سبق نمبر۔47
وَأَمَّا الْمُضَافُ لِمَعْرِفَةٍ فَيُؤْتَى بِهِ إِذَا تَعَيَّنَ طَرِيقًا لِإِحْضَارِ مَعْنَاهُ أَيْضًا، كَـ «كِتَابِ سِيبَوَيْهِ» وَ«سَفِينَةِ نُوحٍ» عَلَيْهِ السَّلَامُ. أَمَّا إِذَا لَمْ يَتَعَيَّنْ لِذَلِكَ، فَيَكُونُ لِأَغْرَاضٍ أُخْرَى.
تعریف اور تنکیر کا باب چل رہا ہے۔ کس مقام پر معرفہ لایا جائے گا اور کس مقام پر نکرہ، وہ ذکر ہو رہا ہے اور معرفہ لانے کی کئی صورتیں ہیں، تو ہر ایک معرفہ کے لانے میں کیا کیا نقطے ہیں، وہ سب کو علیحدہ علیحدہ بیان کرتے جا رہے ہیں۔
گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا معرف باللام کے بارے میں، معرف باللام کے بارے میں۔
آج مضاف کے بارے میں پڑھیں گے ہم، مضاف بھئی۔ یعنی وہ مضاف ہو معرفہ کی طرف۔ بھئی، یاد رکھیے، جب کسی اسم کی اضافت کی جائے معرفہ کی طرف، تو وہ اسم معرفہ، خود بھی معرفہ بن جاتا ہے۔ غلام کا لفظ نکرہ ہے، لیکن جب اس کی، جب اس کی اضافت کر دی زید کی طرف، غلامُ زیدٍ، تو اب یہ معرفہ بن گیا۔
زید کا غلام۔ بھئی، نکرہ کسے کہتے ہیں؟ جو کسی ذاتِ غیرِ متعین پر دلالت کرتا ہے۔ میں نے غلام کہا، آپ کو کچھ پتا چلا کون سا غلام مراد ہے؟ نہیں، پتا ہی نہیں چلا؛ کیونکہ یہ نکرہ ہے۔ لیکن معرفہ جو ہوتا ہے، وہ کسی متعین ذات پر دلالت کرتا ہے۔
لہٰذا، اب جب میں نے اس کی اضافت معرفہ کی طرف کی اور کہا غلامُ زیدٍ، زید کا غلام، تو دیکھیں، فوراً آپ سمجھ گئے، بھئی، کس کی بات ہو رہی ہے؟ زید کے غلام کی بات ہو رہی ہے، تو اس نے ایک متعین ذات پر دلالت کی، تو یہ کیا بن گیا؟ معرفہ بن گیا۔
یا، یہ تو علم کی طرف اضافت، کسی بھی معرفہ کی طرف اضافت کر دیں، تو وہ نکرہ جو ہوتا ہے، وہ جو مضاف ہے، وہ بھی معرفہ بن جاتا ہے۔ غلامُہٗ، دیکھو ضمیر کی طرف اضافت کر دی، اس کا غلام، یہ بھی اب متعین ذات پر دلالت کر رہا ہے۔
الرجل، اس کی طرف میں نے غلام کی اضافت کی، غلامُ الرجلِ، کیا ترجمہ کریں گے؟ اس ادمی کا غلام۔ جی؟ کسی ادمی کا غلام، یہ ترجمہ غلط ہے، بھئی۔ خاص ادمی کا غلام۔ ہاں، اس اس ترجمہ، الف لام والا ترجمہ کرو بھئی، جو میں نے بتایا ہے، الف لام کسی، کسی چیز سے اشارہ ہوتا ہے، تو الرجل کا، ویسے الرجل کا معنی ہوگا، وہ ادمی، کوئی متعین ادمی ہے، اس کی طرف اشارہ ہو رہا ہے۔
تو غلامُ الرجلِ، کیا ترجمہ کریں گے؟ اس ادمی کا غلام، یہ خاص لفظ کہنے کی ضرورت نہیں ہے، یہ جو آپ اس اشارہ کر رہے ہیں نا، تو اشارہ ہوتا ہی کسی متعین چیز کی طرف ہے، غیر متعین کی طرف نہیں ہوتا اشارہ۔ اس ادمی کا غلام، کوئی متعین ادمی ہے، اس کی طرف اشارہ کیا ہے، سننے والا فوراً سمجھ گیا بھئی کہ اس ادمی کا غلام مراد ہے۔
ترجمہ سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو یاد رکھیے، جب بھی کسی نکرہ کی اضافت معرفہ کی طرف کی جائے، تو وہ جو نکرہ ہوتا ہے، جو مضاف ہوتا ہے، وہ بھی اضافت کے بعد معرفہ بن جاتا ہے۔ یہ تو جب اضافت معرفہ کی طرف کی جائے۔ لیکن اگر اضافت نکرہ کی طرف کی جائے کسی اسم کی، تو وہ نکرہ ہی رہتا ہے۔ غلام کا لفظ نکرہ ہے، اس کی اضافت رجل کی طرف کر دیں، رجل بھی نکرہ ہے، غلامُ رجلٍ، تو اب بھی اضافت کے باوجود غلام کا لفظ اب بھی نکرہ ہے جیسے پہلے نکرہ تھا۔
ہاں، اتنا فرق ہے کہ اب اس کے اندر تخصیص آگئی، کیا آگئی؟ تخصیص۔ تخصیص آگئی، یعنی تخصیص وہ اصطلاحی تخصیص نہیں جو کل پرسوں کے سبق میں آئی تھی بھئی، بلکہ تخصیص سے یہاں مراد یہ ہے کہ اس کے اندر جو احتمالات تھے، وہ کم ہو گئے یا صرف ایک ہی احتمال ہوا، تو اس کے اندر احتمالات کم ہو گئے، یوں کہیے۔ کیا معنی ہے؟ اس کے اندر احتمالات کم ہو گئے، غلام مثلاً دنیا کے اندر فرض کریں 10 لاکھ غلام ہیں، فرض کر لیں۔
تو اب جب میں نے غلام کہا، تو ان سب پر غلام کا یہ لفظ صادق آرہا تھا۔ لیکن ان میں سے فرض کریں 5 لاکھ غلام ہیں مرد مردوں کے، تو 5 لاکھ غلام ہیں عورتوں کے، تو جب میں نے اضافت کر دی رجل کی طرف، غلامُ رجلٍ، تو یہ ہے تو نکرہ ہی اسی طرح؛ کیونکہ نکرہ کی طرف اضافت ہوئی، لیکن البتہ اس کے اندر احتمالات کم ہو گئے، پہلے یہ غلام کا لفظ 10 لاکھ افراد میں سے ہر ایک پر صادق آرہا تھا، اب صرف کتنے پر صادق آرہا ہے؟ 5 لاکھ پر؛ کیونکہ میں نے کہہ دیا مرد کا غلام، تو اس سے عورت کے غلام کیا ہوئے؟ نکل گئے، تو دیکھو، احتمالات اس میں کم ہو گئے، یہ پہلے 10 لاکھ افراد میں سے ہر ایک کا احتمال تھا، شاید یہ مراد ہو، شاید یہ مراد ہو، ہر ایک پر صادق آرہا تھا، لیکن اب صرف 5 لاکھ پر صادق آرہا ہے، تو دیکھو، احتمالات اس میں کم ہو گئے۔ تو یہ ہے یہاں پر تخصیص، بھئی۔
تو معلوم ہوا، جب کسی اسم کی اضافت معرفہ کی طرف کی جائے، تو وہ معرفہ بن جاتا ہے، جبکہ جب کسی اسم کی اضافت اگر نکرہ کی طرف کی جائے، تو وہ نکرہ ہی رہتا ہے، البتہ اس کے اندر تخصیص آجاتی ہے، یعنی احتمالات اس میں کم ہو جاتے ہیں۔
تو اب بات چل رہی ہے اس اسم کی جو مضاف ہو معرفہ کی طرف، اس کو کیوں لایا جاتا ہے، اس کے لانے میں کیا نکات ہوتے ہیں؟ کہتے ہیں: وَأَمَّا الْمُضَافُ لِمَعْرِفَةٍ، اور باقی وہ اسم جو مضاف ہو معرفہ کی طرف، فَيُؤْتَى بِهِ، تو اس کو لایا جاتا ہے، إِذَا تَعَيَّنَ طَرِيقًا لِإِحْضَارِ مَعْنَاهُ، إِذَا تَعَيَّنَ طَرِيقًا، جب وہ متعین ہو بطور ایک طریقے کے، لِإِحْضَارِ مَعْنَاهُ، اس کے معنیٰ کو حاضر کرنے کے لیے، أَيْضًا، یعنی جب وہ بھی متعین ہو بطور ایک طریقے کے، اس کے معنیٰ کو حاضر کرنے کے لیے۔
ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے، بھئی؟ بھئی، پیچھے بھی ایک دو جگہ ذکر ہوا تھا کہ اس میں موصول کی صورت میں معرفہ کو لایا جاتا ہے، کیوں لایا جاتا ہے؟ جب وہ ایک طریقے کے طور پر متعین ہو، اس کے علاوہ اور کوئی صورت ہی نہیں ہے ایک چیز کو ذکر کرنے کی، ایک متعین چیز ذکر کرنا چاہتے ہیں، سامع کے ذہن میں لانا چاہتے ہیں؛ تاکہ سامع کو پتا لگ جائے کہ وہ متعین چیز مراد ہے، تو بعض اوقات اسمِ موصول کے علاوہ اور لانے کی کوئی صورت ہی نہیں کہ سامع کے ذہن میں اس کو حاضر کیا جائے، لایا جائے، تو اس کو اسمِ موصول کی صورت میں لایا جاتا ہے۔
اور اسی طرح، اس میں اشارہ کے اندر بھی انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ بعض اوقات معرفہ کو اسمِ اشارہ کی صورت میں لایا جاتا ہے، اس لیے؛ کیونکہ اس کے معنیٰ کو سامع کے ذہن میں حاضر کرنے کا اور کوئی، اور اس کی کوئی صورت ہی نہیں ہوتی، جب ایک ہی صورت ہے کہ اشارے سے ہی اس کا پتا چل سکتا ہے اور تو کسی طرح پتا چل ہی نہیں سکتا، تو پھر کس لیے، کیا لایا جاتا ہے؟ اسمِ اشارہ۔ اسی طرح اس میں موصول بھی ہے، جب اور کوئی طریقہ ہی نہیں ہوتا، تو پھر کس کو لایا جاتا ہے؟ اسمِ موصول، سمجھ میں آرہی ہے بات؟ اسی طرح اضافت میں بھی ہے، جب یہ بھی بطور ایک طریقے کے متعین ہو، تو پھر اس کے سامع کے ذہن میں ایک چیز کو حاضر کیا جائے، بھئی، تو پھر کس کو لایا جاتا ہے؟ اضافت کو، اس صورت میں اس کو لایا جاتا ہے، یعنی مضاف اس کو کیا جاتا ہے معرفہ کی طرف، صورت سمجھ بھی آرہی ہے کہ نہیں؟
بھئی، بعض اوقات ایک معین چیز کی طرف آپ اشارہ کرنا چاہتے ہیں، اس کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں اور جب معین چیز کے بارے میں بات کر رہے ہیں، ٹھیک ہے، آپ کے ذہن میں تو وہ بات ہے، سامع کو بھی پتا چلنا چاہیے یا نہیں چلنا چاہیے؟ پتا چلنا چاہیے، آپ نے اسی کو، اسی سے تو بات کر رہے ہیں، اس کو بھی تو پتا چلنا چاہیے آپ کس چیز کی بات کر رہے ہیں، کس معین چیز کی؟ اگر اسے پتا نہ چلے، تو آپ کے تو کلام کا مقصد ہی فوت ہو گیا، بات بتلانے کا فائدہ ہی کوئی نہ ہوا، اسے کچھ پتا ہی نہیں چلے گا کہ کون مراد ہے۔ سمجھ میں آئی بات؟
تو لہٰذا، اب آپ الرجل کہتے ہیں، الرجل، اس کا کیا ترجمہ کرتے ہیں؟ وہ ادمی، وہ ادمی۔ تو اب یہ کوئی معین ادمی ہوگا، لیکن اس کا صرف آپ کو نہیں پتا ہونا چاہیے، سننے والے کو بھی پتا ہو، اس کو بات سمجھ میں پھر ہی آئے گی۔ سمجھ میں آئی بات، بھئی؟ آپ کہتے ہیں، وہ ادمی کل میرے گھر آیا تھا، اگر یہ اس کو پتا ہے، تو سمجھ جائے گا فلاں ادمی کی بات ہو رہی ہے، اگر اسے پتا ہی نہیں ہے، اب آپ سارا دن اس کو کہتے رہیں، وہ ادمی میرے گھر آیا تھا، وہ ادمی اس سے میری ملاقات ہوئی تھی، اسے تو کوئی پتا ہی نہیں چلا بات کا، تو آپ کے بات کرنے کا تو مقصد ہی فوت ہو گیا۔
صورت سمجھ میں آگئی؟ تو لہٰذا، وہ جو معرفہ ہوتا ہے، وہ متعین ذات پر دلالت کرتا ہے اور صرف آپ کے نزدیک متعین نہیں ہونی چاہیے، بلکہ جس کو بات سنا رہے ہیں، اس کے نزدیک بھی وہ ذات متعین ہونی چاہیے، اس کو پتا چلنا چاہیے کہ اس سے کس چیز کی بات ہو رہی ہے، کس چیز کی طرف اشارہ ہو رہا ہے، کون سی معین چیز مراد ہے۔
تو پھر بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اس چیز کو سامع کے ذہن، اس متعین چیز کو سامع کے ذہن میں لانے کے لیے اسمِ اشارہ کے علاوہ اور کوئی صورت ہی نہیں ہوتی اور کسی معرفہ سے اس کا پتا ہی نہیں چلے گا، تو اس کو اسمِ اشارہ کی صورت میں لاتے ہیں، بعض اوقات سامع کے ذہن میں اس کو حاضر کرنے کے لیے اسمِ موصول کے علاوہ اور کوئی طریقہ ہی نہیں ہوتا، تو پھر اس کو کس صورت میں لاتے ہیں؟ اسمِ موصول کی صورت میں لاتے ہیں اور جیسے آج آپ نے پڑھا، بعض اوقات ایک چیز کو سامع کے ذہن میں لانے کے لیے مضاف الی المعرفہ کے علاوہ اور کوئی صورت ہی نہیں ہوتی، تو اس کو کس صورت میں لاتے ہیں؟ مضاف الی المعرفہ کی صورت میں لاتے ہیں، جیسے آپ امام سیبویہ کی کتاب کا ذکر کرنا چاہتے ہیں اپنے ساتھی سے، یعنی آپ اس کو یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ بڑی مشکل کتاب ہے۔
اب آپ اس کو صرف یہ کہیں، وہ بہت مشکل کتاب ہے، دیکھو اشارہ ہوا یا نہیں؟ لیکن اس کو کچھ پتا چلا؟ نہیں، آپ کے ذہن میں تو ہے، امام سیبویہ کی کتاب کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں، لیکن اس کو تو کچھ پتا نہیں، ہاں، پہلے ذکر چل رہا تھا اس کا، پھر تو الگ بات ہے، میں وہ صورت نہیں بیان کر رہا، آپ اولاً بات شروع کرتے ہی اس سے ملاقات ہوئی اور ملاقات ہوتے ہی امام سیبویہ کی کتاب کا کوئی ذکر پیچھے نہیں ہوا، اب آپ اس کو صرف یہ کہتے ہیں، بھئی، وہ بڑی مشکل کتاب ہے، تو اس کو کچھ پتا چلے گا؟ آپ کے بات کرنے کا تو مقصد ہی فوت ہو گیا۔
یہ جملہ کہنے کا اس کو تو کوئی فائدہ نہیں ہوا، وہ فوراً پوچھے گا، بھئی، کون سی کتاب کی بات کر رہے ہو؟ تو وہ چیز متعین ذات پر وہ لفظ دلالت کرے، اس کو پتا تو چلے، بھئی، مقصد تو یہ ہوتا ہے کہ دوسرے کو بات، دوسرے سے کی جاتی ہے، اس کو بتلایا جاتا ہے، تو لہٰذا، اب دیکھو، آپ امام سیبویہ کی کتاب کا ذکر اس کے سامنے کرنا چاہتے ہیں، اس کے بارے میں کوئی بات کرنا چاہتے ہیں، تو سامع کے ذہن میں اس کو لانے کا اور کوئی طریقہ ہی نہیں ہے، اب یہاں اضافت ہی کے ساتھ آپ کو ذکر کرنا پڑے گا اور یوں کہیں گے، امام سیبویہ کی کتاب بڑی ہی مشکل ہے۔
دیکھا؟ امام سیبویہ کی کتاب، دیکھو اضافت کے ساتھ آپ ذکر کر رہے ہیں، کتابُ سیبویہ، کتابُ سیبویہ، ہاں، ایک دفعہ جب ذکر ہو جائے، پھر اس کے بعد جس صورت میں بھی لائیں، وہ اور صورتیں بھی پھر بات وہ سمجھتا چلا جائے گا، اب آپ وہ کتاب بھی کہیں گے، اب ایک دفعہ ذکر آگیا تھا، اب سمجھ جائے گا اسی کتاب کی بات ہو رہی ہے جو میں نے جس کا ابھی ذکر آیا تھا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
اسی طرح، اسی طرح آپ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کا ذکر کرنا چاہتے ہیں، تو ابتداءً اور کوئی صورت ہی نہیں ہے سامع کے ذہن میں اس کو لانے کی، لانا ہی کس صورت میں پڑے گا؟ اضافت کی صورت میں اور آپ کو کہنا پڑے گا، سفینۃُ نوحٍ، حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی، بھئی، تو سامع کے ذہن میں اور کوئی صورت ہی نہیں ہے یہاں اس کو حاضر کرنے کی کہ وہ سمجھ جائے کس کی طرف اشارہ ہے، کون سی متعین چیز مراد ہے۔ بات بھی سمجھ میں آرہی ہے کہ مشکل ہے؟
تو یہی بات بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَأَمَّا الْمُضَافُ لِمَعْرِفَةٍ، اور باقی وہ جو اسم، وہ اسم جو مضاف ہو معرفہ کی طرف، فَيُؤْتَى بِهِ، تو اس کو بھی لایا جاتا ہے، إِذَا تَعَيَّنَ، فَيُؤْتَى بِهِ، تو اس کو لایا جاتا ہے، إِذَا تَعَيَّنَ طَرِيقًا لِإِحْضَارِ مَعْنَاهُ أَيْضًا، جب وہ بھی متعین ہو بطور، یعنی مضاف الی المعرفہ ہی متعین ہو بطور ایک طریقے کے لِإِحْضَارِ مَعْنَاهُ، اس کے معنیٰ کو حاضر کرنے کے لیے۔
تو یہ أَيْضًا کا تعلق تعین سے ہے، جب وہ بھی متعین ہو، کون؟ مضاف الی المعرفہ، جب مضاف، جب وہ بھی متعین ہو بطور ایک طریقے کے لِإِحْضَارِ مَعْنَاهُ، اس کے معنیٰ کو حاضر کرنے کے لیے، كَـ «كِتَابِ سِيبَوَيْهِ»، جیسے کہ امام سیبویہ کی کتاب، وَ«سَفِينَةِ نُوحٍ» عَلَيْهِ السَّلَامُ، حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی۔
أَمَّا إِذَا لَمْ يَتَعَيَّنْ لِذَلِك، اور باقی جب وہ اس کے لیے متعین نہ ہو، یعنی لِإِحْضَارِ مَعْنَاهُ، اس کے معنیٰ کو حاضر کرنے کے لیے، فَيَكُونُ لِأَغْرَاضٍ أُخْرَى، تو پھر یہ دوسری غرضوں کے لیے ہوگا۔
بھئی، اوپر ایک صورت ذکر کر دی، مضاف الی المعرفہ کو کیوں لایا جاتا ہے؟ جب وہ متعین ہو بطور ایک طریقے کے، اور کوئی صورت ہی نہیں ہے، اور کوئی طریقہ ہی نہیں ہے، تو لایا ہی کس صورت میں جائے گا؟ مضاف الی المعرفہ کی صورت میں اس معرفہ کو لایا جائے گا۔
ہاں، اگر اور طریقے بھی ہیں وہاں، ایک جگہ، ایک مقام ایسا ہے کہ اضافت کے بغیر اسمِ اشارہ یا ضمیر وغیرہ سے بھی کام چل سکتا ہے، وہ معرفہ ذکر ہو سکتا ہے، سننا، سننے والا اس کو سمجھ جائے گا، لیکن آپ پھر بھی کس صورت میں لاتے ہیں؟ اضافت ہی کی صورت میں، بھئی، اور طریقے بھی تھے، لیکن آپ پھر بھی کون سا طریقہ استعمال کرتے ہیں؟ اضافت والا، تو پھر وہ اور غرضوں کی وجہ سے ہوگا جو آگے اب وہ بیان کرنے لگے ہیں، صورت سمجھ میں آگئی؟
کہتے ہیں: أَمَّا إِذَا لَمْ يَتَعَيَّنْ لِذَلِكَ، اور باقی جب وہ اس کے لیے متعین نہ ہو، یعنی سامع کے ذہن میں معنیٰ کو حاضر کرنے کے لیے یہ مضاف الی المعرفہ متعین نہ ہو، فَيَكُونُ لِأَغْرَاضٍ أُخْرَى، تو پھر یہ دوسری غرضوں کے لیے ہوگا، كَتَعَذُّرِ التَّعْدَادِ أَوْ تَعَسُّرِهِ، جیسے کہ تعداد کا ممکن نہ ہونا یا أَوْ تَعَسُّرِهِ یا اس کا مشکل ہونا۔ تعذر کا معنیٰ ہے ممکن نہ ہونا، كَتَعَذُّرِ التَّعْدَادِ، تعداد کا ممکن، یعنی شمار کرنا ممکن نہ ہو۔
ایک مقام ایسا ہے کہ وہاں پر اگر آپ ان چیزوں کو شمار کرنا شروع کریں، تو آپ ان کو شمار کر ہی نہیں سکتے، آپ کے بس سے ہی باہر ہے، تو اس موقع پر پھر اضافت کو استعمال کیا جاتا ہے، جیسے آپ کہتے ہیں، اجمع اھل الحق علی کذا، اجماع کیا ہے اہل حق نے اس بات پر، کوئی مسئلہ ہے مثلاً آپ ذکر کرتے ہیں اور آپ کیا کہتے ہیں؟ تمام اہل حق نے اس بات پر اجماع کیا ہے، سب کے نزدیک یہ مسئلہ اسی طرح ہے۔
اب آپ نے کہا، اھل الحق، حق والے، اہل مضاف، الحق مضاف الیہ، تو آپ نے اضافت کے ساتھ مسند الیہ کو ذکر کیا اور وجہ اس کی کیا؟ وجہ اس کی یہ کہ اہل، تمام اہل حق، مثلاً زید بھی ہے، عمر بھی ہے، بکر بھی ہے، خالد بھی ہے وغیرہ، وہ اتنے زیادہ ہیں کہ آپ ان سب کو شمار کر ہی نہیں سکتے، بلکہ تمام اہل حق کو تو آپ جانتے بھی نہیں ہیں، بھئی۔
چند ایک کو جانتے ہوں گے، باقی سب کو پوری طرح جانتے بھی نہیں، تو لہٰذا، سب کو شمار کرنا، سب کو، اب سب کے نام ذکر کیے جائیں باقاعدہ عبارت کے اندر، یہ ممکن ہی نہیں ہے، بھئی، کیونکہ آپ سب کو جانتے ہی نہیں، تو دیکھو، اضافت نے آپ کو سب کے ذکر سے بے نیاز کر دیا، اب سب کے ذکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں، جب آپ نے کہہ دیا، اجمع اھل الحق علی کذا، تمام اہل حق نے اس بات پر اجماع کیا ہے، تو سارے اس کے اندر آگئے، لیکن اس کے بجائے اگر آپ ایک ایک کو ذکر کرتے، اولاً تو آپ سب کو جانتے نہیں ہیں اور کچھ جن کو آپ جانتے بھی ہیں، ان کی بھی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اس کا ذکر کرنا مشکل ہو جاتا آپ کے لیے۔
تو یہ پہلی مثال وہ ہے جس میں شمار کرنا ممکن ہی نہیں ہے؛ کیونکہ آپ سب کو جانتے ہی نہیں ہیں یا اتنے زیادہ ہیں کہ سب کو ذکر نہیں کیا جا سکتا۔ وَأَهْلُ الْبَلَدِ كِرَامٌ
اہل البلد، اس شہر والے کرام کریم کی جمع ہے معظم ہیں یا یوں کہیں سخی ہیں۔ اس شہر والے سخی ہیں بھئی۔ البلد پر الف لام آیا بھئی، گزشتہ سبق میں آپ نے الف لام کی قسمیں پڑھی تھیں اس الف لام حرفی جو ہے اس کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے تو البلد کے لیے بھی کسی متعین شہر کی طرف اشارہ ہے تو اہل البلد کیا ترجمہ ہوگا اہل البلد کا؟ شہر والے؟ نہیں صرف شہر والے نہیں، اہل البلد اس شہر والے، کوئی متعین شہر ہے بھئی۔
اہل البلد اس شہر والے کرام، وہ سخی ہیں بھئی سخی ہیں۔ اب دیکھیے یہ دوسری مثال ہے تعسر کی بھئی۔ تعذر کا معنی تھا ناممکن ہونا اور تعسر کا معنی ہے مشکل ہونا۔ تو اب شہر والے وہ آپ نے کہا اس شہر والے سخی ہیں۔ اس کے بجائے اگر آپ ایک ایک کا نام ذکر کرتے تو ممکن تو تھا کیونکہ شہر کے لوگ محدود ہیں، ان کی ایک حد ہے بھئی لیکن ممکن تو تھا لیکن مشکل ہے بھئی تو اہل البلد جب آپ نے کہا اس نے ایک ایک کے ذکر سے آپ کو بے نیاز کر دیا، اب ایک ایک کا نام ذکر کرنے کی ضرورت نہیں بھئی، تو یہ فائدہ اضافت نے دیا بھئی اضافت نے۔
بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں کتعذر التعدادی او تعسرہ، جیسے کہ شمار کرنے کا، شمار کرنا ناممکن ہونا او تعسرہ یا اس کا مشکل ہونا، نحو اجمع اہل الحق علی کذا و اہل البلد کرام والخروج من تبعۃ تقديم البعض علی البعض۔ تبعۃ بھئی، تبعۃ کہتے ہیں ذمہ داری کو بھئی، ذمہ داری اور نتیجہ۔ تبعۃ کا کیا معنی ہے؟ ذمہ داری اور نتیجہ۔
دوسرا نقطہ کیا ہو سکتا ہے؟ والخروج من تبعۃ تقديم البعض علی البعض اور نکلنا تقديم کا معنی آگے کرنا، مقدم کرنا، بعض کو بعض پر مقدم کرنے کی ذمہ داری سے نکلنا بھئی۔ بعض کو بعض پر مقدم کرنے کی ذمہ داری سے نکلنا، نحو حضر امراء الجند، اس لشکر کے جو امیر ہیں وہ حاضر ہو گئے۔ امراء جمع امیر کی، سالار بھئی۔ جند لشکر۔ اس لشکر کے امیر جو ہیں وہ حاضر ہو گئے، وہ آ گئے۔
اب دیکھیے امراء الجند، امراء مضاف، الجند مضاف علیہ۔ تو یہاں پر مسند علیہ کو اضافت کے ساتھ ذکر کیا گیا۔ اگرچہ یہاں پر مثلاً لشکر کے چھ حصے ہیں یا اٹھ حصے ہیں تو چھ اس کے امیر ہوں گے، اگر اٹھ حصے ہیں تو اٹھ امیر ہوں گے، ہر حصے پر ایک امیر مقرر ہے۔ تو اب چھ یا اٹھ کو ذکر کرنا تو کوئی مشکل کام نہیں تھا، لیکن پھر بھی اگر آپ ذکر کرنے بیٹھتے تو آپ پر ذمہ داری پڑ جاتی، کسی کو آپ کو مقدم ذکر کرنا پڑتا، سارے نام تو اکٹھے ذکر نہیں کر سکتے، کسی نام کو کیا کرنا پڑتا؟ مقدم کرنا پڑتا، باقیوں دوسرے کو اس سے مؤخر کرنا پڑتا، تو اس صورت میں یہ، یہ تقديم کی ذمہ داری آپ پر آ جاتی اور آپ اس ذمہ داری سے نکلنا چاہتے ہیں، آپ نہیں چاہتے یہ ذمہ داری مجھ پر پڑے تو آپ نے کیا کہہ دیا؟ باقاعدہ ایک ایک کا نام نہیں لیا بلکہ اضافت کے ساتھ سب کو اکٹھا ہی ذکر کر دیا، حضر امراء الجند، اس لشکر کے امیر حاضر ہو گئے۔
اس کے بجائے اگر آپ یہ کہتے حضر زيد وبكر وعمرو وخالد، تو دیکھو ایک لفظ کو مقدم کرنا پڑتا، ایک کے نام کو، باقی دوسرے کو اس سے مؤخر کرنا پڑتا، تو اس صورت میں بعضوں کی ناراضگی کا خطرہ تھا، ہو سکتا ہے اس لشکر کے امیروں میں سے بعض اس بات کو ناپسند کرتے کہ ہمارے نام کو پہلے کیوں نہیں ذکر کیا، بعد میں کیوں ذکر کیا یا ہمارے نام کو فلاں کے نام کے بعد کیوں ذکر کیا ہے بھئی۔ تو اس صورت میں کیا تھا؟ ناراضگی کا احتمال تھا، اس لیے آپ نے اس طریقے ہی کو چھوڑ کر کون سا طریقہ اختیار کر لیا؟ اضافت کا۔
تو ایک وجہ تو یہ کہ آپ اس ذمہ داری سے کیوں نکلنا چاہتے ہیں؟ کیونکہ اس میں بعد کی ناراضگی کا خطرہ ہے اور دوسری وجہ یہ کہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ خود آپ کے لیے بھی فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا، کس کے نام کو مقدم کریں اور کس کے نام کو مؤخر کریں بھئی۔ تو اس لیے آپ نے اضافت کا طریقہ اختیار کیا اور اس ذمہ داری سے ہی نکل گئے۔ یہ معنی ہے والخروج من تبعۃ تقديم البعض علی البعض اور نکلنا بعض کو بعض پر مقدم کرنے کی ذمہ داری سے نحو حضر امراء الجند۔
والتعظيم للمضاف نحو كتاب السلطان حضر، او للمضاف اليه نحو هذا خادمي، او غيرهما نحو اخو الوزير عندي۔ بھئی کبھی اضافت جو ہے تعظیم کے لیے بھی آتی ہے۔ کبھی اضافت کس لیے آتی ہے؟ تعظیم کے لیے آتی ہے، عظمت بتلانے کے لیے، بڑائی بتلانے کے لیے۔ پھر ایک، ایک ہے مضاف، ایک ہے مضاف علیہ۔ تو کبھی کبھار اضافت کے ذریعے مضاف کی تعظیم مقصود ہوگی، مضاف علیہ کی نہیں بلکہ مضاف کی، اور کبھی اضافت کے ذریعے مضاف علیہ کی تعظیم مقصود ہوگی، مضاف کی تعظیم مقصود نہیں، اور کبھی نہ مضاف کی تعظیم مقصود ہوگی نہ مضاف علیہ کی بلکہ ان کے علاوہ کسی اور کی تعظیم مقصود ہوگی بھئی۔
صورتیں سمجھ میں آ رہی ہیں بھئی؟ ایک ہے مضاف، ایک ہے مضاف علیہ اور اضافت کا ایک نقطہ آپ نے کیا پڑھا کہ کس لیے آتی ہے؟ تعظیم کے لیے۔ تو یہ تعظیم مضاف کی بھی ہو سکتی ہے، مضاف علیہ کی بھی ہو سکتی ہے اور ان کے علاوہ کی بھی۔ جیسے اس کی مثالیں انہوں نے دیں، مثلاً كتاب السلطان حضر، کتاب جیسے کتاب کو عربی میں کہتے ہیں اسی طرح خط کو بھی کہتے ہیں۔ آپ نے فقہ کے اندر بھی پڑھا ہوگا كتاب القاضی الى القاضی، وہاں بھی کتاب سے کیا مراد ہے؟ خط، ایک قاضی دوسرے قاضی کو خط لکھتا ہے اور گواہی کو منتقل کرتا ہے ایک جگہ سے دوسری۔ گواہ اس کے پاس آئے تھے اور اس کو پھر یہ بھیجتا ہے گواہی کے بارے میں بھئی، تو وہ ہے كتاب القاضی الى القاضی۔
تو كتاب السلطان، بادشاہ کا خط حضر، حاضر ہو گیا یعنی آ گیا، پہنچ گیا۔ بادشاہ کا خط آ گیا ہے۔ اب دیکھیے یہاں کتاب مضاف ہے، السلطان مضاف علیہ۔ تو یہاں پر مضاف یعنی خط جو کتاب ہے، اس کی عظمت بتلانا مقصد ہے کہ یہ جو خط آیا ہے، یہ کسی عام آدمی کا نہیں ہے بلکہ کس کا ہے؟ بادشاہ کا ہے بھئی۔ تو بادشاہ کی عظمت نہیں ہے یہاں پر بیان کرنا بلکہ کس کی عظمت بیان کرنا مقصد ہے؟ بادشاہ کے خط کی، اور خط کا لفظ کیا واقع ہو رہا ہے یہاں پر؟ مضاف، تو یہاں مضاف کی تعظیم ہے۔
اور کبھی مضاف علیہ کی تعظیم ہوگی، جیسے مثلاً بھئی آپ کہتے ہیں کسی سے هذا خادمي یا کہتے ہیں هذا حاجبي۔ هذا حاجبي، حاجب کہتے ہیں عربی میں سیکرٹری کو بھئی، سیکرٹری۔ دربان کو بھی کہتے ہیں اور سیکرٹری۔ تو سیکرٹری کے لیے عام استعمال ہوتا ہے یہ لفظ بھئی۔ اب دیکھیے آپ نے سادہ سا لباس پہنا ہوا ہے، ایک جگہ پر موجود ہیں تو وہ لوگ آپ کو توجہ ہی نہیں دے رہے کہ یہ تو شخص کوئی معمولی سا ہی آدمی لگتا ہے۔ ان کے نزدیک عزت کا معیار صرف مال و دولت ہے اور بظاہر آپ پر زیادہ مالدار ہونے کے آثار نہیں ہیں تو وہ آپ کو توجہ ہی نہیں دے رہے۔
اچانک وہاں ایک گاڑی آ کر رکی، بڑی قیمتی قسم کی گاڑی اور اس میں سے ایک آدمی اترا اور آ کر آپ کے پاس باادب کھڑا ہو گیا۔ اب آپ ان لوگوں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں هذا حاجبي، یہ میرا سیکرٹری ہے۔ یہ میرا سیکرٹری ہے۔ اب یعنی بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ تم مجھے معمولی آدمی نہ سمجھو، میرے تو مال و دولت کا یہ عالم ہے کہ میرے سیکرٹری بھی اتنی قیمتی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں تو میری اپنی کتنی دولت ہوگی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اللہ آپ سب کو وسعتِ حلال رزق نصیب فرمائے بھئی۔
آمین۔
تو اب آپ نے جو کہا هذا حاجبي، یہ میرا سیکرٹری ہے، کس کی عظمت بتلانا چاہتے ہیں؟ اپنی، متکلم کیا کرنا چاہتا ہے؟ اپنی عظمت بیان کر رہا ہے اور حاجبي، حاجب مضاف، یا ضمیر متکلم کی مضاف علیہ، تو کس کی، مضاف کی تعظیم مقصود ہے یا مضاف علیہ کی؟ مضاف علیہ کی تعظیم یہاں مقصود ہے۔
یا بعض اوقات ان کے علاوہ، نہ مضاف کی تعظیم مقصود ہوتی ہے نہ مضاف علیہ کی بلکہ ان کے، بلکہ ان کے علاوہ کی تعظیم مقصود ہوتی ہے۔ مثلاً آپ کسی شخص سے بات کرتے ہیں اور اسے کہتے ہیں اخو الوزير عندي، وزیر کا بھئی عندي، میرے پاس ہے۔ وزیر کا بھئی میرے پاس ہے۔ اب دیکھیے اخو، اخ مضاف، الوزير مضاف علیہ، اس وزیر کا، ہاں یوں ترجمہ کریں، اس وزیر کا بھئی عندي میرے پاس ہے۔
تو اب اخ ہوا مضاف، الوزير مضاف علیہ۔ تو یہاں نہ مضاف کی تعظیم مقصود، نہ مضاف علیہ اس وزیر کی تعظیم مقصود بلکہ آپ اپنی تعظیم، اپنی عظمت بیان کر رہے ہیں کہ میں تو ایسا آدمی ہوں، اتنے بڑے بڑے لوگوں سے میرا تعلق ہے کہ وزیروں کے بھئی وغیرہ بھی میرے پاس آتے رہتے ہیں بھئی۔ تو اب دیکھیے اخو الوزير، اخ کی تعظیم مقصود ہے جو مضاف ہے؟ نہیں، الوزير جو مضاف علیہ ہے اس کی تعظیم مقصود ہے؟ وہ بھی مقصود نہیں بلکہ عندي، یہ جو یا متکلم کی ہے، متکلم اپنی عظمت بیان کر رہا ہے، تو دیکھیے یہاں نہ مضاف کی تعظیم مقصود ہے نہ مضاف علیہ کی بلکہ اس کے علاوہ کی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اس پر ایک اشکال آپ کے ذہن میں آئے گا کہ عندي، عند مضاف، یا ضمیر مضاف علیہ، تو پھر بھی مضاف علیہ کی تعظیم آ گئی۔ آپ نے تو ہمیں کیا کہا؟ مثال کس کی ذکر کر رہے ہیں؟ جس میں نہ مضاف کی تعظیم ہو نہ مضاف علیہ کی، اور عندي میں تو یا ضمیر مضاف علیہ ہے، تو جواب یہ کہ تعظیم کس کے ذریعے مقصود ہے؟ عندي کے لفظ کے ذریعے یا اخو الوزير کے لفظ کے ذریعے؟ اخو الوزير کے لفظ کے ذریعے تعظیم، اس کو تعظیم کے لیے لایا گیا ہے، یہاں یہ اضافت تعظیم کے لیے ہے، کون سی اضافت؟ اخو الوزير، اور ان میں سے، ان دونوں میں سے نہ مضاف کی تعظیم، یہ والے جو مضاف مضاف علیہ ہیں، ان میں سے کسی کی تعظیم مقصود نہیں بلکہ ان کے علاوہ کی، کہنے کا یہ مطلب ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
جس اضافت کو تعظیم کے لیے لایا گیا، اس کے نہ مضاف کی تعظیم مقصود ہے نہ مضاف علیہ کی بلکہ ان کے علاوہ بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں پر جو اضافت آئی وہ مبتدا والی اضافت ہے، وہ تعظیم کے لیے ہے، اور جس کی تعظیم کے لیے ہے اس کا ذکر خبر میں آ رہا ہے بھئی، چاہے اضافت ہی کی صورت میں کیوں نہ ہو۔
والتعظيم للمضاف، اور تعظیم کے لیے ہوگا، مضاف کی تعظیم کے لیے، نحو كتاب السلطان حضر، بادشاہ کا خط آ گیا ہے، او للمضاف اليه یا مضاف علیہ کی تعظیم کے لیے ہوگا، نحو هذا خادمي، یہ میرا خادم ہے۔ آپ نے کہا یہ میرا خادم ہے، اپنی عظمت بتلانا مقصد ہے کہ میں مالدار آدمی ہوں، میرے خادم بھی ہیں۔ او غيرهما یا ان دونوں کے علاوہ کی تعظیم کے لیے ہوگی اضافت، یعنی نہ مضاف کی تعظیم نہ مضاف علیہ بلکہ ان کے علاوہ کی، نحو اخو الوزير عندي، جیسے اس وزیر کا بھئی عندي میرے پاس ہے۔
والتحقير، اور کبھی کبھار اضافت تحقیر کے لیے ہوگی بھئی، اس کے لانے میں غرض اور نقطہ کیا ہوگا؟ تحقیر، یعنی تحقیر کے لیے، یعنی یہ تعظیم کی ضد ہے بھئی، عظمت نہیں بتلانا مقصد بلکہ یہاں پر اس کا کیا بتلانا مقصد ہے؟ تحقیر مقصود ہے، کسی کی حقارت بتلانا بھئی۔
اب اس میں بھی وہی تینوں صورتیں، یا تو تحقیر مضاف کی ہوگی یا مضاف علیہ کی ہوگی یا ان دونوں کے علاوہ۔ مثلاً بھئی ایک آدمی ہے اور وہ بڑی قیمتی گاڑی سے اترا بھئی، سارے لوگ اس کو دیکھ کر متاثر ہیں کہ بڑا مالدار آدمی ہے بھئی، آپ کہتے ہیں هذا ابن اللص، هذا ابن اللص، یہ تو اس چور کا بیٹا ہے، تم اس کو بڑا آدمی نہ سمجھنا اگر مال ہے بلکہ یہ کیا ہے اس چور کا بیٹا ہے۔ اب ابن اللص، ابن مضاف، اللص مضاف علیہ، تو یہاں پر کس کی تحقیر مقصود ہے؟ اس چور کی یا اس کے بیٹا جو اس وقت حاضر ہے؟ اس کا بیٹا جو اس وقت ہے اس کی تحقیر کے لیے آپ یہ اضافت لے کر آئے ہیں، اور تو ابن کی تحقیر کے لیے اور وہ مضاف ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ لص عربی میں چور کو کہتے ہیں۔
تو اس میں تو مضاف کی تحقیر تھی، کبھی مضاف علیہ کی تحقیر ہوگی۔ مثلاً نحو اللص رفيق هذا، اللص رفيق چور اس کا ساتھی ہے، آپ ایک آدمی کے بارے میں دوسروں کو کیا بتلاتے ہیں کہ چور اس کا ساتھی ہے، تو یہاں پر رفيق هذا، رفیق مضاف، هذا مضاف علیہ، تو یہاں جو مضاف علیہ ہے جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا، اس کی تحقیر مقصود ہے کہ یہ ایسا آدمی ہے کہ اس کے، اس کا تعلق اور دوستی کن لوگوں کے ساتھ ہے؟ ان جیسے برے لوگوں کے ساتھ اس کا تعلق ہے، تو رفيق هذا، کس کی تحقیر ہے مضاف کی یا مضاف علیہ کی؟ مضاف علیہ کی۔
او غيرهما یا ان دونوں کے علاوہ کے لیے، نحو اخو اللص عند عمرو، اخو اللص عند عمرو، اس چور کا بھئی عند عمرو، عمرو کے پاس ہے۔ اس چور کا بھئی عمرو کے پاس ہے۔ اب یہاں پر عمرو کی تحقیر مقصود ہے، نہ اخ کی تحقیر، نہ اللص جو مضاف علیہ ہے اس کی بھی تحقیر مقصود نہیں بلکہ ان کے علاوہ جو عمرو کا ذکر آیا اس کی تحقیر مقصود ہے جو نہ مضاف ہے اور نہ مضاف علیہ بھئی۔ اسی پچھلی مثال عند کے لیے تو مضاف علیہ ہے لیکن وہ مقصود یہاں نہیں ہے۔ یعنی آپ بتلانا یہ چاہتے ہیں عمرو اس قسم کا آدمی ہے کہ اس کے پاس اس طرح کے برے لوگوں کا آنا جانا ہے بھئی، تو اس کی تحقیر کے لیے کہا۔
وللاختصار لضيق المقام، اور غرض جیسے کہ اختصار مقام کے تنگ ہونے کی وجہ سے، کبھی اضافت کے لانے میں غرض کیا ہوگی؟ اختصار مقصود ہوگا کہ بات مختصر ہو جائے، لضيق المقام کیونکہ وہ مقام کس قسم کا ہے؟ مقام تنگ ہے وہاں گنجائش ہی نہیں، جیسے نحو مثال کے طور پر ہوای مع الركب اليمانيين مصعد، جنيب وجثماني بمكۃ موثق۔ ہوای، یہ ہے مقامِ استشهاد، ہوای، یا متکلم کی ہے، ہوا مضاف، یا ضمیر مضاف علیہ، اس اضافت کو یہاں پر ذکر کیا گیا اختصار کے طور پر تاکہ بات کیا ہو جائے؟ مختصر ہو جائے۔
کیوں؟ مختصر کیوں کرنا مقصد ہے بات کو؟ کہتے ہیں وجہ یہ کہ مقام تنگ ہے۔ وجہ یہ کہ یہ شاعر یہ شعر غم، پریشانی اور دکھ کی حالت میں کہہ رہا ہے اور دکھ اور پریشانی کی حالت میں انسان کیا چاہتا ہے کہ لمبی بات کرے یا مختصر بات کرے؟ مختصر بات کرنا چاہتا ہے۔ نیز اس لیے بھی اضافت کی صورت میں لایا گیا اس کو، کیونکہ اگر اضافت کے بجائے دوسرا طریقہ اختیار کیا جاتا تو پھر اس صورت میں شعر کا وزن برقرار نہ رہتا، حالانکہ شعر میں تو ایک حرف بھی کم زیادہ ہو جائے تو اس کا سارا وزن خراب ہو جاتا ہے۔
تو مقامِ استشهاد کیا ہے؟ ہوای، جی شعر کا ترجمہ سمجھ لیں۔ ہوای، ہوا خواہش کو کہتے ہیں، چاہت کو، تو یہاں اور یہ مصدر ہے اور آپ نے پڑھا ہے کہ مصدر کبھی اسم فاعل کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی اسم مفعول کے معنی میں ہوتا ہے۔ بھئی آپ سنتے رہتے ہوں گے، یہ مصدر مبنی للفاعل ہے، اور کبھی سنتے ہوں گے یہ مصدر مبنی للمفعول ہے، کیا معنی ہوتا ہے مصدر مبنی للفاعل کا؟ ہاں، جس سے بھی آپ پوچھیں گے یہ رائج غلطیوں میں سے ہے ہمارے ہاں، اکثر اکثر آپ کو یہی بتائیں گے۔
اگر آپ اسے کہیں یہ لکھا ہوا ہے یہ مصدر مبنی للفعل ہے۔ کیا معنیٰ؟ وہ کہے گا یہ مصدر اسم فاعل کے معنیٰ میں ہے، یعنی عدلٌ عادلٌ کے معنیٰ میں ہے۔
اور اسی طرح اگر لکھا ہو یہ مصدر مبنی للمفعول ہے، اس کا کیا معنیٰ آپ پوچھیں؟ تو جواب ملے گا کیونکہ یہ مصدر کس معنیٰ میں ہے؟ اسم مفعول، یعنی عدلٌ بمعنیٰ معدولٌ کے ہے، یا ضربٌ بمعنیٰ مضروبٌ کے ہے۔
حالانکہ یہ معنیٰ نہیں، مصدر مبنی للفعل کا معنیٰ یہ ہے کہ یہ مصدر معروف ہے، اور مصدر مبنی للمفعول کا معنیٰ یہ ہے کہ یہ مصدر مجہول ہے۔ بھئی آپ فعل پڑھتے ہیں یا نہیں؟ بعض فعل معروف ہوتے ہیں، بعض مجہول۔ ضربَ کیا ہے؟ فعل معروف۔ یضربُ کیا ہے؟ فعل معروف۔ اور ضربَ کیا ہے؟ فعل مجہول۔ یضربُ کیا ہے؟ فعل مجہول۔
تو جس طرح فعل معروف اور مجہول آتا ہے، اسی طرح مصدر بھی معروف بھی آتا ہے اور مجہول بھی۔ ضربٌ، ضربٌ اگر یہ مصدر معروف ہو تو اس کا معنیٰ ہے پٹائی کرنا۔ ضربٌ کا کیا معنیٰ؟ پٹائی کرنا۔ اور یاد رکھیے عربی میں مصدر مجہول کا کوئی الگ وزن نہیں، وہی استعمال وہی مصدر کبھی معروف معنیٰ میں استعمال ہوگا اور کبھی مجہول معنیٰ میں۔ تو ضربٌ اگر مصدر معروف ہو تو پھر اس کا معنیٰ ہوگا پٹائی کرنا، اور یہی ضربٌ اگر مصدر مجہول ہو یعنی مبنی للمفعول ہو تو اس کا معنیٰ ہوگا پٹائی کیے جانا۔ یعنی یوں آسان لفظوں میں کہوں پٹائی ہونا۔ کیا معنیٰ؟ پٹائی ہونا، پٹائی کیے جانا۔
شربٌ، شربٌ کا معنیٰ کیا ہے؟ اگر مصدر معروف ہو تو اس کا معنیٰ ہے پینا، اور اگر یہی مصدر مجہول ہو تو اس کا کیا معنیٰ ہے؟ پیا جانا، پانی پیا جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ پیا جانا۔
تو یہ ان کا مصدر معروف اور مصدر مجہول بھئی، اور عربی میں ان کا کوئی الگ وزن نہیں۔ جو معروف مصدر کا وزن وہی مجہول مصدر کا بھی وزن۔ یہی وجہ ہے، یہی نقطہ ہے کہ آپ گردانوں میں دو دفعہ مصدر پڑھتے ہیں صرفِ صغیر میں۔ صرفِ صغیر یاد کی ہے یا نہیں آپ لوگوں نے؟ دیکھیے، وہاں پر ہر گردان سے صرف ایک ایک صیغہ آتا ہے۔ پوری ماضی میں سے صرف پہلا صیغہ لیا ضربَ۔ گردان کس طرح تھی؟ ضربَ یضربُ ضرباً فهو ضاربٌ وضربَ یضربُ ضرباً فذاک مضروبٌ۔ اب ضربَ پوری ماضی کے 14 صیغوں میں سے صرف ایک صیغہ لیا۔ یضربُ مضارع معروف 14 صیغوں میں سے صرف ایک لیا۔ ضرباً مصدر ایک ساتھ ذکر کر دیا اور یہ منصوب کیوں ہوتا ہے؟ کیونکہ یہ مفعول مطلق واقع ہو رہا ہے۔ وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنیٰ میں ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفعول مطلق، ضربتُ ضرباً۔ تو یہ اس لیے اس کو منصوب پڑھتے ہیں۔
تو یہ ایک دفعہ ضرباً ذکر ہو گیا، آگے فهو ضاربٌ۔ اس کے بعد وضربَ، دیکھو مجہول گردان میں سے صرف ایک صیغہ لیا گیا ماضی میں سے، ویضربُ۔ ضربَ یضربُ، دیکھو یہاں مضارع مجہول میں سے بھی صرف ایک صیغہ لیا گیا، آگے پھر کیا ہے؟ ضرباً۔ یہ ضرباً دوبارہ کیوں ذکر کیا گیا بھئی؟ سب گردانوں میں سے ایک ایک صیغہ آ رہا ہے تو یہ مصدر کو دوبارہ لانے کی وجہ کیا ہے؟ وجہ یہی بات جو میں نے ابھی بیان کی۔ اس نقطے کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ وہ جو پہلے مصدر ضرباً گزرا تھا وہ مصدر معروف تھا، معروف صیغوں کے بعد آیا تھا۔ یہ مصدر مجہول ہے کہ مجہول کے صیغوں کے بعد آ رہا ہے اور دونوں کا وزن ایک ہی ہے، بتانا یہ ہے کہ عربی میں معروف اور مجہول مصدروں کا وزن کیا ہوتا ہے؟ ایک ہی ہوتا ہے، ایک ہی مصدر معروف کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے اور مجہول کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو مصدر مبنی للفعل آئے عبارت میں تو اس کا کیا معنیٰ ہوگا؟ یہ مصدر معروف ہے۔ اور مصدرٌ مبنیٌ للمفعولِ آئے عبارت میں تو اس کا کیا معنیٰ ہوگا؟ مصدر مجہول ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنیٰ نہ کرنا کہ یہ مصدر اسم فاعل یا اسم مفعول کے معنیٰ میں ہے، اگرچہ مشہور اب یہی ہے بھئی۔
چنانچہ اب فعل کے آگے بھی بعض اوقات پڑھیں گے، فعل کے آگے لکھا ہوتا ہے مبنیٌ للفاعلِ یا لکھا ہوتا ہے مبنیٌ للمفعولِ۔ اب فعل اسم فاعل یا اسم مفعول کے معنیٰ میں یہ تو یہاں تو بات ہی نہیں بنتی بھئی۔ وہی بات، فعل کے آگے اگر مبنی للفاعل لکھا ہو، بتانے والا بتانا یہ چاہتا ہے کہ یہ معروف کا فعل پڑھنا، مجہول نہ پڑھنا اس کو۔ اور اگر فعل کے آگے کیا لکھا ہو؟ مبنی للمفعول، تو پھر سمجھ جائیں کہ یہ کون سا صیغہ پڑھنا ہے؟ مجہول کا پڑھنا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو اب دیکھیے ہوایَ، ہوایَ۔ ہوا مضاف، یا ضمیر مضاف الیہ، اور ہوا مصدر ہے، ہوا مصدر۔ اور مصدر آپ نے پڑھا ہے کبھی معروف ہوتا ہے اور کبھی مجہول ہوتا ہے، اور پھر یہ مصدر کبھی اسم فاعل کے معنیٰ میں ہوتا ہے اور کبھی اسم مفعول۔ اسم فاعل کے معنیٰ میں کون سا مصدر ہوگا؟ مصدر معروف، اور اسم مفعول کے معنیٰ میں کون سا ہو سکتا ہے؟ مصدر مجہول۔ تو مصدر مبنی للفعل کا یہ معنیٰ ہے کہ یہ مصدر معروف ہے۔ کیا معنیٰ؟ آگے یہ اسم فاعل کے معنیٰ میں ہے یا نہیں وہ الگ بات ہے، کبھی ہوگا، کبھی نہیں، اور کہا جائے یہ مصدر مبنی للمفعول ہے، کیا معنیٰ؟ یہ مصدر مجہول ہے، بس اتنا بتا دیا گیا۔ آگے یہ اسم مفعول کے معنیٰ میں بھی کبھی ہوتا ہے اور کبھی نہیں، ہاں لیکن یہ ہے، اس میں فاعل کے معنیٰ میں مصدر معروف ہی ہوگا اور اس میں مفعول کے معنیٰ میں مجہول مصدر ہی ہوگا۔ تو یہ ہوا بمعنیٰ مہویٌ کے ہے، ہوا بمعنیٰ مہویٌ، مہویٌ مرمِیٌ وہ وزن پر بھئی، ہوا یہوی سے بھئی، رما یرمی سے اسم مفعول کیا آتا ہے؟ مرمِیٌ آتا ہے، تو مہویٌ کے معنیٰ میں ہے، یعنی اسم مفعول کے معنیٰ میں ہے۔ اور اسم مفعول کے معنیٰ میں کون سا مصدر ہوتا ہے؟ مصدر مجہول۔ معلوم ہوا یہ ہوا مصدر مبنی للمفعول ہے اور پھر یہ ایک بات ہوئی اور پھر اس کے بعد دوسری بات ہوئی کہ یہ ہے بھی کس معنیٰ میں؟ اسم مفعول کے معنیٰ میں ہے۔ اور یا ضمیر متکلم کی ہے، تو مہویٌ اور یا ضمیر بھی ساتھ مل گئی، کیا بن گیا؟ مہویَّ۔
اور ہوا یہوی کا کیا معنیٰ تھا؟ چاہنا۔ تو مہویی جس کو میں نے چاہا ہے، مراد محبوب ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ ہوایَ مع رکب الیمانین مصعدُ۔ رکب کہتے ہیں سواروں کی جماعت کو بھئی، یہ اسمِ جمع ہے، اسمِ جمع۔ جمع نہیں ہے، جمع تو وہ جس کے لیے مفرد ہوتا ہے، اس کا مفرد کوئی نہیں، یہ اسی طرح جمع استعمال ہے بھئی، اس کا اطلاق 10 یا 10 سے زیادہ پر ہوتا ہے، سواروں کی جماعت بھئی، یا یوں کہیں قافلہ بھئی۔ الیمانین یمنی بھئی یمنی، یمن کی جمع ہے بھئی۔ مصعدُ، اسعدَ یسعدُ کے معنیٰ ہے چلنا، دور ہونا۔ ہوایَ مع رکب الیمانین مصعدُ، میری محبوبہ جو ہے یمنی سواروں کے ساتھ مصعدُ جا رہی ہے، یعنی دور ہو رہی ہے۔
جنیبٌ، جنیب بمعنیٰ مجنوب کے ہے، جنیب فعیل وزن ہے اور فعیل آپ نے پڑھا ہے کبھی فعیل بمعنیٰ فاعل کے ہوتا ہے اور کبھی فعیل بمعنیٰ مفعول کے ہوتا ہے، تو یہ جنیب بمعنیٰ مفعول یعنی مجنوب کے معنیٰ میں ہے۔ اور مجنوب اس کو کہتے ہیں جس کا اتباع کیا جائے، جو آگے اور سارے اس کے تابع ہیں بھئی، سارے اس کے تابع۔ جنیبٌ، وہ جو ہے، میرا محبوب جو ہے متبوع ہے۔ میرا محبوب مع رکب الیمانین مصعدُ، یمنی سواروں کے ساتھ جا رہا ہے، جنیبٌ، وہ کیا ہے؟ متبوع ہے، یعنی سارے قافلے والے اس کے تابع ہیں بھئی، سارے قافلے والے اس کے تابع ہیں، وہ ان کے آگے ہے، متبوع ہے ان کا۔
وجسمانی، جسمان کہتے ہیں بدن کو، جسم کو، اور شخص کو، ذات کو بھی کہتے ہیں بھئی، ذات کو بھی کہتے ہیں اور بدن کو بھی کہتے ہیں۔ وجسمانی بمکۃَ، دیکھیے میں نے آپ کو بتایا تھا بھئی عربی میں مکہ پر الف لام استعمال نہیں ہوتا، عرب استعمال نہیں کرتے، آپ کو اسی طرح بغیر الف لام کے ملے گا جہاں بھی ملے گا۔ وجسمانی بمکۃَ، اور میرا بدن جو ہے یا میری ذات جو ہے مکہ میں موثقُ، باندھی ہوئی ہے بھئی، باندھی گئی ہے۔ اوثقَ یُوثقُ کے معنیٰ باندھنے کے۔
بھئی یہ شاعر تھا اور اس نے کسی کے کسی کو قتل کر دیا تھا، مکہ والوں میں سے کسی کے رشتے دار کو قتل کر دیا تھا، بعد میں یہ کسی قافلے وغیرہ کے ساتھ مکہ آیا، چھپ کر رہا ہوگا لیکن بہرحال ان لوگوں کو پتہ چل گیا، انہوں نے اس کو پکڑ لیا اور قید کر دیا، باندھ دیا بھئی۔ اب وہ قافلہ واپس چل پڑا اور اس قافلے کے اندر اس شاعر کی محبوبہ بھی تھی، اب یہ قید میں پڑا ہوا ہے اور قافلہ جا رہا ہے، تو اس غم کے عالم میں اس نے یہ شعر کہا، کیا کہتا ہے؟ ہوایَ مع رکب الیمانین مصعدُ، میرا محبوب، میری محبوبہ جو ہے یمنی سواروں کے ساتھ جا رہی ہے، جنیبٌ، وہ کیا ہے؟ متبوع ہے، سارے اس کے پیچھے ہیں بھئی۔ یہ کہنے مطلب یہ ہے جنیب کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ متبوع ہے، سارے اس کے پیچھے ہیں، کہنا یہ چاہتا ہے کہ اس کا نکل کر آنا یا رہ جانا یہاں پر ممکن نہیں، بہت مشکل ہے، کیونکہ بھئی جو پیچھے ہوگا پیچھے والوں میں سے اگر کوئی غائب ہوگا، غائب ہو جائے کسی کو زیادہ پتہ نہیں چلے گا، لیکن جو ایک متبوع ہے سارے اس کے ساتھ ہیں اس اس کے تابع ہیں تو یقیناً اس کا نکل کر آنا وہ سب کی نگاہوں میں ہے، تو اس کا نکل کر آنا بڑا مشکل ہے، تو بتانا یہ چاہتا ہے کہ اس کا نکل کر آنا یا یہاں پر رہ جانا بڑا مشکل ہے بھئی۔ تو وہ متبوع ہے اور وجسمانی بمکۃ موثقُ، اور میرا بدن جو ہے مکہ میں بندھا ہوا ہے۔
تو شاعر نے کہا ہوایَ، ہوایَ، اور یہ کس معنیٰ میں ہے؟ مہویَّ، میرا محبوب بھئی، میری محبوبہ۔ اس کے بجائے شاعر یہ بھی کہہ سکتا تھا الذی اھواہُ، وہ جس سے میں محبت کرتا ہوں مع رکب الیمانین مصعدُ، وہ کیا ہے؟ یمنی سواروں کے ساتھ جا الذی اھواہُ، اسمِ موصول لا سکتا تھا یا نہیں؟ لیکن اگر اسمِ موصول لاتا تو ایک تو یہ کہ شعر کا وزن خراب ہو جاتا، اور دوسری خرابی کیا؟ ایک یہاں ایک تو اختصار مقصود تھا اور دوسرا مقام بھی تنگ تھا کیونکہ شاعر غم کی حالت میں ہے اور غم کی حالت میں انسان مختصر کلام کرتا ہے، تو ہوایَ، اس کے اندر دیکھیے صرف چار حروف ہیں، ہوایَ، اور الذی اھواہُ، اس میں کتنے حروف ہیں؟ نیز ہوایَ میں ایک مضاف ہے، ایک مضاف الیہ، اور الذی اھواہُ، الذی اسمِ موصول، اھویٰ فعل، اس کے اندر انا ضمیر فاعل، اور ہا ضمیر ساتھ مفعول کی ملی ہوئی ہے، تو وہاں کتنے لفظ آ جاتے؟ چار لفظ آ جاتے، اور یہاں پر کتنو ں سے کام چل گیا؟ دو لفظوں سے ہی وہی مسئلہ حل ہوا۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ شعر جو ہے، یہ شعر شاعر نے خبر دینے کے لیے نہیں کہا، وہ یہ خبر نہیں دینا چاہتا کہ میرا محبوب جا رہا ہے، بلکہ اظہارِ غم ہے بھئی، جیسے آپ نے پڑھا کہ خبر کبھی کبھار کس لیے لائی جاتی ہے؟ اس میں نقطہ کیا ہوتا ہے؟ نہ وہاں فائدۃ الخبر مقصود ہوتا ہے، نہ لازمِ فائدۃ الخبر مقصود ہوتا ہے، بلکہ غم وغیرہ، کبھی خوشی کے لیے، کبھی غم کے لیے، کئی نکات آپ پیچھے پڑھ چکے، تو یہاں خبر شاعر لوگوں کو بتانا نہیں چاہتا کہ میری محبوبہ جا رہی ہے، یعنی فائدۃ الخبر مقصود نہیں، لازمِ فائدۃ الخبر بھی مقصود نہیں، یہ نہیں ان کو بتانا چاہتا کہ مجھے بھی پتہ ہے میری محبوبہ اس وقت جا رہی ہے، بلکہ مقصد کیا ہے؟ اظہارِ غم ہے بھئی۔ شعر جو اس نے کہا صرف اظہارِ غم کے لیے کہا، اپنا غم اپنے دکھ کا اظہار کر رہا ہے وہ اس شعر کے اندر بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو نہ یہاں فائدۃ الخبر مقصود ہے، نہ لازمِ فائدۃ الخبر مقصود ہے، بلکہ کیا مقصد ہے؟ اظہارِ غم ہے، جیسے آپ نے پڑھا تھا کہ کہیں بعض اوقات نہ فائدۃ الخبر مقصود ہوتا ہے نہ لازمِ فائدۃ الخبر مقصود ہوتا ہے بلکہ اظہارِ غم ہوتا ہے، جیسے وہ عمران، عمران کی بیٹی پیدا ہوئیں، انہوں نے کہا تھا اگر بیٹا پیدا ہوا تو میں اسے اللہ کے راستے میں آزاد کروں گی، جب بیٹی پیدا ہوئیں تو کیا کہنے لگیں؟ ربِّ انی وضعتُہا انثٰی، میں نے تو اس کو مؤنث جنم، عورت جنم دیا ہے، بیٹی جنم دیا ہے، تو وہاں اللہ کو نہ فائدۃ الخبر دینا مقصد ہے، نہ لازمِ فائدۃ الخبر مقصد ہے، کیونکہ اللہ سب کچھ جاننے والے ہیں، تو پھر مقصد کیا تھا وہاں پر؟ صرف اپنے غم کا اظہار کرنا تھا بھئی، تو یہاں بھی اسی طرح ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں ہوایَ مع رکب الیمانین مصعدُ جنیبٌ وجسمانی بمکۃَ موثقُ بدلاً ان یُقالَ، اس کے یہ اس کہنے کے بدل اس کے کہ یوں کہا جائے الذی اھواہُ، الف کے بعد اھویٰ کے آخر میں ہمزہ ہے یا ہا ہے؟ ہمزہ نہیں ہونی چاہیے، ہا ہونی چاہیے، اھواہُ جس، وہ جس سے میں محبت کرتا ہوں، ہا ضمیر بھئی۔ تو شاعر نے ہوایَ کہا بدلاً ان یُقالَ، بدل اس کے کہ یوں کہا جائے الذی اھواہُ، یعنی الذی اھواہُ کے بجائے کیا کہا شاعر نے؟ ہوایَ کہا بھئی۔
چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقیقت الکلام۔