کل آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ کسی نے اگر خریدی ہوئی چیز آگے بیچی اور پھر وہ چیز اس کو واپس کی گئی قذ عیب کی وجہ سے اور قضا فیصلے کے ذریعے بھئی اور یہ فیصلہ اقرار کی وجہ سے ہوا تھا یا بینہ کی وجہ سے ہوا تھا یا قسم سے انکار کی قسم سے انکار کی وجہ سے ہوا تھا، تو اس صورت میں یہ مشتری جو ہے یہ جو بائے ثانی جو ہے یا جو مشتری اول جو ہے بھئی بائے ثانی اور مشتری اول یہ وہ ایک ہی شخص ہے درمیان میں جو ہے بھئی۔
تو یہ کیا کر سکتا ہے اس چیز کو بائے اول کو واپس لوٹا سکتا ہے اور اگر اس نے وہ چیز اپنی رضامندی سے لی تھی واپس تو پھر اس صورت میں واپس نہیں کر سکتا۔
صورت سمجھ میں آ گئی تھی کل میں نے ذکر کی تھی بھئی۔ صورت مسئلہ یہ تھی کہ آپ نے ایک شخص سے ایک چیز خریدی ہے اور وہ چیز پھر آپ نے آگے فروخت کر دی اب اس چیز کے اندر مشتری ثانی نے عیب کا دعوی کیا وہ چیز آپ کو واپس کرتا ہے تو یا تو آپ اقرار کر لیں گے آرام سے بھئی کہ ہاں واقعی میں نے عیب دار چیز آپ کو بیچی ہے تو پھر یہ چاہے اقرار قاضی کے سامنے ہو یا قاضی کے سامنے نہ ہو، دونوں صورتوں میں آپ اس چیز کو واپس لے لیتے ہیں تو یہ مرضی سے واپس لینا ہوا اور مرضی سے واپس لینا یہ کیا شمار ہوتا ہے؟ جی ان کے لیے تو فسخ ہے لیکن باقیوں کے لیے یہ کیا شمار ہوگا؟ بیع جدید۔
کسی بھی تیسرے شخص کے لیے یہ بیع جدید ہوئی ہے تو لہذا اب اس صورت کے اندر یہ بائے اول کو چیز واپس کرنے کا حق آپ کو نہیں ہے بھئی اس لیے کہ اب تو دو بیع آ گئیں ایک بیع بھی آ جائے تو نہ چیز واپس ہو سکتی ہے اور نہ رجوع بن نقصان ہو سکتا ہے۔
لیکن اگر یہ چیز آپ کو واپس کی ہوئی ہے قاضی کے فیصلے کی وجہ سے اور قاضی کو تو ولایت عامہ حاصل ہے تو اس نے جو بیع فسخ کی یہ سب کے لیے کیا شمار ہوگا کہ بیع فسخ گویا کہ آگے بیع ہوئی ہی نہیں جب ہوئی ہی نہیں تو آپ کو کیا حق حاصل ہے کہ چیز میں عیب ہے بائے اول کو وہ چیز واپس کر سکتے ہیں بھئی کر سکتے ہیں۔
تو تین و تین قضا بالاقرار قضا بالبینہ اور قضا بالنقول تین باتیں ذکر ہوئیں یہاں پر ان کے لیے جو قضا ہوگی تو آپ بائے اول کو واپس کر سکتے ہیں ان کے علاوہ میں واپس نہیں کر سکتے۔
اور قضا بالاقرار کا معنی صاحب ہدایہ نے کیا تھا کہ اقرار کا یہ معنی نہ کرنا کہ بائے قاضی کے سامنے خود اقرار کرے عیب کا بلکہ معنی یہ کہ کسی اور کے سامنے اقرار کیا تھا پھر اب انکار کر رہا ہے تو مشتری کیا کرتا ہے ان جن کے سامنے اقرار کیا تھا ان کو بطور گواہ کے پیش کر دیتا ہے بینہ کے ذریعے اس کے اقرار کو کیا کر دیتا ہے ثابت کر دیتا ہے صورت سمجھ میں آئی بھئی بینہ کے ذریعے اقرار ثابت ہوا۔
اس پر کسی نے کہتے ہیں اگر یہ اعتراض کیا جائے کوئی یہ اعتراض کرے کہ بھئی اقرار قاضی کے سامنے چاہے خود کرے چاہے اقرار اس کا بینہ کے ذریعے ثابت ہوں دونوں کا حکم ایک ہونا چاہیے دونوں کا حکم کیا ہونا چاہیے؟ ایک ہونا چاہیے اس لیے کہ جو چیز بینہ کے ذریعے ثابت ہو وہ بھی اسی طرح ہے گویا کہ اس وہ مشاہدتا ثابت ہے کیا ہے؟ مشاہدتا گویا اس نے قاضی کے سامنے خود اقرار کیا ہے تو ایک ہے خود اقرار کرنا ایک اقرار کو بینہ کے ذریعے ثابت کرنا اور بینہ کے ذریعے جو چیز ثابت ہو وہ کس کی طرح ہے؟ مشاہدے کے اور معائنے کی طرح ہے تو یہ بھی اسی اقرار کی طرح ہوا اور اس اقرار کی صورت میں تو چیز کو واپس کرنے کا حق نہیں تھا تو اس صورت میں بھی چیز کو واپس کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے تو صاحب ہدایہ کے یہ کہنے کا کیا فائدہ کہ اقرار سے مراد عام اقرار نہیں ہے بلکہ وہ اقرار ہے جو کس کے ذریعے ثابت ہو بینہ کے ذریعے ثابت ہو اس کا کیا فائدہ؟
یہ ایک اشکال ہوا کہ اقرار وہ عام اقرار ہو یا اقرار بالبینہ ثابت ہو دونوں کا حکم ایک ہونا چاہیے تو دراصل یہ دو اعتراض بنتے ہیں یہاں پر بھئی اور دوسرا یہ کہ یہ تو یہ اقرار کی طرح اور اقرار کی وجہ سے صرف اس آدمی کا مواخذہ کیا جاتا ہے کسی اور کا مواخذہ نہیں اقرار حجت متعدیہ نہیں ہے یہ تجاوز کسی اور کی طرف نہیں کرتی صرف اسی آدمی کی اپنی ذات سے اس کا تعلق ہوتا ہے تو چاہے اقرار وہ خود کرے یا اقرار اس کا بینہ سے ثابت ہو دونوں صورتوں میں یہ دونوں ایک جیسے ہو گئے اور جب دونوں ایک جیسے ہو گئے تو صرف چیز اس کو واپس کرنی چاہیے بائے اول کو تو واپس نہیں کرنی چاہیے بھئی۔
تو اس کا بھی جواب دیا تھا بھئی کل کہ بھئی ہم نے کب کہا کہ پہلی بات آپ نے کہا دونوں ایک جیسے ہیں ہاں پہلی بات کہتے ہیں یہ تسلیم نہیں بھئی دونوں باتیں ایک جیسی نہیں۔
اور دوسری بات آپ نے یہ کہا کہ اقرار کیا ہے؟ حجت قاصرہ ہے اسے یہ تو حجت متعدیہ نہیں ہے تو کہتے ہیں ہم نے کب کہا یہ اقرار حجت متعدیہ ہے ہم نے بھی تو یہی کہا ہے کہ اس کو واپس کر دے گا البتہ بائے اول کو اگر یہ واپس کرنا چاہے تو اب اس کو خصومت کا حق حاصل ہے دوبارہ خصومت کرنا پڑے گی بھئی اسی اقرار کی وجہ سے سیدھا اس کو واپس نہیں کر سکتا نہیں۔
اور دونوں اقرار میں فرق ہے ایک اقرار وہ جو خود کرتا ہے ایک اقرار اس کا وہ جو بینہ کے ساتھ ثابت ہوتا ہے دونوں میں فرق ہے اقرار خود کرتا ہے تو معلوم ہوا چیز کو رضامندی سے لے رہا ہے جب رضامندی سے لے رہا ہے تو یہ باقی سب کے لیے کیا شمار ہوگی بیع یہ الگ صورت ہے اور ایک وہ صورت ہے کہ اقرار کا وہ انکار کر رہا ہے اور وہ اس کے اقرار کو کس کے ذریعے ثابت کرتا ہے بینہ کے ذریعے تو معلوم ہوا یہ چیز کو واپس لینے پر راضی نہیں تو قاضی کے فیصلے سے واپس ہوئی اور قاضی نے کیا کیا ہے بیع کو فسخ کر دیا ہے تو اس صورت میں اب وہ بیع فسخ شمار ہوگی جبکہ اپنی مرضی سے اقرار جو کرے اس میں تو وہ فسخ شمار نہیں بلکہ کیا شمار ہوتی ہے؟ بیع تو دونوں میں فرق بھی آ گیا۔
سمجھ میں آ گیا بھئی تو دو اشکال تھے ایک یہ کہ اقرار حجت قاصرہ ہے حجت متعدیہ آپ نے کیوں بنایا اس کا ہم نے جواب دے دیا کہ ہم نے کوئی اس کو متعدیہ نہیں بنایا بلکہ اس کو الگ کیا کر رہا ہے اس کے لیے بائے اول کو اسی اقرار کی وجہ سے واپس نہیں کر رہا بلکہ اس کے لیے الگ کیا کرنا پڑے گی خصومت معلوم ہوا اقرار حجت متعدیہ نہیں بنایا ہم نے اگر متعدی ہوتا تو دوبارہ خصومت کی ضرورت تھی نہیں دوبارہ خصومت کی ضرورت اور دوسری دونوں میں فرق بھی سمجھا دیا۔
فر اس کے بعد اگلا اسی مسئلے کی ایک اور تقریر بعض علماء ذکر کرتے تھے بھئی اس کو صاحب کتاب رد کریں گے لیکن میں نے کہا تھا اس سے پہلے ایک مقدمہ سمجھ لیں۔
یاد رکھو ضابطہ یہ ہے کہ قاضی غائب کے خلاف نہ بینہ سن سکتا ہے اور نہ فیصلہ کر سکتا ہے بھئی بینہ بھی نہیں سن سکتا اور فیصلہ بھی نہیں اس لیے کہ بینہ سننے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جھگڑا ختم کر دیا جائے اور جب دوسرا حاضر ہی نہیں تو جھگڑا ہے ہی نہیں۔
جھگڑا تو کم از کم کتنے میں ہونا چاہیے دو دوسرا حاضر ہوگا تو جھگڑے کا وجود بھی آ گیا ایک ان کا دعوی کر رہا ہے دوسرا کیا کر رہا ہے انکار کر رہا ہے اب کس کو سنے گا قاضی بینہ کو سنے گا تو غائب کے خلاف نہ بینہ سن سکتا ہے نہ فیصلہ کر سکتا ہے یہ اہم ضابطہ ہے کتاب القضا کا بھئی سمجھ میں آیا بھئی ضابطے بھئی آپ سب کو انشاءاللہ انشاءاللہ عنقریب دور آ جائے گا بھئی آپ کو قاضی بنائیں گے بھئی یہ باتیں سیکھتے جاؤ بھئی فیصلہ کیسے کرنا ہے غائب کے خلاف فیصلہ بھی نہیں ہوتا اور بینہ بھی نہیں سنے جاتے۔
अच्छा تو کیا بات بھی کر ہو رہی تھی؟ ہاں تو غائب کے خلاف نہ فیصلہ کر سکتا ہے نہ بینہ سن سکتا ہے ہاں اگر اس کا نائب موجود ہو تو پھر بینہ بھی سن سکتا ہے اور فیصلہ بھی اور نائب تین ہیں مولانا تین قسم پر یا تو نائب ہوگا حقیقتا جیسے وکیل ہوتا ہے انسان اس کو کیا بنا دیتا ہے کسی بھی مسئلے میں اپنا نائب۔
یا نائب شرعا ہوگا یا نائب حکما ہوگا تین ہوئے حقیقتا شرعا اور حکما نائب شرعا کی مثال جیسے وہ وسی کون مقرر کرے قاضی بھئی وسی کسے کہتے تھے میں نے آپ کو بتلایا تھا جسے جو بچے یا معذور وغیرہ افراد کی نگرانی وغیرہ کے لیے جنہیں قاضی مقرر کرتا ہے تو با اختیار نگران ہوتا ہے وہ اپنے اختیار کے ساتھ کیا کرتا ہے ان پر مال وغیرہ کو خرچ کرتا ہے ان کے امور کا اختیار ہوتا ہے اسے۔
اور تیسرا وہ نائب جو حکمی ہو حکمی نائب حکمی اسے کہتے ہیں یاد رکھو جس میں غائب پر جو دعوی کیا جا رہا ہے وہ دعوی سبب ہے اس دعوے کا جو حاضر پر کیا جا رہا ہے۔
آپ دعوی تو دراصل ایک حاضر شخص پر کر رہے ہیں لیکن ساتھ ہی ایک اور دعوی بھی شامل ہو گیا جو کس پر ہو رہا ہے غائب پر کس پر ہو رہا ہے غائب پر اور وہ جو غائب پر دعوی ہے وہ سبب لازمی ہے یعنی علت ہے کس کے لیے اس دعوی کے لیے جو کس پر ہو رہا ہے حاضر پر تو حاضر پر جو دعوی ہے وہ مسبب ہونا چاہیے معلول ہونا چاہیے اس دعوے کا جو کس پر کیا جا رہا ہے غائب پر کیا جا رہا ہے سبب لازمی ہو یعنی جب بھی سب وہ سبب پایا جائے مسبب بھی ضرور پایا جائے مثال سے اس کی وضاحت ہوگی دیکھو بھئی ایک آدمی کے پاس ایک مکان ہے اس کے قبضے میں ہے آپ اس پر دعوی کر دیتے ہیں یہ مکان میرا ہے اور یہ مکان کیوں میرا ہے کیونکہ یہ میں نے زید سے خریدا تھا تو اب دعوی آپ کا اس حاضر پر ہے جسے آپ قاضی کے سامنے لائے ہیں کہ اس کے پاس جو مکان ہے وہ میرا ہے لیکن ایک اور دعوی بھی آپ نے کیوں میرا ہے کیونکہ میں نے کس سے خریدا تھا؟ زید سے تو یہاں ایک غائب پر بھی دعوی آ گیا کہ یہ میں نے مکان کس سے خریدا ہے؟ زید سے خریدا ہے اور خریدنا علت ہوتی ہے کس چیز کی؟ ملکیت کی۔ آپ نے کہا یہ مکان میرا ہے یہ معلول ہے کیوں آپ کا ہے علت کیا ہے اس کی کہ آپ نے زید سے تو دیکھو جو غیر پر دعوی تھا اس سے خریدنے کا جو دعوی تھا وہ سبب لازمی ہے کس کے لیے؟ اس دعوے کے لیے جو آپ کس پر کر رہے ہیں؟ حاضر پر کر رہے ہیں۔
تو اب یہ جو حاضر ہے اس غائب کا نائب بن گیا حکما بھئی اس لیے کہ اس پر جو دعوی ہے وہ سبب ہے اور اس پر جو دعوی ہے وہ اس کا مسبب ہے بھئی تو یہ اس کا کیا بن گیا نائب حکما اب آپ اس غائب کے خلاف بینہ بھی سن سکتے ہیں اور اس پر فیصلہ بھی کر سکتے ہیں اور یہ فیصلہ حاضر اور غائب دونوں کے خلاف شمار ہوگا۔
حاضر اور غائب دونوں کے خلاف ہاں تو وہ غائب کا تو یہ نائب حکمی بن چکا ہے تو اس کا جب نائب آ گیا تو نائب کے ہوتے ہوئے کیا کیا جا سکتا ہے بینہ بھی سنی جا سکتی ہے اور فیصلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
تو اب آپ بینہ پیش کریں گے دو گواہ بھئی پیش کریں گے کہ یہ مکان میں نے زید سے خریدا تھا قاضی اب اس کو سنے گا اگرچہ زید خود نہیں حاضر لیکن اس کا نائب حکمی تو حاضر ہے پھر جب بینہ ہو گیا تو قاضی اب آپ کے حق میں فیصلہ کر دے گا بھئی اور یہ جو جس کے قبضے میں مکان ہے اس سے آلہ لے کر آ کے حوالے کر دے گا۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ اب زید جس سے آپ نے مکان خریدا تھا وہ بعد میں آ کے ہزار انکار کرتا رہے نہیں بھئی اب اس کا انکار معتبر نہیں اس کے خلاف کیا ہو چکا ہے فیصلہ اس کے نائب کی موجودگی میں ہوا تھا کسی بغیر نائب کے فیصلہ نہیں۔
سمجھ میں آیا تو اس سے خریدنا یہ سبب تھا غائب پر جو دعوی تھا وہ سبب تھا کس پر اس حاضر پر جو دعوی ہے یعنی کہ یہ مکان میری ملکیت ہے تو جب بھی کوئی چیز خریدی جائے آدمی اس کا کیا بن جایا کرتا ہے مالک تو وہ خریدنا تھا سبب لازمی یعنی علت تھا کس کے لیے؟ ملکیت کے لیے۔
بات بھی سمجھ میں آرہی ہے کہ مشکل ہے بھئی؟ یہ بات آپ کو سمجھ میں آگئی ہے اچھی طرح۔
اب سنو تقریر بھئی یہ مقدمہ تھا اس کی بات اب آخر میں جا کر ہم کریں گے۔
بعض علماء نے یہ جو مسئلہ متن میں ذکر ہوا کہ کسی نے کوئی چیز خریدی ہو تو پھر اور آگے بیچ دے اس کو پھر قاضی کے فیصلے کی وجہ سے اس کو وہ چیز واپس کی جائے اور وہ قاضی کا فیصلہ اقرار کی وجہ سے ہو یا بینہ کی وجہ سے ہو یا نقول کی وجہ سے ہو تو اب یہ شخص کیا کر سکتا ہے؟ بائے اول کو وہ چیز واپس یہ متن میں مسئلہ گزرا تھا اس کی ابھی تک تقریر چل رہی ہے۔
بعض علماء اس کی یہ تقریر کرتے ہیں کہ بھئی یہ جو آپ ہیں آپ نے کس سے خریدا ہے؟ زید سے خریدا تھا اور آپ نے آگے کس کو بیچا تھا؟ بکر کو اور بکر نے آپ کو اب واپس کی ہے کس وجہ سے؟ عیب کی وجہ سے قضا بالاقرار کی وجہ سے یا قضا بالبینہ کی وجہ سے یا قضا بالنقول کی وجہ سے تو اب آپ بائے اول کو واپس کر سکتے ہیں۔
کہتے ہیں یہ اس صورت میں ہے جب اس نے یہ جو بائیس مشتری ثانی ہے اس نے یہ دعوی کیا ہو کہ یہ عیب زید کے پاس تھا یہ چیز جو تھی اس کے اندر عیب کس کے پاس موجود تھا؟ زید کے پاس زید کے پاس بھی موجود تھا اور اس پر وہ کیا کرتا ہے بینہ کر اس پر فیصلہ کرتا ہے قاضی تو یہاں دو صورتیں ہیں اس کی وہ چیز واپس کرنا چاہتا ہے وہ کہتا ہے اس چیز کے اندر عیب ہے قاضی صاحب یہ چیز واپس کروائی جائے بھئی میں واپس کرنا چاہتا ہوں تو یا تو وہ یہ کہے گا کہ یہ عیب کس کے پاس تھا؟ جس سے میں نے خریدی ہے اسی کے پاس عیب تھا یہ موجود تھا یا عیب کس کے پاس تھا بھئی؟ زید کے پاس تو وہ صورت جس میں اس کا دعوی یہ ہو کہ یہ عیب کس کے پاس تھا؟ زید کے پاس تو اب چیز آپ کو واپس ہوئی ہے تو آپ بھی کیا کر سکتے ہیں زید کو رد کر سکتے ہیں اور اگر اس نے یہ دعوی کیا صرف کہ عیب آپ کے پاس تھا زید کی کوئی بات ہی وہ نہیں کرتا تو اس صورت میں اب آپ کو زید کو چیز واپس کرنے کا حق نہیں ہے۔
صورت سمجھ میں آگئی؟ دیکھیے بھئی و قد قیل اور تحقیق کہا گیا ہے ہذہ المسئلۃ فیما یہ مسئلہ اس صورت میں ہے اذا دعاء المشطری الثانی جب دعوی کیا مشتری ثانی نے علی المشطری الاولی مشتری اول پر کیا دعوی کیا کہ ان العیب کان فی ید البائع الاولی یہ عیب تو کس کے پاس بھی تھا؟ بائے اول یعنی زید کے پاس بھی تھا رحمکم اللہ تو پھر اب آپ اس چیز کو زید کو واپس کر سکتے ہیں بھئی تو اب مشتری ثانی کے لیے مشتری اول کے لیے جائز ہے کہ وہ کیا کرے مخاصمت کرے کس سے؟ بائے اول پر بھئی۔
اما اذا دعاء اگر اس نے یہ دعوی کیا کہ عیب کا فی ید المشطری الاول کہ وہ عیب آپ کے پاس تھا زید کی تو اس نے بات ہی نہیں کی تو اب وہ اس چیز کے بائے کے ساتھ خصومت آپ اس بائے کے ساتھ خصومت یہ بعض علماء نے تقریر کی بھئی۔
اقول فیہ نظر صاحب شرح وقایہ فرما رہے ہیں کہ میں کہتا ہوں اس قول میں اشکال ہے بھئی۔
اس صورت یہ جو قول انہوں نے کیا کہ یہ رد کرنا اس صورت میں ہے جب اس نے دعوی بھی کیا ہو کہ یہ عیب کس کے پاس تھا؟ بائے اول کے پاس تھا تو پھر واپس کر سکتا ہے کہتے ہیں اس قول میں اشکال ہے۔
کہتے ہیں کیوں؟ دیکھیے بھئی۔
کہتے ہیں اس لیے کہ چاہے وہ یہ دعوی کرے کہ عیب آپ کے پاس تھا مشتری ثانی چاہے وہ یہ دعوی کرے کہ یہ کس کے پاس تھا؟ بائے اول کے پاس تھا دونوں صورتوں میں جو بھی فیصلہ ہوگا وہ آپ کے خلاف تو ہوگا بائے اول کے خلاف نہیں۔
بائے اول کے خلاف نہیں کیونکہ بائے اول تو غائب ہے بائے اول تو کیا ہے؟ غائب ہے اور غائب کے خلاف تو بینہ قاضی سن ہی نہیں سکتا صرف ایک صورت میں سن سکتا ہے جبکہ بائے غائب پر جو دعوی ہو وہ سبب ہو کس کے لیے؟ اس دعوے کے لیے جو کس پر ہے حاضر پر ہے اور یہاں غائب پر جو دعوی ہے وہ سبب نہیں ہے اس دعوے کا جو کس پر ہو رہا ہے حاضر پر صورت سمجھ میں آرہی ہے؟
تو کہتے ہیں بھئی انہوں نے ان علماء نے کتنی صورتیں بنائیں؟ دو صورتیں ایک صورت یہ کہ وہ مشتری ثانی کس پر عیب کا دعوی کرتا ہے؟ بائے اول پر بھئی کہ اس کے پاس عیب تھا ایک صورت یہ کس پر دعوی کرتا ہے؟ بائے وہ بائے اول جو تھا اس پر کیا کرتا ہے عیب کا دعوی کرتا ہے تو اگر اس نے آپ مشتری اول پر عیب کا دعوی کیا تو اس کو چیز واپس کی جائے گی لیکن یہ پیچھے واپس نہیں کر سکتا لیکن اگر اس نے وہ زید جو پہلا بائے تھا اس پر عیب کا دعوی کیا تو اب اس کو چیز واپس کر دی جائے گی اور اسے بھی آگے کیا ہوگا خصومت کا حق حاصل یہ ان علماء نے صورت بیان کی صاحب شرح وقایہ فرما رہے ہیں کہ نہیں بھئی یہ بات درست نہیں بنتی اس لیے کہ دونوں صورتوں میں چاہے یہ مشتری اول پر دعوی کرے تو
اس کا عیب کا کہ اس کے پاس عیب تھا، چاہے یہ دعویٰ کرے کہ عیب کس کے پاس تھا؟ بائعِ اول کے پاس تھا، دونوں صورتوں میں فیصلہ مشتریِ اول ہی کے خلاف شمار ہوگا، بائعِ اول کے خلاف فیصلہ شمار نہیں ہوگا۔
کیوں نہیں ہوگا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ بائعِ اول ہے غائب، اور غائب کے لیے فیصلہ کرنے کے لیے غائب پر ضروری ہے کہ اس کا کوئی نائب موجود ہو، اور یہاں اس کا کوئی نائب موجود نہیں ہے۔
نہ اس کا نائبِ حقیقی ہے، اس نے اس مشتریِ اول کو وکیل بھی نہیں بنایا، نہ یہ اس کا وصی ہے بھئی! اور نہ ہی یہ نائبِ حکمی ہے، یعنی نائبِ حکمی کون کہلاتا تھا بھئی؟ کہ جب وہ دعویٰ جو کس پر کیا جا رہا ہو؟ غائب پر، وہ دعویٰ جو کس پر کیا جا رہا ہو؟ غائب پر، وہ سبب ہو اس دعوے کا جو کس پر کیا جا رہا ہے؟ حاضر پر، اور یہاں ایسا نہیں ہے۔
اگر اس کے پاس عیب تھا، بائعِ اول کے پاس عیب کا ہونا یہ بائعِ ثانی، بائعِ ثانی کے پاس عیب کا سبب ہے؟ جب بھی بائعِ اول کے پاس عیب پایا جائے گا بائعِ ثانی کے پاس آگے عیب کا ہو، مشتری کے پاس عیب کا ہونا ضروری ہے؟ کبھی ایسا ہوگا اس کے پاس عیب ہے تو ٹھیک ہے آپ کے پاس بھی اس میں عیب ہے، لیکن کبھی ایسا ہوگا اس کے پاس چیز میں عیب تھا پھر ختم ہو گیا، آپ کے پاس اب وہ چیز آئی تو اس میں عیب ہے؟
صورت سمجھ میں آئی؟ تو بائعِ اول کے پاس جب بھی عیب ہو، ضروری نہیں کہ اس کے مشتری کے پاس بھی مبیع کے اندر کیا پایا جائے؟ عیب پایا جائے، کبھی عیب وہ باقی رہے گا، کبھی تو کیا ہو جایا کرتا ہے پہلے ہی ختم ہو جایا کرتا ہے۔
اور ہم نے کہا تھا سببِ لازمی ہونا چاہیے کہ ایک کے پاس ہے تو اس اگلے کے لیے کیا بنے؟ سببِ لازمی ہو، یعنی جب بھی وہ سبب پایا جائے مسبب کا پایا جانا... جب بھی بائعِ اول، آپ مجھے بتائیں، جب بھی بائعِ اول کے پاس عیب پایا جائے تو آگے مشتری کے پاس عیب کا پایا جانا ضروری ہے؟ نہیں، کبھی ہوگا اور کبھی نہیں، تو معلوم ہوا وہ دعویٰ غائب پر جو دعویٰ کیا گیا ہے وہ سبب نہیں ہے اس دعوے کا جو کس پر کیا گیا ہے؟ حاضر پر، سببِ لازمی نہیں ہے۔
سمجھ میں آیا؟ سبب تو ہے لیکن سببِ لازمی نہیں ہے، اور ہم نے تو سببِ لازمی کی بات کی تھی بھئی! جب بھی اس کے پاس وہ ہو، اس کے پاس بھی اس کا ہونا ضروری ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو نہ اس کے، یہ حاضر اس کا نائب بھی نہیں بنا، جب نائب بھی نہیں بنا تو اب اس کے خلاف فیصلہ ہوا؟ نہیں، تو دونوں صورتوں میں فیصلہ مشتریِ اول کے خلاف ہی ہوتا ہے، بائع پر کسی بھی صورت میں فیصلہ نہیں ہوتا۔
لہٰذا آپ کا یہ کہنا کہ بائع پر دعویٰ، بائع کے پاس عیب کی موجودگی کا دعویٰ کیا ہو تو اسے واپس کر سکتا ہے، اس پر عیب کا دعویٰ نہ کیا ہو تو پھر واپس... یہ تقریر آپ کی صحیح نہیں بھئی، دیکھیے!
أَقُوْلُ فِيهِ نَظَرٌ
میں کہتا ہوں اس قول کے اندر اشکال ہے بھئی،
لِأَنَّهُ إِذَا ادَّعَى أَنَّ الْعَيْبَ كَانَ فِي يَدِ الْبَائِعِ الأَوَّلِ
اس لیے کہ جب مشتریِ ثانی نے دعویٰ کر دیا کہ عیب کس کے پاس تھا بھئی؟ وہ بائعِ اول کے پاس تھا،
وَأَقَامَ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ
اور اس پر بینہ بھی اس نے قائم کر دی،
وَقُضِيَ عَلَى الْمُشْتَرِي الأَوَّلِ
اور مشتریِ اول کے خلاف فیصلہ بھی کر دیا گیا کہ چیز واپس لو،
فَهَذَا الْقَضَاءُ لَيْسَ قَضَاءً عَلَى الْبَائِعِ الأَوَّلِ
تو پھر بھی یہ قضاء بائعِ اول کے خلاف نہیں، اس پر یہ قضاء نہیں ہے،
وَهَذِهِ الْبَيِّنَةُ لَمْ تَقُمْ عَلَى الْبَائِعِ الأَوَّلِ
اور یہ بینہ بھی بائعِ اول پر قائم نہیں ہوئی، کیوں؟
اس پر بھی قائم نہیں ہوئی
وَلَا عَلَى نَائِبِهِ
اور اس کے نائب پر بھی قائم نہیں... اس کا نائب ہے ہی نہیں، یہ اس کا نائبِ حکمی ہے ہی نہیں، نائبِ حکمی تو تب بنتا جب اس پر جو دعویٰ تھا اس، وہ سبب ہوتا، سببِ لازمی ہوتا اس چیز کا جس کا دعویٰ کس پر کیا جا رہا ہے؟
تو نہ اس پر ہوا ہے، نہ بائعِ اول پر فیصلہ... یہ بینہ قائم ہوئی ہے، نہ اس کے نائب پر،
لِأَنَّ مَا يَدَّعِي عَلَى الْغَائِبِ لَيْسَ سَبَبًا لِمَا يَدَّعِي عَلَى الْحَاضِرِ
اس لیے کہ وہ چیز جس کا دعویٰ کر رہا ہے غائب پر، وہ سبب نہیں ہے، یعنی سببِ لازمی نہیں ہے اس چیز کا،
لِمَا يَدَّعِي عَلَى الْحَاضِرِ
جس کا دعویٰ وہ کس پر کر رہا ہے؟ حاضر پر کر رہا ہے بھئی!
صورت سمجھ میں آئی؟ اگر سببِ لازمی ہوتا تو یہ اس کا نائب بن جاتا حکماً، اور پھر اس کے خلاف جو فیصلہ ہوتا وہ اس غائب کے خلاف بھی کیا تصور ہوتا؟ فیصلہ۔ تو جب یہ سببِ لازمی نہیں تو اس کے خلاف جو فیصلہ ہے وہ اس کے خلاف فیصلہ شمار نہیں ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
فَإِنْ قَبَضَ مَشْرِيَّهُ وَادَّعَى عَيْبًا لَمْ يُجْبَرْ عَلَى دَفْعِ ثَمَنِهِ حَتَّى يَحْلِفَ بَائِعُهُ أَوْ يُقِيْمَ بَيِّنَةً
یہ مسئلہ مشکل ہے بھئی، غور سے سننا بھئی!
فَإِنْ قَبَضَ
پس اگر قبضہ کر لیا مشتری نے
مَشْرِيَّهُ
اپنی خریدی ہوئی چیز پر، ایک آدمی نے دوسرے سے ایک چیز خریدی اور پھر اس پر کیا کر لیا؟
وَادَّعَى عَيْبًا
اور پھر کس چیز کا دعویٰ کر دیا اس میں؟ عیب کا دعویٰ کر دیا، کہتے ہیں:
لَمْ يُجْبَرْ عَلَى دَفْعِ ثَمَنِهِ
اس مشتری کو مجبور نہیں کیا جائے گا ثمن حوالے کرنے پر
حَتَّى يَحْلِفَ بَائِعُهُ
یہاں تک کہ اس کا بائع کیا کر لے؟ قسم اٹھا لے
أَوْ يُقِيْمَ بَيِّنَةً
یا مشتری کیا قائم کر... کیا قائم کر دے؟ بینہ قائم کر دے۔
دیکھو بھئی! پہلے مسئلہ سمجھ لو پھر عبارت کی طرف جاتے ہیں۔
آپ نے زید سے ایک چیز خریدی، چیز خریدنے کے بعد آپ نے اس پر قبضہ بھی کر لیا، وصول کر لی اس سے چیز، ابھی آپ نے ثمن حوالے نہیں کیے، چیز پر قبضے کے بعد اب آپ نے عیب کا دعویٰ کر دیا کہ یہ چیز تو مجھے اس نے کس قسم کی بیچی ہے؟ عیب دار۔
یہاں اب چار صورتیں بنتی ہیں: ایک صورت یہ، آپ نے عیب کا دعویٰ کیا ہے، آپ زید کے پاس چلے گئے کہ بھئی! یہ تم نے مجھے عیب دار چیز بیچی ہے، وہ آرام سے قبول کر لیتا ہے، اقرار کر لیتا ہے اور چیز واپس آپ سے لے لیتا ہے، یہ صورت ایک ہے، یہ ذکر نہیں کریں گے۔
دوسری صورت بھئی! کہ وہ انکار کر دیتا ہے، تو پھر اب آپ قاضی کے پاس جاتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں بھئی، کیا کرتے ہیں؟ دعویٰ کرتے ہیں کہ زید نے مجھے عیب دار چیز بیچی ہے۔
اب قاضی دونوں کو طلب کرے گا اور آپ سے کہے گا بینہ پیش کرو، گواہ پیش کرو اس بات پر کہ اس نے تمہیں عیب دار چیز بیچی ہے۔ اگر آپ نے گواہ پیش کر دیے تو قاضی فیصلہ کر دے گا اور وہ چیز زید کو کیا کر دی جائے گی؟ واپس کر دی جائے گی۔
اگر آپ بینہ پیش نہ کر سکے تو پھر اب قاضی متوجہ ہوگا بائع کی طرف کہ قسم اٹھاؤ تم بھئی! قسم اٹھاؤ کہ تم نے اس کو عیب دار چیز نہیں بیچی بھئی، وہ قسم اگر اٹھا لیتا ہے تو پھر اب آپ سے ثمن... آپ کو ثمن کے ادا کرنے پر مجبور کیا جائے گا، اس نے قسم اٹھا لی۔
لیکن اگر اس نے قسم اٹھانے سے انکار کر دیا، تو اس صورت میں بھی قاضی اس کے خلاف فیصلہ کر دے گا کہ وہ قسم نہیں اٹھا رہا، معلوم ہوا اس نے کس قسم کی چیز بیچی ہے؟ عیب دار چیز بیچی ہے، تو اب اس صورت میں بھی بیع فسخ کریں گے اور وہ چیز اس کو کیا کر دی جائے گی؟ واپس۔
تو چار صورتیں ہیں، تین میں چیز واپس کر دیتے ہیں، چوتھی کی صورت میں اب آپ کو مجبور کیا جاتا ہے کہ پیسے ادا کریں۔
پہلی صورت: اگر وہ خود اقرار کر کے لے لیتا ہے تو بھی کیا ہوئی؟ چیز واپس ہو گئی۔
دوسری صورت مولانا! اگر آپ بینہ پیش کر دیتے ہیں تو بھی چیز واپس۔
تیسری صورت: کہ اگر وہ قسم سے انکار کر دیتا ہے تو بھی چیز کیا ہوگی؟ ان سب میں آپ کو پیسوں کی ادائیگی پر مجبور نہیں... کیونکہ چیز ہی واپس ہو گئی۔
ہاں، ایک صورت کہ اسے قسم کھانے کا کہا گیا اور اس نے قسم اٹھا لی، اب آپ کو کیا کیا جائے گا؟ قسم... ثمن کی ادائیگی پر مجبور کیا جائے گا، یہ صورتیں ہیں بھئی!
اب دیکھیے متن میں مسئلہ:
فَإِنْ قَبَضَ مَشْرِيَّهُ
اگر مشتری نے قبضہ کر لیا اپنی خریدی ہوئی چیز پر
وَادَّعَى عَيْبًا
اور کیا کیا؟ عیب کا دعویٰ کیا
لَمْ يُجْبَرْ عَلَى دَفْعِ ثَمَنِهِ
مجبور نہیں کیا جائے گا اس کو ثمن کے حوالے کرنے پر
حَتَّى يَحْلِفَ بَائِعُهُ
یہاں تک کہ بائع کیا کر لے؟ قسم اٹھا لے، جب بائع قسم اٹھا لے گا کہ میں نے اس کو عیب دار چیز نہیں بیچی تو اب کیا کیا جائے گا؟ آپ کو مجبور کیا جائے گا بھئی! اس نے عیب دار چیز نہیں دی، معلوم ہوا یہ عیب اب آپ کے پاس ہی پیدا ہوا ہوگا، لہٰذا آپ کیا کرو؟ آپ مبیع وصول کر چکے، آپ بائع کے سپرد اس کے پیسے، تو آپ کو پھر مجبور کیا جائے گا۔
أَوْ يُقِيْمَ بَيِّنَةً
یا آپ... مشتری کیا قائم کر دیتا ہے؟ بینہ قائم کر دیتا ہے بھئی!
بھئی! آگے بڑی مفصل بحث کریں گے، اور بتلائیں گے کہ یہ يُقِيْمُ کا عطف يَحْلِفَ پر نہ کرنا۔
يَحْلِفَ تو ہے منصوب، کیونکہ حَتَّى کے بعد کیا مقدر ہوتا ہے؟ اَنْ مقدر، آپ نے پڑھا ہے فعلِ مضارع کا اعراب تین قسم پر ہے: یا مرفوع ہوگا یا منصوب ہوگا یا مجزوم ہوگا، جزم آئے گا بھئی! اسم میں جر آتا ہے اور فعلِ مضارع میں جزم آتا ہے۔
اور یہاں پر حَتَّى کے بعد يَحْلِفَ آیا اور حَتَّى کے بعد اَنْ مقدر ہوتا ہے، تو يَحْلِفَ کیا ہوا؟ منصوب بھئی!
تو کہتے ہیں اس پر اس کا عطف نہیں کریں گے ورنہ عبارت خراب ہو جائے گی، معنیٰ خراب ہو جائے گا۔
کیوں؟ دیکھو!
ادھر دیکھو بھئی!
انہوں نے کیا کہا؟ پیسوں کی ادائیگی پر مشتری کو ہم کب تک مجبور نہیں کریں گے؟ جب تک بائع قسم نہ... جب بائع قسم اٹھا لے گا، معلوم ہوا عدمِ جبر ختم، اب کیا کیا جائے گا اس کو؟ مجبور کیا جائے گا، جب وہ قسم اٹھا لے گا تو عدمِ جبر کیا ہوا؟ ختم، پہلے تو تھا مجبور نہیں کرنا، کب تک نہیں کرنا؟ جب تک وہ قسم نہ اٹھا لے، جب قسم اٹھا لے گا تو عدمِ جبر کیا ہو جائے گا؟ اب مجبور کیا جائے گا، پہلے تو تھا مجبور نہیں کرنا، اب ہے مجبور کیا جائے گا کہ پیسے ادا کرو۔
تو معلوم ہوا عدمِ جبر ہے مغیا، اور حلفِ بائع یہ ہے غایہ۔
مغیا کسے کہتے ہیں؟ آپ نے پڑھا ہے، ایک غایہ، ایک مغیا، مغیا کہتے ہیں محدود کو، وہ چیز جس کی حد بیان کی جائے، مغیا کسے کہتے ہیں؟ جس کی حد بیان کی جائے، اور وہ جو حد ہوتی ہے اس کو غایہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟
قرآن... بھئی! کس طرح ہے: ہاتھوں کو دھو کہنیوں تک بھئی، تو یہ کہنیاں کیا ہوئیں؟ غایہ، یہ حد ہوئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
تو یہاں پر عدمِ جبر ہے مغیا، یعنی محدود ہے۔ عدمِ جبر ہوگا، چلتا رہے گا، چلتا رہے گا، کب تک بھئی؟ کب تک مجبور نہیں کریں گے؟ جب تک بائع قسم نہ... معلوم ہوا بائع کا قسم اٹھانا یہ حد ہے، جب یہ حد آ جائے گی عدمِ جبر کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا، پھر کیا آ جائے گا؟ جبر آ جائے گا۔
تو معلوم ہوا عدمِ جبر ہے مغیا، اور حلفِ بائع کیا ہے؟ غایہ ہے بھئی!
تو اگر يُقِيْمَ کا عطف يَحْلِفَ پر کر دیں تو پھر عبارت خراب ہو جاتی ہے بھئی، اس لیے صاحبِ کتاب آپ کو بتلائیں گے کہ يُقِيْمَ نہ پڑھو، يُقِيْمُ پڑھو، مرفوع پڑھو، اور اس کا عطف لَمْ يُجْبَرْ پر کرو، کس پر کرو؟ لَمْ يُجْبَرْ پر عطف کرو بھئی!
کیوں؟ کہتے ہیں بھئی! اگر يُقِيْمُ کا عطف حلف پر کر دیتے ہو تو معنیٰ خراب، کس طرح؟ کیونکہ حلف، حلفِ بائع یہ تو کیا تھا؟ غایہ، عدمِ جبر کے لیے کیا تھا؟ غایہ، تو پھر اقامتِ بینہ بھی غایہ بن جائے گی، اقامتِ بینہ بھی کیا بن جائے گی؟ غایہ۔
تو پھر صورت یہ ہو جائے گی: مشتری کو مجبور نہیں کریں گے جب تک کہ یہ کیا نہ کر دے، بائع قسم نہ اٹھا لے، یہ بھی غایہ، اب اس پر عطف تھا تو اس کو ذرا اٹھا دو، اس کی جگہ کس کو رکھو؟ اقامتِ... يُقِيْمُ بَيِّنَةً کو رکھو بھئی!
عبارت دیکھو: لَمْ يُجْبَرْ عَلَى دَفْعِ ثَمَنِهِ حَتَّى يَحْلِفَ بَائِعُهُ، یہ ایک غایہ، بائع کی قسم کیا ہے؟ ایک غایہ۔ اب اس يَحْلِفَ بَائِعُهُ کو اٹھاؤ اور يُقِيْمَ بَيِّنَةً کو اس کی جگہ رکھو بھئی! حَتَّى يُقِيْمَ بَيِّنَةً، اس کو ثمن کی ادائیگی پر مجبور نہیں کیا جائے گا یہاں تک کہ مشتری کیا قائم کر دے؟ بینہ۔
اب آپ مجھے بتائیے، جب مشتری بینہ قائم کر دے کہ یہ مجھے عیب والی چیز ملی ہے، تو پھر اب وہ چیز اس کو واپس کی جائے گی یا پیسے دینے پہ مجبور کیا جائے گا؟ تو معنیٰ خراب ہوتا ہے، معلوم ہوا اگر اس پر عطف کیا جائے تو یہ بھی مغیا کے لیے کیا بن جائے گا؟ غایہ بن جائے گا، تو معلوم ہوا عدمِ جبر کی انتہا کہاں پہ ہوگی؟ پہلی صورت: عدمِ جبر ہے مغیا، غایہ کیا ہے اس کے لیے؟ بائع کا قسم اٹھانا، جب بائع قسم اٹھا لے گا عدمِ جبر بھی ختم ہو کر کیا آ جائے گا؟ مجبور کیا جائے گا، جبر آ جائے گا۔
دوسرا غایہ کیا بیان ہوا؟ حَتَّى يُقِيْمَ بَيِّنَةً، یہاں تک کہ وہ کیا قائم کر دے؟ بینہ، مشتری بینہ قائم کر دے، تو اس کو عدمِ جبر اس وقت تک ہوگا جب تک وہ بینہ قائم... جب وہ بینہ قائم کر دے تو اب کیا کیا جائے گا اس کو پیسے دینے پر... اور یہ بات درست بنتی ہے؟ نہیں، یہ بات درست نہیں بنتی، یہ عدمِ جبر کے لیے غایہ نہیں بن، جب غایہ نہیں بن سکتا تو اس کا عطف يَحْلِفَ پر بھی نہیں ہو سکتا ورنہ تو غایہ بن جائے گا۔ یہ مسئلہ سمجھ میں آیا؟
تو پھر کس پر اس کا عطف کریں بھئی؟
دیکھیے! وہ میں آگے آپ کو بتاتا ہوں، کہتے ہیں:
أَوْ يُقِيْمُ مَرْفُوعٌ عُطِفَ عَلَى قَوْلِهِ لَمْ يُجْبَرْ
أَوْ يُقِيْمُ کیا ہے؟ مرفوع ہے، عُطِفَ عَلَى قَوْلِهِ لَمْ يُجْبَرْ، اس کا عطف کس پر ہے؟ ماتن کے قول لَمْ يُجْبَرْ پر ہے،
وَلَيْسَ عَطْفًا عَلَى قَوْلِهِ يَحْلِفَ بَائِعُهُ
وَلَيْسَ عَطْفًا عَلَى قَوْلِهِ يَحْلِفَ بَائِعُهُ، اس کا عطف ماتن کے قول يَحْلِفَ بَائِعُهُ پر نہیں،
لِأَنَّهُ حِيْنئِذٍ يَكُونُ إِقَامَةُ الْبَيِّنَةِ غَايَةً
لِأَنَّهُ حِيْنئِذٍ يَكُونُ إِقَامَةُ الْبَيِّنَةِ غَايَةً، تو ورنہ تو اس صورت میں اقامتِ بینہ بھی کیا بن جائے گی؟ غایہ بن جائے گی، کس کے لیے؟ لِعَدَمِ الْجَبْرِ، عدمِ جبر کے لیے،
فَإِنْ أَقَامَ الْبَيِّنَةَ يَنْتَهِي عَدَمُ الْجَبْرِ
فَإِنْ أَقَامَ الْبَيِّنَةَ، تو اگر اس نے بینہ قائم کر دی، يَنْتَهِي عَدَمُ الْجَبْرِ، تو پھر عدم... عدمِ جبر کیا ہو جائے گا؟
بھئی! جب، جب یہ غایہ بن گئی تو غایہ جب آئے گی تو مغیا... مغیا کی بھی کیا ہو جائے گی؟ انتہا۔ تو جب اقامتِ بینہ آ جائے گی، يَنْتَهِي عَدَمُ الْجَبْرِ، تو عدمِ جبر بھی کیا ہو جائے گا؟
سمجھ بھی آ رہی ہے بات کہ پھر مشکل ہو گئی؟ وہی میں نے جو سمجھایا وہی تقریر صاحبِ کتاب کر رہے ہیں، میں نے کیا کہا: اگر اس کا عطف يَحْلِفَ پر کرو تو یہ بھی غایہ بن جائے گا، اور معنیٰ یہ ہوگا عدمِ جبر کب تک ہے؟ جب تک یہ بینہ قائم نہ کرے، جب بینہ قائم کر دے گا تو عدمِ جبر کی بھی انتہا ہو گئی اور کیا آ گیا؟ جبر آ گیا، یہی بات کر رہے ہیں: فَإِنْ أَقَامَ الْبَيِّنَةَ، اگر اس نے بینہ قائم کر دی، يَنْتَهِي عَدَمُ الْجَبْرِ، تو عدمِ جبر کی بھی کیا ہو جائے گی؟ انتہا ہو جائے گی،
فَيَلْزَمُ الْجَبْرُ عَلَى دَفْعِ الثَّمَنِ
فَيَلْزَمُ الْجَبْرُ عَلَى دَفْعِ الثَّمَنِ، تو لازم آئے گا جبر کرنا ثمن کی ادائیگی پر بھئی!
ثمن کی ادائیگی پر جبر کرنا لازم آئے گا
عِنْدَ إِقَامَةِ الْبَيِّنَةِ عَلَى الْعَيْبِ
عِنْدَ إِقَامَةِ الْبَيِّنَةِ عَلَى الْعَيْبِ، جب وہ بینہ قائم کر دے کس پر؟ عیب پر، اور یہ بات درست بنے گی؟ درست نہیں بنے گی، لہٰذا اس کا عطف يَحْلِفَ پر کرنا صحیح... یہ سمجھا رہے تھے، خرابی سمجھا رہے تھے بھئی! یہاں تک بھئی۔
تو کہتے ہیں حاصل...
فَالْحَاصِلُ
حاصلِ کلام یہ:
أَنَّ الْمُشْتَرِيَ إِذَا ادَّعَى عَيْبًا
أَنَّ الْمُشْتَرِيَ إِذَا ادَّعَى عَيْبًا، اگر کہ مشتری جب عیب کا دعویٰ کر دے،
يُقِيْمُ بَيِّنَةً عَلَى دَعْوَاهُ
يُقِيْمُ بَيِّنَةً عَلَى دَعْوَاهُ، تو اپنے دعویٰ پر کیا قائم کرے گا؟ بینہ قائم کرے گا۔
اب ٹھیک صورت بتا رہے ہیں آپ کو، خرابی سمجھا دی، اب ٹھیک صورت بتلا رہے ہیں کہ مشتری جب عیب کا دعویٰ کر دے یا تو اسے بینہ قائم کرے گی... کرنی پڑے گی اپنے دعویٰ پر
وَيَرُدُّ
وَيَرُدُّ، اور جب بینہ قائم کر دے تو چیز کو کیا کر دے گا؟ واپس کر دے گا،
وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ
وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ، تو اگر... اور اگر اس کے پاس بینہ نہ ہوئی
يَحْلِفُ بَائِعُهُ أَنَّهُ لَا عَيْبَ
يَحْلِفُ بَائِعُهُ أَنَّهُ لَا عَيْبَ، تو قسم اٹھائے گا بائع کہ اس مبیع کے اندر عیب میرے پاس نہیں تھا،
وَحِيْنئِذٍ يُجْبَرُ عَلَى دَفْعِ الثَّمَنِ
وَحِيْنئِذٍ، اور اس صورت میں يُجْبَرُ عَلَى دَفْعِ الثَّمَنِ، اس کو مجبور کیا جائے گا ثمن کے حوالے کرنے پر،
لَا قَبْلَ الْحَلْفِ
لَا قَبْلَ الْحَلْفِ، حلف اٹھانے سے پہلے اس کو مجبور نہیں کیا جائے گا۔ سمجھ میں آیا؟ تو آپ قاضی بنے ہوں اور تو فوراً فیصلہ نہ کرنا۔
ایک نے عیب کا دعویٰ کیا ہے اور آپ نے اس سے بینہ طلب کی، وہ بینہ وہ پیش نہیں کر سکا تو آپ فوراً کہہ دیں: بینہ تیرے پاس نہیں ہے، اب کیا کرو پیسے حوالے کرو۔ پیسے حوالے کرنے پر دوسرے کو مجبور جب تک وہ دوسرے پر قسم کو پیش نہ کر دو اور وہ قسم نہ اٹھا لے بھئی۔
فأحد الأمرين ثابت، تو دو چیزوں میں سے ایک ضرور ثابت ہوگی۔ انہوں نے کیا کہا تھا بھئی؟ یقيمُ کا عطف کس پر کرنا ہے؟ لم يُجبر على دفع ثمنه حتى يحلف بايعه، یہ سارے جڑ رہے ہیں لم يُجبر سے۔ ان ساروں کا تعلق کس سے ہے؟ على دفع ثمنه حتى يحلف بايعه، سارے لم يجبر کے تحت ہیں بھئی۔
تو جب تو اس سارے کو اٹھا کر يقيم بينةً رکھو بھئی۔ فإن قبض مشتريه وادعى عيبا يقيم بينةً، ایک صورت۔ دوسری صورت: لم يجبر على دفع ثمنه حتى يحلفا، دو صورتیں۔ أو کے ساتھ عطف ہے نا، أو کس لیے آتا ہے؟ أحد الأمرين کے لیے، جائني زيد أو عمرو، میرے پاس زید آیا یا معلوم ہوا دونوں میں سے ایک آیا۔ تو یہاں أو کے ذریعے عطف ہے، تو ایک کو رکھو پہلے، جب اس نے عیب کا دعویٰ کیا تو یا تو یہ کرنا پڑے گا عدم جبر ہوگا على دفع ثمنه، ثمن کی ادائیگی پر حتى يحلف بايعه، یہاں تک کہ بائع کیا کر لے؟ قسم اٹھا لے۔ یا تو یہ ہوگا أو يقيم بينةً یا کیا ہوگا؟ وہ بینہ پیش کرے گا بھئی۔ دو صورتیں یہ ہیں بھئی، عدم جبر ہوگا یا بینہ ہوگا۔ کیا ہوگا؟ عدم جبر ہوگا یا بینہ ہوگا، دونوں میں سے ایک کام ضرور۔
تو أحد الأمرين، دو میں سے ایک بات ضرور ثابت ہوگی۔ یا تو بائع کیا پیش، مشتری کیا پیش کر دے گا؟ بینہ پیش کر دے گا، تو چیز کیا کر دی جائے گی؟ واپس۔ یا تو جب جب بھی عیب کا دعویٰ کرے گا، دو میں سے ایک کام ضرور ہوگا۔ یا تو بینہ پیش کر کے چیز کو واپس کر دیا جائے گا، یا مشتری کو جب تک بائع قسم نہ اٹھا لے، پیسوں کی ادائیگی پر مجبور، ہاں جب قسم اٹھا لے پھر کیا کریں گے؟ مجبور کریں گے۔
تو دو میں سے ایک چیز ضرور ثابت ہوگی، یا اقامت بینہ ثابت ہوگی تو چیز واپس، یا عدم جبر ہوگا جب تک وہ بائع قسم نہ اٹھا لے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ کہ مشکل ہے؟
تو کہتے ہیں: أحد الأمرين، دو چیزوں میں سے ایک ضرور ثابت ہوگی: إما إقامة البينة على وجود العيب، بھئی وہ يقيم بينةً کو جس کو پہلے ذکر کر دیا۔ کس کو کیا کر دیا؟ یہ پہلے ہی ہوگا نا، بینہ پہلے آتی ہے، قسم بعد میں آتی ہے۔ تو دو میں سے ایک چیز ضرور ثابت ہے: إما إقامة البينة على وجود العيب، یا تو بینہ قائم کرنی پڑے گی وجود عیب پر أو عدم الجبر، یا کیا کرنا پڑے گا؟ عدم، مجبور نہیں کر سکتے ثمن کی ادائیگی پر حتى يحلفا، یہاں تک کہ وہ بائع کیا کر لے؟ قسم اٹھا لے۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہ جب بھی مشتری عیب کا دعویٰ کرے، تو دو چیزوں میں سے ایک چیز ضرور ثابت ہوگی: یا تو اس کو بینہ قائم کرنا پڑے گی يا عدم جبر ہوگا جب تک بائع قسم نہ اٹھا لے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہذا يقيمُ کا عطف کس پر کرنا پڑے گا؟ لم يجبر۔ تو یہ لم يجبر أو تک جتنا ہے یہ سارا شمار کر رہا ہوں بھئی، صرف لم يجبر کا لفظ نہیں کہہ رہا۔ لم يجبر على دفع ثمنه حتى يحلف بايعه، یہ ایک صورت۔ أو يقيم بينةً، یہ دوسری صورت ہے۔
وإن نصب، اور اگر منصوب پڑھا جائے قولُه أو يقيما، کس کو ماتن کے قول أو يقيمُ کو منصوب پڑھا جائے فلَه وجهٌ، تو اس کی بھی ایک وجہ ہے۔ اس کی بھی ایک وجہ ہے۔
بائی یہاں سے بھئی یہ متن کی عبارت تھی بڑی پیچیدہ، بظاہر تو یہ غلط لگتی تھی بھئی۔ لیکن صاحب کتاب نے بتلایا کہ يقيمُ کا عطف لم يجبر پر کرو تو عبارت ٹھیک ہو جائے گی بھئی، اور اس کی تقریر کر کے انہوں نے آپ کو سمجھا بھی دیا۔ اور يقيما کا عطف يحلفا پر کرو تو وہ کیا کہتے تھے؟ معنی خراب ہو جاتا ہے، یہ تو غایہ بن جائے گا عدم جبر کے لیے، اور یہ عدم جبر کے لیے غایہ نہیں بن سکتا۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اب صاحب کتاب فرما رہے ہیں کہ بھئی اس کا عطف يحلفا پر کر دو، میں پھر بھی عبارت ٹھیک کر دیتا ہوں بھئی۔ اس کی ایک عجیب توجیہ بیان کرتے ہیں بھئی۔ پھر بھی کیا ہو جائے گی؟ عبارت ٹھیک۔ بھئی اس کا عطف کرو يحلفا پر، اور يحلفا حلف تو کیا ہے؟ غایہ۔ مغیا کون تھا؟ عدم جبر۔ عدم جبر تھا مغیا اور غایہ کیا کیا بن گئے؟ یا تو حلف یا اقامت بینہ۔ جب بھی حلف ہوگا، عدم جبر ختم ہو جائے گا۔ جب بھی اقامت بینہ ہوگی، جبر کیا ہو جائے گا؟ کہتے ہیں: میں بھی آپ کے سامنے ایسی توجیہ کرتا ہوں، یہ اس کے لیے غایہ بن جائے گا بھئی، دونوں صورتوں میں جبر کیا ہو جائے گا؟ ختم۔ جب بھی غایہ آ جائے، مغیا کی کیا ہو جایا کرتی ہے؟ انتہاء ہو جایا کرتی ہے بھئی۔
مغیا کون؟ پہلے مجھے بتلاؤ اچھی طرح، مغیا کون؟ عدم جبر کہو آسان لفظوں میں۔ مغیا کون؟ عدم جبر، اور غایہ اس کے کتنے؟ دو میں سے ایک ہے۔ یا تو حلفِ بائع ہے یا اقامتِ بینہ۔ اور انہوں نے اب عبارت کو ٹھیک کرنا ہے اسی طرح، ان کو غایہ ہی رکھنا ہے۔
تو کہتے ہیں بھئی: عدم جبر کو مشروط بنا لو، اس کے ساتھ ایک شرط لگا لو۔ اور وہ شرط کیا؟ کہ بیع کی وجہ سے ثمن کی ادائیگی واجب ہو چکی ہے۔ بیع کی وجہ سے ثمن کی ادائیگی واجب ہو چکی ہے، اس شرط کے ساتھ عدم جبر ہو۔
بھئی جب بھی کوئی شخص بیع کر لیتا ہے، چیز لے لیتا ہے، قبضہ کر لیتا ہے، تو اس پر کیا واجب ہو جاتے ہیں؟ ثمن واجب۔ تو یہ شرط ہے اس کے اندر کہ بیع کی وجہ سے ثمن کیا ہو چکے ہیں آپ پر؟ واجب ہو چکے ہیں۔ یہ ہے شرط، کس کے لیے ہے یہ شرط؟ عدم جبر کے لیے۔ عدم جبر ہوگا بہیں شرط کہ ثمن بیع کی وجہ سے واجب ہو چکے ہیں۔
عدم جبر، شرط کیا ہوئی بھئی؟ عدم جبر مشروط ہے، کس شرط کے ساتھ؟ بھئی مشکل ہے لفظوں سے زبان سے دہرائو، میں اسی لیے بار بار کہہ رہا ہوں۔ عدم جبر ہوا مشروط، اور اس کے ساتھ شرط کیا ہوئی؟ کہ بیع کی وجہ سے کیا واجب ہو چکے ہیں؟ ثمن واجب ہو چکے ہیں۔ دوبارہ ذکر کرو، عدم جبر مشروط ہے اور شرط کیا ہے اس کے ساتھ؟ کہ بیع کی وجہ سے ثمن واجب ہو چکے ہیں۔
تو اس اعتبار سے یہ عدم جبر مشروط ہے اس شرط کے وساط کہ بیع کی وجہ سے ثمن کیا ہیں؟ واجب ہو چکے ہیں۔ جی، اب صورت ٹھیک ہو گئی بھئی۔ صورت ٹھیک ہو گئی۔
تو یہ عدم جبر یہ مشروط ہے، اور شرط کیا ہے؟ بیع کی وجہ سے ثمن واجب ہو چکے، بیع کی وجہ سے ثمن واجب ہو چکے۔
اچھا، یہ ذہن میں رکھنا۔ اب دیکھو عدم جبر تھا مغیا، اور اقامت بینہ بھی اس کے لیے غایہ، اور حلف بائع بھی اس کے لیے غایہ۔ اب یہ مغیا ہے مولانا، اس کے لیے ایک غایہ بیان ہوا حلف بائع۔ بائع جب قسم اٹھا لے گا عدم جبر کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا، اور اس کو مجبور کیا جائے گا بھئی، کہ بیع کی وجہ سے ثمن کیا ہو چکے ہیں؟ واجب ہو چکے ہیں۔ وہ شرط ذہن میں ہے؟ عدم جبر جو مشروط تھا کس کے ساتھ؟ کہ بیع کی وجہ سے ثمن واجب ہو چکے، وہ عدم جبر ختم ہوا۔ جب عدم جبر ختم ہوا تو کیا آ گیا؟ جبر آ گیا، تو جبر بھی مشروط ہے کس کے ساتھ؟ اسی شرط کے ساتھ، کہ بیع کی وجہ سے ثمن کیا ہیں؟ واجب ہو چکے ہیں۔ بھئی جب بائع نے قسم اٹھا لی، "میں نے عیب دار چیز نہیں بیچی"، تو بیع پکی ہو گئی یا نہیں ہو گئی؟ اب واپس کر سکتا ہے؟ واپس نہیں کر سکتا، تو اب اس کو مجبور کیا جائے گا کہ بیع کی وجہ سے پیسے کیا ہو چکے ہیں؟ پیسے ادا کرو۔ تو عدم جبر جو مشروط تھا کس شرط کے ساتھ؟ کہ بیع کی وجہ سے ثمن اس کے لیے حلف بائع کیا بن گیا؟ غایہ بن گیا۔ کیا بن گیا؟ جب بھی وہ قسم اٹھا لے گا، عدم جبر کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا، عدم جبر اور کیا آ جائے گا؟ جبر آ جائے گا۔
اب اقامت بینہ کو ہم غایہ بناتے ہیں۔ کہ جب بھی مشتری بینہ قائم کر دے گا، تو وہ عدم جبر کیا ہو جائے گا؟ بھئی غایہ بنا رہے ہیں نا؟ غایہ جب پایا جائے، تو مغیا ختم، اس کی حد ہے بھئی۔ مغیا کون تھا؟ بھئی وہ مغیا کے لیے اسی کو اقامت بینہ کو بھی انہوں نے غایہ بنانا ہے اور ثابت کر رہے ہیں کہ عبارت پھر بھی ٹھیک رہتی ہے۔ تو مغیا کون؟ عدم جبر، اور غایہ کیا؟ اقامت بینہ۔ یہ عدم جبر کی انتہاء کب جا کر ہوگی؟ جب بینہ قائم ہو جائے گا تو عدم جبر بھی ختم ہو جائے گا بھئی۔
تو اب آپ مجھے بتائیے، جب عدم جب بینہ قائم ہو گئی، جب بینہ کیا ہو گئی؟ قائم ہو گئی۔ معلوم ہوا یہ عیب کس کے پاس سے آیا ہے؟ بائع کے پاس سے، تو وہ چیز اس کو کیا کر دی جائے گی؟ واپس کر دی جائے گی۔ جب چیز اس کو واپس کر دی، تو وہ شرط ختم ہو گئی۔ شرط کیا تھی؟ بیع کی وجہ سے ثمن واجب ہیں۔ اب تو بیع ہے؟ اب تو بیع ہی ختم، اب آپ کہہ سکتے ہیں بیع کی وجہ سے ثمن واجب ہیں؟ بیع کی وجہ سے، تو شرط ختم ہوئی اور شرط ختم ہو جائے تو مشروط بھی کیا ہو جایا کرتا ہے؟ ختم ہو جاتا ہے، اور مشروط کون تھا؟ عدم جبر، تو عدم جبر کی بھی انتہاء ہو گئی یا نہیں ہو گئی بھئی؟
سمجھ میں آیا مسئلہ؟
تو بیع کی وجہ سے ثمن واجب ہیں، یہ ہے مولانا شرط، اور اس کے لیے مشروط کیا تھا؟ عدم جبر۔ جب اس نے بینہ قائم کر دیا ہے تو پھر بیع ختم، جب بیع ختم تو بیع کی وجہ سے ثمن کا وجوب بھی، اور جب بیع کی وجہ سے ثمن کا وجوب ختم ہوا تو یہ تو تھی شرط، اور شرط ختم ہو تو مشروط بھی کیا ہو جایا کرتا ہے؟ ختم۔ تو مشروط کون تھا؟ عدم جبر، تو عدم جبر بھی کیا ہوا؟ ختم ہوا، تو دیکھا عدم جبر کے لیے اقامت بینہ غایہ بن گئی یا نہیں؟ بن گئی، کیا بن گئی؟ لیکن کون سے عدم جبر؟ جس کے لیے شرط کیا تھی؟ کہ بیع کی وجہ سے ثمن واجب ہو چکے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دیکھئے بھئی!
فلَه وجهٌ، تو اس کی بھی ایک وجہ ہے۔ وهو أن يكون المراد، وہ یہ کہ مراد بعدم الجبر على دفع الثمن، دفع ثمن پر جو عدم جبر ہے، اس سے کیا مراد ہو؟ عدم الجبر على دفعه بشرط أن يكون الثمن واجبا بحكم البيع، کہ عدم جبر جو ہے دفع ثمن پر یہ مشروط ہے، کس شرط کے ساتھ ہے؟ کہ ثمن واجب ہیں کس کی وجہ سے؟ بیع کے حکم کی وجہ سے۔ وهو مغيا بأحد الأمرين، اور وہ مغیا ہوا دو امور میں سے کسی ایک کا۔ إما الحلف، یا تو وہ حلف غایہ ہے کہ على أنه لا عيب، کہ اگر بائع حلف کس بات پر؟ اس بات پر کھائے گا بائع کہ اس چیز کے اندر کوئی عیب نہیں، فحينئذ يجبر على دفع الثمن، تو اس صورت میں عدم جبر ختم ہوگا اور اس کو مجبور کیا جائے گا دفع ثمن پر۔ أو إقامة البينة، یا غایہ کیا بنے گا؟ اقامت بینہ بنے گا، یعنی یہ مغیا ہے دو امور میں سے ایک کے لیے، یا تو حلف کے لیے مغیا ہے أو إقامة البينة، یا یہ مغیا ہے کس کے لیے؟ اقامت بینہ کے لیے، على وجود العيب، بینہ قائم کرنا کس چیز پر؟ وجود عیب پر، اس کے لیے مغیا ہے۔ فحينئذ يفسخ البيع، تو اس صورت میں قاضی بیع کو فسخ کر دے گا۔ جب بیع فسخ کرے گا فلا يبقى الثمن واجبا، تو ثمن واجب باقی ثمن کا وجوب باقی نہیں رہے گا، فينتهي عدم الجبر، تو پھر بھی کیا ہو جائے گی عدم جبر کی؟ کیونکہ عدم جبر تھا مشروط اور اس کے ساتھ شرط تھی کہ بیع کی وجہ سے کیا ہو چکے ہیں واجب؟ ثمن کی ادائیگی واجب ہو چکی ہے۔ تو جب شرط ختم، مشروط بھی ختم۔ فينتهي عدم الجبر بشرط كونه واجبا، تو وہ عدم جبر جو اس شرط کے ساتھ تھا کہ ثمن واجب ہیں، وہ بھی کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا بھئی۔ چلیے بس مولانا! هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔