کل مولانا ہم نے تخلص پڑھا اور اقتضاب پڑھا بھئی۔ تخلص کس کو کہتے تھے؟ کہ ابتدائے کلام سے انتقال کرنا مقصود کی طرف، اس طریقے پر کہ ابتدا اور مقصود کے درمیان مناسبت ہو بھئی۔ دونوں کے درمیان کیا پیدا کر دی جائے؟ مناسبت پیدا کی جائے۔ جیسے شاعر تذکرہ کرتے کرتے ممدوح کی طرف جو کہ مدح جو مقصد تھا اس کی طرف مڑنے لگا، تو اس نے کس انداز میں مناسبت پیدا کی کہ مطلع شمس کے ساتھ مطلع جود کو ذکر کر دیا مولانا۔ تو اب دونوں میں مناسبت آ گئی، پہلے مطلع شمس اور اب کیا ہے؟ مطلع جود آ گئی۔ تو اب مولانا سخاوت کا مطلع اور اس کی طرف انتقال کر کے اب سخاوت کی باتیں شروع کرے گا اپنے ممدوح کی، تو اس کو کہتے ہیں تخلص بھئی۔ اور دوسرا طریقہ جو ہے وہ اقتضاب ہے، جس کے اندر اچانک ایک کلام سے دوسرے کلام کی طرف انتقال ہوتا ہے بغیر کسی مناسبت کے، اور یہ قدیم عرب جاہلی شعراء جو تھے، جو زمانہ جاہلیت کے بڑے بڑے شعراء، ان کا یہ طریقہ تھا، اسی طرح مخضرمین شعراء جنہوں نے اسلام اور جاہلیت دونوں کا زمانہ پایا، یہ ان شعراء کا طریقہ تھا۔ اب بتلا رہے ہیں: ”وَمِنْهُ“ أَيْ مِنَ الِاقْتِضَابِ ”مَا يَقْرُبُ مِنَ التَّخَلُّصِ“۔ اقتضاب کس کو کہتے ہیں بھئی؟ بغیر کسی مناسبت کے ابتدا سے انتقال کرنا کس کی طرف؟ مقصود کی طرف۔ کہتے ہیں: اقتضاب کی ایک قسم جو مشابہ ہے تخلص کے۔ تخلص میں کیا ہوتا ہے؟ دونوں میں مناسبت ہوتی ہے، اور اقتضاب میں مناسبت نہیں ہوتی۔ تو اقتضاب کی ایک قسم جو مشابہ ہے تخلص کے ساتھ، یعنی کچھ نہ کچھ ابتدا اور مقصود میں ارتباط اور ربط پیدا کر دیا جاتا ہے، وہ مولانا لفظ ”أَمَّا بَعْدُ“ ہے۔ کیا ہے؟ جیسے کہ اب ”أَمَّا بَعْدُ“ کہتے ہیں مولانا، تو یہ بھی اقتضاب ہے مولانا۔ ”أَمَّا بَعْدُ“ سے پہلے اللہ کی حمد و ثنا ذکر ہوتی ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ و سلام کا تذکرہ ہوتا ہے، اور اس کے بعد ”أَمَّا بَعْدُ“ کہہ کر مصنف کتاب شروع کر دیتا ہے مقصود۔ تو دیکھو پہلے ہے حمد و ثنا، اور اس کے بعد ہے جو مقصود، چاہے نحو ہے، صرف ہے، جو بھی بات ہے اس کو وہ شروع کر دیتا ہے، تو دونوں کے درمیان کوئی تعلق، کوئی ارتباط نہیں، تو یہ اقتضاب ہے۔ لیکن ایک درجے کا ارتباط بیچ میں آ بھی گیا کہ مصنف نے اچانک فورا کتاب نہیں شروع کی بلکہ درمیان میں کیا ذکر کر دیا؟ ”أَمَّا بَعْدُ“ ذکر کر دیا، اور ”أَمَّا بَعْدُ“ کے اندر بھی اس کا ذکر آ گیا، کس کا؟ حمد و ثنا کا تذکرہ آ گیا بھئی: ”مَهْمَا يَكُنْ مِنْ شَيْءٍ بَعْدَ الْحَمْدِ وَالصَّلَاةِ“۔ تو دیکھو اس میں ماقبل کے ساتھ بھی تعلق آ گیا کچھ نہ کچھ، اور آگے فا کے بعد جو ہے وہ جزا جو آ رہی ہے مولانا، اس کے ساتھ تو اس کا تعلق ہے ہی مولانا، تو دونوں کے درمیان کیا آ گیا؟ ایک نوع کا ارتباط آ گیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ”وَمِنْهُ“ أَيْ مِنَ الِاقْتِضَابِ ”مَا يَقْرُبُ مِنَ التَّخَلُّصِ فِي أَنَّهُ يَشُوبُهُ شَيْءٌ مِنَ الْمُنَاسَبَةِ“، اور اقتضاب میں سے ایک قسم وہ ہے جو تخلص کے قریب ہے، اس بات میں کہ اس کے ساتھ مولانا مناسبت میں سے کوئی چیز ملی ہوئی ہوتی ہے، ”كَقَوْلِكَ بَعْدَ حَمْدِ اللَّهِ تَعَالَى أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ كَانَ كَذَا وَكَذَا“، تو یوں کہتے ہیں بھئی۔ یہ ”فَإِنَّهُ كَانَ كَذَا وَكَذَا“ یہ کنایہ ہے مولانا، جو ”أَمَّا بَعْدُ“ کے بعد مصنف پھر فا لاتے ہیں اور پھر آگے کلام ذکر کرتے ہیں۔ ”فَهُوَ اقْتِضَابٌ“، فَهْوَ اقْتِضَابٌ، یہ اقتضاب ہے، ”مِنْ جِهَةِ الِانْتِقَالِ مِنَ الْحَمْدِ وَالثَّنَاءِ إِلَى كَلَامٍ آخَرَ“، اس جہت سے کہ انتقال ہو رہا ہے حمد و ثنا سے دوسرے کلام کی طرف، ”مِنْ غَيْرِ مُلَائَمَةٍ“، بغیر کسی مناسبت کے، ”لَكِنَّهُ يُشْبِهُ التَّخَلُّصَ حَيْثُ لَمْ يُؤْتَ بِالْكَلَامِ الْآخَرِ فَجْأَةً مِنْ غَيْرِ قَصْدٍ إِلَى ارْتِبَاطٍ وَتَعَلُّقٍ بِمَا قَبْلَهُ“، لیکن یہ مشابہ ہے تخلص کے ساتھ، تخلص جس میں مناسبت ہوتی ہے، تو یہ مشابہ ہے تخلص کے ساتھ اس طور پر کہ دوسرے کلام کو اچانک نہیں لایا گیا، فَجْأَةً اچانک، ماقبل سے تعلق اور ربط کے بغیر ہی دوسرے کلام کو اچانک نہیں لایا گیا، ”بَلْ قُصِدَ نَوْعٌ مِنَ الرَّبْطِ“، بلکہ ایک نوع کے ربط کا ارادہ کیا گیا، عَلَى مَعْنَى، علی بمعنی با کے، بمعنی: ”مَهْمَا يَكُنْ مِنْ شَيْءٍ بَعْدَ الْحَمْدِ وَالثَّنَاءِ فَإِنَّهُ كَانَ كَذَا وَكَذَا“۔ تو دیکھو یہاں حمد و ثنا کا تذکرہ بھی آیا، اور فا مابعد کے ساتھ بھی تعلق ہے تو ربط آ گیا دونوں میں، تو یہ مشابہ ہے تخلص کے ساتھ، ہے اقتضاب ہی۔ ”وَقِيلَ هُوَ“ أَيْ قَوْلُهُمْ بَعْدَ حَمْدِ اللَّهِ أَمَّا بَعْدُ ”فَصْلُ الْخِطَابِ“، اور کہا گیا ہے کہ یہ جو قرآن میں تذکرہ آیا ہے مولانا، حضرت داؤد علیہ السلام کے بارے میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ”وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ“، یہ فصل خطاب سے ”أَمَّا بَعْدُ“ مراد ہے۔ قِيلَ، تو انہوں نے قِيلَ کے ساتھ اس کا تذکرہ کیا، اور قِيلَ صیغہ تمریض ہے مولانا، کمزور قول کو ذکر کیا جاتا ہے قِيلَ کے ساتھ۔ تو چنانچہ اس پر اب علامہ تفتازانی اعتراض کرنا چاہتے ہیں مصنف پر، کہ آپ نے اس قول کو قِيلَ کے ساتھ ذکر کیا حالانکہ یہ تو بڑا قوی قول ہے، اکثر مفسرین اسی طرف گئے ہیں کہ فصل خطاب سے کیا مراد ہے؟ ”أَمَّا بَعْدُ“۔ تو حضرت داؤد علیہ السلام پہلے شخص تھے جنہوں نے ”أَمَّا بَعْدُ“ پر تکلم کیا بھئی۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے اقوال ہیں مولانا، ”أَمَّا بَعْدُ“ کے بارے میں بھئی۔ تفصیل حضرت شیخ رحمہ اللہ کی کتاب "النجم السعد" میں موجود ہے بھئی۔ کئی اقوال ذکر ہیں اور صرف ”أَمَّا بَعْدُ“ کی اس کتاب میں چھوٹے سے لفظ کی مولانا تقریبا چودہ لاکھ نحوی ترکیبیں حضرت شیخ نے ذکر کی ہیں بھئی۔ تو فرماتے ہیں ”أَمَّا بَعْدُ“ یہ، اور کہتے ہیں پہلے قائل حضرت داؤد علیہ السلام، بعض کہتے ہیں سحبان وائل جو تھا وہ پہلا قائل ہے مولانا، اور بعض کہتے ہیں حضرت یعقوب علیہ السلام پہلے قائل تھے انہوں نے ”أَمَّا بَعْدُ“ پہلی مرتبہ ذکر کیا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے عزیز مصر کو جو خط لکھا تھا اس میں ”أَمَّا بَعْدُ“ کا لفظ مذکور تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو جب بھائیوں نے کنویں میں ڈال دیا مولانا، وہاں سے نکلے اور پھر ہوتے ہوتے بالاخر عزیز مصر بن گئے، مصر کے بادشاہ۔ اب وہاں پر قحط آیا، تو لوگ سارے غلہ لینے کے لیے آ رہے ہیں، تو حضرت یوسف علیہ السلام کے بھئی بھی آئے غلہ لینے، لیکن پہچانتے نہ تھے، بڑا عرصہ گزر چکا تھا، جب کنویں میں ڈالا تھا بچے تھے اب بڑے ہو گئے، داڑھی آ گئی، اور تصور میں بھی نہیں تھا حضرت یوسف علیہ السلام ہوں گے۔ تو پھر اپنے بھئی کے لیے بھی، حضرت یوسف علیہ السلام کے جانے کے بعد حضرت یعقوب علیہ السلام روتے روتے ان کے غم میں نابینا ہو گئے، تو ان کے ایک بھئی تھے حضرت یوسف علیہ السلام کے جو اسی والدہ سے تھے بھئی بنیامین، تو وہ بھئی تھے ان کو حضرت یعقوب علیہ السلام نے نہیں لے جانے دیا بھئی۔ بھئی جب غلہ لینے جا رہے تھے بادشاہ سے، تو والد نے کہا نہیں بھئی اس کو نہ لے کر جاؤ۔ بھائیوں نے وہاں پہنچ کر جب غلے کے نام لکھوائے کہ ہم اتنے افراد ہیں گھر کے، ہمیں غلہ چاہیے، تو بھئی کو تو نہیں لائے تھے، حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا، پہچان لیا تھا، تو کہا: اگلی مرتبہ اپنے بھئی کو بھی لے کر آنا، پھر تمہیں غلہ اس کا ملے گا، اس مرتبہ میں دے دیتا ہوں، اگلی مرتبہ غلہ لینے آئے تو اس کا حصہ نہیں ملے گا، اس کو لے کر آؤ۔ چنانچہ اگلی مرتبہ جب لے کر آئے مولانا، اگلی مرتبہ جب غلہ لینے چلے، تو والد یعقوب علیہ السلام سے کہا کہ اب بنیامین کو بھی اجازت دیجیے ہمارے ساتھ آئے، ورنہ بادشاہ ہمیں اس کا حصہ نہیں دے گا بھئی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا کہ بھئی تم پہلے بھی ایک بھئی کو اس کے گم کر چکے ہو مجھ سے، تو اب اس کو میں لے جانے کی اجازت نہیں دوں گا، لیکن بڑے اصرار کے بعد، بے انتہا اصرار کے بعد کہ ہم ہر طرح اس کی حفاظت کریں گے، حضرت یعقوب علیہ السلام نے لے جانے کی اجازت دے دی۔ پھر جو حضرت یوسف علیہ السلام نے جب وہاں پہنچے، تو حیلہ کیا ان کو روکنے کا بھئی کہ ان کے سامان کے اندر وہ شاہی پیالہ جو تھا وہ مولانا چھپا دیا بھئی، اور پھر شور مچا کہ بادشاہ کا شاہی پیالہ گم ہے تلاش کیا جائے، تو وہ بنیامین کے سامان میں رکھا گیا تھا تو تلاشی لیتے لیتے پھر نکل آیا۔ تو اس ان کی شریعت میں یہ تھا کہ جو چوری کرتا تھا وہ اسی جس سے چوری کرتا تھا اس کا غلام بن جاتا تھا۔ تو ان سے پوچھا بھی تھا کہ بھئی اگر تمہارے سامان میں سے نکل آیا؟ انہوں نے کہا: ہم نے تو کی نہیں، نہیں نکل سکتا، ہاں یہی ہے پھر تو چوری، اس کے حوالے کیا جائے گا، اس کو غلام بنایا جائے گا جس نے۔ چنانچہ بنیامین کے سامان سے نکل آیا، تو وہ بڑے پریشان ہوئے یہ کیا ہو گیا، اب ہم کیا منہ دکھائیں گے والد صاحب کو جا کر کہ ہم تو ان سے بڑے وعدے کر کے آئے تھے کہ اس دفعہ کسی صورت اس کو کوئی تکلیف نہیں ہو گی۔ چنانچہ بڑی مشکل سے پھر بڑے پریشان ہوئے لیکن بالاخر چلے واپس مولانا، ایک بھئی تو وہیں رک گئے کہ میں تو جاتا ہی نہیں ہوں، مجھے تو حیا آتی ہے، میں کس منہ کو لے کر جاؤں والد صاحب کے پاس۔ چنانچہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس واپس چلے بھئی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کو جا کر بتلایا کہ اس طرح بنیامین نے چوری کی اور ان کے سامان سے نکلا اس کا پیالہ، بادشاہ نے ان پر الزام لگایا ہے۔ تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے پھر عزیز مصر کو خط لکھا، اس خط کے اندر ”أَمَّا بَعْدُ“ کا لفظ لکھتے ہیں۔ عجیب خط لکھا، مؤرخین نے وہ خط نقل کیا ہے، کہتے ہیں بھئی اس خط کے اندر انہوں نے لکھا کہ اے عزیز مصر! ہم انبیاء کا خاندان ہیں، ہم میں کوئی شخص کبھی چوری نہیں کرتا، اور کبھی چوری نہیں کرتا اور ہم نیک لوگ ہیں، اور اے عزیز مصر! میرے اس بیٹے نے بھی چوری نہیں کی، اس پر ویسے الزام لگا ہے، اور میرا خط جیسے ہی تجھے ملے، میرے بیٹے کو چھوڑ کر میرے پاس بھیج دے، ورنہ یاد رکھ میں تیرے لیے ایسی بددعا کروں گا کہ تیری سات پشتیں بھی اس کو یاد رکھیں گی بھئی۔ چنانچہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا خط حضرت یوسف علیہ السلام کو ملا، تو کہتے ہیں اس وقت ان سے ضبط نہ ہو سکا اور انہوں نے رونا شروع کیا اور ظاہر کیا اپنے آپ کو کہ میں یوسف ہوں بھئی۔ تو یہ فصل خطاب سے یہ مراد ہے مولانا۔ بعضوں نے کہا نہیں، فصل خطاب لغوی معنی، یعنی خطاب کی اضافت ہے، فصل کی اضافت ہے خطاب کی طرف، تو یہ دراصل کس قبیل سے ہے؟ صفت کی اضافت ہو رہی ہے کس کی طرف؟ موصوف، تو ”الْخِطَابُ الْفَصْلُ“ تھا، اور پھر یہ فصل جو ہے خطاب یہ مصدر بمعنی اسم فاعل کے یا اسم مفعول کے: ”الْخِطَابُ الْفَاصِلُ“ یا ”الْخِطَابُ الْمَفْصُولُ“۔ خطاب سے مراد وہ کلام ہے جس کے ساتھ دوسرے کے ساتھ تکلم کیا جائے بھئی، تو ”الْخِطَابُ الْمَفْصُولُ“ کا معنی وہ کلام جو کھولا گیا ہو، جدا جدا کیا گیا ہو مولانا، کیا معنی جدا کیا ہو؟ یعنی سننے والے پر اس میں کوئی اشتباہ نہیں رہتا، خوب کھلا ہوا کلام ہوتا ہے، آسانی سے اس کو سمجھ لیتا ہے پوری طرح، اس کو کیا کہتے ہیں؟ خطاب مفصول۔ یا خطاب فاصل مراد ہے، اس میں فصل بمعنی اسم فاعل کے، تو فاصل کا معنی ہے ایسا کلام جو جدا کرنے والا ہے، یعنی حق اور باطل کو کیا کرنے والا ہے؟ جدا کرنے والا ہے۔ ”وَقِيلَ هُوَ أَيْ قَوْلُهُمْ بَعْدَ حَمْدِ اللَّهِ أَمَّا بَعْدُ فَصْلُ الْخِطَابِ“، یہ فصل خطاب ہے، ”قَالَ ابْنُ الْأَثِيرِ“، علامہ ابن اثیر فرماتے ہیں: ”وَالَّذِي أَجْمَعَ عَلَيْهِ الْمُحَقِّقُونَ مِنْ عِلْمِ الْبَيَانِ“، دیکھئے علامہ ابن اثیر فرماتے ہیں کہ علم بیان کے محققین نے اجماع کیا ہے اس بات پر، سارے جمع ہیں اس بات پر: ”أَنَّ فَصْلَ الْخِطَابِ هُوَ أَمَّا بَعْدُ“، کہ فصل خطاب کیا ہے؟ معلوم ہوا ساروں نے اجماع کیا تو یہ تو تحقیقی قول، سب سے قوی قول ہوا، تو آپ کو قِيلَ کے ساتھ ذکر نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ”لِأَنَّ الْمُتَكَلِّمَ يَفْتَتِحُ كَلَامَهُ فِي كُلِّ أَمْرٍ ذِي شَأْنٍ“، اس لیے کہ جو بھی مصنف ہوتا ہے وہ شروع کرتا ہے اپنے کلام کو، وہ ابتدا کرتا ہے اپنے کلام کی، جو اپنا کلام کرتا ہے کس چیز میں؟ ”فِي كُلِّ أَمْرٍ ذِي شَأْنٍ“، ہر ذی شان، اعلیٰ، عمدہ کام کے اندر جب وہ اپنے کلام کی ابتدا کرتا ہے: ”بِذِكْرِ اللَّهِ وَتَحْمِيدِهِ“، کس کے ساتھ بھئی؟ اللہ کے ذکر اور حمد کے ساتھ بھئی، حدیث میں بھی جیسا ہے: ”كُلُّ أَمْرٍ ذِي بَالٍ لَا يُبْدَأُ فِيهِ بِحَمْدِ اللَّهِ“، تو دیکھو ہر ایک اب بحمد اللہ فہو ابتر، ہر مصنف حمد کو لے کر آتے ہیں کتاب کے شروع میں، حمد و ثنا اور درود کو۔ ”فَإِذَا أَرَادَ“، تو جب مصنف یہ چیزیں ذکر کرتا ہے پھر ارادہ کرتا ہے: ”أَنْ يَخْرُجَ مِنْهُ إِلَى الْغَرَضِ الْمَسُوقِ لَهُ الْكَلَامُ“، کہ وہ نکلے اس سے اس غرض کی طرف جس کے لیے کلام کو چلایا گیا تھا، ”فَصَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ ذِكْرِ اللَّهِ بِقَوْلِهِ أَمَّا بَعْدُ“، تو وہ جدائی ڈالتا ہے مولانا اللہ کے ذکر میں اور مقصود کے درمیان کس کے ساتھ؟ ”أَمَّا بَعْدُ“ کے ساتھ۔ ”وَقِيلَ فَصْلُ الْخِطَابِ مَعْنَاهُ الْفَاصِلُ مِنَ الْخِطَابِ“، اور کہا گیا ہے کہ فصل خطاب کا معنی جو ہے فصل بمعنی فاصل کے ہے من الخطاب، خطاب میں سے جو فاصل ہو، ”أَيِ الَّذِي يَفْصِلُ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ“، یعنی جو حق اور باطل میں جدائی ڈالے، ”عَلَى أَنَّ الْمَصْدَرَ بِمَعْنَى الْفَاعِلِ“، تو اس بنا پر مصدر کس معنی میں ہو گا؟ فاعل۔ ”وَقِيلَ الْمَفْصُولُ مِنَ الْخِطَابِ“، اور کہا گیا ہے کہ خطاب میں سے جو مفصول ہو، تو یہ اس میں مصدر بمعنی اسم مفعول کے ہے، ”فَالْخِطَابُ الَّذِي يَتَبَيَّنُهُ مَنْ يُخَاطَبُ بِهِ“، جس کو سمجھ لیتا ہے جس کو اس کے ساتھ مخاطب کیا جائے، ”أَيْ يَعْلَمُهُ بَيِّنًا“، یعنی اس کو واضح طور پر جان لے، تو جان لیتا ہے اس کو اس حال میں کہ وہ واضح جان لیتا ہے، ”لَا يَلْتَبِسُ عَلَيْهِ“، اور اس پر ملتبس نہیں ہوتا، ”فَهُوَ بِمَعْنَى الْمَفْعُولِ“، اس صورت میں فصل بمعنی مفصول یعنی مفعول کے معنی میں ہوا۔ ”وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى“، تو دیکھو مولانا یہ اقتضاب ہے اور یہ قریب ہے کس کے؟ تخلص کے، جیسے کہ ”أَمَّا بَعْدُ“ کہا۔ اسی طرح ”هَذَا“ کے لفظ کے ساتھ جیسے ذکر کیا گیا ہے قرآن کے اندر: ”هَذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ لَشَرَّ مَآبٍ“۔ تو پہلے مومنین کا ذکر ہوا اور اس کے بعد فوراً کس کا؟ سرکشوں کا ذکر ہو رہا ہے کفار وغیرہ کا، تو دونوں کلام الگ الگ نوع کے ہیں، لیکن درمیان میں ”هَذَا“ کو ذکر کر دیا گیا اور واؤ حالیہ، جس کی وجہ سے ان دونوں میں کیا آ گیا؟ ارتباط آ گیا مولانا، ارتباط آیا۔ اس لیے کہ دیکھو ”هَذَا“ مولانا، اب ”هَذَا“ کے بارے میں بتلایا صرف ”هَذَا“ آیا، تو یا تو یہ مبتدا بنے گا اور اس کی خبر کیا محذوف ہو گی؟ ”هَذَا كَمَا ذُكِرَ“، خود متن میں ذکر کریں گے بھئی، یہ ایسا ہی جیسا کہ ذکر کیا گیا، یعنی مومنین کا یہ حال ہو گا جیسا کہ ذکر کیا گیا۔ یا مولانا یہ خبر ہے، مبتدا محذوف ہے ”هَذَا“ کے لیے: ”الْأَمْرُ هَذَا“، معاملہ ایسا ہے، ایسا ہی ہے۔ اس حال میں کہ ”لِلطَّاغِينَ“، کہ سرکشی کرنے والوں، حد سے تجاوز کرنے والوں کے لیے ”لَشَرَّ مَآبٍ“ البتہ برا ٹھکانہ ہے۔ ”وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى“، جیسے اللہ کا یہ قول ہے، عَطْفٌ عَلَى قَوْلِهِ ”كَقَوْلِكَ بَعْدَ حَمْدِ اللَّهِ“، یہ عطف ہے مصنف کے اس قول پر ”كَقَوْلِكَ بَعْدَ حَمْدِ اللَّهِ“، یعنی من الاقتضاب، یعنی کہ اقتضاب قریب میں سے ہے تخلص میں سے، وہ اقتضاب جو قریب ہے تخلص کے اس میں سے ہے، ”مَا يَكُونُ بِلَفْظِ هَذَا“، جو کس لفظ کے ساتھ آئے؟ ”هَذَا“ کے لفظ کے ساتھ آئے، ”كَمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى بَعْدَ ذِكْرِ أَهْلِ الْجَنَّةِ هَذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ لَشَرَّ مَآبٍ“، جیسے کہ اللہ ذکر فرماتے ہیں اہل جنت کے بعد: ”هَذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ لَشَرَّ مَآبٍ“۔ تو کہتے ہیں: فَهُوَ اقْتِضَابٌ، یہ کیا ہے مولانا؟ اقتضاب ہے، ”فِيهِ نَوْعُ ارْتِبَاطٍ“، اس میں ایک نوع کا ارتباط آ گیا۔ مومنین کے ذکر کے فوراً بعد مولانا سرکشوں کا ذکر نہیں آیا بلکہ درمیان میں کیا ذکر کیا گیا؟ ”هَذَا“ کو، اور واؤ حالیہ لے آئے مولانا، اور واؤ حالیہ کیا کرتا ہے مولانا؟ مصاحبت پر دلالت کرتا ہے، یعنی حال اور عامل ذوالحال کا زمانہ ایک کر دیتا ہے، کیونکہ حال اور عامل ذوالحال کا زمانہ کیا ہوتا ہے؟ ایک ہوتا ہے۔ تو واؤ حالیہ جب آیا تو مابعد حال بنا، تو اس کا اور ماقبل کے عامل کا زمانہ کیا ہوا؟ ایک ہو گیا، تو جب زمانہ ایک ہوا تو تعلق اور ارتباط درمیان میں آ گیا۔ تو ”الْأَمْرُ هَذَا“، معاملہ ایسا ہی ہے اس حال میں کہ حد سے تجاوز کرنے والوں کے لیے بڑا برا ٹھکانہ ہے۔ ”فَفِيهِ نَوْعُ ارْتِبَاطٍ لِأَنَّ الْوَاوَ لِلْحَالِ وَلَفْظُ هَذَا“، اور لفظ ”هَذَا“ جو ہے، ”إِمَّا خَبَرُ مُبْتَدَإٍ مَحْذُوفٍ“، یا تو یہ مبتدائے محذوف کی خبر ہے، ”أَيِ الْأَمْرُ هَذَا“، معاملہ ایسا ہی ہے، ”وَالْحَالُ كَذَا“، اور حال اس حال میں کہ ایسا، ”أَوْ مُبْتَدَأٌ مَحْذُوفُ الْخَبَرِ“، یا یہ ”هَذَا“ ایسا مبتدا ہے جس کی خبر محذوف ہے، ”أَيْ هَذَا كَمَا ذُكِرَ“، ایسا ہی ہے جیسا کہ ذکر کیا گیا، تو ”كَمَا ذُكِرَ“ خبر ہے۔ ”وَكَقَوْلِهِ تَعَالَى بَعْدَمَا ذَكَرَ جَمْعًا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ“، اور جیسے اللہ کا یہ قول ہے، انبیاء کے ایک مجموعے کو، جماعت کو ذکر کرنے کے بعد اللہ فرماتے ہیں: ”هَذَا ذِكْرٌ وَإِنَّ لِلْمُتَّقِينَ لَحُسْنَ مَآبٍ“۔ تو دیکھو انبیاء کا ذکر آیا مولانا، اس کے بعد اب جنت اور اہل جنت کا تذکرہ مولانا، تو درمیان میں ارتباط نہیں تھا، تو ”هَذَا ذِكْرٌ“ کے ذریعے کیا ربط پیدا کیا گیا۔ اور واؤ حالیہ لایا گیا مولانا۔ انبیاء کی جماعت کو ذکر کرنے کے بعد، ”وَأَرَادَ أَنْ يَذْكُرَ بَعْدَ ذِكْرِهِمُ الْجَنَّةَ وَأَهْلَهَا“، اور ارادہ فرمایا اللہ نے کہ انبیاء کے ذکر کے بعد جنت اور اہل جنت کا تذکرہ فرمائیں، تو فرمایا: ”هَذَا ذِكْرٌ وَإِنَّ لِلْمُتَّقِينَ لَحُسْنَ مَآبٍ“، یہ انبیاء کا اچھا ذکر ہے اس حال میں کہ متقیوں کے لیے اچھا ٹھکانہ ہے۔ تو دیکھو ”هَذَا ذِكْرٌ“ کے ساتھ مولانا ”هَذَا“ ذکر کیا گیا، ”بِإِثْبَاتِ الْخَبَرِ“، یہ مولانا ”هَذَا“ کس کے ساتھ آیا ہے؟ اثبات خبر بھی ساتھ ثابت ہے، ”هَذَا“ مبتدا، ”ذِكْرٌ“ خبر، ”أَعْنِي قَوْلَهُ ذِكْرٌ“، خبر یعنی کہ کیا ہے مولانا؟ ”ذِكْرٌ“ ہے، ”أَعْنِي قَوْلَهُ ذِكْرٌ“۔ ”وَهَذَا مُشْعِرٌ“، بھئی کہتے ہیں پچھلے کلام، پچھلی آیت میں صرف ”هَذَا“ تھا اور وہاں ہم نے دو ترکیبیں ذکر کی تھیں کہ ”هَذَا“ کو مبتدا بھی بنا سکتے ہو اور ”هَذَا“ کو خبر بھی، لیکن اس آیت کے اندر صراحتا ”هَذَا“ مبتدا ہے اور ”ذِكْرٌ“ اس کی خبر، لہٰذا معلوم ہوا وہاں پر بھی یہی ترکیب اولیٰ ہے کہ ”هَذَا“ کو مبتدا بنایا جائے اور آگے اس کی خبر نکالی جائے۔ ”وَهَذَا مُشْعِرٌ بِأَنَّهُ فِي مِثْلِ قَوْلِهِ تَعَالَى هَذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ مُبْتَدَأٌ مَحْذُوفُ الْخَبَرِ“، اور یہ اطلاع دے رہا ہے اس بات کی کہ اللہ کے اس قول میں مثال کے طور پر ”هَذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ“ مبتدا محذوف الخبر ہے، کہ ”هَذَا“ ایسا مبتدا ہے جس کی خبر محذوف ہے۔ ”قَالَ ابْنُ الْأَثِيرِ: لَفْظُ هَذَا فِي مِثْلِ هَذَا الْمَقَامِ مِنَ الْفَصْلِ الَّذِي هُوَ أَحْسَنُ مِنَ الْوَصْلِ“، ابن اثیر فرماتے ہیں کہ ”هَذَا“ اس قسم کے مقام میں یہ فصل میں سے ہے، کس میں سے ہے؟ بھئی اقتضاب کی نوع میں سے ہے، لیکن یہ ایسا فصل ہے جو کہ ”وَهُوَ أَحْسَنُ مِنَ الْوَصْلِ“، جو وصل سے بہتر ہے، ”وَهِيَ عَلَاقَةٌ وَكِيدَةٌ بَيْنَ الْخُرُوجِ مِنْ كَلَامٍ إِلَى كَلَامٍ آخَرَ“، اور یہ ایک کلام سے دوسرے کلام کی طرف نکلنے کے درمیان ایک قوی علاقہ ہے، قوی ارتباط ہے۔ دیکھو ایک ہے مولانا تخلص، تخلص کے اندر کیا ہوتا ہے؟ ایک ابتدا سے انتقال ہوتا ہے مقصود کی طرف لیکن دونوں میں مناسبت ہوتی ہے، تو احساس ہی نہیں ہوتا کہ یہ دو کلام ہیں، بلکہ یوں لگتا ہے ایک ہی کلام چل رہا ہے، کیونکہ مناسبت آ گئی تو وہ مناسبت کے ساتھ ساتھ وہ آہستہ دوسرے کلام کی طرف لے جاتا ہے اور پتہ بھی نہیں چلتا، تو وہاں دو کلام ہونے کا احساس نہیں ہوتا۔ اور دوسرا طریقہ ہے اقتضاب، اقتضاب کے اندر ایک کلام کرتے کرتے اچانک دوسرے کلام کی طرف انتقال ہوتا ہے تو وہاں پر ارتباط کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ تو اگر تخلص ہو تو دو کلاموں کا احساس نہیں ہوتا، اور اگر اقتضاب ہو تو درمیان میں ربط کا احساس نہیں ہوتا کیونکہ ربط ہوتا ہی نہیں ہے۔ لیکن یہ جو ”هَذَا“ وغیرہ ذکر کر دیا، کہتے ہیں یہ اس فصل سے بھی اچھا ہے اور یہ اس وصل سے بھی اچھا ہے، تخلص سے بھی بہتر ہے اور اقتضاب سے بھی، اس لیے کہ اس کے اندر سامع کو متنبہ کر دیا جاتا ہے کہ آگے نئی بات شروع ہونے والی ہے۔ ”هَذَا“ جب کہہ دیا تو اب معلوم ہوا کہ ایک نوع کا کلام ختم ہوا بھئی، آگے نیا کلام شروع ہونے لگا ہے۔ اسی لیے کہا کہ یہ مقام جو ہے ایسی فصل میں سے ہے جو احسن ہے وصل سے، اور یہ قوی علاقہ ہے مولانا ایک کلام سے دوسرے کلام کی طرف خروج کا۔ ”وَمِنْهُ“، اور اسی اقتضاب قریب، وہ اقتضاب جو تخلص کے قریب ہے اسی میں سے ہے: ”قَوْلُ الْكَاتِبِ هَذَا بَابٌ“۔ بھئی کتابوں کے اندر آپ پڑھتے ہیں ”هَذَا بَابٌ“ یا ”كِتَابُ الطَّهَارَةِ“، ”كِتَابُ الصَّلَاةِ“، حدیث کے اندر ”هَذَا بَابٌ“، ”هَذَا بَابٌ“ بھئی، نئے نئے ابواب درمیان میں حدیث کے۔ کہتے ہیں یہ بھی اقتضاب ہے جو قریب ہے تخلص کے، اس لیے کہ ایک مضمون والی حدیث سے مصنف اب انتقال کرنا چاہتا ہے کس کی طرف؟ دوسرے نوع کی حدیث کی طرف۔ تو ایک طریقہ یہ تھا اچانک انتقال کیا جاتا تو وہ اقتضاب تھا مولانا، تو اقتضاب نہیں بلکہ درمیان میں ”هَذَا بَابٌ“ کے لفظ کو ذکر کر دیا جاتا ہے، یہ متنبہ کر دیتا ہے سامع کو کہ اب آگے انتقال ہونے لگا ہے ایک نئی چیز کی طرف۔ ”وَمِنْهُ“ أَيْ مِنَ الِاقْتِضَابِ الْقَرِيبِ مِنَ التَّخَلُّصِ ”قَوْلُ الْكَاتِبِ“، اور وہ اقتضاب جو تخلص کے قریب ہے اسی میں سے کاتب کا قول ہے۔ کاتب سے مراد نثر لکھنے والا ہے شاعر کے مقابلے میں، اردو والا کاتب مراد نہیں ہے جو لکھتا ہے صرف، بلکہ مراد مصنف ہے، جو مقابل میں ہے شاعر کے۔ ”وَهُوَ مُقَابِلُ الشَّاعِرِ“، جو شاعر کے مقابلے میں ہے، شاعر کا قول کب؟ ”عِنْدَ الِانْتِقَالِ مِنْ حَدِيثٍ إِلَى حَدِيثٍ آخَرَ“، جب وہ انتقال کرتا ہے ایک حدیث سے دوسری حدیث کی طرف، کون سا قول ہے کاتب کا؟ کہتے ہیں: ”هَذَا بَابٌ“۔ ”فَإِنَّ فِيهِ نَوْعَ ارْتِبَاطٍ“، اس لیے کہ اس میں ایک نوع کا ارتباط پایا گیا، ”حَيْثُ لَمْ يَبْتَدِئْ بِالْحَدِيثِ الْآخَرِ بَغْتَةً“، اس طور پر مولانا کہ دوسری حدیث کو وہ اچانک شروع نہیں کرتا۔ ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔ آؤ مولانا دعا کر لیتے ہیں۔ دعا کا طریقہ جو میں نے آپ کو پہلے بھی بتلایا: شروع میں حمد ہو بھئی، اس کے بعد صلاۃ و سلام آ جائے، اور اس کے بعد آخر میں بھی صلاۃ و سلام آئے، اور آمین، اس سے دعا جو ہے قبولیت کے قریب ہو جاتی ہے بھئی۔ ”الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ“۔ خوب خشوع و خضوع سے دعا کریں بھئی، اور گڑگڑا گڑگڑا کر دعا کریں، اور یہ یقین رکھیے کہ گویا کہ دعائیں قبول ہو رہی ہیں۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہمیں قیامت کے دن کی سختی سے ہم سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ ”إِنَّمَا الْاعْتِبَارُ بِالْخَوَاتِيمِ“۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! ہم سب قبر میں جائیں ایمان کو لے کر جائیں۔ اے اللہ! قبر سے اٹھیں ایمان کو لے کر اٹھیں۔ اے اللہ! قیامت کے دن کی سختی سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہم سب کو جنت الفردوس عطا فرما۔ اے اللہ! ہم سب کو اے اللہ جنت الفردوس عطا فرما۔ اے اللہ! ہم سب کو جنت الفردوس عطا فرما۔ اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! جتنا اے اللہ یہ پڑھا ہے، پڑھایا ہے، اے اللہ اس کو قبول فرما۔ اے اللہ! اس کو قبول فرما۔ اے اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہمارے سینوں میں کامل طور پر پیدا فرما۔ اے اللہ! ہمارے دلوں میں آپ کی محبت ہو۔ اے اللہ! ہمارے دلوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہو۔ اے اللہ! قرآن کی محبت ہو۔ اے اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی محبت ہو۔ اے اللہ! صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی محبت ہو۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں، اے اللہ میرے جتنے تلامذہ ہیں، اے اللہ سب کو خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! سب کی تکالیف اور پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! ان کے گھر میں خیر و برکتیں نازل فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں سب کے گھروں میں خیر و برکتیں نازل فرما۔ اے اللہ! تکالیف اور پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! ہماری دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! اے عظیم خزانوں والے! اے اللہ! آپ کے خزانے بڑے وسیع ہیں، اے اللہ آپ کی رحمت بڑی وسیع ہے، اے اللہ ہمیں تو مانگنے کا طریقہ بھی نہیں آتا، اے اللہ ہمارے ان ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں ہماری ان دعاؤں کو قبول فرما۔ اے اللہ! ہمیں مانگنے کا طریقہ بھی سکھلا۔ اے اللہ! ہمیں اخلاص بھی نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں قوت عمل بھی نصیب فرما۔ اے اللہ! تمام عالم میں مسلمانوں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! مسلمان اور مجاہدین اے اللہ دنیا کے جس خطے میں بھی ہیں، اے اللہ سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! اس زمانے میں مسلمان بڑی تکلیف میں ہیں، اے اللہ اب تو کس کس ملک کو اے اللہ ہم شمار کریں، کون سا ملک ہے جہاں پر اے اللہ دنیا کا کون سا خطہ ہے جہاں تیرے دین پر عمل کرنے والے تکلیف میں نہیں، اے اللہ سب کی مدد فرما۔ اے اللہ! سب کی نصرت فرما۔ اے اللہ! سب کو ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ! ہم یقینا گناہ گار ہیں، اور یقینا ہمارے گناہ بہت زیادہ ہیں، لیکن اے اللہ آپ کی رحمت تو اس سے بھی زیادہ وسیع ہے، اے اللہ ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہمارے ہاتھ آپ کے سامنے پھیلے ہوئے ہیں، اے اللہ ہمارے ہاتھوں کو خالی نہ لوٹا۔ اے اللہ! ہمارے ہاتھوں کو خالی نہ لوٹا۔ اے اللہ! آپ تو بڑے حیا دار ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اللہ بڑے حیا دار ہیں، اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلائے جائیں تو اللہ کو حیا آتی ہے کہ ان ہاتھوں کو خالی لوٹائے، اللہ ضرور ان کی مرادیں انہیں عطا فرما دیتے ہیں۔ اے اللہ! آج ہمارے ہاتھ آپ کے سامنے پھیلے ہوئے ہیں، اے اللہ ہماری دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں سب کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! آپ تو عالم الغیب ہیں، اے اللہ جس کے دل میں جو جو حاجت ہے اے اللہ سب کو پورا فرما۔ اے اللہ! جن کے گھروں میں جو پریشانیاں ہیں، خود پریشان ہیں، اے اللہ ان پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! جو خود بیمار ہیں، اے اللہ گھروں میں کوئی بیمار ہیں ان سب کی بیماریاں دور فرما۔ اے اللہ! سب کی تکالیف دور فرما۔ اے اللہ! ان تمام میرے جتنے تلامذہ ہیں، اے اللہ ان پر آئندہ زندگی آسان فرما۔ اے اللہ! رزق کے دروازے ان پر کھول دے۔ اے اللہ! وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! آپ کے نبی نے فرمایا ہے کہ اللہ کو دو قطرے بڑے پسند ہیں، ایک وہ قطرہ جو آنکھ سے بہایا جائے اللہ کے خوف سے، اور ایک وہ خون کا قطرہ جو جنگ میں بہے۔ اے اللہ! آج میرے تلامذہ اے اللہ، آپ کے سامنے آنسو بہا رہے ہیں، اے اللہ ان کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! ان کی دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ان کی تکلیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ! آپ کی رحمت تو بڑی وسیع ہے، اے اللہ ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہمارے گناہ بہت زیادہ اور واقعی بہت زیادہ، لیکن آپ کی رحمت بڑی وسیع ہے، آپ کی رحمت بڑی وسیع ہے، آپ نے خود ہی تو فرمایا ہے اے اللہ کہ اگر انسان اتنے گناہ لے کر آئے کہ زمین اور آسمان اس سے پر ہو جائیں تو میں اس سے بھی زیادہ رحمت اور مغفرت لا کر اس کو ختم فرما دوں گا۔ اے اللہ! ہمارے سارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہمارے سارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! آئندہ زندگی میں نیک عمل کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! آئندہ زندگی میں نیک عمل کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! ان سب سے دین کا کام لے، اے اللہ ان سب کی زندگیوں کو قبول فرما۔ اے اللہ! تمام حاضرین کی زندگیوں کو قبول فرما۔ اے اللہ! سب کو اخلاص نصیب فرما۔ اے اللہ! جتنی مشکلات ہیں ان کو حل فرما۔ اے اللہ! آپ کی ذات کی قسم، اے اللہ آپ کی وسیع قدرت ہے، اے اللہ جو بھی مشکل ہے انسان کے لیے مشکل ہے، اے اللہ جو بھی مصیبت ہے انسان کے لیے مصیبت ہے، اے اللہ آپ کے لیے تو کوئی چیز مشکل نہیں، کوئی چیز مصیبت نہیں۔ اے اللہ! آپ کو تو صرف ”كُنْ“ کہنا پڑتا ہے اور وہ کام ہو جاتا ہے، اے اللہ ہماری دعاؤں پر ”كُنْ“ فرما دیجیے۔ اے اللہ! ہماری دعاؤں پر ”كُنْ“ فرما دیجیے۔ اے اللہ! عالم کے اندر مسلمان تکلیف میں ہیں، اے اللہ ان مسلمانوں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ان کو ہمت نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کو قوت نصیب فرما۔ اے اللہ! تیرے بندوں پر ظلم ہو رہا ہے، اے اللہ ان پر تکالیف آئی ہوئی ہیں، اے اللہ بے انتہا تکالیف میں ہیں، اے اللہ انسانوں کو قتل کیا جا رہا ہے، اے اللہ عورتوں کو، بوڑھوں کو، بچوں کو قتل کیا جا رہا ہے، اے اللہ صرف اس وجہ سے کہ وہ تیرا نام لیتے ہیں، اے اللہ ان سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ان سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ان سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! اسلام کو پھر غلبہ نصیب فرما۔ اے اللہ! اسلام کو پھر قوت نصیب فرما۔ اے اللہ! اسلام کو پھر عروج نصیب فرما۔ اے اللہ! دشمنان اسلام کو تباہ و برباد فرما، ان کو ذلیل و رسوا فرما۔ اے اللہ! ان کی جمعیت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔ اے اللہ! ان پر اپنا عذاب نازل فرما۔ اے اللہ! ان پر اپنا عذاب نازل فرما۔ اے اللہ! مجاہدین کی خصوصی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ان پر بے انتہا تکلیف ہے، اے اللہ آج کل ان پر بے انتہا تکلیفیں ہیں، ان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! مجاہدین کو ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ! میرے کئی تلامذہ بھی اس وقت اے اللہ جنہیں پکڑ لیا ہے حکومت نے اے اللہ، ان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ان کی رہائی کے لیے غیب سے اسباب بنا۔ اے اللہ! یہ طلبہ ہیں، اے اللہ یہ تیرے غریب طلبہ ہیں، اے اللہ یہ تو تیرے دین کے لیے لگے ہوئے ہیں، اے اللہ پہلے ہی ان کے پاس کچھ نہیں، اب مزید ان پر اتنی سختی کی جا رہی ہے، اے اللہ ان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ان کے گھروں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ان کے مالوں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! دنیا میں بھی حفاظت فرما، اے اللہ آخرت میں بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمارے ہاتھوں کو خالی نہ لوٹا۔ اے اللہ! ہماری دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! آپ کے تو اتنے وسیع خزانے ہیں، اے اللہ آپ کے اتنے وسیع خزانے ہیں کہ آپ فرماتے ہیں کہ جب سے میں نے یہ کائنات بنائی ہے اور میں تقسیم کر رہا ہوں، میرے خزانوں میں مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہیں آئی۔ اے اللہ! آپ کے تو اتنے وسیع خزانے ہیں، اے اللہ یقینا یہ مجلس تو بڑی مختصر ہے، اے اللہ یہ مجلس والے تو بہت تھوڑے سے ہیں، اے اللہ تیرے سامنے ہاتھ پھیلائے ہیں، اے اللہ سب کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی تکالیف دور فرما۔ اے اللہ! سب کی پریشانیاں حل فرما۔ اے اللہ! یہ خود بیمار ہیں، گھروں میں کوئی بیمار ہیں، اے اللہ شفا نصیب فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں اے اللہ سب کی دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! سب کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کے گھروں میں خیر و برکت نازل فرما۔ اے اللہ! اطمینان و سکون نازل فرما۔ اے اللہ! یقینا اگر ہم دنیا کے کسی معزز اور شریف شخص کے دروازے پر بھی اے اللہ ہم کھڑے ہو کر مانگیں اور روئیں اور گڑگڑائیں، تو یقینا وہ ہمارے ہاتھوں کو خالی نہیں لوٹائے گا۔ اے اللہ! آپ تو ”أَكْرَمُ الْأَكْرَمِينَ“ ہیں، اے اللہ آپ تو ”أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ“ ہیں، اے اللہ آپ تو سب سخیوں کے سخی ہیں، اے اللہ ہمارے ہاتھوں کو خالی نہ لوٹا۔ اے اللہ! ہماری دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! یہ آپ کے دین کی کتاب ختم ہو رہی ہے، اے اللہ یقینا ہم نے اس کا حق ادا نہیں کیا ہو گا، اے اللہ یقینا اس میں غلطیاں ہوئی ہوں گی، بے ادبیاں ہوئی ہوں گی، گستاخیاں ہوئی ہوں گی، اے اللہ ہماری غلطیوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہماری کوتاہیوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہماری غلطیوں، لغزشات سے درگزر فرما۔ اے اللہ! ہماری لغزشات سے درگزر فرما۔ اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہماری غلطیوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہمارے سینوں کو قرآن اور حدیث کے نور سے منور فرما۔ اے اللہ! ہمارے دلوں میں صحابہ کی بے انتہا محبت پیدا فرما۔ اے اللہ! ائمہ و فقہاء کی محبت پیدا فرما۔ اے اللہ! ہمیں دین کی خاطر، اے اللہ دین کے لیے، اے اللہ کام کرنے کے لیے ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ! تکالیف اور پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! ہماری ساری دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری ساری دعائیں قبول فرما۔ اور بھی بہت سے احباب نے دعاؤں کا کہا ہے، ان کے لیے بھی دعا کریں، اے اللہ ان کی تکالیف اور پریشانیوں کو بھی دور فرما۔ اے اللہ! ان کی زندگی میں آسانیاں پیدا فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! آپ کی رحمت تو بڑی وسیع ہے، آپ خود فرماتے ہیں کہ اگر تمام دنیا کے جن و انس جمع ہو جائیں اور مجھ سے دعا مانگیں اور میں ہر ایک کی منہ مانگی دعا قبول کر لوں، تو بھی میرے خزانوں میں مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہیں آئے گی۔ اے اللہ! ہماری اس چھوٹی سی مجلس کی دعاؤں کو قبول فرما۔ اے اللہ! کسی کے ہاتھوں کو خالی نہ لوٹا۔ اے اللہ! اگر آپ ہمارے ہاتھوں کو خالی لوٹا دیں گے تو اور کوئی در نظر نہیں آتا، اے اللہ آپ کی ذات کی قسم اور کوئی در نظر نہیں آتا، اے اللہ آپ کے در کے سوا اور کوئی در نہیں ہے، اے اللہ آپ ہمارے گناہوں کو معاف نہیں فرمائیں گے تو پھر ہم کہاں جائیں، اے اللہ آپ کے در کے سوا اور کوئی در نہیں ہے، اے اللہ ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! یہ آپ کے اولیاء اللہ، طلبہ اے اللہ آپ سے دعا مانگ رہے ہیں، اے اللہ سب کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! آئندہ زندگی کے اندر اے اللہ وسیع رزق، حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! تکلیف اور پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! تمام حاضرین کے ہر قسم کے شر، آفات اور بلاؤں سے حفاظت فرما۔ ہر قسم کے شر اور فتنے سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! آپ کے نبی نے فرمایا ہے کہ اللہ کے نیک فرشتے نیک مجالس کی تلاش میں رہتے ہیں، اور جب انہیں کوئی ذکر اللہ والی مجلس نظر آتی ہے تو اس کے ارد گرد سارے جمع ہو جاتے ہیں اور ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں اور صفیں بناتے ہیں یہاں تک کہ آسمان تک پہنچ جاتے ہیں۔ اے اللہ! ہماری اس مجلس کو بھی ان مجالس میں سے بنا جہاں پر اس وقت فرشتے جمع ہوں، جہاں پر جس کا اس وقت فرشتوں نے احاطہ کیا ہو، یقینا ہماری یہ مجلس ان مجالس میں سے ہے جس میں یقینا اس وقت فرشتے موجود ہیں۔ اے اللہ کے نیک فرشتو! ”لِلَّهِ“ ہماری دعاؤں پر آمین کہہ دو۔ اے اللہ کے نیک فرشتو! ”لِلَّهِ“ ہماری دعاؤں پر آمین کہہ دو۔ اے اللہ کے نیک فرشتو! ”لِلَّهِ“ ہماری دعاؤں پر آمین کہہ دو۔ اے اللہ! ہماری دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! سب کو صحت اور عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ! عافیت اور معافات نصیب فرما۔ اے اللہ! سینوں کو منور فرما۔ اے اللہ! سینوں کو منور فرما۔ اے اللہ! جو نیک مجالس ہوتی ہیں ان پہ آپ کے خصوصی انوارات نازل ہوتے ہیں، اے اللہ ہماری مجلس کو بھی ان مجالس میں سے بنا، اے اللہ جہاں آپ کے خصوصی انوارات نازل ہوتے ہوں۔ اے اللہ! آئندہ زندگی کے اندر بھی، اے اللہ جتنے حاضرین ہیں سب کو معزز و محترم فرما۔ اے اللہ! یہ جہاں جائیں خیر و برکت ساتھ لے کر جائیں۔ اے اللہ! جہاں جائیں یہ دین کا بول بالا فرمائیں۔ اے اللہ! یہ جہاں جائیں فتنوں اور بدعتوں کو ختم فرما دیں۔ اے اللہ! بدعتوں کے لیے ان کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دے۔ اے اللہ! کفر و شرک کا خاتمہ فرمائیں۔ اے اللہ! کفر و شرک کے لیے یہ دیوار بن جائیں، اے اللہ ان کے لیے پہاڑ بنا دے۔ اے اللہ! ان میں سے ہر ایک کو علم کا پہاڑ بنا۔ اے اللہ! ہر ایک سے علم کی خدمت لے، اے اللہ ہر ایک سے تدریس کی خدمت لے، اے اللہ ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! جو ہمارے اساتذہ اور عزیز و اقارب ہم سے رخصت ہو چکے ہیں، اے اللہ ان کی لغزشات سے درگزر فرما۔ اے اللہ! ان کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ! ان کے جو اولاد وغیرہ باقی ہیں، اہل خانہ، اے اللہ ان کو خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کی تکالیف اور پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! انہیں وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اور اے اللہ! ہمارے جو اساتذہ زندہ ہیں، اے اللہ انہیں بھی خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ! ان کی پریشانیوں کو دور فرما، ان کی بیماریوں کو دور فرما، صحت اور عافیت اور معافات نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ میرے لیے بھی آپ حضرات سے دعا کی درخواست ہے، دعا فرمائیں اللہ تمام حاجات پوری فرمائے، اللہ تمام حاجات پوری فرمائے، اے اللہ تمام تکالیف اور پریشانیوں کو دور فرما، اے اللہ عافیت اور معافات نصیب فرما۔ میری والدہ کے لیے بھی دعا کی درخواست ہے کہ اللہ ان کو صحت اور عافیت نصیب فرمائے، ان کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر صحت و عافیت اور خوشی کے ساتھ قائم و دائم رکھے، اے اللہ خوشی کے ساتھ قائم و دائم رکھ۔ اے اللہ! اور دو تین کام ہیں ان کے لیے بھی دعا فرمائیں اللہ ان کو خیر و عافیت سے پورا فرمائے۔ اے اللہ! ہر شر اور فتنے سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں ان میں سے ہر ایک کی ہر شر اور فتنے سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہر شر اور فتنے سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہماری دعاؤں کو قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری حاجات کو پورا فرما۔ اے اللہ! ہمیں ایسا بنا دے کہ آپ کو اور آپ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند آ جائیں۔ اے اللہ! ہمیں ایسا بنا دے۔ اے اللہ! ہمیں ایسا بنا دے۔ اے اللہ! ہمیں جنت الفردوس عطا فرما۔ اے اللہ! آپ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب انسان تین دفعہ جنت کو مانگتا ہے تو جنت خود کہتی ہے اللہ سے کہ اے اللہ! اس شخص کو میرے اندر لے آ۔ اے اللہ! ہم جنت مانگتے ہیں آپ سے، اے اللہ ہمیں جنت الفردوس عطا فرما۔ اے اللہ! ہمیں جنت الفردوس عطا فرما۔ اے اللہ! ہمیں جنت الفردوس عطا فرما۔ اور جو شخص تین دفعہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے، حدیث میں آتا ہے جہنم خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس شخص کو مجھ سے دور رکھ، اے اللہ اس شخص کی مجھ سے حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہم جہنم سے پناہ طلب کرتے ہیں، اے اللہ جہنم سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! جہنم سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! جہنم سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! ہم سب کی قبروں کو منور فرما۔ اے اللہ! قیامت کے دن بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل فرما۔ اے اللہ! ہماری ساری دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! آپ تو عالم الغیب ہیں، اے اللہ جس کے دل میں جو جو حاجتیں ہیں اے اللہ سب کو پورا فرما۔ اے اللہ! سب کی پریشانی اور تکالیف کو دور فرما۔ دینی مدارس کے لیے، مساجد کے لیے خصوصی دعا کریں، اے اللہ ان سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! خصوصاً اس خطے میں حفاظت فرما۔ اب ایک دو منٹ تک اپنی اپنی دعائیں خود خاموشی سے آپ مانگ لیں۔ ”وَصَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَى خَيْرِ خَلْقِهِ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ“۔ آپ حضرات میں سے بھی کسی کو بھئی میں نے سال میں ڈانٹا ہو، کوئی سخت بات کی ہو، تو بھئی للہ اور فی اللہ مجھے معاف کر دینا بھئی، میں آپ حضرات سے معافی مانگتا ہوں۔