Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-004

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 14 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 44
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کتاب البیع۔ هو مبادلة المال بالمال ينعقد بإيجاب وقبول بلفظي الماضي وباطلا في النفيس والخسيس۔ فمبادلة المال بالمال علة صورية للبيع والايجاب والقبول والتعاطي علة مادية له۔ والمبادلة يكون بين اثنين فهما العلة الفاعلية۔ اچھا بھئی! ایک تو کتاب البیع ہم نے کل شروع کی بھئی۔ کتاب البیع، ای هذا کتاب البیع بھئی، یا اقرأ کتاب البیع بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ترکیب، هذا کتاب البیع، هذا مبتدا محذوف نکال لیں، یا اس کو مبتدا بنا لیں، خبر محذوف نکال لیں، کتاب البیع هذا، یا اقرأ کے لیے محذوف، اقرأ کے لیے اس کو مفعول بنا لیں۔ یرحمک اللہ! اقرأ کتاب البیع۔ جی، تو شریعت میں کسے کہتے ہیں؟ هو مبادلة المال بالمال۔ بیع کہتے ہیں وہ مال کا مال کے ساتھ تبادلہ کرنا بھئی۔ مال کا مال کے ساتھ تبادلہ کرنا۔ مال کسے کہتے ہیں بھئی؟ مال، یہ آپ کے کتاب کے حاشیہ نمبر تین میں تعریف دی ہوئی ہے بھئی۔ مال کسے کہتے ہیں؟ ما يميل إليه الطبع، جس کی طرف طبیعت کیا ہو؟ مائل ہو۔ دیکھا! مال کو مال اسی لیے کہتے ہیں کہ اس کی طرف طبیعت مائل ہوتی ہے، انسان اسے چاہتا ہے۔ ويمول به، اور اس کے ذریعے خوشحال ہوا جاتا ہے بھئی، دولت مندی حاصل ہوتی ہے، خوشحالی حاصل ہوتی ہے۔ ويمكن تمليكه والدخاره، اور ممکن ہو اس کو میں مالک بنانا، غیر کو کیا کر سکیں آپ؟ مالک بھی بنا سکیں اس کا۔ والدخاره، اور اس کو جمع کرنا، ذخیرہ کرنا بھئی، یہ بھی کیا ہو؟ ممکن ہو۔ وينتفع به، اور اس سے نفع اٹھایا جاتا ہو۔ تو یہ عرف میں مال کی تعریف انہوں نے کی بھئی۔ عرف میں کسے کہتے ہیں؟ جس کی طرف طبیعت مائل ہوتی ہے، خوشحالی حاصل ہوتی ہے، مالک بنانا ممکن ہوتا ہے کسی کو اس کا، اور اس کو جمع بھی کیا جا سکتا ہو، اور اس سے نفع بھی اٹھایا جاتا ہو۔ ہاں، شرعاً مال وہ ہے جس میں ایک اور قید کا بھی لحاظ رکھنا پڑے گا اور وہ کہ وہ حلال ہو، جائز النفع ہو، اس سے نفع اٹھانا جائز ہو۔ لہٰذا خمر اور خنزیر خارج ہوئے بھئی، کیونکہ وہ حلال نہیں، ان سے نفع اٹھانا جائز نہیں۔ وہ مال نہیں۔ مال نہیں، تو جب وہ مال ہی نہیں ہے تو ان کی جو بیع کوئی اس کی بیع کرتا ہے، وہ بیع کون سی ہوگی؟ بیع باطل ہوگی۔ اس لیے کہ بیع کے باب میں آپ نے پڑھا تھا کہ اگر مبیعہ مال ہی نہ ہو شرعاً، تو وہ بیع کون سی ہوگی؟ باطل۔ تو خنزیر اور شراب، یہ مال ہی نہیں ہیں، یہ مبیعہ یا ثمن کوئی چیز بھی نہیں بن سکتے، تو لہٰذا یہ ان کی بیع باطل ہے بھئی۔ تو باقی تعریف جو آپ نے پڑھی بھئی، جس کی طرف طبیعت مائل ہو، خوشحالی حاصل ہو وغیرہ، یہ ان سے پتہ چلا بھئی، تراب، مٹی بھی خارج ہو گئی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ مٹی کوئی مرغوب چیز ہے؟ مرغوب چیز نہیں ہے بھئی، مرغوب چیز۔ اس طرح میتہ، مردار بھی خارج ہوا بھئی۔ اور دم وغیرہ، خون بھئی، یہ بھی کیا ہوئے ہیں؟ خارج ہو گئے۔ ہاں، تراب وغیرہ اگر کبھی مرغوب بن جائیں تو پھر وہ مال ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ جب کبھی مرغوب ہو تو کیا بن جائے گا؟ مال بنے گا، پھر اس کی بیع وغیرہ جائز ہے۔ تو اس میں طرفین، دونوں طرف مال کا ہونا ضروری ہے بیع کے اندر۔ هو مبادلة المال بالمال، وہ مال کا مال کے ساتھ تبادلہ کرنا ہے۔ ينعقد بإيجاب وقبول، منعقد ہو جاتی ہے بیع ایجاب اور قبول کے ساتھ بھئی۔ بیع کے اندر بھئی یہ ایجاب اور قبول لفظ آتے رہیں گے بیع کے باب میں اور استعمال ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیں ایجاب کسے کہتے ہیں اور قبول کسے کہتے ہیں۔ ایجاب بھئی، جو پہلے بولے یا چاہے وہ بائع ہو، چاہے مشتری، اس کے قول کو کیا کہا جائے گا؟ پہلے قول کو ایجاب کہتے ہیں۔ مثلاً بائع اگر کہتا ہے "بعت" پہلے، تو یہ کیا بن جائے گا؟ ایجاب، میں نے بیچا۔ اور اگر مشتری پہلے بولا اور اس نے کیا کہا "میں نے خریدا، اشتریت"، تو یہ کیا بنے گا؟ ایجاب، اور قول دوسرے کا کیا کہلائے گا؟ قبول کہلائے گا، قبول۔ تو پہلے کے قول کو ایجاب کہتے ہیں اور دوسرے کے قول کو قبول کہتے ہیں۔ ایجاب کو ایجاب اس لیے کہتے ہیں، ایجاب کا معنی ہے اثبات، اثبات، ثابت کرنا، کیونکہ یہ دوسرے کے لیے قبول کو ثابت کرتا ہے۔ ایجاب کو ایجاب اس لیے کہتے ہیں کہ یہ دوسرے کے لیے قبول کو ثابت کرتا ہے۔ تو بیع منعقد ہو جاتی ہے ایجاب اور قبول سے بھئی۔ اور یہ یاد رکھیے، ایجاب اور قبول میں مطابقت کا ہونا ضروری ہے۔ مثلاً آپ کتاب بیچتے ہیں اپنے ساتھی پر اور آپ نے کیا کہا "میں نے یہ کتاب آپ کو بیچی دس روپے میں"، تو وہ بھی یہی کہے گا بھئی کہ "میں نے یہ کتاب آپ سے خریدی دس روپے میں"، مطابقت ضروری ہے۔ اگر وہ کہتا ہے "میں نے خریدی آٹھ روپے میں"، تو پھر بیع نہیں ہوئی بھئی، کیونکہ قبول جو ہے وہ ایجاب کے مطابق نہیں ہوا۔ تو مطابقت ضروری ہے۔ تو یہ تو بیع، آگے کہتے ہیں بلفظي الماضي۔ ایجاب اور قبول کس کے ساتھ ہونے چاہئیں بھئی؟ ماضی کے لفظ کے ساتھ ہونے چاہئیں بھئی، "بعت" اور "اشتریت"، میں نے بیچا، دوسرا کیا کہے؟ میں نے خریدا، ماضی کے لیے بھئی، ماضی کے لفظوں کے ساتھ۔ ہاں، حال کے ہوں، حال کے صیغے استعمال کریں تو پھر بھی بیع ہو جائے گی، لیکن اس میں نیت ضروری ہے۔ مثلاً عربی کے اندر تو فعل حال کے لیے کوئی الگ صیغہ ہے ہی نہیں، وہی فعل مضارع ہے، مستقبل کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور حال کے لیے بھی۔ ایک کہتا ہے "أبيع"، دوسرا کہتا ہے "أشتري"، تو یہ حال کے، اب اگر اس نے حال کا بھی اس میں احتمال ہے، استقبال کا بھی احتمال ہے، تو اگر حال کی نیت کریں گے تو پھر اس سے بھی کیا ہو جائے گی؟ بیع منعقد ہو جائے گی۔ ہاں، صرف مستقبل ہو، مثلاً امر ہے، امر، "بع" بھئی، بیچو مجھ پر یہ چیز، دوسرا کیا کہتا ہے؟ میں نے بیچی، تو اب بیع منعقد نہیں ہوئی، کیونکہ ایک نے کیا کہا تھا؟ بیچو، امر کا صیغہ استعمال کیا، مستقبل کے لیے آتا ہے بھئی، اور صرف مستقبل کا صیغہ ہو تو اس سے بیع منعقد نہیں ہوتی۔ دوسرے نے کیا کہا پھر جواب میں؟ میں نے بیچی، تو یہ قبول نہیں ہے، پہلے نے امر دیا تھا، دوسرے نے کہا میں نے بیچی، یہ ایجاب بن گیا۔ یہ کون سا صیغہ ہے؟ ماضی کا، یہ ایجاب بن گیا۔ اب پہلے کے لیے ضروری ہے کیا کرے اس کو؟ قبول کرے، تو پھر بیع منعقد ہو جائے گی بھئی، آسان باتیں ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں ایجاب اور قبول سے بلفظي الماضي، اس حال میں کہ دونوں کیا ہوں؟ بلفظین تھا اصل میں بھئی، تثنیہ کا صیغہ ہے، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا، تو بلفظي الماضي ہوا بھئی، دونوں ماضی کے لفظ ہوں۔ یہ تو بیع فعلی ہے، بیع قولی ہے، قول کے ساتھ، ایک نے کہا میں نے بیچا، دوسرے نے کیا کہا؟ میں نے خریدا۔ اور کبھی قول نہیں ہوتا بلکہ صرف فعل کے ذریعے بیع ہوتی ہے۔ مثلاً آپ کو ایک چیز کی قیمت معلوم ہے، آپ جاتے ہیں دکان میں، وہ چیز اٹھاتے ہیں، پیسے وہاں رکھتے ہیں دکاندار، یا وہ دکاندار وہ چیز دیتا ہے، آپ اس کو پیسے پکڑاتے ہیں اور لے کر آ جاتے ہیں۔ نہ آپ نے کہا میں نے خریدا، نہ اس نے کہا میں نے بیچا، پیسے دیے، مال لیا اور آپ لے کر آ گئے۔ یہ فعلی بیع ہے، اس کو تعاطی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ بیع تعاطی۔ سمجھ میں آیا؟ تو اس میں اعطاء دونوں جانب سے پایا جا رہا ہے۔ آپ نے پیسے دیے، یہ آپ کی طرف سے اعطاء ہوا، اور اس نے چیز اٹھا کر آپ کو دی، یہ دکاندار کی طرف سے کیا ہوا؟ اعطاء ہوا، تو تعاطی اس، باب تفاعل ہے، اور باب تفاعل کیا تقاضا کرتا ہے بھئی؟ "تضارب زید وعمرو"، کیا معنی ہوگا؟ زید نے عمرو کی پٹائی کی اور عمرو نے زید کی، یہ جانبین سے فعل چاہتا ہے۔ تو جانبین کے، تو یہاں بھی تعاطی بھئی، باب تفاعل ذکر ہو رہا ہے، جانبین سے اعطاء آئے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں وباطلا في النفيس والخسيس، اور تعاطی کے ساتھ ہوگی بھئی، في النفيس والخسيس، نفیس عمدہ مال کے اندر بھی والخسیس، خسیس کا معنی گھٹیا، ادنیٰ بھئی، نفیس کا معنی عمدہ، قیمتی بھئی۔ تو تعاطی بھئی، بیع تعاطی جو عملی بیع ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عملی بیع بھی کہتے ہیں، یہ قولی نہیں ہے، اس میں عمل ہے صرف۔ تو یہ نفیس اور خسیس، عمدہ مال میں بھی درست ہے اور ادنیٰ مال میں بھی درست ہے۔ بھئی عمدہ مال سے کیا مراد ہے؟ ادنیٰ مال سے کیا مراد ہے؟ گھٹیا مال سے کیا مراد ہے؟ تو بھئی عام عرف میں جسے عمدہ سمجھتے ہیں وہ عمدہ ہے، جو گھٹیا ہے وہ، یعنی کم قیمت والا، کم قیمت والا۔ سبزی وغیرہ ہے یا روٹی ہے یا اس طرح کی جو سستی چیز ہے۔ اور عمدہ قیمتی چیز، مثلاً گاڑی ہو گئی بھئی، اور گاڑی، موٹر سائیکل ہو گئی، سائیکل ہو گئی، یہ چیزیں کیا ہیں؟ قیمتی ہیں، عمدہ ہیں بھئی۔ تو عمدہ، قیمتی۔ علامہ شامی فرماتے ہیں دوسرا قول یہ کہ نفیس وہ ہے جس کی قیمت نصاب تک پہنچے۔ اور خسیس گھٹیا وہ جس کی قیمت نصاب سے کم ہو بھئی۔ نصاب کتنا ہے بھئی؟ سرقہ کتنے میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے بھئی؟ جی؟ اسی طرح بھئی، کم سے کم مہر کتنا ہے؟ دس درہم۔ تو یہ بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو نصابِ سرقہ تک جو پہنچے، وہ یعنی دس درہم ہو، وہ اعلیٰ مال ہے، اور جو دس درہم سے کم ہے وہ خسیس ہے، وہ ادنیٰ ہے، گھٹیا ہے بھئی۔ دس درہم کتنا بنے گا آج کل بھئی؟ دیکھو ایک درہم جو ہوتا ہے، وہ تین ماشے، ایک رتی اور خمس رتی کا ہوتا ہے بھئی۔ شرعی اوزان یاد ہیں بھئی؟ فقہ کے طالب علم کو تو شرعی اوزان ہمیشہ یاد ہونے چاہئیں۔ یاد رکھو، آٹھ چاول کے دانے ہوں تو یہ ایک رتی بنتی ہے۔ آٹھ رتی ہو تو یہ ایک ماشہ بنتا ہے۔ اور بارہ ماشے ہوں تو یہ ایک تولہ بنتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو ایک تولہ برابر ہوتا ہے، آج کل گرام وغیرہ، کلو گرام وغیرہ استعمال ہوتے ہیں، تو ایک تولہ گیارہ اشاریہ چھ چھ چار گرام کے برابر ہوتا ہے۔ تو درہم کی مقدار میں نے کتنی ذکر کی بھئی؟ تین ماشے، ایک رتی اور خمس رتی۔ تو دس درہم بن جائیں گے ساڑھے اکتیس ماشے بھئی، ساڑھے اکتیس ماشے، اور اس کے تولے بنائے تو تقریباً پونے تین تولے بنتے ہیں بھئی، کچھ کم پونے تین تولے۔ پونے تین تولے۔ اور درہم ہوتا ہے چاندی کا، تو یہ کتنی چاندی بن گئی؟ تقریباً پونے تین تولے۔ اور ایک تولہ چاندی کس طرح ہے؟ آج کل قیمت ہر زمانے میں بدلتی ہے بھئی۔ تولہ؟ چاندی بھئی کہہ رہے ہیں پونے تین سو روپے تقریباً تولہ ہے۔ تو یہ پونے تین تولے کے تقریباً آپ حساب لگا لیں، یہ کتنا بن جائے گا؟ ساڑھے پانچ سو دو تولے کے ہو گئے اور بس تقریباً ساڑھے سات سو کے لگ بھگ کچھ بنتا ہے بھئی، پورا حساب پھر آپ لگا لیجیے آج کل، ٹھیک ہے بھئی؟ تو ساڑھے سات سو کا جو مال ہے وہ نفیس ہے، اور جو اس سے کم ہے وہ خسیس شمار ہوگا بھئی۔ آگے ذکر کریں گے بھئی، یہ نفیس اور خسیس کیوں ذکر کر رہے ہیں؟ اس لیے کہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ تعاطی جو ہے، بیع تعاطی، وہ خسیس مال میں تو جائز ہے، نفیس کے اندر جائز نہیں۔ یہ کم درجے کی چیزوں میں اس طرح، لیکن صاحب کتاب بھئی، علامہ تاج الشریعہ متن میں فرما رہے ہیں بھئی، نفیس کے اندر بھی صحیح اور خسیس کے اندر بھی صحیح۔ لاکھ دس لاکھ کی گاڑی ہے، آپ جاتے ہیں، قیمت کا پتہ ہے آپ کو، گاڑی کی قیمت دیتے ہیں اور وہ چابی آپ کے حوالے کر دیتا ہے، کوئی تکلم نہیں ہوا، آپ گاڑی لے کر آئے، بیع ہو گئی بھئی، اگرچہ مال کیا ہے؟ نفیس ہے۔ تو کہتے ہیں وباطلا في النفيس والخسيس، اور تعاطی کے ساتھ نفیس اور خسیس میں۔ فمبادلة المال بالمال علة صورية۔ بھئی یہاں سے اب وہ بیع کو ایک حسی چیز کے ذریعے سمجھانا چاہتے ہیں۔ حسی چیز کے ذریعے، ایک حسی چیز کے ذریعے اس کو سمجھانا چاہتے ہیں۔ آپ نے پڑھا ہوگا کہ کسی بھی چیز کے وجود میں آنے کے لیے چار علتوں کا ہونا ضروری ہے بھئی۔ ایک علتِ غائی ہے، اور ایک علتِ مادی ہے، ایک علتِ فاعلی ہے، اور ایک علتِ صوری ہے، یہ چار علتوں کا ہونا ضروری ہے۔ اس کی مثال بھئی چارپائی سے دیکھو بھئی، بات سمجھ میں آپ کو آ جائے گی۔ علتِ غائی کہتے ہیں وہ مقصد جس کے لیے اس چیز کو بنایا جاتا ہے۔ تو چارپائی کا مقصد کیا ہے؟ اس پر بیٹھنا ہے، اس پر سونا ہے، تو یہ علتِ غائی ہوئی چارپائی کے لیے۔ اور علتِ مادی کیا ہوگی؟ علتِ مادی وہ چیزیں جن سے وہ بنتی ہے وہ بھئی، وہ کیا بنے گی بھئی؟ لکڑی اور رسی بھئی، لکڑی اور رسی، یہ علتِ مادی ہے بھئی۔ اور علتِ فاعلی اس کو بنانے والا بھئی، وہ کون ہوگا؟ ترکھان وغیرہ جو بھی ہے وہ اس کو بنانے والا بھئی، جو شخص بھی، وہ علتِ فاعلی ہے۔ اور علتِ صوری کیا ہے؟ وہ جب چارپائی بن گئی ایک خاص صورت اسے حاصل ہوئی، ایک خاص ہیئت حاصل ہوئی، یہ کیا ہے؟ صوری ہے، سمجھ میں آیا؟ بھئی پہلے تو لکڑی کے تختے پڑے ہوئے تھے، ٹکڑے پڑے ہوئے تھے، کچھ رسی الگ پڑی تھی، لیکن جب ان سب کو جوڑ دیا تو ایک خاص ہیئت، ایک خاص صورت حاصل ہو گئی جسے ہم چارپائی کہتے ہیں، یہ کیا ہے؟ علتِ صوری ہے، اس سے پہلے اسے آپ چارپائی نہیں کہتے تھے۔ تو چار کسی بھی چیز میں وجود میں، کسی بھی چیز کے وجود میں آنے کے لیے چار علتوں کا ہونا ضروری، سب سے پہلے کیا؟ علتِ غائی، اس کا مقصد بنانے کا، دوسری علتِ مادی، جو چیزوں، جن چیزوں سے وہ بنتی ہے، نمبر تین علتِ فاعلی، اس کو بنانے والا چاہیے بھئی، اور نمبر چار کیا ہے؟ علتِ صوری ہے بھئی، جو اس کی صورت اس سے حاصل ہوتی ہے۔ یاد رکھو علتِ غائی ذہن میں سب سے مقدم ہوتی ہے، لیکن خارج میں سب سے مؤخر ہوتی ہے۔ دیکھو چارپائی بنانے کے لیے مقصد کیا تھا؟ اس پر بیٹھنا اور اس پر سونا، یہ ذہن میں مقدم تھا، اسی لیے آپ نے چارپائی بنانا شروع کی۔ لیکن یہ سونا اور بیٹھنا حاصل کب ہوگا؟ آخر میں، جب چارپائی بن جائے گی، وہ صورت حاصل ہو جائے گی۔ تو علتِ غائی ذہن میں مقدم ہوتی ہے، لیکن خارج میں سب سے مؤخر بھئی، آخر میں حاصل ہوتی ہے۔ تو اب بیع کو بھی اس کے ساتھ محسوس چیز کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے سمجھانا چاہتے ہیں، کہتے ہیں بھئی بیع بھی اس کے، تو بیع ہے دراصل بھئی ایک حکمی چیز۔ امرِ حکمی ہے، آپ دو آدمی آپس میں بیع کرتے ہیں، ایک نے کہا میں نے خریدا، دوسرے نے کہا میں نے بیچا، آپ نے کہا بھئی بیع پائی گئی، بیع کا وجود آ گیا، بھئی کدھر ہے؟ مجھے دکھاؤ تو سہی، کہاں ہے؟ کوئی نظر آ رہی ہے آپ کو؟ بھئی ایک حکمی چیز ہے، یہ تو ایک معاملے کا نام ہے، اس کا کوئی خارج میں وجود نہیں، تو اب اس کو سمجھا رہے ہیں ایک محسوس چیز کے ساتھ جیسے چارپائی ہوتی ہے جو ہمیں آنکھوں سے دکھائی دیتی ہے، کسی بھی چیز۔ تو اس کے ذریعے سمجھانا چاہتے ہیں۔ تو جیسے ایک امرِ محسوس، ایک محسوس چیز جو ہے، اس کے لیے چار علتوں کا ہونا ضروری، اسی طرح بیع جو امرِ حکمی ہے، اس کے لیے بھی چار علتوں کا ہونا ضروری ہے۔ تو سب سے پہلے علتِ غائی بھئی، بیع کے لیے علتِ غائی کیا ہوگی؟ ملکیت بھئی، بیع کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ آپ ثمن دیتے ہیں تو مبیعہ کے آپ کیا بن جاتے ہیں؟ مالک بن جاتے ہیں، عقد کرتے ہیں، عقد کرتے ہی فوراً مالک بن جاتے ہیں اس چیز کے بھئی۔ تصرف کا آپ کو حق حاصل ہو جاتا ہے اس چیز کے اندر، ملکیت کیا معنی بھئی؟ تصرف کا حق حاصل ہونا، تصرف کا حق، تو یہ ہے علتِ غائی بھئی۔ ملکیت کا حاصل ہونا، تصرف کا حق حاصل ہونا، اور علتِ مادی کیا ہے بھئی اس کے لیے؟ ایجاب و قبول، ایجاب و قبول پائے جائیں گے تو کیا کہلائے گی؟ بیع، یا تعاطی کے اندر اعطاء وغیرہ پایا جائے گا، لینا دینا چیز کا، تو یہ کیا کہلائے گا؟ بیع کہلائے گا، ورنہ بیع نہیں، تو یہ رکن ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ بیع کے لیے ایجاب و قبول بھئی۔ تو یہ علتِ مادی ہوئی، اور علتِ فاعلی کون ہے بھئی؟ بائع اور مشتری، وہ ہوں گے تو بیع پائی جائے گی، وہ بیع کو وجود دے رہے ہیں، وہ نہیں تو بیع بھی نہیں۔ اور علتِ صوری کیا ہے؟ وہ ایجاب و قبول بھئی، وہ جو ایجاب و قبول کر رہے ہیں وہ کیا ہے؟ علتِ صوری، یا وہ جو اعطاء ہو رہا ہے دونوں طرف سے، وہ کیا ہے؟ صورت آ رہی ہے یا نہیں بھئی؟ وہ صورت بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو مال کا مال کے ساتھ جو تبادلہ ہو رہا ہے، مال کا مال کے ساتھ تبادلہ ہو رہا ہے، یہ علتِ صوری ہے بھئی، علتِ صوری۔ سمجھ میں آئی بھئی بیع؟ اس کے لیے بھی چار علتیں، تو علتِ غائی کیا ہوئی؟ ملکیت کا حاصل ہونا، تصرف کا حق حاصل ہونا، اور علتِ مادی کیا ہوئی؟ اگر بیعِ قولی ہو تو ایجاب و قبول، اور اگر بیعِ تعاطی ہو تو وہ جو تعاطی ہے دونوں جانب سے، وہ کیا ہے؟ علتِ مادی ہے، اور علتِ فاعلی کون ہیں؟ بائع اور مشتری، اور علتِ صوری کیا ہے؟ وہ مال کا مال کے ساتھ مبادلہ جو ہو رہا ہے۔ دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں فمبادلة المال بالمال علة صورية للبيع، پس مال کا مال کے ساتھ تبادلہ، یہ علتِ صوری ہے بیع کے لیے۔ والايجاب والقبول، اور ایجاب اور قبول، یہ تعاطی کو ذرا چھوڑ دیں۔ علة مادية له، یہ ایجاب اور قبول کیا ہیں؟ علتِ مادیہ ہیں بیع کے لیے، یہ کون سی بیع کے اندر؟ بیعِ قولی کے اندر، بیعِ قولی، اور آگے ہے والتعاطي، اور تعاطی، یہ علتِ مادیہ ہے بیع کے لیے، یہ کون سی بیع کے اندر؟ بیعِ فعلی کے اندر۔ تو بیعِ قولی میں ایجاب اور قبول یہ علتِ مادیہ ہیں، اور بیعِ تعاطی میں یہ جو تعاطی ہے، چیز کا لینا دینا، یہ علتِ مادیہ ہے۔ والمبادلة يكون بين اثنين فهما العلة الفاعلية، اور مبادلہ دو آدمیوں میں ہوگا مال کا، تو وہ دونوں یعنی بائع اور مشتری کیا ہیں؟ علتِ فاعلیہ ہیں۔ ولم يقل، یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں، شارح ہیں بھئی، متن کی تشریح کر رہے ہیں بھئی۔ اور بعض مصنفین بھئی، مبادلة المال بالمال کے ساتھ على سبيل التراضي کی قید بھی بڑھاتے ہیں، کہ بیع کسے کہتے ہیں؟ مال کا مال کے ساتھ تبادلہ ہو على سبيل التراضي باہمی باہمی رضامندی کے طریقے پر۔ تو ماتن نے کیوں نہیں لگائی یہ قید بھئی، على سبيل التراضي کی؟ کہ باہمی رضامندی ہو، کہتے ہیں بھئی اس لیے کہ وہ مکرہ کی بیع کو بھی اس میں داخل کرنا چاہتے تھے، اور على سبيل التراضي کی قید لگا دیں تو مکرہ کی بیع اس میں داخل نہیں ہوتی۔ انہوں نے کیا کہا؟ بیع کے اندر کیا ہونا ضروری ہے؟ جانبین سے رضامندی ہونا ضروری ہے، لیکن کبھی بیع جو ہے وہ جبراً کروائی جاتی ہے۔ ایک آپ کے پاس کتاب ہے، ایک آدمی آپ کے سر پر تلوار لے کر کھڑا ہو گیا بھئی، کہ یہ کتاب مجھے بیچو ورنہ آپ کی گردن اڑاتا ہوں بھئی۔ تو آپ نے کیا کہا؟ میں نے کتاب آپ کو بیچی، اس نے کہا کتاب میں نے خریدی۔ تو یہ آپ مجبور ہیں، مجبور کو مکرہ کہتے ہیں، اور مجبور کرنے والا وہ مکرہ ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ مجبور کی بیع، اب آپ کی رضامندی تھی اس بیع کے اندر؟ نہیں بھئی، کتاب تو نایاب تھی، آپ کے پاس ایک ہی نسخہ تھا بھئی، اس نے جبراً آپ سے خرید لی۔ تو على سبيل التراضي کی، تو یہ بھی بیع ہو گئی، لیکن اگر على سبيل التراضي کی قید لگائیں تو یہ کیا ہو جاتی ہے؟ خارج ہو جاتی ہے، اسی لیے انہوں نے اس کو بھی داخل کرنا چاہا، تو انہوں نے على سبيل التراضي کی قید نہیں لگائی۔ تو یہ بیع منعقد ہوتی ہے۔ لیکن لازم نہیں ہوتی مولانا۔ جیسے ہی آپ سے جبر ہٹ گیا، آپ کو اختیار حاصل ہے، آپ چاہیں تو اس کو کیا کر سکتے ہیں؟ رد کر دیں، سمجھ میں آیا؟ آپ رد کر دیں گے، بیع ختم ہو گئی۔ اگر رد نہیں کرتے تو بیع کیا ہے؟ درست ہے، صحیح ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو یہ نہ سمجھنا کہ یہ بیع ہو گئی، بس اب اختیار نہیں رہا، نہیں بھئی، جو مکرہ ہے، جو مجبور ہے اس کو اب اختیار ہے، جیسے ہی اس پر سے وہ جبر ہٹتا ہے اور اس کو اختیار حاصل ہوتا ہے تو وہ کیا کر سکتا ہے اس کو؟ رد کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں ولم يقل على سبيل التراضي، اور ماتن نے یہ نہیں فرمایا على سبيل التراضي، ليشمل ما لا يكون بالتراضي، تاکہ شامل ہو جائے اس بیع کو بھی جو تراضی کے ساتھ نہ ہو، جو تراضی یعنی باہمی رضامندی، جو باہمی رضامندی سے نہ ہو، كبيع المكره، جیسے مجبور کی بیع بھئی، فانه ينعقد، اس لیے کہ وہ بیع بھی کیا ہو جاتی ہے؟ منعقد ہو جاتی ہے، یہ دوسرے لفظوں میں یوں کہیں صورتاً منعقد ہو جاتی ہے، حقیقتاً منعقد نہیں ہوتی، اختیار ہے ابھی بھی اس کو بھئی۔ وهو الصحيح، یہ متن ہے مولانا، اور اس کا تعلق وہ وباطلا في النفيس والخسيس سے ہے بھئی۔ درمیان میں علامہ صدر الشریعہ نے کچھ تشریح کی تھی بھئی، اب پھر تاج الشریعہ کی بات آ گئی، وہ فرماتے ہیں وهو الصحيح، کہتے ہیں یہ جو ہم نے کہا کہ تعاطی نفیس میں بھی درست ہے اور خسیس کے مال میں بھی درست ہے، یہ قول کیا ہے؟ صحیح ہے، صحیح ہے۔ صحیح کہنے سے پتہ چل گیا یہاں کوئی غیرِ صحیح قول بھی موجود ہے، کیا ہے غیرِ صحیح قول بھی موجود، اس کی وہ خود اب آپ کو صدر الشریعہ بتلائیں گے بھئی، کہتے ہیں إنما قال هذا، ماتن نے یہ کہا، لأن عند البعض إنما ينعقد بالتعاطي في الخسيس لا في النفيس، اس لیے کہ بعض علماء کے نزدیک منعقد ہو جاتی ہے تعاطی کے ساتھ بھئی خسیس مال کے اندر، لا في النفيس، نہ کہ بعض کے نزدیک نفیس، اور یاد رکھو اس سے مراد امام کرخی ہیں بھئی، بڑے امامِ دنیا گزرے ہیں، احناف کے بڑے امام بھئی۔ امام کرخی رحمہ اللہ تعالیٰ رحمة واسعة بھئی۔ ان کا قول یہ ہے کہ خسیس میں ہو جائے گی، نفیس میں نہیں، لیکن باقی جمہور احناف کیا کہتے ہیں بھئی باقی؟ صحیح قول وہ ہے بھئی۔ والتعاطي عند البعض۔ الاعطاء من الجانبين بھئی، اور بعض علماء بھئی اب تعاطی کے بارے میں آپ کو بتلائیں گے بھئی۔ کہ کیا تعاطی کے اندر دونوں طرف سے مال کا اعطاء ضروری ہے یا ایک طرف سے اعطاء پایا جائے تو وہ بھی کافی ہے؟ بھئی ایک بائع ہے، ایک مشتری بھئی۔ تو ایک کیا دے گا؟ ثمن، دوسرا کیا دے گا؟ مبیعہ دے گا، تو کیا دونوں طرف سے اعطاء ہونا چاہیے؟ یا اعطاء ایک طرف سے پایا جائے تو بھی کافی ہے؟ تو یاد رکھو، اعطاء کسی ایک طرف سے بھی پایا جائے، بس باہمی رضامندی کا علم ہونا چاہیے، تو یہ کافی ہے۔ دونوں طرف سے اعطاء ہو پھر تو ظاہر ہے رضامندی، اور اگر ایک طرف سے بھی اعطاء ہے اور دوسرا غیرِ رضامندی کا اظہار نہیں کرتا، معلوم ہو وہ بھی اس پر کیا ہے؟ رضامند ہے۔ چلیے بس مولانا، هذا هو المرام، والله اعلم بحقيقة الكلام۔
106 approved lectures · 4 of 106