Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-060

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 05 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 15
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔60 ومن دواعي الإيجاز تسهيل الحفظ وتقريب الفهم وضيق المقام والإخفاء وسآمة المحادثة. ومن دواعي الإطناب تثبيت المعنى وتوضيح المراد والتوكيد ودفع الإيهام. گزشتہ سبق میں ہم نے ایجاز، اطناب اور مساوات کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ کلامِ بلیغ کی اقسام ہیں بھئی۔ تو کلامِ بلیغ یا تو اس میں مساوات ہوگی یا ایجاز ہوگا یا اطناب ہوگا۔ جبکہ عام لوگوں کا جو کلام ہے اس میں یہ تقسیم جاری نہیں ہوتی، یعنی ان کا کلام اس میں مساوات، ایجاز اور اطناب کو نہیں دیکھا جائے گا۔ اس لیے کیونکہ عام لوگ اپنی بول چال میں اور گفتگو میں اور معاملات کے اندر صرف معنیٰ مراد کی ادائیگی کی طرف ان کی توجہ ہوتی ہے کہ کیا کریں؟ ایسے لفظ استعمال کریں جس سے اپنے معنیٰ مراد کو ادا کر دیں، تو مقتضائے حال وغیرہ ان چیزوں کی وہ رعایت نہیں رکھتے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ ایجاز، اطناب اور مساوات کس کے اندر ہوں گی؟ کلامِ بلیغ کے اندر۔ اور میں نے یہ بھی بتلایا تھا کہ اس میں پھر مساوات کو مقدم کیا اور ایجاز اور اطناب کو مؤخر کیا صاحبِ کتاب نے، کیونکہ مساوات اصل ہے اور اس مساوات میں کیا ہوتا ہے کہ جس میں جتنا معنی ہو اسی کے بقدر الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں، جبکہ ایجاز میں لفظ کم ہوتے ہیں اس سے اور اطناب میں اس سے لفظ زیادہ ہوتے ہیں بھئی۔ آج آپ کو بتلا رہے ہیں کہ یہ ایجاز کیوں کیا جاتا ہے؟ اس کے دواعی کیا ہیں؟ کس وجہ سے ایجاز کیا جاتا ہے؟ اور اسی طرح دواعیِ اطناب کیا ہیں؟ کن وجوہات کی بناء پر اطناب کیا جاتا ہے؟ وہ کیا چیزیں ہیں جو اطناب کی طرف دعوت دیتی ہیں؟ تو کہتے ہیں: "ومن دواعي الإيجاز"، اور ایجاز کے دواعی میں سے یعنی وہ چیزیں جو ایجاز کی طرف دعوت دینے والی ہیں، وہ کیا کیا ہیں؟ کہتے ہیں: "تسهيل الحفظ"، یاد کرنے کا آسان کرنا بھئی، کیونکہ ایجاز میں کلام مختصر ہوتا ہے تو یاد کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ طویل کلام کو یاد کرنا مشکل ہے اور مختصر کلام کو یاد کرنا آسان ہے۔ "وتقريب الفهم"، اور سمجھ کے قریب کرنا بات کو، بعض اوقات بات لمبی ہو تو اس کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے اور مختصر بات ہو اور جو معنیٰ مراد کو پوری طرح ادا کر رہی ہو تو اس کو سمجھنا آسان ہوتا ہے۔ "وضيق المقام"، اور ایک ضیقِ مقام، بعض مقامات ایسے آتے ہیں وہاں موقع تنگ ہوتا ہے، مقام تنگ ہوتا ہے، لمبی بات نہیں کی جا سکتی۔ جیسے مثال گزری تھی کہ شکار کھیلنے آپ گئے، ہرن نظر آیا، آپ فوراً کہتے ہیں: "غزالٌ"، "هذا غزالٌ" نہیں کہا، "هذا" کو حذف کر دیا کیونکہ مقام تنگ ہے، وقت ہی اتنا نہیں ہے کہ لمبی بات کی جائے ورنہ اتنی دیر میں تو شکار ہاتھ سے نکل جائے گا۔ یا بعض اوقات کیا ہے شعر کا وزن خراب ہوتا ہے اگر مختصر لفظ تو وہاں آ سکتا ہے، اس کی گنجائش تو ہے مختصر لفظوں کی، لیکن طویل بات کی گنجائش اس میں نہیں ہوتی۔ یا کوئی شخص بیمار ہے تو بیمار ہے تو وہ لمبی بات نہیں کرنا چاہتا، تو یہ ضیقِ مقام کی مثالیں ہیں۔ "والإخفاء"، اور ایجاز کے دواعی میں سے اخفاء ہے، چھپانا۔ بعض اوقات آپ کیا کرتے ہیں بات کو دوسروں سے چھپانا چاہتے ہیں، مثلاً آپ کئی ساتھی بیٹھے ہوئے ہیں اور زید آیا، تو اب آپ کہتے ہیں: "جاء"، وہ آگیا۔ یہ نہیں آپ نے کہا: "جاء زيد"، بلکہ کیا کہا؟ "جاء"۔ اس لیے کیونکہ ایک ساتھی ہے اس کے ساتھ آپ نے ابھی زید کے بارے میں بات کی تھی تاکہ وہ سمجھ جائے باقیوں کو پتہ نہ چلے کہ یہ کس کی، کیونکہ زید اکیلا نہیں آیا کئی ساتھی اکٹھے آئے ہیں، تو جب آپ نے کہا: "جاء"، وہ آ گیا ہے، تو جس سے ابھی آپ خفیہ بات کر رہے تھے آہستہ وہ سمجھ گیا کہ یہ کس کے بارے میں آپ نے کہا ہے جبکہ باقیوں کو پتہ نہیں چلا کہ یہ کس کے آنے کا اس نے کہا ہے کیونکہ تین چار ساتھی اکٹھے آئے ہیں، صرف زید اکیلا نہیں آیا۔ تو ایجاز کا بعض اوقات یہ مقصد ہوتا ہے۔ "وسآمة المحادثة"، سآمت کہتے ہیں اکتاہٹ بھئی، اور محادثہ کہتے ہیں گفتگو کو۔ اور گفتگو کی اکتاہٹ کی وجہ سے، اور گفتگو کی اکتاہٹ یہ بھی دواعیِ ایجاز میں سے ہے۔ مثلاً کوئی شخص بیمار ہے یا غم کی حالت میں ہے، تو بیمار ہو یا غم کی حالت میں ہو انسان، تو وہ لمبی بات نہیں کرنا چاہتا، لمبی بات سے اس کا جی اکتاتا ہے، تو اس موقع پر بھی لمبی بات نہیں کی جاتی بلکہ مختصر کلام کیا جاتا ہے، تو یہ سب دواعیِ ایجاز ہیں بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا؟ "وسآمة المحادثة"، اور گفتگو کی اکتاہٹ بھئی۔ "ومن دواعي الإطناب"، اور اطناب کے دواعی، اطناب: لمبا کلام کرنا لیکن وہ زائد لفظ بھی کیا ہوں؟ فائدے سے خالی نہ ہوں۔ تو اطناب کے دواعی میں سے: "تثبيت المعنى"، معنی کو ثابت کرنا، معنی کو ثابت کرنا یعنی یوں کہیں معنی کو جما دینا، سننے والے کے ذہن میں بات کو اچھی طرح جما دینا، بٹھا دینا، یہ ہے تثبیت المعنیٰ۔ تو اطناب جب آپ پوری وضاحت کے ساتھ، اطناب میں کیا ہوتا ہے؟ کلام لمبا ہوتا ہے اور وہ بھی فائدے سے خالی نہیں، تو جب ذرا لمبی بات کریں گے تو سننے والے کے ذہن میں بات اچھی طرح اتر جائے گی، اچھی طرح جم جائے گی۔ "وتوضيح المراد"، اور دواعیِ اطناب میں سے ہے توضیح المراد بھی، مراد کی وضاحت کرنا۔ بعض مقامات پر کیا ہے؟ مراد کی پوری وضاحت کی جائے تو پھر سننے والے کو بات اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے اور مختصر کلام بعض اوقات سننے والے کو اچھی طرح سمجھ میں نہیں آتا۔ تو اطناب کے دواعی میں سے ایک توضیح المراد ہے کہ مراد کی پوری طرح وضاحت کر دی جائے۔ "والتوكيد"، اور اطناب کے دواعی میں سے ایک تاکید ہے، توکید اور تاکید دونوں طرح لفظ پڑھا جاتا ہے، استعمال ہوتا ہے۔ تو توکید، توکید کا معنی پختہ کرنا، مضبوط کرنا۔ اگر مختصر کلام کیا جائے گا تو اس میں بات اتنی پکی نہیں، لیکن جب ذرا تفصیل ہوگی تو بات اچھی طرح، بات پختہ ہو جائے گی، مضبوط ہو جائے گی۔ "ودفع الإيهام"، اور ایہام کو، وہم ڈالنے جو ہے اس وہم ڈالنا اس کو دور کرنا، یعنی تاکہ سننے والا تاکہ کہیں خلافِ مقصود نہ سمجھ بیٹھے، تو بعض مقامات پر اس لیے لمبی بات کی جاتی ہے تاکہ سننے والا خلافِ مقصود نہ سمجھے بھئی۔ ان سب کے آگے تفصیل بھی آ رہی ہے بھئی، یہ دواعیِ اطناب کے آگے پورا اطناب پر مفصل بحث آئے گی بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ ان کے دواعی بیان کر دیے کہ ان ان چیزوں کی وجہ سے ایجاز کیا جاتا ہے اور ان ان چیزوں کی وجہ سے اطناب کیا جاتا ہے۔ اب ایجاز کے بارے میں تفصیلی بحث کرنے لگے ہیں۔ "أقسام الإيجاز"، ایجاز کی اقسام: "الإيجاز إما أن يكون بتضمن العبارة القصيرة معاني كثيرة"، ایجاز یا تو ہوگا بتضمن العبارۃ، با سببیہ ہے، ای بسببِ تضمن العبارۃ القصیرۃ۔ اور تضمن کا معنی ہے اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہونا، اس پر مشتمل ہونا، اس وجہ سے کہ وہ العبارۃ القصیرۃ، مختصر عبارت، چھوٹی عبارت، اس وجہ سے کہ چھوٹی عبارت جو ہے وہ اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہوتی ہے معانی کثیرۃ، کس کو؟ بہت سے معانی کو، بہت سے معانی کو۔ تو یاد رکھیے یہ "معاني كثيرة" یہ مفعول ہے تضمن مصدر کے لیے، کہ چھوٹی عبارت وہ متضمن ہوتی ہے، اپنے اندر لیے ہوئے ہوتی ہے کس چیز کو؟ "معاني كثيرة"، بہت سے معانی کو بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے سب کو؟ تو کہتے ہیں ایجاز یا تو اس ہوگا اس وجہ سے کہ چھوٹی عبارت، مختصر عبارت وہ اپنے اندر بہت سے معانی کو لیے ہوئے ہوتی ہے۔ تو تضمن یہاں بمعنیِ اقتضاء کے ہوا، یعنی چھوٹی عبارت بہت سے معانی کا تقاضا کرتی ہے، چھوٹی عبارت کیا ہوتی ہے؟ بہت سے معانی کا تقاضا کرتی ہے یعنی اس سے خود سمجھ میں آتے ہیں۔ "وهو مركز عناية البلغاء"، عنایت کہتے ہیں توجہ کو، اور یہ جو ایجاز کی قسم ہے، یہ بلغاء یعنی بلیغ لوگ جو ہیں ان کی توجہ کا مرکز ہے۔ بلیغ لوگوں کی توجہ اس قسم کی طرف ہوتی ہے بھئی زیادہ۔ تو کہتے ہیں: "وهو مركز عناية البلغاء"، اور یہ قسم جو ہے ایجاز کی یہ بلیغ لوگ جو ہیں ان کی توجہ کا مرکز ہوتی ہے، "وبه تتفاوت أقدارهم"، اور اسی سے مختلف ہوتے ہیں اقدارہم، ان کے مرتبے بھئی، اسی سے ان کے مرتبے مختلف ہوتے ہیں بھئی، کہ جو جس قدر مختصر عبارت لے کر آئے جو کثیر معانی پر مشتمل ہو۔ "ويسمى إيجاز قصر"، اور اس کو ایجازِ قِصَر کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ ایجازِ قِصَر۔ قِصَر کا معنی ہے چھوٹا پن، چھوٹا پن۔ ایک ہے طول: لمبائی، یہ لمبائی کی ضد ہے قِصَر بھئی، چھوٹا پن، چھوٹا ہونا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور یاد رکھیے یہ لفظ قِصَر ہے، قِصَر۔ یہاں ہمارے ہاں عموماً رائج یہ ہے اس کو قَصْر پڑھتے ہیں: "ويسمى إيجاز قصر"، حالانکہ قصر لفظ نہیں ہے، یہ قِصَر ہے: "إيجاز قصر"، قِصَر۔ تو علماء نے باقاعدہ اس کی تصریح کی ہے بھئی، چنانچہ لکھا ہے کہ قِصَر بر وزنِ عِنَب ہے، عِنَب۔ قِصَر بر وزنِ عِنَب ہے تو انہوں نے باقاعدہ اس کا وزن ذکر کیا ہے کتابوں کے اندر، تو یہ قِصَر لفظ ہے، قصر نہیں ہے بھئی۔ تو اس کو ایجازِ قِصَر کہتے ہیں، اور نام سے ہی پتہ لگ رہا ہے: ایجازِ قِصَر، کون سا ایجاز؟ قِصَر، جس میں چھوٹا پن ہو۔ اور اس میں بھی اوپر کیا آیا؟ "العبارة القصيرة"، کیسی عبارت ہوتی ہے اس میں؟ چھوٹی عبارت ہوتی ہے یعنی لمبی عبارت نہیں ہوتی بھئی، تو اس کو ایجازِ قِصَر کہتے ہیں۔ "نحو قوله تعالى: ولكم في القصاص حياة"، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: "ولكم في القصاص حياة"، اور تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے، اور تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے بھئی۔ دیکھیے یہ مختصر سی مختصر سا کلام آیا لیکن یہ کتنے کثیر معانی کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے بھئی، کتنے معانی کو۔ کس طرح اس کے معانی زیادہ ہیں؟ دیکھیے بھئی، جب انسان یہ سنتا ہے کہ قصاص میں زندگی ہے، اور قصاص کسے کہتے ہیں کہ کسی شخص نے ظلماً کوئی قتل کیا ہو تو اس کو بھی بدلے میں قتل کیا جائے، یہ کیا کہلاتا ہے؟ قصاص، یہ قصاص۔ تو انسان جب غور کرتا ہے تو اس کو پتہ لگتا ہے کہ ظلماً جس نے قتل کیا ہو اس کو قتل کر دیا جائے تو یہ زندگی ہے، یہ کیا ہے؟ زندگی ہے۔ کتنے ہی معانی ذہن میں آتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب کسی شخص کو یہ علم ہو کہ اگر میں نے کسی کو ظلماً قتل کیا تو بدلے میں مجھے بھی قتل کر دیا جائے گا، تو وہ یقیناً اس کے قتل سے باز رہے گا، اور جب اس کے قتل سے باز رہا تو وہ شخص جو مقتول تھا یعنی جس کو اس نے قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا اس کو زندگی مل گئی۔ اور اس کو زندگی مل گئی ساتھ ساتھ یہ جو قاتل تھا جس کا ارادہ قتل کرنے کا تھا اس کو بھی زندگی مل گئی کیونکہ اگر یہ اس کو قتل کر دیتا تو بدلے میں اس کو بھی کیا کیا جاتا؟ قتل کیا جاتا۔ تو دیکھو معلوم ہوا کہ قصاص کے اندر کیا ہے؟ زندگی ہے بھئی، دیکھو کتنی لمبی تشریح کرنا پڑی بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ جب انسان کو علم ہو کہ میں قتل کروں گا تو بدلے میں مجھے بھی قتل کیا جائے گا تو وہ یقیناً اس قتل سے باز رہے گا، اور جب وہ اس قتل سے باز رہے گا تو وہ مقتول جو ہے اس کو بھی زندگی مل جائے گی اور یہ جو قاتل ہے جس کا ارادہ قتل کا ہے اس کو بھی زندگی مل جائے گی، معلوم ہوا قصاص میں کیا ہے؟ زندگی ہے بھئی، زندگی ہے۔ اور یاد رکھیے یہ تو قرآن میں آیا: "ولكم في القصاص حياة"، تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔ عرب بھی اسی موقع کے لیے عربوں کے ہاں جو مختصر ترین کلام استعمال ہوتا تھا اسی معنی کو ادا کرنے کے لیے، وہ تھا: "القتل أنفى للقتل" بھئی۔ یہ عبارت ذرا لکھ لیجیے اپنے سامنے بھئی: القتل أنفى للقتل، القتل أنفى، الف، نون، فا اور یا، القتل أنفى للقتل۔ لکھ لیا بھئی؟ "القتل أنفى للقتل"۔ اور معنی بھی اس کا سمجھ لیں بھئی: قتل جو ہے، قتل، انفیٰ اسمِ تفضیل کا صیغہ ہے، نفی سے۔ قتل جو ہے وہ زیادہ نفی کرنے والا ہے للقتلِ، قتل کی۔ قتل جو ہے وہ زیادہ نفی کرنے والا ہے قتل کی۔ اور یاد رکھیے آگے عبارت کچھ محذوف بھی ہے، عبارت محذوف بھی ہے، اس لیے کیونکہ انفیٰ اسمِ تفضیل آیا اور اسمِ تفضیل کے استعمال کے آپ نے پڑھے ہیں تین طریقے ہیں: کہ اسمِ تفضیل یا تو مِن کے ساتھ استعمال ہوگا، یا الف لام کے ساتھ، یا اضافت کے ساتھ۔ اور یہاں تینوں میں سے کوئی بھی طریقہ نہیں ہے، نہ تو انفیٰ پر الف لام داخل ہے، نہ عبارت میں کوئی مِن آ رہا ہے اور نہ انفیٰ مضاف ہو رہا ہے اگلے لفظ کی طرف بھئی، تو تینوں طریقے نہیں ہیں۔ حالانکہ اسمِ تفضیل کے استعمال کے تو تین ہی طریقے ہیں۔ تو معلوم ہوا کچھ عبارت محذوف ہے پھر بات پوری ہوگی، تو محذوف عبارت یہاں پر ہے: "من تركه"، مِن ترکہِ، ترک: تا دو نقطوں والی، را اور کاف چھوٹا اور ساتھ ہا ضمیر بھئی، ترک: چھوڑنا چھوڑنا، مِن ترکہِ، اور ترکہِ کی ہا ضمیر راجع ہے قتل کو، کس کو راجع ہے؟ قتل کو۔ "أي من ترك القتل"، "القتل أنفى للقتل من تركه أي من ترك القتل"۔ معنی سمجھ لیں بھئی کہ قتل جو ہے وہ زیادہ نفی کرنے والا ہے قتل کی، "من تركه"، قتل کو چھوڑنے کے مقابلے میں، کس کے مقابلے میں؟ چھوڑنے کے مقابلے میں۔ تو پہلا قتل جو ہے اس سے عام قتل نہیں مراد بلکہ مراد ہے وہ قتل جو قصاص کے طور پر ہو۔ پہلے قتل "القتل" سے کیا مراد ہے؟ کون سا قتل؟ جو قصاص کے طور پر ہو، وہ قتل، وہ زیادہ نفی کرتا ہے، کس چیز کی نفی کرتا ہے؟ قتل کی، کیونکہ جب قصاص لیں گے تو لوگ قتل کرنے سے رک جائیں گے، باز آ جائیں گے۔ تو ایک ہے قتل اور ایک ہے ترکِ قتل، ایک کیا ہے؟ ایک قتل اور ایک ترکِ۔ بھئی ایک یہ ہے کہ کسی نے دیکھو ایک شخص نے دوسرے کو ظلماً قتل کیا ہے، تو اس میں دو صورتیں ہیں: اس قاتل کو بھی بدلے میں قتل کر دیا جائے، اور دوسری صورت یہ ہے اس قاتل کو چھوڑ دیا جائے اس کو قتل نہ کیا جائے۔ تو ایک ہے قتل، ایک ہے ترکِ قتل۔ تو کس میں زیادہ نفی ہے قتل کی؟ اس قاتل کو قتل کر دیا جائے تو لوگ رکیں گے یا اس قاتل کو چھوڑ دیا جائے تو لوگ ظالمانہ قتل سے رکیں گے؟ اس کو کیا کر دیا جائے؟ قتل، اسی لیے کہا: "القتل أنفى للقتل"، قتل جو ہے وہ زیادہ نفی کرنے والا ہے "من تركه"، قتل کو چھوڑنے کے مقابلے میں بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا؟ تو عرب بھئی قرآن میں جو معنی ادا کیا دو تین لفظوں کے اندر بھئی: "ولكم في القصاص حياة"، اور تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔ عربوں کے ہاں کیا محاورہ، کیا سب سے مختصر لفظ استعمال ہوتے تھے اس معنی کے لیے؟ "القتل أنفى للقتل"، اور اس میں البتہ "من تركه" میں نے بتلایا یہ محذوف ہے بھئی، یہ محذوف ہے۔ اب دیکھیے بھئی، پتہ لگے گا عربوں کی فصاحت و بلاغت کا اور قرآن کی فصاحت و بلاغت کا۔ علماء نے لکھا ہے کہ قرآن کی جو عبارت ہے اس کو عربوں کی عبارت پر بیس یا اس سے بھی زیادہ وجوہ ذکر کی ہیں، بیس سے بھی زیادہ وجہیں ذکر کی ہیں جس کے اعتبار سے قرآن کا جو کلام ہے اس کو ترجیح اور فضیلت حاصل ہے عربوں کے کلام پر بھئی۔ بیس سے زیادہ وجوہات علماء نے ذکر کی ہیں۔ چند ایک میں آپ کے سامنے ذکر کر دیتا ہوں۔ پہلی چیز، پہلا پہلی وجہ جس کی وجہ سے قرآن کا جو کلام ہے اس کو فضیلت حاصل ہے کہ قرآن میں جو لفظ استعمال ہوئے ان میں حروف تھوڑے ہیں، عربوں کی عبارت میں حروف زیادہ ہیں بھئی۔ ذرا ان کے حروف گنیے: "القتل أنفى للقتل"۔ حمزہ، لام، قاف، تا، لام، کتنے ہو گئے؟ پانچ۔ انفیٰ: حمزہ، نون، فا، الف، کتنے ہو گئے؟ چار۔ پانچ اور چار نو۔ اور للقتلِ: لام، لام، قاف، تا، لام، پانچ یہ ہو گئے، نو اور پانچ کتنے ہو گئے؟ چودہ۔ چودہ حروف انہوں نے استعمال کیے، جبکہ قرآن میں ذرا گنیے بھئی: "ولكم"، اس کو نہیں گننا، اس کو نہیں گننا بھئی، "في القصاص حياة"، قصاص میں زندگی ہے۔ قصاص میں کیا ہے؟ حیا۔ اس لیے کیونکہ لکم، انہوں نے کوئی لکم ذکر کیا تھا؟ "القتل أنفى للقتل لكم"، قتل تمہارے لیے زیادہ قتل کی نفی کرنے والا ہے، تو اس کو نہیں، جس کو انہوں نے ذکر کیا ہے جو قرآن کے الفاظ کے مقابلے میں ہے صرف ان کو ذکر کرنا ہے اور وہ کیا ہے؟ "في القصاص حياة"، "في القصاص حياة"، قصاص میں زندگی ہے بھئی، قصاص میں زندگی ہے۔ اب ذرا لفظ گنیے "في القصاص" کے، جی؟ "في القصاص حياة"، دیکھیے میں بتلاتا ہوں: فی، فا، لام، یا اور الف کو نہیں گننا، یہ کتابت میں آ رہے ہیں، بات تلفظ کی چل رہی ہے، یا اور الف بولنے میں آتے ہیں؟ فی کی یا اور القصاص کا الف، وہ پڑھنے میں تو نہیں آتے، کتابت میں آتے ہیں، بات کتابت کی نہیں ہو رہی، بولنے میں تلفظ میں۔ تو "في القصاص"، دیکھو یا اور الف میں نہیں پڑھ رہا، فا کے نیچے کسرہ پڑھ کر اس کو لام کے ساتھ ملا رہا ہوں: "في القصاص"۔ تو فا ایک، لام دو، قاف، صاد، الف، صاد، کتنے ہو گئے؟ چھ ہو گئے۔ "حياة"، حا، یا، الف، تا، گول تا، اور پھر تنوین بھی، "حياةٌ"، نون پڑھ رہا ہوں یا نہیں؟ تنوین نونِ ساکن کا نام ہوتا ہے، تو کتنے حروف ہوئے؟ گیارہ۔ تو قرآن میں اسی معنی کو ادا کرنے کے لیے گیارہ حروف استعمال ہوئے جبکہ عربوں نے کتنے حروف استعمال کیے اپنے مختصر ترین کلام میں؟ چودہ حروف استعمال کیے، تو قرآن کو کے الفاظ کو، قرآن کی جو عبارت ہے اس کو ترجیح، تو کلام اللہ کو ترجیح ہے کلامِ عرب پر، نمبر ایک تو قلتِ حروف کی وجہ سے۔ دوسرا، دوسری فضیلت کی وجہ یہ ہے کہ کہ قرآن کا جو، قرآن میں جو کلام آیا ہے اس میں مطلوب کی تصریح کی گئی ہے، اور مطلوب کیا ہے؟ قصاص کے ذریعے مطلوب کیا ہے؟ زندگی ہے، تو حیات کی صراحت کی گئی، حیات کا باقاعدہ لفظ استعمال ہوا ہے قرآن کے کلام میں، جبکہ عربوں کے اندر قتل قتل کی زیادہ نفی کرتا ہے، قتل قتل کی زیادہ، اور قتل کی زیادہ نفی ہوگی تو کیا حاصل ہوگی؟ حیات حاصل، لیکن حیات کا لفظ ان کی عبارت میں نہیں، ان کے کلام میں نہیں۔ تو جو چیز مطلوب تھی اس کا باقاعدہ صراحت قرآنی کلام میں تو ہے اور عربوں کے کلام میں نہیں۔ تو اس لیے بھی اس کو فضیلت حاصل ہے۔ نیز قرآن کے اندر حیاتٌ نکرہ آیا ہے، نکرہ اور اس پر تنوین آئی ہے، اور آپ نے پڑھا ہے کہ نکرہ کو بعض اوقات تعظیم کے لیے ذکر کیا جاتا ہے، جیسے مثال آئی تھی: "وله مال"، ای مال کثیر، یا "ورضوان من الله"، ای رضوان قلیل، تو یہ نکرہ کبھی تعظیم اور کبھی تقلیل وغیرہ معانی کے لیے آتا ہے۔ تو یہاں یہ تنکیر، یہ جو حیاتٌ تنکیر آئی، یہ تعظیم کے لیے ہے، کس لیے ہے؟ تعظیم۔ "أي ولكم في القصاص حياة عظيمة"، تمہارے لیے قصاص میں عظیم زندگی ہے۔ بھئی عظیم زندگی کس طرح؟ بھئی دیکھیے، عربوں کا طریقہ یہ تھا، ان کی روش یہ تھی، ان کی عادت یہ تھی کہ ایک آدمی کو قتل کر دیتا تھا تو بدلے میں ایک کو نہیں قتل کرتے تھے، بہت ساروں کو قتل کرتے تھے۔ تو دیکھو، جب قصاص لیں گے تو پوری کی پوری جماعتوں کی زندگی بچ جائے گی یا نہیں بچ جائے گی؟ تو دیکھو قصاص میں عظیم زندگی ہے بھئی، قصاص میں عظیم۔ یا اس تنوین، اس تنکیر کو یہ جو حیاتٌ نکرہ آیا، اس کو نوع کے لیے لے لیں، اور تمہارے لیے قصاص میں ایک نوع کی زندگی ہے، ایک قسم کی زندگی ہے۔ پھر کیا معنی ہوگا ایک قسم کی؟ پھر اس صورت میں قاتل اور مقتول کی زندگی ہے معنی۔ کس کی؟ قاتل اور۔ تمہارے لیے قصاص میں ایک قسم کی زندگی ہے، وہ کون سی قسم ہے؟ یعنی قاتل اور مقتول، قاتل بھی اس کی جان بھی بچ جائے گی جب وہ قتل نہیں کرے گا اور مقتول جب اس کو چھوڑ دے گا تو مقتول کی جان بھی بچ جائے گی، تو ان دونوں کی زندگی ہے، یہ ہے ایک نوع کی زندگی بھئی۔ تو اس کے اندر تنکیر جو آئی یا وہ کس لیے آئی؟ تعظیم کے لیے اور یا پھر کس لیے ہے؟ نوع کے لیے، حالانکہ عربوں کے عبارت کے اندر وہاں پر تنوین یا نکرہ آیا ہی نہیں، وہاں یہ فائدہ نہیں بھئی۔ تو کتنے فائدے ہو گئے؟ تین چیزیں ذکر ہو گئیں فضیلت والی۔ چوتھی چیز جس کے اعتبار سے قرآن کے کلام کو فضیلت حاصل ہے کہ قرآن نے جو بات ذکر کی وہ عام ہے، ہر جگہ دنیا بھر میں ہر موقع پر وہ صادق آتی ہے۔ دنیا بھر میں جہاں بھی قصاص لیا جائے گا وہاں پر زندگی حاصل ہوگی، لوگ قتل سے رک جائیں گے۔ یہ سب قسموں کو شامل ہے، کوئی بھی ہر قصاص کیا ہوگا؟ کس کا باعث ہوگا؟ زندگی کا اور حیات کا باعث ہوگا۔ لیکن عربوں کی عبارت میں یہ نہیں ہے: "القتل أنفى للقتل"، قتل وہ قتل کی زیادہ نفی کرنے والا ہے، حالانکہ قتل دو قسم پر ہے: ایک قتل ہے قصاصاً، وہ تو ٹھیک ہے قتل کی نفی کرے گا، اور ایک قتل ظلماً بھی تو ہے، تو قتل جو ہے وہ قصاصاً ہو تو پھر تو وہ قتل کی نفی کرے گا، لیکن اگر قتل ظلماً کیا جائے ظلم کرتے ہوئے تو پھر اس سے تو قتل کم نہیں ہوں گے بلکہ قتل اور زیادہ ہوں گے، تو ان کے عبارت عام نہیں ہے، ہر جگہ پر صادق نہیں آتی، صرف کون سے قتل پر صادق آتی ہے؟ جس میں کیا کیا، جو کس طریقے پر ہو؟ قصاص کے طریقے پر ہو، تو حالانکہ کوئی قید وغیرہ ذکر نہیں ان کی عبارت میں، یہ تو ہم نے معنی کیا کہ ان کی مراد یہ ہے کہ کون سا قتل مراد ہے؟ قصاص والا، ظلم والا قتل مراد نہیں۔ حالانکہ عبارت میں تو کوئی ایسی قید نہیں ہے، تو ان کی عبارت عام نہیں، ساری صورتوں کو شامل نہیں، بلکہ صرف ان قتلوں کو شامل ہے جو قصاص کے طور پر ہوں، وہ قتل وہ قتل کی زیادہ نفی کرنے والے ہیں، لیکن وہ قتل جو ظلماً ہو اس کی وہ اس سے قتل کی نفی نہیں ہوتی، تو ان کی عبارت عام نہیں اور قرآن کا جو کلام ہے وہ عام ہے: "في القصاص حياة"، قصاص میں زندگی ہے، تو ہر جگہ قصاص کی کوئی صورت ایسی نہیں جس میں حیات نہ ہو، قصاص کی ہر صورت میں کیا ہے؟ حیات ہے، تو قرآن کا کلام عام ہے، ان کا کلام عام نہیں تمام صورتوں کو نہیں شامل بھئی۔ بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ مشکل ہو گئی؟ تو یہ کتنی وجہیں ہو گئیں؟ چار وجہیں ہو گئیں قرآن کے کلام کو فضیلت حاصل ہے۔ چار وجہیں: پہلی کیا ہے؟ قلتِ حروف، کہ حروف تھوڑے ہیں۔ دوسری وجہ کہ مطلوب یعنی حیات پر تصریح کی گئی۔ تیسری کہ اس میں نکرہ آیا اور نکرہ جو ہے وہ تعظیم یا نوع کے لیے ہے، یہ تیسری قسم آ گئی۔ اور چوتھی قسم کہ قرآن کا کلام عام ہے، ان کا کلام عام نہیں۔ پانچویں وجہ کہ قرآن کا جو کلام ہے وہ تکرار سے خالی ہے، اس میں کسی لفظ کا تکرار نہیں، اس کو دوبارہ نہیں ذکر کیا گیا، اور عربوں کے عبارت میں قتل کا لفظ دو دفعہ آیا ہے، تکرار آیا ہے، اور یہ بات تو کسی پر مخفی نہیں کہ وہ کلام جس میں تکرار نہ ہو وہ پسندیدہ ہوتا ہے اس کلام کے مقابلے میں جس میں کیا ہو؟ تکرار ہو، لفظوں کو بار بار استعمال کیا جائے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ یہ پانچویں وجہ ہو گئی۔ چھٹی وجہ، چھٹی وجہ کہ قرآن کے کلام کو فضیلت حاصل ہے کہ قرآن کی عبارت میں کوئی لفظ محذوف نہیں، جبکہ عربوں کے کلام میں "من تركه" کی قید محذوف ہے، میں نے بتلا دیا کیونکہ اس میں تفصیل کے استعمال کے تین طریقے ہیں اور یہاں کسی طریقے سے بھی استعمال نہیں ہو رہا، حالانکہ ایک طریقہ تو ایک طریقہ تو ان میں سے ضرور ہونا چاہیے اور وہ پھر مِن کے ساتھ ہے، "من تركه" محذوف نکالنا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ آپ کے ذہن میں ائے گا کہ "في القصاص حياة"، فی القصاص جار مجرور ہے، جار مجرور ہمیشہ کسی سے متعلق ہوتے ہیں تو ان کا متعلق محذوف ہے، کیا ہے؟ محذوف ہے، تو جواب یہ کہ نہیں بھئی، وہ تو ہم ترکیب کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ یہاں پر ایک لفظ کیا ہے؟ محذوف ہے، ورنہ معنیٰ مراد کی ادائیگی کے اعتبار سے آپ دیکھیں: "في القصاص حياة"، قصاص میں زندگی ہے، کوئی لفظ محذوف نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو وہ نحوی ترکیب کے اعتبار سے ہے، اس سے اس کے بارے میں ہم بات نہیں کر رہے، ہم بات کر رہے ہیں معنیٰ مراد کی ادائیگی میں کسی محذوف کو نہیں نکالنا پڑتا، اور وہاں پر معنیٰ مراد کی ادائیگی میں کیا کرنا پڑتا ہے؟ محذوف کو نکالنا پڑتا ہے کہ قتل اور دوسرا ہے ترکِ قتل، کس میں قتل کی زیادہ نفی ہے؟ قتل میں، قصاصاً جو قتل ہے اس میں قتل کی زیادہ نفی ہے نہ کہ ترکِ قتل میں بھئی۔ اور ساتویں وجہ قرآن کے کلام اللہ کو فضیلت حاصل ہے کلامِ عرب پر، کہ قرآنی کلام جو ہے اس میں صنعتِ طباق ہے، صنعتِ طباق۔ یہ علمِ بدیع کے اندر ایک صنعت آئے گی: طباق۔ طاء ہے طاء، طاء، ظاء جو ہوتی ہے، ط، ب، ا اور ق دو نقطوں والا، صنعتِ طباق، اور اسی کو کہتے ہیں صنعتِ مطابقت بھی، صنعتِ۔ تو قرآن کا جو کلام ہے اس میں صنعتِ مطابقت ہے یا یوں کہیں اس میں صنعتِ طباق ہے، صنعتِ طباق اس کو کہتے ہیں کہ اپنے کلام میں دو ایسے معانی کا جمع کرنا جو ایک دوسرے کی ضد ہوں بھئی، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں، تو یہاں پر بھی دیکھیے ایک آیا حیات، حیات کا ذکر آیا اور دوسرا آیا قصاص، اور قصاص میں کیا کیا جاتا ہے؟ دوسرے کو قتل کیا جاتا ہے، تو دیکھو حیات اور قتل دو چیزیں جو ایک دوسرے کی ضد ہیں وہ معانی جمع ہو گئے یہاں پر بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ بھئی آپ ایک کلام کریں، اس میں دو معانی لے آئیں اور وہ دونوں معنی ایک دوسرے کی ضد ہوں، ایک دوسرے کے مخالف ہوں، تو اس کو کہتے ہیں صنعتِ طباق۔ مثلاً آپ صبح کا ذکر کریں تو ساتھ ہی شام کا بھی ذکر کر دیں، سردی کا ذکر کریں تو ساتھ ہی کیا کر دیں؟ گرمی کا بھی ذکر کر دیں بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ لمبائی کا لمبا ہونے کا ذکر کریں تو چھوٹا ہونے کو بھی ساتھ ذکر کر دیں، تو یہ دو متضاد معانی کو اپنے کلام میں جمع کرنا یہ کیا کہلاتا ہے؟ صنعتِ طباق۔ تو یہاں پر بھی صنعتِ طباق ہے، کیونکہ حیات کے ساتھ قصاص کا ذکر ہے، اگرچہ قصاص خود تو حیات کی ضد نہیں لیکن قصاص کے اندر کیا کیا جاتا ہے؟ قتل کیا جاتا ہے، تو یہ قتل کے معنی پر مشتمل ہوا، تو قتل اور حیات کیا ہیں؟ ایک دوسرے کی ضد ہیں، تو اس اعتبار سے اس میں صنعتِ طباق ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ یہ چھ سات وجوہ میں نے ذکر کر دیں بھئی، علماء نے بیس یا اس سے بھی زیادہ وجوہ ذکر کی ہیں کہ قرآن کے کلام کو فضیلت حاصل ہے عربوں کے کلام "القتل أنفى للقتل" پر۔ بات سمجھ میں آگئی سب کو اچھی طرح؟ تو کیا سات وجوہات کیا ذکر ہوئیں؟ کہ کلام اللہ کے اندر حروف تھوڑے ہیں۔ نیز اس کے اندر مطلوب کی تصریح کر دی گئی یعنی حیات کو باقاعدہ ذکر کیا گیا کیونکہ وہی مطلوب ہے، وہی مقصود ہے اس کلام میں بھی اور عربوں کے کلام میں بھی، لیکن وہاں اس حیات کا لفظ باقاعدہ ذکر نہیں اور یہاں جو مطلوب ہے وہ باقاعدہ ذکر ہے۔ نیز یہاں پر جو ہے نکرہ لایا گیا اور یہ نکرہ تعظیم کے لیے ہے یا نوعیت کے لیے ہے، لیکن یہ فائدہ عربوں کے کلام میں نہیں۔ نیز یہاں پر یہ جو کلام ہے یہ عام ہے، تمام صورتوں کو شامل ہے، کوئی صورت اس سے خارج نہیں، لیکن "القتل أنفى للقتل" اس میں جو قتل ذکر ہے وہ دو طرح پر ہو سکتا ہے: قصاصاً بھی اور ظلماً بھی، تو وہ صرف قصاص والی صورت کو شامل ہے اور ظلم والی صورت کو شامل نہیں بھئی، کیونکہ وہی زیادہ نفی کرتا ہے، قصاصاً جو قتل ہو وہ قتل کی نفی کرنے والا ہے اور ظلماً جو قتل ہو وہ تو قتل کو اور بڑھانے والا ہے، تو ان کا کلام عام نہیں۔ پانچویں وجہ یہ ذکر کی کہ ان کے کلام میں تکرار ہے اور کلام اللہ کے اندر تکرار نہیں۔ اور چھٹی وجہ یہ ذکر کی کہ کلام اللہ کے اندر کوئی محذوف نہیں ہے جبکہ ان کے کلام میں محذوف ہے بھئی۔ اور ساتویں وجہ یہ ذکر کی کہ کلام اللہ کے اندر صنعتِ مطابقت استعمال ہوئی ہے، دو متضاد معانی کو جمع کیا گیا ہے اور یہ ان کے کلام میں نہیں۔ تو اسی لیے کہا کہ یہ ہے مثال ایجازِ قِصَر کی: "ولكم في القصاص حياة"، اور تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔ تو یہ قصاص ہے۔ آگے دیکھیے کتاب پر، تو پہلی قسم کیا بیان ہوئی؟ "إما أن يكون بتضمن العبارة القصيرة معاني كثيرة"، کہ ایجاز یا تو اس وجہ سے ہوگا کہ تقاضا کرے گی یا متضمن ہوگی چھوٹی سی عبارت بہت سے معانی کو۔ "وإما أن يكون بحذف كلمة أو جملة أو أكثر مع قرينة تعين المحذوف"، یا ایجاز ہوگا بسببِ حذفِ کلمۃٍ، کس وجہ سے؟ کسی ایک کلمے کو حذف کرنے کی وجہ سے، "أو جملة"، یا جملے کو حذف کرنے کی وجہ سے، "أو أكثر"، یا جملے سے زیادہ حذف کرنے کی وجہ سے ہوگا، "مع قرينة تعين المحذوف"، ساتھ ایسے قرینے کے پائے جانے کے "تعين المحذوف"، جو کیا کر رہا ہوگا؟ محذوف کو متعین کر رہا ہوگا بھئی۔ جو کیا کر رہا ہو؟ بھئی پہلی قسم تو وہ تھی: ایجازِ قِصَر، جس میں عبارت مختصر ہو، چھوٹی ہو، لیکن وہ اپنے ضمن میں بہت سے معانی کو لیے ہوئے ہو جیسے "ولكم في القصاص حياة" کے اندر۔ اور ایجاز کی دوسری قسم یہ ہے کہ جس میں حذف ہوگا، کیا ہوگا؟ حذف ہوگا۔ یعنی عبارت ایسی نہیں جو بہت سے معانی کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے، لیکن عبارت چھوٹی ہے، مختصر ہے کہ کچھ لفظوں کو کیا کر دیا گیا ہے؟ حذف کر دیا گیا ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ اور یہ حذف کبھی ایک کلمہ یا اس کا جز حذف ہوگا، یا جملہ حذف ہوگا، یا بعض اوقات ایک جملے سے بھی زیادہ حذف ہوگا، اور پھر یہ بھی یاد رکھیے، جب کسی چیز کو حذف کیا جائے تو اس پر قرینہ ضرور ہونا چاہیے جو ہمیں بتلا دے کہ یہاں پر یہ چیز حذف ہے بھئی۔ قرینہ ضرور ہوگا، اگر قرینہ نہ ہو پھر تو سننے والے کو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ یہاں کون سا لفظ محذوف ہے، بات اس کو پوری طرح سمجھ میں ہی نہیں آئے گی، پھر تو یہ ایجاز رہے گا ہی نہیں بلکہ پھر تو یہ اخلال بن جائے گا، کیا بن جائے گا؟ اخلال، جو گزشتہ سبق میں آپ نے قسم پڑھی۔ تو کہتے ہیں: "وإما أن يكون بحذف كلمة أو جملة أو أكثر مع قرينة تعين المحذوف"، اور وہ ایجاز یا تو ایک کلمہ یا ایک جملے یا اس سے زیادہ کے حذف کی وجہ سے ہوگا ساتھ ایسے قرینے کے پائے جانے کے "تعين المحذوف"، جو محذوف کو متعین کر رہا ہوگا، "ويسمى إيجاز حذف"، اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ ایجازِ حذف، کیونکہ اس یہ حذف کی وجہ سے اس میں ایجاز آتا ہے۔ "فحذف الكلمة كحذف (لا) في قول امرئ القيس"، پس کلمے کا، ایک کلمے کا حذف کرنا جیسے کہ کلمہ "لا" کو حذف کرنا امرؤ القیس کے اس قول کے اندر، اس شعر کے اندر، کس میں؟ امرؤ القیس۔ میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ امرؤ القیس جو ہے اس کے شروع میں امرؤٌ آیا، امرؤٌ، اور یہ کلامِ عرب میں یہ صرف ایک دو کلمات ایسے ہیں جن میں آخری حرف پر آخری حرف پر جو اعراب آتا ہے، ماقبل پر بھی اسی کے مطابق حرکت آتی ہے۔ اگر یہ اس پر ضمہ پڑھیں گے تو پھر صرف آخر میں امرؤٌ ہے نا، امرؤٌ، آخر میں کیا آ رہا ہے؟ حمزہ، تو حمزہ پر اگر پیش پڑھیں گے یعنی یہ فاعل بن رہا ہے، تو حمزہ کے ساتھ ساتھ پیچھے را پر بھی پیش پڑھیں گے: اِمْرُؤُ القیس، اور اگر اس کو یہ مفعول بن رہا ہے اور حمزہ پر نصب پڑھنا ہے تو پھر حمزہ سے ماقبل را پر بھی نصب پڑھیں گے: "رأيت امرأ القيس"، اور اگر اس پر حرفِ جر داخل ہو گیا ہے تو پھر حمزہ پر جر تو آئے گا لیکن ساتھ ساتھ را جو ماقبل میں ہے اس پر بھی کسرہ پڑھیں گے: "مررت بامرئ القيس"، "مررت بامرئ"، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہاں پر کیسے پڑھیں گے؟ "في قول امرئ القيس"، تو جیسے لا کو حذف کیا گیا امرؤ القیس کے اس قول کے اندر: فقلت يمين الله أبرح قاعدا ... ولو قطعوا رأسي لديك وأوصالي "فقلت يمين الله أبرح"، اصل میں تھا: "لا أبرح"، کیا تھا؟ "لا أبرح"، لا کو حذف کر دیا گیا۔ لا کو حذف کر دیا گیا۔ اور کلامِ عرب میں یہ عام استعمال ہوتا ہے، عام استعمال ہوتا ہے کہ حرفِ نفی جو ہے اس کو حذف کر دیا جاتا ہے کثرت سے، لیکن تین شرطیں ہیں اس کی، تین شرطیں: کہ وہ حرفِ نفی "لا" ہونا چاہیے، کیا ہونا چاہیے؟ "لا"، جیسے یہاں پر "لا" ہے۔ اور وہ فعل جس پر وہ داخل ہو رہا تھا وہ فعلِ مضارع ہونا چاہیے، جیسے "أبرح" یہاں کیا ہے؟ فعلِ مضارع۔ اور تیسری شرط یہ ہے کہ وہ قسم کے اندر ہونا چاہیے، جیسے یہاں "يمين الله" قسم آ رہی ہے بھئی۔ تو تین شرطیں ہیں: کہ وہ حرفِ نفی جس کو حذف کیا جائے وہ کیا ہو؟ "لا" ہو، اور کس پر داخل ہو رہا ہو؟ فعلِ مضارع پر، اور کس مقام میں ہو؟ قسم کے اندر ہو بھئی، قسم کے اندر ہو۔ اور یہ "أبرح" یہ افعالِ ناقصہ میں سے ہے، آپ نے پڑھا ہے افعالِ ناقصہ میں "ما برح"، "ما برح" پڑھا ہے یا نہیں پڑھا بھئی؟ "ما برح"، تو وہ برح ماضی تھا تو اس پر ما داخل تھا، اسی کا مضارع بنائیں گے تو مضارع پر لا آتا ہے، "لا أبرح" بھئی، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ کلامِ عرب میں عام استعمال ہوتا ہے، چنانچہ قرآن میں بھی اللہ فرماتے ہیں اسی طریقے پر آتا ہے قرآن میں: "تالله تفتؤ تذكر يوسف"، "تالله تفتؤ تذكر يوسف"، اصل میں کیا ہے؟ "تالله لا تفتؤ تذكر يوسف"، تو وہ "لا تفتؤ" میں لا کو حذف کر دیا گیا۔ اور "لا تفتؤ" یہ بھی وہی فعلِ ناقص ہے، آپ نے پڑھا ہے "ما فتئ" افعالِ ناقصہ میں آتا ہے، تو "ما فتئ" وہ ماضی ہے تو اس پر ما حرفِ نفی استعمال ہوتا ہے اور اسی سے مضارع کیا آگیا؟ "تفتؤ"، تو اس پر کیا ائے گا؟ "لا" ائے گا بھئی، مضارع پر لا استعمال ہوتا ہے۔ بات سب کو سمجھ میں آگئی؟ تو دیکھیے ایک حرف حذف کر دیا گیا تو کلام کیا ہو گیا؟ مختصر ہو گیا، مختصر ہو گیا۔ اور قرینہ بھی ہے، کیونکہ قرینہ کیا ہے؟ خود عرب عام طور پر اس کو استعمال کرتے ہیں اسی طریقے سے بھئی، اس حرف کو ایسے موقع پر کثرت سے حذف کرتے ہیں۔ نیز اس لیے کہ جوابِ قسم ہے اور جوابِ قسم میں فعلِ مضارع ا جائے تو آپ نے پڑھا ہے کہ اس پر لامِ تاکید اور اسی طرح اخر میں نونِ تاکید لایا جاتا ہے، حالانکہ یہاں نہ لامِ تاکید ہے نہ نونِ تاکید ہے، معلوم ہوا یہ کلامِ مثبت یہاں یہ مثبت نہیں ہے بلکہ منفی ہے بھئی، منفی ہے۔ "فقلت يمين الله"، تو میں نے کہا: "يمين الله" یا "يمينُ الله"، نون پر ضمہ پڑھیں یا فتحہ پڑھیں۔ "أي يمينُ الله قسمي"، قسمی: میری قسم۔ "يمينُ الله"، اللہ کی قسم جو ہے "قسمي"، وہ میری قسم ہے یعنی میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں۔ یہ کیا ہے؟ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں، تو یہ کلامِ عرب میں اس طرح استعمال ہوتا ہے: "يمينُ الله" یہ ہے مبتدا اور "قسمي" کیا ہے؟ خبر ہے بھئی۔ لیکن اس شعر کے اندر جو اکثر علماء نے ذکر کیا ہے: "يمينَ الله"، نون کے فتحہ کے ساتھ ذکر کیا ہے، نون کے فتحہ کے ساتھ۔ اور نون کے پھر اس پر فتحہ کیوں؟ تو جواب یہ کہ یہ مفعولِ مطلق ہے، یعنی یمین مصدر ہے۔ یمین کیا ہے؟ ہاں یہ ہے تو اسم، عام طور پر اسم کے طور پر استعمال ہوتا ہے، لیکن علماء نے باقاعدہ تصریح بھی کی ہے اس کی کہ یہ مفعولِ مطلق ہے، اور مفعولِ مطلق تو مصدر کو کہتے ہیں، معلوم ہوا یہ یہاں پر کس معنی میں ہے؟ مصدر کے معنی میں ہے اور اصل میں ہے: "أقسم يمين الله"، "أقسم يمين الله"، اور آپ نے پڑھا ہے کہ وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفعولِ مطلق۔ "أقسم" کیا معنی؟ میں قسم کھاتا ہوں، اور "يمين الله" کا کیا بھی کیا معنی؟ اللہ کی قسم بھئی، قسم کھانا، تو یہ بھی اسی معنی میں ہے۔ اگرچہ وہ ق، س، م ہے اقسمُ کے اندر مادہ اور اس کے اندر ی، م، ن ہے مادہ، لیکن معنی تو ایک ہی ہے جیسے آپ نے کافیہ وغیرہ میں پڑھا ہے: "قعدت جلوسا"، "قعدت جلوسا"، تو معنی ایک ہو اگرچہ مادہ الگ الگ ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بھئی۔ تو اس صورت میں یہ "يمينَ الله" پڑھنے کی صورت میں یہ مفعولِ مطلق ہے فعلِ محذوف کے لیے، یا یہ منصوب بنزع الخافض ہے۔ یہ کیا ہے؟ منصوب بنزع الخافض۔ جیسے بھئی حرفِ جر جب کسی لفظ پر داخل ہوتا ہے اس کو کیا دے دیتا ہے؟ جر، جر دیتا ہے۔ تو یہ حرفِ جر جو ہے نا اس کو کہتے ہیں خافض۔ خفض جر کو کہتے ہیں، خفض کسے کہتے ہیں؟ خ، ف، ض، خفض، خفض جر کو کہتے ہیں، تو حرفِ جر کو کیا کہیں گے؟ خافض۔ تو بعض اوقات ایک لفظ پر حرفِ جر داخل ہوتا ہے پھر اس اس حرفِ جر کو حذف کر لیا جاتا ہے اور اس لفظ پر پھر نصب پڑھ دیا جاتا ہے، اور یہ کلامِ عرب میں ہوتا رہتا ہے کہ حرفِ جر کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ حذف، اور جس پر وہ داخل ہو رہا تھا جب اس سے حرفِ جر کو ختم کر دیا تو اس پر نصب پڑھ دیا جاتا ہے اور اس کو کہتے ہیں منصوب بنزع الخافض، کہ یہ منصوب ہے خافض کو اتار دینے کی وجہ سے یعنی حرفِ جر کو ختم کرنے کی وجہ سے اب یہ کیا ہے؟ یہ اصل میں تو تھا مجرور لیکن حرفِ جر کو کیا کر دیا گیا؟ ختم کر دیا گیا، اب اس کی وجہ سے یہ منصوب ہے، تو اس کو کہتے ہیں منصوب بنزع الخافض۔ نزع کا معنی اتار دینا، ختم کر دینا۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ ویسے ایک ترکیب کی بات آئی تھی میں نے کہا آپ کو بتلا دوں۔ تو بات چل رہی ہے کہ یہاں اصل میں یہ تھا: "لا أبرح"، کلامِ عرب میں اس طرح حرفِ نفی کو کثرت سے حذف کیا جاتا ہے، بہت بہت ہی عام ہے یہ کلامِ عرب میں بھئی۔ تو شاعر امرؤ القیس کہتا ہے: "فقلت يمين الله أبرح قاعدا"، تو میں نے کہا کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں "أبرح قاعدا"، "أي لا أبرح قاعدا"، میں ہمیشہ بیٹھا رہوں گا، "ولو قطعوا رأسي لديك وأوصالي"، "لديكِ"، کاف پر فتحہ ہے کتابوں میں آپ کی؟ فتحہ نہیں ہونا چاہیے، کسرہ۔ امرؤ القیس ہے اور وہ اپنی محبوبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہا ہے بھئی، تو "لديكِ"، کاف کے نیچے کسرہ ہوگا۔ تو امرؤ القیس کہتا ہے: میں نے کہا اللہ کی قسم "أبرح قاعدا"، "أي لا أبرح قاعدا"، میں ہمیشہ بیٹھا رہوں گا، "ولو قطعوا رأسي"، اگرچہ وہ لوگ کاٹ دیں "رأسي"، میرے سر کو، "لديكِ"، تیرے سامنے، "وأوصالي"، اور میرے جوڑوں کو بھی۔ اوصال جمع ہے وصلٌ کی، وصلٌ، وصلٌ، وصلٌ، تینوں طرح پڑھنا جائز ہے، واؤ پر تینوں حرکتیں جائز ہیں، اور یہ جوڑ کو کہتے ہیں، دو ہڈیوں کے درمیان جو جوڑ ہیں۔ تو شاعر اپنی محبوبہ سے محبت کا اظہار کر رہا ہے کہ میری تیرے ساتھ اتنی زیادہ محبت ہے، اتنی محبت ہے کہ میں تجھے کبھی چھوڑ کر نہیں جاؤں گا، ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں گا، تمہارے پاس ہی بیٹھا رہوں گا، اگرچہ لوگ میرا سر کاٹ ڈالیں، میرے جسم کے جوڑ جوڑ کو کاٹ ڈالیں، میرے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالیں، پھر بھی میں تجھے چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔ تو یہ معنی ہے: "فقلت يمين الله أبرح قاعدا ولو قطعوا رأسي لديك وأوصالي"، تو میں نے کہا اللہ کی قسم میں ہمیشہ بیٹھا رہوں گا یعنی تیرے پاس ہی رہوں گا، "ولو قطعوا رأسي لديك"، اگرچہ وہ میرے سر کو کاٹ ڈالیں تیرے سامنے، "وأوصالي"، اور میرے جوڑوں کو۔ تو یہ مثال کس کی تھی؟ جس میں ایک کلمہ حذف ہوا ہے، اور وہ کیا؟ "لا"۔ تو مختصر ہو گیا یا نہیں کلام لا کے حذف سے؟ تو یہ ہے ایجازِ حذف بھئی۔ "وحذف الجملة كقوله تعالى: وإن يكذبوك فقد كذبت رسل من قبلك"، اور حذفِ جملہ کی مثال جیسے کہ اللہ کا یہ قول ہے: "وإن يكذبوك فقد كذبت رسل من قبلك"۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ خطاب فرما رہے ہیں: "وإن يكذبوك"، اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلاتے ہیں، "فقد كذبت رسل من قبلك"، تو تحقیق جھٹلائے گئے ہیں بہت سے پیغمبر "من قبلك"، آپ سے پہلے بھئی۔ رسلٌ میں تنوین جو آئی یا نکرہ جو ایا تکثیر کے لیے ہے، کثرت بیان کرنے کے لیے، کہ آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کو جھٹلایا گیا ہے۔ اب دیکھیے بھئی، آگے دیکھیے عبارت ہے: "أي فتأس واصبر"، پس آپ تسلی رکھیے اور صبر کیجیے۔ تأسّی کہتے ہیں تسلی رکھنا، صبر کرنا۔ تأسّی کا کیا معنی؟ باب تفعل ہے: تَاَسِّی، تو صبر کرنا، تاسی کا معنی بھی صبر کرنا، تسلی رکھنا۔ "فتأس واصبر"، پس آپ کیا کیجیے؟ تسلی رکھیے اور صبر کیجیے بھئی۔ تو یہ یہاں پر محذوف ہے۔ دیکھیے بھئی، "وإن يكذبوك"، اِن آیا اور اِن کیا ہے؟ حرفِ شرط ہے، اور شرط کے لیے کیا چاہیے؟ جزا چاہیے، "فقد كذبت رسل من قبلك"، یاد رکھیے یہ اس کی جزا نہیں ہے، یہ اس کی جزا نہیں ہے۔ اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو تحقیق آپ سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر جھٹلائے گئے۔ تو یہ جو فا آئی یہ فا جزائیہ نہیں، اور یہ "فقد كذبت رسل من قبلك" یہ جملہ جزا نہیں ہے۔ بھئی یہ جزا کیوں نہیں؟ بھئی وجہ یہ کہ جزا شرط پر مرتب ہوتی ہے، جزا کیا ہوتی ہے؟ شرط پر مرتب ہوتی ہے۔ مثلاً کوئی خاوند ہے بیوی سے کہتا ہے: "إن دخلت الدار فأنت طالق"، اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ تو دیکھو اس اگر تو اس گھر میں گئی یہ ہے شرط، اور آگے ہے تو پھر تجھے طلاق، تو اگر یہ اس گھر میں جائے گی یعنی یہ شرط پائی جائے گی تو اس پر جزا جو ہے یعنی طلاق مرتب ہوگی، کیا ہوگی؟ طلاق مرتب ہوگی۔ تو شرط اور جزا میں سے جو جزا ہے وہ کس پر مرتب ہوتی ہے؟ شرط پر مرتب ہوتی ہے، شرط کے بعد اتی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اور یہاں پر "وإن يكذبوك"، اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلاتے ہیں اے پیغمبر، اور یہ جھٹلا کس زمانے میں رہے ہیں؟ زمانہ حال میں، جس وقت خطاب اللہ کی طرف سے آیا اس وقت وہ لوگ کیا کر رہے تھے؟ اسی زمانے میں جھٹلاتے تھے، تو اس میں بات ہو رہی ہے حال کی، اور پیغمبروں کو جو جھٹلایا گیا وہ تو زمانہ ماضی میں تھا، تو حال پر ماضی مرتب نہیں ہو سکتی بھئی۔ حال پر یا تو حال ہی مرتب ہوگا یا مستقبل مرتب ہوگا، ماضی کے اندر تو نہیں ہو سکتی بھئی۔ بات بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں بھئی؟ کہ شرط پر کیا ہے؟ جزا مرتب۔ شرط پائی جائے تو پھر کیا اتی ہے؟ جزا، اور شرط اگر حال میں ہے تو جزا بھی کس میں آئے گی؟ حال یا استقبال میں آئے گی، ماضی کے اندر تو نہیں ہو سکتی بھئی۔ تو لہٰذا یہ اس کی جزا نہیں۔ تو جزا کیا ہے؟ جزا انہوں نے آگے صاحبِ کتاب نے آپ کو بتلا دیا: "أي فتأس واصبر"، یہ جزا یہاں محذوف ہے، اور آگے "فقد كذبت رسل" سے یہ جو تسلی دی جا رہی ہے اس کا سبب ذکر کیا جا رہا ہے، کیا کیا جا رہا ہے؟ سبب ذکر کیا جا رہا ہے۔ تو گویا یوں ہے اصل کلام: "وإن يكذبوك"، اور اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اے محمد اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلاتے ہیں، "فتأس واصبر"، تو آپ تسلی رکھیے اور صبر کیجیے، کیوں؟ "لأنه قد كذبت رسل من قبلك"، یا "فلأنه" فا بھی لے آئیں یہ والی، "فلأنه"، پس کیونکہ آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کو جھٹلایا گیا۔ آپ تسلی رکھیے اور صبر کیجیے، کیوں تسلی رکھیے اور کیوں صبر کیجیے؟ وجہ کیا ہے؟ کیونکہ آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کو جھٹلایا۔ تو جو بہت سے رسولوں کو جھٹلایا گیا ہے یہ سبب ہے صبر اور تسلی کا، یہ کیا ہے؟ سبب ہے تسلی اور صبر کا۔ اس لیے کیونکہ "البلية إذا عمت طابت"، مصیبت جب عام ہو جاتی ہے تو وہ خوشگوار لگنے لگتی ہے کہ یعنی پھر تکلیف کا احساس نہیں رہتا۔ بھئی تکلیف اگر آپ صرف اکیلے پر تکلیف آئے تو بڑی انسان مشکل میں پڑ جاتا ہے، لیکن جب انسان دیکھے اس تکلیف میں تو صرف میں نہیں مبتلا، یہ تو سب پر آئی ہوئی ہے، سارے ہی اس میں مبتلا ہیں، تو پھر وہ تکلیف کا احساس نہیں رہتا بھئی، تکلیف کا احساس نہیں رہتا۔ جیسے آج کل آپ دیکھ لیں، بجلی چلی جاتی ہے کتنی تکلیف میں آپ ہوتے ہیں، لیکن پتہ ہے ساروں پر یہ تکلیف آئی ہوئی ہے، صرف مجھ پر تو نہیں ہے، لہٰذا پرواہ ہی نہیں۔ اور اگر صرف آپ کے گھر کی بجلی نہ ہو تو آپ تو عذاب میں پڑ جائیں گے کہ میری نہیں ہے باقی سب کے گھر ا رہی ہے۔ یا اسی طرح آج کل جیسے شدید سردی پڑ رہی ہے، اگر آپ دیکھیں صرف مجھے شدید سردی لگ رہی ہے تو آپ تو مشکل میں پڑ جائیں گے کہ یہ تو کیسے میں زندگی گزاروں، لیکن جب آپ دیکھتے ہیں یہ تو بیچارے سارے ہی اس تکلیف میں مبتلا ہیں تو اس تکلیف کا یہ تو ویسے بطورِ مثال کے میں ایک ذکر کر رہا ہوں کہ عربوں کے ہاں محاورہ مشہور ہے: "البلية إذا عمت طابت"، کہ مصیبت جو ہے جب وہ عام ہو جاتی ہے تو خوشگوار لگنے لگتی ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ ویسے سمجھانے کے لیے ایک مثال ذکر کی۔ تو حضور علیہ السلام پر تو بڑی تکالیف آئیں بھئی، بہت زیادہ تکالیف۔ دعوت قبول کرنے کے بجائے وہ الٹا مذاق اڑایا کرتے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا، اور حضور علیہ السلام کتنی خیر خواہی کر رہے ہیں، ہر ایک کے پاس جا رہے ہیں، اور وہ پھر اس کے بجائے اس کے کہ احسان مند ہوتے کہ آپ ہمارے پاس ائے، اتنی عظیم چیز لے کر آپ کو چل کر انا پڑا، ہمیں حاضر ہونا چاہیے تھا، بجائے اس کے کہ وہ احسان مند ہوتے الٹا مذاق اور استہزاء اڑاتے تھے، تو کتنی زیادہ تکالیف تھیں ان کا تو کوئی اندازہ بھی نہیں کر سکتا، سوچ بھی نہیں سکتا بھئی۔ تو دیکھیے، اللہ فرما رہے ہیں آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کو جھٹلایا گیا ہے۔ جب یہ بتلا دیا گیا کہ آپ سے پہلے بھی بہت سے پیغمبروں کو جھٹلایا گیا، تو پتہ لگ گیا کہ اس تکلیف میں اور مصیبت میں صرف میں نہیں مبتلا بلکہ اس میں تو اور بھی سارے انبیاء، اکثر انبیاء اس میں مبتلا تھے، تو پھر اس تکلیف کا احساس کم ہو جاتا ہے اور انسان پھر کیا کر لیتا ہے؟ تسلی ا جاتی ہے اس کو اور صبر کر لیتا ہے۔ تو یہ "فقد كذبت رسل من قبلك" یہ سبب ہے اس کا جو جزا ہے: "فتأس واصبر"۔ "فتأس واصبر" یہ اس کا سبب ہے، اس کی وجہ سے تسلی ہوگی اور اس کی وجہ سے صبر آئے گا۔ تو اس سبب کو ہی مسبب کے قائم مقام کر دیا گیا بھئی۔ وہ تھا "فتأس واصبر" جو جزا تھی وہ تھی مسبب، اور یہ کیا ہے؟ سبب، تو سبب کو ہی کبھی کیا کر دیا جاتا ہے؟ مسبب کے قائم مقام کر دیا جاتا ہے، تو یہاں پر بھی اسی طرح کیا گیا بھئی، تو اصل جزا یہ نہیں۔ یہ تو اس کا سبب ہے اور جزا کیا ہے؟ "فتأس واصبر"۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو گویا اصل عبارت یوں ہوئی: "وإن يكذبوك"، اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلاتے ہیں، "فتأس واصبر"، تو آپ تسلی رکھیے اور صبر کیجیے، "فلأنه قد كذبت رسل من قبلك"، اس لیے کیونکہ بہت سے رسول آپ سے پہلے جھٹلائے گئے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے: "أي فتأس واصبر"، آپ تسلی رکھیے اور صبر کیجیے۔ "وحذف الأكثر كقوله تعالى: فأرسلون، يوسف أيها الصديق"، اور ایک جملے سے زیادہ حذف کی مثال جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: "فأرسلون، يوسف أيها الصديق"۔ "فأرسلونِ"، اصل میں تھا: "فأرسلوني"، یا کو حذف کر دیا گیا، بھیجو تم لوگ نی: مجھے بھئی۔ بھیجو تم لوگ مجھے، یا کو حذف کر دیا گیا کیونکہ نون اور اس کا کسرہ یائے محذوف پر دلالت کر رہے ہیں بھئی۔ "فأرسلونِ"، تم لوگ کیا کرو؟ بھیجو مجھے، پھر آگے آگیا: "يوسف"، "أي يا يوسف"، اے یوسف! "أيها الصديق"، اے بہت سچے! یہ حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ آپ نے تفسیر کے اندر پڑھا ہوگا، سنا ہوگا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو جیل میں ڈال دیا گیا اور جیل کے اندر آپ کے حسنِ اخلاق اور آپ کی عبادت اور آپ کی خوابوں کی جو تعبیر بتانے کی جو مہارت اللہ نے آپ کو نصیب فرمائی تھی، تو جیل میں بھی ان چیزوں کا چرچا ہو گیا اور قیدی حضرات بھی اتے اور ا کر آپ سے اپنے خوابوں کی تعبیر پوچھتے، آپ سے محبت اور عقیدت کا اظہار کرتے کہ اتنا عبادت گزار شخص ہے اور اتنے اچھے اخلاق والا آدمی ہے، کتنی محبت اور شفقت سے ہر ایک کے ساتھ پیش اتا ہے۔ چنانچہ انہی ایام میں دو آدمیوں کو، دو نوجوانوں کو جیل میں ڈالا گیا بھئی، ایک وہ جو بادشاہ کا جو تھا وہ اس کے لیے روٹی بنانے والا تھا، نانبائی تھا، اور دوسرا بادشاہ کے لیے بادشاہ کو شراب پلانے والا تھا، تو ان دونوں کو جیل میں ڈالا گیا، ان پر الزام تھا کہ انہوں نے بادشاہ کے قتل کی سازش کی ہے اور اس کے کھانے وغیرہ میں زہر ملایا ہے کھانے۔ چنانچہ ان کو جیل میں ڈال دیا گیا، ان کا بھی حضرت یوسف علیہ السلام کی عبادت وغیرہ اور اخلاق وغیرہ کو انہوں نے دیکھا، ان کا بھی تعلق ہو گیا ان کے ساتھ، اور ایک دن پھر ایک رات انہوں نے خواب دیکھا تو وہ خواب کی تعبیر جاننے کے لیے حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس آئے، وہ جو نانبائی تھا وہ جو روٹیاں پکانے والا تھا اس نے کہا: میں نے حضرت میں نے خواب دیکھا ہے کہ میرے سر پر ٹوکرے ہیں اور ان میں روٹیاں ہیں اور پرندے اس میں سے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں، اور دوسرے نے کہا: میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں بادشاہ کو شراب پلا رہا ہوں، انگور نچوڑ رہا ہوں اور اس کو شراب پلا رہا ہوں، تو ہمیں اس کی تعبیر بتائیے، اور پھر حضرت یوسف علیہ السلام نے ان کو تعبیر بتلائی کہ جس شخص نے جو نانبائی ہے جو روٹیاں پکانے والا ہے، اس کو سولی دے دی جائے گی، سزا دی جائے گی، سزائے موت سنائی جائے گی، سولی دے دی جائے گی، اور پھر اس کا بدن لٹکتا رہے گا سولی پر یہاں تک کہ پرندے اس کے سر سے نوچ نوچ کر کھائیں گے بھئی، اور دوسرے سے کہا کہ تمہیں رہائی مل جائے گی اور تم پھر بادشاہ کو اسی طرح شراب پلایا کرو گے۔ چنانچہ ایسے ہی ہوا، اس سازش کا پورے طور پر پتہ چل گیا، وہ جو روٹیاں پکانے والا تھا وہ اس سازش میں شریک تھا تو اس کو سولی دے دی گئی اور دوسرا شخص جو شراب پلانے والا تھا اس کا پتہ چل گیا کہ یہ بیچارہ بے قصور ہے تو اس کو چھوڑ دیا گیا بھئی۔ اور پھر یہ وہ جو بادشاہ تھا اس کے پاس رہنے لگا اور حضرت یوسف علیہ السلام کا ذکر اس کو یاد ہی نہ رہا اور بڑا عرصہ کئی سال گزر گئے، ایک دن بادشاہ نے کہا: میں نے ایک خواب دیکھا ہے، خواب میں میں نے دیکھا سات گائے ہیں موٹی اور سات گائے ہیں دبلی پتلی، اور وہ جو دبلی پتلی گائے تھیں وہ موٹی گایوں کو کھا رہی ہیں بھئی۔ اور اسی طرح میں نے دیکھا کہ گندم کے سات خوشے ہیں سرسبز اور سات خوشے ہیں خشک، اور یہ جو خشک خوشے ہیں یہ سبز خوشوں پر لپٹتے ہیں اور ان کو بھی خشک کر دیتے ہیں، تو مجھے اس کی تعبیر بتلاؤ۔ اور وہ لوگ کہتے تھے ہمیں بڑی تعبیر اتی ہے لیکن جب یہ خواب ذکر ہوا اس کی تعبیر کسی کے ذہن میں نہیں آ رہی، اخر وہ جو شراب پلانے والا تھا اس کو اب حضرت یوسف علیہ السلام کا خیال ایا کہ وہ جو جیل میں تھے ایک شخص تھا، بڑا نیک آدمی تھا، اس نے ہمارے خواب کی تعبیر بتلائی تھی اور ویسا ہی ہوا تھا، چنانچہ اس نے ان لوگوں کے سامنے بھی ان کا ذکر کیا اور کہا کہ تم مجھے بھیجو ان کے پاس، میں جا کر ان سے تعبیر پوچھ کر اتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے ان کو اجازت دے دی کہ جاؤ تم، بھیج دیا، پھر یہ ان کے پاس ائے اور ا کر ان سے تعبیر پوچھی، حضرت یوسف علیہ السلام نے صرف تعبیر ہی نہیں بتلائی بلکہ اس کی تدبیر اور اس کے ساتھ ایک خوشخبری بھی سنا دی اور فرمانے لگے کہ اس خواب کی تعبیر یہ ہے جو سات موٹی گائے ہیں اور اسی طرح جو سات سرسبز خوشے ہیں اس کا اس سے مراد سات سال ہیں، یعنی سات سال تک جو ہیں یہ خوراک وغیرہ ہوگی اور فصلیں وغیرہ اچھی طرح ہوں گی لیکن اس کے بعد اگلے جو سات سال ائیں گے وہ جو دبلی گائے اور خشک خوشے تھے وہ سات سال جو ہیں وہ قحط والے ہوں گے، بارشیں نہیں ہوں گی اور خوراک وغیرہ ختم ہو جائے گی، تو اس کے لیے تم لوگ یوں کرنا کہ اس ان سات سالوں میں ائندہ جو بھی فصلیں کاشت ہوں تو یہ دانوں وغیرہ کو ان کے خوشوں سے نہ نکالنا، ان کے خوشوں سمیت محفوظ رکھنا بھئی تاکہ یہ خراب نہ ہوں، ان کو کیڑے وغیرہ نہ لگیں بھئی، اور پھر اس میں پھر اس میں احتیاط سے استعمال کرتے رہنا اور سات سال کے بعد جو اٹھواں سال ائے گا اس میں پھر اللہ کی رحمت ہوگی اور خوب بارشیں ہوں گی اور پھر خوراک اور فصلوں کی فراوانی ہو جائے گی۔ تو دیکھو تعبیر بھی بتلائی اور تدبیر بھی بتلائی اس سے نمٹنے کی اور خوشخبری بھی سنائی کہ اٹھویں سال کیا ہوگا، یہ قحط ختم ہو جائے گا۔ تو یہ اسی سے اسی کا ذکر قرآن میں ا رہا ہے: "فأرسلون، يوسف أيها الصديق"، تم لوگ مجھے بھیجو، اے یوسف! اے بہت سچے! اے بہت سچے۔ تو دیکھیے وہ جو شراب پلانے والا تھا وہ کیا کہتا ہے: "فأرسلونِ"، تم کیا کرو؟ مجھے بھیجو۔ اور کس کے پاس بھیجو؟ یہ ذکر نہیں، "إلى يوسف"، یہ محذوف ہے یہاں پر کیونکہ اس نے کیا کہا ہوگا کہ مجھے کس کے پاس بھیجو؟ یوسف علیہ السلام کے پاس بھیجو۔ اور وجہ بھی ذکر کی ہوگی: کیوں بھیجو؟ تاکہ میں ان سے اس خواب کی تعبیر پوچھ لوں، اور پھر انہوں نے اجازت بھی دی ہوگی کہ ٹھیک ہے چلے جاؤ، اور پھر یہ ان کے پاس ایا بھی ہوگا، اور پھر اس کے بعد اس نے کہا: "يا يوسف"، اے یوسف! اس سب کا پتہ کس سے چل رہا ہے؟ "يوسف" سے پتہ چل رہا ہے۔ پہلے کہہ رہا ہے مجھے بھیجو اور آگے فوراً ا رہا ہے: اے یوسف! حضرت یوسف علیہ السلام سے بات شروع کر رہا ہے، معلوم ہوا کہ انہوں نے بھیجا ہوگا اور یہ ان کے پاس ائے ہوں گے اور پھر اس نے کہا ہوگا: اے یوسف! تو یہ سب چیزوں پر ان سب کا پتہ "يوسف أيها الصديق" سے ہی چل رہا ہے۔ تو جب کلام سے ان سب چیزوں کا پتہ چل رہا تھا، پتہ چل جاتا تھا، اس لیے ان کو حذف کر دیا گیا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہاں یاد رکھیے: "فأرسلون، يوسف"، اس کے درمیان پانچ جملے محذوف ہیں بھئی، کتنے جملے؟ پانچ جملے محذوف ہیں، کس طرح؟ آگے خود بتلا رہے ہیں: "أي أرسلوني إلى يوسف"، "أرسلوني"، دیکھو یا بھی حذف تھی اور جار مجرور "إلى يوسف" جو اس سے متعلق ہے وہ بھی حذف تھا، لیکن وہ ابھی جملے نہیں، آگے پانچ جملے آ رہے ہیں، یہ تو جار مجرور صرف حذف ہے اور یا حذف تھی، "لأستعبره الرؤيا"، تاکہ میں ان سے خواب کی تعبیر پوچھ لوں، تو "لأستعبره الرؤيا" یہ کیا ہے؟ پہلا جملہ۔ "ففعلوا"، انہوں نے ایسا ہی کیا، یہ دوسرا جملہ۔ "فأتاه"، تو یہ پھر ان کے پاس ائے، یہ تیسرا جملہ۔ "وقال له"، اور ان سے کہا، یہ چوتھا جملہ۔ "يا يوسف"، یا بھی حذف ہے اور یا کس کے قائم مقام ہے؟ ادعو کے فعل کے، تو یہ پانچواں جملہ ہے۔ تو دیکھو یہ سب چیزیں یہاں محذوف ہیں اور ان کا پتہ کس سے چل رہا ہے؟ یوسف کہنے سے ہی پتہ چل رہا ہے کہ یہ سب باتیں درمیان میں ہوئیں پھر جا کر ان سے یہ بات ہوئی ان کی بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ ہے ایک جملے سے زیادہ حذف کی مثال بھئی۔ اور یہ بھی نہیں کہ سننے سے پتہ نہیں چل رہا، سنتے ہی پتہ چل جاتا ہے۔ "فأرسلونِ"، مجھے کیا کرو؟ بھیجو۔ "يوسف أيها الصديق"، یوسف! اے بہت سچے، مجھے ذرا اس خواب کی تعبیر تو بتاؤ، دیکھو خود ہی پتہ معلوم ہوا باقی سارا کلام بیچ میں محذوف ہے کہ انہوں نے ایسا کیا ہوگا اور یہ ان کے پاس ائے ہوں گے اور پھر انہوں نے کہا ہوگا: اے یوسف! بات سمجھ میں آگئی سب کو؟ اچھی طرح؟ تو یہ تھا ایجازِ حذف جس میں حذف کیا جاتا ہے، اور حذف کبھی ایک کلمے کا ہوتا ہے اور کبھی ایک جملے کا حذف ہوگا اور کبھی ایک سے زیادہ جملے کا حذف ہوگا۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔ جی، کوئی ایسی بات تو نہیں جو سمجھ میں نہیں آئی؟ کس کے؟ مساوات کے دواعی ذکر نہیں کیے۔ ہاں بھئی، شاباش! بڑا اہم سوال انہوں نے کیا کہ ایجاز کے دواعی بھی ذکر اور اطناب کے دواعی بھی ذکر، اور مساوات کے دواعی ذکر نہیں کیے بھئی۔ تو یاد رکھیے، مساوات اصل ہے، اس کے لیے داعی نہیں چاہیے، داعی ایجاز اور اطناب کے لیے چاہیے، مساوات تو کس کو کہتے تھے کہ جتنا معنی ہو اسی کے بقدر کیا ہوں؟ الفاظ ہونے چاہئیں، یہ تو اصل ہے، اصل کے لیے کوئی داعی نہیں چاہیے ہوتا۔ ہاں آپ اس سے عبارت میں کمی کرتے ہیں اس کے لیے داعی چاہیے، یا آپ عبارت میں زیادتی کرتے ہیں اس کے لیے داعی چاہیے بھئی، تو اصل کے لیے داعی نہیں چاہیے بھئی، مساوات تو اصل ہے، اسی سے تو ایجاز اور اطناب کا پتہ چلتا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟