آگے دیکھیے بھئی شرح میں قوله لدى الإفهام بالكسر، أي تفهيم الغير إياه أو تفهيمه للغير، والأول للمتعلم والثاني للمعلم. قوله من ذوي الأفهام بفتح الهمزة جمع فهم. والظرف إما في موضع الحال من فاعل يتذكر أو متعلق بيتذكر بتضمين معنى الأخذ أو التعلم. گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ من تقریر عقائد الإسلام، کہ اس میں جو عقائد کی اضافت ہو رہی ہے اسلام کی طرف، یا تو یہ اضافت بیانیہ ہے جبکہ اسلام سے بھی صرف عقائد مراد ہوں، اور یا یہ اضافت لامی ہوئی اگر اسلام سے مراد تین، تینوں چیزوں کا مجموعہ ہو یعنی اقرار باللسان، عقائد اور اعمال کا، تینوں کا مجموعہ ہو، اور اسی طرح اگر اسلام سے صرف جو ہے اقرار باللسان مراد لیا جائے تو بھی اس صورت میں یہ اضافت لامی ہوئی۔ اس کے بعد آپ نے پڑھا تھا کہ جعلته تبصرة، یہ جعلته میں یہ جو "ہ" ضمیر ہے یہ جعل کے لیے، جعلتُ کے لیے مفعول اول ہے اور تبصرة کیا ہے مفعول ثانی۔ اور یہ جعل کے یہ دونوں جو مفعول ہوتے ہیں، آپس میں ایک دوسرے کے لیے مبتدا خبر کے درجے میں ہوتے ہیں۔ مفعول ثانی کا حمل ہوتا ہے مفعول اول پر۔ تو اس صورت میں پھر جعلته ہا ضمیر سے کتاب مراد اور تبصرة تو مصدر ہے، تو مصدر کا حمل تو ذات یعنی کتاب پر نہیں ہو سکتا، تو دو جواب ذکر کیے تھے: ایک تو یہ کہ یا تو حمل اسی طرح ہے بطور مبالغہ کے، یا یہ تبصرة بمعنی مبصراً کے ہے۔ اگر تبصرة کا حمل، مصدر کا حمل اسی طرح کیا جائے بطور مبالغہ کے تو پھر یہ مجاز عقلی ہے۔ یہ کیا ہے؟ مجاز عقلی۔ مجاز عقلی کسے کہتے تھے؟ کہ اسناد کرنا کسی چیز کا غیر ما هو له کی طرف کہ اس کی طرف ہونا نہیں چاہیے اور آپ اس چیز کی طرف اس کا اسناد کر دیں، تو یہ کیا ہے؟ مجاز عقلی ہے، جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی "نہر بہہ رہی ہے"۔ بھئی نہر تو نہیں بہتی، بہتا تو اس میں پانی ہے۔ تو بہنے کی نسبت ہونی چاہیے تھی پانی کی طرف اور آپ نے کس کی طرف کر دی؟ نہر کی طرف، تو یہ کیا ہے؟ مجاز عقلی۔ یا جیسے آپ کا ساتھی آپ کو پانی دیتا ہے اور آپ کہتے ہیں: "میں نے ایک گلاس پی لیا ہے"۔ بھئی گلاس تو شیشے یا اسٹیل کا ہے، گلاس تو نہیں پیا جاتا، گلاس میں جو پانی موجود ہو یا مشروب موجود ہو وہ پیا جاتا ہے، لیکن آپ نے پینے کی نسبت کس کی طرف کر دی؟ گلاس کی طرف، تو یہ کیا ہے؟ مجاز عقلی ہے۔ ایک چیز کی نسبت کرنا ایسی چیز کی طرف کہ اس کی طرف اس کی نسبت نہیں ہونی، اس کی نسبت کسی اور کی طرف ہونی چاہیے تھی، ایک چیز کی نسبت کسی اور چیز کی طرف ہونی چاہیے تھی اور آپ کسی اور کی طرف کر دیں، تو یہ کیا ہے؟ مجاز عقلی ہے۔ یا ایک اور مثال جیسے میں نے ذکر کی تھی: ضربت زيداً بالعصا، میں نے پٹائی کی، کس کی کی؟ زید کی کی، کس کے ساتھ؟ لاٹھی کے ساتھ۔ تو اب دیکھو نسبت میں اپنی طرف کر رہا ہوں، میں نے پٹائی کی اور یہ نسبت ٹھیک ہے، لیکن اگر یہی ضرب کی نسبت میں لاٹھی کی طرف کر دوں: ضرب زيداً العصا یا ضرب العصا زيداً، عصا نے لاٹھی نے پٹائی کی، کس کی کی؟ زید کی، اب یہ پٹائی لاٹھی نے تو نہیں کی، یہ تو لاٹھی والے نے کی جس کے پاس لاٹھی ہے، جو انسان ہے، لیکن پٹائی کی نسبت کس کی طرف کر دی؟ لاٹھی کی طرف۔ تو فعل کا اسناد ہوا اس چیز کی طرف جس کی طرف اس کا اسناد نہیں ہونا چاہیے تھا۔ تو یہ کیا ہے؟ مجاز عقلی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو مجاز عقلی میں ایک چیز کا اسناد اس چیز کی طرف نہیں ہوتا جس کی طرف ہونا چاہیے، بلکہ کسی دوسری چیز کی طرف اسناد کر دیا جاتا ہے، تو یہ ہے مجاز عقلی۔ اور یہاں معنی نہیں بدلتا، دیکھو ضرب کا معنی ہے پٹائی کرنا، وہی معنی ابھی بھی کر رہا ہوں، عصا کا معنی ہے لاٹھی، وہی معنی ابھی بھی کر رہا ہوں، ضربه العصا، لاٹھی نے اس کی پٹائی کی، تو دیکھو کوئی لفظ کسی دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے؟ نہیں، ہر لفظ اپنے معنی میں ہے، تو مجاز عقلی میں ہر لفظ اپنے معنی میں ہوتا ہے، البتہ آپ نسبت ایک چیز کی طرف ہونی چاہیے تھی، آپ نسبت کسی دوسری چیز کی طرف کر دیتے ہیں، یہ ہے مجاز عقلی، اس میں معنی نہیں بدلتا۔ جبکہ دوسرا ہے مجاز لغوی، مجاز لغوی میں ایک لفظ کو آپ دوسرے معنی میں استعمال کر لیتے ہیں، جیسے شیر کا لفظ وضع تو ہے کس کے لیے؟ جنگلی درندے کے لیے، لیکن آپ اس کو استعمال کر لیتے ہیں کس کے لیے؟ بہادر آدمی کے لیے، تو اس کو کہتے ہیں مجاز لغوی۔ تو مجاز عقلی میں اسناد بدلتے ہیں اور مجاز لغوی میں معنی بدلتے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ آگے دیکھیے بھئی، قوله لدى الإفهام. پہلے ذرا متن دیکھ لو بھئی، متن کا میں پھر ترجمہ کر دیتا ہوں، تو پھر شرح کو سمجھنا آسان ہو جائے گا بھئی۔ جعلته تبصرة، میں نے اس کتاب کو سمجھانے والا بنایا ہے، تبصرة أي مبصراً، میں نے اس کتاب کو سمجھانے والا بنایا لمن اس شخص کے لیے حاول التبصر جو سمجھنے کا ارادہ کرے لدى الإفهام أي عند الإفهام کس وقت؟ سمجھاتے وقت۔ میں نے اس کتاب، توجہ ہے؟ میں نے اس کتاب کو سمجھانے والا بنایا اس شخص کے لیے جو سمجھنے کا ارادہ کرے لدى الإفهام سمجھاتے وقت۔ تو میں نے اس کتاب کو سمجھانے والا بنایا لمن حاول التبصر جو شخص سمجھنے کا ارادہ کرے، تبصر کا معنی سمجھنا، لدى الإفهام سمجھاتے وقت۔ اب افہام میں دیکھو دو افراد کا ہونا ضروری: ایک سمجھانے والا اور ایک جس کو سمجھایا جائے، سمجھانے والا کون ہے؟ معلم ہے، استاد ہے، اور سمجھنے والا کون ہے؟ متعلم ہے اور شاگرد ہے۔ تو یہاں دونوں معنی کر سکتے ہیں، من سے آپ چاہیں تو شاگرد مراد لے لیں، اور من سے آپ چاہیں تو استاد مراد لے لیں۔ پھر سنو ترجمہ، پہلے ہم کر لیتے ہیں شاگرد: جعلته تبصرة، میں نے اس کتاب کو سمجھانے والا بنایا ہے لمن اس شخص کے لیے، اس طالب علم کے لیے حاول التبصر جو سمجھنے کا ارادہ کرے لدى الإفهام سمجھاتے وقت، جو سمجھاتے وقت جو طالب علم سمجھنے کا ارادہ کرے کس وقت؟ سمجھاتے وقت۔ کیا معنی سمجھاتے وقت؟ کہ استاد اس کو کیا کر رہا ہو؟ سمجھا رہا ہو، تو دیکھا استاد اس کو سمجھا رہا ہے اور یہ اس وقت سمجھنا چاہتا ہے، تو اس طالب علم کے لیے میں نے اس کتاب کو کیا بنایا ہے؟ سمجھانے والا بنایا ہے، ایسی خوبصورت عبارت لایا ہوں کہ طالب علم جس کی نیت ہو سمجھنے کی وہ آسانی سے بات کو سمجھ لے گا۔ یہ معنی، پھر سنو: جعلته تبصرة، میں نے اس کتاب کو سمجھانے والا بنایا ہے لمن اس طالب علم کے لیے حاول التبصر جو سمجھنے کا ارادہ کرے لدى الإفهام سمجھاتے وقت، یعنی جب غیر اس کو سمجھا رہا ہو یعنی استاد اس کو سمجھا رہا ہو۔ اور آپ چاہیں تو من سے مراد لے لیں استاد، تو اب ترجمہ سنیں: میں نے اس کتاب کو سمجھانے والا بنایا ہے لمن اس شخص کے لیے یعنی اس استاد کے لیے حاول التبصر جو سمجھنے کا ارادہ کرے لدى الإفهام سمجھاتے وقت، سمجھاتے وقت، یعنی جب یہ کیا کر رہا ہو؟ دوسرے کو یعنی شاگرد کو سمجھا رہا ہو، تو میں نے اس کتاب کو سمجھانے والا بنایا، کس کے لیے؟ لمن حاول التبصر اس استاد کے لیے جو جو سمجھنے کا ارادہ کرے، بھئی استاد بھی بات کو سمجھے گا اور پھر ہی کیا کرے گا؟ آگے سمجھائے گا، تو میں نے اس میں اتنی واضح بات کی ہے کہ استاد بھی آسانی سے بات کی سمجھ جائے گا اور پھر بہترین طریقے سے کیا کرے گا؟ طالب علم کو سمجھا دے گا، یہ معنی ہے: جعلته تبصرة، میں نے اس کتاب کو سمجھانے والا بنایا ہے لمن اس شخص کے لیے یعنی اس استاد کے لیے، اس معلم کے لیے حاول التبصر جس کا ارادہ سمجھنے کا ہو لدى الإفهام سمجھاتے وقت۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ یہی اب دیکھیے شرح کے اندر آ جائیے بھئی: لدى الإفهام بالكسر، یہ افہام کس کے ساتھ ہے؟ کسرہ کے ساتھ ہے، میں نے بتلایا تھا آگے بھی ایک آگے ذوي الأفهام آ رہا ہے، اور یہ ہے لدى الإفهام، افہام میں ہمزہ کے نیچے کسرہ پڑھو، یہ باب افعال کا مصدر ہے، اور ذوي الأفهام میں الف پر فتحہ پڑھو، ہمزہ پر فتحہ پڑھو، کیونکہ وہ فہم کی جمع ہے، اور جمع میں آپ الف پر کیا پڑھتے ہیں؟ فتحہ، اور باب افعال کے مصدر کے ہمزہ کے نیچے کیا پڑھتے ہیں؟ کسرہ، تو آپ نے خیال رکھنا ہے جہاں عبارت میں جمع کا لفظ ہو وہاں آپ نے ہمزہ پر فتحہ پڑھنا ہے، اور جہاں باب افعال کا مصدر ہو تو وہاں آپ نے کسرہ پڑھنا ہے۔ تو بتلا دیا: قوله لدى الإفهام بالكسر، یہ کس کے ساتھ ہے؟ کسرہ یعنی ہمزہ کے کسرے کے ساتھ ہے، لدى الإفهام، ہمزہ کے نیچے زیر پڑھو۔ کیا معنی لدى الإفهام؟ أي تفهيم الغير إياه، کہ تفهيم الغير کہ غیر سمجھائے إياه اس کو، غیر سمجھائے اس کو، یہ کس صورت میں ہوگا؟ غیر اس کو سمجھا رہا ہے، معلوم ہوا یہ کون ہے؟ شاگرد ہے، یہ کون ہے؟ شاگرد، دیکھا یہ معنی ہے: أي تفهيم الغير إياه یعنی غیر کا سمجھانا إياه اس شخص کو یعنی طالب علم کو، أو تفهيمه للغير یا اس کا سمجھانا للغير کس کو؟ غیر کو یعنی کسی دوسرے کو، یہ کسی دوسرے کو سمجھا رہا ہو، یہ کون سی صورت ہوگی؟ کون ہو یہ؟ استاد ہو، تو یوں ترجمہ کر لیں، غیر کا ترجمہ دوسرے کے ساتھ کر لیں: أي تفهيم الغير إياه، تفهيم الغير، دوسرے کا سمجھانا إياه اس کو، دوسرا اس کو سمجھائے، أو تفهيمه للغير یا اس کا سمجھانا دوسرے کو یعنی یہ دوسرے کو سمجھا رہا ہو یعنی یہ استاد ہو۔ بات سمجھ میں آگئی؟ میں نے پڑھا: أي تفهيم الغير، تفہیم کو میں نے مجرور پڑھا، توجہ ہے؟ عبارت بتلا رہا ہوں: أي تفهيم الغير إياه أو تفهيمه، اس تفہیم کا عطف اس پہلے تفہیم پر ہے اور وہ مجرور تھا تو یہ بھی مجرور، کیونکہ معطوف کا وہی حکم ہوتا ہے، وہی اعراب ہوتا ہے جو کس کا ہوتا ہے؟ معطوف علیہ کا۔ اب أي تفهيم الغير، یہ مجرور میں نے کیوں پڑھا تفہیم کو؟ أي تفهيم، أي تفهيماً نہیں پڑھا میں نے، أي تفهيمُ رفع بھی نہیں پڑھا، نصب بھی نہیں پڑھا، أي تفهيمِ الغير، میم کے نیچے کیا پڑھ رہا ہوں؟ زیر، یہ کیوں پڑھا؟ وجہ یہ کہ یہ تفسير بیان ہو رہی ہے، معنی بیان ہو رہا ہے، أي آیا نا، أي کس لیے آتا ہے؟ تفسیر اور معنی بیان کرنے کے لیے، اور کس لفظ کا معنی بیان ہو رہا ہے؟ افہام کا، اور افہام کیا ہے؟ مجرور ہے، مضاف الیہ ہے، لدى مضاف الإفهام مضاف الیہ، تو الإفهام مجرور ہے۔ اچھا تو یہ تفسیر ہوئی، اچھا بھئی ترکیب کے اعتبار سے یہ کیا بن رہے ہیں؟ طلباء کہہ دیتے ہیں مفسَّر اور مفسِّر، جو پہلے ہے اس کو کہتے ہیں مفسَّر، جس کی تفسیر کی گئی اس میں مفعول ہے نا، جس کا معنی بیان کیا گیا وہ کون ہے؟ مفسَّر، جو پہلے آیا، اور تفسیر کون بیان کر رہا ہے؟ جو بعد میں آ رہا، اب جو بعد میں آیا یعنی تفہیم، یہ تفہیم کیا ہے؟ مفسِّر، اور افہام کیا ہے؟ مفسَّر، تو طلباء کہہ دیتے ہیں کہ افہام ہے مفسَّر اور تفہیم ہے مفسِّر۔ بھئی مفسَّر اور مفسِّر کہنے سے اعراب کا پتہ نہیں چلتا، ہم پوچھ رہے ہیں اعراب، ان اعراب کیا ہے؟ ترکیب کیا ہوگی؟ کس اعتبار سے یہ تفہیم مجرور ہے؟ آپ پوری ہدایت النحو پڑھ لیں، پوری کافیہ پڑھ لیں، کہیں اعراب آیا کہ مفسِّر کا یہ اعراب ہوتا ہے؟ یا مفسَّر کا یہ اعراب ہوتا ہے؟ ترکیب میں وہ چیزیں ذکر کی جاتی ہیں جن سے اعراب کا پتہ چلے، اسی طرح بعض طلباء کہتے ہیں اس میں اشارہ اور آگے جو لفظ آئے اس کو کہتے ہیں مشار الیہ، بھئی اس میں اشارہ کہنے سے کوئی اعراب کا پتہ چلا؟ نہیں، اس میں اشارہ تو مرفوع بھی ہو سکتا ہے، منصوب بھی ہو سکتا ہے، مجرور بھی ہو سکتا ہے، ہوگا محلاً، لیکن مرفوع بھی ہو سکتا ہے اگر فاعل ہو یا مبتدا ہو، منصوب بھی ہو سکتا ہے اگر مفعول ہو، اور مجرور بھی ہو سکتا ہے اگر مضاف الیہ ہو یا اس پر کیا داخل ہو حرفِ جار، تو اس میں اشارہ اور مشار الیہ، ترکیب میں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی بھئی، اسی طرح مفسَّر اور مفسِّر ترکیب کے اندر یہ بتانے کی ضرورت نہیں، ہاں ویسے آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ أي کے ذریعے تفسیر کرتے ہیں، ماقبل کو مفسَّر کہتے ہیں اور مابعد کو مفسِّر، پھر ترکیب کیا ہوگی؟ بھئی ترکیب کے اعتبار سے یاد رکھو جس کو مفسَّر کہتے ہیں نا وہ ہے مبدل منہ، وہ کیا ہے؟ مبدل منہ، اور آگے جو تفسیر ہوتی ہے وہ ہوتی ہے بدل، تو یہاں لدى الإفهام، یہ افہام کیا ہے؟ مبدل منہ، اور أي تفهيم، یہ تفہیم کیا ہے؟ بدل، اور آپ نے پڑھا ہے بدل کا وہی اعراب ہوتا ہے جو کس کا ہو؟ مبدل منہ کا، اور مبدل منہ کیا تھا؟ مجرور، تو یہ تفہیم بدل بھی کیا ہوگا؟ مجرور۔ جی، تو اس لیے پڑھیں گے: أي تفهيم الغير إياه کہ دوسرے کا سمجھانا اس کو، أو تفهيمه للغير یا اس کا سمجھانا دوسرے کو، والأول للمتعلم والثاني للمعلم، اور پہلا کس کے لیے ہے؟ متعلم سیکھنے والے کے لیے یعنی طالب علم کے لیے، والثاني للمعلم اور دوسرا کس کے لیے ہے؟ معلم سکھانے والے استاد کے لیے۔ پہلا طالب علم کے لیے کون سا؟ جب یہ تفهيم الغير إياه کہ غیر اس کو سمجھائے تو یہ طالب علم کے لیے ہے، اور دوسری صورت میں کہ یہ غیر کو سمجھائے وہ استاد کے لیے ہے۔ آگے دیکھیے: قوله من ذوي الأفهام، مصنف کا قول من ذوي الأفهام، کہتے ہیں: بفتح الهمزة، یہ ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ ہے، إفہام نہیں پڑھنا بلکہ أفهام، ہمزہ کا فتحہ پڑھنا ہے، جمع فهم، یہ کیا ہے؟ فهم کی جمع ہے۔ فهم کا معنی سمجھ، سمجھ، ذوي الأفهام سمجھوں والے یعنی سمجھ والے۔ والظرف إما في موضع الحال من فاعل يتذكر أو متعلق بيتذكر، اب اوپر آ جاؤ بھئی متن میں، پھر پہلے متن میں سمجھ لو: وتذكرة أي جعلته تذكرة لمن لمن أراد أن يتذكر من ذوي الأفهام، اور میں نے اس کتاب کو یاد کروانے والا بنایا ہے لمن أراد اس شخص کے لیے جس کا ارادہ ہو أن يتذكر کہ وہ یاد کرے، تذکرہ کا معنی یاد کروانا، اور تذکر کا معنی یاد کرنا، تو تذکرہ بمعنی مذکّر کے ہوا۔ تو میں نے اس کتاب کو مذکّر بنایا ہے، یاد کروانے والا بنایا ہے لمن اس شخص کے لیے أراد جس کا یہ ارادہ ہو أن يتذكر کہ وہ یاد کر لے من ذوي الأفهام، ذوي الأفهام سمجھدار، سمجھ والے۔ اب یہاں دو ترکیبیں ذکر کی تھیں: ایک ترکیب یہ کہ من ذوي الأفهام کو حال بناؤ يتذكر کی هو ضمیر سے، أن يتذكر فعل ہے نا اور فعل کے لیے کیا چاہیے؟ فاعل، تو اس کے اندر ہے هو ضمیر، اور اس کو بنا دو ذو الحال، اور من ذوي الأفهام اس کو کیا بناؤ؟ حال، کیسے حال بنے گا؟ من جارہ، ذوي مجرور لفظاً مضاف، الأفهام مجرور لفظاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مجرور، جار مجرور اب انہوں نے حال بننا ہے، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ثابتةً سے، کس سے؟ ثابتةً سے، ثابتةً صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر اس کے لیے بھی تو فاعل چاہیے، اس کے اندر هو ضمیر جو فاعل ہے، اور راجع کس کی طرف؟ ذو الحال کی طرف، حال کو کس سے جوڑتے ہیں؟ ذو الحال سے، تو هو ضمیر راجع ذو الحال کو، اسمِ فاعل ثابتةً جو ہے وہ اپنے فاعل اور متعلق، متعلق کون ہے؟ من ذوي الأفهام، تو اسمِ فاعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر یہ کیا ہوا؟ حال، تو يتذكر کے اندر جو هو ضمیر وہ کیا ہے؟ ذو الحال، تو وہ ذو الحال اپنے حال سے مل کر يتذكر کے لیے فاعل بن گیا۔ ترکیب سمجھ میں آ گئی؟ تو کیسے ترجمہ ہوگا؟ "اور میں نے اس کتاب کو یاد کروانے والا بنایا ہے لمن اس شخص کے لیے أراد أن يتذكر جس کا یہ ارادہ ہو کہ وہ یاد کر لے اس حال میں کہ وہ سمجھداروں میں سے ہو"، وہ شخص کس میں سے ہو؟ سمجھداروں میں سے ہو۔ دوسری ترکیب یہ ہے کہ من ذوي الأفهام یہ جار مجرور ہے، اس کو براہِ راست يتذكر سے جوڑ دو۔ فعل سے بھی جار مجرور جڑتے ہیں یا نہیں جڑتے؟ تو یہ براہِ راست اسی کے ساتھ جڑ جائیں گے، تو ترجمہ یوں ہوگا: "اور میں نے اس کتاب کو یاد کروانے والا بنایا ہے لمن أراد اس شخص کے لیے جس کا یہ ارادہ ہو کہ أن يتذكر وہ یاد کر لے من ذوي الأفهام سمجھداروں سے"، جو سمجھداروں سے لے کر یاد کر لے، سمجھداروں سے لے کر یاد کر لے، یا سمجھداروں سے سیکھ کر یاد کر لے۔ تو ایک ترکیب من ذوي الأفهام کی اس کو ہم نے حال بنایا، اور دوسری ترکیب من ذوي الأفهام کی کہ اس کو کس سے براہِ راست جوڑ دیا؟ يتذكر سے۔ یاد رکھیے یہاں بھی وہی دو صورتیں، یہ متعلم کے لیے بھی ہو سکتا ہے اور معلم کے لیے۔ جب آپ نے ذوي الأفهام، من ذوي الأفهام کو حال بنایا، توجہ ہے؟ اس کو کیا بنایا؟ حال، وہ شخص جس کا، توجہ سے سنو، وہ شخص جس کا ارادہ یہ ہو کہ وہ یاد کر لے اس حال میں کہ وہ شخص خود کس میں سے ہے؟ سمجھداروں میں سے ہے، معلوم ہوا یہ استاد کی بات ہو رہی ہے، کس کی بات ہو رہی ہے؟ استاد کی بات ہو رہی ہے، تو من سے کون مراد ہوا؟ استاد، پھر سنو، اب ترجمہ سنو: "اور میں نے اس کتاب کو یاد کروانے والا بنایا ہے لمن اس شخص یعنی اس استاد کے لیے، اس معلم کے لیے جس کا یہ ارادہ ہو کہ وہ اس، وہ کیا کر لے؟ یاد کر لے اس حال میں کہ وہ کس میں سے ہے؟ استاد سمجھداروں میں سے ہے"، تو یہ کس کے لیے ہوا؟ معلم کے لیے۔ اور دوسری ترکیب کیا ہے؟ من ذوي الأفهام کو کس سے جوڑا؟ يتذكر سے، یاد رکھیے اس صورت میں پھر من سے مراد متعلم ہوگا، شاگرد ہوگا۔ اب ترجمہ سنو: "اور میں نے اس کتاب کو یاد کروانے والا بنایا ہے لمن اس شخص کے لیے یعنی اس طالب علم کے لیے أراد أن يتذكر جس کا یہ ارادہ ہے کہ وہ یاد کر لے من ذوي الأفهام سمجھداروں سے سیکھتے ہوئے"، کہ وہ کیا کر لے؟ یاد کر لے سمجھداروں سے سیکھتے ہوئے یا سمجھداروں سے لیتے ہوئے یعنی اساتذہ سے لیتے ہوئے، اساتذہ سے سیکھتے ہوئے، تو ذوي الأفهام سے کون مراد ہوئے؟ اساتذہ، اور من سے کون مراد ہوا؟ طالب علم جو سیکھنا چاہتا ہے ان سے لے کر۔ اب دیکھیے شرح میں آ جائیے، اب یہی بات بیان کریں گے: کہتے ہیں والظرف، اور ظرف جو ہے، بھئی یہ جو من ذوي الأفهام یہ جار مجرور ہے نا، اور جار مجرور کو مجازاً ظرف کہتے ہیں، اگر ان کا متعلق مذکور ہو تو اس جار مجرور کو کہتے ہیں ظرفِ لغو، اور اگر اس کا متعلق محذوف نکالنا پڑے تو اس کو کہتے ہیں ظرفِ مستقر۔ تو ظرف سے مراد یہ من ذوي الأفهام یہ والا جار مجرور ہے۔ تو کہتے ہیں: والظرف، اور جو ظرف ہے إما في موضع الحال، یا تو یہ حال کے مقام میں ہے من فاعل يتذكر، يتذكر کے فاعل سے، يتذكر کے فاعل سے یہ حال کے مقام میں ہے، اور اس کے لیے پھر ہم نے کیا نکالا تھا؟ ثابتةً۔ أو متعلق بيتذكر، یا یہ براہِ راست متعلق ہے کس کے ساتھ؟ يتذكر کے ساتھ۔ سوال: بيتذكر، باء کیا ہے؟ جارہ، اور حروفِ جارہ داخل ہوتے ہیں اسم پر، اسم کا خاصہ ہے نا؟ آپ نے پڑھا اسم کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ ہے کہ اس پر کیا آئے؟ جر آئے، اور جر کس کی وجہ سے آتا ہے؟ حرفِ جر کی وجہ سے، تو جب جر اسم کے ساتھ خاص ہے تو معلوم ہوا حرفِ جر بھی صرف کس پر داخل ہوگا؟ اسم پر، تو یہاں تو يتذكر فعل پر داخل ہو رہا ہے۔ و أو متعلق بيتذكر، کیا جواب دیں گے؟ جواب: یہاں يتذكر سے لفظِ يتذكر مراد ہے۔ کیا مراد ہے؟ لفظِ يتذكر، ہاں یہاں یہ فعل کے معنی میں نہیں، اس لیے اس کا ترجمہ بھی نہیں کریں گے: أو متعلق بيتذكر، ترجمہ کرو۔ یا یوں سمجھو، یوں سمجھو آسان بات، یہ جو عبارت میں وہ جو يتذكر آیا تھا نا اس کا نام ہی ہم نے يتذكر رکھ دیا، اب یہ اس کا نام ہے، علم ہے، اور علم کیا ہوتا ہے؟ اسم، اسم ہوتا ہے، تو یہ نام ہے اور اس نام پر کیا داخل ہوئی؟ باء، تو باء فعل پر داخل ہوئی یا اسم پر؟ اسم پر، تو یہ اس وقت فعل نہیں ہے، یہ اسم ہے۔ بھئی اس کی کیا دلیل ہے کہ یہ اسم ہے؟ جواب: آپ اس کا ترجمہ کریں، آپ اس کا ترجمہ، آپ اس عبارت کا ترجمہ کریں، تو دیکھو يتذكر کا ترجمہ نہیں کریں گے، دیکھو: أو متعلق بيتذكر یا یہ ظرف متعلق ہے کس کے ساتھ؟ يتذكر کے ساتھ، حالانکہ يتذكر کا معنی تو کیا تھا؟ یاد کرنا، لیکن یہاں کوئی بھی ترجمہ نہیں کرے گا اس کا، کیونکہ ترجمہ کرے گا پھر تو فعل ہوا، اور یہاں تو فعل نہیں، بات بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی؟ تو بہرحال تفصیل وہاں نحو کی کتابوں، نحو کی ترکیب وغیرہ میں آپ کو مل جائے گی۔ جیسے آپ کہتے ہیں: ضرب فعلٌ، ضرب کیا ہے؟ فعل، ضرب کو مبتدا بنا دیا، حالانکہ فعل تو مبتدا نہیں بنتا، ضرب مبتدا اور فعلٌ اس کی خبر، اور ترجمہ کرو: ضرب فعلٌ، ترجمہ کرو، ضرب فعل ہے، معلوم ہوا وہ جو عبارتوں میں ضرب آتا تھا اس کا نام ہی کیا رکھ دیا؟ ضرب، تو یہ علم بن گیا اور اب اس لیے مبتدا بھی بن رہا ہے، اور علم بن گیا اور علم کا، نام کا کوئی ترجمہ کرتے ہیں؟ آپ کا ایک ساتھی عبداللہ ہے، وہ آپ کے پاس آئے تو آپ کیا کہتے ہیں؟ اللہ کا بندہ آیا ہے؟ یا اس کا نام لیتے ہیں عبداللہ آیا ہے؟ حالانکہ عبداللہ کا معنی تو ہے اللہ کا بندہ، لیکن کوئی بھی اس کا ترجمہ نہیں کرتا، کیونکہ علم میں ترجمہ نہیں کیا جاتا اس کا بھئی۔ تو یہاں، تو کہتے ہیں أو متعلق بيتذكر یا یہ ظرف متعلق ہے کس کے ساتھ؟ يتذكر کے ساتھ بتضمين معنى الأخذ أو التعلم، اخذ یا تعلم کے معنی کی تضمین کے ساتھ۔ یہ بات سمجھ لو بھئی۔ بھئی اشکال یہ ہوتا ہے کہ آپ نے من ذوي الأفهام کو کس سے جوڑا؟ يتذكر سے جوڑا، یاد رکھو یہ حرفِ جر جس فعل سے جڑتے ہیں، یہ اس کا صلہ کہلاتے ہیں، کیا کہلاتے ہیں؟ صلہ کہلاتے ہیں، جیسے مثلاً ضربت زيداً في الدار، ضربت زيداً في الدار، یہ في الدار کس سے متعلق؟ ضربت سے، ضربت سے متعلق، تو ہم کہیں گے یہ في صلہ ہے ضربت کا، یہ في صلہ ہے ضربت کا، اسی طرح میں کہوں ضربت زيداً بالعصا، یہ بالعصا کس سے متعلق؟ ضربت سے، تو ہم کیا کہیں گے؟ یہ باء صلہ ہے کس کا؟ ضربت کا۔ تو جو بھی حرفِ جر جس فعل یا شبہ فعل کے ساتھ جڑ رہا ہو تو کہتے ہیں یہ اس کا صلہ ہے، تو یہاں پر بھی من کو کس سے جوڑا؟ يتذكر سے، تو یہ من کیا ہوا؟ صلہ ہوا، کس کا؟ يتذكر کا، اس پر اشکال ہوتا ہے کہ يتذكر کا صلہ من نہیں آتا، يتذكر کا معنی تو یاد کرنا ہے، تو اس کے لیے من کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ضربت بالعصا، ضرب میں بالعصا ٹھیک تھا، میں نے پٹائی کی اس کی بالعصا، کس کے ساتھ؟ لاٹھی کے ساتھ، بات ٹھیک بن رہی ہے، یا ضربت في الدار، میں نے اس کی پٹائی کی في الدار، کہاں پر؟ اس گھر میں، وہاں تو جڑ رہا ہے، لیکن یہاں یہ جڑتا ہی نہیں، يتذكر کے ساتھ من جڑتا ہی نہیں، اس کا یہ صلہ آتا ہی نہیں، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو جواب دیں گے کہ یہ اس میں، یہ یہاں تضمین ہے تضمین، تضمین اسے کہتے ہیں کہ ایک فعل کے اندر دوسرے فعل کے معنی کا لحاظ رکھا جائے۔ کیا کیا جائے؟ ایک فعل کے اندر دوسرے فعل کے معنی کا لحاظ رکھا جائے، اور آگے آنے والا صلہ اس پر دلالت کرے۔ آگے آنے والا صلہ اس پر دلالت کرے، تو یہاں يتذكر کا صلہ تو من نہیں آتا، ہاں اس يتذكر یاد کرنے کے اندر، يتذكر کے اندر لینا، اخذ، اخذ کا کیا معنی ہے؟ ایک لینا، کہیں گے: أخذت من زيد، یہ چیز میں نے کس سے لی؟ زید سے، تو أخذ کا صلہ من آتا ہے، تعلم، تعلم کا صلہ بھی من آتا ہے: تعلمت من أستاذ، تعلمت من الأستاذ، یہ بات میں نے سیکھی کس سے؟ استاد سے، تو تعلم کا صلہ من آتا ہے، اسی طرح أخذ کا صلہ بھی من آتا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اخذ کا معنی لینا نا، تو کسی سے کیا کیا جائے گا؟ کوئی چیز لی جائے گی، تعلم کا معنی سیکھنا ہے، تو کسی سے کوئی چیز سیکھی جائے گی، تو وہاں بھی من آتا ہے، اخذ میں بھی من آتا ہے، تو ان دونوں کا صلہ آتا ہے من، تو تذکر میں ان کے معنی کی رعایت ہے۔ تذکر میں، پھر سنو، تضمین اس کو کہتے ہیں، تضمین، کہ ایک فعل میں دوسرے فعل کے معنی بھی ملحوظ ہو، اس کا بھی وہاں ارادہ ہو، تو تذکر کا صلہ تو من نہیں آتا، لیکن اخذ اور تعلم کا صلہ کیا آتا ہے؟ من، تو تذکر کے ساتھ اخذ یا تعلم کا معنی بھی ملحوظ ہے، آپ جو بھی لے لیں، چاہے آپ اخذ لے لیں، چاہے آپ تعلم، کیسے ہوگا؟ لمن أراد أن يتذكر، جس طالب علم کا یہ ارادہ ہو کہ وہ یاد کرے آخذاً من ذوي الأفهام، کس سے لیتے ہوئے؟ اساتذہ سے، سمجھداروں سے لیتے، لے کر یاد کر لے، یا لمن أراد أن يتذكر، جس طالب علم کا یہ ارادہ ہو کہ وہ یاد کرے متعلماً من ذوي الأفهام، کس سے سیکھتے ہوئے؟ جی؟ یوں کرو، پھر دوبارہ سنو: لمن أراد أن يتذكر، جس طالب علم کا یہ ارادہ ہو کہ وہ اس کو یاد کر لے آخذاً من ذوي الأفهام، کس سے لیتے ہوئے؟ سمجھداروں سے یعنی اساتذہ سے لیتے ہوئے یاد کر لے، یا لمن أراد، جس شخص کا، جس طالب علم کا یہ ارادہ ہو أن يتذكر کہ وہ کیا کر لے؟ یاد کر لے متعلماً من ذوي الأفهام، کس سے سیکھتے ہوئے؟ اساتذہ سے سیکھتے ہوئے، بات سمجھ آ رہی ہے؟ تو یہاں تذکر کے اندر اخذ یا تعلم کا معنی ملحوظ ہے، بھئی تذکر کا کیا معنی؟ یاد کرنا، اسی کے ساتھ اخذ کے معنی کی بھی رعایت رکھ لو، یا اسی کے ساتھ تعلم کے معنی کی بھی رعایت رکھ لو، کس کے؟ اخذ کا معنی، اخذ کا معنی بھی ملحوظ رکھو، اور اخذ کا صلہ تو من آتا ہے، تو من لے آئے، یا اسی تذکر کے ساتھ کس کی رعایت رکھ لی؟ تعلم کی، اور تعلم کا صلہ تو من آتا ہے، اس لیے من لے آئے، تو تضمین اسے کہتے ہیں کہ ایک فعل کے اندر ہی دوسرے فعل کے معنی کی رعایت رکھی جائے، وہ بھی ملحوظ ہو، اور اس پر آگے آنے والا صلہ دلالت کرتا ہے، وہ صلہ بتلاتا ہے جیسے یہاں تذکر کا صلہ تو من نہیں آتا، یہ من بتا رہا ہے کہ یہاں کسی اور فعل کا معنی بھی ملحوظ ہے، خود کیونکہ تذکر کا صلہ تو من آتا ہی نہیں، معلوم ہوا کسی اور فعل کا معنی ملحوظ ہے، تو وہ موقع محل کے مطابق آپ دیکھ لیں، کس کا معنی ملحوظ ہے؟ یاد کرے، کیا کس طرح؟ لیتے ہوئے، دوسرے سے، استاد سے لیتے، اور اخذ، اور اخذ کا صلہ کیا آتا ہے؟ من، تو یہاں اخذ کا معنی بھی ملحوظ ہے۔ یاد کرے کس سے سیکھتے ہوئے؟ استاد، تو یہاں اخذ کا معنی ملحوظ ہے یا تعلم کا معنی ملحوظ ہے۔ تو تضمین کسے کہتے ہیں؟ ایک فعل کے اندر دوسرے فعل کا معنی ملحوظ ہو، اور آگے آنے والا صلہ اس پر دلالت کرے، یہ معنی نہیں کہ تذکر کا اپنا معنی چھوڑ دیا، نہیں نہیں، تذکر کا اگر اپنا معنی چھوڑ دیتے ہو اور اس کو تعلم کے معنی میں لے لیتے ہو، پھر تو یہ مجاز بن گیا۔ یہ تو کیا بن گیا؟ یا آپ تذکر کا معنی چھوڑ دیتے ہو اور اخذ کا معنی لے لیتے ہو، نہیں، اس کا اپنا معنی نہیں چھوڑنا، اپنا معنی بھی ہے اور دوسرے فعل کا معنی بھی ملحوظ ہے۔ پھر آسان طریقہ یہ ہے، اس دوسرے فعل کو حال بنا لو، کیا بنا لو؟ حال بنا لو: أن يتذكر، یاد کر لے اس حال میں کہ آخذاً من ذوي الأفهام، کس سے لیتے ہوئے؟ ترجمے کے طور پر، ترجمے کے طور پر، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ورنہ تو اسی فعل کے اندر معنی ملحوظ ہے، یہ حال بنانے کا، ترکیب کے اعتبار سے حال نہیں بنائیں گے، معنی کے اعتبار سے میں سمجھانے کے لیے کہہ رہا ہوں: یاد کرے کس سے لیتے ہوئے؟ اساتذہ سے، یا کس سے سیکھتے ہوئے؟ أن يتذكر متعلماً، بات سمجھ میں آگئی؟ دیکھیے خود یہی معنی بیان کریں گے، دوبارہ سنیں، کہتے ہیں: والظرف إما في موضع الحال من فاعل يتذكر أو متعلق بيتذكر بتضمين معنى الأخذ أو التعلم، اور ظرف جو ہے من ذوي الأفهام، یہ ظرف جو ہے یا تو حال کے مقام میں ہے يتذكر کے فاعل سے، یا یہ کس سے متعلق ہے؟ براہِ راست يتذكر کے ساتھ بتضمين معنى الأخذ أو التعلم، اخذ یا تعلم کے معنی کی تضمین کے ساتھ، أي يتذكر آخذاً أو متعلماً من ذوي الأفهام، دیکھو وہی حال بنا لیں گے اس کو، يتذكر پر أن داخل تھا نا متن میں؟ جی، تو اسی طرح یہاں بھی پڑھ لیں: أن يتذكر آخذاً أو متعلماً من ذوي الأفهام، کہ وہ یاد کرے اس حال میں کہ وہ لینے والا ہو یا سیکھنے والا ہو من ذوي الأفهام، کس سے؟ سمجھداروں سے یعنی اساتذہ سے، فهذا أيضاً يحتمل الوجهين، تو یہ بھی وہ دو وجہوں کا احتمال رکھتا ہے۔ یہ بھی، یہ کلام بھی ان دو وجہوں کا احتمال رکھتا ہے، کون سی دو وجہیں؟ جو لدى الإفهام میں آئی تھیں، إفہام کہ غیر اس کو سمجھائے یا یہ غیر کو سمجھائے، یہ متعلم ہو یا معلم ہو، یہاں بھی اسی طرح ہے، من ذوي الأفهام کو جب آپ نے حال بنایا تو پھر اس صورت میں یہ کس کے لیے ہے؟ اساتذہ، استاد مراد ہے، اور جب آپ نے اس کو من ذوي الأفهام کو جوڑ دیا کس سے؟ يتذكر سے، وہ طالب علم یاد کرے کس سے لے کر؟ اساتذہ سے لے کر، تو اس صورت میں اس سے مراد متعلم ہے، تو وہی دونوں معلم اور متعلم والے دونوں احتمال یہاں بھی ہوں گے، بات سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے: فهذا أيضاً يحتمل الوجهين، تو یہ بھی وہ دو وجہوں کا احتمال رکھتا ہے۔ بھئی پہلے متن دیکھ لو، متن میں کیا آیا تھا؟ سیما الولد الأعز، سیما الولد الأعز، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہاں لا محذوف ہے، اصل میں کیا ہے؟ لا سیما الولد۔ اب اسی کی شرح کرنے لگے ہیں، دیکھیے شرح کے اندر: قوله سیما، مصنف کا قول سیما، کہتے ہیں: السي بمعنی المثل، سیٌّ کس معنی میں ہے؟ مثلٌ کے معنی میں ہے، مثلٌ کے معنی میں ہے، یقال، عربی میں کہتے ہیں: هما سیان أي مثلان، وہ دونوں کیا ہیں؟ مثل ہیں ایک دوسرے کے، وہ دونوں کیا ہیں؟ مثل ہیں، یعنی زید عمر جیسا ہے تو عمر زید جیسا ہے، تو هما سیان، وہ ایک دوسرے کے مثل ہیں، تو معلوم ہوا سیٌّ کس معنی میں آتا ہے عربی میں؟ مثل، تو کہتے ہیں: يقال هما سيان أي مثلان، وأصل سيما لا سيما، اور سیما کی اصل کیا ہے؟ لا سیما ہے، حذف لا في اللفظ ولكنه مراد معنىً، لا کو لفظوں سے تو حذف کر لیا گیا، لیکن معنی کے اعتبار سے وہ مراد ہے۔ یہ عام استعمال ہوتا ہے اور کثرتِ استعمال تقاضا کرتی ہے کس کا؟ خفت کا، کہ لفظ کو ہلکا ہونا چاہیے، لہذا بعض اوقات استعمال میں کیا کر لیتے ہیں؟ لا کو لفظوں سے حذف کر لیتے ہیں، اگرچہ وہ وہاں مراد ہوتا ہے۔ وما زائدة أو موصولة أو موصوفة، وهذا أصله. اچھا، اب ترکیب کی بات آ گئی۔ توجہ سے سنو بھئی لا سیما کی ترکیب بھئی۔ یاد رکھو لا سیما کا جو مابعد ہے، اس میں تینوں طرح کے اعراب پڑھنا جائز: رفع پڑھنا بھی جائز، نصب پڑھنا بھی جائز، اور جر پڑھنا بھی جائز۔ لا سیما الولدُ، لا سیما الولدَ، لا سیما الولدِ، یہ تینوں اعراب اس کے اندر پڑھنا جائز ہیں۔ اب ان تینوں کی وجہ، ان میں رفع کیوں پڑھنا ہے؟ نصب کیوں پڑھنا ہے؟ اور جر کیوں پڑھنا ہے؟ تو وہ وجہ یاد رکھیے بھئی۔ یہ شارح بھی کچھ ترکیبیں ذکر کریں گے، کیا کریں گے؟ کچھ ترکیبیں، ساری ترکیبیں تو یہ ذکر نہیں کریں گے، ہاں کچھ ترکیبیں یہ ذکر کر رہے ہیں، میں پوری تفصیل بیان کر دیتا ہوں بھئی، توجہ سے سننا بھئی، لا سیما کی ترکیب، لا سیما، سیٌّ کس معنی میں ہے؟ سیٌّ، مثلٌ کے معنی میں ہے۔ اچھا یاد رکھو لا سیما، یہ لا ہے لا نفی جنس، یہ کیا ہے؟ لا نفی جنس، میں کہتا ہوں: لا رجل في الدار، گھر میں کوئی آدمی نہیں ہے، تو گھر کے میں کے اندر جنسِ رجل کی نفی کر دی، یہ کیا ہے؟ لا نفی جنس، اور لا نفی جنس کا اسم بعض اوقات منصوب ہوتا ہے، تو بہرحال بات یہ چل رہی ہے کہ یہ سیما کیا ہے؟ لا نفی جنس کا اسم ہے، یہ سیٌّ کیا ہے؟ لا نفی جنس کا اسم، اور لا نفی جنس کے لیے خبر بھی چاہیے، وہ خبر محذوف ہوتی ہے، اور وہ ہے موجودٌ: لا سیما الولد موجودٌ، بلکہ یہاں تو ولد کی صفات بھی ہیں: لا سیما الولد الأعز الحفي الحري بالإكرام سمي حبیب الله عليه التحية والسلام موجودٌ، توجہ ہے؟ تو یہ سیٌّ کیا ہوا؟ لا کا اسم، اور آخر میں جا کر اس لا نفی جنس کی خبر کیا کریں گے؟ محذوف نکالیں گے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اب یہ جو درمیان میں ما آیا، اس ما کے اندر دو احتمال ہیں: یا تو یہ اسمیہ ہے یا حرفیہ ہے، یعنی یا تو یہ اسم ہے یا حرف ہے۔ اسم ہو تو پھر اس میں تین احتمال ہیں: یا یہ موصولہ ہے، یا یہ موصوفہ ہے، یا یہ تامّہ ہے۔ یہ ما کیا ہے؟ یا یہ اسمیہ ہے یا حرفیہ، یعنی یہ اسم ہے یا حرف، جب حرف ہوگا تو پھر یہ زائد ہوگا، کیا ہوگا؟ ہاں، جب اسم ہو تو پھر اس میں تین احتمال: یہ کیا؟ موصولہ ہے، یا موصوفہ ہے، یا تامّہ ہے۔ پھر دہراؤ، پھر دہراؤ: لا سیما، یہ سیٌّ کیا ہے؟ لا نفی جنس، یہ لا کونسا ہے؟ لا نفی جنس، اور سیٌّ کیا ہے اس کا اسم، اور آخر میں جا کر موجودٌ اس کی خبر کیا ہے؟ محذوف ہے، لا نفی جنس کی خبر، کیونکہ لا نفی جنس کے لیے ایک اسم چاہیے اور ایک خبر چاہیے، تو یہ تو اس کا اسم بن جائے گا اور آگے خبر محذوف ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اب درمیان میں سیما الولد جو آ رہا ہے اس کی کیا ترکیب ہے؟ تو میں نے بتلایا کہ سیما کے اندر جو ما آ رہا ہے، یا یہ اسمیہ ہے یا حرفیہ، یعنی یہ اسم ہے یا حرف، اگر حرف ہے تو یہ زائد ہے، حرف ہے تو زائد ہے، اور اگر یہ اسم ہے تو پھر یہ یا موصولہ ہے، یا موصوفہ ہے، یا تامّہ ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اگر اس ما کو بناؤ حرفیہ، کیا بناؤ؟ حرف بناؤ، تو پھر یہ زائد ہے، اور ترکیب کیا ہوگی؟ سیٌّ جو اسم ہے کس کا؟ لا کا، لا نفی جنس کا، یہ مضاف ہے کس کی طرف؟ الولد کی طرف، جو ما کے بعد آئے اس کی طرف کیا ہوگا؟ مضاف، اور درمیان میں ما کیا ہے؟ زائد ہے، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے، مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان ایک حرف زائد لے آتے ہیں کلامِ عرب میں، جیسے قرآن میں بھی ہے: أيما الأجلين، أيما الأجلين، یہ أيٌّ مضاف ہے، مفسرین حضرات فرماتے ہیں، اور الأجلين کیا ہے؟ مضاف الیہ، اور درمیان میں ما زائد ہے، ما زائد ہے۔ کیا بات ہوئی؟ کہ ما کو کیا بنایا؟ حرف، تو یہ ما کیا ہے؟ زائد ہے، اور سیٌّ مضاف اور الولدِ مضاف الیہ، لا سیما الولدِ، اصل میں کیا ہے؟ لا سیّ الولدِ، لا سیّ الولدِ، تو یہ ما زائد، اور الولدِ مجرور ہے، کیوں مجرور؟ کیونکہ مضاف الیہ ہے، مضاف الیہ ہے۔ تو مجرور ہوا یہ مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے، لا سیما کا مابعد، لا سیما کا مابعد یہاں عبارت میں کون ہے؟ الولد، یہ الولد، بس اس پر نظر رکھو، اس پہ ساری عبارت ہم منطبق کرتے جائیں گے، یہ الولد پر آپ نے کیا پڑھا؟ جر، کس وجہ سے جر پڑھا؟ یہ مضاف الیہ تھا، ایک جر کی وجہ اور بھی ہے، وہ کیا؟ کہ اس کو ما سے بدل بنا دو، اب ما کو زائد نہ بناؤ، ما کو کیا بناؤ؟ اسمیہ یعنی اسم بناؤ، لیکن اسم بناؤ تامّہ، کون سا اسم؟ تامّہ، ما موصولہ، ایک ما موصولہ ہوتا ہے، ایک ما موصوفہ ہوتا ہے، ایک ما تامّہ ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ ما تامّہ ہوتا ہے، ما موصولہ کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ صلہ، ما موصوفہ کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ صفت، لیکن ایک ما تامّہ ہوتا ہے، نہ اس کے لیے صفت چاہیے، نہ اس کے لیے صلہ چاہیے، یا اس کو یوں کہہ لو، ما اسی کا دوسرا نام ہے نکرہ غیر موصوفہ، ما کیا ہے؟ نکرہ غیر موصوفہ۔ ایک اور بات یاد رکھو، ما کتنی قسم کے ہوا؟ تین: ما موصولہ، یا موصوفہ، یا تامّہ۔ ما موصولہ کے لیے کیا چاہیے؟ صلہ، اور ما موصوفہ کے لیے کیا چاہیے؟ صفت، صلہ بھی جملہ ہوگا، صفت بھی جملہ ہوگی، لیکن فرق یہ ہے: ما موصولہ اس میں موصول ہے، معرفہ ہے، اور ما موصوفہ نکرہ ہے، کیا ہے؟ تو دونوں معرفہ اور نکرہ ہونے میں فرق ہے، ما موصولہ کیا ہوتا ہے؟ معرفہ، اور ما موصوفہ کیا ہوتا ہے؟ نکرہ ہوتا ہے، اور کان، جو ما تامّہ ہے وہ نکرہ غیر موصوفہ ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ وہ بھی نکرہ ہے، لیکن آگے اس کی کوئی صفت نہیں آتی، تو اسی کو ہم کیا کہتے ہیں؟ ما تامّہ، تو ما کتنی قسم کا ہوا؟ تین، ما اسمیہ، ما اسمیہ تین قسم کا ہوا: یا موصولہ ہوگا اور یہ معرفہ ہے اور اس کے لیے کیا چاہیے؟ صلہ، یا موصوفہ ہوگا اور یہ نکرہ ہے اور اس کے لیے کیا چاہیے؟ اس کے لیے صفت چاہیے، یا کیا ہوگا؟ ما تامّہ ہوگا اور یہ نکرہ ہے، غیر موصوفہ ہے، اس کے لیے نہ آگے صلہ آئے گا، نہ صفت، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ نکرہ غیر، اس کی صفت آگے نہیں آئے گی، یہ خود تامّہ ہے، پورا ہے، بمعنی شيءٍ کے، ما تامّہ کس معنی میں ہوتا ہے؟ شيءٍ کے، تو یہ نکرہ بھی ہے، دیکھو "الشيء" نہیں کہا، "شيءٌ" کہا، الشیء ہوتا تو کیا تھا؟ معرفہ، تو ما تامّہ جو ہوتا ہے کس معنی میں ہوتا ہے؟ شيءٍ کے معنی میں، کوئی چیز، اور یہ نکرہ ہے اور غیر موصوفہ ہے یعنی اس کی کوئی صفت وغیرہ نہیں آتی۔ اچھا، بات چل رہی تھی لا سیما الولدِ، الولد کو مجرور پڑھا، و جر کی ایک وجہ کیا؟ کہ یہ مضاف الیہ ہے، کس کے لیے؟ سیّ کے لیے، اور درمیان میں ما کیا ہے؟ زائدہ ہے، حرف ہے، دوسری ترکیب: کہ الولدِ کو مجرور پڑھیں اور یہ ما سے بدل ہے، ما سے بدل، ما مبدل منہ اور الولد کیا ہے؟ بدل، اور یہ جو ما ہے نا، یہ مضاف الیہ یہ خود ہے۔ یہ کیا ہے؟ مضاف الیہ خود، سیٌّ مضاف اور ما مضاف الیہ، اور یہ الولد اسی ما سے کیا ہے؟ بدل، تو ما کیا ہوا؟ مبدل منہ، اور الولد اس سے بدل، اور آپ نے پڑھا ہے بدل کا وہی اعراب ہوتا ہے جو کس کا ہو؟ مبدل منہ کا ہو۔ تو اس صورت میں یہ جو ما ہے نا ما، یہ زائد نہیں ہے کیونکہ یہ تو مضاف الیہ بن رہا ہے، مضاف الیہ بن رہا ہے، اور یہ کون سا ما ہے؟ تامّہ ہے یعنی نکرہ غیر موصوفہ بمعنی شيءٍ کے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو الولد میں آپ نے جر کی دو وجہیں پڑھ لیں، ایک وجہ کیا؟ مضاف الیہ ہے، اور ما کیا ہے؟ زائدہ ہے، دوسری ترکیب کیا پڑھی؟ کہ یہ بدل ہے کس سے؟ ما سے، اور ما خود کیا ہے؟ مضاف الیہ، اور وہ کون سی قسم ہے ما کی؟ کون سا ما ہے؟ ما تامّہ ہے یعنی نکرہ غیر موصوفہ بمعنی شيءٍ کے۔ یہ جر کی دو وجہیں آ گئیں، پتہ چل گئیں جر کی دو وجہیں؟ تو جر کی کتنی وجہیں آ گئیں؟ دو وجہیں آ گئیں، ایک کیا؟ مضاف الیہ ہے، دوسرا کیا؟ بدل ہے کس سے؟ ما سے۔ رفع، رفع پڑھیں گے جبکہ اس لا سیما کا جو ما ہے اس کو آپ موصولہ بنا لیں یا موصوفہ، موصولہ بنائیں گے تو معرفہ ہے یہ، موصوفہ بنائیں گے تو نکرہ ہے، اور موصول کے لیے کیا چاہیے؟ صلہ، اور صلہ آگے کیا ہے؟ صلہ جملہ ہونا چاہیے، اور موصوفہ کے لیے کیا چاہیے؟ صفت چاہیے، صفت بھی کیا ہونی چاہیے؟ جملہ ہونی چاہیے۔ تو پھر اس صورت میں الولدُ اس کو مرفوع پڑھیں گے، اور رفع کی دو وجہیں ہیں: یا تو اس کو بناؤ مبتدا اور اس کے لیے خبر محذوف نکال لو: موجودٌ، الولدُ موجودٌ، تو الولدُ مرفوع کیوں؟ مبتدا ہے، اور موجودٌ کیا ہے اس کی خبر۔ یا اس کا برعکس کر دو، اس کو خبر بنا دو الولد کو، مبتدا نہ بناؤ بلکہ خبر، اور اس کے لیے مبتدا محذوف نکال لو: لا سیما هو الولدُ، لا سیما هو الولدُ، اور ساتھ صفتیں بھی جوڑ دو نا، یہاں تو صفتیں بھی ہیں: هو الولد الأعز الحفي الحري بالإنعام سمي حبیب الله عليه التحية والسلام موجودٌ، توجہ ہے؟ تو ایک صورت کیا تھی؟ الولد کو کیا بنایا؟ مبتدا، صفتیں ساری جوڑ دو: الولد الأعز الحفي، اور آخر میں کیا خبر نکال لو؟ موجودٌ، توجہ نہیں میرا خیال ہے، الولد پر کیا پڑھ رہے ہو؟ رفع، رفع کی صورت میں یا تو ما کو موصولہ بناؤ یا ما کو موصوفہ، دونوں صورتیں آپ بنا سکتے ہیں، پھر رفع پڑھ رہے ہو تو اس کو کیا بنا لو؟ مبتدا، مبتدا اپنی ساری صفتیں سے مل کر کیا بنا؟ مبتدا، اور آگے موجودٌ اس کی خبر کیا ہے؟ محذوف نکالنی پڑے گی، ایک لا کی خبر تھی موجودٌ، وہ الگ ہے، اس، اور ایک اس الولد کی صفت خبر الگ نکالیں گے۔ تو آپ نے کیا کیا؟ الولد کو کیا بنایا؟ مبتدا، اور اس کی خبر محذوف ہے وہ کیا ہے؟ موجودٌ، دوسری ترکیب یہ، رفع ہی پڑھنا ہے، لیکن اس کو خبر بناؤ: هو الولدُ، هو مبتدا کیا ہے؟ محذوف، اور الولد کیا ہے اس کی خبر: لا سیما هو الولدُ، یہ خبر ہے، هو مبتدا، الولد اس کی خبر، اور آگے یہ خبر کی صفتیں آ رہی ہیں: الولد الأعز الحفي، تو الولد اپنی ساری صفتوں سے مل کر کیا بن جائے گا؟ خبر۔ تو مبتدا خبر مل کر، مبتدا چاہے اس کو مبتدا بناؤ چاہے خبر، تو مبتدا خبر مل کر پھر یہ اگر ما کو موصولہ بنایا تھا تو یہ اس کا صلہ بن جائے گا، اور اگر ما کو موصوفہ بنایا تھا تو یہ اس کی صفت بن جائے گی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو رفع کی بھی دو وجہیں آ گئیں، کون سی دو وجہیں؟ ایک ما کو موصولہ بنایا، ما کو موصولہ بناؤ یا موصوفہ، لیکن یہ الولد پر رفع اس کی دو وجہیں ہو سکتی ہیں، ہاں کیا؟ کیا وجہیں ذکر کیں؟ ایک اس کو مبتدا بناؤ، یا تو اس کو کیا بناؤ؟ مبتدا، یا اس کو کیا بناؤ؟ خبر بنا دو، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تیسری صورت یہ ہے کہ الولد یعنی سیما لا سیما کے مابعد پر نصب پڑھیں، نصب کی تین وجہیں ہیں بھئی، جر کی دو وجہیں تھیں، رفع کی بھی دو وجہیں ہیں، لیکن نصب کی تین وجہیں ہیں، تین وجہیں۔ ایک وجہ یہ کہ یہ منصوب ہو تمیز ہونے کی بناء پر، لا سیما کا مابعد کیا ہو؟ منصوب ہو کس بناء پر؟ تمیز ہونے کی بناء پر، اور آپ نے ہدایت النحو اور کافیہ میں پڑھا ہوگا کہ تمیز اور حال یہ کیا ہوتے ہیں؟ منصوب ہوتے ہیں، تو الولدَ یہ منصوب، لیکن یہاں یہ جاری نہیں ہو سکتی، کیونکہ تمیز میں ضروری ہے کہ وہ نکرہ ہو، اور یہاں الولد کا لفظ یعنی لا سیما کا جو مابعد ہے وہ کیا ہے؟ وہ معرفہ ہے، تو یہ یہاں تمیز نہیں بن سکتا، لیکن ویسے لا سیما کا مابعد اس کو منصوب پڑھنے میں کتنی وجہیں ہو سکتی ہیں؟ تین وجہیں، یا تو آپ اس کو تمیز بھی بنا سکتے ہیں، تمیز بھی، لیکن وہ ترکیب یہاں نہیں ہوگی، لیکن بہرحال تین وجوہات میں ذکر کر رہا ہوں، صرف اسی کے لیے نہیں، جہاں بھی لا سیما آئے آپ یہ ترکیبیں وہاں جاری کر سکتے ہیں، تو اگر نکرہ ہو تو آپ اس کو منصوب پڑھیں گے، کس بناء پر؟ تمیز کی بناء پر بھی منصوب پڑھ سکتے ہیں، صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن اس میں صرف کیا ضروری؟ کہ یہاں مابعد معرفہ نہیں ہونا چاہیے، لا سیما الولد نہیں ہونا چاہیے، لا سیما ولداً نکرہ ہونا چاہیے۔ تو جگہ جگہ عبارت آئے گی، وہاں کہیں نکرہ ہوگا، کہیں معرفہ ہوگا، جب نکرہ ہو تو پھر آپ تمیز بھی بنا سکتے ہیں۔ دوسری ترکیب، نصب کی دوسری وجہ، دوسری وجہ: کہ اس مابعد کو منصوب پڑھو اور أعني فعل محذوف نکال لو، کیا نکال لو؟ أعني فعل محذوف نکال لو، اور اس صورت میں ما نکرہ تامّہ ہوگا، ما کیا ہے؟ نکرہ تامّہ، لا سیما، تو ما کس معنی میں ہوا؟ شيءٍ کے معنی میں، أي لا مثل شيءٍ، اس چیز جیسا کچھ نہیں، أعني الولدَ، بھئی وہ کیا چیز ہے؟ أعني الولدَ، میری مراد اس لڑکے سے ہے، اس بیٹے سے ہے۔ بھئی أعني اور یعنی، یعنی کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟ کسی چیز کی مراد اور معنی ذکر کیا جاتا ہے، اسی سے أعني متکلم کا صیغہ ہے، أعني میری مراد یہ ہے۔ أعني، لا سیما، ما سے مراد کیا ہے؟ ما کون سا ہے؟ نکرہ تامّہ، کس معنی میں ہوتا ہے؟ شيءٍ، تو لا سیما أي لا سي شيءٍ، لا مثل شيءٍ، عبارت سمجھ میں آ رہی ہے؟ سیٌّ کس معنی میں؟ مثلٌ، اور ما کس معنی میں؟ شيءٍ، أي لا مثل شيءٍ، اس چیز جیسی کوئی چیز نہیں ہے، بھئی کون سی چیز؟ ابہام ہے یا نہیں؟ تو أعني الولدَ میری مراد وہ بیٹا ہے، وہ لڑکا ہے، تو أعني کے لیے کیا کر دیا؟ اس معنی کو بیان کر دیا، اس کی مراد کو ذکر کر دیا، تو أعني فعل، اس کے اندر أنا ضمیر، أعني متکلم کا صیغہ ہے نا، أعني نعني، أعني فعل اس کے اندر أنا ضمیر فاعل، اور الولدَ اس کے لیے مفعول ہوا، تو یہ مفعول ہونے کی بناء پر یہ منصوب ہے أعني فعل کے لیے۔ اور تیسری نصب کی وجہ یہ ہے کہ یہ لا سیما کو استثناء کے لیے مان لیں، نحوی حضرات کیا فرماتے ہیں؟ بعض، بعض نحوی حضرات فرماتے ہیں کہ لا سیما یہ استثناء کے لیے آتا ہے، کس کے لیے؟ یعنی ماقبل کے حکم سے مابعد کو نکال دیتا ہے، کیا کر دیتا ہے؟ یعنی اس کی تخصیص کر دیتا ہے کہ میں نے اس کتاب کو تبصرہ بھی بنایا ہے اور تذکرہ بھی سب کے لیے، لیکن خاص طور پر پھر ان سب میں سے اپنے بیٹے کو نکال کر الگ ذکر کر دیا: "خاص طور پر کس کے لیے؟ اپنے بیٹے کے لیے"، تو دیکھا ماقبل میں سے کیا، جب سب کے لیے تبصرہ بنایا تو اس میں بیٹا بھی آ گیا یا نہیں؟ لیکن اس بیٹے کو پھر اس میں سے نکال کر با علیحدہ خصوصاً ذکر کر دیا کہ خاص طور پر اس کے لیے اس کتاب کا تبصرہ اور تذکرہ ہونا زیادہ لائق ہے، اولیٰ ہے، بہتر ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ تخصیص کے لیے آیا، کس کے لیے؟ تو بہرحال، تو لا سیما، تو بعض نحوی حضرات فرماتے ہیں کہ لا سیما یہ استثناء کے لیے ہے، کس کے لیے ہے؟ اور مستثنیٰ منصوب ہوتا ہے آپ نے نحو میں پڑھا ہے، تو اس صورت میں الولدَ منصوب ہے کس بناء پر؟ مستثنیٰ ہونے کی بناء پر، اور لا سیما یہ سارا کیا ہے؟ یہ استثناء کے لیے ہے، یہ کلمہء استثناء ہے۔ تو لا سیما کے مابعد میں نصب کی تین وجہیں آپ نے پڑھ لیں، نصب آ سکتا ہے کس بناء پر؟ تمیز کی بناء پر آپ اس کو تمیز بنا لیں، اور آپ چاہیں تو کیا بنا لیں؟ مفعول بنا لیں، کس کے لیے؟ أعني فعل کے لیے، اور آپ چاہیں تو اس کو منصوب پڑھیں کس بناء پر؟ مستثنیٰ ہونے کی بناء پر، مستثنیٰ ہونے کی بناء پر۔ اور استثناء کی صورت میں بھی انہوں نے لکھا ہے کہ یہ ما کیا ہوگا؟ زائد، تو لا سیّ جو ہے یہ حرفِ، اس کو کلمہء استثناء بنا لیں گے پورے کو۔ تو بہرحال یہ خصوصاً کے معنی میں آتا ہے، خاص طور پر الولدُ میرا بیٹا، یہ ترکیبیں تو میں نے کئی ذکر کر دیں، لیکن معنی کس معنی میں ہوتا ہے یہ؟ خصوصاً کے معنی میں کہ خاص طور پر۔ تو یہاں اسی طرح متن میں بھی آپ تینوں طرح پڑھ سکتے ہیں: سیما الولدُ، سیما الولدَ، اور سیما الولدِ، اور آگے اسی ولد کی صفات آ رہی ہیں، تو وہ بھی اسی کے مطابق جو اعراب آپ الولد پر پڑھیں گے، وہی اعراب آگے صفات پر بھی پڑھیں گے، کیسے؟ مثلاً رفع پڑھا: سیما الولدُ الأعزُ الحفيُ الحريُ بالإکرام سميُ حبیب الله عليه التحية والسلام، تو الأعز صفتِ اول ہے، الحفي صفتِ ثانی، الحري صفتِ ثالث، اور سمي یہ کیا ہے؟ صفتِ رابع، تو ان چاروں پر وہی اعراب آئے گا جو الولد پر ہے، اگر اس پر نصب پڑھیں تو یوں پڑھیں گے: سیما الولدَ الأعزَ الحفيَ الحريَ بالإکرام سميَ حبیب الله عليه التحية والسلام، اور اگر آپ جر پڑھیں تو سب پہ جر پڑھیں گے: سیما الولدِ الأعزِ الحفيِ الحريِ بالإکرام سميِ حبیب الله عليه التحية والسلام۔ دیکھیے بھئی اب شرح کے اندر: کہتے ہیں وأصل سیما لا سیما، اور سیما کی اصل جو ہے وہ لا سیما ہے، حذف لا في اللفظ ولكنه مراد معنىً، لا کو حذف کر لیا گیا لفظوں میں، لیکن وہ معنی کے اعتبار سے مراد ہے، وما زائدة أو موصولة أو موصوفة، اور یہ ما زائدہ ہے یا موصولہ ہے یا موصوفة ہے۔ ایک چوتھی چیز بھی میں نے بتلائی تھی کہ یہ ما کیا ہے؟ تامّہ ہے، نکرہ غیر موصوفہ ہے، وہ ذکر نہیں کیا، ساری ترکیبیں نہیں ذکر کیں، چند ایک انہوں نے ذکر کر دیں۔ وهذا أصله، اور یہ اس کی اصل ہے، اصل کے اعتبار سے یہ ہے۔ ثم استعمل بمعنی خصوصاً، پھر یہ کس معنی میں استعمال ہوتا ہے؟ پھر یہ خصوصاً کے معنی میں استعمال ہوا، وفي ما بعده ثلاثة أوجهٍ، اور اس کے مابعد میں یعنی لا سیما کے مابعد میں ثلاثة أوجهٍ، تین وجہیں ہیں: رفع بھی، نصب بھی، اور جر بھی۔ جر بھی دو وجہ سے، رفع بھی دو وجہ سے، اور نصب تین وجہ سے ہو سکتا ہے، تو بہرحال تینوں وجہیں اس کے مابعد میں جائز ہیں: رفع بھی، نصب بھی، اور جر بھی۔ یہ معنی ہے: وفي ما بعده ثلاثة أوجهٍ، اور لا سیما کے مابعد میں تین وجہیں ہیں۔ قوله مصنف کا قول: الحفي، مصنف کا قول حفی، اس کا کیا معنی؟ کہتے ہیں: الشفیق، شفقت کرنے والا، یعنی مہربان بھئی، مہربانی کرنے والا، یا رحم دل، یعنی رحم کرنے والا، جو بھی معنی آپ کو پسند آئے۔ قوله الحري، مصنف کا قول: الحري، حری کا کیا معنی؟ اللائق، جو لائق ہو، قابل ہو ایک چیز کے، ایک چیز کے قابل ہو۔ کیا تھا متن میں؟ الحري بالإکرام، وہ اکرام کے لائق ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے۔ قوله قوام، متن میں مصنف کا قول قوام: أي ما يقوم به أمره، قوام کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: ما وہ چیز يقوم به جس کے ذریعے وہ سیدھا کرتا ہے أمره اپنے معاملے کو، وہ چیز جس کے ذریعے انسان اپنے معاملے کو سیدھا کرے یعنی درست کرے۔ درست کرے۔ بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ قوام اسمِ آلہ کا صیغہ ہے، بھئی جس چیز کے ذریعے کوئی کام سر انجام دیا جائے اس اسے کیا کہتے ہیں؟ آلہ کہتے ہیں، جیسے قلم کی مدد سے آپ کیا کرتے ہیں؟ لکھتے ہیں، تو یہ قلم کیا ہوا؟ لکھنے کا آلہ، قینچی کے ذریعے آپ چیزوں کو کاٹتے ہیں، تو یہ کیا ہوا؟ کاٹنے کا آلہ، تو یہاں بھی بتلا دیا قوام: کیا معنی؟ أي ما يقوم به أمره، وہ چیز جس کے ذریعے وہ اپنے معاملے کو سیدھا کرتا ہے، تو یہ اسمِ آلہ کا صیغہ ہے۔ قوام میں نے معنی بتلایا تھا: وہ چیز جس کے ذریعے کسی کو اپنے معاملے کو سیدھا کرتا ہے یعنی اس کی مدد، اس سے مدد، تو آسان لفظوں میں اس کا ترجمہ کیا کر لو؟ سہارا، انسان کو جب سہارا ملے گا تو وہ کوئی بھی کام آرام سے کر لے گا، اور بغیر سہارے کے کیا ہوگا؟ مشکل، تو آسان لفظوں میں اس کا ترجمہ کیا کر لو؟ سہارا۔ التأیید أي تقویة، تائید کا کیا معنی؟ تقویت۔ تقویت کون سا صیغہ ہے؟ جی، تقویت کون سا صیغہ ہے؟ کیوں سوچ میں ڈوب گئے؟ کیا مشکل ہے؟ تو پھر کیوں سوچ میں ڈوب گئے اتنی دیر تک؟ یہ تو اولیٰ والا حساب شروع ہو گیا پھر، تقویتٌ، باب تقویت، باب تفعیلہ، ہاں، تو یہ باب پڑھو، کیسے ہوگی گردان؟ قوی یقوی ہاں، قوی یقوی تقویتٌ، یہ اتنی گہری باتیں ماشاء اللہ آپ بتا رہے ہیں، یہ صرف کا کمال ہے بھئی جو آپ نے ابواب الصرف یاد کیے ہیں، یہ صیغے، یہ اساتذہ بھی پریشان ہوتے ہیں ان صیغوں کو نکالتے ہوئے اور بتاتے ہوئے بھئی، آپ نے فوراً باب بھی بتا دیا اور صیغہ بھی، اور پڑھنا کیسے ہے؟ قوی یقوی تقویتٌ۔ التأیید أي تقویة، تائید کا کیا معنی ہے؟ تقویت یعنی قوت دینا، دوسرے کو طاقت دینا، من الأید، یہ تائید کس سے ہے؟ أید سے ہے، اس کا مادہ کیا ہے؟ أید، بمعنی القوة، اور أید کس معنی میں ہے؟ قوت کے معنی میں ہے، تو باب تفعیل ہے، تو کیا معنی؟ تائید کا کیا معنی؟ دوسرے کو طاقت دینا، دوسرے کی مدد کرنا۔ قوله عصام، مصنف نے کیا کہا تھا؟ عصام: أي ما يعصم به أمره من الزلل، عصام: ما وہ چیز ہے يعصم به جس کے ذریعے کوئی شخص بچاتا ہے أمره اپنے معاملے کو، کس کے ذریعے کیا کرتا ہے؟ کوئی شخص بچاتا ہے اپنے معاملے کو من الزلل، غلطی سے۔ زلل جمع ہے زلۃ کی، زلۃ کہتے ہیں لغزش اور غلطی کو، کوئی بھی اپنے آپ کو غلطی کے ذریعے بچائے اس جس چیز کے ذریعے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عصام، عصام یعنی بچانے والا، حفاظت کرنے والا، اور کیا بتلا دیا؟ ما يعصم به، کیا بتلایا؟ کہ یہ اسمِ آلہ کا صیغہ ہے، جیسے کیا تھا؟ قوام، ما يقوم به، تو یہ بھی اسمِ آلہ کا صیغہ ہے۔ قوله وعلى الله، قوله وعلى الله، بھئی اوپر ذرا متن میں آئیے: وعلى الله التوکل، اور اللہ ہی پر بھروسہ کرنا ہے یعنی اللہ ہی پر ہم بھروسہ کرتے ہیں۔ تو التوکل ہے مبتدائے مؤخر، اور علی الله جار مجرور کیا ہے؟ خبرِ مقدم، تو پہلے مبتدا آتا ہے یا پہلے خبر؟ مبتدا، تو ہونا یوں چاہیے تھا: التوکل علی الله، بھروسہ کس پر ہے؟ اللہ پر ہے، تو سوال: یہ ظرف کو کیوں مقدم کیا؟ یہ جار مجرور کو کیوں مقدم کیا؟ تو جواب: کہ آپ نے ضابطہ پڑھا ہے: التقديم ما حقه التأخير يفيد الحصر والقصر والتخصيص، تقديم، مقدم کرنا ما اس چیز کو حقه التأخير جس کا حق کیا ہے؟ مؤخر کرنا، يفيد الحصر، یہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ حصر کا، اور القصر اور قصر کا، اور تخصیص، حصر، قصر، تخصیص، تینوں کا ایک ہی معنی ہے، تو یہ حصر کا فائدہ دیتا ہے، جیسے قرآن میں ہے: إياك نعبد، إياك نعبد، تو یہ إياك مفعولِ مقدم ہے، اس کو مؤخر ہونا چاہیے تھا، یوں ہونا چاہیے تھا: نعبدك، ہم آپ کی عبادت کرتے ہیں، لیکن اس کاف کو کیا کر دیا گیا؟ مقدم کر دیا گیا کس لیے؟ حصر کے لیے، کیونکہ اگر کہا جائے: نعبدك، اے اللہ ہم آپ کی عبادت کرتے ہیں، تو اس میں دوسروں کی نفی تو نہ ہوئی کہ ہم کسی اور کی بھی عبادت کرتے ہیں یا نہیں، ہاں آپ کی بھی، آپ کی کیا کرتے ہیں؟ عبادت کرتے ہیں، دوسروں کی نفی نہیں، لیکن جب إياك کو کیا کر دیا گیا؟ مقدم، اب حصر آ گیا: إياك نعبد، اے اللہ ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں، تو باقی سب سے عبادت کی نفی ہو گئی۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے، اگر یوں ہوتا: التوکل علی الله، بھروسہ ہے کس پر؟ اللہ پر، تو کسی اور پر بھروسہ ہے یا نہیں؟ اس کا کوئی ذکر نہیں، ہو سکتا ہے ہو، ہو سکتا ہے نہ ہو، لیکن جب علی الله کو خبر کو مقدم کر دیا، اس کا مقام تو مؤخر تھا، لیکن اس ظرف، جار مجرور کو کیا کر دیا؟ مقدم، اب کیا آیا؟ حصر آ گیا، اب کیا معنی ہوگا؟ اللہ ہی پر ہم بھروسہ کرتے ہیں، تو یہ حصر کے لیے، یہ معنی ہے: وعلى الله، یہ وعلى الله جو ہے، قدم الظرف هاهنا، مصنف نے مقدم کیا ظرف کو یہاں پر لقصد الحصر، حصر کے ارادے سے، وفي قوله، اور مصنف کے قول: به میں میں لرعاية السجع أيضاً، رعایتِ سجع کے لیے بھی۔ بھئی دیکھیے بھئی، دیکھیے بھئی، آگے کیا آیا؟ وبه الاعتصام، وبه الاعتصام، اصل میں به جار مجرور ہے، تو یہ خبر ہے، مقدم ہے، اور الاعتصام کیا ہے؟ مبتدا، تو پہلے مبتدا آنا چاہیے: الاعتصام به، ہم دامن تھامتے ہیں، ہم پناہ پکڑتے ہیں، کس کی؟ به، اس اللہ کی، اس اللہ کی ہم پناہ پکڑتے ہیں، تو اگر به مؤخر ہو تو پھر حصر نہیں، کسی اور کی پناہ پکڑتے ہیں یا نہیں اس کا کوئی ذکر نہیں، لیکن جب به کو مقدم کر دیا، اب حصر آ گیا: ہم اللہ ہی کی پناہ پکڑتے ہیں، اللہ ہی کی مدد مانگتے ہیں، کسی اور کی مدد نہیں مانگتے، تو حصر آ گیا۔ نیز یہاں ایک اور فائدہ بھی ہوا، ایک تو حصر کا فائدہ ہوا، نیز سجع کا رعایتِ سجع بھی ہوئی، سجع اسے کہتے ہیں کہ کلام کے چھوٹے چھوٹے حصے ہیں، ایک جیسے وزن اور حروف پر ان کو ختم کرنا، کیا؟ کلام کے چھوٹے چھوٹے حصے ہوں، ایک جیسے وزن اور حروف پر کیا کرنا؟ ان کو ختم، جیسے اشعار دیکھو، عربی میں آپ اشعار دیکھیں، ایک شعر اگر ایک جیسے وزن اور لام پر ختم ہو رہا ہے، اگلا شعر بھی لام پہ ختم ہوگا، اگلا بھی لام پہ، اگلا بھی لام پر، پورا قصیدہ لام پر ختم ہو رہا ہے، تو اس کو کہیں گے قصیدہء لامیہ، کبھی دال پہ ختم ہو رہا ہے تو قصیدہء دالیہ۔ تو جس طرح اشعار کے اندر ان کا ایک مخصوص خاص وزن اور حرف پر شعر ختم ہوتا ہے، اسی طرح بعض اوقات کلام کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوتے ہیں، ایک جیسے وزن کے ساتھ ان کا اختتام ہوتا ہے، تو یہ جو کلام کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہیں، ان کو کہتے ہیںفقرے، کیا کہتے ہیں؟ فقرے، تو ان فقروں کے اندر جب آخر وزن ایک جیسا ہو تو اس کو کہتے ہیں رعایتِ سجع، کیا کہتے ہیں؟ رعایتِ سجع، جیسے دیکھو: لا زال له، عليه التحية والسلام، کیا آیا آخر میں؟ میم، میم آیا اور وزن بھی دیکھو: سلام، اور آگے آیا: لا زال له من التوفيق قوام، دیکھا وہی وزن، ومن التأييد عصام، دیکھا وہی وزن اور میم بھی، وعلى الله التوکل وبه الاعتصام، تو دیکھا یہ ہے کیا؟ رعایتِ سجع، کہ وزن بھی ایک جیسا ہے اور آخری حرف بھی ایک جیسا۔ تو وبه الاعتصام، اس میں به کو مقدم کیا، دو وجہ سے: ایک تو حصر کے لیے، اور دوسرا رعایتِ سجع کے لیے بھی، یہی بیان کر رہے ہیں: وفي قوله، اور مصنف کے قول جو ہے به، اس میں جو ظرف کو مقدم کیا لرعاية السجع أيضاً، یہ رعایتِ سجع کے لیے بھی ہے، یعنی حصر بھی ہے اور رعایتِ سجع بھی ہے۔ قوله التوكل، مصنف کا قول: توکل آیا، اس کا کیا معنی؟ کہتے ہیں: هو التمسك بالحق، تمسک کا معنی ہے تھام لینا، تھام لینا، پکڑ لینا، الحق، حق اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، حق کو تھام لینا یعنی اللہ کے ساتھ جڑ جانا، اللہ کے ساتھ تعلق جوڑ لینا، والإنقلاع عن الخلق، اور مخلوق سے کٹ جانا، تو انسان کیا کرتا ہے؟ ایک ہے کہ لوگوں کی مدد کا منتظر ہے، یہ کیا کریں گے؟ میری مدد کریں گے، اور ایک صرف اللہ پر بھروسہ کرتا ہے کہ لوگ کچھ بھی نہیں ہیں، اصل مدد کرنے والی ذات کون سی ہے؟ اللہ کی ہے، تو اس کو کہتے ہیں توکل: هو التمسك بالحق، وہ حق یعنی اللہ کی ذات کے ساتھ جڑنا ہے، والإنقلاع عن الخلق، اور کٹ جانا مخلوق سے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ توکل۔ یاد رکھو ایک ہے توکل، ایک ہے تعطل، تعطل نہیں جائز شریعت میں، توکل جائز ہے، توکل کیا ہے؟ کہ آپ اپنی طرف سے ایک معاملے میں پوری کوشش کریں اور پھر اللہ پر بھروسہ کریں، کیا کریں؟ اپنی طرف سے اپنی پوری کوشش ہو معاملے میں اور بھروسہ کس پر ہو؟ اللہ پر ہو، اعتماد کس پر ہے؟ اللہ پر، اللہ مجھے توفیق دیں گے، اللہ یہ کام مجھے کرنے کی توفیق دے دیں گے، بھروسہ اللہ پہ ہی ہے، اور اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہا ہے، اور ایک ہے تعطل، وہ جائز نہیں ہے، وہ درست نہیں ہے، تعطل یہ ہے کہ آپ ہلتے ہی نہیں، کام ہی نہیں کرتے، "بائی اللہ کر دیں گے"، ایک آدمی گھر میں بیٹھ گیا کہ "اللہ نے روزی اپنے ذمے لی ہوئی ہے، مجھے کام کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، میں اللہ پہ توکل کرتا ہوں"، یہ توکل نہیں ہے، یہ تعطل ہے، کیا ہے؟ تعطل کا معنی ہے بیکار محض ہو جانا، کوئی کام کرنا ہی نہ، اور سارا کیا کہنا؟ کون کرے گا؟ اللہ تعالیٰ کریں گے، نہیں نہیں، اپنی طرف سے انسان پوری کوشش کرے، البتہ بھروسہ کس پر ہو؟ اللہ پر ہو کہ اللہ ہی کام کرنے والے ہیں، میری کوشش اور محنت سے کچھ ہونے والا نہیں، لیکن میرے ذمے ہے، میں اپنی طرف سے پوری کوشش کروں، آگے اللہ تعالیٰ راستے کھولیں گے بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ یہ ہے توکل بھئی۔ تو کہتے ہیں: التوكل هو التمسك بالحق، وہ حق کو تھام لینا، والإنقلاع عن الخلق، اور مخلوق سے کٹ جانا۔ قوله والاعتصام، اوپر کیا آیا تھا؟ اعتصام، کہتے ہیں: وهو التشَبُّثُ والتمسّك، تشبث اور تمسک کا ایک معنی، تشبث کون سا صیغہ ہے؟ ہاں، باب تفعل کا مصدر، اور تمسک؟ یہ بھی باب تفعل کا مصدر، دونوں کا ایک ہی معنی ہے: جڑ جانا، تھام لینا کسی چیز کو، تھام لینا، پکڑ لینا، وہ بھی تشبث اور تمسک کا معنی ہے، تو کیا معنی ہوا؟ وبه الاعتصام، اور ہم اللہ ہی کے ساتھ جڑتے ہیں یعنی اللہ ہی کی پناہ لیتے ہیں، تشبث کا کیا معنی ہے؟ کسی چیز سے جڑنا، کسی چیز کو تھام لینا یعنی اللہ ہی پر، یہ وہی معنی کا، اللہ ہی کی پناہ لیتے ہیں، کسی اور کی پناہ نہیں لیتے، اللہ ہی پر بھروسہ۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اچھا، متن ذرا پھر متن کا ذرا ترجمہ دیکھ لو: وبعد، اور حمد و صلاۃ کے بعد، فهذا غاية تهذيب الكلام، یہ انتہائی درجے کا مہذب کلام ہے، في تحرير المنطق والكلام، علمِ منطق اور علمِ کلام کے بیان میں، وتقريب المرام من تقرير عقائد الإسلام، اور یہ کتاب جو ہے، مقصد یعنی کے عقائدِ اسلام کے اثبات کو ذہنوں کے قریب کرنے والی ہے، وجعلته تبصرة، میں نے اس کتاب کو سمجھانے والا بنایا ہے، لمن حاول التبصر لدى الإفهام، جس شخص کا ارادہ سمجھنے کا ہو سمجھاتے وقت، وتذكرة لمن أراد أن يتذكر من ذوي الأفهام، اور میں نے اس کتاب کو یاد کروانے والا بنایا ہے جس شخص کا ارادہ ہو کہ وہ یاد کرے سمجھداروں سے، سیما الولد الأعز الحفي الحر، خاص طور پر میرا وہ بیٹا جو بڑا ہی مجھے محبوب ہے، الحفي بڑا ہی مہربان ہے، الحري بالإكرام، جو اکرام اور عزت کے لائق ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے، اس کی عزت کی جائے، سمي حبیب الله، وہ اللہ کے محبوب کا ہم نام ہے، عليه التحية والسلام، اللہ کے محبوب پر اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو، یعنی اس بیٹے کا نام کیا ہے؟ محمد ہے، لا زال له من التوفيق قوام، ہمیشہ اس کے لیے اللہ کی توفیق کا سہارا رہے، ہر چیز میں اللہ کی توفیق اس کی سہارا رہے، اس کی مددگار رہے، ومن التأييد عصام، اور اللہ کی جو مدد ہے، تائید کا کیا معنی؟ قوت دینا، مدد کرنا، اور اللہ کی جو مدد ہے، عصامٌ، اس کے ذریعے اس کی حفاظت ہو غلطیوں سے اور لغزشوں سے، وعلى الله التوكل، اور اللہ ہی پر بھروسہ ہے ہمارا، وبه الاعتصام، اور اللہ ہی کا دامن ہم تھامتے ہیں، اللہ ہی کی پناہ ہم پکڑتے ہیں۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اگر کوئی بات سمجھ میں نہ بھی آئی ہو تو انشاء اللہ کل دوبارہ میں اس کا خلاصہ ذکر کر دوں گا، انشاء اللہ پھر بات خوب اچھی طرح سمجھ میں آ جائے گی۔ چلیے، بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔