Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

دروس البلاغة · dars-029

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 04 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 14
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
سبق نمبر۔29 وال مسؤل عنه في التصور ما يلي الهمزه ويكون له معادل يذكر بعد ام وتسمى متصله فتقول في الاستفهام عن المسند اليه اانت فعلت هذا ام يوسف. وعن المسند اراغب انت عن الامري ام راغب فيه. استفہام کی بحث چل رہی ہے اور آپ نے پڑھا استفہام جو ہوتا، استفہام جو ہے وہ کسی چیز کے علم کو طلب کرنا، کسی چیز کے جاننے کو طلب کرنا اور اس کے بہت سے ادوات ہیں: ہمزہ، ہل، ما، من وغیرہ، یہ ادواتِ استفہام ہیں۔ اور پھر یہ ادواتِ استفہام جو طلب العلم کے لیے آتے ہیں کسی چیز کا علم طلب کرنے کے لیے يا تو یہ تصور کا علم طلب کرنے کے لیے آئیں گے یا تصدیق کا، یعنی یا تو یہ تصور کی طلب کے لیے آئیں گے یا تصدیق کی طلب کے لیے آئیں گے بھئی تصدیق کی۔ تصور اور تصدیق بھئی اس کی تعریف کتاب کے اندر کل آ گئی تھی انہوں نے آپ کو بتلایا تھا تصور وہ ادراک المفرد ہے، مفرد کا ادراک کرنا اور ادراک کا کیا معنی ہے؟ ادراک کا معنی ہے یوں کہیں کسی چیز کا حاصل کرنا یعنی ذہن میں۔ یعنی کسی چیز کا ذہن میں تعقل کرنا، کیا کرنا؟ تعقل کرنا، عقل میں ایک چیز کا آنا، ذہن میں آنا۔ مثلاً آپ نے ایک چیز کا تصور کیا، سوچا، ذہن میں آئی تو اگر اس یہ جو چیز آپ نے سوچی ہے اس کے اندر حکم ہے تو اس کو کہیں گے ادراک النسبۃ، یہ تصدیق ہے بھئی۔ مثلاً زید اور قیام دو چیزیں ہیں اور اس میں آپ نے قیام کی نسبت زید کی طرف کی ہے، زید کے لیے قیام کو ثابت مانا ہے تو گویا ذہن میں آپ نے زید پر تصدیق زيد پر قیام کا حکم لگا دیا، اس کا یقین کر لیا تو یہ ہے ادراک النسبۃ۔ تصدیق بھئی، ادراک النسبۃ۔ آپ نے کس چیز کا ادراک کیا ہے؟ کس چیز کا تعقل کیا ہے؟ نسبت کا، نسبت وہ جو ایک چیز کا حکم لگا رہے ہیں دوسری چیز پر بھئی، جو دونوں کے اندر جو تعلق آ گیا، جب آپ نے زید پر قیام کا حکم لگایا تو پہلے زید کا لفظ مثلاً الگ تھا، قیام ایک الگ چیز ہے، زید الگ چیز ہے تو آپ نے دونوں میں ربط دے دیا يا ربط نہیں دیا بھئی؟ ربط دے دیا تو یہ جو بیچ میں ربط آیا، تعلق آیا، یہ جو آپ نے ایک چیز کو دوسری چیز کے لیے ثابت کر دیا، آپ نے ایک چیز کا حکم دوسری چیز پر لگا دیا یہ ہے ادراک النسبۃ بھئی۔ کہ آپ نے کس چیز کا ادراک کیا ہے؟ نسبت کا، کس چیز کا تعقل کیا ہے؟ نسبت کا، تعقل بھئی، عقل میں کسی چیز کا حاصل ہونا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اگر یہ جو ادراک کیا، یہ جو تعقل کیا، یہ جو عقل میں چیز حاصل ہوئی، یہ ہے ادراک اور یہ ادراک یا تو مفرد کا ہو گا يا نسبت کا ہو گا۔ اگر نسبت نہیں ہے تو اس کو مفرد کہیں گے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ادراک مفرد کا ہو گا یا نسبت کا ہو گا۔ اگر مفرد کا ادراک ہے یعنی اس میں نسبت نہیں ہے، ایک چیز کا دوسری چیز پر حکم نہیں لگایا گیا تو یہ ہے تصور، یہ کیا ہے؟ تصور۔ اور اگر ایک چیز دوسری چیز کے لیے ثابت ہے یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی ہے تو حکم لگا دیا آپ نے، تو یا اگر ثابت ہے چیز تو یہ ثبوت والا حکم لگایا اور اگر نفی کی ہے تو یہ نفی والا حکم لگایا، ثبوت والا حکم مثلاً زيد قائم، نفی والا حکم مثلاً زيد ليس بقائم۔ تو جو یہ جو آپ نے تعقل کیا، یہ نسبت جس کا تعقل کیا اس میں ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا ثبوت ہو گا یا اس سے دوسری چیز کی نفی ہو گی تو چاہے ثبوت ہو چاہے نفی ہو اس کو تصدیق کہیں گے، کیا کہیں گے؟ تصدیق۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ایک قولِ ملفوظ ہے لفظوں سے لفظ اور ایک قولِ معقول ہے بھئی، عقل میں ایک چیز کا آنا اور اس کا حاصل ہونا۔ تو منطقی، یہ تصور اور تصدیق، یہ منطق میں پڑھتے ہیں نا آپ؟ تو تصور اور تصدیق یہ مناطقہ کی اصطلاح ہے اصل میں۔ تو وہ منطقی جو ہے اب وہ اصل میں اس کی نظر اس قولِ معقول کی طرف ہوتی ہے، یہ جو ذہن کے اندر ایک چیز کا حصول ہوتا ہے، ذہن میں ایک چیز حاصل ہوتی ہے یہ ہے قولِ معقول بھئی۔ ذہن میں جو چیز آتی ہے یہ ہے قولِ معقول، ابھی آپ زبان پر اس کو نہیں لائے، آپ کے ذہن میں ہے تو کیا ہے قولِ معقول۔ اور یہی بات جب آپ کی زبان پر آتی ہے تو لفظوں کی صورت میں آتی ہے تو اس کو کہتے ہیں قولِ ملفوظ بھئی۔ تو مناطقہ کی اصل نظر کس کی طرف ہوتی ہے؟ قولِ معقول کی طرف کہ جو چیز عقل میں آئے اس میں وہ دیکھتے ہیں کہ یہ مفرد چیز عقل میں حاصل ہوئی ہے یا نسبت حاصل ہوئی ہے۔ لیکن چونکہ جو بات عقل میں آتی ہے اس کو سمجھانے کے لیے الفاظ کا سہارا لیا جاتا ہے، الفاظ کے بغیر تو آپ دوسرے کو بات نہیں سمجھا سکتے۔ تو اسی لیے اصل توجہ تو منطقی کی قولِ معقول کی طرف ہوتی ہے لیکن وہ قولِ ملفوظ سے بھی بحث کرتا ہے، لفظوں کی بھی بحث کرتا ہے، اسی وجہ سے کیونکہ معقول کو سمجھانے کے لیے کس کا سہارا لینا پڑتا ہے؟ لفظوں کا، لیکن اصل توجہ نہیں ہوتی اس کی قولِ ملفوظ کی طرف، اصل توجہ کس کی طرف ہے؟ قولِ معقول کی طرف توجہ ہے۔ اسی لیے انہوں نے کہا ادراک المفرد۔ تصور کی تعریف کیا کی؟ ادراک المفرد، مفرد کا ذہن میں حاصل ہونا، مفرد کا ذہن میں تعقل کرنا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ادراک کا لفظ استعمال کیا، ادراک کا معنی کیا ہے؟ حاصل کرنا کسی چیز کا، حصول بھئی۔ اور تصدیق کی انہوں نے کیا تعریف کی؟ ادراک النسبۃ، نسبت کا ادراک کرنا، نسبت۔ یعنی جس میں ایک چیز دوسری چیز کے لیے ثابت ہو یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی ہو۔ لہٰذا اسی لیے مناطقہ شک کو تصدیق نہیں کہتے۔ اگرچہ جملہ پورا ہوتا ہے مثلاً زيد قائم، اسی میں آپ کو یقین ہے۔ آپ کو اس بات کا اگر یقین ہے زید کے لیے قیام ثابت ہے اس کا آپ نے تعقل کیا، تو ذہن کے اندر آپ نے گویا زید پر کیا حکم لگایا ہے؟ قیام کا، اور آپ کو اس کا یقین بھی ہے تو اس کو تصدیق کہیں گے۔ چونکہ یہ ادراک ہے نسبت کا، غالب گمان ہے آپ کا کہ زید کھڑا ہے، یقین تو نہیں لیکن کیا ہے؟ غالب گمان ہے، تو اس کو بھی وہ نسبت کہیں گے۔ لیکن اگر آپ کو شک ہے، شک کے اندر دونوں جانبیں برابر ہوتی ہیں، آپ کو شک ہے کہ پتا نہیں یہ قیام زید کے لیے ثابت ہے یا ثابت نہیں، اب آپ کے ذہن میں تو ہے زيد قائم، لیکن یہ قیام کا حکم پتا نہیں زید کے لیے ہے یا نہیں ہے اس میں آپ کو شک ہے، دونوں جانبیں برابر ہیں، قیام کے ہونے کے بھی برابر احتمال اور نہ ہونے کا بھی برابر، تو یہ ہے شک اور اس شک کو مناطقہ تصدیق نہیں کہتے، اس کو تصور کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ تصور کہتے ہیں بھئی، تصور کہتے ہیں۔ کیونکہ تصدیق میں ان کے نزدیک یقین کا ہونا ضروری ہے يا غالب گمان کا ہونا ضروری ہے، تو غالب گمان بھی یقین کے قریب ہوا بھئی۔ تو شک کو وہ تصدیق کہتے ہی نہیں، اس کو وہ تصور کہتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ اس میں وہ نسبت کا ادراک نہیں ہے۔ جی، تو بات چل رہی تھی کہ یہ جو ادواتِ استفہام ہیں، یہ ان میں سے ہمزہ اصل ہے اور یہ طلبِ تصور کے لیے بھی آ سکتا ہے اور طلبِ تصدیق کے لیے بھی آ سکتا ہے۔ بھئی، ہم علم المعانی پڑھ رہے ہیں جس میں آپ نے پڑھا کہ علمِ معانی لفظِ عربی کے ان احوال کو جاننے کا نام ہے جن کی وجہ سے لفظ مقتضائے حال کے مطابق ہوتا ہے، یعنی حال کس قسم کے جس قسم کے کلام کا تقاضا کر رہا ہے، آپ بھی اسی طرح کا کلام لے کر آئیں، یہ آپ کو کس سے پتا چلے گا؟ علمِ معانی، علمِ معانی بتلائے گا یہ مقام ہے، یہ اس قسم کے کلام کا تقاضا کر رہا ہے، لہٰذا آپ اس طرح کا کلام لاؤ۔ دوسرا حال ہو گا علمِ معانی آپ کو بتلائے گا کہ یہ حال ہے اور یہ حال اس قسم کے کلام کا تقاضا کرتا ہے، لہٰذا پھر آپ اس طرح کا کلام لے کر آتے ہیں بھئی۔ تو لہٰذا یہ جب ہمزہ طلبِ تصور کے لیے بھی ہے اور طلبِ تصدیق کے لیے بھی ہے، علمِ معانی سے آپ کو پتا چل گیا، لہٰذا جب آپ تصور کو طلب کرنے لگیں تب بھی ہمزہ لا سکتے ہیں، جب آپ تصدیق کو طلب کرنے لگیں تب بھی کیا کر سکتے ہیں؟ ہمزہ لا سکتے ہیں، یہ علمِ معانی سے آپ کو پتا چل گیا کہ یہ دونوں مقام پر ہمزہ استعمال ہو سکتا ہے تو آپ بھی دونوں جگہ استعمال کر سکتے ہیں۔ پھر آگے بتائیں گے کچھ لفظ ایسے ہیں جو صرف طلبِ تصدیق کے لیے ہیں، تو لہٰذا جب طلبِ تصدیق کا مقام ہو وہاں تو آپ اس کو استعمال کر سکتے ہیں، جہاں طلبِ تصور ہو وہاں پر اس کو استعمال نہیں کر سکتے۔ اور کچھ لفظ ایسے ہیں جو صرف طلبِ تصور کے لیے استعمال ہوتے ہیں تو لہٰذا تصور طلب کرنے کا مقام ہو تو وہاں پر آپ ان لفظوں کو استعمال کر سکتے ہیں، لیکن اگر تصدیق طلب کرنے کا مقام ہو تو وہاں پر ان لفظوں کو استعمال نہیں کر سکتے بھئی۔ تو انہوں نے آپ کو بتلایا ہمزہ جو ہے یہ اصل ہے اور یہ طلبِ تصور کے لیے بھی ہو سکتا ہے اور طلبِ تصدیق کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ اور میں نے آپ کو علامت بتلائی تھی کہ آپ کو پتا کس طرح چلے گا کسی سوال سے کہ تصور کو طلب کیا جا رہا ہے یا تصدیق کو طلب کیا جا رہا ہے؟ میں نے بتلایا تھا اگر سوال کے جواب میں نعم یا لا آتا ہو، نعم اور لا کے علاوہ اور صورت وہاں نہیں بنتی، صرف نعم اور لا کے آنے سے کسی ایک کے ساتھ جواب دیا جا سکے تو سمجھ جائیے یہ تصدیق کو طلب کیا جا رہا ہے۔ اور اگر نعم یا لا کے ساتھ نہ ہو بلکہ دو چیزوں میں سے یا زیادہ میں سے کسی ایک کی تعین کو طلب کیا جا رہا ہو تو سمجھ جائیے یہ دراصل تصور کو طلب کیا جا رہا ہے، تصور کو۔ تو اس کی پہلی مثال انہوں نے ذکر کی بھئی: اعلي مسافر ام خالد، کیا علی سفر کرنے والا ہے یا خالد؟ کیا علی مسافر ہے یا خالد؟ اب آپ دیکھیے اس کا جواب نعم یا لا سے نہیں دیا جا سکتا، معلوم ہوا یہ طلبِ تصدیق نہیں ہے بلکہ یہ کیا ہے؟ طلبِ تصور ہے کہ آپ تعین طلب کر رہے ہیں۔ تعین، معلوم ہوا نسبت کا ادراک تو آپ کو حاصل ہے۔ لیکن تعین نہیں ہے آپ کے نزدیک، توجہ رکھنا بھئی۔ یہ بات بار بار آگے آئے گی۔ جب آپ تصور کو طلب کر رہے ہیں، معلوم ہوا نسبت کا ادراک حاصل ہے آپ کو، آپ نے کہا اعلي مسافر ام خالد، معلوم ہوا اتنا آپ کو پتا ہے کہ سفر حاصل ہوا ہے، سفر کرنا پایا گیا ہے، نسبت کا ادراک ہے، کسی نے سفر کیا ہے اتنا آپ کو پتا ہے، تصدیق کا علم آپ کو توجہ ہے سبق کی طرف؟ یہاں پر معلوم ہوا تصدیق کا علم ہے آپ کو۔ کس چیز کی تصدیق؟ ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے ثبوت، معلوم ہوا کوئی ایک شخص ایسا ہے جس کے لیے سفر ثابت ہے، اس نے سفر کیا ہے، تو آپ کو نسبت کا ادراک حاصل ہے لیکن تعین نہیں کہ یہ سفر کرنے کا وصف کس کو حاصل ہے؟ علی کو یا خالد کو؟ صرف تعین نہیں ہے، باقی اتنا آپ کو علم ہے کہ سفر کسی نے کیا ہے بھئی۔ تو تصدیق کا علم آپ کو ہے، نسبت کا علم ہے آپ کو البتہ صرف تعین نہیں ہے کہ وہ سفر کرنے والا کون ہے بھئی؟ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو جہاں جہاں طلبِ تصور ہو گا وہاں تصدیق کا علم آپ کو حاصل ہو گا اور آپ پھر اس کی تعین کو طلب کر رہے ہوں گے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ لہٰذا یہاں پر بھی معلوم ہوا کہ سفر تو کسی نے کیا ہے۔ نسبت کا تو علم آپ کو ہے کہ سفر واقع ہوا ہے، کسی نے کسی ایک شخص نے سفر کیا ہے لیکن تعین نہیں ہو رہی، اب آپ اس کو متعین کروانا چاہتے ہیں، اسی لیے آپ نے سوال پوچھا کہ سفر کس نے کیا ہے؟ یہ سفر کس کے ساتھ قائم ہے بھئی؟ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب ہمزہ طلبِ تصور کے لیے بھی آ سکتا ہے اور طلبِ تصدیق کے لیے بھی آ سکتا ہے، تو ہمزہ کے لیے جب سوال کریں گے، انہوں نے آپ کو بتلایا وال مسؤل عنه في التصور ما يلي الهمزه ويكون له معادل يذكر بعد ام، کہ وہ چیز جس کے بارے میں پوچھا گیا ہو گا تصور میں ما وہ چیز ہو گی يلي الهمزه جو کس کے ساتھ ملی ہوئی ہو؟ ہمزہ کے ساتھ ملی ہوئی ہو گی، جیسے اعلي، ہمزہ کے ساتھ کیا ملا ہوا ہے؟ علی کا لفظ۔ ويكون له معادل، اي لفظ معادل، معادل کا معنی برابر پر، اور اس کا کوئی برابر کا لفظ ہو گا يذكر بعد ام جس کو کس کے بعد ذکر کیا جائے گا؟ ام کے بعد، جیسے ام کے بعد اس جملے میں خالد ذکر ہے، تو ہمزہ کے بعد علی ذکر ہے اور اس کے ساتھ اس کا ایک معادل لفظ جو ام کے بعد ذکر ہے وہ ہے خالد، تو آپ ان دو کے اندر آپ کس چیز کو طلب کر رہے ہیں؟ تعین کو طلب کر رہے ہیں۔ تو ہمزہ کے لیے جس چیز کا سوال کیا جائے گا وہ لفظ ہو گا، وہ چیز ہو گی جو کس کے فوراً بعد آئے؟ ہمزہ کے فوراً بعد اور اس کے ساتھ اس کا ایک معادل بھی، اس کے برابر کا بھی ذکر ہو گا جن دو کے اندر آپ کو شک ہے اور احتمال ہے کہ ان میں جن دو میں سے ایک کی تعین کو آپ طلب کر رہے ہیں تو دوسرا کس کے بعد آئے گا؟ ام کے بعد آئے گا بھئی، تو یہ دوسرا لفظ پہلے کے معادل ہوا، پہلا اس کے معادل اور دوسرا پہلے کے معادل برابر ہیں کہ ان دونوں میں سے معلوم ہوا ان دو آپ کو پتا ہے ان دو میں سے کسی ایک نے سفر کیا ہے، سفر کیا ہے ان دو میں سے کسی ایک نے، یہ آپ کو یقین ہے لیکن تعین نہیں ہے آپ کو کہ کون ہے وہ ان دو میں سے، وہ ایک کون ہے؟ آپ اس تعین کو اب طلب کر رہے ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وتسمى متصلة، اور اس ام کو امِ متصلہ کہتے ہیں۔ بھئی آپ نے قافیہ کے اندر پڑھا ہو گا کہ ام دو قسم پر ہے۔ یہ حرفِ ام کیا ہے؟ دو قسم پر ہے، ایک کو امِ متصلہ کہتے ہیں، ایک کو امِ منقطعہ کہتے ہیں۔ امِ متصلہ یہ تصور کے طلب میں استعمال ہوتا ہے اور امِ منقطعہ وہ تصدیق کے اندر استعمال ہو گا بھئی۔ امِ متصلہ کس میں استعمال ہو گا؟ تصور کے لیے اور امِ منقطعہ تصدیق کے لیے استعمال ہو گا، تو دو قسم کا ام ہوا، ایک امِ متصلہ اور ایک امِ منقطعہ۔ اب متصلہ کس کو کہتے ہیں، منقطعہ کس کو کہتے ہیں؟ یہ اور مزید تفصیل یاد رکھیے گا بھئی۔ امِ متصلہ وہ ہے کہ جس کے ذریعے دو چیزوں میں سے ایک کی تعین کو طلب کیا جائے۔ امِ متصلہ وہ ہے جس کے ذریعے دو چیزوں میں سے ایک چیز کی تعین کو طلب کیا جائے جیسے ابھی مثال گزری تھی اعلي مسافر ام خالد، یہاں پر بھی دو چیزیں علی اور خالد، ان دو چیزوں میں سے ایک کی تعین کو آپ کیا کر رہے ہیں؟ طلب کر رہے ہیں تو یہ کیا ہے امِ متصلہ۔ اس کے مقابلے میں دوسرا امِ منقطعہ ہے بھئی، امِ منقطعہ۔ اور امِ منقطعہ یاد رکھیے، آپ قافیہ میں اس کی مثال دی ہے کہ آپ کو دور سے صحرا میں کوئی چیز مثلاً حرکت کرتی ہوئی نظر آئی تو آپ نے بڑے یقین سے اپنے ساتھی سے کہا: انها لابل۔ یقیناً یہ اونٹ ہیں بھئی۔ انها لابل، یقیناً یہ اونٹ ہیں بھئی۔ اتنا یقین تھا کہ اپ ان بھی لے کر ائے، لام تاکید بھی لے کر ائے بھئی، لام ابتداء۔ صورت سمجھ میں ارہی ہے؟ پھر جب وہ چیز کچھ قریب آئی تو اپ کو شک پڑ گیا کہ بھئی، یہ تو اونٹ نہیں ہیں۔ پتہ نہیں اونٹ ہیں یا یہ بھیڑ بکریاں ہیں؟ تو اب اپ کہتے ہیں: ام شاء؟ ام شاء؟ ام شاء؟ بلکہ کیا یہ بکریاں ہیں؟ دیکھیے! پہلے اپ باقاعدہ خبر دے رہے تھے، سوال تو پوچھ ہی نہیں رہے تھے۔ انها لابل، خبر دی تھی اور ام کے بعد اب اپ کہہ رہے ہیں: ام شاء؟ یعنی اهی شاء، کیا یہ بکریاں ہیں؟ تو شاء جمع ہے شاة کی بھئی، شاة اور شاة اس میں جنس ہے، بھیڑ بکری دونوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ تو یہ اسی شاة کی جمع ہے بھئی۔ شاء کیا ہے؟ شاة کی جمع ہے۔ تو اب پہلے اپ خبر دے رہے تھے اور ام کے بعد اب اپ باقاعدہ سوال کر رہے ہیں۔ اپ کو خود شک پڑ گیا کہ پتہ نہیں یہ کیا چیز ہے۔ اب اپ پوچھ رہے ہیں، کیا یہ بھیڑ بکریاں ہیں؟ تو یہ ام جو آیا، ام شاء، یہ ام منقطعه ہے۔ اس کو منقطعه اسی لیے کہتے ہیں کہ یہ ماقبل سے اس کا تعلق نہیں ہوتا۔ یرحمك الله! انقطاع کے معنی کیا ہوتے ہیں؟ جدا ہونا، ٹوٹ جانا۔ تو یہ بھی ماقبل کے کلام سے ٹوٹا ہوا ہے یعنی جدا ہے، الگ کلام ہے، الگ۔ پہلے خبر تھی ام سے پہلے، ام کے بعد استفہام ہے، سوال ہے بھئی۔ کیا ہے؟ سوال ہے۔ صورت سمجھ میں اگئی؟ تو یہاں تو دیکھیے، پہلے خبر تھی، پھر اس خبر کو چھوڑ دیا اپ نے اور سوال شروع کر دیا آگے ام کے بعد۔ تو دونوں میں الگ الگ چیزیں ہیں۔ خبر اور چیز خبر اور چیز ہے اور استفہام وہ تو انشاء ہے، وہ تو الگ چیز ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں اگئی؟ ہاں اور کبھی ہو سکتا ہے دونوں جگہ ہی سوال ہو۔ ماقبل میں اپ نے ایک سوال کیا ہوگا، پھر ایک دم اپ کو خیال آتا ہے، اوہو! یہ میں کس کے بارے میں میں نے سوال کر دیا؟ میں نے تو کسی اور کے بارے میں سوال کرنا تھا، تو اپ اس پہلے سوال کو چھوڑ کر ام لاتے ہیں اور فوراً ہی وہ دوسرا سوال کر دیتے ہیں۔ مثلاً اپ نے کہا: ازید عندك؟ پھر فوراً خیال آیا، بھئی! میں نے تو زید کے بارے میں نہیں پوچھنا تھا، یہ تو غلطی سے میں کہہ بیٹھا ہوں۔ اپ فوراً کہتے ہیں: ام عمرو عندك؟ ازید عندك ام عمرو عندك؟ تو پہلے اپ نے زید کے بارے میں پوچھا، پھر اس سوال کو ہی چھوڑ دیا۔ اب اپ تعیین نہیں طلب کر رہے کہ زید ہے اپ کے پاس یا عمر ہے۔ بلکہ پہلے اپ نے زید کے بارے میں سوال کیا تھا، پھر فوراً ہی اس کو چھوڑ دیا اور اصل جو اپ پوچھنا چاہتے تھے اس بات کی طرف آگے کہ کیا عمر ہے اپ کے پاس؟ تو اس کا جواب بھی اسی طرح "نعم" یا "لا" کے ساتھ دیا جائے گا بھئی۔ تعیین کو نہیں اپ طلب کر رہے کہ جواب میں کہے وہ عمر ہے یا زید ہے، کیونکہ اگر تعیین کو طلب کیا جائے تو پھر تو یہ تو طلب تصور ہوا۔ حالانکہ یہ تو ام منقطعه ہے اور ام منقطعه تو طلب تصور کے لیے نہیں آتا، بلکہ کس لیے آتا ہے؟ طلب تصدیق کے لیے آتا ہے۔ تو یہ دوسرا سوال عمر کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے کہ عمر اپ کے پاس ہے؟ اب اپ کہتے ہیں: "نعم" یا اپ کہتے ہیں: "لا"۔ صورت سمجھ میں ارہی ہے؟ تو دیکھو ام منقطعه اس کو کہتے ہیں۔ اس میں ماقبل میں اور سوال تھا، پھر اس کو چھوڑ کر مابعد میں دوسرا سوال پوچھا، تو اس میں دونوں میں انقطاع ہے دونوں چیزوں کے اندر۔ پہلے سوال سے ہی منقطع ہو گئے، پہلی چیز سے ہی منقطع ہو گئے، چھوڑ دیا اس کو۔ جبکہ ام متصلہ میں دونوں میں اتصال ہوتا ہے۔ اعلي مسافر ام خالد، دونوں میں اتصال ہے۔ اپ کے نزدیک سفر ان دونوں میں سے کسی ایک نے کیا ہے، لیکن تعیین نہیں ہو رہی، مجھے پتہ نہیں چل رہا کہ کس نے کیا ہے۔ اب اپ اس تعیین کو طلب کر رہے ہیں۔ تو یہاں انقطاع نہیں ہے۔ علی اور ام کے بعد جو خالد آیا ان دونوں میں انقطاع نہیں ہے، جبکہ ام میں ام منقطعه میں دونوں چیزوں کے اندر ماقبل اور مابعد میں انقطاع ہوتا تھا۔ بات سمجھ میں اگئی سب کو اچھی طرح؟ تو کہتے ہیں: وتسمى متصلة، اور اس ام کو ام متصلہ کہتے ہیں، جس میں ام سے ماقبل ایک چیز ذکر ہوتی ہے اور ام کے بعد اس کا معادل ذکر ہوتا ہے، اس کے برابر کا لفظ ذکر ہوتا ہے، جن میں سے دو میں سے اپ تعیین کو طلب کر رہے ہیں۔ اس ام کو کیا کہتے ہیں؟ ام متصلہ، ام متصلہ۔ فتقول في الاستفهام عن المسند إليه، اچھا بھئی! انہوں نے یہ تو اپ کو بتا دیا کہ ہمزہ طلب تصور کے لیے بھی آ سکتا ہے اور طلب تصدیق کے لیے بھی آ سکتا ہے اور اس کی ایک مثال ذکر کر دی۔ علي مسافر ام خالد، اور انہوں نے اپ کو بتلا دیا کہ یہ جو ام آیا یہ کیا ہے؟ ام متصلہ، کیا ہے ام؟ اور ام متصلہ کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ دو چیزوں میں سے ایک کی تعیین کو طلب کیا جاتا ہے، یعنی یوں کہو دوسرے لفظوں میں، تصور کو طلب کیا جاتا ہے، کس کو؟ تصور۔ اب تصور مختلف قسم کی چیزوں کا اپ تصور طلب کر سکتے ہیں، مختلف چیزوں میں تعیین اس کے بارے میں پوچھ سکتے ہیں۔ کبھی اپ جو کلام لے کر آئے ہیں، اس میں جو مسند الیہ ہے، مسند الیہ، ایک مسند ہوتا ہے اور ایک مسند الیہ، کبھی اپ مسند الیہ کی تعیین کو طلب کریں گے۔ اپ کو نسبت کا تو پتہ ہے۔ ایک چیز دوسری کے لیے ثابت ہے یا اس کی نفی، یہ کیا تھا اس کا تعقل؟ یہ تعقل کیا تھا؟ تصدیق۔ تصدیق تو میں نے اپ کو بتلایا تصور اور تصدیق، جب اپ تصور کے بارے میں سوال کرتے ہیں، اس کا مطلب ہے نسبت کا علم اپ کو ہے۔ اس کا کیا معنی ہے؟ اپ کو اتنا تو پتہ ہے سفر کسی ایک نے کیا ہے ان دونوں میں سے، یہ یقین اپ کو حاصل ہے، اس کا علم اپ کو ہے، البتہ تعیین نہیں ہے کہ ان دونوں میں سے کس نے کیا ہے سفر بھئی۔ صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ تو یہاں دیکھیے! ذرا پہلی مثال پہ نظر ڈالیے، اس میں بھی طلب تصور ہے، لیکن کس چیز کو طلب کر رہے ہیں اپ بھئی؟ علي مسافر، ترکیب آتی ہے اپ کو بھئی؟ ہمزہ استفہام کے لیے ہے، علي معطوف علیہ، اور ام حرف عطف ہے، خالد معطوف، اور معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر کیا بنے گا؟ مبتدا، اور مسافر کیا ہوگی اس کی؟ صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر "هو" ضمیر اس کا فاعل، تو یہ خبر بنے گی شبہ جملہ ہو کر۔ تو دیکھیے مبتدا جو ہوتا ہے وہ مسند الیہ ہوتا ہے اور خبر جو ہوتی ہے وہ مسند ہوتی ہے، تو اپ کس کی تعیین کو طلب کر رہے ہیں، مسند الیہ کی یا مسند کی؟ مسند الیہ کی تعیین کو اپ کیا کر رہے ہیں؟ طلب کر رہے ہیں یعنی۔ تو لہٰذا اس کے لیے مسند الیہ کی تعیین کا بھی سوال ہو سکتا ہے، مسند کی تعیین کا سوال بھی ہو سکتا ہے۔ تو اپ اس ہمزہ کے ذریعے تصور کو طلب کریں گے اور ہر طرح کے تصور کو طلب کر سکتے ہیں، مسند الیہ کے تصور کو بھی طلب کر سکتے ہیں اس میں تعیین کو، مسند کی تعیین کے لیے بھی اس سے اس کے ذریعے سوال کر سکتے ہیں، مفعول جس پر فعل واقع ہو رہا ہے اس کی تعیین کے لیے بھی اس ہمزہ کے ذریعے سوال کر سکتے ہیں، حال جو ہے حال کی تعیین کے لیے بھی اپ اس ہمزہ کے ذریعے کیا کر سکتے ہیں؟ سوال کر سکتے ہیں، ظرف اپ جانتے ہیں زمانے اور یا مکان کا نام ہے، تو زمانے یا مکان کی تعیین کے لیے بھی اپ اس کے ذریعے کیا کر سکتے ہیں ہمزہ کے ذریعے؟ سوال کر سکتے ہیں، یعنی ہر طرح کے تصور کو اس کی تعیین کو اپ اس ہمزہ کے ذریعے طلب کر سکتے ہیں۔ تو ان سب کی کئی مثالیں ذکر کریں گے، کہیں ہمزہ آئے گا طلب مسند الیہ کے لیے، کہیں ہمزہ آئے گا طلب مسند کے لیے، کہیں ہمزہ آئے گا طلب حال کے لیے، کہیں ہمزہ آئے گا طلب ظرف کے لیے وغیرہ بھئی۔ صورت سمجھ میں اگئی؟ ہاں، البتہ جب تصور کو طلب کر رہے ہیں معلوم ہوا ہے نسبت کا علم اپ کو ہے، یعنی تصدیق حاصل ہے، صرف تعیین باقی ہے۔ صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ فتقول في الاستفهام عن المسند إليه، پس اپ کہتے ہیں مسند الیہ کے بارے میں پوچھتے ہوئے کے بارے میں پوچھتے ہوئے اپ یوں کہتے ہیں: اانت فعلت هذا ام يوسف؟ کیا اپ نے یہ کام کیا ہے یا یوسف نے؟ اب اتنا یقین ہے اپ کو کہ یہ کام یہ کام اس مخاطب نے یا یوسف نے ان دو میں سے کسی ایک نے کیا۔ تو کام کے ان دو میں سے کسی ایک سے ہونے کا اپ کو علم ہے، لیکن تعیین نہیں ہے کہ یہ مخاطب نے کیا ہے یا یوسف نے کیا ہے، تو اپ اس تعیین کے لیے سوال کرتے ہیں۔ تو نسبت کا یقین ہے اپ کو، البتہ سوال کس کے بارے میں کر رہے ہیں؟ تعیین کے بارے میں سوال کر رہے ہیں۔ اانت فعلت هذا ام يوسف؟ کیا اپ نے یہ کام کیا ہے یا یوسف نے؟ تو دیکھیے! کس کی تعیین ہے؟ اس فعل کی تعیین پوچھ رہے ہیں یا فعل کرنے والے کی تعیین کر رہے ہیں؟ فعل کرنے والے کی یعنی فاعل کی بھئی، اور فاعل کیا ہوتا ہے؟ مسند الیہ، تو یہ مسند الیہ کے لیے یہ ہمزہ کی طلب کے لیے یہ ہمزہ آیا۔ وعن المسند، اور مسند کے بارے میں پوچھتے ہوئے اپ کہیں گے: اراغب انت عن الامر ام راغب فيه؟ بھئی رغب یرغب رغبة، رغبت کا معنی ہوتا ہے شوق بھئی، شوق ہونا کسی چیز کے، رغبت ہونا، اس میں شوق ہونا، اس میں دلچسپی ہونا، لیکن یاد رکھیے اس کا صلہ "في" بھی آتا ہے فی، اور "عن"، عین نون عن، صلہ "عن" بھی آتا ہے۔ تو جب اس رغبت کا صلہ "في" آئے تو اس کے معنی کسی چیز میں شوق رکھنا، اس میں دلچسپی کا ہونا، اور اس رغبت کا صلہ اگر "عن" آئے تو اس کا معنی ہوتا ہے کسی چیز سے نفرت کرنا، یہ اس کا عکس معنی ہے، الٹا ہو گیا معنی بالکل بھئی۔ پہلے کیا تھا؟ شوق ہونا جب "في" صلہ تھا، اور "عن" صلہ آ جائے تو معنی نفرت ہونا، کسی چیز سے اعراض کرنا، اس سے منہ موڑنا بھئی۔ تو اب اپ سوال کرتے ہیں: اراغب انت عن الامر ام راغب فيه؟ کیا اپ اس کام سے کام سے رغبت رکھنے والے ہیں، یعنی اس سے اعراض کرنے والے ہیں، ام راغب فيه؟ یا اس کام کی کام کے کام میں رغبت رکھنے والے ہیں؟ معنی سمجھ میں ارہا ہے بھئی؟ اراغب انت عن الامر، تو راغب عن الامر کا کیا معنی ہوگا؟ ہاں، کیا اپ اس کام سے نفرت کرتے ہیں یعنی اس سے اعراض کر رہے ہیں، ام راغب فيه؟ یا اپ اس کے اندر شوق رکھتے ہیں بھئی، شوق رکھتے ہیں؟ تو دیکھیے! اب اپ یہاں پر اپ کس چیز کا سوال کر رہے ہیں؟ تصور کو، تصور کا سوال کر رہے ہیں بھئی، یہ سارے تصور کی مثالیں چل رہی ہیں، تعیین کو طلب کر رہے ہیں، اور جہاں تصور کی طلب ہوگی معلوم ہوا تصدیق کا علم اپ کو اپ کو پہلے سے حاصل ہے۔ تو یہاں پر بھی اپ کو اتنا پتہ ہے کہ مخاطب نے مخاطب کے ساتھ رغبت والا فعل قائم ہے۔ اپ کو کیا علم ہے؟ مخاطب سے نا اراغب انت عن الامر ام راغب فيه؟ کسی اور کا ذکر ہے یا صرف مخاطب کا ذکر ہے؟ صرف مخاطب، معلوم ہوا اتنا پتہ ہے کہ مخاطب کے ساتھ رغبت والا فعل قائم ہے بھئی، اتنا یقین ہے اپ کو، لیکن یہ تعیین نہیں ہو رہی کہ یہ رغبت عن الامر ہے یا رغبت فی الامر ہے بھئی۔ اگر رغبت عن الامر ہو تو اس کا معنی ہے نفرت کرنا، اور اگر رغبت فی الامر ہو تو اس کا معنی ہوتا ہے شوق رکھنا، تو یہ تعیین نہیں ہے، اب اپ اس کو کی تعیین کر رہے ہیں بھئی۔ تو دیکھیے! اب اپ کو اتنا پتہ ہے کہ رغبت والا فعل ثابت ہے، قائم ہے، کس کے ساتھ قائم ہے؟ مخاطب کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ مخاطب کے ساتھ، تو رغبت والے فعل کا حکم لگایا گیا، کس پر لگایا گیا؟ مخاطب پر، تو مخاطب ہوا مسند الیہ، اور رغبت والا فعل کیا ہوا؟ مسند، تو اب اپ اس رغبت والے فعل یعنی مسند کے بارے میں پوچھ رہے ہیں کہ یہ رغبت عن الامر ہے یا رغبت فی الامر ہے، تعیین کر دو۔ اتنا تو مجھے پتہ ہے کہ اپ کے ساتھ رغبت والا فعل قائم ہے، اپ سے رغبت اور رغبت والا فعل اپ نے کیا ہے، لیکن کون سا کیا ہے؟ رغبت عن الامر والا یا رغبت فی الامر؟ تو اپ مسند کی تعیین چاہ رہے ہیں۔ صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ یہ معنی ہے وعن المسند، اور مسند کے بارے میں پوچھتے ہوئے اپ کہیں گے، بھئی دیکھیے! یہ وعن المسند، اس کا عطف پیچھے ہے عن المسند اليه۔ تو پچھلے کلام کو بھی ساتھ ملائیں تو یوں بن گیا: فتقول في الاستفهام عن المسند، مسند کے بارے میں سوال کرتے ہوئے اپ یوں کہیں گے: اراغب انت عن الامر ام راغب فيه؟ کیا اپ اس کام سے اعراض کرنے والے ہیں یا اپ اس کام کے اندر راغب ہیں؟ وعن المفعول، اور مفعول کے بارے میں اپ سوال کرتے ہوئے ہمزہ کے ساتھ یوں کہیں گے: ااىاي تقصد ام خالدا؟ ااىاي تقصد ام خالدا؟ ایاک اپ نے پڑھا ہے، ضمیر ہے بھئی، ضمیر منصوب منفصل۔ ایاک، ایاکما، ایاکم وغیرہ ضمیریں اپ نے پڑھی ہیں بھئی نحو کے اندر، تو یہ حالت نصب کے مقام میں ضمیر منفصل لانی ہو تو پھر یہ والی ضمیر لاتے ہیں۔ انا، انا بھی متکلم کی ضمیر، ایاى بھی متکلم کی ضمیر، یا بھی متکلم کی ضمیر۔ کتابی، کیا معنی؟ میری کتاب۔ انا، یہ متکلم اپنے بارے میں کہتا ہے، اور ایاى، اس کا بھی کیا معنی؟ متکلم، تو یہ تینوں متکلم کی ضمیریں ہیں، لیکن محل الگ الگ ہوتا ہے، اس کے مطابق ضمیر لاتے ہیں۔ اگر مرفوع مقام ہے، یعنی ضمیر مبتدا بن رہی ہے، تو مبتدا مرفوع ہوتا ہے، تو وہاں انا لے کر آئیں گے۔ اگر یہی انا کی ضمیر مضاف الیہ بن رہی ہے، تو یہ انا تو مرفوع ضمیر ہے، مضاف الیہ تو مجرور ہوتا ہے، وہاں انا پھر نہیں لاتے، پھر یا لے آتے ہیں۔ یہ بھی وہی ہے، صورت بدل گئی، کتابی۔ اور جہاں نصب والا مقام ہوگا، وہاں یہ ایاى ضمیر لے کر آئیں گے، ضمیر منفصل۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ یا تو متصل تھی، یہ منفصل ہے بھئی۔ یہ وہی یا ہے، لیکن یہ انفصال کی حالت میں ہے، اور وہ کیا تھی؟ اتصال والی صورت تھی بھئی۔ تو ااىاي تقصد ام خالدا؟ کیا میرا ارادہ اپ کر رہے ہیں یا خالد کا؟ کیا اپ میرا ارادہ کر رہے ہیں یا خالد؟ مثلاً بھئی! مخاطب نے جو اپ کے سامنے تھا، اس نے کوئی بڑی سخت بات کہی بھئی، کوئی ایسی بات کہی جو اپ کو اچھی نہیں لگی، مثلاً مثال بنا رہا ہوں، وہ اپ کو اچھی نہ لگی، لیکن اس نے کچھ اس انداز میں کہا تھا کہ اپ کو پتہ نہیں چلا کہ اس نے یہ بات اپ کے بارے میں کہی ہے یا خالد کے بارے میں کہی ہے، تو اب اپ اس سے سوال کرتے ہیں: ااىاي تقصد ام خالدا؟ کیا تم میرا ارادہ کر رہے ہو، مجھے یہ بات کہنا چاہتے ہو یا کس کو کہہ رہے ہو؟ خالد کو کہہ رہے ہو بھئی۔ تو یہاں دیکھیے! اپ کس چیز کی تعیین کو طلب کر رہے ہیں؟ مفعول کی تعیین کو۔ اپ کو معلوم ہوا تصدیق کا علم ہے، تصدیق کیا؟ غور کریں، غور کیجیے بھئی جملے پر، کیا تصدیق ہے؟ تقصد، کس نے ارادہ کیا ہے؟ مخاطب نے، معلوم ہوا اتنا اپ کو یقین ہے کہ ارادہ مخاطب نے کیا ہے، لیکن کس کا ارادہ کیا ہے؟ وہ مفعول کون ہے جس کا ارادہ کیا گیا؟ متکلم ہے یا خالد ہے؟ اس کی اپ کو تعیین نہیں تھی تو اپ نے اس کا سوال کیا بھئی: ااىاي تقصد ام خالدا؟ کیا اپ میرا ارادہ کر رہے ہیں یا خالد کا؟ تو یہ مفعول کے بارے میں سوال کیا گیا۔ وعن الحال، اور حال کے بارے میں پوچھتے ہوئے اپ یوں کہیں گے: اراكبا جئت ام ماشيا؟ رکوب کہتے ہیں سوار ہونے کو، مشى يمشى کے معنی زمین پر چلنا، پیدل بھئی۔ تو اب ایک شخص اپ کے پاس آیا آپ اس سے کہتے ہیں أَرَاكِبًا جِئْتَ أَمْ مَاشِيًا کہ آپ سوار، سواری کی حالت میں آئے ہیں یا پیدل چلنے کی حالت میں یعنی پیدل آئے ہیں؟ تو اب دیکھیے، حالت کے بارے میں سوال کر رہے ہیں، اس کی تععین طلب کر رہے ہیں کہ وہ راکب ہو کر آیا ہے یا ماشی آیا ہے یعنی پیدل آیا ہے۔ تو یہ آپ تصور کو طلب کر رہے ہیں اور جہاں تصور کو طلب کرتے ہیں، وہاں معلوم ہوا تصدیق کا علم آپ کو پہلے سے ہے۔ تصدیق کس چیز کا علم ہے آپ کو؟ کہ مخاطب آیا ہے۔ کیا ہے؟ مخاطب آمد جِئْتَ، مخاطب آیا ہے، لیکن کس حالت میں آیا ہے، اس کی تعیین نہیں ہو رہی تھی، تو آپ نے اس حالت کے بارے میں سوال کیا کہ آئے تو آپ ہیں، لیکن کس حال میں آئے ہیں، سوار ہو کر یا پیدل چل کر، وہ مجھے بتا دیجیے۔ اور یہ بھی آپ غور کیجیے، جس چیز کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے، وہ ہمزہ کے ساتھ متصل ہے۔ اور ہمزہ کے ساتھ متصل ہے تمام مثالوں میں اور سب میں ام کے بعد اس کا ایک معادل لفظ بھی ذکر کیا گیا ہے، جن دو کے اندر آپ تعیین کو طلب کر رہے ہیں۔ وَعَنِ الظَّرْفِ اور ظرف کے بارے میں، ظرف آپ جانتے ہیں زمان و مکان کو کہتے ہیں۔ یہاں یہ انھوں نے زمانے کی مثال صرف ذکر کر دی، مکان کی بھی اسی طرح مثال بن جائے گی۔ اور ظرف کے بارے میں آپ ہمزہ کے ساتھ سوال کرتے ہوئے یوں کہیں گے أَيَوْمَ الْخَمِيسِ قَدِمْتَ أَمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، قَدِمْتَ قدوم کا معنی ہوتا ہے آنا۔ أَيَوْمَ الْخَمِيسِ قَدِمْتَ أَمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ کیا جمعرات کے دن آپ آئے ہیں یا جمعے کے دن؟ تو یہاں تصدیق کا علم معلوم ہوا آپ کو ہے اور وہ تصدیق کیا؟ کہ مخاطب آیا ہے، مخاطب کا قدوم ہوا ہے، وہ آیا ہے۔ البتہ تعیین نہیں زمانے کی کہ کس زمانے میں آیا ہے، جمعرات کے دن آیا ہے یا جمعے کے دن آیا ہے بھئی۔ أَيَوْمَ الْخَمِيسِ قَدِمْتَ أَمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ کیا آپ جمعرات کے دن آئے ہیں یا جمعے کے دن؟ وَهَكَذَا اور اسی طرح۔ یہ کہتے ہیں ہم نے کچھ مثالیں ذکر کر دیں، کسی میں آپ نے دیکھا ہمزہ کے ذریعے تصور کو طلب کیا جا رہا ہے اور کبھی وہ تصور ہے مسند الیہ کا، کبھی مسند کا ہے، کبھی مفعول کا ہے، کبھی حال کا ہے اور کبھی ظرف کا ہے وَهَكَذَا اور اسی طرح، یعنی باقی فعل کے جو معمولات ہیں، ان میں بھی اسی پر قیاس کر لیجیے، ان میں بھی یہی طریقہ ہے بھئی کہ جس کے بارے میں پوچھنا ہے تعیین کے بارے میں، اس کو ہمزہ کے فوراً بعد ذکر کیجیے اور اس کے بعد آگے ام لائیے اور ام کے ساتھ اس کا معادل لفظ ذکر کیجیے، جو جس کے بارے میں پوچھ رہے ہیں، تعیین چاہتے ہیں، ان دو دونوں کو ایک کو ہمزہ کے بعد ذکر کریں اور اس کے معادل کو ام کے بعد ذکر کیجیے۔ وَقَدْ لَا يُذْكَرُ الْمُعَادِلُ اور کبھی کبھار معادل کو ذکر نہیں کیا جاتا۔ بھئی یہ مثالیں جو گزری ہیں، ان میں تو معادل بھی ذکر تھا بھئی۔ وہ دو چیزیں جن میں آپ تعیین کو طلب کر رہے ہیں، پہلی چیز کو ذکر کہاں کیا تھا؟ ہمزہ کے بعد اور دوسری کو ام کے بعد، تو کبھی کبھار معادل کو یعنی ام اور اس کے ما بعد کو ذکر نہیں کیا جاتا بھئی۔ معادل وہ جو ام کے بعد لفظ آیا، اس کو ذکر نہیں کیا جاتا۔ نَحْوُ مثال کے طور پر أَأَنْتَ فَعَلْتَ هَذَا کیا آپ نے یہ کام کیا ہے؟ اور پیچھے مثال کیا تھی پوری مثال؟ أَمْ يُوسُفُ، وہ معادل جو تھا اس کو دیکھیے حذف کر دیا گیا، لیکن یاد رکھیے حذف کرنے کے باوجود تقدیراً اس کا اعتبار کیا جاتا ہے، گویا معادل اب بھی موجود ہے۔ اگرچہ لفظوں میں ذکر نہیں کیا گیا، لیکن تقدیراً اب بھی کیا ہے؟ موجود ہے۔ تو أَأَنْتَ فَعَلْتَ هَذَا کیا آپ نے یہ کام کیا ہے؟ تو یا أَرَاغِبٌ أَنْتَ عَنِ الْأَمْرِ کیا آپ اس کام سے اعراض کرنے والے ہیں؟ آگے أَمْ راغِبٌ فِيهِ معادل کو حذف کر دیا گیا۔ یا أَإِيَّايَ تَقْصِدُ أَمْ خَالِدًا، أَمْ خَالِدًا کو کیا کر دیا گیا؟ صرف کیا کہا گیا؟ أَإِيَّايَ تَقْصِدُ کیا آپ میرا ارادہ کر رہے ہیں؟ یا حال کے اندر أَرَاكِبًا جِئْتَ کیا آپ سوار ہو کر آئے ہیں؟ آگے جو معادل تھا أَمْ مَاشِيًا اس کو حذف کر دیا گیا، لیکن تقدیراً ابھی بھی وہ معتبر ہے اس۔ أَيَوْمَ الْخَمِيسِ قَدِمْتَ کیا جمعرات کے دن آپ آئے ہیں؟ آگے جو معادل تھا أَمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ اس کو کیا کر دیا گیا؟ حذف کر دیا گیا۔ یہ تو تھا تصور کے اندر، تصور کے اندر۔ ہمزہ کے ذریعے آپ تصور کو بھی طلب کر سکتے ہیں، تصدیق کو بھی۔ تصور کو طلب کر رہے ہیں، تو اس کو ہمزہ کے بعد ذکر کریں اور اس کے ساتھ ام متصلہ پھر آگے لائیں اور ام متصلہ کے بعد اس کے معادل کو ذکر کریں گے تصور کی طلب میں ہمزہ کے اندر۔ اور اگر ہمزہ کے ذریعے آپ کس کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہیں؟ تصدیق کے بارے میں، اس کا بھی بتلا رہے ہیں۔ وَالْمَسْئُولُ عَنْهُ فِي التَّصْدِيقِ النِّسْبَةُ اور مسؤول عنہ وہ چیز جس کے بارے میں پوچھا گیا ہو گا تصدیق میں النِّسْبَةُ وہ کیا ہو گی؟ نسبت ہو گی۔ میں نے بتلایا تھا کہ تصدیق کے بارے میں سوال کیا جا رہا ہو، آپ کو کیسے پتہ چلے گا؟ اس کے اس کے جواب میں نعم یا لا آئے گا۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں أَزَيْدٌ قَائِمٌ کیا زید کھڑا ہے؟ آپ جواب میں کہتے ہیں نعم۔ معلوم ہوا کہ میں نسبت کے بارے میں سوال کر رہا ہوں۔ میرے مجھے اس بات کا ادراک ہی نہیں ہے کہ قیام زید کے لیے ثابت ہے یا ثابت نہیں ہے بھئی۔ جبکہ تصور میں نسبت کا ادراک ہوتا تھا، البتہ تعیین نہیں ہوتی تھی۔ جبکہ یہاں سرے سے نسبت کا ادراک ہی ذہن میں نہیں ہو گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔ تو لہٰذا آپ اس نسبت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ ایسا ہے یا ایسا نہیں ہے یعنی کیا قیام زید کے لیے ثابت ہے یا ثابت نہیں ہے؟ مجھے بتلا دو، مجھ سے مجھے علم نہیں ہے۔ وَلَا يَكُونُ لَهَا مُعَادِلٌ اور اس کا کوئی معادل بھی نہیں ہو گا۔ نسبت کے بارے میں سوال کیا جائے گا تصدیق میں ہمزہ کے ذریعے اور اس کا معا- اس نسبت کا معادل بھی نہیں ذکر ہو گا بھئی۔ معادل تو وہاں جہاں دو چیزوں میں تعیین کے بارے میں سوال کیا جا رہا ہو، وہاں معادل اس دو چیزیں ذکر ہوتی ہیں کہ یہ ہے یا یہ ہے، مجھے بتاؤ ذرا اور یہاں تو آپ دو چیزوں میں تعیین کو نہیں پوچھ رہے، بلکہ نسبت ہی کے بارے میں پوچھ رہے ہیں کہ یہ نسبت واقع ہوئی ہے یا نسبت واقع نہیں ہوئی بھئی، تو یہاں معادل کا کی بات ہی نہیں ہے، تو اس لیے ذکر بھی نہیں ہو گا۔ فَإِنْ جَاءَتْ أَمْ بَعْدَهَا قُدِّرَتْ مُنْقَطِعَةً مثلاً بھئی میں نے ہمزہ کے ذریعے نسبت کے بارے میں سوال کیا اور کیا کہا؟ أَزَيْدٌ قَائِمٌ کیا زید کھڑا ہے؟ تو دیکھیے بات پوری ہے۔ آپ کہیں گے نعم یا آپ کہیں گے لا۔ لیکن اس کے ساتھ اگر کبھی ام بھی آ جائے، أَزَيْدٌ قَائِمٌ أَمْ عَمْرٌو قَائِمٌ؟ ابھی بات گزری۔ دوبارہ ذرا میرے لفظوں پہ غور کریں۔ أَزَيْدٌ قَائِمٌ أَمْ عَمْرٌو قَائِمٌ معلوم ہوا یہ ام منقطعہ ہے۔ کیا ہے؟ ام منقطعہ ہے۔ ام منقطعہ ہے، کیونکہ میں نسبت کے بارے میں سوال کر رہا ہوں اور نسبت کے بارے میں جب سوال کیا جائے، وہاں تو ام متصلہ نہیں آتا، معلوم ہوا یہ ام کون سا ہے؟ منقطعہ۔ اور ام منقطعہ کس کو کہتے تھے؟ جس میں ام سے پہلے ایک بات کی جائے اور پھر اس کو چھوڑ دیا جائے، بالکل ترک کر دیا جائے اور دوسری بات کی طرف انسان چلا جائے۔ تو پہلے میں نے زید کے بارے میں سوال کر دیا، لیکن وہ غلطی سے میں نے کر دیا، میں نے تو پوچھنا ہی نہیں تھا زید کے بارے میں، میرا اس سے کام ہی نہیں، میرا تو میں کس کو تلاش کر رہا ہوں مثلاً؟ عمرو کو۔ تو لہٰذا یہ مثلاً جو بھی اس موقع محل کے مطابق سوال ہو، تو پہلے سوال کو میں نے چھوڑ دیا اور پھر کس کے بارے میں سوال کر لیا؟ عمرو کے بارے میں، تو أَزَيْدٌ قَائِمٌ أَمْ عَمْرٌو قَائِمٌ؟ تو اب آپ جواب میں کہتے ہیں نعم، تو آپ گویا دراصل مجھے کیا بتلا رہے ہیں؟ کہ عمرو کھڑا ہے۔ کیونکہ دوسرے پہلے سوال کو تو میں نے کیا کر دیا؟ چھوڑ أَزَيْدٌ قَائِمٌ، اس کو میں نے چھوڑ دیا۔ آگے کیا کہا؟ أَمْ عَمْرٌو قَائِمٌ کیا عمرو کھڑا ہے؟ تو اب آپ کہتے ہیں نعم، تو یہ دوسرے سوال کا جواب ہے، پہلے کا نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا اس میں میں نے آپ سے کہا أَزَيْدٌ قَائِمٌ أَمْ عَمْرٌو قَائِمٌ، آپ جواب میں کہیں زید، تو یہ آپ کا جواب درست نہیں ہے یا آپ جواب میں کہتے ہیں عمرو، تو جواب میں نہ زید آ سکتا ہے، نہ عمرو، کیونکہ زید یا عمرو تو جواب میں تب آئے گا جب میں نے تعیین کے بارے میں سوال کیا ہو اور میں تعیین کے بارے میں سوال کر رہا ہوں یا نسبت کے بارے میں سوال کر رہا ہوں؟ نسبت کے بارے میں سوال کر رہا ہوں۔ جب نسبت کے بارے میں سوال کر رہا ہوں، تو جواب میں نعم یا لا ہی آئے گا، تعیین نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ معلوم ہوا تعیین تو ہے ہی یہاں پر۔ عَمْرٌو قَائِمٌ عمرو ہی کے بارے میں تو میں پوچھ رہا ہوں کہ اسی کے بارے میں مجھے بتاؤ، اس کے ساتھ قیام ہے یا قیام نہیں ہے بھئی۔ فَإِنْ جَاءَتْ أَمْ بَعْدَهَا پس اگر ام آ جائے بَعْدَهَا کس کے بعد؟ ہا ضمیر لوٹائیں نسبت۔ فَإِنْ جَاءَتْ أَمْ بَعْدَهَا اگر ام آ جائے اس نسبت کے بعد قُدِّرَتْ مُنْقَطِعَةً تو اس کو منقطعہ فرض کیا جائے گا، منقطعہ مانا جائے گا کہ یہ ام کون سا ہے؟ ام منقطعہ ہے وَتَكُونُ بِمَعْنَى بَلْ اور یہ بل کے معنی میں ہو گا۔ بھئی نحو کی کتابوں میں آپ کو یہ بھی بتلاتے ہیں کہ یہ جو ام منقطعہ ہوتا ہے، یہ بل کے معنی میں ہوتا ہے۔ بھئی بل بھی اعراض کے لیے آتا ہے، ایک چیز کو چھوڑ کر انسان دوسرے کی طرف عدول کرتا ہے۔ آپ اپنے ساتھی سے کہتے ہیں جَاءَنِي زَيْدٌ بَلْ عَمْرٌو، میرے پاس زید آیا تھا، بلکہ عمرو۔ کیا معنی ہوتا ہے؟ معلوم ہوا زید غلطی سے آپ کہہ بیٹھے، کس کا ذکر کرنا چاہتے تھے؟ عمرو کا، اسی لیے آپ بل لائے، اس سے اعراض کیا، پہلے لفظ کو چھوڑ دیا اور عمرو کو، جَاءَنِي زَيْدٌ بَلْ عَمْرٌو بلکہ عمرو بھئی۔ تو جیسے بل اعراض کے لیے آتا ہے، اسی لیے اس ام کے بارے میں بھی کہتے ہیں یہ بل کے معنی میں ہے یعنی اعراض کے لیے ہے یعنی اس میں اس سے ماقبل کی بات ہی کو چھوڑ دیا گیا، اس سے اعراض کر کے دوسری بات بعد میں ام کے بعد کر دی گئی بھئی۔ جیسے إِنَّهَا لَإِبِلٌ، آپ نے پہلے تو خبر دی تھی، پھر اس خبر سے اعراض کیا، اس کو چھوڑ دیا اور آگے کہا أَمْ شَاءٌ أي أَهِيَ شَاءٌ، کیا یہ بکریاں ہیں؟ تو پہلے خبر دے رہے تھے، پھر اس کو آپ نے چھوڑ کر کیا بات شروع کر دی آگے؟ باقاعدہ سوال شروع کر دیا۔ یا پہلے آپ نے کہا أَزَيْدٌ عِنْدَكَ أَمْ عَمْرٌو عِنْدَكَ، تو آپ نے پہلے زید کے بارے میں سوال کیا تھا، لیکن پھر اس سوال ہی کو چھوڑ دیا سرے سے کہ غلطی سے آپ نے کر دیا تھا یا کسی اور وجہ سے، آپ فوراً دوسرے سوال کی طرف چلے گئے اور کیا پوچھا؟ کیا عمرو ہے آپ کے پاس بھئی؟ سبق سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ کوئی ایسی بات تو نہیں جو سمجھ میں نہ آئی ہو؟ چلیے، بس بھئی ہَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ