی موت پر۔ اب دیکھیے، یہ شاعرہ درخت کو خطاب کر رہی ہے، حالانکہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ پریشان ہونا اور غم کا اظہار کرنا یہ ذوی العقول میں ہوتا ہے، غیر ذوی العقول میں نہیں ہوتا، اور درخت غیر ذوی العقول میں سے ہے، لہٰذا ظاہر سی بات ہے جب وہ غیر ذوی العقول میں سے ہے تو وہ پریشان اور بے تاب بھی نہیں ہوگا، کیونکہ پریشان اور بے تاب تو صرف کون ہوتے ہیں؟ ذوی العقول۔ تو یہ شاعرہ کو بھی پتہ ہے کہ یہ درخت غیر ذوی العقول میں سے ہے، یہ پریشان اور بے تاب نہیں ہو سکتا، لیکن پھر بھی وہ بتکلف جاہل بن گئی اس بات سے، گویا اسے تو پتہ ہی نہیں ہے کہ یہ درخت کس میں سے ہے؟ غیر ذوی العقول میں سے ہے، اور اس کے ساتھ ذوی العقول والا کلام کر رہی ہے، گویا کہ مجھے تو پتہ ہی نہیں ہے یہ کس میں سے ہے، غیر ذوی العقول میں سے ہے۔ تو بتکلف جاہل بن گئی، کیوں؟ اس کو ڈانٹنے کے لیے۔ مقصد کیا تھا؟ ڈانٹنا۔ بھئی اگر جاہل نہیں بنے گی، پھر ڈانٹنا صحیح ہے؟ پھر تو ڈانٹنا ہی صحیح نہیں، لیکن جب بتکلف جاہل بن گئی اب اس کو ڈانٹ رہی ہے کہ تم نے کیوں غم کا اظہار نہیں کیا، کیوں تو پریشان اور بے تاب نہیں ہے؟ گویا کہنا یہ چاہتی ہے شاعرہ کہ میرا بھئی اتنا عظیم شخص تھا اور اس کی موت پر اتنا بڑا نقصان ہوا ہے کہ ذوی العقول کو تو چھوڑیے، غیر ذوی العقول کو بھی اس کے غم پر کیا کرنا چاہیے؟ غم اور افسوس کا اظہار کرنا چاہیے، وہ اتنا عظیم ادمی تھا۔ معنی سمجھ میں آیا؟ أَيَا شَجَرَ الْخَابُورِ مَا لَكَ مُورِقًا كَأَنَّكَ لَمْ تَجْزَعْ عَلَى ابْنِ طَرِيفِ اے خابور کے درخت! کیا ہو گیا ہے تجھے کہ تو سرسبز و شاداب ہے، گویا کہ تو بے تاب نہیں ہے ابنِ طریف پر۔ اردو میں تجاهلِ عارف کی مثال بھئی، اردو میں تجاهلِ عارف کی مثال۔ بھئی آپ جانتے ہیں کہ عورتوں میں پتلی کمر حسن و جمال کی علامت شمار ہوتی ہے بھئی۔ اب ایک شاعر اپنے محبوب کی پتلی کمر کی تعریف کر رہا ہے اور ذرا اس کا تجاهلِ عارف دیکھیے بھئی، کہتا ہے: صنم کہتے ہیں تیری بھی کمر ہے صنم یعنی اے محبوب، اے محبوب کہتے ہیں تیری بھی کمر ہے۔ صنم کہتے ہیں تیری بھی کمر ہے کہاں ہے، کس طرف ہے اور کدھر ہے؟ تو دیکھو اتنا مبالغہ کر دیا، گویا ہمیں تو علم ہی نہیں ہے کہ اتنی پتلی کمر ہے کہ ہم نے تو کبھی آج تک دیکھی ہی نہیں ہے کس طرف کو ہے بھئی۔ صنم کہتے ہیں تیری بھی کمر ہے کہاں ہے، کس طرف ہے اور کدھر ہے؟ تو یہ تھی اردو میں مثال بھئی تجاهلِ عارف کی۔ وَمِنْهَا أُسْلُوبُ الْحَكِيمِ۔ اور کلام کو مقتضائے ظاہر کے خلاف لانے کی اقسام میں سے ایک اسلوب الحکیم ہے۔ اسلوب کہتے ہیں طرز کو، انداز کو۔ حکیم، دانا بھئی، عقل والا، حکمت سے حکمت جاننے والا، یعنی کسی چیز کے فائدوں کو جاننے والا۔ تو اسلوب الحکیم کا کیا معنی؟ حکمت والے کا انداز، کس کا انداز؟ حکمت والے کا انداز۔ یعنی کلام میں ایسا انداز اختیار کرنا جو کسی حکمت والے کا انداز ہوتا ہے بھئی، کلام میں ایسا انداز اختیار کرنا جو حکمت والے کا ہوتا ہے۔ اور اس کی بتلائیں گے آگے دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ، توجہ ادھر رکھنا بھئی، دو صورتیں: ایک یہ کہ آپ سے ایک آدمی ایک سوال کرتا ہے، آپ سے ایک سوال کرتا ہے، آپ اس نے جو سوال کیا آپ اس کا جواب نہیں دیتے، آپ ایک اور سوال کا اس کو جواب دے دیتے ہیں، دیتے جواب ہی ہیں لیکن اس سوال کا جواب نہیں دیتے بلکہ دوسرے سوال کا جواب اس کو دیتے ہیں۔ بتلانا اس کو یہ چاہتے ہیں کہ یہ جو تم نے سوال کیا یہ اس کا تمہیں کوئی فائدہ نہیں، یہ دوسرا سوال تمہیں کرنا چاہیے تھا جس کا جواب میں تمہیں دے رہا ہوں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جیسے آگے مثال آئے گی، صحابہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے تھے: یا رسول اللہ! یہ کیا وجہ ہے یہ چاند مہینے کے شروع کے دنوں میں باریک سا ہوتا ہے، پھر بڑھتا چلا جاتا ہے اور پھر مہینے کے وسط میں جا کر یہ پورا ہو جاتا ہے اور پھر اس کے بعد کم ہونا شروع ہوتا ہے اور پھر ختم ہو جاتا ہے، اس کی کیا وجہ ہے، یہ کیوں چھوٹا بڑا ہوتا ہے؟ تو انہوں نے سببِ اختلاف پوچھا تھا، کیا پوچھا تھا؟ کہ یہ مختلف کیوں ہوتا ہے، اس کا سبب کیا ہے، اس کی وجہ کیا ہے؟ لیکن اللہ کی طرف سے پھر جواب آیا اور بتلایا گیا کہ "يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ"، یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں ہلال کے بارے میں، چاند کے بارے میں، "قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ"، اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے یہ مواقیت، مقررہ اوقات ہیں للناس لوگوں کے لیے والحج اور کس کے لیے؟ حج۔ یعنی یہ چاند کے چھوٹے بڑے ہونے کے فائدے ذکر کر دیے گئے کہ اس کے یہ اس کے ذریعے لوگ اوقات کو معلوم کرتے ہیں، اپنے اوقات مختلف چیزوں کے مقرر کرتے ہیں، اس کے ذریعے تاریخوں وغیرہ کا ان کو پتہ چلتا ہے، اس کے ذریعے ان کو حج کے ایام کا پتہ چلتا ہے کہ حج کے ایام آ گئے ہیں، وغیرہ بھئی۔ تو انہوں نے پوچھا تھا سببِ اختلاف اور جواب میں اس کے فائدے ذکر کیے گئے، کہ سببِ اختلاف کے بارے میں تمہیں نہیں پوچھنا چاہیے، سببِ اختلاف کے بارے میں تمہیں نہیں پوچھنا چاہیے، اس میں تمہارا کوئی فائدہ نہیں ہے، تمہیں اس کے فائدوں کے بارے میں پوچھنا چاہیے کہ یہ چاند چھوٹا بڑا ہوتا ہے اس کے فائدے کیا ہیں، اور وہ ذکر کر دیے گئے۔ تو انہوں نے پوچھا کیا تھا؟ سببِ اختلاف، اور جواب میں سببِ اختلاف ذکر کیا گیا؟ نہیں، بلکہ کیا بتلایا گیا؟ فائدے بتلائے گئے، یہ بتلانے کے لیے کہ تمہیں کس کے بارے میں پوچھنا چاہیے تھا؟ اس کے فائدوں کے بارے میں پوچھنا چاہیے تھا، وہ تمہارے زیادہ لائق ہے، وہ تمہارے لیے زیادہ اہم ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ ہے اسلوب الحکیم، حکمت والے کا انداز۔ تو یہ تو ایک صورت تھی جس میں دوسرے نے سوال کیا تھا اور اس کو دوسرے سوال کا جواب دیا جائے بھئی۔ اور دوسری صورت یہ کہ دوسرے نے سوال نہیں کیا، سوال نہیں کیا، لیکن وہ جس بات کا منتظر ہے اس کے بجائے آپ دوسری بات اس کے سامنے ذکر کر دیتے ہیں کہ یہ تمہیں اس کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس یہ بات تمہارے لیے زیادہ اہم ہے، تمہیں اس کا تمہیں اس کا ارادہ کرنا چاہیے تھا بھئی۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ پہلی صورت میں کیا تھا اسلوب الحکیم میں؟ سننے والے نے کوئی سوال کیا تھا، جواب دینے والا اس سوال کا جواب نہیں دیتا بلکہ کسی دوسرے سوال۔ دوسری صورت، دوسری صورت اسی اسلوب الحکیم کی، کہ جو مخاطب ہے اس نے سوال کوئی نہیں پوچھا لیکن وہ ایک بات کا منتظر ہے، اس کو وہ جس بات کا منتظر ہے وہ اس کے سامنے متکلم نہیں کہتا بلکہ دوسری بات اس کے سامنے ذکر کر دیتا ہے کہ بتلانا یہ چاہتا ہے کہ یہ بات زیادہ اہم ہے تمہیں اس کا ارادہ کرنا چاہیے، جس بات کا تم انتظار کر رہے ہو وہ تمہارے لائق نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے کتاب پر: وَمِنْهَا أُسْلُوبُ الْحَكِيمِ، اور کلام کو مقتضائے ظاہر کے خلاف لانے کے طریقوں میں سے ایک طریقہ اسلوب الحکیم ہے، وَهُوَ: تَلَقِّي الْمُخَاطَبِ، تلقی کا معنی ہے ملاقات کرنا، يرحمك الله، تلقی کا کیا معنی؟ ملاقات کرنا، یعنی سامنا کرنا۔ وَهُوَ تَلَقِّي الْمُخَاطَبِ، اور وہ مخاطب کا سامنا کرنا ہے، بِغَيْرِ مَا يَتَرَقَّبُهُ، ترقب کا معنی ہے انتظار کرنا، ترقب کا کیا معنی؟ انتظار کرنا۔ وہ مخاطب کا سامنا کرنا ہے بِغَيْرِ مَا يَتَرَقَّبُهُ، علاوہ اس کے جس کا وہ انتظار کر رہا ہے، یعنی مخاطب کا سامنا کرنا ایسی چیز کے ساتھ جس کا وہ انتظار نہیں کر رہا، جس کا وہ انتظار نہیں "بغیر"، "ما يترقبه" کیا ہوا؟ ما يترقبه جس کا وہ انتظار کر رہا ہے، اور "بغير ما يترقبه" جس کا وہ انتظار یعنی یوں کہیں جس کا وہ انتظار کر رہا ہے اس کے علاوہ کو مخاطب کے سامنے پیش کرنا۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو کہتے ہیں: وَهُوَ تَلَقِّي الْمُخَاطَبِ بِغَيْرِ مَا يَتَرَقَّبُهُ، اور وہ سامنا کرنا ہے مخاطب کو اس چیز کے علاوہ کے ساتھ جس کا وہ انتظار کر رہا ہے، أَوِ السَّائِلِ، یا سوال کرنے والے کا سامنا کرنا، اس کا عطف مخاطب پر ہے، أي تلقي السائل، دوسری قسم کیا ہے کہ اسلوب حکیم وہ جو ہے سائل کا سامنا کرنا، بِغَيْرِ مَا يَطْلُبُهُ، علاوہ اس کے جس کو وہ طلب کر رہا ہے، یعنی جو اس نے سوال کیا اس کے علاوہ کے ساتھ اس کا سامنا کرنا، تَنْبِيهًا عَلَى أَنَّهُ الْأَوْلَى بِالْقَصْدِ، اس کا تعلق دونوں سے ہے، تلقی المخاطب اور تلقی السائل، جو مخاطب اور سائل کا سامنا کیا جاتا ہے اس چیز کے علاوہ کے ساتھ جس کو انہوں نے طلب کیا تھا یا جس کے وہ انتظار میں تھے، یہ کیوں کیا جاتا ہے؟ کہتے ہیں: تَنْبِيهًا عَلَى أَنَّهُ الْأَوْلَى بِالْقَصْدِ، اس بات پر متنبہ کرنے کے لیے کہ یہ چیز زیادہ لائق ہے ارادے کے، جو متکلم ذکر کر رہا ہے یہ چیز زیادہ لائق ہے، تمہیں اس کا ارادہ کرنا چاہیے تھا، جس کا تم انتظار کر رہے ہو یا جس کے بارے میں تم نے پوچھا ہے وہ زیادہ ارادے کے لائق نہیں، تمہارا اس میں فائدہ نہیں۔ فَالْأَوَّلُ يَكُونُ بِحَمْلِ الْكَلَامِ عَلَى خِلَافِ مُرَادِ قَائِلِهِ، پس پہلی قسم، کون سی پہلی قسم؟ جس میں مخاطب کا سامنا کیا جائے علاوہ اس چیز کے ساتھ جس کا وہ وہ اول ہے، يَكُونُ بِحَمْلِ الْكَلَامِ عَلَى خِلَافِ مُرَادِ قَائِلِهِ، وہ کلام کو محمول کرنا ہو کے ساتھ ہو گا عَلَى خِلَافِ مُرَادِ قَائِلِهِ، اس کہنے والے کی مراد کے خلاف۔ بھئی مخاطب نے ایک بات کی تھی، اپ اس نے اس سے جس معنی کا ارادہ کیا آپ اس کے کلام سے دوسرے معنی کا دوسرے معنی پر اس کو محمول کر لیتے ہیں۔ آپ کیا کر لیتے ہیں؟ مخاطب بھئی دو صورتیں ذکر ہوئیں، توجہ سے ادھر توجہ کیجیے بھئی، اسلوب الحکیم کی کتنی صورتیں ذکر ہوئیں؟ دو: ایک ہے مخاطب کا سامنا کرنا اس چیز کے علاوہ کے ساتھ جس کا وہ منتظر تھا، یہ پہلی قسم ہے۔ اور دوسری قسم کیا تھی کہ سوال کرنے والے کا سامنا کرنا اس چیز کے علاوہ کے ساتھ جس کو وہ طلب، یہ آگے آئے گی دوسری قسم۔ پہلی قسم بیان ہو رہی ہے کہ مخاطب کا سامنا کیا جائے اس چیز کے علاوہ کے ساتھ جس کا وہ منتظر تھا، اس میں کیا کیا جاتا ہے اس میں؟ اس میں مخاطب نے کوئی بات کی ہوتی ہے اور اس بات سے ایک معنی کا ارادہ کیا ہوتا ہے، متکلم اس کے کلام کو دوسرے معنی پر محمول کر لیتا ہے، گویا اس کو بتلانا یہ چاہتا ہے کہ تمہیں اس تم نے جو لفظ کہے اس کا فلاں معنی تمہیں نہیں مراد لینا چاہیے، یہ تمہاری شان کے لائق نہیں ہے، بلکہ جو معنی میں لے رہا ہوں تمہارے کلام کا یہ معنی تمہیں مراد لینا چاہیے، یہ معنی تمہیں مراد لینا چاہیے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ معنی ہے: فَالْأَوَّلُ يَكُونُ بِحَمْلِ الْكَلَامِ عَلَى خِلَافِ مُرَادِ قَائِلِهِ، پس پہلی قسم جو ہے وہ کلام کو محمول کرنا اس کے کہنے والے کی مراد کے خلاف کے ساتھ ہوگا، كَقَوْلِ الْقَبَعْثَرَى لِلْحَجَّاجِ، قبعثری، یاد رکھیے بھئی یہ ہمارے ہاں معروف یہی ہے، قبعثری کہتے ہیں، قبعثری، سمجھ میں آیا بھئی؟ قبعثری، لیکن یہ قبعثری نہیں، لفظ ہے قَبَعْثَرَى، قَبَعْثَرَى، یہ الف آخر میں جو یا لکھی گئی ہے، یہ الفِ مقصورہ ہے، کیا ہے؟ الفِ مقصورہ ہے، چنانچہ علمائے صرف نے اپنی کتابوں کے اندر تصریح کی ہے کہ قبعثریٰ کے آخر میں جو الف ہے وہ الفِ زائدہ ہے تکثیر کے لیے، یعنی الفِ تانیث نہیں ہے یہ بلکہ الفِ زائدہ ہے کثرت بتلانے کے لیے۔ كَقَوْلِ الْقَبَعْثَرَى لِلْحَجَّاجِ، جیسے کہ قبعثری کا قول حجاج سے۔ بھئی قبعثری یہ ایک ادیب شخص تھا اور بڑا سردار تھا اور بڑا ادیب آدمی تھا، تو یہ ایک دن بیٹھا ہوا تھا باغ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ اور پھلوں کا موسم، انگوروں کا باغ تھا اور انگور لگے ہوئے ہیں، وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ باتوں میں مصروف ہے کہ حجاج کا ذکر آیا بھئی، حجاج کا۔ اور حجاج آپ جانتے ہیں کہ ایک بڑا ہی ظالم شخص گزرا ہے، کہتے ہیں کہ روایات میں آتا ہے کہ اس نے بے شمار لوگوں کو قتل کیا، اور وہ لوگ جن کو اس نے ظلماً قتل کیا، کہتے ہیں ان کی تعداد کوئی سوا لاکھ ہے بھئی، سوا لاکھ۔ ذرا سی بات ہوتی کہتا تھا گردن اڑا دو اس کو، ختم کر دو۔ لیکن بہرحال یہ میرے خیال میں یہ حد سے زیادہ مبالغے پر مبنی ہے یہ بات، کہ سوا لاکھ تو سوا لاکھ تو ظلماً اس نے قتل کیے ہیں، اور اس کے علاوہ جو قتل کیے ہوں گے واقعی کسی وجہ کی بناء پر وہ الگ ہوں گے بھئی، اتنے تو اس زمانے میں تو اتنی بڑی بڑی بستیاں بھی نہیں تھیں، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ لیکن بہرحال اگر یہ ظالم بڑا تھا، اسلام کے لیے اس کی خدمات بھی بہت زیادہ ہیں بھئی۔ آپ یہ جو قرآن پڑھتے ہیں، کتنے آرام سے بھئی آپ عربی نہیں جانتے لیکن آپ کا چھ سات سال کا بچہ بھی بڑے اچھے طریقے سے قرآن پڑھتا ہے بلکہ قرآن کا حافظ ہوتا ہے، اس کو پتہ ہے قرآن میں کہاں زبر پڑھنی ہے، کہاں زیر پڑھنی ہے، کہاں پیش پڑھنی ہے، کیونکہ سارا زبر، زیر، پیش سامنے لکھی ہوتی ہے قرآن پر۔ یا یاد رکھیے یہ کلامِ عرب کے اندر یہ اعراب پہلے نہیں تھے، اس طرح اعراب کی کوئی علامت نہیں تھی، کیونکہ وہ عربوں کا اپنا کلام تھا، ان کو پتہ چلتا تھا کہ کہاں پیش پڑھنا ہے، کہاں زبر پڑھنا ہے، کہاں زیر۔ لیکن باقی عجم کے لیے ان کی زبان کو پڑھنا بڑا مشکل تھا، تو یہ جو قرآن پر اعراب لگے ہیں، یہ یاد رکھیے حجاج ابن یوسف نے لگوائے بھئی، حجاج نے۔ اس نے بڑے بڑے علماء کو مقرر کیا کہ جنہوں نے پھر اس کام کو سرانجام دیا اور ایسی علامتیں مقرر کیں کہ جس سے وہ پڑھنے والے کو خود ہی پتہ چل جاتا ہے کہ کہاں زیر پڑھنی ہے، کہاں پیش پڑھنی ہے بھئی۔ اسی طرح جو برصغیر کے اندر آپ کو اسلام نظر آ رہا ہے، یہ بھی یاد رکھیے حجاج ابن یوسف کی خدمات میں سے ایک خدمت ہے، اس کا سبب وہ بنا تھا۔ یہ محمد ابن قاسم جو آیا تھا، یاد رکھیے یہ حجاج ابن یوسف کا بھانجا یا بھتیجا تھا بھئی۔ یہاں ایک عورت نے خط لکھا تھا، اس کو لوٹ لیا تھا اور اس پر ظلم و ستم کیا تھا سندھ کے بادشاہ وغیرہ نے، تو اس نے حجاج ابن یوسف کو خط لکھا اور وہ خط ہوتے ہوتے حجاج ابن یوسف کو پہنچ گیا بھئی، اور اس نے کہا تھا ہماری مدد کو پہنچو، یہاں کے بادشاہ نے اس طرح ظلم کیا، ہمیں لوٹ لیا، سارا مال ہمارا۔ تو حجاج ابن یوسف، بھئی اس زمانے میں دینی غیرت زندہ تھی بھئی، ایک مسلمان کے لیے بھی پوری مملکت بے چین ہو جایا کرتی تھی۔ حجاج ابن یوسف نے پھر اپنے بھانجے یا بھتیجا جو تھا محمد ابن قاسم، اس کو بڑا لشکر دے کر بھیجا اور اس نے آ کر پھر اس بادشاہ کی سلطنت اور کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور اس سارے علاقے پر اسلامی پرچم لہرا دیا اور سب کو بتلا دیا کہ آئندہ بھی اگر کسی نے کسی عام مسلمان کی طرف بھی میلی نگاہ سے میلی نگاہ سے نظر کی، تو اس کا بھی یہی انجام ہوگا۔ تو دینی غیرت زندہ تھی بھئی، اور آج کل صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ اب خود ہمارے حکمران مسلمانوں کو پکڑ پکڑ کر یہودیوں اور عیسائیوں کے ہاتھ چند ڈالروں کے عوض فروخت کر رہے ہیں بھئی۔ دعا کرو اللہ تعالی ان سب کو جو اس طرح کے کام کر رہے ہیں اور اس میں ملوث ہیں، اللہ تعالی ان سب کو عبرت کا نشان بنا دے بھئی۔ کہ کفار بھی اس طرح نہیں کرتے، وہ بھی اپنی قوم والوں کا لحاظ رکھتے ہیں، اور یہ لوگ اپنے ہی لوگوں کو پکڑ پکڑ کر ان کے حوالے کر رہے ہیں بھئی۔ تو قبعثری بیٹھا ہوا تھا اپنے ساتھیوں کے ہمراہ، گفتگو کے دوران حجاج ابن یوسف کا ذکر آ گیا، تو قبعثری اپنے ساتھیوں کے سامنے کہنے لگا اس حجاج کے بارے میں: "اللهم سود وجهه واقطع عنقه واسقني من دمه"، اے اللہ! اس کا چہرہ سیاہ کر دے، "واقطع عنقه"، اے اللہ! اس کی گردن کاٹ دے، "واسقني من دمه" اور اے اللہ! مجھے اس کا خون پلا۔ حجاج کا ذکر آیا تو قبعثری کیا کہتا ہے؟ حجاج تھا تو بڑا ظالم آدمی، تو قبعثری کہنے لگا: اے اللہ! اس کا چہرہ سیاہ کر دے، اس کی گردن کاٹ دے اور مجھے اس کا خون پلا۔ اچھا یہ بات ہوتے ہوتے پھر حجاج تک پہنچ گئی کہ قبعثری نے اس کے بارے میں یوں کہا ہے، اور حجاج تو معمولی سی بات پر گردن اڑا دیا کرتا تھا، اس نے کہا اچھا اس کی اتنی جرات! چنانچہ اس نے پھر قبعثری سے پوچھا بھئی، بلوایا ہوگا پوچھا کہ تم نے میرے بارے میں اس طرح کی بات کہی ہے؟ اور تھا سردار آدمی، ورنہ حجاج تو دیر نہیں لگاتا تھا گردن اڑانے میں، لیکن سردار آدمی تھا تو فوراً اس طرح بھی قتل نہیں کر سکتا تھا، کیونکہ پوری قوم اس کی پشت پر ہوتی تھی بھئی۔ تو اسے کہا کہ میں نے سنا ہے تم نے میرے بارے میں اس طرح کی بات کہی ہے۔ تو کہنے لگا: ہاں میں نے یہ بات تو کی ہے لیکن میں نے آپ یہ تو اپ کو کس نے غلط خبر پہنچا دی ہے، میں نے آپ کا ارادہ کب کیا تھا؟ میں تو انگوروں کی بات کر رہا تھا: "اللهم سود وجهه"، اے اللہ! ان انگوروں کو کیا کر دے؟ کالا۔ بھئی کالے انگور دیکھے ہیں یا نہیں آپ نے؟ جی۔ تو "اللهم سود وجهه"، اے اللہ! اس کا چہرہ کالا کر دے، یعنی یہ جو انگور ہیں ان کو کیا کر دے؟ کالا کر دے، یعنی پک جائیں۔ اور آگے "واقطع عنقه"، اور اس کی گردن کاٹ ڈال، یعنی ان کو پھر شاخوں سے اتار لیا جائے، "واسقني من دمه" اور اے اللہ! مجھے اس کا خون پلا، یعنی ان کا رس پلا دے، میں تو انگوروں کی بات کر رہا تھا۔ تو حجاج کہتے ہیں: نہیں بھئی، ادھر ادھر کی باتیں نہ کرو، مجھے خبر ملی ہے تم نے میرے بارے ہی میں کہا تھا۔ اور پھر حجاج نے اس کو دھمکی دیتے ہوئے کہا: "لَأَحْمِلَنَّكَ عَلَى الْأَدْهَمِ"، "لَأَحْمِلَنَّكَ عَلَى الْأَدْهَمِ"۔ حَمَلَ يَحْمِلُ کے معنی سوار کرنا، ادہم کہتے ہیں بیڑی کو، بیڑی۔ بھئی وہ بیڑیاں جن میں قیدیوں کو جکڑا جاتا ہے، یعنی زنجیریں۔ تو حجاج کہنے لگا: "لَأَحْمِلَنَّكَ عَلَى الْأَدْهَمِ"، میں تجھے سوار کر دوں گا بیڑیوں پر، یہ محاورہ ہے کلامِ عرب میں، معنی یہ ہے میں تجھے بیڑیوں میں جکڑ دوں گا۔ "لَأَحْمِلَنَّكَ عَلَى الْأَدْهَمِ"، میں تجھے بیڑیوں میں جکڑ دوں گا۔ تو ادہم کا لفظ استعمال کیا اور ادہم بیڑیوں کو کہتے ہیں، لیکن اسی ادہم کا ایک معنی سیاہ گھوڑے کے بھی آتے ہیں، سیاہ گھوڑے۔ تو قبعثری کہنے لگا کہ آپ جیسے سخی بادشاہ جو ہوتے ہیں، وہ تو بڑے سخی لوگ ہوتے ہیں، وہ واقعی لوگوں کو کبھی سیاہ گھوڑے پر سوار کرتے ہیں اور کبھی سفید گھوڑے پر سوار کرتے ہیں، یعنی بادشاہ سخاوت کے طور پر، انعام کے طور پر دیتا۔ تو اس نے حجاج نے کون سا معنی مراد لیا تھا ادہم کا؟ بیڑی والا، اور قبعثری نے کون سا معنی مراد لے لیا؟ سیاہ گھوڑے والا، کہ یہ آپ کے زیادہ لائق ہیں بھئی۔ حجاج کو اور غصہ چڑھا کہ میں اس کو ایک تو پہلی بات میں وہ طریقے سے نکل گیا، اب میں نے اس کو دھمکی دی ہے تو اس کو بھی کس پر محمول کر رہا ہے؟ میں نے اس کو قید میں ڈالنے کی دھمکی دی ہے، یہ اس کو انعام دینے پر محمول کر رہا ہے۔ تو حجاج غصے سے کہنے لگا: "أَرَدْتُ الْحَدِيدَ"، حدید لوہے کو کہتے ہیں عربی زبان میں۔ "أَرَدْتُ الْحَدِيدَ"، میں نے لوہے کا ارادہ کیا ہے، میری مراد لوہا ہے لوہا، گھوڑا نہیں مراد جو تم مراد لے رہے ہو۔ اب حدید لوہے کو کہتے ہیں لیکن اسی حدید کا ایک معنی ہے تیز، حدید کا کیا معنی ہے؟ تیز۔ تو قبعثری کہنے لگا: ہاں حضور، تیز ہی ہونا چاہیے گھوڑے کو، سست نہیں ہونا چاہیے۔ اب حجاج کو اور زیادہ غصہ چڑھا کہ بھئی میں اس کو دھمکی دے رہا ہوں، یہ مسلسل اس کو انعام کی طرف ہی ہر بات کو لے جاتا ہے، تو حجاج نے کہا اپنے سپاہیوں کو کہا: پکڑو اس کو بھئی، سارے اٹھاؤ اس کو لے کر چلو۔ اب ساروں نے سپاہی جو تھے انہوں نے پکڑ لیا، کسی نے بازو سے پکڑا، کسی نے ٹانگوں سے پکڑا، سروں پر اونچا کر لیا۔ جب سروں پر اٹھا کر چلنے لگے تو وہ قبعثری کہنے لگا: "سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ"، وہ سواری کی دعا اس نے پڑھ لی جیسے یہ سواری اللہ نے دی۔ اب تو حجاج کو اور زیادہ غصہ آیا، تو کہنے لگا بھئی اس کو اٹھا کر زور سے نیچے مارو، یہ سواری کی دعا پڑھ رہا ہے! تو انہوں نے اٹھا کر اس کو نیچے مارا زمین پر۔ جب نیچے گرا تو کہتا ہے: "مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى"۔ پھر بہرحال حجاج بڑا اس کی ذہانت اور اس کی حاضر جوابی پر بڑا اس سے بڑا متاثر ہوا اور اس کو معاف کر دیا اور بڑا انعام وغیرہ اس کو دیا بھئی۔ تو یہ وہ واقعہ، دیکھو دوسرے کے کلام کو کیا کر رہا ہے؟ دوسرے معنی پر محمول کر رہا ہے کہ یہ معنی زیادہ لائق ہیں جو میں مراد لے رہا ہوں، وہ معنی مناسب نہیں آپ کے، آپ کو بیڑیوں میں جکڑنے کی دھمکی نہیں دینی چاہیے بلکہ آپ جیسے امیر کو تو انعام دینے کی بات کرنی چاہیے بھئی۔ كَقَوْلِ الْقَبَعْثَرَى لِلْحَجَّاجِ، جیسے کہ قبعثری کا قول حجاج سے، وَقَدْ تَوَعَّدَهُ، توعد کا معنی ہوتا ہے دھمکی دینا، وَقَدْ تَوَعَّدَهُ بِقَوْلِهِ، اور حال یہ کہ تحقیق دھمکی دی تھی اس کو حجاج نے اپنے اس قول کے ساتھ: "لَأَحْمِلَنَّكَ عَلَى الْأَدْهَمِ"، کہ البتہ میں تجھے سوار کر دوں گا بیڑیوں پر، یعنی بیڑیوں میں جکڑ دوں گا۔ تو آگے "مِثْلُ الْأَمِيرِ"، یہ ہے قولِ قبعثری، جو پیچھے آیا نا "كَقَوْلِ الْقَبَعْثَرَى لِلْحَجَّاجِ"، تو یہ اس نے دیکھو اس کے کہنے والے کی مراد کے خلاف پر اس کے کلام کو محمول کیا ہے۔ تو قبعثری کہنے لگا: "مِثْلُ الْأَمِيرِ يَحْمِلُ عَلَى الْأَدْهَمِ وَالْأَشْهَبِ"، کہ امیر جیسے لوگ جو ہیں وہ سوار کرتے ہیں سیاہ گھوڑے پر اور سفید گھوڑے پر۔ اشہب کہتے ہیں سیاہی مائل سفید، سیاہی مائل سفید، یعنی سفید گھوڑا ہے لیکن کچھ بالوں میں کچھ سیاہی بھی ہے ہلکی سی۔ کہ آپ جیسے امیر جو ہیں وہ سیاہ اور سفید گھوڑے پر ہی سوار کرتے ہیں۔ فَقَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ، تو حجاج نے اس سے کہا: "أَرَدْتُ الْحَدِيدَ"، میں نے لوہے کا ارادہ کیا ہے۔ فَقَالَ الْقَبَعْثَرَى، تو قبعثری کہنے لگا: "لَأَنْ يَكُونَ حَدِيدًا خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَكُونَ بَلِيدًا"، کہ گھوڑے کا تیز ہونا بہتر ہے اس بات کے مقابلے میں کہ وہ بلید ہو، یعنی سست ہو۔ بلید کا کیا معنی؟ سست۔ اراد، اب تشریح کر رہے ہیں بس بھئی۔ أَرَادَ الْحَجَّاجُ بِالْأَدْهَمِ الْقَيْدَ، ارادہ کیا تھا حجاج نے ادہم سے قید کا، بیڑی کا، وَبِالْحَدِيدِ الْمَعْدِنَ الْمَخْصُوصَ، اور حدید کے ساتھ ارادہ کیا تھا حجاج نے مخصوص دھات کا، یعنی لوہے کا۔ مخصوص دھات یعنی لوہے کا ارادہ کیا تھا حدید سے حجاج نے، وَحَمَلَهُمَا الْقَبَعْثَرَى عَلَى الْفَرَسِ الْأَدْهَمِ، اور اس کو ان دونوں کو محمول کیا قبعثری نے عَلَى الْفَرَسِ الْأَدْهَمِ، اس سیاہ گھوڑے پر، الَّذِي لَيْسَ بَلِيدًا، جو سست نہ ہو۔ یہ تو پہلی قسم تھی کہ اسلوب الحکیم کی کہ مخاطب کا سامنا کرنا علاوہ اس چیز کے ساتھ جس کا وہ انتظار کر رہا تھا۔ دوسرا دوسری قسم کیا تھی اسلوب الحکیم کی؟ کہ سوال کو دوسرے سوال کے درجے میں اتار لینا اور اس کا جواب دینے جواب دینا۔ وَالثَّانِي يَكُونُ بِتَنْزِيلِ السُّؤَالِ مَنْزِلَةَ سُؤَالٍ آخَرَ، اور دوسری قسم جو ہے وہ اس سوال کو اتارنا دوسرے سوال کے درجے میں، ایسا دوسرا سوال: مُنَاسِبٍ لِحَالَةِ السَّائِلِ، جو اس پوچھنے والے کی حالت کے مناسب ہو۔ یعنی اس نے ایک سوال کیا تھا، اس سوال کو ایسے دوسرے سوال کے درجے میں اتار لینا مُنَاسِبٍ لِحَالَةِ السَّائِلِ جو پوچھنے والے کی حالت کے مناسب ہو، كَمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہے: "يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ"، یہ صحابہ آپ سے پوچھتے ہیں اے پیغمبر، "عَنِ الْأَهِلَّةِ"، اہلہ جمع ہے ہلال کی، چاند کو کہتے ہیں، کہ ہلال کے بارے میں، چاند کے بارے میں پوچھتے ہیں، "قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ"، مواقیت مقررہ اوقات، آپ کہہ دیجیے یہ جو ہیں مقررہ اوقات ہیں للناس لوگوں کے لیے والحج اور حج کے لیے۔ سال، اب دیکھیے تشریح کر رہے ہیں۔ سَأَلَ بَعْضُ الصَّحَابَةِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، پوچھا بعض صحابہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے: مَا بَالُ الْهِلَالِ؟ بال کہتے ہیں شان، شان اور حالت۔ تو "مَا بَالُ الْهِلَالِ"، ہلال کی کیا شان ہے یعنی کیا حالت ہے، يَبْدُو دَقِيقًا، بدا يبدو کے معنی ظاہر ہونا، یہ ظاہر ہوتا ہے باریک، اس حال میں کہ یہ باریک ہوتا ہے، ثُمَّ يَتَزَايَدُ، پھر یہ بڑھتا رہتا ہے، حَتَّى يَصِيرَ بَدْرًا، یہاں تک کہ یہ بدر بن جاتا ہے، کیا بن جاتا ہے؟ بدر بن جاتا ہے۔ یاد رکھیے چاند پہلے تین دن باریک سا ہوتا ہے، اس کو عربی میں کہتے ہیں ہلال۔ اور اس کے بعد تین دن کے بعد چاند قمر کہلاتا ہے، قمر۔ اور پھر چودھویں رات کو جب پورا ہو جائے تو یہ بدر کہلاتا ہے، چودھویں رات کا چاند بدر۔ تو وہ کہنے لگے کہ یہ پھر یہ بڑھتا رہتا ہے حَتَّى يَصِيرَ بَدْرًا یہاں تک کہ یہ بدر بن جاتا ہے یعنی پورا ہو جاتا ہے، ثُمَّ يَتَنَاقَصُ، پھر یہ کم ہونے لگتا ہے، حَتَّى يَعُودَ كَمَا بَدَأَ، یہاں تک کہ یہ لوٹ آتا ہے جیسے کہ یہ شروع ہوا تھا، یعنی جیسے تھا چھوٹا سا اسی طرح باریک سا ہو جاتا ہے۔ فَجَاءَ الْجَوَابُ عَنِ الْحِكْمَةِ الْمُتَرَتِّبَةِ عَلَى ذَلِكَ، تو انہوں نے یہ سوال کیا تھا اور تو جواب آیا، فَجَاءَ الْجَوَابُ، تو جواب آیا عَنِ الْحِكْمَةِ الْمُتَرَتِّبَةِ عَلَى ذَلِكَ، اس فائدے کے بارے میں جو مرتب ہو رہی تھی مرتب ہو رہا تھا اس پر۔ تو جواب میں وہ حکمت آئی جو اس پر مرتب ہو رہی تھی، چاند کے چھوٹا بڑا ہونے پر جو حکمت تھی جو اس میں فائدہ تھا اس کے ساتھ جواب دیا گیا، لِأَنَّهَا أَهَمُّ لِلسَّائِلِ، اس لیے کیونکہ وہ زیادہ اہم تھا پوچھنے والے کے لیے، وہ ان کے حال کے زیادہ مناسب تھا، فَنُزِّلَ سُؤَالُهُمْ عَنْ سَبَبِ الِاخْتِلَافِ، تو ان کا سوال جو تھا سببِ اختلاف کے بارے میں اس کو اتار لیا گیا، مَنْزِلَةَ السُّؤَالِ عَنْ حِكْمَتِهِ، اس کی حکمت کے کے بارے میں سوال کے درجے میں۔ انہوں نے سوال کس کے بارے میں کیا تھا؟ سببِ اختلاف کے بارے میں، توجہ ہے عبارت پر؟ انہوں نے سوال کیا تھا سببِ اختلاف کے بارے میں، آگے آ رہا ہے "حكمته أي حكمة الاختلاف"، تو انہوں نے سوال کیا تھا سببِ اختلاف کے بارے میں اور اس سوال کو حکمتِ اختلاف کے سوال کے درجے میں اتار لیا گیا، کہ گویا کس کے بارے میں سوال کر رہے ہیں؟ اختلاف کی حکمت کے بارے میں کہ اس اختلاف میں فائدے کیا ہیں، اس کے نفع کیا ہیں۔ وَمِنْهَا التَّغْلِيبُ، اور کلام کو مقتضائے ظاہر کے خلاف لانا اس کی اقسام میں سے ایک قسم تغلیب ہے، وَهُوَ: تَرْجِيحُ أَحَدِ الشَّيْئَيْنِ عَلَى الْآخَرِ، اور وہ ترجیح دینا ہے دو چیزوں میں سے ایک کو علی الآخر دوسرے پر، فِي إِطْلَاقِ لَفْظِهِ عَلَيْهِ، اس ایک چیز پر دوسری چیز کے لفظ کے اطلاق کرتے ہوئے۔ بھئی تغلیب اس کو کہتے ہیں کہ دو چیزیں ہیں، دو چیزیں ہیں، تو دو چیزیں ہیں تو ایک کے لیے ایک لفظ، ایک پر بولتے ہیں، دوسرا لفظ دوسری پر بولتے ہیں، لیکن یوں کر لیا جاتا ہے کبھی کبھار کلام میں کہ دونوں پر ایک ہی لفظ بول دیا جاتا ہے۔ مثلاً بھئی یہ پہلی چیز ہے، یہ دوسری چیز ہے، پہلی چیز کے لیے ایک لفظ وضع، دوسری چیز کے لیے دوسرا لفظ ہے، اس کو یہ کہتے ہیں، دوسری چیز کو کچھ اور کہتے ہیں۔ لیکن کیا کر لیا جاتا ہے؟ ان میں سے ایک چیز کا جو لفظ ہے اسی کو دوسری کے لیے بھی استعمال کر لیا گیا، حالانکہ وہ تو اس کے لیے استعمال نہیں، جیسے بھئی اردو میں کہتے ہیں "والدین"، کیا کہتے ہیں؟ والدین۔ والدین سے کون مراد ہیں؟ ماں باپ، حالانکہ والدین یہ تو والد کی تثنیہ ہے۔ کس کی تثنیہ ہے؟ والد، اور دوسری تو والدہ ہے، لیکن اس پر بھی کیا لفظ بول دیا گیا؟ والد۔ ایک والد خود اور والدہ پر بھی کیا لفظ بول دیا گیا؟ والد۔ تو دو والد ہوئے، تو کیا کہیں گے؟ والدین۔ دیکھا دوسری پر ایک کو غلبہ دے دیا گیا، یہ ہے تغلیب، ایک چیز کو دوسری پر غالب کر دینا، اس پر غلبہ دے دینا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں، دوبارہ ترجمہ دیکھیے: وَمِنْهَا التَّغْلِيبُ، اور اس میں سے ایک تغلیب ہے، وَهُوَ: تَرْجِيحُ أَحَدِ الشَّيْئَيْنِ عَلَى الْآخَرِ، وہ ترجیح دینا ہے دو چیزوں میں سے ایک کو دوسری پر، کس چیز میں ترجیح دینا؟ فِي إِطْلَاقِ لَفْظِهِ عَلَيْهِ، اس ایک پر دوسری چیز کے لفظ کے اطلاق میں، کہ ایک پر ہی دوسری چیز کے لفظ کا بھی اطلاق۔ بھئی دیکھیے، والدین، ایک والد، ایک ہے والدہ، لیکن دونوں پر کیا لفظ بول دیا گیا؟ والدین، گویا آپ نے والد کو ترجیح دے دی کس پر؟ والدہ، یعنی اس لفظ کو ترجیح دے دی دوسرے لفظ پر ترجیح دے دی۔ یہ معنی ہے: فِي إِطْلَاقِ لَفْظِهِ عَلَيْهِ، اس ایک چیز کے لفظ کو دوسری پر اطلاق کرنے میں، اس کے لیے استعمال کرنے میں، كَتَغْلِيبِ الْمُذَكَّرِ عَلَى الْمُؤَنَّثِ، جیسے کہ مذکر کو کی تغلیب ہے، مذکر کو غلبہ دیا گیا ہے عَلَى الْمُؤَنَّثِ مونث پر، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى اللہ تعالی کے اس قول میں: "وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ"۔ حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر ہو رہا ہے: "وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ"، وہ کس میں سے تھیں؟ فرمانبرداروں میں سے تھیں، وہ مریم کس میں سے تھیں؟ فرمانبرداروں میں سے تھیں۔ قنوت، قنوت کہتے ہیں فرمانبرداری کو، فرمانبرداری کو۔ اب دیکھیے بھئی، یہاں آیا "كَانَتْ"، کس کی بات چل رہی ہے؟ ضمیر کون سی ہے؟ مونث کی، "كانت"، تو اس کے اور "الْقَانِتِينَ"، یہ تو مذکر کا صیغہ ہے، تو ہونا چاہیے تھا: "وكانت من القانتات"، وہ فرمانبردار عورتوں میں سے ایک فرمانبردار عورت ہیں، وہ فرمانبردار عورتوں میں سے تھیں، لیکن کیا استعمال کیا گیا؟ "الْقَانِتِينَ"، اور "الْقَانِتِينَ" یہ تو مذکر کے لیے استعمال ہوتا ہے، تو گویا مذکر کو غلبہ دے دیا گیا کس پر؟ مونث پر، اور مونث کے لیے بھی وہی لفظ استعمال کر لیا گیا جو کس کے لیے استعمال ہوتا ہے؟ مذکر کے۔ بات بھی سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں بھئی؟ ہونا کیا چاہیے تھا؟ "وكانت من القانتات"، مونث کا صیغہ ہونا چاہیے تھا، لیکن مذکر کا صیغہ استعمال کیا گیا، معلوم ہوا مذکر کو غلبہ دے دیا گیا کس پر؟ مونث پر، اور مونث کے لیے وہی لفظ استعمال کر لیا گیا جو کس کے لیے استعمال ہوتا ہے؟ مذکر کے لیے۔ تو اس میں اس نقطے کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت مریم کی فرمانبرداری کسی طرح بھی فرمانبردار مردوں سے کم نہیں تھی بھئی۔ جی، وَمِنْهُ الْأَبَوَانِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ، اور اسی طرح ابوان کا لفظ ہے لِلْأَبِ وَالْأُمِّ، باپ اور ماں کے لیے۔ بھئی دیکھیے، ایک ہے اب یعنی باپ، اور ایک ہے ام یعنی ماں، تو ان دونوں پر عربی میں "أبوان" کا لفظ بول دیتے ہیں۔ معلوم ہوا کس لفظ کو ترجیح دے دی گئی دوسرے پر؟ مذکر کو ترجیح دے دی گئی مونث پر۔ تو گویا ایک ہے تھا اب، دوسری ہے تو ام، لیکن اس پر بھی کیا لفظ بول دیا گیا؟ اب کا لفظ، تو دو اب ہوئے، تو تثنیہ بنا لی، کیا بن گیا؟ أبوان۔ وَمِنْهُ الْأَبَوَانِ، اور تغلیب میں سے ہی ابوان کا لفظ بھی ہے لِلْأَبِ وَالْأُمِّ باپ اور ماں کے لیے، وَكَتَغْلِيبِ الْمُذَكَّرِ اور جیسے کہ مذکر کو غلبہ دینا، وَالْأَخَفِّ اور جو زیادہ ہلکا ہے، جو زیادہ ہلکا ہے یعنی خفیف ہے بولنے میں، بولنے میں آسان ہے اس کو غلبہ دینا، عَلَى غَيْرِهِمَا ان دونوں کے علاوہ پر، نَحْوُ: الْقَمَرَيْنِ۔ بھئی عربی زبان میں سورج اور چاند پر قمرین کا لفظ بولتے ہیں۔ کیا لفظ بولتے ہیں؟ جیسے اردو میں والدین ماں باپ پر بولتے ہیں، عربی میں سورج اور چاند دونوں کے لیے اکٹھا ہی ذکر کر دیتے ہیں اور کیا کہتے ہیں؟ قمرین۔ اب دیکھیے، قمر تو چاند کو کہتے ہیں، سورج کو تو شمس کہتے ہیں، لیکن قمر کو غلبہ دے دیا گیا اور سورج پر بھی کیا لفظ بول دیا گیا؟ قمر، تو دو قمر ہو گئے تو کیا کہہ دیا؟ قمرین۔ بھئی غلبہ کیوں دیا؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ قمر یہ لفظ عربی میں مذکر استعمال ہوتا ہے اور شمس کا لفظ عربی میں مونث استعمال ہوتا ہے، تو مذکر کو مونث پر غلبہ دے دیا گیا اور شمس پر بھی کیا لفظ بول دیا گیا؟ مذکر والا یعنی قمر ہی، تو کیا کہہ دیتے ہیں؟ قمرین۔ یہ معنی ہے: نَحْوُ: الْقَمَرَيْنِ أَيِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، یعنی سورج اور چاند، وَالْعُمَرَيْنِ أَيْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہما دونوں پر لفظ اکٹھا بول دیتے ہیں اور کہتے ہیں: عمرین، کیا کہتے ہیں؟ عمرین۔ بھئی یہاں پر ایک لفظ ہے ابوبکر، ایک لفظ ہے عمر، لیکن کس کو غلبہ دیا گیا؟ عمر کو۔ کیوں غلبہ دیا گیا؟ کیونکہ عمر کا لفظ ہلکا ہے، عمر، ع، م، ر، صرف تین حروف ہیں، اور ابوبکر اس میں زیادہ حروف ہیں، تو کم حروف والا لفظ ہلکا ہوتا ہے، زبان پر آسانی سے جلدی سے ادا ہو جاتا ہے، تو اس وجہ سے عمر کے لفظ کا دونوں پر اطلاق کر دیتے ہیں اور کیا کہتے ہیں؟ عمرین۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لیکن پھر ان میں فرق ہے، یاد رکھیے: "وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ"، وہ اور قسم کی تغلیب ہے، یہ ابوان اور قمرین اور عمرین یہ اور قسم کی تغلیب ہے۔ کس طرح؟ بھئی وہاں پر، وہاں پر غلبہ صرف صیغے کے اعتبار سے ہے، یہاں پر غلبہ مادے کے اعتبار سے ہے۔ اس میں غلبہ کس اعتبار سے؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ صرف صیغے کے اعتبار سے، کس طرح؟ اس لیے کہ قنوت کا معنی ہے فرمانبرداری کرنا، اور یہ صفت مردوں میں بھی ہوتی ہے اور عورتوں میں بھی ہوتی ہے، تو یہ صفت ہوتی دونوں میں ہے، صرف صیغے الگ الگ ہیں: مذکر کے لیے "قانتين" کا صیغہ ہے تو مذکر تو مونث کے لیے "قانتات" کا صیغہ ہے، صرف صیغے الگ الگ تھے، باقی قنوت یعنی فرمانبرداری تو دونوں میں پائی جا رہی تھی، تو صرف ایک کے صیغے کو دوسرے کے لیے استعمال کر لیا گیا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ جبکہ باقی مثالوں میں ایک کے مادے کو دوسرے کے لیے استعمال کر لیا گیا، جیسے ماں باپ کے لیے کیا لفظ تھا عربی میں؟ ابوین، اب "اب" یہ تو باپ کو کہتے ہیں، ماں کے لیے "اب" کا لفظ یہ مادہ استعمال ہی نہیں ہوتا، اس کے لیے تو "ام" کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ تو دیکھو وہاں قنوت والی صفت دونوں میں تھی، لیکن یہاں اب والی صفت دونوں میں ہے؟ نہیں، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہاں مادہ ہی الگ الگ ہے، وہاں مادہ تو دونوں میں قنوت دونوں میں تھا، فرمانبرداری دونوں میں تھی، صرف صیغے کا اختلاف تھا، ایک کے لیے قانتون کہتے ہیں، ایک کے لیے قانتات کہتے ہیں، تو وہاں صیغے کو غلبہ دیا گیا، اور یہاں پر مادے ہی کو غلبہ دے دیا گیا، اب، اب کا مادہ تو صرف باپ کے لیے استعمال ہوتا ہے، ماں کے لیے تو اب کا مادہ استعمال ہی نہیں، تو مادے ہی کو غلبہ دے دیا گیا اور اس کے لیے بھی وہی لفظ استعمال کر لیا گیا۔ آگے دیکھیے: وَالْمُخَاطَبِ عَلَى غَيْرِهِ، غلبے کی دینے کی تغلیب کی مثالیں چل رہی ہیں، وَالْمُخَاطَبِ عَلَى غَيْرِهِ اور مخاطب کو غیرِ مخاطب پر غلبہ دینے کی مثال، نَحْوُ: "لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا"۔ حضرت شعیب علیہ السلام اپنی قوم کو دعوت دیتے رہتے تھے، تو قوم والے اب حضرت شعیب کچھ لوگ تو ایمان لے آئے لیکن باقی حضرت شعیب علیہ السلام کو دھمکیاں دینے لگے اور کہنے لگے: "لَنُخْرِجَنَّكَ" کہ ہم البتہ آپ کو ضرور نکال دیں گے، "يَا شُعَيْبُ" اے شعیب، "وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ" اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں آپ کے ساتھ ان کو، "مِنْ قَرْيَتِنَا" کہاں سے؟ اپنی بستی سے، ہم ان کو تو ان کو اور تمہیں آپ کو اور انہیں نکال دیں گے اپنی بستی سے، "أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا" مگر یہ کہ آپ لوٹ آئیں ہمارے دین میں، ملت کہتے ہیں دین کو، ملت کا کیا معنی؟ دین۔ مگر یہ کہ آپ لوٹ آئیں ہمارے دین میں۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ بھئی دیکھیے، جو دوسرے اہل ایمان تھے وہ تو اس بستی والوں کے دین پر پہلے تھے، وہ بھی پہلے مسلمان نہیں تھے، لیکن پھر وہ حضرت شعیب علیہ السلام کے دین پر آ گئے، اسلام پر آ گئے، اور پھر اب بستی والے کیا کہہ رہے ہیں؟ لوٹ آئیں، تو لوٹنا کسے کہتے ہیں کہ ایک راستے سے انسان نئے راستے پر گیا ہو اور پھر واپس پرانے راستے کی طرف آئے تو اسے کیا کہتے ہیں؟ لوٹنا۔ تو وہ آئیں تو اس کو تو لوٹنا کہیں گے، جب باقی اہل ایمان لوٹ کر ائیں گے، اس کو تو کہیں گے یہ لوٹ آئے ہیں، لیکن حضرت شعیب علیہ السلام تو کبھی ان کے دین پر تھے ہی نہیں، تو ان کے لیے لوٹنے کا لفظ ان پر بھی بول دیا گیا: "أَوْ لَتَعُودُنَّ"، مگر یہ کہ آپ لوٹ آئیں، جمع کا صیغہ استعمال کیا، یعنی ان کے ساتھ ساتھ حضرت شعیب کو بھی شامل کیا، اور حضرت شعیب علیہ السلام یہ ان کے لیے تو لوٹنے کا لفظ استعمال کرنا صحیح نہیں، ان کے لیے جو غائب ہیں ان کے لیے تو استعمال کیا جا سکتا ہے وہ جو دوسرے ایمان لے آئے ہیں، کہ وہ کہ ہم نکال دیں گے بستی سے مگر یہ کہ وہ واپس لوٹ آئیں، تو ان کے لیے لوٹنے کا لفظ استعمال ہو سکتا ہے۔ حضرت شعیب علیہ السلام کے لیے تو لوٹنے کا لفظ استعمال کیونکہ پیغمبر ہمیشہ نبوت کے بعد تو ہے ہی، نبوت سے پہلے بھی وہ شرک سے معصوم اور محفوظ ہوتا ہے، بلکہ بلکہ ہر قسم کے گناہ سے معصوم اور محفوظ ہوتا ہے۔ نبوت ملنے کے بعد تو ہوتا ہی معصوم اور محفوظ ہے، نبوت ملنے سے پہلے بھی پیغمبر ہر قسم کے گناہ سے اس کی حفاظت کی جاتی ہے۔ تو حضرت شعیب علیہ السلام تو کے لیے تو لوٹنے کا لفظ استعمال ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ وہ ان کے راستے پر تھے ہی نہیں، تھے ہی نہیں۔ تو کہنا کیا چاہیے تھا؟ مگر یہ کہ وہ لوٹ آئیں ہمارے دین پر، "ليعودن في ملتنا"، مگر یہ کہ وہ لوٹ آئیں، لیکن خطاب کس سے ہو رہا ہے؟ حضرت شعیب سے، تو مخاطب کو غلبہ دے دیا گیا ان پر بھی، اور سب کو ملا کر کہہ دیا گیا: "أَوْ لَتَعُودُنَّ"، مگر یہ کہ تم سب کیا ہو؟ لوٹ آؤ ہمارے دین کے اندر۔ اور یہاں پر حضرت شعیب علیہ السلام کو بطورِ غلبے کے داخل کیا گیا، کس کے اندر؟ "لَتَعُودُنَّ" میں، کیونکہ حضرت شعیب علیہ السلام تو ان کے دین پر کبھی تھے ہی نہیں۔ تو حضرت شعیب علیہ السلام ان کے دین پر کبھی تھے ہی نہیں لیکن پھر بھی ان کو "لَتَعُودُنَّ" کے اندر جو ہے وہ بطورِ غلبے کے داخل کر دیا گیا بھئی، بطورِ غلبے کے داخل کر دیا گیا۔ "لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا"، البتہ ہم ضرور نکال دیں گے اے شعیب آپ کو اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں آپ کے ساتھ من قريتنا اپنی بستی سے، أو لتعودن في ملتنا مگر یہ کہ آپ لوٹ ائیں ہمارے دین میں۔ أُدْخِلَ شُعَيْبٌ بِحُكْمِ التَّغْلِيبِ فِي "لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا"، داخل کیا گیا حضرت شعیب علیہ السلام کو تغلیب کے حکم سے کس چیز میں؟ "لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا" میں، مَعَ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ فِيهَا قَطُّ، باوجود اس کے کہ وہ کبھی بھی لم یکن فیها، مگر یہ کہ وہ نہیں تھے اس ملت میں، اس دین میں، قط کبھی بھی، حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهَا، یہاں تک کہ وہ اس کی طرف لوٹ آتے۔ وہ تو اس دین پر کبھی تھے ہی نہیں کہ لوٹ کر دوبارہ اس کی طرف آتے، تو یہاں "لَتَعُودُنَّ" کے اندر حضرت شعیب علیہ السلام کو جو داخل کیا گیا وہ کس طریقے پر ہے؟ تغلیب کے طریقے پر ہے۔ وَكَتَغْلِيبِ الْعَاقِلِ عَلَى غَيْرِهِ، اور جیسے کہ عاقل کو غلبہ دینا غیرِ عاقل پر، كَقَوْلِهِ تَعَالَى، جیسے کہ اللہ تعالی کا قول ہے: "الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ"۔ "الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ"، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ اب یہاں پر بھی تغلیب ہے بھئی، اور عاقل کو تغلیب دی گئی غیرِ عاقل پر، کس طرح؟ کہتے ہیں دیکھیے جو عالم کا لفظ ہے، عالم، یہ اسمِ آلہ کا صیغہ ہے، "أي ما يعلم به"، جس کے ذریعے جانا جائے۔ جاننے کا آلہ، عالم کا کیا معنی؟ جاننے کا آلہ، یعنی جس چیز کے ذریعے علم ہوتا ہے، جانا جاتا ہے۔ تو یہ تمام جہاں، یہ جتنی چیزیں ہیں ان کے ذریعے چونکہ اللہ کی ذات کو جانا جاتا ہے، یہ ساری چیزیں اللہ کی ذات پر دلیل ہیں، یہ ساری چیزیں بتلاتی ہیں کہ کوئی ان کا بنانے والا ہے۔ تو یہ کیا ہیں؟ جاننے کا آلہ ہیں، اس کے ذریعے کس کو جانا جاتا ہے؟ اللہ کی ذات کو جانا جاتا ہے کہ کوئی خالق ہے، کوئی معبود ہے حقیقی بھئی۔ تو اب اس میں عاقل بھی ہیں، یہ ساری چیزیں ان میں ذوی العقول بھی ہیں اور غیر ذوی العقول، لیکن یہاں پر ذوی العقول کو غلبہ دے دیا گیا اور و، ن کے ساتھ "عالمین"، و، ن کے ساتھ جمع لائی گئی، یا، ن کے ساتھ۔ بھئی مسلمون، مسلمین، آپ نے پڑھی ہے، یہ جمع کس کے لیے استعمال ہوتی ہے؟ ذوی العقول کے لیے، مذکر کے لیے استعمال ہوتی ہے، غیر ذوی العقول کے لیے یہ و، ن کے ساتھ جمع استعمال نہیں ہوتی۔ تو یہاں پر بھی عالم وہ چیزیں جن کے ذریعے اللہ کو جانا جاتا ہے، اس میں کچھ ذوی العقول تھے، کچھ غیر ذوی العقول، ساری مخلوقات اس کے اندر داخل تھیں، لیکن کس کو غلبہ دے دیا گیا؟ ذوی العقول کو غلبہ دے دیا گیا، اور وہ صیغہ جو ذوی العقول کے لیے استعمال ہوتا تھا، وہ کس کے لیے استعمال کر لیا گیا؟ غیر ذوی العقول کے لیے بھی استعمال کر لیا گیا، اور سب مراد لے لیے بھئی اس سے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو عالمین میں سب داخل، ذوی العقول بھی اور غیر ذوی العقول بھی، اور غیر ذوی العقول کے لیے تو و، ن یا یا، ن کے ساتھ جمع والا صیغہ استعمال، لیکن یہاں سب کے لیے وہی استعمال کر لیا گیا، معلوم ہوا کس کو غلبہ دیا گیا؟ ذوی العقول کو غلبہ دے کر وہی صیغہ سب کے لیے استعمال کر لیا گیا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: وَكَتَغْلِيبِ الْعَاقِلِ عَلَى غَيْرِهِ، اور جیسے کہ عاقل کو غلبہ دینا عَلَى غَيْرِهِ أَيْ غَيْرِ الْعَاقِلِ، غیرِ عاقل پر، كَقَوْلِهِ تَعَالَى، جیسے کہ اللہ کا قول ہے: "الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ"۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔