Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-062

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 10
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔62 ومنها الإيغال وهو ختم الكلام بما يفيد غرضا يتم المعنى بدونه كالمبالغة في قول الخنساء رضي الله تعالى عنها: وإن صخرا لتأتم الهداة به ... كأنه علم في رأسه نار اطناب کی اقسام پڑھ رہے تھے ہم، اور صاحبِ کتاب نے آپ کو بتلایا تھا کہ کہ اطناب جو ہے کئی چیزوں کے ساتھ کیا جاتا ہے اور ان کی تفصیل بیان کر رہے تھے۔ اور آپ پڑھ چکے کہ اطناب کہتے ہیں کہ کلام جو ہے وہ اصلِ مراد پر زائد ہو، اور زائد بھی ہونا بھی یہ کسی فائدے کے لیے ہو، بغیر فائدے کے نہ ہو بھئی، فائدہ ہو اس کا۔ اور یہ بھی آپ پڑھ چکے کہ یہ اطناب یہ کلامِ بلیغ کی قسم ہے بھئی۔ عام کلام کے اندر ایجاز، اطناب اور مساوات، یہ تقسیم جاری نہیں ہوتی بھئی، بلکہ یہ کس کلام میں ہوگی؟ کلامِ بلیغ کے اندر۔ جی تو اطناب کی بہت سی صورتیں انہوں نے ذکر کر دیں، آگے مزید قسمیں ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: «ومنها الإيغال» اور وہ چیزیں جن کے ساتھ اطناب کیا جاتا ہے ان میں سے ایک ایغال ہے، ایغال۔ ایغال کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: «وهو ختم الكلام بما يفيد غرضا» وہ ختم کرنا ہے کلام کو ایسی چیز کے ساتھ «يفيد غرضا» جو فائدہ دے غرض کو، جو کس کو فائدہ دے؟ غرض اور جو مقصد ہے اس کا اس کو فائدہ دے، «يتم المعنى بدونه» پورا ہوتا ہو معنیٰ اس کے بغیر بھی۔ ایغال اس کو کہتے ہیں کہ کلام کے آخر میں دیکھو کلام کو ختم کرنا یعنی کلام کے آخر میں، کلام کے آخر میں ایسی چیز لانا، ایسی ایسا لفظ ذکر کرنا جو جو غرض کے اندر فائدہ دے، کس کے اندر؟ جو مقصد ہے اس مقصد میں فائدہ دے اور اس کے بغیر بھی معنیٰ پورا ہو رہا تھا۔ اس آخری والے لفظ کو ذکر کیے بغیر بھی معنیٰ مراد پورا تھا، لیکن اس کو بھی کہنے والا وہ متکلمِ بلیغ جو ہے وہ ذکر کر دیتا ہے تاکہ وہ جو مقصد ہے وہ اور واضح ہو جائے۔ مقصد کیا ہے؟ اور واضح ہو جائے۔ دیکھیے مثال سے بات سمجھ میں آئے گی بھئی۔ «كالمبالغة في قول الخنساء رضي الله تعالى عنها» جیسے کہ مبالغہ ہے خنساء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قول میں۔ خنساء رضی اللہ تعالیٰ عنہا یہ عرب کی بہت مشہور شاعرہ، بہت مشہور شاعرہ اور حتیٰ کہ جریر جو ہے جو عرب کے مشہور ترین شعراء میں سے ایک شاعر گزرا ہے، اس سے خنساء کے مقام اور مرتبے کا شاعری میں جو ان کا مقام اور مرتبہ تھا اس کا اندازہ لگائیں کہ جریر کہتا ہے کہ اگر خنساء نہ ہوتی تو میں عرب کا سب سے بڑا شاعر تھا بھئی۔ تو اتنا اونچا مقام تھا ان کا شاعری میں۔ اور دیکھو اللہ نے اسلام کی دولت بھی نصیب فرمائی۔ قادسیہ کی جنگ کے اندر، قادسیہ کے عظیم معرکے کے اندر انہوں نے اپنے بیٹوں سمیت شرکت کی اور اس جنگ میں ان کے چار بیٹے شہید ہو گئے بھئی، چار بیٹے۔ اور اس پر پھر انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اللہ نے ان کے چار بیٹوں کو شہادت نصیب فرمائی ہے بھئی۔ تو یہ عجیب لوگ تھے صحابہ کہ انسان جو ہے ان کو ان کے سن ان کی باتیں سن کر انسان حیران رہتا ہے کہ یہ کیسے لوگ تھے، اللہ نے ان کو کیسی عظیم صفات نصیب فرمائی تھیں۔ تو وہ کہتی ہیں، ان کا یہ شعر ہے: «وإن صخرا لتأتم الهداة به كأنه علم في رأسه نار»۔ ان کا بھئی تھا صخر بھئی، صخر۔ «وإن صخرا» یہ صخر جو لفظ ذکر آ رہا ہے یہ ان کے بھئی کا نام ہے اور یہ اس کا انتقال ہو گیا تھا اور یہ اس کے غم میں بڑے اشعار کہا کرتی تھیں بھئی۔ بھئی کے ساتھ بہت زیادہ محبت تھی ان کو تو اس کے غم میں اشعار کہتیں بھئی۔ تو دیکھیے کہتی ہیں: «وإن صخرا» اور بیشک صخر جو ہے، «لتأتم الهداة به»، ائتمّ کے معنی ہوتے ہیں اقتداء کرنا، کسی کی پیروی کرنا۔ الہداۃ جمع ہے ہادی کی، ہادی۔ ہادی کا کیا معنی ہے؟ رہنمائی کرنے والا، رہنمائی کرنے والا۔ بھئی ایک ہوتا ہے ہادی، ایک ہے مہتدی۔ ہادی ہادی اسے کہتے ہیں جو دوسروں کی رہنمائی کرتا ہے اور مہتدی اسے کہتے ہیں جو خود سیدھے راستے پر ہوتا ہے، ہدایت پر ہوتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ جو خود راہِ راست پر ہے، سیدھے راستے پر ہے، ہدایت پر ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ مہتدی۔ اور جو خود تو ہدایت پر ہے ہی، دوسروں کو کی بھی رہنمائی کرتا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ ہادی کہتے ہیں۔ تو یہ ہداۃ ہادی کی جمع ہے۔ تو کہتی ہے شاعرہ: «وإن صخرا لتأتم الهداة به» اور بیشک صخر جو ہے کہ اقتداء کرتے ہیں، پیروی کرتے ہیں یا یوں کہیں رہنمائی لیتے ہیں «الهداة به» ہدایت دینے رہنمائی کرنے والے بھی بہ: اس کے ساتھ۔ رہنمائی کرنے والے بھی اس سے رہنمائی لیتے ہیں، وہ صخر کا اتنا اونچا مقام ہے۔ میں نے بتایا ایک ہے مہتدی اور ہادی اس سے اونچا درجہ، اور کہہ رہی ہے صخر کا ان سے بھی اونچا مقام ہے کہ ہادی جو رہنمائی کرنے والے ہیں وہ بھی کس کی پیروی کرتے ہیں؟ صخر کی پیروی کرتے ہیں، اس سے اس سے رہنمائی لیتے ہیں۔ «وإن صخرا لتأتم الهداة به» اور بیشک صخر جو ہے «لتأتم الهداة به» البتہ اقتداء کرتے ہیں رہنمائی کرنے والے بھی بہ: اس کی، «كأنه علم» گویا کہ وہ ایک پہاڑ ہے۔ علم کے کئی معانی آتے ہیں بھئی، یہاں علم پہاڑ کے معنی میں ہے۔ «كأنه علم» گویا کہ وہ ایک پہاڑ ہے، «في رأسه نار» ایسا پہاڑ جس کے سر پر آگ ہو یعنی جس کی چوٹی پر کیا ہو؟ آگ ہو۔ اب دیکھیے علمٌ آیا نکرہ اور نکرہ کے بعد فعل آتا تھا اس کے لیے کیا بنتا تھا؟ صفت۔ کیوں صفت بنتا تھا؟ کیونکہ فعل اپنے فاعل یا نائب فاعل سے مل کر کیا بنتا ہے؟ جملہ، اور جملہ کس کے حکم میں؟ نکرہ کے حکم میں، تو نکرہ کے بعد گویا نکرہ آ جاتا ہے تو وہ اس کے لیے صفت بنتا ہے۔ اور چاہے جملہ فعلیہ ہو چاہے جملہ اسمیہ ہو، جملہ نکرہ ہوتا ہے۔ تو یہاں علمٌ کے بعد فعل تو نہیں آیا البتہ جملہ اسمیہ آ گیا، جملہ آ گیا، اور جملہ کس کے حکم میں؟ نکرہ کے۔ تو آگے جملہ اسمیہ ہے: «في رأسه» یہ ہے خبرِ مقدم اور «نار» یہ ہے مبتدائے مؤخر۔ تو یہ جملہ اسمیہ یہ صفت ہے علم کی، تو گویا ترجمہ کس طرح کریں گے؟ «كأنه علم في رأسه نار» گویا کہ وہ ایک ایسا پہاڑ ہے جس کی چوٹی پر آگ جل رہی ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ اب دیکھیے، شاعرہ کہنا یہ چاہتی ہے کہ اس کا بھئی صخر جو ہے اس سے ہدایت دینے یعنی رہنمائی کرنے والے جو ہیں وہ بھی اس کی اقتداء کرتے ہیں، اس سے راستہ اس کی مدد سے راہ پاتے ہیں، «كأنه علم» گویا کہ وہ پہاڑ ہے۔ اصلِ مقصود اسی تک یہیں تک بات ہو جاتی تو ادا ہو جاتا تھا، کیونکہ پہاڑ رہنمائی کرنے میں سب سے واضح چیز ہے۔ بھئی دیکھیے، عرب کا علاقہ صحرائی علاقہ ہے اور سینکڑوں میلوں تک صحرا ہی صحرا ہر طرف پھیلا ہوتا ہے، اور اس میں اگر کوئی صحرا میں چلا جائے، راستے کا کچھ پتہ نہیں چلتا اور پھر اس کا زندہ بچ کر نکلنا بڑا ہی مشکل ہوتا ہے۔ کیونکہ پھر گھومتے گھومتے ادھر کو ہی آ جاتا ہے، پھر گھومتے ہوئے ہر طرف ریت کے ٹیلے پھیلے ہوتے ہیں، راستے کا پتہ ہی نہیں چلتا بالکل۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ راستے کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ ہاں، البتہ اگر پہاڑ ہو پھر راستے کا پتہ چلتا ہے۔ پتہ لگ جائے گا کہ پہاڑ اس ہاتھ پہ ہے میں نے اس طرف کو جانا ہے، اور ورنہ اگر ہر طرف ریت ہو پھر تو کچھ اندازہ ہی نہیں ہوتا بھئی۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو انسان گھومتے ہوئے پھر اسی جگہ کی طرف آ جاتا ہے۔ تو جیسے آپ نے پچھلے دنوں شاید اخبار میں خبر بھی پڑھی ہو کہ تھے ایک یا دو عرب شہزادے جو ہیں وہ صحرا کے اندر بھئی کھو گئے، راستہ گم ہو گیا اور صحرا میں ہی مر گئے، بعد میں ان کی لاشیں وغیرہ ملیں۔ حالانکہ آج کل جدید ترین چیزیں ہیں سب کچھ، ان کے پاس گاڑیاں بھی تھیں سب کچھ تھا، لیکن صحرا کے اندر جب انسان جب ہر طرف سینکڑوں میل تک صحرا ہی صحرا پھیلا ہو، پھر وہاں سے نکلنا بڑا مشکل ہوتا ہے، پتہ ہی نہیں چلتا بھئی راستے کا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اب خنساء کہتی ہیں کہ میرا بھئی صخر جو ہے، رہنمائی کرنے والے بھی اس سے رہنمائی لیتے ہیں، گویا کہ وہ ایک پہاڑ ہے بھئی، پہاڑ ہے۔ اب یہ دیکھیے، بھئی جو شخص صحرا میں بھی کسی کی رہنمائی کرتا ہے، بھئی پہلے لوگ رہنماؤں کو ساتھ لیتے تھے کہ راستے کا پتہ لگے فلاں دور جانا ہے تو رہنما ساتھ ہوتے تھے، تو اب رہنما کوئی اپنے حافظے سے تو نہیں چلتا، وہ بھی کس کو دیکھ کر چلتا ہے؟ نشانیاں ہوتی ہیں اس کے ذہن میں وہ نشانیوں سے چلتا ہے۔ تو رہنما بھی دیکھو جب پہاڑ ہوگا، پہاڑ اس کے لیے رہنمائی کا کام دے گا، اس کے لیے نشانی بن جائے گا کہ ادھر سے جانا ہے اور اس طرف کو جانا ہے۔ تو وہ کہتی ہے میرا بھئی صخر جو ہے وہ رہنمائی کرنے والے بھی اس سے رہنمائی لیتے ہیں، گویا کہ وہ ایک پہاڑ ہے۔ جب اتنی بات کہہ دی، مقصد واضح ہو گیا۔ کیونکہ جب پہاڑ ہے تو یقیناً پھر رہنمائی کرنے والے بھی اس سے رہنمائی لیتے ہیں، کیونکہ رہنمائی کرنے والے بھی نشانیوں میں سے کس کو رکھتے ہیں؟ پہاڑ کے ذریعے کوئی نشانیوں میں رکھتے ہیں اس کے ذریعے رہنمائی لیتے ہیں۔ تو اس سے بات پوری ہو گئی تھی اور اس کا مقصد واضح ہو گیا تھا۔ لیکن جو آگے اس نے کہا نا «في رأسه نار» ایسا پہاڑ جس کی چوٹی پر کیا ہو؟ آگ ہو، اس نے اور مبالغہ پیدا کر دیا۔ دیکھیے بھئی، ایک ہے عام پہاڑ، وہ بھی رہنمائی کا کام سرانجام دے گا، اور ایک وہ پہاڑ ہے جس کی چوٹی پر آگ جل رہی ہو، وہ کتنا ہی کامل ہوگا رہنمائی کرنے میں، بالخصوص رات کا وقت ہو تو ایک پہاڑ ہے بغیر آگ کے اور ایک پہاڑ ہے جس کی چوٹی پر خوب روشن آگ ہو، تو کون سا پہاڑ رہنمائی میں زیادہ کامل ہوگا؟ جس کی چوٹی پر آگ ہو۔ تو اس نے دیکھو اسی مقصد میں فائدہ دیا، اس میں اور مبالغہ کر دیا کہ عام پہاڑ تو رہنمائی کا فائدہ دیتے ہیں وہ عام پہاڑ کی طرح بھی نہیں ہے، ایسے پہاڑ کی طرح ہے جس کی چوٹی پر آگ جل رہی ہو جو رہنمائی میں بڑا ہی کامل ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو گویا اصلِ مقصد پورا ہو رہا تھا «وإن صخرا لتأتم الهداة به»، «لتأتمَّ» نہیں بھئی، «لتأتمُّ» ہونا چاہیے بھئی، «لتأتمُّ»۔ «وإن صخرا لتأتم الهدات به» اور بیشک صخر جو ہے البتہ رہ رہنمائی لیتے ہیں «الهداة به» رہنمائی کرنے والے بھی اس سے، «كأنه علم» گویا کہ وہ ایک پہاڑ۔ تو اصلِ مقصد اور اصل معنیٰ یہیں تک پورا ہو جاتا تھا۔ «في رأسه نار» یہ کیا ہے؟ ایغال ہے، کلام کے اختتام پر ایسے لفظ لے آنا جس سے اس معنیٰ کے جو اس مقصد کے اندر فائدہ دے۔ یہاں اس نے اس مقصد میں کیا فائدہ دیا؟ مبالغہ پیدا کر دیا، اور اس کے بغیر بھی معنیٰ پورا ہو رہا تھا اگر «كأنه علم» تک کہہ دیا جاتا تو بھی بات پوری تھی بھئی۔ معنیٰ سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنیٰ ہے، اب دوبارہ ترجمہ دیکھیے: «ومنها الإيغال» اور اطناب کی اقسام میں سے ایک ایغال ہے، «وهو ختم الكلام بما يفيد غرضا» اور وہ ختم کرنا ہے کلام کو ایسے لفظ کے ساتھ «يفيد غرضا» جو غرض اور مقصد کو فائدہ دے، «يتم المعنى بدونه» پورا ہو رہا ہو معنیٰ اس کے بغیر بھی، «كالمبالغة في قول الخنساء رضي الله تعالى عنها» جیسے کہ مبالغہ ہے خنساء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قول میں: بیشک «وإن صخرا» بیشک صخر جو ہے «لتأتم الهداة به» البتہ رہنمائی لیتے ہیں رہنمائی کرنے والے بھی اس سے، «كأنه علم» گویا کہ وہ ایک پہاڑ ہے، «في رأسه نار» جس کے سر پر آگ ہے۔ «ومنها التذييل» اور وہ چیزیں جن کے ساتھ اطناب کیا جاتا ہے ان میں سے ایک تذییل ہے، «وهو تعقيب الجملة بأخرى» اور وہ پیچھے لانا ہے ایک جملے کے «بأخرى» دوسرے جملے کو «تشتمل على معناها» جو اسی پہلے جملے کے معنیٰ پر مشتمل ہو «تأكيدا لها» اس کے لیے تاکید کے طور پر۔ تذییل کسے کہتے ہیں؟ ایک جملے کے بعد دوسرے جملے کو اس کے پیچھے لانا یعنی دوسرے جملے کو اس کے بعد لانا، اور یہ جو دوسرا جملہ ہے یہ اسی پہلے جملے کے معنیٰ پر مشتمل ہو یعنی بعینہٖ وہی جملہ نہ ہو لیکن اس کے معنیٰ پر مشتمل ہو، اور «تأكيدا لها» کس لیے لایا جاتا ہے اس کو؟ بطورِ تاکید کے۔ پھر «وهو إما أن يكون جاريا مجرى المثل» پھر وہ دو قسم پر ہے: یا تو وہ جاری مجرائے مثل ہوگا یعنی قائم مقام ضرب المثل کے ہوگا۔ بھئی ضرب المثل آپ جانتے ہوں گے، بعض اوقات کوئی جملہ، بامعنی جملہ وہ کسی موقع پر پیش آتا ہے، اس موقع پر کوئی کہہ دیتا ہے اور پھر وہ ضرب المثل بن جاتا ہے، یعنی لوگوں میں مشہور اور رائج ہو جاتا ہے اور اس طرح کا موقع جہاں کہیں بھی آئے لوگ اس جملے کو بولتے ہیں۔ لوگ کیا کرتے ہیں؟ اس جملے کو استعمال کرتے ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ استعمال کرتے ہیں، محاورات، ضرب الامثال وغیرہ۔ تو اب وہ بامعنی جملہ ہوتا ہے، وہ پیش تو کسی خاص موقع پر آیا تھا لیکن عام لوگ اس طرح کا موقع جہاں کہیں بھی آ جائے وہی جملہ استعمال کرتے ہیں اور اس کو بولتے ہیں بھئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ضرب المثل کہتے ہیں۔ اب دیکھیے، یہ تذییل دو قسم پر ہے: تذییل کسے کہتے تھے؟ ایک جملے کے بعد ایسے دوسرے جملے کو لانا جو اسی پہلے جملے کے معنیٰ پر مشتمل ہو، اور یہ اس میں کیا پیدا کر رہا ہے پہلے جملے کے معنیٰ میں؟ تاکید پیدا کر رہا ہے، اس کو پختہ کر رہا ہے، مضبوط کر رہا ہے۔ اور یہ دوسرا جملہ جو ہے پھر یاد رکھیے، یہ کبھی تو مستقل ہوگا یعنی اس کا معنیٰ پورا ہوگا، پہلے جملے سے ساتھ جوڑے بغیر ہی اس کو الگ کر دیں تب بھی یہ اپنا پورا معنیٰ ادا کرے گا۔ تو اس کو کہیں گے کہ یہ قائم مقام ہے ضرب المثل کے، کس کے قائم مقام ہے؟ یعنی پورا معنیٰ ادا کر رہا ہے، جیسے ضرب المثل بھی کیا ہوتی ہے؟ ایک پورا جملہ ہوتا ہے جو ایک پورا معنیٰ کیا کر رہا ہے؟ ادا۔ اور بعض اوقات تذییل کے اندر جو دوسرا جملہ آتا ہے وہ مستقل نہیں ہوتا، یعنی پہلے جملے کو ملائے بغیر اس کا معنیٰ پورا نہیں ہوتا۔ پہلے جملے کو ملائے بغیر اس کا معنیٰ؟ تو اس کو کہیں گے کہ یہ جاری مجرائے ضرب المثل نہیں ہے، جاری مجرائے ضرب المثل نہیں۔ اور اگر مستقل ہو دوسرے جملے کا معنیٰ تو اس کو کیا کہیں گے؟ یہ جاری مجرائے ضرب المثل ہے یعنی اس کے قائم مقام ہے۔ تو کہتے ہیں: «وهو إما أن يكون جاريا مجرى المثل» اور وہ تذییل جو ہے یا تو جاری مجرائے مثل ہوگا یعنی ضرب المثل کے قائم مقام ہوگا۔ بھئی کیوں اس کے قائم مقام کیوں ہوگا؟ کہتے ہیں: «لاستقلال معناه» اس کا معنیٰ مستقل ہونے کی وجہ سے، «واستغنائه عما قبله» اور اس وجہ سے کہ یہ ماقبل سے بے نیاز ہے، بے پرواہ ہے۔ بھئی دوسرا جملہ جب اپنا معنیٰ پورا ادا کر رہا ہے، پہلے جملے کے ساتھ جڑے بغیر صرف دوسرا جملہ بھی کہیں تو پوری بات ہے اس کے اندر، پوری بات۔ تو اس یہ کیا کہیں گے؟ یہ قائم مقام کس کے ہے؟ ضرب المثل، کیونکہ اس کا معنیٰ مستقل ہے یعنی پورا ہے، اور یہ ماقبل سے بے نیاز ہے، ماقبل سے کے ساتھ جڑے بغیر بھی یہ اپنا پورا معنیٰ ادا کر دیتا ہے۔ «كقوله تعالى» جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے: «جاء الحق وزهق الباطل إن الباطل كان زهوقا»۔ اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرما رہے ہیں کہ آپ کہہ دیجیے: «جاء الحق» حق آ گیا «وزهق الباطل» اور باطل مٹ گیا، «إن الباطل كان زهوقا» بیشک باطل مٹنے ہی والا ہے، بیشک باطل بیشک باطل مٹنے والا ہے یعنی باطل تو مٹ ہی جاتا ہے، باطل برقرار نہیں رہتا۔ اب دیکھیے بھئی، ایک جملہ یہاں آیا تھا «وزهق الباطل»، آگے اگلا جملہ جو اس کے پیچھے لایا گیا وہ اسی کے معنیٰ پر مشتمل ہے: «إن الباطل كان زهوقا»۔ پہلے جملے میں بھی باطل کے کمزور ہونے اور مٹنے کا ذکر تھا، دوسرے جملے میں بھی کیا ذکر ہے؟ اس کے مٹ جانے کا ذکر ہے۔ تو یہ اسی کے معنیٰ میں تاکید پیدا کر رہا ہے، اور نیز یہ دوسرا جملہ مستقل ہے: «إن الباطل كان زهوقا»۔ ماقبل کا کلام اگر ہٹا دیا جائے صرف یہ کہا جائے: «إن الباطل كان زهوقا» بیشک باطل مٹنے والا ہے، دیکھو معنیٰ پورا ہے۔ ماقبل کا یہ محتاج نہیں، اور لوگ بھی اس کو یہ ضرب المثل کے قائم مقام ہے، لوگ بھی اس کو استعمال کرتے ہیں، جہاں کہیں باطل کی سے کا مقابلہ آتا ہے لوگ یہی کہتے ہیں: «إن الباطل كان زهوقا» باطل تو مٹنے والا ہے، باطل تو مٹ ہی جاتا ہے بھئی۔ یہ پہلی قسم تھی۔ «وإما أن يكون غير جار مجرى المثل» اور یا وہ دوسرا جملہ ہو جو ہے وہ جاری مجرائے ضرب المثل نہیں ہوتا یعنی قائم مقام ضرب المثل نہیں ہوتا، «لعدم استغنائه عما قبله» اس وجہ سے کہ یہ ماقبل سے بے نیاز نہیں ہوتا، ماقبل کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے بغیر دوسرے جملے کا معنیٰ ہی پورا نہیں ہوتا۔ «كقوله تعالى» جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے: «ذلك جزيناهم بما كفروا وهل نجازي إلا الكفور»۔ «ذلك جزيناهم» یہ ہم نے ان کو بدلہ دیا «بما كفروا» بوجہ اس کے جو انہوں نے کفر کیا یعنی انہوں نے جو ناشکری کی۔ بھئی قومِ سبا کا ذکر آتا ہے قرآن کے اندر، وہ قوم جس پر اللہ نے بڑے انعامات اور بڑا فضل اور احسان فرمایا تھا کہ ان کی آب و ہوا بھی خوشگوار تھی، جگہ بھی خوبصورت تھی، باغات بھی اللہ نے نصیب فرمائے تھے، اطمینان اور سکون بھی نصیب فرمایا تھا، لیکن اللہ فرماتے ہیں انہوں نے ہماری ناشکری کی تو ہم نے ان پر سیلاب بھیجا، بند انہوں نے بنایا ہوا تھا وہ بند ٹوٹ گیا اور وہ سارے ان کے باغات وغیرہ سب کچھ ختم ہوئے، اجڑ گئے اور وہاں وہ باغات جو پھل دار درخت تھے اتنی کثرت سے پھل ہوتے تھے، ان کی جگہ صرف کانٹے دار درخت اور خشک درخت ہی کچھ باقی بچ گئے، باقی سب کچھ ختم ہو گیا۔ تو اسی کا ذکر فرما رہے ہیں اللہ: «ذلك جزيناهم بما كفروا» یہ ہم نے ان کو بدلہ دیا، کون سا بدلہ؟ یہ جو سیلاب بھیجا ہم نے ان پر اور یہ جو ان کے باغات کو ہم نے ختم کر دیا، ان سے نعمتیں چھین لیں۔ یہ بدلہ ہم نے ان کو دیا «بما كفروا» اس وجہ سے کہ انہوں نے کیا کیا تھا؟ ناشکری کی تھی۔ تو اللہ فرماتے ہیں: «ذلك جزيناهم بما كفروا» یہ بدلہ ہم نے ان کو دیا ان کی ناشکری کی وجہ سے، «وهل نجازي إلا الكفور»، ہل جب الا کے ساتھ آئے تو یہ بمعنیٰ حرفِ نفی کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ ای ما نجازی یا لا نجازی الا الکفور، ہم بدلہ ہم بدلہ نہیں دیتے یہ والا، بدلے سے کون «هل نجازي»، یہ نجازی سے کون سا بدلہ مراد ہے؟ یہ جو پیچھے ابھی ذکر ہوا تھا، ہم یہ والا بدلہ نہیں دیتے «إلا الكفور» مگر ناشکروں کو ہی۔ ہم یہ والا بدلہ نہیں دیتے مگر ناشکروں کو ہی، یعنی ہم ناشکروں ہی کو یہ والا بدلہ دیتے ہیں۔ اب دیکھیے، ماقبل والا کلام کیا ہے؟ «ذلك جزيناهم بما كفروا» یہ تھا پہلا جملہ، اور «وهل نجازي إلا الكفور» یہ دوسرا جملہ اس کے پیچھے لایا گیا، اور یہ اسی کے معنیٰ پر مشتمل ہے۔ پہلے میں بھی کیا ذکر تھا؟ کفرانِ نعمت پر بدلے کا ذکر تھا، دوسرے میں بھی یعنی یوں کہیں، ناشکری پر سزا کا ذکر تھا، دوسرے جملے میں بھی ناشکری پر سزا کا ذکر ہے، تو یہ اسی کے معنیٰ پر مشتمل ہوا، اسی کی تاکید ہوا۔ اور نیز یہ دوسرا جملہ مستقل نہیں: «وهل نجازي إلا الكفور»، کیا معنیٰ ہے؟ ہم یہ والا بدلہ نہیں دیتے مگر ناشکروں کو۔ اب دیکھیے، اس کو اکیلا رکھیں تو بات پوری سمجھ میں نہیں آتی: ہم یہ والا بدلہ نہیں دیتے مگر ناشکروں کو، سننے والے کو پتہ ہی نہیں چلے گا بھئی کون سی کون سا بدلہ؟ تو ماقبل کا کلام اس کے ساتھ جڑا ہونا چاہیے، پھر ہی پتہ چلے گا کہ یہ والا بدلہ جس کی ابھی پیچھے بات ہوئی تھی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہاں پر بھی ایک جملے کو دوسرے جملے کے عقب میں لایا گیا اور وہ اسی کے معنیٰ پر مشتمل ہے، لیکن یہ جملہ مستقل نہیں یعنی اپنے معنیٰ پورا ادا نہیں کر رہا، یہ ماقبل کے جملے کا محتاج ہے تو یہ ضرب المثل کے قائم مقام نہ ہوا، ضرب المثل کے قائم مقام نہ ہوا۔ جبکہ پہلا جملہ «إن الباطل كان زهوقا» پہلی مثال، اس میں وہ جملہ مستقل تھا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور یہ بھی یاد رکھیے، «وهل نجازي إلا الكفور» اور ہم بدلہ نہیں دیتے، کون سا بدلہ؟ یہ والا۔ اگر یہ والا بدلہ مراد لیں پھر یہ قسمِ ثانی کی مثال ہے۔ اور اگر یہ والا کی قید ہٹا دیں: ہم بدلہ نہیں دیتے مگر کس کو، یعنی ہم سزا نہیں دیتے مگر کس کو؟ ناشکرے کو، یوں ترجمہ اگر کریں تو پھر یہ پہلی قسم میں چلا جائے گا، کیونکہ اب مستقل بن گیا۔ اگر ترجمہ کیا کریں؟ ہم یہ والا بدلہ نہیں دیتے، پھر تو یہ والا کون سا بھئی یہ والا؟ اس کے لیے ماقبل کی ضرورت ہے۔ اور اگر یہ والے کی قید ہٹا دیں صرف یہ ترجمہ: ہم سزا نہیں دیتے مگر ناشکروں کو، اگر یہ معنیٰ کیا جائے یعنی اس یہ متعین سزا کی طرف اشارہ نہ مانا جائے، تو پھر اس صورت میں یہ پہلی قسم بن جائے گا جو اپنا معنیٰ ادا کرنے میں مستقل ہے۔ کیونکہ اب مستقل بن جائے گا اگر اس کو اس کی طرف اشارہ نہ مانا جائے: ہم بدلہ ہم سزا نہیں دیتے مگر نا یعنی ہم صرف ناشکروں ہی کو سزا دیتے ہیں۔ کیا معنیٰ بن جائے گا؟ ہم صرف ناشکروں ہی کو سزا دیتے ہیں، پھر تو یہ مستقل بن جائے گا، یہ پہلی قسم میں داخل ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تذییل کسے کہتے ہیں؟ ایک جملے کے بعد دوسرے جملے کو لایا جائے جو اسی کے معنیٰ پر مشتمل ہو اور اس میں کیا کر رہا ہو؟ تاکید پیدا کر رہا ہو۔ اور یہ کتنی قسم پر؟ دو۔ دوسرا جملہ اگر مستقل ہے تو وہ ضرب المثل کے قائم مقام ہوگا، یہ پہلی قسم۔ اور اگر دوسرا جملہ مستقل نہیں ہے یعنی پہلے جملے کا بھی محتاج ہے، اس کے بغیر معنیٰ ہی پورا سمجھ میں نہیں آتا تو پھر یہ دوسری قسم ہوا اور یہ ضرب المثل کے قائم مقام نہیں ہے۔ آگے دیکھیے: «ومنها الاحتراس» اور وہ چیزیں جن کے ساتھ اطناب کیا جاتا ہے ان میں سے ایک احتراس ہے، «وهو أن يؤتى في كلام يوهم خلاف المقصود بما يدفعه» احتراس «وهو» وہ یہ ہے «أن يؤتى في كلام» کہ لایا جائے «في كلام يوهم»، کلامٍ نکرہ آیا، یوہم فعل آیا اس کے بعد، نکرہ کے بعد فعل آئے تو کیا بناتے ہیں؟ صفت اس کے لیے، اور موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی۔ تو وہ یہ ہے «أن يؤتى» لایا جائے «في كلام» ایسے کلام میں «يوهم خلاف المقصود» جو خلافِ مقصود کا وہم ڈال رہا تھا، اس کے پیچھے ایسے کلام میں لایا جائے، کیا لایا جائے؟ «بما يدفعه» ایسے لفظ کو جو اس کو کیا کر دے، اس خلافِ مقصود کے وہم کو دور کر دے۔ بھئی دیکھیے، احتراس یہ ہے کہ ایک کلام آپ ذکر کرتے ہیں کلامِ بلیغ، لیکن اس کلامِ بلیغ سے خلافِ مقصود کا وہم پڑتا ہے، تو آپ کلام کے بیچ میں کوئی ایسا لفظ ذکر کر دیتے ہیں جس سے وہ خلافِ مقصود کا وہم ختم ہو جاتا ہے۔ خلافِ مقصود کا وہم ختم ہو جاتا ہے۔ تو اصل مقصود سے زائد چیز آپ نے ذکر کر دی، اصل مقصود تو وہ کلام تھا۔ یہ جو آپ نے وہم کو دور کرنے کے لیے بیچ میں لفظ بڑھایا، یہ تو اصلِ مراد پر زائد ہے تو یہ ہے اطناب۔ اطناب بھی کس کو کہتے ہیں کہ کلام کیا ہو؟ اصلِ مراد پر زائد ہو کسی فائدے کے لیے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ احتراس کسے کہتے ہیں؟ کہ کلام اصلِ مراد پر دلالت کر رہا ہے لیکن وہ خرابی کیا لازم آ رہی ہے؟ اس سے خلافِ مقصود کا وہم بھی پڑ رہا ہے، تو اس وہم کو دور کرنے کے لیے آپ درمیان میں ایک لفظ بڑھاتے ہیں، اس کو کہتے ہیں احتراس، احتراس۔ جیسے دیکھیے مثال سے بات سمجھ میں آئے گی: «فسقى ديارك غير مفسدها صوب الربيع وديمة تهمي»۔ شاعر کسی کو دعا دے رہا ہے: «فسقى ديارك» پس سیراب کرے، سقیٰ کے معنیٰ؟ سیراب کرنا۔ پس سیراب کرے «ديارك»، دیار جمع ہے دار کی۔ «ديارك» تمہارے گھروں کو، «غير مفسدها» ذرا اس کو چھوڑ دیں آگے، سیراب کرے تمہارے گھروں کو «صوب الربيع»، صوب کہتے ہیں بارش کو، ربیع کہتے ہیں بہار۔ سیراب کرے تمہارے گھروں کو بہار کی بارش «وديمة تهمي»، دیمۃ کہتے ہیں وہ ہلکی بارش جو مسلسل ہوتی ہے بھئی، جو مسلسل ہوتی رہتی ہے، اسے کیا کہتے ہیں؟ دیمۃ۔ اور کم از کم یہ سات اٹھ گھنٹے تک مسلسل ہوتی ہے اور زیادہ سے زیادہ بعض اوقات یہ ہفتے تک مسلسل ہوتی رہتی ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ دیمۃ، جسے غالباً جھڑی کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ جھڑی۔ تو یہ ہے دیمۃ۔ اور تہمی، تہمی کا معنیٰ ہے بہنا۔ بارش کا پانی زیادہ ہوتا ہے تو وہ بہتا ہے بھئی، اس کو کہتے ہیں تہمی۔ «فسقى ديارك صوب الربيع وديمة تهمي» پس سیراب کرے تمہارے گھروں کو بہار کی بارش اور ایسی جھڑی تہمی جو بہنے والی ہو۔ دیمۃٌ نکرہ آیا نا اور تہمی اس کے بعد فعل آیا، یہ اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت۔ اور ایسی جھڑی تہمی جو بہنے والی ہو۔ اس پر شبہ پیدا ہوتا ہے، اس پر بھئی وہم پڑتا ہے کہ یہ تو بارش جب ہوتی ہے اس سے تو عموماً نقصان بھی ہوتا ہے اگر زیادہ ہو جائے تو تو یہ تو شاید بددعا دے رہا ہے دعا نہیں دے رہا بلکہ کیا کر رہا ہے؟ تو لہٰذا خلافِ مقصود کا شبہ پڑ رہا تھا، وہ تو بددعا نہیں دے رہا بلکہ کیا دے رہا ہے؟ دعا دے رہا ہے۔ تو اس خلافِ مقصود وہم کو دور کرنے کے لیے شاعر نے درمیان میں «غير مفسدها» کی قید بڑھا دی کہ اس حال میں کہ وہ بارش جو ہے ان گھروں کو نقصان دینے والی نہ ہو، نقصان دینے والی نہ ہو۔ اب پوری بات ہو گئی، معلوم ہوا دعا دے رہا ہے کہ بارش بھی ہو اور خوشگوار بارش ہو جو کسی قسم کا نقصان نہ دے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو یہ «غير مفسدها» یہ حال ہے صوب الربیع اور دیمۃٌ تہمی سے۔ «فسقى ديارك غير مفسدها صوب الربيع وديمة تهمي» پس سیراب کرے تمہارے گھروں کو بہار کی بارش اور بہنے والی جھڑی اس حال میں کہ وہ گھروں کو فاسد کرنے والی، خراب کرنے والی نہ ہو۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو یہ کلام تھا اور اس کلام سے خلافِ مقصود کا وہم پڑ رہا تھا، لہٰذا شاعر نے درمیان میں ایسا لفظ ذکر کر دیا جس نے اس نے جس نے اس خلافِ مقصود وہم کو دور کر دیا۔ تو دوبارہ دیکھیے: «ومنها الاحتراس» اور وہ چیزیں جن کے ساتھ اطناب کیا جاتا ہے ان میں سے ایک احتراس ہے، «وهو أن يؤتى في كلام يوهم خلاف المقصود» اور وہ یہ کہ لایا جائے ایسے کلام میں جو خلافِ مقصود کا وہم ڈال رہا تھا، اس میں لایا جائے، کس کو لایا جائے؟ «بما يدفعه» ایسے لفظ کو جو اس وہم کو دور کر دے، نحو، مثال کے طور پر: «فسقى ديارك غير مفسدها صوب الربيع وديمة تهمي» پس سیراب کرے تمہارے گھروں کو بہار کی بارش اور بہنے والی جھڑی اس حال میں کہ وہ ان گھروں کو نقصان دینے والی نہ ہو، ان کو فاسد کرنے والی نہ ہو۔ «ومنها التكميل» اور اطناب کی جن چیزوں کے ساتھ کیا جاتا ہے ان میں سے ایک تکمیل ہے، یعنی اطناب کی قسموں میں سے ایک تکمیل ہے، «وهو أن يؤتى بفضلة تزيد المعنى حسنا» اور وہ یہ کہ لایا جائے «بفضلة»، فضلہ کہتے ہیں زائد چیز کو، کس کو؟ زائد۔ بھئی ایک ہے کلام اور اس میں جو اصل ہے، کلام کے اندر اصل مسند اور مسند الیہ ہوتے ہیں، باقی چیزیں فضلہ، زائد چیزیں ہوتی ہیں، کیا ہوتی ہیں؟ زائد۔ یعنی مفعول ذکر ہوتا ہے، فعل اور فاعل تو صحیح فعل تو مسند اور فاعل یا نائب فاعل کیا ہوا؟ مسند الیہ، اور آگے مفعول، حال وغیرہ، مفعولِ مطلق وغیرہ یہ ساری چیزیں کیا ہیں؟ فضلہ ہیں، زائد چیزیں ہیں، کیونکہ ان کے بغیر بھی معنیٰ پورا ہو جاتا ہے۔ تو فضلہ سے یہ چیز مراد ہے: مفعول اور حال اور مفعول، حال وغیرہ بھئی۔ تو کہتے ہیں وہ یہ کہ لایا جائے کلام میں ایسا فضلہ، فضلۃٌ کے بعد تزیدُ فعل آ رہا ہے، ایسا فضلہ، ایسی زائد چیز «تزيد المعنى» جو بڑھا دے معنیٰ کے اندر «حسنا» کس کو؟ حسن کو، جو معنیٰ میں حسن کو بڑھا دے، نحو، مثال کے طور پر: «ويطعمون الطعام على حبه»۔ اور وہ لوگ کھانا کھلاتے ہیں «على حبه»، حبہِ کی ہا ضمیر بھی طعام ہی کو راجع ہے، کھانے کی محبت پر۔ وہ لوگ کھانا کھلاتے ہیں کھانے کی محبت پر، یعنی وہ سخی لوگ ہیں، سخاوت کرنے والے ہیں۔ اور وہ انہیں بھی کھانے کی محبت ہوتی ہے یعنی انہیں بھی کھانے کی طلب ہو ضرورت ہوتی ہے، لیکن وہ اپنی ضرورت کو قربان کر دیتے ہیں اور دوسرے کی ضرورت پوری کر دیتے ہیں، اور جو کوئی سوال کرنے آئے تو اس کو وہ کھانا خود بھوکے رہ جاتے ہیں لیکن دوسرے کو وہ کھانا کھلا دیتے ہیں۔ یہ معنی ہے: «ويطعمون الطعام» وہ کھانا کھلاتے ہیں «على حبه» اس کھانے کی محبت پر، یعنی انہیں بھی اس کی ضرورت ہوتی ہے لیکن وہ اپنی ضرورت کو قربان کر دیتے ہیں۔ اب دیکھیے، یہاں سخاوت بیان فرما رہے ہیں اللہ تعالیٰ کہ یہ لوگ جو ہیں یہ ایسے لوگ ہیں «يطعمون الطعام» کیا کرتے ہیں؟ کھانا کھلاتے ہیں۔ اب اتنی صرف اسی سے مقصد پورا ہو جاتا ہے، جب پتہ چل گیا کہ یہ دوسروں کو کھانا کھلاتے ہیں، معلوم ہوا سخی لوگ ہیں، معلوم ہوا سخی لوگ ہیں۔ لیکن اس پر یہ جو «على حبه» کو بڑھایا گیا، اس نے اس میں اور حسن پیدا کر دیا کہ ایک ہے ویسے کھانا کھلانا، وہ بھی بہتر تھا لیکن ان لوگوں کا مقام تو اتنا اونچا ہے کہ اپنی ضرورت اور اپنی طلب کو وہ ایک طرف رکھ دیتے ہیں اور دوسرے کی ضرورت پوری کر دیتے ہیں، ایسے سخی لوگ ہیں اور یہ اونچے درجے کی سخاوت ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ «على حبه» یہ ہے تکمیل بھئی۔ اس نے کیا کر دیا؟ یہ اب «على حبه»، یہ دیکھو جار مجرور ہے، مسند یا مسند الیہ نہیں ہے، فضلہ ہے، کیا ہے؟ فضلہ۔ جار مجرور، مفعول، حال، یہ سب چیزیں اس میں آ گئیں، جو بھی مسند اور مسند الیہ کے علاوہ ہیں وہ سب آ گئے۔ تو یہ جار مجرور ہے «على حبه»، اور اس نے کیا کیا؟ معنیٰ کے اندر حسن کو بڑھا دیا بھئی۔ یہ معنیٰ ہے: «وهو أن يؤتى بفضلة تزيد المعنى حسنا» تکمیل یہ ہے کہ لایا جائے ایسے زائد لفظ کو جو معنیٰ کے اندر حسن بڑھا دے۔ «على حبه» خود بتلا رہے ہیں: «أي مع حبه» ساتھ اس کھانے کی محبت کے، یعنی انہیں بھی کھانے کی محبت اور طلب ہوتی ہے، «وذلك أبلغ في الكرم» اور یہ زیادہ بلیغ ہے سخاوت کے اندر، یہ زیادہ بلیغ یعنی یوں کہیں یہ زیادہ افضل ہے سخاوت کے اندر کہ یہ اعلیٰ درجے کی سخاوت ہے بھئی، اعلیٰ درجے کی۔ تو اس سے مبالغہ آ گیا، بات سمجھ میں آ گئی؟ اور بعضوں نے اس تکمیل کا نام تتمیم رکھا ہے، وہ اس تکمیل کو کیا کہتے ہیں؟ تتمیم۔ اور یہ جو پیچھے احتراس ذکر ہوا تھا نا، اسی کو تکمیل کہتے ہیں۔ لہٰذا اور بعض کتابوں میں آپ دیکھیں گے، اسی احتراس کا دوسرا نام ہے تکمیل، اور جس کو انہوں نے تکمیل کہا اس کو وہ کیا کہتے ہیں؟ تتمیم کہتے ہیں، تو بہرحال معنیٰ ایک ہی ہے: تکمیل کا معنیٰ بھی پورا کرنا، تتمیم کا معنیٰ بھی پورا کرنا۔ اور یاد رکھیے یہ مثال جو ہے «ويطعمون الطعام على حبه» یہ ایک صورت میں اس کی مثال بنی جب «على حبه» کی ہا ضمیر طعام کو راجع کی، طعام کو راجع کی، پھر یہ اس تکمیل کی مثال ہے۔ اور اگر یہ ہا ضمیر راجع ہو ذاتِ باری تعالیٰ کو: وہ لوگ کھانا کھلاتے ہیں «على حبه» اس اللہ کی محبت پر، یعنی اس اللہ کی محبت میں وہ کیا کرتے ہیں؟ لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں، اللہ کے راستے میں لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں، تو پھر اس صورت میں وہ یہ تکمیل کی مثال نہیں بنے گا بلکہ یہ اخ بلکہ یہ اس صورت میں اصلِ معنیٰ کے اندر ہی داخل ہو جائے گا۔ ابھی تو ہم بنا رہے ہیں یہ اصلِ معنیٰ پر زائد ہے کیونکہ «يطعمون الطعام» وہ لوگ کھانا کھلاتے ہیں، اس سے سخاوت بیان ہو گئی یا نہیں ہو گئی؟ اس سے سخاوت بیان ہو گئی تھی، «على حبه» اس پر کیا تھا؟ زائد تھا جو اس میں حسن بڑھا رہا تھا۔ لیکن اگر «على حبه» کی ہا ضمیر کس کو راجع ہو؟ اللہ تعالیٰ کو، تو پھر اس صورت میں یہ اصلِ معنیٰ کے ہی اندر داخل ہو جائے گا، پھر یہ زائد نہ رہے گا۔ کیوں؟ کیونکہ پھر معنیٰ یہ ہوگا: اور وہ لوگ کھانا کھلاتے ہیں «على حبه» اللہ کی محبت پر، اللہ کی محبت میں یعنی اخلاص کے ساتھ۔ کس کے ساتھ؟ اخلاص کے ساتھ۔ اللہ کی محبت میں کھلاتے ہیں، معلوم ہوا کس کے ساتھ کھلا رہے ہیں؟ دکھلاوا مقصد نہیں ہے بلکہ اخلاص کے ساتھ وہ لوگوں کو کھانا کھلا رہے ہیں، تو پھر یہ اصلِ معنیٰ بن جائے گا، اس لیے کیونکہ کھانا کھلانا تبھی نفع دے گا جب اس میں اخلاص ہوگا، اگر اخلاص نہیں تو پھر اس میں اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا اس صورت میں یہ اصلِ معنیٰ ہی بن جائے گا۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔ جاری مجری کا لفظی معنی کیا ہوتا ہے؟ جاری ہے، مجری جاری ہونے کی جگہ یعنی قائم مقام ہے اس کے۔