Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-006

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 14 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 41
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ بیعِ تعاطی کے اندر اعطاء ایک جانب سے ہو تو یہ بھی کافی ہے، بیع بشرطیکہ کوئی ایسی چیز نہ ہو جو عدمِ رضا پر دلالت کر رہی ہو، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، تو اعطاء چاہے ایک طرف سے ہو، لیکن دوسری جانب سے رضامندی کافی ہے۔ اور پھر یہ مسئلہ بھی آپ نے پڑھا تھا کہ جب کوئی ایک شخص ایجاب کر دے تو دوسرا قبول کرے گا سارے مبیعہ کو یا سارے ثمن کے بدلے یا اس کو کیا کر دے گا؟ ترک کر دے گا، کر۔ تو یہ نہیں کر سکتا کہ بعض کو لے لے اور بعض کو کیا کر دے؟ رد۔ ہاں، اگر وہ ہر ایک کی الگ قیمت بتلا دیتا ہے، پھر کیا کر سکتا ہے؟ درحقیقت پھر وہ کئی ایجاب بن گئے، تو چاہے تو کچھ کو قبول کرے اور کچھ کو کیا کر دے؟ رد کر دے۔ اور جب تک دوسرا قبول نہیں کرتا، ایجاب کرنے والے کو خیارِ ایجاب ہوتا ہے، یعنی وہ اپنے ایجاب سے کیا کر سکتا ہے؟ رجوع کر سکتا ہے، اس لیے کہ ابھی تک دوسرے کا حق اس چیز سے مبیعہ وغیرہ سے متعلق نہیں ہوا۔ یا دونوں میں سے کوئی ایک مجلس سے کھڑا ہو جائے، تو یہ بھی یہ اعراض پر دلالت ہے، تو ایجاب کیا ہو جائے گا؟ باطل۔ اور جب یہ بھی پڑھا آپ نے کہ ایجاب اور قبول جب دونوں پائے گئے تو بیع لازم ہو گئی، اب کسی کو کوئی خیار نہیں بھئی، کوئی خیار نہیں۔ ہاں، البتہ اگر خیارِ شرط رکھا ہو یا تو وہ حاصل ہوگا بھئی کسی کو، یا اسی طرح خیارِ رویت اور خیارِ عیب، یہ بھی حاصل ہوتا ہے بھئی مشتری کو بھئی۔ جی، آگے ابواب آ جائیں گے باقاعدہ بھئی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خیارِ مجلس بھی حاصل رہے گا بھئی، بیع ابھی لازم نہیں ہوئی بلکہ جب تک مجلس ہے دونوں کو خیار ہے بیع کو فسخ کرنے کا بھئی۔ اس کے بعد بھئی ہم نے مبیعہ اور ثمن کے احکام شروع کیے تھے۔ علامہ تاج الشریعہ نے آپ کو بتلایا کہ بیع صحیح ہے ایسے عوض میں، عوض کے اندر دیکھو ثمن بھی آ گئے اور مبیعہ بھی آ گیا، تو اے جو مشارٌ الیہ ہے بھئی، اور اس میں نہ مقدار ذکر کرنے کی ضرورت ہے اور نہ وصف ذکر کرنے کی ضرورت ہے، اس لیے کہ چیز سامنے موجود ہے بھئی، تو اب اس میں کسی قسم کے جھگڑے کا کوئی خطرہ نہیں۔ ہاں، اگر غیر مشارٌ الیہ ہو، موجود نہیں، مشاہد نہیں، تو پھر اس صورت کے اندر مقدار کا ذکر کرنا بھی ضروری اور وصف کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے بھئی۔ اور یہ بھی آپ نے پڑھا کہ بیع جو ہوتی ہے وہ ثمنِ حالی یعنی نقد بھی صحیح ہے اور ایک معلوم مدت کے لیے ہو وہ بھی صحیح ہے، بشرطیکہ مدت معلوم ہو، معلوم، مجهول نہ ہو بھئی، یعنی ادھار ہو بھئی۔ اور پھر متن میں ثمنِ مطلق کا لفظ آیا تھا کہ اس کے ساتھ بھی بیع صحیح ہے۔ ثمنِ مطلق میں نے بتلایا تھا مطلق یہاں دو چیزیں ہو سکتی ہیں بھئی، مقدار بھی مطلق ہو سکتی ہے اور صفت بھی مطلق ہو سکتی ہے، تو یہاں کون کیا مراد ہے؟ صفت بھئی، مطلق عن الصفة مراد ہے، یعنی مقدار ذکر کی میں 20 روپے میں خریدتا ہوں، لیکن صفت نہیں ذکر کی کہ ہندوستانی ہے، پاکستانی ہے یا نیپالی ہے بھئی۔ اب جب ثمنِ مطلق ذکر کر دی، تو پھر دے گا کون سے ثمن بھئی؟ جی؟ ہاں دیکھو، مالیت کو دیکھیں گے بھئی، مالیت کو۔ اگر مالیت سب کی برابر ہے، ہندوستانی روپیہ، پاکستانی روپیہ، نیپالی روپیہ، سب کی مالیت برابر ہے آپس میں، کمی بیشی نہیں جیسے میں نے کل ذکر کیا تھا، بلکہ برابر ہیں۔ 100 پاکستانی دیں تو کتنے ملتے ہیں؟ 100 ہی ہندوستانی، یا 100 پاکستانی دیں تو 100 ہی نیپالی ملتے ہیں، برابر ہے بالکل، کوئی فرق نہیں، تو پھر تو جو مرضی دے دیں، اب کوئی جھگڑے کا خطرہ ہے؟ سب کی مالیت برابر ہے، وہ جھگڑا وہاں نہیں ہوگا بھئی، تو پہلے یہ صورت ذکر کر دی بھئی، دیکھیے۔ فإن استوت مالية النقود فعلى ما قدر به من أي نوع، فإن استوت اگر برابر ہو جائے، کیا برابر ہو؟ مالية النقود ان نقدیوں کی مالیت، فعلى ما قدر به تو اس مقدار پر بیع ہوگی، قدر، قدر کا معنی ہوتا ہے بھئی حساب لگانا، مقرر کرنا۔ تو فعلى ما اس مقدار پر قدر به جس کو کیا کر لیا جائے؟ مقرر کر لیا جائے من أي نوع جس نوع میں سے بھی بھئی، جس میں سے بھی مقرر کر لیں، ہندوستانی دینا چاہیں ہندوستانی دے دیں بھئی، پاکستانی دینا چاہتے ہیں پاکستانی دے دیں۔ تو کہتے ہیں اگر نقدیوں کی مالیت برابر ہو تو اس مقدار پر جس کو مقرر کر لیا جائے، جس کا حساب، جس کا بھی حساب لگا لیا جائے من أي نوع جس نوع میں سے بھی، أی يقع البيع على عشرة دراهم من أي نوع كان، یعنی بیع واقع ہو جائے گی 10 درہموں پر کسی بھی نوع میں سے ہوں وہ، أی يعطي المشتري أي نوع شاء، یعنی مشتری دے دے گا جس نوع میں سے بھی چاہے، جو نوع بھی چاہے وہ کیا کر دے گا؟ دے دے گا۔ وإن اختلف، اگر مالیت مختلف ہے بھئی جیسے میں نے کل بتایا تھا، نیپالی پاکستانی روپے کے نصف کے برابر ہے بھئی، اور ہندوستانی پاکستانی کے ڈیڑھ کے برابر ہے بھئی، تو اب کیا کریں بھئی؟ مالیت مختلف ہو گئی بھئی، اب جھگڑے کا خطرہ ہے بھئی، بائع کیا چاہے گا مجھے کون سے ملیں؟ زیادہ مالیت والے، اور مشتری کیا چاہے گا میں کم مالیت والے، تو پھر مرجح چاہیے، کوئی ترجیح دینے والی چیز چاہیے۔ کہتے ہیں پھر رواج کو دیکھ لو، اس شہر کے اندر اس علاقے کے اندر کون سی کرنسی زیادہ چلتی ہے؟ مثلاً پاکستانی تقریباً 90 فیصد استعمال ہوتی ہے اور ہندوستانی اور نیپالی صرف 10 فیصد استعمال ہو رہی ہیں، تو پھر اس صورت میں جو زیادہ رائج ہے یہ اس کا زیادہ رائج ہونا یہ ترجیح دے رہا ہے کہ بھئی عموماً بیع کس سے ہوا کرتی ہے؟ 90 فیصد پاکستانی، ہر جگہ عموماً پاکستانی سے بیع ہوا کرتی ہے تو لازمی بات ہے یہاں پر بھی کس سے کیا مراد لے لیں گے اس سے؟ پاکستانی مراد تھی اس لیے اس نے ذکر ہی نہیں کی بھئی۔ اسی لیے کہا وإن اختلف اور اگر مالیت مختلف ہو ان کی فعلى الأروج تو جو زیادہ رائج ہو اس پر بیع واقع ہوگی، منعقد ہوگی۔ لیکن اگر رواج بھی برابر ہو، سب کرنسیاں برابر چلتی ہیں بھئی، تو کہتے ہیں ففسد، بیع کیا ہو جائے گی؟ فاسد، کیونکہ اب جھگڑا ہے اور کوئی مرجح، ترجیح دینے والی کوئی چیز بھی موجود نہیں۔ وفسد اور بیع فاسد ہو جائے گی إن استوى رواجها اگر برابر ہو ان نقدیوں کا رواج، أی في صورة اختلاف مالية النقود، کس صورت میں یہ بتلا رہے ہیں فاسد ہوگی بھئی؟ جبکہ نقدیوں کی مالیت مختلف ہو۔ إلا أن يبين أحدها، مگر یہ کہ ان میں سے کرنسیاں میں سے، نقدیوں میں سے کسی ایک کو بیان کر دے، تو أن يبين أحدها، تو یہ احدہ کو مفعول بنا لیں، فعل کو معروف پڑھ لیں، یا فعل کو مجہول پڑھ لیں اور احدہا کو کیا بنا لیں؟ نائب فاعل، إلا أن يبين أحدها، مگر یہ کہ ان میں سے کسی ایک کو بیان کر دیا جائے، أی أحد النقود، دیکھا! یہ بھئی ضمیر کا مرجع بتلا دیا بھئی صاحبِ صدر الشریعہ نے بھئی، احدہا تھا متن کے اندر، یہ ہا ضمیر کس کو راجع بتلایا؟ نقود کو راجع، أحد النقود بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ وهذا استثناء منقطع، اور یہ استثناءِ منقطع ہے، بھئی متن کے اندر لفظ آیا تھا "إلا"، "إلا"، إلا کس لیے آیا کرتا ہے؟ استثناء کے لیے، اور آپ نے پڑھا تھا کہ مستثنیٰ اگر إلا کا ما بعد اگر ما قبل کی جنس میں سے ہے تو پھر وہ کیا ہے مستثنیٰ؟ متصل ہے إلا کے ذریعے، اس کو خارج کیا گیا ہے ما قبل میں سے، اور اگر وہ اس کی جنس میں سے نہیں ہے تو پھر یہ کون سا مستثنیٰ ہے؟ منقطع ہے، تو بتلا رہے ہیں یہ یہاں جو إلا آیا، یہ إلا کے بعد جو آیا یہ ما بعد میں آیا وہ ما قبل کی جنس میں سے نہیں، اور جب ما قبل کی جنس میں سے نہیں تو یہ کون سا مستثنیٰ ہوا؟ منقطع ہوا۔ بھئی کیسے منقطع ہوا؟ دیکھو ما قبل میں احوال بیان ہو رہے ہیں ثمنِ مطلق کے، کس کے احوال؟ ثمنِ مطلق، اور ثمنِ مطلق کس کو کہیں گے؟ جس کی صفت بیان نہیں ہوئی، جس کی صفت بیان ہو جائے وہ ثمنِ مطلق رہا؟ مطلق نہیں رہا، تو ما قبل میں احوال بیان ہو رہے ہیں ثمنِ مطلق کے اور إلا کے بعد کہہ رہے ہیں اگر ان میں سے کسی ایک کو کیا کر دے؟ بیان کر دے، جب بیان کر دیا تو وہ ثمنِ مطلق رہا؟ وہ ثمنِ مطلق نہ رہا، تو یہ اس ثمنِ مطلق میں داخل ہی نہیں، اس کی جنس میں سے ہی نہ رہا، یہ الگ جنس ہے، ایک ثمن مطلق ہوتی ہے، ایک ثمن غیرِ مطلق، یہ تو اس کے قسیم ہیں، مقابل ہے بھئی، تو لہٰذا یہ ما بعد جو ہے إلا کا وہ ما قبل کی جنس میں سے نہیں، جب ما قبل کی جنس میں سے نہیں تو مستثنیٰ کون سا ہوا؟ منقطع، بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ دیکھا! کیونکہ إلا کے بعد آیا تھا إلا أن يبين أحدها کسی ایک کو کیا کر دے؟ جب بیان کر رہا ہے پھر تو یہ ثمنِ مطلق نہ رہا۔ وهذا استثناء منقطع، اور یہ استثناء منقطع ہے، لأن البحث في البيع بالثمن المطلق، اس لیے کہ بحث جو ہے ثمنِ مطلق کے ساتھ بیع کے بارے میں ہے، فلا يكون حال بيان أحد النقود، پس نہیں ہوگا نقدیوں میں سے کسی ایک کے بیان کا حال، کسی ایک کے بیان کا حال، یہ من سے خبر شروع ہو رہی ہے، من جنس أحوال إطلاق الثمن، مطلق ثمن کے احوال کی جنس میں سے نہیں ہوگا، ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ فلا يكون حال بيان أحد النقود، تو یہ کانَ کا کیا بن گیا؟ اسم، اور من جنس أحوال إطلاق الثمن یہ خبر، تو نقدی مضاف مضاف الیہ بن رہے ہیں سارے تو نقود سے ترجمہ شروع کریں، نقدیوں میں سے کسی ایک کے بیان کا حال یہ نہیں ہوگا، کیا نہیں ہوگا؟ من جنس أحوال إطلاق الثمن، مطلق ثمن کے احوال کی جنس میں سے، یہ اس کے احوال میں سے نہیں ہوگا بھئی۔ یہاں تک ثمن کے احوال ذکر ہوئے بھئی کہ ثمن نقد بھی صحیح ہے، ایک معلوم مدت تک بھی صحیح ہے، ثمن مطلق بھی صحیح ہے، اب بتلا رہے ہیں اب مبیعہ کا ذکر شروع کرنے لگے ہیں، تو شارح بتلا رہے ہیں آپ کو، ثم بعد ذكر الثمن شرع في ذكر المبيع، فقال، پھر ثمن کو ذکر کرنے کے بعد ماتن شروع ہو گئے مبیعہ کے ذکر کے اندر، پس وہ فرماتے ہیں: وفي الطعام والحبوب كيلا وجزافا، وجزافاً، وجِزافاً، دونوں طرح صحیح ہے، جیم کے کسرے کے ساتھ بھی، ضمہ کے ساتھ بھی۔ كيلا وجزافا یا جزافاً إن بيع بغير جنسه، وبإناء أو حجر معين لم يدر قدره۔ وفي الطعام، طعام بھئی بین السطور لکھا ہوا ہے۔ وهو البر، وہ گندم ہے، لا غيره، اس کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں، تو طعام گندم کو کہتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ طعام عرف میں۔ صاحبِ جوہرہ فرماتے ہیں کہ عرفاً طعام جو ہے وہ گندم کو بھی کہتے ہیں اور دقیق یعنی اٹے کو بھی کہتے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ جی۔ تو گندم کی بیع، وفي الطعام، یہ اس کا تعلق بھی و صح البيع سے ہے بھئی، گزشتہ صفحے کے شروع میں متن آیا تھا درمیان میں "وصح البيع"، اور صحیح ہوگی بیع، وفي الطعام، کس کے اندر؟ گندم کے اندر، والحبوب، اور دانوں کے اندر بھئی، بھئی یہ دالیں وغیرہ، چنے یہ چیزیں مراد، اور دانوں کے اندر، كيلا، وہ ناپ کر بھئی، ناپ کر بھی ان کے اندر بیع صحیح ہے، وجزافا، اور اندازے سے بھی صحیح ہے بھئی۔ إن بيع بغير جنسه، لیکن شرط یہ ہے اگر بیچا جائے ان کو بغير جنسه اپنی جنس کے علاوہ کے ساتھ، اپنی جنس کے علاوہ کے ساتھ، اگر اپنی ہی جنس کے ساتھ بیچا جائے پھر تو ناپ کر برابری کے ساتھ بیچا جا سکتا ہے، اندازے سے بیچنا صحیح نہیں۔ گندم پڑی ہے آپ نے کہا بھئی یہ تقریباً کتنی ہوگی؟ 100 قفیز ہوگی یہ تقریباً گندم، تو آپ نے کوئی ماپی ہے؟ اندازہ ہے اتنی ہوگی، تو یہ اندازے سے بیع کیا ہے؟ صحیح ہے، لیکن اگر دوسری طرف وہ بھی کیا دے رہا ہے آپ کو؟ گندم دے رہا ہے، اب اندازے سے کام نہیں چلے گا بلکہ کیا کرنا پڑے گا؟ ناپ کر برابر کرنا ضروری ہے ورنہ ایک طرف سے زائد ہو جائے گا کچھ نہ کچھ حصہ تو ربا بن جائے گا بھئی۔ آلہ ہو، ادنیٰ ہو، جیسی بھی ہو، برابری ضروری ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ برابری ضروری ہے، پھر دو بیع کر لینا اس کی ایک یہ صورت ہے۔ ایک بیچ دے کہ یہ میں نے 1000 روپے میں یہ گندم بیچی یہ آلہ ہے۔ پھر 1000 کے کیا کر لے؟ دوسری خرید لے جتنے کی خریدنی ہے، چلیے جی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔
106 approved lectures · 6 of 106