کتاب پر آگے سبق دیکھیے بھئی، ‏ سبقِ دہم، دسواں سبق۔ ‏ اصطلاحِ "ما ھو" کا بیان۔ یہ "ما ھو" منطقیوں کی اصطلاح ہے بھئی، اس میں اس کا بیان ہوگا۔ تو کہتے ہیں اصطلاحِ ‏‏"ما ھو" کا بیان، دیکھ رہے ہیں بھئی کتاب پر؟ جاننا چاہیے کہ اہل منطق نے یہ اصطلاح مقرر کی ہے اور نیز محاورہ ‏بھی ہے کہ لفظِ "ما ھو"، کیا ہے وہ، سے کسی شے کی حقیقت کا سوال کرتے ہیں۔ جیسے کہیں "الانسان ما ھو"، انسان ‏کیا ہے؟ تو مطلب اس کا یہ ہے کہ انسان کی حقیقت کیا ہے۔ اگر "ما ھو" سے سوال ایک شے کو لے کر کیا، تو مطلب یہ ‏ہوگا کہ اس کی وہ حقیقت جو اس کے ساتھ مخصوص ہے بیان کرو، اور جواب میں حقیقتِ مخصوصہ آئے گی۔ جیسے ‏کہیں کہ "الانسان ما ھو"، تو جواب اس کا ہے "حیوانِ ناطق"، اس لیے کہ یہی اس کی حقیقتِ مختصہ ہے۔ اچھا بھئی، آج ہم "ما ھو" کے بارے میں پڑھیں گے بھئی۔ اس سے پہلے ذرا گزشتہ چند اسباق کا مختصر خلاصہ سن ‏لیجیے بھئی۔ آپ نے کلی اور جزئی کے بارے میں پڑھا بھئی۔ آپ نے پڑھا تھا کہ کلی اور جزئی یہ کس کا نام ہے؟ کلی ‏اور جزئی کس کا نام ہے؟ مفہوم کا نام ہے۔ کس چیز کا نام ہے؟ مفہوم بھئی۔ یعنی وہ چیز جو ہمارے بعد، کسی چیز کی ‏جو صورت معنی ہمارے ذہن میں آتا ہے، وہ ہے اس کا مفہوم بھئی۔ اور یہ مفہوم بھئی، اگر اس میں شرکت ہو سکے ‏یعنی کئی چیزوں پر صادق آ سکے، تو اس کو کلی کہتے ہیں۔ جیسے درخت، یہ کلی ہے یا جزئی؟ یہ کلی ہے۔ ہر درخت ‏کو درخت کہہ سکتے ہیں۔ اسی طرح میز، یہ کلی ہے یا جزئی؟ یہ کلی ہے۔ ہر میز کو میز کہیں گے۔ اسی طرح کرسی، یہ ‏بھی کیا ہے؟ کلی ہے۔ تو وہ مفہوم جو کثیرین پر صادق آئے، آسان لفظوں میں اگر یوں یاد کرنا چاہیں یوں بھی آپ یاد کر ‏سکتے ہیں، وہ مفہوم جو کثیرین پر بولا جائے اس کو، وہ مفہوم جو کثیرین پر بولا جا سکے اس کو کلی کہتے ہیں۔ یا وہ ‏مفہوم جو کثیرین پر صادق آئے اس کو کلی کہتے ہیں۔ اور جو مفہوم کثیرین پر صادق نہ آئے، جیسے زید، اس کو کیا ‏کہتے ہیں؟ اس کو جزئی کہتے ہیں بھئی۔ اس کے بعد آپ نے حقیقت اور ماہیت کے بارے میں پڑھا، کہ کسی شے کی ماہیت وہ چیزیں ہیں جن سے مل کر وہ چیز ‏بنے۔ مثلاً انسان کی حقیقت اور ماہیت کیا ہے؟ حیوانِ ناطق۔ حیوان اور ناطق یہ دو چیزیں ملیں گی تو انسان بن جائے گا۔ ‏اسی طرح اگر گھوڑے کی حقیقت پوچھی جائے تو وہ کیا ہے؟ حیوانِ صاہل ہے، ہنہنانے والا حیوان۔ حیوانِ ناطق کا کیا ‏معنی تھا؟ بولنے والا حیوان، یا یوں بعضوں نے کہا عقل رکھنے والا حیوان۔ اور حیوانِ صاہل کا کیا معنی ہوا؟ ہنہنانے ‏والا حیوان۔ اسی طرح اگر گدھے کی حقیقت پوچھی جائے، تو گدھے کی حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ ناہق۔ ہاں، تو اسی طرح اگر ‏گدھے کی حقیقت پوچھی جائے تو جواب میں آپ کیا کہیں گے؟ حیوانِ ناہق، نون الف ہا اور قاف بھئی دو نقطوں والا، ‏حیوانِ ناہق۔ وہ جو مخصوص آواز ہے گدھے کی بھئی، اس کو نہیق کہتے ہیں بھئی۔ جیسے گھوڑے کی مخصوص آواز ‏جو ہے اس کو صہیل کہتے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ اسی سے کیا، حیوانِ صاہل۔ اسی طرح گدھے کی ‏مخصوص آواز نہیق بھئی، تو اسی سے کیا بن گیا؟ حیوانِ ناہق بھئی۔ اور اسی طرح اگر گائے بیل کی حقیقت کی آپ سے ‏پوچھی جائے، تو جواب میں کیا کہیں گے؟ حیوانِ ذو خوار بھئی، حیوانِ ذو خوار۔ اور اسی طرح اگر بھیڑ بکری کی ‏حقیقت پوچھی جائے تو کیا کہیں گے؟ بکری کی حقیقت پوچھی جائے تو جواب میں کیا کہیں گے؟ حیوانِ ذو رغاء، حیوانِ ‏ذو رغاء۔ پھر ایک دفعہ دہرا لیجیے۔ انسان کی حقیقت؟ حیوانِ ناطق۔ گھوڑے کی حقیقت؟ حیوانِ صاہل، صاد کے ساتھ۔ اور ‏گدھے کی حقیقت؟ حیوانِ ناہق۔ گائے بیل کی حقیقت؟ حیوانِ ذو خوار۔ اور بکری کی حقیقت؟ حیوانِ ذو رغاء۔ اس کے بعد آپ نے کلی ذاتی اور کلی عرضی کے بارے میں پڑھا۔ میں نے بتایا تھا ذاتی وہ چیز جو کسی کی حقیقت میں ‏داخل ہو، یا پوری حقیقت ہو یا حقیقت میں داخل ہو۔ اور عرضی وہ ہے جو کسی چیز کی حقیقت میں داخل نہیں۔ یا یوں کہو، ‏وہ چیزیں جن سے مل کر کوئی چیز بنے وہ ذاتی کہلاتی ہیں۔ وہ چیزیں جن سے مل کر کوئی چیز بنے وہ ذاتی کہلاتی ‏ہیں، اور جس سے جو کسی چیز میں پائی تو جائیں لیکن اس چیز کا دارومدار ان پر نہ ہو۔ بھئی دیکھیں، کچھ چیزیں ایسی ‏ہیں جن پر ایک چیز کا دارومدار ہوتا ہے۔ جیسے انسان کا دارومدار کس پر ہے؟ حیوانِ ناطق پر۔ حیوان بھی ہونا چاہیے ‏اور ناطق، یہ دو چیزیں ہوں گی تو انسان ہوگا۔ اور اس کے علاوہ بھی تو انسان کی صفات ہیں۔ مثلاً کالا ہونا، گورا ہونا، ‏عالم ہونا، جاہل ہونا، اور ہاتھ پاؤں وغیرہ مختلف چیزیں ہیں نا انسان کی صفات؟ تو یہ چیزیں بھی ہیں، لیکن ان پر انسان ‏کے وجود کا دارومدار نہیں ہے۔ تو گویا دو طرح کی چیزیں ہوگئیں؛ کچھ وہ چیزیں جن پر ایک چیز کے وجود کا دارومدار ‏ہوتا ہے، ان کو ذاتی کہتے ہیں، ان کو ذاتی۔ اور دوسری باقی چیزیں جو پائی تو جائیں کسی چیز میں لیکن اس پر اس کے ‏وجود کا دارومدار نہ ہو، اس کو عرضی کہتے ہیں، عرضی۔ اور پھر یہی ذاتی یا عرضی زیادہ چیزوں میں پایا جائے، تو ‏اس کو پھر کلی ذاتی اور کلی عرضی کہیں گے۔ اور تعریف آپ پڑھ چکے، کلی ذاتی کسے کہتے ہیں؟ جو اپنے شاباش، ‏جو اپنے جزئیات، جزئیات کی جگہ افراد بھی آپ کہہ سکتے ہیں، جزئیات اور افراد کا ایک معنی، وہ کلی جو اپنے جزئیات ‏اور افراد کی پوری حقیقت ہو یا حقیقت کا جز ہو، اس کو کلی ذاتی کہتے ہیں۔ تو کلی ذاتی وہ ہے جو اپنے جزئیات کی پوری حقیقت ہو یا حقیقت کا جز ہو۔ تو حیوانِ ناطق یہ پوری حقیقت انسان کی، یہ ‏بھی کلی ذاتی ہے۔ ایک تو ذاتی ہے کیونکہ پوری حقیقت ہے، اور کلی بھی ہے۔ کلی بھی ہے اور ذاتی بھی ہے۔ ذاتی کیوں؟ ‏کیونکہ اسی سے وہ چیز بن رہی ہے۔ اسی سے انسان ہے۔ حیوانِ ناطق ہے تو انسان ہے۔ حیوان اور ناطق نہیں تو انسان ‏بھی نہیں۔ تو ذاتی بھی ہوئے اور کلی بھی ہے۔ کلی وہ ہے نا جو کثیرین پر بولا جائے۔ زید بھی کیا ہے؟ حیوانِ ناطق۔ بکر ‏بھی کیا ہے؟ حیوانِ ناطق۔ خالد بھی کیا ہے؟ حیوان۔ تو جتنے انسان ہیں دیکھو، ایک ہے یا زیادہ ہیں؟ زیادہ۔ تو دیکھو، یہ ‏مفہوم ایک پر صادق آرہا ہے یا کثیرین پر؟ کثیرین پر۔ تو یہ ذاتی بھی ہے اور کلی بھی ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ کلی ‏ذاتی۔ تو انسان کے لیے حیوانِ ناطق یہ کلی ذاتی ہے، کیونکہ یہ انسان کی پوری حقیقت ہے۔ اسی طرح انسان کے لیے ‏حیوان، یہ بھی کیا ہے؟ کلی ذاتی، کیونکہ یہ حقیقت کا جز ہے۔ اسی طرح ناطق، یہ بھی انسان کے لیے کیا ہے؟ کلی ذاتی، ‏کیونکہ یہ بھی کیا حقیقت کا جز ہے۔ تو پوری حقیقت ہو اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ کلی ذاتی۔ اور حقیقت کا جز ہو اس کو ‏بھی کیا کہتے ہیں؟ کلی ذاتی کہتے ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں کلی عرضی ہے، جو اپنے جزئیات کی نہ پوری حقیقت ہو اور نہ حقیقت کا جز ہو۔ تو جو نہ ‏اپنے جزئیات کی پوری حقیقت ہو اور نہ حقیقت کا جز ہو، مثلاً ہاں ماشی، کیا ہے؟ ماشی، چلنے والا۔ اب ہر حیوان کیا ‏ہے؟ ماشی ہے، اپنے پاؤں سے چلنے والا ہے۔ اور یہ اس کی حقیقت کا، اس حیوان کا دارومدار اس پر نہیں ہے۔ تو یہ ذات ‏میں داخل نہیں، معلوم ہوا یہ عرضی ہے، اور کلی ہے زیادہ میں پایا جا رہا ہے۔ اسی طرح ابھی میں نے ذکر کیا، کالا ‏گورا ہونا، عالم جاہل ہونا، یہ بھی کیا ہیں؟ کلی عرضی ہیں بھئی۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ کلی کا وجود خارج میں نہیں ہوتا۔ کلی کا وجود خارج میں کیوں نہیں ہوتا؟ وجہ کیا ‏ہے؟ کلی کا وجود خارج میں کیوں نہیں ہوتا، میں نے وجہ ذکر کی تھی؟ مفہوم کا ہاں، کیونکہ کلی مفہوم کا نام ہے اور ‏مفہوم کہاں ہوتا ہے؟ ذہن میں ہوتا ہے، تو خارج میں نہیں۔ کلی اس مفہوم کا نام ہے جو کثیرین پر صادق آئے، جو کثیرین ‏پر بولا جائے۔ پھر اس کے بعد آپ نے پڑھا تھا کہ کلی ذاتی اور کلی عرضی کی پانچ قسمیں ہیں کل، اور ان کو کیا کہتے ‏ہیں؟ کلیاتِ خمسہ، کلیاتِ خمسہ کہتے ہیں۔ اور کلی ذاتی کی تین قسمیں اور کلی عرضی کی دو قسمیں، تو کل پانچ قسمیں ‏ہیں۔ ان کو کیا کہتے ہیں؟ پھر دہراؤ، کلیاتِ خمسہ، یعنی پانچ کلیات۔ کلی ذاتی کی تین قسمیں کون سی ہیں؟ جنس، نوع، اور ‏فصل۔ جنس، نوع، اور فصل۔ اور کلی عرضی کی دو قسمیں کون سی ہیں؟ خاصہ اور عرضِ عام۔ اچھا، جنس، نوع، اور ‏فصل۔ جنس کی کیا تعریف پڑھی تھی؟ وہ کلی ذاتی ہے جو ایسے افراد پر بولی جائے جن کی حقیقتیں الگ الگ ہوں، ‏جیسے حیوان۔ انسان پر بھی بولا جاتا ہے، اس میں انسان بھی آگئے، گھوڑے بھی آگئے، گدھے بھی آگئے، گائے بیل ‏بکری بھی آگئیں، اور سب کی حقیقت کیا ہے؟ الگ الگ۔ تو یہ حیوان ایسی کلی ہے جو ایسے افراد پر بولی جاتی ہے جن ‏کی حقیقتیں الگ، تو یہ جنس ہے۔ اور نوع، نوع کسے کہتے ہیں؟ وہ کلی ذاتی ہے جو ایسے افراد پر بولی جاتی ہے کہ ان ‏کی حقیقت ایک ہو، جیسے حیوانِ ناطق، حیوانِ صاہل، اور حیوانِ ذو خوار، یہ جتنے بولے یہ سب کی حقیقتیں کیا ہیں؟ ‏ایک ایک ہیں۔ حیوانِ صاہل، صرف اس میں گھوڑے آگئے، یہ کیا ہے؟ نوع ہے۔ اس کے بعد فصل آیا تھا۔ فصل وہ کلی ذاتی ہے جو ایسے افراد پر بولی جائے جن کی حقیقت ایک ہو، اور وہ اس حقیقت کو ‏باقی حقیقتوں سے جدا کر دے۔ تو اس کو فصل۔ جیسے انسان کے لیے فصل کیا ہے؟ ناطق۔ گھوڑے کے لیے فصل کیا ‏ہے؟ صاہل۔ اور گدھے کے لیے فصل کیا ہے؟ ناہق، شاباش بھئی۔ اس کے بعد کلی عرضی کی دو قسمیں تھیں: خاصہ اور ‏عرضِ عام۔ خاصہ کسے کہتے ہیں؟ وہ کلی عرضی ہے جو ایسے افراد پر بولی جائے جن کی حقیقت ایک ہو، جیسے ‏جیسے ضحک، ہنسنا۔ یہ ہنسنا کس میں ہے؟ صرف انسان میں ہے اور حیوانوں میں نہیں۔ یا جیسے کتابت، یہ صرف کس ‏میں ہے؟ لکھنا، یہ صرف حیوانات میں سے صرف کس کے اندر ہے؟ انسان میں۔ اور کیا اس پر انسان کا دارومدار ہے؟ ‏نہیں۔ تو لہٰذا یہ کلی عرضی ہوئی اور یہ صرف انسان میں ہے تو خاصہ ہوا۔ اور دوسری قسم کیا ہے؟ عرضِ عام۔ عرضِ ‏عام کسے کہتے ہیں؟ وہ کلی عرضی ہے جو ایسے افراد پر بولی جائے جن کی جن کی حقیقتیں مختلف ہوں، جن کی ‏حقیقتیں مختلف ہوں۔ جیسے ابھی مثال گزر گئی ماشی۔ ماشی انسان بھی ہے، اپنے پاؤں سے چلنے والا، بکری بھی ہے، ‏گدھا بھی ہے، گھوڑا بھی ہے، تو یہ سب کیا ہیں؟ ماشی۔ اور ماشی کیا اس پر ان کا وجود کا دارومدار ہے؟ نہیں۔ تو یہ ‏عرضِ عام ہے، جو مختلف حقیقتوں والے افراد میں، جزئیات میں پائی جائے۔ بات یہاں تک سمجھ میں آگئی؟ اس کے بعد اب آج کے سبق "ما ھو" کے بارے میں ہم پڑھیں گے۔ اچھا، اس سے پہلے ایک دو باتیں سمجھ لیجیے۔ یاد ‏رکھو اس کائنات میں، اس دنیا میں جتنی چیزیں ہیں وہ دو قسم پر ہیں: یا وہ جوہر ہوں گی یا عرض ہوں گی۔ اس دنیا میں ‏جتنی چیزیں ہیں وہ کتنی قسم پر ہیں؟ دو قسم پر: یا جوہر یا عرض۔ جوہر وہ جس کا اپنا الگ وجود ہو۔ جوہر کسے کہتے ‏ہیں؟ جس کا اپنا الگ وجود ہو۔ اور عرض وہ ہے جس کا اپنا الگ وجود نہ ہو۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ جوہر کسے کہتے ‏ہیں؟ جس کا اپنا الگ وجود ہو، وہ اپنے وجود کے لیے کسی دوسرے کی محتاج نہ ہو۔ اور عرض وہ ہے جس کا اپنا الگ ‏وجود نہیں، وہ اپنے وجود کے لیے، اپنے وجود میں غیر کی محتاج ہے۔ جیسے مثالیں میں پہلے بیان کر چکا، مثلاً ‏دیکھیے درخت، درخت کا اپنا الگ وجود ہے۔ پہاڑ، اس کا اپنا الگ وجود ہے۔ اسی طرح دیکھیے پانی، اس کا اپنا الگ ‏وجود ہے۔ اور مثال دیجیے، گھاس، اس کا اپنا الگ وجود ہے۔ دیوار، اس کا اپنا الگ وجود ہے۔ گھر، اس کا اپنا الگ وجود ‏ہے۔ تو جس چیز کا بھی اپنا الگ وجود ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ جوہر۔ اور کچھ چیزیں وہ ہیں جن کا اپنا الگ وجود نہیں، ‏وہ اپنے وجود میں غیر کی محتاج ہیں، وہ غیر ہے تو اس کا بھی وجود، وہ غیر نہیں تو اس کا اپنا الگ وجود بھی نہیں۔ ‏جیسے دھوپ، سورج ہے تو دھوپ ہے، سورج نہیں تو دھوپ بھی نہیں۔ یا جیسے روشنی اور چراغ، چراغ ہے تو روشنی ‏ہے، چراغ نہیں تو روشنی بھی نہیں۔ یا اسی طرح جیسے میں نے ذکر کیا تھا لمبائی اور چوڑائی، لمبائی اور چوڑائی کسی ‏چیز کی صفت ہوتی ہے، اس کا اپنا الگ وجود نہیں، وہ چیز ہے تو اس کی لمبائی اور چوڑائی بھی ہے، اگر وہ چیز نہیں ‏تو اس کی لمبائی اور چوڑائی بھی نہیں۔ مثلاً دیکھو یہ کتاب ہے، اس کی کچھ لمبائی ہے کچھ چوڑائی ہے۔ کیا آپ ایسا کر ‏سکتے ہیں لمبائی کو کتاب سے ذرا الگ کر دو؟ کر سکتے ہیں؟ نہیں، یہ کتاب کی صفت ہے، یہ الگ ہو ہی نہیں سکتی۔ ‏کتاب ختم، جس دن کتاب ختم ہوگی ساتھ ہی اس کی لمبائی بھی ختم ہو جائے گی، وہ الگ ہو ہی نہیں سکتی۔ اسی طرح آپ ‏کے پاس مثلاً لکڑی کی ایک، لکڑی کا تختہ ہے، اس کی کچھ لمبائی ہوگی اور کچھ چوڑائی۔ اب اگر آپ کسی سے کہیں ‏بھئی اس کی ذرا لمبائی الگ کر دو اس سے، یا اس کی چوڑائی الگ کر دو، یا اس کی گہرائی ذرا اس سے الگ کر دو، تو ‏وہ کہے گا بھئی یہ اس کی، اس سے جدا ہو ہی نہیں سکتی، جب تک اس لکڑی کا وجود ہے اس کی لمبائی بھی ہے اس کی ‏چوڑائی۔ اور جیسے ہی یہ لکڑی کو آپ ختم کریں گے، جلا دیں گے، ختم کریں گے، اس کی لمبائی چوڑائی بھی کیا ہو ‏جائے گی؟ ختم، کیونکہ اس کا اپنا الگ کوئی وجود ہی نہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ اسی طرح یہ رنگ ہیں چیزوں پہ، یہ رنگ بھی ان کا اپنا الگ وجود نہیں، یہ چیزوں کی ‏صفت ہیں۔ مثلاً سفیدی، یہ مثلاً اس کپڑے کی صفت ہے، آپ اس کپڑے سے سفیدی کو الگ کر لیں؟ نہیں کر سکتے، ‏کیونکہ اس سفیدی کا اپنا الگ وجود ہی نہیں ہے، یہ کپڑا ہے تو اس کی یہ سفیدی بھی ہے، کپڑا جس دن ختم ہوگیا اس کی ‏سفیدی بھی ساتھ ہی ختم ہو جائے گی۔ یا جیسے سخاوت، سخاوت، سخی آدمی ہے تو اس کی سخاوت بھی ہے، یہ سخاوت ‏اس سے الگ نہیں ہو سکتی، جس دن وہ سخی آدمی ختم اس کی سخاوت بھی ختم۔ یا جیسے بہادری، بہادری کسی کی صفت ‏ہوتی ہے، کیا آپ نے کبھی الگ سے بہادری دیکھی ہے؟ نہیں، الگ اس کا وجود ہی نہیں، یہ تو کسی کی صفت ہوتی ہے، ‏وہ آدمی ہے تو اس کی بہادری ہے، یا وہ حیوان مثلاً شیر ہے تو اس کی بہادری ہے، وہ شیر یا وہ آدمی نہیں تو اس کی ‏بہادری کا بھی وجود نہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ معلوم ہوا چیزیں کتنی قسم پر؟ دو قسم پر۔ ایک وہ جن کا اپنا الگ ‏وجود ہو، جن کا اپنا الگ وجود ہو، اس کو قائم بالذات بھی کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ قائم بالذات، یعنی وہ چیز جو خود قائم ‏ہے یعنی اس کا اپنا الگ وجود ہے، یعنی اپنے وجود میں وہ غیر کی محتاج نہیں، تو اس کو جوہر کہتے ہیں، جوہر۔ اور ‏کچھ چیزیں وہ ہیں کہ ان کا اپنا الگ وجود نہیں، وہ جب بھی پائی جائیں گی کسی چیز کی صفت ہو کر پائی جائیں گی، الگ ‏وجود نہیں۔ تو جوہر کسے کہتے ہیں؟ جس کا اپنا الگ وجود ہو، جو قائم بالذات ہو۔ اور عرض کسے کہتے ہیں؟ جس کا اپنا ‏الگ وجود نہ ہو، وہ اپنے وجود میں غیر کی محتاج ہو، اور قائم بالذات نہ ہو، قائم بالذات نہ ہو۔ تو جوہر یاد رکھیے، یہ ‏سب سے اوپر والی جنس ہے۔ باقی ساری دنیا کی چیزیں جن کا اپنا الگ وجود ہے وہ اس کے اندر داخل ہیں، وہ سب جوہر ‏ہیں۔ یہ درخت یہ کیا ہے؟ جوہر ہے۔ یہ پتھر یہ بھی جوہر، پہاڑ یہ بھی جوہر، جو بھی چیزیں آپ دیکھ رہے ہیں جن کا اپنا ‏الگ وجود ہے وہ سب کیا ہیں؟ جوہر ہیں۔ پھر یاد رکھو، چیزیں پھر دو قسم پر ہیں؛ کچھ وہ ہیں جن کا جسم ہے، جسم کسے کہتے ہیں میں نے آپ کو بتلایا تھا؟ جسم ‏جس میں لمبائی ہو، چوڑائی ہو، اور کچھ اس کی گہرائی یا اونچائی کہہ لیں جو بھی آپ کہنا چاہیں۔ لمبائی، چوڑائی، اور ‏گہرائی یہ تین چیزیں پائی جائیں جس میں وہ جسم ہے، چاہے تھوڑی ہو چاہے زیادہ اس سے بحث نہیں۔ مثلاً یہ کتاب ہے، ‏اس کی کچھ لمبائی ہے کچھ چوڑائی ہے کچھ گہرائی، معلوم ہوا یہ جسم ہے۔ پتھر ہوگا اس کی کچھ لمبائی ہوگی کچھ گہرائی ‏ہوگی کچھ چوڑائی، یہ نہیں کہ سارے کی ایک جیسی ہو، پتھر ٹیڑھا میڑھا ہے تو ہر حصے کی الگ کیا ہوگی؟ چوڑائی ‏ہوگی یا گہرائی ہوگی، صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ لیکن ہوگی ضرور، کچھ نہ کچھ چوڑائی، کچھ نہ کچھ گہرائی، کچھ نہ ‏کچھ لمبائی۔ اسی طرح کرسی ہے اس کے ہر حصے کی کچھ نہ کچھ لمبائی، کچھ نہ کچھ چوڑائی، اور کچھ نہ کچھ گہرائی ‏ہوگی۔ تو جس چیز کی بھی چوڑائی، لمبائی، اور گہرائی ہو اس کو جسم کہتے ہیں۔ تو چیزیں دو، گویا دو قسم، یہ جو آپ ‏دیکھ رہے ہیں عموماً جن کا اپنا الگ وجود ہے جن کو آپ دیکھتے ہیں، یہ سب جسم والی ہیں۔ میں نے ابھی مثال ذکر کی ‏درخت، اس کا کیا ہے؟ جسم ہے۔ پتھر کا جسم ہے، پہاڑ کا جسم ہے، اور اسی طرح یہ کتاب کا جسم ہے، تپائی کا جسم ہے، ‏اینٹ کا جسم ہے، اور کیا مثال لیں؟ گاڑی کا جسم ہے۔ تو یہ سب چیزوں کا جسم ہے، تو یہ جوہر ہیں۔ یہ سب کیا ہیں؟ ‏جوہر۔ میں نے بتایا تھا جوہر میں ہر وہ چیز جس کا اپنا وجود ہے وہ، وہ جوہر کے اندر آگئی، چاہے اس کا جسم ہو چاہے ‏جسم نہ ہو۔ یہ جو چیزیں آپ دیکھ رہے ہیں ان کا تو جسم ہے۔ کچھ چیزیں ایسی جن کا جسم نہیں لیکن وہ بھی جوہر میں ‏داخل، جیسے ہوا، ہوا کا جسم نہیں۔ ہوا کا لیکن وجود ہے یا نہیں؟ ہوا موجود ہے کہ نہیں؟ تو وجود ہے اس کا لیکن اس کا ‏جسم نہیں، تو ہوا جوہر میں داخل۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تمام دنیا کی چیزیں کتنی قسم پر؟ دو قسم پر، یا تو ان کا اپنا الگ وجود ہوگا یا الگ وجود نہیں ‏ہوگا۔ اگر اپنا الگ وجود ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ جوہر۔ اور اپنا الگ وجود نہ ہو تو عرض۔ پھر جن کا اپنا الگ وجود ہے ‏ان کا جسم ہوگا یا جسم نہیں، وہ سب جوہر ہی ہیں چاہے جسم ہو چاہے جسم نہ ہو۔ جن کا جسم ہو، مثال مثلاً کوئی مثال ‏دیجیے جن کا جسم ہو؟ درخت ہے وغیرہ، انسان ہے، گائے بیل بکری یہ سب کا جسم ہے، اور جن کا جسم نہ ہو لیکن وجود ‏ہے جیسے ہوا وہ بھی کس میں داخل؟ جوہر میں۔ تو جوہر گویا دو قسم پر ہوگیا، ایک وہ جوہر جس کا جسم ہوگا، ایک وہ ‏جوہر جس کا جسم نہیں ہوگا۔ جسم اور وجود میں فرق سمجھ آرہا ہے؟ وجود، یعنی جو چیز موجود ہے، موجود ہے۔ اور ‏جسم، جس کی کچھ لمبائی ہو چوڑائی ہو اور گہرائی ہو۔ تو لہٰذا جوہر گویا دو قسم پر ہوگیا، یا تو اس کا جسم ہوگا یا جسم ‏نہیں ہوگا۔ وجود تو ہے لیکن جسم نہیں۔ پھر جسم دو قسم پر، یا جسمِ نامی ہوگا یا جسمِ نامی نہیں ہوگا۔ جسمِ نامی نہ ہو اس کی کوئی مثال دو؟ جسم ہو لیکن نامی نہ ‏ہو۔ کتاب ہے، کوئی بھی چیز آپ دیکھ لیں جو بڑھنے والی، جسمِ نامی میں کیا کیا ہیں؟ بڑھنے والا جسم، کون کون سے ہیں ‏بڑھنے والے جسم؟ درخت ہیں اور حیوانات ہیں، بس یہ دو ہی چیزیں ہیں۔ باقی ساری چیزیں، پتھر، پتھر، تپائی، پہاڑ، جو ‏بھی چیزیں آپ کو ہیں یہ جسم ہے لیکن بڑھنے والا نہیں تو وہ جسم ہے۔ تو پھر، تو جوہر کتنی قسم پر؟ دو، یا جسم ہوگا یا ‏جسم نہیں۔ پھر جسم دو قسم پر، جسمِ نامی ہوگا یا جسمِ نامی نہیں۔ جسمِ نامی ہو اس میں کون کون رہ گئے؟ درخت بھی اور ‏حیوانات بھی۔ تو پھر یہ جسمِ نامی دو قسم پر، یا حیوان ہوگا یا حیوان نہیں ہوگا۔ حیوان ہوگا جیسے انسان، گائے، بیل، ‏بکری وغیرہ، اور حیوان نہ ہو جیسے درخت ہے، جسمِ نامی ہے لیکن حیوان نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اب جوہر اور عرض کا پتہ چل گیا اچھی طرح؟ پھر ایک دفعہ دہرا لیں۔ جوہر کسے کہتے ہیں؟ جس کا اپنا الگ وجود ہو۔ ‏اور عرض، جس کا اپنا الگ وجود نہ ہو۔ پھر جوہر میں بعض کا جسم ہوگا، بعض کا جسم نہیں، وہ سب جوہر میں، لیکن ان ‏کا اپنا الگ وجود ضرور ہوگا۔ اس کے بعد آگے یاد رکھیے، یہ جو جنس ہے نا جنس، اس کے مناطقہ نے ان کی ترتیب ‏بنائی ہے۔ جنس کسے کہتے تھے؟ ابھی میں نے پچھلے سبق اسی لیے دہرائے بھئی تاکہ آپ کو یاد رہے۔ جنس کسے ‏کہتے ہیں؟ وہ کلی ذاتی ہے جو ایسے افراد پر بولی جائے جن کی حقیقتیں الگ الگ ہوں، مثلاً جیسے حیوان، جیسے حیوان۔ ‏حیوانِ ناطق کی حقیقتیں الگ الگ ہیں؟ وہ تو ایک ہی ہے، جیسے حیوان بھئی، حیوان کے تحت انسان بھی آگیا، گائے بیل ‏بکری بھی آگئے، تو یہ جنس ہے۔ حیوان سے اوپر چلے جائیں تو جنس آ جائے گی جسمِ نامی۔ جوں جوں ہم اوپر جائیں گے ‏جنس بڑھتی جائے گی، اس میں اور چیزیں شامل ہوتی جائیں گی۔ حیوان کسے کہتے تھے؟ جسمِ نامی بھی ہو، حساس بھی ‏ہو، اور متحرک بالارادہ۔ اس سے اوپر چلے جائیں کیا ہے؟ جسمِ نامی ہے، کیا ہے؟ جسمِ نامی۔ اس میں کون کون ہے؟ ‏درخت بھی ہیں اور حیوانات بھی ہیں۔ پھر اس سے اوپر چلے جائیں، پھر جسم ہے، اسی کو جسمِ مطلق بھی کہتے ہیں۔ کیا ‏کہتے ہیں؟ جسمِ مطلق ہے، اور اس سے اوپر جوہر ہے۔ اس سے اوپر کیا ہے؟ جوہر۔ جوہر میں ابھی ہم نے تقسیم کی تھی ‏نا، جوہر سے نیچے کی طرف چلیں۔ سب سے اوپر کون؟ جوہر، اس میں سب چیزیں آگئیں جن کا اپنا الگ وجود ہے۔ پھر ‏جوہر سے ذرا نیچے آئیں تو تقسیم ہو جاتی ہے؛ کچھ چیزیں وہ ہیں جن کا جسم ہے، کچھ چیزیں وہ ہیں جن کا جسم نہیں۔ تو ‏جن کا جسم ہے تو اس کو کہیں گے ان کے لیے جسم ہے یعنی جسمِ مطلق ہے، کیا ہے؟ جسمِ مطلق۔ مطلق کا معنی ہے آزاد، ‏آزاد۔ صرف جسم کہہ دو تو بھی ٹھیک، جسمِ مطلق کہہ دو تو بھی ٹھیک، بات ایک ہی ہے۔ جسم اور ایک ہے جسمِ نامی۔ ‏دیکھو جسمِ نامی میں نامی کی قید ہے، ہر جسم کو جسمِ نامی کہیں گے؟ نہیں، کون سے جسم کو کہیں گے؟ جو نامی ہو، جو ‏بڑھنے والا ہو۔ تو جسمِ نامی میں تو جسمِ نامی میں کون سی قید موجود ہے؟ نامی کی، کون سی قید موجود ہے؟ نامی۔ پھر ‏بولو، جسمِ نامی میں قید موجود ہے کوئی؟ جی، کون سی قید؟ نامی، نامی، یہ قید ہے۔ جسم تو ہے ہی نا ساتھ قید کیا ہے؟ ‏نامی۔ تو کیا جسمِ نامی کس جسم کو کہیں گے؟ ہر جسم کو نہیں کہہ سکتے، کیونکہ اس میں قید موجود ہے، کون سی قید؟ ‏نامی کی۔ اور پھر ایک لفظ جسم ہے، اس میں کوئی قید موجود ہے؟ نہیں، یہ ہر جسم کو کہیں گے چاہے نامی ہو چاہے غیر ‏نامی۔ تو اسی کو جسمِ مطلق بھی کہہ دیتے ہیں۔ مطلق کا معنی آزاد، آزاد جسم یعنی اس میں کوئی قید نہیں ہے، ہر طرح کے ‏جسم اس میں آگئے چاہے نامی ہو چاہے نامی نہ ہو۔ تو جوہر کے نیچے کیا ہے؟ جسمِ مطلق، جسمِ مطلق کے نیچے کیا؟ جسمِ نامی۔ جب جسم جب جسمِ مطلق کہا، اس میں پتھر ‏وغیرہ، حیوانات، درخت، سب آگئے کیونکہ سب کا کیا ہے؟ جسم۔ اس سے نیچے آئیں تو کیا ہے؟ جسمِ نامی، اب صرف ‏کون رہ گئے؟ درخت اور حیوانات رہ گئے۔ اس سے نیچے آ جائیں تو کیا ہے؟ حیوان ہے، حیوان میں صرف کون رہ ‏گئے؟ حیوانات رہ گئے اور درخت بھی نکل گئے۔ ترتیب سمجھ میں آرہی ہے؟ تو سب سے نیچے جنس کون سی؟ حیوان۔ ‏حیوان کا دائرہ چھوٹا ہے یعنی اس میں تھوڑی چیزیں ہیں، صرف حیوانات ہیں۔ اس سے اوپر چلے جائیں کیا ہے؟ جسمِ ‏نامی، اس سے اوپر کیا ہے؟ جسمِ نامی کا دائرہ بڑھ گیا، اس میں حیوانات کے ساتھ ساتھ درخت بھی آگئے۔ اس سے اوپر ‏چلے جائیں، جسمِ مطلق کا دائرہ اور بڑھ گیا، اس میں اور بھی چیزیں آگئیں وہ ساری چیزیں آگئیں جو جن کا جسم ہے ‏چاہے نامی نہ بھی ہو وہ بھی آگئیں، نامی نامی بھی آئے اور غیر نامی بھی۔ اور اس سے اوپر چلے جائیں تو کیا آیا؟ جوہر، ‏جوہر میں ساری چیزیں آگئیں چاہے جسم ہو چاہے جسم نہ ہو لیکن وجود ہو، صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو مجھے ‏بتائیے، سب سے زیادہ افراد کس کے، حیوان کے یا جسمِ نامی کے؟ حیوان، جسمِ نامی کے افراد زیادہ؟ دیکھو آپ خود غور ‏کرو، فرض کرو ساری دنیا کے حیوان ملا کے سو ہیں، فرض کرو ویسے سمجھانے کے لیے کہہ رہا ہوں، ویسے تو ‏اربوں ہیں کھربوں ہوں گے حیوانات سارے، اربوں میں تو انسان ہیں صرف، باقی کھربوں ہوں گے۔ تو فرض کرو حیوان ‏سارے کتنے؟ سو، اور درخت بھی فرض کرو کتنے؟ سو، پتھر بھی کتنے؟ سو، اور اس کے علاوہ اچھا، تو دیکھو جب ‏میں نے کہا حیوان کتنی چیزیں آئیں؟ سو، حیوانات سو ہیں۔ پھر اس سے اوپر میں چلا جسمِ نامی، اس میں کیا کیا آئے؟ ‏حیوان بھی آگئے اور درخت بھی، تو کتنے ہوگئے؟ دو سو۔ اچھا، پھر میں چلا گیا جسمِ مطلق پر، اب کتنے ہوگئے؟ تین سو۔ ‏دیکھو دائرہ بڑھتا جا رہا ہے یا نہیں، چیزیں بڑھ رہی ہیں۔ اور جوہر میں چلے جاؤ تو اور بھی اس سے بڑھ گئے اوپر۔ تو ‏جوں جوں اوپر جائیں گے افراد کی تعداد بڑھتی جائے گی۔ تو لہٰذا سب سے چھوٹا دائرہ کس کا، سب سے کم افراد کس کے؟ ‏حیوان کے۔ اس سے زیادہ افراد کس کے؟ جسمِ نامی کے۔ اس سے زیادہ افراد کس کے؟ جسمِ مطلق کے۔ اور اس سے زیادہ ‏افراد کس کے؟ جوہر کے۔ یا اوپر سے چلیں، سب سے زیادہ افراد کس کے؟ جوہر کے۔ اس سے کم؟ جسمِ مطلق۔ اس سے ‏کم؟ جسمِ نامی۔ اس سے کم؟ حیوان۔ تو یہ جنسوں کی ترتیب ہے، کس نے بنائی؟ مناطقہ نے۔ تو سب سے چھوٹی جنس کون ‏سی؟ حیوان۔ اور سب سے بڑی جنس کون سی؟ جوہر ہے۔ تو حیوان سب سے چھوٹی جنس، جسمِ نامی اس سے بڑی جنس، ‏جسمِ مطلق اس سے بڑی جنس، اور جوہر سب سے بڑی جنس، اور اس کو جنس الاجناس بھی کہتے ہیں، ساری جنسوں کی ‏جنس۔ جوہر کو کیا کہتے ہیں؟ جنس الاجناس، ساری جنسوں کی جنس ہے یہ یعنی سب سے اوپر ہے، اس سے اوپر کوئی ‏اور جنس نہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ تو مناطقہ کے ہاں جنس میں بھی ترتیب ہے؛ سب سے چھوٹی جنس ہے ‏حیوان، اس سے بڑی جنس ہے جسمِ نامی، اس سے بڑی جنس ہے جسمِ مطلق، اور اس سے بڑی جنس ہے جوہر بھئی، ‏جوہر۔ اسی طرح یاد رکھیے، جیسے یہ جنس کی ترتیب تھی، اسی طرح فصل بھی ہے، فصل، فصل بھی ہے۔ جنس میں آپ نے ‏دیکھا، سب سے قریبی جنس کون سی؟ سب سے چھوٹی جنس وہ کیا ہے؟ سب سے قریب۔ مثلاً ہم انسان ہیں، ہمارے سب ‏سے قریب والی جنس کون سی؟ حیوان۔ جنس اسے کہتے ہیں نا جو مختلف حقیقتوں پر بولا جائے۔ اور انسان کے ساتھ ‏صرف اور حیوانات کو ملا دو تو کیا ہے جنس آگئی؟ حیوان۔ اس سے زیادہ بڑی کرو گے تو کون آ جائے گا؟ جس میں ‏درخت بھی آ جائیں گے۔ اس سے زیادہ اور افراد لے آؤ تو کیا بنے گا؟ جسمِ مطلق، اس سے زیادہ افراد لے آؤ تو جوہر آ ‏جائے گا۔ تو سب سے قریب والی جنس کون سی ہے؟ حیوان۔ اور جسمِ نامی یہ جنسِ بعید ہے یعنی دور ہے۔ تو سب سے ‏قریب جنس کون سی؟ جنسِ قریب وہ حیوان، اور جسمِ نامی کیا ہے؟ جنسِ بعید۔ اور اسی طرح جسمِ مطلق وہ بھی کیا ہے؟ ‏جنسِ بعید۔ اسی طرح جوہر بھی کیا، جوہر بھی کیا ہے؟ جنسِ بعید ہے، جنسِ بعید یعنی دور ہے، اور پھر ان میں بھی آپ ‏کو درجے پتہ چل رہے ہیں کہ سب سے قریب کون سی ہے؟ حیوان۔ اور اس کے مقابلے میں بعید کون سی؟ جسمِ نامی۔ اور ‏جسمِ نامی سے بھی بعید کون سی جنس ہے؟ جسمِ مطلق۔ اور جسمِ مطلق سے بھی بعید جنس کون سی ہے؟ جوہر ہے۔ ترتیب ‏سمجھ میں آرہی ہے؟ اور اسی جوہر کو کیا کہتے ہیں؟ جنس الاجناس بھی کہتے ہیں۔ یہاں تک سب کو بات سمجھ میں آگئی؟ ‏جوہر اور عرض کا پتہ چل گیا، جنس کے درجوں کا پتہ چل گیا۔ ہاں، اب یہ آج کے سبق "ما ھو" پر بھئی، یہ اس کے لیے تمہید تھی۔ یاد رکھیے، "ما ھو" اس کے ذریعے مناطقہ سوال ‏کرتے ہیں کسی چیز کی حقیقت کے بارے میں۔ آپ کسی چیز کی حقیقت پوچھنا چاہتے ہیں دوسرے سے، تو آپ اس سے ‏سوال "ما ھو" کے ذریعے کریں گے۔ "ما" کا معنی ہے کیا، اور "ھو" کا معنی "ھو" ضمیر ہے، "ھو" ضمیر ہے۔ ‏ہاں بھئی، پہلے ایک اور چھوٹی سی بات سمجھ لیں، دیکھیے، دیکھیے، جس طرح ہم ایک دوسرے سے سوال پوچھتے ‏ہیں اور جس قسم کی چیز پوچھنا چاہیں ویسا ہی سوال کے لیے لفظ بھی لے کر آتے ہیں۔ مثلاً آپ کسی کا تعارف پوچھنا ‏چاہیں، تو آپ کہتے ہیں آپ کون ہیں؟ دیکھیں کون کا لفظ لائے، آپ کون۔ اور اگر آپ کسی کی طبیعت پوچھنا چاہیں، تو آپ ‏کہتے ہیں آپ کیسے ہیں؟ دیکھیں کیسا لے کر ائے۔ اور اگر آپ کسی کی جگہ کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہیں، تو آپ ‏کہتے ہیں آپ کہاں رہتے ہیں؟ یا آپ کہاں سے آئے ہیں؟ تو کہاں کا لفظ لاتے ہیں۔ جب ہم نے کسی سے کوئی بات پوچھنی ‏ہو، تو اس جس قسم کی بات پوچھ رہے ہیں اسی طرح کا لفظ لے کر آتے ہیں۔ اگر تعارف پوچھنا چاہتے ہیں تو کیا لفظ ‏لائیں گے؟ کون، آپ کون ہیں؟ اور اگر اس کی طبیعت پوچھنا چاہتے ہیں تو پھر کیا لفظ لائیں گے؟ کیسا، آپ کیسے ہیں؟ ‏اور اگر آپ اس کی جگہ کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہیں تو کیا لے کر ائیں گے؟ کہاں، کہاں کا لفظ لے کر آئیں گے۔ تو ‏کون، کیسے، کہاں، یہ سوال پوچھنے کے لیے آتے ہیں، لیکن ہر ایک مختلف قسم کے سوال کے لیے آتا ہے۔ یہاں تک بات ‏سمجھ میں آگئی؟ تو تعارف کے لیے کون لے کر آئیں گے، طبیعت کے لیے کیسے کا لفظ لائیں گے، اور جگہ کے لیے ‏کہاں کا لفظ لائیں گے۔ اسی طرح منطق میں بھی دو لفظ استعمال ہوتے ہیں سوال پوچھنے کے لیے: ایک "ما ھو" اور ایک "ای شیء ھو"۔ "ما ‏ھو" اور "ای شیء ھو"۔ "ما ھو" کے ذریعے کسی چیز کا کی حقیقت کو پوچھا جاتا ہے، اور "ای شیء ھو" کے ‏ذریعے کسی چیز کی فصل کے بارے میں پوچھا جاتا ہے۔ کیا؟ "ما ھو" کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ کسی شے کی ‏حقیقت کے بارے میں پوچھا جاتا ہے، اور "ای شیء ھو" اس کے ذریعے کسی شے کے فصل کے بارے میں پوچھا جاتا ‏ہے۔ تو "ما ھو" بھی سوال کے لیے آتا ہے، "ای شیء" بھی سوال کے لیے آتا ہے، لیکن دونوں الگ الگ جگہ پر ‏استعمال ہوں گے۔ جیسے کون، کیسے، کہاں، سب الگ الگ جگہ پہ استعمال ہوتے ہیں۔ آپ جگہ کے بارے میں پوچھنا ‏چاہیں تو وہاں کہاں کا لفظ لائیں گے، کیسے یا کون کا لفظ نہیں لائیں گے۔ اسی طرح آپ تعارف پوچھنا چاہتے ہیں تو وہاں ‏کون کا لفظ لائیں گے، وہاں کیسے یا کہاں کا لفظ نہیں لائیں گے۔ اسی طرح منطق میں، جب آپ کسی چیز کی حقیقت کے ‏بارے میں پوچھنا چاہیں تو "ما ھو" کے ذریعے پوچھیں گے، اور کسی چیز کے فصل کے بارے میں پوچھنا چاہیں تو ‏پھر "ای شیء ھو" کے ذریعے سوال پوچھیں گے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ یہ منطقی اصطلاح ہے، منطق کے اندر اس ‏طرح ہوگا کہ آپ کسی چیز کی حقیقت پوچھنا چاہیں تو کس کے ذریعے پوچھیں گے؟ "ما ھو" کے ذریعے، اور کسی چیز ‏کے فصل کے بارے میں پوچھنا چاہیں تو "ای شیء ھو"۔ اب اس کو سمجھ بھی لیں "ما ھو" کیا ہے؛ "ما" کا معنی ہے ‏کیا، کیا، اور "ھو" ضمیر ہے۔ ضمیریں پڑھی ہیں آپ نے کہ ابھی نہیں پڑھیں؟ جی؟ ضمیریں اگر نہیں پڑھیں یاد ‏رکھیے، ضمیر "ھو" مذکر کے لیے، مثلاً میں کہتا ہوں وہ آدمی ہے تو کہوں گا "ھو رجل"، وہ آدمی ہے۔ دو کے لیے ‏میں کہوں گا "ھما رجلان"، وہ دو آدمی ہیں۔ اگر زیادہ ہو تو جمع والی ضمیر لاؤں گا، "ھم رجال"، وہ آدمی ہیں۔ تو دیکھا ‏مفرد کے لیے کیا لاتے ہیں؟ "ھو"، تثنیہ یعنی دو کے لیے لاتے ہیں "ھما"، اور جمع کے لیے لاتے ہیں "ھم"۔ تو اسی ‏طرح یہاں پر بھی "ما ھو"، اگر ایک چیز کے بارے میں "ما" کا کیا معنی؟ کیا، اور "ھو" کا معنی وہ، تو "ما ھو" وہ ‏کیا چیز ہے؟ ایک چیز کے لیے "ھو" کہیں گے، اگر دو چیزیں ہوئیں تو کیا کہیں گے؟ "ما ھما"، "ما ھما"، اور اگر ‏زیادہ چیزیں ہوئیں تو کیا کہیں گے؟ "ما ھم"، یا کبھی "ما ھی" بھی کہہ دیتے ہیں، "ھی" مونث کے لیے آتا ہے اور ‏زیادہ چیزوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ مونث کے لیے بھی آتا ہے اور زیادہ، تو وہاں "ما ھم" بھی کہہ دیتے ہیں ‏اور "ما ھی" بھی کہہ دیتے ہیں۔ تو یہ "ما ھو" کے ذریعے سوال پوچھا جاتا ہے۔ مثلاً آپ انسان کی حقیقت کے بارے میں کسی سے پوچھنا چاہتے ہیں، تو ‏یہ "ما ھو" لائیں گے۔ کیسے کہیں گے؟ "الانسان ما ھو"، کیا کہیں گے؟ کیا معنی؟ انسان کیا ہے؟ پوری بات کرو۔ کیا ‏پوچھنا چاہ رہے ہیں؟ حقیقت، تو حقیقت کا لفظ سوال میں ہی لے آؤ تاکہ دوسرے کو پورا پورا پتہ چل جائے، "الانسان ما ‏ھو"، انسان کی حقیقت کیا ہے؟ گویا یہ بات پوچھ لی آپ نے، صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ یا مثلاً میں پوچھتا ہوں ‏‏"الانسان والفرس ما ھما"، کیا ترجمہ ہوگا؟ انسان "الانسان والفرس ما ھما"، انسان اور گھوڑے کی حقیقت کیا ہے؟ یا میں ‏پوچھتا ہوں "الانسان والفرس والبقر والغنم ما ھم"، انسان، گھوڑا، گائے بیل اور بکری کی حقیقت کیا ہے؟ یا مثلاً میں ‏پوچھتا ہوں "الانسان والشجر ما ھما"، انسان اور درخت کیا ہیں؟ طریقہ سمجھ میں آرہا ہے؟ یا مثلاً میں پوچھتا ہوں ‏‏"الحجر والشجر والبقر ما ھی"، "ھی" بھی جمع کے لیے "ھی" بھی لے آتے ہیں "ھم" کے بدلے۔ الحجر، حجر پتھر کو ‏کہتے ہیں، الشجر، شجر درخت کو کہتے ہیں، بقر گائے بیل کو کہتے ہیں، "الحجر والشجر والبقر ما ھی"، یا کہہ دو "ما ‏ھم"، پتھر، درخت اور بیل بکری کی حقیقت کیا ہے؟ تو اب یاد رکھیے، جب آپ اس کے ذریعے سوال کرتے ہیں اور کس چیز کا سوال کرتے ہیں "ما ھو" کے ذریعے؟ حقیقت ‏کا۔ تو اگر ایک چیز کو لے کر سوال کیا تو جواب میں اس کی خاص حقیقت آئے گی۔ کیا آئے گی؟ مثلاً میں نے کہا ‏‏"الانسان ما ھو"، انسان کی حقیقت کیا ہے؟ ایک چیز ہے نا، کس کے بارے میں پوچھ رہا ہوں؟ صرف انسان کے بارے ‏میں، تو اس کی پوری حقیقت مجھے بتا دو۔ جواب کیا دو گے؟ حیوانِ ناطق۔ پھر بولو، "الانسان ما ھو"، جواب بولو، حیوانِ ‏ناطق، یا حیوان ناطق۔ اچھا، "الفرس ما ھو"، گھوڑے کی حقیقت کیا؟ جواب کیا دیں گے؟ حیوانِ صاہل۔ اچھا، الحمار، ‏حمار گدھے کو کہتے ہیں، "الحمار ما ھو"، حیوانِ ناہق۔ اچھا، "البقر ما ھو"، گائے بیل کی حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ ذو ‏خوار۔ "الغنم ما ھو"، حیوانِ ذو رغاء، حیوانِ ذو رغاء۔ طریقہ سمجھ میں آرہا ہے؟ جب بھی ایک چیز کو لے کر سوال کیا ‏جائے "ما ھو" کے ساتھ، تو اس کی پوری حقیقت بیان کرو، پوری جیسے انسان کے بارے میں پوچھا تو پوری حقیقت آپ ‏نے بیان کی حیوانِ ناطق۔ اور اگر دو یا زیادہ چیزوں کو لے کر سوال کیا جائے، تو پھر جواب میں وہ ساری چیزیں ذکر کرو جو ان دونوں میں پائی ‏جائیں یا ان سب میں پائی جائیں۔ میں نے دو چیزوں کو لے کر سوال کیا، "الانسان والفرس ما ھما"، انسان اور گھوڑے کی ‏حقیقت کیا ہے؟ اب جو جو چیز ان دونوں میں مشترک ہے، دونوں میں پائی جا رہی ہے، وہ ساری چیزیں وہ سارے پرزے ‏ذکر کرو۔ دونوں کیا ہیں؟ جسمِ نامی بھی ہیں۔ دونوں کیا ہیں؟ حساس بھی ہیں۔ احساس رکھتے ہیں یا نہیں؟ اور دونوں ‏متحرک بالارادہ بھی ہیں۔ اور کوئی چیز؟ نہیں، یہ تین چیزیں ان میں مشترک۔ اور ان تین چیزوں کا ایک ہی نام آپ نے ‏رکھا تھا، کیا؟ حیوان۔ کیا تھا؟ حیوان کس کو کہتے ہیں؟ جسمِ نامی، حساس، متحرک بالارادہ۔ تو جب یہ تینوں چیزیں پائی ‏گئیں وہ تو حیوان میں ہوتی ہیں، تو گویا ان میں حیوان جز مشترک ہے۔ تو لہٰذا اب میں نے آپ سے پوچھا "الانسان والفرس ‏ما ھما"، تو جواب میں کہیں گے آپ حیوان، کیونکہ حیوان دونوں میں ہے۔ اور اس سے کوئی چیز رہ تو نہیں گئی جو ‏مشترک ہو؟ نہیں، سب چیزیں آپ نے ذکر کرنی ہیں جو دونوں میں مشترک ہوں، اور اس کو کہتے ہیں تمامِ مشترک، پورا ‏مشترک۔ کیا کہتے ہیں؟ تمامِ مشترک۔ تمام کا کیا معنی؟ پورا، یعنی پورا مشترک حصہ یہی ہے جو دونوں میں پایا جا رہا ‏ہے، انسان میں بھی اور فرس میں بھی۔ اچھا، اور میں سوال پوچھتا ہوں، "الفرس والبقر ما ھما"، گھوڑا اور گائے بیل کی حقیقت کیا ہے؟ اب مجھے بتائیے، ‏گھوڑے اور گائے بیل میں گھوڑے کی حقیقت کیا؟ حیوانِ صاہل، اور گائے بیل کی حقیقت کیا؟ حیوانِ ذو خوار۔ کون سا ‏حصہ مشترک ہے دونوں میں؟ حیوان والا، وہ بھی حیوان یہ بھی حیوان۔ تو لہٰذا جواب میں کیا آئے گا؟ حیوان۔ کیا آئے گا؟ ‏حیوان۔ صرف وہ حصہ بولنا ہے جو دونوں میں مشترک ہو۔ اور مثلاً میں سوال کرتا ہوں، "البقر والغنم ما ھما"، گائے بیل ‏اور بھیڑ بکری ان کی حقیقت کیا ہے؟ جواب میں کیا کہیں گے؟ یہاں بھی حیوان آئے گا۔ تو جو مشترک حصہ ہوگا، پورا ‏مشترک، وہ بولنا ہے۔ اور سوال میں کرتا ہوں آپ سے، "الشجر والانسان ما ھما"، درخت اور انسان کی حقیقت کیا ہے؟ ‏معلوم ہوا میں ایسی چیز آپ سے پوچھ رہا ہوں جو دونوں میں مشترک ہو، وہ ساری کی ساری وہ سارے پرزے پوچھ رہا ‏ہوں جو دونوں میں پائے جائیں۔ وہ کیا ہے؟ جسمِ نامی، بس یہ ہے صرف مشترک بھئی۔ یا میں پوچھتا ہوں "الفرس ‏والشجر ما ھما"، گھوڑا اور درخت ان کی حقیقت کیا ہے؟ آپ کیا کہیں گے؟ یہاں بھی جسمِ نامی آئے گا، کیونکہ آگے اور ‏کوئی چیز مشترک نہیں۔ اچھا، میں اور پوچھتا ہوں، "الحجر والشجر ما ھما"، پتھر اور درخت کی حقیقت کیا ہے؟ جسمِ ‏نامی پتھر میں ہے؟ نہیں، پھر جسم۔ کون سا جسم؟ جسمِ مطلق۔ تو آپ جواب میں کیا کہیں گے؟ جسمِ مطلق۔ بات سمجھ میں ‏آگئی؟ اچھا، مثلاً ایک اور سوال میں پوچھتا ہوں، "الانسان والحجر ما ھما"، انسان اور پتھر کی حقیقت کیا ہے؟ جسمِ ‏مطلق، شاباش۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ یعنی یہ جو "ما ھو" ہے، اس کے ذریعے کسی چیز کی حقیقت کے بارے میں پوچھا جاتا ہے کہ کن چیزوں سے وہ مل ‏کر بنی۔ تو اب سوال اگر ایک چیز سے کریں تو اس کی پوری حقیقت ذکر کرو۔ مثلاً میں نے کہا "الانسان ما ھو"، تو ‏پوری حقیقت حیوانِ ناطق۔ یا میں نے پوچھا "الفرس ما ھو"، آپ کیا کہیں گے؟ حیوانِ صاہل، پوری حقیقت ذکر کریں گے۔ ‏لیکن اگر دو یا زیادہ چیزوں کو لے کر میں سوال کروں، تو ان میں جو پورے جز مشترک ہیں وہ سارا جواب میں کہیں ‏گے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ تمامِ مشترک۔ تو جواب کیا آئے گا اگر دو یا زیادہ چیزوں کو لے کر سوال کیا جائے تو جواب ‏کیا آئے گا؟ تمامِ مشترک۔ کیا آئے گا؟ یعنی وہ پورا جو ان میں مشترک ہے، پورا۔ اب مجھے بتائیے بھئی، اب پتہ چلے گا ‏کس کو بات سمجھ میں آئی یا سمجھ میں نہیں آئی: "زید وبکر وخالد ما ھم"، زید، بکر اور خالد کی حقیقت کیا ہے؟ جواب ‏دو۔ جی؟ شاباش، حیوانِ ناطق۔ شاباش شاباش، معلوم ہوا سب کو بات سمجھ میں آگئی ہے۔ آئیے بھئی اب کتاب پر دیکھیے۔ اصطلاحِ "ما ھو" کا بیان، "ما ھو" کی اصطلاح کا بیان۔ جاننا چاہیے کہ اہل منطق نے ‏یہ اصطلاح مقرر کی ہے، اصطلاح کا معنی ہوتا ہے خاص لفظ، کیا معنی ہوتا ہے؟ کسی بھی علم والے جو خاص لفظ کو ‏استعمال کرتے ہیں خاص معنی کے لیے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ اصطلاح۔ تو یہ "ما ھو"، یہ "ما ھو" عربی زبان میں ‏حقیقت پوچھنے کے لیے ہے؟ نہیں، عربی میں حقیقت کے لیے نہیں، لیکن منطق والوں نے اس کو خاص کر لیا کس کے ‏لیے؟ حقیقت پوچھنے کے لیے، حقیقت پوچھنے کے لیے۔ تو اس کو اصطلاح کہتے ہیں، یعنی اس علم والوں کی اصطلاح ‏ہے، وہ "ما ھو" کے ذریعے کیا پوچھتے ہیں؟ حقیقت۔ آگے اب دیکھیے کتاب پر، جاننا چاہیے کہ اہل منطق نے یہ ‏اصطلاح مقرر کی ہے، یعنی اس خاص لفظ کو خاص معنی کے لیے مقرر کیا ہے، اور نیز محاورہ بھی ہے کہ لفظِ "ما ‏ھو"، درمیان میں ترجمہ دے دیا، کیا ہے وہ، "ما" کا معنی کیا، "ھو" کا معنی وہ، تو کیا ترجمہ ہوگیا؟ وہ کیا ہے۔ کہ ‏نیز محاورہ بھی ہے کہ لفظِ "ما ھو" سے کسی شے کی حقیقت کا سوال کرتے ہیں۔ جیسے کہیں "الانسان ما ھو"، انسان ‏کیا ہے؟ جواب میں کیا کہیں گے آپ؟ حیوانِ ناطق۔ تو مطلب اس کا یہ ہے کہ انسان کی حقیقت کیا ہے۔ اگر "ما ھو" سے ‏سوال ایک شے کو لے کر کیا، جیسے اوپر صرف کس کے بارے میں پوچھا؟ انسان۔ جب اگر "ما ھو" سے سوال ایک ‏شے کو لے کر کیا، تو مطلب یہ ہوگا کہ اس کی وہ حقیقت جو اس کے ساتھ مخصوص ہے بیان کرو، یعنی پوری اس کی ‏جو خاص حقیقت ہے وہ بیان کرو، اور جواب میں حقیقتِ مخصوصہ آئے گی۔ انسان کی خاص حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ ‏ناطق، وہ حقیقتِ مخصوصہ آئے گی یعنی جیسے کہیں کہ "الانسان ما ھو"، تو جواب اس کا ہے "حیوانِ ناطق"، اس لیے ‏کہ یہی اس کی حقیقتِ مختصہ ہے۔ مختصہ یعنی جو اس کے ساتھ مخصوصہ اور مختصہ کا معنی جو خاص ہو۔ حیوانِ ‏ناطق، یہ صرف کس کے ساتھ خاص ہے؟ انسان کے ساتھ، یہی بیان کر رہے۔ اس لیے کہ یہی اس کی حقیقتِ مختصہ ہے۔ اور اگر دو شے یا زیادہ کو لے کر سوال کریں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حقیقت بتاؤ جو ان سب میں تمامِ مشترک ہے، ‏ان سب میں پوری کی پوری کیا ہے؟ مشترک ہے، یعنی وہ مشترک جز بتاؤ کہ جس قدر اجزاء ان چیزوں میں مشترک ہیں، ‏یعنی جتنے پرزے ان چیزوں میں مشترک ہیں، وہ سب اس میں آ جائیں۔ کوئی مشترک اس سے باہر نہ ہو۔ جیسے یوں ‏پوچھیں "الانسان والبقر والغنم ما ھم"، انسان اور بیل اور بکری کیا ہیں؟ تو جواب میں حیوان آئے گا، جسم نہ آئے گا۔ اس ‏لیے کہ حیوان ہی ان کی پوری حقیقتِ مشترکہ ہے، اور جسم تمامِ مشترک نہیں ہے۔ اس لیے کہ حیوان میں سب مشترک ‏اجزاء آگئے اور جسم میں نہیں آئے۔ اور اگر ان کے ساتھ کسی درخت مثلاً درختِ انار کو شامل کر لیں، تو جواب جسمِ ‏نامی، یعنی بڑھنے والا جسم، ہوگا۔ اس لیے کہ اس وقت یہی تمامِ مشترک ہے۔ اور اگر پتھر بھی ان کے ساتھ ملایا جائے ‏اور سوال یہ کیا جائے کہ "الانسان والبقر وشجرۃ الرمان والحجر ما ھی"، انسان اور گائے بیل، رمان انار کو کہتے ہیں، ‏‏"وشجرۃ الرمان" اور انار کا درخت، "والحجر" اور پتھر، "ما ھی" یہ کیا ہیں؟ آگے انہوں نے تو خود بھی ترجمہ دے ‏دیا: انسان، بیل، درختِ انار، یہ درخت کے بعد یہ کوما نہیں ہونا چاہیے، درختِ انار ہے، درختِ انار۔ انسان، بیل، درختِ ‏انار اور پتھر کیا ہیں؟ تو جواب جسم ہوگا۔ جسم یا یوں کہو جسمِ مطلق، کیا ہوگا؟ جسمِ مطلق، ایک ہی بات ہے جسم کہہ لو یا ‏جسمِ مطلق، اس لیے کہ یہی ان کی تمام حقیقتِ مشترکہ ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ اب وہ ایک چھوٹی سی بات بھی میں ذکر کر دوں۔ میں نے بتایا تھا "ما ھو" کے ذریعے ‏کسی چیز کی حقیقت پوچھی جاتی ہے، اور "ای شیء ھو" کے ذریعے اس کا فصل پوچھا جاتا ہے۔ یعنی ایسی "ای شیء" ‏کے ذریعے سوال کریں تو ایسی چیز پوچھی جاتی ہے جو جو سوال کے اندر لفظ ہے نا لفظ، جو جنس ہے، سوال میں جنس ‏آئے گی یہاں۔ "ای شیء" میں کیا ہوگا؟ سوال میں جنس آئے گی۔ جنسیں تو جانتے ہو نا؛ حیوان، جسمِ نامی، جسم، اور ‏جوہر، یہ ساری جنسیں ہیں۔ سوال میں کوئی نہ کوئی جنس آئے گی، اس جنس کے ساتھ سوال کرے گا پوچھنے والا۔ اس ‏کے سوال پوچھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس "ما ھو" کے جواب میں تو جنسیں آرہی تھیں تقریباً، دیکھ رہے تھے آپ؟ تقریباً ‏جنسیں تھیں۔ اور "ای شیء" میں جنس سوال کے اندر آ جائے گی، آپ کو فصل ذکر کرنا ہوگا۔ مثلاً میں آپ سے پوچھتا ‏ہوں: "الانسان، الانسان ای حیوان ھو؟"، "الانسان ای حیوان ھو؟"، سوال پہ غور کر رہے ہو کیا لفظ آرہا ہے؟ انسان کے ‏بارے میں پوچھ رہا ہوں اور کیا حیوان بھی لفظ لا رہا ہوں، اور انسان کی جنس کیا ہے؟ حیوان، دیکھا معلوم ہوا جنس ‏معلوم ہے۔ کیا پوچھنا مقصد ہے؟ فصل۔ یعنی یہ جو حیوان کے اندر انسان ہے، یہ جدا کیسے ہوگا باقی حیوانوں سے؟ وہ بتا ‏دو۔ ناطق جواب، شاباش۔ "الانسان ای حیوان ھو؟"، جواب میں کیا آئے گا؟ ناطق۔ "الفرس ای حیوان ھو؟"، صاہل۔ ‏‏"الحمار ای حیوان ھو؟"، ناہق۔ "البقر ای حیوان ھو؟"، ذو خوار۔ "الغنم ای حیوان ھو؟"، ذو رغاء۔ صورت سمجھ میں ‏آرہی ہے بھئی؟ تو یہ اس میں فصل آتا ہے، فصل آتا ہے۔ اور جیسے جنسِ قریب اور بعید ہوتی ہے، اسی طرح فصل بھی قریب اور بعید ہوتی ہے۔ جیسے حیوان سے انسان کو جدا ‏کرنا ہے حیوان کے باقی افراد سے، تو فصل کیا لاؤ گے؟ ناطق۔ توجہ ہے؟ جب کس سے جدا کرنا ہو؟ حیوان کے، انسان ‏کی جنس کیا ہے؟ حیوان۔ حیوان میں انسان بھی ہے، توجہ ہے بھئی؟ گائے بیل بکری وغیرہ بھی ہے۔ اب اس گائے بیل ‏بکری سے آپ انسان کو جدا کرنا چاہتے ہیں، تو "الانسان ای حیوان ھو؟"، جواب میں آپ نے کیا کہا؟ ناطق۔ اگر میں یوں ‏پوچھتا: "الانسان ای جسم نام ھو؟"، "ای جسم نام ھو؟"، "الانسان"، توجہ ہے؟ "الانسان ای جسم نام ھو؟"، وہ کون سا ‏جسمِ نامی ہے؟ تو وہ فصل لاؤ کہ جسمِ نامی سے جدا ہو جائے۔ جسمِ نامی میں کون تھے؟ کوئی بھی نیچے والی کوئی بھی، ‏جی؟ اس میں درخت بھی تھے اور سارے حیوان بھی تھے، تو ان سے انسان کو کچھ جدا کر دو۔ یہ سارے جسمِ نامی ہیں نا، ‏کوئی ایسا لفظ لاؤ کہ جسمِ نامی والوں سے انسان الگ ہو جائے۔ حیوانِ ناطق، ناطق لے آؤ، کیا لے آؤ؟ سب سے الگ ہوگیا۔ ‏لیکن اگر آپ کیا لے آؤ؟ آپ حساس لے آؤ، کیا لے آؤ؟ حساس، تو بھی جسمِ نامی سے الگ ہو گیا یا نہیں؟ یہ چلو بس اس ‏بات کو چھوڑو بھئی، یہ فصل کے بھی، تو بہرحال فصل بھی اس میں بھی قریب اور بعید کی فصل ہوتی ہے اور وہ بھی ‏ان شاء اللہ اگلی کتابوں میں آپ پڑھیں گے۔ یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ جوہر اور عرض کا پتہ چل گیا، ‏جوہر کسے کہتے ہیں؟ جس کا اپنا الگ وجود ہو، اپنے وجود میں غیر کی محتاج نہ ہو، اور عرض کسے کہتے ہیں؟ جس ‏کا اپنا الگ وجود نہ ہو اور وہ اپنے وجود میں غیروں کی محتاج ہو، اس کے بعد آپ نے یہ بھی پڑھا جنس کے کئی درجے ‏ہیں، جنسِ قریب بھی ہے اور جنسِ بعید۔ سب سے قریب والی جنس کون سی؟ حیوان، حیوان۔ اس سے اوپر جسمِ نامی، اس ‏سے اوپر جسم، اور اس سے اوپر جوہر بھئی، جوہر۔ اور پھر اس کے بعد آپ نے "ما ھو" کے بارے میں بھی جان لیا کہ ‏‏"ما ھو" کے ذریعے ایک چیز ہو تو اس کی پوری حقیقت جواب میں دیں، ذکر کریں، اور اگر کئی چیزوں کے بارے میں ‏پوچھا جائے تو پھر کیا ذکر کریں جواب میں؟ تمامِ مشترک جواب میں ذکر کریں بھئی۔ اب آئیے یہ سوالات بھی کر لیں، جی۔ سوالات: اشیائے ذیل جو یکجا یا علیحدہ علیحدہ لکھی ہیں ان کے جواب بتاؤ بھئی۔ یہ ‏جو جو یکجا ہیں یعنی اکٹھی ہیں یا علیحدہ علیحدہ لکھی گئی ہیں، ان کے جواب بتاؤ۔ یعنی "ما ھو" کے ذریعے اگر سوال ‏کریں تو جواب میں آپ کیا کہیں گے؟ فرس اور انسان؟ حیوان۔ فرس اور انسان کے بارے میں اگر میں "ما ھو" سے سوال ‏کروں، فرس اور انسان کی حقیقت کیا ہے، جواب میں کیا آئے گا؟ حیوان۔ تو یہ نمبر ایک کا جواب ہوا حیوان۔ نمبر دو: ‏فرس اور غنم ان کی حقیقت بتاؤ؟ حیوان۔ فرس اور غنم، شاباش، یہ بھی حیوان۔ درخت، درختِ انگور اور حجر؟ جسم یا ‏جسمِ مطلق، ایک ہی بات ہے جسم کہہ دو یا جسمِ مطلق کہہ دو۔ آسمان اور زمین اور زید، ان کی حقیقت کیا ہے؟ آسمان اور ‏زمین اور زید، یہ بھی جسمِ مطلق، کیا آ جائے گا؟ جسمِ مطلق۔ اچھا، شمس و قمر اور درختِ انبہ، شمس سورج، قمر چاند، ‏درختِ انبہ یہ کوئی درخت ہے یا شاید یہ غالباً آم کا درخت ہو، شاید۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ آم بھی چھوٹا آم ہو تو اس کو ‏انبی کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟ تو وہی شاید انبہ اسی کی بعض علاقوں میں انبہ کہتے ہوں، تو بہرحال بس کوئی درخت ہے ‏بھئی۔ تو سورج، چاند اور درختِ انبہ، جواب کیا ائے گا ان کی حقیقت کیا ہے؟ جی؟ اچھا، سورج جسمِ نامی ہے؟ پیدا ہوتا ‏ہے بڑا ہو جاتا ہے؟ ہاں، پھر کیا کہیں گے جواب میں؟ جسمِ مطلق، شاباش۔ مکھی، چڑیا، گدھا، ان کی حقیقت بیان کرو؟ ‏بس؟ حیوان۔ کیا یہ تمامِ مشترک ہے؟ پوری چیزیں جو مشترک ہیں سب ذکر کرو۔ یہ سب حیوان ہیں، یہ سب کیا ہیں؟ ‏حیوان، تو یہ حیوان جواب میں آئے گا۔ اچھا، انسان، "الانسان ما ھو"، انسان کی حقیقت بیان کرو؟ حیوانِ ناطق جواب میں ‏آئے گا۔ آٹھ نمبر ہے جی فرس، "الفرس ما ھو"؟ حیوانِ صاہل۔ الحمار، نویں نمبر پر ہے، "الحمار ما ھو"، حمار کیا ہے؟ ‏حیوانِ ناہق۔ اگلا دس نمبر پہ ہے: بکری، اینٹ، پتھر، ستارہ؟ جسمِ مطلق۔ بکری کا بھی جسم، اینٹ کا بھی جسم، پتھر کا بھی ‏جسم، اور ستارے کا بھی جسم، تو جسمِ مطلق، یا صرف جسم کہہ دو۔ پانی، گیارہ نمبر دیکھو بھئی گیارہ نمبر: پانی، ہوا، ‏حیوان؟ جی؟ جسمِ مطلق۔ ہوا کا جسم ہے؟ نہیں، پھر؟ شاباش، جوہر ائے گا۔ پانی، ہوا اور حیوان، جواب میں کیا آئے گا؟ ‏جوہر بھئی، جوہر بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔