Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الجامي · dars-085

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 06 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 12
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔85 دیکھیے، بھئی، آگے سبق: "وَقَدْ يُحْذَفُ الْفِعْلُ الرَّافِعُ لِلْفَاعِلِ لِقِيَامِ قَرِينَةٍ دَالَّةٍ عَلَى تَعْيِينِ الْمَحْذُوفِ جَوَازًا، أَيْ: حَذْفًا جَائِزًا، فِي مِثْلِ: "زَيْدٌ"، أَيْ: فِيمَا كَانَ جَوَابًا لِسُؤَالٍ مُحَقَّقٍ لِمَنْ قَالَ: "مَنْ قَامَ؟" سَائِلًا عَمَّنْ يَقُومُ بِهِ الْقِيَامُ، فَيَجُوزُ أَنْ تَقُولَ: "زَيْدٌ" بِحَذْفِ "قَامَ"، أَيْ: قَامَ زَيْدٌ، وَيَجُوزُ أَنْ تَقُولَ: "قَامَ زَيْدٌ" بِذِكْرِهِ." بھئی، گزشتہ سبق میں صاحبِ قافیہ کچھ وہ جگہیں ذکر کر رہے تھے جہاں فاعل کو مقدم کرنا واجب ہے اور اسی طرح کچھ وہ جگہیں ذکر کر رہے تھے جہاں فاعل کو مؤخر کرنا واجب ہے۔ تو پہلے انہوں نے وہ جگہیں ذکر کیں جہاں فاعل کو مقدم کرنا واجب ہے اور بتلایا کہ وہ چار جگہیں ہیں، بھئی۔ سب سے پہلی وہ جگہ ہے جہاں پر اعرابِ لفظی بھی منتفی ہو اور قرینہ بھی منتفی ہو تو فاعل کو مقدم کرنا واجب۔ دوسری جگہ جہاں فاعل ضمیرِ متصل ہو تو اس کو مقدم کرنا واجب ہے، لیکن ایک شرط ہے اس میں کہ مفعول جو ہے وہ فعل پر مقدم نہیں ہونا چاہیے۔ اور تیسری جگہ جہاں پر فاعل کو مقدم کرنا واجب ہے کہ جب مفعول "إِلَّا" کے بعد واقع ہو، لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ "إِلَّا" فاعل اور مفعول دونوں کے درمیان ہونا چاہیے۔ اور چوتھی جگہ جہاں فاعل کو مقدم کرنا واجب ہے کہ جب مفعول معنیٰ "إِلَّا" کے بعد یعنی "إِنَّمَا" کے بعد آئے یعنی سب سے آخر میں آئے تو اس صورت میں اس کو مؤخر کرنا واجب ہے ورنہ حصر الٹ جائے گا۔ پھر صاحبِ جامی نے آپ کو بتلایا کہ ہم نے فاعل کی تقدیم و تاخیر دونوں صورتوں میں یہ قید بڑھائی تھی کہ "إِلَّا" جو ہے فاعل اور مفعول کے درمیان آنا چاہیے۔ وجہ یہ کہ اگر وہ جو مثلاً پہلی مثال میں ہے "مَا ضَرَبَ زَيْدٌ إِلَّا عَمْرًا"، اگر آپ اس "عَمْرًا" کو "إِلَّا" سمیت اٹھا کر زید پر مقدم کر دیں یعنی زید کو سب سے آخر میں لے جائیں، تو اس صورت میں میں نے ایک تو بتلایا تھا کہ جمہور نحوی علماء کے نزدیک یہ جائز ہی نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ "إِلَّا" کے بعد جو واقع ہوتا ہے اس کو کہتے ہیں مستثنیٰ، تو مستثنیٰ کے بعد ایک لفظ آ رہا ہے اور "إِلَّا" کا ماقبل اس میں عمل کر رہا ہے، یہ جائز نہیں ہے۔ ہاں، چند ایک صورتوں میں جائز ہے کہ وہ جو مستثنیٰ کے بعد ہے وہ مستثنیٰ منہ ہو یعنی اس کو مؤخر کر دیا ہے، یا یہ جو مستثنیٰ ہے اسی کی صفت آگے آ رہی ہو وغیرہ، چند ایک صورتوں میں "إِلَّا" کا ماقبل جو ہے مستثنیٰ کے بعد بھی عمل کرتا ہے لیکن عام احوال میں یہ جائز نہیں کہ "إِلَّا" کا ماقبل مستثنیٰ کے بعد جا کر عمل کرے۔ لیکن بعض علماء نے اس کو جائز قرار دیا ہے۔ تو جنہوں نے جائز بھی قرار دیا ہے، اس صورت میں بھی یہاں پر خرابی لازم آتی ہے، کیونکہ یہاں دو معنیٰ بنتے ہیں: ایک معنیٰ ہے ظاہر اور ایک معنیٰ ہے غیرِ ظاہر، بھئی۔ ظاہر مثلاً دیکھو پہلا جملہ کیا تھا؟ "مَا ضَرَبَ زَيْدٌ إِلَّا عَمْرًا"، تو اس کے اندر دیکھو ضاربیتِ زید عمرو میں بند ہے۔ اب اگر اس زید کو سب سے آخر میں لے جائیں کہ "مَا ضَرَبَ إِلَّا عَمْرًا زَيْدٌ"، تو اس صورت میں بھی ضاربیتِ زید ہی عمرو میں بند ہو گی۔ تو وہ جو حصر مطلوب تھا، جو متکلم بیان کرنا چاہتا ہے، اس کے اندر تو کوئی تبدیلی اور خرابی نہیں آئی، لیکن ایک خرابی آ گئی اور وہ تھا "قَصْرُ الصِّفَةِ قَبْلَ تَمَامِهَا" کہ صفت کی تخصیص کر دی گئی اس کے پورا ہونے سے پہلے ہی، کیونکہ کلام کیا بن گیا؟ "مَا ضَرَبَ إِلَّا عَمْرًا زَيْدٌ"۔ تو اس میں دیکھو ضاربیتِ زید کو بند کیا جا رہا ہے عمرو میں اور زید تو سب سے آخر میں ہے اور "إِلَّا" سے ماقبل صرف ضرب کا ذکر ہے، تو ضاربیت تو ماقبل میں ہے، ضاربیتِ زید تو پوری "إِلَّا" سے ماقبل نہیں تو یہ "قَصْرُ الصِّفَةِ قَبْلَ تَمَامِهَا" کی خرابی لازم آتی ہے۔ اور اگر دوسرا معنیٰ لے لیا جائے جو غیرِ ظاہر ہے کہ اس صورت میں "إِلَّا" کے مابعد جو دونوں ہیں، دونوں میں حصر اور قصر اور تخصیص کو مان لیا جائے، یعنی معنیٰ یہ ہو جائے کہ کسی نے کسی کو نہیں مارا سوائے زید کے عمرو کو، یعنی صرف عمرو کی پٹائی ہوئی ہے اور صرف زید نے پٹائی کی ہے، یعنی دونوں کو مستثنیٰ بنا دیا جائے، تو اگرچہ یہ جائز نہیں ہے لیکن بہرحال یہ ایک عقلی احتمال بنتا ہے، تو بھی یہ وہ جو حصر مطلوب تھا اس کے خلاف ہو گیا۔ کیونکہ حصر تو ایک جانب کا مطلوب تھا، آپ صرف ضاربیتِ زید کو عمرو میں بند کرنا چاہتے تھے لیکن معنیٰ کیا بن گیا؟ ضاربیتِ زید عمرو میں بند ہو گئی اور مضروبیتِ عمرو زید میں بند ہو گئی، تو اس صورت میں وہ جو حصر مطلوب تھا اس کے خلاف لازم آیا۔ آپ تو صرف ضاربیت کو بند کرنا چاہتے تھے لیکن یہاں تو مضروبیت بھی بند ہو گئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ اس کے بعد پھر صاحبِ قافیہ نے کچھ وہ جگہیں ذکر کیں جہاں فاعل کو مؤخر کرنا واجب ہے اور وہ چار جگہیں ہیں۔ پہلی جگہ جہاں فاعل کے ساتھ مفعول کی ضمیر متصل ہو: "ضَرَبَ زَيْدًا غُلَامُهُ"، تو "غُلَامُهُ" فاعل ہے اور اس کے ساتھ مفعول کی ضمیر جڑی ہوئی ہے، تو اس صورت میں فاعل کو مؤخر کرنا لازم ہے اور مفعول کو مقدم کرنا واجب ہے۔ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو اضمار قبل الذکر لفظاً بھی لازم آئے گا اور رتبةً بھی لازم آئے گا جو جائز نہیں، مثلاً آپ "زَيْدًا" کو مؤخر کر دیں: "ضَرَبَ غُلَامُهُ زَيْدًا"، تو "غُلَامُهُ" کی "ہا" ضمیر کس کو راجع؟ زید کو، اور وہ لفظوں میں بھی مؤخر اور رتبے میں بھی مؤخر ہے کیونکہ وہ مفعول ہے اور "غُلَامُهُ" خود کیا ہے؟ فاعل ہے، تو یہ اضمار قبل الذکر لفظاً اور رتبةً لازم آتا ہے، اس لیے اس صورت میں فاعل کو مؤخر کرنا واجب ہے۔ دوسری صورت کہ جب فاعل "إِلَّا" کے بعد آئے یا معنیٰ "إِلَّا" کے بعد آئے تو بھی مؤخر کرنا واجب ہے ورنہ حصرِ مطلوب الٹ جائے گا۔ اور چوتھی جگہ جہاں پر جہاں پر مفعول جو ہے وہ ضمیرِ متصل ہو فعل کے ساتھ اور فاعل غیرِ متصل ہو، جیسے "ضَرَبَكَ زَيْدٌ"۔ اب "ضَرَبَكَ"، یہ "کاف" ضمیر مفعول کی ہے، یہ فعل کے ساتھ متصل ہے اور "زَيْدٌ" یہ غیرِ متصل ہے، تو اس صورت میں بھی فاعل کو مؤخر کرنا واجب ہے ورنہ اگر آپ فاعل کو مقدم کریں گے تو پھر "ضَرَبَكَ" اس کے اندر جو "کاف" ہے یہ متصل نہ رہے گی، اس کو زید کے بعد لے جانا پڑے گا تو یہ تو منفصل بن جائے گی، اور ہم نے تو کیا کہا تھا کہ مفعول کیا ہونا چاہیے؟ ضمیرِ متصل ہونا چاہیے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو صاحبِ قافیہ نے بتایا چوتھی جگہ وہ ہے جہاں مفعول تو ضمیرِ متصل ہو لیکن فاعل غیرِ متصل ہو، اس لیے کیونکہ اگر فاعل بھی متصل ہوا، مفعول بھی ضمیرِ متصل اور فاعل بھی ضمیرِ متصل، تو پھر فاعل کو مقدم کرنا واجب ہے جیسے "ضَرَبْتُكَ"۔ تو "ضَرَبْتُكَ" میں یہ "تا" ضمیر فاعل کی ہے اور "کاف" ضمیر مفعول کی ہے اور دونوں متصل ہیں، تو اس صورت میں فاعل کو مقدم کرنا واجب ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب دیکھیے آگے، بھئی، آج کا سبق۔ کہتے ہیں: "وَقَدْ يُحْذَفُ الْفِعْلُ الرَّافِعُ لِلْفَاعِلِ لِقِيَامِ قَرِينَةٍ دَالَّةٍ عَلَى تَعْيِينِ الْمَحْذُوفِ جَوَازًا، أَيْ: حَذْفًا جَائِزًا"۔ جی، پہلے صرف متن متن دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: "وَقَدْ يُحْذَفُ الْفِعْلُ لِقِيَامِ قَرِينَةٍ جَوَازًا فِي مِثْلِ "زَيْدٌ" لِمَنْ قَالَ "مَنْ قَامَ؟""۔ بھئی، اب یہاں سے صاحبِ قافیہ آپ کو بتلائیں گے کہ کبھی کبھار فعل کو حذف کر لیا جاتا ہے۔ بھئی، ایک ہے فعل، ایک ہے فاعل، تو یہاں تین صورتیں بنتی ہیں۔ ایک صورت کیا؟ کہ صرف فعل کو حذف کیا جائے اور فاعل کو ذکر کیا جائے۔ دوسری صورت یہ ہے فاعل کو حذف کیا جائے اور فعل کو ذکر کیا جائے۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ فعل اور فاعل دونوں کو حذف کر لیا جائے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یاد رکھنا، یاد رکھنا، فعل کو حذف کرنا اور فاعل کو باقی رکھنا، یہ جائز ہے۔ فعل کو حذف کرنا اور فاعل کو باقی رکھنا، یہ جائز ہے۔ اور اس کا برعکس یعنی آپ فعل کو باقی رکھیں اور فاعل کو حذف کر دیں، یہ جائز نہیں ہے۔ اور اسی طرح دونوں کو حذف کرنا اکٹھا، یہ بھی جائز ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو دیکھیے، پہلی صورت ذکر کر رہے ہیں کہ جب فعل کو حذف کیا جاتا ہے۔ اب یاد رکھنا، یہ جو فعل کو حذف کرتے ہیں اور فاعل کو باقی رکھتے ہیں، یہ دو قسم پر ہے: کبھی یہ حذف جوازاً ہو گا اور کبھی یہ حذف وجوباً ہو گا۔ کس کو حذف کرنا ہے؟ فعل کو، اور کس کو باقی رکھنا ہے؟ فاعل کو۔ تو یہ فعل کو حذف کرنا یہ دو قسم پر ہے: کبھی فعل کو حذف کرنا جائز ہوتا ہے، آپ چاہیں حذف کریں، چاہیں حذف نہ کریں؛ اور کبھی فعل کو حذف کرنا واجب ہوتا ہے۔ یہاں ایک قیمتی بات یاد رکھنا کہ حذف جہاں بھی ہو، چاہے حذف وجوباً ہو، چاہے حذف وجوباً ہو اور چاہے حذف جوازاً ہو، دونوں صورتوں میں قرینہ ضرور چاہیے۔ دونوں میں کوئی ایسی چیز وہاں ہونی چاہیے جو سننے والے کو بتلا دے کہ یہاں پر یہ والا فعل حذف ہے۔ اگر قرینہ ہی موجود نہیں ہو گا تو اس کو کلام سمجھ میں ہی نہیں آئے گا کہ کیا معنیٰ ہے، کیا کہنا چاہتا ہے کہنے والا، تو جب بھی جہاں بھی کوئی حذف کیا جاتا ہے اس کے لیے کوئی قرینہ ضروری ہے، کوئی ایسی چیز ہو جو سننے والے کو بتلا دے کہ یہاں پر یہ والا فعل محذوف ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو حذف چاہے وجوباً ہو، چاہے جوازاً، دونوں جگہ قرینے کا ہونا ضروری۔ پھر ایک اور قیمتی بات یاد رکھنا: حذف وجوباً وہاں ہو گا جہاں قرینہ بھی ہو اور نیز جس کو آپ نے حذف کر دیا ہے، کسی دوسری چیز کو اس کا قائم مقام بنا دیں۔ کیا بنا دیں؟ قائم مقام۔ جب ایک دوسری چیز کو آپ نے محذوف کا قائم مقام بنا دیا ہے تو اب جس کو حذف کیا ہے اس کا حذف واجب ہو گیا کیونکہ آپ نے ایک دوسری چیز کو کیا کر دیا؟ اس کا قائم مقام اور اس کا نائب بنا دیا ہے۔ بات سمجھ میں آئی؟ فرق سمجھ میں آیا؟ کہ حذف دو قسم پر ہے: کبھی وجوباً، کبھی جوازاً۔ دونوں میں کیا چاہیے؟ قرینہ چاہیے، کوئی ایسی چیز ضرور ہونی چاہیے جو سننے والے کو بتلائے کہ یہاں کون سا فعل حذف ہوا ہے یا کون سا لفظ حذف ہوا ہے۔ پھر حذف جوازاً اور وجوباً میں کیا فرق ہے؟ حذف وجوباً کہاں ہو گا؟ کہ جس چیز کو آپ نے حذف کیا ہے اس کا کوئی قائم مقام لے آئیں، کیا لے آئیں؟ جب قائم مقام لے آئے آپ اس کا نائب لے آئے، تو اب اصل کو آپ نہیں لا سکتے کیونکہ اصل اور نائب میں سے ایک وقت میں ایک چیز آیا کرتی ہے؛ یا اصل ہو تو پھر نائب نہیں ہوتا اور نائب ہو تو اصل نہیں ہوتا۔ تو جوازاً حذف وہاں ہو گا یعنی جہاں آپ چاہیں حذف کریں یا نہ کریں، جہاں قرینہ تو موجود ہے لیکن قائم مقام کوئی نہیں ہے۔ اور حذف وجوباً کہاں ہو گا جہاں قرینہ بھی موجود ہو گا اور وہ جو محذوف ہے اس کا کوئی قائم مقام بھی آپ نے بنا دیا ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ فرق سمجھ میں آ گیا؟ اب دیکھیے کتاب پر۔ کہتے ہیں: "وَقَدْ يُحْذَفُ الْفِعْلُ"، اور کبھی کبھار فعل کو حذف کر لیا جاتا ہے، "لِقِيَامِ قَرِينَةٍ"، کسی قرینے کے قائم ہوتے وقت، بھئی۔ یہ لام بمعنیٰ وقت کے ہے۔ عربی زبان میں لام کبھی وقت کے معنیٰ میں آتا ہے، تو "وَقَدْ يُحْذَفُ الْفِعْلُ"، اور کبھی کبھار فعل کو حذف کر لیا جاتا ہے، "لِقِيَامِ قَرِينَةٍ، أَيْ: وَقْتَ قِيَامِ قَرِينَةٍ"، جس وقت قرینہ قائم ہو، "وَجَوَازًا"، اور یہ حذف کرنا جوازاً ہوتا ہے، "فِي مِثْلِ "زَيْدٌ""، "زَيْدٌ" جیسی مثالوں کے اندر، "لِمَنْ قَالَ"، اس شخص کو جس نے یہ کہا تھا: ""مَنْ قَامَ؟""، کون کھڑا ہے؟ صورت یہ ہے، بھئی، ایک شخص نے، آپ کے ایک ساتھی نے آپ سے پوچھا: "مَنْ قَامَ؟" کون کھڑا ہے؟ آپ جواب میں کہتے ہیں: "زَيْدٌ"۔ تو دیکھو آپ نے فعل کو حذف کر دیا۔ کہنا کیا چاہیے تھا؟ "قَامَ زَيْدٌ"۔ اس نے سوال کیا کیا ہے؟ "مَنْ قَامَ؟" کون کھڑا ہوا؟ تو آپ نے کیا کہا؟ آپ نے "زَيْدٌ" کہا، آپ نے "قَامَ" کو کیا کر لیا؟ حذف کر لیا کیونکہ قرینہ موجود ہے، قرینہ کیا؟ وہ جو اس نے سوال کیا، سوال کے اندر اس نے "قَامَ" پوچھا ہے، اس نے کیا سوال کیا؟ "مَنْ قَامَ؟" کیا کہا؟ "مَنْ قَامَ؟" تو اس نے سوال ہی قیام کے بارے میں کیا ہے تو جواب میں قیام کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور آپ چاہیں تو ذکر بھی کر دیں، اس نے کیا سوال کیا؟ "مَنْ قَامَ؟" تو آپ جواب میں صرف "زَيْدٌ" بھی کہہ سکتے ہیں، آپ نے جواب میں "زَيْدٌ" کہا تو اصل کیا ہے؟ "قَامَ زَيْدٌ"، تو "قَامَ" فعل اور "زَيْدٌ" اس کا فاعل، آپ نے فعل کو حذف کر دیا کیونکہ سوال جو ہے قرینہ موجود ہے اور "زَيْدٌ" فاعل کو باقی رکھا۔ یا آپ چاہیں تو ذکر بھی کر دیں فعل کو، اس نے کیا کہا؟ "مَنْ قَامَ؟" آپ جواب میں کیا کہہ سکتے ہیں؟ "قَامَ زَيْدٌ"، فعل اور فاعل دونوں کو ذکر کر دیں۔ تو یہاں آپ کا جواب میں صرف "زَيْدٌ" کہنا جائز ہے کہ یعنی فعل کو حذف کر دیں اور فاعل کو باقی رکھیں، یہ جائز ہے، واجب نہیں، لہٰذا آپ "زَيْدٌ" بھی جواب میں کہہ سکتے ہیں اور "قَامَ زَيْدٌ" بھی کہہ سکتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: "فِي مِثْلِ "زَيْدٌ""، "زَيْدٌ" جیسی مثالوں میں، "لِمَنْ قَالَ"، زید کا لفظ "لِمَنْ قَالَ"، اس حال میں کہ یہ کہا گیا اس شخص کو جس نے یہ کہا تھا، کیا کہا تھا؟ "مَنْ قَامَ؟" جس شخص نے "مَنْ قَامَ؟" کہا تھا، اس کو جواب میں کیا کہا جائے؟ "زَيْدٌ"، تو یہاں دیکھو فعل کو حذف کر لیا گیا اور یہ حذف جائز ہے۔ جی، دیکھیے، بھئی، اب کتاب پر، شرح کے ساتھ دیکھیے۔ کہتے ہیں: "وَقَدْ يُحْذَفُ الْفِعْلُ"، اور کبھی کبھار فعل کو حذف کر لیا جاتا ہے، "الرَّافِعُ لِلْفَاعِلِ"، وہ فعل جو رفع دینے والا ہے فاعل کو، وہ فعل جو رفع دینے والا ہے فاعل کو۔ بھئی، متن میں آیا، دیکھیے متن کی عبارت: "وَقَدْ يُحْذَفُ الْفِعْلُ"، لیکن شارحِ جامی نے آگے کیا لفظ نکالا؟ "الرَّافِعُ لِلْفَاعِلِ"، وہ فعل جو فاعل کو رفع دینے والا ہے۔ بھئی، شارحِ جامی یہ لفظ کیوں لے کر آئے، کیا بتلانا چاہتے ہیں؟ یاد رکھو، دراصل یہاں اعتراض ہوتا ہے کہ بحث چل رہی ہے فاعل کی، فاعل کی تعریف کی، پھر بتلایا کہ فاعل کے اندر مناسب یہ ہے کہ فعل کے بعد کس کو آنا چاہیے؟ فاعل کو، پھر بتلایا کچھ جگہیں ہیں جہاں فاعل کو مقدم کرنا واجب اور کچھ جگہیں وہ ہیں جہاں فاعل کو مؤخر کرنا واجب، تو بحث چل رہی ہے فاعل کی، اور صاحبِ قافیہ ایک دم فعل کی بحث انہوں نے شروع کر دی، فاعل کو چھوڑ دیا، اور کیا کہا؟ "وَقَدْ يُحْذَفُ الْفِعْلُ"، اور کبھی کبھار کیا کر لیا جاتا ہے؟ فعل کو حذف کر لیا جاتا ہے۔ تو اعتراض ہوتا ہے کہ اے صاحبِ قافیہ! آپ تو بحث کر رہے تھے فاعل کی، یہ فعل کی بحث آپ نے درمیان میں کیوں شروع کر دی؟ تو اس کا جواب دینا چاہتے ہیں صاحبِ جامی کہ بھئی، یہ بحث بھی فاعل ہی سے متعلق ہے، کیونکہ بات اس فعل کی آگے ذکر کر رہے ہیں جو فاعل کو رفع دے رہا ہے۔ جو فاعل کو، وہ فعل جو فاعل کو رفع دے رہا ہے، تو اس فعل کو حذف کرنا کبھی جائز ہوتا ہے اور کبھی واجب، تو یہ بھی فاعل ہی کی بحث چل رہی ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَقَدْ يُحْذَفُ الْفِعْلُ الرَّافِعُ لِلْفَاعِلِ"، اور کبھی کبھار حذف کر لیا جاتا ہے اس فعل کو "الرَّافِعُ لِلْفَاعِلِ" جو فاعل کو رفع دینے والا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا مطلق فعل کی بات نہیں چل رہی بلکہ اس فعل کی جو کیا کر رہا ہے؟ فاعل کو رفع دے رہا ہے، تو یہ دراصل فاعل ہی کی بحث چل رہی ہے، یعنی فاعل کو رفع دینے والے فعل کو حذف کرنا بھی جائز ہوتا ہے۔ اور نیز یاد رکھنا: "وَقَدْ يُحْذَفُ الْفِعْلُ"، فعل کو حذف کیا جاتا ہے، حالانکہ فاعل جیسے فعل کے لیے آتا ہے اسی طرح شبہ فعل کے لیے بھی آتا ہے، تو فعل چونکہ اصل ہے، فعل چونکہ اصل ہے لہٰذا فعل کو ذکر کر دیا، اسی سے بات سمجھ میں آ گئی کہ معلوم ہوا شبہ فعل کے اندر بھی ایسا ہے یعنی وہاں بھی کبھی کبھار شبہ فعل کو حذف کر لیا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَقَدْ يُحْذَفُ الْفِعْلُ الرَّافِعُ لِلْفَاعِلِ"، اور کبھی کبھار حذف کر لیا جاتا ہے اس فعل کو جو فاعل کو رفع دینے والا ہے، "لِقِيَامِ قَرِينَةٍ، أَيْ: وَقْتَ قِيَامِ قَرِينَةٍ"، جس وقت قرینہ قائم ہو یعنی موجود ہو۔ کون سا قرینہ؟ ادھر دیکھیے، کون سا قرینہ؟ جو ہمیں کیا بتلائے کہ کون سا لفظ محذوف ہے۔ یہی بیان کر رہے ہیں: "لِقِيَامِ قَرِينَةٍ دَالَّةٍ عَلَى تَعْيِينِ الْمَحْذُوفِ"، وہ قرینہ قائم ہوتے وقت جو دلالت کرنے والا ہے "عَلَى تَعْيِينِ الْمَحْذُوفِ"، اس محذوف کی تعیین پر۔ کوئی قرینہ ہو جو متعین کر رہا ہو، ہمیں بتلا رہا ہو کہ یہ والا لفظ یہاں محذوف ہے۔ مثلاً دیکھو، آپ کے ساتھی نے آپ سے پوچھا: "مَنْ قَامَ؟" آپ نے جواب میں کیا کہا؟ "زَيْدٌ"۔ تو آپ نے "قَامَ" فعل کو حذف کر دیا اور قرینہ موجود ہے، کیونکہ اس نے سوال میں "مَنْ قَامَ؟"، "قَامَ" کو ذکر کیا تھا۔ تو لہٰذا یہ قرینہ بتلا دے گا سننے والے کو۔ آپ نے صرف "زَيْدٌ" کہا لیکن سننے والے سمجھ گئے کیا؟ کہ "قَامَ زَيْدٌ" ہے، بھئی۔ تو یہ قرینہ کوئی بھی ایسی چیز جو بتلا دے کہ یہاں کیا چیز محذوف ہے۔ تو کہتے ہیں: "لِقِيَامِ قَرِينَةٍ دَالَّةٍ عَلَى تَعْيِينِ الْمَحْذُوفِ"، قرینہ قائم ہوتے وقت، وہ قرینہ "دَالَّةٍ" جو دلالت کرنے والا ہو "عَلَى تَعْيِينِ الْمَحْذُوفِ"، اس محذوف کی تعیین پر۔ "جَوَازًا، أَيْ: حَذْفًا جَائِزًا"، "جَوَازًا" منصوب آیا، بھئی، صاحبِ جامی آگے "أَيْ: حَذْفًا جَائِزًا" کے ذریعے بتلانا چاہتے ہیں کہ یہ مفعولِ مطلق ہے۔ یہ مفعولِ مطلق ہے باعتبارِ موصوف کے، یعنی یہ خود تو مفعولِ مطلق نہیں اس کا موصوف مفعولِ مطلق ہے اور وہ کیا ہے؟ "حَذْفًا"۔ اور پیچھے "يُحْذَفُ" فعل آیا تھا، تو اسی سے "حَذْفًا" کیا بن گیا؟ مفعولِ مطلق، اور یہ "جَوَازًا" اس کی صفت ہے۔ "جَوَازًا" سے پہلے "حَذْفًا" مفعولِ مطلق نکال لیا، تو عبارت کیا بن گئی؟ "وَقَدْ يُحْذَفُ الْفِعْلُ لِقِيَامِ قَرِينَةٍ حَذْفًا جَوَازًا"۔ تو "حَذْفًا" ہے موصوف اور "جَوَازًا" ہے اس کی صفت۔ تو دیکھو، "جَوَازًا" یہ مصدر ہے اور مصدر تو صفت نہیں بن سکتا، بھئی۔ مصدر تو صفت نہیں بن سکتا، بھئی۔ بھئی، یاد رکھو، "حَذْفًا" یہ بھی مصدر اور "جَوَازًا" یہ بھی مصدر۔ تو آپ کہیں گے "حَذْفًا" بھی صفت، مصدر ہے نا اور مصدر صفت ہوتی ہے۔ مصدر کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں۔ تو مصدر صفت ہوتی ہے۔ تو "حَذْفًا جَوَازًا"، "حَذْفًا" بھی مصدر، "جَوَازًا" بھی مصدر، تو "حَذْفًا" موصوف جو ہے وہ بھی صفت اور آگے "جَوَازًا" بھی صفت، تو یہ تو موصوف صفت بننے چاہئیں، بھئی، کیونکہ دونوں مصدر ہیں۔ تو یاد رکھو کہ مصدر صفت ہے لیکن جب یہ مقامِ موضوع میں آ جائے یعنی مبتدا بن رہا ہے یا اسی طرح موصوف وغیرہ بن رہا ہے تو پھر اس صورت میں یہ ذات کے حکم میں ہوتا ہے، کس کے؟ ذات کے حکم میں ہوتا ہے۔ تو گویا "حَذْفًا جَوَازًا"، یہ موصوف "حَذْفًا" یہ تو ذات ہے اور "جَوَازًا" صفت ہے اور یہ صفت نہیں بن سکتی کیونکہ "جَوَازًا" مصدر ہے، صفت ہے۔ تو لہٰذا پھر اس "جَوَازًا" آپ نے پڑھا ہے کہ مصدر کبھی اسمِ فاعل کے معنیٰ میں ہوتا ہے اور کبھی اسمِ مفعول کے معنیٰ میں، تو یہاں "جَوَازًا"، "جَائِزًا" کے معنیٰ میں ہوا، اب یہ صفت بن جائے گا: "أَيْ: حَذْفًا جَائِزًا"، ایسا حذف جو جائز ہے، بھئی، دیکھو اب معنیٰ ٹھیک بن گیا۔ تو آپ کیا کہیں گے؟ "جَوَازًا" یہ کیا ہے؟ مفعولِ مطلق ہے باعتبارِ موصوفِ محذوف کے، بھئی۔ "فِي مِثْلِ: "زَيْدٌ""، "زَيْدٌ" جیسی مثالوں میں، بھئی، "أَيْ: فِي مِثْلِ "زَيْدٌ""، "مِثْلِ" ہے مضاف اور "زَيْدٌ" مجرور ہونا چاہیے لیکن میں اس پر رفع پڑھ رہا ہوں، کیا وجہ ہے؟ یہ کون سا اعراب ہے؟ یہ اعرابِ حکائی ہے، کیونکہ یہ "زَيْدٌ" جواب میں آیا، کس کے جواب میں؟ "مَنْ قَامَ؟" کے جواب میں آیا، تو وہاں یہ فاعل بن رہا تھا، مرفوع تھا، تو لہٰذا یہاں پر بھی وہی اعراب پڑھ دیا گیا۔ کہتے ہیں: "فِي مِثْلِ: "زَيْدٌ"، أَيْ: فِيمَا كَانَ جَوَابًا لِسُؤَالٍ مُحَقَّقٍ"، "زَيْدٌ" جیسی مثالوں میں یعنی اس صورت میں جبکہ یہ "زَيْدٌ" جیسا لفظ جواب ہو "لِسُؤَالٍ مُحَقَّقٍ"، کس کا جواب ہو؟ سوالِ محقق۔ یاد رکھو، یہ جو سوال ہے نا سوال، آگے سوالِ مقدر کا بھی ذکر آئے گا۔ ایک سوالِ محقق ہوتا ہے، ایک سوالِ مقدر ہوتا ہے۔ سوالِ محقق وہ ہے جو عبارت میں باقاعدہ سوال موجود ہو، یہاں پر بھی دیکھو اس شخص نے آپ سے کیا پوچھا؟ "مَنْ قَامَ؟" دیکھو یہ سوال باقاعدہ عبارت میں موجود ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ سوالِ محقق۔ اور ایک سوالِ مقدر ہوتا ہے جو لفظوں میں تو موجود نہیں ہوتا لیکن اس کو فرض کر لیا جاتا ہے کہ یہاں سوال موجود ہے۔ "قَدَّرَ يُقَدِّرُ تَقْدِيرٌ" کا کیا معنیٰ؟ فرض کرنا، مقدر جس کو فرض کر لیا جائے، تو سوالِ مقدر کسے کہتے ہیں؟ وہ سوال جس کو فرض کر لیا جائے۔ تو کہتے ہیں: "أَيْ: فِيمَا كَانَ جَوَابًا لِسُؤَالٍ مُحَقَّقٍ"، اس صورت میں جبکہ یہ لفظ جو ہے یہ جواب ہو سوالِ محقق کا، سوالِ محقق؟ وہ سوال جو باقاعدہ عبارت میں ذکر ہو۔ "لِمَنْ قَالَ"، اس حال میں کہ یہ کہا گیا "لِمَنْ قَالَ"، اس شخص کو جس نے یہ کہا تھا، جس نے کیا کہا تھا؟ "مَنْ قَامَ؟" بات سمجھ میں آ گئی؟ "سَائِلًا عَمَّنْ يَقُومُ بِهِ الْقِيَامُ"، "سَائِلًا"، اس حال میں کہ وہ شخص پوچھنے والا ہے "عَمَّنْ"، اس شخص کے بارے میں "يَقُومُ بِهِ الْقِيَامُ"، جس کے ساتھ قیام قائم ہے۔ بھئی دیکھیے، ایک شخص نے کیا پوچھا؟ "مَنْ قَامَ؟" کیا پوچھا؟ "مَنْ قَامَ؟" کون کھڑا ہے؟ معلوم ہوا اس کو اتنا علم ہے کہ قیام کا فعل ہے۔ قیام کے فعل کا اس کو پتا ہے لیکن یہ نہیں پتا کہ یہ قیام کس کی صفت ہے، کون قائم ہے۔ بھئی دیکھو نا، آپ کسی سے پوچھتے ہیں: "مَنْ ضَرَبَ؟" کس نے پٹائی کی؟ یہ سوال آپ تب ہی کریں گے جب آپ کو اتنا پتا ہو کہ ضرب واقع ہوئی ہے لیکن کس نے لگائی ہے یہ آپ کو پتا نہ ہو۔ تو اسی طرح "مَنْ قَامَ؟" کون کھڑا ہوا؟ یہ سوال وہی شخص پوچھے گا جس کو یہ پتا ہے کہ قیام کا فعل واقع ہوا ہے لیکن کس کے ساتھ قائم ہے، کون کھڑا ہوا ہے، یہ اس کو پتا نہ ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیا؟ کہ "مَنْ قَامَ؟" کا سوال کون کرے گا؟ جس کو قیام کا تو پتا ہے لیکن کس کے ساتھ قیام قائم ہے یہ اس کو پتا نہیں، قیام کس کی صفت ہے یہ اس کو پتا نہیں۔ تو کہتے ہیں: "سَائِلًا عَمَّنْ يَقُومُ بِهِ الْقِيَامُ"، اس حال میں کہ وہ شخص پوچھنے والا ہے "عَمَّنْ"، اس شخص کے بارے میں "يَقُومُ بِهِ الْقِيَامُ"، جس کے ساتھ قیام قائم ہے یعنی قیام جس کی صفت ہے، یعنی اتنا تو اس کو پتا ہے کہ قیام والا فعل ہوا ہے لیکن یہ کس نے کیا ہے یہ اس کو پتا نہیں۔ "فَيَجُوزُ أَنْ تَقُولَ: "زَيْدٌ""، تو یہ بھی جائز ہے کہ آپ جواب میں یوں کہیں "زَيْدٌ"، "بِحَذْفِ "قَامَ""، "قَامَ" کو حذف کرتے ہوئے، "أَيْ: قَامَ زَيْدٌ"، یعنی اصل کلام کیا ہے؟ "قَامَ زَيْدٌ"، لیکن آپ نے "قَامَ" کو حذف کیا اور صرف "زَيْدٌ" کہا۔ "وَيَجُوزُ أَنْ تَقُولَ: "قَامَ زَيْدٌ" بِذِكْرِهِ"، اور یہ بھی جائز ہے کہ آپ یوں کہیں "قَامَ زَيْدٌ"، "بِذِكْرِهِ، أَيْ: بِذِكْرِ الْفِعْلِ"، کہ اس فعل کو باقاعدہ ذکر کر دیں عبارت میں۔ "وَإِنَّمَا قُدِّرَ الْفِعْلُ دُونَ الْخَبَرِ"، بھئی دیکھیے ادھر، ایک شخص نے سوال کیا: "مَنْ قَامَ؟" کون کھڑا ہوا؟ آپ نے جواب میں کہا: "زَيْدٌ"، "زَيْدٌ"۔ اب یہ "زَيْدٌ" کیا ہے؟ فاعل ہے، کیا ہے؟ فاعل ہے اور اس کے لیے فعل محذوف ہے، تو اصل کلام کیا ہے؟ "قَامَ زَيْدٌ"، "قَامَ" فعل، "زَيْدٌ" اس کا فاعل۔ کہتے ہیں بھئی، آپ نے "زَيْدٌ" کے لیے فعل نکالا اس سے پہلے، آپ "زَيْدٌ" کو مبتدا بناتے اور اس کے بعد "قَامَ" کو نکالتے۔ ابھی آپ نے کیا کیا؟ "قَامَ" کو "زَيْدٌ" سے پہلے نکالا، "قَامَ" فعل اور "زَيْدٌ" کو اس کے لیے کیا بنا دیا؟ فاعل۔ آپ "قَامَ" کو "زَيْدٌ" کے بعد نکالتے تو اس صورت میں "زَيْدٌ" مبتدا بن جاتا اور "قَامَ" خبر بن جاتی۔ تو کہتے ہیں، بھئی، کہ یاد رکھو حذف کے اندر جتنی تقلیل ہو اتنی پسندیدہ ہے، یعنی کم سے کم اجزاء حذف ہونے چاہئیں یہ پسندیدہ ہے، کم سے کم لفظ حذف ہونے چاہئیں۔ تو جب آپ نے "زَيْدٌ" کو فاعل بنایا "قَامَ" کے لیے، تو محذوف صرف کیا ہے؟ "قَامَ" فعل، صرف فعل حذف ہے یعنی مسند حذف ہے اور مسند الیہ موجود۔ لیکن اگر آپ جملہ اسمیہ بنائیں اور "زَيْدٌ" کے بعد "قَامَ" کو محذوف مانیں تو پھر اس صورت میں ترکیب کیا ہو گی؟ "زَيْدٌ" مبتدا، "قَامَ" فعل، اس کے اندر "هُوَ" ضمیر جو کس کو راجع؟ زید کو۔ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر یہ خبر، تو اس صورت میں پورا جملہ محذوف ماننا پڑے گا اور پسندیدہ کیا ہے؟ کہ حذف زیادہ ہونا چاہیے یا قلیل ہونا چاہیے؟ قلیل ہونا چاہیے اور وہ کس صورت میں ہے؟ کہ آپ صرف فعل کو محذوف مانیں، کہ آپ "زَيْدٌ" کو فاعل بنائیں یعنی جملہ فعلیہ بنائیں، جملہ اسمیہ نہ بنائیں، بھئی۔ کہتے ہیں: "وَإِنَّمَا قُدِّرَ الْفِعْلُ دُونَ الْخَبَرِ"، اور فعل کو مقدر نکالا گیا نہ کہ خبر کو، "لِأَنَّ تَقْدِيرَ الْخَبَرِ يُوجِبُ حَذْفَ الْجُمْلَةِ"، اس لیے کیونکہ تقدیرِ خبر یعنی خبر کو فرض کرنا "يُوجِبُ"، یہ ثابت کرتا ہے "حَذْفَ الْجُمْلَةِ"، جملے کے حذف کو، "وَتَقْدِيرَ الْفِعْلِ حَذْفَ أَحَدِ جُزْأَيْهَا"، اور فعل کو مقدر کرنا یہ جملے کے دو جزوؤں میں سے صرف ایک کے حذف کو ثابت کرتا ہے، "وَالتَّقْلِيلُ فِي الْحَذْفِ أَوْلَى"، اور حذف کے اندر تقلیل بہتر ہے، یعنی جس قدر کم سے کم محذوف ہو اتنا بہتر ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے، بھئی، کہتے ہیں: "وَكَذَا يُحْذَفُ الْفِعْلُ جَوَازًا"، اور اسی طرح فعل کو جوازاً حذف کیا جاتا ہے "فِيمَا كَانَ جَوَابًا لِسُؤَالٍ مُقَدَّرٍ"، اس صورت میں جبکہ وہ جواب ہو سوالِ مقدر کا۔ پہلے کیا تھا؟ سوالِ محقق جو عبارت میں سوال موجود تھا، اور اسی طرح کبھی کبھی فعل کو جوازاً حذف کرتے ہیں اس صورت میں بھی جب وہ جب وہ جواب ہو کس کا؟ سوالِ مقدر کا جواب ہو، یعنی وہ سوال مقدر ہو لفظوں میں مذکور نہ ہو، بھئی۔ "نَحْوُ قَوْلِ الشَّاعِرِ"، جیسے کہ شاعر کا قول ہے، "فِي مَرْثِيَةِ يَزِيدَ بْنِ نَهْشَلٍ"، یزید ابن نہشل کے مرثیہ میں۔ مرثیہ کہتے ہیں کسی کی وفات پر اظہارِ غم کے طور پر اشعار کہے جائیں اس کو کیا کہتے ہیں؟ مرثیہ، بھئی، مرثیہ۔ اور "يَزِيدَ بْنِ نَهْشَلٍ"، یاد رکھو یہ "يَزِيدَ" یہ غیر منصرف ہے، ایک اس کے اندر علمیت ہے اور ایک وزنِ فعل ہے، "زَادَ يَزِيدُ" دیکھو "يَزِيدُ" فعل کے وزن پر ہے، اور تو یہ غیر منصرف ہے۔ اور "فِي مَرْثِيَةِ يَزِيدَ"، "مَرْثِيَةِ" مضاف اور "يَزِيدَ" مضاف الیہ، اور مضاف الیہ کیا ہوتا ہے؟ مجرور، تو یہ "يَزِيدَ" مجرور ہے لیکن غیر منصرف کا جر فتحہ کے ساتھ آتا ہے اسی لیے "يَزِيدَ"، دال پر میں نے فتحہ پڑھا۔ اور آگے "اِبْنِ" کا لفظ آ رہا ہے اور یاد رکھو، "اِبْنِ" کا لفظ ماقبل کے لیے صفت بنتا ہے اور مابعد کے لیے مضاف بنتا ہے، تو یہ "اِبْنِ" کا لفظ تو یزید کی صفت ہے، اور یزید یہ منصوب ہے یا مجرور ہے؟ یہ مجرور ہے، ہاں، اس کا جر آتا ہی فتحہ کے ساتھ ہے، تو یہ مجرور ہے جبکہ "اِبْنِ" کا لفظ وہ تو غیر منصرف نہیں تو اس پر کسرہ آئے گا، تو کیسے پڑھیں گے؟ "فِي مَرْثِيَةِ يَزِيدَ بْنِ نَهْشَلٍ"۔ تو کہتے ہیں: "نَحْوُ قَوْلِ الشَّاعِرِ فِي مَرْثِيَةِ يَزِيدَ بْنِ نَهْشَلٍ"، جیسے کہ شاعر کا قول ہے یزید ابن نہشل کے مرثیے میں۔ ایک شاعر، بھئی، یزید ابن نہشل کا انتقال ہو گیا اور اس کے غم میں اشعار کہتا ہے۔ تو یزید ابن نہشل کے انتقال پر اظہارِ غم کے طور پر شاعر کہتا ہے، دیکھو بھئی، اب پہلے صرف متن متن دیکھ لو: "لِيُبْكَ يَزِيدُ ضَارِعٌ لِخُصُومَةٍ وَمُخْتَبِطٌ مِمَّا تُطِيحُ الطَّوَائِحُ" دیکھا، مل گیا متن؟ "لِيُبْكَ يَزِيدُ ضَارِعٌ لِخُصُومَةٍ وَمُخْتَبِطٌ مِمَّا تُطِيحُ الطَّوَائِحُ" بھئی، یہ شعر کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ "لِيُبْكَ يَزِيدُ"، شاعر کہتا ہے چاہیے کہ رویا جائے یزید، کس پر؟ یزید پر۔ چاہیے کہ یزید پر رویا جائے، میں نے بتایا یزید کا انتقال ہو گیا اور اب شاعر اظہارِ غم کر رہا ہے۔ "لِيُبْكَ يَزِيدُ"، چاہیے کہ یزید پر رویا جائے، تو سوال پیدا ہوا: "مَنْ يَبْكِيهِ؟" کون اس کو روئے؟ شاعر نے کیا ذکر کیا؟ "لِيُبْكَ يَزِيدُ"، چاہیے کہ یزید پر رویا جائے، تو سوال پیدا ہوا: "مَنْ يَبْكِيهِ؟" کون اس کو روئے؟ اب دیکھو یہ سوال لفظوں میں ذکر نہیں لیکن دیکھو جو بھی اس کو پڑھے گا اس کے ذہن میں ایک سوال خود بخود آ جائے گا: "لِيُبْكَ يَزِيدُ"، چاہیے کہ یزید کو رویا جائے، تو سوال پیدا ہو گا، بھئی: "مَنْ يَبْكِيهِ؟" کون اس کو روئے؟ تو یہاں سوال پیدا ہوا اس اس "لِيُبْكَ يَزِيدُ" سے اور آگے پھر شاعر اس کا جواب دے رہا ہے۔ جواب دیتے ہوئے کیا کہتے ہیں؟ "ضَارِعٌ"، "أَيْ: يَبْكِيهِ ضَارِعٌ"، ضارع کو رونا چاہیے اس پر۔ یاد رکھو، ضارع کہتے ہیں کمزور اور عاجز شخص، کمزور اور عاجز شخص جو کسی کا مقابلہ نہیں کر سکتا اس کو ضارع کہتے ہیں۔ تو سوال پیدا ہوا: "مَنْ يَبْكِيهِ؟" کون اس کو روئے؟ تو آگے بتلا دیا: "ضَارِعٌ"۔ یہ "ضَارِعٌ" فاعل ہے اور اس کا فعل محذوف ہے: "يَبْكِيهِ ضَارِعٌ"، کہ اس یزید پر رونا چاہیے ضارع کو یعنی عاجز اور کمزور شخص کو۔ توجہ ہے؟ بات کیا چل رہی ہے؟ دیکھو، پہلے آیا "لِيُبْكَ يَزِيدُ"، "لِيُبْكَ يَزِيدُ"، چاہیے کہ رویا جائے یزید پر، سوال پیدا ہوا: "مَنْ يَبْكِيهِ؟" کون اس کو روئے؟ اب یہ جو سوال پیدا ہوا یہ لفظوں میں ذکر ہے؟ نہیں، یہ ہے سوالِ مقدر۔ یہ سوالِ مقدر ہے، جو بھی اس شعر کو پڑھے گا فوراً ہی اس کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو گا، تو یہ پڑھنے سے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ "مَنْ يَبْكِيهِ؟" یزید کو کون روئے؟ آگے اس کا شاعر پھر جواب دیتا ہے: "يَبْكِيهِ ضَارِعٌ"۔ تو "ضَارِعٌ" ترکیب میں کیا بن رہا ہے؟ فاعل ہے، کیا ہے؟ فاعل، تو اس کے فعل "يَبْكِيهِ" کو حذف کر دیا اور حذف پر قرینہ کیا ہے؟ حذف کے لیے تو ہمیشہ قرینہ چاہیے، تو جواب یہ کہ یہاں حذف کا قرینہ وہ سوالِ مقدر ہے۔ وہ جیسے "مَنْ قَامَ؟"، وہاں سوالِ محقق تھا، جیسے کسی نے پوچھا: "مَنْ قَامَ؟" آپ نے جواب میں کیا کہا؟ "زَيْدٌ"، اصل میں کیا کہنا چاہیے؟ "قَامَ زَيْدٌ"، تو آپ نے "قَامَ" کو کیوں حذف کیا؟ کیونکہ اس پر سوالِ محقق قرینہ موجود ہے، اس سے بات سمجھ میں آ جاتی ہے کہ "قَامَ" کا فعل یہاں محذوف ہے۔ تو یہاں پر بھی قرینہ کیا ہے؟ سوالِ مقدر ہے، "مَنْ يَبْكِيهِ؟" سوال پیدا ہوا، تو آگے اس سوالِ مقدر کا جواب دیا، اور سوال کے اندر چونکہ "يَبْكِي" یعنی رونے کا ذکر تھا تو جواب کے اندر اس "يَبْكِي" کو حذف کر لیا اور "ضَارِعٌ" صرف فاعل کو ذکر کیا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: "لِيُبْكَ يَزِيدُ"، چاہیے کہ یزید پر رویا جائے، سوال پیدا ہوا: "مَنْ يَبْكِيهِ؟" کہ یزید کو کون روئے؟ تو آگے جواب دے دیا: "ضَارِعٌ، أَيْ: يَبْكِيهِ ضَارِعٌ"، کہ یزید پر رونا چاہیے ضارع یعنی عاجز اور کمزور شخص کو، "لِخُصُومَةٍ"، یہ لام بمعنیٰ "عَنْ" کے ہے، "ضَارِعٌ عَنْ خُصُومَةٍ"، وہ شخص جو عاجز اور کمزور ہے "عَنْ خُصُومَةٍ"، خصومت کہتے ہیں مقابلہ اور جھگڑے کو، بھئی۔ وہ شخص جو مقابلے اور جھگڑے سے عاجز ہے اور کمزور ہے اس کو رونا چاہیے یزید پر، کیونکہ یزید کمزوروں کی مدد کیا کرتا تھا۔ یزید کی یہ صفت تھی کہ وہ کمزوروں کی مدد کیا کرتا تھا اور یزید کا تو اب انتقال ہو گیا ہے، تو اب وہ شخص جو جھگڑے سے عاجز اور لاچار ہے، کسی کا مقابلہ نہیں کر سکتا، اس کو اظہارِ غم کرنا چاہیے، رونا چاہیے کیونکہ ان کا مددگار اس دنیا سے چلا گیا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: "ضَارِعٌ لِخُصُومَةٍ"، کہ یزید پر رونا چاہیے اس شخص کو جو عاجز و لاچار ہے "لِخُصُومَةٍ"، یعنی جھگڑے سے، جھگڑے سے عاجز اور لاچار ہے کسی سے جھگڑا نہیں کر سکتا، کسی سے مقابلہ نہیں کر سکتا، "وَمُخْتَبِطٌ"، یہ "مُخْتَبِطٌ" کا عطف "ضَارِعٌ" پر ہے۔ مختبط کہتے ہیں بغیر وسیلے کے سوال کرنے والا، بغیر وسیلے کے مانگنے والا۔ بھئی دیکھیے، کسی شخص پر کوئی مصیبت اور تکلیف آتی ہے، اس کا مال تباہ ہو گیا، ختم ہو گیا، تو وہ اپنے جاننے والوں یا اپنے رشتہ داروں کے پاس جاتا ہے اور سوال کرتا ہے کہ میری مدد کرو۔ اور عموماً مدد بھی اسی کی کی جاتی ہے جس کے ساتھ آپ کا کوئی تعلق ہو یا رشتہ ہو یا دوستی ہو یا جان پہچان ہو، اسی کی آپ مدد کریں گے، لیکن یزید ایسا شخص تھا جو بغیر تعلق کے سوال کرتے تھے یزید ان کی بھی مدد کیا کرتا تھا۔ تو مختبط کسے کہتے ہیں؟ جو بغیر کسی وسیلے کے یعنی بغیر کسی تعلق کے سوال کرے یعنی مانگے، بھئی۔ "وَمُخْتَبِطٌ مِمَّا تُطِيحُ الطَّوَائِحُ"، "مِمَّا"، یاد رکھو یہ اصل میں ہے "مِنْ مَا"۔ یہ جو "مِنْ" ہے، "مِنْ" سببیہ ہے، "مِنْ" اجلیہ ہے جو سبب بتلانے کے لیے آتا ہے، اور یہ "مَا" مصدریہ ہے، "مَا" مصدریہ، اور "تُطِيحُ"، "أَطَاحَ يُطِيحُ"، "أَطَاحَ يُطِيحُ"۔ "أَطَاحَ يُطِيحُ" کا معنیٰ ہوتا ہے ہلاک کرنا، کسی چیز کو ہلاک کرنا۔ اور "الطَّوَائِحُ"، بھئی، طوائح یہ ساری تفصیل آگے شارحِ جامی بیان کریں گے۔ طوائح جمع ہے مطیحۃ کی خلافِ قیاس۔ طوائح جمع ہے مطیحۃ کی خلافِ قیاس۔ بھئی، لفظوں کے اعتبار سے یہ اس کی جمع نہیں، کیونکہ مطیحۃ، مطیحۃ کے شروع میں تو میم ہے، بھئی۔ قیاس کے مطابق تو اس کی جمع مطیحات آنی چاہیے، لیکن خلافِ قیاس اس کی جمع کیا استعمال ہوتی ہے؟ طوائح۔ اور مطیحۃ، ہلاک کرنے والی چیز، بھئی۔ "أَطَاحَ يُطِيحُ إِطَاحَةً فَهُوَ مُطِيحٌ"، اسی سے اسمِ فاعل یہ جو ہے "مُطِيحٌ" اور "تا" ساتھ جڑ گئی، "مُطِيحَةٌ"، بھئی۔ تو یہ اسمِ فاعل ہے یعنی مہلک، بھئی، ہلاک کرنے والی چیز۔ یعنی حوادثات مراد ہیں، یعنی زمانے کے حوادثات۔ زمانے میں انسان پر مختلف تکلیفیں، پریشانیاں اور مشکلات آتی ہیں اور بعض اوقات اس کا سارا مال ختم ہو جاتا ہے۔ جی، تو "مِمَّا تُطِيحُ الطَّوَائِحُ"، "مِنْ" کیا ہے؟ سببیہ، یعنی سبب بیان کرنے کے لیے آتا ہے، اور "مَا" مصدریہ۔ "مَا" مصدریہ کیا کرتا ہے؟ یہ فعل پر داخل ہوتا ہے اور اس کو مصدر کے معنیٰ میں کر دیتا ہے۔ تو "مَا تُطِيحُ"، اس سے اب مصدر بنا لیجیے۔ "أَطَاحَ يُطِيحُ إِطَاحَةً"، تو "مِنْ إِطَاحَةِ"، "مَا تُطِيحُ" کی جگہ مصدر لے آئیں، اور "الطَّوَائِحُ" یہ فاعل ہے اس "تُطِيحُ" کا، توجہ ہے؟ اور مصدر کی اپنے فاعل کی طرف عموماً اضافت کر دی جاتی ہے۔ تو "وَمُخْتَبِطٌ مِنْ أَجْلِ، مِنْ أَجْلِ إِطَاحَةِ الطَّوَائِحِ"، عبارت سمجھ میں آ رہی ہے؟ "وَمُخْتَبِطٌ مِنْ أَجْلِ إِطَاحَةِ الطَّوَائِحِ"، اور وہ شخص جو بغیر وسیلے کے سوال کرنے والا ہے، "مِمَّا" اس وجہ سے کہ "تُطِيحُ الطَّوَائِحُ" کہ حوادثات نے ہلاک کر دیا ہے، اور مفعول آگے محذوف ہے، "مَالَهُ"۔ عبارت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ "وَمُخْتَبِطٌ مِمَّا تُطِيحُ الطَّوَائِحُ"، آگے "مَالَهُ" محذوف ہے۔ اور اسی طرح یزید پر رونا چاہیے، مختبط وہ شخص جو بغیر وسیلے کے سوال کرنے والا ہے اس کو بھی یزید پر رونا چاہیے۔ بھئی، وہ شخص بغیر وسیلے کے کیوں سوال کرنے والا ہے؟ کہتے ہیں: "مِمَّا تُطِيحُ الطَّوَائِحُ مَالَهُ"، یہ "مَالَهُ" یہاں مفعول محذوف ہے، اس وجہ سے کہ حوادثات نے ہلاک کر دیا ہے "مَالَهُ" اس کے مال کو۔ بھئی، ایک شخص ہے، حوادثات نے اس کے مال کو ہلاک کر دیا ہے، اب اس کے پاس مال نہیں اور مال کمانے کی کوئی صورت بھی نہیں، تو اب وہ بغیر وسیلے کے سوال کر رہا ہے۔ تو یزید ایسا شخص تھا جو بغیر وسیلے کے مانگنے والوں کی بھی مدد کیا کرتا تھا، حالانکہ بغیر وسیلے کے مانگنے والوں کی کوئی مدد نہیں کرتا، لیکن یزید ایسا عظیم آدمی تھا کہ وہ بغیر تعلق کے سوال کرنے والے اور مانگنے والوں کی بھی مدد کرتا تھا، اور اسی طرح جو کمزور اور عاجز ہوتے تھے مقابلے کے وقت کسی سے مقابلہ نہیں کر سکتے تھے، تو یہ یزید ان کی بھی مدد کیا کرتا تھا، لہٰذا ان سب کو یزید پر رونا چاہیے کیونکہ اس کا انتقال ہو گیا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ جی، اب دیکھیے شرح کے ساتھ دیکھیے، کہتے ہیں: ""لِيُبْكَ" عَلَى الْبِنَاءِ لِلْمَفْعُولِ"، کہ "لِيُبْكَ" جو ہے کہ یہ صیغہ بنا للمفعول پر ہے۔ "بَنَى يَبْنِي بِنَاءً" کا معنیٰ ہے بنانا، بنانا۔ یاد رکھو، فعلِ معروف جو ہے اس کو فاعل کے لیے بنایا گیا ہے، تو اس کے لیے کہتے ہیں فعلِ معروف کے لیے کہ "هَذَا الْفِعْلُ مَبْنِيٌّ لِلْفَاعِلِ"۔ مبنی، جس کو بنایا گیا ہو۔ "هَذَا الْفِعْلُ مَبْنِيٌّ لِلْفَاعِلِ"، یہ فعل کیا ہے؟ مبنی للفاعل ہے، یعنی اس کو فاعل کے لیے بنایا گیا ہے۔ کیا معنیٰ فاعل کے لیے بنایا گیا ہے؟ یعنی اس کا اسناد فاعل کی طرف ہوتا ہے۔ اور فعلِ مجہول کو کس کے لیے بنایا گیا ہے؟ مفعول کے لیے، یعنی اس کا اسناد مفعول کی طرف ہوتا ہے، پھر جس کو نائب الفاعل کہتے ہیں، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو ""لِيُبْكَ" عَلَى الْبِنَاءِ لِلْمَفْعُولِ"، صاحبِ جامی بتلا رہے ہیں کہ یہ جو "لِيُبْكَ" فعل آیا کہ یہ بنا للمفعول پر ہے یعنی یہ مبنی للمفعول ہے، اس کو فعلِ مجہول پڑھنا معروف نہ پڑھنا، بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ ""يَزِيدُ" مَرْفُوعٌ عَلَى أَنَّهُ مَفْعُولُ مَا لَمْ يُسَمَّ فَاعِلُهُ"، اور "يَزِيدُ" کہتے ہیں مرفوع ہے، یہ مرفوع ہے بناء بر اس کے کہ یہ مفعول ما لم یسم فاعلہ ہے۔ "لِيُبْكَ" فعلِ مجہول ہے، فعلِ مجہول کے لیے کیا چاہیے؟ نائب الفاعل، تو یہ "يَزِيدُ" کیا ہے؟ اس کے لیے نائب الفاعل ہے۔ یہ نائب فاعل کہہ لو یا مفعول ما لم یسم فاعلہ کہہ لو، بھئی۔ تو کہتے ہیں: ""يَزِيدُ" مَرْفُوعٌ عَلَى أَنَّهُ مَفْعُولُ مَا لَمْ يُسَمَّ فَاعِلُهُ"، بناء بر اس کے کہ یہ مفعول ما لم یسم فاعلہ ہے اس فعل کے لیے۔ ""ضَارِعٌ"، أَيْ: عَاجِزٌ ذَلِيلٌ"، دیکھا، ضارع کا معنیٰ بتلا دیا کہ ضارع کا کیا معنیٰ ہے؟ "أَيْ: عَاجِزٌ ذَلِيلٌ"، یعنی وہ شخص جو عاجز ہو، ذلیل، ذلیل کا معنیٰ ہے حقیر اور کمزور، بھئی۔ حقیر اور کمزور، جی، تو "أَيْ: عَاجِزٌ ذَلِيلٌ"، یعنی وہ شخص جو عاجز ہو اور کمزور ہو، "وَهُوَ فَاعِلُ الْفِعْلِ الْمَحْذُوفِ"، اور یہ جو "ضَارِعٌ" ہے یہ فاعل ہے فعلِ محذوف کا، "أَيْ: يَبْكِيهِ ضَارِعٌ"۔ "أَيْ: يَبْكِيهِ ضَارِعٌ"، تو یہ "يَبْكِي" فعل کے لیے فاعل ہے۔ اور وہ "يَبْكِي" فعل کو حذف کر لیا گیا، کیوں حذف کیا گیا؟ کہتے ہیں: "بِقَرِينَةِ السُّؤَالِ الْمُقَدَّرِ"، سوالِ مقدر کے قرینے سے۔ یہاں قرینہ موجود ہے اور وہ کیا ہے؟ سوالِ مقدر ہے، بھئی۔ "وَهُوَ"، اور وہ سوالِ مقدر کیا؟ وہ بھی اب ذکر کر رہے ہیں: "وَهُوَ: "مَنْ يَبْكِيهِ؟""، وہ "مَنْ يَبْكِيهِ؟" ہے۔ کہتے ہیں: "وَأَمَّا عَلَى رِوَايَةِ "لِيَبْكِ يَزِيدَ" عَلَى الْبِنَاءِ لِلْفَاعِلِ"، بھئی، یاد رکھیے، یہ جو شعر ہے نا، ذرا پھر اس متن پہ نظر رکھیں: "لِيُبْكَ يَزِيدُ ضَارِعٌ"۔ شارحِ جامی نے تو بتایا اس کو "لِيُبْكَ" فعلِ مجہول پڑھو، ہاں، بعض روایتوں میں یہ فعلِ معروف بھی آیا ہے۔ تو بعضوں نے اس کو فعل کو فعلِ معروف کے طور پر نقل کیا ہے اور بعضوں نے فعلِ مجہول۔ فعلِ مجہول پڑھو گے تو "ضَارِعٌ" فاعل بنے گا فعلِ محذوف کے لیے، اور یہ ہماری بحث سے متعلق ہے، ہم بھی بحث کر رہے ہیں کہ کبھی کبھار فاعل کے فعل کو کیا کر لیا جاتا ہے؟ حذف کر لیا جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ دوسری روایت لی جائے، "لِيَبْكِ"، "لِيَبْكِ" فعلِ معروف پڑھا جائے تو پھر اس صورت میں "يَزِيدَ" اس کو منصوب پڑھیں گے، یہ مفعول بہٖ ہو جائے گا۔ "لِيَبْكِ"، چاہیے کہ روئے، "يَزِيدَ" یزید پر، اور کون روئے؟ "ضَارِعٌ" آگے اسی کا فاعل بن جائے گا۔ "لِيَبْكِ يَزِيدَ ضَارِعٌ"، چاہیے کہ یزید پر ضارع روئے، تو اب ضارع فاعل ہوا کس کے لیے؟ "لِيَبْكِ" فعل کے لیے، اور "لِيَبْكِ" فعل محذوف ہے یا مذکور ہے؟ اب تو فعل مذکور ہو جائے گا اور ہماری تو بحث کس فعل میں ہے جو محذوف ہو، تو "لِيَبْكِ" پڑھنے کی صورت میں یہ ہماری بحث سے خارج ہو جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ کہتے ہیں: "وَأَمَّا عَلَى رِوَايَةِ "لِيَبْكِ يَزِيدَ" عَلَى الْبِنَاءِ لِلْفَاعِلِ"، اور باقی "لِيَبْكِ يَزِيدَ" کی روایت پر بناء للفاعل یعنی مبنی للفاعل کی صورت پر، "وَنَصْبِ "يَزِيدَ""، اور یزید پر نصب کی صورت پر، "فَلَيْسَ مِمَّا نَحْنُ فِيهِ"، تو یہ والا شعر جو ہے نہیں ہے اس بحث میں سے "نَحْنُ فِيهِ" جس میں ہم ہیں، یعنی پھر یہ ہماری بحث میں سے، پھر یہ ہماری بحث میں سے ہی نہیں ہے بلکہ یہ اس سے خارج ہو جائے گا۔ ""لِخُصُومَةٍ""، جی، "لِخُصُومَةٍ" میں نے کیا ترجمہ کیا تھا کہ یہ لام کس معنیٰ میں ہے؟ "عَنْ" کے معنیٰ میں ہے، "ضَارِعٌ عَنْ خُصُومَةٍ"، وہ شخص جو عاجز و لاچار ہے کس چیز سے؟ جھگڑے سے، کس سے؟ جھگڑے سے، وہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ""لِخُصُومَةٍ""، "لِخُصُومَةٍ" جار مجرور ہے، اور جار مجرور کے لیے متعلق چاہیے، اور جار مجرور آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک سے متعلق ہوتا ہے، ان آٹھ چیزوں میں سے ایک کیا ہے؟ اسمِ فاعل بھی ہے، تو "ضَارِعٌ" اسمِ فاعل ہے تو "لِخُصُومَةٍ" اسی سے متعلق ہے اور یہ لام کس معنیٰ میں ہے؟ "عَنْ" کے معنیٰ میں ہے۔ تو کہتے ہیں: "مُتَعَلِّقٌ بِـ"ضَارِعٍ""، یہ "لِخُصُومَةٍ" جو ہے یہ "ضَارِعٌ" سے متعلق ہے، "أَيْ: يَبْكِيهِ"، دیکھو اب شعر کا ترجمہ کر رہے ہیں: "أَيْ: يَبْكِيهِ"، یزید پر رونا چاہیے، "مَنْ يَذِلُّ وَيَعْجِزُ عَنْ مُقَاوَمَةِ الْخُصَمَاءِ"، جو شخص کمزور ہے اور عاجز ہے "عَنْ"، "عَنْ مُقَاوَمَةِ الْخُصَمَاءِ"۔ دیکھو، متن میں آیا تھا "لِخُصُومَةٍ"، صاحبِ جامی کیا فرما رہے ہیں؟ "عَنْ مُقَاوَمَةِ الْخُصَمَاءِ"۔ خصومت کا معنیٰ مقاومت کے کر دیا، مقاومت کا معنیٰ مقابلہ کرنا، جھگڑا کرنا۔ تو کہتے ہیں: "أَيْ: يَبْكِيهِ"، رونا چاہیے یزید پر، "مَنْ يَذِلُّ وَيَعْجِزُ"، اس شخص کو جو کمزور ہے اور عاجز ہے، بھئی، کس چیز سے عاجز ہے؟ "عَنْ مُقَاوَمَةِ الْخُصَمَاءِ"، فریقِ مخالف کا مقابلہ کرنے سے۔ خصماء جمع ہے خصم کی اور خصم کہتے ہیں فریقِ مخالف کو یعنی مقابل کو۔ وہ شخص جو مقابل کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہے اس کو یزید پر رونا چاہیے، "لِأَنَّهُ كَانَ ظَهِيرًا لِلْعَجَزَةِ وَالْأَذِلَّاءِ"، اس لیے کیونکہ وہ مددگار تھا "لِلْعَجَزَةِ"، وہ مددگار تھا "لِلْعَجَزَةِ"، عجزۃ جمع ہے عاجز کی جیسے طلبہ جمع ہے طالب کی، اس لیے کیونکہ وہ جو یزید تھا وہ مددگار تھا "لِلْعَجَزَةِ" عاجز لوگوں کا، "وَالْأَذِلَّاءِ" اور کمزور لوگوں کا۔ اذلاء جمع ہے ذلیل کی یعنی کمزور اور حقیر لوگ، وہ کمزور اور حقیر اور عاجز لوگوں کا مددگار تھا لہٰذا ان لوگوں کو اس پر رونا چاہیے۔ "وَآخِرُ الْبَيْتِ"، اور شعر کا آخر یہ ہے، بیت عربی زبان میں شعر کو بھی کہتے ہیں، تو یہ اب دوسرا مصرعہ ذکر کر رہے ہیں: "وَمُخْتَبِطٌ"، اور اسی طرح بغیر وسیلے کے سوال کرنے والے کو بھی رونا چاہیے یزید پر، "مِمَّا"، وہ شخص جو بغیر وسیلے کے سوال کرنے والا ہے، "مِمَّا" اس وجہ سے کہ "تُطِيحُ الطَّوَائِحُ" کہ حوادثات نے ہلاک کر دیا ہے "مَالَهُ" اس کے مال کو۔ دیکھیے، یہ ساری تفصیل صاحبِ جامی بھی بیان کریں گے۔ کہتے ہیں: "وَالْمُخْتَبِطُ: السَّائِلُ مِنْ غَيْرِ وَسِيلَةٍ"، مختبط وہ شخص ہے جو مانگنے والا ہے، جو سوال کرنے والا ہے بغیر کسی وسیلے کے یعنی بغیر تعلق کے۔ "وَالْإِطَاحَةُ: الْإِهْلَاكُ"، اور اطاحہ اہلاک ہے۔ "وَالْإِطَاحَةُ"، بھئی، "تُطِيحُ" آیا نا، "تُطِيحُ" کا مصدر کیا؟ اطاحہ، کیونکہ "مَا" مصدریہ اس پر داخل ہوا، تو اور اطاحہ کا کیا معنیٰ ہے؟ "الْإِهْلَاكُ"، ہلاک کرنا۔ اور ایک اور بات دیکھیے، بھئی، "الْإِطَاحَةُ" ہے مبتدا اور "الْإِهْلَاكُ" ہے اس کی خبر، اور مبتدا بھی معرفہ اور خبر بھی معرفہ اور درمیان میں کوئی فصل نہیں ہے، حالانکہ اردو کی تمام شروحات میں کیا لکھا ہے کہ جب مبتدا اور خبر دونوں معرفہ ہوں تو درمیان میں فصل کا لانا واجب ہے۔ میں نے بتایا کہ یہ ہمارے ہاں رائج غلطیوں میں سے ہے، یہاں دیکھو مبتدا خبر دونوں معرفہ ہیں اور درمیان میں کوئی فصل نہیں۔ تو کہتے ہیں: "وَالْإِطَاحَةُ: الْإِهْلَاكُ"، اور اطاحہ جو ہے وہ اہلاک ہے یعنی ہلاک کرنا، یہ اس کا معنیٰ بیان کر دیا۔ "وَالطَّوَائِحُ: جَمْعُ مُطِيحَةٍ عَلَى غَيْرِ الْقِيَاسِ"، اور طوائح یہ جمع ہے مطیحۃ کی "عَلَى غَيْرِ الْقِيَاسِ"، خلافِ قیاس، "كَاللَّوَاقِحِ جَمْعُ مُلْقِحَةٍ"، جیسے لواقح جمع ہے ملحقۃ کی، جیسے لواقح جمع ہے ملحقۃ کی، اسی طرح طوائح جمع ہے مطیحۃ کی، بھئی۔ کہتے ہیں: "وَ"مِمَّا" يَتَعَلَّقُ بِـ"مُخْتَبِطٍ""، اور "مِمَّا" یہ جار مجرور ہے جو شعر میں آیا اور یہ اس کے لیے متعلق چاہیے، تو یہ کس سے متعلق ہے؟ تو بتلایا کہ یہ مختبط سے متعلق ہے۔ کہتے ہیں: "وَ"مِمَّا" يَتَعَلَّقُ بِـ"مُخْتَبِطٍ""، اور "مِمَّا" جو ہے یہ مختبط کے ساتھ متعلق ہے، "وَ"مَا" مَصْدَرِيَّةٌ"، اور یہ "مَا" مصدریہ ہے، "أَيْ: وَيَبْكِيهِ أَيْضًا مَنْ يَسْأَلُ بِغَيْرِ وَسِيلَةٍ"، یعنی یزید پر رونا چاہیے اس شخص کو بھی جو شخص سوال کرنے والا ہے یعنی مانگنے والا ہے بغیر وسیلے کے یعنی بغیر تعلق کے۔ بھئی، بغیر وسیلے کے سوال کرنے والا وہ کیوں ہے؟ وجہ شعر میں آئی تھی: "مِمَّا تُطِيحُ الطَّوَائِحُ"، اس وجہ سے کہ حوادثات نے اس کے مال کو ہلاک کر دیا ہے اس لیے اب وہ بغیر تعلق کے مانگ رہا ہے۔ کہتے ہیں: "وَيَبْكِيهِ أَيْضًا مَنْ يَسْأَلُ بِغَيْرِ وَسِيلَةٍ مِنْ أَجْلِ إِهْلَاكِ الْمُهْلِكَاتِ مَالَهُ"، دیکھو، متن میں کیا آیا تھا؟ "مِمَّا"، "مِنْ" کیا تھا؟ "مِنْ" سببیہ تھا، اجلیہ تھا، تو اس لیے کیا شرح میں کیا کہا؟ "مِنْ أَجْلِ"، اور متن میں "مَا" مصدریہ تھا اور "مَا" مصدریہ کے بعد "تُطِيحُ" فعل آیا تھا، تو "مَا" مصدریہ نے اس کو کس معنیٰ میں کر دیا؟ اطاحہ کے معنیٰ میں، اور اطاحہ کا کیا معنیٰ؟ اہلاک، دیکھو یہی شرح میں ذکر کر دیا: "مِنْ أَجْلِ إِهْلَاكِ"، اور طوائح کا کیا معنیٰ کیا؟ طوائح کا معنیٰ مہلکات کے، بھئی، کیا؟ مہلکات، تو دیکھو اب یہی ذکر کر رہے ہیں: "مِنْ أَجْلِ إِهْلَاكِ الْمُهْلِكَاتِ"، اور یہ "مَالَهُ"، یہ آگے کیا ذکر کیا؟ یہ مہلکات نے ہلاک کیا، بھئی، کس چیز کو ہلاک کیا؟ یہ مفعول کو آگے ذکر کر دیا، بات سمجھ میں آ گئی؟ "مَالَهُ وَمَا يُتَوَسَّلُ بِهِ إِلَى تَحْصِيلِ الْمَالِ"، "مَالَهُ" ہے معطوف علیہ اور "وَمَا يُتَوَسَّلُ بِهِ إِلَى تَحْصِيلِ الْمَالِ" یہ اس پر عطف ہے، بھئی۔ مہلکات نے ہلاک کر دیا ہے "مَالَهُ"، اس کے مال کو بھی، "وَمَا يُتَوَسَّلُ بِهِ"، اور اس چیز کو بھی جس کے ذریعے تحصیلِ مال تک پہنچا جاتا ہے، یعنی وہ جو مال حاصل کرنے کے ذرائع ہیں ان کو بھی کیا کر دیا ہے؟ ہلاک کر دیا ہے۔ حوادثات نے اس کے مال کو بھی ہلاک کر دیا اور مال کمانے کے جو اس کے اسباب تھے ان کو بھی ہلاک کر دیا۔ پھر دیکھیے ترجمہ: "وَيَبْكِيهِ أَيْضًا مَنْ يَسْأَلُ بِغَيْرِ وَسِيلَةٍ"، اور یزید پر رونا چاہیے اس شخص کو بھی جو مانگنے والا ہے بغیر وسیلے کے، بغیر تعلق کے، "مِنْ أَجْلِ إِهْلَاكِ الْمُهْلِكَاتِ"، اس وجہ سے کہ مہلکات نے یعنی حوادثاتِ زمانہ نے ہلاک کر دیا ہے کس چیز کو؟ "مَالَهُ وَمَا يُتَوَسَّلُ بِهِ إِلَى تَحْصِيلِ الْمَالِ"، اس کے مال کو بھی اور اس چیز کو بھی جس کے ذریعے تحصیلِ مال تک پہنچا جاتا ہے، "لِأَنَّهُ كَانَ مُعْطِيَ السَّائِلِينَ"، بھئی، کیوں رونا چاہیے اس کو؟ کہتے ہیں: "لِأَنَّهُ كَانَ مُعْطِيَ السَّائِلِينَ بِغَيْرِ وَسِيلَةٍ"، اس لیے کیونکہ یزید جو ہے وہ مانگنے والوں کو عطا کرنے والا تھا بغیر وسیلے، یعنی جو مانگنے والے تھے بغیر وسیلے کے ان کو بھی یزید عطا کیا کرتا تھا، ان کو بھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا تھا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔ کہتے ہیں: "وَقَدْ يُحْذَفُ الْفِعْلُ الرَّافِعُ لِلْفَاعِلِ بِقَرِينَةٍ دَالَّةٍ عَلَى تَعْيِينِهِ وُجُوبًا، أَيْ: حَذْفًا وَاجِبًا"۔ جی، اب وہ جگہ ذکر کر رہے ہیں جہاں فاعل کے فعل کو حذف کرنا واجب ہے۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ فاعل کے فعل کو حذف کرنا واجب کب ہے؟ جب اس فعل کا قائم مقام بنا دیا جائے۔ جب ایک چیز کو آپ نے اس محذوف کا قائم مقام بنا دیا تو اب محذوف کو ذکر نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اصل اور نائب میں سے ایک وقت میں ایک آ سکتا ہے۔ جب اصل ہو تو نائب نہیں آ سکتا اور جب نائب ہو تو اصل نہیں آ سکتا۔ دیکھیے پہلے متن متن، کہتے ہیں: "وُجُوبًا"، اس کا "وُجُوبًا" کا عطف اسی "جَوَازًا" پر ہے، اور "جَوَازًا" کیا تھا؟ مفعولِ مطلق تھا باعتبارِ موصوفِ محذوف کے، تو یہ بھی مفعولِ مطلق ہے۔ "أَيْ: حَذْفًا وَاجِبًا"، تو کبھی کبھار فعل کو وجوباً حذف کیا جاتا ہے، "فِي مِثْلِ: "وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ""، اس جیسی مثالوں میں۔ بھئی، اس کو سمجھ لیں اچھی طرح۔ "وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ"، اصل میں تقدیرِ کلام یوں ہے: "وَإِنِ اسْتَجَارَكَ"، "وَإِنِ اسْتَجَارَكَ"۔ دیکھو، یہ "إِنْ" حرفِ شرط ہے اور حرفِ شرط ہمیشہ فعل پر داخل ہوتا ہے، اور یہاں "أَحَدٌ" اسم پر یہ داخل ہو رہا ہے، یہ قرینہ ہے اس بات کا کہ یہاں فعل محذوف ہے۔ "إِنْ" کیا ہے؟ حرفِ شرط، اور حرفِ شرط ہمیشہ کس پر داخل ہوتا ہے؟ فعل پر، اور یہاں تو "إِنْ"، "أَحَدٌ" پر داخل ہو رہا ہے اور "أَحَدٌ" اسم ہے، تو یہ قرینہ ہے، یہ بتلا رہا ہے کہ یہاں فعل محذوف ہے۔ تو یہ اصل میں یوں ہے: "وَإِنِ اسْتَجَارَكَ"، اور اگر آپ سے پناہ طلب کرے، اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرما رہے ہیں: "وَإِنِ اسْتَجَارَكَ أَحَدٌ"، اگر کوئی ایک آپ سے پناہ طلب کرے "مِنَ الْمُشْرِكِينَ"، مشرکین میں سے، مشرکین میں سے اگر کوئی آپ کے پاس آئے اور آپ سے پناہ طلب کرے، تو آگے ہے: "فَأَجِرْهُ"، تو اے پیغمبر! آپ ان کو پناہ دے دیجیے۔ جب آپ کے پاس کوئی مشرکین میں سے پناہ طلب کرنے کے لیے آئے تو آپ اس کو پناہ دے دیجیے، بھئی۔ اب دیکھو، یہاں "وَإِنْ أَحَدٌ"، یہاں کیا محذوف ہے؟ "اسْتَجَارَكَ"۔ تو یہاں "اسْتَجَارَكَ" تھا اور پھر اس کو حذف کر لیا گیا اور اس حذف کی وجہ سے ابہام پیدا ہوا، کیا پیدا ہوا؟ ابہام، بھئی۔ اور پھر آگے دیکھو، "وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ"، یہ "اسْتَجَارَكَ" جو لایا گیا، یہ تفسیر ہے اس "اسْتَجَارَكَ" کی جو حذف کیا گیا۔ "إِنْ" کے بعد "اسْتَجَارَكَ" کو حذف کیا گیا تھا تو آخر میں آگے "اسْتَجَارَكَ" کو لا کر اس کی تفسیر کر دی گئی تاکہ پتا چل جائے کہ کون سا فعل حذف ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ جو ثانی "اسْتَجَارَكَ" آیا، یہ تفسیر ہے اس "اسْتَجَارَكَ" محذوف کی، اور یوں کہیں کہ یہ اس کا قائم مقام ہے، یہ اس کا قائم مقام ہے۔ تو جب یہ ثانی "اسْتَجَارَكَ" کو اس اول کا قائم مقام بنا دیا تو اب اول کو حذف کرنا واجب ہے۔ اگر اول کو بھی لے آئیں گے تو پھر یہ ثانی کا لانا بیکار ہو جائے گا۔ یہ ثانی "اسْتَجَارَكَ" کو کیوں لائے؟ کیونکہ اول کے حذف سے ابہام پیدا ہوا تھا، توجہ ہے؟ بھئی، "إِنْ" کس پر داخل ہے؟ "أَحَدٌ" پر، "أَحَدٌ" تو اسم ہے حالانکہ "إِنْ" کس پر داخل ہوتا ہے؟ فعل پر، تو معلوم ہوا یہاں فعل محذوف ہے لیکن معلوم نہیں کون سا فعل محذوف ہے، بھئی، ابہام پیدا ہو گیا۔ اصل میں کیا تھا؟ "وَإِنِ اسْتَجَارَكَ أَحَدٌ"، تو "اسْتَجَارَكَ" کو کیا کر لیا گیا؟ حذف کر لیا گیا، اس کے حذف سے کیا پیدا ہوا؟ ابہام پیدا ہوا کہ بھئی یہاں کون سا فعل حذف ہے؟ "إِنْ" تو فعل پر داخل ہوتا ہے اور یہاں تو یہ "أَحَدٌ" اسم پر داخل ہو رہا ہے، تو ابہام پیدا ہوا تو آگے "اسْتَجَارَكَ" لا کر اس ابہام کو دور کر دیا گیا اور اس ثانی "اسْتَجَارَكَ" کے ذریعے تفسیر کر دی گئی اول "اسْتَجَارَكَ" کی کہ کون سا فعل حذف ہے؟ "اسْتَجَارَكَ" حذف ہے۔ تو یہ ثانی "اسْتَجَارَكَ" یہ ابہام کو دور کر رہا ہے، کون سا ابہام جو کیوں پیدا ہوا؟ حذف کی وجہ سے۔ ابہام کیوں پیدا ہوا؟ بھئی، "اسْتَجَارَكَ" کے اپنے معنیٰ کے اندر تو کوئی ابہام نہیں ہے، "اسْتَجَارَكَ" کا معنیٰ تو ظاہر ہے کہ اگر آپ سے کوئی پناہ مانگے، لیکن ابہام کیوں آیا؟ کیونکہ اول کو حذف کر دیا گیا، تو یہ ابہام آیا ہی حذف کی وجہ سے ہے، کس کی وجہ سے؟ جب وہ حذف کی وجہ سے ابہام آ گیا تو آگے "اسْتَجَارَكَ" تفسیر لا کر اس ابہام کو دور کر دیا گیا۔ آگے "اسْتَجَارَكَ" لا کر اس ابہام کو دور کر دیا گیا، تو اب یہ مفسِّر "اسْتَجَارَكَ" موجود ہے اور وہ جو پہلا تھا وہ ہے مفسَّر یعنی جس کی تفسیر کی گئی، اب اس کو ذکر نہیں کیا جا سکتا، اس کا حذف واجب ہے۔ وجہ یہ کہ اگر اس کو ذکر کر دیا جائے گا تو پھر اس مفسِّر کا لانا بیکار ہو جائے گا، اس کا کوئی فائدہ ہی نہیں رہے گا۔ دیکھیے، بھئی، کتاب پر۔ کہتے ہیں: "وُجُوبًا، أَيْ: حَذْفًا وَاجِبًا"، اور کبھی کبھار فعل کو وجوباً حذف کیا جاتا ہے، "فِي مِثْلِ قَوْلِهِ تَعَالَى: "وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ""، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہے: "وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ"۔ "أَيْ: فِي كُلِّ مَوْضِعٍ"، بتلانا چاہتے ہیں "فِي مِثْلِ قَوْلِهِ تَعَالَى" سے کیا مراد ہے؟ یعنی مراد ہے: "أَيْ: فِي كُلِّ مَوْضِعٍ حُذِفَ الْفِعْلُ"، ہر ایسی جگہ جہاں پر فعل کو حذف کر لیا جائے، "ثُمَّ فُسِّرَ"، پھر اس کی تفسیر کی جائے، "لِرَفْعِ الْإِبْهَامِ النَّاشِئِ مِنَ الْحَذْفِ"، تاکہ دور ہو جائے، رفع کا معنیٰ؟ ہٹانا، ختم کرنا۔ "لِرَفْعِ الْإِبْهَامِ النَّاشِئِ"، "نَشَأَ" کا معنیٰ ہے پیدا ہونا۔ "ثُمَّ فُسِّرَ لِرَفْعِ الْإِبْهَامِ النَّاشِئِ"، پھر تفسیر کی جائے دور کرنے کے لیے اس ابہام کو جو پیدا ہوا ہے، "مِنَ الْحَذْفِ"، کس سے؟ حذف سے۔ بھئی، وہی بات بیان کر رہے ہیں کہ اس جیسی مثالوں کے اندر حذف واجب ہے، اس جیسی مثالوں سے کیا مراد ہے؟ ہر ایسی جگہ جہاں پر فعل کو حذف کر لیا جائے اور پھر آگے اس کی تفسیر لائی جائے، کیوں لائی جائے تفسیر؟ تاکہ حذف کی وجہ سے جو ابہام پیدا ہوا تھا اس ابہام کو دور کر دیا جائے۔ پھر دیکھیے ترجمہ: "أَيْ: فِي كُلِّ مَوْضِعٍ حُذِفَ الْفِعْلُ ثُمَّ فُسِّرَ"، یعنی ہر ایسی جگہ جہاں فعل کو حذف کر لیا جائے پھر اس کی تفسیر کی جائے، پھر اس کی تفسیر کی جائے، کیوں تفسیر کی جائے؟ "لِرَفْعِ الْإِبْهَامِ النَّاشِئِ مِنَ الْحَذْفِ"، تاکہ دور کر دیا جائے اس ابہام کو جو حذف سے پیدا ہوا ہے، "فَإِنَّهُ لَوْ ذُكِرَ الْمُفَسَّرُ"، اس لیے کیونکہ اگر مفسَّر کو ذکر کر دیا جائے، بھئی، جس کی تفسیر کی جائے یعنی جو پہلے تھا اس کو کہتے ہیں مفسَّر، اور جو لفظ تفسیر کر رہا ہے اس کو کہتے ہیں مفسِّر۔ کہتے ہیں: "فَإِنَّهُ لَوْ ذُكِرَ الْمُفَسَّرُ"، اس لیے کیونکہ اگر مفسَّر کو بھی ذکر کر دیا جائے، "لَمْ يَبْقَ الْمُفَسِّرُ مُفَسِّرًا بَلْ صَارَ حَشْوًا"، تو مفسِّر مفسِّر نہیں رہے گا، "بَلْ صَارَ حَشْوًا"، بلکہ بیکار اور زائد ہو جائے گا۔ حشو کہتے ہیں بیکار اور زائد لفظ، بھئی، جس کا کوئی فائدہ نہ ہو۔ بھئی، دیکھیے، بھئی، پھر دیکھو: "وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ"، یہ "اسْتَجَارَكَ" ثانی جو لایا گیا، یہ تفسیر ہے کس کی؟ اس پہلے "اسْتَجَارَكَ" کی، اور وہ پہلا "اسْتَجَارَكَ" اس کو حذف کیا گیا، اس کے حذف کی وجہ سے ابہام پیدا ہوا کہ یہاں کون سا فعل محذوف ہے؟ تو "اسْتَجَارَكَ" ثانی لا کر اس کی تفسیر کر دی گئی۔ تو وہ پہلا ہے مفسَّر اور یہ ثانی کیا ہے؟ تفسیر یا مفسِّر ہے، تو اس مفسَّر کو اب ذکر نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اگر اس مفسَّر کو بھی ذکر کر دیا جائے تو یہ مفسِّر مفسِّر نہیں رہے گا، بیکار ہو جائے گا۔ یہ ثانی "اسْتَجَارَكَ" کو لائے ہی کس لیے ہیں؟ تاکہ اس اول کے حذف سے جو ابہام پیدا ہوا ہے اس کو یہ دور کر دے، تو اگر وہ لفظوں میں موجود ہو گا تو کوئی ابہام ہے؟ پھر تو کوئی ابہام ہی نہیں، جب ابہام ہی نہیں تو اس ثانی کو لانا کیا ہو جائے گا؟ بیکار ہو جائے گا، یہ مفسِّر نہیں رہے گا بلکہ بیکار ہو جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنیٰ ہے: "فَإِنَّهُ لَوْ ذُكِرَ الْمُفَسَّرُ"، اس لیے کیونکہ اگر مفسَّر کو بھی ذکر کر دیا جائے یعنی وہ جو محذوف تھا اس کو بھی ذکر کر دیا جائے، "لَمْ يَبْقَ الْمُفَسِّرُ مُفَسِّرًا بَلْ صَارَ حَشْوًا"، تو یہ جو ثانی ہے یہ مفسِّر جو ہے یہ مفسِّر ہو کر باقی نہیں رہے گا بلکہ یہ حشو یعنی بیکار ہو جائے گا۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ اے صاحبِ جامی! آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مفسَّر اور مفسِّر دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔ اگر پہلے "اسْتَجَارَكَ" کو ذکر کر دیں گے تو وہ ہے مفسَّر اور دوسرا "اسْتَجَارَكَ" ہے مفسِّر، تو آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب مفسِّر ہو تو مفسَّر کو نہیں لا سکتے ورنہ تو مفسِّر بیکار ہو جائے گا۔ حالانکہ ہم تو کلام میں دیکھتے رہتے ہیں کہ مفسَّر اور مفسِّر دونوں آتے ہیں، مثلاً ایک آدمی کہتا ہے: "جَاءَ رَجُلٌ أَيْ زَيْدٌ"۔ "جَاءَ رَجُلٌ"، ایک آدمی آیا، "أَيْ زَيْدٌ"، یعنی زید آیا۔ تو دیکھو، "رَجُلٌ" ہے مفسَّر، "رَجُلٌ" میں ابہام تھا، ایک آدمی آیا، بھئی کون آدمی؟ پتا نہیں، آگے "أَيْ زَيْدٌ" کے ذریعے اس کی تفسیر کر دی گئی۔ تو "رَجُلٌ" ہوا مفسَّر جس کی تفسیر کی گئی ہے اور "زَيْدٌ" کیا ہوا؟ مفسِّر ہوا یعنی تفسیر ہوا اس کی، تو دیکھو اب اس کلام میں مفسَّر اور مفسِّر دونوں جمع ہیں۔ حالانکہ آپ نے ہمیں کیا بتایا کہ مفسِّر کے ہوتے ہوئے اگر مفسَّر کو بھی لے آؤ گے پھر تو مفسِّر بیکار ہو جائے گا، بھئی، حالانکہ ہم کلام میں دیکھتے رہتے ہیں کہ مفسَّر اور مفسِّر دونوں ہوتے ہیں۔ تو آپ کو صاحبِ جامی بتلائیں گے کہ نہیں بھئی، ہمارا کہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جب بھی مفسِّر آئے مفسَّر کو حذف کرنا ضروری ہے، بلکہ یہ مقام اور ہے وہ مقام اور ہوتا ہے۔ وہاں جو آپ لائے: "جَاءَنِي رَجُلٌ أَيْ زَيْدٌ"، وہاں رجل کی ذات میں ابہام تھا کہ کون سا آدمی مراد ہے؟ رجل کی ذات میں ابہام تھا کہ تعیین نہیں تھی کون سا آدمی ہے، آگے "زَيْدٌ" کے ذریعے کیا کر دی گئی؟ اس کی تعیین کر دی گئی، تو رجل کے لفظ میں ہی ابہام تھا، کس میں؟ رجل کے لفظ میں ہی ابہام تھا کہ اس سے کون مراد ہے؟ تو جب مفسَّر کے لفظ میں ابہام ہو تو اس کے ساتھ پھر آگے مفسِّر کو ذکر کر دیتے ہیں، تو اس وقت پھر دونوں جمع ہوتے ہیں، اس وقت دونوں جمع ہو سکتے ہیں، لیکن یہاں جو ابہام آیا وہ کس لیے آیا ابہام؟ "وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ"، یہ "اسْتَجَارَكَ" ثانی کیوں لائے؟ ابہام کو دور کرنے کے لیے، کون سا ابہام؟ وہ ابہام جو حذف کی وجہ سے آیا تھا! بھئی، "جَاءَنِي رَجُلٌ" کے اندر حذف کی وجہ سے ابہام نہیں ہے بلکہ رجل کی اپنی ذات میں ابہام ہے کہ اس سے کون مراد ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ جبکہ "وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ"، یہاں جو ابہام آیا وہ کس کی وجہ سے ہے؟ حذف کی وجہ سے آیا ہے، تو اگر آپ "اسْتَجَارَكَ" کو ذکر کر دیں گے تو پھر ابہام رہے گا؟ پھر تو ابہام ہی نہیں رہے گا، پھر مفسِّر لانے کا کیا معنیٰ، بھئی؟ تو دونوں میں فرق ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہاں جو ابہام آیا ہے وہ آیا ہی حذف کی وجہ سے ہے، اگر آپ حذف نہیں کریں گے اس کو ذکر کر دیں گے پھر تو ابہام نہیں رہے گا، جب ابہام نہیں رہے گا تو آگے تفسیر کا لانا بیکار ہو جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: "بِخِلَافِ الْمُفَسَّرِ الَّذِي فِيهِ إِبْهَامٌ بِدُونِ حَذْفِهِ"، بخلاف اس مفسَّر کے کہ جس کے اندر ابہام ہوتا ہے بغیر حذف کے ہی، "فَإِنَّهُ يَجُوزُ الْجَمْعُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مُفَسِّرِهِ"، اس لیے کیونکہ اس کے اندر جائز ہے جمع کرنا مفسَّر اور مفسِّر کو، "كَقَوْلِكَ: "جَاءَنِي رَجُلٌ أَيْ زَيْدٌ""، جیسے کہ آپ کا یہ قول: "جَاءَنِي رَجُلٌ أَيْ زَيْدٌ"۔ "جَاءَنِي رَجُلٌ أَيْ زَيْدٌ"، اس کے اندر "رَجُلٌ" کیا ہے؟ مفسَّر، اور "زَيْدٌ" کیا ہے؟ تفسیر۔ تو یہاں رجل کی ذات میں ابہام ہے، یہاں حذف کی وجہ سے ابہام نہیں آیا، بھئی۔ "فَتَقْدِيرُ الْآيَةِ"، تو آیت کی تقدیر یہ ہے: ""وَإِنِ اسْتَجَارَكَ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ""، دیکھا؟ "وَإِنِ اسْتَجَارَكَ أَحَدٌ"، "أَحَدٌ" سے پہلے "اسْتَجَارَكَ" محذوف نکال لیا۔ "فَأَحَدٌ فِيهَا فَاعِلُ فِعْلٍ مَحْذُوفٍ"، تو "أَحَدٌ" یہاں، دیکھو "وَإِنْ أَحَدٌ"، اصل میں کیا ہے؟ "وَإِنِ اسْتَجَارَكَ أَحَدٌ"، "اسْتَجَارَكَ" فعل اور "أَحَدٌ" اس کا فاعل، اور دیکھو یہاں فاعل کے فعل کو حذف کرنا واجب ہے۔ کیوں واجب ہے؟ کیونکہ اگر یہاں فعل کو ذکر کر دیا جائے اس جیسی مثالوں میں، پھر تو آگے تفسیر حشو، بیکار ہو جائے گی، بھئی۔ تو کہتے ہیں: "فَأَحَدٌ فِيهَا فَاعِلُ فِعْلٍ مَحْذُوفٍ وُجُوبًا"، تو "أَحَدٌ" اس کے اندر فاعل ہے اس فعل کا جو وجوباً محذوف ہے، "وَهُوَ "اسْتَجَارَكَ" الْأَوَّلُ"، اور وہ پہلا "اسْتَجَارَكَ" ہے، اور وہ وہ والا پہلا "اسْتَجَارَكَ" ہے "الْمُفَسَّرُ بِـ"اسْتَجَارَكَ" الثَّانِي"، جس کی تفسیر کی گئی ہے "اسْتَجَارَكَ" ثانی کے ساتھ۔ "وَإِنَّمَا وَجَبَ حَذْفُهُ"، بھئی، اس پہلے "اسْتَجَارَكَ" کو حذف کرنا کیوں واجب؟ وہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: "وَإِنَّمَا وَجَبَ حَذْفُهُ"، اور اس اول "اسْتَجَارَكَ" کو حذف کرنا واجب ہے، "لِأَنَّ مُفَسِّرَهُ قَائِمٌ مَقَامَهُ مُغْنٍ عَنْهُ"، اس لیے کیونکہ اس کا مفسِّر اس کے قائم مقام ہے اور یہ اس سے بے نیاز کر رہا ہے۔ اب جب ثانی "اسْتَجَارَكَ" آ گیا تو اول کو ذکر کرنے کی کوئی حاجت نہیں۔ "وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ "أَحَدٌ" مَرْفُوعًا"، یہاں سے ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں کہ دیکھیے، اس آیت پہ پھر نظر رکھیں: "وَإِنْ أَحَدٌ"، کہ یہ آپ نے "أَحَدٌ" کو فاعل بنایا، کس کے لیے؟ فعلِ محذوف کے لیے، تو آپ اس "أَحَدٌ" کو مبتدا بنا لیں، کیا بنا لیں؟ کہتے ہیں مبتدا ہم نہیں بنا سکتے، وجہ یہ کہ "إِنْ" آیا ہے اور "إِنْ" حرفِ شرط ہے اور حرفِ شرط مبتدا پر نہیں داخل ہوتا بلکہ کس پر داخل ہوتا ہے؟ فعل پر داخل ہوتا ہے۔ کہتے ہیں: "وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ "أَحَدٌ" مَرْفُوعًا بِالِابْتِدَاءِ"، اور یہ جائز نہیں ہے کہ "أَحَدٌ" مرفوع ہو ابتداء کی وجہ سے یعنی مبتدا ہونے کی وجہ سے، "لِامْتِنَاعِ دُخُولِ حَرْفِ الشَّرْطِ عَلَى الِاسْمِ"، اس لیے کیونکہ ممتنع ہے حرفِ شرط کا داخل ہونا اسم پر، "بَلْ لَا بُدَّ لَهُ مِنَ الْفِعْلِ"، بلکہ حرفِ شرط کے لیے ضروری ہے فعل کا ہونا۔ "وَقَدْ يُحْذَفَانِ، أَيِ: الْفِعْلُ وَالْفَاعِلُ، مَعًا"، اب یہاں سے آپ کو یہ بتلائیں گے کہ کبھی کبھار فاعل اور فعل دونوں کو بھی حذف کر لیتے ہیں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا تین صورتیں ہیں: کون سی؟ کہ صرف فعل کو حذف کریں یا صرف فاعل کو حذف کریں یا دونوں کو حذف کریں۔ صرف فعل کو حذف کرنا ابھی انہوں نے آپ کو بتلایا، کبھی جائز ہوتا ہے کبھی واجب، اور دونوں کو حذف کر دیں یہ بھی جائز ہے، لیکن فاعل کو حذف کر دیں اور فعل کو باقی رکھیں یہ جائز نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَقَدْ يُحْذَفَانِ"، جی، جیسے مثلاً، جیسے کسی نے آپ سے پوچھا: "أَقَامَ زَيْدٌ؟" کیا زید کھڑا ہوا ہے؟ آپ جواب میں کہتے ہیں: "نَعَمْ"، ہاں، بس۔ آپ نے "نَعَمْ" کہا حالانکہ آپ کو کیا کہنا چاہیے؟ "نَعَمْ، قَامَ زَيْدٌ"۔ دیکھو، تو آپ نے "قَامَ زَيْدٌ"، "قَامَ" فعل اور "زَيْدٌ" فاعل دونوں کو حذف کر لیا۔ دیکھو، قرینہ موجود ہے، قرینہ کیا ہے؟ سوال۔ سوال کرنے والے نے پوچھا تھا: "أَقَامَ زَيْدٌ؟" سوال کے اندر "قَامَ" بھی موجود ہے اور "زَيْدٌ" بھی موجود ہے، تو آپ نے جواب میں اس کو حذف کر لیا۔ کہتے ہیں: "وَقَدْ يُحْذَفَانِ، أَيِ: الْفِعْلُ وَالْفَاعِلُ، مَعًا"، اور کبھی کبھار حذف کر لیا جاتا ہے فعل اور فاعل کو اکٹھا ہی، "دُونَ الْفَاعِلِ وَحْدَهُ"، نہ کہ اکیلے فاعل کو۔ میں نے آپ کو بتایا اکیلے فاعل کو کبھی حذف نہیں کرتے، فعل کو بھی آپ حذف کر سکتے ہیں، فعل اور فاعل دونوں کو بھی حذف کر سکتے ہیں لیکن صرف فاعل کو حذف نہیں کر سکتے۔ کہتے ہیں: "دُونَ الْفَاعِلِ وَحْدَهُ"، نہ کہ اکیلے فاعل کو، "فِي مِثْلِ: "نَعَمْ""، اس جیسی مثالوں میں، "نَعَمْ" کہ "نَعَمْ" کہا جائے، "جَوَابًا"، اس حال میں کہ یہ "نَعَمْ" جواب ہے "لِمَنْ قَالَ: "أَقَامَ زَيْدٌ؟""، اس شخص کا جس نے یہ کہا تھا: "أَقَامَ زَيْدٌ؟" کیا زید کھڑا ہے؟ تو آپ نے جواب میں کیا کہا؟ "نَعَمْ"، "أَيْ: نَعَمْ قَامَ زَيْدٌ"۔ دیکھا؟ آپ نے جواب میں کیا کہا؟ ایک شخص نے سوال کیا: "أَقَامَ زَيْدٌ؟" آپ نے جواب میں صرف "نَعَمْ" کہا، اصل میں کلام کیا ہے؟ "نَعَمْ، قَامَ زَيْدٌ"۔ تو آپ نے "قَامَ" فعل اور "زَيْدٌ" فاعل دونوں کو کیا کر لیا؟ حذف کر لیا کیونکہ قرینہ موجود ہے اور قرینہ وہ سوال ہے، سوال کے اندر "قَامَ" بھی موجود اور "زَيْدٌ" بھی موجود۔ کہتے ہیں: "أَيْ: نَعَمْ قَامَ زَيْدٌ"، یہ ہے اصل کلام۔ "فَحُذِفَتِ الْجُمْلَةُ الْفِعْلِيَّةُ"، تو جملہ فعلیہ کو حذف کر لیا گیا یعنی "قَامَ زَيْدٌ" پورا جملہ اس کو حذف کر لیا گیا، "وَذُكِرَ "نَعَمْ" فِي مَقَامِهَا"، اور "نَعَمْ" کو اس کے مقام میں ذکر کر دیا گیا۔ بھئی، "نَعَمْ، قَامَ زَيْدٌ"، یہ "قَامَ زَيْدٌ" کو پورے کو حذف کیا اور صرف "نَعَمْ" کو اس کی جگہ پر ذکر کر دیا گیا، "وَهَذَا الْحَذْفُ جَائِزٌ بِقَرِينَةِ السُّؤَالِ"، اور یہ والا حذف بھی جائز ہے قرینہ سوال کی وجہ سے کیونکہ یہاں سوال کا قرینہ موجود ہے، سوال کا قرینہ موجود ہے، "لَا وَاجِبٌ"، یہ واجب نہیں ہے، "لِعَدَمِ قِيَامِ مَا يُؤَدِّي مُؤَدَّاهُ فِي مَقَامِهِ"، "لِعَدَمِ قِيَامِ مَا يُؤَدِّي"، "أَدَّى يُؤَدِّي" کا معنیٰ ہے ادا کرنا، "مُؤَدَّاهُ، أَيْ: مُؤَدَّى الْمَحْذُوفِ"، مؤدیٰ وہ جس کو ادا کیا جائے یعنی مفہوم، معنیٰ۔ "مَا يُؤَدِّي مُؤَدَّاهُ"، وہ چیز جو اس کا مفہوم ادا کر دے، بھئی دیکھو۔ ایک شخص نے کیا سوال پوچھا؟ "أَقَامَ زَيْدٌ؟" جواب میں آپ نے کیا کہا؟ "نَعَمْ"۔ حالانکہ کہنا کیا چاہیے تھا؟ "نَعَمْ، قَامَ زَيْدٌ"، تو آپ نے "قَامَ زَيْدٌ" کو حذف کر لیا۔ یاد رکھو یہ جو "قَامَ زَيْدٌ" کو آپ نے حذف کیا، یہ جوازاً ہے وجوباً نہیں۔ آپ چاہیں تو پورا کلام جواب میں یوں کہیں: "نَعَمْ، قَامَ زَيْدٌ"۔ بھئی، کیا وجہ ہے؟ حذف جوازاً کیوں ہے؟ وجوباً کیوں نہیں؟ جب میں نے کہا "نَعَمْ"، توجہ ہے؟ "نَعَمْ" کہا، تو کس کو حذف کیا؟ "قَامَ زَيْدٌ" کو حذف کیا ہے اور یہ "نَعَمْ" اس کا قائم مقام بن گیا، اور آپ نے ہمیں ضابطہ بتایا ہے کہ جب کوئی چیز قائم مقام بن جائے تو پھر وہاں حذف کیا ہوتا ہے؟ واجب ہوتا ہے، تو آپ کو بتلائیں گے کہ نہیں بھئی، یہ "نَعَمْ" قائم مقام نہیں ہے۔ "نَعَمْ" تو صرف ایک حرف ہے، یہ حرفِ تصدیق ہے، حرفِ ایجاب ہے، کوئی جو سوال پوچھے یہ صرف اس کا اثبات کرتا ہے۔ اگر سوال میں اثبات ہے تو "نَعَمْ" کہنے سے اس کا اثبات ہو جائے گا اور اگر سوال میں نفی ہے تو "نَعَمْ" اسی کو ثابت کر دے گا۔ مثلاً ایک شخص نے پوچھا: "أَقَامَ زَيْدٌ؟" کیا زید کھڑا ہے؟ میں نے کہا: "نَعَمْ"۔ یعنی سوال میں کیا پوچھ رہا ہے؟ قیامِ زید، کہ زید کے لیے قیام ہے، "نَعَمْ" نے اسی کو ثابت کر دیا۔ اور اگر وہ نفی کے ساتھ سوال کرتا: کیا زید کے لیے قیام نہیں ہے؟ میں کہتا: "نَعَمْ"، تو مطلب ہوتا کہ زید کے لیے قیام نہیں۔ تو یہ "نَعَمْ" حرف ہے، یہ پورے جملے کا معنیٰ ادا نہیں کرتا۔ یہ پورے جملے کا معنیٰ ادا نہیں کرتا، تو یہ اس کا قائم مقام نہیں ہے، جب قائم مقام نہیں ہے تو پھر یہ حذف واجب نہیں ہے بلکہ جائز ہے۔ تو کہتے ہیں: "لِعَدَمِ قِيَامِ مَا يُؤَدِّي مُؤَدَّاهُ"، "أَدَّى يُؤَدِّي" کا معنیٰ ادا کرنا۔ "مُؤَدَّاهُ، أَيْ: مُؤَدَّى الْمَحْذُوفِ"، مؤدّٰی وہ چیز جس کو ادا کیا جائے، مراد ہے معنیٰ۔ اس لیے کیونکہ "لِعَدَمِ قِيَامِ"، اس لیے کیونکہ کوئی ایسی چیز قائم نہیں، "مَا يُؤَدِّي مُؤَدَّاهُ"، جو ادا کر دے اس محذوف کے مفہوم کو، "فِي مَقَامِهِ"، اس کے مقام میں۔ یہ "فِي مَقَامِهِ" کا تعلق قیام سے ہے: "لِعَدَمِ قِيَامِ"، "لِعَدَمِ قِيَامِ"، کیونکہ کوئی چیز قائم نہیں ہے، "فِي مَقَامِهِ"، اس کے مقام، یعنی کوئی چیز اس کے قائم مقام نہیں۔ سوال کیا کیا؟ "أَقَامَ زَيْدٌ؟" جواب میں کیا کہا؟ "نَعَمْ"، "نَعَمْ" کہا، اور "نَعَمْ، قَامَ زَيْدٌ" بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس لیے کیونکہ یہ جو "قَامَ زَيْدٌ" جس کو آپ نے حذف کر دیا، یہ "نَعَمْ" اس کا کوئی قائم مقام نہیں، یہ اس کے مفہوم کو ادا نہیں کر رہا، جب یہ اس کا قائم مقام نہیں تو معلوم ہوا حذف جائز ہے، واجب نہیں۔ حذف واجب کہاں ہوتا ہے؟ جب کوئی اور چیز اس کے قائم مقام ہو جائے اور اس کے مفہوم کو ادا کرے۔ تو "لِعَدَمِ قِيَامِ مَا يُؤَدِّي مُؤَدَّاهُ فِي مَقَامِهِ"، اس لیے کیونکہ کوئی ایسی چیز اس کے قائم مقام نہیں ہے جو اس کے اس محذوف کے مفہوم کو ادا کر دے، "كَالْمُفَسِّرِ"، جیسے کہ مفسِّر گزرا پیچھے، وہ مفسِّر کیا کر رہا تھا؟ مفسَّر کے مفہوم کو ادا کر رہا تھا، وہ بھی "اسْتَجَارَكَ" تھا اور مفسِّر بھی کیا تھا؟ "اسْتَجَارَكَ" تھا۔ "فَيَلْزَمُ فِي الْكَلَامِ اسْتِدْرَاكٌ"، تو لازم آتا کلام کے اندر استدراک، بھئی۔ استدراک یہاں بمعنیٰ لغو اور حشو کے معنیٰ میں ہے، وہی زائد۔ بھئی دیکھیے، ادھر دیکھیے، اگر یہ "نَعَمْ" "قَامَ زَيْدٌ" کا قائم مقام ہوتا، توجہ ہے؟ اگر یہ "نَعَمْ" "قَامَ زَيْدٌ" کا قائم مقام ہوتا، یہ اسی کا معنیٰ ادا کرتا، تو پھر تو "نَعَمْ" کے ساتھ "قَامَ زَيْدٌ" کو آپ ذکر نہیں کر سکتے، پھر تو "قَامَ زَيْدٌ" کا حذف واجب ہو جاتا، کیونکہ "نَعَمْ" کیا کر رہا ہے؟ اس کا معنیٰ ادا کر رہا ہے، جب اس کا معنیٰ "نَعَمْ" خود ادا کر رہا ہے تو آگے "قَامَ زَيْدٌ" لانا بیکار ہو گا یا نہیں؟ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں یہاں ایسا نہیں ہے، "نَعَمْ" کسی کا معنیٰ ادا نہیں کر رہا، جب یہ اس کا معنیٰ ادا نہیں کر رہا، لہٰذا اس کے ساتھ "قَامَ زَيْدٌ" کو لانا بیکار نہیں ہو گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: "فَيَلْزَمُ فِي الْكَلَامِ اسْتِدْرَاكٌ"، یہ ماقبل میں جو ذکر آیا نا: "لِعَدَمِ قِيَامِ مَا يُؤَدِّي مُؤَدَّاهُ فِي مَقَامِهِ"، یہ اسی پر تفریع ہے، کیونکہ کوئی ایسی چیز قائم مقام نہیں جو اس جملے کے معنیٰ کو ادا کر دے: "فَيَلْزَمُ فِي الْكَلَامِ اسْتِدْرَاكٌ"، اور اس سے پھر کلام میں کیا لازم آئے؟ استدراک۔ ادھر دیکھیے، کوئی ایسی چیز نہیں جو اس جملے کے قائم مقام ہو، یعنی "نَعَمْ، قَامَ زَيْدٌ"، یہ جو "نَعَمْ" ہے یہ "قَامَ زَيْدٌ" کے قائم مقام نہیں ہے کہ اس "نَعَمْ" کے ساتھ "قَامَ زَيْدٌ" کو اگر ذکر کریں، "فَيَلْزَمُ فِي الْكَلَامِ اسْتِدْرَاكٌ"، تو کلام میں کیا لازم آئے؟ استدراک یعنی ایک چیز حشو، بیکار ہو جائے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ دوبارہ دیکھیے، کہتے ہیں: "وَهَذَا الْحَذْفُ جَائِزٌ"، اور یہ حذف جائز ہے، "بِقَرِينَةِ السُّؤَالِ"، سوال کے قرینے سے، "لَا وَاجِبٌ"، واجب نہیں ہے، "لِعَدَمِ قِيَامِ مَا يُؤَدِّي مُؤَدَّاهُ فِي مَقَامِهِ"، اس لیے کیونکہ کوئی چیز ایسی قائم مقام نہیں ہے جو اس محذوف کے مفہوم کو ادا کر دے، جیسے کہ مفسِّر ادا کرتا تھا، "فَيَلْزَمُ فِي الْكَلَامِ اسْتِدْرَاكٌ"، تو اس سے پھر کلام میں استدراک لازم آئے یعنی اگر اس جملے کو ذکر کیا جائے تو اس سے کیا لازم آئے؟ کوئی ایسی چیز ہو جو اس کے مفہوم کو ادا کر رہی ہو، پھر اس جملے کو اگر ہم ساتھ ذکر کریں گے تو پھر اس جملے کا لانا تو حشو اور بیکار ہو جائے گا کیونکہ ایک چیز موجود ہے جو اس کے مفہوم کو ادا کر رہی ہے، لیکن یہاں ایسا نہیں، لہٰذا اس کے ساتھ اس جملے کو ذکر کرنے کی صورت میں استدراک بھی لازم نہیں آتا۔ "وَإِنَّمَا قُدِّرَتِ الْجُمْلَةُ الْفِعْلِيَّةُ لَا الِاسْمِيَّةُ"، اچھا بھئی، "نَعَمْ، قَامَ زَيْدٌ"، "نَعَمْ" کے ساتھ کس کو حذف مانا؟ "قَامَ زَيْدٌ" جملہ فعلیہ کو۔ بھئی، جملہ فعلیہ کو کیوں حذف مانا؟ کہتے ہیں وجہ یہ کہ سوال میں "أَقَامَ زَيْدٌ؟"، وہاں کیا تھا؟ جملہ فعلیہ، تو یہاں بھی کیا محذوف مانا؟ جملہ فعلیہ محذوف مانا تاکہ جواب سوال کے مطابق ہو جائے۔ تو کہتے ہیں: "وَإِنَّمَا قُدِّرَتِ الْجُمْلَةُ الْفِعْلِيَّةُ لَا الِاسْمِيَّةُ"، جملہ فعلیہ کو مقدر مانا گیا نہ کہ اسمیہ کو، "بِأَنْ يُقَالَ"، بھئی، جملہ اسمیہ کو مقدر نہیں مانا گیا، "بِأَنْ يُقَالَ" بایں صورت کہ یوں کہا جاتا: "أَيْ: نَعَمْ زَيْدٌ قَامَ"، یعنی "زَيْدٌ قَامَ" جملہ نہیں محذوف مانا بلکہ "قَامَ زَيْدٌ" مانا، "لِيَكُونَ الْجَوَابُ مُطَابِقًا لِلسُّؤَالِ"، تاکہ جواب جو ہے وہ سوال کے مطابق ہو جائے، "فِي كَوْنِهِ جُمْلَةً فِعْلِيَّةً"، جملہ فعلیہ ہونے میں۔ جواب سوال کے مطابق ہو جائے کس طرح؟ کہ سوال بھی جملہ فعلیہ تھا اور جواب بھی کیا ہو؟ جملہ فعلیہ، تو جب آپ کسی نے کہا: "أَقَامَ زَيْدٌ؟" تو دیکھو یہاں جملہ فعلیہ ہے۔ تو جواب میں میں نے کیا کہا: "نَعَمْ"، تو محذوف کیا ہے؟ "نَعَمْ، قَامَ زَيْدٌ"، جملہ فعلیہ ہی محذوف نکالیں گے تاکہ جواب سوال کے مطابق ہو جائے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا؟ چلیے، بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔